عوام کا فیصلہ

ملک کے حالات جوں کے توں ہیں لہذا قریبا ایک سال کا عرصہ بیت گیا کوئی مضمون کوئی کالم نہیں لکھا مگر کب تک خاموش رہیں ایک کے بعد ایک تماشا ایک ظلم برپا ہے مملکت خداداد پاکستان میں۔ ایک حساس شخص یا تو مر جائے یا پھر شور مچا دے۔ اب گزشتہ دنوں کا واقعہ لے لیں ایک فرض شناس افسر جو بدقسمتی سے سری لنکا سے ایک فیکٹری کا منیجر تھا دین کے نام پر ”ایمان پرور“ ہجوم

Read more

شہزاد اکبر: وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب مستعفی ہو گئے

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب اور امورِ داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں احتساب کا عمل جاری رہنے کے بارے میں پرامید ہیں۔

Read more

دہشتگردی اور صدارتی نظام پر بحث کی لہر

افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار ہونے کے اثرات براہ راست پاکستان پر بھی ہونا طے تھے۔ اس ضمن میں خطے کی بدلتی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین خدشات ظاہر کرتے آرہے ہیں۔ ریاست پر بزور دہشت قبضہ کرنے کا ایجنڈا رکھنے والی قوتیں جو پچھلے دس برس میں کمزور ہوئی تھیں ایک بار پھر متحرک ہیں۔ حکومتی موقف بین السطور میں اس حقیقت کا اظہار ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین پر پناہ گزیں ان گروہوں کو پاکستان پر فوقیت

Read more

اقوام متحدہ کے ’آر ٹو پی‘ اصول کی تشریح پر وزیر اعظم کی وضاحت

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے آر ٹو پی کے تحت افغانستان میں امداد کی اپیل کیے جانے کے بعد انھوں نے کئی گھنٹے بعد ایک اور وضاحتی ٹویٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ آر ٹو پی کا ایک جزو یہ ہے کہ ایک طویل جنگ کے نتیجے میں جنم لینے والے بڑے انسانی المیے سے لوگوں کو بچانے میں مدد کی جائے۔

Read more

مواد اور چیلنج

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے سیکڑوں دانشوروں، تاجروں، اساتذہ اور طلبا اور ماہرین سمیت اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد قومی سلامتی کی پالیسی بنائی ہے۔ تاہم بدقسمتی سے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو نظر انداز کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ حکومتی اراکین پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پالیسی کو ”خفیہ“ قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں صرف یہ بتایا گیا ہے

Read more

آمر ہی چاہئے تو عمران خان میں کیا برائی ہے؟

ملک میں صدارتی نظام لانے کی کوششوں کے حوالے سے مباحث کا سلسلہ ایک بار پھر زور پکڑے ہوئے ہے۔ اپوزیشن اصرار کررہی ہے کہ بحث کا یہ سلسلہ سرکاری حلقوں کی جانب سے چلایا جارہا ہے جس کی مدد سے شخصی حکومت نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومتی وزرا اس قسم کی کوشش یا تجویز سے لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تو ان خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے میڈیا اتھارٹی کے

Read more

ایوب خان کا ناکام ماڈل اور ریاست مدینہ کا روحانی تڑکا

تاریخ آگے بڑھتی جاتی ہے اور اس کے نت نئے تقاضے ایجنڈے پہ آتے چلے جاتے ہیں، لیکن مملکت خداداد کا فکری چلن نرالا ہے کہ ماضی کے بری طرح پٹے پٹائے نسخے بار بار جھاڑ جھونک کر پیش کیے جاتے ہیں اور اسلاف کے سنہری زمانے کے خواب سیاست کے دنیاوی بازار میں ایسے بیچے جاتے ہیں جیسے واقعی روحانی قلب ماہیئت درکار ہو۔ آج کل پھر سے مغلوب پارلیمانی سیاست کی مٹی پلید کی جا رہی ہے اور

Read more

اراکین پارلیمنٹ کا قومی کردار

جناب نصرت جاوید میرے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔ وہ ماضی میں مشتاق منہاس کے ساتھ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ پر مبنی ایک پروگرام ہوسٹ کیا کرتے تھے۔ کتنا اچھا، سستا اور پرسکون زمانہ تھا۔ کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ کہ وہ دور بھی آئے گا جب پاکستان میں عام آدمی کو روزی روٹی کے لالے پڑ جائیں گے۔ یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا کہ 2018 میں ایک ایسی تبدیلی قوم کے گلے کا ہار بنے

Read more

پاکستان اور صدارتی نظام کی بحث: ’طاقت کی مرکزیت کی بات تو ہوتی ہے پر طاقت کو بانٹنے سے گھبرایا جاتا ہے‘

ملک میں صدارتی نظام کی بحث نئی نہیں اور ایک آدھ بار اس کا تجربہ بھی کیا جا چکا ہے اور اب دوبارہ اس کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ لیکن اس بار نیا کیا ہے؟ سیاسی نظام کے بارے میں شروع ہونے والی نئی بحث پر ماہرین کی رائے اور ان کے سوالات۔

Read more

صدارتی نظام نہیں بلدیاتی نظام کی بات کریں

یہ دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ 22 کروڑ انسانوں کا مسکن ہے۔ اس کا ایک نظام ہے، یہ مرقوم و متفقہ آئین کے تحت چلتا ہے۔ خرابیاں بھی بہت ہیں مگر ان کا حل بھی اسی نظام میں موجود ہے، اسی آئین کے اندر درج ہے۔ یہ خاور مانیکا کا گھر نہیں ہے جس میں آپ نے ڈاکا ڈالا، عدت پوری کیے بنا دوسرے کی بیوی اپنی زوجہ بنا لی، اللہ اللہ خیر سلہ۔ یہ ملک نہ کسی انا

Read more

قوموں کے زوا ل کا مرکزی نکتہ

 یہ معروضات نہیں بلکہ ملت مرحوم کے زوال کا مرکزی اور اہم ترین نکتہ ہے۔ موضوع اتنا حساس، مرض اتنا پرانا اور جڑیں اتنی گہری ہیں کہ اگر خون دل سے بھی لکھا جائے، پھر بھی اس کی کا مل قبولیت، بوجوہ مسدود ہے۔ بہرحال امید ضرور ہے کہ پستی اور زوال کی آخری حد سے اصلاح احوال اور بہتری کا سفر شرو ع ہو گا۔ مسلے کے کامل ادراک اور مکمل پذیرائی کے راستے میں اندھی تقلید، وسائل پر

Read more

صدارتی نظام پر بحث: پاکستانی سوشل میڈیا پر پارلیمانی نظام حکومت اور صدارتی نظام پر بحث

پاکستان میں نظام حکومت کون سا ہونا چاہیے، پارلیمانی یا صدارتی؟ یہ سوال کبھی مقابلے کے امتحان میں پوچھا جاتا ہے تو کبھی سیاسی منظرنامے میں دوبارہ (اور پھر دوبارہ) زیرِ بحث آجاتا ہے۔ اس بار یہ معاملہ ٹی وی پر ایک تشہیری مہم کا ہے۔

Read more

صدارتی نظام کا نیا شوشہ

پاکستان نت نئے ”شوشوں“ اور افواہوں کی فیکٹری بن چکا ہے، سوشل میڈیا پر روزانہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوتی جس پر سوشل میڈیا کے ”دانشور ” ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے ہیں، گزشتہ کچھ روز سے ٹویٹر پر ایک ٹرینڈ چل رہا ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی جمہوری نظام ناکام ہو چکا ہے اب صدارتی نظام لایا جائے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ“ پاکستان کے مسائل کا واحد حل صدارتی نظام ”کچھ لوگ تو

Read more

نئی سیکورٹی پالیسی اور قومی مفادات

پاکستان کی موجودہ انتظامیہ کی طرف سے ”نیشنل سیکورٹی پالیسی 2022۔ 26“ کے نام سے ایک دستاویز کا اعلان کیا گیا ہے جس پر عملدرآمد، طریقہ کار کے امور مخفی رکھے گئے ہیں۔ پاکستان کی تقدیر کے فیصلوں سے متعلق 110 صفحات پر مبنی اس دستاویز کے تقریباً 50 ایسے صفحات شائع کیے گئے ہیں جو پالیسی کے موضوعات اور اس سے متعلق بلند و بانگ دعوے پیش کرتے ہیں۔ سیکیورٹی پالیسی پانچ سال کی مدت ( 2022۔ 26 )

Read more

نرگسیت کا مارا ہوا ایک کالم نگار

کھی ہم بھی اس نرگسیت زدہ ہستی کے ایسے اسیر ہوا کرتے تھے کہ اخبار میں سب سے پہلے اسی کے کالم کی طرف لپکتے تھے لیکن جونہی کچھ عقل و شعور  نے ذہن و دل پر اینٹری ماری تو ان کے نظریات کسی افیون کی مانند نظر آئے اور پھر مڑ کر ان کی تحریر یا زبان سے متاثر نہ ہوئے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر یہ کس کی بات ہو رہی ہے تو عرض یہ ہے

Read more

جی ایم سید، بھٹو اور ضیا

سندھ کے قوم پرست رہنما جی ایم سید سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سندھ کا اثاثہ مگر ایک تنگ دل شخصیت جبکہ سابق صدر اور فوجی آمر جنرل ضیاالحق کو اپنا محسن سمجھتے تھے۔

Read more

عرب سپرنگ: تیونس کے سابق آمر زین العابدین بن علی کی ڈوبتا اقتدار بچانے کے آخری لمحات میں فون کالز

بی بی سی نے تیونس کے سابق صدر اور ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی کی چند ایسی فون ریکارڈنگز تک رسائی حاصل کی ہے جب وہ سنہ 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران بیرون ملک روانہ ہو رہے تھے۔

Read more

مقدس ترین حوالے اور ہمارے ذاتی عزائم

اللہ کے آخری نبی، ہادی بر حق، رحمت العلمین، جناب محمد الرسول ﷺ نے آج سے ساڑھے چودہ سو برس قبل تئیس برس کے قلیل عرصے میں، خداوند عالم کی نصرت و تائید کے ساتھ ایک لازوال تحریک، بیش بہا صبر، اعلی کردار، بے نظیر جد و جہد، بے مثل استقامت اور عظمت کردار کے ساتھ دنیا سے جہالت، کم علمی اور ضعف الاعتقادی کے عظیم ترین برج گرا دیے اور تا قیام قیا مت زوال اور پستی کی طرف دھکیل

Read more

مجھے فیمینسٹ نہ کہو: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی یہ دوسری کتاب ہے جس کا میں نے ابھی مطالعہ کیا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ پر میں ایک تاثراتی مضمون رقم کر چکا ہوں۔ زیر نظر کتاب بھی ڈاکٹر صاحبہ کے لکھے ہوئے مضامین یا کالموں کا مجموعہ ہے۔ چونکہ کتاب کا نام ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“ ہے تو ذرا دیکھیں فیمینزم ہے کیا؟ فیمنزم کی کوئی خاص تعریف ممکن نہیں۔ یہ سیاسی، سماجی، نظریاتی اور عورتوں کے بارے

Read more

جمہوریت سے عداوت کیوں؟

پاکستان کے انیس سو اٹھاون کے پہلے فوجی انقلاب کے بعد سے جمہوریت کے خلاف ایک مہم تسلسل سے چلائی جا رہی ہے جس میں اس بیانیے کو پروان چڑھانے کی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان کے جاہل عوام جنہیں حال ہی میں ایک نام نہاد دانشور  نے مصلیٰ قرار دیا کسی قسم کی جمہوریت یا اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے قابل نہیں ہیں اور ہمارے لئے آمریت بہترین نظام حکومت ہے۔ یہ نام نہاد دانشور لکھاری اپنی

Read more

بےنظیر بھٹو شہید: ایک عہدساز رہنما

محترمہ بےنظیر بھٹو شہید کے جانشین اور لاڈلے فرزند بلاول بھٹو زرداری نے اپنی عظیم والدہ  کی برسی کے موقع پر پیر صاحب گولڑہ شریف کی اس شاندار نظم سے اپنا خطاب شروع کیا. یہ تخت فاخرہ پر تاجدار بیٹھے ہیں. کہ تیر وقت کی زد میں شکار بیٹھے ہیں. قبائے صبر کئے تار تار بیٹھے ہیں. یہ کس کی یاد میں سوگوار بیٹھے ہیں. اجڑ گیا ہے یہ کس بدنصیب کا گلشن. یہ کس کے سوگ میں لوگ اشکبار

Read more

آپریشن گلیکسی: جب 1980 میں جنرل ضیا کے خلاف فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کو ’کچل‘ دیا گیا

بریگیڈئیر ترمزی کی یاداشتوں میں ان گرفتاریوں کو ایسے بیان کیا گیا ہے جیسے فوجی بغاوت کچلنے کی سچ مچ اور اصل میں کارروائی ہو رہی تھی اور واقعات رونگٹے کھڑے کر دینے والے ایک سنسی خیز ناول کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔

Read more

پیلا صحافی اور مارشل لاء کے فضائل

 بیرون ممالک باقاعدہ مہ نوشی کےلیے باقاعدہ میکدے بنے ہیں۔ جو میکدہ کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے اپنے گھر میں پیتے ہیں۔ لڑکھڑاتے جسم اور بیوقوفانہ باتیں کرتے بہت کم لوگ عوامی جگہ پہ دیکھے جاتے ہیں ۔ جبکہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں میکدوں پہ پابندی ہے۔ مذہب میں ویسے بھی نشہ حرام ہے، مگر پھر بھی لوگ نشہ کرتے ہیں۔ نشہ کرنے کے بعد یہی لوگ مین سٹریم میڈیا پہ آکے کچھ بھی اناب شناب بک جاتے ہیں۔

Read more

اگرتلہ سازش کیس، کیا حقیقت کیا افسانہ: جب پاکستان زندہ باد کی جگہ ’جوئے بانگلا‘ کا نعرہ بلند ہوا

بنگلہ دیش سے آنے والی ایک گواہی نے صورت حال بدل دی۔ بنگلہ دیش پارلیمنٹ نے ایک رکن شوکت حسین نے 2011 میں پارلیمنٹ کے اندر انکشاف کیا کہ اگرتلہ سازش کے بارے میں اس وقت حکومت پاکستان کے الزامات درست تھے۔

Read more

1965 کے کراچی فسادات: جب سیاسی بنیادوں پر شروع ہونے والا تنازع کراچی کے ’پٹھان مہاجر فسادات‘ میں بدل گیا

پانچ جنوری 1965 کو ہونے والی اس ہنگامہ آرائی کی بنیاد اُس وقت پڑی تھی جب ملک میں پہلے صدارتی انتخاب کا اعلان ہوا جس میں صدر جنرل ایوب خان کا مقابلہ متحدہ حزب اختلاف کی امیدوار فاطمہ جناح سے تھا۔ کراچی می ایوب خان کی جیت کا جشن پُرتشدد رنگ اختیار کر گیا جس میں درجنوں شہری اپنی جان گنوا بیٹھے۔

Read more

ذوالفقار علی بھٹو: ایک بندہ صحرائی

5 جنوری 1928 کا دن ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش ہے جو اپنی انتھک سیاسی جد جہد کے نتیجے میں تاریخ کے افق پر قائد عوام، فخر ایشیا کے طور پر جگمگاتے ہوئے 4 اپریل 1979 کو ملک کے جرنیلی حکمران ضیا الحق کے دور آمریت میں سردار چڑھا دیے گئے۔ جب انہوں نے آمریت کو للکارا، ایوب خان کا اقتدار نصف النہار پر تھا۔ مسئلہ کشمیر اور 65 کی جنگ کے خاتمے پر معاہدہ تاشقند کے بعد ایوب

Read more

جمہوریت اور آمریت: دونوں قوم کے مجرم

سورہ سبا کی آیت 3 ما یلج فی الارض یہ آیت ہمیں سمجھاتی ہے کہ جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے۔ جو بیچو گے وہی نکلے گا۔ نیک اعمال کا نتیجہ نیک اور بد کا بدانجام۔ پاکستان بننے کے بعد سے اب تک دونوں اداروں کے درمیان اقتدار کی ہمیشہ کشمکش جاری ہے۔ کبھی ہم جمہوریت کو اقتدار میں دیکھتے ہیں تو کبھی آمریت کو ۔ اب عوام میں یہ شعور پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ان دونوں کی

Read more

نواز شریف کی پاکستان واپسی کا معاملہ: کیا حکومت قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتی ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق شہباز شریف نے ضمانت دی تھی کہ وہ چار ہفتوں کے بعد اپنے بھائی کو وطن واپس لیکر آئیں گے اور کیوںکہ ایسا نہیں ہوا اس لیے حکومت ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرے گی تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ درخواست کب تک دائر کی جائے گی۔

Read more

چلی میں بائیں بازو کا صدارتی امیدوار کامیاب

لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں 35 سالہ سوشلسٹ راہنما گیبریل بورک نے 19 دسمبر کو ملک کے صدارتی الیکشن کے دوسرے راونڈ میں واضح اکثریت حاصل کر کے ملک کے سب سے کم عمر صدر کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ ملک کو سامراجی تسلط سے آزادی دلوانے اور سماجی تبدیلی برپا کرنے کے لیے قائم کیے گئے بائیں بازو کے اتحاد کے امیدوار اور سابق طالب علم راہنما گیبریل بورک نے صدارتی انتخاب کے دوسرے راونڈ کی انتخابی

Read more

دانشوروں کی جملہ اقسام – مکمل کالم

انگریزی کا ایک لفظ ہے ’integrity‘ ۔ عام طور سے اس کا ترجمہ دیانت داری یا امانت داری کیا جاتا ہے جس سے گزارا تو ہو جاتا ہے مگر تسلی ٰ نہیں ہوتی کیونکہ دیانت داری ’honesty‘ کا ترجمہ ہے اور یوں integrity کے لیے یہ لفظ موزوں نہیں ہے۔ Integrity کے لیے راست بازی اچھا متبادل ہو سکتا ہے۔ خیر، ان میں سے جوبھی لفظ آپ کو مناسب لگے اسے integrity کے متبادل کے طور پر چن لیں کیونکہ

Read more

پرویز مشرف نے بے نظیر کے قاتلوں بارے مخبری پر ”نو ایکشن“ کیوں لکھا؟

پاکستان پیپلز پارٹی ہر سال 27 دسمبر کو ملک گیر سطح پر اسی طرح اپنی پارٹی کی چیئرپرسن و سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت پر جلسے منعقد کر کے اپنی قائد کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جس طرح ہر سال 4 اپریل کو ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ 27 دسمبر 2021 ء کو بھی بے نظیر بھٹو کے 14 ویں یوم شہادت پر ان کے جائے شہادت پر پھول چڑھائے گئے

Read more

بینظیر بھٹو اور پاکستانی سیاست کی گنہگار عورتیں

مریم نواز کی تعریف کرنے والے یا ان کے مداح ان کی تعریف عموماً اس جملے سے شروع کرتے ہیں کہ وہ دوسری بے نظیر ہیں اور جیالے ان کا منہ تکتے ہیں بے شک بے نظیر نے نواز شریف سے میثاق جمہوریت کیا تھا لیکن اس کا نام ہی اس چیز کا گواہ ہے کہ بی بی جمہوریت کے اوپر ایمان رکھتی تھیں وہ معاہدہ ان کے وجود کے لیے نہیں بلکہ پاکستانی عوام کو بولنے اور اپنی مرضی

Read more

سیکولرازم جرم نہیں !

تاریخ دان احباب سے دریافت کیا ۔ سیاسیات کے اساتذہ سے استفسار کیا۔ پاکستان میں سیاسی ارتقا کے نشیب و فراز کے شناوروں سے پوچھا کہ آخر اردو زبان میں پہلی مرتبہ سیکولر ازم کا ترجمہ ”لادینیت“ کس عبقری نے کیا تھا۔ کسی نے مولوی عبدالحق کی اردو لغت پر نام دھرا۔ ارے صاحب، وہ لغت تو مولوی احتشام الحق حقی کی عرق ریزی کا نتیجہ تھی۔ مولوی عبدالحق تو اس لغت پر اپنا اسم گرامی شائع کرنے کے گناہ

Read more

شیخ مجیب الرحمان: بنگلہ دیش کے بانی کا سحر، جمہوری اور آمرانہ رویہ کا امتزاج

بنگلہ دیش کی آزادی کی بات شیخ مجیب الرحمان کی شخصیت پر بات کیے بغیر نامکمل ہے، کیونکہ آزادی اور شیخ مجیب بنگلہ دیش کے حوالے سے لازم ملزوم ہیں۔

Read more

ڈیل یا ڈائیلاگ؟

ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گردش میں ہیں۔کیا سیاسی جماعتیں اس بار کوئی بھی ڈیل کرنے کی بجائے ڈائیلاگ کو ترجیح دیں گی؟ خفیہ بات چیت کی بجائے معاملات منظر عام پر لائیں گی؟ اپنے ذاتی مفادات کو عوامی مفادات میں بدلیں گی؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

ملکہ ترنم نورجہاں بارے کچھ کہی ان کہی چونکاتی کہانیاں

کہا جاتا ہے کہ ملکہ ترنم نورجہاں کی ایک بار طبیعت بہت خراب ہوئی تو ایک بڑے اخبار کے شوبز ایڈیٹر نے ان کی  "وفات” کے حوالے سے "خصوصی تعزیتی ایڈیشن” تیار کرنے کے لیے ان کے قریبی سازندوں، ساتھیوں، ڈائرکٹروں، پروڈیسروں، سیاسی، سماجی اور دیگر شخصیات سے رابطے کرکے اس ایڈیشن کو تیار کر کے رکھ لیا کہ جونہی ملکہ ترنم نورجہاں کے مرنے کی خبر آئی تو اس تیار ایڈیشن کو نکال کر اگلے روز ہی لگا کر

Read more

دسمبر ہر سال آیا کرے گا

نجانے دسمبر کا مہینہ ہر سال اپنے ساتھ سرد موسم کی ٹھنڈی آہیں اور تلخ یادیں لے کر کیوں چلا آتا ہے، کاش 2007 کا دسمبر نہ آتا یا پھر 2007 کے بعد آنے والے سال دسمبر کے بغیر ہی گزر جاتے تو پاکستان کے ان 80 فیصد محکوم و مجبور و مقہور عوام کو ہر سال اپنی کم مائیگی کا احساس نہ ہوتا، بار بار اپنی بے بسی کو یاد کر کے چپ رہنے کا زہر نہ پینا پڑتا،

Read more

کرنل (ر) نادر علی کی 1971ء کے بارے میں یاد داشتیں (حصہ اول)

سنہرے بنگال سے تعارف – ابتدائی تاثرات میں 1962ء سے 1966ء تک مشرقی پاکستان میں تعینات رہا۔ اس وقت حالات پرامن تھے اور ایک جوان میجر کے طور پر میرا تجربہ خاصا خوشگوار رہا۔ میری ڈیوٹی سنٹرل آرڈیننس ڈپو میں تھی لیکن میں 1965ء کی جنگ میں رضاکارانہ طور پر کمانڈو بٹالین جوائن کرکے دو سال تک چٹاگانگ میں رہا۔ اس دوران ہماری کمپنی شمالی بنگال میں تعینات تھی لیکن 1965ء میں ادھر کوئی جنگی کارروائی ہی نہیں ہوئی۔ 1967ء

Read more

حرمت رسول ﷺ کے حق میں روسی صدر کا بیان

وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اس بیان کا خیر مقدم کیاہے کہ’ پیغمبر اسلام کی توہین اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے‘۔ عمران خان اسلام اور مسلمانوں کے نمائیندے کے طور پر مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا کے خلاف مقدمہ پیش کرتے رہتے ہیں اور ان کا مؤقف رہا ہے کہ مغربی ممالک میں آزادی اظہار کے نام پر اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف کی جانے والی ہرزہ سرائی سے مسلمانوں کے حقوق

Read more

بی اے پاس کھوتی کی فروخت کا قصہ

”زمانہ جاہلیت“ میں، میں بھی سمجھتا تھا کہ پاکستان کی تنزلی کا واحد سبب ہمارے کرپٹ اور چور حکمران ہیں۔ مشرف صاحب کے دور میں لگتا تھا کہ ڈکٹیٹر شپ کا فائدہ اٹھا کر چوہدری برادران اور مشرف صاحب ہمیں لوٹ رہے ہیں۔ جبکہ مشرف صاحب کا وہی بیانیہ تھا کہ ہم سے پچھلے پچاس پچپن سال سے لوٹ رہے تھے لہذا اتنے طویل عرصے کا ”گند“ صاف کرنے کے لیے ہمیں مزید وقت درکار ہے۔ اس وقت کی اپوزیشن

Read more

چلی کا الیکشن ترکی میں جشن: چلی کے بائیں بازو کے طلبا رہنما کی کامیابی ترکی میں زیرِ بحث کیوں؟

ترکی اور چلی کی سیاسی تاریخ میں فوجی بغاوت، نیو لبرل اقتصادی پالیسیوں اور عدم مساوات کی تاریخ میں ایک مماثلت ہے۔ اس لیے ترکی کے بائیں بازو کے حلقے چلی میں بائیں بازو کے نوجوان رہنما کی کامیابی کو اپنی سیاسی جد و جہد کے لیے ایک مثال قرار دے رہے ہیں۔

Read more

ملکہ ترنم نور جہاں: جب فنکار نے آمریت سے ٹکر لی

ہال میں چنیدہ مہمان، چوکس فوجی ویٹر ذمہ دار اہل کار، خاموش اپنے کام میں مصروف، اچانک اسٹیج کا دروازہ کھلا اور دو شخص داخل ہوئے۔ ایک صاحب گرے کلر کے ٹریک سوٹ ہاتھ میں سگریٹ درمیانے قد کے سرخ و سفید خوب صورت گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی ہیں، دوسرے پوری فوجی وردی میں ملبوس جنرل ضیا الحق ہیں۔ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک، پورے طمطراق اور کروفر سے چلتے میڈم نور جہاں سے زرا فاصلے پر آ کھڑے ہوئے۔ لیکن یہ کیا میڈم ٹس سے مس نہ ہوئی حتی کہ ٹانگ پر دھری ٹانگ بھی سیدھی نہ کی، جب کہ تمام سازندے جو آشنائے شہریاری تھے فورا احتراما کھڑے ہو گئے۔ جیلانی صاحب مسکراتے ہوئے بڑھے میڈم سے دعا سلام کی اور فرمایا، میڈم جنرل ضیا الحق۔ میڈم نے ایک اچٹتی سی نظر ڈالی، سلام کا جواب دیا، ”لیکن مرد مومن رعایا پرور غاصب حکمراں مسکراتے ہوئے قدم بڑھا کر سازندوں سے ہاتھ ملانے لگے۔ایک اور سانحہ ہوا سارے سازندے کانپ گئے۔ جنرل ضیا الحق دو بندوں سے ہاتھ ملا کر تیسرے الطاف حسین سے ہاتھ ملانے لگے، تو وہ ان کا بڑھا ہوا ہاتھ نظر انداز کر کے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے اور زرا کانپتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹ گیا

Read more

سقوط ڈھاکہ اور ہال آف شیم

16 دسمبر 1971 کو آدھے سے زیادہ پاکستان دولخت ہو گیا، جب ہر سال یہ دن آتا ہے تو میں سوچتا ہوں کہ آج تو کان اور آنکھیں بند کرلوں اور اس سانحے اور شرمندگی سے متعلق کوئی خبر یا تصویر میرے کانوں یا آنکھوں تک نہ پہنچے۔ پھر آہستہ آہستہ سمجھا کہ ریت میں سر دینے سے تاریخ بدل نہیں سکتی۔ پھر اس معاملے پر مطالعہ کرنا شروع کیا۔ ایک روز دسمبر 1971 کی اہم خبروں کو دیکھ رہا

Read more

کم جونگ ان: جلا وطنی اختیار کرنے والے دس شہری شمالی کوریا میں گذشتہ ایک دہائی کے اقتدار کو کیسے دیکھتے ہیں؟

شمالی کوریا میں کم جونگ ان کے اقتدار کو دس برس مکمل ہو چکے ہیں۔ ان کے اقتدار سے متعلق عوامی رائے کیا پائی جاتی ہے۔

Read more

جنرل ضیا الحق کا اقتدار کو طول دینے کے لیے کروایا گیا ریفرینڈم جس نے خود اُن کو ہی کمزور کر دیا

اس ریفرینڈم کا بائیکاٹ کر کے لوگوں نے یہ پیغام دیا کہ وہ ملک میں فوجی حکومت چاہتے ہیں نہ اس کا اسلامی نظام بلکہ وہ اپنی پسندیدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہیں اور ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں۔

Read more

سقوطِ ڈھاکہ کے 50 برس: پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟

پاکستان محققین اور صحافیوں کے لیے 1971 کے واقعات کے بارے میں لکھنا آسان نہیں ہے۔ اس موضوع پر جتنا بھی مواد موجود ہے، یا عوامی طور پر 1971 کے بارے میں جو بیانیہ مقبول ہے، اس میں انڈیا کی سازشوں اور مکتی باہنی کی زیادتیوں کو مورد الزام ٹھیرایا جاتا ہے۔ لیکن یہ طرز عمل انسانی تکلیف اور المیے کے متعلق اُن اہم سوالات کو نظر انداز کر دیتا ہے جو ان لاکھوں، کروڑوں پاکستانیوں اور بنگالیوں کے ذہنوں پر ابھی بھی نقش ہیں۔

Read more

دسمبر اور سقوط ڈھاکہ کی یاد

دسمبر سال کا آخری مہینہ ہے اس ماہ میں گزرے ہوئے پورے سال کی تلخیاں ذہن میں تازہ ہوکر ٹیس دینے لگ جاتی ہیں۔ اس ماہ کا ایک اور تکیلف دہ پہلو سقوط ڈھاکہ کی یاد ہے اور ہر سال دسمبر کا درمیانی عشرہ نہایت کرب اور بے چینی میں گزرتا ہے۔ ہر سال ان دنوں سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر میسر کتابیں پڑھتا ہوں جن میں سر فہرست گھر کے بھیدی بریگیڈیئر صدیق سالک کی کتاب میں نے ڈھاکہ

Read more

بنگلا دیش: ذاتی مشاہدات اور حالیہ ترقی

ممکن ہے کہ سابقہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے میری یہ تحریر قارئین تک 16 دسمبر کے بعد پہنچے کیونکہ ہم سب کے فورم سے مختلف موضوعات پر لکھنے والے بے شمار افراد ہیں اور یہ آواز اٹھانے کا سلسلہ ہم سب کی انتظامیہ کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ بہر حال مقصد 16 دسمبر کے اس المناک سانحے کی یاد کو تازہ کرنا ہے جس نے مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کر دیا اور ایک نیا ملک بنگلہ دیش

Read more

بنگلہ دیش کے 50 برس: مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کا آپریشن اور ایک فوجی کی یادیں

کرنل (ر) نادر علی نے سنہ 1971 میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کے آپریشن میں اپنے تجربات کا ذکر بی بی سی اردو کے لیے اپنی یادداشتوں میں کیا تھا۔ پہلی بار دسمبر 2006 میں شائع ہونے والی یہ تحریر اب دوبارہ شائع کی جا رہی ہے۔

Read more

گوادر کی سسکیاں

زمین کے اندر جہاں جہاں فالٹ لائنز پائی جاتی ہیں وہاں زلزلے آتے ہیں، یہ زلزلے کبھی شدید تو کبھی کم ہوتے ہیں، کبھی کبھار یہ ریکٹر سکیل پر اپنی شدت زیادہ ظاہر کرتے ہیں تو کبھی کبھی کم۔ زیادہ شدت کا زلزلہ تباہی بھی زیادہ پھیلاتا ہے، زلزلہ زدہ علاقے سکون میں نہیں رہتے، آفٹر شاکس آتے رہتے رہتے ہیں، ان آفٹر شاکس کی وجہ سے زمین پر بسنے والے جاندار خوف میں مبتلا رہتے ہیں، ان کو ہر

Read more

ہم ہی جیتیں گے

ایک پرکشش اور امنگوں سے بھرپور نام، جسے سنتے ہی امن، آزادی، مساوات اور سماجی انصاف کے دلدادہ انسانوں اور انقلابی کارکنوں کے خون میں حرارت پیدا ہو جائے۔ ایک ایسی کتاب جو ریسرچ کرنے والوں کے لیے بھرپور مفاد فراہم کرے اور انقلابی کارکنوں کے لیے نظریاتی پختگی اور جدوجہد سے وابستگی میں اضافے کا سب بنے۔ ایک ایسا مصنف اور ہماری دھرتی کے ہونہار سپوت، بے لوث اور انتھک انقلابی، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے

Read more

گوادر اور بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ ظلم و زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے

مولانا ہدایت الرحمان نے صحافیوں کو آج احتجاجی دھرنے میں کہا کہ جب گوادر 1958 کو پاکستان میں شامل ہوا ہے۔ تب سے ہمارے عوام نے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ان کی آواز کو لاٹھی اور گولیوں سے دبانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت کے خلاف اپنے بنیادی حقوق کے لئے ہڑتالیں کی ہیں اور سب سے زیادہ فوجی آمر پرویز مشرف کے فوجی آپریشنوں میں مسخ شدہ لاشیں

Read more

مائگریشن کا عالمی مسئلہ اور اس کا مستقل حل

جرمنی سمیت یورپی ممالک کو اس وقت جو مسائل درپیش ہیں ان میں سے ایک بڑا اور نمایاں مسئلہ مائگریشن کا ہے۔ اس کی اہمیت اس بات سے واضح ہے کہ حال ہی میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان، اسی طرح یورپی یونین اور بیلا روس کے درمیان اس مسئلہ پر شدید سفارتی بحران پیدا ہوا ہے۔ نوبت ایک دوسرے پر الزامات لگانے، طے شدہ ملاقاتوں سے انکار کرنے تک پہنچی۔ بعض ممالک یورپ کے خلاف مائگریشن کو بطور ہتھیار

Read more

قائد کی عینک اور دیگر چوریاں

وہاڑی کے ڈپٹی کمشنر کمپلیکس میں قائد اعظم کے مجسمہ سے کسی نے عینک چرا لی۔ جب اس چوری کا انتظامیہ کو علم ہوا تو فوری ایکشن ہوا اور عینک چوری کی ایف آئی آر درج کی گئی اور مجسمے پر عینک دوبارہ لگا دی گئی۔ جس نے بھی یہ نازیبا حرکت کی ہے اس کو تلاش کر کے قانون کے مطابق سزا دینا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ مگر ہماری تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی ہے ملک

Read more

سیالکوٹ واقعہ: پاکستان فرد اور ہجوم کے فیصلوں اور اختیارات کے قبضے میں کیسے آیا؟

پریانتھا کمار جیسے غریب الدیار شخص کی سیالکوٹ میں ہجوم کی ہاتھوں موت کے عد سوال پیدا ہوتا ہے کہ فرد اور ہجوم کو ملزم یا مجرم کو سزا دینے کا اختیار کیسے ملا ،یا اُن کی طرف سے اس اختیار پر قبضہ کیسے کیا گیا؟

Read more

پاکستان کی احتجاجی سیاست

پاکستان کی سیاست میں احتجاجوں، دھرنوں، مظاہروں اور لانگ مارچوں کا سلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ لانگ مارچ اور دھرنوں میں سیاسی پارٹیز سمیت مذہبی جماعتیں بھی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہوتی ہیں، جس میں باہم اور متحد ہونے کے بڑے بڑے دعوی بھی کیے جاتے ہیں، حزب اختلاف کے ان اتحادیوں میں بعض کو کامیابی ملی جبکہ بعض اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ آئیں اس رپورٹ میں ان احتجاجوں، دھرنوں، مظاہروں، لانگ مارچوں اور

Read more

بنگلہ دیش کے قیام کے 50 برس: زبان، ثقافتی تسلط، حق تلفی یا کوئی سازش، مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے میں کارفرما عوامل کیا تھے؟

اب جب اگلے چند روز میں بنگلہ دیش اپنے قیام کے 50 برس مکمل کرنے والا ہے، بی بی سی نے مختلف تحقیقی کتب کے حوالہ جات اور محققین سے گفتگو میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے اپنے قیام کے محض 24 برس میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔

Read more

تحریک انصاف حکومت دعوے اور کارکردگی۔ ( 4 )

عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات اب آہستہ آہستہ طشت از بام ہو رہی ہیں۔ یہ تفصیلات حیران کن ہیں۔ ان تفصیلات کے مطابق پاکستان میں آنے والے دن کسی بھی لحاظ سے تسلی بخش یا حوصلہ افزا نہیں ہوں گے بلکہ پریشان کن ہوں گے۔ وزیراعظم جب اپوزیشن میں تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ ”قرض لینے والی قوم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی اس کی دنیا میں کوئی عزت نہیں ہوتی۔ میں

Read more

پی ٹی آئی کارکنوں کے لئے ایک کالم

سٹاک ایکسچینج ایک دن میں اکیس سو پوائنٹس گر گیا اور سرمایہ کاروں کے ساڑھے تین سو ارب سے زائد ڈوب گئے۔ تجارتی خسارہ اور ڈالر سر پٹ دوڑ رہے ہیں اور دونوں تاریخ کی بلند ترین اور تباہ کن سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق کرونا فنڈ کی مد میں ملنے والی ایک سو بیس ارب کے امداد میں چالیس ارب کی کرپشن ہوئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل وفاقی وزیر مراد سعید کے بارے میں بتا

Read more

سیالکوٹ میں قتل: یہ ایک جرم نہیں، قومی مزاج کا پرتو ہے

سیالکوٹ میں لاقانونیت کے ایک واقعہ پر وزیر اعظم اور آرمی چیف کی مذمت اور قصور واروں کو عبرت ناک سزائیں دینے کے بیانات سے کیا یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی حکومت اور ریاست ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر آمادہ ہے اور مذہب کی آڑ میں انسانی جانوں کو ضائع کرنے کا طریقہ قومی سطح پر ناقابل قبول عمل کہلائے گا؟ بادی النظر میں یہ قیاس کرلینا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں توہین مذہب کے شبہ میں

Read more

ضیاالحق کا یوم وفات: ’سی 130 کریش ہو چکا تھا۔۔۔ میں نے کپتان کو کہا سیدھے راولپنڈی چلو‘

’سامنے دھواں نظر آ رہا تھا، اگلے ہی لمحے ہمارا طیارہ اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ وہاں ایک ہیلی کاپٹر بھی اُتر رہا تھا، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ ’پاکستان ون‘ (سی ون تھرٹی) کریش ہو گیا ہے اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘

Read more

چوہتر سال بعد بھی

آزادی کے 74 سال بعد بھی ہمیں اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے ’پاکستان‘ پاکستانیت اور ہمارے شناختی ورثے کی بحث تاحال جاری ہے۔ پاکستانی ہیرو کی تلاش اور ان کی شناخت پر دانشوروں کے بحث مباحثے بھی زوروں پر ہیں مگر صد افسوس کہ ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ہم کیوں ہیں ’کہاں ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے؟ چل رہے ہیں مگر راستوں اور منزل سے بے خبر‘ بس چل رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ آج

Read more

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

سیاست میں یہ فقرہ تواتر کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ کہ بدترین جمہوریت بھی آمریت سے بدرجہا درجے بہتر ہوتی ہے۔ کیوں کہ عوامی مینڈیٹ لے کر برسراقتدار آنے والے وزیراعظم اور بزور طاقت اقتدار پر قبضہ کرنے والے آمر کی ساکھ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ منتخب وزیراعظم کے پیچھے پارلیمان اور ووٹ کی طاقت ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اختیارات کا سرچشمہ کہلاتا ہے۔ جمہوریت میں مشاورت اور ڈائیلاگ کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے۔

Read more

پاکستان کے لئے آنے والے دن آسان نہیں!

پاکستان شدید دباؤ میں ہے۔ صرف سوشل میڈیا کو ہی دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے گلی کوچے میں چھوٹے بڑے John Locke اور Rousseauرزمیہ گیت گاتے پھرتے ہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے ہاں انسانی حقوق کی پاسداری، جمہوری نظام اور قانون کی بالا دستی کے لئے اگر دنیا میں کوئی سب سے زیادہ فکر مند ہے تووہ ہمارا دوست بھارت اور کابل میں کٹھ پتلی حکمران ہیں۔ ٹویٹر کو دیکھ کر بے

Read more

مطالعۂ پاکستان سے معذرت کے ساتھ (1)

اس تحریر میں ماضی کی غلطیوں کو ”قومی راز“ کا نام دے کر ان پر پردہ ڈالنے کی ”چالاکی“ کرنے والی ریاست کی نصابی ”ہوشیاری“ پر کچھ بات کر لیتے ہیں۔ یوں تو مملکت خداداد کے چوہتر سالہ مسلسل زوال کے بہت سے اسباب ہیں، لیکن اگر اس تناظر میں ایک جملہ لکھنا ہو تو کہا جا سکتا ہے کیوں کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے، اس لئے ہمارے حال میں تیرگی ہے اور مستقبل میں دھندلا پن۔ ہر

Read more

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

چند روز قبل سوشل میڈیا پر مرحوم وزیراعظم لیاقت علی خان جو تحریک آزادی پاکستان کے روح رواں، قائد اعظم کے دست راست اور قافلہ حریت کے سالاروں میں صف اول کے مجاہد تھے ان کی بہو کا ایک دلخراش اور ناقابل یقین خط شائع ہوا۔ سچی بات تو یہ کہ اس خط نے رلا دیا۔ کس طرح ایک نواب فیملی اور سابق وزیراعظم پاکستان کے وارثان کسمپرسی اور افلاس کی زندگی بسر کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ذاتی گھر بھی نہ ہے۔ اور علاج معالجہ کے وسائل بھی نا پید۔

یہ وہی لیاقت علی خان ہیں جو ایک نواب گھرانا سے تعلق رکھتے تھے۔ بڑے ناز و نعم میں پلے مگر اپنی ہر چیز اس ملک پر قربان کر دی

Read more

عوام کے مسائل کا حل بیداری

حد ہوتی ہے ویسے، آپ نے اور میں نے سینکڑوں ڈکٹیٹرز کے نام سن رکھے ہوں گے بہت سارے واقعات پڑھ رکھے ہوں گے لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جرنل پرویز مشرف جیسا ڈھیٹ ڈکٹیٹر نہیں آیا ہوگا لیکن اس کے برعکس اس وقت حاکم وقت جو جمہوریت کے نام پر آیا جس کو کچھ نادیدہ قوتوں نے برسراقتدار لایا ہے وہ اس وقت مشرف سے بھی دو قدم آگے ہے پاکستان کا یوم آزادی کا دن قریب ہے

Read more

11 اگست اور قائدؒ کی روح

آج سے ٹھیک 74 برس پہلے ٹھیک آج ہی کے دن 11 اگست 1947 ء کو ایک نامور وکیل، جمہوریت کا ایک علمبردار اور ایک عظیم رہنما پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کر رہا تھا۔ ہم نے اس شخصیت کو قائداعظمؒ کا خطاب دیا اور پھر ہم سب کچھ بھول گئے۔ آج ٹھیک 74 برس بعد بھی قائدؒ کی روح ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہمیں ان کا پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے

Read more

کیا ہم واقعی آزاد ہیں

14 اگست 1947، جس دن پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے وجود میں آیا۔ جس کے پیچھے ہمارے عظیم رہنماؤں کی کوشش اور ہمارے بزرگوں کی قربانیاں ہیں۔ جنہوں نے ہمیں یہ ملک دیا کے ہم سیاسی، مذہبی، معاشی اور معاشرتی لحاظ سے آزاد ہوں اور آزاد رہ کر اپنی زندگی گزاریں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 73 سال ہو گئے لیکن ہم اب بھی آزادی کا مطلب نہیں سمجھ سکے،

Read more

مملکت روما کا زوال :تاریخ کا ایک سبق

مملکت روما جسے عرف عام میں رومن ایمپائر کہا جاتا ہے، تاریخ میں عظیم اور طویل ترین مملکتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ ایک ہزار سال تک قائم رہنے والی اس مملکت کا موازنہ اگر ہو سکتا ہے تو صرف مسلم مملکت سے جس کا اقتدار بھی کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا کے مختلف مہذب حصوں پر قائم رہا۔ مملکت روما اور مسلم حکومت میں ایک تاریخی مماثلت یہ بھی ہے کہ روما نے یونانی تہذیب کے

Read more

جمہوریت کی فیصلہ کن طاقت

کم از کم وہ زمانہ اب نہیں رہا جب خوف ہی سب سے بڑا ہتھیار تھا اور یہ ہتھیار اسی لئے کارگر تھا کہ شعور اور باخبری نہ تھی۔ تاریخ یہی سمجھا رہی ہے کہ شعور کی فراوانی خوف کو ہمیشہ توڑ کر رکھ دیتی ہے اور ایسا بارہا ہوا بھی ہے۔ لیکن اگر ارتقائی حقائق اور بدلتے ہوئے زمانے کا ادراک نہیں کیا جا رہا ہے تو اسے اندیشوں بھرے خوف کے ساتھ دیکھا جائے گا کیونکہ سامنے کے

Read more

کیا ہم نے قائداعظم کا جمہوری خواب پورا کیا؟

علامہ اقبال کا خواب تو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنا کر شرمندہ تعبیر کر دیا تھا کیا قائداعظم کا خواب ملک میں جمہوری نظام کا ہم پورا کر سکے ہیں۔ جب یہ سوال کیا جائے تو اس کا جواب ستر سال سے پاکستان میں رہنے والے پیدا ہونے والے لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ جمہوریت اس نظام کو کہتے ہیں جس میں محکوم اپنے حکمرانوں کو اور ووٹر اپنے نمائندوں کو کنٹرول کر سکیں۔ اب سوال پیدا ہوتا

Read more

بھٹو، عمران اور صحافی

پاکستان کے بہت سے سیاسی مدبرین، تجزیہ نگار، محققین اور پڑھے لکھے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ قائد اعظم کے بعد اگر پاکستان میں کوئی لیڈر پیدا ہوا ہے تو وہ ذوالفقار علی بھٹو ہے اور کیوں نہ ہو۔ شکست خوردہ قوم کی ڈھارس باندھنا، آئین پاکستان، 90 ہزار قیدیوں کی وطن واپسی، قوم کو سیاسی شعور دینے کی کوشش کرنا، ایٹمی پلانٹ کی بنیاد رکھنا اور بہت کچھ۔ مگر ان سب چیزوں کے باوجود جب ملک میں

Read more

نور مقدم قتل کیس : آزادی، ذمہ داری مانگتی ہے!

اپنے گزشتہ کالم (نور مقدم قتل کیس: ایک پہلو یہ بھی ہے ) پر رد عمل میری توقع سے کہیں زیادہ تھا۔ منفی کم اور مثبت زیادہ۔ میں نے منفی رد عمل کا بغور جائزہ لیا۔ یہ جاننے کی کوشش کی کہ آزادی کو ذمہ داری، احتیاط اور حدود و قیود کے اندر استعمال کرنے کی مخالفت کرنے والوں کے پاس کیا دلائل ہیں۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مجھے کوئی ایک بھی ٹھوس دلیل نہیں ملی۔ میری

Read more

ایوب خان کا مضحکہ خیز ایبڈو قانون اور سیاسی محرومیوں کا نکتہ آغاز

ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے چند ہی ماہ کے بعد الیکٹیو باڈیز ڈسکوالیفیکیشن آرڈر نامی ایک قانون نافذ کیا جس کے تحت سیاستدانوں کی ایک بڑی تعداد یا تو نااہل ہوئی یا یا انھوں نے رضاکارانہ طور پر نااہلی قبول کی۔

Read more

حامد میر کا بی بی سی ہارڈ ٹاک پر انٹرویو: ’عمران خان پابندی کے ذمہ دار نہیں لیکن وہ بےبس ہیں، میری مدد نہیں کر سکتے‘

پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تیقید کے بعد پابندی کا سامنا کرنے والے سینیئر صحافی اور ٹی وی میزبان حامد میر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اس پابندی کے ذمہ دار نہیں لیکن وہ ایک بےبس وزیراعظم ہیں اور ان کی مدد نہیں کر سکتے۔

Read more

ایک اور گم گشتہ کتاب!

کچھ کتابیں برسوں کا فاصلہ طے کر کے اپنے قاری کے پاس واپس آتی ہیں لیکن تب پڑھنے کا موسم گزر چکا ہوتا ہے۔ کتاب چوروں سے التماس ہے کہ کتاب خرید کر پڑھیں آدھی پڑھی کتابوں کی بد دعا بہت بری ہوتی ہے۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

کیا کراچی سیاسی لاوارث ہے؟

پاکستان کے سب سے بڑے بندر گاہ والے شہر کراچی کی اپنی ایک شناخت رہی ہے، کراچی، فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے زمانے تک ایک پڑھا لکھا، جدید اور ماڈرن شہر مانا جاتا تھا جو پاکستان کے دوسرے بڑے شہروں سے قطعی مختلف تھا، یہاں برازیل کے ریوڈی جنرو یا انڈیا کے ممبئی کی طرح جدید فیشن، اعلی تعلیمی ادارے، میڈیا ہاؤسز، صنعتیں، ساحل، روشنیوں کا سیلاب، اسپورٹس۔ غرض جدید شہروں والا ایک شاندار ماحول ہوا کرتا تھا۔ اور جیسا کہ ساحلی شہروں میں ہوتا ہے، کراچی کی صنعتی ترقی سارے ملک سے لوگوں کو اپنی جانب کھنچنے لگی

Read more

”بائیڈن میں تمھیں نہیں چھوڑوں گا“ ہم کسی ناراض پھپھی سے کم تو نہیں

پاکستان میں جو شادیاں ہوتی ہیں ان میں جب تک کوئی پھپھی خالہ ماسی چاچی آنٹی روٹھ کر شادی کا بائیکاٹ نہ کرے شادی کی تقریبات مکمل نہیں ہوتیں۔ پنجاب میں اس کو رس جانا کہتے ہیں۔ رشتے داروں کی دوڑیں لگتی ہیں کہ فلاں پھو پھو یا تائی روٹھ کر شادی میں نہ آنے کا فیصلہ کر چکی ہے لہاذا اس کو منانا ہے۔ اس وقت ہمارے بین الاقوامی معاملات ہو بہو ایسا ہی نقشہ پیش کر رہے ہیں۔ جناب معید یوسف ایک ناراض چاچی کا رول ادا کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

Read more

مزدور تحریک کے بانی مرزا ابراہیم کی یاد میں

گیارہ اگست کو پاکستان کی ترقی پسند تحریک کے اہم ستارے اور مزدور تحریک کے بانی مرزا محمد ابراہیم کی 22 ویں برسی ہے، جو 11 اگست 1999 کو ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، بالخصوص مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کرتے کرتے اپنے ساتھیوں، رفیقوں اور کامریڈوں سے جدا ہو گئے تھے۔ ان کا شمار برصغیر میں مزدور تحریک کے بانیوں میں ہوتا ہے اور انہوں نے اپنی ساری زندگی ریلوے مزدوروں کی تحریک کے بے تاج

Read more

شریف برادران سہل طلب ہیں، فرہاد نہیں

مسلم لیگ نون کے صدر میاں شہباز شریف نے سلیم صافی کو دیے گئے انٹرویو میں فرمایا ہے کہ اگر ان کی جماعت دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات میں درست حکمت عملی اختیار کرتی تو میاں نواز شریف چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم منتخب ہو سکتے تھے۔ اس کے بعد بہت سے دوست حیران ہیں کہ نون لیگ کے اس بیانیے کا کہ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات چوری ہوئے ہیں اور نواز شریف کی نا اہلی کی سزا کسی سازش

Read more

مزار قائدؒ کے آنسو 61 برس سے سوال کر رہے ہیں

بابائے قوم قائداعظمؒ محمد علی جناح 11 ستمبر 1948 ء کو یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ ہم نے انہیں کراچی کے ایک کونے میں دفن کر دیا۔ ان کی قبر پر چھوٹا سا چبوترا بنایا۔ ساتھ ایک الماری رکھ دی جس میں قائداعظمؒ کے زیر استعمال کچھ اشیاء تھیں اور بس یوں ہم نے یہ فریضہ اپنے کندھوں سے اتار دیا۔ پھر ہم قائداعظمؒ کی قبر کو ویسے ہی بھول گئے جیسے ان کے فرمودات کو آج تک

Read more

ممتاز بھٹو مرحوم اور لسانی بل: حقائق کیا ہیں؟

سندھ کے ممتاز راہنما ممتاز بھٹو کی وفات پر پاکستان اور بین الاقوامی میڈیا میں خبریں شائع ہوئیں جن میں سے بعض میں بیان کردہ پس منظر میں شامل مفروضے جو قومی اہمیت کے حامل مصنوعات سے متعلق ہیں حقائق سے متصادم تھے۔ چنانچہ ریکارڈ کی درستی کے لئے ضروری ہے کہ انہیں رد کرتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے۔ ان مین سے ایک غیر حقیقی منظر کشی اردو کے ایک بین الاقوامی نیوز بلیٹن کی ویب

Read more

آمریت پر جمہوریت کا لیبل

محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی کتاب آمریت یا جمہوریت کے ایک مضمون جمہوریت کی بحالی ناگزیر ہے میں لکھتی ہیں کہ گزشتہ ماہ جنرل پرویز مشرف امریکہ کے دورے پر گئے تھے، تاکہ اس عزت افزائی سے لطف اندوز ہو سکیں، جو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے ایک اہم رکن ملک کے لیڈر نے انہیں بخشی ہے۔ اس مہینے انہوں نے ٹوکیو کا سفر بھی کیا، تاکہ 11 ستمبر کے واقعات کے بعد پاکستان نے جو کردار ادا

Read more

اقبال، پنجاب اور پنجابی

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد ضرب کلیم میں لکھی گئی پنجابی مسلمان کے نام اقبال کی اس نظم سے تحریر کا آغاز اس لیے کیا کہ میں مقصد تحریر کو ابتدا ہی میں واضح کر سکوں

Read more

آمریت والے فروغ نسیم

فروغ نسیم کی شکل میں شریف الدین پیر زادہ آج بھی پاکستان میں موجود ہے، شریف الدین پیر زادہ نے ہر آمر کے پاؤں کو ہاتھ لگایا، ہر آمر کے تلوے چاٹتے رہے، ہر آمر کے سامنے سجدہ ریز ہوئے۔ نتیجتاً اب شریف الدین پیر زادہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو ان کا عزت سے نام لینے والا بھی اس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ حال ہی میں الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا مان کر کراچی سے اپنی سیاست کا آغاز کرنے والے فروغ نسیم، شریف الدین پیر زادہ کی صف میں کھڑے اول دستے کے کمانڈر ہیں۔

Read more

پنجاب میں بیوروکریسی کا کردار

آج کل سیاسی کارکنوں کی جانب سے ایک شکایت بہت آ رہی ہے کہ بیوروکریسی ان کی بات نہیں سنتی اور بیوروکریسی عمران خان کی تبدیلی کے پروگرام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کہتے ہیں آواز خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔ اس شکایت یا تنقید کی تہہ میں کچھ نہ کچھ ہے جس کی وجہ سے ضلعی دفاتر میں بیٹھے بابوز ایم این اے ایم پی ایز کو پروٹوکول دیتے تو نظر آ جاتے ہیں مگر ان کی تحریک

Read more

فنون لطیفہ کے لئے افلاطون اور موجودہ ڈکٹیٹرز میں فرق

پاکستان کا حکومتی نظام ہر دور میں کسی monarch کے زیر احسان، ڈکٹیٹر کے نافذ کردہ جائز اور ناجائز اصولوں پہ عمل پیرا نیم مردہ ڈیموکریسی کا نظام ہے جہاں ہر انسان کو انفرادی اظہار رائے کا اعتماد دے کر کس خوش اسلوبی سے بہلایا جا رہا ہے! ادبی حلقوں میں اگر Dark Comedy پر مشتمل کوئی ضخیم تصنیف درکار ہو تو پاکستانی میں جمہوریت کی تاریخ کو جوں کا توں رقم کر دیا جائے لیکن یہاں ایسا کرے کون

Read more

اڑھائی ہزار سال پہلے کی چند ملاقاتیں (مکمل کالم)

آج سے 2700 سال پہلے جب میں یونان میں تھا تو میرا فلسفیوں کے ساتھ کافی اٹھنا بیٹھنا تھا، یہ کوئی ایسی عجیب بات نہیں تھی، اُس دور میں یونان میں ہر دوسرا بندہ فلسفی تھا، حتّٰی کہ جو گوالا میرے گھر دودھ پہنچایا کرتا تھا وہ بھی اپنا ایک خاص فلسفیانہ نکتہ نظر رکھتا تھا، بھلا سا نام تھا اُس کا، ہاں یاد آیا ’دودھکریٹس ‘۔ ایک روز میں نے اُس سے پوچھا کہ کائنات کا راز کیا ہے،

Read more

سیاست ، کارکن اور سیاسی جماعتیں

کارکن کسی بھی سیاسی جماعت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہے۔ کارکن دن رات، گرمی سردی، طوفان، سیلاب اور دیگر قدرتی و انسانی آفات کی پرواہ کیے بغیر جماعت کے لیے کام کرتے ہیں۔ جلسے جلوس میں اگے اگے پیش ہوتے ہیں۔ نہ جیل کی سلاخوں کی پرواہ، نہ مار پیٹ سے ڈر، نہ بھوک و افلاس سے گھبراہٹ، جان تک پارٹی کے لئے وقف کرتے ہیں۔ دراصل کارکن پارٹی کا اثاثہ ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر لوگ سیاسی پارٹیاں اور سیاست میں شمولیت تین وجوہات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔

Read more

جمہوریت کی آزادی یا آمریت کی کج روی

منٹو لفظ کا جوہری تھا۔ اسے اونچی دکان کی جھالر پٹی یا دست فروش کی کم مائیگی سے غرض نہیں تھی۔ وہ اپنے قلم کی نوک سے ایسا لفظ اٹھاتا تھا جو معنی ہی نہیں، کیفیت بھی بیان کرے۔ احساس کے کیف و کم ہی پر اکتفا نہ کرے، سوچ کے پیچ و خم کا احاطہ بھی کرے۔ اواخر نومبر یا دسمبر 47ء کے ابتدائی ہفتوں میں منٹو بمبے کی بندرگاہ سے پاکستان روانہ ہوا۔ اس نے اپنی ان دنوں

Read more

نور قتل کیس: ظاہر جعفر کے والدین کو کیوں گرفتار کیا گیا اور انھیں کیا سزا ہو سکتی ہے؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں نور مقدم کے قتل کے مقدمے میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی گرفتاری کے بعد سے یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ان کی گرفتاری کیوں عمل میں آئی اور انھیں کیا سزا دی جا سکتی ہے؟

Read more

پاکستانی صحافت کی معراج

معراج عروج سے نکلا ہے اور اس کے معنی ہی اوپر جانا یا چڑھنا ہیں۔ انسان کو بھی اسی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے کہ جس سے انسان اپنی زندگی میں اوپر کی طرف سفر کرے انسان اسی لئے بلندی کے حصول کی تگ و دو میں دن رات ایک کرتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو بنے تقریباً 73 سال ہو چکے اور یہ ریاست چار ستونوں پر کھڑی ہے بلکہ لیٹی ہے۔ اس ریاست میں چار ستون اس

Read more

ہم کس کو خط لکھیں؟

خطے کی تاریخ میں ایک خط کے بہت چرچے ہیں سنا اور پڑھا ہے کہ ہمارے خطے میں ایک ظالم و جابر بادشاہ ہوتا تھا، اس کے سپاہیوں نے سمندری بندرگاہ پر بطور تجارت آنے والے ایک پانی کے جہاز پر قبضہ کر لیا، جہاز پر خواتین بھی تھیں، ایک خاتون نے دور دراز کے ایک نیک اور رحم دل بادشاہ کو خط لکھا کہ ہم کو ظالموں نے قید کر لیا ہے، دہائی ہے کہ ہم کو اس اندھیرے

Read more

ریٹائرڈ جرنیل، ان کے انکشافات اور پاکستانی سیاست

ویسے تو اس وقت لگتا ہے کہ پاکستانی سیاست ایک ٹھہرے ہوئے پانی کے تالاب کی مانند ہے جس کے گدلے پانی میں کوئی بھی انکشاف کسی قسم کا ارتعاش پیدا کرنے میں ناکام ہی رہتا ہے، تاہم جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح عمری ”اقتدار کی مجبوریاں“ یقیناً تالاب کی تہہ میں خوابیدہ مگر مچھوں کی بے چینی کا باعث ضرور بنیں گی۔ پاکستان میں کوئی سویلین کچھ بھی لکھ دے، مگر اس کے درست اور مستند ہونے پر ذہن میں سوال بنا رہتا ہے مگر اس کے برعکس کسی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جرنیل کی کہی ہوئی بات کو ہمارا ذہن فوری طور پر سچا، مستند اور قابل بھروسا مان لیتا ہے کیونکہ جرنیل ہماری ریاست کے طاقت کے تکونی اہرام یعنی power pyramid کی چوٹی پر براجمان رہے ہیں اور کوئی بھی معاملہ ان کی معلومات اور دسترس سے دور نہیں ہوتا یعنی ”مستند ہے ان کا فرمایا ہوا“

Read more

اسرائیلی سافٹ وئیر: کیا ایک اور پاناما سیکنڈل سر اٹھانے جا رہا ہے؟

اپریل 2016 میں پاناما لیکس کے سیکنڈل نے دنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ کئی سربراہان حکومت اپنے اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے بعد 2016 ء میں ہی صدر ٹرمپ کے پہلے الیکشن کے دور ان بڑی بڑی ٹیک کمپنیوں کے خلاف خبریں باہر آنا شروع ہو گئیں کہ وہ شہریوں کا ڈیٹا بیچ کر الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ اس سے پہلے وکی لیکس کا معمہ بھی خبروں کی

Read more

مریم بمقابلہ جمائما: یہود دشمنی کسی مسئلہ کا حل نہیں

ایک دوسرے کے بیٹوں کے بارے میں وزیر اعظم کے الزامات اور مریم نواز کے جواب کے بعد عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کی ٹوئٹ نے پاکستانی سیاست کے ایک اہم پہلو کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ انہوں نے پاکستانی معاشرے میں پروان چڑھنے والی یہود دشمنی کا حوالہ دیا ہے جو آج سے بیس برس پہلے بھی اسی شدت سے موجود تھی جس کا مظاہرہ اب مریم نواز کے ’یہود دشمنی ‘ پر مبنی تبصرہ

Read more