”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“
”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“
”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“
یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔
Read more