تناور درخت کی کھوکھلی جڑیں

درویش نے خود جب اس دور میں بدیسی تاریخ میں پناہ لی تو ہماری کیا مجال کہ استاذ کے آگے اپنا پاؤں رکھیں۔ ہم بھی اسی دور کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔ فرانسس فوکو یاما کسی تعارف کے محتاج نہیں، ان کی شہرہ آفاق کتاب ”تاریخ کا اختتام اور آخری انسان“ (یہاں تاریخ سے واقعات کا تسلسل مراد نہیں بلکہ اس کا مطلب تہذیب کا شعوری ارتقا ہے، جو فوکو یاما کے مطابق ’مغربی آزاد خیال جمہوریت‘ کی شکل میں اپنے منتہی کو پہنچ گیا ہے ) میں ہم طالب علموں کے لیے سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔

فوکو یاما نے جبر کی دو مختلف اقسام بیان کی ہیں : انیسویں صدی کی روایتی ”آمرانہ حکومتیں“ اور بیسویں صدی کی ”مطلق العنان ریاستیں“ ۔ دونوں میں اہم فرق یہ ہے کہ اول الذکر وسائل کی تقسیم، مذاہب کی روایات کو اپنی جگہ پر ہی رہنے دیتے تھے لیکن آخر الذکر ریاستوں کا بیانیہ معاشرے پر ہمہ گیر تسلط چاہتا تھا۔ وہ معاشرے کی ہر جہت پر پہرے بٹھانا چاہتا ہے، وہ ایک ہی بیانیے کو ’سالمیت‘ کا ضامن قرار دیتا ہے اور ہر متفرق آواز کو دبانا چاہتا ہے، اس طرح اصلاحات کے لیے نا قابل عمل ہو جاتا ہے۔

Read more

پدرسری معاشرے کی بااختیار عورت یا دولے شاہ کی چوہیا؟

لمبوترا منہ، چھوٹا سا سر، احساس سے عاری آنکھیں، وحشت زدہ چہرہ، ڈھیلا ڈھالا پیوند زدہ لباس، گلے میں منکوں کی مالا، ہاتھ میں کشکول! یہ ہمارے بچپن میں کیے گئے سفر کی اولین یادوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی ٹرین گجرات سٹیشن پہ رکتی، وہ گیروے لباس میں ملبوس کمپارٹمنٹ میں داخل ہو جاتا، ساتھ میں ایک بڑی بڑی مونچھوں اور دہکتی آگ سی آنکھوں والا ساتھی ہوتا جو اسے گاڑی میں چڑھاتا یا اتارتا۔ اسے دیکھتے ہی

Read more

انڈیا میں ہاتھرس کیس: میڈیا کا کیمرہ آف ہو چکا ہے، ماں اب بھی رو رہی ہے

مبینہ ریپ کے بعد یہ ہلاک شدہ لڑکی اب ‘لائیو’ ہو چکی ہے۔ لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ ایسی لڑکی کو جلانے کی کیا جلدی تھی جس کے مرنے سے قبل ہاتھ پیر اور گردن ٹوٹ چکی تھی۔

Read more

نوزائیدہ بچہ اور پتھر کا بینچ

اس کے دو بچے پہلے ہی مر چکے تھے۔ پیدا ہونے سے قبل، جب کچے ہی تھے۔ ایک حمل کے اٹھارہ ہفتے میں اور دوسرا بائیسویں ہفتے میں۔ ”نہ جانے ہماری قسمت میں کیا ہے۔“ اس نے تقریباً روہانسا ہو کر کہا تھا، ”ڈاکٹر صاحب، جو بھی علاج ممکن ہو سکے، کیجیے گا۔ میں بڑی امید لے کر آیا ہوں۔ مجھے آپ کے دوست رفیق نے بھیجا ہے۔“

اسے رفیق ہی نے بھیجا تھا۔ رفیق کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے محکمہ مالیات میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ”کے ایم سی“ ہی میں چپراسی تھا۔ اس نے رفیق کو بتایا تھا کہ دو دفعہ اس کی بیوی کو حمل ٹھہرا اور اچھا خاصا وقت گزر گیا، مگر پانچویں چھٹے مہینے میں بچے کچے ہی تھے تو ضائع ہو گئے۔ اب پھر اس کی بیوی کو حمل ٹھہر گیا ہے اور آنے والے خوف سے وہ پریشان تھا۔ رفیق نے اسے اپنا کارڈ دے کر میرے پاس بھیجا تھا۔

وہ دونوں میاں بیوی میرے پاس ساتھ ہی آئے تھے۔ وہ ڈھائی ماہ کے حمل سے تھی اور پریشان تھی۔ پریشانی اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی اور ایسی صورت حال میں مریضوں کا پریشان ہونا کوئی غیر معمولی بات تھی بھی نہیں۔ میں نے اسے تسلی دی تھی۔ سمجھایا تھا کہ انہیں اب میرے پاس ہر دو ہفتے بعد آنا ہو گا۔ حمل کو چودہ ہفتے گزر جائیں گے تو پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

Read more

بابا جان والے ہنزہ سے ابھی ایک آواز آئی، آپ نے سنی؟

شاہراہ قراقرم پر گلمت سے کچھ پہلے آپ آسمان کی وسعتوں کو سمیٹتے ہوئے ایک تنگ و تاریک سرنگ میں چلے جاتے ہیں۔ اس طویل ترین سرنگ کے اگلے سرے کے پار ہوتے ہی آپ نیلے پانیوں کی ہوا دار بہشت میں نکل جاتے ہیں۔ اسے عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے ارمانوں پر پانی پھر جانے کو ہم عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے جن کے گھر یہاں ڈوب گئے تھے وہ در در رسوائی کاٹ رہے ہیں۔ جو ان کا حق مانگ رہے تھے وہ آشفتہ سر غذر کی جیلوں میں پڑے ہیں۔ جو بے خبر ہیں وہ جھیل کے سینے کو واٹر بائیک سے چیر کر پانی اڑا رہے ہیں۔

یہ سطریں ایک کالم میں آئیں تو پوچھنے والوں میں اکثر نے پوچھا، عطا آباد جھیل کی کہانی کیا ہے؟ کن کے ارمانوں پر یہاں پانی پھرا تھا اور کون ہیں وہ آشفتہ سر جو اب غذر کی جیلوں میں ہیں۔ سوالات سے اندازہ ہوا کہ ہنزہ آنے جانے والوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جس نے عطا آباد جھیل کے نیلگوں پانیوں میں قیامت کے نامے تیرتے ہوئے دیکھے ہوں۔ ہم جب کسی کشتی میں بیٹھ کر اس جھیل کا پانی چیر رہے ہوتے ہیں، ہم اندازہ نہیں کر پاتے کہ اس کی گہرائیوں میں کتنے خواب دفن ہیں۔ ان پانیوں میں کہیں کہیں جو یہ درخت کھڑے ہیں، آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ ویسے ہی کھڑے ہیں؟ یہ اس سمت میں اشارہ کرنے کے لیے ہی تو کھڑے ہیں جہاں زندگی کبھی رقص کیا کرتی تھی اور بچے کبھی کھیلا کرتے تھے۔ یہ جس جگہ اب مچھلیاں تیرتی ہیں یہاں کبھی پرندے اڑا کرتے تھے۔ یہاں مال مویشی تھے، گرم تنور تھے، پرندوں کے گھونسلے تھے، دریا کا کنارہ تھا، رستے اور گلیاں تھیں، لین دین اور میل جول تھا، عبادتیں اور روایتیں تھی، رسم تھے اور رواج تھے، شہد کے چھتے تھے، بانسریوں کے سر تھے، ستار کی دھنیں تھیں، محبتوں کے نشان تھے، ہجر کی داستانیں تھیں، پرکھوں کی قبریں تھیں اور بچپن کا ساون تھا۔ کچھ نہیں رہا، سب ڈوب گیا۔

Read more

پنجاب کا سورما، دلا بھٹی

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ یہ صاحب اقتدار کی مرضی و منشا کے مطابق لکھی جاتی رہی ہے، جس کے باعث اکثر ہیرو کو ولن کا روپ دے دیا گیا۔ بسا اوقات یہ کارروائی بھی کی گئی کہ مخالف کرداروں کا ذکر ہی لوح تاریخ سے مٹا دیا گیا۔ تاریخ کی نفی در اصل اخلاقی کمزوری ہے۔ ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم اپنی سر زمین کے بیش تر ہیرو سے نا واقف ہیں۔ جس معاشرے میں سکندر یونانی کو ہیرو گردانا جائے، وہاں عجب نہیں کہ مقامی ہیرو کے متعلق لا علمی موجود ہو۔

ایک زندگی طبعی ہے جو اوسطاً ستر سال پہ محیط ہوتی ہے، مگر ایک زندگی وہ ہے جو انسان پس مرگ جیتا ہے۔ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کے ایک ایک لمحہ کا خراج دینا ہے یا جواں مردی سے جینا ہے۔ یہاں پنجاب کے ایک ایسے جنگجو کا ذکر ہے جسے تاریخ کے صفحات اتنی سطریں نہ دے سکے، جتنی اس کے شایان شان تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے تاریخ دانوں نے تو اس کی بہادری و جواں مردی کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا، مگر اس کا کردار زندہ رہا۔ جس نے شاہی صحیفوں میں جگہ نہ پائی، وہ عوام کے دلوں میں جگہ پا کر ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔

Read more

اپنی شرطوں پر زندگی

ہر انسان دنیا میں ایک منفرد افتاد طبع لے کر آتا ہے اور اپنی شرطوں پر زندگی جینا چاہتا ہے۔ زندگی کے اس رستے میں کبھی کبھی بظاہر بہت خوبصورت موڑ آتے ہیں، جہاں سے اگلی منزلیں بہت سہل اور آسان نظر آتی ہیں، بشرطیکہ انسان اپنی شرائط پر سمجھوتا کر لے۔ بہت سے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور ایک نا معلوم سی خلش دل میں لئے تا عمر سلگتے رہتے ہیں۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا، صحیح بات کہنا بہت مشکل کام ہے، کیوں کہ زندگی اکثر اوقات صرف سیاہ یا سفید کے بجائے سرمئی رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ہر موڑ پر ملگجے اندھیرے اور نیم جاں روشنی میں کچھ پگڈنڈیاں ڈوبتی اور ابھرتی ہیں۔ ایسے میں اگر دل میں اپنی ذات پر یقین کی شمع روشن نہ ہو، تو بہت ممکن ہے کہ انسان غلط پگڈنڈی پر چل پڑے۔

کچھ عرصہ پہلے لٹل وومن نامی ایک فلم دیکھی تھی۔ اس میں اس خیال کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا۔ لوئیسا مے ایلکوٹ کے ناول پر بنی اس فلم میں امریکی سول وار کے زمانے میں چار بہنوں کی زندگی، خوابوں اور محبت کو بیان کیا گیا ہے۔ غریبی میں پلی ان چار بہنوں اور ان کی ماں کی یہ کہانی، ایک نئی امریکی عورت کا تصور پیش کرتی ہے۔

Read more

ستم کا شکار ہیمو فیلیا مریض

آج پھر اسے کمرے میں بند کر کہ لاتا لگا دیا گیا دیا گیا۔ اس کے گال تھپڑوں سے سرخ ہو چکے تھے۔ شاید وہ اسی لائق تھا یا زمانے کی ستم ظریفی تھی۔ امی میں کھیلنا چاہتا ہوں۔ شاید یہ ایک جملہ قتل نا حق سے بھی زیادہ گناہ اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ چناں چہ حسب معمول اسے کمرے میں بند کر کہ کمرے کو مقفل کر دیا گیا۔

عمار محمد ارسلان کے گھر پیدا ہونے والی پہلی اولاد تھی۔ اس کے پیدا ہونے پر پورے گاؤں کو دعوت طعام دی گئی۔ عقیقہ کی سنت بھی ادا کر دی گئی۔ دیکھنے میں یہ ایک نارمل اور صحت مند سات سال کا خوب صوت بچہ ہے۔ بچپن میں دیہی نیم حکیم خطرہ جان کمپورڈر نما ڈاکٹر نے اس کی مرہم پٹی کر دی اور کامیابی سے ختنے کا عمل مکمل کرنے کی نوید سنائی، لیکن پھر بھی خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر جانے کے بعد بھی جب خون نہ رکا تو ماسی، چچی، مامی سب نے مختلف ٹوٹکے بتائے، تمام آزمائے گئے مگر یہ خون تھا کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

Read more

اپنی سیان پتی بچا کے رکھو

ہر ریاست کو اپنی بقا اور ترقی کے لیے مستقل اور مسلسل آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ آمدنی ٹیکس، برآمدات، سہولتوں کو کرائے پر دینے، قدرتی وسائل کے استعمال، سیاحت، ایجاداتی جدت کاری اور جنگ کے بدلے امن کی خریداری جیسے طریقوں سے حاصل ہوتی ہے۔

دوسرا طریقہ جو کہ اب متروک ہو چلا ہے نوآبادیاتی طریقہ ہے۔ کسی بھی خطے پر بزور یا سازش کے ذریعے قبضہ کر کے اس کے وسائل کو باپ کا مال سمجھ کر استعمال کیا جائے اور جب اس خطے سے خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا جائے تو اسے ترک کر کے کسی نئے خطے پر پنجے گاڑ دیے جائیں۔

Read more

اللہ جمہوریت کے مستقبل پر رحم فرمائے!

پکڑ دھکڑ اور تھوک کے حساب سے اپوزیشن کے خلاف انکوائریوں اور مقدمات کے علاوہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے ایک متنازعہ شخص کی جانب سے بغاوت کی ایف آئی آر درج کرانے کے منظرنامے میں وزیراعظم کی یہ خواہش کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو عالمی طاقت بن کر ابھرے، بڑی نیک خواہش ہے اور کون پاکستانی ذی شعور ہو گا، جو اس سے اختلاف کرے گا لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف کے دو سال سے زائد عرصے کے دور حکومت میں صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اقتصادی صورتحال مسلسل روبہ زوال ہے، غربت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے حتیٰ کہ اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ تین برس میں چار فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021۔ 22 ء میں اوسطاً 1.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 2019 ء کی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 2020 ء میں 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے۔

Read more

غداری کے فتوے اور بغاوت کے سرٹیفکیٹ

شہید ذوالفقار علی بھٹو محسن پاکستان تھے انہیں نے ہند و پاک جنگ کے دوران قیدی بنائے گئے 93 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے اور قبضہ کیا گیا سیکڑوں میل ملکی رقبہ ہندستان سے واگزار کروایا، پھر ٹوٹے پھوٹے دولخت منتشر ارض پاک کو متحد، منظم و مستحکم کیا، ادارے بنائے، تباہ حال اداروں کی بحالی اور تنظیم نو کی۔ پاکستان کی افواج کا پستیوں میں گرا ہوا مورال بلند کیا، انہیں جدید ہتھیاروں سے لیس کیا، ایک شکست خوردہ

Read more

ماں بہن کو پڑتی گالی آپ کی حیا اور مار پیٹ آپ کی اقدار ہیں

دنیا کی ایسی ہر جگہ، ملک، شہر، معاشرہ، گاؤں، بستی، گوشے، پاتال میں، جہاں جنسی تشدد کو عام سی چیز یا سرے سے اس کے ہونے کو جھٹلایا جاتا ہے، وہاں عموماً اکثریت میں کم عمر بچیوں، بچوں اور لڑکیوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہو پاتا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے یا جو ان کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ غلط ہے بھی یا نہیں۔ ایسے معاشروں میں ایک ہمارا معاشرہ بھی ہے۔ متاثرین کو تب جا کر ادراک ہوتا ہے، جب ایسے واقعات کو بیتے ہوئے دو، تین یا چار عشرے گزر چکے ہوں اور اکثریت تو لاعلم ہی قبور میں اتار دی جاتی ہے۔

متاثرہ خواتین، اپنے ہی مجرموں کو اپنے ہی گھروں میں دہائیوں تک چائے پانی، کھانا اور گرم گرم روٹیاں بنا کر دیتی رہی ہوتی ہیں۔ ادراک ہو بھی جائے، تب بھی چپ سادھنے اور اندر ہی اندر گھٹنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ایسے تو خواتین کو اپنے ساتھ زیادتی اور ظلم کرنے والوں کے ساتھ رہنے کی تربیت اور تجربہ اچھا رہتا ہے، چاہے وہ میکہ ہو یا سسرال۔

Read more

زندگی، کینسر اور امید

آج کیلینڈر پر نگاہ پڑی تو اندازہ ہوا کہ اکتوبر بھی شروع ہو چکا ہے۔ اکتوبر میں کیا خاص بات ہے؟ بدلتے موسم کی دستک یا کچھ اور بھی؟ جی ہاں یہ بریسٹ کینسر آگاہی کا مہینہ ہے۔ کینسر کا لفظ ہی عام انسان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے اور بیچاری عورت کو جہاں بہت سے تاوان اپنی صنف کی وجہ سے ادا کرنے پڑتے ہیں ان میں سر فہرست بریسٹ کینسر ہے مگر میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی بھی ضرور ہو چکی ہے کہ بر وقت علاج سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

Read more

قدیم میسو پوٹیمیا کی مختلف سلطنتیں

قدیم میسوپوٹیمیا (دجلہ و فرات کی وادی) کے عوام دراصل دو بڑے نسلی گروہوں پر مشتمل تھے، شمالی عراق اور کردستان میں سامی النسل اکادی قوم (جو بعد میں آشوری اور بابلی کہلائے ) اور جنوبی ڈیلٹا میں آباد سمیری جو ایک الگ تھلگ لسانی قوم تھی۔ تہذیب کی ابتدا ولادت مسیح کے پانچ ہزار سال پہلے جنوبی عراق کے سمیریوں نے کی۔ ابتدا میں یہ لوگ متحدہ قوم نہیں تھے، بلکہ مختلف چھوٹی شہری ریاستوں میں منقسم تھے۔ چار ہزار سال قبل از مسیح ہمیں انسانیت کے پہلے باقاعدہ مذہب کا ثبوت اسی علاقے سے ملتا ہے جو کہ 3500 قبل مسیح میں میخی لکھائی کی ایجاد کے بعد، لکھی گئی مذہبی کتھاؤں اور دعائیہ کلام کے ملنے سے ثابت ہوا ہے۔

Read more

میاں بیوی کے محرومیوں کے سائے میں سلگتے ہوئے رشتے

تخلیق آدم ؑ کے بعد حضرت حواؑ کی تخلیق قدرت کی جانب سے اس بات کا ادراک تھا کہ انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ایک محبوب ساتھی کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت آدم کی آدم سے نہیں بلکہ حوا یعنی ایک عورت سے پوری ہو گی۔ یہ اس بات کی جانب بھی ایک واضح اشارہ تھا کہ انسانی زندگی کو خوب صورت رنگوں اور خوشیوں سے صرف عورت کا وجود ہی بھر سکتا ہے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کی ازلی ضرورت ہیں، ہر مذہب اور معاشرے میں اسے ایک مربوط اور حلال رشتے کی ڈور سے باندھا گیا، جسے میاں بیوی کہتے ہیں۔

جو ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ادھورے پن کو بھی پورا کرتے ہیں۔ سیکس مرد اور عورت دونوں کی ضرورت ہے مگر اس کو خوبصورت اور مضبوط ان کے مابین موجود رومانوی رویہ اور ہم آہنگی بناتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس وقت جو رشتہ سب سے زیادہ جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے وہ میاں بیوی کا یہ حلال رشتہ ہے۔

Read more

بابا کا ڈھابہ: انڈیا میں ایک ویڈیو پیغام جس نے 80 سال کے بابا کے کاروبار کو چار چاند لگا دیے

جب لوگوں نے ویڈیو میں 80 برس کے بابا کا دکھڑا سنا جس میں وہ دھاڑیں مار کر رو کر بتا رہا ہوتا ہے کہ کیسے کورونا وبا کی وجہ سے ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے تو اس کے بعد اب اس ڈھابے کے باہر کھانا کھانے والوں کی قطاریں بنی نظر آ رہی ہیں۔

Read more

ساہیوال میں ایک اور سانحہ

عمر عزیز کی دوسری دہائی تھی اور اکیسویں صدی کے ابتدائی سال۔ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ساہیوال میں سال اول میں داخلہ ہوا، تو ساہیوال کے ایک نواحی گاؤں سے وین کے ذریعے کالج پہنچتے۔ اس وقت تو کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا، لیکن آج کبھی فرصت میں ماضی کے ورق پلٹوں تو محسوس ہوتا ہے، کہ وہ بہت مشکل وقت تھا۔ سردی، گرمی ہر موسم میں گاؤں کے چوک میں وین جب پہنچتی، تو مسجد سے نمازی فجر کی نماز ادا کر کے نکل رہے ہوتے۔

وین ڈرائیور ہمارے گاؤں کے علاوہ راستے میں مزید دو گاؤں سے بھی طالبات لے کر ہمیں کالج پہنچاتا۔ واپسی پر یہی مشق پھر دُہرائی جاتی۔ سال اول میں پہلے دن اور وین میں سفر کے بھی پہلے دن، جب اگلے گاؤں سے طالبات وین میں بیٹھیں، تو سال چہارم کی صوفیہ نام کی طالبہ سے بھی تعارف ہوا۔ وین صوفیہ کے گھر کے باہر کھڑی ہوتی، کیوں کہ یہ گاؤں کا چوک تھا۔ عام اور سادہ سا گھر مکینوں کی سفید پوشی کا گواہ تھا۔ گریجوایشن کے بعد صوفیہ نے ساہیوال سے ہی ایم کام بھی کیا۔ ایم۔ کام کرنے کے فوراً بعد اسے ساہیوال پوسٹ آفس میں ملازمت مل گئی۔ اوقات ملازمت مختلف ہونے کی وجہ سے صوفیہ نے وین چھوڑ دی تھی۔ اسی عرصے میں ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس نے ملازمت کے پہلے ایک، ڈیڑھ سال ہی میں محکمانہ امتحان پاس کر کے مزید ترقی کر لی ہے۔ پھر وقت کی گرد میں جیسے زندگی میں ملنے والے کچھ کردار دھندلا جاتے ہیں ایسے ہی صوفیہ بھی کبھی یاد نہیں آئی۔ کچھ یہ کہ بہت قریبی تعلق بھی نہیں تھا۔

Read more

انسانوں کی بستی میں جانوروں کے حقوق

کراچی کے چڑیا گھر میں موجود برفانی ریچھ کی حالت زار کی خبریں، میڈیا پر آنے کے بعد ماحولیات اور جانوروں سے محبت کرنے والے افراد، اس کے تحفظ کے لئے میدان میں آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پاکستان میں نایاب نسل کے اس ریچھ کے تحفظ کے لئے بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے۔ براؤن کلر کے اس ریچھ کا نام رانو ہے، اور اس کا تعلق اردن سے بتایا جا رہا ہے، جو کہ سرد موسم میں رہنے کا عادی ہے، لیکن کراچی میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث یہ ریچھ سست اور کمزور ہو رہا ہے۔

کراچی کے 38 شہریوں نے مشترک طور پر براؤن کلر کے اس ریچھ اور دیگر جانوروں کے تحفظ کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برفانی ریچھ کو ایک چھوٹے سے تنگ پنجرے میں ماں باپ کے بغیر رکھا گیا ہے، جہاں اس کی صحت کا بہتر خیال نہیں رکھا جا رہا، جس سے اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ ریچھ کے بچے کو سکردو منتقل کیا جائے، جہاں اس نسل کے دیگر جانور پائے جاتے ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی ان کے لیے موافق ہے۔ اس پر عدالت نے چڑیا گھر انتظامیہ کو ریچھ کو سازگار ماحول فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

Read more

اپنی مرضی سے جینے کا مطلب صرف سیکس کی آزادی مانگنا نہیں

روزانہ کی بنیاد پہ بچوں اور خواتین کے ساتھ ریپ کے واقعات نے دل میں ایک خوف سا بٹھا دیا ہے۔ خوف ریپ ہو جانے یا مار دیے جانے کا تو ہے۔ مگر ساتھ ہی ساتھ یہ خوف بھی ہے کہ پھر معاشرہ کیا سلوک کرے گا۔ یہ خوف پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی خواتین میں محسوس کیا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک غیر ملکی سروے نظر سے گزرا۔ جس میں پوچھا گیا کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے لیے دنیا سے مرد غائب ہو جائیں۔ تو عورتیں کیا کرنا چاہیں گی۔ کوئی کمنٹ ایسا نظر سے نہیں گزرا۔ جس میں یہ کہا جاتا کہ ہمیں سیکس کی آزادی چاہیے۔ اپنی مرضی کے کپڑے پہننے، رات میں باہر پھرنے، اکیلی سڑک پہ واک اور بنا خوف کے گھومنے جیسی خواہشات تھیں۔ میں خود یہ کہتی ہوں۔ کہ میں پاکستان سے باہر اس لیے جانا چاہتی ہوں۔ کہ اپنی مرضی کے کپڑے پہن سکوں۔ اور بنا خوف سڑکوں پہ واک کروں یا ڈانس کروں۔ کوئی رک کے گھورنے یا فحاشی کا الزام لگانے والا دور دور تک نہ ہو۔

Read more

مرزاپور کے گڈو بھائی ’علی فضل‘: ’کردار کی تیاری میں ماموؤں سے متاثر ہوا‘

مرزا پور سیریز کا معروف کردار ہے گڈو پنڈت جسے دیکھنے والوں کی جانب سے کافی سراہا گیا۔ یہ کردار نبھایا ہے علی فضل نے جنھوں نے بالی وڈ کی تاریخ ساز فلموں میں سے ایک تھری ایڈیٹس سے اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی۔

Read more

کامران آن بائیک: سائیکل پر 50 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنے والے لیہ کے کامران علی جن کے لیے آرام کا مطلب تھکاوٹ ہے

کامران علی ایک پاکستانی سائیکلسٹ ہیں جنھوں نے لیہ سے اپنے سائیکل کا سفر کیا شروع کیا کہ اب وہ آرام سے بیٹھنے سے تھک جاتے ہیں۔

Read more

آٹزم، سپیچ ڈیلے: اگر آپ کا بچہ تین سال کی عمر میں بھی نہ بولے تو کیا کرنا چاہیے؟

سپیچ پیتھالوجسٹ ندا زاہد کے مطابق گر آپ کا بچہ دو سال کی عمر میں الفاظ نہیں بول سکتا ہو یا پھر تین سال کی عمر میں ایک جملہ نہیں بول سکتا ہو تو معالج سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Read more

مرد بھی مجبور ہو سکتا ہے!

ہمارے معاشرے میں تمام معاملات زندگی میں مرد کو برتری حاصل ہے چاہے وہ گھریلو ہو یا سماجی۔ رعب دار، غصے کا تیز، پتھر دل، احساس سے نالاں جیسی ان تمام خصوصیت کو ہم نے خود ہی مرد کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی ہمارے ذہنوں میں مرد کی تصویر کچھ یوں بنا دی جاتی ہے کہ خود بہ خود مرد اپنی شخصیت کو اسی انداز میں ڈھالنے لگتا ہے۔ اگر غور کریں تو کیسے یہ سوچ

Read more

میں واپس نہیں جانا چاہتی۔ ۔

میں عورت ہوں، اپنی ذمہ دار خود ہوں، کوئی میری وکالت نہ کرے، مجھے وہ وقت بھی یاد ہے جب دنیا کے کسی کونے میں میری کوئی وقعت نہیں تھی، جو مرد آج کل ”حقوق“ کا چارا ڈال کر مجھے شکار کرنا چاہتے ہیں میں ان کی نظر میں فقط ایک ”کھلونا“ تھی، میں دن رات ان کی خدمت کرتی تھی، اگر مزدوری سے کچھ ملتا تھا تو وہ بھی انہیں دینے پر مجبور تھی، اس کے باوجود مجھے مارا

Read more

ہاں میں ایک استاد ہوں

میں نے تنگ گلی میں اس پرانے طرز کی تاریک رہائش کو حیرت سے دیکھا۔ مجھے شک گزرا کہ میں صحیح پتہ پر پہنچا بھی یوں یا نہیں؟ کیوں کہ میں اس علاقے کے سب سے بڑے استاد سے ملنا چاہتا تھا۔ پوچھنے پر ہر ایک نے یعقوب صاحب کا نام لیا اور بتا یا کہ ان کے زیادہ تر سٹوڈنٹ بیوروکریسی میں بیٹھے ہیں یا پھر فوج میں، چند ایک نے سیاست میں بھی نام کمایا ہے اور کچھ پنجاب پولیس کے روح رواں ہیں۔ غرض اس ملک کا کوئی سرکاری اور نجی ادارہ ایسا نہیں جہاں ان کے تراشے ہوئے ہیرے موجود نہ ہوں۔ ایسے قابل استاد کا گھر ایک بدبودار علاقے کی ایک تاریک تنگ گلی میں ہو گا، سوچا نہ تھا۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!

آج چائے بناتے ہوئے ہاتھ جل گیا۔ جلن کی اذیت جھیلتے ہوئے خیال آیا، ان پر کیا گزر رہی ہوگی جن کے پورے جسم شعلوں میں گھرے تھے۔ بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری کے سانحے کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنے ارد گرد تپش محسوس ہونے لگتی ہے۔ ڈھائی سو سے زیادہ مزدور زندہ جل گئے۔ زندہ جلنا! تصور بھی کتنا خوف ناک ہے، اسی لیے سب سے زیادہ جہنم کی آگ سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن یہ ڈراوا بھی دوسروں کی زندگی جہنم بنا کر اپنے لیے جنت تعمیر کرنے والوں کو ان کے ارادوں سے نہیں روک پاتا۔

میرا شہر بھی تو ایک جہنم ہے، مسلسل خوف کا عذاب۔ سوچتی ہوں کیا دوزخ میں اس سے بڑھ کر اذیتیں ہوں گی جو اس شہر کے باسی جھیل رہے ہیں؟ کیا باپ کے سامنے بیٹے کی سر کٹی لاش لائی جائے گی؟ یہ اطلاع کسی کا دل کرب سے بھر دے گی کہ اس کے پیارے کا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، کوئی ماں گم شدہ بیٹے کے انتظار میں تڑپنے کی تکلیف جھیلے گی اور کیا کسی جہنمی کو یہ سوال ستائے گا کہ ”جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟“ خدا کتنا مہربان ہے، اس کی تو سزائیں بھی اس کے رحم کی دلیل ہیں، اور انسان کس قدر سفاک۔

Read more

یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ہم اب تک زندہ ہیں

کیا آپ نے اوڈری لورڈی کا نام سن رکھا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک سیاہ فام امریکی شاعرہ تھیں؟

کیا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انہوں نے ساری عمر عورتوں کے حقوق کی خاطر روایتی فیمنزم ’پدر سری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ لڑی اور سیاہ فام عورتوں کی جدوجہد میں گرانقدر اضافے کیے۔

Read more

اور وہ ایک ملک کا بادشاہ بن گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسے کچھ بننے کا شوق تھا۔ مگر اسے نہیں پتا تھا کہ اسے کیا بننے کا شوق تھا۔ منتوں مرادوں والی اکلوتی نرینہ اولاد کچھ نہ بھی بنے تو والدین کو تسلی ہوتی ہے کہ چلو خیر ہے اولاد نرینہ تو ہے۔ جن درباروں مزاروں سے اس کے والدین اسے مانگتے تھے۔ جب وہ بڑا ہوا تو وہ انہیں کو نہیں مانتا تھا۔ خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے اسے تو کچھ بننا تھا۔ کچھ بہت بڑا خواب اس نے اپنی تنہائی میں پال لیا تھا۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خالی ذہین شیطان کا گھر۔ گویا تنہائی، خالی کے مترادف ہوئی۔ یعنی شیطان انکل کا وائٹ ہاؤس

Read more

مجھے پتہ ہے، قید میں چڑیا کیوں گاتی ہے

آٹھ برس کی عمر میں زنا بالجبر سے چھلنی بچپن کے ساتھ بڑی ہوتی ہوئی مایا اینجلو نے کئی مقام دیکھے۔ کال گرل، بس کنڈیکٹر اور پھر ادیب، یونیورسٹی کی سطح پر تدریس، ملک و بیرون ملک امریکا کی نمائندگی، اخبارات و جرائد کی ادارت اور ان گنت اعزازات سے نوازی جانے والی اس امریکی ادیبہ، شاعرہ، رقاصہ، ڈرامہ نگار اور صحافی نے فروری 2014 میں وفات پائی۔  I Know Why the Caged Bird Sings (1969)ان کی خود نوشت ہے۔

Read more

بدھا کے حضور: گیان جیوتی کا دیا اور نربل سادھنا کی شکتی

جونہی ہم سڑک سے مڑے سامنے بلند چبوترے پر ایک دیو ہیکل پیکر دکھائی دیا۔ درختوں کے جھنڈ میں گھرا یہ مہاتما بدھ کا عظیم الشان مجسمہ تھا۔ جاپانی مہاتما کو دائی بتس Diabatsu کہتے ہیں۔ آلتی پالتی مارے بدھا پورے انہماک سے اپنی دنیا میں گم بیٹھے تھے ان کے چہرے پر اس قدر شانتی تھی کہ جس پر سکون کی کئی دنیائیں قربان کی جا سکتی تھیں۔ اس طرح کی شانتی تو دیکھنے والوں کو بھی سکون کی

Read more

غداری کا تمغہ قوم کی ماں کا ورثہ ہے

میری خوش فہمی تھی کہ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشان پاکستان ہے، مگر جب میں نے اپنے پیارے مملکت خداداد کی 73 سالہ تاریخ کا بغور مطالعہ کیا، تو معلوم ہوا، سب سے بڑا اعزاز تو ’تمغۂ غداری‘ ہے۔ آپ یہ پڑھ کر چونک ہو گئے ہوں گے، تو دوبارہ کہے دیتا ہوں، سب سے بڑا اعزاز، جو ریاست کسی معروف شخص کو دیتی ہے، وہ تمغۂ غداری ہے۔

اس تمغے کی تاریخ پرانی ہے۔ پہلے مارشل لا کے بعد، جب حسین شہید سہروردی آئین و جمہوریت و پارلیمان کی بحالی اور مارشل لا کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، تو آمر ایوب خان نے انہیں غدار بتلا کے جیل میں ڈال دیا۔ پھر بھی حالات نہیں سنبھلے، تو سہروردی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اسی دور میں مولانا مودودی، باچا خان اور مشرقی و مغربی پاکستان میں جو کوئی مارشل لا کے خلاف آواز اٹھاتا، اسے یہ تمغۂ غداری دیا جاتا رہا۔

Read more

ریاست مجھے خوف زدہ کیوں کر رہی ہے؟

24 ستمبر 2020ء کو، دن 2 بجے اسلام آباد کے سرکاری نمبر سے کال موصول ہوئی اور کہا گیا کہ آپ کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں درخواست آئی ہے۔ شکایت کنندہ کے مطابق آپ کے مضامین اور سوشل میڈیا پر سرگرمیاں، ریاست کے خلاف ہیں۔ دفتر طلب کیا گیا کہ صفائی دیں، بصورت دیگر یک طرفہ کارروائی کی جائے گی۔ کال سنتے ہی خوف اور پریشانی کے باعث شوگر اور بلڈ پریشر کا لیول بڑھ گیا۔ اہل خانہ سے بات چھپانا چاہتا تھا، مگر اہلیہ بات سن چکی تھی۔ بریس لگی ٹانگ گھسٹتے کمرے میں آتے ہی رونے لگی کہ تم نے ایسا کیا کر دیا ہے۔ سمجھایا کہ کچھ نہیں ہوا۔ سب ٹھیک ہے۔ بمشکل شانت کرایا اور واپس اسے اپنے کمرے میں بھیجا کہ بیٹیوں کو خبر نہ ہو۔

صحافی اور احباب کو مطلع کیا کہ یہ معاملہ ہے۔ نوجوان صحافی سبوخ سید، علی وارثی، امریکا سے حنیفہ عباسی، مریم خان، جرمنی سے عاطف توقیر اور بعد ازاں مطیع اللہ جان، رضا رومی، مرتضی سولنگی، جبران ناصر، حارث خلیق، کرنل (ر) انعام رحمن ایڈووکیٹ، ساجد تنولی ایڈووکیٹ سمیت ظفر منہاس، راجا ساجد، قریبی دوست راجا اعجاز، سوشل میڈیا کے دوستوں نے بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا، کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ احباب کی تسلی سے حوصلہ ملا اور خوف کچھ کم ہوا ہی تھا کہ یکم اکتوبر کی صبح ایف آئی اے سائبر کرائم کی جانب سے نوٹس آ گیا۔ جس پر پوسٹ آفس کی مہر یکم اکتوبر کی تھی، مگر نوٹس میں طلبی کی تاریخ 30 ستمبر 2020ء کی درج تھی۔

Read more

پانچ اکتوبر : یوم اساتذہ

پانچ اکتوبر کا دن، ”سلام ٹیچر ڈے“ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر میں اپنی یہ تحریر اپنے تمام اساتذہ کے نام کرنا چاہتی ہوں، جنہوں نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں کچھ الفاظ کو یکجا کر کے اس تحریر کی زینت بنا سکوں۔ اس دنیا میں جنم لینے کے بعد انسان کا ناتا، مختلف رشتوں ساتھ بندھ جاتا ہے، جن میں سے کچھ خونی رشتے ہوتے ہیں، تو کچھ روحانی اور معاشرتی طور پر وجود میں آتے ہیں۔ ان سب میں سب سے زیادہ قابل احترام رشتہ، استاد کا ہوتا ہے، جسے روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے۔ استاد در اصل کسی بھی معاشرے کا ستون ہوتا ہے، جس کے بغیر معاشرے میں انسانیت، تہذیب اور ترقی مکمن ہی نہیں۔ مگر میں آج کل محسوس کرتی ہوں کہ ہماری نوجوان نسل میں سے یہ احساس ختم ہوتا جا رہا ہے۔ استاد کی وہ عزت اور وہ قدر و قیمت نہیں رہی، جو کبھی تھی یا جس کا ہونا لازم ہے۔ یہ احساس میرے دل کو جا بجا چھلنی کرنے کے لیے کافی تھا، لہذا میں نے ایسی تحریر لکھنے کا سوچا جو اساتذہ کی عزت و مرتبے کو اجاگر کر سکے۔

اساتذہ کی قدر و قیمت کا، میں تھوڑا پس منظر پیش کرنا چاہوں گی۔ آج سے تھوڑا پیچھے چلے جائیں۔ ہمارے زمانے میں عزت و احترام کا یہ عالم تھا، اساتذہ سے نظریں ملانے کی بھی جسارت نہیں ہوتی تھی۔ راہ چلتے ہوئے ان سے ایک قدم آگے بڑھ جانا تو تصور میں نہ تھا۔ کیوں کہ ہمیں

Read more

گلگت بلتستان انتخابات: بابا جان و دیگر اسیران کی رہائی کے لیے دھرنا، کیا دباؤ بڑھانے کے لیے یہ وقت چُنا گیا؟

گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ میں سینکڑوں مظاہرین کی جانب سے دیا جانے والا دھرنا آج تیسرے روز میں داخل ہو گیا ہے اور مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے جب تک تمام اسیران کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔

Read more

کراچی کا سفر اور غربت کا مجرا – مکمل کالم

گاؤں کے سرے پر واقع آخری مکان مجھے بہت پسند ہے، جیسے ریل گاڑی کا آخری ڈبہ، جس کے بعد تا حد نگاہ صرف ریل کی پٹری دکھائی دیتی ہے۔ آخری مکان بھی ایسا ہی ہوتا ہے، دور دور تک کوئی آبادی نہیں ہوتی، زندگی اس مکان سے شروع ہوتی ہے۔

کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ لاہور سے کراچی براستہ موٹر وے سفر کیا جاوے، یار لوگوں سے سنا تھا کہ اب بارہ گھنٹوں میں بندہ کراچی پہنچ جاتا ہے اور واپس بھی صحیح سلامت آتا ہے، بوری میں نہیں آتا۔ مبالغہ آرائی چونکہ لاہوریوں کی گھٹی میں پڑی ہے سو احتیاطاً گوگل مد ظلہ سے بھی پوچھ لیا کہ سفر کتنا طویل ہے، جواب آیا چودہ گھنٹے۔ ’خاکم بدہن‘ میں یوسفی صاحب ایک شخص کا خاکہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اس کے متعلق محلے میں مشہور تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے نہیں نہایا ہے۔“ صبح خیزی کے باب میں اپنا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، اسکول کے زمانے کے بعد شاید ہی کبھی منہ اندھیرے اٹھنے کا اتفاق ہوا ہو۔ مگر اب مجبوری تھی سو ہمت کر کے علی الصبح پانچ بجے روانہ ہو گئے اور ساتھ میں کھانے پینے کا اتنا سامان رکھ لیا جتنا عام طور پر لوگ جنگ کے دنوں میں گھر پر ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ دراصل ہمیں بتایا گیا تھا کہ موٹر وے صرف سکھر تک ہے اور اس پر سروس ایریاز تعمیر تو ہو چکے ہیں مگر ابھی چالو نہیں ہوئے، وہاں پٹرول ملتا ہے اور نہ کھانا۔

Read more

میرے ضعیف والدین پر غداری کا مقدمہ

برطانیہ راج نے 1901 میں کالونائزیشن کے خلاف پشتونوں کی مزاحمت کو دبانے کے لئے ایف سی آر جیسے کالے قانون کو پشتونوں کے علاقوں میں نافذ کیا تھا، اس قانون کے تحت خاندان کے ایک فرد کے جرم مزاحمت کی سزا سارے قبیلے یا خاندان کو دی جاتی تھی، اپیل اور انصاف کے اصولوں کا کوئی تصور نہیں تھا، انگریز راج کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو غداری کی سزا دی جاتی تھی۔ آج جب میں اپنی ماں اور اپنے باپ کے ساتھ پاکستانی اداروں کے سلوک کو دیکھتی ہوں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ پشتون آج بھی غیر رسمی طور پر ایف سی آر کے نیچے ہی زندگی گزار رہے ہیں، جہاں امن، انصاف اور انسانی حق کی آواز بلند کرنے والوں پر غداری کے مقدمے بنائے جاتے ہیں، اور ایک فرد کے ریاستی جبر کے خلاف مزاحمت کی سزا سارے خاندان کو دی جاتی ہے۔

Read more

زرینہ بلوچ خود کو بیوی سمجھے یا بیوہ؟

کوئٹہ پریس کلب کے باہر کھڑی زرینہ بلوچ نے، ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے، جس پر یہ عبارت تحریر ہے ”مجھے یہ بتایا جائے کہ میں، خود کو شبیر بلوچ کی بیوی سمجھوں یا بیوہ؟“ زرینہ بلوچ یہ سوال اس لیے پوچھ رہی ہے کہ اس کے خاوند، شبیر بلوچ کو چار سال پہلے، جب ان کی شادی کو صرف دو ہی سال ہوئے تھے، نا معلوم کر دیا گیا، اور اسے یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ اس بد نصیب کا خاوند کسی عقوبت خانے میں گل سڑ رہا ہے یا اس کو مار کر کسی سرد خانے یا کسی قبرستان کی زینت بنا دیا گیا ہے۔

بس ایک مبہم سی امید کے ساتھ کرب کی کیفیت ہے، جس سے زرینہ کو روز گزرنا پڑتا ہے۔ اسے یہ بھی نہیں سمجھ آ رہا کہ وہ امید کا دامن تھامے، اپنے خاوند ہی کے گھر رہے یا بس خود کو اس کی بیوہ سمجھ کر، اپنے والدین کے گھر چلی جائے!؟ وہیں پر اس کے ساتھ راشد بلوچ کے ننھے بچے بھی اپنے بابا کی تصویر ہاتھ میں تھامے کھڑے ہیں۔ جن معصوم روحوں کو شاید یہ اندازہ بھی نہیں ہو گا کہ ان کے بابا کہاں چلے گئے ہیں۔ ہاں شاید ان کی ماں نے ان کو ان کے بابا کے بارے میں کوئی جھوٹی کہانی سنائی ہو گی اور شاید یہ بھی کہا ہو گا کہ اگر وہ ان کے ساتھ اس طرح اپنے بابا کی تصویر لے کر کھڑے ہوں، تو وہ واپس آ جائیں گے۔

Read more

اشیا کا اشتہار ان کے استعمال کے عین مطابق

پیمرا نے اشتہاری ایجنسیوں اور ٹی وی چینلوں کو ایڈوائس جاری کی کہ اشیا کے اشتہار میں ان کے استعمال سے ہٹ کر اشتہار دکھانے سے سیدھے سادے ناظرین کی طبیعت میں ہیجان پیدا ہو رہا ہے۔ اس وجہ سے لوگ پیمرا کے ساتھ ٹویٹر اور وٹس ایپ پر نہایت برا سلوک کر رہے ہیں اور اسے غیرت وغیرہ دلا رہے ہیں کہ کیا ہم نے یہ ملک اس لیے بنایا تھا کہ یہاں بسکٹ ایسے بیچے جائیں؟ اس لیے تمام مناظر اس انداز میں دکھائے جائیں جس سے عام صارف کو اشیا کے استعمال کا منظر دکھائی دے نہ کہ پرکٹی ناچنے گانے والیاں جو آئٹم سانگ پر مست ہوئی جاتی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ انہیں کوئی غم ہی نہیں ہے۔

Read more

جنوبی پنجاب کا تعلیمی مرکز: داتا گنج بخش اہل قلم کانفرنس

قلم دوست کے رکن اور عزیز دوست ڈاکٹر اختر سندھو نے وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے ساتھ ایک نشست رکھی تو معلوم ہوا جنوبی پنجاب میں تعلیمی سہولیات کے ضمن میں اہم کام ہو رہا ہے۔ وی سی ڈاکٹر سلیمان طاہر انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی ہیں۔ خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ کئی کھیلوں میں یونیورسٹی گرانٹس کمشن کی ٹیم کا حصہ رہے۔ زمانہ طالب علمی سے ان کے دوست اور سینئر صحافی میاں عابد اور عدنان احمد نے بتایا کہ انہیں تعجب ہوا کرتا کہ ایک کھلاڑی کیسے اتنے اچھے نمبر لے جاتا ہے۔

Read more

بابری مسجد کے قضیہ نے اتاردیے نقاب

6دسمبر 1992 کی رات، بی بی سی نے اپنی نشریات روک کر اعلان کیاکہ اتر پردیش کے شہر فیض آباد سے سنڈے آبزرور کے نمائندے قربان علی لائن پر ہیں اور وہ ابھی ابھی ایودھیا سے وہاں پہنچے ہیں۔ اگلی پاٹ دار آواز قربان علی کی تھی۔ جس میں انہوں نے دنیا کو بتایا کہ مغل فرمانروا ظہیر الدین بابر کی ایما پر تعمیر کی گئی بابری مسجد اب نہیں رہی۔ جس وقت و ہ ایودھیا سے روانہ ہوئے، وہ ملبہ کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی۔

اس دن 12 بجے کے بعد سے کسی بھی میڈیا ادارے کا ایودھیا میں موجود اپنے رپورٹروں سے رابط نہیں ہو پا رہا تھا۔ حکومت دعویٰ کر رہی تھی کہ ایک ہجوم نے مسجد پر حملہ کر کے اس کو معمولی نقصان پہنچایا اور سکیورٹی دستوں نے ان کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ہندو قوم پرست تنظیموں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ویشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے جب رام مندر تحریک شروع کی، تو میں بھی تقریباً اسی وقت دہلی میں صحافت کی تعلیم مکمل کر رہا تھا۔

Read more

موسیقار ایم ارشد سے ایک ملاقات

اس مرتبہ میرا لاہور آنا نامور شخصیات سے ملاقات کا موجب رہا۔ ان ملاقاتوں کے لئے میں حضرت تنویرؔ نقوی کے صاحبزادے شہباز تنویر نقوی اور نعیم وزیر کا مشکور ہوں۔ شہباز کا گزشتہ تحریر میں تعارف ہو چکا۔ نعیم وزیر کا تعارف یہ ہے کہ وہ پاکستانی فلمی دنیا کی نامور موسیقار جوڑی بخشی وزیر کے وزیر صاحب کے بیٹے ہیں۔ اور خود بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ نگار ایوارڈ یافتہ مشہور فلمی موسیقار ایم اشرف کے موسیقار بیٹے ایم ارشد سے میری ایک دلچسپ ملاقات ہوئی جو پڑھنے والوں کے لئے پیش خد مت ہیں۔

” کچھ اپنے والد صاحب کے بارے میں بتائیے“ ۔
” اپنے ابا جی، ایم اشرف صاحب کا میں بھلا کیا تعارف کرا سکتا ہوں۔ وہ بڑے خوش مزاج، مزے دار آدمی اور میرے دوست تھے۔ شروع میں وہ میرے دوست نہیں بلکہ باپ ہی تھے“ ۔
” ان کو فلمی دنیا میں کس نے متعارف کروایا؟“ ۔

Read more

صحت، ادویات اور مہنگائی کا سونامی

بزرگ شہری کسی بھی باوقار معاشرے میں قابل شفقت و قابل احترام طبقہ ہے خاص کر کے اسلام نے سفید ریش بزرگوں کو عزت و احترام سے نوازا اس کی مثال جدید تمدنی معاشرہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ بڑھاپا وہ حقیقت ہے جو انسان کی زندگی میں آ کر ہی رہتا ہے جہاں توانائی، جوش، ہمت و استقامت لرز کر رہ جاتی ہے۔ بزرگ شہری ہمارے معاشرے میں ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور دیگر رشتوں کی صورت میں ہمارے گھروں میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے اگر گھر کی رونق و رحمت ہیں تو بزرگ (ضعیف) والدین سائبان و برکت ہے۔ ان کا خیال رکھنا علاج و معالج کا معقول بندوبست کرنا سعادت مند اولاد کا فریضہ ہے جو کہ مشرقی اور خاص کر کے اسلامی معاشرہ میں اولاد بحسن خوبی بطور سعادت اپنا حق سمجھ کر کرنے کو بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

آپ کے علم میں ہوگا کہ ہمارے ملک کے محکمۂ صحت کی ناقص حکمت عملی اور ناکافی وسائل کی وجہ سے نظام صحت خوفناک صورت حال سے دوچار ہے۔ شہریوں کو صحت مند معاشرہ فراہم کرنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی مثبت حکمت عملی ہے اور نا ہی سنجیدگی سے مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ (سندھ بالخصوص کراچی کے تعفن زدہ آب و ہوا میں صحت مند معاشرہ محض خواب سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ) جس کی وجہ سے آئے روز مختلف بیماریاں بچوں اور بزرگوں کو لگی رہتی ہیں۔ عام طور پہ ہمارے معاشرے میں 40 / 45 سال کے بعد زندگی کے بقایا ایام دواؤں کے سہارے گزرتی ہے یعنی یوں سمجھے کہ زندگی کی کمائی کا ایک خطیر حصہ صحت و تندرستی کے تعاقب میں دواؤں کے نذر ہوجاتا ہے۔

Read more

جب مجھے بیٹی نہیں بیٹا چاہیے تھا

انسان رب کی جن رحمتوں کو آنکھوں سے دیکھ نہیں پاتا، ان میں ایک نام ایسے چہرے کا بھی ہے، جس نے میری ذاتی زندگی بدل دی۔ کہتے ہیں کہ بیٹا اللہ کی نعمت ہے اور نعمت کا حساب ہوتا ہے، جب کہ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہیں اور رحمت کا کوئی حساب نہیں۔ اس بات کو پانچ سال ہو گئے، شادی ہوئی تو ایک خواہش تھی کہ پہلی اولاد بیٹا ہو، پڑھا لکھا ڈاکٹر، بیوی ڈاکٹر، ماں باپ ڈاکٹر، پر سوشل پریشر اتنا تھا کہ نجانے کہاں سے اس خواہش نے جنم لے لیا اور یوں ایک عجیب سا اضطراب رہنے لگا، یہ اضطراب بڑھنے لگا اور بڑھتے بڑھتے اس نے ایک جنون کی سی کیفیت اختیار کرلی۔

Read more

خواتین اور بچوں کی صحت: زچگی قدرتی طریقے سے ہو یا آپریشن سے، پاکستان میں بچہ پیدا کرنے پر کیا خرچ آتا ہے؟

پاکستان میں اگرچہ زچگی کے لیے نجی اور سرکاری ہسپتالوں میں حاملہ خواتین کی رجسٹریشن پہلے سے کی جاتی ہے لیکن دونوں ہی جگہوں پر ایمرجنسی یا عام حالات میں بھی بچے کی پیدائش مفت نہیں ہوتی۔ ہم نے یہی جاننے کی کوشش کی کہ ایک زچگی پر کتنا خرچ آتا ہے۔

Read more

ریاست کا محکمہ یا سیاسی جماعت؟

آپ سب یہ عنوان پڑھ کر حیران ہو گئے ہوں گے کہ پتا نہیں اس بندے کا ذہنی توازن ٹھیک ہے بھی یا نہیں۔ یہ کیسا عنوان دیا ہے۔ حالانکہ اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ فوج تو محکمہ ہے۔ مگر محترم قارئین! میں نے فوج کو سیاسی جماعت نہیں کہا، بلکہ ایک سابق میجر جنرل نے فوج کو سیاسی جماعت بتلایا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ ”سما نیوز“ سے بدھ کی شب دس بجے پروگرام ”آواز“ نشر

Read more

میں نے تین عورتوں کی عزت کیسے بچائی؟

آج بازار سے گھر واپس آ رہا تھا، تو راستے میں ایک منظر نے توجہ کھینچ لی۔ بازار سے ہمارے علاقے کی جانب ایک وسیع ڈبل روڈ آتی ہے، جس کے بیچوں بیچ گھاس پر مشتمل قطعوں کا ساٹھ فٹ چوڑا فٹ پاتھ ہے اور سڑک کے اطراف گھر بنے ہوئے ہیں۔ اسی ڈبل روڈ کے بائیں ٹکڑے پر تین چادر پوش خواتین مجھ سے کچھ فاصلے پر خراماں خراماں چلی جا رہی تھیں۔ میرا اور ان کا فاصلہ پچاس گز کا رہا ہو گا۔

کچھ ہی دیر میں ایک سست رفتار موٹر سائیکل پر سوار دو مرد میرے عقب سے نمودار ہوئے اور ان خواتین کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ موٹر سائیکل کی سست رفتار اور موٹر سائیکل پر سوار مردوں کے انداز نے مجھے شک میں مبتلا کر دیا۔ ویسے بھی آج کل ملک میں زیادتی اور ہراسانی کے یکے بعد دیگرے واقعات ہو رہے ہیں، جن کی وجہ سے مجھے اب ہر راہ چلتی عورت زیادتی کا متوقع شکار اور ہر راہ چلتا مرد جنسی درندہ لگنے لگا ہے۔

Read more

وہ خواتین جن کو معاشرہ چھپا رہا ہے

میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں تقریباً چالیس سے پچاس عورتوں سے ملتی ہوں، جن میں وہ خواتین بھی موجود ہیں جن کو کسی قسم کی معذوری ہے۔ ہم جس معاشرے میں جینے کی بھرپور کوشش میں، کبھی مار دی جاتی ہیں، کبھی اغوا کرلی جاتی ہیں، کبھی ہم عورتیں محبت کے نام پر زبر جنسی میں استعمال کی جاتی ہیں، کبھی شادی جیسے استحصالی بندھن میں باندھ دی جاتی ہیں، کبھی رشتوں کو بچاتے ہوئے وٹا سٹا جیسی فضول روایت کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔ یہ سب ان عورتوں کی بات کی گئی ہے جن کو کوئی معذوری نہیں ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب ہم ان عورتوں یا لڑکیوں جن کو کوئی معذوری ہے ان کی زندگی کو محسوس کریں تو لگتا ہے سانس بند ہو جائے گی۔ عقل کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، جب ایک اکیس سالہ لڑکی یہ کہتی ہے، انگلیوں پر گن کر بتا سکتی ہوں باجی کہ میں پیدا ہونے سے لے کر اب تک کتنی بار اس چار دیواری سے باہر نکلی ہوں۔ صرف اس لیے کہ میں چل نہیں سکتی مجھے کہیں بھی لانے لے جانے میں گھر والوں کو پریشانی ہوتی ہے۔

آپ کی آنکھیں آنسووں سے بھر جائیں گی، جب کسی سانولے حسن کو آنکھوں میں کسی انہونی کا انتظار لئے دیکھیں گے، جس کے شوہر نے اس کو اس لیے طلاق دے دی کہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں، ڈاکٹرز کو اس کی ٹانگ کاٹنا پڑی، تا کہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ آپ اس وقت کیسا محسوس کریں گے، جب آپ ایک معصوم لڑکی جو کہ ذہنی طور پر چیزوں کو سیکھنے میں تھوڑا وقت لیتی ہے، شوق سے سیکھتی ہے، سیکھتے ہوئے مسکراتی ہے، آنکھوں میں کچھ پا لینے کی خوشی ہوتی ہے اور اپنے الفاظ کو زبان دینے کے لیے اسے اشاروں میں بات کرنا پڑتی ہے۔ اس کو سامنے والے کی بات سننے کے لیے کانوں کی نہیں آنکھوں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ ایسی لڑکی کسی کے لیے کیا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لیکن نہیں، اس کو تشدد کر کے گھر کے اندر بند رکھا جاتا ہے، تا کہ وہ باہر نہ جائے۔ کیونکہ اگر اس کا دل کرے گا باہر جانے کو، تو اس کو کوئی بھی انسان اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لے گا۔

Read more

مٹی کی بے چین خوشبو کے بلاوے

گرمیوں کی کڑکتی دھوپ میں تپتی زمین پر کبھی یک دم گھٹا چھانے لگتی ہے امڈتے بادل آتے ہیں اور چھما چھم برکھا برسنے لگتی ہے۔ کھلے میدانوں پھیلے کھیتوں کی صاف۔ پیاسی مٹی پر پہلا چھینٹا پڑتے ہی جو سوندھی سوندھی خوشبو اٹھتی ہے اس میں چھپی چاشنی اک عجیب بے چینی لئے ہوتی ہے۔ اس میں بلاوے ہوتے ہیں۔ جو نہ جانے کب سے بچھڑی روحوں۔ اس پر کھیلتی رہی روحوں کا ہجر محسوس کرتے انہیں بلاوے بھیجتی رہتی ہیں۔ اپنے دیس میں۔ دور کے دیس میں۔ مرضی سے۔ مجبوری سے چلے جانے والے جب کبھی اس خوشبو کا بلاوا محسوس کرتے ہیں تو وہ اچانک۔ جانے کیسے پھر ملن کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں۔

کبھی بلاوے، سند یسے ہوتے ہیں

Read more

نائیجریا میں کچھ خاندان اپنے بچوں کو قید کیوں کر دیتے ہیں؟

افریقہ کے ملک نائیجریا میں ایسے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جس میں حکام نے ایسے افراد کو بچایا ہے جنھیں ان کے اپنے گھر والوں نے قید کر دیا تھا۔ ان واقعات کے سامنے آنے سے یہ بات مزید اجاگر ہوتی ہے کہ والدین کا اپنے بچوں کو نظر انداز کرنا کتنا عام ہے اور اس سے ذہنی صحت کے کتنے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

Read more

ڈائری 3 اکتوبر 2020

چھوٹے بچے کسی نئے شخص کے آنے یا پہلے سے شناسا فرد سے دیر بعد ملاقات کے بعد آپے سے باہر ہو جاتے ہیں۔ عافین کو بھی ایسے ہی کرنا تھا۔ اپنی من مانیوں کے سبب اس نے کل شام ساڑھے چار بجے دراز ہوئی اپنی ماں کو لمحہ بھر سونے نہیں دیا۔ بڑا بھائی باہر لے گیا تو بچوں کے کھیل کے مقام پر اس نے دوسرے کسی بچے کی کھلونا گاڑی پر تصرف جما لیا۔ بھائی نے روکا تو فرش پر لیٹ کر ہاتھ پاؤں پٹخ کے رونے لگا چنانچہ بھائی اسے فوراً واپس گھر لے آیا۔

ماں کے کام پر جانے کے بعد پھر کبھی کرسی کی پشت پر پیٹ کے بل کھڑے ہو کر نشست پہ سر رکھنے کی کوشش کرتا تو کبھی اسی قسم کا کوئی ناممکن یا قابل خطر کرتب۔ پہلے روکا پھر ڈانٹا تو اس نے پھر رونا شروع کر دیا۔ پھر رٹ لگا دی کہ ماما کو فون کرو۔ وہ کام پہ فون سننے کے سبب پہلے ہی جرمانے کے طور پر مشاہرہ سے اچھی بھلی رقم ہار چکی تھی مگر فون کرنا ہی پڑا۔ اس کی حرکتیں جاری رہیں اور ماں کو فون کرنے کی ضد بھی۔

Read more

اپنے اپنے مفادات نے ہم کو یکجا کیا

وطن عزیز پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مجرم اپنے جرم کو اس کی اصل کے مطابق تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالا گیا تو بھٹو صاحب نے اپنی عوامی اور بین الاقوامی مقبولیت کے زعم میں اس کو پہلے تو پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہ دی۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار بلاشبہ ایک عالی دماغ تھے۔ لیکن وہ بھی اس کیس کو اس کی اصل روح کے مطابق لڑنے میں ناکام رہے، ان کا سارا زور اسے سیاسی کیس ثابت کرنے پر صرف ہوتا رہا۔ جب یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوا تو پھر بھٹو صاحب سمیت ان کے سب حامیوں کو اندازہ ہوا کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور چڑیاں سارا کھیت چگ چکی ہیں۔

یہی حال نواز شریف کا پاناما کیس میں رہا، ان کے خواجہ آصف جیسے نادان دوستوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ چند ہفتوں کا شور شرابا ہے، میاں صاحب، قوم جلد ہی اسے بھول جائے گی۔ جن کی خوشامد میں آ کر میاں صاحب نے قومی اسمبلی میں جھوٹ پر مبنی وہ تقریر کر ڈالی، جس میں کہا گیا تھا، کہ حضور یہ ہیں وہ ذرائع، جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔

Read more

مالشیے: سر جو تیرا چکرائے، یا دل ڈوبا جائے

جیسے ہی رات اپنے جوبن کی اور بڑھتی ہے، کاروباری مراکز بند ہونے کے بعد، ڈھابے طرز پر قائم ریسٹورنٹس، تفریحی پارک، تھڑے، یا مخصوص سڑکوں پر شیشے کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔ سنٹرل پنجاب کے شہروں کے افراد، اس آواز سے مانوس ہیں، لیکن شہر اقتدار میں بھی تقریباً ہر سیکٹر میں ایسے کردار نظر آتے ہیں۔ یہ آواز مالشیوں کی بوتلوں سے پیدا ہوتی ہے، جو شیشے کی چھوٹی چھوٹی بوتلوں کو گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لئے

Read more

ہاتھرس ریپ کیس: بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ کی ویڈیو پر کیا سزا ہو سکتی ہے؟

انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ گذشتہ کچھ دنوں سے ’ہاتھرس ریپ‘ کے واقعے پر ٹویٹ کر رہے ہیں لیکن ایک ٹویٹ پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

Read more

کیا ماں کے دودھ کا متبادل لیبارٹری میں تیار کیا جا سکتا ہے؟

دو سٹارٹ اپس اس مشن پر کام کر رہے ہیں کہ ایسا دودھ بنایا جائے جو بالکل ماں کے دودھ جیسا ہو لیکن کیا یہ ممکن ہے؟ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ماں کا دودھ شیر خوار بچوں کے لیے غذائیت اور توانائی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جو انفیکشنز کے خلاف مدافعت پیدا کرتا ہے۔

Read more

ناگورنو قرہباخ میں جنگ کے شعلے

دور جدید کی بہت سی جنگوں کی طرح کیا یہاں بھی کسی اور ملک کی پراکسی لڑی جائے گی؟ آنے والا وقت بتائے گا کہ کس جنگ کا چھوٹا ہوا تیر، کہاں پیوست تھا اور اس کا زہر کہاں تک پھیل گیا ہے لیکن اتنا صاف نظر آرہا ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

پشاور میں دلیپ کمار کا گھر جہاں اب کوئی داخل نہیں ہو سکتا

پاکستان کے شہر پشاور میں دلیپ کمار کے آبائی گھر اور ممبئی کے علاقے باندرہ میں ان کی موجودہ رہائش گاہ کے درمیان برصغیر کی تقسیم اور سرحد کی لکیر کھچ چکی ہے لیکن دلیپ آج بھی پشاور کو ’میرا شہر‘ ہی کہتے ہیں جہاں کی یادیں شہر چھوڑنے کے 90 برس بعد بھی ان کے ساتھ ہیں۔

Read more

کھلونا جان کر تم تو۔ ۔ ۔ سطحی ملائیت سے پاک کالم

اب سے چار برس قبل میں سندھ کے ایک پسماندہ شہر میں برسر روزگار تھا۔ ایک دن خبر ملی کے میرے والد صاحب کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ خبر برق بن کر جسم سے گویا روح قبض کر گئی۔ میں جو کے ایک منچلا نوجوان تھا، اب اپنی دنیا کو بدلتا محسوس کر رہا تھا۔ کچھ موڑ زندگی میں قدرت کی طرف سے ایسے آتے ہیں جو انسان کو نا چاہتے ہوئے بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس موڑ میں راستہ اچانک ناہموار ہو جاتا ہے، جگہ جگہ ٹائر پنکچر ہوتا ہے، دور دور تک کوئی چارہ گر دکھائی نہیں دیتا، البتہ زمانہ شناسی کے سائن بورڈز اور دانائی کے سپیڈ بریکر ضرور آتے ہیں۔

اب آپ وہ راستہ کیسے طے کرتے ہیں، اس میں اللہ کی مدد کا بہت عمل دخل ہے کیونکہ انسان تو زندگی کے بیشتر لمحات میں خود کو عقل کل ہی سمجھتا ہے۔ خیر اپنی لا اوبالی طبیعت کو خیر باد کہنا پڑا کیونکہ میرے والد نے میری بڑی بہن کی پیدائش پر جہاں بے پناہ خوشی منائی وہاں انہوں نے ہسپتال کی دریدہ کھڑکی سے طلوع صبح کا سورج دیکھتے ہوئے یہ آرزو کی کہ اللہ تو نے مجھے چاند عطا کر دیا ہے، اگر تو بہتر سمجھ تو سورج بھی عطا کر دے۔ اور اس بات میں دو رائے بھی نہیں کے بسا اوقات ہمارے معاشرے میں بیٹوں کا اصل کردار ماں باپ کی ادھیڑ عمری سے ہی شروع ہوتا ہے، اس کے علاوہ عمومی طور پر وہ گھر سے لاتعلق ہوتے ہیں۔

Read more

لال بہادر شاستری: وہ انڈین وزیر اعظم جن کی میت کو صدر ایوب خان نے کندھا دیا

جب شاستری کی میت کو دلی لے جانے کے لیے تاشقند ہوائی اڈے پر پہنچایا جا رہا تھا تو راستے میں سوویت، انڈین اور پاکستانی جھنڈا سرنگوں رکھا گیا تھا۔

Read more

بھگت سنگھ کون ہے؟

پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی نوجوانوں کے لئے انقلابی سوچ کی وہ کہانی جس کو انہیں ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے۔ تاکہ وہ اپنے بچوں کو بتا سکیں کہ بھگت سنگھ کیسے پیدا ہو تا ہے اور وہ کون ہو تا ہے؟

بھگت سنگھ بننے کا پہلا قطرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

19 سال کے کرتار سنگھ سرابھا نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں کہا اس کی پارٹی انگریز حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ سرکار تشدد اور نا انصافی پر قائم ہے۔ اسے عدالت میں بیان بدلنے کا مشورہ دیا گیا اس نہ صرف انکار کیا بلکہ لندن میں پھانسی پانے والے مدن لال دھینگڑا کا بیان دہرایا؛

”جو ملک غیر ملکی سنگنیوں کی نوک سے دبا ہوا ہے، وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں ہو تا ہے“ ۔ اسے 16 نومبر 1915 کو پھانسی دے دی گئی۔

Read more

نیُو شُو: چین میں خواتین کے لیے مخصوص خفیہ زبان

چین کے صوبے ہنان کی دیہاتی عورتیں اپنے بہت ہی لطیف احساسات کے ایک دوسرے سے اظہار کے لیے صدیوں سے ایک خفیہ رسم الخط استعمال کرتی آئی ہیں اور یہ لکھائی جسے معدوم سمجھا جا رہا تھا، ایک مرتبہ پھر سے مقبول ہو رہی ہے۔

Read more

سلطان صلاح الدین ایوبی: شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر سے صلیبی جنگوں کے ہیرو بننے تک

جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔

Read more

ڈرے سہمے بچے اور غافل سماج

26 ستمبر کی ڈوبتی سہ پہر، نور محمد کی حویلی میں مٹی کے اونچے ڈھیر پر آلتی پالتی مارے بیٹھا 10 سالہ بچہ ساحل آس پاس سے بے نیا ز مٹی کے گھروندے بنا تا، گراتا اور قہقہے بکھیرتا۔ بے شک بچپن اتنا ہی معصو م اور لاپروا ہو تا ہے۔ قریب ہی دو نوجوان ساول علی اور محمد امین گلی سے ہاتھ کی ریڑھی پر مٹی بھر بھر کر حویلی میں لا رہے تھے اور حویلی کی گہرائی بتدریج

Read more

مکافات عمل

صدیقی صاحب آپ ہمیں خوش کرتے رہے ہم آپ کو خوش کرتے رہیں گے۔ عاصم صاحب نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ عاصم صاحب کا شمار شہر کے معزز لوگوں میں ہوتا تھا اللہ نے انھیں دولت، اولاد دونوں کی نعمت سے نوازا تھا۔ دو جوان بیٹے ان کے مضبوط بازو تھے۔ ․ یہ حسن اور فریحہ کہاں ہیں؟ عاصم صاحب نے بیگم رونق سے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ میاں صاحب دونوں کی نئی نئی شادی

Read more

فارمولا فلموں کی کامیابی کا راز

2000 کے بعد ہندوستانی فلموں میں تبدیلی آنے لگی، یاد کیجئے، دل چاہتا ہے، لگان، کبھی خوشی کبھی غم، محبتیں، وغیرہ یعنی فلموں کا مزاج بدلنے لگا اور ان میں بے پناہ سرمایہ لگنے لگا۔ اب بھارتی فلمیں نسبتاً زیادہ حقیقت کے قریب آ گئیں اور کیمرہ ورک، کوریو گرافی، ایکشن وغیرہ میں بہت بہتری آ گئی۔ تب اس نوع کی باتیں اخبارات میں چھپنے والے فلمی تجزیوں میں آنے لگیں کہ اب فارمولا فلمیں ماضی کا قصہ بن گئیں مگر ایسا ہر گز نہ ہوا۔

Read more

دو سانحات اور برڈباکس

فلم ’برڈ باکس‘ دیکھ کر میں ششدر ہوں کہ کیسے کوئی شاہکار بیک وقت بہت سی صورت احوال پہ منطبق ہوتا چلا جاتا ہے یا شاید میرے لاشعور پہ فلم نے گہرا اثر چھوڑا ہے کہ میں دو مختلف سانحات یا دو مختلف صورت احوال پہ ایک سے سوال کھڑے کر رہی ہوں۔ یہ ایک ناول بیسڈ فلم ہے جسے دنیا بھر میں سراہا گیا۔

آئیے ان دو سانحات پہ بات کرتے ہیں۔ پہلا سانحہ تو موٹر وے پہ ہونے والی معزز خاتون کے ساتھ جنسی تشدد کا ہے جی ہاں ہم اسے جنسی تشدد اور بدفعلی ہی کہیں گے۔ کسی کے گندے مذموم فعل کی سزا آپ ایک معزز عورت کو کیسے دے سکتے ہیں کہ وہ بے آبرو ہو گئی؟ کسی کا بد فعل اس کو مجرم ٹھہراتا ہے اور ٹھرانا چاہیے اور اپ مجھے اپنا ’برڈ باکس‘ تھامے رکھنے دیجیے۔ سانحہ در سانحہ یہ ہے کہ ملزم تو ہماری لائق فائق پولیس سے پکڑے نہ گئے۔

Read more

ماں اور بچے کی صحت: نومولود بچوں کے پانچ بڑے مسائل جن کا سامنا تقریباً ہر ماں کو ہوتا ہے

ماں بننے کے لیے کتنی ہی تیاری کر لی جائے، نانی دادای کے مشورے لیے جائیں، کتابیں پڑھ لی جائیں اور آج کل انٹرنیٹ پر رنگ رنگ کی معلومات جمع کر لی جائے یا ایپس ڈاؤن لوڈ کر لی جائیں، نومولود بچوں کے کچھ عمومی مسائل پھر بھی ماؤں کو بوکھلا دیتے ہیں۔

Read more

اپنی بیٹیوں سے خوف زدہ مرد

آپ کیمرے کے سامنے ایک خاتون کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں تو آپ کی بیٹی یہ پیغام لے سکتی ہے کہ مرد اور خاتون کا ہاتھ ملانا جائز ہے۔ وہ بھی کسی مرد سے ہاتھ ملا سکتی ہے یا ایسا سوچ سکتی ہے۔ آپ یہ پیغام اپنی بیٹی کو دینا ہی نہیں چاہتے۔ کیونکہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی غیرت گھر کی عورتوں کے بدن سے جڑی ہوئی ہے۔ اور آپ ہر وقت اپنی بیٹی کو یہ

Read more

تقسیم ہند: بٹوارے کے دوران اپنے خاندان سے بچھڑنے والی لڑکی 73 برس بعد اپنے خاندان سے کیسے ملی؟

ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور میں گنجیانوالا کھو 4 چک سے داپھیا بائی کے ماں باپ نے جہیز دے کر جب ان کے شوہر ہیملہ رام کے ساتھ خیرپور ٹامیانوالہ کے لیے انھیں رخصت کیا تھا تو انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ آخری مرتبہ انھیں دیکھ رہے تھے۔

Read more

برا تو نہیں مانا آپ نے؟

آپ کی لڑکی گوری ہے، لمبی ہے، مگر ہمارے لڑکے سے تھوڑی زیادہ لمبی ہے۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں لوگ باتیں کرتے ہیں۔ سمجھ گئے نا برا تو نہیں مانا آپ نے؟ ماشا اللہ بہت پڑھی لکھی ہے۔ مگر ہمارا بیٹا کہتا ہے زیادہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکیوں کا دماغ خراب ہو جاتا ہے۔ سمجھ گئے نا برا تو نہیں مانا آپ نے؟ ماشا اللہ بہت اچھا کماتی ہے آپ کی بیٹی۔ مگر ہمارا تجربہ ہے جو لڑکیاں لڑکے سے

Read more

کیا خواتین ٹیچرز اپنے بچوں کا گلہ گھونٹ دیں؟

سوشل میڈیا پر اس وقت میانوالی کی ایک ٹیچر مس عشرت کا معطلی کا آرڈر گھوم رہا ہے۔ سی ای او ڈسٹرکٹ ایجوکیشن کے وزٹ کے دوران وہ اپنے بچے کو بہلا رہیں تھیں۔ جس پر قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار سی ای او صاحب نے ٹیچر کے معطلی کے آرڈر جاری کروا دیے اور اس طرح علم دشمن عناصر کی بیخ کنی کی اور تعلیم کی راہ ہموار کی۔ حالانکہ موصوف جس ضلع کے سی ای او

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ”نو گو ایریا“ ختم․․․ مہاجر ”اردو بولنے والے سندھی“ ہو گئے

16 جولائی 2003 سال اور قد بچے کی عمر بتاتے ہیں لیکن بچوں کے شعور کی اٹھان کا پتا ان کے سوال دیتے ہیں۔ وہ سوال جو ہمیں پریشان یا سوچنے پر مجبور کردیں۔ کچھ دنوں پہلے سارنگ نے جب پوچھا، ”ماما! آپ ڈائری کیوں لکھتی ہیں، کوئی پڑھتا نہیں تو فائدہ؟“ تو مجھے خبر ہوئی کہ میرا بیٹا تیزی سے بڑا ہو رہا ہے۔ اس کا پہلا سوال میرے ہاتھ میں پکڑی ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تھا،

Read more

قرنطینہ کے دنوں میں ہمارے ہاتھ لگی ”جنٹلمین الحمدللہ“

جس طرح ہر ماں اپنے کالے کلوٹے پتر کو بھی ”جنٹلمین“ سمجھتی ہے اسی طرح فوج والے بھی اپنے افسر کو ”جنٹلمین“ کہتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی ”کوجا“ کیوں نہ ہو۔ ہم تو ویسے ماشاءاللہ بچپن سے ہی بڑے پیارے تھے تو ہماری اماں بھی بچپن میں ہمیں ”پینٹ بشرٹ“ پہنا کر کہا کرتی تھیں کہ میرا پتر جنٹلمین بن گیا جنٹلمین کا ذکر اس لئے کیا کہ قرنطینہ کے دنوں میں ہمارے ہاتھ ایک جنٹلیمن فوجی (جی ہاں

Read more

اکتوبر ہلچل کا مہینہ!

بلھے شاہ کی ’’بہنوں اور بھرجائیوں‘‘ کی طرح راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کئی ہفتوں سے شہباز شریف کو سمجھاتے چلے آرہے تھے کہ سرجھکاتے ہوئے ’’میری پارٹی‘‘ بن جائو۔ حالانکہ بہت عرصے سے وہ ’’حاضر جناب‘‘ ہوئے نظر آرہے تھے۔ وہ یہ رویہ اختیار نہ کرتے تو عمران حکومت کسی صورت پارلیمان سے ’’وہ‘‘ قانون منظور نہیں کرواسکتی تھی جسے ایک دستی بم کی مانند ’’سسیلین مافیا‘‘ کے خلاف برسرپیکار رہے کھوسہ صاحب نے اپنی ریٹائرمنٹ

Read more

محبت بدنام ہے یا اس سے جڑی ہوس

محبت؟ دور حاضر کا اک بدنام لفظ جانا جاتا ہے میں اکثر سوچتی ہوں کہ محبت بدنام ہے یا اس سے جڑی وہ ہوس بدنام ہے جسے لوگ محبت کا نام دے کر ڈراما رچاتے ہیں اور لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ کیا واقعی لوگ محبت کے اصل معنی سے آشنا ہیں؟ نہیں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے آج کل کے لوگ محبت کے اصل معنی سے آشنا نہیں ہیں بلکہ لوگوں نے دل لگی وقتی جذبے اور

Read more

ہمارے محمد علی جناح: لنکنز ان سے ماڑی پور تک

سولہ سال کا لڑکا تھا، جو اپنی ماں کی آرزو مکمل کرنے کی خاطر پنیلی گاؤں کی ایک چودہ سالہ لڑکی سے بیاہ کر رہا تھا۔ اس کو تو والد کے دوست فریڈرک لی کرافٹ کی منشاء کے مطابق اب انگلستان جا کر پڑھنا لکھنا تھا۔ گاؤں بھر میں جشن ہوا کہ پونجا صاحب گھر کی پہلی شادی ہے وہ بھی ان کے سب سے بڑے بیٹے محمد علی کی۔ محمد علی نے سنہ اٹھارہ سو پچانوے میں لنکنز ان

Read more

داستان علم فروشوں کی

آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ یہ کیا ٹائٹل دیا کیوں کہ ہم نے ”داستان ایمان فروشوں کی“ تو سنا ہے جو کہ نسیم حجازی صاحب کا ایک لازوال علمی سرمایہ ہے مگر آج کل ایمان تو برائے نام رہ گیا ہے اس لیے اس کاروبار میں گھاٹا بہت ہے اور ہم نے سنا تھا کہ علم ایک لازوال دولت ہے اور اس دولت کو لوٹنا ہمارا حق، یہ بانٹنے سے بڑھتا ہے، ہم بھی بانٹ تو رہے ہیں

Read more

ہاتھرس گینگ ریپ: 20 سالہ دلت لڑکی کی مبینہ گینگ ریپ کے بعد دلی کے ہسپتال میں موت

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے علاقے ہاتھرس میں مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنائی جانے والی ایک 20 سالہ دلت لڑکی کی گذشتہ رات دہلی کے صفدرجنگ ہسپتال میں موت ہوگئی ہے۔

Read more

سی سی پی او لاہور کے بیان پر تنقید: ’کیا خاوند کی اجازت کے بغیر سفر کرنے والی خاتون سے ریاست بری الذمہ ہے؟‘

لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ سمیت متعدد بیوروکریٹس کی اگلے گریڈ میں پروموشن کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کا ایک اور بیان بھی سوشل میڈیا پر زیرِبحث ہے۔

Read more

قلعہ فراموشی کی رات اور کوہ ندا کا بلاوا

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانیے کیا یاد آیا۔ اشتعال اور انفعال کے اس موسم میں غیر ضروری خیال آرائی سے پرہیز مناسب ہے۔ یہ کچھ برادر بزرگ ایاز امیر ہی کا حصہ ہے کہ بجوگ کی فصل میں شوق کے انگاروں کو ہوائے وارفتہ سے سلگائے رکھتے ہیں۔ اپنے ہاں تو ذیابیطس نے ایسی غارت گری کی ہے کہ ”سایہ خیال بھی اب سر سے اٹھ گیا“۔ وہی جو احسان دانش نے کہا تھا، مجھ سے پہلے مرے اظہار کو

Read more

کیونکہ ستم گر ہے ستمبر

پاکستان کی سیاست کی کہانی بھی کسی بارہ مصالحے کی سپر ہٹ فلم سے تو کم نہیں ہے۔ جس میں ایک زمانے کے ظلم کا ستایا ہوا اینگری مین ہیرو ہوتا ہے اور اس کی ایک بہت ہی معصوم مگر امیر ٹائپ ہیروئن ہوتی ہے جس کا کام ہیرو کی انٹری سے پہلے یا اس کے بعد بھی صرف آنسو بہانا یا دو چار گانوں پر دل لبھانا ہوتا ہے۔

ساتھ میں ہیرو کی معذور بہن بیوہ ماں اور بہت تڑکا ہو تو ایک عدد بھائی بھی جس کو یا تو غنڈوں نے ماردینا ہوتا یا پھر اس نے ولن کے ساتھ مل کر بغاوت کے علم بلند کرنے ہوتے ہیں۔

Read more

میری مادر علمی: سراج الہدیٰ

یہ 1999ء اکتوبر کی بات ہے جب مجھے اس عظیم دانش گاہ کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہونے جا رہا تھا۔ پانچویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد مجھے والدین کی خواہش کے مطابق دنیا کی سب سے عظیم کتاب ”قرآن مجید“ کو حفظ کرنے کے لیے داخل کروا دیا گیا۔ میں اگرچہ اس وقت اس درس گاہ کی قدرومنذلت سے چنداں واقف نہ تھا مگر بطور طالب علم اس ادارے سے وابستگی نے مجھے جہاں اس ادارے کی

Read more

ایک لڑکی کا یادگار خط

ہمارے ملک میں طبقاتی نظام تعلیم کے باعث ہماری اشرافیہ کے بچوں کے لیے انگلش میڈیم طریقہ تعلیم رائج ہے۔ ان کے لیے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم آکسفورڈ اور کیمبرج سے منگوایا جاتا ہے، ایک خاص کیپسول کے ماحول میں انہیں بند رکھا جاتا ہے، انہیں مڈل کلاس اور لوئر کلاس کی مخلوق کی ہوا تک نہیں لگنے دی جاتی۔ درآمد شدہ نصاب میں اس ملک کی مٹی کی خوشبو، ادب، اقدار، روایات، احساسات، جذبات اور خیالات شامل نہیں

Read more

مودودیؒ، نصراللہ اور زرداری

”نواب زادہ نصراللہ خان بعض لوگوں کو اس لیے برے لگتے ہیں کہ مولانا مودودی ؒجیسی باتیں کرتے ہیں“ ۔ یہ جملہ پڑھے ہوئے، یوں سمجھئے کہ مدت بیت چکی تھی جب نواب زادہ نصراللہ خان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس سیاست کا زمانہ تھا جسے نوے کی دہائی سے منسوب کیا جاتا ہے یعنی میاں اور بی بی کی لڑائی یوں جاری تھی جس کانقشہ حضرت صوفی تبسم جیسے عدیم المثال شاعر نے بچوں کے لیے ایک نظم میں

Read more

ہپنو تھراپی: گریس سمتھ جنھوں نے سگریٹ نوشی ترک کی اور کامیاب کاروبار کی بنیاد رکھی

بی بی سی کے ہفتہ وار سلسلے دی باس میں دنیا بھر سے مختلف کاروباری شخصیات کا پروفائل شائع کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے ہم امریکی عاملِ تنويم ۔ ہپنا ٹزم کی ماہر گریس سمتھ سے بات کریں گے۔

Read more

خواتین اور بچوں کی صحت: نوزائیدہ بچے کن پیدائشی جنسی نقائص سے متاثر ہو سکتے ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟

پاکستان میں ایک سرکاری اندازے کے مطابق ہزاروں افراد کے جنس جنس پیدائش کے وقت واضح نہیں ہوئے اور اب انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہم نے ماہرین سے ان نقائص کا حل دریافت کیا ہے۔

Read more

کنواری ماں، اندھا قانون اور مسیحا کا جرم

چودہ برس کا سن، پیلی پھٹک رنگت، چہرے پہ بے بسی، آنکھ میں رنج و الم، لیبر وارڈ کے ایک بستر پہ ایسی دکھتی تھی جیسے مقتل میں ننھی سی گڑیا بھولے بھٹکے آ گئی ہو۔ اس چڑیا سی بچی کے لئے یہ مقتل گاہ ہی تو تھی جہاں وہ پچھلی رات ہی چودہ برس کے سن میں ماں بنی تھی۔ ریپ اور پولیس کے متعلق بات چلی تو بھولی بسری یادوں میں سے بے اختیار وہ بچی جھانک کے

Read more

ایک سرکاری ہسپتال کے جنرل وارڈ میں

مجھے ابھی دو گھنٹے مزید یہاں گزارنے ہیں۔ یہ ایک سرکاری ہسپتال کا بچوں کا وارڈ ہے جہاں زیادہ تر ایسے بچے ہیں جو انتہائی نگہداشت سے یہاں لائے گئے ہیں، کیونکہ وہاں بستروں کی کمی کی وجہ سے اب صرف ایسے مریض ہیں جو ابھی بھی اجل سے دست و گریباں ہیں۔ کبھی ان کے پیاروں کی دعائیں اور تقدیر کی لکیرانہیں اس طرف لے جاتی ہے جہاں ہے یہ خرابہ جسے زندگی کہتے ہیں۔ اور کبھی وہ ان

Read more

میرا باپ کم نا تھا میری ماں سے

والد۔ ۔ ۔ اس لفظ کو لکھتے اور پڑھتے ہوئے ذہن کے دریچوں میں اک بھنور سا آ جاتا ہے یادوں کا اک بھنور۔ اس لفظ کو محض اک دو جملوں میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں نا مکمن ہے۔ میرے نزدیک اس لفط کی قدروقیمت شاید باقیوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیوں کے میرے والد محترم حیات نہیں۔ میں نے بے شمار تحریں ماں کی عضمت پر پڑھیں جو کہ بلا شبہ درست ہیں تو سوچا اک تحریر باپ

Read more

وادی بروغل

وادی بروغل پاکستان کے صوبہ خبیرپختوں خواہ کے ضلع چترال اپر کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔ قدرتی حسن سے مالامال یہ علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ وادی بروغل کی کل آبادی تقریباً 220 گھرانوں پر مشتمل ہے۔ اس وادی میں نسلی طور پر تین قومیں یا لسانی گروہ واخی، سراقیلی اور کرغیز آباد ہیں۔ اس طرح علاقے میں تین زبانیں واخی، سراقیلی اور کرغیز بولی جاتی ہے۔ ان زبانوں میں بولنے والوں کی تعداد کے حساب سے واخی

Read more

سویٹی : ٹونی ماریسن کی ایک کہانی

میں نے ایسا کیا قصور کیا ہے؟ مجھ پر تم لوگ کیوں الزام دھر رہے ہو؟ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ مجھے پتہ نہیں یہ کیسے ہو گیا؟ کیوں ہو گیا؟ بس اتنا معلوم ہے کہ اس کی پیدائش کے آدھ گھنٹے کے اندر اندر ہی مجھے احساس ہو گیا تھا کہ کوئی بہت بڑی گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ بڑا غضب ہو گیا ہے۔ بچی کا رنگ اتنا کالا تھا کہ میں بری طرح سے ڈر گئی تھی۔

Read more

اسلام آباد میں ایک سالگرہ کا فنکشن

یہ اب سے چند برس پہلے کا واقعہ ہے مجھے بن بلائے اسلام آباد میں منعقد ایک سالگرہ کے فنکشن میں شریک ہونا پڑا۔ دراصل جس شخص کو مدعو کیا گیا تھا اسے اچانک کسی کام سے لاہور جانا پڑا۔ حفظ ما تقدم کے طور پر مجھے حاضری یقینی بنانے کا فرض سونپ دیا گیا۔ موقع کو غنیمت جان کر میں اپنی امی جان کو بھی ساتھ لے گیا کیونکہ اتفاق سے وہ کچھ روز گزارنے میرے پاس موجود تھیں۔

Read more

بلوچستان: چمن میں پولیو ٹیم پر فائرنگ، سکیورٹی پر مامور لیویز اہلکار زخمی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں فائرنگ کے ایک واقعے میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور لیویز فورس کے ایک اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

Read more

ایکس، الف اور میں – مکمل کالم

’ایکس‘ ایک آزاد خیال شخص ہے، اپنے اعمال اور نظریات میں لبرل، لیکن مذہب سے اسے خدا واسطے کا بیر ہے اور اسے وہ ہر برائی کی جڑ سمجھتا ہے، جرم کہیں بھی ہو کسی نے بھی کیا ہو ایکس گھما پھر کر اسے مذہب کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ ہر داڑھی والے کو وہ جنونی اور انتہا پسند سمجھتا ہے اور ٹخنوں سے اونچی شلواریں پہننے والے کا مذاق اڑاتا ہے۔ کوئی کلین شیو بندہ اگر اس کے سامنے جھوٹ بولے تو وہ بات ہنسی میں اڑا دیتا ہے مگر وہی بات اگر کوئی مولوی قسم کا شخص کہے تو مقدمہ مذہب کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔

حاجی، نمازی لوگ اسے منافق لگتے ہیں، وہ سمجھتا ہے کہ ایسے لوگ عبادات کے پردے میں اپنی منافقت اور گناہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کسی داڑھی والے دکاندار سے سودا سلف نہیں خریدتا، باریش لوگوں سے اسے خدا واسطے کا بیر ہے۔ مدرسوں میں دی جانے والی تعلیم کے بھی سخت خلاف ہے، ایکس کا خیال ہے کہ مدرسوں میں جہالت پروان چڑھتی ہے، تنگ نظری اور فرقہ واریت کو فروغ دیا جاتا ہے جس سے ملک میں تشدد پھیلتا ہے۔ وہ بڑی تو کیا چھوٹی عید منانے کے بھی خلاف ہے، اس کا کہنا ہے کہ رمضان میں لوگوں نے اگر اسی طرح جھوٹ، منافقت اور بد دیانتی سے ہی کام لینا ہے تو پھر عید کا کوئی جواز نہیں۔ اور بڑی عید کو تو وہ طنزاً ’بار بی کیو عید‘ کہتا ہے اور مذہبی لوگوں کو طعنہ دیتا ہے کہ ان کی قربانی کا فلسفہ بکرے کی ران روسٹ کروانے تک محدود ہے۔

Read more

ایک کورونا جو ہمارے اندر ہے

انسانوں کے اس سمندر میں چند ہی لوگ ہوتے ہیں جو انسانیت کے مقام تک پہنچتے ہیں۔ اور انسانیت کی معراج تک پہنچنے کے لئے کسی تعلیم کسی ٹرینگ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہوتی ہے۔ اس کی قدر کرنی چائیے۔ میں اپنے ایک کرم فرما کی کہانی اسی کی زبانی بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی طرف سے اور پوری قوم کی طرف سے ان عظیم لوگوں کو سلام پیش کرتا ہوں جو کورونا کی اس وبا کے سامنے ایسے وقت کھڑے ہوئے جب اس کا علاج صرف موت تصور ہوتا تھا۔

Read more

بشری ببوشکا سیکس ورکر کیسے بنی؟

میرا نام بشری تھا۔ اپنا یہ نام مجھے کبھی کبھی ہی یاد آتا ہے۔ کیونکہ میرے کئی نام رکھے اور بدلے گئے۔ یہ بشری نام بھی عجیب ہے۔ جب اوپر تلے کئی لڑکیاں پیدا ہو جائیں تو ایک کا نام بشری رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ آنے والے بیٹے کی بشارت لائے گی۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بڑی بہنوں مہ ناز اور مہ جبیں کے بعد میرا نام بالکل الگ سا لگتا۔ لیکن یہ ٹوٹکا بھی کام نہ

Read more

میاں صاحب کے لیے تالیاں

میاں صاحب کی تقریر اچھی ہو گی، شاید کسی کو اس پر یقین بھی ہو لیکن معاش کی چکی میں پستے ہوئےعوام کو یہ چمکیلے نعرے، سماجی انصاف، غیر مرئی قوتوں سے جنگ کے نادیدہ خواب اور کوہ ندا کی کہانیاں سمجھ نہیں آتیں۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ابنارمل رویے

نارملائزیشن کا تعلق بنیادی طور پر عمرانیات سے ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی رو سے بہت سے خیالات اور افعال سماج میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ رائج الوقت نظام زندگی میں قدرتی طور پر موجود رہے ہیں۔ نارملائز ہونے یا کرنے کا عمل بظاہر سادہ سا ہے مگر اس کے کئی ایک محرکات ہیں جو بتدریج اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ حیرت کا مقام

Read more