” اب اس مغرور کا حال سنئیے، رات کو وہ سو گئی، صبح کیا دیکھتی ہے کہ اس کے بچے مر گئے غلہ اور سامان غائب ہو گیا۔ جب گھر میں کچھ نہ رہا تو اس کے حواس جاتے رہے۔ دونوں میاں بیوی رونے لگے۔ جب کافی وقت گزر گیا تو اس نے کہا یا اللہ اب بھوک سے میرا برا حال ہے میں کیا کروں۔
گھر میں گیہوں کی بھوسی ملی سو چا اس کو پکا کر کھا لوں جیسے ہی اس کو چھوا اس میں برابر کے کیڑے نظر آئے۔ اس نے فوراً بھوسی کو پھینک دیا جب اس کے شوہر نے یہ ماجرا دیکھا تو کہنے لگا کہ میری بہن کے گھر چلو وہاں روٹی ملے گی اور میرا بہنوئی مجھے لازمی کھانا دے گا۔ گھر کا تالا بند کر کے دونوں میاں بیوی چل دیے۔ ان کے پاس کچھ نہ تھا جو کسی سواری میں جاتے، پیدل چلنے سے ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے ”
Read more