عشق رسولؐ اور گستاخی کے الزام میں سزا کا نیا رجحان
ہم بچپن سے ہی نصابی کتب میں پڑھتے آئے ہیں کہ کیسے غازی علم دین شہید نے اس گستاخ پبلشر کو قتل کر دیا تھا جس نے ایک توہین آمیز کتاب شائع کی تھی۔ حکیم الامت علامہ اقبال جیسی جلیل القدر ہستی سے منسوب ہے کہ انہوں نے یہ سن کر فرمایا تھا ترکھانوں کا لڑکا بازی لے گیا ہے۔ انگریز راج تھا، وہ ہندو، مسلم، سکھ اور مسیحی سب کو تقریباً ایک نظر سے دیکھتے تھے اور سب کے لیے قانون مشترکہ تھا۔ اس لیے مسلمانوں کے جذبات کی انہوں نے پروا نہیں کی تو علم دین نے پبلشر کو قتل کر دیا۔ آج تک نصاب سے منبر تک علم دین نامی جوان کی تعریف کی جاتی ہے۔
سلمان تاثیر کا معاملہ آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتاز قادری نے ایک شعلہ بیان مقرر کا بیان سنا کہ سلمان تاثیر نے اسلام کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس نے سلمان تاثیر کو قتل کر دیا۔ بعد میں شعلہ بیان مقرر نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا کہ میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔
Read more













































































