انڈیا کی پہلی ’سیویئر سبلنگ‘ جسے اپنے بھائی کو مہلک مرض سے بچانے کے لیے دنیا میں لایا گیا

انڈیا کی پہلی ’سیویئر سبلنگ‘ کی کہانی بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہے۔ مگر اس کہانی نے ایک ایسے ملک میں جہاں قوانین پہلے ہی کمزور ہیں، ایک ایسے بچے کی پیدائش میں، جسے اپنے بہن یا بھائی کے علاج یا زندگی بچانے کے لیے دنیا میں لایا گیا ہو، ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

Read more

بلتستان کے مسائل اور پھول شہزادی

یہ روٹی اتنی کالی اور بے ذائقہ سی۔ کیوں؟ یہ آٹا کہاں سے آ رہا ہے۔ بہو بولی شاید روسی یا یوکرائنی گندم ہے۔ مجھے تو ان دنوں کاموں کے اژدہام میں اخبارات کے مطالعہ کی بھی مہلت نہ ملی تھی۔ ”ہائیں“ آنکھیں پھٹیں۔ اس زرعی ملک کی سونے رنگی میٹھی گندم کہاں گئی؟ بہو ہنسی وہیں جہاں پہلے چینی گئی تھی۔ اس جذباتی بوڑھی عورت کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ ابھی دو دن پہلے بیٹی چین سے آئی تھی۔ پی آئی اے کی تباہی کے دکھڑوں نے ہمارے دکھ کو دو چند کر دیا تھا۔

بیجنگ سے پہلے لوکل فلائٹ سے پہلے چندو گئی۔ جہاں پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے اسلام آباد آئی۔ ہمارا قومی سمبل چاند تارے کا علمبردار ساری دنیا میں اڑانیں بھرتا ہمارے دیس کی نمائندگی کرتا کیسے پاتال میں گر گیا ہے؟ لائق باپ کی نالائق اولاد کتنے فضول فروعی جھگڑوں میں الجھی ہوئی ہے۔ جاہل عورتوں کی طرح منہ پر ہاتھ پھیر کر مخالف کو چھبیاں دیتی ہے۔ چلو لندن جاکر اس گولو مولو کو لے بھی آیا اسے بندی خانے میں بھی ڈال دیا تو؟ غریب کو روٹی دال سبزی سے واسطہ۔ پھل اس کی بساط سے باہر۔ نگوڑا کیلا چلو وہ کھا سکتا ہے مگر پچاس روپے درجن بکنے والے کیلے کو دیکھا ہے کسی نے؟ اس بیچارے پر جانے کون سی زہریلی ادویات کا چھڑکاؤ ہوتا ہے کہ پکتا بعد میں ہے اندر سے سڑ پہلے جاتا ہے۔

Read more

’میں بنگالی ہوں، میرا بوائے فرینڈ سیاہ فام تھا اور میری ماں یہ قبول نہیں کر پائیں‘

سلمیٰ نے اس وقت گھر چھوڑ دیا جب ان کے اہل خانہ نے انھیں اسقاط حمل کروانے کو کہا۔ بعد میں سلمیٰ نے سیاہ فام افراد کے خلاف اپنی والدہ کے تعصب بھرے خیالات اور رویے کو چیلینج کیا۔

Read more

خواتین مسافروں کی زبردستی تلاشی لینے پر آسٹریلیا کا قطر سے احتجاج

قطر کے دارالحکومت دوحہ کے ایئر پورٹ سے ایک لاوارث نومولود بچہ ملنے پر خواتین مسافروں کی تلاشی اور تفصیلی معائنے پر آسٹریلوی حکام نے اس اقدام کو پریشان کن اور جارحانہ قرار دیا ہے۔

قطری حکام کے مطابق دوحہ کے شیخ حماد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے بیت الخلا سے دو اکتوبر کو ایک نومولود بچہ ملا تھا جسے بظاہر لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔

Read more

ثبات: ’ہمارے معاشرے کو ایسی مثبت کہانی کی بہت ضرورت ہے‘ ڈرامے کے آخری قسط نشر ہونے پر صارفین کا ردعمل

اس کہانی میں دو نوجوان لڑکیوں کو اپنی اپنی جگہ مضبوط کرداروں میں دکھایا گیا جن میں سے ایک (عنایہ) متوسط طبقے کی لائق انجیئر اور سیلف میڈ خاتون ہیں اور ذاتی نقصان کی فکر نہ کرتے ہوئے نفرت اور ہراسانی کے خلاف ڈٹ جاتی ہیں۔

Read more

سحر اقبال: کووڈ کے خوفزدہ کر دینے والے ماحول میں امید کی ایک کرن پیدا کرنے والی خاتون کاشتکار

سحر کہتی ہیں کہ ’میں چاہتی ہوں کہ میری پہچان کمیونٹی ڈویلپر کے طور پر ہی کی جائے۔ میری خواہش ہے کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں خواتین اپنے زرعی فارم خود سنبھالیں اور جب بھی ایسا ہو گا تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔‘

Read more

سیاسی کفن چور

ایک سیاسی جماعت کو کس حد تک پختہ نظریاتی شکل کا ہونا چاہیے اور ایک سیاسی رہنما کو کس طرح کی سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہیے یہ سوال شاید اب پاکستان کے سیاسی مبصرین کے لئے اہم نہیں رہا۔ اہمیت اس بات کو دی جا رہی ہے کہ فلاں نے فلاں وقت یہ کام کیا تھا اس لئے اب ہمارے لئے ایسا کرنا جائز اور قانونی ہو گیا ہے۔ ہماری گفتگو اور موضوع پر ماحول کا اثر گہرا ہوتا ہے۔

Read more

کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی طور پر نابالغ ہے؟

نوٹ: ڈونلڈ ٹرمپ کی بھتیجی میری ٹرمپ ’جو ایک سائیکولوجسٹ ہیں‘ کی حالیہ کتاب TOO MUCH AND NEVER ENOUGH: HOW MY FAMILY CREATED THE WORLD ’S MOST DANGEROUS MAN کے چند اقتباسات کا ترجمہ اور تلخیص ڈونلڈ ٹرمپ آج بھی ایک ایسے بچے کی طرح سوچتا ہے جسے اپنے جذبات پر کوئی قابو نہیں۔ ڈونلڈ کو اپنے بچپن میں نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور جب کوئی انسان بچپن میں نفسیاتی بحران اور تشدد کا شکار ہوتا ہے تو

Read more

میں ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہوں

حالیہ گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے موقع پر ایک جلسے میں بلال بھٹو زرداری نے یہ الفاظ ایک بار پھر دہرائے ہیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہے، وہ کوئی کھلاڑی نہیں ہیں کہ یو ٹرن لے گا۔ بلاول نے یو ٹرن تو نہیں لیا ہے لیکن یوں ٹرن لیا ہے اور وہ یوں کہ آصف علی زرداری کی دریا دلی سمجھے یا ان کی سیاسی دور اندیشی کہ بلاول کو صرف

Read more

اماں نوراں کی شاگرد اور الوداعی بوسہ

صبح سویر کا عمل تھا۔ فری دوسری مرتبہ اس کنویں کے کنارے آئی تھی۔ اس دفعہ اس کا ارادہ تھا کہ کنویں پر پہنچتے ہی اس میں چھلانگ لگا دے گی لیکن وہاں پہنچ کر وہ دوبارہ ہچکچاہٹ کا شکار ہو گئی۔ بات یہ نہیں تھی کہ اس کو موت کا خوف لاحق تھا اصل ڈر یہ تھا کہ وہ کہیں زندہ نہ بچ جائے۔ وہ جلد از جلد اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتی تھی اور اس کے لیے کئی

Read more

پی ڈی ایم کا کوئٹہ میں جلسہ: اپوزیشن رہنماؤں کی اداروں اور حکومت پر تنقید

ویب ڈیسک —  پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنماؤں نے ایک بار پھر حکومت اور مقتدر اداروں پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف اپنے الزامات دوہراتے ہوئے کہا کہ اُنہیں مسلم لیگ (ن) کی حکومت گرانے اور عدلیہ پر دباؤ ڈالنے سے متعلق جواب دہ ہونا پڑے گا۔

اتوار کو ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں ہونے والے جلسے سے اتحاد کے صدر مولانا فضل الرحمٰن، سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف، یوسف رضا گیلانی اور عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتحار حسین، امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب احمد شیر پاؤ، محمود خان اچکزئی، شاہ اویس نورانی، اختر مینگل سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

Read more

امریکہ انتخابات 2020: نائب صدارتی امیدوار کمالا ہیرس سمیت خواتین سیاستدانوں کو کیا برداشت کرنا پڑتا ہے

امریکہ میں بھی خواتین سیاستدانوں کے لیے یہ دوڑ آسان نہیں ہے، انھیں مردوں کے مقابلے میں اپنی قابلیت، اہلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کو ثابت کرنا پڑتا ہے۔

Read more

بچے کی پیدائش! طبعی یا سیزیرین؟

نصف شب کا عالم، گہری نیند اور ہم چونک کے اٹھ بیٹھے۔ کیا کہیں گجر بجا تھا یا دور کسی قافلے کے اونٹوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں نے سر جگایا تھا! افوہ، ہمارے فون کی گھنٹی بج رہی تھی اور ہمیں ہسپتال بلایا گیا تھا۔ لیبر روم میں ایمرجنسی تھی کہ درد زہ میں مبتلا خاتون کی زچگی کے آخری مرحلے پہ بچے کو اوزار کی مدد سے پیدا کروانے کی کوشش کی گئی تھی اور بوجہ ناکامی ہوئی

Read more

سائنس کی دنیا سے

1۔ نیا کرونا وائرس انسانی جلد پر فلو وائرس سے کہیں زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتا ہے۔ کلینیکل انفیکشیئس ڈیزیزز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس، انسانی جلد پر نو گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے، جب کہ انفلوئنزا وائرس صرف دو گھنٹے تک زندہ رہتا ہے۔ یہ تحقیق وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہاتھوں کے دھونے اور سینی ٹائزر کے استعمال کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔

2۔ ایک نئی تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ انسانی ارتقا کی موجودہ رفتار پچھلے دو سو پچاس سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ اندازہ زیادہ سے زیادہ بالغ انسانوں کے بازو میں ایک زاید شریان کی موجودگی سے لگایا گیا۔ یہ شریان جو رحم مادر میں ہاتھ اور بازو کو خون کی سپلائی کا بڑا ذریعہ ہوتی ہے، عام طور پر حمل کے دوران میں ہی ریڈیس اور النا نامی شریانوں سے تبدیل ہو جاتی ہے۔ تاہم کچھ لوگوں میں موجود رہتی ہے۔ تحقیق نے ظاہر کیا ہے کہ انیسویں صدی میں یہ شریان تقریباً دس فی صد انسانوں میں موجود تھیں، جو اب بڑھ کر 30 فی صد ہو گئی ہے۔ انسانوں میں اس تیز رفتار ارتقا کی ایک اور مثال زیادہ سے زیادہ بچوں میں عقل داڑھ کے بغیر پیدائش ہے۔

Read more

ہم چودھویں صدی میں زندہ ہیں

ناطقہ سر بہ گریباں ہے، عقل محو حیرت ہے، ہوش و خرد انگشت بدنداں ہے، فہم و فراست سر پیٹ رہی ہے، شعور و آگہی سراپا احتجاج ہے اور احترام آدمیت و شرف انسانیت رو پیٹ رہی ہے کہ ہم بحیثیت قوم کدھر جا رہے ہیں۔ نئے پاکستان والوں نے اقتدار کے نشے میں قائد اعظم کے لگائے گئے باغ آزادی میں قومی مفاد، ملکی وقار اور تبدیلی کے نام پر ایسے ایسے گل کھلائے ہیں کہ اقبال و قائد کی روحیں بھی تڑپ اٹھی ہوں گی۔

کراچی میں رو نما ہونے والے واقعے نے ملک عزیز میں برائے نام جمہوریت کا پردہ بھی بری طرح چاک کر دیا۔ نام نہاد جمہوریت کی حقیقت سے یوں تو ہر شخص آشنا تھا، مگر دنیا کو دکھانے کے لیے جمہور اور جمہوریت کا یہ چہرہ بھی غنیمت تھا۔ مگر ہائبرڈ سیٹ اپ نے اس چہرے سے بھی جمہوریت کے مصنوعی غازے کو اتار کر اس کی اصلیت ظاہر کر دی۔ غضب خدا کا اکیسویں صدی میں بھی ہمارا چلن تیرھویں صدی کے فاتحین کی طرح ہے۔ بھارت سے تو ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اس نے 65ء میں رات کی تاریکی میں ہم پر حملہ کر کے بزدلی کا ثبوت دیا، مگر ہم نے بھی تو نیم شب کے اندھیرے میں پورے صوبے کی پولیس چیف کو یرغمال بنا کر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پائے مال کرتے ہوئے ہوٹل کے دروازے توڑ کر ووٹ کو عزت دینے اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگانے والے ”باغی“ اور ”غدار“ کو گرفتار کر کے، ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سر حدوں کی حفاظت کرنے کی نہایت بھونڈی کوشش کی۔

Read more

ہائبرڈ چلڈرن

ایک آن لائن لغت میں لفظ ”ہائبرڈ“ کا ترجمہ تھا، ”دو نسلا“۔ اب گاڑیوں کی حد تک تو دو نسلا پن اچھی بات ہے۔ ایندھن کی بچت، ماحولیاتی آلودگی میں کمی، وغیرہ۔ انسان کے بچے بھی دو نسلے ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اچھے خاصے یک نسلی بچے کو زبردستی ہائبرڈ بنایا جائے تو یہ بات قابل تحسین نہیں لگتی۔ پھر بھی آج کل یہ چیز فیشن کا حصہ بن چکی ہے اور والدین اپنے لاڈلوں کو ہائبرڈ بنانے پر تلے نظر آتے ہیں۔

ایک جاننے والے کے گھر جانا ہوا۔ خاتون خانہ نے کسی سے کہا، ”شیک ہینڈز کرو۔“ یہ لفظ ”شیک“ سنتے ہی میں چھلانگ لگا کر صوفے پر چڑھ گیا۔ در اصل ”شیک“ کی کمانڈ کتوں کی ٹریننگ میں استعمال ہوتی ہے۔ کتے کو سکھایا جاتا ہے کہ بیٹھ کر کس طرح ایک پاؤں اوپر کرنا ہے اور انسانوں سے انسانوں کی طرح ہاتھ ملانا ہے۔

Read more

مائی نیم از مبارکہ

پچھلی قسط میں بتایا گیا تھا کہ بیگم ایدھی نے نازلی اور رچرڈ کو اس حاملہ بچی کی اولاد لینے کے لیے ایک دو ماہ انتظار کرنے کی تلقین کی تھی۔ اگلے دن وہ تینوں کسی کے ہاں کھانے سے رات کو لوٹ رہے تھے۔ واپسی پر وہ ایک ایسے راستے سے گزرے جہاں ایک کھلی جگہ پر ریسٹورانٹ تھا۔ یہاں لوگ شیشہ پی رہے تھے۔ رچرڈ نے ضد کی کہ وہ یہاں کچھ دیر بیٹھ کر شیشہ پیئے گا۔

Read more

کیا نانی ہونا گالی ہے

میرا بچپن روایتی بچپن جیسے ہی گزرا ہے۔ بس فرق یہ تھا کہ میرے بچپن میں ہمارے ساتھ ددھیالی رشتے نہیں تھے۔ جن کی کمی ہمیں ہر اس وقت محسوس ہوتی۔ جب کسی سہیلی یا کلاس فیلو سے سننے کو ملتا۔ کہ آج ہماری دادی نے یہ گفٹ دیا۔ آج ہمارے گھر پھپھو آئیں۔ ہمارے چاچو نے آئس کریم کھلائی۔ اور دادا نے پاپا کی ڈانٹ سے بچایا۔ جب کبھی ایسی کہانی کوئی بھی سناتا۔ میرے اندر ایک عجیب سی

Read more

بچوں ک نہیں بڑوں کی تربیت ضروری ہے

مجھے جانتے نہیں میں کون ہوں۔ تمھاری ہمت کیسے ہوئی مجھے سگنل پہ روکنے کی۔ پتہ بھی ہے کس کا بیٹا ہوں۔ یہ وہ تڑی ہے جو پندرہ سولہ سال کے اکثر بچے قانون کی خلاف ورزی پہ روکنے والے ٹریفک وارڈن کو لگاتے ہیں اور سگنل پہ موجود وارڈن کو یہ لہجہ و الفاظ بتا دیتے ہیں کہ غلطی کس نے کی ہے۔ وہ وارڈن جو چالان کاٹنے کا سوچ رہا ہوتا ہے، چالان پیپر تھمانے کی بجائے معذرت کر کے اسے مزید قانون شکنی کی اجازت دے دیتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ سخت لہجہ اس تھانیدار کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو ہوش و حواس سے بیگانہ الٹے سیدھے کام میں ملوث کسی نوجوان کو انتہائی مجبوری کے تحت تھانے لے آئے تو تھانے میں تھرتھلی مچ جاتی ہے۔

Read more

ناری شکتی زندہ باد

” مکیش بھیا، کل فادرز ڈے تھا۔ آپ نے اپنے پاپا کو کیا دیا؟“ میں نے اپنے ٹیوٹر سے پوچھا، جو مجھے اور میری بہن رفعت کو ہندی اور حساب پڑھانے ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔

”زور کا ایک طمانچہ“۔ مکیش بھیا نے تیز آواز میں کہا۔

مکیش بھیا سے اس قسم کی گفتگو کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ تو بڑے ہی خوش مزاج اور مہذب انسان تھے۔ ان کا برتاؤ ہمارے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا۔ لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ درشت لہجہ، خشمگیں آنکھیں اور خشونت زدہ چہرہ۔ یہ ہمارے والے مکیش بھیا تو نہ تھے۔

Read more

سینے کا کینسر

موبائل فون پر آج کل کسی کو بھی کال کریں، تو چھاتی یا سینے کے کینسر کے بارے ایک آگاہی پیغام سننے کو ملتا ہے۔ سینے کے کینسر سے مجھے گاؤں کا ایک کردار یاد آ گیا۔

نیاز عرف نیاجا، اپنے تئیں نہایت با اخلاق اور وضع دار آدمی تھا۔ چال چلن سطحی طور پہ مناسب سا تھا۔ گھر کے آگے نیم کے درخت کے نیچے کھجور کے پتوں کے بان سے بنی ایک بڑی چارپائی ڈالی ہوئی تھی۔ جس پر ہر وقت تین چار آدمی بیٹھے خوش گپیاں کرتے رہتے اور باتوں سے فراغت کے وقت تاش وغیرہ کھیل لیتے۔ نیاجا تاش تو نہ کھیلتا البتہ چغلیاں وغیرہ نہایت تن دہی سے فرض سمجھ کے کرتا۔ نیاجے کی چارپائی پہ جو بھی بیٹھا ہوتا۔ نیاجا اس کی تعریفوں میں آسمان کے قلابے ملا دیتا۔

Read more

شکار یا شکاری: فیصلہ ماں کا

پاکستانی معاشرے میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہوتے ہوئے مظالم اور ریپ کو روکنے کے لئے، ہم جب پچھلے ایک دو سال میں ہونے والے واقعات پر غور کرتے ہیں، تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ شکار کی عمر، زندگی، لباس، جگہ، مذہب، وقت، گلیمر اور دیگر عوامل کوئی معنی نہیں رکھتے۔ شکاری کو جب ہوس ہو گی، وہ گھات لگائے گا اور شکار کر لے گا۔ عام طور پہ شکار ہمیشہ کمزور ہوتا ہے اور وہ مزاحمت کر لے تو بھی شکار بن جاتا ہے، بلکہ اپنی زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ویسے ایسی زندگی کا کرنا بھی کیا ہے، جس میں اس واقعے کے بعد ہر مرد آپ کو تر نوالہ سمجھے اور ہر عورت بد کردار۔

مجھے لگتا ہے کہ شکار بننے سے بچنے کے طریقے سکھانے کے ساتھ ساتھ، ہمیں معاشرے میں بڑھتے ہوئے شکاریوں کی شرح میں بھی کمی لانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات میں بہت سے عناصر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں جن میں والدین اور اساتذہ سب سے اہم ہیں۔ ان دونوں کرداروں کا بچوں کی تربیت میں اہم حصہ ہے۔ لیکن میری دانست میں اساتذہ سے بھی اہم کردار ماں باپ کا ہے۔ اور ماں باپ میں سے زیادہ اہم مجھے ماں کا کردار لگتا ہے۔

Read more

بے روز گاری نے نو جوانوں کو بنا دیا نشے کا عادی

اس وقت ہندوستان، پوری دنیا کا سب سے بڑا، کم عمر جوانوں کا دیش ہے۔ اس کی 65 فی صد آبادی، 35 سال سے کم عمر ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آمیز نہیں ہو گا کہ ہندوستان اس وقت نو جوانوں سے بھرا ہوا ہے، جسے کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے اور نو جوانوں کی اسی عددی کثرت کی طاقت کے سہارے، ہندوستان سال 2020ء کے اختتام تک دنیا کا معاشی سپر پاور بننا چاہتا ہے۔ یقیناً کسی بھی ملک کی آبادی کا پینسٹھ فی صد حصہ جب 35 برس سے کم عمر کے جوانوں کا ہو، تو اسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے نو جوانوں کی طاقت، ان کی ذہانت و فطانت اور فکر کی بلند پروازی کو سامنے رکھ کر یہ دعویٰ کرے کہ اپنے نو جوانوں کی محنت و مشقت اور مستعدی و تندی کو بروئے کار لا کر، وہ ملک معاشی ذخیرہ اندوزی میں ساری دنیا کو مات دیدے گا۔ لیکن ہمارا نو جوان طبقہ جس قسم کی صورت احوال سے نبرد آزما ہے، اسے پیش نظر رکھتے ہوئے نو جوانوں کی عددی قوت کی بنیاد پر معاشی ترقی پا لینے کے حکومت کے دعوے پر ہنسی آتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے نو جوانوں کے سہارے مادی ترقی کی سیڑھیوں پر تیزی کے ساتھ اوپر چڑھ کر ساری دنیا کو پچھاڑ دے گا۔

اس اندیشے کے متعدد محرکات اور اسباب ہیں، جو حکومت کے دعویٰ کو بے معنی اور جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ سب سے پہلے نو جوانوں کی اکثریت کا بے روزگار ہونا اور حکومت کی جانب سے روزگار کے مواقع بہم پہنچانے کی بجائے ان کے جذبات سے کھیلتے ہوئے انہیں جرائم پیشہ اور قاتل بنانا ہے۔ اس وقت ملک میں جو حالات ہیں وہ یہی شہادت پیش کرتے ہیں کہ بے روزگار نو جوانوں کے ہاتھوں میں کام دینے کی بجائے ان کے اندر فرقہ واریت کے جراثیم ڈال کر انہیں دنگائی بنایا جا رہا ہے۔

Read more

سکیزوفرینیا: ’جب لوگوں نے میری جیتی جاگتی والدہ کے لیے ’تھیں‘ کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا‘

کیا آپ نے کبھی کسی ایسے انسان کا سوگ منایا ہے جو ابھی زندہ ہو؟ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کے سامنے ایک جیتا جاگتا انسان موجود ہو، لیکن وہ بالکل بھی ویسا نہ ہو جیسا آپ اسے جانتے تھے یا دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے تھے؟

Read more

’ہم نے وین میں رہنے کے لیے اپنا سب کچھ فروخت کر دیا‘

وین میں رہنے اور سفر کرنے کا رجحان پہلے ہی امریکہ اور آسٹریلیا میں کافی مقبول ہے اور اب یہ برطانیہ میں بھی رواج پا رہا ہے۔ وین میں رہنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ اس نے ان کی زندگیاں کیسے بدل دی ہیں۔

Read more

خاتون سیاستدان کی خوب صورتی

یہ ایک بہت دل چسپ بات ہے، کبھی آپ غور کریں تو آپ کو سمجھ آتی ہے کہ دوسروں کی بے عزتی کرنے، غلط تنقید کرنے اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے والے لوگ عام طور پر خود محروم، نا آسودہ، کم حیثیت اور کم شکل ہوتے ہیں (شکل تو قدرت کی بنائی ہے، مگر خود کو ظاہری باطنی طور پر گروم کرنا، انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے)۔ بہت کم ایسا ہو گا کہ کوئی خوش شکل، مالی، معاشی اور جنسی طور پر آسودہ شخص کسی کا مذاق بنائے یا بے عزتی کی نیت سے تحقیر کے لبادے میں تنقید کرے۔

میں نے اس موضوع پر پہلے بھی خاصا پڑھا تھا، لیکن پچھلے دنوں اچانک ایک بات سے دوبارہ اس طرف دھیان گیا۔ پاکستان میں بے تحاشا مسائل میں سے، ایک بڑی عمر کی شادی بھی ہے۔ اب تو بڑی تعداد میں عورتیں پہلے بچے کی پیدائش پر 35 سال کی عمر کو پہنچی ہوتی ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی خاتون 45 سال کی عمر میں انتہائی سمارٹ اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ”نانی“ بھی ہو، تو اسے برداشت کرنا واقعی مشکل کام ہے۔

Read more

جمہوریت کا جرنیل

بابائے قوم قائد اعظم نے کبھی بلند آواز میں شاید اپنے حریفوں تک سے بھی بات نہ کی ہو گی۔ قائد اعظم کو جھوٹے پراپیگنڈے اور سستی شہرت سے بہت سخت نفرت تھی۔ اس کے علاوہ قائد اعظم یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ حقیقت کو چھپایا جائے یا سچی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے۔ مجھے ہمیشہ ان سب لوگوں پہ بشمول اپنے ابا کے رشک آتا ہے، جو قائد اعظم سے ملے اور ان کی تقریریں سنتے تھے۔ مجھے فخر ہے میں اس باپ کی بیٹی ہوں جو قائد اعظم کی مسلم لیگ کے کارکن تھے۔

بابائے قوم قائد اعظم تاریخ عالم میں عظیم المرتبت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جنھوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی ہچکولے کھاتی ہوئی کشتی کو نہایت کامیابی سے کنارے پر لگایا۔ وہ دیانت، امانت، حق گوئی، ایثار و قربانی، معاملہ فہمی، سیاسی تدبر اور جہد مسلسل کا عملی نمونہ تھے۔ حال ہی میں بابائے قوم کے مزار پر چند شر پسند عناصر نے نعروں کی شکل میں جو ہلڑ بازی کی اس میں انھوں نے خود اپنی تربیت اور تہذیب کے کپڑے اتار کر رکھ دیے۔

Read more

غربت اور بے بسی: ایک سچا واقعہ

کچھ دن پہلے کی بات ہے میری کام والی نے چھٹی کر لی۔ اگلے دن آئی تو میں نے پوچھا کیا ہوا تھا؟ دبے لفظوں میں بولی کچھ ضروری کام تھا کام کر کے بتاتی ہوں۔ فارغ ہونے کے بعد میرے پاس آ کے بیٹھ گیٔ۔ میں نے یوں محسوس کیا کہ وہ کچھ ہچکچا رہی ہے۔ میں نے پو چھا ہاں بتاؤ کیا ہوا تھا بولی باجی کیا بتاؤں ہم غریب لوگ ہیں ہماری تو کوئی عزت ہی نہیں کیا کریں گھر بیٹھ جائیں تو کھائیں تو کہاں سے

Read more

آگرے کے ماسٹر صاحب

گھر میں احمد کا داخلہ اس دن سے بند ہو گیا تھا جس دن اس نے لوگوں کوجمع کر کے بھڑکایا اور پنجابیوں کے گھر میں آگ لگوائی تھی۔ ماسٹرصاحب تو بہت سیدھے آدمی تھے نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔ لانبا سا قد دبلے پتلے انسان۔ اردو ایسے بولتے تھے جیسے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ ہرجملہ صاف، بغیر کسی غلطی کے۔

وہ آگرے سے آئے تھے۔ جب اپنے لٹے پٹے خاندان کے ساتھ کراچی پہنچے تھے تو صرف دس جماعتیں پڑھی ہوئی تھیں انہوں نے۔

Read more

منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے

بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس منگل کی سہ پہر ہوئی۔اس کے بعد آرمی چیف نے ان سے فون پر رابطہ کیا۔بعدازاں فیصلہ ہوا کہ پیر کی صبح کراچی میں کیپٹن صفدر کی پُراسرار مگر کافی شرمناک انداز میں ہوئی گرفتاری کا باعث ہوئے ’’حقیقی‘‘ کرداروں کی نشاندہی ہو۔ان تمام واقعات سے کئی گھنٹے قبل میں کالم لکھ کر دفتر بھجواچکا تھا۔ بدھ کی صبح وہ ’’حکومتی صفوں میں کنفیوژن‘‘ کے عنوان سے شائع ہوگیا۔میرے کالم میں بیان کردہ خدشات

Read more

میرے محافظ، میرے اپنے ہیں

ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کس کی ایما اور کہنے پر کیا جا رہا ہے؟ ایک دم سے حزب اختلاف سے فوج مخالف صدائیں کیوں بلند ہونا شروع ہو گئیں؟ کیا کسی اور کے ایجنڈے پر عمل پیرائی کے لئے ان کا استعمال کیا جا رہا ہے؟ ایسے کئی سوالات میرے جیسے محب وطن لوگوں کے اذہان میں بھی جنم لے رہے ہوں گے۔ خاص کر میاں نواز شریف کے فوج مخالف بیانات کے بعد۔ ابھی کل ہی ایک دوست کے ساتھ ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورت احوال پر بحث چل رہی تھی کہ میرے مذکور سوالات سے اس نے براہء راست یہ فتویٰ داغ دیا کہ مراد صاحب آپ بھی فوجی آمروں کے حق میں بات کر رہے ہیں۔ میں نے جواب میں عرض کیا کہ جناب ایسا ہرگز نہیں۔ میں کبھی بھی ون مین شو کے حق میں نہیں رہا، لیکن مجھے ایک بات کا جواب اپنے ضمیر کو حاضر جان کر دیجیے گا کہ کیا افواج پاکستان ہمارے ملک کا ایک اہم ادارہ نہیں ہے؟ کیا ملک پر دشمن کے حملہ کے وقت وہ ہماری سرحدوں کی حفاظت پر چاق و چوبند نہیں ہو گی؟

موصوف نے جواب میں کہا کہ وہ تو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے۔ بالکل درست، لیکن کیا ذمہ داری کا احساس افواج کو ہی ہونا چاہیے یا ہمارے سیاستدان بھی اس زمرے میں آتے ہیں؟ کیا ہمارے سیاستدانوں کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ، تہذیب و تقدس سے ماورا ہوتے ہیں؟ یا نہیں ہونا چاہیے؟ اگر ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں اور جمہوری نظام حکومت کی برتری اور ماورائی نظام حکومت قرار دیتے ہیں، تو پھر انہیں بھی تو اپنے دائرہ اختیار اور دائرہ تمدن و تہذیب کا خیال رکھنا چاہیے۔ نا کہ خود کو خلائی مخلوق سمجھتے ہوئے دنیاوی قانون سے مبرا قرار دیں۔

Read more

نیا پاکستان: مدینہ ریاست کی تقلید یا اس سے انحراف؟

اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں، دیگر باتوں کے علاوہ، پاکستان کے حوالے سے دنیا کو اپنے نظام حکومت کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے بتایا کہ ”ہمارے نئے پاکستان کا تصور پیغمبر آخر الزماںﷺ کی قائم کردہ ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہے“۔ تو آئیے پہلے اس نئے پاکستان کا تعارف دیکھا جائے جو کل عالم کی آنکھوں کے سامنے ہے۔

اقوام متحدہ میں بیٹھی دنیا لفظ ”ہائیبرڈ“ کے معنوں سے بخوبی واقف ہے۔ یعنی دو مختلف چیزوں کا باہمی خلط ملط۔ یہ معنی وہاں آ کر خود بخود پورے ہو جاتے ہیں، جہاں ”وزیر اعظم پاکستان، اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں، اسی لیے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈرز کی میٹنگ خود لینا پڑی تھی، وگرنہ عام طور پر وزیر اعظم خود اپوزیشن کے ساتھ ایسی میٹنگ کرتے ہیں“ (سہیل وڑائچ ’گھڑمس‘)۔ جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف دونوں کی منصبی حیثیت باہم خلط ملط ہو گئی ہے۔

وزیر اعظم کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو اسی طرح آرمی چیف کو بھی اپنے ایسے اقدام پر کوئی پیشہ ورانہ تامل آڑے نہیں آتا، کیوں کہ دونوں طرف اس بابت ایک پیج پر ہونے کا اتفاق موجود ہے۔ تاہم اس اتفاق کے نتیجے میں پاکستان کی سیاست اور عوام کی نمائندہ قیادت بے اثر یا بے کار ثابت کرنا، اگر مطلوب ہے تو بھی دوسری طرف عسکری قیادت کا بھی اس تاثر میں ملوث ہونے کا پہلو اجاگر ہونے سے نہیں بچ سکتا تو دنیا کے سامنے ہمارے ملکی فیصلوں کا اختیار، بے سمت بن کر نمایاں ہو گا اور قومی یکجہتی بھی بے جان اور بے وقعت ٹھہرے گی۔

پھر بھی اگر ایسے نئے پاکستان کو ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہونے کا دعویٰ کریں گے، تو ہمارا ایسا دعویٰ ریاست مدینہ کی شان حرمت کے بھی منافی ہو گا اور میثاق مدینہ پر مبنی میثاق حکمرانی کی تعریف بھی مسخ کرنے کے مترادف گمراہ کن فساد ہو گا۔ صرف یہی نہیں، اس پر مستزاد یہ کہ ریاست مدینہ کی اساس میثاق مدینہ پر رکھی گئی تھی۔ اس کی بجائے اگر یہ اساس مذہب اسلام یا نظریہ اسلام پر رکھی گئی ہوتی، جیسے پاکستان کے لیے رکھی گئی ہوئی ہے، تو کیا مدینہ کے یہودی، عیسائی، مشرک یا غیر مسلم اس کا حصہ بننے یا اس کی توثیق کرنے پر آمادہ ہو جاتے؟ پاکستان کو اگر ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہونے کا دعویٰ منانا اور منوانا واقعی آپ کی ایماندارانہ لگن ہے تو میثاق مدینہ کی تقلید میں قیام پاکستان کی اساس بھی ’میثاق پاکستان‘ ہونا رائج کر لیجیے۔

تاریخی اور حقیقی معنوں میں پاکستان کا قیام مدینہ ریاست کے قیام کی طرح معرض وجود میں آیا۔ ریاست مدینہ کا قیام فوجی قبضے یا عسکری قوت آزمائی سے نہیں، بلکہ وہاں آباد مسلم و غیر مسلم گروہوں، قبیلوں اور فیصلہ ساز حلقوں کے مابین جمہوری مشاورت سے باہمی عمرانی معاہدے یعنی میثاق مدینہ طے ہونے کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا جو ابتدا سے مدینہ کے ایک شہری حصے پر مشتمل تھا، جس کی ایک دفعہ کی رو سے ’مسلمانوں کے لیے مسلمانوں کا دین اور یہودیوں (غیر مسلموں) کے لیے ان کا دین، باہمی فیصلوں کی کلید ہونا منظور کیا گیا۔

بعد ازاں یہودی بیرونی قوتوں کے آلہ کار بن کر معاہدے سے منحرف ہوتے گئے اور بالآخر مدینہ چھوڑ کر ان سے ہی جا ملے، تو مدینہ اس کے بعد خود بخود خالص مسلم قومی ریاست کے زیر عمل داری خلافت ارضی کا اولین دارالحکومت بن گیا۔ پاکستان کی بات کی جائے تو اس کا قیام بھی فوجی جنگ یا عسکری چڑھائی کے بل بوتے پر عمل میں نہیں آیا۔ ہندوستان کے مسئلے کے حل کی جانب قائد اعظم محمد علی جناح نے جو پہلے پہل تاریخی معاہدہ لیگ، کانگریس کے درمیان باہمی مشاورت سے طے کروایا اور جو میثاق لکھنؤ کی تاریخی دستاویز پر ثبت ہوا، وہ علیحدگی پسندی یا ہند کے بٹوارے کے حصول کے لئے ہرگز نہیں تھا۔ میثاق لکھنو کی ایک دفعہ کی رو سے بھی متفق فیصلہ یہ ہوا تھا کہ ’اسمبلی میں اگر کوئی ایسا مسودہ قانون لایا گیا، جو کسی آبادی یا فرقے کی حق تلفی پر ہوا اور متاثرہ فریق کے تین چوتھائی ارکان اس کے خلاف کھڑے ہو گئے تو وہ مسودۂ قانون وہیں ٹھپ دیا جائے گا‘۔

مقصد اور نصب العین اس دفعہ میں یہ مضمر تھا کہ متحدہ ہند دو قومی ریاست ہو گی، مسلم یا ہندو قومیت کے اختصاص کے ساتھ واحد یا متحدہ قومیت کی حامل ریاست مقصود نہیں ہو گی۔ کانگریس اگر میثاق لکھنو سے انحراف کی طرف نہ نکل گئی ہوتی، تو یقیناً متحدہ ہند کی سالمیت جوں کی توں قائم رہتی اور اس صورت میں متحدہ ہند پر سیکولر ازم کی عمل داری ہی کا اطلاق ہوتا۔ لیکن جب تقسیم ہند کا قانون منظور ہوا تو اس میں بھارت اور پاکستان کو، دو آزاد اور خود مختار قومی ریاستیں قرار دیا گیا۔

یعنی بھارت متحدہ قومی ریاست بن گئی اور پاکستان مسلم قومی ریاست۔ کیوں کہ دوران تحریک کانگریس متحدہ قومیت کی داعی تھی اور مسلم لیگ کا مطالبہ جداگانہ مسلم قومیت کے حق میں رہا تھا۔ اس لحاظ سے بھارت میں متحدہ قومیت کے لیے سیکولر نظام عمل داری قائم ہونا تھا۔ جب کہ مسلم قومیت کی اساس پر پاکستان بن گیا تو یہاں نظام حکومت پر عمل داری مسلم تہذیب و ثقافت کی ہو گی، سیکولر ازم کی نہیں ہو گی۔

میثاق لکھنؤ سے لے کر میثاق تقسیم ہند تک تاریخ کے دیے گئے معنوں میں پاکستان کا قیام میثاق کا نتیجہ ہے۔ دوسرا، میثاق مدینہ کی تقلید کا تقاضا بھی یہ ہے کہ یہاں ’میثاق پاکستان‘ کا بیانیہ رائج کیا گیا ہوتا لیکن نہ جانے کہاں سے قیام پاکستان کے بعد میثاق پاکستان کی جگہ نظریہ پاکستان کا بیانیہ رائج کرنا سوجھ لیا گیا اور اس کی اساس نظریہ اسلام سے جوڑ لی گئی، جس کا مطلب اس کے سوا کوئی دوسرا نکلتا ہی نہیں کہ علیحدگی پسندی گویا مسلمانوں کے لئے ان کے مذہب اسلام کا خاصہ ہے، جو قطعی گم راہ کن مغالطہ آرائی ہے۔

اسلام ہر جگہ یعنی بھارتی اور پاکستانی مسلمانوں کا ایک ہی رہتا ہے۔ تقسیم ہند سے یہ کیوں کر سمجھ لیا گیا کہ مسلمان تقسیم نہیں ہوئے بلکہ ان کا اسلام تقسیم ہو کر پاکستانی مسلمانوں کے لیے نظریہ اسلام نمبر ایک اور ادھر بھارتی مسلمانوں کے لیے نظریہ اسلام نمبر دو کے خانوں میں بٹ گیا؟ اگر ہم خود اپنے اسلام کو دنیا کے سامنے اس طرح کے مختلف خانوں اور فرقوں میں تقسیم ہونے کا جواز فراہم کر دیں گے تو اقوام متحدہ کی اسمبلی کو ہمارے وزیر اعظم ”اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے عالمی دن کا اعلان کرنے“ کے لئے کون سے پیمانے پر قائل کر سکیں گے؟

وزیر اعظم پاکستان کو معلوم ہونا چاہیے کہ تین جون 1947 کو میثاق تقسیم ہند کی توثیق کے فوراً بعد چودہ جون کو کانگریس اور ہندو مہا سبھا کی قراردادیں ان کے مستقبل کے لائحہ عمل کا مشن اور نصب العین کا پیمانہ ہیں جو قانون تقسیم ہند کی صریح خلاف ورزی اور علانیہ انحراف باندھنے کے جواز کا بہانہ ہیں، جن کے معنوں میں ’اکھنڈ بھارت‘ اکسانے کی لگن بھر دی گئی ہے کہ ”انڈیا ایک اور نا قابل تقسیم ہے۔ خطے میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو گا جب تک اس کے جدا کردہ ٹکڑے پھر سے بھارت میں واپس لاکر یونین آف انڈیا میں ضم نہیں کر لیے جاتے۔“ (شہاب نامہ) ۔

اوپر سے جب قصدا علیحدگی پسندی پر مبنی نظریہ پاکستان اپنا کر جب ہم نے خود دنیا کو جتا رکھا ہو، اور اپنے ’مادر گیتی‘ ہند کے حصۂ اراضی اور اس میں کانگریسی مسلمانوں کے ووٹ سے بننے والے بھارتی علاقوں سے دستبرداری قبول کر کے بھارت کو کھلی چھوٹ دے ڈالی ہو، تو دنیا جموں و کشمیر کے تنازعے اور بھارتی مسلمانوں کے شہری و قومی حقوق کے مطالبے پر کیسے کان دھرے گی؟ مشرقی پاکستان، مقبوضہ کشمیر وغیرہ کے بعد اب گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر ’اکھنڈ بھارت‘ کا اگلا ہدف ہیں۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کو یقیناً یہ بھی معلوم ہو گا کہ قائد اعظم نے سرزمین ہند کو ”مادر وطن“ قرار دے رکھا تھا۔ (خالد بن سعید۔ ”پاکستان دی فارمیٹیو فیز“)

اگر نیا پاکستان ریاست مدینہ کے ماڈل پر ہے تو خود فیصلہ کر لیں کہ میثاق مدینہ کی رو سے کہیں بھی مادر وطن مکہ سے دستبرداری موجود یا قبول رہی تھی؟ دس سال بعد مکہ واپس لینے کی تاریخ میثاق مدینہ سے اگر محو نہیں ہوئی ہے تو اس ماڈل پر ہونے کے لیے نظریہ پاکستان (نظریہ اسلام کی اساس لے کر) کی سفارت کاری قابل فہم ہے یا میثاق پاکستان کی معلومہ اور موسوم سفارت کاری حجت افزا ہے؟ جس میں مادر وطن ہند، جو بھارت میں باقی ہے، کا سوال مضمر ہے اور جس میں اکھنڈ بھارت کی بولتی بند کرنے کا تیر بہدف چھکا بھی بھرا ہوا ہے؟

غیر مسلم دنیا، اقوام متحدہ یا عالمی عدالت انصاف وغیرہ کو ہمارے نظریہ اسلام یا ہمارے مذہبی پیمانوں سے کیا غرض اور کیا تعلق ہے، جب کہ ہمارے حسن نثار اور ارشاد بھٹی جیسے بڑے بڑے صحافی صاحبان کسی کے لیے بڑا ”پلس“ اس کا بے ایمان نہ ہونا، یوں جتاتے پھریں گویا عطاءاللہ شاہ بخاری اور دیگر احراری زعما کے زبان و بیان کی طرح داری یاد دلائی جا رہی ہو۔ اسی طرح طارق جمیل اور طاہر اشرفی صاحبان جیسے مذہبی اکابرین بھی قربت اقتدار کی خاطر اپنے کسی پسندیدہ حکمران کو ایماندار یا صادق و امین ہونے کا سرٹیفکیٹ دینے لگ پڑیں، تو یہ بھی تحریک خلافت و تحریک ہجرت وغیرہ کے تاریخی اسباق کی یاد دہانی تو ضرور ہے، تاہم ریاست مدینہ کی تقلید میں صادق اور امین ہونے کی سنت یہ ہے کہ ریاست مدینہ سے منسوب مسلم حکمرانی نا جائز اولاد کے پدرانہ داغ سے قطعی پاک ہوتی ہے۔

آئے دن بھارتی فساد انگیزی کے خلاف نئے پاکستان کی کسی شکایت کا دنیا اور اقوام متحدہ کوئی نوٹس نہیں لیتی۔ اس کی وجہ پاکستان میں اختیارات کی اعلی ترین سطح پر وہ ذو معنی تاثر اور اوپر دیے گئے ریاست مدینہ کے حقائق سے یکسر صرف نظر کر رکھنے کے پیمانے ہیں جن کا ادراک دنیا کو تو بخوبی ہے لیکن جن کا ہمیں اندازہ نہیں۔ اسی لیے امریکی ڈپلومیٹ رمزے خلیل زاد ہماری وزارت خارجہ سے بالا بالا آرمی چیف سے مل کر چلا جاتا ہے۔

اس کے بعد بھارت جاتا ہے تو وہاں کے حکومتی وزرا اور سیکرٹری سے ملاقات کرتا ہے۔ بھارت کی بات دنیا سنتی ہے تو ہماری بات کا وزن وہاں ہمارے جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار کے فوکل پرسن جناب شیخ رشید جیسا ہو کے رہ جاتا ہے۔ ایسے نئے پاکستان کو اگر ریاست مدینہ کی تقلید کا دعویٰ ہے تو یہ دعویٰ ریاست مدینہ کی شان حرمت کی سنگین خلاف ورزی ہے کیوں کہ ریاست مدینہ کی حکمرانی ابن زیاد کی کوفہ والی حکمرانی کے ماڈل کو رد کرتی ہے۔

Read more

پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر 10 میں سے چار بچے غذائی قلت کا شکار

پاکستان میں نیشنل نیوٹریشن سروے کی رپورٹ برائے سال 19-2018 جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق پاکستان میں غذائی قلت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر ہر 10 میں سے چار بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔ پیدائش کے پہلے چھ ماہ میں 48.4 فی صد بچوں کو ماں کا دودھ میسر آتا ہے۔

Read more

سفر صدیوں کا (ایک یادداشت)

کوئی نصف صدی قبل ایک بچہ، جس کا نام نادر فرض کر لیں، کٹاس راج شریف کے ہائی اسکول اور تالاب سے متصل مکانات کے درمیان واقع کھلے میدان میں سارا دن کھیلتا رہتا، اور تالاب کو پانی مہیا کرنے والے چشمے کے بہاؤ سے لطف اندوز ہونے کے لیے، بنا ماں کی ڈانٹ کی پروا کیے، غوطے لیتا رہتا۔ اس عمر میں بھی اسے یہ احساس تھا کہ تالاب کی طرف جانا اس کے لیے خطرناک ہے۔

تھک ہار کر گھر کی راہ لیتا اور کئی گھنٹے باہر رہنے کے جواز کے طور پر سرکنڈے، لکڑی اور ہر ایسی چیز جسے بطور ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہو، کے ٹکڑے، اپنی چھوٹی چھوٹی مٹھیوں کی گنجائش کے مطابق اکٹھے کرتا اور گھر جا کر ماں کو (توتلی) پشتو میں کہتا: ګلګی [لرګی] می راوړی دی۔ (گلگی [لرگی] مے راوڑی دی)۔ یعنی لکڑیاں لایا ہوں، پنجابی میں کہیں گے، بالن آندا۔

Read more

ہاجراؤں کے نام

ہاجرہ اس دن زندہ تھی۔ اس سے بات کرتے ہوئے میری آواز بھرا گئی تھی لیکن وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔ وہ عام عورتوں کی طرح برے خاوند کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہیں سمجھتی تھی، نا ہی غربت اور مسائل کو اپنی بری تقدیر۔ اس لئے آج کی تحریر ہاجرہ کے نام!

میں اس سے بہت شاکی رہنے لگی تھی۔ بات بات پر سرزنش، اس کی صحت اور حالت پہ رحم نہ کھاتے ہوئے، ہر ناغے پر ناراض ہونا۔ لیکن وہ ہاجرہ تھی، بلا کی خود دار! اس نے مجھے شکایت کا موقع دینا کم کر دیا۔

Read more

کراچی آبادی میں ایک سو اکیس ملکوں سے بڑا ہے

میں ایک ایسے زبردست نوجوان کو جانتا ہوں، جو اپنے والدین کا پہلا بچہ تھا۔ اس کی عمر سولہ برس تھی اور وہ چھے بہن بھائی ہو چکے تھے۔ وہ ماں کی صحت کے بارے میں فکر مند رہتا تھا۔ ایک دن اس نے عملی قدم اٹھایا۔ اپنی ماں کو اسپتال لے گیا اور اس کی ٹیوبلائیگیشن کروا دی۔

اپنے شہروں کو دیکھیں۔ ہمارا پیارا کراچی دنیا کے ایک سو اکیس ممالک سے بڑا ہے۔ یورپ کے درجنوں ملک آبادی کے لحاظ سے کراچی سے چھوٹے ہیں۔ اور یہ صرف اس لیے کہ ہم نے لوگوں کو فیملی پلاننگ کی تربیت دی اور نہ ہی فیملی پلاننگ کی سہولت ان تک پہنچائی۔ اب کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جتنے پیسے درکار ہیں، وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اس لیے ہم کراچی کے مسائل شاید ہی کبھی حل کر پائیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ کراچی اور پاکستان کی آبادی بھی اسی طرح بڑھتی رہے اور ہم اپنی عوام کی زندگیاں رہنے کے قابل بنا پائیں گے، تو یہ جھوٹ ہے۔ یا پھر احمقوں کی جنت میں رہنا ہے۔

Read more

خود کشی اور سماجی رویے

ایک ہفتہ قبل، گجرات سے تعلق رکھنے والے نو جوان شاعر اسامہ جمشید نے خود کشی کر لی۔ یوں یہ موضوع ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا کی زینت بن گیا اور ہمارا سماج، بالخصوص تخلیق کار طبقہ اپنے لیکچر اور رویوں سے یہ بتانے کی نا کام کوشش کر رہا ہے کہ کاش اسامہ ہمیں بتاتا، کاش ہم سے وہ اپنا دکھ شیئر کرتا، ہم سے وہ اپنے مسائل ڈسکس کرتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ ایسے ڈائیلاگ ہیں، جو ہر خود کشی کے بعد معتبر طبقے کی جانب سے سننے اور پڑھنے کو ملتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت اس کے بر عکس ہوتی ہے۔

جو شخص خود کشی کی کوشش کرتا ہے، اس کے حالات سے بہت زیادہ نہیں، تو اچھے خاصی قریبی احباب آگاہ ہوتے ہیں اور کوئی چارہ کرنے کے بجائے عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج امن اور محبت کا بھاشن دینے والے یہ سوچنا شروع کر دیں کہ ہمارے ارد گرد کوئی اور ایسا نو جوان تو نہیں، جو اسامہ کی طرح موت کی جانب بڑھ رہا ہے اور ہم اسے مسلسل نا صرف نظر انداز کر رہے ہیں، بلکہ طنز کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں، تو میرے خیال سے اس رجحان میں بہت حد تک کمی آ سکتی ہے۔

Read more

دل والے دلہنیا لے جائيں گے: 25 سال قبل جب نوجوانوں پر راج اور سمرن کا خمار چھایا تھا

ہندی فلم انڈسٹری کی سب سے رومانٹک سمجھی جانے والی فلم ‘دل والے دلہنیا لے جائيں گے’ یعنی ‘ڈی ڈی ایل جے’ کی ریلیز کو 25 سال ہوگئے ہیں۔

Read more

تاریخ کا جبر اور جمہوریت کا سفر

پاکستان میں جمہوریت بیوہ ماں کا سوتیلا بچہ ہے جو ماموں کے گھر میں پرورش پاتا ہے۔ اور گھر بھی ایسا ’جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں‘۔ اہل کراچی کے سیاسی شعور کی زندگی آفریں حرارت سے نچنت ہو کر دو گھڑی کو نیند لیتے ہیں تو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی خبر پر آنکھ کھلتی ہے۔ کیا خاک جیے کوئی، شب ایسی سحر ایسی۔ واقعات سمندری طوفان کی لہروں جیسی غضب ناک تندی سے یلغار کر

Read more

شوبھا ڈے: سوفٹ پورن ادیبہ یا سنجیدہ صحافی ؟

وہ شام کچھ عجیب سی تھی۔ کمرے کے باہر بارش کی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ ہر سو ماحول نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔ کھڑکی کا شیشہ، نمی کے باعث دھندلا سا گیا تھا۔ لیکن کمرے کا ماحول بہت خواب ناک تھا۔ معلوم نہیں کہ یہ آتش دان میں دھیمی دھیمی چٹخنے والی لکڑیوں کی آواز کا اثر تھا یا ہندوستان کی معروف کالم نگار اور ناول نگار شوبھا ڈے کی موجودگی کا، جن کے ساتھ ہم تقریباً ایک گھنٹے سے محو گفتگو تھے۔ جی ہاں! وہی شوبھا ڈے، جن کو بھارت کی ”جیکی کولینز“ بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے ہندوستان کی فلمی صحافت کو اپنی تحریروں کے ذریعے ایک نیا رنگ اور انداز دیا۔ شوبھا ڈے کا جنم بر صغیر کی تقسیم کے تقریباً پانچ ماہ بعد 7 جنوری 1948ء میں ہوا۔ ان کا اصل نام شوبھا راجا دھکشہ ہے لیکن ادبی و صحافتی حلقوں میں وہ شوبھا ڈے کے نام سے مقبول ہوئیں۔ انہوں نے گریجوئیشن کے بعد ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔ لیکن ہندوستانی فلمی دنیا میں ان کا نام اس وقت جانا مانا گیا جب 70ء کی دہائی میں معروف فلمی جریدے ”اسٹار ڈسٹ“ سے بطور پہلی خاتون ایڈیٹر منسلک ہوئیں۔

Read more

اپوزیشن تبدیل ہو جائے گی ؟

کہا جاتا ہے کہ فوج دو محاذوں پر لڑائی نہیں کرتی۔ پاکستان کے سیاست دان جو کچھ کر رہے ہیں اور جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر گرفت کی جا سکتی ہے‘ اگر نہیں کی جا رہی تو وجہ دوسرا محاذ نہ کھولنے کا فیصلہ ہے۔ پہلا محاذ عالمی طاقتوں اور بھارت نے کھول رکھا ہے۔ایک دوست بتا رہے تھے کہ ہٹلر نے جب تک دوسرا محاذ نہ کھولا وہ فتح یاب تھا،اتحادی فوجیں اس کے آگے بکری بنی

Read more

سر جڑی پاکستانی بہنیں صفا اور مروہ کامیاب آپریشن کے بعد وطن واپس آ گئیں

دو پاکستانی جڑواں بہنیں، جن کے سر پیدائش کے وقت آپس میں جڑے ہوئے تھے اور گذشتہ برس لندن کے گریٹ اورمنڈ سٹریٹ پسپتال میں ایک کامیاب آپریشن کے نتیجے میں انھیں الگ کیا گیا، واپس وطن پہنچ گئی ہیں۔

Read more

رانی سارندھا: پریم چند

اندھیری رات کے سناٹے میں دہسان ندی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی سہانی آواز پیدا کرتی تھی، گویا چکیاں گھمر گھمر کرتی ہوں۔ ندی کے داہنے کنارے پر ایک ٹیلا ہے، اس پر ایک پرانا قلعہ بنا ہوا ہے، جس کی فصیلوں کو گھاس اور کائی نے گھیر لیا ہے۔ ٹیلے کے پورب میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ قلعہ اور گاؤں دونوں ایک بندیل سردار کی یادگار ہیں۔ صدیاں گزر گئیں، بندیل کھنڈ میں سلطنتیں بنیں اور بگڑیں، مسلمان آئے اور گئے، بندیل راجے اٹھے اور گرے۔ کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جس پر ان تبدیلیوں کے داغ نہ لگے ہوں۔ مگر قلعے پر کسی دشمن کا پھریرا نہ لہرایا اور اس گاؤں میں کسی دشمن کے قدم نہ آئے۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی۔

انردھ سنگھ دلیر راجپوت تھے۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا، جب ہر شخص کو ضرورتاً دلیر اور جانباز بننا پڑتا تھا۔ ایک طرف مسلمان فوجیں پرا جمائے کھڑی رہتی تھیں تو دوسری طرف زبر دست بندیل راجے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ہوس ناک نگاہوں سے دیکھتے رہتے تھے۔ انردھ سنگھ کے پاس سواروں اور پیادوں کی مختصر مگر آزمودہ کار جماعت تھی، اس سے وہ اپنے خاندان کا وقار اپنے بزرگوں کی عزت قائم رکھتا تھا۔ اسے کبھی چین سے بیٹھنا نصیب نہ ہوتا۔

Read more

مادر ملت زندہ باد

تاریخ گواہ ہے، خلوص نیت، سچ کی آواز اور ظلم کے مخالف جد و جہد، وقتی شکست کا شکار ہو سکتی ہے، لیکن حق و باطل میں جیت حق ہی کی ہوتی ہے۔ جب جنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح کو غدار اور ملک دشمن کہا اور جمہوریت کا گلا گھونٹ کے آمریت کا زہریلا پیالہ، پہلی بار عوام کو پیش کیا۔ بظاہر دھاندلی سے الیکشن بھی جیت لیا۔ کیا ایوب نے سوچا ہو گا کہ آج پچپن سال بعد ”لہو پکارے گا آستیں کا“؟ مادر ملت زندہ باد! کے نعرے لگیں گے؟ وہ جنرل ایوب جس کے بیٹے ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں، وہ اپنے باپ کو مجرم ٹھہرانے سے نہ بچا سکے اور وہ نحیف جثے والی پراسرار موت سے رخصت ہو جانے والی، ایک اکیلی عورت، آج اپنی جنگ جیت گئی۔ آنے والے ہر دور تک با عزت و سرخ رو ہو گئی۔

فاطمہ، ایوب الیکشن انیس سو پینسٹھ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی اعتبار سے اہم ہیں۔

Read more

ریل کی پٹڑی اور مشہور شاعر

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں زندگی کے بارے میں

ثروت حسین نے یہ شعر لکھا اور ریل کی پٹڑی پہ لیٹ گیا۔ سبھی کچھ تھا اس کے پاس، نان و نمک واسطے سرکار کی نوکری تھی اور تسکین طبع واسطے شہرت تھی۔ شعر بھی لازوال کہتا تھا۔ خدا جانے کس ذہنی اذیت میں گرفتار تھا کہ ریل کی پٹڑی اسے آخری حل نظر آئی۔

سب کچھ آنس معین کے پاس بھی تھا، لیکن ریل کی پٹڑی اسے بھی نگل گئی۔ کیا زندگی میں سبھی کچھ ہونا کافی ہے؟ سب کچھ کی بہتات بھی تو اکتا دیتی ہے۔ آنس سے ہی پوچھیے جس نے بتایا کہ

Read more

شہرت

مشہور ناول نگار ابن الیاس آج لاہور میں اپنا نیا ناول ”دستک“ کے نام سے منظر عام پر لا رہے ہیں۔ جس کا سب چاہنے والوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔ ”دستک“ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک رومانی ناول ہے، جس کے شائع ہونے کے پہلے دن ہی پانچ سو سے زائد کاپیاں بک چکی ہیں۔ ابن الیاس اس سے پہلے بھی تین ناول شائع کر چکے جن کا شمار اپنے دور کے سب سے زیادہ بکنے والے ناولوں میں ہوتا ہے۔ ابن الیاس کی ناموری کی وجہ ان کا دوسرا ناول ”بے زبان“ ہے، جس کا تقریباً اٹھائیس سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ابن الیاس اس کے علاوہ اپنی بد دماغی اور صحافیوں سے الجھنے کی وجہ سے بھی خاصے مشہور ہیں۔

صبح نو بجے کی خبروں میں اپنی تعریف مندرجہ بالا الفاظ میں سن کر، ابن الیاس خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ فخریہ انداز میں اپنے نوکر کو آواز دی، اوئے شریف کے بچے کہاں مر گئے ہو؟ بڈھا نوکر کھانستا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور سہمے ہوئے سے پوچھنے لگا، جی صاحب کیا کام تھا؟ شریف کے بچے جا اماں کو بول میرے لیے ناشتا تیار کرے، مجھے کسی کام کے سلسلے میں دفتر کی طرف جانا ہے۔ شریف چلا جاتا ہے اور دس منٹ کے بعد ابن الیاس کو ناشتے کے لیے مدعو کرتا ہے۔

Read more

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مریم نواز کے لیے نانی کے لفظ کا استعمال، نانی کا رشتہ اور خواتین کے لیے ’عمر کے طعنے‘ پر بحث

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ملک کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے خود کو نانی کہنے پر جواب میں کہا تھا کہ عمران خان نے ’مقدس رشتے کی تذلیل کی ہے‘۔ مختلف سیاسی رہنما خواتین اس پر کیا کہہ رہی ہیں۔

Read more

ٹیکنالوجی کا استحصال اور گھریلو تشدد: ’گھر کی گھنٹی میں نصب کیمرے سے وہ میری جاسوسی کرتا رہا‘

سمارٹ سپیکرز اور ٹریکنگ ایپس کی مدد سے بعض افراد نے لاک ڈاؤن کے دنوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھریلو تشدد اور بدسلوکی کی اور کچھ نے تو ٹیکنالوجی کے استحصال سے اپنے ساتھیوں کی جاسوسی بھی کی۔

Read more

بنام ابو جی!

میں ابو جی کے جانے سے پہلے خود کو بہت بہادر ہمت والا ہر مصیبت سے جنگ کرنے والا کبھی ہار نہ ماننے والوں میں خود کو شمار کرتا تھا، مگر ابو جی کے جانے کے بعد ہر چھوٹی سی تکلیف بھی پہاڑ جیسی لگتی ہے اور ہر خوشی پھیکی سی۔ اللہ نے مجھے اتنے مضبوط اعصاب کے ساتھ پیدا کیا تھا، میں زندگی میں کبھی رویا نہیں تھا لیکن نا جانے کیوں اب ہر خوشی غمی میں آنکھیں اتنی جلدی نم ہو جاتی ہیں کہ آنکھیں خشک ہونے کے بعد کچھ سکون سا میسر آنے لگتا ہے، لیکن وہ سکون کہاں جو کبھی ابو جی کے گلے لگ کر ملتا تھا۔ آنکھیں خشک ہونے کے بعد پتا نہیں کیوں اندر سے یقین آ جاتا ہے، جیسے ہم ابو جی کو سنا رہے ہوں اور ابو جی سے ملاقات ہو گئی ہو اور ابو جی صرف جواب نہیں دے رہے۔

زمانے کی ہزار شاباشی بھی ہمارا اتنا حوصلہ نہیں بڑھا سکتی، جتنی ابو جی کی ایک تھپکی کے ساتھ ”میں ہوں نا“ سے ہمارا سینہ چوڑا ہو جاتا اور حوصلہ آسمان کو چھونے لگتا تھا۔ ہمیشہ سے سن اور پڑھ رکھا تھا کہ ماں جنت اور باپ چھپر (سایہ) ہوتے ہیں، مگر میں اب سمجھتا ہوں باپ صرف سایہ ہی نہیں بلکہ باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے جس میں بیلنس نہ ہوتے ہوئے اولاد کے لئے بیش قیمت خزانے موجود ہوتے ہیں۔

Read more

شلوار میں پستول ڈھونڈنے کا شوق مروا دے گا

کراچی جلسہ میں نواز شریف نے خطاب نہیں کیا ۔ اعتزاز احسن نے کسی بریگیڈیر صاحب کی کال کان لگا کر سنی ہے۔ اس کال کی وجہ سے نواز شریف گھبرا گئے۔ اس کے بعد انہیں ہمت نہیں ہوئی کہ وہ کراچی میں جلسے سے خطاب کریں۔ آصف زرداری بیمار نہیں ہیں۔ وہ نیب سے چھپ کر اسپتال بیٹھے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہاں وہ مذاکرات وغیرہ کر سکیں گے۔ سہولت سے اس لیے ادھر پہنچے ہیں۔ شہباز

Read more

مری غلیل کے پتھر کا کارنامہ تھا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ یعنی یہ میرا وہ ”احوال“ ہے، جو اب ماضی بن چکا۔ مگر اس احوال کی فرحت ناکی سے آج بھی میرا دماغ معطر ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ماں باپ اپنے بچے کے بارے خوف زدہ نہیں ہوتے تھے کہ نہ جانے کب اسے کوئی درندہ اچک لے اور اس کی نوچی ہوئی لاش کسی قریبی کھیتوں یا کچرا کنڈی میں ورثا کی منتظر ہو۔ یہ اس دور کی کہانی ہے، جب بچوں کے ساتھ ساتھ نو جوان بھی بھی مٹی کے ساتھ کھیلتے تھے۔

تمام بچوں کے بچپن کی شرارتیں، شوق اور کھیل عموماً ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ ویسے ہی مجھے بھی تمام کھیلوں کے ساتھ ساتھ دو چیزوں کا زیادہ شوق تھا۔ ایک اپنے محلے کی مسجد کے بڑے اور گہرے کنویں سے چرخی چلا کہ پانی کے ڈول نکالنا اور دوسرا غلیل کو ساتھ رکھنا۔ یاد رکھیں بچپن میں میری دہشت گردی بھی افغانستان میں جاری جنگ کی طرح موسم بہار میں عروج پر آ جاتی تھی۔ جیسا کہ افغانستان کی ہر بہار امریکا اور اس کے پجاریوں کے لیے ایک نئی آفت لے کر آتی ہے۔

Read more

نو نان سینس بلقیس ایدھی اور نان سیرئیس بیوروکریٹ

ایدھی صاحب سے اپنی پیشہ ورانہ ملاقاتوں کا سلسلہ (15، اپریل 1985 کی اس رات جب صبح سویرے بہاری ڈرائیور راشد حسین نے روٹ این ون کی منی بس چلاتے ہوئے سرسید کالج کے سامنے وہاں کی طالبہ بشری زیدی، اس کی بہن نجمہ زیدی اور ان کی پاپوش نگر کی پڑوسن کو کچل دیا تھا) کے بعد بھی جاری رہا۔ ان کا اپنا گھر (ایدھی ویلفئیر ہوم) جو گلبرگ سہراب گوٹھ کے نزدیک تھا وہ لیاقت آباد سب ڈویژن

Read more

طالبان کے خونی سوات سے خوشیوں کے باغ تک

یہ علاقہ شروع سے ہی سرسبز اور شاداب رہا ہے۔ شیو شنکر بھگوان کے نام کی نسبت سے آباد ہونے والے شیوا گاؤں کو تہذیبوں کا امین کہا جاتا ہے۔ یہ خیبر پخونخواہ کا ضلع صوابی ہے جہاں سے سوات کے لئے روانہ ہونے سے پہلے محترم فرہاد زمان نے ایک قصہ سنا کے رخصت کیا جو اس طرح تھا۔ نماز فجر کی اذان سن کر، سید کمال کاکا لبیک کہتا ہوا مسجد کی طرف چل پڑا۔ کیا دیکھتا ہے

Read more

پنک اکتوبر

عورت اس دنیا کی سب سے زیادہ خوب صورت تخلیق ہے۔ عورت جس کی وجہ سے ہی اس کائنات کی مصوری میں رنگ بھرے گئے۔ عورت جو ہنسے تو کائنات میں اس کی ہنسی سے جلترنگ بجیں۔ اس ایک عورت کی شکل میں خالق حقیقی نے ہمیں بے شمار رشتوں سے نوازا ہے۔ ہماری دادی، نانی، ماں، خالہ، پھپھو، چچی، ممانی، بھابھی، یہ سب ہمارے بہت خوبصورت اور قیمتی رشتے ہیں۔ ان سب رشتوں کی حفاظت کرنا اور ان سب کو بریسٹ کینسر جیسی مہلک بیماری کے لگنے سے پہلے آگاہ کرتے رہنا ہمارا سب سے پہلا فرض ہے۔

Read more

گلگت بلتستان: سکردو روڈ پر مسافر وین پر پہاڑی تودا گرنے سے 14 افراد ہلاک

گلگت بلتستان انتظامیہ کے مطابق سکردو روڈ پر مسافر وین پر پہاڑی تودا گرنے سے 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک شدگان میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے چھ اہلکاروں کے علاوہ ماں بیٹا اور دو سگے بھائی بھی شامل ہیں۔

Read more

دردنہیں بانٹا جا سکتا جس کو ہوتا ہے وہی جانتا ہے

کس کا کلیجہ کتنا چھلنی ہے، کس کی روح تک کو کتنا زخمی کیا گیا ہے کوئی نہیں جانتا۔ درد کی ایسی شدت ہے دھاڑیں مار مار کر چیخ رہا ہوں، خاموش زبان سے چلا چلا کر پکار رہا ہوں کہ کوئی تو سنبھال لے۔ لیکن ہر دفعہ کی طرح درد کی شدت میں کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھا

Read more

مولوی گائیڈننگ سسٹم

میں پشاور سے رات کے وقت ایک شادی میں شرکت کے لئے اسلام آباد جا رہا تھا۔ شادی ہال کا پتا نکالا، گوگل میپس میں لگایا اور جی پی ایس آن کیا۔ رستے میں دوستوں سے پرانی باتیں کر کر کے رستہ کم کر رہے تھے۔ اسلام آباد ٹول پلازا کراس کر کے میں نے کچھ پوچھا۔ کسی نے ریڈیو پر نغمہ لگایا اور ہم اس وقت چونکے جب فون سے آواز آئی کہ ”اب آپ کو متبادل رستہ فراہم کیا جا رہا ہے“۔ یعنی ہم اپنا اسلام آباد کا ایگزٹ کراس کرچکے تھے۔ دل ہی دل میں اپنے آپ کو کوسا کہ اگلا ایگزٹ پورے پینتالیس کلومیٹر دور چکری پر تھا۔ خیر اپنے اعصاب ٹھنڈے کیے۔ دوستوں سے درخواست کی کہ ذرا جی پی ایس کو غور سے سنیں اور فون کا والیوم بڑھا دیا۔

اب آپ ایک لمحے کو تصور کریں کہ گوگل میپس میں گلوبل پوزیشننگ سسٹم کی بجائے مولوی گائیڈننگ سسٹم لگا ہوا ہے۔ میں نے جونہی رہنمائی سے تھوڑی سی روگردانی کی اور اوپر سے فتویٰ دے دیا۔ ”جا تو بھی کافر۔ اور ہاں تمہارا نکاح بھی ٹوٹ گیا۔ نہیں بتاتا آگے رستہ۔“ اور کٹ سے میرا فون ہی ڈیڈ ہو گیا۔ اب مسئلے کی تو وضاحت ہو گئی۔ یعنی ایک مسلمان اسلام چھوڑ کر کافر ہو گیا۔ مرتد ہو گیا۔ اب اس کا قتل لازم ہے۔ کون عدالت کے بکھیڑے پالے۔ بس ایک گولی۔ وکیل ایک دوسرے سے بڑھ کر عدالتوں میں دفاع کے لئے تیار۔ مقتول کا جنازہ بھی نہیں پڑھا جا سکتا۔ بیوی پہلے ہی سے مطلقہ۔ بچے یتیم اور والدین ایک دوسرے سے منہ چھپا رہے ہیں۔

Read more

مسقط سے لاس اینجلس تک

"مہتمم مطبخ یا دروغه مطبخ ” ہم خود کلامی کرتے ہوئے مسکرائے، کیا نام دیں اپنے آپ کو؟  دیکھیے گردش دوراں نے یہ دن بھی دکھانا تھا کہ ہمارے حصے میں یہ ڈیوٹی آئی تھی۔ وہ جو فرائض سونپنے کا چارٹ بنایاگیا تھا اس میں یہ کہتے ہوئے لکھا گیا، ” قیام میرے ذمے، طعام آپ کے" یہ بڑا نازک مرحلہ تھا کہ وہ کام جو ہمیں زندگی کا سب سے بورنگ کام لگے یعنی باورچی خانے میں پیاز، ادرک

Read more

مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے

(مسیحا صفت ایدھی صاحب کی کچھ ذاتی یادیں) ایدھی صاحب سے میری ملاقات 1983 کے وسط میں چھاجوں برستی بارش میں ہوئی۔ تب تک بھارتی فلم۔ ”نمک حلال“ ریلیز ہو چکی تھی۔ تین موٹی کیسٹوں والا وی سی آر اور پلاسٹک کے کیس میں لپٹی نازک سی آڈیو کیسٹوں پر ہم اس کا وہ جان لیوا گانا بہت شوق سے سنتے اور دیکھتے جس میں امیتابھ بچن اور سمیتا پاٹل ایسی ہی برستی برسات میں لہرا لہرا کر گاتے ہیں

Read more

کیا آپ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں؟

کیا آپ کرائے کے مکان میں رہتے ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کی زندگی کس قدر مشکل ہے۔ نہیں آپ کی زندگی مشکل اس لئے نہیں ہے کہ آپ کو ہر ماہ ایک معقول رقم مالک مکان کو ادا کرنی ہے بلکہ زندگی مشکل ادھر ادھر والوں کے تبصروں نے کر دی ہے کہ آپ کا ذاتی گھر کیوں نہیں ہے۔

Read more

آمنہ الیاس: رنگت پر مبنی امتیازی سلوک کی مخالف پاکستانی ماڈل ’باڈی شیمنگ کرنے پر‘ تنقید کی زد میں

رنگت کی بنیاد پر تعصب کے خلاف متحرک ماڈل آمنہ الیاس سابق ماڈل آمنہ حق کو ماضی میں ایک شو کے دوران موٹا کہنے پر معذرت خواہ نہ ہونے پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں ہیں۔

Read more

’آذربائیجان نے جنگ بندی لاگو ہونے کے چار منٹ بعد خلاف ورزی کی‘، آرمینیا کا الزام

آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین کئی دہائیوں سے جاری ناگورنو قرہباخ تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے اور حالیہ ہفتوں میں اس تنازع میں پھر سے شدت آئی ہے۔

Read more

’وہ لڑتے ہیں، ہم مرتے ہیں‘، افغانستان کی جنگ میں پھنسے خاندان کی کہانی

گل محمد کے گاؤں پر طالبان نے ہفتے کو اکتوبر کی دس تاریخ کو حملہ کیا تھا جس کے جواب میں افغان فوج نے جوابی کارروائی کی تھی۔ گل محمد اور ان کے خاندان والے ان 35 ہزار افراد میں شامل تھے جو لڑائی سے جان بچا کر علاقے سے نکلنے پر مجبور ہو گئے۔

Read more

موقع پا کر درندگی پر اترنے والے مسیحا

ایک خاتون اسپتال یا کلینک میں بچہ جن رہی ہو اور کوئی اجنبی اس کی نہایت فطرتی اور تکلیف دہ مرحلے میں خفیہ طور پر مجرمانہ فلم بندی کرنے میں مصروف ہو، تا کہ کل کو وہ اس خاتون کو اس کے نہایت ذاتی اور فطرتی عمل کی عکس بندی دکھا کے شرمسار کرے، یا ہراساں کر سکے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کر سکے۔ جہاں تک دوران پیدائش مرحلے کو فلم بند کر کے کسی کو ہراساں کرنے کا ہے، جو خالصتاً شرم ہی سے منسوب ہے، تو بتاتی چلوں کہ دنیا کا ہر انسان بشمول عورتوں کی زچگی میں فلم بندیاں کرنے والے اور عزت اور تقدس کو عورت کی زانو میں رکھ کر نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے تمام آدم، عورت کی زانو ہی سے دنیا میں تشریف لائے ہیں، جسے وہ ماں کہتے ہیں۔

وہ ہم جماعت، ہم کار، ٹی وی پر ”تیرے جسم میں ہے کیا؟ آہ تھو“، کرنے والوں سمیت ہر کوئی عورت کے جسم سے جنا گیا ہے۔ یہ الگ مدعا ہے کہ زندگی جننے والے اعضا کو شرم سے تشبیہ دے کر ”غیرت“ کو ہوا دی جاتی ہے۔ مگر یہاں اس بحث کا محور، مجرمانہ طور پر خفیہ عکس بندیاں ہیں، جو اسپتالوں میں ہوتی ہیں۔ مریض کی بیماری سے فائدہ اٹھانے والے کم ظرف ہیں، جو مریض کی بیماری میں بھی، ذلت کے گڑھے میں کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے۔

Read more

میں کون: میری شناخت دھندلا چکی

آج میں ایک ایسی کہانی بیان کرنے جا رہی ہو جو صرف میری روداد نہیں ہو گی بلکہ اس ملک کی 98 فیصد لڑکیوں کی آپ بیتی ہو گی۔ یہ صرف میرے احساسات جذبات اور حالات کی عکاس نہیں ہے بلکہ میرے ملک کی بیشمار لڑکیوں کی ترجمان ہو گئی۔ میرا تعلق ایک روایتی پنجابی گھرانے سے ہے جہاں بیٹے کو تو مادر پدر آزادی حاصل ہوتی ہے لیکن بیٹی پر ہر طرح کی قدغن لگائی جاتی ہے۔ ایک جملہ جو آج بھی میری سماعتوں میں گونجتا ہے اکثر بولا جاتا تھا کہ ماں باپ کا کام بیٹیوں کو صرف رسمی تعلیم دلانا ہوتا ہے اگر بیٹی مزید تعلیم حاصل کرنا چاہے یا پھر کوئی ملازمت کرنا چاہے تو وہ شادی کے بعد کرے۔

Read more

پنجاب کے پہلے غدار کی للکار

میاں نواز شریف صاحب کی یہ بات تو درست ہے کہ وہ اس ملک کے پہلے سیاسی رہنما نہیں ہیں جن پر ملک سے غداری کا الزام لگایا گیا ہے۔ مگر وہ اس لحاظ سے ضرور منفرد ہیں کہ وہ سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے پہلے غدار قرار پائے ہیں کیونکہ اس سے پہلے قیام پاکستان سے لے کر جتنے بھی سیاسی رہنماؤں کو یہ شرف بخشا گیا ہے ان سب کا تعلق مشرقی پاکستان یا دیگر صوبوں سے تھا۔ مثلاً ملک کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ منڈل، قرارداد لاہور پیش کرنے والے مولوی فضل الحق، ملک کے پانچویں وزیراعظم حسین شہید سہروردی اور شیخ مجیب الرحمٰن، جن کو غدار کہا گیا ان سب کا تعلق مشرقی پاکستان سے ہے۔

Read more

وعدہ تو کیا ہوتا

میں شراب پیتا تھا، یہی ایک خرابی تھی مجھ میں۔ ہمارے گھر میں کوئی بھی نہیں پیتا تھا بلکہ اٹھتے بیٹھتے سگریٹ اور شراب کے خلاف ہی بات کی جاتی تھی۔ شاید میں بھی نہیں پیتا اگر کراچی یونیورسٹی میں میری ملاقات شبیر سے نہیں ہوتی۔ ہم دونوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا۔ کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں شراب سے ہمارا تعارف ہوا تھا۔ میں اور شبیر دونوں ہی ہاسٹل میں سلیم سے ملنے گئے تھے۔ سلیم کے کمرے کے ساتھ ہی اگالا وکابی کا کمرہ تھا۔

Read more

چھاتی کا سرطان: ’جب میں 28 ہفتے کی حاملہ تھی مجھے چھاتی میں گلٹی محسوس ہوئی‘

حمل کے دوران ایمی میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ تب سے اپنے اس مشکل سفر کی تفصیل سوشل میڈیا کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پہنچاتی رہی ہیں۔

Read more

ماہی گیروں کی کشتی ریلی

کراچی والے جانتے ہیں کہ اکتوبرمیں یہاں سخت گرمی پڑتی ہے اور اس گرمی میں بوٹ (کشتی) ریلی میں شرکت! لیکن بات وہی پرانی ہے کہ جب کو ہ ندا سے صدا آتی ہے توآپ رک نہیں سکتے، خود پر اختیار نہیں رہتا۔ ریگل چوک اور پریس کلب اور آرٹس کونسل سے نکلنے والی ریلیوں میں تو ہم نے بارہا شرکت کی ہے لیکن سمندر میں کشتییوں میں بیٹھ کر ریلی نکالنے کا ہمارا یہ پہلا تجربہ تھا۔ کچھ بے

Read more

مڈل کلاس کا پنچ نامہ

مڈل کلاس کھانا:

اپر مڈل، گھر میں روزانہ کئی ڈشیں بنتی ہیں، جو زیادہ تر نوکر کھاتے ہیں۔ بچے اکثر باہر سے آرڈر کرتے ہیں یا کھا کر آتے ہیں۔

سیمی مڈل کلاس: ہفتے میں ایک بار گوشت اور چکن پکتا ہے اور بوٹیوں پر لڑائی ہوتی ہے۔

لوئر مڈل: روز دال یا سبزی پکتی ہے، پھر بھی مہنگائی پر حکومت کو کوسنے دیے جاتے ہیں۔

مڈل کلاس شاپنگ:

اپر مڈل: جب ضرورت ہو، سٹریس ریلیز کرنا ہو، یا بوریت دور کرنی ہو، شاپنگ کرتے ہیں۔ مگر کرتے برانڈ کے اوریجنل آؤٹ لیٹ سے ہیں۔

Read more

سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے ’جھگڑے‘ کے بعد افسر کا تبادلہ

سی سی پی او لاہور عمر شیخ ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہیں اور اس کی وجہ ان کا ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کے ساتھ ’جھگڑا‘ ہے جس کے بعد ایس پی کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔

Read more

فیملی پلاننگ ہی اکسیر اعظم ہے

سائنس کی کوئی ایک ایجاد جو پورے گھر، پورے ملک اور خاص طور پر عورتوں کو فوری سکھ دے سکتی ہے۔ زندگی میں سکون کے کئی سال دے سکتی ہے۔ غربت کو اگلی نسل میں شفٹ ہونے روک سکتی ہے۔ عورتوں کو خوب صورت اور صحت مند رکھ سکتی ہے۔ اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے، ان سے دوستی اور پیار کے اظہار کا موقع دے سکتی ہے۔ وہ

Read more

اپنے دکھ مجھے دے دو: راجندر سنگھ بیدی

شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا، تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں

Read more

اے ماؤ، بہنو، بیٹیو

ہائے نا ہوئے معصوم حالی صاحب آج کے زمانے میں ورنہ ماؤں بہنوں بیٹیوں درگت دیکھ کر وہ یہ شعر ہر گز نا کہہ سکتے اور ویسے بھی اس شعر پر تو ایک نئی نا ختم ہونے والی بحث کا آغاز ہو جاتا جو اخباری کالمز، سوشل بلاگز سے ہوتی ہوئی ٹی وی چینلز تک آ پہنچتی اور چند دن کے لئے سب ہی کی دکان چمک جاتی، اس بحث میں ترقی پسند بھڑک بھڑک جاتے اور کہتے کہ ان رشتوں کے علاوہ اب عورت کی الگ پہچان ہے اور ڈاکٹر، پروفیسر، جج بلکہ سربراہ مملکت ہے اس لئے اس فرسودہ خیال کو ترک کیا جائے اور اس کو ”میرا جسم میری مرضی“ کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔ دوسری پارٹی کہتی کہ عورت چاہے آسمان کو تھگلی لگا لے وہ بس درجہ دوم ہی کی مخلوق ہے اگر وہ گھریلو امور کے علاوہ اپنے آپ کو کسی قابل سمجھے تو وہیں بیخ کنی کر دو۔

Read more

اگر تم دنیا بدلنا چاہتے ہو!

مادام ٹریسا دی گریٹ فرماتی ہیں : ”اگر تم دنیا بدلنا چاہتے ہو تو گھر جاؤ اور گھر والوں سے محبت کرو۔“ اچھا، یعنی کیا؟ یعنی دنیا کو تبدیل کرنے، بہتر بنانے، انقلاب لانے کا پہلا میدان آپ کا اپنا گھر، اپنا صحن، اپنا آنگن، اپنی اولاد، اپنا خانوادہ، اپنا خاندان ہے۔ یعنی آپ کا گھر پہلا دائرہ کار ہے، جہاں آپ محبت، توجہ، خلوص، انصاف، احساس، برابری، رواداری، قربانی اور ہر فرد کے لئے یکساں عزت نفس برقرار رکھنے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اپنے معاشرے کو مطعون کیے اور ریاست و ملت کے سر پہ ذمہ داری ڈالے بغیر۔

ایک جائزہ ہے، مشاہدے اور اطراف کے تجربے سمیت، 90 فی صد مسائل اور Split Personality بکھری ہوئی شخصیات، پیچیدہ نفسیاتی الجھنوں کے ساتھ، جو انسان ہمارے آس پاس سانس لے رہے ہیں، ان کی موجودہ حالت کے تانے بانے اور کریڈٹ ان کا Problematic Childhood ہے، دل پہ ہاتھ رکھیے اور کہیے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ایک بچہ نو ماہ اندر رکھ کے اسے دنیا میں لانے کے عوض آپ کے قدموں تلے واقعی جنت آ جاتی ہے؟ یا Parenting نام کی کوئی شے خدا کے یہاں قابل مواخذہ بھی ہو گی؟ نو سے پانچ کی نوکری کر کے گھر کا خرچ سرتاج/ولی ہونے کو کافی ہے؟ یا بچے کی تربیت اور جذباتی نشو و نما میں بھی باپ کا کوئی کردار ہے؟

Read more

”ذمہ دار کون؟ عورت یا مرد!“

وطن عزیز میں رہنے والے بے شمار لوگ ازخود اور بہت سے بلند فشار خون اور قلب کے مریض، ڈاکٹر کے مشورے کے بعد، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خبر اور اخبار سے جتنا دور رہا جائے، زندگی اتنی پر سکون گزرے گی۔ دیکھا جائے تو ایک حد تک یہ بات درست ہے اور ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں، لیکن دوسری طرف اگر آج کل ہونے والے واقعات پر نظر ڈالیں تو ان میں سے بعض ایسے ہولناک اور دل خراش ہیں کہ نا صرف لمحوں میں زبان زد عام ہو گئے، بلکہ کوئی بھی کسی بھی وجہ سے کتنا ہی خود کو ان کے بارے خبروں سے دور رکھنا چاہتا ہو، وہ غیر متعلق نہ رہ سکا۔

ہمارے یہاں کے نام نہاد لبرل اور موم بتی مافیا نے بھی ان مواقع سے پورا پورا اور بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، ”عورت کارڈ“ کھیلنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ ان واقعات کے متاثرین میں عورتوں کے علاوہ کم عمر لڑکیوں اور یہاں تک کہ لڑکوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ پورے ملک کا ہر طبقہ اپنی اپنی سمجھ بوجھ اور ذہنی استعداد کے مطابق، بحث مباحثے میں الجھ گیا کہ در اصل ان واقعات کے اسباب ہیں کیا، اور ذمہ داران کون ہے۔ کچھ نے ہمارے معاشرے کو ”مردوں کا معاشرہ“ قرار دیتے ہوئے، ان واقعات کی وجہ ”مرد“ کا وحشی پن و حیوانیت بیان کی، اور کچھ نے ”عورت“ کو دی جانے والی مادر پدر آزادی، فحاشی و عریانیت۔

Read more

بیٹی کی پیدائش

گلی میں عجب سا سماں تھا۔ دروازوں کی پردوں کی اوٹ میں کھڑی، محلے کی خواتین، کف افسوس مل رہی تھیں۔ ایک دوسرے کو بتا رہی تھیں کہ جہانداد (فرضی) کی قسمت خراب ہے۔ بے چارے کا کوئی وارث نہیں ہے۔ اس بار تو پوری امید تھا کہ اس کے یہاں بیٹا ہو گا، لیکن افسوس پھر بیٹی ہو گئی۔ اب جہانداد دوسروں کی گھروں کے لئے بیٹیاں پالے گا۔

اس دوران میں ایک بزرگ عورت عصا کی سہارے جہانداد کی گھر سے نکل کر، اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی۔ ایک ہاتھ میں تسبیح تھی، جس کے دانوں کو وہ اپنی لرزتی انگلیوں کے ساتھ تیزی سے گرا رہی تھی۔ زبان پر ذکر کے بجائے افسوس تھا اور وہ خود سے ہم کلام تھی: ”جہانداد کی بیوی کی رونے سے انسان کا کلیجا پھٹنے لگتا ہے۔ بے چاری سمجھ رہی تھی، اس بار تو لڑکا ہی ہو گا، کیوں کہ اس تمنا میں اس نے ہر در کھٹکھٹایا ہے۔ دم درود کروایا۔ یہاں تک کہ پیر بابا کی زیارت کو گئی۔ اب وہ اتنی بچیوں کا کرے تو کیا کرے!“

Read more

خود کو قبول کر کے جئیں

شادی کے اٹھارہ دن بعد ہی اسے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا پڑا۔ جس سے وہ پیچھے نہیں ہٹی۔ اس کے مطالبے کو پورا ہونے میں دو ماہ لگے۔ زندگی کا سب سے زیادہ خوب صورت رشتہ اس نے اپنی ذات کی تمام سچائیوں کے ساتھ قبول کیا تھا، مگر یہ تعلق جب اپنی تمام تر بد صورتیوں کے ساتھ اس کے سامنے آیا، تو اس نے فیصلہ لینے میں دیر نہیں کی۔ اسے اس بات کا بھی ادراک ہو گیا تھا کہ آج نہیں تو کل، یہ رشتہ ختم ہونا ہی ہے، تو پھر کسی بچے کے بغیر الگ ہونا زیادہ بہتر ہے۔

اس شخص میں وہ تمام برائیاں بدرجہ اتم موجود تھیں، جو کسی بھی نارمل انسان کو ابنارمل بنانے کے لیے کافی تھیں۔ اوپر سے اس مرد کا ہم جنس پرست ہونا الگ عذاب تھا، دنیا کو تو وہ جیسے تیسے جھیل ہی لے گی، مگر عادات بد کے شکار مرد کے ساتھ گزارا کرنا، اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ اس نے بڑی صاف ستھری زندگی گزاری تھی۔ اس کے والد، بھائی، مامے چاچے اور خاندان کے دیگر مرد بھی با کردار تھے۔ اسی لیے اس شخص کا جو کردار سامنے آیا، وہ اسے کسی بھی طرح قبول نہیں کر پائی۔

Read more

مردوں میں جسم فروشی کے کچھ پہلو

کچھ عرصہ پہلے ایک مضمون لکھا تھا کیا جسم فروشی قانونی ہونی چاہیے؟ یہ عورتوں کی جسم فروشی سے متعلق تھا۔ اس پر کسی نے توجہ دلائی کہ مرد بھی جسم فروشی کرتے ہیں، اس پر بھی لکھیے۔ اندازہ تو تھا لیکن لکھنے بیٹھی تو پتہ چلا کہ صورت حال کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ زمانہ قدیم سے ہر معاشرے، تمدن اور ہر سرزمین پر ہم جنسیت موجود رہی ہے۔ کبھی اسے ناپسندیدہ کہا گیا، کبھی برداشت کر لیا گیا، کبھی

Read more

جیسندا آرڈن: جس سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے

دنیا میں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر زندہ وہی رہتے ہیں جو دنیا میں نام کمانا جانتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے کام کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں اور لوگوں کی دلوں میں اعلیٰ مقام پیدا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو اس وقت لیڈی ڈیانا انگلینڈ کی شہزادی تھیں، وہ خوب صورتی کی مالک تھیں۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں، تو ہمارے یہاں بھی ایسی عورتیں پیدا ہوئی ہیں، جنہوں نے اپنے کام اور کردار کی وجہ سے دنیا میں نام کمایا ہے۔ رعنا لیاقت علی، محترمہ فاطمہ جناح جنہیں ہم مادر ملت کہتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں۔ جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ وہ مرد کے گلے کا ہار نہیں بننا چاہتی، مگر اسے پاؤں کی جوتی بنانے کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل لڑکیوں کو پڑھانے میں کافی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ لیکن اب تمام تر مسائل کے با وجود لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھا لکھا معاشرہ پیدا کر سکتی ہے۔

Read more

ناسٹیلجیا: سلمان باسط کا آتش رفتہ کا سراغ

پروفیسر سلمان باسط۔ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا غلام حیدر مرحوم صاحب دیوان شاعر تھے۔ دادا کے بھائی میراں بخش منہاس، پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ سلمان باسط کے بڑے بھائی عثمان خاور شاعر اور سیاح ہیں اور سیاحت نگری پر خامہ فرسائی فرماتے رہتے ہیں۔ سلمان باسط انگریزی ادب کے استاد اور پروفیسر ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب کے چند چنیدہ کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ایک اچھے شاعر اور طنز و مزاح خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”خاکی خاکے“ خاصی مقبول ہوئی۔ ”ناسٹیلجیا“ آپ کی تازہ ترین کتاب ہے جو کہ آپ بیتی پر مشتمل ہے اور ابھی اس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ یعنی آپ پہلا حصہ کہہ سکتے ہیں اور یہ آج کل ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ماضی گزیدہ ہے، اور اگر اس کی یاد داشت اچھی ہو تو وہ خواب گزیدہ جہاں، اس کے لیے عذاب بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر جنت گم شدہ میں بچپن کا ساون، کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی بھی آنکھوں میں موجود ہو، تو وہ کبھی خدا سے اپنے حافظے کے چھن جانے کی استدعا نہیں کرے گا۔ وہ بیتے دنوں کو کبھی بھول نہیں پائے گا اور آخری دن تک یاد رکھتا ہے۔ بچپن سب کا ایک جیسا ہی حسین خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ٹائم مشین ہے جس میں کوئی بھی جب چاہیے ان وادیوں میں اتر سکتا ہے اور جتنا چاہے اپنے آپ کو گم کر کے اک خوشی، اک تسکین سی پا سکتا ہے۔ اس ٹائم مشین کی فریکوئنسی اور کانفیگریشن تبھی مکمل ہو گی، جب آپ ناسٹیلجیا کے بٹن کو پریس کریں گے۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: اہم معاملات پر صدر ٹرمپ کہاں کھڑے ہیں؟

صدر ٹرمپ نے گذشتہ انتخابی مہم کے دوران کیا وعدے کیے اور کسی حد تک ان کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوئے اور اب کیا پروگرام انھوں نے عوام کے سامنے رکھا ہے۔

Read more

آذربائیجان، آرمینیا تنازع: ’ہم سب مر بھی گئے تب بھی اپنی زمین کا ایک انچ نہیں چھوڑیں گے‘

آذربائیجان، آرمینیا کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں عام شہریوں کے ہلاک ہونے کی رپورٹس ہیں۔ بی بی سی نے حال ہی میں سرحد کے دونوں جانب کشیدہ علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کے رہائشیوں کے تاثرات جاننے کی کوشش کی ہے۔

Read more

شادی کے کچھ مزید فوائد نیز ذیلی اثرات

شادی کے بعد پہلی بار آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جو بیڈ دکھنے میں سات فٹ کا ہے، آپ کے سونے کے لئے اس میں بس دو ہی فٹ جگہ ہے۔ بیڈ کے تھوڑے سے اضافی ایریے پر ٹانگ پھیل جائے تو ایسی فیلنگ آتی ہے جیسے دشمن ملک کی چھاونی پر قبضہ کر کے اپنا جھنڈا لہرایا دیا ہو۔ شادی کے بعد آپ کی اپنی الماری آپ کی نہیں رہتی، پرائی ہو جاتی ہے۔ جہاں آپ کی شرٹس

Read more

آہستہ بولیں! ایک ماں مقتولہ بیٹی کی نعش کے ساتھ رورل ہیلتھ سنٹر اوچ شریف کے فرش پر سو رہی ہے

زیر نظر تصویر دراصل ہمارے بانجھ بنجر سماج کی بے حسی کی ”مردہ“ مثال اور سسکتی، بلکتی، کرلاتی انسانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلکہ اس خون آشام معاشرے میں درندگی اور شرمندگی کے درمیان پھنسی زندگی کا بوجھ ڈھوتے ہوئے کبھی کبھی تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ من حیث القوم ہم ابھی بھی وائی کنگز کے دور میں جیتے ہیں۔ گزشتہ روز حق مہر سے دستبردار نہ ہونے کے ”جرم“ میں اپنے ”مجازی خدا“ کی ”شقاوت قلبی“

Read more

شجر الدر: ایوبی خاندان کے آخری فرمانروا کی بیوہ کا غلام سے طاقتور ملکہ بننے تک کا سفر

مؤرخ کہتے ہیں کہ شجر الدر آغاز میں ایک پُرعزم اور خوبصورت روپ میں مصر میں نمودار ہوتی ہیں۔ لیکن بعد میں یورپ کی ایک طاقتور صلیبی فوج کو ناکام بنا کر خود کو ایک ذہین سیاستدان میں بدل لیتی ہیں۔

Read more

کشمیر: انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی گھر پر نظربندی ختم کر دی گئی

سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور دیگر سابق وزرا اور اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی کو بھی گذشتہ برس کے اگست میں نظربند کیا گیا تھا۔

Read more

پنجاب پولیس موٹر وے ریپ کیس کے مرکزی ملزم تک کیسے پہنچی؟

ملزم عابد کے پاس نہ موبائل تھا اور نہ پیسے جس کی وجہ سے اس کی تلاش ایک مشکل ٹاسک ثابت ہوا۔ یہ معاملہ جب میڈیا پر ٹھنڈا ہوا تو ’کنگلا‘ ملزم پکڑا گیا۔

Read more

خواتین کی صحت: حمل کے آٹھویں ماہ میں بچے کی پیدائش سمیت دیگر مفروضوں کی طبی حقیقت کیا ہے؟

دوران زچگی خواتین کو خوراک، کھانے پینے کے اوقات، کام کاج کرنے، امھنے بیٹھنے سمیت متعدد ٹوٹکے اور مشوروں کے ساتھ ساتھ حمل سے وابستہ چند مفروضوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اس تمام مفروضوں کی طبی حیثیت کیا ہے؟

Read more

خواجہ سگ پرست از اسد محمد خان

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں۔ یوں سمجھیے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہو گا، حسین اور دل آویز ہو گا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟

جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا، تو لندن روانہ ہو گیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلے کی کوششیں کرنے لگا۔ یونیورسٹی والوں نے کہا، ”یہاں تمھیں بی اے دوبارہ کرنا پڑے گا۔“

Read more

ویران آغوش اور مامتا کا کرب

( 9 تا 15 اکتوبر بچے کو کھو دینے سے آگہی کے ہفتے کی مناسبت سے لکھی گئی تحریر)

(روداد: منیژے وقاص)

تحریر: گوہر تاج

مشی گن ڈیٹرائیٹ، امریکا

تقریباً دو سال قبل میری بھتیجی اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے تجربے سے گزری، اسی طرح جس طرح دنیا کی تمام مائیں گزرتی ہیں۔ زمانے حمل کی مشکلات اور پیدائش کا دکھ جو ہر ماں کا حصہ ہے۔ لیکن افسوس کے وہ بچہ دنیا میں چند سانسیں ہی مستعار لایا تھا۔ ماں نے اولاد کے اس دکھ کو اپنے اندر ہی اندر پنپنے دیا اور کسی اظہار کے بجائے بس ایک چپ سادھ لی۔ تمام سوشل میڈیا سے کٹ کے اور بیٹے کی یاد میں بس کے۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: امریکہ میں صدر بننے کے خواہشمند باقی 1214 امیدوار اپنی مہم کیسے چلا رہے ہیں؟

امریکہ کی سیاست میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹک جماعتیں ہی نمایاں رہتی ہیں جو نہ صرف میڈیا کوریج بلکہ سیاسی مہم کے لیے عطیات حاصل کرنے میں بھی بالادستی حاصل کر لیتی ہیں۔ اس طرح کسی تیسرے امیدوار کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

Read more

اصول تغیر پذیری

تبدیلی فطرت کا ایک مسلمہ اصول ہے۔ کائنات کی ہر طرح کی اشیا پر اس اصول کا مساوی اطلاق ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اشیا پر اس اصول کی کار فرمائی ذرا نمایاں ہوتی ہے، جب کہ کچھ تغیر اور تبدل کے اس عمل مسلسل سے دو چار تو ہوتی ہیں لیکن ان میں تبدیلی کی رفتار ذرا سست ہوتی ہے۔ اس طرح یہ ایک ہمہ گیر اور آفاقی اصول ہے، جو ہر آن جاری و ساری رہتا ہے۔ در اصل خالق کائنات نے اس اصول کے ذریعے نا صرف اپنی خلاقیت کے بحر نا پیدا کنار کو جاری کر کے کائنات کے عناصر ترکیبی کے اندر ایک حسین نظم و ضبط پیدا کیا ہے، بلکہ کائنات کے تکمیل کی طرف سفر کو اسی اصول کے اندر پوشیدہ رکھا ہے۔

آفاق و افلاک کی مختلف اشیا میں یہ تغیر انسان کی مقدار حیات کے مقابلے میں اتنا سست ہے کہ انسان اس کو محسوس کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ انسان کبھی کبھار اس اصول کو اس لئے بھی سمجھ نہیں پاتا کہ یہ اصول ”بکھراو“ اور ”بناو“ کے پس پردہ کام کرتا رہتا ہے۔ یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس اصول کی عمومیت اس کو ایسا پردہ فراہم کرتی ہے کہ انسان کی چشم باریک بین اس کا مشاہدہ تو کر لیتی ہے، لیکن اس کا تجزیہ کرنے میں نا کام ہو جاتی ہے۔

Read more

پانی کا درخت: کرشن چندر

جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سوکھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔ مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش و برودت ہے۔ اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔ مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ، بہیکڑ، املتا، ساور، کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں۔ اس کی چٹانیں سیاہ ہیں لیکن ان سیاہ چٹانوں کے اندر میٹھے پانی کے دو بڑے قیمتی چشمے ہیں، اور ان دو پہاڑی سلسلوں کے بیچ میں ایک چھوٹی سی تلہٹی پر

Read more

ٹورنگ ٹاکیز اور چوری چھپے دیکھی فلمیں

میرے گھر کے نزدیک اس سال خزاں ایک عجب رنگینی لئے ہے۔ سوکھتے پتے پیلے نارنجی ہلکے سرخ گہرے سرخ میں تبدیل ہو ایک آگ سی لگائے ہیں۔ اور پت جھڑ کی سرد ہوا اب نیچے گرا ایک رنگ برنگی چادر بنا چکیں۔ ان پتوں کی طرح جھڑتی عمر کے میرے جیسے لوگ چھڑی کا سہارا لئے جب ان کی رونق دیکھنے نکلے ان کے جوبن کی رنگینیوں کے متعلق سوچتے ہیں۔ تو جو "آرزوئیں پہلے تھیں جو غم سے حسرت

Read more

چوتھی طرف مت جانا

وہ اپنی ذات سے کٹی ہوئی اپنے ہی گم شدہ وجود کا کوئی کھویا ہوا حصہ تھی، جو اپنی تلاش میں در در بھٹک کر اپنی اصل کو نہ پا سکے اور پھر اپنی موجودہ حالت ہی کو اصل سمجھ لے۔ عافیہ نام تھا اس کا، لیکن عافیت کے لغوی معنی بھی اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ شاید زندگی کی گاڑی اس بری طرح راستہ نہ بھٹکتی، اگر وہ حادثہ نہ ہوتا، جو اس کی شخصیت کو نگل گیا۔ وہ شخصیت جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں قدم رکھ رہی تھی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں ماں باپ، نانی اور چاچو کو پایا۔ اس کی ماں کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ وہ ایک ان پڑھ دیہی عورت تھی جو صرف اس لیے اس کے باپ کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی کہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے وعدہ کر لیا تھا۔ ماں کا وعدہ تو انعام علی نے خوب نبھایا لیکن زندگی اس کا ساتھ زیادہ دیر نہ دے سکی۔ آٹھ برس کی عافیہ اور تین سال کے معاذ کو اپنی نا تجربہ کار بیوی پر چھوڑ کر وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اپنی مرضی کہاں تھی اس کی۔

انعام علی نے بینک بیلنس بھی چھوڑا تھا اور ایک فلیٹ اور چند دکانیں بھی، جن کا معقول کرایہ آتا تھا۔ لیکن پیسے کی ریل پیل اور ایک نا تجربہ کار دوسرے معنوں میں بے وقوف عورت کے ہاتھ میں لوگ جتنا فائدہ اٹھاتے کم تھا۔ اس آٹھ سالہ بچی کی تعلیم متاثر ہوئی۔ پھر تربیت۔ پھر نیک نامی اور پھر زندگی۔ ”بچی ہے“ کہہ کر بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا، ایک دن اس کی ماں کو اس کی اپنی نظروں میں گرا گیا۔

Read more

کیا آپ اپنی ماں بولی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں؟

کیا آپ کے والدین نے آپ کو گھر میں اپنی ماں بولی پڑھنا سکھائی تھی؟

کیا آپ کے اساتذہ نے آپ کو سکول میں اپنی مادری زبان لکھنا سکھائی تھی؟

میں پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کو نہیں جانتا، جہاں بچوں کو سکولوں میں اپنی مادری زبان میں تعلیم نہ دی جاتی ہو۔

مجھے نجانے کیوں میری ماں نے اردو، عربی اور انگریزی تو لکھنا پڑھنا سکھائی لیکن بہت سی اور پاکستانی ماؤں کی طرح اپنی ماں بولی پنجابی لکھنا پڑھنا نہ سکھائی۔

Read more

مس شازی بنام مسمی عبدالرشید

ڈیئر عبدالرشید، سلام خلوص!

عرصے بعد تمھارا بے ہنگم جذبات سے معمور اور املا کی غلطیوں سے بھر پور مراسلہ ملا، جسے تم بڑے فخر، بلکہ ڈھٹائی سے ”محبت نامہ“ کہتے ہو۔ پڑھ کر کوئی مسرت نہیں ہوئی، بلکہ تمھاری مزید حماقتیں جان کر دھچکا پہنچا۔

رشید! خدارا، اگر خود تمھیں صحیح لکھنا نہیں آ رہا، تو کسی سے لکھوا لیا کرو۔ کم از کم مجھے تو خواندگی میں اتنا سر نہ کھپانا پڑے۔ کہتے ہیں کہ خط سے آدھی ملاقات ہو جاتی ہے، مگر تم سے یہ آدھی ملاقات اس قدر درد ناک بلکہ عبرت ناک ہوتی ہے کہ بس! میری درخواست ہے کہ اختصار نویسی اپناؤ اور خود بھی مختصر الفاظ سے اصل مدعا سمجھنے کی کوشش کیا کرو۔ میں نے لکھا تھا، ”تاریخ آنے والی ہے، اک نیا امتحان در پیش ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے“۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم دونوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے لیے اپلائی کر رکھا ہے۔ میری مراد صاف ظاہر تھی کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیکچرار اردو کے لیے تحریری امتحان کی تاریخ آنے والی ہے۔ مگر تم نے اپنی کج فہمی کے باعث مجھے نانیوں، دادیوں والا پند نامہ لکھ بھیجا، تاریخ کے دنوں میں ٹھنڈی چیزیں استعمال نہ کرنا، ہو سکے تو دودھ میں دیسی گھی ملا کر پینا۔ پھر گھر کی پسی ہوئی ہلدی کے خواص پر تم نے آدھا صفحہ لکھ ڈالا۔

Read more