اوجڑی کیمپ دھماکے: جب راولپنڈی، اسلام آباد پر قیامت ٹوٹی

راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم پر واقع اوجڑی کیمپ میں دھماکوں کے مناظر کو جڑواں شہروں میں رہائش پذیر عینی شاہدین نے کیسے دیکھا؟ سابق فوجی افسران، سینیئر صحافی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس واقعے پر کیا مؤقف رکھتے ہیں؟ جنرل ضیا الحق نے اس واقعے کی تحقیقات پر مُصر وزیر اعظم محمد خان جونیجو کو کیسے گھر بھیجا؟

Read more

33 سال قبل اوجڑی کیمپ میں آخر ہوا کیا تھا؟

وہ 10 اپریل 1988 ء کی ایک ”بے نور“ صبح تھی، 9 بج کر 45 منٹ پر اچانک راولپنڈی اور اسلام آباد کی فضا ہولناک دھماکوں سے لرز اٹھی۔ جڑواں شہروں کے مکینوں کو ایسے لگا جیسے پاکستان کے دارالحکومت کو کسی دشمن نے چاروں طرف سے گھیر کر اس پر میزائلوں کی بارش کر دی ہو۔ واقعہ کے کئی گھنٹے بعد پتہ چلا کہ کوئی دشمن حملہ آور نہیں ہوا بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم کے قریب

Read more

پرویز مشرف کی اتاترکی حکومت اور حقیقت

پرویز مشرف کے دور حکومت میں سو سے زیادہ ٹی وی چینل اورریڈیو اسٹیشن کھلے مگر ان چینلوں نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے خوب اشتہارات لیے، تعلیم کے بجائے جہالت کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ مذہبی منافرت اور غیر سائنسی سوچ کو پروان چڑھایا۔ میڈیا کے مالکان کروڑپتی سے ارب پتی بن گئے، عجیب و غریب قسم کے اینکروں اور ٹیلی ویژن کے پروگراموں نے عوام میں جہالت پھیلانے کا کام تندہی سے انجام دیا۔ ایسے پروگراموں کی سرپرستی کی گئی جن میں عورتوں کی تذلیل کی گئی، ایسے مولویوں کی سرپرستی کی گئی جو مذہب کے نام پر علم و آگہی کے خلاف مہم چلاتے رہے۔

Read more

سٹنگر میزائل کے حوالے سے افواہیں، سازشی نظریات اور حقائق: کیا امریکی ساختہ میزائل افغانستان میں روسی فوج کی شکست کی بنیادی وجہ بنے؟

اوجڑی کیمپ کے واقعے کی توجیح میں ایک نظریہ یوں تھا کہ پاکستان آرمی میں سے کسی نے یا بعض دیگر کے بیان کے مطابق شاید افغان مجاہدین میں سے کسی نے بے ایمانی کرتے ہوئے ایرانیوں کو کچھ سٹنگر میزائل فروخت کر دیے تھے اور امریکی فوجی ماہرین کی ایک ٹیم کیمپ کا دوہ کرنے والی تھی تاکہ میزائلوں کی تعداد کا جائزہ لے سکے۔

Read more

ایوان اقتدار سے نشر ہونے والا لیکچر پروگرام

بڑے بزرگ فرماتے ہیں کہ ایوب خان جب صدر مملکت تھے تب سبز انقلاب کے چرچے تھے۔ ان کی طرف سے قوم کی اصلاح کے لئے قوم سے خطاب کے نام پر مقامی حکومتوں کی اہمیت پر درس کا پروگرام ایوان صدر سے نشر ہوتا تھا۔ بعد ازاں ضیاء الحق کے دور میں روس اور امریکہ جنگ پر بھی لیکچر پروگرامز ایوان اقتدار سے نشر ہوتے تھے۔ ضیاء الحق جب اقتدار میں تھے اس وقت ہم بچے تھے اس لئے یاد نہیں پڑتا ہے کہ وہ کس طرح کی دانشورانہ گفتگو فرماتے تھے مگر اپنے مشرف صاحب کا زمانہ تو پورا کا پورا یاد ہے۔

Read more

مسلح افواج کا جانتے بوجھتے تمسخر اڑانے کے خلاف مجوزہ بل کی منظوری پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسلح افواج اور ان کے اہلکاروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف دو سال کی قید اور پانچ لاکھ تک کے جرمانے کی مجوزہ سزاؤں کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

Read more

سٹیک ہولڈر یا سٹِک(Stick) ہولڈر؟

سٹیک ہولڈر (Stakeholder) ، آپ نے یہ بھی الفاظ سنے ہوں اور اس اصطلاح سے بخوبی واقف ہوں گے۔ جب بھی ملک میں طاقتور طبقات کے درمیان کھینچا تانی ہوتی ہے اور ملکی حالات خراب ہونے لگتے ہیں یا ہو جاتے ہیں تو مختلف فورمز پر ملکی دانشوروں یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ ان مسائل کا حل یہی ہے کہ ملک کے تمام سٹیک ہولڈر ایک جگہ بیٹھیں، آپس میں ڈائیلاگ کریں اور پھر نئے سرے سے اپنی حدود

Read more

پردہ سے ریپ اور خیرات سے بیمار معیشت کا علاج

وزیر اعظم عمران خان سماجیات اور معاشیات کے حوالے سے ایسی باتیں کرتے رہے ہیں جن کا حقائق، حکومت کی اتھارٹی و کارکردگی یا احساس ذمہ داری سے کوئی تعلق استوار نہیں کیا جاسکتا۔ گزشتہ ویک اینڈ پر براہ راست سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے فحاشی کو ریپ کا سبب قرار دیتے ہوئے دلیل دی ہے کہ اسلام میں اسی لئے پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ عورتوں کو اپنی ’حفاظت‘ کے لئے پردہ کرنا چاہئے۔ ایک سربراہ

Read more

کوئی مثبت سمت نہیں۔۔۔

نو منتخب سینٹ کے انتخاب کے پہلے اجلاس میں ہی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اپوزیشن اتحادی جماعتوں پی ڈی ایم کی صفوں میں ایسی دراڑ پڑ چکی ہے جسے پُر کرنا آسان نہیں ہو گا ۔ اگرچہ لیڈر آف اپوزیشن یوسف رضا گیلانی نے نہ صرف اپوزیشن کے بارے میں مجموعی طور پر صلح جوئی کا رویہ اختیار کیا بلکہ حکومتی بینچوں کی طرف بھی اسی طرح کے تعاون کا ہاتھ بڑھایا۔ تاہم مسلم لیگ (ن) کی

Read more

روزنامہ امت، پاکستانی صحافت اور آگ کا دریا

برصغیر پر ڈھائی ہزار برس کی حکمرانی، فتوحات، پرانی تہذیبوں کا اجڑنا، نئی تہذیبوں کا جنم لینا، اسکول کے دنوں میں قرۃ العین حیدر کے مشہور ناول ’آگ کا دریا‘ میں یہ سب پڑھنے کا موقع ملا۔ انگریزوں کا قبضہ، برطانوی راج میں آزادی کی جنگ کو ظالمانہ انداز میں کچلا جانا، پھر بٹوارہ اور خون خرابہ۔

Read more

پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا افغانستان میں اثر و رسوخ کیوں کم ہوا؟

کراچی — پاکستان کی مذہبی جماعتیں خصوصاً جماعتِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں دھڑے ماضی میں افغانستان کے معاملات میں کافی اثر و نفوس رکھتے تھے مگر پاک افغان امور کے ماہرین کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کی ان جماعتوں کا افغانستان میں کردار نہ رہنے کے برابر رہ گیا ہے۔

گزشتہ ماہ کے وسط میں جماعتِ اسلامی کی دعوت پر حزبِ اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار پاکستان کے دورے پر تھے۔

Read more

عجب تبدیلی کا غضب شاہکار

کبھی گردنیں اُڑا دینے سے بدعنوانی پر قابو پانے کے طریقے اور کبھی چین، فرانس اور ایران کے خونی انقلاب کی خواہشیں، کیا اپنی ناکامی کو جمہوریت کی ناکامی بنا کر تبدیلی کے کسی نئے جھانسے کی تیاری ہے؟

Read more

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟

آسیب سے وابستہ پراسراریت نے ہمیشہ مجھے اپنی جانب کھینچا۔ایک تو یہ دکھائی نہیں دیتے مگر کام پورا پورا کرتے ہیں۔انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کسی انسان پر قبضہ کر کے اپنی کارروائی ڈالتے ہیں۔گویا ایک خاص عرصے کے لیے آپ کو ہیک کر کے معمول بنا لیتے ہیں اور پھر ایک دن معمول کو بے یار و مددگار چھوڑ کے چمپت ہو جاتے ہیں اور کسی اور جسم میں حلول کر جاتے ہیں۔ کچھ آسیب جسم

Read more

توپ ڈاکٹر، چیتا سرجن اور تاریخ کی سب سے بڑی طبی غفلت

دوست سرجن نے باتوں باتوں میں بتایا کہ وہ شام کو کراچی میں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے سب سے بڑے سرجن کے پاس جا رہے ہیں تاکہ سندھ کی ایک اہم سرکاری شخصیت کے آپریشن کی تاریخ لے سکیں۔ یہ آپریشن جسم کے ایک مخصوص حصے میں کینسر سے متعلق ہے۔ میں خود بحیثیت انیستھیسٹ ان سب سے بڑے سرجن کی جراحانہ مشاقی کا شاہد رہا ہوں۔ چنانچہ میں نے پوچھا: ”وہ عظیم سرجن تو جسم کے اس حصے کی جراحی میں مہارت نہیں رکھتے؟“

دوست کا جواب بڑا بے ساختہ تھا:

” ہمارے سائیں کو اپنے لئے ایک توپ ڈاکٹر درکار ہے۔ ویسے بھی بڑے سرجن چیتا آدمی ہیں۔ بلا خوف کسی بھی آپریشن میں ہاتھ ڈال دیتے ہیں۔ پورے صوبہ میں ایک بھی وی آئی پی مریض ایسا نہیں جسے ان کا نشتر نہ لگا ہو“

Read more

بھٹو صاحب، نواز شریف اور گورباچوف کی سیاست

جب پاکستان بنا تو بھٹو صاحب کی عمر انیس برس تھی۔ اس کے دس برس بعد یعنی 1957 میں بھٹو صاحب کا نام سیاست میں سامنے آنا شروع ہوا۔ جب تک 1958 میں بھٹو صاحب کو پہلی وزارت کی آفر ہوئی تو پاکستان کی عمر گیارہ سال تھی اور اس کے سات وزرائے اعظم اپنی مدت پوری کیے بغیر نوکری سے نکالے جا چکے تھے اور آٹھویں کو بھی آئین سمیت نکالنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ پاک فوج کے

Read more

ذوالفقار علی بھٹو: ’مجھے داڑھی کاٹنے دیں، میں مولوی کی طرح اس دنیا سے نہیں جانا چاہتا‘

سلمان تاثیر لکھتے ہیں ’بھٹو نے کہا، مجھے داڑھی بنانے کی اجازت دی جائے، میں مولوی کی طرح اس دنیا سے نہیں جانا چاہتا۔‘

نو بج کر 55 منٹ پر انہوں نے اپنے دانتوں میں برش کیا، چہرہ دھویا، اور بال بنائے۔ اس کے بعد وہ سونے چلے گئے۔ رات دیڑھ بجے انہیں اٹھایا گیا۔ وہ ہلکے بادامی رنگ کی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے۔ جیل اہلکاروں نے کپڑے تبدیل کرنے پر زور نہیں دیا۔

Read more

بے نظیر کے جذبات اور جنرل ضیا کا مشورہ

جب بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا گیا تو ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کو سہالہ کے ریسٹ ہاؤس میں نظربند رکھا گیا تھا۔ ماں بیٹی کو بھٹو کی تدفین سے قبل اور فوری بعد کی رسومات میں شرکت کی اجازت نہ دی گئی۔ خطرہ یہ تھا کہ دونوں ضیا حکومت کے خلاف کوئی عوامی احتجاج ہی شروع نہ کردیں۔

4 اپریل 1979 کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بھٹو کی پھانسی کے کم و بیش ایک ماہ بعد ضیا الحق کو نجانے کیا خیال آیا۔ انہوں نے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر پنڈی سعید مہدی، مقامی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئیر راحت لطیف اور ایس ایس پی راولپنڈی جہانزیب برکی کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں نظربند نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے پاس ایک پیغام دے کر بھیجا۔

Read more

بھٹو نے جنرل ضیا کو آرمی چیف کیوں لگایا؟

سولہ دسمبر 1971 ء سانحہ مشرقی پاکستان ہوا۔ پاکستانی قوم کو تاریخ کے شدید ترین بحران کا سامنا تھا۔ پاکستان کا وجود پارہ پارہ ہو چکا تھا۔ دشمنوں اور اپنوں کے دیے ہوئے زخموں سے خون رس رہا تھا۔ قوم کے حوصلے پست ہو چکے تھے ایسے میں بھٹو اقتدار سنبھالتے ہیں۔ قوم کی امیدوں کا محور ذوالفقار بھٹو تھے انھوں نے بھی قوم کو مایوس نہیں کیا۔ قوم کی امنگوں کے عین مطابق ایک بہترین منتظم، زیرک سیاست دان کے طور پر کام کیا۔ انھوں نے بعض انقلابی اقدامات کیے جس سے مایوسی اور نامرادی کے اندھیروں سے امید کی کرن پھوٹی۔

بھٹو صاحب کو تختہ دار تک پہنچانے میں عالمی اسٹیبلشمنٹ ملوث تھی جس نے مقامی اسٹیبلشمنٹ کو مہرے کے طور پر استعمال کیا ہوا کچھ یوں کہ 1973 ءکے اوائل میں قومی اسمبلی نے متفقہ آئین منظور کیا آئین کی منظوری سے عین قبل 14 فضائیہ اور 21 آرمی افسران کو منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا اٹک قلعہ میں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انہیں سزا سنائی گئی کورٹ مارشل کی صدارت میجر جنرل ضیاءالحق نے کی۔

Read more

”میں بھٹو ہوں“

یہ 15 دسمبر کا تاریخ ساز دن تھا جب پاکستان کی محبت میں گرفتار بھٹو نامی ایک جیالا سلامتی کونسل کے اجلاس میں یہ کہتے ہوئے پھٹ پڑا۔

” پچھلے چار دنوں سے یہ کونسل تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے، اب ہم وہاں پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں تمہاری کوئی پرواہ نہیں، میں شکست کی دستاویز پر دستخط نہیں کروں گا۔ تم پورے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرا لو، ڈھاکہ پر قابض ہو جاؤ، مغربی پاکستان پر تسلط قائم کر لو۔ تم کوئی تصفیہ نہیں چاہتے، ہمیں توپوں اور اسلحہ کے زور پر خاموش کرانا چاہتے ہو، تم جارحیت کو جائز قرار دینا چاہتے ہو، ناجائز قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے خواہش مند ہو، تم ہر اس عمل کو جائز قرار دینا چاہتے ہو جسے آج تک ہمیشہ ناجائز سمجھا گیا۔ ہم لڑیں گے، ہم نیا اور عظیم پاکستان بنائیں گے۔ یہاں بیٹھنا میری ذات اور میرے ملک کی توہین ہے، میں بائیکاٹ نہیں کر رہا لیکن ادھر بیٹھ کر ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ میرا ملک مجھے بلا رہا ہے، میں جا رہا ہوں“ ۔

Read more

ڈیئر ہیلری کلنٹن: دس از ناٹ فیئر

حالیہ امریکی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی عبرتناک شکست کو ان کے لئے ہضم کرنا بہت مشکل ثابت ہوا۔ ان کے حامی سڑکوں پر آ گئے اور دنیا نے ایسے نظارے دیکھے جن کی امریکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، خود سابق صدر کے منہ میں جو آیا وہ اگلتے گئے، جس سے حالات مزید بگڑ ے اور سوشل میڈیا پر ان کے اکاؤنٹس کو بند کرنا پڑا۔ اس دوران ٹرمپ نے الزام لگایا کہ ان کو ہروانے اور انتخابات میں

Read more

کیا سوویت یونین نے واقعی افغانستان پہ قبضہ کیا تھا؟

نازی جرمن وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ جھوٹ کو اتنا دہراؤ کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں۔ امریکی سیاہ فام باشندوں کی نسلی امتیاز کے خلاف جد و جہد کے رہنما میلکم ایکس نے میڈیا کے بارے میں میں اپنے تاثرات اس طرح بیان کیے تھے۔ ”اگر آپ محتاط نہیں ہیں تو اخبار آپ کے دلوں کو مظلوموں کے بارے میں نفرت اور ظالم کے لئے محبت سے بھر دے گا“ ۔ جب اسرائیلی فوج کو لبنان سے نکلنا

Read more

پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ اور بھٹو صاحب

یہ بھی عجیب بات ہے پاکستان پیپلز پارٹی کو کالعدم پاکستان سوشلسٹ پارٹی کے سابقہ ممبران نے قائم کیا۔ واضح ہو کہ اس سوشلسٹ پارٹی پر خود قائد ملت نواب زادہ لیاقت علی خان ؒ نے وزیر اعظم کی حیثیت سے پابندی عائد کی تھی۔ 1960 میں صدر ایوب کے مغرب اور امریکہ کی جانب جھکاؤ کی پالیسیوں کی مخالفت اور سوشل ازم کی حمایت میں مغربی پاکستان میں شدت آنے لگی۔ حریف بھارت کے ساتھ معاہدہ ء تاشقند کے

Read more

سندھ ہائی کورٹ سکھر کے سینئر جج صاحب کو راکٹ لانچر سے قتل کرنے کی دھمکی کس نے دی؟

کل سندھ ہائی کورٹ سکھر میں سینئر جج جناب جسٹس آفتاب احمد گورڑ نے بھری عدالت، پیپلز پارٹی کے کے وکیلوں فاروق اے نائک اور ضیا لنجار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کے ایک وزیر ان کو راکٹ لانچر سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں جبکہ ایک اور وزیر ان کی تنخواہ بند کرانے کی باتیں کر رہے ہیں، اس کو یہ بھی پتہ نہیں کہ میں سندھ حکومت کا ملازم نہیں ہوں۔ جسٹس آفتاب احمد گورڑ نے بلند آواز میں یہاں تک کہہ دیا کہ میں لاڑکانہ میں ان کے گھروں کے سامنے سے گزرتا ہوں جس کو مارنا ہے راکٹ مارنے کا شوق پورا کرے باقی عدالت سندھ حکومت کی مرضی سے نہیں چلے گی۔

Read more

اسٹیبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی اپنے آپ کو خالصتاً جمہوری جماعت کہتی ہے لیکن عملاً وہ ہردور میں کسی نہ کسی انداز سے سٹیبلشمنٹ کے ساتھ فٹ ہوتی آئی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ جمہوریت کا منطقی اصول ہے کہ جمہوری ہوتے ہوئے ہرکسی کے ساتھ فٹ ہونا متضاد نظریات ہیں۔ یہاں ہم سب ایک بات بھول جاتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت، اپوزیشن اور سیاست کے حوالے سے طاقت کا سرچشمہ گزشتہ 73 برسوں سے اب تک صرف ایک ہے۔ حکومت، اپوزیشن

Read more

پاکستانی آئین کا ارتقا: 1973 کا آئین

پاکستان کے تمام طبقات کی آرا کی آئین میں شمولیت۔ آئین میں حقوق دینے کے ایک دن بعد انہیں معطل کر دیا گیا۔ بھٹو کے دور میں آئین میں سات ترامیم کی گئیں جن میں حزب اختلاف کو بلڈوز کیا گیا۔ ضیا الحق کے زمانے میں آئین کو منسوخ نہیں معطل کیا گیا۔ جسٹس انوار الحق نے بیگم نصرت بھٹو کیس میں لکھے ہوئے فیصلے پر اپنے قلم سے لکھ کر جنرل ضیا کو آئین میں ترامیم کا اختیار بھی دے دیا۔ جنرل ضیا نے ایک صدارتی ہی حکم کے تحت آئین میں سو سے زیادہ ترامیم نافذ کر دیں۔ بعد میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے آئین کو بہت حد تک صدارتی کر دیا گیا۔ 258 ٹو بی کی شق جو صدر کو حکومت ختم کرنے کا اختیار دیتی تھی۔ یہ اختیار ہاتھ سے نکلنے کے باعث ہی پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا ورنہ پہلے کی طرح صدر کے ذریعے حکومت کو گھر بھیج دیا جاتا۔ جنرل پرویز مشرف کی سترہویں آئینی ترمیم۔

وکلا تحریک اور جنرل پرویز مشرف اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کی چپقلش۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم سنہ 1973 کے آئین کی تخلیق کے بعد ہماری سیاسی قیادت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ترمیم ہے۔

کیا آئین کو تبدیل کرنے کا اختیار اسمبلی کو حاصل ہے؟ کیا آئین کے لیے آئین ساز اسمبلی درکار ہوتی ہے یا کوئی بھی اسمبلی ایسا کر سکتی ہے؟

Read more

پیپلز پارٹی کی چالیں اور مسلم لیگ ن

مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی نئی نسل اور نئی قیادت میں چند ماہ کی دوستی اور تعلق تڑک کر کے ٹوٹ گیا، مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کی پیپلز پارٹی بلکہ شہید بینظیر بھٹو سے دشمنی کی طویل داستان ہے، یہ دشمنی دہائیوں پر محیط ہے، مشرف کی آمریت کے دوران کچھ برف پگھلی تھی مگر بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد نواز شریف کا کینہ ایک بار پھر اس وقت سامنے آیا جب میموگیٹ میں نواز شریف پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ گئے تھے

جنرل ضیا کی آمریت میں آنکھ کھولنے والے نواز شریف نے جنرل ضیا الحق کے ”دشمن“ کو اپنی سیاست کو محور بنایا اور جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد اس کے مشن کو پورا کرنے کا عزم کیا جو آج تک جاری ہے، 1985 میں نواز شریف پنجاب کے وزیر بنے، پھر ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد 1988 میں عام انتخابات میں پنجاب فتح کر کے وزیراعلی بن گئے، پنجابی وزیراعلی نے تاریخ میں پہلی بار وزیراعظم پاکستان کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا اور سیاست میں قد آور شخصیت بن گئے

Read more

کیا پاکستانی فوجی سربراہ انڈیا سے تعلقات میں ’نکسن چائنا سینڈروم‘ کا شکار ہیں؟

پاکستانی فوجی حکمران ہر بار اپنے ادوار میں انڈیا کو امن کی پیشکش کرنے میں کیوں کامیاب ہوتے ہیں اور اس پر کوئی سیاسی ردعمل کیوں نہیں ہوتا؟ سیاسی ماہرین اس معمے کو ‘نکسن چائنا سینڈروم’ سے تشبیہ دیتے ہیں۔

Read more

حکمرانی کی جنگ اور خود فریبی کا تسلسل

پہلے زمانوں میں بادشاہ وقت ہی طاقت کا مآخذ اور اصل سرچشمہ ہوا کرتا تھا، اسی لئے وہ براہ راست اپنی افواج کا سپہ سالار ہونے کی حیثیت میں جنگوں کی قیادت بھی خود ہی کیا کرتا جس کے لئے اس کا جواں مرد، شجاع اور بہادر ہونا لازمی ہوتا۔ چنانچہ شروع سے لے کر اب تک کی تاریخ میں افراد فوج کے ذریعہ اقتدار حاصل کرتے رہے ہیں کیونکہ یہی وہ ادارہ تھا جس کے پاس ہتھیار تھے اور

Read more

‎ذوالفقار چیمہ کی گول مول سچائیاں

‎ڈسکہ ضمنی انتخاب سپریم کورٹ کے حکم پرغیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی ہو چکا ہے۔ یہ 2010 میں ہونے والے گوجرانوالہ ضمنی انتخاب کا ”ایکشن ری پلے“ تھا جس کی ادھوری کہانیاں برادر محترم ذوالفقار چیمہ اپنے دو کالموں میں سنا چکے ہیں۔ ‎نجانے کیوں برادرم ‎چیمہ صاحب کھل کر ‎ ’مکمل سچ بیان نہیں کر رہے اسے‘ گول مول ’کر کے نمایاں کر رہے ہیں۔ ‎محترم ذوالفقاراحمد چیمہ پولیس سروس کے قابل فخر دیانتدار اور بہادر افسر تھے اور

Read more

مرحوم ضیاء الحق نے جنرل اسمبلی میں مذہب کے نام پر قوم کو دھوکہ دیا

ایک اور تاریخی اور غلط طور پر مشہور واقعہ مرحوم ضیاء الحق کے دورہٴ اقوام متحدہ کا ہے جس کا عینی شاہد میں بھی ہوں جب ضیاء الحق مرحوم مسلم دنیا یعنیOIC  کی نمائندگی کے ساتھ اقوام متحدہ آئے تو انہوں نے اقوام متحدہ کی تاریخ میں پہلی بار قرآن کریم کی تلاوت کرائی اور پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے انہوں نے خطاب کیا۔ پاکستان کے عوام نے بھی پاکستان ٹیلی ویژن پر اینکرپرسن کے اعلان کے ساتھ

Read more

جنرل ضیا الحق: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سابق فوجی حکمران کے خطاب سے قبل تلاوت ہوئی تھی یا نہیں؟

تلاوت کروانے کا فیصلہ ہو گیا لیکن اس میں ایک عملی رکاوٹ حائل تھی کہ جنرل اسمبلی کے پروٹوکول کے مطابق سربراہان ریاست کے خطاب کے دوران کوئی دوسرا شخص روسٹرم پر آسکتا ہے اور نہ ایجنڈے سے ہٹ کر کوئی دوسری بات کہی جا سکتی ہے۔ اس مشکل کا حل کیسے نکالا گیا؟

Read more

جماعت اسلامی، جنرل ضیاالحق اور اسلامی نظام کی ناکامی

حالیہ سیاسی اور جمہوری بحران نے ایک دفعہ پھر سے قومی نصب العین کی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ ایک طرف قوم افغانستان کے راستے پلٹنے والی دہشت گردی سے نبرد آزما ہے، دوسری طرف داخلی قومی سیاست بحران کا شکار ہے۔ ملک میں جمہوری بندوبست کی آزمائش جاری ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک میں کچھ طاقتور عناصر آئین کی بالادستی اور عوام کی حکمرانی کے مخالف ہیں۔ یہ عناصر جمہوریت کی کمزوریاں گنوا کر

Read more

جانی خیل واقعہ۔ مزید غلطیوں سے ریاست کے وجود کو خطرے میں نہ ڈالیے

یوں تو پختونوں کو مذہب کے ساتھ جذباتی وابستگی کی وجہ سے افغانستان میں امریکہ کے لئے لڑی جانے والی جنگ میں جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن افغانستان میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے طالبان تخلیق کرنے کے بعد انھیں پراکسی جنگوں میں وسیع تر ملکی مفاد اور تزویراتی گہرائی کے ناموں سے استعمال کیا جانے لگا۔ نائن الیون کے بعد افغانستان میں برسرپیکار گڈ طالبان اور اس قبیل کے دوسرے غیرملکی

Read more

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا تلخ ماضی

یہ غالباً ستر کی دہائی کی بات ہے ، لاہور میں ایک الیکشن ہو رہا تھا ، جس پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو حصہ لے رہے تھے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فرزند جناب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال ان ( بھٹو ) کے مدمقابل تھے۔ میاں نواز شریف کے والد میاں شریف نے اس الیکشن میں اس وقت بھٹو کی بجائے فرزند اقبال جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو سپورٹ کیا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال یہ الیکشن ہار گئے اور بھٹو جیت گئے۔

Read more

مانگو، ادھار پکڑو یا چرا لو، ویکسین کو بھی ایٹمی پروگرام بنا لو

اب مسئلہ کچھ یہ بن رہا ہے کہ کرونا وائرس اس وقت کسی جنگ سے زیادہ تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ لوگ مر رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔ مقامی کیا عالمی صنعت کساد بازاری کا شکار ہو رہی ہے۔ یعنی لوگوں کی جان بھی جا رہی ہے اور مال بھی۔ ایسے میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی دفاعی ضرورت کیا ہے؟ سر پر ٹوٹی وبا میں ویکسین پر پیسہ لگا کر لوگوں اور معیشت کی جان بچانا یا کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں جان بچانے کے لیے اسلحے پر پیسہ لگانا؟

Read more

پاکستان میں سر آئینہ و پس آئینہ کی کشمکش

پاکستان کے وجود میں آنے کے فوراً بعد قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو جو تحفظات تھے وہ ”سر آئینہ و پس آئینہ“ والے ہی تھے اور تھے بھی بہت شدید۔ عوام کی طاقت تو پوری دنیا کے سامنے تھی جنھوں نے فرنگیوں اور اہل ہند، دو شیروں کے جبڑوں سے ایک خطہ زمین چھین کر پاکستان حاصل کر لیا تھا لیکن اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کے حصے میں کچھ بھی نہیں آنا۔ ہونا تو یہ

Read more

احتجاجوں کی سیاست اور عوام کے دکھ

پاکستان میں موسم کے لحاظ سے مارچ کا مہینہ جیسے شروع ہوتا ہے ویسے درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے۔ اس طرح سیاسی میدان میں مزید گرما گرمی شروع ہو جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپوزیشن موقع کی انتظار میں ہوتی ہیں ۔ حکومت سے کمی کوتاہی یا کوئی ناکامی کا پہلو سامنے آ جائے تو دھرنا، احتجاج اور لانگ مارچ شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ مارچ کے مہینے میں سب لائحہ عمل جاری ہوتے ہیں۔ پرامن احتجاج آئینی سیاسی حق ہے۔

اسلام آباد میں آخر لوگ اتنی زیادہ تعداد میں کیوں جمع ہوتے ہیں؟ اس کی بہت سی وجوہات ہیں:

Read more

کرونا وبا کے دوران ملٹری پریڈ کا انعقاد، مبصرین کیا کہہ رہے ہیں؟

اسلام آباد — پاکستان میں 23 مارچ کو 81 واں یومِ پاکستان منایا گیا جس کے دو روز بعد فوجی پریڈ کا انعقاد بھی کیا گیا۔ ہر برس 23 مارچ کو اس پریڈ کا انعقاد کیا جاتا ہے تاہم کرونا وائرس کی وجہ سے گزشتہ برس اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ رواں سال موسم کی وجہ سے دو روز کی تاخیر سے اس پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔

Read more

پیپلز پارٹی اور متبادل اپوزیشن اتحاد

مریم نواز اور ان کے والد بزرگوار نے اگرقومی و بین الاقوامی قانون‘ جمہوری روایات اور آئینی ساخت کو کسی استاد سے پڑھا اور سمجھا ہوتا تو انہیں اندازہ ہوتا کہ سیاست میں شخصیات کو چیلنج کیا جاتا ہے ریاست کو نہیں۔ بدقسمتی سے مریم نواز کا سیاسی ٹیلنٹ ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔ قصور میاں نوازشریف کا ہے جنہوں نے بر وقت اپنے سیاسی جانشین کا فیصلہ نہ کیا۔ وہ پہلے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو

Read more

احمدی برادری کی مشکلات: امتیازی سلوک، مقدمات اور قتل کے خوف کے سائے میں رہنے والے نوجوان کی کہانی

عدنان کے خیال میں پاکستان میں بڑھتی مذہبی تفریق اور انتہا پسندی سے اقلیتوں کے لیے گھٹن اور پابندی کا احساس اب پہلے سے بھی کہیں بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر کسی کو اپنے نظریات اور عقائد کے اظہار کی آزادی ہو۔

Read more

خود مختار الیکشن کمیشن چاہیے اور نہیں بھی چاہیے

انیس سو ساٹھ کی دہائی تک الیکشن کمیشن کم و بیش ایک روایتی سا بیورو کریٹک ادارہ تھا۔پہلے ، دوسرے ، تیسرے اور چوتھے چیف الیکشن کمشنر نوکر شاہ تھے۔ جسٹس عبدالستار پہلے جج تھے جو اپریل انیس سو انہتر میں چیف الیکشن کمشنر بنے۔انھوں نے انیس سو ستر کے انتخابات خوش اسلوبی سے کروائے اور سولہ جنوری انیس سو اکہتر کو سبکدوش ہو گئے۔مگر انیس سو تہتر کے آئین کے مطابق کمیشن کی سربراہی کے لیے سپریم کورٹ کا 

Read more

تاریخ وجاہت مسعود کے ساتھ: پاکستان میں 1971 سے سیاسی ارتقا

ذوالفقار علی بھٹو اقتدار سنبھالتے ہیں۔ شملہ معاہدہ۔ 1973 کا دستور۔ نیپ پر پابندی۔ حیدر آباد ٹریبونل۔ بھٹو نے ایمرجنسی کیوں نافذ کی؟ ایجنسیوں نے بھٹو کو گمراہ کیا۔ نیشنل ازم۔ سوشل ازم کا زوال۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت۔ سیاسی کارکنوں پر کیا کیا لیبل چسپاں کیے گئے۔ کراچی میں کیا ہوا؟ پاکستانی معیشت کا عروج اور زوال۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں۔ جنرل مشرف کی حکومت۔ نائن الیون اور پاکستان۔ چارٹر آف ڈیموکریسی۔ بے نظیر بھٹو کا قتل۔ پیپلز پارٹی کی حکومت۔ اٹھارہویں ترمیم۔ پاکستان کی زرعی اور صنعتی معیشت۔ معیشت میں خواتین کا کردار۔ بیوروکریسی اور سیاسی عزائم۔

Read more

براہ مہربانی قومی پرچم کے سبز رنگ کو سفید کر دیں

رنگ بہت بولتے ہیں۔ ان کو علامت کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کالے رنگ کو افسوس کی علامت کے طور پہ پہنا جاتا ہے۔ سرخ رنگ کو انقلاب کے لیے لیے اٹھنے والی تحریکوں میں استعمال کیا گیا۔ تمام اسلامی ممالک کے جھنڈوں کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ سبز رنگ کسی نہ کسی طور اسلام کے نمائندہ رنگ کے طور پہ جانا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ امن کے ساتھ ساتھ غیر

Read more

جھوٹا خواب اور حقیقت: ذوالفقار علی بھٹو کی بہترین تقریر

بلاشبہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تقریر ان کی بہترین تقریروں میں سب سے بہترین تھی۔ جذبوں سے بھری ہوئی، محبتوں سے کہی ہوئی اور حوصلوں میں گندھی ہوئی! بھٹو کی گرفتاری اور گرفتاری کے 17 دن کے بعد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بٹو اور ان تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک پیشہ ور مسلمان

Read more

اربنائزیشن اور جشن بہاراں کا فرسودہ تصور

گروہ انس کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ میں اقتصادیات کا کلیدی رتبہ رہا ہے، قدیم تہذیبوں کی شناخت میں اس عہد کی معاشی خوش حالی پنہاں ہے۔ ہزاروں برس قدیم تہذیبوں کے ملیا میٹ ہونے میں محض قدرتی تبدیلیاں کارفرما نہیں تھیں بلکہ تہذیبی ترقی میں انسانوں کے گروہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سماجی عدم مساوات، سیاسی گروہیت اور ناقص اقتصادی منصوبہ بندی بھی اہم وجوہات میں شامل تھیں۔ اقتصادیات میں آزادانہ منصوبہ بندی اور انحصار پذیری کو کم سے کم سطح پر رکھنا ترقی کی ضمانت قرار پاتا ہے تاہم اس کے لیے لازمی ہے کہ تہذیب کے مرکزے کے باشندے بشمول ریاستی ڈھانچہ کنٹرول کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی صلاحیت رکھتے ہوں اگر یہ صلاحیت بانجھ پن میں تبدیل ہو جائے تو رفتہ رفتہ اس سماج کی پسماندگی و بدحالی مقدر بن جاتی ہے۔

Read more

گوجرانوالہ کے قریب پولیس کی مدد سے احمدی عبادت گاہ کے مینار مسمار اور سکول بند کروا دیا گیا

پولیس کی اس کارروائی میں بلدیہ اور ایک مذہبی گروہ کے کارکنان نے بھی حصہ لیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ متنازع زمین پر کشیدگی کم کرنے کے لیے یہ اقدام کیا گیا جبکہ احمدی برادری نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

Read more

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ: ’جو اپنے آئینی دائرے سے باہر نکل جاتے ہیں وہ سچے پاکستانی نہیں‘

جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ کے دس رکنی بنچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘قائدِ اعظم کے دوست کے بیٹے کو غدار کہا جارہا ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘جج کو بلیک میل نہیں ہونا چاہیے۔ جج بلیک میل ہونے کے بجائے خودکشی کرلے۔ ایک جج کے لیے موت غلط فیصلہ دینے سے بہتر ہے۔’

Read more

پی ڈی ایم اتحاد: پاکستان کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی ماضی میں کتنی دور کتنی پاس رہیں؟

سیاسی ماہرین کی رائے میں ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں قربتوں اور دوریوں کا تعلق چلتا رہتا ہے۔ ’یہ مفادات کا کھیل ہے، جہاں ان کے مفادات کا ٹکراؤ آتا ہے دونوں علیحدہ ہو جاتے ہیں اور جب ضرورت ہوتی ہے تو یہ اتحاد کر لیتے ہیں۔‘

Read more

عسکری اور سیاسی قیادت میں علیحدگی کیوں ضروری ہے؟

30 برس پرانی بات ہے۔ جنرل آصف نواز فوج کے سربراہ تھے۔ ایک غیرسرکاری تقریب میں جنرل آصف کے علاوہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، وزیر اعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی کے سپیکر گوہر ایوب بھی شریک تھے۔ اگلے روز تمام اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی جس میں صدر، وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کی پر اشتیاق نگاہیں فوج کے سربراہ کو ہالہ کیے ہوئے تھیں۔ ہر تین حضرات نے مصافحے کے لیے دست بیعت

Read more

نواز شریف کو الطاف حسین بنانے کی دھمکی

یوں تو وزیر اطلاعات شبلی فراز اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے آج اسلام آباد میں اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات سمیت وسیع تر سیاسی ایجنڈے پر مل کر کام کرنے کی دعوت دینے کے لئے پریس کانفرنس منعقد کی تھی لیکن اس میں مخالف سیاسی لیڈروں کو توہین آمیز القابات سے نوازنے اور دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف نے ایم کیو ایم کے بانی لیڈر الطاف حسین کی

Read more

پاکستان اور افغانستان میں دو طرفہ تجارت میں کمی کی وجوہات کیا ہیں؟

پشاور — پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت ناقص انتظامات اور سرحدی و تجارتی پابندیوں کے باعث شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اس کمی کے نتیجے میں ایک طرف تو تجارتی خصارے سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور دوسری طرف پاکستان سے افغانستان سامان لے جانے والے ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

Read more

قرارداد مقاصد: جب ریاست ’مشرف بہ اسلام‘ ہوئی

مارچ کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں اہم واقعات اور مختلف حوالوں سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ 72 سال قبل مارچ ہی کے مہینے میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی نے اپنے بجٹ اجلاس میں قراداد مقاصد منظور کر کے ریاست کو ”مشرف بہ اسلام“ کرنے کا فریضہ سرانجام دیا۔ قیام پاکستان کے بعد برطانوی پارلیمان کا بنایا ہوا ”حکومت ہند کا قانون مجریہ 1935ء“ پاکستان کا عارضی آئین بنا۔ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے

Read more

پاکستانی فلمی صنعت کے ہونہار فلم ساز اور ہدایت کار محمد طارق کے ساتھ ایک نشست

داکار محمد علی سمیت اردو اور پنجابی فلموں کے سپر اسٹارز کا بادشاہوں والا انداز ہوتا تھا کہ ہمیں شاہانہ پروٹوکول ملے کوئی ٹوکنے والا نہ ہو۔ میں اس بات کے خلاف تھا۔ پہلے دن میں نے محمد علی صاحب کو مکالمے وغیرہ بتلائے تو کہنے لگے کہ یہ مکالمہ منہ پر نہیں آ رہا اس کو بدل دیں۔ میں نے کہا کہ جناب یہ تو بڑا سوچ سمجھ کے کام کیا گیا ہے۔ پھر آپ تو بڑے اداکار ہیں آپ اسے یاد کر کے منہ پر چڑھائیں۔ یہ کہہ کر لائٹ آف کرا دی۔ ان کو آج تک کسی نے روکا نہیں تھا۔ وہ سناٹے میں آ گئے۔ میں نے کہا کہ میں اس فلم (بگڑی نسلیں 1983) کا فلم ساز بھی ہوں۔ سوچ لیں کہ کام کریں گے یا نہیں۔ پانچ منٹ سوچنے کے بعد کہا کہ میں آپ کے کام میں نہیں بولوں گا۔

Read more

صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی کون ہیں؟

پاکستان کے ایوانِ بالا (سینیٹ) کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے حکومتی اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے درمیان مقابلہ ہے۔

یوسف رضا گیلانی کا جہاں سیاست کا وسیع تجربہ ہے وہیں صادق سنجرانی بھی سینیٹ کے امور پر مہارت رکھتے ہیں اور وہ بطور چیئرمین سینیٹ خدمات انجام دے چکے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کی دوڑ میں شامل دونوں سیاست دانوں کے کریئر پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

Read more

زرداری جمہوری جنگ لڑنے والا ہیرو یا سیاسی ولن؟

پاکستان کے موجودہ سیاست دانوں میں شاید آصف علی زرداری سب سے متنازع سیاست دان ہے۔ ان کے بارے میں دو بالکل متضاد آراء پائی جاتی ہیں ۔ بیک وقت ان کو سیاست اور مفاہمت کے بادشاہ، ایک زرداری سب پہ بھاری اور ملک کا ایک کرپٹ سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین کی رائے میں آصف زرداری بڑا کرپٹ سیاست دان ہے جبکہ ان کے چاہنے اور سمجھنے والوں کی رائے میں آصف زرداری ملک کے سیاست

Read more

مریم نواز، میں آپ سے مخاطب ہوں

مریم نواز، میں محمد مبشر اکرم بٹ، اک پاکستانی شہری، آپ سے مخاطب ہوں۔ اور اس لیے ہوں کہ میں اپنے وطن سے محبت اور آپ کی بطور سیاست دان قدر کرتا ہوں۔

آپ کی آج کی پریس کانفرنس اور آپ کے والد صاحب کے ویڈیو بیان نے شدید تشویش میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ اس لیے کہ میں اپنی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے قتل دیکھ چکا ہوں اور اپنی 49 سالہ زندگی میں سے 35 سال براہ راست یا بالواسطہ مارشل لاء کے دیکھے ہیں۔ ان میں جنرل ضیا کے 11 برس، 1988 سے لے کر 1999 تک کا پتلی تماشا ، 1999 سے 2008 تک جنرل مشرف کا مارشل لاء اور پھر پچھلے تقریباً 3 برس کی موجودہ حکومت۔

Read more

گورے مینیجر اور خاتون سفیر کا دکھ

لبرل اکنامکس پر ہونے والی ایک کانفرنس میں شمالی یورپ کے ایک فلاحی ملک کی ایک سفیر نے راقم سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ممالک میں تو عوام کے درمیان پائی جانے والی تفریق کا تصور بھی جرم کے زمرے میں شمار ہوتا ہے جو وہ پاکستان میں دیکھ رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب میں اسلام آباد کی سڑکوں پر نکلتی ہوں اور ٹریفک اشاروں پر کھڑی بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھی اشرافیہ پر نظر دوڑاتی ہوں جن کی کاروں کے شیشے صاف کرتے معذور لوگ اپنی زرد آنکھوں اور مایوس چہروں سے چند سکوں کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور آپ کے طاقتور لوگ انتہائی رعونت سے کاروں کے شیشے نیچے کیے بغیر آگے چل دیتے ہیں اور ذرا نہیں سوچتے کہ محروم طبقات کے افراد بھی آخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔

Read more

کیا صادق سنجرانی تاریخ دہرانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟

اگر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتے ہیں تو ریاست، مقتدرہ اور حکومت مطمئن ہوں گے کہ انھوں نے نہ صرف ایک اعلیٰ ترین ریاستی پوزیشن بچا لی بلکہ وہاں ایک ایسا شخص بٹھا دیا جو ریاست یا مقتدرہ کی مرضی کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا۔ پڑھیے سہیل وڑائج کا کالم۔

Read more

راولپنڈی سازش کیس 1951: مقدمے کے کردار اعلیٰ فوجی افسران اور دانشور کیا چاہتے تھے اور نتیجہ کیا نکلا؟

سنہ 1951 میں ماہِ فروری کا یہ آخری جمعہ تھا جب راولپنڈی کی فوجی چھاؤنی میں واقع کرِیگ روڈ پر ایک جنرل کی سرکاری رہائش گاہ میں درجن بھر کے قریب فوجی افسران، ایک جنرل کی بیوی اور کمیونسٹ پارٹی کے تین دانشور عشائیے پر جمع ہوئے۔ وہاں مبینہ طور پر ایک اجلاس ہونا طے پایا تھا۔

Read more

یوسف رضا گیلانی: ضلع کونسل سے وزارتِ عظمیٰ اور پھر سینیٹ تک کا سفر

یوسف رضا گیلانی جب 2012 میں سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے تو لوگوں نے سوچا تھا کہ ان کا کیریئر ختم ہو گیا ہے تاہم اب وہ سینیٹ چیئرمین کے مشترکہ اور مضبوط امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔

Read more

آئیے اللہ کے دروازے پر دستک دیں

اگرچہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور اسے دنیاوی معاملات میں خودمختار بنا دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق اپنے معاملات چلائے تاہم اللہ تعالیٰ نے معاملات چلانے کے لئے راہ عمل بھی دکھادی اور ان حدودوقیود کا بھی تعین فرمادیا جن سے تجاوز کو نافرمانی قرار دیا اور سزا کی نوید بھی سنادی چنانچہ مشاہدہ یہ ہے کہ بداعمالی کے مظاہروں پر پہلے دست قدرت اصلاح کے

Read more

کراچی کی نیپیئر روڈ کے قحبہ خانے اور کوٹھے کیسے اجڑے؟

نیپیئر روڈ پر خستہ حالت عمارتیں اور بالکونیوں یہاں کئی بہاریں دیکھ کر اب بیوگی کا لباس تن کیے ہوئے ہیں جہاں کئی کہانیوں نے جنم لیا اور وہیں دفن ہو گئیں، اس محلے کے درو دیوار میں کئی ایسے راز ہیں جو کبھی دہلیز کی دوسری طرف نہیں گئے۔

Read more

وہی تو ہے جو نظام ملک چلا رہا ہے

ایک زرداری سب پہ بھاری، زندہ ہے بھٹو، ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ کامیاب ہو گیا، ہماری ٹکٹ کی بہت اہمیت ہے، ووٹ کو عزت مل گئی۔ ان نعروں نے آج کل ملک سر پر اٹھا رکھا ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے کارکن خوشی سے پاگل ہو رہے ہیں کہ سینٹ الیکشن میں اسلام آباد کی سیٹ پر حکومت کو شکست دیدی، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی سینٹر منتخب ہو گئے، حکومت کا امیدوار وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ ہرا دیا گیا

کیا عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے، عوام بھی ایسے بھولے ہیں ہمیشہ آسانی سے بیوقوف بن جاتے ہیں اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی بنتے رہیں گے، عوام کی عقل اتنی ہے کہ جو بھی مداری تماشا لگاتا ہے اس کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں اور گھنٹوں تماشا دیکھتے رہتے ہیں کہ مداری پٹاری سے کچھ خاص چیز نکالے گا، طویل تماشے کے بعد مداری اپنا سامان لپیٹتا ہے اور آئندہ انہونی چیز نکالنے کا لارا لگا کر نکل جاتا ہے

Read more

ایم آرڈی سے پی ڈی ایم تک: سیاسی اتحاد اور پیپلز پارٹی کا کردار

تقسیم ہندوستان کے بعد روز اول ہی سے پاکستان سیاسی بے یقینی کا شکار رہا ہے اور اس دوران کئی سیاسی اتحاد بنے، کئی بنائے گئے۔ کئی سیاسی پارٹیاں بنی اور کئی بنائی گئی۔ 80 کی دہائی سے لے کر اب تک پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی اہم سیاسی طاقت کی حیثیت میں ایسے کئی اتحادوں کا حصہ اور کچھ اتحادوں سے الگ تھلگ نظر آتی رہی ہے۔ لیکن میرے خیال میں ان اتحادوں میں کم و بیش پیپلز پارٹی

Read more

سنیٹ انتخابات: 1985ء کے بعد پارلیمانی تاریخ کا سب سے بڑا اپ سیٹ

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار سید یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ لے کر اسلام آباد سے سینیٹ الیکشن میں حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے دی۔ انہوں نے 340 ووٹوں میں سے 169 جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ نے 164 ووٹ حاصل کیے۔ ریٹرننگ افسر نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سات ووٹ مسترد ہوئے۔ ایوان بالا کے انتخاب میں جنرل نشست پر یہ سب

Read more

مسلم لیگ نے کس کو کیوں سینیٹ کا ٹکٹ دیا ہے؟

مسلم لیگ (ن) کے بلامقابلہ منتخب ہونے والے سینیٹرز سعدیہ عباسی، اعظم نذیر تارڑ، پروفیسر ساجد میر، عرفان صدیقی اور ڈاکٹر افنان اللہ خان شامل ہیں۔ پانچوں امیدوار پنجاب سے نون لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے ہیں۔ کس کو کیوں اور کس اہلیت اور معیار پر ٹکٹ دیا گیا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

Read more

صورت حال تشویش ناک ہے!

خود کو مظلوم سمجھنے میں پاکستانی کسی سے کم نہیں۔ کسی ایک فرد، کسی خاندان، کسی ایک ادارے یا پھرکسی خاص قومیت کو ہی اپنے ہر دکھ اور اپنی ہر محرومی کے لئے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ خود احتسابی سے مگر کام نہیں لیتے۔ مزاجاً جذباتی، خود پسند اور ہر چھوٹی بڑی بات پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ یہی عمومی رویہ سیاسی مزاج میں بھی جھلکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے آنے سے پاکستانیوں کی خوب بن آئی ہے۔ گالم گلوچ

Read more

ڈرٹی پالیٹکس، عمران خان اور حسن نثارکے خطبات

حکومت کی نیت کیا ہے اس سے قطع نظر عوام کو یہ جاننے کا حق تو دیا جائے کہ کون کس کا آدمی ہے۔ پرویز مشرف اور عمران خان نے تو گھڑمس ہی مچا دیا ہے ایسے آدمی سیاست میں لے کر آئے ہیں جو سیاسی نظریات تو دور کی بات ہے۔ ان کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہے۔ محض ہوا کا رخ دیکھ کر چل پڑتے ہیں۔ سیاست اوراخلاقیات کی ایسی مٹی پلید کی ہے کہ اچھے بھلے جذباتی

Read more

عبدالحفیظ شیخ یا یوسف رضا گیلانی، جیت کس کی ہو گی؟

سینیٹ انتخابات 2021ء کے لیے میدان سج چکا ہے، تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ مقابلہ دو فریقوں کے درمیان ہے یعنی حکومتی اتحاد اور پی ڈی ایم ۔ پی ڈی ایم بنیادی طور پر حکومت گرانے اور عمران خان کو گھر بھیجنے کے لیے بنایا گیا تھا، حکومت گرانے کی ابتدائی تدابیر جلسے جلوس، ریلیاں، احتجاج ایک ایک کر کے ناکام ہوتی گئیں یہاں تک کہ ضمنی انتخابات اور پھر سینیٹ کے انتخابات سر پر آ گئے۔ پی

Read more

جھوٹا خواب اور سچی حقیقت

جنرل یحییٰ خان کے اس اعلان کے بعد کہ مستقبل کے پاکستان کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان ہوں گے اور قومی اسمبلی کا اجلاس وقت مقررہ پر ڈھاکہ میں ہی منعقد ہو گا، مغربی پاکستان میں کافی کھلبلی مچ گئی تھی۔ پنجاب اور سندھ میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل میں اہم پریس کانفرنس کا اعلان کیا تھا جس میں شرکت کرنے کے لیے صحافی آنا شروع ہو گئے تھے۔ پریس کانفرنس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کے ستر کلفٹن مکان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم اراکین کی ایک اہم میٹنگ ہوئی جو چھ گھنٹے تک چلی تھی۔

میٹنگ کے آغاز میں بھٹو صاحب نے اجلاس میں موجود اراکین کو بتایا تھا کہ جنرل یحییٰ خان نے واضح کر دیا ہے کہ فوج اپنی اپنی بیرکوں میں واپس جانا چاہتی ہے اور آئین سازی کے بعد آئین کے مطابق اقتدار عوام کے منتخب کی ہوئی اسمبلی کے حوالے کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ اقتدار اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو منتقل کر دیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں کسی بھی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہو گا جبکہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں ہم اپنی حکومت قائم کر سکیں گے۔

Read more

میاں نواز شریف صاحب کے نام کھلا خط

میاں صاحب، آپ چالیس سال سے سیاست میں ہیں۔ آپ کو تین مرتبہ حکومت بنانے کا موقعہ ملا، پانچ مرتبہ اپوزیشن سیاست کا۔ مگر آپ ایک ایسا الیکشن کمیشن تشکیل نہ دے سکے جو الیکشن کے عمل کو آزاد اور شفاف بنا پاتا۔ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں عملے اور بیلٹ باکسز کے غائب ہونے کا واقعہ ابھی کل ہی کا ہے۔ اتنے موقعے آپ کو ملے، دو تہائی اکثریت بھی عوام نے تفویض کی پھر بھی اتنی بنیادی اہمیت کا معاملہ حل طلب ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ نہ صرف حل طلب ہے بلکہ یہ تک معلوم نہیں کہ اسے حل کیسے کرنا ہے۔ کیا یہ آپ کی سیاسی بصیرت اور انتظامی سوجھ بوجھ پر سوالیہ نشان نہیں؟

Read more

شہنشاہ جہانگیر کی زنجیر عدل سے جسٹس فائز عیسیٰ کے اختلافی نوٹ تک

ابن انشاء نے ایک کتاب ”اردو کی آخری کتاب“ تحریر کر کے مفت ٹیکسٹ بک بورڈ والوں کو ارسال کی۔ ان کا جواب یہ تھا کہ یہ کتاب طلباء کو باقی سب نصابی کتب سے بے نیاز کرنے کی کوشش ہے۔ خدشہ ہے کہ اسے پڑھ کر طلباء اساتذہ اور اساتذہ طلباء بن جائیں گے۔ اس لئے ٹیکسٹ بک بورڈ اس کتاب کو مسرت کے ساتھ مسترد کرتا ہے۔ اس کتاب میں تاریخ کے ایک باب کا عنوان ہے ”جہانگیر

Read more

پیپلز پارٹی اور نام نہاد سرخوں کا طریقۂ واردات

ذرا سوچیے کہ ایک دشمن جو آپ کے سامنے کھڑا ہے، ڈنکے کی چوٹ پر آپ پر سب و شتم کر رہا ہے، کھل کر آپ پر حملے کر رہا ہے وہ زیادہ خطرناک ہے یا وہ جو بظاہر آپ کا دوست ہے، آپ کی صفوں میں ہے اور آپ کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے؟ ظاہر ہے سامنے نظر آنے والا دشمن کم موذی ہے کیوں کہ اس کے حملوں کا تدارک آپ کر سکتے ہیں، اس کے

Read more

بھٹو سے گیلانی تک: جمہوریت کی جنگ

سیاست آئین کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ آئین کی محافظ عدلیہ ہے۔ اب اس کی مرضی حفاظت کرے یا نہ کرے۔ فوجی آمروں کے نزدیک عدالتوں کی اہمیت محض اتنی کہ ایوب خان کے بنائے ہوئے شہر اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں عدالتوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں رکھی گئی۔ پھر یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی کہ ادھر آئین بنتا ہے ادھر کوئی نہ کوئی فوجی مارشل لاء کا گرز لئے اس کا سر کچلنے کو

Read more

جمہوری اصلاحات کا پیکیج درکا رہے

سینیٹ الیکشن کو بازیچۂ اطفال بنادیا گیا ۔ کون نہیں جانتا یا مانتا کہ سینیٹ کے الیکشن عمومی طور پر پیسہ کا کھیل بن چکا ہے۔ محض گزشتہ الیکشن ہی میں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے ضمیر نہیں بیچے بلکہ یہ سلسلہ کئی عشروں سے سرکاری چھتر سایہ میں جاری ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تین برس قبل انکشافات کرکے بھانڈا پھوڑا توسیاسی منظرنامہ پر کچھ ارتعاش پیدا ہوا۔ خان کا مقصد یہ تھا کہ کسی

Read more

مذہب کے نام پر قتل کا سلسلہ کبھی تھمے گا؟

65 سال کا ایک بوڑھا شخص اپنے گھر کی گھنٹی بجنے پر جب دروازہ کھولنے جاتا ہے تو ایک بیس سال کا نوجوان اس پر گولی چلا دیتا ہے، جس سے اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس بوڑھے شخص کا نام عبد القادر ہے جو کہ پشاور کے علاقے بازی کھیل میں ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر تھے۔عبدالقادر اپنے علاقے کے غریب لوگوں کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں تھے کیونکہ ان کی فیس اور دوا کی قیمت بہت کم ہوتی تھی۔ ان کو قتل کرنے والے نوجوان کو جب پولیس نے پکڑ کر اس قتل کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا کہ اس نے احمدی ہونے کی وجہ سے عبدالقادر کو جان سے مارا اور اسے کوئی پچھتاوا بھی نہیں ہے۔

Read more

اب مولانا طارق جمیل بھی کپڑے بیچیں گے

مولانا طارق جمیل کے متعلق جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ وہ جنید جمشید کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایم ٹی جے کے نام سے فیشن مارکیٹ میں داخل ہو گئے ہیں اور کپڑوں کا کاروبار کرنے لگے ہیں، تو شریکوں کو گویا آگ ہی لگ گئی۔ حالانکہ اس بات پر تو مولانا کی تعریف کی جانی چاہیے کہ بعض دوسرے لوگوں کی طرح انہوں نے مذہب کو کاروبار بنانے کی بجائے کپڑے کو کاروبار بنایا۔ اس کاروبار پر ایسا غل مچا کہ مولانا طارق جمیل کو بیان دینا پڑا کہ ”مولوی کا تصور ہے کہ وہ بھیک مانگتا ہے اور وہ لوگوں سے مانگتا ہے۔ ہم نے کسی کاروباری نیت سے یہ کام نہیں کیا، کسی کے مقابلے میں نہیں کیا۔“

بات تو درست ہے۔ سنہ 1980 سے پہلے مولوی اور مدرسے کا یہی تصور تھا کہ وہ چندے پر چلتا ہے۔ دیہات میں جہاں دیگر پیشوں از قسم نائی، جولاہا، ترکھان، مصلی، میراثی کے لیے گاؤں والے فصل کا حصہ مختص کرتے تھے وہیں مولوی کا بھی ہوتا تھا۔ پھر جنرل ضیا کا جہاد آ گیا۔ افغانستان اور کشمیر کے نام پر مذہب کو کاروبار بنانے والوں نے خوب کمائی کی۔ مولانا طارق جمیل اس کمائی سے دور رہے۔

Read more

سپریم کورٹ سے رہنما اقدامات کی امید

قیام پاکستان کے چند مہینوں بعد ہی بحیثیت قوم ہمیں اصل فکر یہ لاحق ہوگئی کہ فقط سیاسی جدوجہد کی بدولت قائم ہوئے ملک کو ’’بدعنوان‘‘ سیاست دانوں سے کیسے بچانا ہے۔لطیفہ یہ بھی ہوا کہ مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا مطالبہ لاہور کے مینارِ پاکستان تلے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کی منظوری کے بعد سندھ کی منتخب اسمبلی نے باقاعدہ انداز میں پیش کیا تھا۔14اگست 1947کے روز ایوب کھوڑو مذکورہ اسمبلی کے قائد ایوان تھے۔بحیثیت وزیر اعلیٰ انہیں ’’مرد آہن‘‘

Read more

نئے پرانے ٹھگ اور لٹنے والا عوامی قافلہ

جونہی ٹی وی آن کیا کہ خبریں ہی سن لیں۔ وطن عزیز سے کوئی خیر کی خبر آئے بڑا مشکل ہے مگر امید پہ دنیا قائم ہے۔ نیوز چینل کی سکرین پر ایک جانی پہچانی سی ”ادکھڑ“ خاتون کو بلبلاتے دیکھ کر بہت ہی رحم آیا اور بہت غور کیا تو یاد آیا کہ یہ تو فلاں ہیں مگر ان کے دشمنوں کو کیا ہوا جو یہ منت ترلے کا لہجہ اختیار کیے ہیں اور مسلسل بیٹے کی بے گناہی

Read more

حفیظ شیخ سینٹ کے رکن منتخب ہوگئے تو؟

سینٹ کی مارچ 2021 میں خالی ہونے والی 48 نشستوں پر انتخاب کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ انتخاب کا ’’عمل‘‘ لکھتے ہوئے خیال آیا کہ وطنِ عزیز کی سیاست کو ’’صاف ستھرا‘‘ بنانے کی فکر میں گھلتے ہمارے ’’ذہن ساز‘‘ مذکورہ عمل کو حقارت سے ’’سیزن‘‘ پکارتے ہیں۔ ایمان داری کے دودھ سے دُھلے لکھاریوں اور اینکرپرسن کی دانست میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھا ہر رکن اس ’’سیزن‘‘ کے دوران اپنے ووٹ کی قیمت مانگتا ہے۔ مناسب رقم

Read more

مطالعۂ تاریخ از مولانا کوثر نیازی

کتاب دوست برادرم کاشف منظور نے محبت کے ساتھ کوثر نیازی کی لگ بھگ 80 صفحات پر مبنی ایک چھوٹی مگر بڑی حقیقت کی ترجمان کتاب ”مطالعہ تاریخ“ بھیجی ہے جسے 1991ء میں جنگ پبلشرز لاہور نے شائع کیا تھا۔ کتاب وصول پا کر میں خود ماضی میں کھو گیا کہ یہ کتاب میں نے آج سے کوئی تینتیس، چونتیس سال پہلے اپنے گریجویشن کے زمانے میں پڑھی تھی۔ یہ کتاب جو اصل میں گورنمنٹ کالج لاہور کی ”مجلس تاریخ“

Read more

ہمیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے!

ایک اہم پریس کانفرنس کے ذریعے سیاست دانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ کچھ سیاسی نابالغ الٹا جلسے جلوسوں میں غیر سنجیدہ تبصرے کر رہے ہیں۔ وطن عزیز میں سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن اور اس کے نتیجے میں آنکھ مچولی روز اول سے جاری ہے۔ اس الزام میں وزن ہونے کے باوجود کہ کئی مواقع پر فوجی سربراہوں نے اس عدم توازن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حدود سے تجاوز

Read more

آنگ سان سوچی، فوج اور پاکستان: چند مماثلتیں

19 جون 1945 میں پیدا ہونے والی آنگ سان سوچی ابھی دو سال کی تھی کہ ان کے والد سمیت چچا اور چھ قریبی ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا۔ آنگ سان کی عمر برطانوی راج کے خلاف لڑنے، برمی فوج کو بنانے اور مضبوط کرنے میں بیتی تھی۔ ان کی طویل جدوجہد کا آغاز 1940 میں شروع ہوا جب جاپان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ فوج بنانے اور برما کو آزادی دلوانے میں ان کی مدد کرے گا۔

Read more

ریڈیو پاکستان سے عابد علی تک!

ہمارے زمانہ طالب علمی میں گرد و پیش سے جان چھڑانے کے لیے فراریت کے دو تین ہی میڈیم ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، جاسوسی ناولز یا پھر کبھی کبھار بڑے پردے پر فلم۔ لہروں کے دوش پر جو صدا کار چھوٹے سے ریڈیو سیٹ سے ہم تک پہنچتے وہ خوابوں کی دنیا کے مسافر لگتے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر جو ڈرامے پیش کیے جاتے وہ ہر وقت دل و دماغ پر چھائے رہتے۔ پھر بھی تشنگی کم نہ

Read more

طلبہ یونین پر پابندی کی چار دہائیاں، کیا بحالی ممکن ہے؟

پاکستان میں ہر سال نو فروری کو مختلف شہروں میں طلبہ مظاہرے کرتے نظر آتے ہیں۔ اس احتجاج کا مقصد تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز کی بحالی ہوتا ہے۔

رواں برس سال تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر پابندی کو 37 برس ہو گئے ہیں۔ یہ پابندی نو فروری 1984 کو اس وقت کے صدر جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے دوران لگائی گئی تھی۔ اس کے بعد کئی جمہوری ادوار بھی آئے۔ لیکن طلبہ یونینز پر پابندی برقرار رہی۔

اس بارے میں صحافی اور سینئر تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ جب پابندی لگائی گئی تو اس کی وجہ طلبہ یونینز میں تشدد کا بڑھتا رجحان بتایا گیا تھا۔ ان کے بقول کسی حد تک یہ درست بات تھی۔ لیکن ان پر پابندی کا فیصلہ سر اسر زیادتی تھی۔ کیوں کہ اصل ہدف اس وقت بھی اختلاف رائے کو دبانا تھا۔

Read more

سینیٹ انتخابات: پاکستان میں ‘ہارس ٹریڈنگ’ کے الزامات کی تاریخ، کب کیا ہوا؟

سینیٹ کے مارچ میں ہونے والے انتخابات میں ووٹنگ کے طریقۂ کار کے معاملے پر حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ جاری ہے جب کہ 2018 کے سینیٹ انتخابات میں ووٹ خریدنے سے متعلق ویڈیو نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔

مذکورہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور سابق وزیرِ اعلٰی پرویز خٹک کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں نظر آنے والے موجودہ وزیرِ قانون سلطان محمد خان نے وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر استعفی دے دیا تھا۔

اسپیکر قومی اسد قیصر اور پرویز خٹک نے مذکورہ ویڈیو اور اس سارے معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

Read more

بلوچستان میں تلور کا شکار: جب ضیاالحق نے سعودی شہزادے سے ’زبردستی‘ ملاقات کی

یہ سنہ اسّی کی دہائی کا واقعہ ہے جب ایک سعودی شہزادے نے پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیا الحق سے ملاقات کرنے سے انکار کر دیا مگر اس انکار کے باوجود جنرل ضیا زبردستی شہزادے کے پاس ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔

Read more

چوہتر سالہ گریٹ احتساب سرکس (حصہ پنجم )

اکتوبر انیس سو نوے کے انتخابات کے نتیجے میں نواز شریف پہلی بار وزیرِ اعظم بنے۔جس طرح آج کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران حکومت ایک صفحے پر ہیں۔بعینہ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں تیس برس پہلے یہی خیال تھا۔اور کیوں نہ ہوتا۔ سیاسی افق پر شریف خاندان انیس سو اناسی میں پنجاب کی سیاسی ایٹلس پر نمودار ہوا۔ تحریکِ استقلال کے سابق رکن نواز شریف  گورنر غلام جیلانی خان کی مارشل لا انتظامیہ میں مشیرِ خزانہ

Read more

پی ڈی ایم، دس فروری اور لانگ مارچ

ایک معروف صحافی نے تنقید کرتے ہوئے استدلال پیش کیا ہے کہ ”پی ڈی ایم حکومت کو گرانے کے لیے جو کوششں کر رہی ہے وہ غلط ہیں۔ حکومت کو پانچ سال کے لئے منتخب کیا گیا ہے ، اگر اپوزیشن اسٹریٹ پاور کے ذریعے حکومت گرائے گی تو وہ وہی کچھ کرے گی جس کے خلاف وہ جدوجہد کر رہی ہے اور ماضی میں اس طرز عمل کی نقاد رہی ہے“ کسی وقفے کے بغیر موصوف نے پھر فرمایا:

Read more

اجمل خٹک ایک شاعر، ادیب اور سیاسی راہنما

پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک 15 ستمبر 1925 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ باچاخان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنما تھے۔ نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور اس کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی کاٹی۔ واپسی پر 1990 ء سے 1993 ء کے دوران قومی اسمبلی اور

Read more

صادقین کا جنرل ضیا کو لکھا گیا غیر مطبوعہ نایاب خط

سید عباس زیدی پاکستان کے قابل فخر سینئر سفارت کار رہ چکے ہیں۔ 1982 کے دنوں میں وہ ہندوستان میں پاکستانی سفارتخانے میں تعینات تھے۔ اسی عرصے کے دوران انہوں نے ممتاز پاکستانی آرٹسٹ صادقین کا ایک خط اس وقت کے پاکستان کے سربراہ حکومت جنرل محمد ضیا الحق کو بھیجا۔ یہ خط نایاب ہے اور اب تک منظر عام پر نہیں آیا۔ اس کے کچھ حصے پیش خدمت ہیں جن سے تین باتیں ضرور اخذ کی جا سکتی ہیں۔

Read more

تدبر بھی کیا تو نے؟

مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ ان کی لڑائی اداروں کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ ادارے ہمارے اپنے ہیں، بھارتی تو نہیں۔ اور یہ کہ گلہ گزاری اپنوں سے ہوتی ہے غیروں سے نہیں۔ بس ا سی بات پر سب ہنگامہ ہے۔ نیم وا کھڑکیوں کے ساتھ کان لگائے، دروازوں کے پیچھے دم سادھے، مولانا کے خاکی پوش جتھوں سے امیدیں وابستہ کیے، ہمارے لبرل انتہا پسند اب مولانا کو آڑے

Read more

کشمیر او کشمیر

تیسری بات جس نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نہ صرف کمزور کیا ہے بلکہ اس کے خلاف حکومت ہند کی معاندت کو بڑھا دیا ہے وہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ ہے جو اب سرینگر سے پہلگام تک پوری وادی میں گونجنے لگا ہے۔ اس نعرے کو کیوں اور کس نے فروغ دیا اس کے بارے میں لب کشائی کسی کو بری لگے گی تو کسی کے لیے موجب مسرت ہو گی تاہم یہ شرارت کشمیر کو کشمیریوں کا رہنے دینے سے روکنے کی ایک کڑی ضرور بن چکی ہے۔

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب: ”بکھرتا سماج“

اس طرح کے سماج میں رہنے والے کبھی ضیاء الحق اور کبھی ملا عمر کی شکل میں ”اسلام“ کے غالب آنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ یہ سماج آج کل رجب طیب اردوان میں ”صلاح الدین ایوبی“ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گوئندی صاحب کا کہنا ہے کہ میڈیا مراکز میں اہل دانش کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب میڈیا میں اہل فکراور دانشور لوگ Engage نہ کیے جا رہے ہوں تو یہ کیسے تصور کیا جاسکتا ہے کہ معاشرے میں میڈیا تعمیر کی جانب گامزن ہے۔ ایک ایسی ریاست، جس کے رجحانات اس بات کی عکاسی کر رہے ہوں کہ سماج اور ریاست بکھرتے جا رہے ہیں، وہاں میڈیا کا اس قسم کا کردار دراصل بکھرنے کے عمل کو اور بھی تیز کر رہا ہے۔

Read more

مولانا فضل الرحمن کو ایک مشورہ

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا شمار ملک کے ان چند سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن سے متعلق سنجیدہ حلقوں میں ایک رائے متفقہ طور پر پائی جاتی ہے کہ مولانا ان لوگوں میں سے ہیں جن کو مروجہ سیاست کی ہر باریکی کا علم ہے۔ سیاست کے میدان میں کون سا مہرہ کس وقت چلنا ہے یہ مولانا سے بہتر شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ مولانا فضل الرحمن کے سیاسی نظریات سے بھلے کسی کو

Read more

کشمیر پالیسی میں تبدیلی یا وزیر اعظم کی بدحواسی؟

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کوٹلی میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سے کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کو شدید گزند پہنچے گی۔ عمران خان شاید دنیا کے پہلے قومی لیڈر ہوں گے جنہوں نے ایک متفقہ قومی پالیسی میں ’تبدیلی‘ کا اعلان کرنے کے لئے ایک جلسہ عام میں جوشیلی تقریر کرنا ضروری سمجھا ہے۔ عام طور سے اس قسم کا فیصلہ حکومتی یا پارلیمانی کمیٹیوں میں سنجیدہ مشاورت کے بعد کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نے

Read more

پیپلزپارٹی کی سیاست: کارکنوں کے لئے کوئی جگہ نہیں

اس پر دو باتیں پوری شد و مد کے ساتھ میرے ذہن میں آئیں۔ پہلی یہ کہ محترم زرداری اس کے علاوہ اپنی لاڈلی بیٹی کو اور کیا دے سکتے تھے؟ لین دین میں وہ بڑی مہارت رکھتے ہیں اور لازم ہے انہوں نے وہی کرنا تھا جو انہوں نے زندگی میں سیکھا ہے۔ کراچی کے بمبینو سینما کی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت سے لے کر اب تک کی تجارت کے معاملات کو وہ خوب جانتے ہیں۔

Read more

کھیلن کومانگے چاند

ایری زونا. 20، اپریل ڈیئر امجد! خط ملا اور تمہارے پروگرام کا پتا لگا. پاکستان میں تعلیم پھیلانا تو بہت ضروری ہے. تم نے صرف سندھ کی بات کی ہے، میرے خیال میں تو یہ مہم پورے ملک میں چلانی چاہیے کیوں کہ پشاور سے لے کر کیماڑی تک جہالت کا دور دورہ ہے. تم اس کام کے لیے پیسے جمع کر رہے ہو یہ تو اچھی بات ہے. تمہارا خط اور پروگرام کافی طویل ہے. میرے خیال میں تو

Read more

عمران خان اور جمہوریت کا المیہ

گزشتہ دنوں عمران خان نے بڑے دھڑلے سے عوام کو یہ سمجھانے کی سعی کی ہے کہ بار بار الیکشن کروانا جمہوریت کا المیہ ہے۔ اور ایک منتخب حکومت کو اپنی پالیسی کے تسلسل کے لئے پانچ سال ناکافی ہیں۔ عمران خان اب تک بہت ساری ایسی باتیں کہہ چکے ہیں کہ ان کو خود بھی پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں اور نہ ان کو ان باتوں کا کوئی احساس یا پشیمانی ہوتی ہے کہ وہ

Read more