قصہ ایک مسجد کے بننے کا، جب ہندوؤں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا

آج سے سوا سو کی سال پہلے مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں پیش آنے والا یہ واقعہ متحدہ ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران مغربی پنجاب کے شہر گجرات میں 1895 ء میں پیش آیا تھا۔ ہوا یوں کہ اندرون شہر گجرات کی ایک متمول فیملی کے سربراہ سردار محمد حیات خان درانی نے اندرون شہر پرانی غلہ منڈی میں ایک مسجد بنانے کا فیصلہ کیا۔ جس جگہ پر مسجد تعمیر کی جا رہی تھی اس سے چند گز

Read more

کرونا ناول نے سندھ کی تعلیمی پر کتنا اثر چھوڑا ہے؟

کرونا ناول کی وبا نے جیسے پوری دنیا کو نئے ڈھنگ سے زندگی گزارنے کی اک چنوتی دے دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے یے جامع پالیسیاں، طویل منصوبے، تجارتی پلان سب کے سب جیسے بہت سفر کر کے آئے ہوں اور تھکان کی چادر تان کے سو رہے ہوں۔ فطرت کے حسن کو بچانے والے پیروکاروں کے چہروں پر مسکراہٹ کی بوندیں برس رہی ہیں۔ اور وہ سکون کے کروٹ لے کے کہتے ہیں ؛ صدیوں سے انسان نے

Read more

عمران خان جمہوریت کے شہید بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں

یہ بات وبا کے دنوں سے پہلے کی ہے۔ میرے دوست میاں مٹھو بڑے کاروباری ہیں اور ان کی حیثیت تجارتی اداروں میں بہت اہم ہے۔ وہ گزشتہ سال جب انجمن تاجران کے انتخاب ہونے کو تھے مجھے تاریخ کا اندازہ نہیں، وہ کہنے لگے سیاست میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ اس زمانہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف عدالتی فیصلہ کے بعد جیل میں تھے اور ان کی سیاسی جانشین مریم صفدر بھی سزا کے بعد جیل میں تھیں۔

میاں مٹھو بتانے لگے کہ عنقریب میاں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت مل جائے گی اور میاں نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم اور خادم اعلیٰ بھی ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ ایک بات اور بتائی کہ خادم اعلیٰ بھی ایک آنے والی مخلوط حکومت میں اہم حیثیت میں حکمرانوں کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ ایسا ہوگا مگر چند دن کے بعد ہی سابق وزیراعظم پنجاب ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد علاج کے لیے اپنے بھائی خادم اعلی شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو گئے اور ہمارے بیوپاری بھائی کی ایک اطلاع درست ثابت ہو گئی۔

Read more

باری مولوی کی تھی اٹھا دیا گنجے کو

نئی ریاست مدینہ یعنی ایک مذہبی ریاست بنانے کا منشور کپتان نے پیش کیا تھا، ایسا ہی سا مطالبہ مولانا حضرات ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں، لیکن عملی اقدامات نون لیگ والے اٹھا رہے ہیں۔

کسی زمانے میں پولیٹیکل اسلام کی چیمپئن جماعت اسلامی ہوا کرتی تھی۔ پھر تحریک انصاف نے جنم لیا تو اس کے مخالفین نے اسے ”گڈ لکنگ جماعت اسلامی“ کہنا شروع کر دیا۔ عمران خان نے بھی نئی ریاست مدینہ بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے اپنی حکومت کا اسلامی امیج بنانے پر زور دیا۔ لیکن نصیب نصیب کی بات ہے، جماعت اسلامی کا کام کرنے میں اب ن لیگ آگے آگے ہے۔ ویسے اگر تحریک انصاف ”گڈ لکنگ جماعت اسلامی“ ہے تو کیا نون لیگ ”بیڈ لکنگ جماعت اسلامی“ بن رہی ہے؟

Read more

حلقہ چھوڑ کر ، اب فردوس عاشق اعوان کہا ں ہیں ؟

 ملکی سیاسی نظام میں بعض سیاست دان اپنے حلقہ کو اہمیت نہیں دیتے ،جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جہاں یہ اپنے حلقہ سے غیر متعلق ہوکررہ جاتے ہیں ،وہاں حلقہ میں سیاسی کلچر مضبوط نہیں ہوپاتا،انتخابات کے دِنوں میں رائے دینے والے(ووٹرز) کم تعداد میں گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشن کا رُخ کرتے ہیں ۔علاوہ ازیں ایسے حلقوں میں سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک مضبوط ہونے کے باوجود ، آزاد اُمیدوار کامیاب ہوتے رہتے ہیں۔آزاد اُمیدواروں کی

Read more

اک عہد بے مثال۔ ۔ ۔ مہدی حسن خاں صاحب

مہدی حسن صاحب کی زندگی کے مختلف ادوار کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ماحول اور حالات نے ان کی شخصیت کی تشکیل پہ کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔ مثلاً آٹھ برس کی عمر میں ماں کے انتقال کے بعد ان کی گود کی گرمی کی جگہ سروں کی نرمی نے لے لی جو انہیں باپ اور چچا کی سختی سے دی گئی موسیقی کی تربیت نے عطا کی مگر محض سروں کی تعلیم نہیں تھی بلکہ

Read more

مڈٹرم الیکشن واحد حل؟

وزیراعظم نے آخری وارننگ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا، کارکردگی دکھانا ہوگی، ناکامی پر حکومتی عہدیداروں کو گھر کی راہ لینا ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کو صاف بتا دیا کہ اب اجلاسوں میں صرف بریفنگز سے کام نہیں چلے گا، حکومتی فیصلوں پر عملی اقدامات کا خود جائزہ لوں گا۔ وزرا، مشیر اور بیورو کریسی کام کرے ورنہ گھر جائے۔ شاید 22 ماہ بعد وزیراعظم

Read more

بین الاقوامی سطح پر قومی زبان کی شناخت کا مسئلہ

کسی بھی زبان کو اپنی پہچان کروانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس زبان کا اپنا رسم الخط اور مناسب تعداد میں اپنا لٹریچر موجود ہو۔ پاکستان کے طول و عرض میں درجنوں زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کا اپنا رسم الخط اب موجود نہیں ہے اور ان کا لٹریچر بھی مناسب تعداد میں اب دستیاب نہیں ہے۔ بہت سے لسانی ماہرین کے مطابق زبان کی تعریف میں مختلف بولیاں یا مختلف

Read more

کورونا کے ساتھ ساتھ کانگووائرس کا خطرہ

عیدالاضحی کی آمد کے پیش نظرحکومت پنجاب نے 15 جولائی سے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے لئے مویشی منڈیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ منڈیاں شہری حدود سے باہر لگانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ اور اس حوالے سے پنجاب حکومت کی طرف سے عوام کی حفاظت کے لئے متعلقہ ایس او پیز بھی بنائے گئے ہیں لیکن ایک بار پھر مویشی منڈیوں میں عوام کے ہجوم کے پیش نظر نہ صرف کورونا کے پھیلاؤ

Read more

ہندی ادب کا ”وار اینڈ پیس“ : یشپال کا ”جھوٹا سچ“

آج کے شمارہ نمبر 98۔ 99۔ 100 یعنی پورے تین شماروں میں صرف ایک ناول شایع ہوا۔ یہ مایہ ناز ہندی فکشن نگار یشپال کا ضخیم ناول ”جھوٹا سچ“ ہے۔ جسے ہندی فکشن کا وار اینڈ پیس قرار دیا گیا ہے۔ سہ ماہی آج کے برعکس اردو کے بیشتر ادبی جریدوں کو ناول کی نسبت افسانوں کی اشاعت سے رغبت خاص رہی ہے۔ ان جریدوں کے مدیروں کی جو بھی مجبوریاں رہی ہوں لیکن ان کے اس رویے کی وجہ سے ناول جیسی عظیم صنف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

لیکن اسی صورت حال میں سہ ماہی ”آج“ اپنی اشاعت کے آغاز سے ناول جیسی فکشن کی اہم ترین صنف پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اس میں اردو اور دیگر زبانوں کے بہترین ناول تواتر کے ساتھ شایع ہوتے رہے ہیں۔ سہ ماہی ”آج“ نے نہ صرف فکشن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے بلکہ اردو میں ناول جیسی صنف کے دوبارہ احیا میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

Read more

عثمان بزدار کی تبدیلی کا عمران خان کا الٹی میٹم، نیا وزیراعلیٰ کون؟

وزیراعظم عمران خان کا کابینہ اور بیوروکریسی کو کارکردگی دکھانے کا الٹی میٹم صرف وفاق اور مرکزی حکومت تک محدود نہیں بلکہ پنجاب حکومت کو بھی پیغام دیدیا گیا ہے کہ گڈ گورننس اور کارکردگی کو مثالی بنایا جائے بصورت دیگر وفاقی کابینہ سے کہیں زیادہ رد و بدل پنجاب کابینہ میں ہو سکتا ہے، جس میں وزیراعلی کی تبدیلی جیسا بڑا فیصلہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔

Read more

نئی صف بندی اور کپتان

پلک جھپکنے کے مقابلے میں سب سے بڑا امتحان آنکھوں کی پتلیوں کا ہے جنھیں ساکت بھی رہنا ہے اور دوسرے پر نظر بھی رکھنی ہے۔ ساکت، خاموش نظریں سب دیکھتی ہیں مگر جیت کے جنون میں ہل نہیں سکتیں کیونکہ جو پلک جھپکے گا وہی شکست تسلیم کرے گا۔ پاکستان کی سیاست اس وقت اُسی مرحلے سے گزر رہی ہے۔

عوام سیاست سے دور اور مایوس ہو رہے ہیں۔گو دلچسپی کا سامان ہر روز دستیاب ہوتا ہے۔ ہر دور میں کچھ منظر پر اور کچھ پس منظر میں ہلتی ڈوریاں نئی کہانیاں پردہ سکرین پر لے کر حاضر ہوتی ہیں اور یوں سیاسی تھیٹر پر جاری پتلی تماشہ ناظرین کو پلک جھپکنے نہیں دیتا۔

Read more

شادیانے نہیں عمل!

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے مطابق وطن عزیز میںکورونا کیسز میں 28 فیصد کمی آئی ہے۔اموات اور کیسز میں ٹھہراؤ اچھی خبر ہے کیونکہ اس موذی مرض کے ہاتھوں پوری دنیا ہی بری طرح متاثر ہے اور پاکستان جیسے پسماندہ ملک کی نہ صرف اکانومی تباہ ہو گئی بلکہ بہت سے غریبوں کا روزگار ختم ہو گیا اور قوم کو روشنی کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی تھی کہ کب یہ آفت ٹلے گی

Read more

پنجاب اسمبلی کی توسیع :فائدہ کس نے اٹھایا

ایک پنجابی اکھان ہے: آندراں بھکیاں تے مچھاں تے چول(آنتیں بھوکی مگر موچھوں پر چاول دھرے ہیں) یہ محاورہ اپنے اندر کی کمزوری چھپانے کے لئے نمائشی اکڑ فوں کے لئے بولا جاتا ہے۔ موضوع کے لحاظ سے آپ پنجاب اسمبلی کی 1935ء میں تعمیر ہوئی عمارت کی موچھوں پر چاول دھر کر معاملہ جان لیں۔ گزشتہ برس جولائی میں ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن پنجاب نے حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی۔21صفحات کی رپورٹ میں ان وجوہات کی نشاندہی

Read more

تعلیم بنام کورونا

کورونا کی آفت نے زندگی کے کن کن شعبوں کو متاثر کیا ہے، اس کا درست اندازہ لگانے کے لئے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا۔ سامنے کی بات تو یہ ہے کہ ہزاروں انسانوں کی جانیں گئیں۔ ان میں وہ بڑے نام بھی شامل ہیں جو ہمارا قیمتی اثاثہ تھے۔ ہر گھر کے اندر خوف کی فضا نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جس نے اعصاب پر منفی اثرات ڈالے۔ مہنگائی، بے روزگاری، آمدنی میں کمی یا کاروبار کی زبوں

Read more

کرونا وائرس، مقامی حکومتیں اور طرز حکمرانی کے مسائل

ہمارے جیسے معاشروں میں اچھی اور شفاف طرز حکمرانی ایک بنیادی نوعیت کا مسئلہ ہے۔ کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کا براہ راست تعلق عملاً حکمرانی کے نظام سے جڑا نظر آتا ہے۔ وفاقی، صوبائی اور ضلعی یا مقامی حکمرانی کے نظام میں جو پیچیدہ یا سنجیدہ نوعیت کے مسائل ہمیں درپیش ہیں اس کا علاج تلاش کرنے کے لیے ریاستی و حکومتی سطح پر ہمیں کئی کمزوری کے پہلو نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ اگرچہ یہاں سیاسی جماعتیں یا

Read more

پینشن کا بے قابو جن اور اس کا حل

مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہونے پر پینشن کا مالی فائدہ ہمارے ہاں اکثریت کی سرکاری نوکری کی جستجو کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں۔ اگر آپ ایک دفعہ سرکار پاکستان کے ملازم ہوجائیں تو انگریز دور کے لاگو کردہ موجودہ پینشن قوانین کے تحت سرکار نہ صرف آپ کو ریٹائرمنٹ کے بعد ماہانہ پینشن دیتی ہے بلکہ آپ کے اس دنیا سے گزر جانے کے بعدآپ کی بیوہ

Read more

مائنس پلس کا کھیل چھوڑیں: دستوری رفوگری کا راستہ اپنائیں

ملک میں ایک بار پھر مائنس ون کاغلغلہ ہے حتیٰ کہ وزیر اعظم عمران خان کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اس کا حوالہ دینا پڑا اور قوم کو یقین دلانا پڑا کہ مائنس ون کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ اضافہ کرکے دوستوں دشمنوں کی حیرت میں اضافہ بھی کردیا کہ اگر مائنس ون ہو بھی گیا تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ اور خاص طور سے اپوزیشن کو تو کوئی ریلیف نہیں

Read more

میڈم فرحت محبوب: دیا کس کا جلا، کس کا بجھا ہے؟

یہ اس موسم کی کیسی ہوا ہے کہ میڈم فرحت محبوب ( پرنسل مرغزار کالج، گجرات ) نے ابھی کچھ دن پہلے دو بہنوں اور بہنوئی کو الوداع کہا اور آج خود بھی اس جہانِ فانی کو خداحافظ کہہ گئیں؟ یقینا موت زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ لیکن پتا نہیں کیوں آج کل ایسی خبریں سن کر ایسا لگتا ہے کہ یہ مرحلہ مسافروں کے سامنے جلد آ رہا ہے۔ شاید پہلے مرحلے کی تگ و تاز

Read more

زرداری مولانا ملاقات کا اصل ایجنڈہ کیا تھا؟

لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر بلوچ کی تفتیشی رپورٹ (جے آئی ٹی) نے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے لئے سنگین صورتحال پیدا کردی ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ اس میں معاملے میں involve ہوگئی ہے جس نے وزیراعظم عمران خان کو بھی اس بات پر قائل کر لیا ہے کہ عزیز بلوچ کی مشترکہ تفتیشی رپورٹ میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف موجود مواد کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا جائے، پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر مملکت

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ (دوسرا حصہ)

اگر برصغیر میں اردو صحافت کی تاریخ کی بات کی جائے تو اس میں مولوی محبوب عالم کی 1903 میں تالیف کردہ فہرست اخبارات ہند کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ جس کی تربیت اور مقدمہ و حواشی طاہر مسعود نے لکھ کر مغربی پاکستان اردو اکیڈمی سے 1992 میں شائع کی اور کتاب کا عنوان رکھا ”اردو صحافت کی ایک نادر تاریخ“ مگر سرورق پر طاہر مسعود صاحب نے صرف اپنا نام دیا ہے اور ٹائٹل سے اصل مولف مولوی

Read more

کرائے دار نے برقعہ پہن کر مکان مالک کو لوٹ لیا

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں جناح روڈ کا رہائشی عثمان اپنے بیوی بچوں کے ہمراہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔ دن بھر ریڑھی پر دہی بھلے بیچ کر جو کمائی ہوتی اس سے وہ اپنے گھروالوں کا پیٹ بمشکل پال رہا تھا۔ اس کی زندگی کی گزر بسر کا واحد ذریعہ ٹھیلا تھا۔ غربت کی وجہ سے اس کے بیوی بچوں کو فاقہ کشی کی عادت ہوچکی تھی اس لئے گھر والوں کو کھانے کو ملے نہ ملے، سب

Read more

پنجاب پولیس نے ڈکیتی کے ملزم کے گھر کا کرایہ کیوں ادا کیا؟

وبا کے دنوں میں اگر کوئی آپ کے مکان کا کرائے کی ادائیگی اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے مالی مدد کر دے تو یہ کسی معجزے سے کم تو نہیں مگر یہاں معاملہ ایک منفرد ڈکیتی اور پولیس تحقیقات کا ہے۔

Read more

مردانہ معاشرے میں عورتوں کے بے نام رشتے

شوہر کے بڑے بھائی کو جیٹھ اور چھوٹے کو دیور کہا جاتا ہے۔ کبھی سوچا کہ بیوی کا بھائی چھوٹا ہو یا بڑا اسے صرف سالا کیوں کہا جاتا ہے؟ بیوی کے بھائیوں کے لئے الگ الگ ٹائٹل کیوں نہیں؟ والد صاحب کے بڑے بھائی تایا اور چھوٹے چاچا کہلاتے ہیں۔ لیکن والدہ محترمہ کے سب بھائیوں کو صرف ماموں کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ سب پدر شاہی نظام کا کارنامہ اور مردانہ معاشرے کا عکس ہے۔ ہر کلچر میں

Read more

ہماری پولیس نااہل ہے یا مجرم؟

ابھی چند دن قبل سماجی میڈیا پر ایک افسوسناک ویڈیو نے کافی گردش کی۔ پشاور کی پولیس ایک شخص کو ننگا کرکے اس کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ اس بیچارے پر بہیمانہ تشدد کیا گیا تھا۔ تب بھی اسے گالیوں سے نوازا جا رہا تھا۔ یہ سب دیکھ کر مجھ پر ایک حقیقت کھلی۔ وہی حقیقت کھلی کہ ہمارے سماج میں اصل منظم مجرم گروہ کوئی اور نہیں خود پولیس ہے۔ یہ خیال میرے ذہن میں تب بننا شروع ہوا

Read more

کورونائی تعلیم اور طالبعلم

پاکستان میں نظام تعلیم پہلے ہی سے مفلوج تھا اور اب یہ نظام کورونا کے زیر عتاب آ چکا ہے اور تعلیمی ادارے ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے زیر نگرانی تعلیمی مافیاء کا روپ دھار چکے ہیں۔ ہماری کسی بھی یونیورسٹی کا نام دنیا کے ٹاپ 007 یونیورسٹیوں کی لسٹ میں نہیں آتا لیکن ہمارے تعلیمی نظام اور اداروں کا جو بھی حال ہو ہم نے تو ترقی یافتہ ممالک کی نقل اتارنی ہی ہے اور بغیر نیٹ اور بجلی کے

Read more

ایک خاموش قاتل قوم کی جڑیں کاٹ رہا ہے .

جب بھی نشہ اور منشیات زدہ لوگوں، گھروں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ تو اس میں صنف مرد کو ہی ہم عموماً شمار کرتے ہیں۔ اور تصویر کے اسی رخ کو ہی ہم بیان کرتے ہیں۔ نشے سے جڑی تباہیاں، خرابیاں، غفلتیں اور تہمتیں مرد کے ہی جھولی میں ڈالی جاتی ہیں۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں وجود، معیشت اور بہتری و ابتری کا کم و بیش سارا ذمہ داری مرد پہ ہی پڑتا ہے۔ لیکن اچھی

Read more

پاکستان کا پہلا انڈر گراونڈ واٹر سٹوریج منصوبہ

گنجان آبادی کے اعتبار سے دنیا کے تیسرے بڑے ملک سنگاپورکے پاس آبی وسائل نہیں ہیں پھر بھی وہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے چارمختلف طریقوں پر عمل کرتا ہے یعنی ”پینے کا پانی درآمد کرکے، بارشی پانی کو ذخیرہ کرکے، استعمال شدہ پانی اور سمندری پانی کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے صاف اور دوبارہ پینے کے قابل بنا کر“ ۔ اپنی اس حکمت عملی کوسنگاپور نے ”Four National Tap Water Strategy“ کا نام دیاہے۔ اس

Read more

ادب اور معاشرہ

ادب ہمیشہ سے ہی انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ پڑھے لکھے ان پڑھ سب کی زندگی کا، یہ بڑے بوڑھوں کی کہانیاں ہوں، شعرا کی شاعری ہو، ناول نگار کی داستان ہو، مضمون نگار کا مضمون ہو، پردے کے پیچھے کا اسٹیج ہو، پردہ سکرین ہو، یا پھر آج کا میڈیا، ہر حال میں معاشرہ کا خیال ساز و کردار ساز رہا ہے۔ اپنی کردارنگاری، رومانویت، مکالمہ بازی اور باقی ادبی لوازمات کے ساتھ یہ اپنے پڑھنے

Read more

ہماری سرزمین کے آثارِ قدیمہ اور قدیم باشندے

جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ انسانی باقاعدہ تہذیب کا آغاز تقریباً سات ہزار برس قبل ہوا لیکن درحقیقت سات ہزار نہیں نو سے دس ہزار سال کی تاریخ تقریباً معلوم شدہ ہے کیونکہ تحریر کے علم کی شروعات بابل کی تہذیب میں تقریباً سات ہزار سال قبل ہوئی تھی تو اس وقت اس سے تقریباً دو تین ہزار سال پہلے کی سینہ بہ سینہ زبانی تاریخ جو وقت گزرنے کے ساتھ ”دیو مالائی“ صورت اختیار کر

Read more

نیا پاکستان حقیقت کا روپ دھار رہا ہے

سیاست کا ہنگامہ ہر دم اس قدرکہرام مچائے رکھتا ہے کہ ملک میں جاری بے شمار مثبت سرگرمیاں اور اہم اسٹرٹیجک منصوبے زیر بحث ہی نہیں آتے جو امید کے دیے جلاتے ہیں اور مایوسیوں سے قوم کو نکال سکتے ہیں۔ اس کالم میں چند ایک ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو پاکستان کے بڑی معاشی قوت بننے کے خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ حال ہی میں کوہالہ اور آزادپتن ہائیڈل پاور منصوبوں کا افتتاح

Read more

کارکردگی دکھائیں ورنہ گھر جائیں

گزشتہ دنوں وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم حکومتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کافی برہم دکھائی دیے۔ انھوں نے اپنے ایک بیان میں وزراء، مشیران اور بیورو کریٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب زبانی جمع خرچ سے کام نہیں چلے گا، اب کارکردگی دکھانا ہو گی۔ اب کام کریں ورنہ گھر جائیں۔ وزیراعظم کے حالیہ بیان سے بادی النظر میں یوں لگتا ہے کہ جیسے انھیں حکومتی ناقص کارکردگی

Read more

قاصد کی خبر، جمہوریت کا مستقبل اور عمران خان کا متبادل

قاصد بار بار تبدیلی کی خبر لارہا ہے۔ کبھی اسلام آباد میں حکومت کا لے آؤٹ تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کبھی فی الحال عمران خان کو بے بس و بے اختیار بنانے کے لئے پنجاب میں ان کے پسندیدہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس کو تبدیل کرنے کی بات سامنے آتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ قاصد تبدیلی اور عمران خان پر کم ہوتے اعتماد کی خبر پھیلاتا ہے لیکن یہ نہیں

Read more

ہمارے لیے قادری صاحب!

لیکچررشپ کی تیاری میں محو تھا کہ اتنے میں دل گرفتہ خبر آئی: ”ڈاکٹر شبیر احمد قادری صاحب وسط جولائی میں عہدے سے سبکدوش ہورہے ہیں۔“ وجود پہ ہلدی سی چھانے لگی اور جی یاد کے شبستان میں اوبنے لگا۔ افسوس اتنے بڑے صاحب کمال ہم سے رخصت ہو رہے ہیں اور ہم یہاں وبا سے گھبرا کر تخلیہ کر بیٹھے ہیں۔ پچھلے دنوں تو لاریاں اسی واسطے بند رہیں۔ مگر اب جی ہے کہ چل کھڑا ہوں اور استاد

Read more

صدارتی نظام کے خواب

نااہل انسان کی بنیادی تعریف یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی حال میں خوش نہیں ہوتا۔ سیاست دستیاب حالات میں بہترین پرفارمنس دینے کو کہتے ہیں۔ جب غیر سیاسی اذہان سیاسی عمل میں اتار دیے جاتے ہیں۔ تو وہ ” ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ” کے مصداق نظام پر اعتراض کرنے کے علاوہ کوئی پرفارمنس نہیں دے پاتے۔ سیاسی عمل سے ناواقف لوگ دراصل تاریخ کا انکار کرنے والے ہوتے ہیں۔ تاریخ کا انکار بھی وہ جہالت کی وجہ

Read more

اور راجہ نے "سزا” بھگت لی !

محنت کرنے کے عادی کو محض ثمرات سمیٹنے ہی پر خوشی نہیں ہوتی وہ محنت کے لمحات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے. بات ہے سنہ 2017 کی جب راجہ پرویز اشرف پنجاب کی تنظیم سازی کے دورہ پر تھے۔ ان کی ہم قدم ٹیم بھی ان کی رفاقت کے سبب پراعتماد تھی۔ جب پوچھا گیا کہ صاحب پنجاب میں مایوسی کا سامنا کس ضلع میں ہوا تو جواب ملا کہ میانوالی اور بھکر کے اضلاع میں چیلنجز ہیں تاہم مایوسی

Read more

کس کے گھر جائِے گا سیلاب بلا ؟ (مکمل کالم)

نومبر 2019 میں ایک فارمولہ طے پا گیا تھا کہ مرکز میں عمران خان کو گھر بھیج کر مسلم لیگ ن کو ایک بار پھر موقع دے دیا جائے۔ شرط مگر یہ کہ مرکز میں شریف خاندان کے کسی فرد کی بجائے شاہد خاقان عباسی یا ایازصادق کو وزیراعظم بنایا جائے۔ غالبا ایاز صادق پر اتفاق بھی قائم کر لیا گیا تھا۔ پنجاب کی کمان عثمان بزدار سے لے کر گجرات کے چوہدریوں کے حوالے کرنا تھی۔ پرویز الہی ایک

Read more

اعلانِ لاتعلقی

جس ملک میں بھی معاشی بحران آتا ہے وہاں نہ صرف گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں بلکہ خاندانی رشتے بھی کمزور ہو جاتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پنجاب کے شہر لودھراں کی راجپوت کالونی کے رانا شبیر احمد کے اخبارات میں شائع شدہ بڑے بڑے اشتہارات کا چرچہ ہے۔ ان اشتہارات کے ذریعے والد نے اپنے حقیقی بیٹے رانا محمد ارسلان سے ’بوجہ نافرمانی، گستاخی اور غلط چال چلن‘ اعلان لاتعلقی کر دیا ہے۔ رانا محمد ارسلان ضلع لودھراں سے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری ہیں۔

Read more

شیخ لئیق احمد: بنام مرشد نازک خیالاں

شیخ لئیق احمد کی عمر لگ بھگ اسی سال ہے۔ چھ سال کی عمر میں بٹوارہ دیکھا۔ نامساعد حالات میں بھارتی پنجاب سے ہجرت کر کے پاکستان پہنچے۔ بلوے مار کاٹ خون ریزی ہم نے کتابوں میں پڑھی ہے انہوں نے آنکھوں سے دیکھی اور خود بھگتی ہے۔ حالات کے تھپیڑوں نے فیصل آباد لا پٹخا۔ محنت ان کا شیوہ ہے اس لیے آٹو پارٹس کا کاروبار شروع کیا۔ ایسا کبھی ہوا ہے کہ محنت کرنے والے کی کبھی ہار

Read more

کیا گھریلو تشدد نفسیاتی مرض ہے؟

تشدد ایک ایسا جرم ہے جو کسی جاندار یا انسانی جسم کے خلاف کیا جاتا ہے، گھریلو تشدد کی تعریف کچھ یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ وہ تشددہے جو کسی عورت پر جسمانی، زبانی، جذباتی یا نفسیاتی طور پر کیا جاتا ہو عورت پر تشدد کسی عورت کی طرف سے یا کسی مرد کی طرف سے گھر پر کام والی جگہ پر یا کسی پبلک مقام پر کیا گیا ہو۔ اس قسم کے تشدد میں فرد کا معاشی

Read more

پولیس گردی کا شکار یونس مسیح

تحصیل گوجر ہ کے نواحی گاؤں جلیانوالہ کے رہائشی یونس مسیح کو فیصل آباد کے تھانہ غلام آ باد کی پولیس نے رات کے اندھیرے میں گھر میں داخل ہو کر زود و کوب اور تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ یونس مسیح کا بیٹا وقار یونس مسیح تھانہ سٹی گوجرہ میں مقدمہ نمبر 520 / 19 زیر دفعہ 302 / 324 کا مضروب اور چشم دید گواہ ہے۔ اور ملزمان مرحوم اہلخانہ پر پریشر ڈال رہے ہیں کہ وہ

Read more

ہندوستانی سیکولر ازم۔ ایک ستم ظریفی

عدم خلوص کے بندوں میں ایک خامی ہے ستم ظریف بہت جلد باز ہوتے ہیں ستم ظریفی جسے انگریزی میں آئرنی کہا جاتا ہے آج کل کی دنیا کا طرز عمل ہے۔ اگر اس دنیا کے کاروبار کو کسی ایک لفظ میں بیان کیا جا سکتا ہے تو وہ یہی ستم ظریفی ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک کو دیکھ لیں وہ اسی اصول پر عمل کر رہا ہو گا۔ دنیا میں رہنے والے میں اور آپ بھی بڑی سختی

Read more

وارث میر…. ایک سچا صحافی

ایک کوتاہ نظر، کم علم اور کم ظرف سرکاری عہدے دارنے نامور صحافی اور دانشور پروفیسر وارث میر پر غدار وطن ہونے کی تہمت تو لگا دی، شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چاند کا تھو کا اپنے ہی منہ پر آ کر گرتا ہے اور ہوا بھی ایسا ہی. اس بیان کے ردعمل میں سندھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں نے وارث میر کے حق میں متفقہ قرار دادیں مںظور کرتے ہوئے انہیں ایک محب وطن قرار دے

Read more

ہمارا بنیادی سیاسی مسئلہ: ’’کوئز لنگ لیگ‘‘

2020ء کے پانچ جولائی نے پھر وہی سوال دہرایا ہے۔ کیا سیاستدانوں کی نا اہلی کے باعث وردی والے آتے ہیں یا پھر وردی والوں کی نا اہلی کے باعث اہل سیاست کو موقع مل جاتا ہے۔ 1950ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی امریکی سفارتخانہ کی خفیہ خط و کتابت ایوب خاں کی اقتدار کی شدید خواہش ظاہر کرتی ہے۔ ایک موقع پر وہ امریکی سفیر سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ ہم اس ملک کو سیاستدانوں کے

Read more

رانا اعجاز محمود سے آخری ملاقات

سوموار کے دن کا دوسرا پہر تمام ہوتا تھا جب ہم بہاولپور کے سرکٹ ہاؤس سے ملحقہ اس گھر میں پہنچے جس کے ایک کمرے میں رانا صاحب اس پلنگ پر لیٹے تھے جس کے بائیں جانب آکسیجن کے تین بڑے بڑے سلنڈر دھرے تھے۔ الٹے ہاتھ کی انگشت شہادت اس چھوٹے سے میٹر کے جبڑے میں تھی جو جسم میں آکسیجن کی سطح بتایا کرتا ہے۔ ہمارے بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی میٹر نے واویلا کیا کہ آکسیجن

Read more

نسیم اللہ شیخ: ہمارے شہر کا زندہ دل آدمی تھا جو نہ رہا

گورنمنٹ سر سید کالج گجرات کے اساتذہ اور طلباء کے علاوہ کچھ جانے پہچانے چہرے کالج کے آفس کے بھی یاد آتے ہیں۔ جن میں نسیم اللہ شیخ، محمد اسلم، محمد اصغر (چاچا اصغر) اور خادم حسین بھی شامل ہیں۔ مگر آج ”ذکر نسیم“ ہو جائے

نسیم اللہ شیخ بڑے خوش وضع، خوش لباس اور دلچسپ شخصیت کے مالک تھے۔ وہ پرنسپل کالج اے۔ یو۔ سہگل مرحوم اور پبلک ماڈل سکول کے پرنسپل شفقت اللہ شیخ مرحوم کے بھانجے تھے۔ وہ کالج سے 1980 کی دہائی کے آخری سالوں میں ہیڈ کلرک بن کر ریٹائر ہوئے۔ دوران سروس وہ زیادہ عرصہ بیرون ملک لمبی چھٹیوں پر رہتے تھے۔

Read more

وسیم اکرم پلس کا ان سوئنگ یارکر

شاباش بزدار صاحب شاباش۔ ۔ ۔ ہمارے بزدار صاحب نے ثابت کر دیا کہ وہ کپتان کا غلط انتخاب نہیں ہیں۔ سوئنگ شوئنگ کرنا جانتے ہیں، گلیاں اڑا سکتے ہیں۔ 35 سال کی تحقیقاتی صحافت کرنے والے تو نری جھک مارتے رہے ہیں۔ انہیں تونسہ شریف کے اس شریف النفس وزیراعلیٰ کی صلاحیتوں کا کیا پتہ؟ ان کی ذہانت، فطانت غیر مسلمہ صحیح لیکن ہے تو صحیح۔ پنجاب کے پسماندہ علاقہ سے کسی کا سیاست میں ماسٹر کرنا خالہ جی کے گھر کا باڑا نہیں کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا پھلانگ کر اندر آ جائے۔

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( 2 )

بے نظیر بھٹو کے بعد پنجاب سے پیپلز پارٹی کی بیدخلی کی سب سے بڑی وجہ مفاہمت کی پالیسی تھی۔ اگرچہ یہ نعرہ خود محترمہ نے لگایا لیکن وہ اس کا مطلب سیاسی پسپائی نہیں لیتی تھیں۔ آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے کے لئے بہت سی قوتوں سے مصالحت کرنا پڑی۔ ایسے وقت میں جب بے نظیر بھٹو دنیا سے رخصت ہو چکی تھیں آصف علی زرداری کو وہ شرائط یاد کروائی گئیں جو جنرل پرویز مشرف کی ٹیم نے رہا کرتے وقت ان سے منوائی تھیں۔

آصف علی زرداری نے ایک مشکل وقت میں پارٹی کو اقتدار دلایا لیکن ان کے اتحادیوں کی فرمائشوں نے ان کے مخالفین کو ایک بار پھر موقع دیا کہ وہ آصف علی زرداری پر کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگا سکیں۔ آصف علی زرداری نے کسی کو ناراض نہیں ہونے دیا۔ نواز شریف کی خواہش تھی کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی ان کی حریف نہ رہے۔ نواز شریف کی یہ خواہش پوری ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کے جن کارکنوں اور رہنماؤں نے برسہا برس تک ضیاء الحق اور پھر نواز شریف سے لڑائی کی تھی ان کے لئے مفاہمت کی نئی تشریح ناقابل قبول تھی۔

Read more

نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کا ”مشترکہ“ جج کون تھا؟

عدلیہ سے بنا کے رکھنے اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو راضی اور ہو سکے تو اپنی جیب میں رکھنے کے رویہ کے حوالے سے نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو، دونوں کا مائنڈ سیٹ ایک اور سیاسی کردار یکساں رہا ہے، بدقسمتی سے 90 ء کے بعد کی دو دہائیوں میں اس ملک میں ’نون‘ لیگ اور پیپلزپارٹی، دونوں ہی بڑی سیاسی جماعتوں کی تاریخ یکساں ”روشن“ ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس دور میں پنجاب میں ایف آئی اے کا ایک افسر احمد ریاض شیخ جو بعد میں کسی نہ کسی طرح ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ تک پہنچا اور پی پی پی کی شرمیلا فاروقی کا سسر ہے، اور لاہور ہائی کورٹ کا ایک جج

Read more

بدلتے حالات میں پیپلزپارٹی کا کردار

حکومت کی کمزور ہوتی گرفت اور اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سرپرستی کم ہونے کی خبروں نے مولانا فضل الرحمان‘ شہباز شریف‘ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کو الگ الگ سطح پر متحرک کر دیا ہے۔ مولانا نے اختر مینگل والا محاذ سنبھالا‘بلاول نے پی ٹی ایم کے منتخب افراد سے رابطے کئے۔ شہباز شریف کورونا کی آڑ میں آرمی چیف سے صحت یابی کی دعا بذریعہ فون لے چکے ہیں۔ انہیں ایسے امکانات دکھائی دے رہے ہیں کہ سول

Read more

امید کا سفر جاری رہتا ہے

عمران خان کی سرکار کو جمہوریت کی وجہ سے بہت ڈھارس ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ قومی اور صوبائی ممبران اسمبلی اپنی حیثیت اور اہمیت کا اندازہ رکھتے ہیں بس خرابی کیا ہے عمران خان سنجیدہ ہے اور وہ سب جو حزب اختلاف سے تعلق بتاتے ہیں رنجیدہ ہیں۔ آئے دن نفرت اور تکبر کے پرچار سے میڈیا کو اپنا دکھ سناتے ہیں۔ بے چارہ بلاول پہلے تو سابق صدر آصف علی زرداری کے زیر سایہ رہا۔ اس کو چھایا تو میسر آئی مگر اس کی سیاسی آبیاری نہ ہو سکی۔

دوسری جماعت مسلم لیگ نواز اس جنگ میں اندرون خانہ شدت سے تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ان کے خوشگوار تعلقات اپنے پرانے حریف مسلم لیگ ق کے ساتھ کسی نئے اتحاد کی بنیاد رکھتے نظر آرہے ہیں۔ ان کا جذبہ ایمانی کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ ایسے میں عمران خان کو مکمل اندازہ ہے کہ اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ اس کی اس کو زیادہ فکر نہیں۔ اس سے پہلے جمہوریت کے سایہ کے نیچے دو وزیر اعظموں کو عدالت برخواست کرچکی ہے۔

Read more

عورت اور تشدد

دوستوں کے ہمراہ چائے کی نشست پر دوران گفتگو بات نکل پڑی کہ کیا ابھی بھی ہمارے علاقے (جنوبی پنجاب) میں مرد حضرات اپنی بیویوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں؟ اسی روز رات کو والدہ محترمہ کو بات کرتے سنا کہ کسی دور کے رشتہ دار نے اپنی بیوی کو اس قدر بے رحمی سے پیٹا کہ وہ تین دن تک آنکھوں پر سوجن باعث دیکھ نہ سکی۔ والدہ کی بات سنتے ہی نگاہیں اپنی بہنوں پر مرکوز ہو گئیں اور بے شمار خدشات دماغ میں رقص کرنے لگے۔ جنوبی پنجاب ہی کیوں، پورے پنجاب بلکہ پاکستانی سماج کے مختلف حصوں اور علاقوں میں ظلم و ستم کی یہ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ ظالمانہ نظام کے ہاتھوں بے بس ہو جانے والا مرد جب ہر جگہ اپنی طاقت کو کمزور اور خود کو لاچار پاتا ہے تو اپنی بے بسی دور کرنے خاطر تمام تر مردانگی بیوی پر ہاتھ اٹھانے میں صرف کرتا ہے۔

Read more

عہد حاضر کا استاد اور پروفیسر وارث میر

” کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی میں اس کے اہل فکر و دانش کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہ طبقہ جس قدر عصری تقاضوں کو سمجھنے اور تاریک راہوں میں روشنی کے چراغ جلانے والا ہو، اسی قدر تیزی سے وہ قوم ترقی کی منازل طے کرتی ہے لیکن جس قوم کا دانشور طبقہ اپنے کردار سے غافل ہو جائے یا اس کی ادائیگی سے پہلو تہی کرے، اس قوم کے زوال کے امکانات بھی اسی قدر بڑھ جاتے ہیں“

یہ الفاظ صحافت کے عظیم استاد اور حریت فکر کے مجاہد پروفیسر وارث میر کے ایک مضمون کے ہیں جو عہد حاضر کے اساتذہ اور اہل فکر و دانش کے لیے سنہری حروف کا درجہ رکھتے ہیں۔ آج کے دن نو جولائی کو تینتیس برس قبل وفات پا جانے والے صحافت کے عظیم استاد پروفیسر وارث میر کی فکر انگیز تحریریں، عملی جدوجہد اور بلند حوصلہ و کردار عہد حاضر کے اساتذہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔ پروفیسر وارث میر نے ضیا کی بدترین آمریت کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے استاد ہونے کے باوجود حریت فکر کا علم بلند رکھا اور سیاسی، سماجی و مذہبی مسائل پر اپنی تحریروں کے ذریعے فکری رہنمائی کی، چالیس سال قبل لکھی گئی آزادی اظہار رائے، خواتین کے حقوق، فوج کے سیاسی کردار، جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر ان کی فکر انگیز تحریریں آج بھی تازہ محسوس ہوتی ہیں۔

Read more

پی ٹی آئی برسرِ اقتدار کب آئے گی؟

یہ جولائی کا مہینہ ہے ،کہیں شدید گرمی،کہیں طوفا نی بارشیں۔یہ دوسال اُدھر کی بات ہے۔یہی دِن تھے،سن تھا دوہزاراَٹھارہ۔ملک بھر میں نئے انتخابات ہونے جارہے تھے۔جولائی عام انتخابات کا مہینہ تھا۔ملک کی انتخابی تاریخ میں یہ گیارھویں عام انتخابات تھے اور دوہزارآٹھ کے بعد دوسری بار اقتدار ایک سیاسی جماعت سے دوسری سیاسی جماعت کو منتقل ہو ناتھا۔ انتخابی عمل کا یہ تسلسل ،حقیقی تبدیلی کا نشان سمجھا جارہا تھا۔ پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی

Read more

’دی گریٹ گیم‘: قراقرم کی چوٹیوں کے سائے میں روسی اور برطانوی جاسوسوں کی آنکھ مچولی

یاد رہے کہ جن پہاڑی سلسلوں میں آج چین اور انڈیا آمنے سامنے ہیں وہاں پہلی بار بڑی عالمی طاقتیں آمنے سامنے نہیں آئی ہیں۔ ماضی میں یہ علاقہ روس، چین اور برطانوی انڈیا کے درمیان ایک بڑی کشمکش دیکھ چکا ہے۔

Read more

کورونا وائرس: کیا پاکستان میں کووِڈ 19 کی وبا اپنے عروج سے گزر چکی ہے؟

چند حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ دعوی کیا جانے لگا جانے لگا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے حوالے سے معاملات جولائی کے پہلے ہفتے میں بہتری کی طرف جانے لگے ہیں تاہم ماہرین کے مطابق یہ کہنا درست نہیں ہے کہ پاکستان اس وائرس کے عروج سے گزر چکا ہے۔

Read more

ویلڈن۔ ۔ ۔ گیریزن یونیورسٹی

پچھلے کئی مہینوں سے اس عالمی وبا کورونا کی وجہ سے سب کچھ ٹھپ پڑا ہے، کاروبار زندگی مفلوج ہے، طویل لاک ڈاؤن اور پھر سمارٹ لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے عوام گھروں تک محدود ہیں، لمبے عرصے تک سڑکیں سنسان، پارکس ویران، گلیاں خالی دیکھنے کو ملیں۔ ملکی معیشت شدید نقصان کی زد میں اور روزگار نہ ہونے کے برابر، اس تمام منظرنامہ میں تعلیم کے شعبہ کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، چاہے وہ معاشی نقصان

Read more

پونڈی

جو لوگ اس ترکیب اور اس کے ’ترکیب استعمال‘ سے ناواقف ہیں ان پرافسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ ویسے ان سے تعزیت بھی بنتی ہے کہ بقول شخصے ”افسوس ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے“ ۔ اس ’اصطلاح‘ سے کماحقہ آگاہی کے لیے کسی ڈکشنری کا سہارا مت لیں بلکہ ایسا کریں کہ پہلی فرصت میں کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں۔ ہمیں بھی کافی عرصہ تک پطرس کا ’ٹھنڈی سڑک کی سیرکو نکل گئے‘ سمجھ نہ آتا

Read more

آگ کے کھیل میں سرکار کی مدد۔ ۔ ۔

گزشتہ دنوں ایک سفر کرنا پڑا کہ جو جنڈ شہر (اٹک) سے خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ تک کا تھا۔ ان دونوں شہروں کے درمیان لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت ہے جو اس دوران دریائے سندھ کے بے باک بہاؤ سے بھی آپ کو آشنا کرتی ہے۔ اس مقام کو خوشحال گڑھ کہتے ہیں۔ اطراف کی آبادی زیادہ تر دریا کے نظارے سے لطف اٹھانے کے لیے خوشحال گڑھ پہنچ جاتی ہے۔ شاہراہ جو راولپنڈی سے کوہاٹ تک ہے، آج کل زیر مرمت ہے لہذا سفر باعث کوفت ہی رہتا ہے۔ ہمارا سفر بھی چونکہ مجبوراً تھا، اس لیے اختیار کرنا پڑا۔ قابل ذکر اس جنگ کی صورتحال ہے جو کورونا کے نام پہ لڑی جا رہی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ یہ جنگ خیبرپختونخوا میں کس طرح لڑی جا رہی ہے، جہاں حکمران جماعت کے مسلسل سات سال مکمل ہونے کو ہیں۔

جیسے ہی ہم پنجاب کے حدود سے نکلے تو جو کچھ ہمارے تصور میں تھا حالات اس سے زیادہ بھیانک تھے۔ عموماً جب حکومت کی کارکردگی زیر بحث ہوتی ہے تو تمام دوست احباب جو حکمران پارٹی کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، وہ ڈٹ کے مقابلہ کرتے ہیں۔ مجھے پسپائی پہ ندامت نہیں ہوتی اور نہ ہی حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ میرے سامنے کی حقیقت مجھے زیادہ قائل کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ دعوے میں اور عمل میں کتنی بڑی خلیج حائل ہے، یہ دیکھنا کوئی مشکل نہیں۔

Read more

تحریک انصاف کو سندھ میں پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ قبول نہیں

شپنگ کے وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے سندھ حکومت کی طرف سے جاری کی گئی تین جے آئی ٹی رپورٹوں کو غیر مصدقہ اور متنازع قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے اپیل کی ہے کہ وہ سو موٹو ایکشن لے کر پیش کردہ رپورٹوں کی اصلیت سامنے لائیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سندھ حکومت نے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے ان رپورٹوں میں رد و بدل کیا ہے۔ وفاقی وزیر کو

Read more

بہاولپور کے سربراوردہ دانش ور رانا اعجاز محمود رخصت ہو گئے

معروف ترقی پسند دانشور، صحافی اور ڈائریکٹرتعلقات عامہ بہاولپور رانا اعجاز محمود بدھ کے روز بہاولپور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 56 برس تھی اور وہ گزشتہ چند ماہ سے ذیابیطیس سمیت مختلف عوارض کا شکار تھے۔ چند ہفتے قبل رانا اعجاز محمود کو تشویشناک حالت میں لیہ منتقل کیا گیا تاہم طبیعت سنبھلنے کے بعد وہ واپس بہاولپور واپس آگئے ان کی طبیعت اب بہتر ہو چکی تھی۔ گزشتہ دو روز کے دوران ان سے آصف خان

Read more

جنسی ہراسگی کا آسان علاج

لاہور کے معروف نجی تعلیمی ادارے میں طالبات کے خلاف ہونے والا جنسی ہراسگی کا افسوسناک واقعہ پہلا سانحہ ہے نہ آخری۔ اس سے قبل بھی ملک میں اس طرح کے واقعات وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ایسے واقعات کے خلاف حسب توفیق آواز بھی اٹھاتے ہیں اور مذمت بھی کرتے ہیں۔ ایسے واقعات صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ مہذب مغربی ممالک سمیت دنیا کے ہر ملک میں ہوتے رہتے ہیں۔

Read more

کشمیر کو بچا لو: جبار مرزا کا کشمیری نوحہ

کون با ذوق قاری ہو گا جو جبار مرزا کو نہیں جانتا۔ آپ انہیں دنیائے شعر و ادب اور تحقیقی صحافت کے امام کا درجہ سکتے ہیں۔ اعلیٰ پایہ کے نثر نگا ر سینئر صحافی، محقق، مورخ، سوانح نویس، مدیر اور کالم نگار یہ آپ کی شخصیت کے مستند حوالے ہیں۔ ” کشمیر کو بچا لو“ جبار مرزا کی 21 ویں اہم اور تاریخی دستاویز پر مشتمل کتاب ہے۔ جو حالیہ کرونائی عہد میں لکھی گئی ہے۔ کشمیر جبار مرزا

Read more

بانیان پاکستان اور ملک کی موجودہ صورتحال!

مؤرخ ’مصنف‘ کالم نویس ’منتظم ڈاکٹر صفدر محمود ادارہ قومی تحقیق و حوالہ‘ وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں 1971 ء میں اعلیٰ مرکزی سروسز کے لئے منتخب ہوئے اور مختلف انتظامی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر صفدر محمود حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت اور بعد ازاں محکمہ تعلیم کے سیکرٹری بھی رہے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ پاکستانیات میں تعلیم دیتے رہے ’پوسٹ گریجوایٹ کلاسز کو نہ صرف تاریخ پاکستان کی تعلیم

Read more

عظمیٰ کاردار: پی ٹی آئی میں داخلی سازشیں

عظمیٰ کاردار ایک ہی دن میں آڈیو ٹیپ سکینڈل کے باعث تحریک انصاف کے لیے اجنبی بن گئیں وہ جماعت جو انہیں از حد عزیز تھی۔ عظمیٰ کاردار ان کارکنوں میں شامل تھیں جو آسودہ حال زندگی گزارنے کے باوجود ملک میں ایسی تبدیلی کے خواہش مند ہیں جس میں سب کو انصاف ملتا ہو‘ بدعنوانی نہ ہو‘ نظام شفاف ہو اور ملک ترقی کر رہا ہو۔ انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد خود کو ہر اس موقع

Read more

نجی ٹی وی کا سیاسی اداکار اور عثمان بزدار

جب سے نجی ٹی وی چینل شروع ہوئے ہیں، اود بلاؤ اینکر بن گئے ہیں اور قوم کو عذاب میں ڈالے رکھتے ہیں، ایسی ایسی بریکنگ نیوز دیتے ہیں کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے، نجی ٹی وی چینلز آنے سے جتنی لاٹری اینکرز کی نکلی ہے اتنی شاید میڈیا مالکان کی بھی نہیں نکلی، مجھے یاد ہے کہ جب ایکسپریس نیوز ٹی وی چینل شروع ہوا تو ہمارے گروپ ایڈیٹر اور صحافیوں کے ہر دلعزیز صحافی عباس

Read more

پاکستان میں صحافتی کتب کا المیہ

پاکستان میں صحافت سے وابستہ اور اس سے دل چسپی رکھنے والے کچھ سمجھ دار اور باشعور لوگ اکثر اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ آج کے صحافی یا صحافی ہونے کے دعویدار اکثر لوگ صحافتی قدروں سے ناواقف ہیں اور اپنے منہ میاں مٹھو بنے رہتے ہیں۔ ان کی اکثریت دائیں بازو کے قوم پرستانہ اور مذہبی کے ساتھ ساتھ تنگ نظر فرقہ وارانہ سوچ کی حامل ہے۔ صحافت کی بنیادی اقدار جن میں تنگ نظری اور قوم

Read more

نئے وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے کن آپشنز پر غور ہو رہا ہے؟

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے گورنری چھوڑنے کے بدلے وفاق میں پانی و بجلی کے مشیر کا عہدہ مانگ لیا اور اگلے الیکشن کے بعد مرکز یا صوبے میں ”بڑی کرسی“ کو ہدف بنا لیا ہے۔ دوسری طرف نئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے سنٹرل پنجاب سے مختلف آپشنز پر غور شروع ہوگیا جبکہ لاہور سے زیر غور امید واروں میں میاں اسلم اقبال کو ترجیح حاصل ہے۔ اس کے علاوہ عثمان بزدار کی تبدیلی صوبے میں بلدیاتی انتخابات تک

Read more

ہارون رشید کے نام ایک خط

محترم ہارون رشید صاحب۔ امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ اور ہوں گے بھی کیوں نہیں؟ آخر آپ ربع مسکوں میں واحد مرد مجاہد ہیں جو سارے عالم اسلام کے دشمنوں کے سامنے ڈٹے ہیں اور گاہے بگاہے ان دشمنانان ملت کے کالے کرتوں میں ملوث دیسی خبر گیروں کو بے نقاب بھی کرتے رہتے ہیں۔ اب اگر خدا نے آپ کے ذمے اتنا اہم کام سونپا ہے تو ظاہر ہے اسے آپ کی صحت اور تندرستی کا

Read more

پاکستان میں غیر مسلم کیمونٹی کا کردار

بیرونی ممالک میں عقائد یا مذہبی آزادی کی آزادی کے تعین کے لئے امریکی کمیشن کی تشکیل کردہ USCIRF نے امریکی صدر، وزیر داخلہ اور کانگریس کو سالانہ رپورٹ 2020 میں سفارشات پیش کیں کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ایک واحب التعمیل معاہدہ کیا جائے، جس کے مطابق مذہب یا عقیدے کی وجہ سے جیل میں ڈالے گئے توہین رسالت (ﷺ) کے قیدیوں اور دیگر افراد کو رہا کیا جائے اورجب تک ان کی تنسیخ کا عمل مکمل نہیں ہو

Read more

عدالتی اصلاح کے نام  پر کون سا ادارہ تباہ کیا جائے گا؟

خبر ہے کہ تحریک انصاف کے ایک وفاقی وزیر نے بجٹ سیشن کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے رابطہ کرکے اسے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ اگر اپوزیشن ایسی تحریک لاتی ہے تو تحریک انصاف کے دس بارہ ارکان قومی اسمبلی بھی اس کی حمایت کریں گے۔ مسلم لیگ (ن) نے البتہ اس تجویز پر عمل کرنے سے گریز کیا۔ انگریزی اخبار دی نیوز کی اس رپورٹ میں

Read more

بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر

سات مارچ 1975 بروز جمعہ کی شام مرنے والی میری دادی غلام فاطمہ کشمیر کے کسی نامعلوم قصبے سے آنے والی یتیم بچی تھی جو لدھیانہ میں دادا کی موجودگی میں باپ کی موت کے باعث جائیداد سے محروم ہونے والے یتیم و یسیر پنجابی راجپوت محمد علی خان سے 1911 میں بیاہی گئی۔ مجھے تفصیل ٹھیک سے معلوم نہیں کہ سفید پوش گھرانوں میں ماضی چھپانے کی ثقافت ہوتی ہے۔ غربت، ذلت اور بے بسی کے سلسلہ وار المیے

Read more

سلطانہ ڈاکو اور برصغیر کے چند مشہور ’لٹیروں‘ کی داستانِ حیات

سلطانہ ہر ڈاکے کی منصوبہ بندی بڑی احتیاط کے ساتھ کرتا اور ہمیشہ کامیاب لوٹتا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے نڈر طریقے سے ڈاکہ ڈالتا تھا۔ وہ خون بہانے سے حتیٰ المقدور گریز کرتا لیکن اگر کوئی شکار مزاحمت کرتا تو وہ ان کو قتل کرنے سے دریغ نہیں کرتا تھا۔

Read more

تاریخ کا بہاؤ اور مجسمے ماضی کے

برطانیہ میں آج کل عہد رفتہ کے زعما کے بنائے گئے مجسمے گرانے کی تحریک زوروں پر ہے، جس میں کچھ شدت پسندی کی جھلک بھی نظر آ تی ہے۔ سترہویں صدی کی کامیاب کاروباری شخصیت ایڈورڈ کولوسٹن، جو کہ غلاموں کی تجارت کے حوالے سے مشہور تھے، کا مجسمہ برسٹل کے علاقے میں گرا دیا گیا۔ اس تحریک کے محرک ’بلیک لائیوز میٹر‘ کے مظاہرین تھے جن کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ایسے تمام مجسمے سیاہ فام اور چند دوسری نسلوں کے خلاف استحصالی قوتوں کی علامت ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے ایک اور سیاہ فام غلاموں کے تاجر رابرٹ میلیگن کا مجسمہ مشرقی لندن کے علاقے کی مقامی کونسل نے مظاہروں کے ڈر سے ہٹا دیا ہے۔

Read more

اردو زبان کی تاریخ پر سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث: ’ہماری قومی زبان کے نام پر داغ کون لگا رہا ہے؟‘

اردو زبان کے وجود میں آنے سے متعلق یہ بحث شاید سوشل میڈیا پر زیادہ دیر نہ چلتی اگر عروج اورنگزیب داغ کے شعر کا سر پیر توڑ کر ٹویٹ نہ کرتیں۔۔۔

Read more

جناب وزیر اعظم ، وقت معاف نہیں کرتا۔۔۔

جس طرح برطانیہ کے موسم میں آسماں کا رنگ بدلنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی اسی طرح پاکستانی قلزم سیاست میں بھی آنکھ جھپکتے ہی بھنور بن جاتے میں۔ تیز دھوپ کی جگہ یکدم مطلع ابر آلود ہو جانا ، بارشیں شروع ہو جانا برطانیہ کے موسم کی خصوصیت ہے اسی لیے محاورۃً کہا جاتا ہے کہ آپ تو انگریزی موسم کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ کچھ یہی حال پاکستانی سیاست کا ہے جہاں حکمرانوں کا سنگھاسن ڈولنے میں زیادہ

Read more

عالم لوہار: ثقافت کا نمائندہ

ریڈیو کی آواز ہمارے پرانے کلچر کا حصہ تھی۔ کسی بزرگ کے ریڈیو کی آواز پورے محلے میں گونجا کرتی تھی۔ ریڈیو پر علی الصبح تلاوت، قوالی، خبروں کے علاوہ قومی نغمات اور فوک گیت، روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔ فوک گلوکار مثلاً عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی، شوکت علی، ایسی آوازیں تھیں جو ہمارے اپنے اندر کی آویزیں محسوس ہوتی تھیں۔ فوک گیت کی عام سی پہچان ہی یہ ہے کہ اسے سن کر کسی کے پاؤں نہ ہلیں

Read more

گریڈ 16 کے SSE اساتذہ کے ساتھ سوتیلی اولاد جیسا سلوک کیوں؟

تعلیم اور اساتذہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے انتہائی ضروری ہیں۔ اساتذہ معاشرے کی تربیت کرتے ہیں اور نئی نسل جس نے کل کو ملک چلانا ہوتا ہے ان کو تعلیم دیتے ہیں، ہجوموں کو قوم بناتے ہیں اور بے شعوروں کا شعور دیتے ہیں۔ اگر اساتذہ اپنا فریضہ اچھے طریقے سے سرانجام نہ دیں تو پورا معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اساتذہ ہی طلباء کا مستقبل محفوظ بناتے ہیں اور اگر طلباء کا مستقبل محفوظ

Read more

مولانا آزاد کی پاکستان سے متعلق پیش گوئیاں

میری پوری زندگی، ایک کھلی کتاب ہے میں بے غرض ہوں، اور جو بے غرض ہوتا ہے، بے پناہ ہوتا ہے آپ سمجھے بے پناہ کون ہوتا ہے؟ نہیں آپ نہیں سمجھے، میں بتاؤں بے پناہ وہ ہوتا ہے، جسے کوئی تلوار کاٹ نہیں سکتی انڈین پارلیمنٹ میں فرقہ پرست ہندوؤں سے خطاب کرتے ہوئے یہ غیر معمولی الفاظ ہندوستان کی ایک قد آور علمی و سیاسی شخصیت مولانا ابوالکلام آزاد کے تھے۔ پارلیمنٹ سے اس خطاب پر نئی دہلی

Read more

آہ! کامریڈ رشید مصباح

معروف ترقی پسند نقاد اور افسانہ نگار رشید مصباح بھی چل بسے۔ ایک طویل عرصہ تنہائی اور بیماری سے جنگ لڑتے ہوئے گزری اور دو جون کو ہمیشہ کے لیے دنیا سے کنارہ کر لیا۔ میرا ان سے محبت کا تعلق دس سالوں پر محیط ہے، کتنی کہانیاں، کتنے واقعات، کتنے سفر، کتنی یادیں اورکتنی تقریبات ہیں۔ کس کس بات کا ذکر کروں، کون سی یاد تازہ کروں۔ ان کی افسانہ نگاری (سوچ کی داشتہ، گمشدہ آدمی، آکاس بیل) پہ

Read more

ضیا الحق کا پاکستان

آج ہم سب مل کر پاکستان کی کہانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہیں کہیں اس کہانی کے چھوٹے بڑے مسائل پر بھی غور کرتے ہیں۔ اب یہ ہم سب پر منحصر ہے کہ خرابیوں کو کیسے سمجھتے ہیں، اور ان خرابیوں کا حل کیا دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی کہانی کو مسلم لیگ سے شروع کرتے ہیں۔ مسلم لیگ 1906 میں ڈھاکہ کے اندر بنائی گئی تھی۔ یہ سیاسی جماعت بن تو گئی، لیکن اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جماعت کو بنانے والوں نے 1916 تک کسی قسم کی ممبرشپ نہیں کی۔

اس لئے یہ ایک معمولی اور محدود سیاسی جماعت تھی، جس کا کوئی واضح ایجنڈا نہیں تھا۔ 1916 میں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان لکھنو میں ایک معاہدہ ہوا جسے تاریخ میں لکھنو پیکٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس پیکٹ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ کیسے ہو؟ اس کے بعد مسلم لیگ پھر لمبی تان کر سو گئی۔ مطلب پس پردہ چلی گئی۔ پھر گھونگھٹ میں بیٹھ گئی۔ اسی دوران 1920 سے 1924 کے درمیان خلافت تحریک کا آغاز ہو گیا۔ اسی عرصے کے دوران مسلم لیگ شرمیلی دلہن کی طرح منہ چھپا کر دولہے کے کمرے میں سجی سنوری بیٹھی رہی۔ مطلب مسلم لیگ باجی منظر سے غائب ہو گئی۔ پھر ایک دم مسلم لیگ کا ذکر 1937 میں کیا جانے لگا۔

Read more

سمارٹ لاک ڈاؤن کی کامیابی کی حقیقت

پنجاب میں سمارٹ لاک ڈاؤن سے کیسز میں واضح کمی ہوئی ہے۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران بڑے شہروں کے مخصوص کاروباری اور رہائشی علاقوں کو سیل کیا گیا۔ جہاں پر کیسز کی تعداد زیادہ تھی۔ وہاں پر آمدورفت کم سے کم رکھی گئی رہائشی علاقوں کے اندر واقع مارکیٹیں بند کی گئیں۔ زیادہ رش والے بازار بند رکھے گئے انتظامیہ نے کافی تندہی سے کام کیا اور سیکورٹی فورسز بھی ان کی مدد کے لئے موجود رہیں۔ حکومت لاک ڈاؤن کو اپنی بڑی کامیابی بتا رہی ہے۔

تاہم کئی علاقوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے خدشہ ہے کہ کیسز دوبارہ نہ بڑھ جائیں۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کو سیدھے لفظوں میں جزوی لاک ڈاؤن کہیں گے سمارٹ کا لفظ تو ویسے سمارٹ لگنے کے لئے استعمال کیا گیا۔ اب ثابت یہ ہوتا ہے کہ جب جزوی لاک ڈاؤن سے یہ حوصلہ افزا نتائج حاصل کر لئے گئے تو مکمل لاک ڈاؤن اگر کچھ ہفتے ہی لگا لیا جاتا تو یہ کیسز لاکھوں میں کبھی نہ پہنچتے۔ اب تو ہم دو لاکھ کے کیسز والے ایلیٹ کلب میں شامل ہو چکے ہیں۔ آج ہم دنیا کے دو سو سے زائد ممالک کے ہوتے ہوئے بارہویں نمبر پر موجود ہیں اور عظیم براعظم ایشیا میں تیسرے نمبر پر براجمان ہیں اور موجودہ رفتار سے کچھ دن میں ایشیا میں دوسرے نمبر پر اور دنیا میں چھٹے یا ساتویں نمبر پر ہوں گے لیکن لگتا ہے موجودہ حکمران تو سمجھتے ہیں کہ

Read more

رشید مصباح۔ دلچسپ و عجیب شخص

لکھاری لوگ بہت ہی عجیب ہوتے ہیں، چاہے وہ کچھ بھی نہ لکھتے ہوں۔ اردو لکھاریوں میں آج کل سب سے پہلے مطالعہ بند کر دیا جاتا ہے۔ اس سے شاید انھیں لکھنے میں آسانی ہوتی ہے جو بندھے ٹکے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق ہو، باقی کام سیلف سنسر شپ کر دیتی ہے۔ اس طرح کوئی بھی ایسا عنصر تحریر اور لکھاری کی شخصیت سے خارج ہو جاتا ہے جو ذرا سی بھی ہلچل پیدا کر سکتا ہو۔ ہاں اردو ادب میں جنسی واقعات یا جسم نگاری کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔

نقادوں نے بھی اسی معاشرے اور انھی لکھاریوں میں زندہ رہنا ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ بھی اسی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔ اور زیادہ تر نقاد تو ویسے بھی ”استاد“ ہیں جو 1980 ء یا 1990 ء کی دہائی والے نوٹس ہی طلبا کو رٹائے جاتے ہیں۔ حال ہی میں پروفیسر ہود بھائی نے اپنے استعفے میں ذکر کیا ہے کہ فزکس کے ایک پروفیسر صاحب کے نوٹس پر 1976 ء کی تاریخ تھی۔ حالانکہ فزکس میں تو سال بہ سال بہت کچھ بدلتا اور نیا شامل ہوتا رہتا ہے۔

Read more

مندر نہیں بنے گا!

یقین نہیں آتا کہ یہ وہی ملک ہے جہاں 60 کے عشرے تک جو 22 سرکاری چھٹیاں ہوتی تھیں، ان میں 25 تا 31 دسمبر کرسمس کی ایک ہفتے کی چھٹیوں کے علاوہ ایسٹر، بیساکھی، دسہرے، دیوالی اور ہولی کو بھی قومی تعطیل کا درجہ حاصل تھا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

کرونا کے دنوں میں فاصلاتی نظام تعلیم و تدریس۔ ایک قابل تحسین اقدام

تعلیم و تدریس میں ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کے ساتھ ساتھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ خاص طور پر موجودہ دور میں اس کی افادیت اور اہمیت دو گنا ہو گئی ہے۔ اب جبکہ کرونا کی وبا کی وجہ سے تعلیمی ادارے گزشتہ مارچ سے بند پڑے ہیں اور کروڑوں طلبہ و طالبات اپنے اپنے گھروں میں محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ بچوں کا تعلیمی حرج روکنے اور انہیں اپنی پڑھائی سے منسلک رکھنے کی غرض سے بہت سے تعلیمی اداروں نے فاصلاتی نظام تعلیم و تدریس یعنی آن لائن ایجوکیشن سسٹم متعارف کرایا ہے۔ ہر ادارہ اور اس کی انتظامیہ اپنی اپنی بساط اور رسائی کے مطابق اس نظام کو بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت نے بھی تعلیم گھر اور ٹیلی سکول کے نام سے اس مقصد کے لیے پراجیکٹ ایپلی کیشن کا استعمال متعارف کرایا ہے۔

Read more

نئے نجات دہندے کی کلوننگ

قیام پاکستان کے بعد سے دور حاضرمیں تیسری مرتبہ ایسا ہوا کہ اقتدار کی منتقلی میں جبرا کسی حکمراں کو برطرف نہیں کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنی اقتدار کی مدت کو مکمل کیا اور عبوری حکومت کے زیر سایہ عام اتخابات ہوئے۔ اس وقت وزیراعظم عمران خان کو مائنس کرنے کی افواہوں نے زور پکڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم اور ان کے وزیر باتدبیر نے تو یہ بھی کہا کہ اگر عمران خان مائنس

Read more

منافقت نہیں، انسانیت چاہیے

گزشتہ دنوں ایک وائرل وڈیو نظر سے گزری جس میں ایک تین سالہ کشمیری بچہ ایک لاش کے اوپر بیٹھا رو رہا تھا۔ دوسری کلپ میں دیکھا کہ بچہ ہچکیوں سے روتا ہوا بمشکل بتاتا ہے کہ وہ لاش اس کے نانا کی تھی جنھیں بھارتی فوجیوں نے اس کی آنکھ کے سامنے گولیوں سے قتل کر دیا۔ بچے کے ننھے منے ہاتھوں میں چپس، بسکٹ کی تھیلیاں دیکھ کر اس پر مزید پیار آنے لگتا ہے۔ معصوم بچے کے

Read more

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور۔ آؤ چلیں اس راہ پر

کسی نے کہا تھا، کہ خواب وہ نہیں ہیں جو آپ کو سوتے میں نظر آئیں بلکہ خواب وہ ہیں جو آپ کو سونے نہ دیں۔ اور اصل میں یہ وہ خواب ہیں جو سوچنے کا انداز بدل دیتے ہیں، جینے کا ڈھنگ بتا دیتے ہیں، سیکھتے رہنے کی اہمیت سمجھا دیتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ایسے خوابوں کے پیچھے جانے کے لیے یونیورسٹی سے بہتر جگہ نہیں ہو سکتی۔ اور یہاں یونیورسٹی سے میری مراد، اعلیٰ تعلیم کا وہ ادارہ جو اپنے وجود کے جواز سے واقف بھی ہو، اور اس چیز کو ثابت کرنے کی اسے ضرورت بھی نہ ہو۔ یعنی کہ وہ صحیح معنوں میں ”اعلیٰ“ تعلیم کا ادارہ ہو، جہاں تعلیم، تدریس، تحقیق، سوچ، کردار، نظریہ، عمل، غرض کہ سب کچھ اعلیٰ اور ارفع ہو۔

پاکستان میں اس وقت دو سو سے زائد جامعات ہیں، اور چند ایک کو چھوڑ کر سب کا شمار ینگ یونیورسٹیز ( young universities) میں کر سکتے ہیں (ٹائمز ہائر ایجوکیشن کے مطابق جن یونیورسٹیوں کو بنے پچاس سال سے کم عرصہ ہوا ہو، وہ ینگ یونیورسٹیز کی کیٹیگری میں آتے ہیں ) ۔ یہ تمام ادارے اپنی اپنی خصوصی حیثیت اور صلاحیتوں کے مطابق اپنی متعین کردہ منزل کی طرف گامزن ہیں۔

Read more

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر اور ہمارا جذبہ ایمانی

وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی تعمیر کے لئے حکومت کی جانب سے دس کروڑ کی امداد کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں مندر کے قیام کی زبانی منظوری مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کے وفد سے ملاقات میں دی۔ اجازت کی رسمی کارروائی ابھی جاری ہے اور حتمی منظوری نہیں ہوئی ہے لیکن اس دوران ہی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری ہیومن رائیٹس لعل ملہی نے افتتاحی تعمیر ات کا آغاز کر دیا۔

وفد کے رکن لعل چند ملہی نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہندو آبادی تقریباً تین ہزار کے قریب ہے، جس میں سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین، کاروباری افراد اور ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ مہیش چوہدری نے بھی بتایا کہ بلوچستان اور سندھ سے ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد عدم تحفظ کے سبب اسلام آباد منتقل ہو گئی ہے، اور اپنے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی، مرنے والوں کی آخری رسوم، شادی، ہولی اور دیوالی کے لیے انھیں جگہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہولی اور دیوالی کی تقریبات سرکاری کمیونٹی ہالز میں منعقد کی جاتی ہیں۔

Read more

1947ء ۔۔۔ پناہ گزین کیمپ کے چند روز

دو بہنوں تین بھائیوں اور خیمہ نما برقعہ میں ملبوس ایک خیمہ ہی کی طرح ہماری حفاظت بنے چاروں طرف دیکھتی ہماری والدہ ہمیں ساتھ لئے تعلیم الاسلام سکول پہنچ چکی تھیں۔ فوراً رضاکار خواتین ہمیں ایک کمرہ میں پہنچا آئیں۔ بڑے بھائی تیرہ سال کے ہونے کی وجہ سے مردانہ کیمپ (جو غالباً ملحقہ کالج کی عمارت میں تھا) میں موجود ہمارے بہنوئی کے پاس پہنچا دیے گئے۔ کمرے سے فرنیچر نکال پرالی بچھا دی گئی تھی۔ جہاں ہر

Read more

رنگ نسل کی نفرت، سندھ کے گلی کوچوں سے سندھ کے ایوان تک

اسی ہفتے سندھ اسمبلی کے فلور پر سندھ کی برسر اقتدار پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی کی خاتون ایم پی اے کلثوم چانڈیو نے ذاتی نوک جھونک پر مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون ایم پی اے کو حقارت کے اظہار کے طور پر ”باگڑی“ کہہ کر مخاطب کیا۔ جس کے بعد سندھ میں سوشل میڈیا اور دوسرے حلقوں میں یہ گرما گرم بحث چل نکلی۔ جس پر سندھ کے قدیمی قبیلے ”باگڑی“ کے ساتھ نسلی امتیاز روا رکھنے پر اہل دانش اور اہل شعور نے ایم پی اے کلثوم چانڈیو کو آڑے ہاتھوں لیا جس پر وہ معذرت کرنے پر مجبور ہوئی۔

اصل میں بات یہاں تک ختم نہیں ہوتی۔ اگر بات کی تہہ تک جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ میں تقریباً ہر گلی محلے میں رہنے والے لوگ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اپنی گفتگو میں اس قسم کے نسلی امتیاز کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سندھ کے بہت سے مسلمان گھر میں کسی بچے یا بڑے کو گھٹیا ثابت کرنے کے لئے اسے ”باگڑی، گرگلہ، کولھی، بھیل، مارواڑی، اوڈ یا جوگی“ کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر آپ کو اور بھی تشویش ہوگی کہ یہ سب سندھ کے قدیمی غیر مسلم شیڈول کاسٹ ہیں۔

Read more

انسانیت کا عالمی اور ملکی المیہ

گلوبل ویلج میں کسی ملک کا ایک واقعہ ایک عالمگیر معاملے کے طور پر سامنے آتا ہے۔ عام لوگ خبروں، مضامین سے اتنے متاثر نہیں ہوتے لیکن تصویر یا وڈیو سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لیتی ہے۔ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے ایک شامی مہاجر بچے کی لاش کی تصویر نے دنیا کو متوجہ کیا۔ اس واقعہ پر ترکی نے شامی مہاجرین کے لئے اپنے ملک کے دروازے کھول دیے۔ حال ہی میں امریکہ میں ایک پولیس اہلکار نے ایک سیاہ فام ادھیڑ عمر کے شخص کو زمین پر گرا کر اس کی گردن کو اپنے گھٹنے سے دبا کر ہلاک کر دیا۔

وہ آدمی چلاتا رہا کہ میرا سانس رک رہا ہے لیکن اس کی موت تک پولیس اہلکار نے کوئی پرواہ نہ کی۔ اس واقعہ سے امریکہ میں ہنگاموں، عوامی مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس سے امریکہ میں حالات قابو سے باہر ہونے لگے اور امریکہ کی سیاست پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہندوستان میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم کے ہاتھوں نہتے انسان کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے متعدد واقعات کی کئی وڈیوز، تصاویر سامنے آئیں لیکن ان سے عالمی ضمیر متاثر ہوتے نظر نہیں آیا۔ اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں معصوم بچوں پر بہیمانہ تشدد اور انہیں بے دردی سے ہلاک کرنے کی کئی تصاویر، وڈیوز سامنے آتی رہتی ہیں لیکن عالمی طاقتوں کی اجارہ داری والی دنیا میں اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا جاتا۔

Read more

اپنے محبوب لیڈر ایوب خان کو ووٹ دیجئے

پاکستان کی سیاست دلچسپ بھی ہے اور مضحکہ خیز ہونے کے ساتھ ساتھ بے رحم بھی ہے۔ 1947 کے بعد ابتدائی دو دہائیوں کی سیاسی تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو سیاست کا طالب علم سر پکڑ کر بیٹھ جائے گا کہ اس مدت میں ہوتا کیا رہا۔ کمی تو خیر بعد کی دہائیوں میں بھی کوئی نہیں چھوڑی گئی تا ہم ان دو دہائیوں میں جتنی مضحکہ خیز سیاست ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ پاکستان کے انتخابات میں

Read more

خان صاحب ہم، آپ کے سپورٹر، گھبرا گئے ہیں

میں ایک شدید انصافی سپورٹر آپ سے مخاطب ہوں۔ ہم عمران خان صاحب کے ہر جائز ناجائز عمل کو آنکھیں بند کر کے سپورٹ کیا کرتے تھے۔ چاہے سول نافرمانی ہو چاہے دھرنا ہو یا کوئی جلسہ ہو ہر جگہ بغیر سوچے سمجھے پہنچ جایا کرتے تھے۔ پاکستان کی سیاست میں خان صاحب کو ایک کرشماتی شخصیت سمجھنا شروع کر دیا۔

ہم بھی اسی غلط فہمی میں کم و بیش دس سال مبتلا رہے کہ سربراہ ٹھیک ہو تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے ہمیں بڑی سے بڑی مثالیں دی گئی ہم نے من و عن سب تسلیم کر لی۔ پھر 2018 کے جنرل انتخابات آ گئے ہم نے رات دن ایک کر کے انتخابی مہم چلائی ان بزرگوں کو قائل کیا جو خان صاحب کو جانتے تک نہیں تھے۔ کئی بڑے ناراض کیے لیکن ڈٹے رہے ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے ایک بھی ووٹ ملنے کی امید تھی۔ الیکشن کا دن ہماری زندگی کا مصروف ترین دن رہا۔

Read more

مافیاز یا پاکستان

25 جولائی 2018 کی صبح ایک باپ نے بیٹے سے پوچھا ”عمران خان وزیراعظم بن گیا تو کیا کرے گا؟“ بیٹے نے جواب دیا ابا جان وہ ایک ہجوم کو قوم بنانے کے لیے لڑے گا اور مافیاز کو انجام تک پہنچائے گا۔ اداروں میں اصلاحات کرے گا۔ باپ نے پوچھا بیٹا تو سڑکیں اور نالیاں کون بنائے گا؟ بیٹے نے جواب دیا اگر وہ ہمیں ایک قوم بنانے میں کامیاب ہو گیا تو یہ سڑکیں اور نالیاں لوگ خود ہی بنا لیں گے۔ کون جانے کتنے لاکھوں باپ اور بیٹوں میں یہ مکالمہ ہوا ہوگا کیوں کہ نوجوانوں نے ہی عمران خان کو وزیراعظم بنایا اور دو پارٹی سسٹم کا خاتمہ کیا۔

ہر کسی کی یہی سوچ اور امید تھی کہ عمران خان مافیاز کو لگام ڈالے گا لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ مافیاز اتنے طاقتور ہیں۔ دیکھنے کو یہ ایک سنہرا خواب ہے جب کہ اس کی تعبیر انتہائی مشکل ہے۔ آج دو سال ہو گئے نہ ہی ہماری سڑکیں اور نالیاں بنی اور نہ ہی مافیاز پر قابو پایا جا سکا۔ عمران خان ایک محنتی اور قابل شخص ہے لیکن اس کا مقابلہ وقت کے فرعونوں سے ہے۔ یہ مافیاز وہ سانپ ہیں جن کو پچاس سال سے کھلا پلا کر بڑا کیا گیا ہے۔ ملک میں ہر چیز کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے ہر محکمے کا بیڑہ غرق کیا گیا اور آج یہ مافیاز اتنے بڑے اور طاقتور ہو گئے ہیں کہ ملک میں ہر چیز کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آ رہی۔

Read more

اسٹاک ایکسچینج کے ”4 مسنگ پرسنز“ اور اصل مسئلہ

”حامد میر کے چار مسنگ پرسنز اسٹاک ایکسچینج سے برآمد“ یہ وہ طنز ہے جو بی ایل اے کے اسٹاک ایکسچینج حملے کے بعد سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سندھ کے انچارج راجہ عمر خطاب نے پاکستان سٹاک ایکسچینج کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے کی مماثلت کسی حد تک 2018 ء میں چینی قونصلیٹ پر ہونے والے حملے سے ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے میں ملوث تینوں دہشت گرد بلوچستان کے مسنگ پرسنز کی لسٹ میں شامل تھے۔ یہ بات قومی میڈیا پر دفاعی امور کے تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) امجد شعیب نے بھی کی تھی جبکہ اس کی تصدیق کراچی میں ”ڈی ڈبلیو“ کے نمائندے نے بھی کی تھی۔

Read more

میر شکیل الرحمن کی رہائی کا فیصلہ ہو گیا؟

”جنگ جیو“ گروپ کے مقتدر حلقوں کے ساتھ معاملات حتمی طور پر طے پا گئے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا سیٹھ میر شکیل الرحمن 7 جولائی کو ”باہر“ آ جائیں گے دوسری طرف رزاق داؤد اور غلام سرور خان جیسے متعدد اہم وفاقی وزراء کا بھی جلد حکومت سے باہر کر دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد عمر کی قربانی بھی خارج از امکان نہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان

Read more

ارطغرل ایک پروپیگنڈا: خاموش اسلامی ثقافتی ہتھیار

میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک مضحکہ خیز وقت سمارٹ فون، لیپ ٹاپ اور ٹیلی ویژن کی رنگین روشنیوں کے سامنے گزارا۔ پچھلے کچھ سالوں سے انگلش ڈرامے خاص طور پہ میری توجہ کا مرکز بنے رہے۔ پریزن بریک، فرینڈز، بریکنگ بیڈ، گیمز آف تھرونز، سپار ٹکس، بگ بینگ تھیوری، وائکنگ، روم، اور منی ہا یسٹ میرے پسندیدہ ڈراموں میں سے ہیں۔ حال ہی میں ارطغرل ترکش ڈرامے کی ہائپ سنی تو سوچا یہ بھی دیکھ لیتی ہوں۔ اگرچہ بہت سے صاحب حیثیت لوگوں اور پاکستانی اداکاروں کو اس ڈرامے کے پاکستان میں نشر ہونے پر اعتراضات بھی سنے اور اس ڈرامے سے مغربی دنیا کا خوف بھی سامنے آیا تو اپنے شوق اور تجسس کے لئے اس ڈرامے کو دیکھنا شروع کیا۔

ایک ریسرچر ہوں تو ڈرامے کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی حقیقت جاننے کی بھی کوشش کی، تو یہ جانا کہ یہ ڈرامہ تقریباً نوے فیصد افسانوی ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ اس میں اسلام کے تاریخی ہیرو ارطغرل اور دوسرے کرداروں کے بنیادی عقائد کو حقیقی معنوں میں من و عن پیش کیا گیا۔ پاکستانی عوام کی رائے ہمیشہ کی طرح اس معاملے پہ بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آئی۔ کچھ لوگوں کو اس ڈرامے کے حق میں دیوانہ وار سوشل میڈیا پہ قربان ہوتے دیکھا اور کچھ لوگوں کو اس ڈرامے کو ترکش کلچر کہتے ہوئے اس کے خلاف زہر اگلتے دیکھا۔

Read more

میاں صاحب مائنس کرنے کو تیار نہیں ہوئے

روایت ہے کہ ایک دور دراز کے گاؤں میں ایک میاں صاحب رہتے تھے۔ نہایت وجیہہ و شکیل تھے۔ رنگ ایسا جیسا پنجاب آٹا نمبر ایک میں شہد گھول کر بنفشہ بھی ڈال دیا گیا ہو۔ جسامت ایسی کہ کسرت کرنے والے پہلوان لگتے تھے۔ ویسے تو وہ نہایت متقی اور پرہیزگار تھے مگر ان کے بعض شریک بتاتے تھے کہ میاں صاحب اندھیرے اجالے چوکتے بھی نہیں، جہاں ہاتھ پڑے پڑوسی کی مرغی پار کر کے کڑاہی بنا لیتے ہیں۔ بہرحال یہ بات دوست دشمن سب مانتے تھے کہ بستی میں موجود دیگر شریکوں کے مقابلے میں وہ ازار بند کے پکے تھے۔

Read more

خوشونت سنگھ نے اندرا گاندھی سے قربت کی خواہش کیوں نہیں کی؟

خوشونت سنگھ کی کتاب "The Good, the Bad and the Ridiculous” میں شامل ہر خاکہ ہی کچھ نہ کچھ انوکھی معلومات کا خزانہ ہے۔ خوشونت سنگھ بتاتے ہیں کہ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو، جن کا شمار دنیا کے سب سے پڑھے لکھے وزرائے اعظم میں ہوتا تھا ( وہ ڈبل پی ایچ ڈی تھے)، لعل کرشن آڈوانی جی ”نکما “ کہتے تھے۔ جب کہ وہ خود یعنی آڈوانی جی، خوشونت سنگھ کے مطابق ایک پیکر منافقت

Read more