کنک کے چند دانے، ہَری کوکھ اور امید کی اذان

ارو ادب میں اگر دس بہترین ناولوں کی فہرست ترتیب دی جائے تو مستنصر حسین تارڑ کے ناول ”بہاؤ“ کو بلا جھجک اس میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ ”بہاؤ“ کی عظمت کی دو وجوہات ہیں۔ اول ناول کی کہانی ہے جو ہزاروں سال قبل کی وادی سندھ اور اس کی تہذیب کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری وجہ اس کا نہایت ہی منفرد لب و لہجہ اور زبان ہے۔ ظاہری سی بات ہے کہ اگر آج سے ہزاروں سال پہلے کی

Read more

رضا علی عابدی کی ”اردو کا حال“

اگر آپ کتابوں کی کسی دکان یا لائبریری سے اردو زبان میں کسی اچھی کتاب کی تلاش میں ہیں اور آپ کی نظر ایک ایسی کتاب پر پڑتی ہے جس پر ایک تختی کی تصویر ہو، تختی کے اوپر اردو حروفِ تہجی لکھے ہوئے ہوں، کتاب کا نام ”اردو کا حال“ ہو، مصنف کا نام رضا علی عابدی (بی بی سی والے ) ہو تو اسے محض اردو کا کوئی قاعدہ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں بلکہ اسے پہلی فرصت

Read more

جنگل، خواب اور محبت کا قصہ

خواب اور محبت جب ایک ساتھ کسی جنگل میں اکٹھے ہو جائیں تو ایک بہت خوبصورت کتاب کن اکھیوں سے آپ کی طرف دیکھنے لگتی ہے۔ اپنے ڈھیر سارے آنسو اور مسکراہٹیں لے کر یہ میرے پہلو میں موجود ہے۔ میں اس کی مہک کے حصار میں ہوں۔ یونان کی دلکش فضاؤں کے قصے سناتا یہ ناول صباحت رفیق چیمہ کا من عشق دارم ہے۔ میں نے صباحت کو پہلی بار پڑھا ہے مگر اب لگتا ہے بہت بار پڑھوں

Read more

دوزخ نامہ: مرزا بنام منٹو

یوں بیان کیا گیا ہے کہ آسمانوں میں فرشتے ایک الوہی واقعے کے استقبال کی تیاریاں کر رہے تھے کہ کچھ سُن گُن پا کر ابلیس نے ادھر کا قصد کرنا چاہا تو اس کا راستہ روکنے کے لیے فرشتوں نے نور اور آگ کے گولے اس کی طرف برسائے جنھیں دنیا والے شہابِ ثاقب کے نام سے جاننے لگے۔ اس طرح مرزاغالب اور سعادت حسن منٹو کی آپس کی گفتگو کی کن سوئیاں لینے کے لیے، دلِ یزداں میں

Read more

صحافت سے صحافت تک

کہنہ مشق صحافی اور ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر نیوز شبیر صدیقی کی کتاب۔ ، صحافت سے صحافت تک شائع ہوگئی ہے جو صدیقی صاحب کی زندگی اور شخصیت کی آئینہ دار ہے۔ شبیر صدیقی ایک مرنجان مرنج شخصیت ہیں۔ ظرافت ان کی طبیعت کا خاصہ ہے۔ پہلی نظر میں دکھنے میں معقول آدمی نظر آتے ہیں اور جب آپ کے تعلقات دوستی میں تبدیل ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ معقولیت کے بارے میں آپ کا گمان

Read more

ناول جلتے چنار سے ایک اقتباس

ہر سُو اندھیرے اور خاموشیوں کے پہرے تھے۔ قمقموں کی روشنیاں چناروں کے پتوں کو سرخ رنگ ِ زیبائی دے رہی تھیں۔ جیسے سرخ لباس میں کوئی دلہن شرمائی شرمائی ہو۔ پیڑوں کے مہیب سائے اس سے اٹکھیلیاں کرتے تھے۔ دور پہاڑوں پر قمقموں کی روشنیاں جھلملاتی تھیں۔ ڈل لیک کے سیاہ پانیوں پر یہ روشنیاں گرتیں تو لہر در لہر رنگیں دھاریاں نمودار ہوتیں۔ ہوا جب ان سے چھیڑخوانی کرتی تو یہ دھاریاں شرما کر اپنے چہرے چھپا لیتیں۔

Read more

کیا آپ علمی، فکری اور مذہبی بنیادوں پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا متوازی بیانیہ جاننا چاہتے ہیں؟

بیسویں صدی میں اسلامی انقلاب اور اسلام کو نظام کے طور پر نافذ کرنے کے لئے ایک ایسے متشدد اور عسکری بیانیہ کی تشکیل ہوئی جس نے پورے معاشرے کی اقدار کو شدید متاثر تو کیا ہی ساتھ ساتھ اس کے متشدد، انتہاپسندانہ حتیٰ کہ وحشیانہ اثرات اسلامی معاشرے پر کچھ اس طرح مرتب ہوئے کہ اکیسویں صدی میں بھی اس کے اثرات زائل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ بیسویں اور اکیسویں صدی میں اس بیانیہ کو دنیا پر

Read more

مظفر گڑھ گزیٹیئر: ڈاکٹر احتشام انور کی قابل قدر کاوش

برصغیر میں نوآبادیاتی طاقت ہونے کے باوجود انگریزوں نے پنجاب کے اضلاع کے تفصیلی گزیٹیئر مرتب کر کے ان کی اشاعت میں کامیابی حاصل کی جو اب بھی اضلاع کی تاریخ و ثقافت سے متعلق مستند حوالوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ یہ گزیٹیئر سب سے اہم اور مستند دستاویز کے طور پر متعلقہ ضلع کی تاریخ، جغرافیہ، آبادی، روایات، معیشت اور زراعت جیسی تمام متعلقہ تفصیلات و معلومات کا احاطہ کرتے تھے۔ تاہم 1947 ء میں قیام پاکستان

Read more

ادبی مجلّہ ’لوح‘ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ’راوی‘ کا ہی دوسرا روپ ہے

ممتاز شیخ ادبی دنیا میں منفرد صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ انہیں نہ ستائش کی تمنا ہے اور نہ صلے کی پروا۔ گورنمنٹ کالج سے عشق اس پہ مستزاد ہے۔ وہ اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے روحِ رواں ہیں۔ اسی تنظیم کے زیرِ انتظام فقیدالمثال سالانہ مشاعرے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس کالج اور اب یونیورسٹی میں جو گیا اسی کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ اور ہو بھی کیوں نہ کہ سونا کندن

Read more

مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا ناول ”خلیج“ از خالد فتح محمد

” تمام بڑی کتابیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں اس لئے کہ یہ کتابیں جو کچھ حقیقت میں پیش آیا ہوتا ہے ان سے کہیں زیادہ سچی ہوتی ہیں اور جب ایسی ہی کوئی کتاب آپ پڑھ لیتے ہیں تو آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ آپ پر ہی بیتا ہے۔ “ یہ کہنا ہے ہیمنگ وے ؔ کا۔ ایسے مواقع بھی آ جاتے ہیں کہ جب لکھاری جنگ میں شامل ہو جائیں یا پھر جنگجو

Read more

فطرت کے وسیب سے ” کرونبلاں”

 حسن سچائی ہے اور سچائی حسن سب کچھ یہی ہے جو دنیا میں تمہیں دیکھنا چاہئے اس سے زیادہ جاننے کی ضرورت نہیں یہ باتیں اس شاعر، ادیب اور دانشور کی ہیں جسے قدرت نے بہت تھوڑے دن عطا کئے بہادر شاہ ظفر کا مصرع "عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن "اس پر بڑا صادق آتا ہے اس کی زندگی واقعی چار چھ دن ہی بنتی ہے انیس سال کی عمر میں باقاعدہ شاعری شروع کی محبت کی

Read more

بوڑھا نہ ہوگا سورج!

پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب تلاش میں لکھا ہے کہ تہذیب کو جاننے کے لئے انسان کے تصور کو وقت اور مقام کی لامحدود وستعوں میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ رابیندر ناتھ ٹیگور نے ایک جگہ لکھا تھا کہ میری وطن کو جاننے کے لے زمانے کی طرف دیکھنا چاہیے، جب انسان نے جسمانی اور مادی قیدیں سے آزاد ہوکر روحانی بلندی حاصل کی تھی۔ یہ بات ہر زی روح نہیں سمجھ سکتی اور جس نے یہ بات

Read more

ثمینہ سید کی تصنیف: ہجر کے بہاؤ میں

چند سال پہلے کی بات ہے محفل مشاعرہ تخلیقی جلوہ کاریوں سے منور تھی۔ شعرائے کرام تذکیر و تانیث کے حسین امتزاج کے ساتھ نوبت بنوبت ڈائس پہ جلوہ گر ہو رہے تھے۔ رنگ محفل روایتی انداز میں حدود اختتام کو چھونے کے لئے کوشاں تھا کہ کھنکتی، جھنکتی، چھنکتی آوازنے سماعتوں کی گہرائیوں کو چونکا دیا۔ چہرے پہ دمک اٹھتا ہے جب رنگ حیا اور ایسے میں مزہ دیتی ہے اپنی ہی ادا اور تبحر عمیق سے پُھوٹتے اعتراف بے

Read more

جدیدیت، مبادیات ۔۔۔ تکثیر جدیدیت

اردو ادب میں لسانیات کا سبجیکٹ بڑا بوجھ لگتا تھا لیکن جب سر پر آگئی تو بھگتنا پڑا اس موضوعِ پہ شمس الرحمان فاروقی اور گوپی چند نارنگ کا اسلوب مجھے زیادہ سزا دیتا رہا لیکن فائدہ بھی اسی سزا میں ملا۔ اسی تناظر میں جدیدیت کے مباحث بھی زیرِ مطالعہ رہے۔ جدیدیت، مابعد جدیدیت، پس مابعد جدیدیت، ساختیات و پس ساختیات پہلے تو ان اصطلاحات کی سمجھ ہی نہیں آئی۔ رفتہ رفتہ تکرار کے ساتھ مطالعہ نے میرے ذہن

Read more

ریاست بہاول پور کا پہلا صاحب دیوان شاعر: ”ارمغان اوچ“کا مطالعاتی جائزہ

ارمغان اوچ انیسویں صدی میں خانوادۂ سادات گیلانی کے بزرگ اوردرگاہ قادریہ عالیہ کے سجادہ نشین مخدوم سید شمس الدین (خامس) گیلانی کے اردو، فارسی اور سرائیکی کلام کا انتخاب ہے، جسے بہاول پور کے بلند فکر ادیب و مصنف، نواب آف بہاول پور سر صادق محمد خان عباسی خامس کے اے ڈی سی بریگیڈیئر سید نذیر علی شاہ نے مرتب کر کے سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور کے زیراہتمام 1966 ء میں گردیزی پرنٹنگ پریس بہاول پور سے شائع

Read more

افتخار عارف کی ’کتابِ دل و دنیا‘ ہی اصل دنیا ہے

افتخار عارف پر یہ حقیقت بہت پہلے واضح ہو گئی تھی کہ ع: ۔ ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے ’ کتابِ دل و دنیا‘ کو اگر مملکتِ شعر مان کر اس کے دستور کو پڑھنا ہو تو یہی مذکورہ بالا شعر قرار دادِ مقاصد قرار پاتا ہے۔ اور اس قرار دادِ مقاصد کو دستورِ شاعری کے دیباچے یا پہلے تعارف کی حیثیت حاصل ہو جاتی

Read more

سید کاشف رضا کا کچھوا۔ ایک لا تنقیدی تجزیہ

اردو ناول ایک سو پچاسویں جب کہ سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور ایک کچھوا“ (اشاعت:اکتوبر 7102 ) اپنی دوسری سال گرہ منا چکا ہے! اس ناول کا شمار حال میں شایع ہونے والے ان اردو ناولوں میں رہا ہے جنھیں ادبی حلقوں میں دیر تک زیر ِ بحث رہنے کے مواقع میسر آئے۔ اس کی وجہ ناول کا کئی اعتبارات سے غیر معمولی ہونا ہوسکتی ہے۔ ناول کے غیر معمولی پن پر موضوعی، تیکنیکی اورہیئتی حوالوں سے

Read more

ہندوستان سے ایک کتاب

خاک نشین نہ خاک گزیدہ، خاکی رنگ کا ایک لفافہ ڈاک میں میرا منتظر تھا جب میں ایک مختصر سفر کے بعد واپس آیا۔ کئی رسالوں، کتابوں کے درمیان الگ سے رکھا ہوا تھا۔ اس لیے میں نے فوراً اٹھا کر دیکھ لیا۔ اس پر سرکاری مُہر لگی ہوئی تھی۔ الٹ پلٹ کر دیکھا، دفتر کا نام بھی نامانوس لگا۔ وہ بھی محفّف الفاظ کے ساتھ معمّہ بنا ہوا تھا۔ میں لاہور میں فیض میلے میں شرکت کرکے آیا تھا،

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: سچ اپنا اپنا

زندگی ہر شخص کے لیے قدرت کا ایک حسین تحفہ ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس تحفہ کو پہلے سے طے شدہ روایتوں، اصولوں اور طریقوں کے مطابق گزار کر دنیا سے چلے جاتے ہیں اور نسلِ انسانی کے اثاثہ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتے۔ جب کہ کچھ لوگ اس حسین تحفہ کو بھر پور طریقہ سے جیتے ہیں اور زندگی کے حسیں رنگوں میں کچھ اور حسیں رنگوں کا اضافہ کرتے ہیں تاکہ زندگی کی رنگینیوں کا یہ

Read more

مصنفہ اِیس تیمل کوران ؔ کی کتاب ”ایک ملک کو کیسے گنوایا جاتا ہے : جمہوریت سے امریت تک کے سات اقدام“ پر ایک تبصرہ

ترکی کی مایہ ناز پاکستان میں اورحان پاموک ؔ کا ناول My Name is Red ترجمہ ہوا تو وہ یہاں کا بیسٹ سیلر بن گیا اس کے بعد ایلف شفق ؔکا ناول Forty Rules of Love ترجمہ ہوا تو وہ بھی ہاٹ کیک بن گیا۔ اب اورحان پاموک اور ایلف شفق پاکستان میں معروف نام ہیں۔ پاکستان میں ابھی اِیس ٹیمل کورانؔ (Ece Temelkuran) کا نام غیر معروف ہے لیکن انگریزی دان طبقہ میں یہ نام جانا پہچانا بنتا جا

Read more

آئنہ نما: میرے ارد گرد کی کہانیاں

ظفر عمران کی کہانیوں کے مجموعے کا نام ’آئنہ نما‘  ہے، مگر مجھے لگا کہ یہ آئنہ نما نہیں بلکہ آئنہ ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس میں سماج کا وہ چہرہ نظر آتا ہے، جو آئینے کے پیچھے ہے۔ اس کا رنگ بظاہر سیاہ، در حقیقت سرمئی ہے۔ میں اِن سب کرداروں کو جانتی ہوں، جنھیں ’آئنہ نُما‘ میں پینٹ کیا گیا ہے۔ یہ میرے دیکھے بھالے ہیں، میرے ارد گرد رہتے ہیں، بس اِن کے نام بدل دیے گئے

Read more

چیئرمین ماﺅ پر ایک حیرت انگیز کتاب

کرپشن کرپشن سُنتے کان پک گئے ہیں۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے تو لگتا ہے کوئی اور سبق پڑھا ہی نہیں بس اسی کا ڈھنڈورا پیٹے جاتے ہیں۔ گذشتہ ماہ ہمارے وزیر اعظم کا دورئہ چین بھی اسی تذکرے کے گرد گھوما اور اس کا چرچا بھی خوب رہا۔ وہاں اُن کی کرپشن کے خلاف کی گئی حسرت آمیز تقریر بھی ہائی لائٹ ہوئی۔ قطع نظر اس کے کہ وہ تقریرصحیح تھی یا غلط۔ برسر موقع تھی یا نہیں اہم

Read more

سرسید احمد خان کا پیغام اور ڈاکٹر طاہر مسعود

ہماری قومی زندگی سرسید کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ ہماری تحریک آزادی کے جد امجد اور بنیاد ہیں۔ وہ مسلمانانِ برصغیر کو جدید تعلیم کی طرف متوجہ نہ فرماتے اور اس مقصد کے لیے تحریک نہ چلاتے تو نہ صرف یہ کہ علی گڑھ وجود میں نہ آتا بلکہ برصغیر کے طول و عرض میں مسلمان نوجوانوں کی تعلیم کے بے شمار تعلیمی ادارے بھی قائم نہ ہوتے ۔ سرسید کی یہی تحریک ہے جس نے برصغیر کے مزاج میں

Read more

نیویارک میں لاہور جیسے مندر میں محراب

دیس سے کوسوں دور پردیس میں بیٹھ کے ماضی کی گلیوں میں کھو کے یادوں کو کریدنا آسان نہیں ہوا کرتا۔ یادوں کی شدت کبھی دل کے بخیے ادھیڑتی ہے، اور کبھی روح کے تار بجنے لگتے ہیں آپ ہی آپ! لاہور کی یادیں قلمبند ہو چکی تھیں، اداسی بھری چپ تھی، دوپہر کی زرد دھوپ ڈھل رہی تھی، ہوا کی سرسراہٹ تھی اور کبھی کبھی کسی کھڑکی کا پٹ بج اٹھتا تھا۔ ہماری بیٹی بھانپ چکی تھی کہ ناسٹلجیا

Read more

آئینہ در آئینہ کا شاعر۔ حمایت علی شاعر

تحریر: طاہر منصور قاضی اور نزہت صدیقی   حمایت علی شاعر [جولائی 14، 1926۔ جولائی 16، 2019 ] کے نام کے ساتھ شاعری کا ایک پورا عہد وابستہ ہے۔ ان کی پیدائش پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی عرصے میں ہوئی۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام کے بعد یورپ کے ایک جرنیل نے کہا تھا، اچھا ہوا کہ آنے والے بیس سال کے لئے عارضی جنگ بندی ہو گئی ہے۔ اور یہ پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔ انہوں

Read more

ترقی پذیر دنیا میں فارمیسی: کچھ سبق بھارت سے بھی

چند میٹھی گولیاں اور دو قطرے دوائی، ہومیو پیتھی کا ہمارے ہاں بس یہی مطلب ہے لیکن جو لوگ جانتے ہیں، وہ اس کے سحر سے نکل نہیں پاتے۔ اہل دل جس طرح بابوں بزرگوں کی تلاش میں جان مار دیتے ہیں، محبان ہومیوپیتھی بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔ بس اسی تلاش میں ڈاکٹر ارشد محمود سے ملاقات ہوگئی۔ تصوف کی طرح اس طریقۂ علاج کی بنیاد بھی خلوص، محبت اور محنت سے اٹھی ہے، اس لیے عمومی تاثر یہی

Read more

کتاب آئنہ نما

مصنف ظفر عمران تبصرہ شاہانہ جاوید ظفر عمران کے افسانوں کا مجموعہ ”آئنہ نما“ ہے، مکمل آئینہ نہیں کیونکہ آئینہ میں بھرپور عکس نظر آتا ہے جب کہ یہاں جھلک دکھا کر معاشرے کے تلخ، تند، ہوشربا واقعات کو بیان کیا گیا ہے باقی کام قاری کا ہے وہ کہانی کو کس طرح محسوس کرتا ہے۔ اردو زبان کو سنوارنے کا کام بخوبی لیا گیا ہے تاکہ پڑھنے والا زیر زبر پیش کی غلطی سے بھی ان کی تحریر کا

Read more

محمد رسول اللہ ۔ این میری شمل کی سیرت النبی پر صوفیانہ پیش کش

رسالت مآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کے حوالے سے کئی مستشرقین نے کتب لکھی ہیں۔ کچھ نے اعتدال اور توازن سے لکھا اور کچھ کا رویہ انتہائی توہین آمیز بھی رہا کیونکہ ان کا مقصد شعوری یا لاشعوری سطح پر اسلام اور پیغمبر اسلام کی تکذیب تھا۔ این میری شمل کے بارے ایک عمومی اتفاق پایا جاتا ہے کہ وہ ان معدودے چند مستشرقین میں سے ہیں جنہوں نے اسلام، پیغمبر اسلام صلی اللہ

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: ادھورے خواب

کہتے ہیں کہ زندگی قدرت کا حسین تحفہ ہے اور اس حسین تحفے کی گہرائیوں میں بے شمار راز پنہاں ہیں۔ لاتعداد پراسرار پرتوں میں لپٹی یہ زندگی سب کے لئے حسین ہوتی ہے یا صرف چند لوگوں کے لئے مخصوص؟ کیا زندگی کے حسین راز سب ذہنوں پر ایک جیسے ہی کھلتے ہین یا مختلف؟ کیا ہر دیکھنے والی آنکھ وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہے جو زندگی کے گہوارے میں ہر رنگ کھلا دے؟ ان سب سوالوں کا

Read more

اکرام اللہ اور ان کا جہان گزران

(تذکرہ اس کتاب کا جو ابھی پڑھی نہیں گئی) سیاست کی آنکھ مچولی نے ڈاک کے آنے جانے پر پابندی لگا دی ہے۔ سو کتاب تو ملنے سے رہی مگر ہم نے بھی طے کر لیا تھا کہ اس وقت باتیں اکرام اللہ اور ان کی نئی کتاب ’جہان گزران‘ کے بارے میں ہی کی جائیں۔ وہ شدت سے یاد آ رہے ہیں۔ محمد عاصم کلیار کی ایک تحریر، اس کے بعد مسعود اشعر کا کالم، پھر لاہور میں ایرج

Read more

مشرف عالم ذوقی اور "مرگِ انبوہ”

مرگِ انبوہ، فا شزم اور کیپٹلزم کے تانے بانے سے بُنے، آج کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی سسٹم کو سمجھنے کی ایک بھرپور کوشش ہے، جہاں نیکی اور بدی کے درمیان فاصلہ ختم ہو چکا ہے، پیسہ خدا، انٹرنیٹ کائنات اور گوگل گرو ہے۔ اور ان تینوں نے مل کر خون و نفرت سے لتھڑی گالیوں، اور آنکھوں میں اجنبیت اور بے گانگی کی دہشت لئے، ڈیتھ گیم کے گمنام سکواڈ میں شامل، ”ینگستان“ کی ایک ایسی

Read more

شہزاد نیئر کی ”خوابشار“

برسوں پہلے شہزاد نیئر کو پہلی مرتبہ اپنے شہر گوجرانوالہ میں سننے کا موقع ملا۔ سچی بات ہے کہ اس محفل میں انہوں نے اپنی نظم ”سیاچین“ سنا کر کالم نگار سمیت سبھی سننے والوں کو مبہوت کر کے رکھ دیا تھا۔ اس نظم میں سیاچین گلیشیئر کی ٹھٹھرتی بلندیوں کی ساری ٹھنڈک اور ویرانی موجود تھی۔ یہ ٹھنڈک اور ویرانی سننے والوں کو اپنے رگ و پے اور دل و دماغ میں اترتی محسوس ہوئی تھی۔ پوری نظم کالم

Read more

ناطق نامہ، فقیر کی بستی اور خوابوں کا نگر

عرفان صدیقی کا شعر ہے : اٹھو یہ منظرِ شب دیکھنے کے لیے کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے ہمارا بھی یہی ماننا ہے کہ خواب دیکھنے کے لیے نیند کی حالت میں جانا ضروری نہیں۔ خواب اصل میں وہی ہوتے ہیں جو کھلی آنکھوں اور جاگے دماغ سے دیکھے جائیں اور جن کی تعبیر کے لیے ہم سرگرداں بھی ہوں۔ اِسی لیے نیند کی حالت میں کی گئی سیروں، اٹھائی گئی راحتوں اور مختلف ہستیوں کی مستیوں

Read more

درویشوں کا ڈیرا (تعارف اور تاثرات)

زندگی کے تجربات کو ایک خوبصورت لڑی میں پرونا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اس کے لئے زندگی کے ساتھ شعوری اٹھکیلیاں کرنے کا ہنر آنا چاہیے۔ کچھ لوگ زندگی بس یونہی گزار دیتے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگ زندگی کی سچائیوں میں اتر کر ایسے نایاب موتی حاصل کر لیتے ہیں جو کہ آنیوالی نسلوں کے لئے سنہری حروف بن جاتے ہیں۔ آج میں آپ کو ایک ایسی ہی نایاب کتاب سے متعارف کروانا چاہتا ہوں، جس میں لکھے

Read more

اِک جاں پروری اور ’ڈئیوس، علی اور دیا‘

آج کل ہمارا فراغت کا زمانہ ہے سوزیادہ وقت مہمان نما دوستوں کے ساتھ ہی گزرتا ہے اُس پنجابی کہاوت کے مصداق کہ ”ویھلی رَن پرونیاں جوگی“۔ دفتری اوقات میں بھی کچھ ایسے دوست ملنے آ جاتے ہیں جن کے صدورِ شعبہ نے اُن کے ورک لوڈ کی تین کلاسوں میں سے ایک صبح آٹھ بجے اور بقیہ دوساڑھے بارہ بجے کے بعد رکھی ہوئی ہیں۔ کبھی کبھی اُن کا تشریف لانا غیر اعلانیہ اظہارِ یکجہتی بھی محسوس ہوتا ہے۔

Read more

حماد حسن۔ تقدیس حرف کا ثناگر

کالم نگاری اقلیم صحافت کی وہ تنگنائے ہے جسے عبور کرتے ہوئے اچھے اچھوں کا زہرہ آب ہوجاتا ہے۔ فنی لوازمات کا التزام برتتے ہوئے کالم کی تخلیق جس جگرکاوی کی متقاضی ہے وہ ہر ایک کے بس کا کام نہیں۔ خون جگر کے بغیر کالم کا نقش ناتمام اور رنگ بے کیف ہوتا ہے۔ بقول سید ضمیر جعفری ”کالم آرائی میں عالم آرائی نہیں، تیشے سے بربط کوہسار بجانے کی لٹک نہیں، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نہیں تو

Read more

خالد فتح محمد کا ناول خلیج

سانحہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھا گیا زود گو معاصر فکشن رائٹر جناب خالد فتح محمد صاحب کا ناول ”خلیج” حال ہی میں پڑھنے کا موقع ملا۔ ناول کیا ہے سقوط پاکستان کے شب و روز کا مرقع ہے۔ ناول کی تکنیک آپ بیتی سے مشابہ معلوم ہوتی ہے جس میں راوی ایک حساس دل اور غیر فوجی دماغ رکھنے والا لفٹین کمانڈر ہے جو کہ کہانی کی ابتدا سے ہی شورش زدہ صوبہ بنگال کی اور حالات کو

Read more

تیسری جنس: معتوبوں کی معتوب

اختر بلوچ کی کتاب ” تیسری جنس” اپنے موضوع کے اعتبار سے منفرد اور پڑھے جانے کا تقاضا کرتی ہے۔  پسماندہ معاشروں نے ہی نہیں ترقی یافتہ معاشروں نے بھی ابھی ان لوگوں کو پوری طرح قبول کرنا شروع نہیں کیا جو جسمانی یا ذہنی طور ان عام لوگوں کی طرح نہیں ہوتے جنہیں ان معاشروں کے لیے کارآمد اور فائدہ مند تصور کیا جاتا ہے۔ اصل میں تو معاشرے کی ہر سطح پر فرد کے درجے، مقام اور اسے

Read more

جھیل کنارے ایک کتاب !

  کیا آپ نے کبھی پارک میں بیٹھ کر کسی جھیل کنارے کوئی اچھی سی کتاب پڑھی ہے ؟ ہم جب بھی کبھی پکنک یا کے لئے کسی پارک میں جاتے تھے اور میں کسی کو دنیا مافیا سے بےخبر جھیل کنارے کسی کتاب میں گم دیکھتی تھی تو حسرت سے سوچتی تھی ہاے کتنی فرصت ہے، کتنے مزے ہیں، کیسے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا میں سرسراتی ہری گھانس سے اٹھتی تازہ مہک اپنے اندر اتارتے ہوے اور لہروں کی دھیمی

Read more

الف، آڈیو اور عمیرہ احمد

جس دن میری دوست نے مجھے عمیرا احمد کا نیا ناول الف پڑھنے کے لئے بھیجا۔ میں ذرا چلتے پھرتے کاموں میں لگی تھی۔ میرے پاس ان کے ناول کی آڈیو کا لنک آیا تھا۔ میں نے سوچا چلتے پھرتے کام کرتے ساتھ ساتھ سن لیتی ہوں۔ میں نے اسے آن کیا۔ مگر پھر کچھ ہی دیر میں اسے بند کر دیا۔ یہ آڈیو اس قابل قطعی نہ تھی کہ اسے چلتے پھرتے نمٹا دیا جاتا۔ خوبصورت آواز میں ناول

Read more

ادب کےنوبل انعام یافتگان اور چند مباحث

جمعرات دس اکتوبر کو سویڈش اکیڈمی نےزبان و ادب کےشعبہ میں اعلیٰ کارکردگی کےاعتراف میں اِس سال ایک نہیں دو نوبل انعامات کا اعلان کیا۔ نوبل فائونڈیشن کی جانب سے ہر سال ایک نوبل ایواراڈ کا اعلان کیا جاتا ہے لیکن گزشتہ سال سویڈش اکیڈمی میں سامنے آنے والے جنسی سکینڈل کےباعث اِس انعام کا اعلان نہ کیا جا سکا لہٰذا اِس سال اکھٹے دو انعامات کا اعلان کرتے ہوئے 2018ء کا نوبل ادب ایوارڈ پولینڈ سےتعلق رکھنےوالی شاعرہ و

Read more

جمیل اطہر کی کتاب میں ایک فلم کی کہانی رکھی ہے

اخبار ایک زمانے میں زندگی تھے۔ اخبار میں چھپنا، اس میں دِکھنا، یہ سب غیر معمولی تھا، اخبار میں لکھنے والوں کی تو بات ہی الگ تھی، وہ لوگ جو اس کارخانہ عجائب کے کرتا دھرتا ہوتے، عامیوں کو کسی دوسری دنیا کی مخلوق لگتے۔ کچھ ایسی ہی باتیں تھیں جن کے دوش پر اڑتا ہوا میں لاہور جا پہنچا۔ اخبارات کے دفاتر دیکھے، ان میں کام کرنے والے دیکھے، کام کرنے کا انداز دیکھا، چھوٹی پیالیوں میں بار بار

Read more

سلطان محمود غزنوی اور مسلم مورخین ہند

مسلمانوں کی تاریخ فاتحوں اور لشکر کشاوں کے باب میں ہرگز تہی مایہ نہیں لیکن جس قدر تعریف و توصیف سلطان محمود غزنوی پر نچھاور کی گئی ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ اس کا مقام و مرتبہ بیان کرنے میں حد درجہ مبالغہ روا رکھا گیا ہے۔ جوزجانی نے سلطان محمود کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے جس رات محمود کی ولادت ہوئی اس رات ویہنڈ ( جو دریائے سندھ کے کنارے پر حدود پشاور میں تھا) کا

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی مشہور آٹو بائیو گرافی The Seeker (سالک)

خود کو جانچنا، کریدنا، پرکھنا اور کھوجنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا۔ اپنی زندگیوں میں معنویت پیدا کرنے کے لئے کچھ لوگ روایتی اور گھسے پٹے راستوں کا انتخاب کرتے ہیں اور ایک بڑے ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کے خیالات میں ایک طرح کا سطحی پن اور نرگسیت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ جوان کی زندگی کو ایک ہی رُخ میں قید کردیتا ہے۔ کچھ نابغہ روزگار ایسے بھی ہوتے ہیں جولفظوں کی تہہ میں اُتر کر

Read more

ظفر زیدی اور ’زخم زخم اجالا‘

اردو شاعری کے کتنے مجموعے پڑھے لیکن ذہن پر کوئی مستقل تاثر چھوڑے بغیر محو ہو گئے۔ الفاظ کا کھیل، ردیف قافیوں کے کرتب‘ تصورات کے گلستانوں کی سیر، خیالی معاشقوں کے قصے اور انسانی زندگی اور مسائل سے کترا کر گزر جانے کی روایت۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اردو شاعری میں ان کے علاوہ اور بھی کچھ ہے یا نہیں؟ ظفر زیدی کا حقیقی نام سید ذکی حیدر زیدی تھا۔ 1950ء کے لگ بھگ اناؤ (یوپی) میں

Read more

سومناتھ پر رومیلا تھاپر کی کتاب کا جائزہ

ابن انشا کا اورنگ زیب عالمگیر پر یہ جملہ بہت مشہور ہوا ہے کہ یہ وہ بادشاہ تھا جس نے نہ کوئی نماز چھوڑی اور نہ کوئی بھائی چھوڑا۔ لیکن ابن انشا سے کئی سو سال پہلے سلطان محمود غزنوی کے درباری شاعر فرخی نے اسے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا سلطان معظم آپ نے سرزمین ہند پر نہ کسی جنگجو کو چھوڑا ہے اور نہ کسی ہاتھی کو۔ گزشتہ چند برسوں سے مشہور بھارتی تاریخ نویس پروفیسر

Read more

فیمنسٹ پیروکاری، عائلی قوانین اور عورتوں پر ہونے والا تشدد

امتیازی قوانین دنیا بھر میں عورتوں کے انسانی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ زندگی کا ساتھی چننے کا معاملہ ہو، یا وراثت میں حصہ ملنے کا یا ملازمت کرنے یا بچے کو اپنی تحویل میں لینے کا مسئلہ ہو، عورتوں کی زندگی کا ہر پہلو ان قوانین جنہیں عام طور پر عائلی قوانین کہا جاتا ہے، سے متاثر ہوتا ہے۔ ان قوانین کی بدولت دنیا بھر میں عورت اور مرد کے درمیان تفریق بڑھی ہے اور عورتوں پر

Read more

متنوع رنگوں کا سیلانی۔ باونی کا بانی

باونی تاریخ، روایت، لوک کہانیوں، ذاتی کیفیات و واردات، بیابانوں، ساحلوں، جنگلوں، باغوں، دشت وصحراؤں کے احوال اور سفر کی روئیداد کا خوبصورت مرقع ہے جسے سفر سے والہانہ عشق کرنے والے ہر مسافر کے پاس ہر حال میں ہونا چاہیے۔ عرفان شہود مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سفرانچہ جیسی ایک نئی اور اچھوتی اصطلاح متعارف کروا کر سفرناموں کی روداد کو مختصر ترین صورت میں بیان کرنے کی رِیت ڈالی۔ باونی میں انہوں نے کل باون سفرانچے

Read more

فرینز کافکا کا ناول ’میٹا مارفوسس‘ اور فلسفہ بیگانگی

ہم دیکھ رہے ہیں کہ پچھلی چند صدیوں میں اکنامک لبرل ازم اور فری مارکیٹ کیپیٹل ازم نے ہماری گردنوں میں ضروریات زندگی کا طوق کچھ اس طرح سے پھنسا دیا ہے کہ ہمارے سوچنے کے تمام تر انداز پر سرمایہ دارانہ شعور کا اچھی طرح سے قبضہ ہو چکا ہے اور اب حالات یہ ہیں کہ آج ہم کسی مشینی ربوٹ کے مانند سرمایہ کو مرکز مان کر اپنے معیارات اور اقدار کی نشونما کو عین انسانی فطرت سمجھنے

Read more

عارفہ شہزاد کا شعری مجموعہ ”عورت ہوں نا“

عارفہ شہزاد کی ”عورت ہوں نا! “ میں نے ایک سے زیادہ بار پڑھی مگر اس کی تفہیم کا غرفہ ہے کہ کھلنے کا نام نہیں لیتا۔ کہیں ایک ابلاغی تہ داری کا حجاب وجہ فراق ہے تو کہیں نسائی رمزیت نے ”با ادب با ملاحظہ ہوشیار“ کی گونج سے موجود کو دہکا رکھا ہے اور اگر کہیں سے شناسائی کی کوئی کرن پھوٹتی ہے تو جناب تبسم کاشمیری کا بیان اس پر سد نمود ہے۔ بس ایک رس بھری

Read more

صدائے حق کا مسافر

یہی کوئی لگ بھگ دو مہینے پہلے کی بات ہے۔ آل پاکستان رائٹرز ویلفیر ایسوی اسیشن کے سنیر نائب صدر ایم ایم علی نے مجھے اپنی کتاب صدائے حق پڑھنے کے لئے دی۔ اس کتاب میں میرا ایک تبصرہ بھی شامل ہے۔ اس لئے کتاب کے متن سے کم و بیش میں واقف تھی مگر پوری کتاب پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ صدائے حق ایم ایم علی کے کالمز کا مجموعہ ہے۔ سنجیدہ قسم کے کالمز چونکہ میرے مزاج

Read more

زرگزشت از مشتاق یوسفی

”ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب انسان میں اپنے آپ پر ہنسنے کا حوصلہ بھی نہیں رہا، اور دوسروں پر ہنسنے سے اسے ڈر لگتا ہے۔ “ مشتاق یوسفی اپنے آپ پر ہنسنے سے پہلے انسان کو بہت بہادر بننا پڑتا ہے۔ اپنی شکستہ حالت کو قبول کرنا ہوتا ہے اپنی خستہ حالی کو تمغے کی طرح سینے پر سجانا پڑتا ہے۔ تبھی تو ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا! کھل کر رونے کے بعد ہی ہنسنے کی باری

Read more

رات ڈھلتی نہیں (غزلیں ) از ڈاکٹر ایوب ندیم

رشید احمد صدیقی نے غزل کو اردو شاعری کی آبرو قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شعبہ نہیں کہ غزل کی جڑیں ہماری تہذیب کی مٹی میں گڑی ہیں۔ اردو شاعری میں سب سے بڑی سرمایہ کاری غزل کی ہے جس نے اردو ادب کے خزانے میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے۔ اردو غزل وہ آئینہ ہے جو ہماری تہذیب، تاریخ اور تمدن کو منعکس کرتا ہے۔ اگر اس میں ایک طرف حُسن و عشق کے نازک جذبات و احساسات

Read more

پنجاب کا مقدمہ

”پنجاب کا مقدمہ“ نامی یہ کتاب مرحوم محمد حنیف رامے نے لکھی ہے۔ یہ کتاب 1985 میں شائع ہوئی ہے۔ حنیف رامے صاحب نے یہ کتاب پنجابی قوم پرست کی نقطہ نظر سے لکھی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں پنجاب کے عوام کی طرف سے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔ یقینا انہوں نے جس طرز سے پنجاب کا مقدمہ پاکستان کے باقی اقوام کے سامنے پیش کیا ہے قابل ستائش ہے۔ اب تو پنجابی قوم پرستوں نے بہت ساری

Read more

بچے، تتلی، پھول” کے آئینے میں شہر لیاری”

پچھلے دنوں مجھے ایک اہم اور متاثر کن کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ کتاب چھپی تو 1997 میں تھی مگر میرے ہاتھ حال ہی میں لگی۔ کتاب کا نام ہے "بچے، تتلی، پھول”۔ اور اس کے شاعر کا نام نور محمد دانش ہے کہ جو ادبی دنیا میں نون میم دانش کے نام سے مشہور ہیں۔ ایک سوشل ورکر ہونے کے ناتے مجھے اس کتاب کی نظموں کے تمام موضوعات نے متاثر کیا۔ لیکن ایک نظم لیاری نے اس

Read more

آئنہ نما: ایک کالی کتاب پر تبصرہ

جناب ظفر عمران کی نئی کتاب ”آئنہ نما“ کوچہ و بازار میں ارزاں ہوئی ہے۔ ظفر عمران صاحب املا میں وحدانیت کے قائل ہیں اور ان کا یہی رویہ اس کتاب میں جھلکتا ہے۔ مثلاً مروج املا آئینہ ہے، مومن، ذوق، شاہ نصیر، حتی کہ ظفر (شہنشاہ ہند والے اصلی) اسے آئینہ لکھتے آئے ہیں۔ ”ہم کو دکھلائے ہے ہر لحظہ جمال جاناں / دل کا صاف اپنے ظفر آئینہ سا ہو جانا“۔

ہاں صرف ایک شاعر کے ہاں اسے آئنہ لکھا دیکھا ہے۔ ”یوں ہماری عمر گزری انتظار یار میں / اپنے گھر میں جس طرح رہتا ہے بیدار آئنہ“۔ یہ شاعر بھی فاضل مصنف کی طرح مروج روایات کو نہیں مانتے تھے اور ایسے شدت پسند تھے کہ تخلص تک ناسخ باندھ رکھا تھا۔

Read more

”ٹوڑی کی روایت“ ایک تعارفی جائزہ

علمِ موسیقی کے طالبعلوں کی علمی پیاس کو بجھانے کے لئے حال ہی میں ”ٹوڑی کی روایت“ کے نام سے ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کتاب کی تحقیق و تصنیف جناب پرویز پارس نے کی، ترتیب وتالیف عائشہ علی نے اور اسے لاہور سکول آف اکنامکس نے چھاپاہے۔ ہمیں ایسی ہی کتابوں، محققین اور مواد کی ضرورت بھی ہے۔ اس کتاب کی اشاعت پر پرویز پارس صاحب اور ادارہ لاہور اسکول آف اکنامکس یقیناً داد و تحسین کے مستحق ہیں۔

Read more

’سیاسی پہلوانی‘ کو بیان کرنے والی کتاب: ’دی گیم آف ووٹس‘

پروفیسر فرحت بصیر خان میڈیا کی دنیا کا نیا نام نہیں۔ موصوف تین دہائیوں سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اے جے کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ ’ویژول کمیونی کیشن‘ کے علاوہ جرنلزم اور تحقیق کے شعبوں میں بھی ان کے نمایاں کام ہیں۔ حال ہی میں اُن کی ایک عمدہ کتاب ’دی گیم آف ووٹس‘ منظرعام پر آئی ہے، جس میں ’ووٹ کے کھیل‘ کے موضوع کو تخلیقی جامہ

Read more

البرٹ کاموز کا ناول ’اجنبی‘ اور فلسفہ وجودیت

مذہبی دیو مالائی کہانیوں سے ہٹ کر اگر کبھی سوچیں تو کا ئنات کی موجودگی کی کوئی عقلی دلیل نظر نہیں آتی ہے اور جب کائنات بے دلیل نظر آتی ہے تو اس کی تخلیق کے بعد کے پنپنے والے تمام تر نظریات محض انسانی ارتقائی عمل کی بقا اور ممکنہ ضرورتوں کے ماتحت ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ مذہبی دیومالی قصے یوں بھی آج تک کوئی بھی عقلی دلیل نہیں دے پائے ہیں۔ یہ ایمان اور

Read more

شہر آشوب کا جادو گھر کتابی تبصره

 ”کچھ بے ترتیب کہانیاں“ ارشد رضوی کی شہر آشوب کی بے ترتیب کہانیاں ہیں، اور ان کہانیوں میں بپھرا ہوا سمندر ہے، مجذوب و مرطوب ہوائیں ہیں، وسیع و عریض شہر کے طویل اور تھکا دینے والے راستے ہیں، جا بجا بکھری ہوئی تار کول کی سڑکیں ہیں جن کو اعلی شان گاڑیاں اور بوسیدہ بسیں سارا دن روندتی ہیں، روشن اور طویل دن ہیں۔ نم ناک راتیں ہیں۔ کچے گھر بھی ہیں، مسمار ہوتے قدیم مکان ہیں، عالی شان

Read more

اور جوتے نے کتاب کو دھکا دے دیا

بی بی سی اردو کی ایک مختصر بصری رپورٹ میں معروف بلوچی لکھاری اور دانشور ڈاکٹر شاہ محمد مری شکوہ کر رہے ہیں کہ کوئٹہ کی مشہور جناح روڈ کبھی کتابوں کی دوکانوں اور علمی و سیاسی مباحثوں کو فروغ دینے والے ریستورانوں کا مرکز ہوا کرتی تھی ۔اب وہ چائے خانے غائب ہو گئے اور ان کے باہر چکن تکہ لٹک گیا۔ بقول شاہ محمد مری کتابوں کی دوکانوں کو جوتے کے کاروبار نے دھکا دے کر میز پر

Read more

انیس احمد کا ناول "نکا”: پاکستانی ناول نگاری میں ایک منفرد باب

ایک دفعہ کا ذکر ہے، اگرچہ یہ کسی بھی دفعہ کا ذکر نہیں ہے کہ خُداوند عزوجل کی خاکی مخلوق اناج کی مختلف قسموں جیسی تھی جس کے لیے بہت زیادہ بولنا اور سفید کاغذوں کو کالے لفظوں سے آلودہ کرنا گناہ تھا لیکن سفید کاغذوں کو کالے کرنے والے پیشہ ور گناہ گاروں کی صف میں انیس احمد بھی ہیں جو اس زمین پر ہی رہتے ہیں لیکن ان کے اس زمین پر ہونے کے نشانات مسلسل متحرک رہتے

Read more

کلثوم کے بعد بہت تنہا سا ہو گیا ہوں

میرا اور کلثوم کا سینتالیس برس کا ساتھ تھا۔ ساتھ بھی ایسا کہ جسے ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کا خیال رکھنے اور ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنے کا مثالی تعلق کہا جا سکتا ہے۔ اس سفر کے دوران اچھے دن بھی آئے۔ بہت مشکل اور کٹھن وقت بھی آیا۔ میں نے کلثوم کو ہمیشہ صابر، شاکر اور باہمت پایا۔ وہ بہت حوصلے اور بڑی سمجھ بوجھ والی خاتون تھی۔ سیاست اُسے کبھی پسند نہیں رہی۔ 1980 ء کی دہائی میں، جب میں پہلے پہل سیاست میں قدم رکھ رہا تھا تو بھی کلثوم کی رائے اس کے حق میں نہ تھی۔

Read more

طاہرہ اقبال کا ناول ”نیلی بار“

حافظ محمود شیرانی کے ’پنجاب میں اردو‘ کے نظریے سے قطع نظر اردو زبان کے بیشتر مورخین اور محققین اس بات پر متفق ہیں کہ اردو زبان کا آغاز دوآبے کی سرزمین دہلی اور میرٹھ کے مضافات سے ہوا۔ اس کی ابتدائی پرورش بھی وہاں ہوئی مگر اس پرسدا بہار جوانی اور جوبن اس وقت آیا جب اسے پنجاب کی آب و ہوا میسر ہوئی۔ گیسوئے اردو کو سنوارنے میں شانہ پنجاب کا ”اہم ہاتھ“ ہے۔ بلکہ کچھ دوست تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پنجاب نے اردو کو سنوارنے میں اپنی ماں بولی بھی قربان کر ڈالی ہے۔

Read more

تیرے قرب کی خوشبو

تآپی فاطمہ شیروانی سے میری پہلی ملاقات گذشتہ برس صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ سی ایم ہاؤس لاہور میں ہوئی جہاں ان کے ساتھ مجھے بھی میری صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوے اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا تھا۔ ۔ یہ تقریب آل پاکستان رائٹرز ولفیئر ایسوسی ایشن (اپوا) نے رکھی تھی۔ تب میری پہلی کتاب ”15 پراسرار کہانیاں“ نئی نئی آئی تھی۔ میں نے وہاں آپی کو اپنی کتاب بطور تحفہ دی اور اپوا میں باقاعدہ شمولیت اخیتار کر

Read more

اگنازیو سلونے : فونطامارا (ناول)۔

فسطائیت کے خلاف اگر ہم فکشن کی طرف آئیں تو فونطامارا ؔکو ایک اہم ناول پاتے ہیں کہ جس کا ذکر بہت ضروری ہے۔ لبرل ازم، مارکسزم اور انارکزم کی تحریکیں کسی نہ کسی طور پہلی جنگ عظیم کے وقت موجود تھیں لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران اٹلی میں ان تحاریک کے بالکل خلاف ایک نئی تحریک فاشزم کا آغازہوا۔ فاشزم ایک ایسا استبدادی طرز حکومت ہے جس میں حکومت کے پاس بے پناہ طاقت ہوتی ہے جب کہ عوام کے پاس سیاسی آزادیاں نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہیں۔

Read more

روسو کا معاہدہ عمرانی

جب فرانس میں مذہبی جنگ کا آغاز ہوا تو ژاں ژاک روسو کا خاندان وہاں سے جنیوا میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا اور کوئی ایک صدی بعد 28 ؍جون 1712 ء کو روسو نے اس خاندان میں جنم لیا۔ اس کی والدہ اسے جنم دیتے ہی فوت ہو گئی۔ اس کا باپ بھی گھڑی ساز تھا جس نے روسو کو خود تعلیم دینا شروع کر دی اور جب وہ دس برس کا ہوا تو اس کے باپ کو ایک جھگڑے کی وجہ سے جنیوا چھوڑنا پڑالہٰذا اس نے روسو کو چچا کے پاس چھوڑا تاکہ وہ تعلیم جاری رکھ سکے اور خود ہجرت کر گیا۔

Read more

میرے بھی صنم خانے۔ ایک مطالعہ

کچھ دیر قبل اردو کا شاہکار ناول ”میرے بھی صنم خانے“ پڑھا اور سوچا کہ اس پر خامہ فرسائی کرنی چاہیے کیونکہ یہ ناول اپنے اندر کئی عہد سموئے ہوئے ہے۔ ہمارے وہ نقاد جن کا خیال ہے کہ اردو میں بڑا ناول لکھا ہی نہیں گیا ن کے لیے قرۃ العین حیدر کا یہ ناول بطور مثال پیش کرنا چاہیے۔ ناول پڑھنے کے بعد عجیب کیفیت سے گزر رہی ہوں، ایسا لگ رہا ہے کہ ناول میرے حواس پر طاری ہے، اس کے تمام کردار میرے ارد گرد چل پھر رہے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اچھا ناول ہمیشہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور قاری چاہ کر بھی اس کے حصار سے نہیں نکل پاتا۔

Read more

ترکی میں پاشا

آج کل ہمارے ہاں کسی بھی ملک کا سفر نامہ لکھنے کے لیے دو بنیادی شرائط رائج ہیں۔ ایک تو آپ انٹر نیٹ کا بھر پور استعمال جانتے ہوں اور دوسری آپ کو لمبی چھوڑنے کا فن بخوبی آتا ہو۔ بس یہی دو بنیادی شرائط ہیں۔ ہاں! اس کے ساتھ اگر اُس ملک کا سفر بھی کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہرطور یہ کوئی ضروری شرط نہیں ہے۔ ویسے بھی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر جس زبردست انداز سے کوئی سفرنامہ لکھا جا سکتا ہے وہ اس ملک میں جانے اور وہاں دھکے دھوڑے کھا کرلکھنے سے کہیں بہتر ہے۔ ۔ یعنی نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

Read more

تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو۔ سیمول ہنٹنگٹن

گو کہ کتاب پرانی تھی مگر موضوع ابھی تک نیا ہے شاید اسی لیے میرے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اس بار لائبریری میں سیمول ہنٹنگٹن کی مشہورِ زمانہ کتاب ’تہذیبوں کا تصادم اور عالمی نظام کی تشکیل نو‘ پر بات کرلی جائے۔ 1993 میں سوالیہ نشان کے ساتھ جرنل آف فارن افئیر میں چھپنے والا سیمول ہنٹنگٹن کا یہ ارٹیکل تین برس بعد 1996 میں کتاب کی صورت میں چھپا تو چند سالوں بعد ہی ستمبر 11 کے سانحے نے گویا کتاب میں درج پیشن گوئی کو ایک زبان عطا کردی اور یوں یہ کتاب مغربی عوام کے لیے خصوصاً اور مشرق عوام کے لیے عموماً ایک تشویش ناک فکر کا سبب بن گئی۔ اس کتاب میں ایسا کیا تھا آئیں تھوڑا سا جائزہ لیتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ کیا انسانی تہذیب کے ارتقائی سفر کے تعارف کو یوں بھی سیاسی و اقتصادی خانوں میں بانٹ کر ایک مثبت یا منفی فکر پیدا کی جاسکتی ہے؟ اور اگر واقعی یہ فکر حقیقت پر مبنی ہے تو انسانی ’تہذیب‘ کا مقدر فیصلہ کن حد تک تشویش ناک نظر آتا ہے۔

Read more

ہر پہر کا آسماں: ذرا آگے سبھی منظر کھُلے ہیں

مرزا غالب کو ظرفِ غزل کی تنگی کا شکوہ تھا اور علامہ اقبال بھی حرفِ راز شیئر کرنے کے لئے یہ شرط عائد کر گئے کہ ’خدا مجھے نفسِ جبرئیل دے تو کہوں‘۔ میرے دوست پروفیسر آصف ہمایوں نے رجحان ساز شاعر ہونے کا دعوی تو نہیں کیا، مگر مسئلہ اُس کا بھی وہی ہے جو غالب و اقبال کا تھا۔ اسی لئے تو وہ انسانی مشاہدے کے معلوم وسیلوں کا زادِ سفر اٹھائے بڑی مستعدی سے نامعلوم کا پیچھا

Read more

ایلف شفق کے ناول ”ناموس“ پر الطاف فاطمہ کا تبصرہ

مصنفہ: ایلف شفق مترجم: ہما انور ناشر: جُمہوری پبلیکیشنز ایلف شفق کا ناول ”ناموس“ اس کے ان دوسرے تمام بے مثال ناولوں کی صف میں, جو اب تک میرے مطالعہ سے گزری ہیں، ایک منفرد اور ایک الگ ہی مقام رکھتا ہے جس کی تعریف، تحسین اور تجزیے کے لیے الفاظ کو گرفت میں لانا مشکل ہی نہیں بلکہ میرے امکان سے بالاتر ہیں۔ ”ناموس“ ایلف شفق کی وہ بے مثال اور بے نظیر ناول ہے جس میں اس کا فن اس

Read more

درویشوں کے ڈیرہ پہ تاثرات

سب دوست جانتے ہیں کہ بون انجری کی وجہ سے میں آج کل بیڈ ریسٹ پہ ہوں۔ پہلے کچھ ہفتے تو ٹراما میں نکل گئے۔ دوستوں کی مہربانی اور توجہ سے میں دوبارہ نارمل ہونا شروع ہوئی۔ کچھ دن پہلے روشی نے مجھے ایک کتاب دیتے ہوئے کہا کہ یہ پڑھو۔ بدقسمتی سے میں گھر آتے ہوئے کتاب وہیں بھول گئی۔ دوبارہ جانا ہوا تو اس نے کہا کہ کتاب لے کر نہیں گئی تو میں نے کہا دے دو۔

Read more

”لوگ در لوگ“ اور فرخ سہیل گوئندی کی جہاں گردی

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب ”لوگ در لوگ“ اپنے موضوعاتی تنوع کے باعث جہاں قاری کو نگر نگر کی سیر کراتی اور منفرد عالمی شخصیات سے براہ ِراست ملاتی ہے وہاں یہ مسئلہ بھی پیدا کرتی ہے کہ اسے لائبریری میں رکھتے وقت کس شعبہء علم کے خانے میں سجایا جائے۔ اس جمالیاتی مسئلے کی وجہ یہ ہے کہ ”لوگ در لوگ“ میں جہاں ہمارے سامنے بڑے لوگوں کے منفرد شخصی خاکے آتے ہیں تو اس کے پہلو بہ پہلو

Read more

مریم نواز نے جیل میں پڑھنے کیلئے بلال غوری کی کتاب "لاپتہ کالم” منگوا لی

مریم نواز نے جیل میں فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مطالعے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اب انہوں نے بلال غوری کی کتاب "لاپتہ کالم” کی فرمائش کی تھی جسے سینٹر پرویز رشید نے پورا کر دیا،۔ تفصیلات کے مطابق، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے گزشتہ پیشی پر نواز شریف کے قریبی ساتھی پرویز رشید سے فرمائش کی تھی کہ وہ معروف کالم نویس بلال غوری کی کتاب ’لاپتا کالم‘ لے کر آئیں۔ پرویز رشید نے

Read more

پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

ترقی یافتہ دنیا میں اساتذہ کا کتابیں لکھنا ایک عام سی بات ہے لیکن پاکستان میں کتابیں لکھنا اور شائع کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ ایسے اساتذہ بھی کم ہیں اور ایسے ادارے تو اور بھی کم ہیں جو کتابوں کی اشاعت کے لئے تعاون کرتے ہوں۔ ڈاکٹر تو صیف احمد خان، سوسائٹی فار آلٹرنیٹو میڈیا اینڈ ریسرچ اور بدلتی دنیا پبلی کیشنز مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے ’پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ‘ کو کتابی شکل میں ہمارے لئے مرتب کیا۔ طلبا اور محققین کے لئے تعلیم اور تحقیق کے حوالے سے اس کتاب کی افادیت اپنی جگہ لیکن پاکستان کی جمہوری جدوجہد کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے بھی اس کتاب کا مطالعہ ضروری ہے۔

Read more

مشاہیر ادب کی رومانی داستانیں

راشد اشرف کی مرتب کردہ کتابیں پڑھنے والوں کی زندگی خاصی آسان کر دیتیں ہیں۔ وہ ماضی کے گم شدہ خزانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایسے شاندار جوہر پارے پیش کرتے ہیں کہ دل خوش ہو جاتا ہے۔ دل ہی تو ہے بھی راشد اشرف صاحب کی مرتب کردہ ایک ایسی ہی کتاب ہے جسے ایک بار اٹھا لیں تو مکمل پڑھے بغیر رکھنے کو دل نہیں مانتا۔ مختلف خود نوشتوں، رسائل اور کتب وغیرہ سے اکٹھی کی ہوئی یہ

Read more

پاکستانی خاندان اور عورت: پرورش، پابندی، خود مختاری

کہتے ہیں کہ تناور پیڑ کے نیچے اگنے والے پودے پنپ نہیں سکتے مگر شائستہ سعیدنے جناتی دانشوروں، فلسفیوں، ادیبوں اور شاعروں کے گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود اپنی شخصیت کو منوایا ہے۔ خاندان سے متعلق وہ پہلے بھی ایک کتاب ”دو نسلوں کی مائیں“ لکھ چکی ہیں۔ زیر نظر کتاب ”پاکستانی خاندان اور عورت۔ پرورش، پابندی، خود مختاری“ کا دیباچہ ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شائستہ سعید نے ایک اچھے خاندان کے لئے ضروری ہر پہلو کی نشاندہی کی ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ آخرش کون سا مناسب طریقہ ہے کہ ہر خاندان کا ذمہ دار فرد بلا لحاظ جنس، کس طرح خاندان جیسی عظیم اکائی کی بہتری میں مقدور بھر کردار ادا کر کے دنیا کو کس قدر بہتر بنا سکتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں انسانوں کی بلا تفریق مذہب، نسل، زبان اور علاقہ، ان کے جوہر انسانیت کی وجہ سے عزت و توقیر ہو سکے۔ چونکہ ایک اچھا انسان ہی اپنے مذہب، نسل، زبان اور علاقے کے لئے قابل فخر سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ”

Read more

وجاہت مسعود کا ”محاصرہ“

آج سے تیرہ برس قبل جب میں نے جنگ میں کالم لکھنے شروع کیے تو میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت آسان ہے، کہیں بھی بیٹھ کر کچھ بھی گھسیٹ دو چھپ جائے گا، اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھی، بے شمار کالم نگار آ ج بھی اپنے پیر کے انگوٹھے سے قلم پکڑ کرکالم گھسیٹتے ہیں اور ان کے مضامین پورے کروفر کے ساتھ اخبارات کی زینت بنتے ہیں، میں ایسے کالم نگاروں کا بے

Read more

رفعت وحید کی شاعری اور ان کی کتاب سمندر استعارہ ہے

رفعت وحید عہد حاضر کی ایک منفرد شاعرہ ہیں جن کی شاعری نہ صرف انسانی خیالات و جذبات کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ وہ سماجی مسائل و جبر کے خلاف اپنے قلم سے آواز بلند کرتی ہیں اور جب ان کا قلم کچھہ لکھنے لگتا ہے تو وہ ذہنوں، دلوں اور روحوں کو چھو لیتی ہیں۔ رفعت وحید کو شاعری کرنے کے لئے کس نے متاثر کیا؟ اس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتی ہیں لیکن جس نے

Read more

بلند اقبال کا ناول ”ٹوٹی ہوئی دیوار”: نفسیاتی اور نظریاتی تجزیہ

(یہ میرے ایک تجزیاتی مضمون کا خلاصہ ہے جو دو سال قبل کینڈا میں مقیم ڈاکٹر بلند اقبال کی ناول‘‘ٹوٹی ہوئی دیوار’’کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا۔ اس دن ان کے والد حمایت علی شاعر کی سالگرہ کا جشن بھی منایا گیا جو ایک محبتی اولاد کا اپنے عظیم والد کے لیے عقیدت کا اظہار تھا۔ یہ ناول بلند اقبال کی انسان دوستی، امن پسندی اور دوراندیشی کا بولتا ثبوت اور ان کی والد کی سکھائی قدروں کا امین بھی

Read more

جمہوریت صبر طلب، فوج بے تاب

مذکورہ بالا عنوان ٹائٹل تھا پاکستان کی قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان کی سوانح عمری کا جو 2006ء میں شائع ہوئی۔ سنہ 1973 کا متفقہ آئین منظور ہونے کے بعد جو پہلی قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی تھی، صاحبزادہ فاروق علی خان اس کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1977 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ سنہ 1977 میں جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں فوج کی طرف سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی

Read more

جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ حقوق دانش

بچپن میں اکثر یہ جملہ لکھا ہوا نظر آتا تھا کہ "جملہ حقوق محفوظ ہیں” تو سوچ ابھرتی تھی کہ ایسا کیوں لکھا ہوتا ہے، اس جملے کے متعلق مکمل تفصیلات ایک دل چسپ واقعے کی بدولت علم میں آئیں۔ جب ہمارے بھائی کے دوست نے اپنی ٹریول کمپنی کا بہت دلچسپ نام اردو زبان میں رکھا، نام اتنا آسان اور عام فہم ہے کہ ناخونداہ افراد بھی بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں، ان کے نام رکھنے کا مقصد بھی

Read more

آغا ناصر کی خود نوشت”آغا سے آغا ناصر“۔

طویل عرصے تک کسی بھی سرکاری ادارے سے وابستہ افراد کی آپ بیتی پڑھنا اس دو دھاری تلوار جیسا ہے جس کا ایک سرا کند ہو لیکن یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کون سا سرا ہے۔ ایک خاص سانچے میں عرصہ دراز تک رہنے کی بدولت محتاط انداز، ڈھکی چھپی بات، خود نمائی کی جھلک، تاریخ کے اہم واقعات کا آنکھوں دیکھا بلکہ ہاتھوں کیا حال اور سب اچھا ہے وغیرہ ایسی خود نوشتوں کا خاصہ ہے۔ شہاب نامہ ہو، فرینڈز ناٹ ماسٹرز یا پھر ان دی لائن آف فائر، اس نوع کی تمام کتب کو ایک خاص تناظر میں دیکھنا قاری کی مجبوری بن جاتا ہے۔ نصف صدی تک پاکستان ریڈیو اور ٹی وی سے وابستہ معروف شخصیت جناب آغا ناصر کی آپ بیتی ”آغا سے آغا ناصر“ بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے جوتمام تر احتیاط سے لکھی ہونے کے باوجود دلچسپی کا بھرپور سامان لئے ہوئے ہے۔

Read more

عشق کے ڈھائی الفاظ

میں اُن خوش نصیبوں میں سے ہوں جس کی تربیت کتابوں سے ہوئی۔ کچھ دن قبل شبنم گل کا اسلام آباد آنا ہوا تھا، وہ میرے لئے چند کتابوں کا تحفہ لائی تھی جس میں ان کی اپنی کتابیں بھی تھیں ان میں سے کتاب ”اڈائی اکھر عشق جا“ (عشق کے ڈھائی الفاظ) میری توجہ کے لئے اس کتاب کا ٹائٹل ہی کافی تھا، اس کتاب کو جب میں نے پڑھنا شروع کیا تو اُس میں شاید کچھ ایسا بھی

Read more

اہل کراچی، کچھ دبئی اور لاہور والوں سے سیکھ لیں

لکھنے کے لیے بہت باتیں پڑی ہیں اس لیے ابھی یہ نوبت نہیں آئی کہ دبئی کے سفر کا احوال لکھنے بیٹھ جائوں۔ جس کے پاس لکھنے کے لیے کچھ نہ ہو وہ دبئی کے سفر کا حال احوال لکھ سکتا ہے۔ یعنی آنا جانا بھی کیا اور جگہ بھی کیا۔ ایک پرانے شاعر تھے نوح ناروی۔ انھوں نے اپنے بارے میں لکھا کہ نارہ سے نکلا اور آرہ پہنچے، آرے سے نکلے اور نارے پہنچے۔ دبئی کا معاملہ بھی

Read more

محمد سلیم الرحمٰن کی ”نظمیں“

جدید اردو تنقید کی افقی، عمودی اور حرکی تعبیرات سے تنقیدی اسلوب کی تشکیل تو ہو گئی مگر اس کے تخلیقی مکاشفے کو جو نقصان پہنچا اس سے اردو کے وضاحتی نقاد بے خبر ہیں جو زمانی حدود اور تحریکی روابط کی تلاش میں اچھی خاصی تخلیق کو سپاٹ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کے طفیل تو اردو تنقید کی دکان سے وہ کچھ مل رہا ہے جو اس میں ہے ہی نہیں۔ اردو شاعری میں یکساں تنقیدی پیمانے

Read more

مسلمانوں کی صورتحال پر ایک منفرد کتاب

برصغیر کے سنجیدہ حلقوں میں مالک اشتر کی شناخت ایک ایسے لکھاری کی ہے جنہوں نے مسلمانوں کے سماجی مسائل پر خوب لکھا ہے۔ نوجوان صحافی کے طور پر شناخت بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک ایسے قلمکار کے طور پر پہچان بنائی ہے جو حقائق کے بیان اور استدلال میں کسی تکلف کا قائل نہیں۔ ان کی تحریروں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ بات اشتیاق کی وجہہ ثابت ہوئی کہ مسلمانوں کے مسائل پر ان کی

Read more

”ہماری امّی، مبارکہ حیدر“، مرتّب شعیب حیدر۔ کچھ تاثرات

حیدر قریشی صاحب نے ”پسلی کی ٹیڑھ“ لکھ کر کیا یوں کہ ہم لوگوں کو بالکل اس طرح کسی اور طرف لگا دیا جیسے کوئی ماہر، واردات کے وقت کچھ جعلی ثبوت جان بوجھ کر چھوڑ جاتا ہے اور کھوجی ان ثبوتوں کے پیچھے بھٹک جاتے ہیں اور یوں جرم کا سرا ان کے ہاتھ نہیں آ پاتا۔ اب آپ ٹیڑھ کو پسلی میں تلاش کیجیے اور باقی کی ہڈیاں بھول جائیے۔ بات یہ ہے کہ حیدر قریشی صاحب نے

Read more

اک چُپ سو دکھ

اس میں کو ئی شک نہیں کہ صحافت سے وابستہ افراد جب فکشن کی طرف آئیں اور وہ تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔ تو معلومات اور موضوعات کا ایک سیلاب ان کی طرف اُمڈ آتا ہے۔ اب یہ تخلیق کا ر کی صوابدید پر ہے، وہ اس سیلاب کے آگے بند باند ہ کر اپنی مرضی کے شگاف ڈال دے اور موضوعات کا انتخاب کرے۔ بعض اوقات اخباری زبان کا بہ کثرت استعمال ادبی اور تخلیقی زبان کو نقصان

Read more

مذہبی اقلیتیں، میڈیا اور محرومیوں کے بیانیے

جب 2017 ءمیں پاکستان میں تقریباً دو عشروں بعد مردم شماری ہوئی تو اس کا ایک حیران کن نتیجہ یہ سامنے آیا کہ پاکستان میں غیر مسلم آبادی کا تناسب کم ہوتا جارہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا بلکہ یہ بھی کہ وہ مستقل ایک ڈر اور خوف کی فضا میں رہتے ہیں۔ انہیں خود اپنے آپ پر اور اپنی عبادت گاہوں پر حملوں کا خطرہ لگا رہتا ہے۔

Read more

بُک رویو: جوخہ الحارثی کا ناول۔ (Celestial Bodies)

عُمانی مصنفّہ اور عربی ادب کی پروفیسر جوخہ الحارثی نے اپنے نئے ناول ’سیداۃ القمر‘ میں عمان میں گذشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں رونما ہونے والے سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی عوامل کونہایت خوبصورت انداز میں قلم بند کیا ہے۔ ناول کا انگریزی ترجمہ Celestial Bodiesکے نام سے مارلن بوتھ نے کیا ہے جو اوکسفرڈ یونیورسٹی کی میگڈلن کالج میں اورئنٹل اسٹڈیز کی پروفیسر ہیں۔ ناول کے ترجمے نے سال 2019 کا مین بین الاقوامی بوکر انعام حاصل

Read more

جارج آرویل کا جانور راج

اسے اتفاق ہی کہیے کے سالوں سے پینڈنگ جارج آرویل کا ناول ”اینیمل فارم“ جب ختم کیا تو ہم سب کی ورق گردانی کرتے ہوئے آمنہ مفتی صاحبہ کا اسی ناول کا اردو ترجمہ ”جانور راج“ کے نام سے نظروں سے گزرا۔ چند صفحات پڑھ کر ہی اندازہ ہو گیا کے ترجمے کا حق خوب ادا کیا گیا ہے۔ باکمال ادب کی چند علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ زمان، مکان اور زبان کی

Read more

مسلمان: حالات، وجوہات اور سوالات

ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کی پسماندگی اور کم مائیگی پر بہت سے دانشوروں اور محققین نے اپنے اپنے انداز میں تجزیہ کیا، مضامین، مقالات اور کتابیں لکھیں اوراس کے اسباب و وجوہات سے بحث کر کے کسی نتیجے تک پہنچنے کی کوشش کی۔ ان میں کسی نے معاشی تنگی کو اس کی اہم وجہ قرار دیا، کسی نے فوج اور طاقت کی کمی کو، تو کسی نے مسلم حکمرانوں کی ناعاقبت اندیشانہ پالیسیو ں کو

Read more

محمد کاظم اور ابن خلدون

ستر کی دہائی میں عزیز دوست باصر سلطان کاظمی کی بدولت احمد ندیم قاسمی صاحب کا مجلہ فنون باقاعدگی سے پڑھنے کا موقع ملتا رہا کیونکہ فنون باصر کے گھر آتا تھا۔ اس میں محمد کاظم صاحب میرے بہت مرغوب مصنف تھے۔ ان کے بارے میں مزید کچھ معلوم نہیں تھا۔ تحریروں سے بس اتنا تعارف ہوا کہ عربی زبان پر بہت عمدہ دسترس رکھتے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ وہی محمد کاظم السباق ہیں جنھوں نے مولانا

Read more

آئنہ نما کی آئینہ کہانیاں

اگر کسی افسانہ نگار کو یہ ادراک ہو جائے، کہ اُس کے اندر قدرت نے کہانی کہنے کا کون سا ٹول رکھ دیا ہے، تو پھر وہ کہانی کار اِدھر اُدھر کی مارا ماری سے بچ جاتا ہے اور شروع ہی میں اس کے شہرِ ادراک میں، اُس کہانی کار کے لئے ایک راستہ بِچھ جاتا ہے، جہاں سفر کرتی کہانیاں، اُس کی چاپ سن لیتی ہیں۔ اُس سے یوں لپٹ جاتی ہیں، جیسے کوئی اپنے محبوب سے لپٹتا ہے۔

Read more

یہ میں ہوں اور بس یہی کچھ ہوں

تین چار سال قبل دوستوں کی ایک محفل میں یہ سوال رکھا گیا، کِہ کتاب لانا کیوں ضروری ہے۔ ایسے میں ایک دوست نے مجھ سے کہا، کہ تم اپنے ڈراموں کی کتاب کیوں نہیں چھپواتے؟ ’’ڈرامے کون پڑھتا ہے؟‘‘ میرا یہ پوچھنا تھا۔ اسکرین کے لیے لکھے گئے سیریل یا فلمیں بھلا پڑھنے کی شے تھوڑی ہوتی ہیں۔ وہ اسکرین ہی پہ بھلی لگتی ہیں۔ دوسرے نے کہا، کہ اس طرح تمھاری کتاب تو مارکیٹ میں آ جائے گی۔

Read more

منیر مانک سندھ کا منٹو تھا

روزنامہ مساوات بند ہو چکا تھا، احفاظ بے روزگار تھے۔ آزادی صحافت کی جنگ لڑی جا چکی تھی، صحافیوں کو کوڑے لگ چکے تھے۔ ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی نے صرف ایک ہزار روپے کی تنخواہ پر ملازمت کی آفر کی تو احفاظ نے وہ بھی قبول کر لی تھی۔ میں تحریک استقلال کے ہفت روزہ پرچے ’محور‘ میں کام کر رہی تھی جسے شاہدہ اور نفیس احمد صدیقی نکالتے تھے جب انہیں سیاسی پرچے کی بجائے ’دھنک‘ اور ’تصویر ‘ جیسا

Read more

صحت کے شعبے میں ناکامیوں کی داستان

ڈاکٹر عارف آزاد کی کتاب PATIENT PAKISTAN پر تبصرہ! غالباً صحت اور تعلیم پاکستان میں سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے شعبے ہیں۔ ان شعبوں پر ریاستی اخراجات بہت ہی کم ہیں جو بائیس کروڑ کی آبادی کے لیے قطعی ناکافی ہیں۔ اسی لیے سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں کی حالت ہمیشہ سے بہت خراب رہی ہے۔ یہ کوتاہی صرف اس لیے نہیں کہ ریاست کی ترجیحات غلط ہیں بل کہ اس لیے بھی ہے کہ ان معامالات پر

Read more