فیس بک پہ ایک صاحب نے یہ لکھا اور ملت اسلامیہ کے صاحبان نے جس نوعیت کے کمنٹس کیے وہ پڑھ کر یہ سمجھ آ گئی کہ یوتھ کلب والوں نے یہ کیوں کہا تھا کہ آپ خواتین ہم مردوں کو نہیں جانتیں۔ ہم بھیڑیے ہیں بھیڑیے۔
”کارپوریٹ سیکٹر کے بڑے مزے ہیں، بندے کو تنخواہ ٹھیک ملے نہ ملے، ششکے اخیر ملتے ہیں۔
ہماری قسمت کے تارے البتہ آج کل گردش میں ہیں، پچھلے سال انہی دنوں بھی ہم آفیشل وزٹ پہ اسلام آباد تھے، تب روٹ تھوڑا چینج تھا۔
ہم دو لوگ لاہور سے اسلام آباد ڈرائیور کے ساتھ آئے تھے، پلان یہ تھا کہ ڈرائیور ہم دونوں کے ساتھ اسلام آباد جائے گا، ہم پہلے دن اسلام آباد کام کریں گے اور یہیں رک جائیں گے، اگلے روز صبح 10 بجے ڈرائیور ہمیں ائر پورٹ پر ڈراپ کر کے واپس چلا جائے گا اور ہم کراچی چلے جائیں گے، واپسی کی فلائٹ لاہور کی ہو گی۔
وہ پروفیشنل لائف میں کسی کرئیر کانشیئس لڑکی کے ساتھ ہمارا پہلا سفر تھا، جو اس قدر حسین اور رومانوی ثابت ہوا کہ کیا بتائیں۔
لاہور سے نکلے تو ہم ڈرائیور کے ساتھ آگے اور مس۔ پیچھے بیٹھی تھیں، لاہور اسلام آباد رستے میں بس ایک سٹے کیا اور سفر خاموشی سے کبھی کبھار کی ہوں ہاں میں گزرا۔ اپنے لیپ ٹاپ پر اور ہم موبائل میں مصروف رہے۔
Read more