اپوزیشن کی اصلیت اور عوام کی ذمہ داری

جب انسان نے اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر، دوسرے انسانوں کا خدا بننا چاہا، تو اس قدر تباہی ہوئی کہ اس عمل نے انسانوں کو درندوں اور بھیڑیوں کے مقام پر کھڑا کر دیا۔ کسی نے غالباً اسی انسانی جذبہء انتقام سے متاثر ہو کر کہا تھا کہ ”درختوں کی شاخوں پر بیٹھے ہوئے بندروں نے زمین پر انسانوں کے ہاتھوں، انسانوں کے قتل و خون ریزی کا بازار گرم دیکھا، تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا: خدا کا شکر ہے کہ ہم ارتقا (EVOLUTION) سے بچ گئے۔“

فرمان نبیﷺ ہے ”تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔ ثابت یہ ہوا کہ طاقت، امارت، عہدہ، مرتبہ، نسبت، رنگ اور نسل کی بنیاد پر کوئی اچھا یا برا نہیں ہو گا۔ اچھا بننے کی کسوٹی ان سب چیزوں سے مبرا ہے۔ نہ سپر نیچرل ہونے کی ضرورت ہے اور نا ہی میٹا فزکس کی کسی تھیوری کو پڑھنے کی۔ سادہ سی بات ہے کہ جس کی ذات دوسرے انسانوں کے لیے فائدہ مند ہو گی، وہ افضل ہے۔ اللہ کا یہ قانون عام آدمی کے لیے بھی ہے اور حکمرانوں کے لیے بھی۔

Read more

گوجرانوالہ میں جلسہ پر نظریں

اقبالؔ کے ایک مصرعہ میں تحریف کی جسارت کرتے ہوئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ’’صحافت نام تھا جس کا ‘‘ وطن عزیز میں باقی رہ گئی ہوتی تو بدھ کے روز ہمارے میڈیا کے لئے اہم ترین موضوع وہ رپورٹ ہونا چاہیے تھی جو IMFنے بعداز کرونا معیشت کے بارے میں تیار کی ہے۔پاکستان کے حوالے سے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے نے اس رپورٹ میں پریشان کرنے والی Projectionsکی ہیں۔ کلیدی پیغام یہ ہے کہ جولائی2018کے انتخاب سے

Read more

آصف زرداری سے ہوئی ’’مفروضہ‘‘ ملاقاتیں

جولائی 2018میں ہوئے انتخاب کے نتیجے میں جو حکومتی ڈھانچہ نمودار ہوا اس کے تحفظ کو روایتی اور سوشل میڈیا پر حاوی عمران حکومت کے سرکاری اور رضا کار ترجمان بہت بے چین رہتے ہیں۔میں ذاتی طورپر اگرچہ ان کی پریشانی کی وجوہات ابھی تک دریافت نہیں کرسکا۔ حکومتوں کے بارے میں ہمارے ہاں آزاد اور بے باک میڈیا کی بدولت 2008 سے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا تاثر موجود رہا ہے۔ کرپشن کے خلاف افتخار چودھری کی بحالی

Read more

ووٹ کے ساتھ کورٹ کو بھی عزت دو

پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حالیہ بیانات پیش خدمت ہیں۔ آصف علی زرداری فرماتے ہیں، ”آج شہباز شریف اندر گئے ہیں، کل ہم سب نے جانا ہے اور ایک دن یہ سب تو ہونا ہے۔“ مریم صفدر کہتی ہیں، ”ہمارے خاندان کے افراد سے عدالتوں کے چکر لگوائے گئے، جب کہ فیصلے پہلے سے لکھے جاتے ہیں اور یہ گرفتاری ہونا ہی تھی۔“ آج کل اپوزیشن چیخ چیخ کر اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کو گنوا رہی ہے اور دوسری طرف نواز شریف طویل عرصے تک بیک فٹ پر کھیلنے کے بعد، دوبارہ فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ہماری چالاک اور شاطر اپوزیشن، ہمیشہ سے ایک ہی وقت میں جارح بھی ہوتی ہے اور پس پائی کرنے والی بھی۔ عوام کو دکھاتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے۔ ”وہی روپ دھار لیا جو پیا من بھائے“ کے مصداق حصول مقصد کے لیے جائز اور نا جائز کام کے لیے ہمہ وقت تیار، سیاسی بازی گروں کا یہ ٹولہ، جسے عرف عام میں اپوزیشن کہتے ہیں، در اصل بے ایمان افراد کا اکٹھ ہے۔ حکومت وقت تو پہلے دن ہی سے ان کو گھاس ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتی، کیوں کہ عمران خان اپنے انتخابی نعرے ”میں ان چوروں اور لٹیروں کو رلاؤں گا“ پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔

Read more

غلطی کہاں ہوئی؟

مقابلہ اُس اپوزیشن کے ساتھ ہوا جس کے پاس تجربہ بھی تھا اور وقت پر کھیلنے کا طریقہ بھی۔ برس ہا برس سے اقتدار کی راہداریوں سے واقف جانتے ہیں کہ ترپ کا پتہ کب چلنا ہے اور میز کے اس طرف کس طرح آنا ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

میں بھی نواز شریف ہوں

اپوزیشن کی تحریک کا وقت درست نہیں ہے۔ نواز شریف کے جذباتی خطاب پر سب نے جذبات میں آ کر تحریک شروع کردی ہے۔ تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے کئی مشکلات اور رکاوٹیں ہیں۔ پچھلے مضامین پر کچھ احباب نے سوال اٹھائے کہ نواز شریف پر تنقید اور مخالفت جائز نہیں ہے۔ ماضی کی بجائے آج کے حالات اور آج کے نواز شریف کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حقیقی جمہوریت کا سنگ بنیاد ثابت ہوگی۔ احباب

Read more

مرتضیٰ سولنگی‘یوٹیوب چینل اور سوالات

مرتضیٰ سولنگی مجھے بہت عزیز ہے۔ زندگی کے کئی برس موصوف نے ریڈیو کے ذریعے عوام سے رابطے کا ہنر سیکھنے کی نذر کئے ہیں۔ ’’وائس آف امریکہ‘‘ کے لئے واشنگٹن میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان لوٹ ا ٓئیں۔ وہ اس جہاں میں نہ رہیں لیکن آصف علی زرداری کو ان کی خواہش یاد رہی۔ 2008کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں ریڈیو

Read more

تین جماعتیں تین کہانیاں

تین عورتیں اور تین کہانیوں کے بارے میں ہر وہ شخص با خبر ہے جو میگزین پڑھنے کا شغف رکھتے ہیں۔ اگر حالیہ ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ یا عروج وزوال کی داستان کو دیکھا جائے تو تین بڑی سیاسی جماعتیں یعنی نون لیگ، پی ٹی آئی اور پی پی آئے روز بدلتے بیانات سے یوں دکھائی دیتی ہیں جیسے بنا سمت الراس کے قبلہ درست کرنا ہو۔ جس کے دماغ میں کم دل میں جو آ جاتا ہے اسے سیاسی

Read more

میں ہواؤں سے ہراساں اور دل گرفتہ

پاکستان کی سیاسی ہانڈی میں بہت ہی ابال لگ رہا ہے۔ اس ہانڈی میں کیا پک رہا ہے کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ اس ہانڈی کو پکانے والے بہت سے لوگ ہیں۔ سب کے پاس اپنا اپنا مصالحہ ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بھی اسی سیاسی ہانڈی کی طرح بے توقیر ہو رہی ہے، جمہوریت کا بنیادی اصول برداشت ہے جس سے ہمارے سیاسی نیتا بالکل ناآشنا سے ہیں۔ پھر معاشرے میں اصول اور قواعد بدلتے جا رہے ہیں۔ آزادی سے پہلے جب گورا صاحب کی سرکار تھی اور اصول بھی ان ہی کے چلتے تھے اس زمانے میں اچھی اور بری شہرت بڑی اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ اگر کسی سرکاری افسر کی شہرت کسی بھی وجہ سے خراب ہوجاتی یا داغ دار ہوتی تو ایسے سرکاری افسر کے لیے ملازمت کرنا مشکل ہوجاتا۔ ایک تو عام لوگ ایسے افسر کو منہ نہ لگاتے اور معاشرتی طور پر وہ ناپسندیدہ تصور کیا جاتا اور وہ کوشش کرتا کہ وہ کوئی کام سرانجام دے سکے جس سے اس کی خراب شہرت کی معافی تلافی ہو سکے۔ صرف خراب شہرت کی وجہ سے ترقی روک لی جاتی۔ مگر اب نہ شہرت کا معاملہ ہے اور نہ کسی کو کوئی خوف ہے کہ کیا ہوگا؟

Read more

کراچی کے دو جزائر پر وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان تنازع کیا ہے؟

سندھ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ جزائر صوبائی حکومت کی ملکیت ہیں اور ان پر وفاقی حکومت کا ملکیت کا دعویٰ یا ان سے متعلق آرڈیننس کا اجرا غیر قانونی ہے۔ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے جاری کردہ حالیہ آرڈیننس کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد بھی جمع کرا دی ہے۔

دوسری طرف وفاق نے صوبائی حکومت پر جزائر سے متعلق سیاسی کھیل کھیلنے کا الزام عائد کیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں بھی جزیروں کا انتظام وفاق کے سپرد کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ جب کہ عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 23 اکتوبر تک تفصیلی جواب طلب کرلیا ہے۔

Read more

لال حویلی والے شیخ رشید: ٹیکنیکل سکول سے سیاست کی ابتدا کرنے والے شیخ رشید کی ملکی سیاست سے متعلق یادداشتیں

شیخ رشید احمد نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’لال حویلی سے اقوام متحدہ تک فرزند پاکستان شیخ رشید احمد کے پچاس سال‘ میں پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلقات اور اختلافات کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

Read more

بشیر میمن: غیر قانونی احکامات کے خلاف مزاحمت کی علامت

(ملک کے معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کی درج ذیل رپورٹ 3 دسمبر، 2019 کو روز نامہ جنگ اور دی نیوز میں شائع ہوئی تھی۔) بشیر احمد میمن اور حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے درمیان کشیدہ تعلقات کی وجہ سے اول الذکر کو ڈی جی ایف آئی اے عہدے سے ہٹائے جانے کے دن ہی ان کے استعفے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ بظاہر یہ اس بات پر ناخوشگواری کا اظہار ہے کہ جعلی کیسز کے ذریعے اہم اپوزیشن

Read more

ایف آئی اے کا ڈی جی بشیر میمن آخر ہے کون؟

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن آخر ہے کون؟ پیپلز پارٹی کے ساتھ اُن کی دشمنی کیا ہے کہ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدرکی جانب سے اس وقت کے نگران وزیراعظم، چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے علیحدہ علیحدہ خطوط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈی جی ایف اے بشیر میمن کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ الیکشن تو گزر گئے مگر پیپلز پارٹی مسلسل بشیر میمن کے خلاف اس کوشش میں رہی ہے کہ ان کو اس عہدے سے ہٹایا جائے۔

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا ایک سادہ تعارف یہ ہے کہ وہ سندھ پولیس کے نوجوان سی ایس پی آفیسروں کے گُرو رہے ہیں۔ ان کا دوسرا تعارف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جب بھی آئی ان کی پوسٹنگ اکثر عتاب میں رہی ہے یا ان کو سندھ سے باہر پوسٹ کیا جاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ وجہ یہ ہی ہے کہ بشیر میمن اپنے آپ کو پولیس کے ملازم سمجھتے رہے ہیں نہ کہ کسی پارٹی کے۔ جس صوبے میں ایس ایس پی وردی پہنے، پارٹی کے ایم این اے کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوں وہاں بشیر میمن جیسا پولیس آفیسر مس فٹ ہی ہوتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہی ہوگا کہ کبھی ان کو آزاد کشمیر کا آئی جی بنا کے بٹھا دیا جاتا کہ حسین وادیوں کی جا کر سیرکرو اورکبھی کسی سائیڈ پوسٹ پر۔ حالات کچھ بھی رہے بشیر میمن نے سندھ پولیس میں بہرحال نوکری جتنا وقت بھی کی ایک بہترین پولیس آفیسر بن کے کی اور دوسرے افسروں کو بھی بتایا کہ ایک پروفیشنل آفیسررہ کر، ایم این ایز اور وزیروں مشیروں کی ڈرائیونگ سیٹوں پر نہ بیٹھ کر بھی اور ناجائز باتیں نہ مان کر بھی نوکری کی جا سکتی ہے۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!

آج چائے بناتے ہوئے ہاتھ جل گیا۔ جلن کی اذیت جھیلتے ہوئے خیال آیا، ان پر کیا گزر رہی ہوگی جن کے پورے جسم شعلوں میں گھرے تھے۔ بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری کے سانحے کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنے ارد گرد تپش محسوس ہونے لگتی ہے۔ ڈھائی سو سے زیادہ مزدور زندہ جل گئے۔ زندہ جلنا! تصور بھی کتنا خوف ناک ہے، اسی لیے سب سے زیادہ جہنم کی آگ سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن یہ ڈراوا بھی دوسروں کی زندگی جہنم بنا کر اپنے لیے جنت تعمیر کرنے والوں کو ان کے ارادوں سے نہیں روک پاتا۔

میرا شہر بھی تو ایک جہنم ہے، مسلسل خوف کا عذاب۔ سوچتی ہوں کیا دوزخ میں اس سے بڑھ کر اذیتیں ہوں گی جو اس شہر کے باسی جھیل رہے ہیں؟ کیا باپ کے سامنے بیٹے کی سر کٹی لاش لائی جائے گی؟ یہ اطلاع کسی کا دل کرب سے بھر دے گی کہ اس کے پیارے کا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، کوئی ماں گم شدہ بیٹے کے انتظار میں تڑپنے کی تکلیف جھیلے گی اور کیا کسی جہنمی کو یہ سوال ستائے گا کہ ”جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟“ خدا کتنا مہربان ہے، اس کی تو سزائیں بھی اس کے رحم کی دلیل ہیں، اور انسان کس قدر سفاک۔

Read more

غداری کا تمغہ قوم کی ماں کا ورثہ ہے

میری خوش فہمی تھی کہ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشان پاکستان ہے، مگر جب میں نے اپنے پیارے مملکت خداداد کی 73 سالہ تاریخ کا بغور مطالعہ کیا، تو معلوم ہوا، سب سے بڑا اعزاز تو ’تمغۂ غداری‘ ہے۔ آپ یہ پڑھ کر چونک ہو گئے ہوں گے، تو دوبارہ کہے دیتا ہوں، سب سے بڑا اعزاز، جو ریاست کسی معروف شخص کو دیتی ہے، وہ تمغۂ غداری ہے۔

اس تمغے کی تاریخ پرانی ہے۔ پہلے مارشل لا کے بعد، جب حسین شہید سہروردی آئین و جمہوریت و پارلیمان کی بحالی اور مارشل لا کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، تو آمر ایوب خان نے انہیں غدار بتلا کے جیل میں ڈال دیا۔ پھر بھی حالات نہیں سنبھلے، تو سہروردی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اسی دور میں مولانا مودودی، باچا خان اور مشرقی و مغربی پاکستان میں جو کوئی مارشل لا کے خلاف آواز اٹھاتا، اسے یہ تمغۂ غداری دیا جاتا رہا۔

Read more

پی ڈی ایم کو غیر موثر بنانے کی مشق

پیر کے روز چھپے کالم میں عرض فقط یہ کرنا مقصود تھا کہ جناب شہباز گِل صاحب کے ذریعے نواز شریف کی مبینہ ’’بھارت نوازی‘‘ کی کہانی دہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ کہانیاں تو ان دنوں ہی پھیلنا شروع ہوگئی تھیں جب پاکستان کے تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہونے کے چند ہی ماہ بعد نواز شریف نریندر مودی کی حلف برداری میں شریک ہونے نئی دلی چلے گئے تھے۔الزام لگاکہ دہلی میں موجود ہوتے ہوئے انہوں نے

Read more

نواز شریف پاکستان واپس کیوں نہیں آتے؟

معاملہ جب دلیل سے بدزبانی، الزام تراشی اور بغاوت کے مقدمات قائم کرنے پر آجائے تو سمجھ لینا چاہئے کہ حکومتِ وقت کی زنبیل خالی ہے اور وہ عوام کی ضرورتیں پوری کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ نواز شریف کی تقریروں اور ٹوئٹ پیغامات نے حکمران جماعت پر خوف طاری کردیا ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر وزیروں کے بیانات اور اب بغاوت کے مقدمے قائم کرنے سے اس کا اظہار دیکھنے میں آرہا ہے۔ یوں تو پاکستانی سیاست کبھی

Read more

گرفتاریاں، ضمانتیں اور فراریاں

یوں تو تو پاکستان کی سیاسی تاریخ گرفتاریوں اور جیلوں سے بھری پڑی ہے۔ کوئی بھی سیاستدان تب تک حقیقی سیاستدان نہیں بن سکتا جب تک اس نے جیل کی ہوا نا کھائی ہو۔ ہم نے تاریخ میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی گرفتاری اور پھر ان کو پھانسی لگتے دیکھا، مگر بھٹو اپنے اندر ایک عظیم قائدانہ صلاحیت رکھتے تھے اور حقیقی معنوں میں عوام کے نمائندہ کے طور پر ابھرے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں جہاں نصرت بھٹو پر ظلم ڈھائے گئے وہیں بے نظیر بھٹو نے بھی مشکلات کا سامنا کیا۔

اسی طرح آصف زرداری نے بھی جیل میں کافی عرصہ گزارا۔ 1999 کے مارشل لا کے بعد میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کو پابند سلاسل کیا گیا اور پھر ہم نے دیکھا کہ کیسے میاں صاحبان معاہدہ کر کہ سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ اسی طرح پانامہ لیک کے بعد سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف صاحب کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا تو اسی طرح بعد ازاں انھیں پارٹی صدارت سے بھی فارغ کیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ نے اس نا اہلی کے فیصلے کے ساتھ ساتھ نواز شریف صاحب کے خلاف نیب کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا بھی حکم دیا جس کے نتیجہ میں نواز شریف صاحب کو 10 سال قید، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن ر صفدر کو 5 سال قید با مشقت کا فیصلہ سنایا۔

Read more

مشرف کے مکے اور غالب کی اٹکھیلیاں

نواز شریف نے تیسری بار وزیر اعظم بننے کے فوراً بعد ارشاد فرمایا تھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں ہوا کرتی مگر ان کو یہ احساس دو مرتبہ اقتدار سے دھتکارے جانے کے بعد ہوا تھا۔ سب سے پہلے اگر کوئی اسٹبلشمنٹ کی مکمل مدد اور تائید کے ساتھ آدھے پاکستان کے پورے تخت پر نہایت کر و فر کے ساتھ لاکر بٹھایا گیا تھا تو وہ بھٹو تھے جن کو تخت پر لانے کے لئے پاکستان کے آدھا رہ جانے کا غم اسٹیبلشمنٹ اور مغربی پاکستانیوں نے کبھی ایک دن کے لئے بھی نہیں منایا۔

ایک ایسا وزیر اعظم جس کو نہایت سجا و سنوار کر بڑی چاؤ کے ساتھ باقی ماندہ پاکستان پکڑا دیا گیا تھا اس کو اسی بیدردی کے ساتھ پہلے اقتدار سے علیحدہ کیا گیا اور پھر اس سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین کر تختہ دار پر کھینچ دیا گیا۔ اس سب کہانی کی اہم ترین بات یہ ہے کہ جو قوتیں اسے وزارت خارجہ سے ترقی دے کر پاکستان کے وزیر اعظم بن جانے کی منزل تک لے کر آئی تھیں ان ہی قوتوں نے اسے اس جہان روانہ کر دیا جہاں سے کبھی کسی کی واپسی ممکن ہی نہیں۔

Read more

پنجاب کے اندر نئی آوازیں

اس سے قطع نظر کہ میاں نواز شریف کا حالیہ بیانیہ کس حد تک خطرناک ہے۔ آیا اس سے ریاست کے اندر ایک نیا مناقشہ اورتصادم شروع ہو گا جس کا نتیجہ ایک اور ڈائریکٹ کنٹرول کی صورت میں نکل سکتا ہے یا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کا انحصار میاں صاحب کی قوت ارادی اور دیگرسیاسی قوتوں کے رویہ پر ہوگا۔ غالباً یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پنجاب سے ایک مقبول

Read more

مٹی کی بے چین خوشبو کے بلاوے

گرمیوں کی کڑکتی دھوپ میں تپتی زمین پر کبھی یک دم گھٹا چھانے لگتی ہے امڈتے بادل آتے ہیں اور چھما چھم برکھا برسنے لگتی ہے۔ کھلے میدانوں پھیلے کھیتوں کی صاف۔ پیاسی مٹی پر پہلا چھینٹا پڑتے ہی جو سوندھی سوندھی خوشبو اٹھتی ہے اس میں چھپی چاشنی اک عجیب بے چینی لئے ہوتی ہے۔ اس میں بلاوے ہوتے ہیں۔ جو نہ جانے کب سے بچھڑی روحوں۔ اس پر کھیلتی رہی روحوں کا ہجر محسوس کرتے انہیں بلاوے بھیجتی رہتی ہیں۔ اپنے دیس میں۔ دور کے دیس میں۔ مرضی سے۔ مجبوری سے چلے جانے والے جب کبھی اس خوشبو کا بلاوا محسوس کرتے ہیں تو وہ اچانک۔ جانے کیسے پھر ملن کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں۔

کبھی بلاوے، سند یسے ہوتے ہیں

Read more

حزب اختلاف کی سیاسی جنگ

کیا واقعی پاکستان میں موجود حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے خلاف حتمی جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ حزب اختلاف کا بننے والا نیا سیاسی اتحاد ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ” پی ڈی ایم ایک بڑی سیاسی تحریک کو پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ اور کیا ان کی یہ تحریک واقعی حکومت کو سیاسی محاذ پر ایک بند گلی میں دھکیل سکتی ہے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں حزب اختلاف کی سیاست کسی بھی شکل میں تعمیری کم اور مسائل کو پیدا کرنے کی زیادہ رہی ہے۔

حکومتوں کو قبول نہ کرنا، وقت سے پہلے گھر بھیجنا، پس پردہ قوتوں کی مدد سے سازشوں کو تیار کرنا یا اس پر عمل کرنا، سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے سیاست اور معیشت دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا، سیاسی جماعتوں کی سطح پر توڑ پھوڑ، منفی بنیادوں پر اتحادوں کا قیام، جلاؤ گھیراؤ اور ٹکراؤ کی سیاست کو غلبہ رہا ہے۔ یہ کام کسی ایک حزب اختلاف کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہر حزب اختلاف کی سیاست انہی مقاصد کے گرد گھومتی ہے۔

Read more

اپنے اپنے مفادات نے ہم کو یکجا کیا

وطن عزیز پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مجرم اپنے جرم کو اس کی اصل کے مطابق تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالا گیا تو بھٹو صاحب نے اپنی عوامی اور بین الاقوامی مقبولیت کے زعم میں اس کو پہلے تو پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہ دی۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار بلاشبہ ایک عالی دماغ تھے۔ لیکن وہ بھی اس کیس کو اس کی اصل روح کے مطابق لڑنے میں ناکام رہے، ان کا سارا زور اسے سیاسی کیس ثابت کرنے پر صرف ہوتا رہا۔ جب یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوا تو پھر بھٹو صاحب سمیت ان کے سب حامیوں کو اندازہ ہوا کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور چڑیاں سارا کھیت چگ چکی ہیں۔

یہی حال نواز شریف کا پاناما کیس میں رہا، ان کے خواجہ آصف جیسے نادان دوستوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ چند ہفتوں کا شور شرابا ہے، میاں صاحب، قوم جلد ہی اسے بھول جائے گی۔ جن کی خوشامد میں آ کر میاں صاحب نے قومی اسمبلی میں جھوٹ پر مبنی وہ تقریر کر ڈالی، جس میں کہا گیا تھا، کہ حضور یہ ہیں وہ ذرائع، جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔

Read more

شیخ رشید صاحب! اپنے نام کا بھرم رکھیو

میں آپ کو جبین سیاست پر داغ رسوائی کہوں گا نہ ہی سیاسی شعبدہ بازاور مقتدر حلقوں کا خایہ بردار۔ سیاسی نجومی قرار دوں گا نہ ہی ابن الوقت۔ میں تو اس الزام سے بھی متفق نہیں کہ آپ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں اورآپ کا محور سیاست ذاتی مفاد ہے۔ آپ ہمیشہ اسی حاکم وقت کی قصیدہ گوئی میں رطلب اللسان رہے جس کا آفتاب اقتدار سیاسی افق پر جھلملاتا رہا۔ آپ نے اصغر خان جیسے اصول پسند سیاستدان کو اپنا امام سیاست تسلیم کیامگر یہ سیاسی رفاقت قطرہ شبنم سے بھی زیادہ ناپائیدار ثابت ہوئی اور آپ ان کے آبگینہ اعتبار کو چورچور کرکے راہی اقلیم جفا ہوئے۔

وادی سیاست میں پرخار روش کی بجائے آپ نے اس ڈگر کا انتخاب کیا جو اقتدار کی غلام گردشوں سے ہمکنار ہوئی۔ آپ نواز شریف کے حلقہ ارادت میں آئے ان کی سیاسی معیت میں آپ کو اورنگ وزارت نصیب ہوا اور جب تک آپ سائبان حکمرانی کی نرم چھاؤں میں رہے آپ سابق وزیراعظم کے گن گاتے رہے ان کی تعریفوں کے ایسے پل باندھے جس کی گواہ آج بھی آپ کی اپنی سرگزشت ”فرزند پاکستان“ ہے۔ نواز شریف کا قافلہ سیاست کوچہ اقتدار سے نکل کر سوئے دار آیاتو قید وبند اور زندان کی بجائے آپ کی ناقہ بے زمام جنرل (ر) پرویز مشرف کی چراگاہ میں سیر ہونے لگی۔

Read more

کرپشن کے بعد غداری: عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کے ہتھکنڈے

عمران خان کی قیادت میں حکومت اور تحریک انصاف یہ ثابت کرنے پر کمربستہ ہیں کہ نواز شریف فوج کی پیداوار ہیں مگر عمران خان فوج کے حقیقی کماندار اور نگران ہیں۔ آرمی چیف، وزیر اعظم کی مرضی کے بغیر ایک قدم اٹھانے کی ’جرات‘ نہیں کر سکتے۔ یہ آئیڈیل صورت سننے میں جتنی سہانی لگتی ہے اگر حقیقت میں بھی ویسی ہی ہو تو نواز شریف کا سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف بیانیہ خود اپنی موت مر سکتا

Read more

پیپلز پارٹی کا با اثر خاندان اختلافات کا شکار کیوں؟

مہر خاندان میں سرداری کا تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے پیپلز پارٹی کا با اثر خاندان حالیہ دنوں اختلافات کے سائے میں جکڑا دکھائی دیتا ہے گھوٹکی میں سرداری جانے کے صدمے نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے این اے 205 میں ضمنی انتخابات میں کامیابی کا صحرا سجانے والے محمد بخش مہر کا گھریلو فیصلہ قبیلے کے لوگوں پر بری طرح سے اثر انداز ہو چکا ہے جس کے تحت حالیہ دنوں مہر قبیلہ گروپ بندی کا شکار ہے پیپلز پارٹی کی جانب سے حلقے میں سرداری کے حصول کے لیے ایک مرتبہ پھر سرگرمیاں تیز کر دی گئیں ہیں۔

Read more

شہباز شریف کی درخواست ضمانت مسترد یا کچھ اور؟

عمران خان کی ریاست مدینہ کی عوام ہر طرح کی مشکلات میں گھر چکی ہے اور وہ تمام تر امیدیں جو ان کو اپنی حکومت سے تھیں آہستہ آہستہ دم توڑتی گئیں۔ اپوزیشن بھی حکومت سے سخت نالاں ہے کیونکہ ان کا یہ ماننا ہے کہ حکومت ان کے خلاف بہت سخت کارروائیاں کر رہی ہے اور احتساب کی آڑ میں ان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن نہ تو حکومت کو گرانے کی خواہاں ہے

Read more

تحریکِ انصاف حکومت کے خلاف اپوزیشن کا اتحاد کتنا مضبوط اور دیرپا ہوگا؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے حوالے سے یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا حزبِ اختلاف کی ان سیاسی جماعتوں میں با معنی اتحاد بن پائے گا یا پھر ان کے درمیان موجود دراڑیں وقت گزرنے کے ساتھ گہری ہو سکتی ہیں؟

Read more

پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپ: اپنے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری کرنے والے عبداللہ شفیق کون ہیں؟

عبداللہ شفیق بھارت کے شیوام بھمبری کے بعد دوسرے بیٹسمین ہیں جنہوں نے اپنے پہلے فرسٹ کلاس اور پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہی سنچری اسکور کی ہے۔

Read more

مسلم لیگ (ن) اور اسٹیبلشمنٹ پھر سے مد مقابل، آگے کیا ہو گا؟

پاکستان میں حالیہ چند روز سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں اور ملک کی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اہم قومی اور سیاسی معاملات، تجزیہ کاروں کے مطابق، خلیج مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے سخت موقف نے جہاں ملکی سیاست میں بڑی ہلچل پیدا کی وہاں سیاست دانوں اور فوجی قیادت کی خفیہ ملاقاتوں کے انکشاف کے بعد ایک نئی صورت حال سامنے آئی ہے۔

Read more

منا کتنا بڑا بے وقوف ہے

سلیکٹر سمجھتے ہیں کہ وہ پس پردہ رہ کر حکومت کر رہے ہیں اور کارکردگی کی ذمہ داری صرف کپتان پر ہے۔ وہ جو مرضی مشکل فیصلے چاہے کپتان سے کروا لیں ساری ٹینشن کپتان کی ہے ان کا اپنا نام خراب نہیں ہو رہا۔ جبکہ عوام کپتان کو ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف کپتان بظاہر ہونقوں کی طرح بیٹھا دہی کھا رہا ہے اور مزے سے حکومت کر رہا ہے۔

نواز شریف سمجھتے ہیں کہ کپتان اپنی خراب حکومت سے خوب گندا ہو رہا ہے اور اس کی حکومت کا ذمہ دار سلیکٹروں کو سمجھ کر عوام اتنے بیزار ہو رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ میاں نواز شریف کی حکومت آئی تو وہ سلیکٹروں کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کر سکیں گے۔ اس لئے کپتان کے خلاف کچھ نہ کیا جائے اور چپ کر کے بیٹھ کر اسے اپنی مرضی سے حکومت کرنے دینا ہی بہترین پالیسی ہے۔ دوسری طرف کپتان سکون سے بیٹھ کر دہی کھا رہا ہے اور مزے سے حکومت کر رہا ہے۔

Read more

سیاسی آلودگی کیسے دور ہو؟

یہ تو نوشتہ دیوار تھا کہ 20 ستمبر کی اے پی سی کو ماضی قریب میں ہویے اس طرح کے اجلاسوں سے ہر حال میں مختلف اور موثر ہونا تھا مگر مقتدر حلقوں کا خیال تھا کہ بات نشستن ’گفتن‘ برخاستن تک محدود رہے گی انہوں نے اے پی سی کے متعلق اپنے پتے اس وقت کھیلے جب چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں عمران حکومت نے البتہ میاں نواز شریف کی تقریر ذرائع ابلاغ پر نشر کرنے کا بروقت فیصلہ

Read more

ایسا پہلی بار ہوا ہے۔۔۔

پہلی بار یہ بھی ہو رہا ہے کہ دفاع کے لیے لائی جانے والی حکومت مدافعت کے لیے دفاعی ادارے کو استعمال کر رہی ہے اور ادارہ اپنے دفاع میں مدافعانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

نواز شریف پاکستان کے چی گویرا بن سکتے ہیں

جمہوریت نواز شریف کا نام نہیں ہے۔ نواز شریف نے کبھی جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور نہ جمہوریت کے کبھی پرچارک رہے ہیں۔ نواز شریف کی جماعت کے اندر جمہوریت ہے اور نہ مسلم لیگ ن جمہوری جماعت ہے۔ کاروباری اور تاجر پیشہ نواز شریف نے ہمیشہ نفع و نقصان کی بنیاد پر سیاسی فیصلے کیے ہیں۔ اقتدار کی سیاست میں کوئی ایک فیصلہ نواز شریف کا ایسانہیں ہے۔ جس سے جمہوریت کو تقویت ملی ہو۔ مسلم لیگ ن

Read more

سوالات انبار ہے مگر جواب ندارد

دولت اور اختیار پر پاکستان ہی نہیں دُنیا بھر میں مٹھی بھر لوگوں کا اجارہ ہے۔ غریب اور امیر کے درمیان تقسیم دن بدن گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔کرونا نے امریکہ اور یورپ میں اس کی وجہ سے جوقیامت خیزمناظر دکھائے انہوں نے سوچنے سمجھنے والوں کی بے تحاشہ تعداد کو اس امر پر غور کرنے کو مجبور کردیا ہے کہ ناقابل برداشت علاقوںمیں داخل ہوتی معاشی عدم مساوات سے بچائو کے راستے ڈھونڈے جائیں۔ ہماری خوش بختی رہی کہ

Read more

پڑوسی کے چولہے سے آگ لئی لے

(امریکہ میں بھارت نژاد باشندوں کی کامیابیاں) ماتھا ہمارا اسی وقت تین سال پہلے ٹھنکا تھا۔ جس بس کو نیویارک میں دیکھتے، جس دیوار پر نگاہ ڈالتے۔ ہر طرف تیرا جلوہ کا منظر، پریانکا چوپڑا کی تصویر، ایف بی آئی کے جعلی بیج اور اصلی بھرے بھرے تکیے جیسے ہونٹ۔ بس کو آنے میں دیر بھی ہو تو ان تصاویر کی وجہ سے بس اسٹاپ خمار بارہ بنکوی کے اس شعر کی تصویر شیشہ و سنگ بن جاتا تھا کہ

Read more

شہباز شریف کی گرفتاری: احتساب، نظام عدل اور عسکری قیادت کٹہرے میں

لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر منہ ڈھانپے ہوئے دو درجن کے لگ بھگ نوجوانوں کے گروہ کی طرف سے فوج کی حمایت اور نواز شریف کے خلاف مظاہرے کے چند گھنٹے بعد ہی لاہور میں نیب نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔ آج ہی اسلام آباد کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک مقدمہ میں سابق صدر آصف زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور پر فرد جرم عائد کی ہے۔ احتساب جج

Read more

مودودیؒ، نصراللہ اور زرداری

”نواب زادہ نصراللہ خان بعض لوگوں کو اس لیے برے لگتے ہیں کہ مولانا مودودی ؒجیسی باتیں کرتے ہیں“ ۔ یہ جملہ پڑھے ہوئے، یوں سمجھئے کہ مدت بیت چکی تھی جب نواب زادہ نصراللہ خان سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس سیاست کا زمانہ تھا جسے نوے کی دہائی سے منسوب کیا جاتا ہے یعنی میاں اور بی بی کی لڑائی یوں جاری تھی جس کانقشہ حضرت صوفی تبسم جیسے عدیم المثال شاعر نے بچوں کے لیے ایک نظم میں

Read more

آصف علی زرداری: منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر اور اُن کی ہمشیرہ فریال تالپور سمیت چھ ملزمان پر فرد جرم عائد

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور پر منی لانڈرنگ کے مقدمے میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔ تاہم ملزمان نے فرد جرم سے انکار کیا ہے۔

Read more

بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا!

ملک کی سیاسی قیادت ہمیشہ کی طرح عسکری قیادت سے پس پردہ اپنی ملاقاتوں کو راز میں ہی رکھنا چاہتے ہیں، مگر یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ عسکری قیادت ہی نواز شریف کے بیانیہ کی حقیقت کو قوم کے سامنے بے نقاب کرنا چاہتی ہے۔ ہماری سیاقائدین ایک طرف کہتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے اور دوسری طرف بالواسطہ رابطوں سے ریلیف بھی چاہتے ہیں، ایک طرف ان کا بیانیہ ہے کہ ان کی لڑائی

Read more

دل پر اب الہام اترتے ہیں عذابوں کی طرح

بہت دنوں کے بعد ہفتے کے روز فیس بک کھولی تو وہاں سرمدؔصہبائی نے اپنی ایک تازہ غزل لگائی ہوئی تھی ۔اسے دیکھنے کے بعد رات گئے تک اس کے طلسم میں کھویا رہا۔ مذکورہ غزل نے چونکا دینے کے علاوہ کافی طمانیت اس وجہ سے بھی فراہم کی کہ سرمدؔ صاحب میرے دیرینہ دوستوں میں شامل ہیں۔کئی حوالوں سے وہ میرے اُستاد نہیں تو ہر صورت رہ نما تو ہیں۔ زندگی میں کچھ نہ کچھ کرنے کی تڑپ کے

Read more

ہائبرڈ وار فیئر، پاکستان اور ہائبرڈ سیاسی نظام حکومت

چیف آف پاک آرمی جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع اور یوم شہداء کی تقریب سے اور پھر کور کمانڈرز کانفرنس سے خطاب کے دوران جو اہم ایشؤ اٹھائے، ان میں اسلامی تشخص کی بنیاد پر پاکستانیت کی پہچان کا اصول سامنے لایا گیا۔ قومی ہیروز کی یاد سے قومی بقا کا اصول باور کرایا گیا اور خصوصاً ہائبرڈ وار اور ففتھ جنریشن وار کے خطرات سے نبٹنے کے لیے خبردار کیا گیا۔ آرمی چیف کا پیغام پوری قوم کے لئے ہے جسے ذمہ دار ترین اور با اثر ترین اتھارٹی میں پیش کیا ہے۔ تو چاہیے کہ قلمی، علمی، مذہبی، سیاسی، فکری، قانونی اور آئینی نقطہ نگاہ سے اس پیغام کو جانچنے اور برتنے میں اس کے لئے پوری قوم کی آواز شامل ہو جائے۔ اس ضمن میں ناچیز کی ناقص رائے کو سنا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ
If you want peace, prepare for war just like Bhutto

Read more

اسٹبلیشمنٹ بمقابلہ اپوزیشن

آج کل اپوزیشن کی اے پی سی کا بڑا چرچہ ہے کیونکہ یہ اے پی سی جو ایک عام رسمی کارروائی تھی اگر میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری اس اے پی سی سے ویڈیو لنک پر خطاب نا کرتے۔ مگر اب اس اے پی سی کے اعلامیے نے اور اس کے بعد کے واقعات بڑے اہم ہیں۔ مگر سب سے پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ جو اے پی سی ایک سال سے ٹالی جا رہی تھی کہ یہ ممکن کیسے ہوئی اور بلاول بھٹو زرداری کی میزبانی میں ایک دم اپوزیشن متحد ہو گئی۔

پچھلے سال آزادی مارچ ہوا۔ مولانا فضل الرحمان تو حکومت گرانے آ گئے مگر تب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور اس سے نواز شریف باہر چلے گئے اور آصف علی زرداری رہا ہو گئے۔ مولانا کا ان دونوں جماعتوں سے اعتبار اٹھ گیا۔ اس لئے مولانا نے ان دو پارٹیوں سے رابطے منقطع کر دیے مگر جب بجٹ کے بعد دوبارہ شور اٹھا تو مولانا نے لندن میں نواز شریف سے رابطہ کیا۔ نواز شریف نے یقین دلایا کہ اس بار ہم ساتھ دیں گے۔ پیپلز پارٹی بھی مان گئی۔ اسی لئے تو جولائی کے بعد سے رابطے بڑھنے لگے اور 3 ستمبر کو طے ہوا کہ 20 ستمبر کو اے پی سی ہوگی۔

Read more

عمر شیخ کہتے ہیں کہ نہ کوئی بزدار کو ہٹا سکتا ہے نہ مجھے

گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان کے اندرونی حالات نے تین سو ساٹھ کے زاویے سے کروٹ لی ہے۔ سماجی، سیاسی اور معاشی حالات نے کھٹارا بس کی طرح چلتے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ نظام تو پہلے ہی قید تھا، لیکن قید کرنے والے پیٹھ کے پیچھے خاموشی سے چھرا گھونپتے تھے۔ لیکن اب ایسی تبدیلی آئی ہے کہ سب منٹوں میں منظر عام پر آ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ گند اتنا جمع ہو چکا ہے کہ گٹر ابلنا شروع ہو گیا ہے جو بھی گزرے گا یقیناً گندا ہو کے رہے گا۔

Read more

نئے پاکستان کا نیا ”قبلہ و کعبہ“

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے پارلیمانی نمائندوں کے ساتھ گلگت بلتستان کے معاملے پر ملاقات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آئین میں ترمیم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی سالہا سال سے جاری تیاری اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ عمران خان حکومت کی کوشش ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن سے پہلے ہی صوبہ بنانے کی کارروائی عمل میں لائی جائے اور وزیر اعظم عمران

Read more

وزیر اعظم عمران خان اور نجی چینلز کے نیوز ڈائریکٹرز کی ملاقات: ’میں ہی فوج کا انچارج ہوں‘

پاکستان میں فوج اور سیاستدانوں کے بیانات کے بعد جاری کشمکش کے پاکستان کے وزیر اعظم نے ملک کے نجی نیوز چینلز کے اہلکاروں سے ملاقات میں کہا ہے انہیں اپوزیشن کا کوئی خوف نہیں اور فوج وہی کرتی ہیں جو وہ انہیں کرنے کو کہتے ہیں۔

Read more

چوکیدار

شہبازشریف کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ اگر نواز شریف کے دور میں اتنی بارش ہوتی تو وہ مستقل کراچی میں ڈیرے ڈال دیتے۔ یہ بیان اتنا خوبصورت تھا کہ مجھے ماضی کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ میں ایک فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا۔ کھاد فیکٹری تھی۔ کھاد بنانے کا عمل ایسا ہوتا ہے کہ اگر پلانٹ مسلسل چلتا رہے تو ٹھیک ہے اگر کسی خرابی کی وجہ سے روکنا پڑے تو کئی دن کی پروڈکشن کا نقصان

Read more

کیا وزیر اعظم آرمی چیف سے جواب طلب کریں گے؟

سیاسی لیڈروں کی فوجی قیادت سے ملاقاتوں کی خبریں عام کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اب وزیر ریلوے شیخ رشید نے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے لاہور میں آرمی چیف سے تنہائی میں ملاقات کی تھی ۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد اعلیٰ نواز شریف نے ایک ٹوئٹ پیغام میں اپنی پارٹی کو انفرادی یا گروپ کی صورت میں فوجی قیادت سے ملاقات کرنےسے منع کردیا ہے۔ نواز شریف نے یہ فیصلہ

Read more

مریم نواز – مزاحمت کی علامت لیکن۔ ۔ ۔

یہ بات ہر عام و خاص پر روز روشن کی واضح ہے کہ مریم نواز اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سیاست میں مداخلت بارے اپنے والد نواز شریف سے بھی زیادہ سخت موقف رکھتی ہیں اور اس موقف کی وہ بھاری قیمت ادا کر چکی ہیں اور مزید بھی ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ قائد (ن) لیگ نواز شریف جو برادر خورد کی طرف سے کچھ یقین دہانیوں پر خاموش تھے بالآخر پھٹ پڑے ہیں، انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں جو لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا ہے اس کے بعد ڈیل، ڈھیل اور مفاہمت کے تمام تر اندازے غلط ثابت ہو گئے ہیں۔

نواز شریف نے مستقبل میں بھی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کی گنجائش نہیں چھوڑی مزید برآں یہ کہ انہوں نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے مریم نواز کو پیپلز پارٹی کے زیراہتمام آل پارٹیز کانفرنس میں بیٹھنے کی ہدایت کی جو نون لیگ کے اندر بعض رہنماؤں کو پسند نہیں آیا بہرحال مجبوری یہ تھی کہ نواز شریف کا حکم تھا، نواز شریف کے خطاب اور مریم نواز کی اے پی سی میں شرکت سے پارٹی کے اندر مفاہمتی گروپ کو شدید زک پہنچی ہے جس کا اظہار آف دی ریکارڈ کیا جار ہا ہے تاہم کچھ دنوں تک آن دی ریکارڈ بھی سامنے آ جائے گا۔

Read more

اے پی سی ترپ کا پتا تھی یا کوئی سپانسر مل گیا ہے؟

کمزور اور ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں جب بھی آتی ہیں یا جاتی ہیں یا حکومتوں کے خلاف کوئی بھی موثر تحریک چلتی ہے تو یہ سب کچھ ان کے اپنے بل بوتے پر نہیں ہوتا بلکہ ان سرگرمیوں کا کوئی نہ کوئی سپانسر ضرور ہوتا ہے جس کے تانے بانے مقامی سطح سے شروع ہوکر انٹرنیشنل سطح تک جڑتے ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے

Read more

سمارٹ نانی

میاں نواز شریف کی آل پارٹیز کانفرنس سے تقریر کے بعد جس طرح مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں اور کارکنوں نے دادوتحسین کے ڈونگرے برسائے ہیں اس سے لگتا ہے کہ میاں نواز شریف نے اگر خود کو برا بھلا بھی کہہ دیا تو مسلم لیگی اس پر بھی یقینی طور پر واہ واہ ہی کریں گے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں شریک راہنماؤں کے ساتھ میاں نواز شریف نے پورس کے ہاتھی والا ہی معاملہ کیا ہے۔ آصف علی زرداری،

Read more

آرمی چیف سے ملاقات نون لیگ کی پالیسی کے خلاف ہے: مریم نواز

ستمبر کا آخری ہفتہ رخصت ہونے کو ہے اکتوبر کی آمد آمد ہے۔ جو لوگ اسلام آباد رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اکتوبر میں اسلام آباد کا موسم انگڑائی لیتا ہے اور سرما کی آمد کی نوید دیتا ہے مگر لگتا ہے جس طرح پاکستانی سیاست میں گرمی عروج پر ہے موسم نے بھی اس سے اثر لے لیا ہے۔

آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں اہم کیسز کی سماعت ہونا تھی۔ سابق صدر آصف زرداری کی ضمانت کا کیس، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا ایون فیلڈ ریفرنس اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت ہونا تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کیسز کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کرنا تھی۔

Read more

’وزیر اعظم نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دیکر کسی اور کو موقع دیں‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق اجلاس یا کوئی بھی ان کیمرہ اجلاس ہو تو اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی جاتیں لیکن کچھ غیر ذمہ دار لوگ جن کا تعلق نہ قومی سلامتی سے، نہ گلگت بلتستان سے نہ آزاد کشمیر سے نہ ہی خارجہ پالیسی سے تھا، انھوں نے مجبور کیا ہے کہ میں اس حوالے سے بات کروں۔ انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی پر میٹنگ میں شیخ رشید ہوئے تو میں نہیں جاؤں گا۔

Read more

میز، سیاستدان، جنرل صاحبان اور پاکستانی

کل پاکستان کے محترم صحافی، جناب طلعت حسین صاحب کی دو تین ٹویٹس تھیں جن میں خبریت سے کہیں زیادہ جذباتیت تھی۔ ان ٹویٹس کے سکرین شاٹس موجود ہیں۔ آپ بھی پڑھ لیجیے۔ پڑھیں گے تو اک امپریشن ایسا ملے گا کہ جناب جنرل باجوہ صاحب اور جناب جنرل فیض صاحب نے ہاتھ میں بید پکڑ رکھے تھے اور ساری کی ساری سیاسی لیڈرشپ کو کان پکڑوائے رکھے۔ اور مزید یہ کہ بہت ہی سخت افسوس کی بات ہے کہ

Read more

گلگت بلتستان صوبہ۔۔۔۔ عبوری، آئینی، مشروط یا کچھ اور؟

گلگت بلتستان کے الیکشن قریب ہیں اور ایسے میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان گنڈاپور کے بیان پر کہ تحریک انصاف کی حکومت نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، رکی ہوئی بحث پھر سے چھیڑ دی ہے۔ لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ بیان بھی الیکشن کو جیتنے کے لیے ایک سلوگن کے طور پر استعمال کیا جائے گا جیسے کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کی عوام نے

Read more

’’بڑا کھانا‘‘ اور نوازشریف کی کشتیاں جلاتی تقریر

جس ’’بڑے کھانے‘‘ کا پیر کے دن سے بہت شوروغوغا کے ساتھ ذکر ہورہا ہے اس کا اہتمام بدھ کی شام ہوا تھا۔ یہ وہی دن تھا جب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ایک دو نہیں دس کے قریب قوانین عمران حکومت نے یک مشت منظور کروائے تھے۔ ان تمام قوانین کو قومی اسمبلی سے منظوری کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے بھاری بھر کم اکثریت کے بل بوتے پرسینٹ کے ذریعے ’’مسترد‘‘ کردیا تھا۔ ایوانِ بالا سے ’’مسترد‘‘ ہوئے قانون

Read more

ایلان مسک جیسا اور کون؟

امریکہ میں پشتینی رئیس بہت تھوڑے ہیں۔ کل تئیس، اس میں بھی وینڈربلٹ گھرانہ سب سے پرانا ہے۔ نیویارک کا گرینڈ سینٹرل اسٹیشن جو آپ نے کئی فلموں میں دیکھا ہوگا ان ہی کا تعمیر کردہ ہے۔ امریکہ میں سب سے پہلے ڈینم جینز بھی انہیں لوگوں نے بنائی تھی گو ان کا اصل کاروبار ریلوے لائن اور ریل سروس کا تھا۔ دنیا کے ایک اور عظیم الشان اسٹورز کی چین کے مالکان والٹن فیملی ہے۔ آپ نے وال مارٹ

Read more

نواز شریف کی تقریر اور مریم نواز کی دلیری

کوئی شک نہیں کہ اے پی سی کا لب لباب یا حاصل صرف اور صرف نواز شریف کی تقریر نکلی جس کے بعد مریم نواز کی تقریر اور ٹوئٹر بیان کی دھوم ہے۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو میزبان تو ٹھہرے لیکن میلہ نواز شریف اور مریم نواز نے لوٹ لیا۔ اس تقریر میں قابل غور ترین بات وہی تھی جس چرچا ہو رہا ہے کہ ” ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ اس کو لانے والوں سے ہے”

Read more

آگے آگ کا دریا ہے

میاں نواز شریف کا اے پی سی خطاب غیر متوقع، ہوش رہا اور بعض حلقوں کے نزدیک مجنونامہ مگر جرات مندانہ تھا۔ بادی النظر میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ نواز شریف نے بے حد حساس معاملات کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔ 1993ء میں صدر غلام اسحاق کے ہاتھوں اپنی برطرفی سے قبل انہوں نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر نے ایوان صدر کے مقدس مقام کو سازشوں کے ذریعے ناپاک

Read more

کامیاب آل پارٹیز کانفرنس، پی ڈی ایم کا قیام اور حکومتی مستقبل۔۔۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اگر ایم اڑ ڈی جیسی تحریک چلانے میں کامیاب نہ بھی ہو جائے مگر مارچ 2021 تک سینیٹ کے الیکشن سے پہلے حکومت گرانے ختم کرانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ پی ڈی ایم اگر آگے چل کر تقسیم نہی ہوتی اور اسی طرح متحد و متفق ہوکر آگے بڑھتی ہے تو وزیراعظم اور اس کی کابینا کا چلنا مشکل ہو جائے گا۔ اے پی سی ختم ہوتے ہی جس طرح آرمی چیف صاحب اور ڈی جی

Read more

عاصمہ شیرازی کا کالم: نواز شریف کی سیاست کا آغاز یا اختتام

نواز شریف کی تقریر کے دو جملوں نے جیسے سکتہ طاری کر دیا ہے، ’ریاست سے اوپر ریاست اور مد مقابل عمران خان نہیں اُن کے لانے والے‘ نواز شریف نے یہ کیوں کہا؟ کیا نواز شریف اب بھی کسی ڈیل کے چکر میں ہیں اسی لیے اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لا کر فیصلہ کروانا چاہتے ہیں: عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

عمران خان فریق نہیں ہیں

(ذیل کی تحریر 28 اگست 2018 کو روز نامہ جنگ اور "ہم سب آن لائن” پر شائع ہوئی) جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں تو صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت ختم ہونے کو ہے۔ اعتزاز احسن کے کاغذات جمع ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کے کاغذات نامزدگی کچھ دیر میں داخل کر دیے جائیں گے۔ 4 ستمبر کو تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی صدر پاکستان کا انتخاب جیت جائیں گے۔ آنے

Read more

آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ: اب آگے کیا ہو گا؟

آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کو برسرِ اقتدار لانے میں اسٹیبلشمنٹ کے مبینہ کردار کے بارے میں تقاریر کے اگلے روز مقامی ذرائع ابلاغ پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پارلیمانی لیڈروں سے ملاقات کی خبریں نشر ہوئیں۔‘ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان خبروں کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور عسکری قیادت ایک پیچ پر ہے۔

Read more

مسئلہ عمران یا اس کی حکومت نہیں ہے۔۔۔

حکومتی وزرا اور مشیروں کی تمام تر موشگافیوں کے باوجود اے پی سی منعقد ہوگئی اور ایسی منعقد ہوئی کہ جس کی توقع نہیں کی جارہی تھی۔ غیریقینی صورتحال اس لیے بھی تھی کہ مولانا فضل الرحمن کسی واضح یقین دہانی کے بغیر اے پی سی میں شرکت کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ اس کانفرنس میں جے یو آئی کا وفد بھیجنے کا سوچ رہے تھے کہ بلاول بھٹو زرداری ان سے ملے اور ان کو اے پی

Read more

اے پی سی اور نواز شریف کا خطاب

ڈاکٹر شہباز گِل صاحب کا حکم ہے۔اس کی لازماََ تعمیل ہوگی۔ قانون کا دل وجان سے احترام کرنے والے میڈیا مالکان جیل سے سزا یافتہ اور اب عدالت سے ’’اشتہاری‘‘ قرار پائے نواز شریف صاحب کی اپوزیشن کی اے پی سی میں ہوئی تقریر اپنے چینلوں پر دکھانے کی جرأت آزمانے کو سوبار سوچیں گے۔بہتر اگرچہ یہ ہوتا کہ شہباز گِل صاحب ایک ٹویٹ لکھ کر میڈیا مالکان کو قانون کا ہر صورت احترام والا حکم صادر نہ فرماتے۔ Whatsapp

Read more

اپوزیشن کی کانفرنس اور کپتان کا مستقبل

اپوزیشن جماعتوں کی ایک اور مشاورتی کانفرنس ختم ہو چکی ہے۔ حالیہ کانفرنس کی سب سے اہم پیش رفت میاں محمد نواز شریف کا لندن سے ویڈیو لنک پر خطاب ہے۔ اس خطاب سے پہلے نواز شریف نے سوشل میڈیا پر ٹویٹر اکاؤنٹ بنایا جس نے چند گھنٹوں میں ہی مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ آج کانفرنس میں نواز شریف کی تقریر پر سبھی کی نظریں جمی تھیں کہ دو سال کی خاموشی کے بعد وہ کیا کہیں گے۔ اس تقریر کا ان کے حامی اور مخالفین دونوں کو شدت سے انتظار تھا۔ دوپہر میں ہونے والی جارحانہ تقریر نے کانفرنس میں سماں باندھ دیا۔ دو سال کی خاموشی کے بعد بولے تو ایسا لگا گویا ان کے سینے میں چھپا کوئی آتش فشاں پھٹ پڑا ہو۔

تاریخ پاکستان کا احاطہ کرتی یہ تقریر پوری کانفرنس پر بھاری نظر آئی۔ نواز شریف نے عوام کے حق حکمرانی کی بات کی اور ووٹ کو عزت دلانے کے عزم کو بھی دہرایا، جمہوریت کو یرغمال بنانے والوں کا ذکر کیا اور ان کے ماورائے آئین اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ یک طرفہ احتساب کا تذکرہ کیا اور انصاف کے دہرے معیار کو بھی زیر بحث لائے۔ ڈان لیکس اور مسلم لیگ نون کی بلوچستان حکومت ختم کرنے والے کرداروں پر بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ جولائی الیکشن میں کی جانے والی بدترین دھاندلی کو بھی موضوع سخن بنایا اور حکمرانوں کے ظلم و استبداد کے آلہ کی حیثیت اختیار کر جانے والے نیب کے دہرے احتساب کا بھی خصوصی ذکر کیا جو حکومتی کیسز پر آنکھیں بند رکھتا ہے اور اپوزیشن کو بے بنیاد مقدمات میں طلب کیا جاتا ہے۔ میڈیا پر پابندی، تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ اور علیمہ خان کی خفیہ جائیدادوں سمیت الغرض ماضی کے تمام تلخ حقائق کو کھلے الفاظ میں دہرایا۔

Read more

دو ٹوک تقریر، نیا اتحاد اور پاکستان کا سیاسی مستقبل

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن پارٹیوں نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک اتحاد قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اجلاس کے آغاز میں سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی دو ٹوک تقریروں کے بعد کیا گیا ہے۔ نواز شریف نے ملکی سیاست پر سال بھر کی خاموشی توڑتے ہوئے اپنی طویل تقریر میں واضح کیا ہے کہ ’ہماری

Read more

نواز شریف کو مزید نہ گھسیٹا جائے

ملکی سیاست نئے عہد میں داخل ہو چکی ہے۔ ملک میں تاثر جڑ پکڑ چکا تھا کہ نئی قیادت ابھرے گی اور عمران خان حکومت کے خلاف اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے کارکن مریم نواز اور بلاول بھٹو کی قیادت میں سیاست منظم کرنے کے خواہاں نظر آ رہے تھے۔ مگر دونوں نوجوان کارکنوں کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کی مجبوری ہے کہ اپنے بڑوں کی سن کر چلیں۔ بڑوں کی سن کر چلتے چلتے وہ بھی بڑے ہو گئے ہیں اور اب بڑوں کی طرح ہی سوچتے اور سیاست کرتے ہیں۔

کارکنان توقع کر رہے تھے کہ بڑوں کے نونہالوں کی سیاست کا محور نوجوان ہوں گے اور وہ نوجوانوں کی سیاسی طاقت سے سیاسی فیصلے کریں گے۔ جس کے نتائج شاندار نکلیں گے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی نچلی پرتوں سے نوجوان قیادت بھی ابھرے گی۔ جوڑ توڑ اور محلاتی سیاست کی بجائے عوامی مزاحمتی سیاست کا دور شروع ہوگا۔ کارکنان کا یہ خواب بری طرح سے چکنا چور ہوا ہے۔

Read more

اپوزیشن اتحاد کا ٹارگٹ کون؟ کپتان یا سر جی ؟

آصف زرداری نے اوپننگ ریمارکس دیے، گراؤنڈ بنا کر مائک نواز شریف کے حوالے کر دیا۔ نواز شریف نے ایک تاریخی تقریر کھڑکا دی۔ اس تقریر میں وہ لڑکھڑائے بغیر، غصہ کیے بغیر، سیدھی بات کرتے رہے۔ جس کو ہٹ کرنا تھا اسے ہٹ کرتے رہے۔ ان کی یہ ہٹنگ کافی ہارڈ رہی۔

تقریر جس نے دیکھنی ہے دیکھ لے گا۔ اپنے لیے اس کی ٹائمنگ ہی اہم ہے۔ نواز شریف کو دو لفظوں میں ڈیفائن کرنا ہو تو وہ ٹائمنگ اور پریشر کے استاد ہیں۔ اپنی مرضی کا وقت منتخب کرتے ہیں پھر پریشر بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ ایسا تب تک کرتے ہیں جب تک اگلے کے گوڈے لگوا نہیں دیتے۔ سیاستدان ہیں تو بے مقصد ہر وقت نہیں بولتے۔ آصف زرداری تو اپنے خلاف پھیلی تنقید افواہوں اندازوں کا جواب تک دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔

Read more

اے پی سی کا آنکھوں دیکھا حال: طویل خاموشی کے بعد نواز شریف کا ‘ماسٹر سٹروک’ اور شہباز شریف کی ’مصالحت کاری‘

صحافی لابیز میں سیاستدانوں کو روکتے کہ کوئی اپنی رائے کا اظہار کر لے یا کانفرنس کے ایجنڈے سے متعلق بات کر لے مگر سوالات کی بوچھاڑ میں ان کا جواب صرف ایک مسکراہٹ میں ہی ہوتا۔

Read more

نواز شریف نے جو کیا وہی بھگتا

نواز شریف کی آج کی آل پارٹیز کانفرنس میں تقریر دلچسپ تھی۔ اس میں بعض نکات شکوے شکایت پر مبنی تھے، مگر کیا وہ ان معاملات میں بڑی حد تک خود قصور وار نہیں ہیں؟ عدالتوں کے ہر ڈکٹیٹر کی حمایت کرنے اور بغاوت کو جائز قرار دینے کا شکوہ کرنے والے یہ بھی تو بتائیں کہ یہ جج تعینات کرتے وقت انہوں نے کیا سوچا تھا؟ کیا ایسے جج تعینات کرنے کا سوچا تھا جو جبر کے زمانے میں بھی حکومت وقت کی بجائے قانون کا ساتھ یقینی طور پر دیں؟ اس وقت تو انہیں بہت شوق تھا کہ جی ہمارا حامی جج تعینات ہو، جو ہمارے خلاف فیصلہ نہ دے۔ پھر ایسے جج تو حکومتِ وقت کا ہی ساتھ دیں گے۔ حکومت مشرف کی ہو گی تو اسے آئین میں تین برس کی من مانی تبدیلی کا اختیار بھی دیں گے۔ جج تعینات کرتے وقت یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وہ حکومت نہیں بلکہ قانون کے ساتھ کھڑے ہونے کا ریکارڈ رکھتے ہوں۔

ایک عبرتناک مثال ثاقب نثار کی ہے جنہیں نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کا جج جس میرٹ پر بنایا تھا وہی ان کے سامنے آیا۔ ججوں کی تعیناتی اور احتساب کا جو طریقہ میثاق جمہوریت میں طے کیا گیا تھا اس سے انحراف کیوں کیا گیا؟ تمام سپیشل کورٹس بشمول احتساب عدالتیں ختم کرنے کا عزم کیا ہوا؟ پھر وہی احتساب عدالتیں میاں صاحب کے لیے عبرتناک عدالتیں ثابت ہوئیں اور ثاقب نثار بھی میاں صاحب کی خواہش کے برعکس ان پر نثار نہ ہوئے بلکہ انہوں نے اپنا ممدوح کسی اور کو جانا۔

Read more

مرتضیٰ بھٹّو: ذوالفقار علی بھٹّو کے ’حقیقی سیاسی جانشین‘ جو اپنی ہی بہن بےنظیر کے دورِ حکومت میں مارے گئے

والد کی پھانسی بعد مرتضیٰ بھٹّو اور ان کے بھائی شاہنواز نے ذولفقار علی بھٹو کی موت کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور مبینہ طور پر ’الذوالفقار‘ نامی تنظیم قائم کی۔ البتہ مرتضیٰ بھٹو کا خاندان اس حوالے سے ان کا دفاع کرتے ہوئے آج تک اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ان کا اس نظیم سے کوئی تعلق تھا بھی یا نہیں۔

Read more

میثاق جمہوریت ۔ 2 کی ضرورت

اتوار کو اسلام آباد میں ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیوں کی کانفرنس منعقد ہورہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان قمر زمان کائرہ کے بقول اس کانفرنس میں موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے منصوبہ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ البتہ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے اس اے پی سی میں شامل ہونے والے سیاست دانوں کو ’شکست خوردہ عناصر ‘ کا ایسا گروہ قرار دیا ہے جو ’ ایک دوسرے کے گلے لگ کر دھاڑیں ماریں گے‘۔ اس

Read more

ایف اے ٹی ایف: حکومت کا قانون سازی کا دفاع، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کل ہو گی

پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق بلز کی پارلیمنٹ کی جانب سے حال ہی میں دی گئی متفقہ منظوری ملک کو ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے بے حد اہم ہے دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں اتوار کو آل پارٹیز کانفرنس کر رہی ہیں۔

Read more

اے پی سی سے نواز شریف کے خطاب کا پس منظر

مولانا فضل الرحمن دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو بتا چکے ہیں کہ وہ اب اے پی سی میں دلچسپی نہیں رکھتے، جب تک ان کے دو میں سے ایک مطالبات پر عمل نہ ہو۔ یا تو میاں نواز شریف خود اے پی سی میں لائیو شرکت کریں، یا پھر اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفی دینے کا اعلان کرے۔ نواز شریف نے اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ کر لیا۔ مولانا اب استعفوں پر اصرار نہیں کریں گے۔
نواز شریف کی شرکت کی وجہ سے آصف علی زرداری بھی شریک ہوں گے۔ گل ودھ گئی اے مختاریا۔

کہتے ہیں کہ جب تیسری بار سول بلکہ تاجروں سرمایہ داروں سے بات کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ کپتان رہے گا۔ کوئی کہیں نہیں جا رہا تب نواز شریف نے فون اٹھا لیا ان سب سے بات کرنی شروع کر دی جن سے وہ تب مشورہ کرتے ہیں، جب کوئی نیا چن چڑھانے لگتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ جان لیں کہ نواز شریف کے کہنے پر ایک اہم مسلم لیگی لیڈر اک اہم سینیٹر سے معذرت کر چکے ہیں۔

Read more

سیاست، طاقت اور اخلاقیات

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق 16ستمبر 2020کو کیپٹل ٹیریٹری وقف املاک بل پر ووٹنگ ہوئی تو ابتدا میں اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی۔ مشترکہ اجلاس کی کارروائی دیکھ کر میں حیران ہورہا تھا کہ وقف املاک بل پر اپوزیشن حکومت کی مخالفت کیوں کررہی ہے حالانکہ جب اس بل کو اگست کے تیسرے ہفتے میں ریاض فتیانہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کیا گیا

Read more

اب جب نواز شریف بولنے لگا ہے تو کیوں جان پر بن گئی ہے؟ روک سکو تو روک لو! مریم نواز

سابق وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں ورچوئل شرکت کی دعوت قبول کرنے کے بعد حکومت، نواز شریف کا اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب روکنے کے لیے متحرک ہو گئی۔ نوازشریف کی تقریر دکھانے کی صورت میں وزراء کے پیمرا اور دیگر آپشن استعمال کرنے کے بیانات پر مریم نواز بھی میدان میں آگئیں اور کہا کہ "اب جب نواز شریف

Read more

کیا نواز شریف سیاسی کم بیک کی تیاری کرہے ہیں؟

پاکستان کی اپوزیشن پارٹیاں بالآخر 20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے پر راضی ہو گئی ہیں۔ یہ فیصلہ اپوزیشن کی مشترکہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس پر تمام اپوزیشن پارٹیاں متفق دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم چھوٹی پارٹیوں کو دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کے سیاسی کردار پر شبہات و تحفظات ہیں جن کا اظہار جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ دنوں یہ کہتے ہوئے کیا تھا کہ ’مسلم لیگ (ن) اور

Read more

سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کے ٹیکس گوشواروں پر ردعمل: اسد عمر کی شہباز شریف کو اثاثوں کے تبادلے کی پیشکش

پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کی جانب سے سال 2018 میں ایوان بالا اور ایوان زیریں میں شامل اراکین کے ٹیکس ریٹرن کی ڈائریکٹری بھی جاری کر دی ہے۔ جانیے کس نے سب سے زیادہ ٹیکس دیا اور کس نے خانہ خالی چھوڑ دیا۔

Read more

عمران خان نے کتنا ٹیکس دیا، شہباز شریف، زرداری اور خاقان عباسی نے کتنا؟

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف یونیو نے 2018 میں ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے جمع کرائے گئے ٹیکسوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں، وزیر اعظم عمران خان نے 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے ٹیکس دیا۔

بلاول بھٹو زرادری نے 2 لاکھ 94 ہزار 117 روپے، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے 97 لاکھ 30 ہزار 545، آصف زرادری نے 28 لاکھ 91 ہزار 455 روپے ٹیکس دیا۔

Read more

فلم انڈسٹری: وہ دور جب کراچی کے ہر کونے میں ایک سینما تھا

پاکستانی سینما کی بربادی کا باقاعدہ آغاز سنہ 1979 میں ہوا جب جنرل محمد ضیا الحق کے دورمیں پانچ سو سے زائد فلموں کے تمام سنسر سرٹیفکیٹ منسوخ کر کے ان فلموں پر پابندی لگا دی گئی۔

Read more

عمران حکومت کے لئے ’’گلیاں سنجیاں‘‘ کا ماحول

’’حرکت تیز تر ہے‘‘ والی کیفیت برقرار رکھنے کے لئے ٹی وی سکرینوں پر ٹکر چلتے ہیں۔بریکنگ نیوز ہوتی ہے اور اخبارات میں چیختی دھاڑتی سرخیاں۔فقط ان پر اکتفا کریں تو ’’دریافت‘‘ یہ ہوگا کہ تھوڑی اکثریت کے باوجود حزب مخالف کی تمام جماعتیں بدھ کی شام باہم مل کر بھی عمران حکومت کو وہ قوانین قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروانے سے نہ روک پائیں جنہیں سینٹ سے نامنظور کروادیا گیا تھا۔دوبرس تک ’’صبح گیا

Read more

چینی سکینڈل: تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کی ایف آئی میں طلبی کا نوٹس جاری

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین کو چینی سکینڈل میں تحقیقات کے لیے 18 ستمبر یعنی جمعے کے روز پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔

Read more

قوموں کی بربادی

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ۔ ۔ تم سے پہلی قومیں اس لئے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا امیر و کبیر جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی۔ (بخاری، رقم 4304) مخذوم قبیلہ کی فاطمہ بنت الاسود نے جب چوری کا ارتکاب کیا، تو اس وقت چور کی سزا ہاتھ کاٹنا مقرر تھی، (جو کہ آج بھی ہونی چاہیے) قریش کو یہ تشویش لاحق

Read more

ایف اے ٹی ایف: کیا نئی قانون سازی سیاسی مخالفین اور میڈیا کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو گی؟

گذشتہ روز پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی قانون سازی کے بعد حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں ایسی قانون سازی کی گئی جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔

Read more

گلگت بلتستان کا مختصر سیاسی ارتقا (دوسری قسط)

ایک وقفے کے بعد گلگت بلتستان اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ ”گلگت بلتستان کا مختصر سیاسی ارتقا“ کا آج پھر سے مطالعہ کرنے کا اتفاق ہوا۔ رپورٹ کا دیباچہ، اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا پیغام اور ابتدائیہ تقریباً ایک دوسرے سے مماثل ہیں۔ نچوڑ یہی کہ گلگت بلتستان پر کئی سو سالوں سے راجوں اور سرداروں کی حکمرانی رہی۔ 1381 میں یہاںاسلام کی آمد ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ علاقے میں اسلامی معاشرے کی بنیاد ڈالی گئی۔ مگر

Read more

موٹروے سانحہ پر غیر ذمہ دارانہ رویے

 زندگی میں بہت کچھ دیکھنے کے بعد بالآخر اب یہ جان لیا ہے کہ سیاست دانوں کا اصل مقصد حصول اقتدار ہوا کرتا ہے۔اس کے حصول کے لئے جمہوری ملکوں میں عوام کو خواب دکھائے جاتے ہیں۔اشرافیہ کے طاقت ور طبقات سے سازشی گٹھ جوڑ بھی ضروری ہوتا ہے۔ اقتدار مل جائے تو اسے بچائے رکھنا بنیادی ترجیح ہوجاتا ہے۔ حکومتی مخالفین اس کے برعکس ہمہ وقت ’’صبح گیا یاشام گیا‘‘ والا ماحول بنانے کی کاوشوں میں مبتلا رہتے ہیں۔کئی

Read more

اکتاہٹ کیوں ہوتی ہے؟

میرا مقصد، اکتاہٹ جسے آج کل ”بوریت“ یا ”بور ہونا“ کہا جاتا ہے، کے طبی اسباب بیان کرنا نہیں بلکہ اس کیفیت کے پیدا ہونے کے عمومی عوامل سے متعلق بحث شروع کرنا ہے۔ عام طور پر جب کرنے کو کچھ نہ ہو تو بے چینی ہونے لگتی ہے۔ بے چینی اکتاہٹ کا پہلا مظہر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ بے چینی کا باقاعدہ اظہار بھی ہوتا ہو، یہ محض بیکل ہونا بھی ہو سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے

Read more

میرپورخاص میں بارش سے متاثرہ افراد کس کے سہارے؟

میرپورخاص ڈویژن میں حالیہ بارشوں کے بعد حکمرانی کے دعوے ظاہری طور پر دھرے کے دھرے ہی رہ گئے ہیں، 18 اگست سے 4 ستمبر تک میرپورخاص ڈویژن میں 530 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث میرپورخاص شہر کا انفرا اسٹرکچر اور زرعی زمینیں مکمل طور پر زیر آب آکر تباہ ہوچکی ہیں۔ حالیہ بارشوں سے صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ 931901 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ میرپورخاص ڈویژن کے ضلع عمرکوٹ میں بارشوں کے باعث

Read more

تبدیلی کے سونامی میں ڈوبتا تصوراتی ٹائی ٹینک

ارض پاک آج تاریخ کے جس بدترین سیاسی معاشی اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے شاید ہی کبھی کسی بدترین آمریت میں بھی رہا ہو، مدینے کی ریاست کے سپنے، حضرت عمر فاروق رضہ اللہ عنہ کی طرز حکمرانی کی مثالیں، اللہ رب العزت کے قانون اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ صلعم کی حیات طیبہ کی روشنی میں ملک کو فلاحی اسلامی جمہوری مملکت بنانے کے دعویداروں نے محض دو سال میں ہی

Read more

پی ٹی آئی یا راجگیری؟

تحریک انصاف خود کو نئی سیاسی روایتوں کی امین پارٹی کہتی ہے۔ بھٹو، زرداری، شریف فیملیز کی موروثی سیاست کو ہدف تنقید بنانا خان صاحب کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ تاہم پاکستان کے اقتدار کی راہداریوں تک پہنچتے پہنچتے پی ٹی آئی خود بابے مامے، چاچے خالے، بہنوئی سالے کی پارٹی بن کے رہ گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کو دیگر پارٹیوں کے ساتھ انتخابی اکھاڑے میں نبرد آزما ہونے سے پہلے اس وقت خود اپنے امیدواروں

Read more

اپوزیشن کی اے پی سی اور مولانا فضل الرحمن کی سیاست

2018 کے عام انتخابات میں جس طرح مولانا فضل الرحمن کو پارلیمنٹ سے باہر کر دیا گیا، اسی طرح مولانا نے حکومت کے لئے چلنا مشکل کر دیا ہے۔ مولانا صاحب وہ سیاستدان ہیں جو بیک وقت کئی سیاسی محاذوں پر لڑنے کا ہنر جانتے ہیں، مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ آزادی مارچ میں ان کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ تختہ الٹنے میں کامیاب تو نہ ہو سکیں لیکن تختہ ہلانے

Read more

کرپشن: پاکستانی سیاست کا مقبول ترین مفروضہ

بعض لوگوں کی سیاسی وابستگی کی بنیاد، اس مرض کے خلاف سیاسی جدوجہد نصب العین، کسی رہنما یا قائد کی واحد خوبی کہ وہ کرپٹ نہیں، عقیدت کے لیے کافی۔ چار دفعہ ملک کا انتظام سنبھالنے فوجی حکمرانوں کا بھی پہلا جواز کہ کرپشن کے خلاف آئے ہیں۔ 1949 سے کرپشن الزامات پر برطرفیاں ہو رہی ہیں، پروڈا قانون کے تحت پنجاب اسمبلی برخاست ہوئی، 1954 میں ایبڈو قوانین ے تحت کئی برطرفیاں ہوئیں۔ نوے کی دہائی میں کسی حکومت

Read more

فلم ”جوش“ اور کراچی کی بپتا

آج سے کوئی سترہ یا اٹھارہ سال قبل ایک بھارتی فلم ”جوش“ ریلیز ہوئی تھی، فلم میں شاہ رخ خان صاحب اور دیگر معروف اداکاروں نے کام کیا تھا، فلم تو خیر عام سی تھی مگر اس میں خاص چیز دکھائی گئی تھی جو اس فلم کے آنے کے کچھ عرصے بعد کراچی کی کہانی بھی بنی اور جس کے اثرات یہ شہر آج کے دن تک بھگت رہا ہے۔ اس فلم میں بھارتی ریاست ”گوا“ دکھائی گئی تھی۔ یہ

Read more

بحر ظلمات میں رہنے والے

پاکستان میں سیاست کی جنگ عروج پر ہے۔ مگر عوام کے نام پر سیاسی لوگ صرف اپنا الو سیدھا کرنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت بہت ہی ناکام سی نظر آ رہی ہے۔ جمہوریت نے عوام کی حیثیت کو بھی مشکوک کر رکھا ہے۔ ہمارے جدی پشتی نیتا جمہوریت کو کندھے پر رکھ کر اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ پنجاب میں مسلم لیگ نواز کا قبضہ عرصہ دراز رہا مگر عوام کے مفاد میں کسی کو قربانی دینی نہیں آئی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف ایک معمولی اور حقیر سے جرم میں پاکستان کی اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ سے مجرم بنائے گئے اور کچھ تھوڑی سی جیل بھی دیکھی پھر ان کے مہربانوں اور دوستوں نے ان کے لئے ایسی قانونی موشگافی کا سہارا لیا جو صرف اور صرف نواز شریف کے لئے تھی اور ان کے لئے ان کے بھائی خادم اعلیٰ سابق صوبے دار پنجاب نے وعدہ دیا کہ وہ باہر سیاست نہیں کریں گے اور مال و اسباب میں سے کچھ سرکار کی نظر بھی کریں گے۔ مگر وعدے اور اصول صرف بتانے اور جتلانے کے لئے ہوتے ہیں۔ بے چار عوام کے لئے سابق وزیراعظم کا کردار بالکل صفر نظر آ رہا ہے۔ وہ عوام کو اپنے مفادات کی وجہ سے قربان کر رہے ہیں اور عوام بھی ان کے لئے قربانی کا سوچتے ضرور ہیں مگر نہ قربان ہونے اور نہ ان کے لئے نکلنے کو تیار ہیں۔

Read more

جسٹس فار مروہ

ڈگڈگی بجتی ہے، تماشا ہوتا ہے، تالیاں بجتی ہیں اور ہم گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ مداری کے اشاروں پر رقصاں یہ جسم سوال تک نہیں پوچھتے کہ ناچنا کب تک ہے اور رقص کیسا ہے۔ مداری جانتا ہے کہ یہ تماشا ختم ہوا تو اس کا روزگار بھی جاتا رہے گا اور اس کی ذات بھی توجہ کی محور نہیں رہے گی۔ احساس سے مبرا اس معاشرے میں ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہے لیکن ہم بے حس،

Read more

کراچی ٹرانسفورمیشن پلان اور درست ترجیحات کی ضرورت

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا اعلان کیا جا چکا ، اس سے قبل وزیراعظم کی سربراہی میں گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی جی آئی ایس آئی، کور کمانڈر کراچی، گورنر و وزیراعلیٰ سمیت وفاقی وزراء بھی شریک تھے۔ کراچی پیکج پر عمل درآمد کی شروعات و خد و خال کے حوالے سے تفصیلات آ چکیں، تاہم وزیراعظم ابھی کراچی میں ہی تھے کہ دو بیانات نے سیاسی خوشگواری کے فضا مکدر کردی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے قائد حزب اختلاف و صوبائی حکومت پر سیاسی وار کرتے ہوئے انہیں ماضی میں دیے گئے جذباتی بیانات یاد کراتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کے ایشو پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔

عجب وتیرہ ہے کہ سیاست کرنے کے بعد کہا جائے کہ ’سیاست‘ نہیں کرنا چاہتے، بہرحال یہ اتنی اہمیت کا حامل اس لئے نہیں کیونکہ جذباتی بیانات دینے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے میں کسی بھی جماعت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اہم بیان بلاول بھٹو زرداری کا رہا، جس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے 1100 ارب روپے کے پیکج میں 800 ارب روپے کے منصوبے سندھ حکومت کے ہیں۔ کراچی پیکج میں وفاق کی جانب سے صرف 300 ارب روپے شامل کیے گئے۔ بلا ول نے کراچی پیکج کو ایک اچھا آغاز قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وفاق سے اپنا حق لینا ہوگا۔ اسد عمر نے بیان کی تردید کی اور صرف چنگ گھنٹوں میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو شد و مد کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

Read more

اردو کمیونٹی اور جیتو جمالی کی متنازعہ ویڈیو

وفاق کی نمائندہ جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جو اپنی جدوجہد اور قربانیوں کی شاندار مثال رکھتی ہے اور 53 سال سے اس پارٹی کا وجود عوام میں برقرار ہے، ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی ہمیں پیپلز پارٹی کا جیالے باآسانی مل جاتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی شاندار سفر میں ملک بھر کے جیالے اور عوام کا بھرپور کردار ہے جو پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی جو کہ فیڈریشن کا نعرہ لگاتی ہے اور خود کو چاروں صوبوں کی زنجیر قرار دیتی ہے۔

حالیہ دنوں شہر قائد کراچی پر سیاست ایک بار پھر گرم ہے، اس گرما گرمی میں سندھ حکومت اور وفاق بھی آمنے سامنے آچکے ہیں، جہاں متحدہ قومی موومنٹ کا برسوں پرانا مطالبہ اور نعرہ ”مہاجر صوبہ“ اور ”سندھ کی تقسیم“ ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے تو وہی اس مطالبے اور نعرے کے خلاف سندھ کی عوام میں شدید غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ اس متنازع مطالبے پر اب تحریک انصاف بھی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی ہے، تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب نمائندگان بھی اس مطالبے اور نعرے کو تقویت دیتے دکھائی دیتے ہیں، تحریک انصاف کے رہنما کراچی کے مسائل کو بنیاد بنا کر کبھی کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کبھی دبے الفاظ میں کراچی کی تقسیم کی بات کرتے ہیں، ایسے میں ایم کیو ایم اور مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما بھی سندھ مخالف بیانات دے کر ماحول کو گرم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Read more

توشہ خانہ کیس: آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی پر فردِ جرم عائد، نواز شریف اشتہاری قرار

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تحفے میں ملنے والی گاڑیاں حاصل کرنے کے مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دائمی وارنٹ جاری کرتے ہوئے اُنھیں اشہتاری قرار دے دیا ہے۔

Read more