کہیں ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے

مسلمانوں کے خلاف عالمی سازشیں عروج پر ہیں۔ جب بھی مسلمان قوت پکڑنے لگتے ہیں، ہنود و یہود کوئی نہ کوئی نئی سازش کے ساتھ رستہ روک لیتے ہیں۔ اب اس کرونا وائرس کی کہانی ہی دیکھ لیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان الحمد لللہ اب ترقی کی راہ پر گامزن ہونے لگے ہیں، اتنی بڑی عالمی سکیم بنائی کہ پوری دینا کو بیک جنبش قلم ساکت کر دیا صرف اس لئے کہ ہماری مسجدیں اور حرمین اس مبارک

Read more

حرمین کے پھولوں سے حضرت بل کی اذان تک

عصر کی اذان ہو رہی تھی اور عارفہ نے عدیل کو رخصت کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں حرمین سے لایا ہوا گلدستہ تھما دیا۔ عارفہ کو علم تھا کہ عدیل اس کا ہاتھ مانگنے کی ہمت کرنے سے قاصر ہے۔ عدیل کو حسرت تھی کہ عارفہ پھولوں سے پہلے اس دامن کی بھیک دیدے جو عدیل نے بیتے ہوئے تین برسوں میں اپنے آنسوؤں سے خوب بھگویا تھا۔ عدیل عارفہ کی اس اوڑھنی کا متمنی بھی تھا جس سے

Read more

غداران وطن

وہ جن کے ہونٹ کی جنبش سے وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے قانون بدلتے رہتے ہیں اور مجرم پلتے رہتے ہیں ان چوروں کے سرداروں سے انصاف کے پہرے داروں سے میں باغی ہوں، میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پر ظلم کرو ڈاکٹر خالد جاوید جان نے جب یہ نظم لکھی تو نتیجے میں اپنی کافی ساری ہڈیاں بھی تڑوا بیٹھے اور کئی دن تک ہسپتال علاج کراتے رہے پھر زندان میں ڈال دیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب

Read more

فکر اپنی اپنی، خطرہ سب کو

میرے ایک رہبر ہیں انہوں نے مجھ سے سوال کیا۔ نہیں سوال نہیں بلکہ ایک نکتہ اٹھایا کہ برصغیر پاک و ہند پر انگریزوں نے تقریباً سو سال حکومت کی۔ انگریز پہلے پہل ایک کمپنی کی شکل میں وارد ہوئے۔ اس کمپنی میں ملے جلے لوگ شامل تھے۔ انہوں نے اس کمپنی کی سرپرست مادر ملکہ کو بنایا۔ برصغیر میں آنے والے گورے کاروباری تجارتی لوگ، بدمعاش اور معالج قسم کے تھے اور وہ لوگ ایک نئی دنیا فتح کرنے نکلے تھے۔ ان سب کو اپنے دیس میں آرام و آسائش میسر نہ تھا۔ بلاشبہ پہلے پچاس سال تو قبضہ کرنے اور اپنے آپ کو منوانے میں لگ گئے۔ پھر کمپنی کو خیال آیا کہ ان محکموں کے لیے بھی کچھ کیا جائے تاکہ ان کو قابو میں رکھنا آسان ہو پھر تمام ملک میں سڑکوں کا جال بچھایا گیا۔ پولیس کی چوکیاں بنائی گئیں۔ ہسپتال بنائے گئے اور تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی گئی اور عجائب خانے اور چڑیا گھر بھی بنائے گئے۔ برصغیر میں فوج مقامی لوگوں کی تیار کی گئی اور برطانیہ کی ایک نوآبادی قائم کی گئی۔

Read more

قابل اعتراض رشتے میں مت باندھو کہ میرا جسم اور روح دونوں تھک جائیں

ساون کا موسم ہے دن بھر خوب گرمی کے بعد ابر کرم کھل کر برسا۔ اب میں چائے اور موسم کے مزے لینے اپنی چھت کے اک کونے میں آ بیٹھی ہوں۔ اک سہانی شام ہو ہاتھ میں چائے ہو اور یادیں یلغار نہ کریں، ایسا کم ہی ممکن ہے۔ میرا دھیان بھی کچھ عرصہ پہلے شاپنگ مال کے اک منظر میں اٹکا ہوا ہے۔ میں خوشی خوشی لاک ڈاؤن کے بعد پہلی دفعہ شاپنگ کرنے گئی تھی، اک تو

Read more

انصار عباسی بھی ریپ شیپ کی شکایت کرنے کے قائل نہیں

ویک اینڈ کا آغاز ہو چکا تھا۔ بہت خوبصورت شام تھی لیکن مجھ سے بڑی سستی ہوئی۔ کمپیوٹر کے ساتھ چپکا رہا اور اٹھ کر کچن تک بھی نہیں گیا۔ نتیجہ یہ کہ سکون کے چند لمحے بھی ہاتھ نہ آئے اور شام حقیقی ماحول میں گزار دی۔ اپنی تعلیم و تربیت کے لیے انصار عباسی صاحب کے ٹویٹر پر گیا کہ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر ان کا ٹویٹ تو دیکھوں لیکن ابھی وہاں پہنچا ہی نہیں تھا کہ عباسی صاحب کا بالکل تازہ ولاگ سامنے آ گیا۔ فحاشی اور عریانی کے موضوع پر اس ولاگ میں جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ صاحب کا ذکر پہلے چار منٹ تک کہیں نہیں تھا۔

انصار عباسی صاحب نے بتایا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب پاکستان میں فحاشی اور عریانی کے بہت بڑے مخالف ہیں لیکن وہ، یعنی جنرل صاحب، مایوس نہیں ہیں۔ جنرل صاحب کا حوصلہ وزیراعظم صاحب کی باتوں کی وجہ سے بلند ہے۔ وزیراعظم صاحب پرعزم ہیں کہ وہ پاکستان سے فحاشی اور عریانی کا خاتمہ کر کے ہی دم لیں گے۔ جنرل صاحب کا اس بات پر خوش ہونا ان کے نیک آدمی اور اچھے مسلمان ہونے کی بہت مضبوط دلیل ہے۔ اور اس سلسلے میں جنرل صاحب نے عباسی کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔

Read more

خوشی کا قصور ہے۔ ۔ ۔

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطے آخر گنہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں کہنے کو تو نوشہ میاں یہ شعر کہہ کر اپنی سخن وری پر مہر تصدیق ثبت کر گئے مگر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ بیت ان لوگوں کے لئے جنت کے پروانے کا درجہ رکھتی ہے جن کو مذہب اسلام وراثت میں ملی ہے مگر ان کے اعمال کسی بھی زاویے سے مومن کے نہیں لگتے۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ لوگ

Read more

خدا نے مرنا حرام کیا اور دنیا نے جینا

سوشل میڈیا پر ایک صحافی دوست کی وال پر کراچی کی صبا کی خود کشی کی خبر پڑھی۔ ‏نارتھ کراچی سیکٹر 5 C 2 کی رہائشی صباء جس کی شادی کو صرف 7 ماہ ہی گزرے تھے کہ شوہر کے رویے کی وجہ سے اس نے ہمیشہ کے لئے یہ دنیا چھوڑ دی۔ لڑکے نے جھوٹ بول کر شادی کی لڑکی کنواری تھی، لڑکا شادی شدہ اور ایک بچے کا باپ پھر بھی صباء نے سمجھوتہ کیا۔ جس بات کا

Read more

شیخ چلی نے کھانا کھایا (سینہ بہ سینہ کہانی)۔

شیخ چلی کا نام سب نے سنا ہو گا۔ ایک دن اس کے ہمسائیوں نے ایک پیالے میں سالن ڈال کر ان کے گھر بھیجا۔ یہ سالن شیخ چلی نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے ماں سے پوچھا ”یہ کیا ہے“

ماں نے جواب دیا ”اسے بڑیاں کہتے ہیں“
شیخ چلی نے گول گول تیرتے ٹکڑوں میں سے ایک کو اٹھایا اور پھر پوچھا ”یہ کیا ہے“
ماں نے مختصر جواب دیا ”بڑی“
شیخ چلی نے خوب پیٹ بھر کھایا۔ اسے یہ کھانا بہت پسند آیا۔ ”یہ تو بہت مزیدار ہے“

اگلے ہفتے شیخ چلی ماں سے ضد کرنے لگا ”ماں میں تو وہی کھانا کھاؤں گا جو ساتھ والوں کے گھر سے آیا تھا“

Read more

پاکستان میں بہتے دریائے نیل اور عمر بن خطاب کی منتظر عوام۔

ہم اکثر فلموں میں دیکھتے ہیں اور تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ پہلے وقتوں میں لوگ کس طرح اپنے عقائد کے مطابق اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیوتاؤں کو کنواری لڑکیوں کی یا چھوٹے بچوں کی بلی چڑھاتے اور گمان کرتے کہ ان کے اس عمل سے دیوتا خوش ہو کر ان کی منت و مراد پوری کر دیں گے۔ ان دیوتاؤں میں شامل یا تو کوئی ان دیکھی قوتیں ہوتی یا فرعونوں کی شکل میں وقت کے حکمران

Read more

بندر والا لطیفہ

ہمارے ایک فزیالوجی (Physiology) کے استاد تھے اور کافی حد تک ہم لڑکوں سے نالاں رہتے تھے۔ خیر ہم لوگوں نے بھی کبھی اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا۔ ان کی نظر میں ہم لوگ انتہائی درجے کے نکمے، نالائق اور خبطی تھے اس لیے وقتاً فوقتاً وہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتے رہتے تھے۔ یہ الگ بات کہ وہ احساس دلانے میں ہمیشہ ناکام رہے۔ آج ایک بندر والا لطیفہ شدت سے یاد آ رہا ہے جو انہوں

Read more

کرائے کی ماؤں کے پاس پھنسے ہزاروں چینی بچے

دولتمند چینی والدین نے بیرونی ممالک میں اپنے بچوں کی پیدائش کے لیے سروگیسی ایجنسیوں کا سہارا تو لیا مگر کورونا کی وبا کے سبب وہ اب اپنے بچوں سے ملنے اور انہیں گھر لانے سے محروم ہیں۔

سرحدوں کی بندش، سفری پابندیاں اور وائرس کے پھیلاؤ کا خوف حیاتیاتی والدین اور ان کے بچوں کے درمیان فاصلے کم ہونے نہیں دے رہا۔

Read more

بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کی وجہ تو تلاش کرنی ہو گی

ہر آنے والا دن اپنے پہلو میں بربریت کی ایسی داستانیں لا رہا ہے جو دل دہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ ابھی ایک کی بازگشت ختم نہیں ہوتی کہ دوسرے اور تیسرے کی شروع ہو جاتی ہے۔ ہائی وے کے واقعہ پر ابھی دہائیاں ختم نہیں ہوئیں کہ فورٹ عباس کا واقعہ جس میں گھر میں گھس کر پندرہ سالہ بچی کو والد کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کسی اور شہر میں شوہر کی موجودگی میں بیوی

Read more

پختون، پشتون، پشتین اور گٹکا

امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر کی تحریک کے آغاز کے بعد سے ہی سماجی روابط کے ذرائع اور ٹی وی پر فنکاروں، سماجی کارکنان، محققین، دانشور اور مشہور و معروف کاروباری کمپنیوں نے ایسا مواد تخلیق کرنے کا عمل شروع کیا جس سے امریکہ میں پائے جانے والے منظم تشدد اور تعصب کی سرکوبی میں عوام کو آگہی دی جاسکے۔ منظم تشدد اور تعصب بالخصوص سیاہ فام نسل کے خلاف تو پایا جاتا ہی ہے مگر چین سے اٹھنے والے کرونا وائرس نے مشرقی بعید کے ایشیائی امریکیوں کے لئے بھی نسلی تعصب کی فضا قائم کر دی۔

باقی لاطینی امریکیوں، مقامی امریکیوں، ایل جی بی ٹی اور مسلمانوں کے خلاف حد بندیاں تو اپنی مثال آپ ہی تھیں۔ مگر بلیک لائیوز میٹر تحریک نے ذرائع ابلاغ میں سب نسلوں، عقائد اور رنگوں کو یک جگہ کچھ ایسے اکٹھا کیا ہے کہ تعصب اور تفریق پر دلیرانہ سوالات ہو رہے ہیں جن میں امریکہ کے سفید فام لبرل، خواتین اور نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ اب ایک اشتہار پر نظر ڈالتے ہیں کہ معاشرے اور ریاست میں پائے جانے والے رویہ ختم کرنے کے لئے وہ کیسا مواد مرتب کر رہے ہیں اور تخلیقی مواد تخلیق کرنے والوں کی سوچ اور دانش کا زاویہ کیا ہے۔

Read more

خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات یا انسانیت کا سفر معکوس

میں یہاں برطانیہ میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزار چکی ہوں مگر اتنا عرصہ یہاں گزارنے کے باوجود ہمارا دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی خبر آ جائے تو دل خوش ہوجاتا ہے۔ بری خبر پر دل اداس۔ قومی نغمے سن کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں تو جنگی نغموں پر جوش۔ ہر وقت پاکستان کی بھلائی اور خوشحالی کے لئے دعاگو رہتے ہیں۔ برطانوی معاشرے کی جہاں اپنی خوبیاں

Read more

سرگودھا میں غیرت کی عمر: نو برس

نو برس قبل اپنے بھائی کے گھر آنے والے ننھے فرشتے کو گود میں لے کر پیار کرتے ہوئے کیا اس عورت کو علم ہو گا کہ وہ اپنے قاتل کو بوسہ دے رہی ہے ؟ کیا وہ جانتی ہو گی کہ میری مرضی کا خراج اسے دس برس بعد اپنے لہو کی صورت میں بھرنا ہو گا؟ نو برس کا ننھا قاتل اور تیس برس کی مقتولہ! کیا نو برس کے بچے کو علم تھا کہ مرد کی عزت

Read more

بھائی یہ سب کیسے کر لیتے ہو؟

مجھے ان پاکستانیوں پہ فخر محسوس ہوتا ہے۔ جن کی عقابی نگاہوں کی رسائی وہاں تک ہے۔ جہاں میرے جیسے کوتاہ بینوں کا پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن یے۔ وہ پس دیوار دیکھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔ اور یوں وہ ہر معاملے کے پیچھے چھپی سازش کو بھانپ جاتے ہیں۔ مثلاً جب ملالہ کو گولی لگی۔ تو ہم جیسے کم علم یہی سمجھتے رہے کہ اسے طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے آواز اٹھانے پہ قتل کرنے

Read more

کہانی گل پری کی۔۔۔ زہرہ نگاہ کی زبانی

سننے میں یہ نام آپ کو بہت اچھا لگے گا۔ پریوں کی کہانیاں تو بچپن سے ہمارے حافظے کا حصہ ہیں۔ کہانیاں انسانی تہذیب کے تانے بانے میں ایسی پروئی ہوئی ہیں کہ ہم انہیں الگ کر ہی نہیں سکتے۔ آج ہم اپنے عہد کی اہم ترین شاعرہ زہرہ نگاہ (زہرہ آپا) کی چوپال میں چلتے ہیں اور ان سے سنتے ہیں ”کہانی گل پری کی“ ۔ زہرہ آپا کے پاس بہت سی کہانیاں ہیں۔ میٹھے لہجے میں دھیمے دھیمے

Read more

امریکہ میں نسلی امتیاز: ’مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں اپنے ہی سفید فام بیٹا اغوا کر رہا ہوں‘

افریقہ نژاد امریکی شہری پیٹر نے اپنی زندگی میں کئی بچوں کو گود لیا ہے۔ لیکن جب بات سفید فام بچوں کی آتی ہے تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کچھ لوگ تو فوراً پولیس کو فون کر دیتے ہیں۔

Read more

آج کی ماں کہاں کھڑی ہے؟

ذیل کی سطور میں پیش کی جانے والی سوچ یا رائے محض میرا ذاتی تجربہ یا میرے ذہن کی اختراع نہیں ہے بلکہ کچھ گھرانوں کے مشترکہ حالات کو سامنے رکھ کر مزید گھرانوں کے حالات کا جائزہ لیا گیا جس میں مشترکہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ موجودہ دور میں بچے ماں کی نسبت باپ کے ساتھ زیادہ مانوس ہوتے ہیں، بچے ماؤں سے ڈرتے ہیں جبکہ باپ کے ساتھ دوستانہ انداز میں وقت گزارکر خوشی محسوس

Read more

مریم نواز – مزاحمت کی علامت لیکن۔ ۔ ۔

یہ بات ہر عام و خاص پر روز روشن کی واضح ہے کہ مریم نواز اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سیاست میں مداخلت بارے اپنے والد نواز شریف سے بھی زیادہ سخت موقف رکھتی ہیں اور اس موقف کی وہ بھاری قیمت ادا کر چکی ہیں اور مزید بھی ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ قائد (ن) لیگ نواز شریف جو برادر خورد کی طرف سے کچھ یقین دہانیوں پر خاموش تھے بالآخر پھٹ پڑے ہیں، انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں جو لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا ہے اس کے بعد ڈیل، ڈھیل اور مفاہمت کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔

نواز شریف نے مستقبل میں بھی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کی گنجائش نہیں چھوڑی مزید برآں یہ کہ انہوں نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے مریم نواز کو پیپلز پارٹی کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں بیٹھنے کی ہدایت کی جو نون لیگ کے اندر بعض رہنماؤں کو پسند نہیں آیا بہرحال مجبوری یہ تھی کہ نواز شریف کا حکم تھا، نواز شریف کے خطاب اور مریم نواز کی اے پی سی میں شرکت سے پارٹی کے اندر مفاہمتی گروپ کو شدید زک پہنچی ہے جس کا اظہار آف دی ریکارڈ کیا جار ہا ہے تاہم کچھ دنوں تک آن دی ریکارڈ بھی سامنے آ جائے گا۔

Read more

خواتین کی صحت: پاکستان میں حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کا نظام کتنا موثر ہے؟

ملک میں میں کاغذوں کی حد تک تو صحت کا مضبوط بنیادی ڈھانچہ نظر آتا ہے لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان بھر میں میں 1500 مریضوں کے لیے ایک ڈاکٹر ہے، جبکہ حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کے لیے مک بھر میں صرف 756 بنیادی صحت کے مراکز ہیں۔

Read more

نو سالہ بچے پر پھوپھی کے قتل کا الزام: کیا خاتون کے سر میں لگنے والی گولی بچے نے ہی چلائی؟

پولیس کے مطابق بچے کی ایک عزیزہ نے بھی بیان دیا ہے کہ انھوں نے بچے کو گولی چلاتے ہوئے دیکھا مگر کیا خاتون کی اس گواہی کو بغیر شک و شبہ مانا جا سکتا ہے؟

Read more

کشن چند بیوس: سندھی جدید شاعری کے نقیب کارواں

ہر زبان کے شعری ادب کی طرح سندھی زبان کا ادب بھی لوک، کلاسیکی، روایتی اور جدید ادب کی تقسیم سے مختلف دلپذیر رنگوں بٹا ہے، جن تمام اصناف اور ادوار میں سندھی ادب کا دامن، زرخیز تخلیقات سے بھرنے والے قلمکاروں کی فہرست بہت طویل ہے۔ سندھی ادب میں جدید ادب، بالخصوص شاعری کا آغاز، تقسیم ہند سے بھی بہت پہلے ہو چکا تھا۔ اگر یوں کہا جائے تو ہرگز مبالغہ نہ ہوگا، کہ بیسویں صدی اپنے آغاز کے

Read more

چناب سے موٹروے تک

آج کے ترقی یافتہ دور میں جب سوہنی مہینوال کے قصے کو پڑھا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شاہجہانی عہد، کل کی طرح آج بھی عورت اور مرد کے تعلق کے درمیان اپنی تمام تر فرسودگی کے ساتھ اپنے مقام پر ساکت کھڑا ہے۔ بلکہ پہلے کی نسبت سماجی تنزل نے اسے اب جرم کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ سوہنی کی داستان کئی سوالات اور قیاسات ذہن میں ابھارتی ہے۔ مثلاً کیا واقعی اس وقت کی عورت بہادر

Read more

میٹرک کے امتحان میں اپنے ماں باپ سے زیادہ نمبر لینے والے بچوں کے نام

میٹرک میں گیارہ سو میں سے بارہ سو نہیں آسکتے ورنہ ہمارے ہونہار بچے اتنے نمبر بھی لے گزرتے۔ ہم تو ازل سے ہی نالائق ہیں اور رزلٹ سے کچھ دن پہلے مزید نالائق دوستوں سے رابطے تیز تر کر دیا کرتے تھے تاکہ ان کو دیکھ کر ہمارے ماں باپ عبرت و شکر دونوں کیفیات کا بیک وقت شکار رہیں اور ہم پر زیادہ توجہ دینے سے گریز کریں۔

ہم ماں باپ کو سمجھاتے کہ کیسے کیسے نابغہ روزگار طالب علم اس سال کم نمبر حاصل کر کے مطمئن ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پرچہ کیمیا ہو یا فزکس۔ اساتذہ و ممتحن کے سوالات کا مقصد ہمارا علم جانچنا نہیں بلکہ کم نمبر لگانا ہے۔ ہمیں فیل کر کے اپنی جھوٹی انا کو تسکین پہنچانا ہے۔

جب ماں باپ کسی طرح باتوں کے دام میں نہ آتے تو باقاعدہ ان بچوں کی تصاویر بمع تعلیمی ریکارڈ دکھا کر کہتے
دیکھو انہیں جو دیدہ عبرت نگاہ ہو

Read more

سماج میں ریپ کلچر کس طرح نمو پاتا ہے؟

یہ ایک اتفاق ہی جانئیے کہ ہائی وے پہ ہونے والے ریپ کے واقعہ سے محض ایک دن قبل میں امریکی چینل کے مشہورپروگرام ”ڈیٹ لائن“ کو دیکھ رہی تھی۔ اس پروگرم میں قتل کی وارداتوں کو حل کرکے مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کی سچی کہانیاں پیش کی جاتی ہیں۔ اس دن کی کہانی ایک ایسی نوجوان لڑکی کی تھی کہ جس کو رات میں ہائی وے پہ ڈیوٹی پہ تعینات پولیس نے روکا اور پھر ریپ

Read more

راضی نامہ یا صلح نامہ

ہماری حکومت زیادتی کے مجرموں کی آختہ کاری کا قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔ بہت اچھی بات ہے خدا کرے یہ قانون بن جائے اور خدا کرے اس قانون کے تحت خواتین کی فلمیں اور قابل اعتراض تصویریں بنا کر انہیں بلیک میل کرنے والے بھی اسی لسٹ میں شامل ہوں۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے جرائم لوگوں کے سامنے نہیں آتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انصاف مانگنا ایک بہت اذیت

Read more

میڈیکل کی مخلوط تعلیم اور لڑکا اک شرمیلا سا

آگ اور پٹرول کی جو آزمائش میڈیکل کالج میں مولانا طارق جمیل کو جھیلنا پڑی، ان دنوں کی بابت ہی تو انہوں نے فرمایا ہے کہ شکر کا مقام یہ رہا کہ انہوں نے جلد بھانپ لیا کہ وہاں گزارے ہوئے دنوں کا حاصل اعلیٰ تعلیم اور مسیحائی کی بجائے بے راہ روی اور ریپ ہے تو وہ چپکے سے وہاں سے نکل لئے۔

یقین جانیے جب سے یہ بیان سنا ہے ہمارا دل تو پارے کی طرح لرز رہا ہے کہ نہ جانے کون سا منہ لے کے روز حشر کو جائیں گے۔ ہم تو بڑی پامردگی سے انہی راہوں کے نہ صرف راہی رہے بلکہ بے شمار کو ہلا شیری دے کر اس رستے کی دعوت بھی دی۔ ویسے آپس کی بات ہے اگر طارق جمیل ان دنوں میں ہمارے شناسا ٹھہرتے تو شاید ہماری زندگی میڈیکل کالج سے فرار ہو کے تو سنورتی ہی، ہماری آخرت کو بھی آج لالے نہ پڑے ہوتے!

تو چلیے دیکھتے ہیں ماضی کا ایک دن میڈیکل کالج میں طارق جمیل کے ہمراہ!

Read more

ایلان مسک جیسا اور کون؟

امریکہ میں پشتینی رئیس بہت تھوڑے ہیں۔ کل تئیس، اس میں بھی وینڈربلٹ گھرانہ سب سے پرانا ہے۔ نیویارک کا گرینڈ سینٹرل اسٹیشن جو آپ نے کئی فلموں میں دیکھا ہوگا ان ہی کا تعمیر کردہ ہے۔ امریکہ میں سب سے پہلے ڈینم جینز بھی انہیں لوگوں نے بنائی تھی گو ان کا اصل کاروبار ریلوے لائن اور ریل سروس کا تھا۔ دنیا کے ایک اور عظیم الشان اسٹورز کی چین کے مالکان والٹن فیملی ہے۔ آپ نے وال مارٹ

Read more

ٹوٹا ہوا تسلسل،وہ بھی مسلسل

میں حوا کا پرتو ہوں۔ ہم دونوں آ منے سامنے کھڑی تھیں۔ میں نے اس کو دیکھا اس کے مدھر وجود سے محبت ناز، تخیل، فرصت، رنگ، موسیقی سب پھوٹے پڑتے تھے۔ وہ جنت کے حسین پھولوں سے لدے، دودھ اور شہد کی آبشاروں، جھرنوں اور ندیوں والے باغ کی مکیں تھی۔ اپنی حیران ہوتی صندلی آنکھوں سے وہ اس حسن کو دن رات گھونٹ گھونٹ پیتی تھی۔ وہ حوا تھی، خالق کے حسن و جمال کی انتہا۔ جب آدم

Read more

موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم ہر موڑ پر پولیس سے آگے کیسے

سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس کی تفتیش کے دوران پولیس مرکزی ملزم کی تلاش میں متعدد چھاپے مار چکی ہے لیکن ہر بار وہ بچ نکلتا ہے۔ آخر یہ ملزم پولیس سے دس قدم آگے کیوں ہے؟ کیا محکمے کے اندر سے کچھ لوگ اس کی مدد کر رہے ہیں یا اسے نہ پکڑ پانا پولیس کی نااہلی ظاہر کرتا ہے؟

Read more

کرونا کے بعد درپیش تعلیمی چیلنج

سال کے آغاز ہی پہ کرونا جیسی وبا نسلِ انسانی پہ آفتِ ناگہانی کی صورت ٹوٹ پڑی۔ کچھ وقت کے لئے کاروبار زندگی مکمل طور پر جیسے تھم سا گیا ہو، الحمدللہ صورتحال اب کچھ معمول پر آتی جا رہی ہے، مگر اس دوران میں اصل نقصان ہمارے بچوں کا ہوا ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں کووِڈ 19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اقدامات کے نتیجے میں ایک ارب 60 کروڑ طلبا پر

Read more

مریم نواز، بلاول بھٹو اور ایک غریب کی سوچ

کہتے ہیں کہ بندے کے اپنے حالات بہتر ہوں تو وہ معاشرتی مسائل سے بیگانہ ہونے لگتا ہے۔ میرے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہوا ہے۔ جب سے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں تو دوسروں کا درد، دکھ اور ان کی تکالیف کا احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ یا ہو سکتا ہے کہ میری نفسیات کے پیچھے یہ بھی ہو کہ انہی غموں، فکروں اور مسائل سے بھاگ کر تو جرمنی آئے تھے۔ شاید لاشعوری طور پر میرے ذہن میں

Read more

حاجی صاحب

جالندھر میں پیدا ہوئے۔ 47 میں ہجرت کے وقت چار پانچ سال کے تھے۔ ہنستے بستے گھر چھوڑ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ دادا جنت مکانی لائلپور میں آ ٹھہرے۔ بہت عرصہ تک یہی کہتے اور سمجھتے رہے کہ یہ عارضی مشکل ہے۔ ہم واپس اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے۔ ایسا کچھ نہ ہوا۔

پودا اکھڑ جائے تو نئی جگہ جڑ پکڑتے دیر لگ جاتی ہے۔ سکول جانا شروع کیا تو شاید پانچویں جماعت تک ہی پڑھ سکے۔ گھر میں عسرت تھی۔ بتاتے تھے کہ شاید کتابوں کے پیسے نہیں تھے تو سکول چھوڑ دیا۔ جھنگ بازار میں سبزی کا ٹھیلا لگا لیا۔ جو کچھ یافت ہوتی، ماں کے ہاتھ پہ رکھ دیتے۔ بتایا کرتے تھے کہ امی کے ساتھ گھر کے کام بھی کرتے تھے۔ سب سے بڑے بھائی 47 میں بچھڑ گئے تھے۔ تقریباً دس سال بعد ملے۔ دادی کو ان سے اور ابو سے زیادہ لگاؤ تھا۔ آخری عمر تک رہا۔

Read more

انڈیا میں یہودیوں کی تاریخ: جب ایک یہودی شخص انڈیا کی مسلم ریاست کا وزیر اعظم بنا

انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے علی باغ شہر میں اگر آپ آج سیاحوں سے بھری جگہ سے آگے نکل کر لوگوں سے پوچھیں گے کہ سیناگاگ (یہودی عبادت خانہ) کہاں ہے تو شاید آپ کو اس سوال کا جواب نہیں ملے گا۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ”چیرا“ اور دوسرے ماورائے عدالت اقدامات

30 دسمبر 1996 کتنے دن بعد ذیشان کی صورت دیکھی، لگتا ہے مہینے نہیں سال گزرے ہیں۔ کتنا بدل گئے ہیں، کچھ بدلے ہیں کچھ خود کو بدل لیا ہے۔ ایک تو دبلے بہت ہوگئے ہیں، پھر داڑھی، بالوں کا نیا انداز اور سیاہ چشمہ، وہ ”یہ میں ہوں نوشی“ نہ کہتے تو جانے کتنی دیر تک میں دروازے پر کھڑے اس ”اجنبی“ کو پہچاننے کی کوشش کرتی رہتی۔ ان چند گھنٹوں کی ملاقات میں وہ میرے اور سارنگ کے

Read more

خواتین کی صحت: ناتجربہ کار ڈاکٹر خواتین میں فسٹیولا کا مرض پھیلانے کی وجہ کیسے؟

دورانِ زچگی بچے کی پیدائش میں تاخیر کے دوران پیشاب اور پاخانے کی نالیوں پر دباؤ آتا ہے جس سے دونوں یا ایک میں سوراخ ہوجاتا ہے جس کو فسٹیولا کہا جاتا ہے اور نو عمری کی شادیوں اور زچگی کے دوران غیر تربیت یافتہ عملے کو فسٹیولا کی ایک بڑی وجہ سمجھا جاتا ہے۔

Read more

تمہاری بیٹی کے ساتھ زیادتی کا ذمہ دار معاشرہ نہیں، تم خود ہو

موٹر وے زیادتی کے اندوہناک واقعے کو 7 روز گزر چکے ہیں، ہر طرف بھانت بھانت کے بحث و مباحثے جاری ہیں، کوئی سی سی پی او عمر شیخ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، کوئی ریاست مدینہ بنانے کے دعوے داروں سے جواب طلب کر رہا ہے، کوئی مجرمان کے اصل یا نقل ہونے پر بحث کر رہا ہے۔ لیکن ایک طبقہ جو اس ساری تنقید سے محفوظ ہے، الٹا اس کا شمار مظلوم اور کمزور افراد میں

Read more

ناول، ادھ ادھورے لوگ

انسان تو کیا پرندے درخت اور پودے بھی اگر اپنی جڑیں کسی انجانی زمین میں پائیں تو آپ ان کے مزاج، گیت سنگیت اور پھلوں کو بد مزا ہی پائیں گے۔

فارس کے لوگ کہتے ہیں کہ ”وطن شیراز است“ انسان کے دل سے اس کے وطن کی محبت نکالنا ناممکن ہے، کون نہیں جانتا کہ ظہیر الدین بابر کے ساتھ سمر قند و بخارا سے آئے لوگوں نے اپنے وطن کی خاطر فتح کی سرزمین ہندوستان کے تخت و تاج کو ٹھوکر ماری اور واپس اپنے پہاڑوں پر جا آباد ہوئے تھے۔ تاریخ آج ان کا نام و نشان نہیں جانتی مگر مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے وطن کی خاک میں خاک ہو کر سو سال حکومت کرنے والے بابر کے بیٹے بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں تڑپتی روح پر مسکراتے ہوں گے۔

Read more

برطانیہ میں جنسی حملوں کا شکار ایک پاکستانی لڑکی رپورٹ کیوں نہ کر سکی؟

برطانیہ میں ایشیائی باشندوں کے ہاتھوں مقامی بچوں کے ساتھ جنسی جرائم سے پردہ اٹھانے والی روتھر ہیم رپورٹ اور اقلیتی کیمونٹی میں جنسی جرائم کی کثرت اور پردہ پوشی کا معاملہ معاشرے کے تلخ رخ کی نشان دہی کرتا ہے۔ ایک پاکستانی نوجوان خاتون (ر) نے اپنی ذاتی زندگی سے پردہ اٹھاتے ہوئے برطانیہ میں مقیم بیشتر پاکستانی نژاد خاندانوں میں جنسی جرائم کے متعلق منفی سماجی رویے کی نشاندہی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے دس سال کی عمر سے ایک ہمسائے نے جنسی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا جب اس نے دیکھا کہ اس کی برادری میں اس ظلم کا تذکرہ کرنے پر اسے ہی مورد الزام ٹھہرایا جائے گا تو اس کے پاس خاموش رہنے کا کوئی چارہ نہ تھا۔

Read more

گلزار کی خوشبو

یوں تو گلزار کی تمام فلمیں اعلی پائے کی ہوتی ہیں مگر آپ اپنے کسی دوست یا عزیز سے جو میری طرح سے فلموں اور فلم سے وابستہ افراد کا رسیا ہو پوچھ دیکھیں کہ وہ گلزار کی کس فلم کو اپنی پسندیدہ قرار دیں گے تو میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی اکثریت اجازت، آندھی، موسم اور ماچس کا نام لے گی۔ یہ ترتیب اوپر نیچے بھی ہو سکتی ہے، مگر پسندیدہ فلمیں انہی ناموں سے ہی ہوں گی۔ مجھے بھی یہ تمام فلمیں بہت پسند ہیں مگر ایک دوست کو بتاتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ گلزار کی تمام فلموں میں سے میری پسندیدہ فلم کون سی ہے تو میں کہیں سے دبی ہوئی اس فلم کو نکال باہر لاؤں گا جس کا نام خوشبو ہے۔

Read more

شرعی سزا ہی علاج ہے

لاہور سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 پر گزشتہ ہفتے ایک خاتون پر اس کے بچوں کے سامنے جو قیامت گزری اس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کا کرب و الم ہر با ضمیر نے محسوس کیا اور ہر کوئی اب تک غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ وطن عزیز میں درندگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں لیکن حالیہ واقعے میں ملزمان نے ایک ماں کے ساتھ اس کے کمسن بچوں کے سامنے جس ظلم کا مظاہرہ کیا اس کی مذمت الفاظ میں ممکن نہیں ہو سکتی۔

قارئین اس قسم کے واقعات کے نہ رکنے کی ایک وجہ معاشرے کی فکری تقسیم بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تقسیم کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کسی بھی سانحے اور بڑی سے بڑی قیامت کی گھڑی میں بھی ہم باہم اتفاق کا مظاہرہ کرنے اور ایک بیانیے پر اکٹھا ہونے میں ناکام رہتے ہیں اسی لیے آج تک ہم کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہر مرتبہ اس قسم کے واقعات کے بعد بجائے اس کی وجوہات کے خاتمے یا مجرمان کو ڈھونڈ کر انہیں سخت سزا سنانے کے، پہلے سے طے شدہ باتوں کو چھیڑ لیا جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی سیاسی پہلو نکال کر مخالفین پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً دوسرا فریق بھی اپنے مسلک کا دفاع شروع کر دیتا ہے اور اصل مسئلہ پس پشت پڑا رہ جاتا ہے۔ صرف سیاسی ہی نہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے مذہب اور معاشرت سے متعلق مسائل میں لبرلز اور مذہب پسندوں میں خیالات کی تقسیم اختلاف رائے سے بڑھ کر نفرت اور کدورت تک پہنچ چکی ہے۔

Read more

ہندوستان کی رانی جس نے چیچک کے پہلے حفاظتی ٹیکے کے لیے ماڈلنگ کی

ینٹنگ کی تاریخ واڈیار بادشاہ کی شادی کی تاریخوں اور جولائی 1806 کے عدالتی ریکارڈ سے ملتی ہے جس میں اعلان کیا گیا تھا کہ دیوجممانی کو ٹیکے لگانے کا ’خوشگوار اثر‘ بہت سے لوگوں پر ہوا اور وہ ٹیکہ لگوانے کے لیے آگے آئے۔

Read more

مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“

”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“

”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“

یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔

Read more

آخر یہ ’ریپ کلچر‘ ہے کیا؟

ریپ کے شکار لوگ معاشرے کے نام نہاد اصولوں کے تحت خود ہی چور بن کے رہ جاتا ہے۔ یہی ’ریپ کلچر‘ ہے کیونکہ پورا معاشرہ مل کر اس جرم کی راہ ہموار کرتا ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے۔

Read more

اگلے جنم میں ونود کو کتا ہی کیجیو

کورونا کی وبا سے پہلے کے یہی دن تھے۔ (منٹو کا افسانہ "بو "یاد آگیا نا مگر ادھر میں ایسا کچھ نہیں)۔ شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہوچکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید

Read more

تربت سے لاھور موٹروے تک

ایک نہ تھمنے والی چیخ ہے، ایک لامتناہی ماتم ہے، ایک المیہ کی مذمت میں زہر افشانی ہے۔ اخبارات میں خبروں میں لہو کی بو ہے، کالموں سے عورت پہ ہونے والے تمام ظلم و عدو کی ایک بار پھر نقشہ گیری جاری ہے۔ ٹی وی کی سرخیاں خوں چکاں ہیں۔ ماہرین، اداکار، تجزیہ نگار اپنی اپنی تجزیات کی روشنی میں معاشرے کی پیوند کاری میں مصروف ہیں۔ قانون دان قانون میں موجود سقم پہ نوحہ خواں ہے۔ آئین کے

Read more

بد چلن عورتیں

ہم اور ہمارا معاشرہ۔ عورت فساد کی جڑ ہے سارے گناہ عورت کی ذات سے منسوب ہیں یار یہ عورتیں کیسے کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ بس میں سوار ہوں تو مردوں کو کہتی ہیں ہمیں ہراساں کرو، سڑک کنارے چل رہی ہوں تو مردوں کو اپنی جانب راغب کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ مرد کے ساتھ معاشقہ کر کے مرد کو بھگا کر لے جاتی ہیں۔ مرد پر ظلم کرتی ہیں۔ ۔ ۔ رنگ برنگے کپڑے اس لیے پہنتی

Read more

بڑے بڑے سابقے لاحقے میں چھپے ہوئے چھوٹے لوگ

1۔ کیا صاحبان علم کبھی جاہل ہوسکتے ہیں؟ 2۔ کیا بڑے مرتبوں میں چھپے لوگ بھی چھوٹے ہوسکتے ہیں؟ 3۔ کیا کوئی بڑافنکار بھی چھوٹا ہو سکتا ہے؟ 4۔ کیا کوئی بڑا شاعر بھی چھوٹا آدمی ہو سکتا ہے؟ میں ان سوالات کی کھوج میں اکثر رہتا تھا کیونکہ یہ بات انسانی فطرت میں شامل ہے کہ ہم بڑے لوگوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا بت فوراً ہی تراش لیتے ہیں۔

Read more

ہما کوکب بخاری: تیس برس پر پھیلی جڑواں کہانی

صاحب، کیا ایسا کوئی ہے ہم میں سے جس نے جڑواں بچوں کے بچھڑ جانے والے واقعات پہ مبنی فلمیں نہیں دیکھیں ہوں گی؟ اور ہوتا کیا تھا اگر بچے ہم شکل ہوئے تو وقت ولادت ہی جدائی کا انتظام کچھ ایسے ہوتا کہ یا تو دایہ کی نیت خراب ہو جاتی یا پھر خاندانی دشمنی کام کر دکھاتی۔سو ناظرین دل پہ ہاتھ رکھ کے یہ تماشا دیکھتے رہتے کہ ایک بچہ مغرب پہنچ گیا تو دوسرا مشرق میں، ایک

Read more

جب شام کو ویرانے میں امریکی شاہراہ پر میری گاڑی خراب ہوئی

راولپنڈی موٹر وے پر پیش آنے والے سانحے کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اس وقت میں نے قلم اس لئے نہیں اٹھایا ہے کہ اس واقعے کے کسی اخلاقی پہلو پر گفتگو کروں۔ اس مظلوم عورت کا دفاع کروں جس کی گاڑی بیچ راستے میں بند ہو گئی تھی یا کسی سفاکانہ بیان بازی پر احتجاج کروں کہ ”اے عورت تورات کو تنہا کیوں نکلی؟“ میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا یہ سانحہ ایک ایسی سرزمین پر پیش آیا جہاں چپے چپے میں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہے۔ جہاں جمعے کے جمعے ہر مسجد میں ایمان تازہ کرنے والے خطبے دیے جاتے ہیں اور جو مملکت خداداد کہلاتی ہے۔

میرے ذہن میں یہ سوال اس لئے بھی اٹھ رہے ہیں کہ میں پچھلی تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہوں۔ اس غیر اسلامی ریاست میں تیس برس سے میں گاڑی دوڑاتی، دندناتی پھر رہی ہوں یہاں کبھی کسی نے مجھے یہ احساس نہیں دلایا کہ اے عورت تو آدھی رات کو تنہا کیوں نکل پڑی۔ مجھے کبھی کسی نے یہاں گھور کر نہیں دیکھا۔ میں نے یہاں ملازمت بھی کی اور اکیلے لانگ ڈرائیو بھی کی۔ اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ہوا یہ کہ میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ ہیوسٹن سے آسٹن جا رہی تھی۔

Read more

آگ اور پٹرول کی آزادی

موٹروے ریپ کیس نے ہمارے سامنے حکومتی رٹ کی ناکامی کھول کے رکھ دی۔ انصاف اور قانون کا بول بالا تو دور رہا۔ سب بولے (بہرے ) بن کے پھرتے رہے۔ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ اندھے تو پہلے ہی تھے۔ گونگے بننا تھا وہ بھی بن چکے۔ جلتی پہ تیل کا کام سی سی پی او کے بیان نے ڈال دیا۔ کہ جی رات کو کیوں نکلی۔ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ محرم کیوں ساتھ نہ تھا۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی عورت ریپ ہو گئی۔ شبنم کیس اتنا پرانا بھی نہیں۔ اس کے محرموں کے سامنے گھر میں گھس کے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ وہ تو کہیں باہر نہ نکلی تھی۔ شکر ہے تب موٹروے نہ تھی۔ ورنہ یہ کریڈٹ بھی چھوٹے میاں بڑے میاں کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ویسے چھوٹے میاں صاحب کھاتہ کھولتے وقت کم سے کم کھاتے کی تفصیل پڑھ لیتے ہیں۔ خیر پڑھے کون۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہے ہیں۔ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب سامنے زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا و میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں موبائل فون کیمرے و وڈیو کیمرے کی سہولت کے ساتھ موجود ہیں۔ سیکنڈوں میں خبر تیار ہو کے وائرل ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ پہلے وقتوں میں آج کا اخبار پڑھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ سنا۔ جس میں سب اچھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد سو گئے۔ اگلی صبح ہی پتہ چلے گا۔ کہ گزشتہ روز ملک میں کیا ہوا تھا۔

Read more

حادثہ ہو، بیان ہو یا پھر ٹی وی شو، معافی ہی تو مانگنی ہے مانگ لو

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ لڑائی لڑائی معاف کرو اللہ کا گھر صاف کرو اور اگر کوئی غلطی ہو جائے تو سوری میں پہل کرلو۔ اسکول میں گھروں میں بھی بچوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ آپس میں مل جل کر رہیں اگر ایک دوسرے سے لڑائی ہو جائے تو سوری کر لیں معافی مانگ لیں بات ختم کردیں۔

دیکھا ہوگا چھوٹے بچے آپس میں کھیلتے ہوئے اگر لڑتے ہیں تو تھوڑی دیر میں معافی تلافی کر کے واپس ساتھ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ تو معصوم ہوتے ہیں۔ جب بھی بہن بھائیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو صلح صفائی کے لیے ماں باپ بہن بھائیوں کو ایک دوسرے سے معافی منگواتے ہیں دل چاہے نہ چاہے معافی مانگ لو۔

جبکہ بات اگر میاں بیوی کے رشتے کی ہو تو وہاں بھی معافیاں تلافیاں رشتے کو بچانے میں کام آجاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے وہاں بھی معافیاں مانگنا بیوی کی ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے کبھی تصفیوں کے لیے خاندانی جھگڑوں کے لیے صلح کے لیے معافیوں کے لیے پنچایتیں جرگے بیٹھ جاتے ہیں۔

Read more

اور اگر میں تب ریپ ہوجاتی تو۔ ۔ ۔

موٹر وے گینگ ریپ حادثے کو ہفتہ بھر ہونے کو آیا ہے پر دل سے ویرانی اور طبیعت پر چھایا ڈپریشن ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ تین بچوں کی ماں جو فرانس جیسے آزاد اور ترقی یافتہ ماحول میں سانس لینے والی کم ظرف حکومتی عہدہ داروں کے بھونڈے اعتراضات کی سان پر چڑھی ہے۔

رات کے ایک بجے اکیلی عورت کو گھر سے نکلنے کی ضرورت؟ پیٹرول کیوں نہیں چیک کیا گیا؟ سنسان راستے پر کیوں چڑھی؟

ابھی حادثے کا پہلا دوسرا دن تھا۔ مظلوم خاتون کے بارے میں کچھ تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔ ہاں گوہر تاج نے میری ٹائم لائن پر اپنا نوحہ لکھا تھا۔ ”سنتی ہو ان محافظوں کی باتوں، کو دیکھتی ہوں ان کے کاموں کو ۔“ اور بوجھل روح سے میں نے اسے مخاطب کیا تھا۔ ”گوہر میری جان ہوگی کوئی میرے جیسی جنونی آوارہ، گرد، من موجی سی عورت جو ایڈونچر اور تھرل کے شوق میں کچھ زیادہ سوچتی نہیں اور کتنی سر پھری لڑکیاں ہیں جو گواچی گاں کی طرح منہ اٹھا کر چل پڑتی ہیں۔ ریاست تو ماں کی طرح ہوتی ہے۔ تحفظ دینے والی۔ مگر کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ ساری زندگی میرے تو اپنے لچھن بس ایسے ہی رہے۔

Read more

جمہوریت اور سماجی ذرائع ابلاغ

حریت فکر اور آزادیٔ صحافت کے بغیر جمہوریت ایسے ہی ہے جیسے بنا ریڑھ کی ہڈی کے انسان یعنی وجود ضرور ہے مگر اس میں تقویت نہیں ہے۔ جمہوریت کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ اسے کلی طور پر نافذ کیا جائے۔ حتی کہ ایک بنیادی عنصر کی کمی اس کی اساس کو کمزور کر دیتی ہے۔ موجودہ دور میں جمہوریت ایک ایسے خطرے سے نبردآزما ہے جس کو پروان چڑھانا خود اسی کے بنیادی نکات میں شامل تھا اور رہے گا۔

جمہوریت کا تصور عظیم یونانی مفکر ہیروڈوٹس کے زمانہ سے موجود ہے جس کو بعد ازاں ارسطو نے یہ کہہ کے رد کیا کہ کار حکومت ایک ہجوم کو تفویض کر دیا جاتا ہے تاہم برطانوی پارلیمانی نظام، انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب نے اسے نئی جہت اور قبولیت بخشی۔ طریقۂ انتخاب پر مبنی اس طرز حکومت میں آمریت مطلقہ یا اقتدار ذاتی کی جگہ عوام کے پاس اقتدار رکھا جاتا ہے جو رائج الوقت طریقہ رائے شماری سے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ تمام شہری بلحاظ حقوق خواہ وہ سیاسی ہوں، اقتصادی ہوں یا معاشرتی؛ برابر تصور کیے جاتے ہیں۔ آزادیٔ اظہار کو ہر صورت تحفظ فراہم کرنا جمہوریت کے بنیادی خصائص میں شامل ہے۔ اسی نظریہ نے معلومات کی آزادانہ ترسیل، بلا رکاوٹ ترویج اور وسیع پیمانے پر رسائی کو یقینی بنایا جس سے جمہوریت مضبوط تر ہوتی گئی۔

Read more

بلوچ ٹرک ڈرائیور کی بچیوں کے چار روپے اور انسانیت کا رشتہ

تین سال قبل گرمیوں میں تعلیمی اداروں کو چھٹیاں تھیں اور عید کے قریب میں عملے کو تنخواہیں دینے لاہور سے اوکاڑہ روانہ ہوا اوکاڑہ پہنچ کر بائی پاس سے اتر کر شہر کی طرف ڈرائیور نے کار موڑ دی جب ہم چوک پر پہنچے تو ایک تیز رفتار ٹرک نے بائیں طرف سے کار کو ٹکر ماری جس طرف سے میں بیٹھا تھا ٹکر اتنی شدید تھی کہ میں بیہوش ہو گیا اس چوک پر امرود اور کنو کے تازہ پھلوں کی دیہاڑی دار لوگوں کی چھابڑیاں اور چھوٹے چھوٹے کھوکھے ہیں چوک پر موجود ان لوگوں نے کار سے نکال کر مجھے بنچ پر لٹایا اور میرا موبائل نکال کر گھر والوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

جب کافی دیر بعد مجھے ہوش آیا تو آنکھیں کھلنے کے بعد جو پہلا خیال آیا وہ حضرت علی کا قول تھا کہ ”موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے“۔ میرے ارد گرد لوگ جمع تھے میں دیکھ سکتا تھا سن سکتا تھا تو مجھے خوشی ہوئی کہ زندگی بچ گئی ہے لیکن جب سر میں اور ٹانگوں میں درد کی شدت بڑی تو ان کا دوسرا قول ذہن میں آنے لگا کہ تم اتنے نادان ہو کہ بازار میں تمہارا کفن آ چکا ہے اور تمہیں خبر نہیں ہے۔

Read more

افغانستان میں بچوں کے شناختی کارڈ پر اب ماں کا نام بھی درج ہوگا

افغان معاشرے میں بعض حلقوں کی جانب سے خواتین کے ناموں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، خواہ وہ شادی کے دعوت نامے پر ہو یا ڈاکٹر کے نسخے پر۔ لیکن اب اس فیصلے سراہا جا رہا ہے۔

Read more

ریپ، ریپسٹ اور متاثرہ افراد

ریپ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر عامتہ الناس میں ریپ کے حوالے سے یہ تاثر قائم ہے، کہ صرف زور زبردستی سے کیا جانے والا جنسی فعل ہی ریپ کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ جب کہ ہر وہ جنسی فعل یا حرکت جو کسی ایک فرد کی رضا مندی کے بغیر، بچے بچی یا کسی کی معصومیت اور مجبوری سے فائدہ اٹھا کر سرزد ہو، ریپ کے ہی زمرے میں آتی ہے۔ حتی کے شریک حیات کی مرضی بھی شامل حال نہ ہو، تو ترقی یافتہ معاشرے میں یہ فعل ایک نوع کے ریپ میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ گھناؤنا فعل زیادہ تر متاثرہ خاتون، مرد، لڑکا، لڑکی، بچے اور بچی کے سگے رشتے دار و قریبی عزیز، آجر، گھریلو نوکر چاکر، استاد اور معاشرے کے با اثر افراد کی طرف سے عمل میں آتا ہے۔ اور عموماً ظلم و زیادتی کا شکار معصوم بچے بچیاں اور مجبور، معذور اور بے سہارا خواتین اور لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے، کہ اکثر ایسے معاملات منظر عام پر نہیں آتے۔ اور متاثرہ فرد اپنے والدین یا کسی بڑے سے شکایت بھی کرے، خصوصاً خاتون، لڑکی یا بچی اپنی ماں یا دوست کو اس قبیح فعل سے آگاہ کرے، تو عموماً معاملہ دبا دیا جاتا ہے اور چپ رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ بظاہر اس کی وجہ یہی ہے، کہ متاثرہ فرد اور کنبہ بدنام ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ پیچیدہ قانونی کارروائیوں وجہ سے ملزم کے بچ نکلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

Read more

مردانہ صلاحیت کا خاتمہ اور ناک کاٹ دینا، جنسی جرائم کا واحد علاج

آج کل سوشل اور ویب میڈیا پر موٹروے حادثے اور اس کے بعد کی صورت حال کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اور دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سی سی پی او کے نامناسب بیان کی مذمت سے لے کر جنسی جرائم کے مجرمان کو سرعام سزائے موت کے مطالبات تک بہت سا مواد نگاہ سے گزرا اور گزر رہا ہے۔

فنکار برادری نے بھی حادثے کی شکار ماں سے اظہار یکجہتی کے لئے کراچی میں مظاہرہ کیا۔ اس میں ہماری بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان بھی شامل تھیں۔ فنکار برادری کی جانب سے یہ مظاہرہ باعث مسرت و ستائش ہے کہ انہوں نے اس نہایت اندوہ ناک اور نازک معاملے پر آواز بلند کی اور واضح الفاظ میں مجرمان کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ قبل ازیں، قصور میں جنسی بے حرمتی کے بعد قتل کر دی جانے والی کم سن بچی زینب کے مجرم کو سزائے موت دی گئی تھی۔

Read more

سانحہ موٹروے! چند گزارشات

میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں نصاب میں جھوٹ کیوں پڑھایا جاتا ہے۔ مطالعۂ پاکستان میں یہ کیوں لکھا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے جس کی تعلیمات کے مطابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔ عورت وہ لفظ ہے جو انسان کو عزت و حرمت سے آگاہ کرتا ہے۔ غلط۔ تمام مذاہب بشمول اسلام ہر قسم کے نسوانی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ غلط۔ اسلام نے خواتین کو حکومت، سیاست، قیادت اور مشاورت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

غلط۔ اکثر عورتیں اس تصور کی بنا پر تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں کہ وہ مردوں کی نسبت کم تر ہیں۔ کیوں آخر یہ سب کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ بعض واقعات کسی بھی معاشرے اور قوم کے مردہ ہونے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ کسی ایسے معاشرے میں جو اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہو وہاں پانچ سال کی بچی کو اٹھا کر ریپ کرنے کے بعد اس کی سوختہ لاش کو بوری میں بند کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ صرف پنجاب میں پچھلے دو سالوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے ان گنت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

Read more

جو بائیڈن کون ہیں: وہ سیاستدان جنھیں قسمت عام سا نہیں رہنے دیتی

امریکی سیاست میں آج کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے ’جس کی زندگی جو بائیڈن سے زیادہ المناک رہی ہو۔ ‘بائیڈن کا طویل سیاسی سفر مسلسل المیوں کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہا ہے۔

Read more

ہمارے اصل معمار ہیرو

ایک تو ہیرو قصے کہانیوں میں پائے جاتے ہیں جن کا کہانیوں سے باہر کوئی وجود بھی نہیں ہوتا۔ قصے کہانیوں سے باہر جو وجود رکھتے ہیں۔ ان کے اندر بھی کوئی نا کوئی ہیرو وجود رکھتا ہی ہے۔ خیالی اور حقیقت سے دور۔

لیکن حقیقی دنیا میں بھی ہیرو پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، لگن، محنت، جانفشانی، خیالات اور سوچ سے اپنے علاقے، ملک، قوم اور معاشرے پر اثرات چھوڑے ہوتے ہیں اور کسی نا کسی طرح لوگوں کی زندگی اور رہن سہن اور سوچ پر ان کے نقش نمایاں ہوتے ہیں۔

Read more

بالی وڈ ڈائری: ’جو میرے اور سوشانت کے ساتھ ہوا آپ کے بچوں کے ساتھ ہوتا تو کیا آپ یہی کہتیں‘

اس ہفتے انڈسٹری کی خاتونِ اول کہی جانے والی جیا بچن نے کچھ اس طرح انٹری لی کہ کنگنا کو طیش آ گیا۔ سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمان اور اداکارہ جیا بچن نے پارلیمان میں ان لوگوں کو جم کر لتاڑا جو بالی ووڈ کو ’گٹر‘ اور منشیات کا اڈہ کہہ رہے ہیں۔

Read more

میں ہار نہیں مانوں گی

اسلام آباد میں جنوری کی سرد دوپہر ایک ٹریننگ سیشن کے دوران ندا اور یاسر کے درمیان گرما گرم بحث جاری ہے۔ ورکنگ وومن ایمپاورمنٹ کی حامی ندا اپنے حقوق کی جنگ زوروشور سے لڑ رہی ہے جبکہ دوسری طرف یاسر اسے گھر خاندان اور شوھر کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ گرما گرم بحث کا سلسلہ بڑھتا گیا اور ہر کوئی اپنی استعداد کے مطابق حصہ ڈالتا گیا۔ ایسے میں جب کسی کو

Read more

چند روز اور میری جاں فقط چند ہی روز

ملک کی معاشی بدحالی، بدنظمی، لاقانونیت اور افراتفری کی حالیہ صورتحال کے پس پشت کار فرما عوامل کو سمجھنے کے لیے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے 22 جولائی کے سوچے سمجھے اغوا کے واقعے سے آغاز کرتے ہیں، دارالحکومت اسلام آباد جسے سیف سٹی کا نام دیا گیا ہے مطیع اللہ جان کے اغوا میں ملوث افراد تک پولیس کا پہنچنا ناممکن تھا۔ اغواکاروں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مطیع اللہ

Read more

کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں

اس دنیا میں روزانہ ہر عورت کے ساتھ ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سی لے کے پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، اسکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کو دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ، کسی بھرے، پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

گزشتہ ہفتے 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹروے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا اور سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تاہم ایسے موقع پر سی سی پی لاہور عمر شیخ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔

Read more

کیا ہماری عزت، جان و مال اس ملک میں محفوظ بھی ہیں؟

جب ظلم انتہا کو چھوتا ہے تو اللہ کی طرف سے قہر آتا ہے خدا کا خوف نا جانے کیوں ان کے دلوں میں نہیں رہا کسی کی بے بسی اور مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہمارے معاشرے میں عام ہو گیا ہے مگر بات اس حد تک پہنچے گی کہ ایک ماں اپنی اولاد کے سامنے اس طرح سے زیادتی کا شکار ہوگی یہ تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حیوانیت اس طرح سے سڑکوں پر کھلے عام نظر آئے گی میں تو یہ واقعہ لکھتے ہوئے بھی کانپ رہا ہوں کہ کیسے بیان کروں ان حیوانوں نے جو ایک ماں کے ساتھ کیا۔

ہمارا ملک اسلام کے نام پر اور اسلامی روایات کے نام پر بنا تھا مگر اس ملک میں اس طرح کے درندے اور حیوان پھر رہے ہیں اور ایسی حیوانیت پھیلا رہے ہیں جسے دیکھ کر دل خون کے آنسوں روتا ہے۔ انسانیت بھی شرما جاتی ہے جب ایسے گھناؤنے واقعات ہوتے ہیں۔

Read more

قصور واقعی عورت ہی کا تھا

واقعہ اتنا دردناک ہے کہ کوئی بھی درد دل رکھنے والا انسان نہ اس سے لاتعلق رہ سکتا ہے اور نہ ہی کچھ بولے یا لکھے بنا اسے سکون آ سکتا ہے۔ یہ بڑی بے حسی کی بات ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی واقعہ ہونے کا انتظار کیا گیا۔ جب واقعہ ہو گیا تو انتظامیہ اس بات کا تعین کرنے لگی کہ واردات کس کے علاقے میں ہوئی ہے؟ لاہور پولیس کا کہنا تھا کہ موٹروے کے جس ٹکڑے پر واردات ہوئی ہے وہ ہماری عملداری میں نہیں آتا، موٹروے پولیس نے بھی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی، پھر سوال اٹھا کہ وہ عورت بھی باقی عوام کی طرح بھاری ٹول ٹیکس دے کر آئی تھی تو سیکیورٹی دینا کس کی ذمہ داری ہے؟

Read more

جوائنٹ فیملی: زیادہ تر انڈین مشترکہ خاندان میں رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟

ناول نگار وی ایس نیپاول لکھتے ہیں کہ انڈین خاندان ایک قبیلے کی طرح تھا جو تحفظ اور شناخت فراہم کرتا تھا اور لوگوں کو خالی پن سے بچاتا تھا۔ تازہ تحقیق کے مطابق اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

Read more

خواتین کی صحت: ’غیر تربیت یافتہ دائی سے ڈیلیوری ماں اور بچے کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے‘

پاکستان کی 60 فیصد آبادی گھروں میں بچوں کی پیدائش کو ترجیح دیتی ہے جبکہ عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق دورانِ زچگی صرف 39 فیصد خواتین کے پاس تربیت یافتہ دائی موجود ہوتی ہے۔

Read more

خواتین کی صحت: ’غیر تربیت یافتہ دائی سے ڈیلیوری ماں اور بچے کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے‘

پاکستان کی 60 فیصد آبادی گھروں میں بچوں کی پیدائش کو ترجیح دیتی ہے جبکہ عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق دورانِ زچگی صرف 39 فیصد خواتین کے پاس تربیت یافتہ دائی موجود ہوتی ہے۔

Read more

ریڈیو پر اک قیدی مجھ سے کہتا ہے…

میں نہیں جانتا وہ کون ہیں؟ میں ان کے نام سے بھی واقف نہیں لیکن ان کے ساتھ پیش آئے واقعے نے مجھے بلکہ ہم سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دکھی کر دیا ہے۔ یہ تحریر لکھتے میرا ہاتھ کانپتا ہے، دل بیٹھ جاتا ہے اور دماغ ماؤف ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اتنا گر چکا ہے۔ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر مدد کرنے کی بجائے وحشت اور درندگی رقص کناں ہوگئی۔ ذہنی صحت اور علم نفسیات

Read more

کچھ اور بات کی جائے

آخر بات کرنے کو جی کرتا ہی کیوں ہے؟ شاید اس لیے کہ ضعف نطق کا شکار نہیں ہیں۔ بات جب دل سے دماغ تک جاتی ہے بلکہ سچ تو یہ کہ جب دماغ سے اتر کر دل پر اثر انداز ہونے لگتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ کر دی جائے کیونکہ دل دل ہی تو ہے نہ کہ سنگ و خشت، آلام سے گھبرا نہ جائے کیوں؟ یوں ہم بات کرکے اپنی گھبراہٹ میں دوسروں کو شریک کرنے

Read more

معاشرے میں مرد کا کردار

مرد کوئی الگ مخلوق ہے کیا! عمر بھر ہم باپ بھائی ماموں نانا دادا کتنے رشتوں کے روپ میں مردوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن کبھی ہمیں اپنے غیر محفوظ ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔ جب یہی مرد گھر سے باہر نکلتا ہے تو معاشرے کے لئے ایک مشکوک چیز بن جاتا ہے۔ پھر کہیں معصوم بچی کلیوں کی طرح روند دی جاتی ہے تو کہیں لڑکی کی عزت کی دھجیاں اڑتی ہے اور تو اور لڑکے بھی اس

Read more

ہم‌ مسلمان اتنے سلیکٹیو کیوں ہوتے ہیں؟

جب دشمن یا جس سے اختلاف ہو وہ کسی مصیبت میں ہو یا بیمار ہو تو کہتے ہیں اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے اس کے کیے کی سزا مل رہی ہے اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں ہے لیکن جب خود پر آن پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیشک اللہ کا نظام ایسا ہی ہے کہ بسا اوقات انسان کو اس کے کرتوتوں کی سزا

Read more

قیامت تو گزر چکی بس جہنم تک پہنچنا باقی ہے

افسوس صد افسوس۔ ۔ ۔ اسکول میں ریپ، دفتر میں ریپ، مدرسے میں ریپ، گلیوں میں ریپ، ستر سالہ سے ریپ، سات سالہ سے ریپ، زندہ سے ریپ، قبروں سے نکال کے میتوں سے ریپ، مساجد کے حجروں میں بچوں سے ریپ، رات کو ریپ، دن دیہاڑے ریپ، خواجہ سراہوں سے ریپ، دو بچوں کی ماں سے ریپ۔ سوچو پوری زندگی وہ بیٹا بیٹی کس اذیت سے گزریں گے؟ وہ ماں کس اذیت سے گزرے گی؟ آپ کہیں بھی محفوظ

Read more

ماں کا خواب اور امید کی ڈوری

چراغ حسن حسرت لکھتے ہیں،  ” آغا حشر صاحب کا خیال تھا کہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی تعریف کرنا بہت ضروری ہے۔ ایک مرتبہ کسی اخبار میں میری ایک نظم جو غالباً عید کے متعلق تھی، شائع ہوئی۔ آغا نے اخبار دیکھا تو نظم کی بڑی تعریف کی۔  خصوصاً آخری شعر کئی مرتبہ پڑھا اور پھر بولے ‘‘اماں تم بہت خوب کہتے ہو۔ اس سے اچھا کوئی کیا کہے گا؟’’ ‎میں نے کہا ‘‘آغا صاحب آپ

Read more

ڈراما چینلز ہوش کے ناخن لے لیں

مشتری ہوشیار باش! اے آر وائی کے ڈراما ”جلن“ پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف عوام کی طرف سے پیمرا کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ تنبیہ کے باوجود پروڈیوسر، ڈائریکٹر، اور چینل نے کہانی کے مواد میں تبدیلی نہ کی لہذاٰ اخلاقی اور معاشرتی اقدار و روایات سے متصادم ہونے کی بنا پر اسے آن ائر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

پیمرا نے یہ اعلان ایک پریس ریلیز کی صورت میں نو ستمبر کو ڈرامے کی تازہ قسط آن ائر جانے کے بعد کیا۔

Read more

اجتماعی زیادتی سے متاثرہ کم سن لڑکی کے یہاں لڑکی کا جنم

فروری کی بیس تاریخ تھی اور سال یہی 2020، جب راول پنڈی سے خبر آتی ہے کہ ایک کم سن بچی کو مسلسل کئی ماہ تک چار آدمی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ان چار میں سے دو کالج کے لڑکے ہیں تو دو شادی شدہ جن کی اپنی بیٹیاں اٹھارہ سال سے زیادہ عمر کی ہیں۔ ایک زیادتی کا مرتکب تو قریباً ساٹھ ستر سال کا بھی ہے۔ اسد علی، بہادر، یحییٰ اور عابد، یہ ان چار آدمیوں

Read more

‏لاہور موٹروے کا واقعہ اور آسڑیلیا کے حاجی صاحب

‏حاجی صاحب سے اچھی شناسائی ہے اور ہماری دوستی کو عرصہ دراز ہونے کو آیا ہے۔ حاجی صاحب کا اصل نام تو محمد لطیف ہے لیکن سب ان کو حاجی صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ حاجی صاحب باقاعدگی سے صبح پارک میں ورزش کرنے آتے ہیں۔ میری ان سے دوستی کا آغاز بھی صبح کی سیر سے ہی ہوا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ پچھلے دو تین دن سے حاجی صاحب صبح کی سیر پر نہیں آئے تو تھوڑی سی

Read more

نوشابہ کی ڈائری: کھجی گراؤنڈ فتح ہو گیا․․․ ایم کیو ایم جنگ ہار رہی ہے

27 دسمبر 1995 میں ذیشان کو نہیں روک سکی، نہ جانے سے نہ اس راستے پر سفر سے جو اچانک کسی اندھیروں سے بھری کھائی پر ختم ہوجاتا ہے۔ میں نے ذیشان کو بہت سمجھایا، سارنگ کے بچپن، ابو جان کے بڑھاپے اور اپنی محبت کے واسطے دیے، سمجھانے کی مہلت ملتی بھی کتنی تھی، ان کے پاس اسلحہ دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ آگ نے ہماری دہلیز پار کر لی ہے۔ طویل وقفوں کے بعد جب گھر

Read more

یوں اندھیری رات میں اے چاند تو چمکا نہ کر

شام کھانے کے بعد ہسپتال کے چکروں کی نقاہت کے باوجود جی پھر چاہا کہ کچھ پیدل چل لیا جائے۔ نکلتے نکلتے اندھیرا ہوچکا تھا۔ ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرا ہاتھ بیٹی نے تھاما دھیرے دھیرے چلتے اپنے گھر کی عقبی سڑک پہ آئے تو اس ہمیشہ سے فسوں بھری سڑک پر۔ کہ شہر کے بیچ ہوتے بھی اسے بطور یادگار اسی طرح رکھا گیا ہے جس طرح کبھی اسد سلیم شیخ کی ”ٹھنڈی سڑک“ ہوا کرتی تھی۔ گیارہویں

Read more

مبارک ہو، آپ خوف کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہوئے

لاہور موٹروی پہ ہوئا المناک حادثہ تمام نیوز چئنلز بشمول سوشل میڈیا پہ وائرل ہو چکا ہے، بھیانک خواب جیسے اس حادثے کو وہ عورت اب زندگی میں کبھی بھلا نہیں پائے گی، جو مذہب اسلام کی محبت میں، ریاست مدینہ کا نام سن کر بچوں کہ ہمراہ فرانس سے دوڑی چلی آئی۔ وہاں پہ عریانی دیکھ کر وہ سمجھی کہ میں مدینے جیسی ریاست میں بچوں کہ ساتھ محفوظ رہوں گی، جہاں میری آزادی کبھی داغ دار نہ ہوگی،

Read more

سوہنی مہینوال: معصوم محبت کی مجبور کہانی

پرانے قصے، علاقائی داستانیں اور مقامی کہانیاں ہمیشہ سے ہی انسانی دلچسپی کا محور رہی ہیں۔ یہ کہانیاں عقل سے زیادہ تخیل کی مرہون منت ہوتی ہیں۔ لوک داستانیں انسانوں کی نامکمل خواہشوں کا عکس ہوتی ہیں اس لیے ہر سماج، قوم اور ملک میں انسانوں کی اجتماعی فکر کی روایت کو لوک ادب نے ہی محفوظ رکھا ہے۔ یہ داستانیں کسی قوم کی تہذیب و ثقافت کے ادب کے بچپن کی پیداوار ہوتی ہیں اور اس کے اعلیٰ ترین

Read more

درخت

تحریر: ہر من ہیس انگریزی ترجمہ: جیمز وائٹ اردو ترجمہ۔ ۔ ۔ خالد سہیل میری نگاہ میں درختوں نے ہمیشہ بلند و بالا بزرگ مبلغوں کا مقام پایا ہے۔ جب میں انہیں جنگلوں اور بیابانوں میں کنبوں اور قبیلوں کی طرح پاتا ہوں تو انہیں بڑے شوق سے دیکھتا رہتا ہوں۔ میری نگاہ میں ان کی عزت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب میں انہیں کسی مقام پر بالکل تنہا کھڑے ہوئے پاتا ہوں۔ وہ مجھے تنہا انسانوں کی یاد

Read more

ترا باپ بھی دے گا آزادی

سانحہ موٹروے ہواجس کے بعد دل واقعی دکھی ہے اور اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے ’کم ہے۔ پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور پوری دنیا میں پورنو گرافی میں پاکستان جس طرح نمایاں پوزیشن میں آ رہا ہے‘ واقعی ایک غور طلب بات ہے۔ مجھے اس واقعے کے پس منظر اور اس کی جزیات پہ بات اس لیے بھی نہیں کرنی کہ اس پر بہت تفصیل سے لکھا اور دکھایا

Read more

عورت کی حفاظت نہ کرسکنے والا مرد نہیں؟ (آخری قسط)

سہیل کے وین لے جانے پہ وہ دونوں لڑکے ایک دم گھبرا گئے۔ اس وقت تک جو بھی چھینا تھا وہی لے کر فوراً بھاگ گئے۔ جب یہ سب ہوگیا تو بسمہ کو اندازہ ہوا کہ اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے اور دل کی دھڑکن تیز تھی۔ اس نے بختاور کی طرف دیکھا۔ ”اب کیا کریں؟“ ” تمہاری کیا کیا چیزیں چھینی ہیں؟“ ” بس موبائل اور تھوڑے پیسے“ ”ہمم میرا بھی بس یہی لیا چلو پہلے آفس

Read more

گناہ گار عورتیں

میں صحن سے گزر رہی تھی تو میرے پھپھی زاد بھائی نے میری کلائی پکڑ کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور گدگدی کرنے لگے، مجھے بہت ہنسی آئی، اگلے دن وہ مجھے چپس دلانے کے لئے محلے کی دکان پر لے گئے اور واپسی پہ ایک ویران احاطے میں لے گئے، مجھے کچھ سمجھ نہ آئی لیکن کچھ ایسا عجیب محسوس ہوا کہ درد کی شدت سے میرے اندر جیسے تیزدھار آلے سے اعضاء کٹ رہے ہوں، چیخ کر

Read more

منہ دکھائی بے رونمائی

”اوئی“ اس کی آنکھیں پھیل کر پورے جسم پر محیط ہو گئیں۔ منہ کھلے کا کھلا رہ گیا، بالوں نے چہرے کو ڈھانپ لیا اور آنچل قدموں کو ڈسنے لگا۔ انور نے آج پہلی بار اپنی آنکھوں کی میخیں اس کی ہرنی جیسی آنکھوں میں گاڑ رکھی تھیں اور وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو گئی تھی۔ ۔ ۔ صائمہ کا ہاتھ۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھ میں تھا اور ہاتھ بھی کتنا؟ ایک چھنگلی۔ ۔ ۔ اور ایک چھنگلی پر پانچ انگلیوں کی گرفت۔ ۔ ۔

دھم دھما دھم دل کی ڈھولک بج رہی تھی۔ شاید معاملات سیکنڈ کے تھے۔ ۔ ۔ مگر ایسے وقت کا حساب کتاب کون رکھ سکتا ہے۔ دوپٹہ سنبھالنا۔ ۔ ۔ چھنگلی کی دھڑکن کو وجود کے زیروبم سے ہم آہنگ کرنا۔ ۔ ۔ قیامت کی ساعت بن گیا۔

دفعتاً صائمہ۔ ۔ ۔ بدحواسی سے ننگے پاؤں دوڑتی ہوئی اپنے کمرے تک آئی اور دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ کسی نامانوس دستک اور اجنبی قدموں کی آہٹ کے انتظار میں۔ ۔ ۔

Read more

کہاں ہر ایک سے بار نشاط اٹھتا ہے…

ہماری اماں بڑی فکر مند تھیں کہ ہمارا کیا بنے گا؟ ہم، جس نے جب سے ہوش سنبھالا تو خود کو ’چھٹے‘ کام کرنے والا ’چھوٹا‘ پایا، منے سے تھے تو کبھی بڑی چچی کی چونی لیے خلیل چچا کی دکان سے پان لانے بھاگے جا رہے ہیں تو کبھی ابا کی چلم لیے باورچی خانے کی طرف دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ جب ذرا سے اور بڑے ہوئے، یعنی جب اس قابل ہو گئے کہ کتا ہمیں زنجیر سمیت

Read more

باب خیبر پر کوکی خیل قبیلے کا دھرنا اور حکام کے ادھورے وعدے

جمرود میں کم از کم 80 دن سے دھرنا دے رہے مظاہرین کا تعلق کوکی خیل قبیلے سے ہے اور یہ باب خیبر سے 80 کلومیٹر دور وادی تیراہ میں واقع اپنے علاقے راجگل واپس جانا چاہتے ہیں۔

Read more

کتا دریا کی طرف گیا ہی کیوں تھا؟

کسی ماں کے لیے اس سے زیادہ اذیت ناک مرحلہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی اولاد کے سامنے اس کا دامن تار تار کر دیا جائے۔ یہ درندگی کی انتہا سے بھی کوئی پرے کی چیز ہے کہ اولاد کو سامنے کھڑا کیا جائے اور ان کی ماں کی عزت کا تماشا لگایا جائے۔ بلا شبہ جس طرح ان درندوں نے اولاد کے سامنے ممتا کو ذلیل کیا، ان کی جنت کی بے توقیری کی اور ان کی

Read more

عثمان بزدار درندوں کے تعاقب میں

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی شب انتہائی دلخراش واقعہ رونما ہوا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعہ پر ہر پاکستانی خواہ وہ مرد ہو یا عورت سب کی ہمدردیاں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کے ساتھ ہے جبکہ ہر کوئی یہ بھی مطالبہ کر رہا ہے کہ واقعہ میں ملوث، لزمان کوجلد گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے۔ اس واقعہ پر اگر خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے

Read more

سلسلہ گاڈ فادریہ کے اسباق

(سالکان راہ کے لیے سلسلہ گاڈ فادریہ کے اذکار و اشغال کا نایاب مجموعہ – اس کے پڑھنے سے کسی کا بھلا نہیں ہو گا)  پروین شاکر کا شعر ہے اک نام کیا لکھا ترا ساحل کی ریت پر پھر عمر بھر ہوا سے مری دشمنی رہی سپریم کورٹ آف پاکستان میں تین عدد آئینی درخواستوں کی سماعت کے بعد نواز شریف پر عائد الزامات کی روشنی میں جب یہ فیصلہ صادر ہوا کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے

Read more