موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم ہر موڑ پر پولیس سے آگے کیسے

سیالکوٹ موٹروے ریپ کیس کی تفتیش کے دوران پولیس مرکزی ملزم کی تلاش میں متعدد چھاپے مار چکی ہے لیکن ہر بار وہ بچ نکلتا ہے۔ آخر یہ ملزم پولیس سے دس قدم آگے کیوں ہے؟ کیا محکمے کے اندر سے کچھ لوگ اس کی مدد کر رہے ہیں یا اسے نہ پکڑ پانا پولیس کی نااہلی ظاہر کرتا ہے؟

Read more

جرائم محض قانون سازی سے نہیں رکتے!

ہمارا ایک قومی مزاج بن چکا ہے۔ خواہ افراد ہوں، سماج کے مختلف طبقات، حکومت یا قانون نا فذ کرنے والے ادارے۔ ہم ردعمل (reaction) پر یقین رکھتے ہیں۔ کوئی واقعہ، حادثہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے تو ہم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ متاثرین سے ہمدردی کرتے ہیں، بیانات جاری کرتے ہیں، بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، چوک میں الٹا لٹکانے کی تجاویز دیتے ہیں۔ وقتی ابال کے زیر اثر ہم جذباتی اور reactionary باتیں کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد

Read more

سرِعام پھانسی دینا یا کیمیائی عمل سے بانجھ بنانا

موٹر وے پر اجتماعی جنسی زیادتی کے واقعے نے پوری قوم کو لرزا کر رکھ دیا۔ حالیہ واقعہ جونہی میڈیا میں رپورٹ ہوا پورے ملک میں غم وغصے کی لہر کا سبب بنا۔ مجرموں کو سخت سے سخت سزادینے کا مطالبہ کیا گیا۔ موٹر وے واقعہ سے پہلے بھی بچوں اور عورتوں سے جنسی زیادتی کرنے والوں کے لئے سرِعام پھانسی کی سزا ایک حلقے کی طرف سے مطالبہ رہا ہے لیکن موٹروے واقعے پر وزیرِاعظم کی طرف سے بیان

Read more

تمہاری بیٹی کے ساتھ زیادتی کا ذمہ دار معاشرہ نہیں، تم خود ہو

موٹر وے زیادتی کے اندوہناک واقعے کو 7 روز گزر چکے ہیں، ہر طرف بھانت بھانت کے بحث و مباحثے جاری ہیں، کوئی سی سی پی او عمر شیخ کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، کوئی ریاست مدینہ بنانے کے دعوے داروں سے جواب طلب کر رہا ہے، کوئی مجرمان کے اصل یا نقل ہونے پر بحث کر رہا ہے۔ لیکن ایک طبقہ جو اس ساری تنقید سے محفوظ ہے، الٹا اس کا شمار مظلوم اور کمزور افراد میں

Read more

موٹر وے ریپ کیس اور سزا کا شور

موٹر وے ریپ کیس کے بعد اٹھنے والا شور شرابا کوئی نیا واقعہ نہیں۔ چند برس پہلے زینب زیادتی کیس کے بعد بھی اسی طرح کا شور شرابا اٹھا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو گزشتہ کئی دہائیوں سے جب بھی کوئی ایسا زیادتی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو کچھ عرصے کے لئے ٹیلی وژن سکرینوں سے لے کر نجی محفلوں تک سارے مباحث اسی واقعے کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ مگر جس تیزی سے اس شور شرابے

Read more

اجتماعیت کی بجائے انفرادیت پر مبنی پاکستانی معاشرہ

بہت برسوں سے پاکستان کو مسائل کا سامنا ہے، ہمیشہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے ہی گزرتا رہتا ہے۔ اور ہم ہمیشہ اچھے دنوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے یا کوئی عوامی نوعیت کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو اس پر ہر جگہ گفتگو شروع ہو جاتی ہے، پہلے گاؤں کی چوپالوں اور شہر میں چائے کے ڈھابوں پر یہ گفتگو ہوا کرتی تھی اب سوشل میڈیا ہی ہماری چوپال ہے اور ڈھابہ بھی، فرق بس اتنا ہے کہ چائے اپنے اپنے پلے سے پیتے ہیں اور انٹرنیٹ پیکج بھی اپنا ہی کرواتے ہیں۔ دن ہو رات ہو، سرگی ہو یا شام جب اس سوشل میڈیا چوپال کا رخ کرو دو چار دوست مل ہی جاتے ہیں بات چیت کے لیے اور جو نہیں موجود ہوتے وہ اپنے حساب سے آ کر گزری گفتگو میں ٹانکا لگا لیتے ہیں۔

Read more

شرعی سزا ہی علاج ہے

لاہور سیالکوٹ موٹر وے ایم 11 پر گزشتہ ہفتے ایک خاتون پر اس کے بچوں کے سامنے جو قیامت گزری اس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ اس اندوہناک واقعے کا کرب و الم ہر با ضمیر نے محسوس کیا اور ہر کوئی اب تک غم و غصے کی کیفیت میں ہے۔ وطن عزیز میں درندگی کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات تواتر سے پیش آتے رہے ہیں لیکن حالیہ واقعے میں ملزمان نے ایک ماں کے ساتھ اس کے کمسن بچوں کے سامنے جس ظلم کا مظاہرہ کیا اس کی مذمت الفاظ میں ممکن نہیں ہو سکتی۔

قارئین اس قسم کے واقعات کے نہ رکنے کی ایک وجہ معاشرے کی فکری تقسیم بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ تقسیم کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ کسی بھی سانحے اور بڑی سے بڑی قیامت کی گھڑی میں بھی ہم باہم اتفاق کا مظاہرہ کرنے اور ایک بیانیے پر اکٹھا ہونے میں ناکام رہتے ہیں اسی لیے آج تک ہم کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہر مرتبہ اس قسم کے واقعات کے بعد بجائے اس کی وجوہات کے خاتمے یا مجرمان کو ڈھونڈ کر انہیں سخت سزا سنانے کے، پہلے سے طے شدہ باتوں کو چھیڑ لیا جاتا ہے یا کوئی نہ کوئی سیاسی پہلو نکال کر مخالفین پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔ نتیجتاً دوسرا فریق بھی اپنے مسلک کا دفاع شروع کر دیتا ہے اور اصل مسئلہ پس پشت پڑا رہ جاتا ہے۔ صرف سیاسی ہی نہیں گزشتہ کچھ عرصہ سے مذہب اور معاشرت سے متعلق مسائل میں لبرلز اور مذہب پسندوں میں خیالات کی تقسیم اختلاف رائے سے بڑھ کر نفرت اور کدورت تک پہنچ چکی ہے۔

Read more

لبرل ازم اور ہم‎

کافی دنوں سے ملک میں ایک بحث چل رہی ہے جس کے نتیجے میں بہت سے رد عمل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ موٹروے ریپ کیس نے نا صرف ہر حلقے کو قوت گویائی بخشی ہے بلکہ سب ہی اپنے اپنے پلیٹ فارم پہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

بلاشبہ یہ واقعہ اور اس جیسے بہت سے واقعات قابل مذمت ہیں لیکن کیا آج تک ہم نے مذمت کے علاوہ کچھ کیا؟
ہم نے یہ سوچا کہ معاشرہ اس قدر گراوٹ کا شکار کیوں ہے؟

ہر واقعے پہ مختلف قسم کے لوگوں کا مختلف رد عمل سامنے آتا ہے اور ایسے معاملات پہ ایک طبقہ ایسا بھی سامنے آتا ہے جسے میں ”دیسی لبرل ٹولہ“ کہتا

Read more

مخلوط تعلیم اور میرے فیورٹ مولانا

”ہر گائے دودھ دیتی ہے، گائے ایک جانور ہے لہذا ہر جانور دودھ دیتا ہے۔“
”تم ایک کرپٹ شخص ہو، تم نے ناجائز کمائی سے محل نما گھر خریدا ہے۔ جواب :تم نے بھی تو لڑکی کو بھگا کر شادی کی تھی۔“

”زید:پاکستان میں ہر پانچ عورتوں میں سے ایک عورت کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے۔ بکر:تمہیں اس ملک میں کیڑے نکالنے کا شوق ہے، بھارت میں یہ شرح ہم سے کہیں زیادہ ہے۔“

”ایکس : دنیا میں جنوں بھوتوں کا کوئی وجود نہیں، اگر ہوتا تو کبھی نہ کبھی ہمارا اس مخلوق سے براہ راست واسطہ ضرور پڑتا۔“ زی۔ : ”ہمارا براہ راست واسطہ تو کبھی گھانا کے صدر سے بھی نہیں پڑا تو کیا ہم اس کے وجود سے بھی انکار کر دیں!“

یہ ہمارا بحث کرنے کا عمومی انداز ہے۔ اس قسم کی گفتگو کو اپنے تئیں ہم ”مدلل“ سمجھتے ہیں۔ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد تازہ ترین دلیل مارکیٹ میں یہ آئی ہے کہ یہ سب مخلوط تعلیم کا نتیجہ ہے۔ یہ کہنا ہے میرے فیورٹ مولانا کا ، دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں آگ اور پٹرول اکٹھے ہوں گے وہاں یہ سب تو ہوگا۔

Read more

اگلے جنم میں ونود کو کتا ہی کیجیو

کورونا کی وبا سے پہلے کے یہی دن تھے۔ (منٹو کا افسانہ "بو "یاد آگیا نا مگر ادھر میں ایسا کچھ نہیں)۔ شکاگو میں رات کا کھانا تھا۔ میزبان وہیں کی ایک گجراتی فیملی تھی۔ شام سے لانگ ویک اینڈ شروع ہوچکا تھا (ایک ساتھ کئی ایسی چھٹیاں جو ہفتے اتوار کی تعطیل سے جڑی ہوں) کچھ امریکی کے ماحول کی مناسبت سے مہمان کھانا اور شراب ساتھ لائے تھے۔ شرکت کی شرائط سادہ تھیں دین اور پاسپورٹ کی قید

Read more

تربت سے لاھور موٹروے تک

ایک نہ تھمنے والی چیخ ہے، ایک لامتناہی ماتم ہے، ایک المیہ کی مذمت میں زہر افشانی ہے۔ اخبارات میں خبروں میں لہو کی بو ہے، کالموں سے عورت پہ ہونے والے تمام ظلم و عدو کی ایک بار پھر نقشہ گیری جاری ہے۔ ٹی وی کی سرخیاں خوں چکاں ہیں۔ ماہرین، اداکار، تجزیہ نگار اپنی اپنی تجزیات کی روشنی میں معاشرے کی پیوند کاری میں مصروف ہیں۔ قانون دان قانون میں موجود سقم پہ نوحہ خواں ہے۔ آئین کے

Read more

بد چلن عورتیں

ہم اور ہمارا معاشرہ۔ عورت فساد کی جڑ ہے سارے گناہ عورت کی ذات سے منسوب ہیں یار یہ عورتیں کیسے کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ بس میں سوار ہوں تو مردوں کو کہتی ہیں ہمیں ہراساں کرو، سڑک کنارے چل رہی ہوں تو مردوں کو اپنی جانب راغب کر لیتی ہیں۔ ۔ ۔ مرد کے ساتھ معاشقہ کر کے مرد کو بھگا کر لے جاتی ہیں۔ مرد پر ظلم کرتی ہیں۔ ۔ ۔ رنگ برنگے کپڑے اس لیے پہنتی

Read more

بڑے بڑے سابقے لاحقے میں چھپے ہوئے چھوٹے لوگ

1۔ کیا صاحبان علم کبھی جاہل ہوسکتے ہیں؟ 2۔ کیا بڑے مرتبوں میں چھپے لوگ بھی چھوٹے ہوسکتے ہیں؟ 3۔ کیا کوئی بڑافنکار بھی چھوٹا ہو سکتا ہے؟ 4۔ کیا کوئی بڑا شاعر بھی چھوٹا آدمی ہو سکتا ہے؟ میں ان سوالات کی کھوج میں اکثر رہتا تھا کیونکہ یہ بات انسانی فطرت میں شامل ہے کہ ہم بڑے لوگوں سے جلد متاثر ہو جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا بت فوراً ہی تراش لیتے ہیں۔

Read more

جب شام کو ویرانے میں امریکی شاہراہ پر میری گاڑی خراب ہوئی

راولپنڈی موٹر وے پر پیش آنے والے سانحے کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اس وقت میں نے قلم اس لئے نہیں اٹھایا ہے کہ اس واقعے کے کسی اخلاقی پہلو پر گفتگو کروں۔ اس مظلوم عورت کا دفاع کروں جس کی گاڑی بیچ راستے میں بند ہو گئی تھی یا کسی سفاکانہ بیان بازی پر احتجاج کروں کہ ”اے عورت تورات کو تنہا کیوں نکلی؟“ میں تو بس یہ سوچ رہی ہوں کہ کیا یہ سانحہ ایک ایسی سرزمین پر پیش آیا جہاں چپے چپے میں پانچ وقت اذان کی آواز گونجتی ہے۔ جہاں جمعے کے جمعے ہر مسجد میں ایمان تازہ کرنے والے خطبے دیے جاتے ہیں اور جو مملکت خداداد کہلاتی ہے۔

میرے ذہن میں یہ سوال اس لئے بھی اٹھ رہے ہیں کہ میں پچھلی تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہوں۔ اس غیر اسلامی ریاست میں تیس برس سے میں گاڑی دوڑاتی، دندناتی پھر رہی ہوں یہاں کبھی کسی نے مجھے یہ احساس نہیں دلایا کہ اے عورت تو آدھی رات کو تنہا کیوں نکل پڑی۔ مجھے کبھی کسی نے یہاں گھور کر نہیں دیکھا۔ میں نے یہاں ملازمت بھی کی اور اکیلے لانگ ڈرائیو بھی کی۔ اس حوالے سے مجھے ایک واقعہ یاد آ رہا ہے۔ ہوا یہ کہ میں اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ ہیوسٹن سے آسٹن جا رہی تھی۔

Read more

مولانا طارق جمیل کا حور کا بیان فحش نہیں، قصور مخلوط تعلیم کا ہے

کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہر بری چیز کی وجہ ایک ہی ہے۔ آپ کوشش کریں سوچنے کی۔ ذہن پر زور دیں۔ ہو سکتا ہے آپ صحیح طریقے سے زور نا دیں سکیں۔ تو کوشش کریں کہ کوئی پتھر یا اینٹ سر پر رکھ کر دیکھیں۔ اس سے بھی حل نا نکلے تو ایک مزید پتھر سر پر رکھیں مجھے لگتا ہے۔ اور سو فیصد یقین ہے۔ حل نہیں نکلے گا۔ تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ آپ دیوار میں سر مار کر دیکھیں۔ شدید زور و شور سے ماریں۔ اتنی زور سے کہ دیوار ٹوٹ جائے۔ کیونکہ آپ کا اگر سر پھٹتا ہے۔ تو اس میں غلطی آپ کی نہیں ہے۔

ایک صاحب عقل انسان کا اس طرح سے مسلسل دیوار کو ٹکریں مارنا غلطی نہیں ہو سکتا۔ پھر آخر غلطی کس کی ہے۔ اس کو حل کرنے کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ ہے کہ آپ ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ تو اس کی ایک واحد وجہ سمجھ آتی ہے۔ وہ ہے مخلوط تعلیم۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ کیا وجہ ہوئی۔

Read more

آگ اور پٹرول کی آزادی

موٹروے ریپ کیس نے ہمارے سامنے حکومتی رٹ کی ناکامی کھول کے رکھ دی۔ انصاف اور قانون کا بول بالا تو دور رہا۔ سب بولے (بہرے ) بن کے پھرتے رہے۔ جیسے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ اندھے تو پہلے ہی تھے۔ گونگے بننا تھا وہ بھی بن چکے۔ جلتی پہ تیل کا کام سی سی پی او کے بیان نے ڈال دیا۔ کہ جی رات کو کیوں نکلی۔ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا۔ محرم کیوں ساتھ نہ تھا۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ محرم کے ساتھ ہونے کے باوجود بھی عورت ریپ ہو گئی۔ شبنم کیس اتنا پرانا بھی نہیں۔ اس کے محرموں کے سامنے گھر میں گھس کے اس کا ریپ کیا گیا تھا۔ وہ تو کہیں باہر نہ نکلی تھی۔ شکر ہے تب موٹروے نہ تھی۔ ورنہ یہ کریڈٹ بھی چھوٹے میاں بڑے میاں کے کھاتے میں ڈال دیتے۔ ویسے چھوٹے میاں صاحب کھاتہ کھولتے وقت کم سے کم کھاتے کی تفصیل پڑھ لیتے ہیں۔ خیر پڑھے کون۔

عورتوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے یہ کیسز روزانہ کی بنیاد پہ ہو رہے ہیں۔ برسوں سے ہو رہے ہیں۔ اب سامنے زیادہ آنے لگ گئے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا و میڈیا کا دور ہے۔ لوگوں کے ہاتھ میں موبائل فون کیمرے و وڈیو کیمرے کی سہولت کے ساتھ موجود ہیں۔ سیکنڈوں میں خبر تیار ہو کے وائرل ہو چکی ہوتی ہے۔ جبکہ پہلے وقتوں میں آج کا اخبار پڑھا۔ رات نو بجے کا خبرنامہ سنا۔ جس میں سب اچھا ہوتا تھا۔ اس کے بعد سو گئے۔ اگلی صبح ہی پتہ چلے گا۔ کہ گزشتہ روز ملک میں کیا ہوا تھا۔

Read more

حادثہ ہو، بیان ہو یا پھر ٹی وی شو، معافی ہی تو مانگنی ہے مانگ لو

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ لڑائی لڑائی معاف کرو اللہ کا گھر صاف کرو اور اگر کوئی غلطی ہو جائے تو سوری میں پہل کرلو۔ اسکول میں گھروں میں بھی بچوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ آپس میں مل جل کر رہیں اگر ایک دوسرے سے لڑائی ہو جائے تو سوری کر لیں معافی مانگ لیں بات ختم کردیں۔

دیکھا ہوگا چھوٹے بچے آپس میں کھیلتے ہوئے اگر لڑتے ہیں تو تھوڑی دیر میں معافی تلافی کر کے واپس ساتھ ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ تو معصوم ہوتے ہیں۔ جب بھی بہن بھائیوں کی لڑائی ہوتی ہے تو صلح صفائی کے لیے ماں باپ بہن بھائیوں کو ایک دوسرے سے معافی منگواتے ہیں دل چاہے نہ چاہے معافی مانگ لو۔

جبکہ بات اگر میاں بیوی کے رشتے کی ہو تو وہاں بھی معافیاں تلافیاں رشتے کو بچانے میں کام آجاتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے وہاں بھی معافیاں مانگنا بیوی کی ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے کبھی تصفیوں کے لیے خاندانی جھگڑوں کے لیے صلح کے لیے معافیوں کے لیے پنچایتیں جرگے بیٹھ جاتے ہیں۔

Read more

اور اگر میں تب ریپ ہوجاتی تو۔ ۔ ۔

موٹر وے گینگ ریپ حادثے کو ہفتہ بھر ہونے کو آیا ہے پر دل سے ویرانی اور طبیعت پر چھایا ڈپریشن ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ تین بچوں کی ماں جو فرانس جیسے آزاد اور ترقی یافتہ ماحول میں سانس لینے والی کم ظرف حکومتی عہدہ داروں کے بھونڈے اعتراضات کی سان پر چڑھی ہے۔

رات کے ایک بجے اکیلی عورت کو گھر سے نکلنے کی ضرورت؟ پیٹرول کیوں نہیں چیک کیا گیا؟ سنسان راستے پر کیوں چڑھی؟

ابھی حادثے کا پہلا دوسرا دن تھا۔ مظلوم خاتون کے بارے میں کچھ تفصیل سامنے نہیں آئی تھی۔ ہاں گوہر تاج نے میری ٹائم لائن پر اپنا نوحہ لکھا تھا۔ ”سنتی ہو ان محافظوں کی باتوں، کو دیکھتی ہوں ان کے کاموں کو ۔“ اور بوجھل روح سے میں نے اسے مخاطب کیا تھا۔ ”گوہر میری جان ہوگی کوئی میرے جیسی جنونی آوارہ، گرد، من موجی سی عورت جو ایڈونچر اور تھرل کے شوق میں کچھ زیادہ سوچتی نہیں اور کتنی سر پھری لڑکیاں ہیں جو گواچی گاں کی طرح منہ اٹھا کر چل پڑتی ہیں۔ ریاست تو ماں کی طرح ہوتی ہے۔ تحفظ دینے والی۔ مگر کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ ساری زندگی میرے تو اپنے لچھن بس ایسے ہی رہے۔

Read more

خلیل الرحمٰن قمر کا غصہ ریپ کے خلاف نکلنے والی عورتوں پر اور ریپسٹ پر خاموشی

موٹر وے ریپ کیس کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں خواتین کی شمولیت پر مخصوص ذہنیت کے حامل افراد خاصے چراغ پا ہوئے۔ ڈراما نویس خلیل الرحمٰن قمر جو خواتین سے متعلق متنازع بیانات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ایک بار پھر میدان میں آ گئے اور ایسی زبان استعمال کی جسے کسی طور مہذب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عورتیں کس کی اجازت سے پہنچی ہیں اور دندناتی پھر رہی ہیں، چیخ چلا رہی ہیں، یہ بھانڈوں کی فوج ہے۔ انہوں نے عورتوں سے سوال کیا کہ آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں چلی جائیں اور باپ باہر کھڑا ہو جائے پہرے کے لیے؟

انہوں نے اسی قسم کی کچھ اور باتیں بھی کیں۔ سوال یہ ہے کہ موٹر وے پر درندگی کے واقعے کے بعد اگر خواتین احتجاج کے لیے نکلیں تو انہیں غصہ کیوں آیا؟ اتنا غصہ انہیں ان درندوں پر کیوں نہ آیا جو انسان کہلانے کے حق دار نہیں۔ انہوں نے کسی چینل پر ان کے خلاف ایسی زبان استعمال کیوں نہیں کی؟

Read more

کیمیکل کیسٹریشن پر عفت عمر کے بیان پر تنقید: ’جب آپ طنز کرتے ہیں تو وہ اتنا ہی کڑوا ہوتا ہے‘

پاکستانی اداکارہ اور میزبان عفت عمر چند روز سے مسلسل خبروں اور تنقید کی زد میں ہیں اور آئے روز کئی نہ کسی حوالے سے ٹوئٹر پر ان کا نام ٹرینڈ کرتا نظر آتا ہے۔

Read more

مولانا طارق جمیل، مخلوط تعلیم، پٹرول، آگ اور ریپ

سوشل میڈیا سے علم ہوا کہ مولانا طارق جمیل نے موٹر وے ریپ کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ایسے واقعات کی وجہ مخلوط تعلیم ہے۔ ایک عام شخص یہ سنتے ہی آگ بگولا ہو جائے گا کیونکہ اس کے پاس علم کی دولت نہیں ہے یہ لفظ سنتے ہی عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال آتا ہے کہ مخلوط تعلیم کا مطلب ہے کہ ایسی تعلیم جس میں لڑکیاں بھی لڑکوں کے ساتھ پڑھیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ متذکرہ بالا لوگ لڑکی کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔

Read more

ریپ، ریپسٹ اور متاثرہ افراد

ریپ مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر عامتہ الناس میں ریپ کے حوالے سے یہ تاثر قائم ہے، کہ صرف زور زبردستی سے کیا جانے والا جنسی فعل ہی ریپ کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ جب کہ ہر وہ جنسی فعل یا حرکت جو کسی ایک فرد کی رضا مندی کے بغیر، بچے بچی یا کسی کی معصومیت اور مجبوری سے فائدہ اٹھا کر سرزد ہو، ریپ کے ہی زمرے میں آتی ہے۔ حتی کے شریک حیات کی مرضی بھی شامل حال نہ ہو، تو ترقی یافتہ معاشرے میں یہ فعل ایک نوع کے ریپ میں شمار کیا جاتا ہے۔

یہ گھناؤنا فعل زیادہ تر متاثرہ خاتون، مرد، لڑکا، لڑکی، بچے اور بچی کے سگے رشتے دار و قریبی عزیز، آجر، گھریلو نوکر چاکر، استاد اور معاشرے کے با اثر افراد کی طرف سے عمل میں آتا ہے۔ اور عموماً ظلم و زیادتی کا شکار معصوم بچے بچیاں اور مجبور، معذور اور بے سہارا خواتین اور لڑکے لڑکیاں ہوتی ہیں۔ مقام افسوس یہ ہے، کہ اکثر ایسے معاملات منظر عام پر نہیں آتے۔ اور متاثرہ فرد اپنے والدین یا کسی بڑے سے شکایت بھی کرے، خصوصاً خاتون، لڑکی یا بچی اپنی ماں یا دوست کو اس قبیح فعل سے آگاہ کرے، تو عموماً معاملہ دبا دیا جاتا ہے اور چپ رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ بظاہر اس کی وجہ یہی ہے، کہ متاثرہ فرد اور کنبہ بدنام ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ پیچیدہ قانونی کارروائیوں وجہ سے ملزم کے بچ نکلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

Read more

مردانہ صلاحیت کا خاتمہ اور ناک کاٹ دینا، جنسی جرائم کا واحد علاج

آج کل سوشل اور ویب میڈیا پر موٹروے حادثے اور اس کے بعد کی صورت حال کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اور دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سی سی پی او کے نامناسب بیان کی مذمت سے لے کر جنسی جرائم کے مجرمان کو سرعام سزائے موت کے مطالبات تک بہت سا مواد نگاہ سے گزرا اور گزر رہا ہے۔

فنکار برادری نے بھی حادثے کی شکار ماں سے اظہار یکجہتی کے لئے کراچی میں مظاہرہ کیا۔ اس میں ہماری بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان بھی شامل تھیں۔ فنکار برادری کی جانب سے یہ مظاہرہ باعث مسرت و ستائش ہے کہ انہوں نے اس نہایت اندوہ ناک اور نازک معاملے پر آواز بلند کی اور واضح الفاظ میں مجرمان کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا۔ قبل ازیں، قصور میں جنسی بے حرمتی کے بعد قتل کر دی جانے والی کم سن بچی زینب کے مجرم کو سزائے موت دی گئی تھی۔

Read more

مجرموں سے ہمدردی: دال کالی ہے

جرائم ہیں کہ پورے ملک میں مسلسل بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں اور اب تو یہ عالم ہو گیا ہے کہ کچھ سنگین جرائم مشغلوں میں شمار ہونے لگے ہیں۔ جرم ایک عام انسان کرے یا قانون نافذ کرنے والے ادارے، جرم ہی ہوتا ہے۔ ہر وہ اقدام جو آئین و قانون سے ماورا ہو وہ بہر صورت لائق تعزیر ہوتا ہے۔ بے شک کوئی جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو لیکن آئین سازی کے وقت آئین سازوں کی نگاہوں سے اس جرم کے خلاف کوئی قانون سازی ہی نہ کی ہو تو محض اپنی جانب سے یہ قیاس کرلینا کہ اس میں فرد یا اداروں کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہے، میرے نزدیک یہ عمل ماورائے آئین ہی کہلائے گا۔

انسان زندگی کو با ضابطہ بنانے کے لئے کتنی ہی قانون سازی کر لے، زندگی کے ہر موڑ پر اسے یہ احساس ہوتا رہے گا کہ قانون سازی کے عمل میں کچھ نہ کچھ کمیاں رہ ہی گئی ہیں لہٰذا ان پر بھرپور نظر رکھنا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ان میں کمی یا بیشی کرتے رہنا ہی قوموں کو عروج کی جانب لے جانے کا سبب بنتا ہے اور جو قومیں ان پر توجہ نہیں دیتیں اور اپنے ہاتھوں بنائے ہر ضابطے کو حرف آخر سمجھ بیٹھتی ہیں ان کا آئین و قانون تالاب کے ٹھہرے ہوئے اس پانی کی طرح ہو جاتا ہے جو بالآخر بو دینے لگتا ہے۔

Read more

سانحہ موٹروے! چند گزارشات

میں آج تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہمیں نصاب میں جھوٹ کیوں پڑھایا جاتا ہے۔ مطالعۂ پاکستان میں یہ کیوں لکھا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے جس کی تعلیمات کے مطابق بنیادی حقوق کے لحاظ سے سب انسان برابر ہیں۔ عورت وہ لفظ ہے جو انسان کو عزت و حرمت سے آگاہ کرتا ہے۔ غلط۔ تمام مذاہب بشمول اسلام ہر قسم کے نسوانی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ غلط۔ اسلام نے خواتین کو حکومت، سیاست، قیادت اور مشاورت سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں اہم ذمہ داریاں سونپی ہیں۔

غلط۔ اکثر عورتیں اس تصور کی بنا پر تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں کہ وہ مردوں کی نسبت کم تر ہیں۔ کیوں آخر یہ سب کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ بعض واقعات کسی بھی معاشرے اور قوم کے مردہ ہونے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ کسی ایسے معاشرے میں جو اسلامی جمہوریہ کہلاتا ہو وہاں پانچ سال کی بچی کو اٹھا کر ریپ کرنے کے بعد اس کی سوختہ لاش کو بوری میں بند کر کے پھینک دیا جاتا ہے۔ صرف پنجاب میں پچھلے دو سالوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے ان گنت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

Read more

حادثے سے بڑا سانحہ

کہاں ہیں وہ اسلام پسند وزرا جو گزشتہ دور حکومت میں تقریر جھاڑا کرتے تھے کہ جرم یا مقتول کا مجرم نا ملے اس کا مجرم حاکم وقت ہوتا ہے۔ اب اگر مجرم نہ ملے تو حاکم وقت کو سزا ملنی چاہیے۔

مجھے حیرت ہے کہ پڑھے لکھے افسر جن کی ڈیوٹی ہی امن و امان قائم رکھنا ہے کیسے منہ کھول کے کہہ دیتے ہیں کہ متاثرہ عورت رات کو اکیلی سفر ہی کیوں کر رہی تھی؟ کیا اس لاجک کو دینے کے بعد محکمہ بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ برائے مہربانی ایسی لاجک دے کے مزید جلتی پہ تیل کا کام نہ کیا جائے۔ یہ بے حسی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے کہ گینگ ریپ کا شکار عورت کو قانون کا رکھوالا ہو کر پولیس کا سربراہ یہ کہے کہ رات کو موٹر وے پر اکیلی عورت کو سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

Read more

کیا نامردی دیگر جرائم بھی روک سکے گی؟

عورت ذات پر ہاتھ اٹھانے والا، اس پر تشدد کرنے والا ہی درحقیقت نامرد ہوتاہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنسی زیادتی جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے نامرد بنانے کی سزا کا قانون کیسے اور کب منظور ہوگا اور یہ سزا کتنی کارگر ثابت ہوگی۔ مگر جب بات موٹر وے زیادتی جیسے دل دہلادینے والے واقعے کے مجرموں کی ہو رہی ہو جو جنسی درندگی کے ساتھ ساتھ چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہے ہوں، جن کا

Read more

ملک میں کیا جنسی ہراسانی کے واقعات کم ہوں گے۔

پھر ایک اور بنت حوا زیادتی کا شکار ہو گئی۔ موٹر وے پر مشکل میں پھنسی ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس وحشیانہ اقدام سے متاثرہ خاتون اندر سے کتنی ٹوٹ پھوٹ گئی ہے، وہ اور اس کے بچے کتنے بڑے نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔ انصاف ملنا تو دور کی بات ہے ان کے اور ان کے خاندان کی ہنستی بستی زندگی

Read more

پاکستان کی پولیس کب غیر سیاسی ہو گی؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے چند روز پہلے موٹر وے ریپ کیس کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی وخوف کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کو پروفیشنل بنانے اور اس کے نظام میں سیاسی مداخلت ختم کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ کئے بغیر عام شہریوں کی حفاظت ممکن نہیں ہوگی۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک

Read more

چند روز اور میری جاں فقط چند ہی روز

ملک کی معاشی بدحالی، بدنظمی، لاقانونیت اور افراتفری کی حالیہ صورتحال کے پس پشت کار فرما عوامل کو سمجھنے کے لیے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے 22 جولائی کے سوچے سمجھے اغوا کے واقعے سے آغاز کرتے ہیں، دارالحکومت اسلام آباد جسے سیف سٹی کا نام دیا گیا ہے مطیع اللہ جان کے اغوا میں ملوث افراد تک پولیس کا پہنچنا ناممکن تھا۔ اغواکاروں کی طاقت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ مطیع اللہ

Read more

کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں

اس دنیا میں روزانہ ہر عورت کے ساتھ ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سی لے کے پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، اسکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کو دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ، کسی بھرے، پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائداعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

گزشتہ ہفتے 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ دو افراد نے موٹروے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا اور سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ تاہم ایسے موقع پر سی سی پی لاہور عمر شیخ حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے بولے کہ ان کو جی ٹی روڈ سے جانا چاہیے تھا، گاڑی کا تیل پانی بھی پورا کر کے چلنا ان کی ذمہ داری تھی۔

Read more

کیا ہماری عزت، جان و مال اس ملک میں محفوظ بھی ہیں؟

جب ظلم انتہا کو چھوتا ہے تو اللہ کی طرف سے قہر آتا ہے خدا کا خوف نا جانے کیوں ان کے دلوں میں نہیں رہا کسی کی بے بسی اور مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہمارے معاشرے میں عام ہو گیا ہے مگر بات اس حد تک پہنچے گی کہ ایک ماں اپنی اولاد کے سامنے اس طرح سے زیادتی کا شکار ہوگی یہ تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ حیوانیت اس طرح سے سڑکوں پر کھلے عام نظر آئے گی میں تو یہ واقعہ لکھتے ہوئے بھی کانپ رہا ہوں کہ کیسے بیان کروں ان حیوانوں نے جو ایک ماں کے ساتھ کیا۔

ہمارا ملک اسلام کے نام پر اور اسلامی روایات کے نام پر بنا تھا مگر اس ملک میں اس طرح کے درندے اور حیوان پھر رہے ہیں اور ایسی حیوانیت پھیلا رہے ہیں جسے دیکھ کر دل خون کے آنسوں روتا ہے۔ انسانیت بھی شرما جاتی ہے جب ایسے گھناؤنے واقعات ہوتے ہیں۔

Read more

گجرپورہ ریپ کیس کا مرکزی ملزم لاہور کے نواح میں بار بار پولیس کو چکمہ دے کر فرار

لاہور: گجرپورہ زیادتی کیس کا مرکزی عابد ملہی ننکانہ صاحب پولیس کو چمکا دے کر فرار ہوگیا۔ اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گجرپورہ لنک روڈ زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو پولیس گرفتار کرنے پہنچی تو وہ پولیس کو چمکہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ننکانہ صاحب پولیس کی بھاری نفری عابد ملہی کو ڈھونڈے میں مصروف ہے، پولیس کی بھاری نفری نے دھولر والے قبرستان کو گھیرے میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ننکانہ صاحب میں ملزم عابد ملہی آج دوپہر اپنی سالی کے گھر آیا تھا، عابد کی سالی کشور بی بی پرانا ننکانہ کی رہائشی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو عابد کی موجودگی کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی لیکن پولیس 30 منٹ تاخیر سے پہنچی۔

Read more

قصور واقعی عورت ہی کا تھا

واقعہ اتنا دردناک ہے کہ کوئی بھی درد دل رکھنے والا انسان نہ اس سے لاتعلق رہ سکتا ہے اور نہ ہی کچھ بولے یا لکھے بنا اسے سکون آ سکتا ہے۔ یہ بڑی بے حسی کی بات ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی واقعہ ہونے کا انتظار کیا گیا۔ جب واقعہ ہو گیا تو انتظامیہ اس بات کا تعین کرنے لگی کہ واردات کس کے علاقے میں ہوئی ہے؟ لاہور پولیس کا کہنا تھا کہ موٹروے کے جس ٹکڑے پر واردات ہوئی ہے وہ ہماری عملداری میں نہیں آتا، موٹروے پولیس نے بھی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دی، پھر سوال اٹھا کہ وہ عورت بھی باقی عوام کی طرح بھاری ٹول ٹیکس دے کر آئی تھی تو سیکیورٹی دینا کس کی ذمہ داری ہے؟

Read more

عمر شیخ پر حکومت کا ترجیحی بیانیہ

عمر عزیز کے 35 برس پارلیمانی رپورٹنگ کی نذر کئے ہیں۔آج بھی اس کی بابت The Nationکے لئے پریس گیلری والا کالم لکھتا رہتا ہوں۔ ان تمام برسوں میں ’’ہمارے نمائندوں‘‘ کو میں نے ہمیشہ پولیس کے بارے میں غیر مطمئن ہی پایا۔ امن وامان سے متعلق کہیں کوئی گھنائونا واقعہ رونما ہوجاتا تو اس کے حوالے سے پارلیمان میں ہوئی دھواں دھار تقاریر اس شہر کی پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتیں۔اس کے افسروں کے خلاف انتظامی کارروائی

Read more

جنسی جرائم پر سخت سزائیں :عمران خان کی تجویر پر تنقید

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے جنسی جرائم میں ملوث افراد کے لیے سخت ترین سزاؤں کی تجویز دی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے کہا ہے کہ معاشرے سے جنسی تشدد، جنسی زیادتی، گینگ ریپ ختم کرنا ہے تو پولیس اور انصاف کے محکموں کی از سر نو تشکیل کی جائے۔ سخت سزاؤں کو گنوانا وزیر اعظم کی عوامیت پسند بیان بازی سے زیادہ نہیں۔

Read more

جنسیت : پیسہ نہیں تو بندوق ورنہ خواب ہیں ناں

جنسی درندگی کا معاملہ کچھ عجیب الجھا ہوا ہے۔ جہاں مذہبی جنونیت نہیں ان لبرل معاشروں میں بھی یہ سب موجود ہے۔ ہاں قانون یا مجموعی معاشرتی صورت حال کی وجہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ قدرے کم ہے۔ معاملہ صرف یہی سمجھ آ رہا ہے کہ، سب کچھ کرو لیکن باہمی رضا مندی سے۔ باہمی رضا مندی ہی جدید انسان کے مہذب ہونے کی علامت ہے۔ لیکن ہم کیا کریں ہمارے سامنے باہمی رضا مندی کے مقام پر گناہ اور سزا کا تصور ہے۔ اس لیے شب خون مار لیتے ہیں۔ بعد میں رب کو راضی کر لیں گے۔

ہم سب کا ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہے، مردانہ معاشرے کا رعب۔ کسی جگہ ایک بڑی عمدہ بات پڑھی کہ ہم نے عورت کو باحیا بنانے کے چکر میں مرد کو بے حیا بنا دیا۔ اور مرد ; یہ نہیں، وہ چاہیے۔ مرضی سے نہیں، تو طاقت سے۔ اس پورے معاملے پر دن رات کھپنے والے وہ لوگ ہیں جو ایسے واقعات کو ہوتا دیکھ کر گھر جا کر سو جاتے ہیں اور صبح خبر پڑھ کر سوشل میڈیا پر شور مچاتے ہیں۔

Read more

مار دو، لٹکا دو، جلا دو

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر گوجرہ کے مقام پر ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے دلخراش واقعے کے بعد بشمول عوام میڈیا کی ساری توجہ اسی واقعے پر مرکوز ہے۔ کیوں نہ ہو، واقعہ ہی اتنا دہلا دینے والا ہے۔

اس واقعے کے بعد تین طرح کی بحثیں چھڑ گئی ہیں عمومی طور پر اس واقعے سے متعلق یا اس سانحے سے متاثرہ کوئی تحریر پڑھیں یا تقریر سنیں تمام ان تین طرح کی بحثوں میں ہی اضافہ کرتی نظر آتی ہیں۔

پہلی بحث مذکورہ موٹروے پر وارداتیں رپورٹ ہونے کے باوجود سیکیورٹی کی عدم موجودگی پر مبنی ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے موٹروے پولیس کی جانب سے سیکیورٹی مقرر کرنے تک پنجاب پولیس کے 250 اہلکار مقرر کر کے بحث کا یہ ”چیپٹر کلوز“ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کچھ منچلے ہیں کہ رٹ لگائے بیٹھے ہیں ذمہ داروں کا تعین کرو انہیں سزائیں دو۔ ارے بھائی منچلو! جب پنجاب حکومت اہلکار مقرر کر چکی ہے تو کاہے مغز کھپاوت ہو۔ بس ہو گیا نہ عملہ مقرر۔ بات ختم۔ آگے بڑھو۔

Read more

موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کی اہلیہ گرفتار

پولیس نے موٹروے پر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے مرکزی ملزم عابد ملہی کی اہلیہ بشریٰ کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والی خاتون بشریٰ کی ملزم عابد ملہی سے یہ دوسری شادی تھی۔ ملزم عابد کی اہلیہ تحصیل تاندلیہ والا، ضلع فیصل آباد کی رہائشی ہے۔

Read more

لاہور موٹروے ریپ کیس: پاکستان میں ریپ جیسے جرائم کے لیے کس قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے؟

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں جرائم کی روک تھام کے لیے سزاؤں کا اذیت ناک اور سنگین ہونا ضروری نہیں بلکہ سزا کا یقینی ہونا بہت ضروری ہے اور ملک کے نظام عدل میں سائنسی بنیادوں پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

Read more

سانحہ موٹر وے اور پولیس نظام!

دوران سفر خاتون کے ساتھ پیش آنے والے المناک موٹر وے سانحہ پر قوم غمزدہ ہے وزیر اعظم عمران خان کے اس واقعہ پر نوٹس کے بعد تا دم تحریر سفاک ملزمان پنجاب پولیس کی دسترس سے باہر ہیں جس معاشرے میں امتیازی رویوں اور قوانین کا راج ہو وہ معاشرے درندگی اور وحشت کی آمجگاہ بن جاتے ہیں۔ سانحہ موٹروے نے جہاں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا کرسرخ دائرہ لگا دیا ہے وہیں یہ

Read more

قیامت تو گزر چکی بس جہنم تک پہنچنا باقی ہے

افسوس صد افسوس۔ ۔ ۔ اسکول میں ریپ، دفتر میں ریپ، مدرسے میں ریپ، گلیوں میں ریپ، ستر سالہ سے ریپ، سات سالہ سے ریپ، زندہ سے ریپ، قبروں سے نکال کے میتوں سے ریپ، مساجد کے حجروں میں بچوں سے ریپ، رات کو ریپ، دن دیہاڑے ریپ، خواجہ سراہوں سے ریپ، دو بچوں کی ماں سے ریپ۔ سوچو پوری زندگی وہ بیٹا بیٹی کس اذیت سے گزریں گے؟ وہ ماں کس اذیت سے گزرے گی؟ آپ کہیں بھی محفوظ

Read more

سی سی پی او لاہور عمر شیخ: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف تحریک استحقاق جمع کروانے کا اعلان

انسانی حقوق سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے لاہور سیالکوٹ موٹروے ریپ کے مقدمے میں طلب کیے جانے کے باوجود کپیٹل سٹی پولیس افسر لاہور عمر شیخ کے پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

Read more

آپ چاہتی ہیں کہ بوائے فرینڈ کے ساتھ کمرے میں جائیں تو باپ باہر پہرہ دے: خلیل الرحمان قمر

ڈرامہ نویس خلیل الرحمان قمر نے، جو خواتین سے متعلق اپنے متنازع بیانات کے لئے جانے جاتے ہیں، نے ایک مرتبہ پھر موٹروے پر ریپ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں شامل ہونے والی خواتین کے لئے اخلاق سے گرے ہوئے جملے استعمال کیے ہیں۔ بول ٹی وی پر فضا اکبر خان کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ پہلے تو یہ بتائیں کہ ان (عورتوں) کے باپ کہاں ہیں؟ ان کے بھائی کہاں ہیں؟

Read more

یہ ریپ کا کلچر ہے – مکمل کالم

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کا ہے، وقت ہے رات ساڑھے نو بجے کا اور مقام ہے نئی دہلی۔ 23سالہ جیوتی سنگھ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ سنیما سے فلم دیکھ کر نکلی ہے۔ گھر واپس جانے کے لیے دونوں ایک بس میں سوار ہوتے ہیں جس میں ڈرائیور سمیت پہلے سے چھ افراد موجود ہیں۔ ایک کنڈکٹر نما لڑکا جس کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم ہے انہیں بتاتا ہے کہ یہ بس وہیں جا رہی ہے

Read more

ڈراما چینلز ہوش کے ناخن لے لیں

مشتری ہوشیار باش! اے آر وائی کے ڈراما ”جلن“ پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ اس کے خلاف عوام کی طرف سے پیمرا کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ تنبیہ کے باوجود پروڈیوسر، ڈائریکٹر، اور چینل نے کہانی کے مواد میں تبدیلی نہ کی لہذاٰ اخلاقی اور معاشرتی اقدار و روایات سے متصادم ہونے کی بنا پر اسے آن ائر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

پیمرا نے یہ اعلان ایک پریس ریلیز کی صورت میں نو ستمبر کو ڈرامے کی تازہ قسط آن ائر جانے کے بعد کیا۔

Read more

سانحہ موٹر وے لاہور کی دوسری متاثرہ خاتون

سانحہ موٹر وے لاہور سے ایک دن پہلے کراچی کی معصوم کلی مروا پر فیس بک لائیو دینے کے بعد اسی ایشو پر اپنے یوٹیوب چینل کے لیے ایک ویڈیو بنا کر ”بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم پر ریاست اور معاشرے کی خاموشی چہ معنی“ پر اپنے فیچر کو حتمی شکل دینے کے لیے بیٹھ گئی۔ صبح اٹھی تو سوشل میڈیا اور اسٹریم میڈیا پر لاہور موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی خبریں گرم تھی اور بطور صحافی مجھے یہ اندازہ ہوا کہ آئندہ کئی دنوں تک ہم اس موضوع پر بات کریں گے، ہیش ٹیگ کی روایت کی میں اپنے ایک دن پہلے کے فیس بک لائیو میں مذمت کر چکی تھی کہ اب معاملات ہیش ٹیگ سے آگے بڑھ چکے ہیں اور ہمیں بطور معاشرہ اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور اس کا ایک اہم راستہ بھرپور احتجاج ہے وہ بھی پر سطح پر تاکہ ریاست موثر قوانین سازی کرتے ہوئے ان قبیح جرائم کے مرتکب افراد کے لیے سخت سے سخت سزاوں کو یقینی بنائے۔

اس دوران موٹر وے حادثہ پوری شدت سے سامنے آیا، میری اس حوالے سے سوشل میڈیا یاترا جاری تھی اور خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا تھا کہ مجھے فیس بک میسنجر پر اسکرین شاٹ کے ساتھ ایک لنک موصول ہوا، جسے دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔

Read more

یہ ریپ کا کلچر ہے – مکمل کالم

یہ ریپ کا کلچر ہے

یہ واقعہ 16 دسمبر 2012 کا ہے، وقت ہے رات ساڑھے نو بجے کا اور مقام ہے نئی دہلی۔ 23 سالہ جیوتی سنگھ اپنے ایک مرد دوست کے ہمراہ سنیما سے فلم دیکھ کر نکلی ہے۔ گھر واپس جانے کے لیے دونوں ایک بس میں سوار ہوتے ہیں جس میں ڈرائیور سمیت پہلے سے چھ افراد موجود ہیں۔ ایک کنڈکٹر نما لڑکا جس کی عمر اٹھارہ سال سے بھی کم ہے انہیں بتاتا ہے کہ یہ بس وہیں جا رہی ہے جہاں انہیں پہنچنا ہے۔ تھوڑی دیر بعد جیوتی سنگھ اور اس کے دوست کو احساس ہوتا ہے کہ بس اپنے مقررہ راستے پر چلنے کی بجائے کسی دوسری طرف نکل گئی ہے اور بس کے دروازے بھی بند ہو گئے ہیں۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: شوبز شخصیات کی جانب سے خواجہ سراؤں کے احتجاجی مظاہرے کو نظرانداز کرنے پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پاکستان کے صوبے پنجاب میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ریپ کے واقعے کے بعد سے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی جس کے بعد عوام کی جانب سے مختلف مظاہرے کیے گئے تھے۔ اسی نوعیت کا ایک اور احتجاج 14 ستمبر کو پیر کے روز کراچی میں پریس کلب کے سامنے منعقد ہوا لیکن اس بار سوشل میڈیا پر تنقید کی توپوں کے گولوں کا رخ معاشرتی برائیوں کے بجائے اس مظاہرے میں شرکت کرنے والوں پر تھا۔

Read more

‏لاہور موٹروے کا واقعہ اور آسڑیلیا کے حاجی صاحب

‏حاجی صاحب سے اچھی شناسائی ہے اور ہماری دوستی کو عرصہ دراز ہونے کو آیا ہے۔ حاجی صاحب کا اصل نام تو محمد لطیف ہے لیکن سب ان کو حاجی صاحب کہہ کر پکارتے تھے۔ حاجی صاحب باقاعدگی سے صبح پارک میں ورزش کرنے آتے ہیں۔ میری ان سے دوستی کا آغاز بھی صبح کی سیر سے ہی ہوا تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ پچھلے دو تین دن سے حاجی صاحب صبح کی سیر پر نہیں آئے تو تھوڑی سی

Read more

موٹروے ریپ کیس: ’مرکزی ملزم کا ڈی این اے پروفائل محفوظ نہ ہوتا تو شاید یہ کیس کئی سال تک حل نہ ہو پاتا‘

بی بی سی کے ساتھ خصوصی گفتگو میں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اشرف طاہر نے ان تمام واقعات کا احاطہ کیا ہے جن کی مدد سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادار ے ملزمان تک جلد پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

Read more

موٹروے سانحہ پر غیر ذمہ دارانہ رویے

 زندگی میں بہت کچھ دیکھنے کے بعد بالآخر اب یہ جان لیا ہے کہ سیاست دانوں کا اصل مقصد حصول اقتدار ہوا کرتا ہے۔اس کے حصول کے لئے جمہوری ملکوں میں عوام کو خواب دکھائے جاتے ہیں۔اشرافیہ کے طاقت ور طبقات سے سازشی گٹھ جوڑ بھی ضروری ہوتا ہے۔ اقتدار مل جائے تو اسے بچائے رکھنا بنیادی ترجیح ہوجاتا ہے۔ حکومتی مخالفین اس کے برعکس ہمہ وقت ’’صبح گیا یاشام گیا‘‘ والا ماحول بنانے کی کاوشوں میں مبتلا رہتے ہیں۔کئی

Read more

ترا باپ بھی دے گا آزادی

سانحہ موٹروے ہواجس کے بعد دل واقعی دکھی ہے اور اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے ’کم ہے۔ پاکستان میں جس تیزی کے ساتھ ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور پوری دنیا میں پورنو گرافی میں پاکستان جس طرح نمایاں پوزیشن میں آ رہا ہے‘ واقعی ایک غور طلب بات ہے۔ مجھے اس واقعے کے پس منظر اور اس کی جزیات پہ بات اس لیے بھی نہیں کرنی کہ اس پر بہت تفصیل سے لکھا اور دکھایا

Read more

موٹروے سانحہ اور ورلڈ کرائم انڈیکس میں ہمارے شہر

یہ کہنا کہ جہاں انسان بستے ہیں وہاں کوئی جرم نہیں ہو گا، حقائق کے خلاف ہے اور انسانی فطرت کے بھی۔ قتل جیسے جرم کی داستاں ہم تخلیق آدم کے ساتھ ہی سنتے ہیں جب آدم ؑ کے فرزند قابیل نے اپنے بھائی کو قتل کر ڈالا۔ سو لاکھوں برسوں پر محیط انسان کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ کسی بھی انسانی معاشرے کو مکمل طور پرجرائم سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر

Read more

تحریک انصاف حکومت کے سربراہ کا ناقص، غیرذمہ دار اور تشدد پسند نظریہ انصاف

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ریپ اور جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز دی ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت اس حوالے سے ایک مسودہ قانون لانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اس سے پہلے ہی قومی اسمبلی میں ریپ کے مجرموں کو سزائے موت دینے کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ آج ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان کا جنسی مجرموں کے بارے میں کہنا

Read more

کتا دریا کی طرف گیا ہی کیوں تھا؟

کسی ماں کے لیے اس سے زیادہ اذیت ناک مرحلہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کی اولاد کے سامنے اس کا دامن تار تار کر دیا جائے۔ یہ درندگی کی انتہا سے بھی کوئی پرے کی چیز ہے کہ اولاد کو سامنے کھڑا کیا جائے اور ان کی ماں کی عزت کا تماشا لگایا جائے۔ بلا شبہ جس طرح ان درندوں نے اولاد کے سامنے ممتا کو ذلیل کیا، ان کی جنت کی بے توقیری کی اور ان کی

Read more

حکومت اور حکومت گر دونوں ابہام دور کریں

بات تو درست ہی ہے کہ خاتون رات کے اوقات میں بغیر کسی محرم کے نکلی ہی کیوں تھی۔ پھر یہ کہ اگر سفر ہی کرنا تھا تو بجائے جی ٹی روڈ سفر اختیار کرنے کے موٹروے کو کیوں منتخب کیا مگر ان سب سے پہلے اس بد قسمت خاتون سے یہ پوچھا جائے کہ وہ فرانس جیسے غیر اسلامی ملک سے ایک اسلامی ملک میں تشریف ہی کیوں لائی تھیں۔ نہ وہ پاکستان آتیں، نہ ان کو تنہا گاڑی

Read more

عثمان بزدار درندوں کے تعاقب میں

لاہور سیالکوٹ موٹروے پر 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی شب انتہائی دلخراش واقعہ رونما ہوا، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ اس واقعہ پر ہر پاکستانی خواہ وہ مرد ہو یا عورت سب کی ہمدردیاں گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کے ساتھ ہے جبکہ ہر کوئی یہ بھی مطالبہ کر رہا ہے کہ واقعہ میں ملوث، لزمان کوجلد گرفتار کرکے قرارواقعی سزا دی جائے۔ اس واقعہ پر اگر خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے

Read more

گونگا معاشرہ بہری ریاست

ہر گزرتے دن کے ساتھ خوف کے سائے گہرے ہو رہے ہیں۔ خوف کا سبب جرائم کی شرح نہیں وہ انکار ہے جس کا شکار ریاست ہو چکی ہے، وہ افراد ہیں جو مظلوم کو قصوروار ٹھرا دیتے ہیں۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

موٹروے ریپ کیس: کیا شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں لاہور، سیالکوٹ موٹروے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی؟

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی شہباز شریف نے ریپ واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کو موٹروے بنانے کا کریڈٹ دیا؟ یا اصل کہانی کچھ جو 18 سیکنڈ کے کاٹے گئے کلپ میں توڑ مروڑ کر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Read more

ریپ کلچر: بیٹی کے مقدمے کی پیروی کرتی ماں کا شکوہ، ’ریپ کے بعد صلح کرنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟‘

پنجاب میں ہر ماہ ریپ کے 292 یعنی ہر روز لگ بھگ ریپ کے دس مقدمات درج ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں ریپ کے واقعات کی اصل تعداد باقاعدہ رپورٹ ہونے والے کیسز سے کہیں زیادہ ہے۔

Read more

تحریک انصاف کو نئے بیانیے کی ضرورت

عمران حکومت کی بابت مثبت تاثر کو فروغ دینے کے لئے جو افراد میڈیا سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں ان میں سے کسی ایک سے بھی میری ذاتی شناسائی نہیں۔ہمارے میڈیا کے چند بااثر دوستوں سے مگر برسوں پرانے رشتے ہیں۔ وہ میری گوشہ نشینی کے بار ے میں واقعتا متفکر رہتے ہیں۔ بہت خلوص سے یہ چاہتے ہیں کہ میں محفل بازی کی جانب لوٹ آئوں۔ پھکڑپن اور یاوہ گوئی کی رونق برقرار رہے۔ گزشہ چند مہینوں سے

Read more

موٹروے ریپ کیس: کیا ملزمان کی شناخت ظاہر کرنے سے کیس کمزور پڑ سکتا ہے؟

سابق آئی جی پولیس افتخار رشید کے مطابق تفتیش میں کچھ کامیابیاں ملنے کے بعد کیس کی ادھوری تفصیلات ظاہر کرنا مناسب نہیں کیونکہ کسی کیس کی تفتیش کے دوران جب تک ملزم گرفت میں نہ آ جائیں کسی قسم کی تفصیلات منظر عام پر آ جانے سے فائدہ ملزمان کو ہو سکتا ہے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: کچھ باتیں ابھی رہتی ہیں

اگر بدقسمتی سے ریپ کا واقعہ آپ کے گاؤں یا علاقے میں ہوا ہے اور اس واقعہ کو میڈیا نے اٹھا لیا ہے۔ پولیس پر مجرم پکڑے کا شدید دباؤ ہے۔ آپ ایک شریف آدمی ہیں اور ریپ جیسا گھناؤنا جرم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن آپ کو ایک شدید خوف نے گھیر رکھا کیونکہ آپ قطار میں کھڑے اپنے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

ریپ یا زبر جنسی ایک گھناؤنا جرم ہے۔ ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر تو عورتیں، بچیاں، بچے اور ٹرانس جینڈر اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن مرد بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ مہذب دنیا نے اس پر قوانین کو بہتر کر دیا ہے اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ذریعے انہیں سیکس کرائمز پر حساس بنانے کی کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ قانون بہتر ہونے کی وجہ سے رپورٹ کرنا بھی کافی قدر آسان ہو گیا ہے۔

Read more

درندوں کی طاقت کا راز

وہ سمرقند کی رات تھی، چاندنی میں نہائی ہوئی۔ یہاں وہاں جانے کے لیے پوچھنا پڑتا تھا۔ پوچھو تو سمجھو گئے۔ غلام جو ہمارا میزبان تھا، مصیبت میں پڑ جاتا۔ زبان سے وہ کچھ کہتا تو نہیں تھا لیکن ہمیں معلوم تھا کہ اپنے بزرگوں کے شہر میں گھومتے ہوئے دائیں بائیں جو کچھ سائے دکھائی دیتے ہیں، ان کا اہتمام وہی کرتا ہے تاکہ مسافر بھٹکنے نیز کسی مصیبت میں پھنسنے سے محفوظ رہیں مگر وہ چودہویں کی رات تھی، دودھ میں نہائے ہوئے شہر کے حسن سے آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی خواہش منہ زور تھی۔

نوید سے میں نے کہا، شہر آرزو کی سڑکیں اور گلیاں اس سمے نہ دیکھیں تو کیا دیکھا؟ ڈاکٹر نوید الٰہی اس عہد کے سب سے بڑے مسئلے یعنی بدامنی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے عالمی شہرت یافتہ ماہر سہی لیکن ان کے دل میں ایک شاعر بھی سانس لیتا ہے۔ میری بات سن کر انھوں نے آنکھ ماری اور کہا کہ ہاں یار، مجھے تو ٹوتھ برش بھی خریدنا ہے۔ یوں اس عذر ”شرعی“ نے ہوٹل زرینہ کے بند دروازے کھول دیے اور یہ مسافر امیر تیمور اور الغ بیگ کے زمانے کی دو تین پتھریلی گلیوں کے در و دیوار کو چھوتے اور ٹٹولتے ہوئے ریگستان اسکوائر جا پہنچے۔

Read more

احساس ذمہ داری اور خاتون کے ساتھ ریپ

من حیث القوم ہمارا یہ رویہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری اور فرائض کو کماحقہ پورا نہیں کرتے اور غفلت و لاپرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ پھر اس کا ذمہ دار دوسرے افراد کو ، حالات کو یا پھر قسمت کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی رویہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا موٹروے پر گجر پورہ کے علاقہ میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔

موصوف کہتے ہیں ”کہانی یہ ہے کہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلی ہیں۔ پہلے تو میں حیران ہوں کے تین بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے۔ آپ ڈیفنس سے نکلی ہو، آپ سیدھا جی ٹی روڈ لو، جہاں پر آبادی ہے اور گھر چلی جاؤ۔ اگر اس طرف سے (موٹروے ) سے نکلی ہوتو اپنا پیٹرول چیک کر لو، بہرحال یہ مسئلہ تھا ان کا “ ۔

Read more

حوا کی بیٹیوں کو تذلیل سے بچائیں

تاریک رات میں ہونے والا جنسی درندگی کا سانحہ موٹروے ظلم و بربریت کے ایسے انمٹ نقوش اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے جنہیں بھلانے کے لئے ایک عرصہ درکار ہے۔ معصوم بچوں کے رگ و پے میں سرایت کر جانے والے خوف کے سائے جانے کیسے ختم ہوں گے۔ جانے کیسے وہ بھول پائیں گے ظلم کی اس تاریک رات کو جس نے ان کے دل و دماغ کے ساتھ ان کی روح کو بھی چھلنی کر دیا ہے۔ جانے کب ان کے ذہنوں پر چھائے خوف و دہشت کے اثرات قصہ پارینہ بنیں گے اور جانے کب ان کے خوفزدہ چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ بکھرے گی۔

اس واقعہ میں جہاں ایک طرف انسان کے بھیس میں چھپے درندوں نے بربریت کے پہاڑ توڑے وہیں پر پولیس کے سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر بربریت کا شکار ہونے والی خاتون کو ہی لاپروا کہہ کر اس بے گناہ خاتون کے زخموں پر بارہ مسالے ڈالنے کا کام کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انچارج لاہور پولیس تگ و دو کر کے جنسی درندوں کو گرفتار کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچاتے مگر انہوں نے ظلم کا شکار ہونے والی خاتون پر ہی ایسے اعتراضات کرنے شروع کر دیے جو کہنے کا استحقاق صرف اہل خانہ کو تھا۔

Read more

موٹر وے کیس، ملزم شفقت علی گرفتار، ڈی این اے بھی میچ کر گیا، دنیا نیوز

دنیا نیوز نے خبر دی ہے کہ موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور وقار الحسن کی نشاندہی پر ملزم شفقت کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے، ملزم شفقت کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔

Read more

ریپ پر بیان: سی سی پی او لاہور نے معافی مانگ لی

موٹروے پر خاتون سے ریپ کے معاملے پر سی سی پی او لاہور نے متنازع بیان پر معافی مانگ لی۔ انہوں نے کہا بیان سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معافی مانگتا ہوں، متاثرہ خاتون اور تمام طبقات سے معذرت چاہتا ہوں، میرے بیان کا مطلب کوئی غلط تاثر دینا نہیں تھا۔

Read more

سی سی پی او کے بیان پر پوری کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے خاتون زیادتی کیس میں سی سی پی او لاہور کو دوپہر ایک بجے عدالت طلب کر لیا۔ عدالت نے واقعہ کی تحقیقات کے لئے قائم کمیٹی کا نوٹیفکیشن بھی طلب کر لیا۔

Read more

ریپ کیس کے مرکزی ملزم وقار الحسن کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا

موٹروے کیس میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، ملزم وقار الحسن کے ڈی این اے کی رپورٹ آ گئی ہے اور وہ میچ نہیں ہوا ہے۔ متاثرہ خاتون نے بھی ملزم وقار الحسن کو پہچاننے سے انکار کر دیا۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: لاہور ہائی کورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو طلب کر لیا

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سی سی پی او کے بیان پر پوری صوبائی کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی، جس سے قوم کی بچیوں کو کچھ حوصلہ ہوتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اسی ذہن کے ساتھ تفتیش ہو رہی ہے تو پتا نہیں کتنی حقیقت ہے اور کتنی ڈرامہ بازی ہے۔

Read more

جرائم کی روک تھام میں پولیس کا کردار

موٹروے گجر پورہ کے قریب ہونے والے ریپ کے واقعہ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اس واقعہ نے پولیس اور حکومتی اداروں کی غفلت، غیر ذمہ داری اور نا اہلی ظاہر کردی۔ ایسے واقعات کی روک تھام اور مستقبل میں ایسے جرائم سے بچاؤ کے لئے کیا کچھ کیا جانا ضروری ہے اسی تناظر میں کچھ تجاویز وآراء چند روز سے موضوع بحث رہیں ہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔ ریپ اور دیگر سنگین جرائم

Read more

کسی راؤ انوار کی تلاش؟

’’پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی‘‘ ، آمر مطلق جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ سلوگن خاصا مشہور ہواتھا۔ اس سے پہلے کے ادوار اور آج کل بھی پولیس غریب عوام کی چھترول کر کے ہی ’’مدد‘‘ کرتی آ رہی ہے۔ پولیس، برسراقتدار سیاستدانوں اور مافیاز کے درمیان گٹھ جوڑ کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ریاست مدینہ کے داعی اور تبدیلی کے پیامبر عمران خان کے اقتدار میں

Read more

’غدار‘ صحافی اور ایک پیج کی دیانت دار حکومت

موٹروے ریپ کیس، اس پر پنجاب حکومت کی پھرتیوں اور وزیر اعظم کے مشیروں کی وضاحتوں بھری ستائش کے علاوہ لاہور کے سی سی پی او کے مضحکہ خیز مگر شرمناک و افسوسناک بیان پر ہونے والے ہنگامے میں کسی کو خبر بھی نہ ہوئی کہ پنجاب اور سندھ کی مستعد و چوکس پولیس نے دو ’غدار‘ صحافیوں کے خلاف مقدمے درج کرکے ان کی ’وطن فروشی‘ کے بارے میں تفتیش کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ عام لوگوں تک یہ

Read more

خاتون سے درندگی: میڈیا اور پولیس

کسی واردات کے ملز م کی ’’شناخت‘‘ اور ’’گرفتاری‘‘ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اتوار کی صبح اُٹھنے کے بعد یہ کالم ختم کرنے تک لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ ہوئی درندگی کے مرتکب افراد کی فقط شناخت ہوئی تھی۔ دو بیٹیوں کا باپ ہوتے ہوئے ربّ کریم سے فریاد کررہا ہوں کہ میرا کالم چھپنے تک ذمہ دار ٹھہرائے درندے گرفتار ہوچکے ہوں۔آنے والے کئی دنوں تک بطور صحافی یہ خیال مگر مجھے کئی دنوں تک پریشان

Read more

خواتین اور ہمارے سماجی رویے

موٹر وے پر ایک خاتون مسافر کے ساتھ جو گزری سو گزری لیکن اس سانحہ نے دنیا بھر میں پاکستان کو بری طرح رسوا کیا۔ دنیا کا کوئی بڑا اخباریا چینل نہیں جہاں اس حادثے کی بازگشت سنائی نہ دی ہو۔ اہل پاکستان رنجیدہ اور شرمندہ ہیں۔ یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں۔ہوس کے بھوکے، گھٹن زدہ اور قانون سے عاری معاشرے میں یہ ہر روز ہوتاہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ موٹر وے پر حادثے کا شکار ہونے

Read more

پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ کیوں ہے؟

پاکستان اگر غیر محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے تو اس کی وجہ آزادی نہیں، پابندی ہے۔ ٭٭٭     ٭٭٭ بلا شبہ پاکستان عورتوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن چکا ہے۔ جہاں عورت شلوار قمیص پہنے یا جینز، دپٹا پہنے یا دپٹے سے بے نیاز ہو، چادر میں لپٹی ہو یا بغیر آستینوں کے ہو، اس کی عمر تین سال ہو یا پچھتر سال ہو، وہ ریپ ہو جاتی ہے۔ اب تو صورت حال اس قدر ابتر ہو چکی

Read more

مجرم اور محافظ میں کوئی فرق باقی رہا یا نہیں؟

موٹر وے روڈ پر بچوں کے سامنے ان کی ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے پر سی سی پی او لاہور کے بیہودہ بیان کو سن کر مجھے تو چنداں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ان کا یہ غلیظ بیان ہی تو دراصل ہمارے نام نہاد مشرقی اقدار کی دین ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرا شخص آپ کو خواتین کے حوالے سے اسی طرح کے بیانات دیتا دکھائی دے گا کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کی روایت ہے۔ صرف سی سی

Read more

پورن سے ریپ تک۔۔۔ سب جائز ہو گیا ہے

سکیس ڈول کلچر کو پروموٹ کیا جائے، جب یہ بات پڑ ہی گئی۔ بہت سوں کے تن بدن میں آگ اس لئے لگی کہ انہیں ڈول نہیں، انہیں عورت اور بچے بھی چاہئیں لیکن اس کے باوجود اکثریت نے شاباش کی تھپکی دی کہ جو کہی گئی نہ ہم سے، وہ کہہ دیا ہے تم نے۔ بہت سے فون بھی آئے اور والدین کا درد دل یہ تھا کہ اب ہمیں بیٹی کے ریپ ہونے سے زیادہ خوف بچوں کے

Read more

جوتوں کا تاجر پولیس کو مدد کے لیے فون کر کے کیسے لٹا؟

لیہ کے اک تاجر ہیں جوتوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ ہر پندرہ بیس دن میں اپنے کیری ڈبے میں لاہور جاتے ہیں اور مال خرید لاتے ہیں۔ گزشتہ سردیوں کی بات ہے کہ وہ لیہ سے نکلے اور چوک اعظم سے آگے کہیں ان کی گاڑی کا فیول ختم ہو گیا۔ رات کے دو ڈھائی بجے کا وقت تھا۔ پہلے تو انہوں نے سنسان سڑک پہ آنے جانے والوں کا انتظار کیا کہ کسی سے مدد طلب کی جا سکے۔ پھر تنگ آ کر پولیس کو فون کر دیا۔ پولیس کو تمام حالات بتائے جب پولیس نے استفسار کیا کہ اس وقت کہاں جا رہے ہو تو بدقسمتی سے انہوں نے بتا دیا کہ لاہور مال خریدنے جا رہا ہوں۔

Read more

موٹروے : درندوں نے انسانیت لوٹ لی

موٹر وے واقع پر کس کو قصور وار ٹھہرایا جائے۔ اس پولیس کو جس کا سربراہ یہ کہہ رہا ہے کہ خاتون کو رات بارہ بجے موٹر وے پر اکیلے نہیں آنا چاہیے تھا یا عورت کو جو رات بارہ بجے گاڑی کا پیٹرول چیک کیے بغیر بچوں کو لے کر براستہ موٹروے لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھی؟

فرض کیا وہ بچوں کے ساتھ اپنی فیملی کے کسی مرد کے ساتھ ہوتی تو کیا خاتون وحشیانہ سلوک سے بچ جاتی۔ نہیں وہاں لاشوں کا ڈھیر بھی پولیس کو سنبھالنا پڑ جاتا۔ غلیظ نیت کو کیا پتا تھا کہ گاڑی کے اندر کون اور کتنے لوگ ہیں وہ تو بس اس غلاظت میں رنگے ہوئے تھے جو ہم سب کی اجتماعی زندگی میں رواں دواں ہے۔

Read more

سانحہ موٹروے اور ہمارا نظام انصاف

یہ بحث بالکل لاحاصل ہے کہ رات کے اس حصہ میں ایک ویران اور بغیر سکیورٹی کے سڑک پر ایک تنہا عورت کو اپنے معصوم بچوں کے ساتھ سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں۔ اس سڑک پر سکیورٹی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ چھ ماہ سے مکمل شدہ اس سیالکوٹ موٹروے پر ابھی تک موٹروے پولیس کیوں تعینات نہ ہوئی۔ کون سی فائل کس دفتر میں رکی اور اس کے ذمہ دار کون کون لوگ ہیں۔ اصل المیہ یہ ہے کہ رات کے تقریباً بارہ بجے جب وہ مظلوم عورت موٹروے پولیس سے اور پھر ان کے بتائے دیگر نمبر پر مقامی پولیس سے گاڑی میں پٹرول ختم ہونے کی اطلاع کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وہ اس ویران سڑک پر اپنے معصوم بچوں کے ساتھ تنہا بے یارو مددگار کھڑی ہے۔ تو رات دو بج کر پچاس منٹ کے قریب ڈولفن پولیس کے کچھ جوان جنگل میں اسے تلاش کرنے نکلتے ہیں۔ بقیہ سب کچھ میڈیا پر آ چکا ہے۔ دہرانے کی ضرورت نہ ہے۔ جس المیے کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں وہ قابل غور ہے کہ لاہور جیسے صوبائی دارالحکومت میں شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک بے بس عورت ہر قسم کی پولیس سے مدد طلب کرتی ہے۔ ایک راہ گیر رات دو بجے 15 ایمرجنسی نمبر پر عورت کی لوکیشن اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی اطلاع دیتا ہے۔ اور وہ راہ گیر یہ اطلاع دیتے دیتے اور جوابی سوالات سے پولیس حکام کو مطمئن کرتے کرتے موٹروے کا سفر مکمل کر کے اپنی منزل مقصود سیالکوٹ پہنچ جاتا ہے۔ مگر پولیس پورے پچاس منٹ بعد حرکت میں آتی ہے۔ یہ کس طرح کا ایمرجنسی پولیس نظام ہے۔ یہ اصل لمحہ فکریہ ہے۔

Read more

کیا ہم پنجرے میں بند مرغیاں ہیں؟

آج منظر یہ ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس پر بڑے شہروں میں صرف خواتین کے جلوس نکل رہے ہیں جیسے یہ صرف انھی کا مسئلہ ہو۔ ہر قومیت، فرقے، مسلک اور زبان بولنے والے کو اپنے اپنوں کے سوا اردگرد کے دیگر مسائل زدہ پاکستانی طبقات نظر آنے بند ہوتے چلے گئے ہیں۔

Read more

قائد اعظم اور موجودہ پاکستان

قائد اعظم کو وفات پائے 72 برس مکمل ہو گئے۔ قائد اعظم نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر یہ ملک حاصل کیا مگر ہم نے جیتے جی اور ان کے بعد جو ان سے سلوک کیا کم از کم ذی شعور اقوام تو ایسا نہیں کرتیں۔ ہم نے قائد اعظم کے عطا کردہ وطن کو ان کی سوچ کے برعکس چلایا، اس سے زیادہ بڑی احسان فراموشی کیا ہو سکتی ہے۔ قائد اعظم کو ٹی بی کا عارضہ لاحق

Read more

” میں بے گناہ ہوں، ڈی این اے ٹیسٹ ٹھیک کراؤ“ موٹر وے زیادتی کیس کا مرکزی ملزم ماڈل ٹاؤن تھانہ پہنچ گیا

لاہور موٹروے پر دوبچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں مفرور ملزم وقار الحسن از خود ماڈل ٹاؤن تھانے میں پیش ہو گیا لیکن اس نے جرم ماننے سے انکار کر دیاہے اور ڈی این اے ٹیسٹ ٹھیک کروانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

Read more

پاکستان میں جرائم اور دہشتگردی کے واقعات کی میڈیا کوریج کیسے ہوتی ہے؟

پاکستان میں توجہ حاصل کرنے کے لیے کوئی چینل بازی لے جاتا ہے تو کوئی سب سے بڑی خبر اور بریکنگ نیوز کے دعوے سے سکرین کا رنگ لال پیلا کر دیتا ہے۔ چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے رپورٹرز پر بھی دباؤ رہتا ہے اور وہ خود سے بھی نئے نئے طریقے ایجاد کرتے نظر آتے ہیں۔ کیا اصل میں میڈیا کے ضابطہ اخلاق میں درج کیا ہے۔

Read more

شہباز گل کی ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کا سخت ردِعمل: ’شہباز صاحب! فرات کے کنارے کُتا نہیں، عورت لوٹی گئی ہے‘ یہ مبارک باد دینے کی بات ہے؟‘

وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔۔۔ شہباز صاحب سوشل میڈیا پر ایک خاصی مشہور شخصیت ہیں اور اپنی ٹویٹس کے باعث اکثر خبروں میں بھی رہتے ہیں۔

Read more

ریپ ہونے کی صورت میں محکمہ ہذا ذمہ دار نہ ہوگا – مکمل کالم

اس دنیا میں روزانہ ہر عمر کی عورت کا ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سے لے کر پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ بکنی، ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، سکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کے دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ ہو، کسی بھرے پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

موٹر وے پر تین بچوں کی ماں کے ساتھ گینگ ریپ ہوا، اس سے زیادہ بھیانک جرم کا تصور ممکن نہیں، لیکن یہ جملے اب بے معنی ہو چکے، جس ملک میں ایسی گھناؤنی واردات کے بعد یہ بحث شروع ہو جائے کہ کیا اس عورت کو رات کے وقت ویران موٹر وے پر سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں اور یہ بحث چھیڑنے والے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ ہوں بلکہ ان کا تعلق سول سروس سے ہو تو باقی اندازہ خود لگا لیں کہ اس معاشرے کا عام مرد کیسے سوچتا ہوگا۔ آپ کے لیے اگر یہ اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہو تو بطور مرد میں مدد کر دیتا ہوں۔

Read more

شہباز گل کی ٹویٹ پر سوشل میڈیا صارفین کا سخت ردِعمل: ’شہباز صاحب! فرات کے کنارے کُتا نہیں، عورت لوٹی گئی ہے‘ یہ مبارک باد دینے کی بات ہے؟‘

وزیراعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی روابط ڈاکٹر شہباز گل سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔۔۔ شہباز صاحب سوشل میڈیا پر ایک خاصی مشہور شخصیت ہیں اور اپنی ٹویٹس کے باعث اکثر خبروں میں بھی رہتے ہیں۔

Read more

واردات کے بعد

ڈیفنس لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے موٹروے کے ایک ٹکڑے پر ایک خاتون کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات کی مذمت کے لئے لغت میں الفاظ کم پڑگئے ہیں۔ نہ صرف لوٹا گیا، بلکہ اس کے بچوں کے سامنے اس کی آبروریزی بھی کی گئی۔ دو درندوں نے ایک گھرانے، اور ایک خاندان ہی کا نہیں ہر اس شخص کا سکون چھین لیا، جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل موجود ہے۔ واقعہ تو ازحد افسوسناک، بلکہ المناک، بلکہ شرمناک تھا ہی، اس کے بعد جو کچھ سامنے آیا، اس نے تو دل کو ایسے کچوکے لگائے ہیں کہ جن کی کسک کم ہونے میں نہیں آ رہی۔

سیالکوٹ لاہور موٹروے کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے، لیکن موٹروے پولیس نے اس کی سکیورٹی نہیں سنبھالی، اس کے لئے جو افرادی قوت اور دیگر لوازمات درکار تھے، وزارت مواصلات نے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کے پرجوش وزیر مرادسعید جو اپنی گرم گفتاری کے سبب خاص شہرت کما چکے ہیں، اور ہروقت اپنی کارکردگی کی تفصیلات پیش کرکر کے داد طلب کرتے رہتے ہیں، فائل پر سوئے رہے۔ پنجاب پولیس تک کو دستے متعین کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، لیکن ٹول پلازہ جیب گرم کرنے کے لئے حاضر ہے۔

Read more

اذیت پسندی کیسے کم ہو گی؟

لاہور کے علاقے گجرپورہ میں لنک موٹر وے پر کار سوار خاتون سے زیادتی ہوئی۔ وقفے وقفے سے وحشی مزاج ہمارے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔ کئی قانونی سوال اٹھے ہیں جن کو دماغ قبول کرنے لگے ہیں، صدمے سے نکلنے پر سارا سماج سوچ سکتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور اسے کیسے روکا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات پر ہر بار عوامی سطح پر شدید ردعمل آیا۔ حیرت یہ کہ اس ردعمل کی شدت قانون کا حصہ نہیں بن پائی۔

جانے کتنی زینب قتل ہوئیں تو زینب ایکٹ تیار ہوا۔ یہ جو جمہوریت کے لیے جینے مرنے کی بات کرتے ہیں، ان لیڈروں نے دو سال تک زینب ایکٹ منظور نہ ہونے دیا۔ آج ہر کسی کا خون ابل رہا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ مہنگے اینکروں سے سجا الیکٹرانک میڈیا۔ ہر جگہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گجر پورہ لنک روڈ پر زیادتی کے واقعہ میں ملوث افراد کو پکڑ کر سرعام پھانسی دی جائے۔ کیا آپ جانتے ہیں بے حس کسے کہتے ہیں : سب مومی الفاظ مظفر بے حس تھے گونگے تھے دل کی آنچ ملی تو نکلی بوند بوند چنگاری سی اپنے اردگرد دیکھ لیجیے، بہت بے حس مل جائیں گے۔

Read more

دو لفظ ایک ملزم کی بے گناہ بیٹی کے بارے میں

پنجاب حکومت کے علاوہ وفاقی حکومت کے ترجمانوں نے گزشتہ تین روز کے دوران موٹر وے ریپ کیس میں جس مستعدی اور چابکدستی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی روشنی میں یقین کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہؤا۔ نیا پاکستان بنانے کا اعلان کرنے والی حکومت دراصل پولیس کے پرانے ہتھکنڈے اور سیاسی رہنماؤں کے پرانے طریقے اختیار کرکے میڈیا میں ایک ایسی تصویر بنانا چاہتی ہے کہ جس سے سب کچھ بدلا ہؤا دکھائی

Read more

اگلے جنم بھی موہے بٹیا ہی کیجو

عورت اکیلی ہو، جوان ہو، بوڑھی ہو، کمسن ہو، خوب صورت ہو یا بد صورت، وقت دیکھ کے گھر سے نکلی ہو یا بے وقت، بلکہ گھر سے بھی نہ نکلی ہو تب بھی ہر طرح کے جسمانی اور ذہنی تشدد کی تلوار اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

جدید ریاست مدینہ میں خواتین کے ساتھ جنسی تشدد اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات۔ ۔ ۔

حضرت علیؓ کا قول ہے کہ: ”کفر کا نظام چل سکتا ہے لیکن ظلم کا نظام نہیں چل سکتا آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے۔ قتل و غارت، بچوں کے ساتھ ریپ اور خواتین کی عصمت دری روز کا معمول بن گیا ہے۔ مگر افسوس کہ جس طرح پاکستان میں زینب کیس ہائی لائٹ ہوا تھا اسی طرح اب ایک پنجاب میں کیس سامنے آیا ہے۔ جس پر پورے ملک اور دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ ریاست مدینہ میں جہاں معصوم بچوں، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات رونما ہوئے ہیں، وہیں قتل و غارت گری کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

مگر کیا کریں، پنجاب میں اب تک 5 آئی جی پنجاب کا تبادلہ کیا جا چکا ہے۔ نہ جانیں کتنے ایس ایس پیز اور دیگر پولیس عمل داروں کو گھر بھیجا جا چکا ہے۔ سی پی او لاہور کی شکایات پر کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ آئی جی پنجاب کو گھر بھیجا گیا۔ لاہور موٹروے پر ایک ویرانی کے علاقے میں ایک خاتون جو اپنے بچوں کے ساتھ سفر کر رہیں تھی کہ اچانک گاڑی رک گئی، ہوا یوں کہ کچھ غنڈہ قسم کے وحشی صفت لوگوں نے نہ صرف ان سے رقم لوٹی بلکہ خاتون کو بچوں سمیت نیچے جھاڑیوں میں لے گئے اور یوں بچوں کے سامنے اس عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

Read more

موٹروے ریپ کیس، ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، ملزم بیوی سمیت کھیتوں میں فرار

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ موٹروے پر زیادتی کیس کے بعد یقین دلاتا ہوں کہ ملزمان جلد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور آئی جی پنجاب انعام غنی کیساتھ نیوز کانفرنس کرتےہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون سے رابطہ ہوا ہے اور انصاف کا یقین دلایا اور پولیس اہلکار بھی رابطے ہیں، ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

Read more

جنسی زیادتی ہو تو زبان بند رکھو

غلطی آپ کی ہے آپ انسان تھیں، کیا انسانیت کے اصول سیکھنے کے لیے اپنی جنم بھومی پر قدم ٹکانے ضروری ہیں۔ یہ سب حیلے بہانے چھوڑیے سچی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو پاکستان دکھانا چاہتی تھیں۔ بچوں کو سنی سنائی باتوں کے بجائے خود ان کی آنکھوں سے انہیں یقین دلانا چاہتی تھیں کہ پاکستان کے خلاف جو کچھ کافروں اور غداروں کے منہ سے نکلتا ہے سب جھوٹ ہے۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بڑے کروفر

Read more