فلسطینی اور اُمتِ مسلمہ کی کانپتی ٹانگیں

بچپن سے لے کر آج تک شاید ہی ایسا کوئی جمعہ پڑھا ہو جہاں پر فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی بربادی کی دعا نہ مانگی گئی ہو۔ اگر ہماری دعا میں ذرا بھی اثر ہوتا تو اسرائیل اب تک نیست و نابود ہو گیا ہوتا لیکن ہماری دعائیں اور ہیں اور ہماری ادائیں اور: محمد حنیف کا کالم

Read more

پیرنٹل پروٹیکشن آرڈیننس 2021: ’کیا اس ماں کا حق نہیں تھا کہ بیٹا اس کا سہارا بنتا‘

کنیز بیگم کے شوہر کی وفات کے بعد انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے بیٹے کی تعلیم کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے لیکن بیٹے کی شادی کے بعد جب کنیز بیگم کی ٹانگ ٹوٹ گئی تو کئی روز ہسپتال میں گزرنے کے بعد بھی ان کا بیٹا اور بہو انھیں واپس گھر لے جانے کے لیے نہیں آئے۔

Read more

گمراہی سے گولی تک

سب سے پہلے تو لیاقت بلوچ صاحب کو ان کے بیٹے کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی پر مبارکباد، اس میں نہ کوئی طنز ہے اور نہ کوئی طعنہ، خود باپ ہوں اس لئے ایک باپ کو اپنی اولاد کی کامیابی پر جو خوشی ہوتی ہے اس کا مجھے احساس ہے، لیکن بلوچ صاحب کے اس ٹویٹ سے اپنے خاندان کی گمراہی کے دن اور کچھ دبے ہوئے غم یاد آ گئے سوچا آپ کے سامنے آج کچھ اور اعترافات کروں، ہو سکتا ہے میرے اعتراف سے مزید لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آ جائے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر کے کس طرح سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے

Read more

بہرے، گونگے اور اندھے لوگوں کی کتھا

دیکھیں جناب! یہ کہانی ایک بڑے سے ٹولے کی ہے جس کے لوگ انوکھی بیماری میں مبتلا ہیں۔ جب اسی ٹولے کے ہوش رکھنے والے چند لوگوں میں سے کوئی اٹھ کھڑا ہو اور باقیوں کو بتلائے کہ ہم میں کچھ گڑبڑ ہے تو اس ٹولے کے سب سے زیادہ بیمار لوگ اسے بولنے والے کو غدار ہونے کا سرٹیفیکیٹ دے کر سنگین سزا سنا دیتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں کہانی کو آگے بڑھاؤں، disclaimer  کے طور پر

Read more

فی الحال مثبت رپورٹنگ کے لئے کچھ نہیں

کبھی ایک حکم آیا تھا کہ مثبت رپورٹنگ کریں اور پھر مثبت رپورٹنگ کی تلاش میں ہم نے اپنی جان ہلکان کر دی لیکن ایک تباہ کن منظر نامے پر نظر ڈالتے ہوئے ریاستی جبر معاشی بربادی جمہوری ڈھانچے کا انہدام اور خوفناک ناکامیوں کے کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آیا ورنہ کس بدبخت لکھاری کی یہ خواہش نہیں ہوگی کہ اپنی دھرتی ماں کے ثمر بار موسموں کے گیت لکھے اور اس کی ممتا سے پھوٹتے بے ریا

Read more

انتہائی غیر سیاسی اور جھوٹی کہانی

ہیلو؟ ہیلو؟ جی کون صاحب ہیں آپ کی آواز صاف سنائی نہیں دے رہی اونچا بولنے کی کوشش کریں۔ کون ہے بیٹا؟ ابا جان صبح سے فون بج رہا ہے آپریٹر کہتی ہے ٹرنک کال ہے، لیکن آواز نہیں آتی یوں لگتا ہے جیسے کتے کے غرانے یا بھونکنے کی آواز ہے۔ اللہ جانے کون ہے۔ ارے بیٹا یہ ٹرنک کال ہے، برطانیہ کے نمبر سے ہو گی کال تمہارے انکل کی، ان کے گھر نسلی کتوں کے جوڑے ہیں۔

Read more

کووڈ 19: وبا کے ڈیڑھ برس بعد ہم اس وائرس کے بارے میں مزید کیا جان پائے ہیں؟

جب سے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کووڈ 19 کو وبائی بیماری قرار دیا اس وقت سے لے کر اب تک ہم نے وائرس کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کے لیے بے مثال سائنسی کوششیں دیکھی ہیں۔

Read more

پشاور: بزرگ خاتون سیاستدان بیگم نسیم ولی انتقال کر گئیں

پشاور: (دنیا نیوز) بزرگ خاتون سیاستدان بیگم نسیم ولی خان انتقال کر گئیں، وہ عوامی نیشنل پارٹی کی سابق صوبائی صدر تھیں۔ بیگم نسیم ولی خان شوگر اور دل کے عارضے میں مبتلا تھیں۔ مرحومہ ایک بار قومی اسمبلی اور تین بار صوبائی اسمبلی کی رکن منتحب ہوئیں اور پہلی خاتون سیاستدان تھیں جو رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئی تھیں۔ ستر کی دہائی کے وسط مین حیدر آباد کانسپریسی کیس مین عبدالولی کاں سمیت نیپ کی ساری مرکزی قیادت کی گرفتاری

Read more

کیا والدین نے اولاد کا ٹھیکہ لے رکھا ہے؟

پچھلے دنوں پے در پے ایسے واقعات بلکہ سانحات دیکھے کہ دل لرز کر رہ گیا، نام لکھنا مناسب نہیں ہے۔ ملک کے ایک معروف شاعر کی اولاد کا سلوک ان سے سن کر سوچا کہ ان کے والد نے ان کے لیے کیا کیا نہیں کیا تھا؟ لیکن جوان اولاد بوڑھے، مشہور اور بیمار باپ کے پاس بیٹھے اس کے دوستوں کو سلام تک کرنے کو تیار نہ تھی بلکہ یوں پاس سے گزر جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو اور ایک دوسری تصویر یہ ہے کہ چوٹی کے ایک افسانہ نگار باپ کو اولاد متعدد بار اس لیے گھر سے نکال چکی کہ وہ گھر بیچنے کو تیار نہ ہو رہا ہے اور باپ کو علم ہے کہ جو اس کا واحد آسرا یہ گھر بیچنے پر تلے ہوئے ہیں وہ بعد میں اسے کھلے آسمان تلے چھوڑ کر اپنی راہ لیں گے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا والدین اس لیے بچے پال پوس کر جوان کرتے ہیں کہ وہ بڑھاپے میں ان کا سہارا بننے کی بجائے انہیں دھکے دے کر دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں؟ کیا والدین نے انہیں بچپن، لڑکپن اور جوانی میں کبھی کہا کہ ”جاؤ اب اپنا کماؤ کھاؤ اور گھر بناؤ“۔

Read more

پاکستان کا نظام تعلیم اور جدید دنیا

علم جسے زندگی کا دوسرا نام دیا جائے تو یہی اس کا صحیح مفہوم ہوگا کیونکہ نہ صرف انسان کی ترقی اور کامیابی کی ضمانت ہے بلکہ اقوام کی ترقی و کامیابی بھی اسی پر منحصر آج جدید دور کی کسی بھی کامیاب ریاست یا ملک کو دیکھ لیجیے اس کی ترقی و کامیابی کی بنیادی وجہ تعلیم ہی نظر آتی ہے اور ترقی پذیر اقوام کی ناکامی کی بڑی وجہ جہالت یا علم سے دوری ہی نظر آئے گی۔

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں (تلخیص – آخری قسط)‎

مرزا فخرو اس زمانے کے شہزادوں کی طرح اعلی تعلیم یافتہ تھے، نہایت عمدہ اور کئی طرح کے خط پر ان کا ہاتھ سیدھا تھا۔ شہ سواری اور تیر اندازی میں بھی طاق تھے۔ انگریزی اچھی خاصی سیکھ چکے تھے۔ رہی بات شاعری کی تو وہ ذوق کی شاگردی میں رمز تخلص کرتے تھے۔ فارسی میں انھیں امام بخش صہبائی کی چھتری کی پناہ تھی۔ انکے کچھ شعر ملاحظہ کریں جن کی استاد ذوق نے بڑی تعریف کی۔ نہیں اس

Read more

لاپتہ افراد: ’عید کے دن لوگ ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کرتے ہیں‘

رواں سال عید الفطر سے چند روز قبل بعض لاپتہ افراد کی بازیابی عمل میں آئی لیکن کئی لوگوں کے لیے یہ عید بھی اپنے پیاروں کی راہ تکتے گزری۔

Read more

والدین کا تحفظ (تصویر کا دوسرا رخ)

صدر صاحب نے ایک آرڈیننس جاری کیا ہے والدین کے تحفظ کے لیے یہ بہت ہی اچھی بات ہے۔ میں بھی ایک ریٹائرڈ آدمی ہوں۔ اس لیے میں بھی بوڑھے ماں باپ کی صف میں آتا ہوں مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر دفعہ اولاد ہی غلط نہیں ہوتی کبھی کبھی والدین بھی اولاد کو اس حد تک تنگ کر دیتے ہیں کہ جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ ایک واقعہ ہمارے گاؤں میں پیش آیا۔ ایک سسر صاحب

Read more

غزہ اور اسرائیل کی لڑائی میں پھنسی مائیں اپنے روتے، چیختے بچوں کو کیسے دلاسا دیتی ہیں؟

بی بی سی نے دو ماؤں سے بات کی ہے، ایک فلسطینی اور ایک یہودی اسرائیلی جو کہ کئی برسوں کی بدترین کشیدگی میں پھنس گئی ہیں اور سارا دن انھیں لڑاکا طیاروں، دھماکوں اور فضائی بمباری کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

Read more

سنکیانگ میں اویغور مذہبی شخصیات کی مبینہ گرفتاریاں اور اموات: جہاں داڑھی رکھنا ہی جرم قرار دیا جائے وہاں ’مذہبی آزادی‘ کیسی؟

گرفتاریوں کی عوامی معلومات یا پھر مقدمات کی دستاویزات عام نہیں ہیں مگر موجود شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست نے کس طرح سنکیانگ میں مذہبی عقائد کے اظہار کو ہی انتہاپسندی یا سیاسی علیحدگی پسندی سے منسلک کر دیا ہے۔

Read more

انڈیا میں کووڈ بحران: گجرات کے وہ نڈر صحافی جو کورونا سے مرنے والوں کی گنتی میں ’رونگٹے کھڑے کرنے والے‘ تجربات سے گزرے

گجراتی روزنامہ سندیش کے نامہ نگاروں نے ریاست کے سات شہروں میں کووڈ 19 کے مریضوں کا علاج کرنے والے ہسپتالوں اور شمشان گھاٹوں کا نہ صرف دورہ کیا بلکہ وہاں اموات کی تعداد کو اپنے طور پر ریکارڈ بھی کیا۔

Read more

لایعنیت کی کگر پر بیٹھے ایک منحوس کرگس کی داستان (ایک فلمی کہانی کا خاکہ)

ایک ناکجا، لازمانی و غیر مادی مادے کے بسیط ماحول میں، کسی لایعنی و غیر توانا ذرہ موہوم کے، بن باپ کے ہونے والے قرار حمل کے نتیجے میں، عدم کی وجودی الٹی سے پیدا ہونے والے وجودی بحران کا اظہار یہ دنیا۔ اس پیدائش فرار نما کے بعد، اس نو وجودیے کی سرخوشی و جوش و خروش کا وہ عالم تھا کہ پھولا نہ سماتا تھا، سو پھٹا اور چار سو ہو گیا۔ یہ ناشدنی وجود لذت ارتقاء سے

Read more

بھارت: وبا کے مرکزے میں

آج کل ہندوستان اور خاص کر دلی کے جو حالات ہیں، اس نے جہاں پوری دنیا کو فکرمند کر دیا ہے وہیں موت کے اس گرداب میں پھنسے انسانوں کو حیران اور پریشان کر رکھا ہے۔ یوں تو پوری دنیا میں کورونا وبا کی تباہ کاریوں کے قصے ہم لوگ ایک سال سے دیکھتے اور سنتے آرہے ہیں مگر اس کی ہلاکت خیزی سے اب تک پوری طرح واقف نہیں ہو سکے ہیں کہ جب کہیں یہ اپنے پیر پھیلاتی

Read more

سب سے پہلے

ہم انسانوں کی زندگی میں کچھ ناں کچھ، کوئی ناں کوئی سب سے پہلے، سب سے مقدم اور سب سے اہم ضرور ہوتا ہے۔ ہم اپنی چھوٹی بڑی خوشیوں کے موقع پر کسی ناں کسی کو یاد کرتے ہیں جیسے ایک خدا کا ماننے والا کسی نعمت کے ملنے پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔ ایسے ہی جیسے ایک ماں پہلا نوالہ لینے سے قبل اپنے بچوں کو یاد کرتی ہے یا کسی امتحان میں فرسٹ آنے والا

Read more

ما بعد نو آبادیات :حدود، تعارف، اہمیت

جب سے دنیا بنی ہے زمین پر انسان کبھی حاکم بنتا ہے تو کبھی محکوم۔ انسان کا ایک دوسرے پر غلبہ پانا اس کی اولین ترجیحات میں سے ہے یعنی غلبہ پانے کی تا ریخ نہایت قدیم ہے۔ ابتدا ء میں جب انسان غار میں رہتا تھا تو اس دور میں بھی طاقت ور قبیلے نے ہمیشہ کمزور بنا کر اپنے زیر اثر رکھا۔ اپنی طاقت کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ اس نے کمزور کی حق تلفی کی،

Read more

تحفظ حقوق والدین اور دوستی

والدین اور اولاد کا رشتہ دنیا کا خوبصورت ترین رشتہ ہے۔ جس میں ماں بچے کے دنیا میں آنے سے قبل ہی اس کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے، اپنا خیال بھی دوران حمل اپنے بچے کے لیے رکھتی ہے اور اس کے دنیا میں آنے کے بعد بھی خود سے زیادہ اس کی فکر میں رہتی ہے۔ باپ جو ایک سایہ دار درخت کی مانند اپنے بیوی بچوں کا تحفظ کرتا ہے۔ کام پر لوگوں کے ناگوار رویوں

Read more

ایک تھا پیر اور ایک تھا مُلا

لوگو ٹھہرو میری بات سنو۔ آج پیروں کے ہاں دستاربندی ہے نئے پیر کی۔ وہاں مت جانا۔ یہ کفر نہ کرنا۔ خدا سے رابطے کے لیے کسی واسطے کسی انسان کی ضرورت نہیں۔ ہاتھ اٹھاؤ جو چاہو مانگو اگر وہ مانگ تمھارے لیے اچھی ہو گی پوری ہو جائے گی۔
لوگوں نے بات سنی۔ ان کے دل گھبرائے۔ شک نے ڈیرے ڈالے۔ کوئی گھر گیا۔ کوئی سوچنے لگا۔ کوئی دستار بندی دیکھنے چل پڑا۔

پیر نے ماں کے پیروں کو ہاتھ لگائے۔ اپنے بڑوں کو یاد کیا۔ کوشش کے باوجود اسے بڑوں کی اچھائی سے زیادہ ان کے برے کام یاد آئے۔ ڈولتے قدم اٹھاتے پیر دہلیز کی جانب چلا تو بہن نے اٹھا کر دستار اس کے سر پر رکھ دی۔
ملا نے لوگوں کو جاتے دیکھا۔ دل میں کہا کہ اس زمین پر عذاب آئے گا۔ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں لوگ بندوں کو۔

Read more

اندرا گاندھی کو جنسی بے راہ روی سے روکنے کے لئے نہرو سیاستدان کو مدعو کرتے تھے

بھارت کے سب سے بڑے سیاسی خاندان نہرو سے تعلق رکھنے والی سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی تحقیق کار انکشاف کر چکے ہیں کہ اندرا گاندھی اپنی سرکش جوانی کے ہاتھوں مجبور تھیں۔ بااثر مسلمان نوجوانوں کے علاوہ ان کے کئی نوجوان سیاستدانوں سے بھی جنسی تعلقات استوار رہے اور وہ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتی تھیں کہ ان کے بارے کون کیا کہتا ہے۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت

Read more

درد کے کاسنی پازیب بجاتے ہوئے۔۔۔ عید آئی ہے

‎ پردیس ہے، عید ہے، کھڑکی سے باہر موسم بہت اچھا ہے پر دل کے موسم کا کیا کریں؟ ‎کبھی کبھی جی چاہتا ہے وقت کے اڑن کھٹولے پہ جا بیٹھوں، اپنے بچپن میں جا اتروں، وہ سارے منظر پھر سے دیکھوں، وہ لمحے مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کروں جو ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل کے عمر عزیز کے خلا میں گم ہو چکے ہیں۔ ‎جونہی رمضان شروع ہوتا، ہم ابا سے تقاضا کرنا شروع کر دیتے

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں (تلخیص – قسط نمبر 2)

نواب مرزا کے رامپور جانے سے پہلے وزیر خانم اپنے باپ یوسف سادہ کار کو بیٹے کی وجہ سے دوبارہ ملنے لگیں تھیں۔ مگر جیسے ہی نواب مرزا 1836 میں رامپور بھیجے گئے۔ وہ سلسلہ پھر منقطع ہو گیا۔ اور پھر 1840 میں یوسف سادہ کار کی صحت بگڑ گئی۔ وزیر خانم سنتے ہی دوڑی اپنے والد کے پاس پہنچیں۔ وہاں حکیم صاحب افسردہ گھر سے باہر نکل رہے تھے۔ وزیر خانم انھیں دیکھتے ہی بولیں، حکیم صاحب، میرے ابا

Read more

خالد سعید: صحرا میں نخلستان

بوسن روڈ کے اطراف شیشوں میں لپٹے شاپنگ پلازوں کی بنیادوں میں پرنسٹن سگریٹ کی وہ راکھ شامل ہے جو کئی منطقی مباحث کے دوران بنی۔ ایسے ہی ایک پلازے کی جگہ سنٹرل کالج ملتان تھا۔ جس کے احاطہ میں ایک شخص اپنی ٹانگوں کو قینچی بنائے، بایاں ہاتھ بغل میں گھسائے، راکھ بنانے میں مشغول جھوم رہا تھا۔ راکھ کپڑوں میں اکٹھی ہوتی اور نیلی جین سے نیچے اتر جاتی۔ یوں ہی جھومتے اچانک اس نے سگریٹ گرائی، ”اچھا

Read more

ندا یاسر: ’سب مجھے چائنا کی حلیمہ کہتے ہیں، میں نے کب کہا میری شکل ان سے ملتی ہے‘

پاکستانی اداکارہ اور نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے مارننگ شو کی میزبان ندا یاسر کو اپنے شو میں زیر بحث لائے جانے والے موضوعات پر اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ندا کہتی ہیں کہ ان کا مارننگ شو انٹرٹینمنٹ ہے اور وہ کسی کو نصیحتیں نہیں کرتیں بلکہ لوگوں کو اپنے ذاتی تجربات بتاتی ہیں۔

Read more

جیو ماہرہ خان

سیانے کہتے ہیں کہ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا لکھتے رہنا۔ ہم اس بات سے متفق تھے اور اسی لئے کم لکھنے پر اکتفا کرتے تھے۔ بہرحال تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کم لکھنے سے بھی قدر کو کوئی خاطر خواہ افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ لہذا ہم کیوں اس پنگے میں پڑیں۔ روز لکھیں گے اور بہت لکھیں گے۔ پڑھنا آپ کی صوابدید ہے۔ امی بتاتی ہیں کہ ہم بچپن ہی سے حسن پرست تھے۔

Read more

تندرستی کے پانچ ٹوٹکے جو 400 سال بعد بھی کارآمد ہیں

جب بات تندرستی کے ٹوٹکوں سے متعلق کتابوں کی ہو تو آپ شاید سوچتے ہوں کہ جتنی زیادہ نئی کتاب ہو تو اتنا ہی بہتر ہے۔ لیکن سنہ 1620 میں لکھی جانے والی ایک کتاب آج بھی حیرت انگیز طور پر جدید ہے.

Read more

کیا اولاد نے والدین کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟

غالباً اپنے پچھلے کسی کالم میں میں نے کہا تھا کہ یہ حکومت ہر بار کچھ ایسی پالیسی سامنے لاتی ہے کہ مجھے لگتا ہے بس یہی حد ہے لیکن اگلی بار پھر یہ حد توڑی جاتی ہے اور میں حیران سوچتی رہ جاتی ہوں کہ کیا اس سے آگے پاتال اور بھی ہیں؟ والدین پروٹیکشن بل؟ پروٹیکشن کس سے؟ بچوں سے؟ اگر والدین پروٹیکشن بل ہے تو بے ڈھنگے اور عاقبت نااندیش والدین سے نمٹنے والی اولاد کے لئے

Read more

12 مئی 2007: کراچی کا قتل عام اور پرویز مشرف کے مکے

اقتدار کا کھیل ہمیشہ سے موت کا کھیل بھی رہا ہے۔ وطن عزیز میں یہ دونوں کھیل ہمیشہ سے کھیلے جارہے ہیں۔ کھلاڑی البتہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی کھیل آج سے 14 برس قبل 12 مئی 2007ء کو کراچی میں کھیلا گیاتھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موت کا یہ کھیل کھیلنے والے کھلاڑی تو آج بھی موجود ہیں، لیکن 12 مئی 2007ء کے اس المیے کو ان کھلاڑیوں نے اور شاید خود ہم نے بھی فراموش

Read more

برطانوی شہریت کے مسائل: ’میں تو ہمیشہ یہ ہی سمجھتا تھا کہ میں برطانوی ہوں‘

واضح رہے کہ ایسے بچے جو برطانیہ میں ہی پیدا ہوئے ہوں وہ بھی خود بخود برطانوی شہری نہیں بن جاتے بلکہ ان کی برطانوی شہریت کا انحصار ان کے والدین کے امیگریشن سٹیٹس پر ہوتا ہے۔

Read more

ظلم کی مذمت میں بھی دوہرا معیار؟ (اضافہ شدہ کالم)

پہلا واقعہ: کابل میں ’سید الشہدا‘ نام کا ایک اسکول ہے، زیادہ تر وہاں غریب بچے بچیاں پڑھتے ہیں جو اپنی فیس بھی بمشکل ادا کر پاتے ہیں۔ آج سے تین دن پہلے ہفتے کے روزاس اسکول کے باہر ایک گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بچے خوف کے عالم میں باہر نکل آئے جس کے ساتھ ہی یکے بعد دیگرے مزید دو دھماکے ہوئے اور ان معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے ہوا میں

Read more

طلاق کا بڑھتا رجحان اور بیرونی دنیا میں قائم ہونے والی بہتر مثالیں

دنیا کے چوتھے امیر ترین انسان اور مائیکرو سافٹ کمپنی کے مالک بل گیٹس اور ان کی سابقہ اہلیہ ملینڈا کے مابین طلاق پہ پاکستان میں ایک حیرت کا سماں ہے کہ کیا اتنی چپ چاپ سکون کے ساتھ اور بغیر کسی تہمت کے بھی بھلا کوئی طلاق ہوتی ہے۔ چلیں اچھا ہوا ہم پہ طلاق کی ایک یہ جہت بھی کھلی کہ ضروری نہیں کہ عورت کو چھوڑنے سے پہلے اسے بد چلن اور نافرمان کہہ کر کسی اور

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں

کسی کتاب کو مصنف جس طرح سے تحریر کرتا ہے کیا قاری کبھی اس طرح سے سمجھ بھی پاتا ہے یا نہیں؟ ممکن ہے کبھی ایسا ہوتا ہو کہ جو لکھا گیا وہ من و عن قاری پر اسی طرح سے اتر گیا ہو۔ مگر شاید ایسا خال خال ہی ہوتا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کسی کتاب کی بے تحاشا پسندیدگی کا معیار اس کی بے شمار چھپنے والی کاپیاں ہوں۔ مگر کوئی بھی ناول یا کتاب اپنے قارئین پر

Read more

اپنی مسیحی دوست ریچل کے نام ایک خط!

ریچل پیاری! مجھے علم ہے کہ تم حالیہ واقعات پہ بہت اداس ہو گی سو جی چاہتا ہے کہ تم سے بہت سی باتیں کی جائیں۔ ان دنوں کی باتیں جب کچھ علم نہیں تھا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ہم ایک دوسرے کے لئے اجنبی ٹھہریں گے اور دلوں میں کدورتیں بھر چکی ہوں گی۔ تمہاری اور میری ملاقات میڈیکل کالج میں ہوئی جہاں تمہاری شوخی اور شرارت نے تمہیں بہت جلد ہر دلعزیز بنا دیا۔ تمہاری

Read more

ریاست کی منڈیروں پر بیٹھے یہ گدھ

کچھ دن پہلے ایک چھوٹی سی، غیر اہم، غیر سیاسی خبر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ بی بی سی کی اس خبر کے مطابق کیلیفورنیا میں امریکی گدھوں کی ایک قسم (کینڈور) ایک گھر میں بن بلائے مہمان بن گئے۔ گھر کی مالکن انھیں گھر کی منڈیروں سے اڑانے کے لیے تالی بجانے اور شور مچانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی۔ گھر کی مالکن کی بیٹی نے ایک ٹویٹ میں لکھا: ’میری چھوٹی سی امی دس فٹ

Read more

بہائو: مستنصر حسین تارڑ کے ناول کا ایک جائزہ

”سر سوتی جو بڑے پانیوں کی ماں ہے اور ساتویں ندی ہے اس کے پانی آتے ہیں، شاندار اور بلند آواز میں چنگھاڑتے ہوئے ” ”بہاو“ ”بہاو“ ، روانی، تسلسل کی علامت ہے یہ نام ہے تارڑ صاحب کے اس ناول کا جس نے انھیں سفر نامہ نگار کی فہرست سے نکال کر ناول نگار کی قطار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر تارڑ صاحب صرف اس ناول کو ہی تحریر کرتے تو بلاشبہ یہ ناول ان کو ادبی طور

Read more

کاش میں نے منٹو کو نہ پڑھا ہوتا

(11 مئی منٹو کا یوم ولادت ہے) میں نے استاد سے سنا کہ علم حاصل کرنا شاید افضل بات ہو لیکن علم کا بوجھ اٹھانا ہر انسان کے بس کی بات نہیں، علم کا بوجھ ہلکان کر دینے والا ہوتا ہے، اور اگر خدانخواستہ علم آپ کی شخصیت میں جذب ہو جائے اور جو بات آپ پڑھ رہے ہوں وہ آپکو سمجھ بھی آنا شروع ہو جائے تو یہ وہ قیامت ہے جو آپ پر مسلسل ٹوٹتی ہے، جون ایلیا

Read more

لٹے شہر کی دھول

مرینا لزاریا اس کا نام تھا۔ وہ دوسری ڈچ لڑکیوں سے مختلف تھی، بہت مختلف۔ میں جب لندن سے نکلا تھا تو دوستوں نے کچھ اور ہی افسانے سنائے تھے۔ ”ارے، ایمسٹرڈم جا رہے ہو! موج کرو گے موج۔“ ایمسٹرڈم میں یورپ کا سب سے بڑا طوائفوں کا بازار ہے۔ کئی سو سال سے یہ بازار مقامی اور غیر مقامی، یورپین، ایشین، افریقن، امریکن سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شراب تو خیر ملتی ہی ہے، ساتھ میں

Read more

خدا یا میرے القدس کی آبرو رکھنا

ہلاک ہوئے لوگوں کے درمیان ایک عورت دوڑتی ہوئی آئی میں نے دیکھا کہ اچانک اس عورت کا نقاب اس کے چہرے سے ہٹ گیا اور اس کے گندھے ہوئے بال کھل کر یخ بستہ ہواؤں میں لہرانے کے بجائے ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگے۔ بال جب ٹوٹے تو اس کے بھورے رنگ بالوں میں سرخی آ چکی تھی اور بالوں کے کچھ حصے جو ابھی بھی اپنے گچھے سے لگے ہوئے تھے، ان سے مترشح ہو کر خون کے کچھ قطرے زمین پر گرنے لگے تھے۔ اس نے خود کو زخمی حالت میں دیکھا اور اس پر دھیرے دھیرے غشی طاری ہونے لگی اور یہ کہہ کر وہ بے ہوش ہو گئی۔

’خدا یا میرے القدس کی آبرو رکھنا۔‘

Read more

میرے محنت کشوں کے سنہرے بدن

گٹھے بدن کے ایک ایک جوڑ سے اٹھتی ٹیسیں سکول کی جانب اٹھتے قدموں کے پاؤں پڑنے لگتیں تو نواز کی آنکھوں کی دعائیہ پلکیں مامتا کا چہرہ تکنے لگتیں۔ لخت جگر کی اس ملتجیانہ ادا پر پگھل پگھل جاتی ماں دل کو بے دلی سے پکا کرتی گھگھیانے لگتی، مرے لعل، ہم غریبوں کی آس اب تو ہی تو ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ تجھے بھی تیرے بابا کی طرح دیس بدیس کی خاک چھان چھان کر روٹی کے نوالے تلاش کرنے پڑیں۔ ماں کے ایک ایک لفظ سے ٹپکتی آرزووں کے احترام میں بیٹے کے پپوٹوں سے رستی بے بسی اس کے گالوں کو چوم لیتی تو سارے خدشے اندیشے جھٹکتا سکول بڑھ جاتا۔

Read more

ماؤں کا عالمی دن نہیں، یہ عالم ہی ماؤں کا ہے

کیا ماؤں کا عالمی دن بھی ہوتا ہے؟ چند ماہ و سال سے یہ دن زیادہ زور و شور سے منایا جاتا ہے۔ ماں کی الگ یا اس کے ہمراہ اپنی اچھی سی تصویر ڈھونڈی جاتی ہے۔ ماں کے لئے موزوں جملہ جذبات کی حدت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے اور شاید پھر ہمارا فرض مکمل ہوا۔ شادی کے چند ماہ و سال کے بعد نازو نعم میں پلی نوجوان لڑکی ہم، آپ کے لئے اپنے آپ کو یکسر

Read more

صحافت سیاست اور اقتدار کی تکون

سیاست صحافت اور اقتدار کا ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اس پیچیدہ تکون کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے ایوان اقتدار کی راہداریوں سے قریب ہونے، رابطہ رکھنے اور اس کا حصہ بن جانے میں باریک سا فاصلہ ہے کچھ دوستوں نے یہ فاصلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور چند ایک نے اس کو عبور کر لیا، ان ایوانوں میں کسی ”خبر“ کی تلاش میں جانا اور پھر وہیں کا ہو جانے میں بہرحال زمین آسمان

Read more

کووڈ 19: کینیڈا میں مقیم پاکستانی نوجوان جو والدین کی کورونا سے ہلاکت کا غم ضرورت مندوں کو کھانا کھلا کر ہلکا کر رہا ہے

’میں نے کبھی خواب میں نہیں سوچا تھا کہ میرے والد اور والدہ تین ماہ کے مختصر وقفے سے کورونا کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔‘ کینیڈا میں مقیم ایک پاکستانی نوجوان کی کہانی جو اپنے والدین کی جدائی کا غم مسلمان اور غیر مسلم ضرورت مندوں کو کھانا کھلا کر ہلکا کر رہا ہے۔

Read more

کورونا سے متاثرہ مریم احمد نے کوما میں بیٹی کو جنم دیا

مریم احمد جب کورونا سے متاثر ہو کر کمرین کے گرینج ہستپال پہنچیں وہ رات کے لیے اپنا بیگ بھی ساتھ نہیں لے کر گئیں۔ انھیں توقع ہی نہیں تھی کہ وہ اتنے لمبے عرصے کے لیے ہسپتال جا رہی ہے۔

Read more

امارات میں عمان اور عمان میں امارات

شوخ سرخ، پیلے اور ہرے رنگ سے رنگی لکڑی کی خوبصورت روسی گڑیاں ( matryoshka dolls) میری بیٹی کی سہیلی اس کے لیے روس سے لائی تھی۔ روسی دستکاری کا نمونہ، روایتی لباس پہنے اس چوبی گڑیا کی گردن مروڑو تو سر علیحدہ ہوجاتا ہے اور اندر سے ایسی ہی اس سے چھوٹی گڑیا نکلتی ہے، اور اس کے اندر ایک اور، پھر ایک اور۔ یوں پانچ سے سات گڑیاں ایک بڑی گڑیا میں سمائی ہوتی ہیں روسی روایت کے

Read more

(جو میں نے محسوس کیا ) ڈاکٹر شیر شاہ کی سچی کہانیاں

ڈاکٹر شیر شاہ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں۔ محبت کی صرف ایک ہی شرط ہوتی ہے کہ وہ بے لوث، بے غرض اور غیر مشروط ہو۔ ان کی زندگی اور کہانیاں اس بات کی گواہ ہیں۔ ہم افسانہ نگار اپنے افسانوں میں جتنا چاہیں بڑھا گھٹا سکتے ہیں لیکن کیا وہ تاثر پیدا کر سکتے ہیں جو ڈاکٹر شیر شاہ کی سچی کہانیوں نے کیا ہے۔ آپ انھیں افسانے کہہ لیں میں انھیں کہانیاں ہی کہوں گی اور سچ

Read more

کپتان، پاسبان اور صنم خانہ

صاحبقراں امیر تیمور کہ چنگیزی خون تھے، اولیاء کی نظر کرم ہوئی، دل پلٹ گیا۔ منگول طوفان کہ دنیا کو مٹانے پر تلا تھا، انسانیت کا مسیحا بنا۔ انسان کا دل کہ جیسے دو انگشت کے درمیاں ہے، جدھر اس کی مرضی ہو، پلٹ دے۔ سبحان اللہ۔ ۔ ۔

چار برس ادھر، بہار کے دن تھے۔ فضا مشکبار، ہوا مشکبو۔ کپتان کے پاس طالبعلم حاضر ہوا۔ دو وقت مل رہے تھے۔ خادم نے انتظار کرنے کا کہا۔ طبیعت کی بے چینی کا مگر کیا کریں۔ بے اختیار ہو کر اٹھا اور مرغزار کی پچھلی سمت جا نکلا۔ کپتان کہ تالاب کنارے گھاس کے فرش کو جاء نماز بنائے گڑگڑا رہا تھا۔ ”مولا! اس کا دل بدل دے۔ مولا! اس کا دل بدل دے“ ۔ چشم اشک بار۔ ہچکی بندھی ہوئی۔ فقیر نے کہ زندگی میں بہت تغیر دیکھے، ایسا منظر کبھی نہ دیکھا تھا۔ دل کٹ کر رہ گیا۔ ایسا منظر کہ ملائک تاب نہ لا سکیں۔

دعا سے فراغت ہوئی تو طالبعلم پر نظر پڑی۔ رخ کپتانؒ متغیر ہوا۔ صوفی کہ جلالی ہوتا ہے یا جمالی۔ کپتانؒ میں دونوں صفات یکجا۔ جلال سے فقیر کی طرف دیکھا، بے ساختہ دہن مبارک سے نکلا، ”تیری میں۔ ۔ ۔“ ۔ فقیر کہ سدا کا کائیاں، نظر انداز کیا۔ محبوب کی توجہ ہی محب کا ایمان ہے۔ مرزا یاد آئے۔ کتنے شیریں ہیں ترے لب کہ۔ ۔ ۔

Read more

جالی تھامے یہ دو گمنام ہاتھ عید پہ یاد رکھیں

پرندے درختوں کی چھاؤں سے نکلتے ہوئے کترا رہے ہیں، جی ٹی روڈ پہ سڑک کی جگہ پگھلی ہوئی تارکول بچھی ہے، پرآسائش گاڑیوں اور بسوں میں لوگوں نے اے سی فل سپیڈ پہ چلایا ہوا ہے، عید آنے والی ہے۔

کوئی اپنے باپ کے ساتھ عید نماز پڑھنے کا پروگرام بنا رہا ہے، کسی نے ماں کے پیر چومنے ہیں، کوئی بیوی بچوں کے ساتھ عید منانے کی فکر میں ہے، خود میں اسی سڑک پہ ہوں اور دماغ میں بہت سی چیزوں کے ساتھ گاڑی بس میرے ہاتھوں میں آٹو میٹک چل رہی ہے۔

Read more

سہیل وڑائچ: تضادستان میں بے تضاد شخص

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس سے وابستہ شخصیات کی وجہ سے بہت غنی اور ثروت مند ہے۔ اس میں ایسے صاحب علم، اہل نظر، کثیر المطالعہ، ویژنری اور تجربہ کار لوگ ہیں جو کمٹمنٹ اور لگن سے اس کی آبرو اور وقار کا باعث ہیں۔ سہیل وڑائچ کا شمار ایسے ہی صاحب نظر لوگوں میں ہے جنہوں نے اپنی عمر عزیز کا خاصا حصہ اس مشنری پروفیشن کو دیا اور نہ صرف اپنی بلکہ اس کی لاج رکھی اور مان بڑھایا۔ سہیل صاحب پاکستان کے ان بہت ہی معدودے چند جرنلسٹوں اور تجزیہ کاروں میں سے ہیں جو علم و دانش کی بنیاد پر میڈیا میں آئے اور تجربے اور ویژن کی دولت سے مالامال ہو کے سوسائٹی کی راہنمائی کر رہے ہیں۔

Read more

لاپتہ صحافی مدثر نارو کی اہلیہ صدف چغتائی کی بے وقت موت کا نوحہ

اگست 2018 میں شمالی علاقہ جات سے لاپتہ ہونے والی صحافی و سماجی کارکن مدثر نارو کی اہلیہ صدف چغتائی آٹھ مئی کو ان کی راہ تکتے تکتے دل کے دورہ پڑنے کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئیں، ان کا ساڑھے تین سال کا بیٹا ہے۔ صدف چغتائی نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے بڑی شد و مد سے تحریک چلائی تھی۔

Read more

بیت المقدس پر حکومت کرنے والی طاقتور ملکائیں

اچھی یا بری لیکن بیت المقدس کی طاقتور ملکاؤں نے قرون وسطیٰ کے دور کی تاریخ کے صفحوں پر اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ شاہی سلطنت خواتین حکمرانوں کے ایک منفرد سلسلے کا بتاتی ہے جنھوں نے اپنی کامیابوں اور تجربات سے دنیا بھر کی توجہ سمیٹی۔

Read more

بھٹو اور عمران خان: کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے؟ مکمل کالم

آپ آنکھیں بند کریں اور 70 کی دہائی میں چلے جائیں۔ آپ کو لگے گا کہ جیسے یہ 70 نہیں 2021 ہے۔ صرف شخصیات بدلیں اور چند واقعات کا جائزہ لیں تو آپ ششدر رہ جائیں گے لگے گا کہ تاریخ اپنے آپ کو دھرا رہی ہے یا کم ازکم نئے روپ میں پرانے درشن کرا رہی ہے۔ کہتے ہیں تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ ہم نے بھی نہیں سیکھا اسی لیے وہیں پر موجود ہیں جہاں برسوں پہلے کھڑے تھے۔ کوہلو کے اسی بیل کی طرح جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے اور وہ دائرے میں برسوں سے چکر لگا رہا ہے۔

تاریخ کے طالبعلم کی حیثیت سے آج کل کے حالات کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ ہم واپس کلاسیک 77 کی طرف گامزن ہیں۔ نجومی نہیں اس لیے مستقبل کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ سمت ٹھیک نہ ہو تو منزل تباہی کے سوا کچھ ہوہی نہیں سکتی۔

سنہ 1970 کے عام انتخابات کے دوران بھٹو پاکستان کے مقبول ترین لیڈر نہیں تھے بلکہ شیخ مجیب کو ان پر واضح برتری حاصل تھی جو انتخابی نتائج میں بھی سامنے آئی چونکہ یہ ملکی تاریخ کے پہلے انتخابات تھے اس لیے اس وقت کی فوجی جنتا قبل از وقت دھاندلی، بندے توڑنے یا غائب کرنے کی سیاست سے نابلد تھی۔ اسی لیے سرعام شکست کھا گئی۔ ملک بھر کے انتخابی نتائج میں دوسرے نمبر پر آنے والے بھٹو اس وقت کے فوجی ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان اور جنرل گل حسن کی آنکھوں کا تارا تھے۔ اسی لیے جب پاکستان کو 71 کی جنگ میں بھارت نے شکست دی اور فوج کے اندر سے ردعمل آیا تو یحییٰ خان نے اقتدار بھٹو کو دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ گل حسن کو اندرونی سازش کے انعام میں فوج کا کمانڈر انچیف لگایا گیا اور کچھ عرصے میں جب گل حسن نے پر پرزے نکالنے کی کوشش کی تو انہیں فارغ کر دیا گیا۔

Read more

لڑکے روتے نہیں ہیں، تم لڑکی ہو کیا؟ مرد بنو

میرا بیٹا دانیال جو اس وقت پندرہ سال کاہے اور پیدائش سے لے کر آج تلک ہر دن مجھے ایک چونکا دینے والی بات ضرور سکھاتا ہے۔ تقریباً دو سال پہلے جب وہ بچپن کو خدا حافظ کہ کر لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا تو ایک دن اسکول سے کچھ افسردہ لوٹا۔ بچے عموماً بچے اس عمر میں اپنے ہارمونز کی تبدیلیوں کی وجہ سے تھوڑے موڈی اور تیزی سے جذباتی اتار چڑھاو کا شکار رہتے ہیں۔ اس لیے میں نے کچھ زیادہ توجہ نہیں دی۔ مگر جب رات کو ہوم ورک کرتے ہوتے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو تشویش ہوئی اور اس سے میں نے پوچھنے کی کوششیں کی کہ معاملہ کیا ہے۔ مگر اس نے بجائے مجھ سے اپنے دل کی بات شیر کرنے کے بے رخی سے کہا کہ میں ٹھیک ہوں۔

بہرحال کمرے سے باہر جاتے ہوئے جب میں نے اس سے کہا کہ اگر تم بہتر سمجھو تو اپنی اداسی کی وجہ مجھے بتا دینا میں انتظار کروں گی۔ اور بچے نے تقریباً جھنجھلاتے ہوئے مجھے کہا کہ ”ہاں ہاں مجھے پتا ہے کہ لڑکے روتے نہیں ہیں اور مرد اپنا خیال خود رکھ سکتے ہیں“ ۔

Read more

امریکہ میں اکیلی ماں اور پاکستان میں بن باپ کی بیٹی

میں چوبیس سال کی تھی اور وہ چالیس عمر کے اس فرق کو میرے گھر والوں نے اس لیے نظر انداز کر دیا کہ وہ اعلی تعلیم یافتہ اور بیرون ملک برسرروزگار تھے کراچی کی ایک معروف انجینئرنگ یونیورسٹی سے ڈگری لینے کے بعد امریکہ سے ایم ایس کیا ہوا تھا۔ میرے پاس ڈاکٹر آف فارمیسی کی ڈگری تھی اور ایک اچھی فارماسوٹیکل کمپنی میں جاب کر رہی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہم امریکا شفٹ ہو گئے۔ میرے شوہر کی اچھی تنخواہ تھی مگر انھوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں بھی جاب کروں۔

میں شرعی پردہ کرتی تھی مجھے بالآخر ایک میڈیکل اسٹور پر نوکری مل گئی جس کا مالک ایک مسلم تھا اور انھیں میرے پردے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اپنی آدھی سے زیادہ تنخواہ میرے شوہر پاکستان بھیج دیتے اور گھر کے اخراجات کے لے میری تنخواہ خود رکھ لیتے کہتے یہاں پر مرد عورت سب برابر ہیں گھر کا کرایہ گروسری سب میں تم شیئر کرو گی۔

Read more

سلیم صافی کو ماں کی دعائیں راس آئیں

سلیم صافی کا تعلق مہمند قبیلے کی ذیلی شاخ ملا گوری سے ہے۔ وہ 7 مارچ 1968 ء کو مردان میں پیدا ہوئے۔ وہ تیسری جماعت میں تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور بچوں کی تعلیم و تربیت اور دوسری سماجی ذمہ داریاں ماں کے کندھوں پر آ پڑیں۔ ماں نے یہ ذمہ داریاں ایسے احسن طریقے سے نبھائیں جو سلیم صافی کی پیشہ ورانہ کامیابیوں، کھرے اور کوٹے کی تمیز، اپنی قوم اور علاقے سے محبت اور اس کے لیے آواز اٹھانے میں صاف نظر آتی ہیں۔

مردان کے ہائی اسکول سے میٹرک اور مردان کالج سی ایف اے کیا۔ پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے افغان جہاد میں حصہ لیا۔ یہ بھی ماں کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ وہ نہ صرف معجزانہ طور پر موت کے چنگل سے بچ نکلے بلکہ ان کی سوچ بھی تبدیل ہوئی اور انہوں نے جہادی فلسفے سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور بحالی کے بعد اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ایک کامیاب انسان کے طور پر قومی افق پر ابھرے۔

Read more

ہم نے ممتا کیسے سیکھی؟

اگر آپ شادی شدہ مرد ہیں تو بیگم کے ساتھ کبھی نہ کبھی گائناکالوجسٹ کے کٹہرے میں ضرور کھڑے ہوئے ہوں گے۔ اگر ابھی خوش قسمتی یا بدقسمتی سے یہ بور کے لڈو آپ نے نہیں کھائے تو خاطر جمع رکھیے آپ کا وقت ضرور آئے گا۔

اگر آپ عورت ہیں تو تب بھی آپ نے ایک خشک مزاج، تنک ڈاکٹر کے منہ سے مشین گن کے فائر کی طرح نکلتے ان سوالوں کی بوچھاڑ کا سامنا ضرور کیا ہو گا۔
کتنے حمل ہوئے، کب کب ہوئے، نتیجہ کیا رہا، اسقاط یا بچہ، زچگی طبعی رہی یا سیزیرین، زچگی کے بعد کسی پیچیدگی کا سامنا، دودھ کون سا پلایا؟ وقفے کے لئے کیا استعمال کیا؟

Read more

پاکستان میں جبری گمشدگی کا معاملہ: ’جس طرح میرا بھائی گھر لوٹا ہے کاش باقیوں کے رشتہ دار بھی ایسے ہی گھر پہنچ جائیں‘

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سریاب سے تعلق رکھنے والی حسیبہ قمبرانی کے لاپتہ بھائی گھر لوٹ آئے تو ان کی تو گویا عید سے پہلے عید ہو گئی۔ مگر پاکستان میں اب بھی لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے رشتہ داروں کی واپسی کے انتظار میں ہیں اور کچھ تو اس انتظار میں مر بھی گئے ہیں۔

Read more

امی جان!

ماؤں کے عالمی دن کی آمد آمد ہے سو دنیا کی سب ماؤ صدا سلامت رہو!
اور میری ماں کیسی ہیں آپ؟ امی جب یہاں مئی کا مہینہ آتا ہے تو سردی اور برف سے ٹھٹھری زمین چوری چوری رنگ بدلنے کی کوشش کرتی ہے اور انگڑائی لے کر چھپے خزانے اگلنے لگتی ہے، گھاس سر سبز ہونے لگتا ہے، کلیاں چٹخنے لگتی ہیں، تتلیاں ایک دوسرے کے تعاقب میں نکلتی ہیں تو مدرز ڈے آن پہنچتا ہے۔ آپ تو اس کے بارے میں جانتی ہی ہیں، اس کی تیاریاں تو جلدی شروع ہو جاتی ہیں، گفٹ باکسز تیار ہوتے ہیں، پھول خریدے جاتے ہیں اور ماؤں کو ان کے پسندیدہ ریسٹورنٹس میں سپیشل لنچ اور ڈنر پہ لے جاتے ہیں اور کچھ لوگ گھروں میں ہی بہت اہتمام کرتے ہیں غرض کہ ایک ہلہ گلہ رہتا ہے، لیکن بہت سی مائیں اس دن بھی اپنے جگر گوشوں کی منتظر رہتی ہیں مگر جن کا کچھ اتا پتہ نہیں ہوتا اور ایسے لوگ ہر سوسائٹی میں پائے جاتے ہیں۔

Read more

مشکل میں ہیں مزدور کے حالات

قدرت نے اس زمین کی افزائش اور پھر اس کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مختلف افراد پر ان کی صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا اور یوں دنیا میں پہلی بار حاکم اور محکوم، آ قا اور غلام کا تعلق متعارف ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کی اس دوڑ میں کسی نے آگے نکل جانا ہے اور کسی نے پیچھے رہ جانا ہے مگر ماہرین نے کاروبار زندگی میں پسے، بجھے، بے توقیر، بے

Read more

دور حاضر کی اکبری و اصغری

”ہائے! میری نازوں سے پلی معصوم بچی، کیسے لوگوں سے تیرا واسطہ پڑ گیا؟ کبھی نہ رشتہ دیا ہوتا ان بے قدروں کو۔ ارے! اس نے تو کبھی خود سے پانی تک نہیں پیا تھا۔ آج دس دس لوگوں کی روٹیاں پکانے کو کہہ رہے ہیں کم بخت مارے! ”رشیدہ بیگم کی دہائیاں سن کر دروازے سے اندر داخل ہوتے شفیق صاحب لمحے بھر کو ٹھٹھکے اور پھر بیگم کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر سمجھ گئے کہ یقیناً بیٹی کا سسرال سے فون آیا تھا۔ پھر بھی انجان بننے کی کمال اداکاری کرتے آگے بڑھے اور بیگم سے پریشانی کی وجہ دریافت کی۔

بڑی بی نے منہ پر دوپٹہ رکھ کر رندھی ہوئی آواز میں دہائی دی ”اجی دیکھتے ہو پنکی کے ابا کتنا ظالم سماج ہے۔ میری نازوں سے پلی بچی کس عذاب میں پھنس گئی! میں کہاں جاؤں۔“

اب کہہ بھی چکو بھلی لوک! ہوا کیا ہے؟ شفیق صاحب بولے۔

Read more

ادب کیسے سماج پر اثر انداز ہوتا ہے

ادب محض جمالیاتی احساس کو تسکین بخشنے کا نام نہیں اور نہ وجدانی کیفیت طاری کرنے کا نام ہے اور پھر ادب صرف فنی باریکیوں کا بھی نام نہیں بلکہ ادب سماج کی اجتماعی زندگی کو مثبت انداز میں ڈھالنے کا نام ہے۔ ادب کی وسعتوں کا یہ عالم ہے کہ ادب کو تمام علوم کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ کیوں کہ ادب کا کام محض حالات و واقعات اور متغیرات کی نشان دہی کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان عوامل کا سیاسی، سماجی اور معاشی حل تلاش کر کے نہایت قائدانہ اور مدبرانہ انداز میں درست سمت میں رہنمائی کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ادب سماجی شعور کے ساتھ ساتھ سماجی معاشرتی مسائل کے حوالے سے نہ صرف آئینہ دکھاتا ہے بلکہ ان کے حل کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھے پر اٹھانے کے لیے تیار رہتا ہے۔

Read more

کیا بچے کے آٹیزم سے لڑنا ہے یا اسے قبول کرنا ہے؟

کچھ عرصہ پہلے ایک دوست کے توسط سے مجھے ایک صاحب نے پاکستان سندھ کہ کسی چھوٹے شہر سے فون پر رابطہ کیا جن کی بچی آٹیزم کی حامل تھی۔مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ ان کے شہر میں آٹیزم کے حامل بچوں کے لیے کوئی تعلیمی اور تربیتی سہولیات موجود نہیں تھی۔ بچی کی آٹیزم کی تشخیص کے لیے بھی کراچی جا نا پڑا تھا اور تھراپی یا تعلیمی سہولیات کے مشورے لینے بھی کسی بڑے شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

میں ایک پاکستانی نژاد کنیڈین اسپیشل ایجوکیٹر ہوں اور ٹورنٹو کینیڈا میں مقیم ہوں۔ پچھلے دس سالوں سے ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کے لیے بطور اسپیشل ایجوکیٹر اپنے فرائض انجام دے رہی ہوں۔

Read more

ویکسین کا فتور

آج کل میں راولپنڈی میں ہوں اور میاں جی کراچی میں۔ لاک ڈاؤن میں میاں کے پاس نا ہونا، زندگی کو خاصا مشکل بنا دیتا ہے۔ لیلیٰ مجنوں تو نہیں، ہاں مگر قرب سے خالی لمحے خاصا بے چین رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی رمضان۔ مجال ہے کوئی افطاری پہ بلا لے، اکیلا پن ہی دور ہو جائے کچھ دیر۔

سو اس اکیلے پن میں بڑے دنوں سے لوگوں کے تجربات رقم کر رہی تھی۔ سعودی عرب کے رشتے داروں میں ویکسین کے نتیجے میں ذرا سی بوجھل طبیعت کا احساس ہوا۔ امریکہ کے رشتے داروں میں ویکسین ماڈرنا/فائزر  کے نتیجے میں کسی کسی کو بخار اور سر درد ہوا۔ کراچی میں آکسفورڈ ویکسین  سے سارے جسم میں درد اور بخار ہوا۔ جبکہ سائنوفورم ویکسین سے زیادہ تر پاکستانیوں کو صرف تھکن کا احساس ہوا جو کہ ہماری قوم کو ویسے بھی نوے فیصد رہتا ہے۔

Read more

علمی چمگادڑوں کی خدمت میں

میں اپنے بچپن سے علمی لوگوں سے بہت متاثر تھا۔ خود بھی ایک علمی انسان بننا چاہتا تھا۔ میں چھوٹے چھوٹے کتابچے لکھا کرتا اور خود کو مصنف کہلوانا پسند کرتا تھا۔ ان کتابچوں میں کچھ مضامین، کچھ کہانیاں اور کچھ نظمیں بھی ہوتی تھیں۔ میں نے اپنی زندگی کی پہلی نظم اپنے خالا زاد بھائی فیضان کی شان میں لکھی تھی۔ تب میں بارہ سال کا تھا۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ میں بالآخر کسی جادوئی نظام سے آرٹس فیکلٹی پہنچا اور آخر میں علم نفسیات کا ہو رہا۔

Read more

قتل کے الزام میں 20 سال جیل میں گزارنے والا ملزم: ’قتل کا اعتراف کرنے کے بجائے جیل میں ہی مرنا پسند کروں گا‘

تقریباً 20 سال جیل میں گزارنے کے باوجود عمر بینگویٹ نے ہمیشہ کہا ہے کہ انھوں نے قتل نہیں کیا، کیا نئے ثبوت نئے شواہد انھیں بے قصور ثابت کرسکتے ہیں؟

Read more

گِدھوں کا ’اعلانِ جنگ‘: ’میری چھوٹی سے امی دگنے سائز کے پرندے اڑانے کی کوشش کرتی رہیں‘

کیلیفورنیا میں امریکی گِدھوں کی ایک قسم کینڈور ایک گھر کے بن بلائے مہمان بن گئے ہیں اور مکینوں کی بے شمار کوششوں کے باوجود وہ وہاں سے جانے کے لیے تیار نہیں ہو رہے۔ گھر کی مالکن نے کہا ہے کہ ان گدھوں نے ان کے خلاف ’اعلان جنگ‘ کر رکھا ہے۔

Read more

ثمینہ کیوں چیختی ہے

مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ مضمون میں میں نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دے کر جس میں سرکش ( بدزبان، کج بحث، تنک مزاج ) بیوی کو سمجھانے، بستر علیحدہ کیے جانے کے باوجود چیخنے سے باز نہ آنے پر کو پیٹے جانے تک کا حکم ہے، اپنے تئیں خود کو فیمینسٹ خیال کرنے والی خواتین کو اپنے درپے کر لیا ہے۔

ایک بزعم خود قرآن شناس خاتون نے فرما یا کہ قرآن میں ان بیویوں کو پیٹنے کا حکم ہے جو شوہر کی عدم موجودگی میں بے راہرو ہوتی ہیں حالانکہ ایسی بدکار عورتوں کے لیے یکسر دوسری آیت ہے جس میں انہیں پیٹنے کا بالکل حکم نہیں بلکہ سمجھانے اور تادم مرگ گھر میں بند کیے جانے کا حکم ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی مجھ پر ارسال کی گئی مکمل پھٹکار یوں ہے :
آپ اسلام میں سے اپنی مرضی کی باتیں ہی دیکھنے کے کیوں عادی ہیں؟
آپ نے تین دفعہ عقد کیا اور دوسری کو تیسری بیوی کے بارے میں بتایا ہی نہیں، وجہ چاہے کچھ بھی ہو۔

Read more

کیا امریکہ چین پر دباؤ بڑھانے کے لیے بیجنگ ونٹر اولمپکس کا بائیکاٹ کر سکتا ہے؟

امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی میں بدھ کو ہونے والی ایک اہم سماعت کے دوران بعض ایغور نمائندوں نے چین میں ایغور مسلمانوں کی نسل کشی اور ان پر ہونے والے جبر و ستم کو ختم کرانے کے لیے بیجنگ ونٹر اولمپکس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ۔

کمیٹی کے سامنے ایغور نمائندوں نے مسلم ملکوں کو اپنے ساتھ ملا کر چین پر دباؤ بڑھانے کے علاوہ چین کے خلاف معاشی پابندیاں اور سفارتی دباؤ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

Read more

ایبٹ آباد میں مقتول صحافی کی بہن کا قتل: ’میری بہن کا قصور یہ تھا کہ ہم نے بھائی کے قتل کے مقدمے کی پیروی کی‘

مقتولین کے بھائی فرّخ خان کا دعویٰ ہے کہ اُن کے بھائی کو منشیات فروشوں کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر جبکہ اُن کی بہن کو بھائی کے قتل کے مقدمے کے متعلق ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے پر قتل کیا گیا۔

Read more

اکِھل گگوئی: جیل میں قید نوجوان جس نے اپنی والدہ کی مدد سے بی جے پی کو ہرایا

اکِھل گگوئی آسام کے ایک مشہور کسان رہنما ہیں اور اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں مگر کئی لوگ اکِھل کی فتح کو اُن کی بوڑھی والدہ پریادا گگوئی کی کاوشوں کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔

Read more

کورونا وائرس: انڈین صحافی جو دوسروں کی خبر دیتے دیتے خود ’خبروں‘ کا حصہ بنتے جا رہے ہیں

انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران بہت سے صحافی اس وبا کی کوریج کرتے کرتے خود ‘سٹوری’ کا حصہ بن رہے ہیں۔ جو صحافی گھروں میں رہ کر کام کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ہر لمحے کسی ساتھی کی بیماری یا موت کی خبر کے لیے خود کو تیار کرتے ہیں ، جوں جوں کیس بڑھ رہے ہیں،ان کا ڈر بڑھ رہا ہے۔

Read more

ایک ہندو کی رگوں میں مسلما ن کا خون

دہلی کے ہندو مسلم فسادات کے دوران ایک غریب مسلمان سبزی فروش نوجوان نے بھاگ کر ایک ہندو کے گھر پناہ لی۔ یہ 2020 ء کا اوائل تھا اور کسی سیاسی مسئلے پر دہلی میں ہر طرف نفرت کی آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے جلد ہی انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ہندو انتہا پسندوں کے ایک جتھے نے مسلمانوں کے بازار کو ہر طرف سے گھیر لیا اور بے دردی سے سب کو مارنا شروع کر دیا۔

Read more

ملتان کی رسمیں اور ثقافتی رنگ

ایسے گیت جو رسوم و رواج کے مطابق ہوتے ہیں، ان کو رسوم و رواج پر مشتمل گیت یا رواجی گیت کہا جاتا ہے۔ ان گیتوں کی مختلف اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ کا تعارف اور نام شامل کیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کے گیتوں میں شادی کی رسم ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ وہ ماں جس نے بچپن میں لوریاں دے دے کے اپنے بچے کو سلایا اور لاڈپیار سے پالا ہوتا ہے شادی کا دن اس

Read more

گالی دینے میں مزا کیوں آتا ہے؟

ٹھوکر کھانے سے ہونے والی تکلیف میں تو شائستہ سے شائستہ انسان کے منہ سے بھی گالی یا کوئی لا یعنی بات نکل جاتی ہے۔ ایسا اضطراری طور پر ہوتا ہے۔ مگر ایسے الفاظ سے ہمیں تسکین کیوں ملتی ہے؟ اس مضمون میں ہم گالی کے محرکات جاننے کی کوشش کریں گے۔

Read more

جانشینان پیمبر کا چلن دیکھ لیا

مولانا طارق جمیل صاحب نے جب اپنے کاروبار کی توجیہ بیان کی تو لوگ عش عش کر اٹھے کہ مولانا نے کاروبار کا آغاز ایک نیک کام کے لیے کیا ہے اور لوگ ہیں کہ بلاوجہ بک بک کر رہے ہیں۔ ایسے میں ابوالحسن آزاد نے ”ہم سب“ پر اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے ”ایم ٹی جے کا ناڑا اور قوم کی شلواریں“ کے عنوان سے مضمون لکھا۔ جس میں آزاد صاحب اخلاقیات اور اقدار کے ملبے پر کھڑے ہو

Read more

ملازمت اور صحافت (مکمل کالم)

گولی لگنے کے بعد آئی سی یو میں بغیر ٹی وی اور موبائل فون کے گزاری دو راتوں نے ذہن کے کچھ دریچے کھولے۔ لوگوں کی بے پناہ محبتیں، دعائیں اور گلدستے مجھے مسلسل پہنچ رہے تھے، اللہ کے کرم سے اپنی جسم و جان کے بچ جانے پر مجھ گناہگار کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا، اپنی کامیابی صرف اس بات کو سمجھ رہا تھا کہ اپنی ماں کو اس حادثے کا پتہ نہیں چلنے دیا، لیکن ساتھ

Read more

تیز دھوپ میں کھلا گلاب

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے مٹھو سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ کیا مسئلہ ہے۔ واپس آ کر اس نے مجھے بتایا کہ سڑک پر ایک عورت بکریاں چرا رہی ہے اور بکریاں ہمارے گھر کے باہر والے لان میں گھس آئی ہیں۔ مجھے باغبانی سے از حد دلچسپی ہے اور جب سے ہم دوسرے شہر میں اپنا بڑا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آئے ہیں میں اسی چھوٹے سے لان میں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کر لیتا ہوں۔ نئی کالونیوں اور جدید بستیوں میں دس مرلے کے گھروں میں اتنی گنجایش نہیں ہوتی کہ میرے جیسا شخص اپنا شوق بطریق احسن پورا کر سکے۔ میرے ایک دوست نے باغبانی سے میری دلچسپی دیکھ کر میرا نام نباتاتی مریض رکھ چھوڑا ہے۔

Read more

کورونا وائرس: انڈیا کے بے آسرا خاندان جو کورونا سے متاثرہ اپنے پیاروں کا علاج گھر میں ہی کرنے پر مجبور ہیں

اس وقت انڈیا کے اکثر گھرانوں میں زندگی اور موت کی ایک کرب ناک کشمکش جاری ہے۔ ملک میں صحت کا نظام لگ بھگ مفلوج ہو چکا ہے اور بہت سے بے آسرا خاندان اپنی مدد آپ کے تحت اپنے پیاروں کا علاج گھروں میں ہی کرنے پر مجبور ہیں۔

Read more

ادارہ جاتی ٹکراو کی پالیسی

پاکستان کی سیاست ہمیشہ ہنگاموں کی سیاست کا شکار رہتی ہے۔ یعنی محاذ آرائی کو بنیاد بنا کر ہم استحکام پر مبنی سیاست کو جاری رکھنے یا اسے ہر سطح پر مضبوط پالیسی بنانے کی سوچ سے گریز کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی، انتظامی، ریاستی، قانونی اداروں کے درمیان ہمیں بہت زیادہ اعتماد کی فضا دیکھنے کو نہیں ملتی۔ عمومی طور پر اعتماد سازی کا یہ بحران مسائل کو کم کرنے کی بجائے اس میں اور زیادہ

Read more

جنات اور دیو مالائی مخلوق ریاست نہیں چلاتے

گزشتہ دنوں یو ٹیوب پر پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان جناب پرویز ہود بھائی کا جنات کے حوالہ سے ایک تبصرہ سننے کا اتفاق ہوا۔ ہود بھائی نے اس میں یہ واضح کیا کہ جنات کا ابھی تک سائنسی یا تجرباتی ثبوت تو موجود نہیں لیکن اگر لوگ اس وہم کو ماننا چاہیں تو کوئی انہیں روک نہیں سکتا جیسے انسان بہت سی مافوق الفطرت چیزوں پر اندھا یقین رکھتا ہے اسی طرح جنات پر یقین رکھ سکتا ہے۔

یو ٹیوب پر کچھ مزید پروگراموں میں بعض ایسے لوگوں کے انٹرویو بھی سنے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ جنات کے اسرار سے واقف ہیں۔ بلکہ جنات ان کے قبضے میں ہیں اور وہ جو چاہیں ان سے کروا سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ جنات کے قبرستان بھی ہیں۔ مثلاً ماکلی ٹھٹھہ کا قبرستان جنات کا ہے۔

Read more

امریکہ کی تاریخ میں جنسی استحصال کا بدترین واقعہ اور اس کے نتائج

سیریل کلر (تواتر سے قتل کرنے والا) کی اصطلاح سے تو آپ آشنا ہوں گے ہی لیکن آج ایک ایسے شخص سے بھی واقف ہوں کہ جو بظاہر ایک مہربان، مقبول اور قابل عزت ڈاکٹر کی شہرت رکھتا تھا لیکن اس شخص کا اصل چہرہ بہت کریہہ تھا۔ اس کا نام ہے لیری نصر۔ جس کی شہرت امریکہ کی جمناسٹک ٹیم کے سب سے مستند اور معتبر ڈاکٹر کی تھی۔ اس کا کام اولمپک جمناسٹک ٹیم میں حصہ لینے والی بچیوں کو جسمانی طور پہ فٹ رکھنا اور چوٹ لگنے کی صورت میں ان کے جسمانی درد کا علاج کرنا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے جو ”ٹریٹمنٹ“ کے نام پہ ان کمسن بچیوں ساتھ کیا اس نے ان بچیوں کی روح کو عمر بھر کے لیے زخمی کر دیا۔

Read more

فیضان جتک: کوئٹہ پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت، سوشل میڈیا پر صارفین کا اظہار افسوس

پولیس نے مبینہ طور پر فیضان جتک کو رکنے کا اشارہ کیا تھا اور گاڑی نہ روکنے پر اُن پر فائرنگ کر دی تاہم بلوچستان حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

Read more

وزیراعظم کا اظہار فخر اور کج بحثیاں: ناقابل اشاعت کالم

(ایک شگفتہ سا کالم۔ میرے اخبار کو جس کی اشاعت کا حوصلہ نہ ہوا)۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے اڑھائی سالہ عہد حکومت کی کارکردگی پر اظہار فخر کیا کیا، گویا بارود خانے کو آگ دکھا دی۔ آتشبازی ہے کہ تھمنے میں نہیں آ رہی۔ کیا سیاست دان، کیا سوشل میڈیا کا چنچل نگارخانہ، کیا سرشام ٹی۔ وی چینلز پر درس حکمت دیتے دانشور اور کیا پیہم چرکے لگانے والے قلم کار، سبھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں نکل آئے۔ کہنا یہ ہے کہ آخر وزیراعظم نے اپنے کون سے کارناموں کی بنیاد پر خود کو مجبور پایا کہ عاجزانہ انکساری، درویشانہ کسر نفسی اور فقیرانہ بے نیازی سے دستکش ہو کر، اتنے کھلے ڈلے اور دبنگ لہجے میں اظہار تفاخر کر دیا؟

بھانت بھانت کی بولیاں ہیں۔ کوئی کمر توڑ مہنگائی کا رونا رو رہا ہے۔ کوئی غربت کی لکیر سے نیچے لڑھکتے عوام کا ماتم کر رہا ہے۔ کوئی بے روزگاری کی دہائی دے رہا ہے۔ کوئی واویلا کر رہا ہے کہ کاروبار تباہ ہو گیا۔ کسی کو گلہ ہے کہ ہر شعبے میں رشوت عام ہو گئی ہے۔ کوئی سیاپا کرتی عورتوں کی طرح ہاتھ نچا نچا کر طعنے دے رہا ہے کہ سیاسی مخالفین، یا عرف عام میں چوروں اور ڈاکووں سے لوٹی گئی رقم واپس لینے کے بجائے، عوام کے خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے تاوان میں دے ڈالے۔

Read more

دہائیوں کی گمشدگی کے بعد گھر لوٹنے والے کریم بخش کی کہانی جن کی بیوی نے ان کی راہ تکنا کبھی نہ چھوڑی

سنہ 1988 میں انھوں نے بہتر مستقبل کی تلاش میں کراچی جانے کی ٹھانی تو والدین نے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی اپنی لاڈلی بھتیجی سے طے کر دی۔ فیصلہ ہوا کہ رخصتی ایک سال بعد ہوگی، جب کریم کراچی سے واپس آئیں گے۔ لیکن وہ دن کبھی نہ آیا۔ کراچی پہنچنے کے کچھ ماہ بعد کریم کی طرف سے خط آنا بند ہو گئے اور ان کا گھر والوں سے رابطہ کٹ گیا۔

Read more

پی سی بی کی پیرنٹل اسپورٹ پالیسی، ‘خواتین کرکٹرز ازدواجی اور عملی زندگی میں توازن رکھ سکیں گی’

یوں تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے فیصلوں کو شائقینِ کرکٹ زیادہ تر تنقید کی نظروں سے دیکھتے ہیں، لیکن جب کوئی اچھا فیصلہ یا پالیسی سامنے آتی ہے۔ تو اسے کھل کر داد بھی دیتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے پی سی بی کی مرد اور خواتین کرکٹرز سے متعلق پالیسی پر جس میں بچے کی پیدائش کے دوران چھٹی، تنخواہ اور دیگر مراعات دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

Read more

ممتا بینرجی: مغربی بنگال کی ’دیدی‘ جن کے مخالفین بھی ان کی سادگی کے معترف ہیں

ممتا بینرجی اپنی سیٹ تو ہار گئیں لیکن ان کی جماعت نے 292 میں سے 213 سیٹیں جیت کر نئی تاریخ رقم کی ہے اور انھوں نے بدھ کو تیسری بار ریاست کی وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔

Read more

روزہ، ماہواری اور شرم!

گرما کی دوپہر کا سلسلہ یادوں کے دریچوں پہ دستک دیتے ہوئے کچھ ایسا یاد کرواتا ہے کہ منہ پہ بے اختیار مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ بچپن، تجسس، ہمارے نہ ختم ہونے والے سوال، گرما میں سکول سے چھٹیاں اور طویل دوپہریں! اماں سے گپ شپ کا سلسلہ چلتا تو ماں بیٹی کا رشتہ غائب ہو جاتا۔ یوں لگتا دو سہیلیوں میں نوک جھونک ہو رہی ہے۔ ہمیں باتیں سننے کا شوق، اماں کو سنانے کا سو چقوں کی اوٹ میں رنگین ٹائلوں والے برآمدے میں سورج کی تپش سے اوجھل وہ دوپہریں خوب مزے سے کٹتیں۔

”اماں آپ کو ماہواری کس عمر میں آئی تھی؟“ ہم پوچھتے
”افوہ یہ تم کس قسم کی باتیں پوچھتی ہو؟“ اماں حیرانی سے دیکھتیں

”بتائیے نا“ ہمارا اصرار بڑھتا چلا جاتا،
”ارے بھئی جب میری شادی ہوئی تو اس وقت تک ماہواری نہیں آئی تھی،“
کیا؟ ماہواری کے بغیر شادی ہو گئی، آپ کے ماں باپ اس قدر ظالم؟ ”
ہم چلاتے،

Read more

کیا مرد ماضی کی ذہنی زنجیروں سے آزاد ہو سکتے ہیں؟

دنیا کے ہر ملک اور معاشرے میں نجانے کتنے مرد اور عورتیں خود سے اور ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں
مرد تبدیلی سے کیوں گھبراتے ہیں؟
مرد عورتوں کا استحصال کیوں کرتے ہیں؟
مرد ان عورتوں سے جارحیت سے کیوں پیش آتے ہیں جن سے وہ محبت کا دعویٰ کرتے ہیں؟
مرد عورتوں کو اپنے برابر کا انسان کیوں نہیں سمجھتے؟

یہ اتنے اہم سوال ہیں کہ ان پر ماہرین نفسیات اور سماجیات نے ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔ وقت کی کمی کی وجہ سے میں یہاں نہایت اختصار سے ان سوالوں کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

Read more

ایک اہم سوال

اب میں بات کروں گا ہماری محبوب ترین ہستی حضرت محمد ﷺ کی کہ جن کے ساتھ ہماری محبت کا یہ پیمانہ ہے کہ ہم ان کا اسم اطہر لینے کے ساتھ ہی دعا کرتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ آپ ﷺ نے جب حجتہ الوداع کے موقعہ پر عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمانے سے پہلے ایک تو انہوں نے رنجیدہ کر دینے والی بات فرمائی کہ شاید اگلے حج کے موقعہ تک وہ صحابہ کے درمیان موجود نہ رہیں اور دوسرے خطبہ مبارک کے بعد آپ ﷺ نے اللہ کو گواہ بنا کر فرمایا کہ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا اور حاضرین کو تلقین کی کہ غیر حاضرین تک یہ پیغام پہنچا دیں۔

خطبہ سے قبل اور ما بعد کیے جانے والے ارشادات خطبہ کی تبلیغ و ترویج کو وصیت کا درجہ دیتے ہیں۔ اب ہماری کیا مجال کہ ہم چوں و چراں کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان پر دین کے پانچ فرائض کے بعد اگلی اہم چیز یہی ہے کہ تبلیغ کا کام کریں۔ ہماری حضور ﷺ سے محبت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم آپ ﷺ کی فرمانبرداری کرتے ہوئے یہ کام ضرور کریں ورنہ ہم محبت کے صرف دعویدار ہی تصور ہوں گے۔ کوئی مانے یا نہ مانے میں تو کہوں گا کہ یہ ہم پر فرض ہے۔

Read more

تاریخ کے فرقے اور ہمارا اثاثہ (پہلا حصہ)۔

پچھلے دنوں کئی بین الاقوامی میڈیا چینلز خلافت عثمانیہ کے دوران آرمینیائی باشندوں کے کے قتل کے واقعہ کو انتہائی حساس تاریخی مسئلہ قرار دیتے رہے۔ ترکی میں سوئی ہوئی بھڑیں اس وقت جاگیں جب امریکی صدر بائیڈن نے اس واقعہ کو نسل کشی قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق جب کوئی ریاست باقاعدہ حکمت عملی کے تحت کسی مخصوص طبقے کو اس کی نسل، شکل یا مذہب کی بنیاد پہ قتل کرنا شروع کردے، نسل کشی ہے۔ 1915 میں خلافت عثمانیہ کے دوران 1.5 ملین لوگوں کا قتل عام ہوا، ترکی اسے تسلیم کرتا ہے لیکن اس کا مطالبہ ہے کہ ترکوں کا بھی خون بہا ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے، ترکی کی حکومت کے مطابق 1912 سے 1922 کے دوران 3 ملین لوگوں کا خون بہا جس میں 3 سے 6 لاکھ ترکش کرد اور آرمینیائی لقمہ اجل بنے۔

Read more

درد کا رشتہ

عامر تمہارے جانے کے بعد کچھ اس طرح محسوس ہوتا رہا جیسے کوئی چیز، کوئی حصہ میرے دل کا ٹوٹ کر مجھ سے جدا ہو گیا ہے۔ دو دن تو اس طرح بولائی بولائی گھومتی رہی جیسے دیوانی ہو گئی ہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ ہر اڑتا ہوا جہاز دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرتا ہوا جاتا تھا۔ سارا گھر، کالج، ہر چیز ویران لگتی تھی، حالانکہ زندگی کے معمولات میں کوئی تبدیلی

Read more

پاکستانی اداکارہ صبا فیصل: ’بچوں سے متعلق سین میں کبھی گلیسرین کی ضرورت نہیں پڑتی‘

پاکستانی ڈراموں کی مقبول ماں اور ساس صبا فیصل کا کہنا ہے کہ ان کے کرداروں کی وجہ سے لوگ انھیں سخت اور کھڑوس سمجھنے لگے ہیں اور اکثر ان سے بات کرتے ہوئے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔

Read more

رمضان میں برطانوی خواتین کے لیے بعض مساجد کے دروازے کیوں بند ہیں؟

اس وقت دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں اور برطانیہ میں کچھ مساجد میں خواتین کو نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دے جا رہی ہے۔ بعض خواتین اور تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ صورتحال تبدیل ہو۔

Read more

بھیڑ یا شیر؟ یہ ذہانت نہیں ذہنیت کی بات ہے

جانتے ہیں آج کل کا سب بڑا خوف کون سا ہے؟ ”لوگ کیا کہیں گے“ کا خوف۔ اور اگر آپ حق پر ہوں اور جیسے ہی آپ اس خوف کی پروا کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو ہھر آپ بھیڑ نہیں رہتے۔ شیر بن جاتے ہیں۔ اور آپ اپنے اندر ایک عظیم دھاڑ محسوس کرتے ہیں۔ آزادی کی صدا۔ شیر کی جیسی دھاڑ جو پانچ میل دور سے بھی سنی جا سکتی ہے۔ بھیڑ کی کوئی آزادی نہیں ہوتی۔ بھیڑ اپنی

Read more

ڈاکٹر یاسمین راشد: کیسنر سے جنگ کے دوران فرائض سرانجام دینے پر وزیرِ صحت کے حوصلے کی تعریف، صحتیابی کی دعائیں

پنجاب کی وزیرِ صحت ڈاکٹر یاسمین راشد چند ماہ قبل بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو گئی تھیں جس کے ساتھ ان کی جنگ تاحال جاری ہے اور آج کل وہ سرجری کروانے کے بعد اب کیموتھیراپی سے گزر رہی ہیں تاہم ساتھ ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ دارایاں بھی نبھا رہی ہیں۔

Read more