آپ لوگوں نے ائر بلیو میں ہونے والے واقعے کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑا دیا لیکن ایک اہم بات کی طرف آپ کی توجہ نہیں گئی، اگر چہ آپ کو سوچنا چاہیے تھا کہ اسی میں معاشرے کی بقا ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ ہم سب بیویوں والے ہیں اور جو نہیں ہیں، وہ بھی خدا کے فضل سے ہو جائیں گے۔
مجھے اس نوجوان کو اپنی بیوی کو بوسہ دینے پہ حیرانی نہیں ہوئی۔ مادر پدر آزاد نئی نسل کے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن اس معاشرے میں ان کی تعداد تو آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اکثریت تو ہم جیسے با حیا، غیرت مند اور صراط مستقیم پہ چلنے والوں کی ہے۔
زیادہ پریشانی یہ ہوئی کہ اس شوہر کو اپنی بیوی پہ پیار آیا اور اتنا شدید آیا کہ جہاز میں بیٹھے بیٹھے ہی بیوی کو چوم لیا۔ حیرت اور پریشانی کی بات ہے نا! یہ کیا بات ہوئی، بیوی پہ بھلا کس کو پیار آتا ہے؟ اور چلیے اگر یہ مان لیں کہ یہ پیار نہیں تھا، جنسی خواہش کی شروعات تھی تب بھی بیوی کو چومنے کی کیا ضرورت ہے؟ بھئی سیدھے سبھاؤ گھر جاؤ اور اسلامی طریقے سے ازدواجی تعلق قائم کرو۔
Read more