سورج اور سایہ: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ

پرانے شہر کی دیواروں کے ساتھ طویل گزرگاہ پر، درختوں کی شاخیں یوں مل رہی تھیں کہ سبز اور سایہ دار برآمدہ سا بن گیا تھا۔ ان شاخوں کے درمیان اچانک چاند حیرت سے نمودار ہوا اور اس ویران اندھیرے راستے پر بے وقت قدم اٹھاتے تنہا دراز قد آدمی سے یوں مخاطب ہوا۔ ”ہاں، میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔“ اور جیسے ہی اُس آدمی نے خود کو ظاہر ہوتا محسوس کیا۔ وہ رک گیا اور اپنا ہاتھ سینے پر

Read more

چالیس برس کا ساتھ

دونوں قبریں چالیس سال سے کھدی ہوئی تھیں اور اپنے مردوں کے انتظار میں تھیں۔ ہر سال بارش کے دنوں قبروں میں پانی بھر جاتا اور وہ ایک گڑھے کی شکل اختیار کر لیتیں۔ اندرونی حصہ جسے سل رکھنے کے لئے کاٹا گیا ہوتا زائل ہوجاتا۔ سل جسے قبر کے قریب ہی رکھا گیا ہوتا اس طرح کیچڑ میں دھنس جاتی کہ بارش کے بعد اسے نکالنا مشکل ہو جاتا۔ پچھلے چالیس سال میں چار بار نئی سلیں لائی گئی

Read more

طبلہ نواز

نبیل کے لئے ماضی کی وہ بہشت اب ایک دوزخ بن گئی تھی۔ وہ ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ ریٹائر ہو جانے کے بعد وہ موسیقی کے شوق کی طرف پوری توجہ دے گا۔ طبلہ، اس کی روح، اس کا جنون۔ اور وہ پانچ سال تک اس کی ہر تال میں محو رہا۔ ریاضت، مشق، اور نبیل۔ چھوٹا طبلہ ’دایاں‘ اور بڑا طبلہ ’بایاں‘ ، ان پہ نبیل کی ہتھیلیاں اور انگلیاں اس طرح ٹکراتی تھیں جیسے کسی کمپیوٹر پروگرام

Read more

انتظارِ اقرار: صلیبیں اپنی اپنی (20)

”اور اِس دنیا کے ہم شکل نہ بنو بلکہ اپنے ذہن کی تجدید سے بدلتے جاؤ، تاکہ تم خدا کی رضا کو ، یعنی اُس کے نیک اور پسندیدہ اور کامل ارادہ کو معلوم کر سکو۔“ رومیوں 12 : 2 حالاں کہ ابھی نومبر شروع ہوا تھا اور سوئٹر پہننے کا موسم نہیں آیا تھا مگر اچانک حیدرآباد میں کوئٹہ کی ہوا سردی کی لہر لے آئی۔ عموماً دسمبر سے پہلے یہ ہوائیں نہیں چلتیں مگر معلوم ہوتا تھا کہ

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 19 : اندیشۂ انکار

” اسی واسطے مرد اپنے باپ اور اپنی ماں کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی کے ساتھ جا ملے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے۔ یہ بھید بڑا ہے مگر میں مسیح اور کلیسیا کے بارے میں کہتا ہوں۔“ افسیوں 5 : 31۔ 32 حیدرآباد سندھ صدیوں سے مختلف تہذیبوں، سلطنتوں، اور حکمرانوں کا مرکز رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ شہر ایسی تاریخی عمارتوں سے بھرا پڑا ہے جو فنِ تعمیر کے عظیم نمونے ہیں۔ ایک

Read more

بارڈر سے مائکرو فکشن – تین کہانیاں

1- جان بچانے کی خاطر جب یہ واقعہ پیش آیا، مجھے اُس پہاڑی سرحدی چوکی پر تعینات ہوئے ایک ماہ گزر چکا تھا۔ چوکی بلند پتھریلے پہاڑ کی ڈھلان پر بنائی گئی تھی۔ پوسٹ سے کوئی تین سو گز نیچے خشک برساتی نالہ تھا جس کا پاٹ کئی سو گز تھا۔ اس میں جابجا چھوٹے بڑے پتھر تھے۔ ہماری پوسٹ کے سامنے، نالے کے پرلے کنارے سے ایک ٹیکری بتدریج بلند ہوتی چلی گئی تھی۔ اس ٹیکری پر لگ بھگ

Read more

نیل پالش

درمیانے خد و خال کی حامل ندا نے نیل پالش کی شیشی کھولی۔ اور برش کو بھگو کر سلطانہ کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ وہ برش کو سلطانہ کی چھوٹی انگلی کے ناخن پہ پھیرنے ہی والی تھی کہ سلطانہ نے پوری قوت سے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا اور آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔ سلطانہ سلطانہ، بتاؤ کیا ہو رہا ہے تمہیں؟ مجھے تم سے ملے ہوئے پانچ دن ہو چکے ہیں لیکن تم نے اب

Read more

قوس قزح سی لڑکی

گلزار ملک کا شمار اردو کے معروف فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ فیصل آباد کے گاؤں گٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہد مسلسل اور سخت کوشی کو چھوٹی عمر ہی سے اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ اپنی منکسر المزاج طبیعت کی وجہ سے حلقۂ احباب میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ کہانی کو اپنا ذوق اور کہانی بنُنے کو اپنی فطرت گردانتے ہیں۔ اردو میں اب تک ان کے تین ناول چھپ چکے ہیں۔ افسانے میں بھی مہارت

Read more

ادھورا پن

”آپ کو آج کیا ہو گیا ہے جو اس قدر فحش باتیں کر رہے ہیں؟ پہلے تو کبھی ایسی باتیں نہیں کی۔“ عابدہ شرم سے نظریں چراتی رہی۔ ”ارے یار جب سے ہم دونوں کا رشتہ پکا ہوا ہے تب سے اب تک میں مسلسل اپنی جسمانی ضرورت کی جانب تمھاری توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر تم ہو کہ سمجھتی ہی نہیں۔“ ابرار خود اعتمادی کے ساتھ اپنی ضرورت کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کرتا

Read more

لوہے کا کمر بند

(اردو کے اہم ترین افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور سفرنامہ نویس رام لعل یکم مارچ 1923 کو میانوالی (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت منتقل ہو گئے۔ انہوں نے تقسیم، ہجرت اور دوسرے انسانی المیوں کی کہانیاں لکھنے سے شہرت پائی۔ ’زرد پتوں کی بہار‘ کے نام سےپاکستان یاترا کی کہانی بھی لکھی۔ 1996 میں لکھنؤ (بھارت) میں وفات پائی۔) ٭٭٭            ٭٭٭ ​بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت

Read more

نیک موت

بابر صاحب اپنی دکان پر بیٹھے ریڈیو کی آواز کو درست کر رہے تھے اچانک آواز آئی ”دو کلو چینی دے دیجیے“ ”ارسلان اسے چینی دے دو“ بابر صاحب نے عالیان کو گھورتے ہوئے آواز لگائی۔ اتنے میں ایک بچہ باہر آیا اور چینی دے کر اندر چلا گیا۔ ”پیسے کھاتے میں لکھ دیجیے گا ابو کہ رہے تھے“ عالیان بھاگتا ہوا دکان سے نکل گیا۔ ”ارسلان زرا رجسٹر تو لے آنا“ بابر صاحب نے چشمہ اتارتے ہوئے کہا۔ ”ہاشم

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 18 : جنم جنم کا ساتھ

”اے میری روح، تُو کیوں افسُردہ ہے؟ تُو کیوں میرے اندر اتنی بے قرار ہے؟ خُدا پر توکّل کر، کیوں کہ مَیں اُس کا شکر کرتا رہوں گا جو میرا نجات دہندہ اور میرا خدا ہے۔“ زبور 42 : 11 پادری پال کو اکثر اپنا آبائی گاؤں یاد آتا تھا جو لاہور سے 50 کلومیٹر دور ہے اور کلارک آباد کہلاتا ہے۔ ان کے دادا بتاتے تھے کہ وہ گاؤں کے سب سے پہلے چرچ کی تعمیر میں خود شامل

Read more

مائکرو فکشن – 3 مائکروف

1- زیرِ زمیں سے آتی آوازیں ہم جانتے ہیں کہ وہ آج پھر آئے گا۔ اس بڑے نیم تاریک کمرے میں، جہاں صرف دو زرد بلب روشن ہوتے ہیں۔ جب ہمیں لایا جاتا ہے، کچھ دیر بعد وہ آ جاتا ہے۔ وہ ہم سے خطاب کرتا ہے لیکن اپنے خطاب کو گفتگو کہتا ہے۔ کرسی پر بیٹھتے ہی، جس کے سامنے ہم زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں، وہ آغاز کر دیتا ہے۔ لہجے میں مصنوعی شیرینی گھول کر وہ ہمارا

Read more

شعیب بن عزیز بیا بیا

(شعیب بن عزیز صاحب کے اعزاز میں واشنگٹن میں منعقدہ ایک تقریب میں پڑھا گیا) عزیز دوستو، ساتھیو، مہربانو، قدر دانو، آپ سب کی خدمت میں ہمارا محبت بھرا سلام پہنچے۔ کیا عجب موقع ہے کہ آج یہاں، ایک شاعر، یعنی شعیب بن عزیز اور منکہ ’من آنم کہ من دانم‘ امریکہ میں ایک ہی سٹیج پر اکٹھے بیٹھے ہیں اور اپنے پاکستانی دوستوں کی محبتیں سمیٹ رہے ہیں۔ اے فلک صد رنگ و صبا رفتار، تو نے یہ کیا

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 17 : اظہارِ عشق کا مسئلہ

”اور ہم نے محبت کو پہچان لیا اور اُس پر ایمان لائے جو خدا ہم سے رکھتا ہے۔ خدا محبت ہے اور جو محبت میں قائم رہتا ہے وہ خدا میں قائم رہتا ہے اور خدا اُس میں قائم رہتا ہے۔“ یوحنا 4 : 16 اس زمانے میں شاپنگ کا مرکز تلک چاڑھی ہی ہوتا تھا۔ جوتے، کپڑے، کتابیں غرض جو کچھ خریدنا ہو تلک چاڑھی پر مل جاتا تھا۔ اگر شاپنگ کرتے کرتے تھک جائیں تو کیفے یونٹی میں

Read more

میڈ اِن پاکستان

جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوتا میرا چھوٹا بیٹا علی مجھ سے پہلا سوال یہ کرتا ”بابا میری سائیکل لائے ہو؟“ میں نوکری کی مصروفیات سے تھکا ٹوٹا انسان اس سوال پہ اور زیادہ بجھ سا جاتا اور کہتا کہ بیٹا سائیکل والی دکانیں کافی دور ہیں ہیں لہٰذا کسی چھٹی والے دن جاکر سائیکل ضرور لے آئیں گے۔ علی میرے جواب سے ذرا بھی مطمئن نہیں ہوتا تھا اور منہ بسور لیتا تھا۔ ایک دن میں دفتر میں

Read more

نارسائی

”امی آخر کون صاحب آ رہا ہے جس کے لیے اتنا بڑا اہتمام کیا جا رہا ہے؟ سبھی بہنیں بھی آئی ہوئی ہیں کوئی بڑی دعوت ہے کیا؟“ دن بھر آوارہ گرد دوستوں کے ساتھ مٹر گشت سے لوٹ کر گھر پہنچتے ہی اکبر نے پوچھا۔ ”آرے بیٹا تمھیں اپنی آوارگی سے فرصت ملے گی تو پتا چلے گا نا گھر میں کیا ہو رہا ہے کیا نہیں ہو رہا۔ نکما انسان تمھیں نہیں پتا تمھارا بھائی آ رہا ہے

Read more

مائکرو فکشن (تین کہانیاں)

کہانی چل رہی ہے ”باتیں کرنے کا کیا فائدہ۔ آتے ہیں کچھ باتوں کے شوقین۔ پوچھتے ہیں کیا کہانی ہے تمہاری، کہاں سے آئی ہو؟“ پر وہ کم ہی ہوتے ہیں۔ زیادہ تر تو ۔ ہاہاہاہا۔ اب میں تمہیں کیا بتاؤں۔ ایک دن کی بات سنو۔ بس اتنا کہا ”کنڈی لگا دو “ میں دروازہ لاک کر کے پلٹی تو توبہ۔ وہ الف ننگا کھڑا تھا۔ لو جی بس یہی تین لفظ بولے اُس نے پوری ملاقات میں۔ کئی باتونی

Read more

ہجوم

ارے پگلی تو رو کیوں رہی ہے؟ بس کچھ دنوں کی بات ہے جب ہم اپنے پاکستان چلے جائیں گے۔ میں تجھے اس سے بھی سُندر گہنے بنوا دوں گا، پھر میں اور تُو پہلے کی طرح گھومنے جائیں گے۔ میں تجھے پاکستان کی سیر کرواؤں گا۔ افضل نے رحیمہ کے آنسوؤں کو پونچھا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ وہاں کی ندیوں کا پانی بہت شفاف ہو گا، بالکل تیرے جیسے پھول وہاں کھلتے ہوں گے

Read more

میمنا، گیدڑ اور بھیڑیے: ایک علامتی کہانی

سنو، سنو، سنو۔ ایک کہانی سنو۔ لیکن کہانیاں تو جھوٹ کا پلندا ہوتی ہیں۔ اچھا چلو ایک واقعہ سنو۔ ارے، واقعات تو گھڑے جاتے ہیں۔ سچائی سے دور، بہت دور۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ میں ایک سانحے کی روداد سناتا ہوں۔ چلو جی۔ حد ہے۔ سانحات تو آئے دن ہوتے رہتے ہیں، کچھ نہیں بھی ہوتے مگر آپ جیسے حضرات یونہی ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں۔ جی بہتر۔ میں ایک حادثے کے متعلق۔ ارے، چھوڑو میاں! کن حادثاتِ زمانہ کی بات

Read more

افسانہ

”ان گہری آنکھوں میں اس نے عرصے بعد پھر سے امید کی اک کرن دیکھی تھی۔ جانے کتنے عرصے سے وہ اسے بس بے جان ساکت آنکھوں کے ساتھ ہر روز دنیا میں چلتے پھرتے دیکھ رہا تھا۔ بیتے سالوں میں اس کی مسکراہٹ وقت کے اندھیروں تلے دفن ہو گئی تھی اور آنکھوں کی چمک کسی بھیڑیے کی ہوس کی نظر۔ وقت مرہم ہوتا ہے مگر فقط تب جب آپ اس زندان سے نکل چکے ہوں، نہیں تو یہ

Read more

زن مرید

یہ میری نوکری کے ابتدائی دن تھے۔ آفس میں کسی سے کھل کر بات نہ کر سکتا تھا، اس لیے چمن میں جا کر موبائل میں مصروف ہو جاتا۔ آج بھی معمول کے مطابق چمن میں بیٹھا ہوا تھا۔ میرے دو کولیگ اور آپس میں گہرے دوست مراد اور حسن مجھ سے تھوڑے فاصلے پر بیٹھ کر گفتگو کرنے لگے۔ میرا دھیان ایک لمحے کو ان کی طرف گیا۔ ان کا موضوعِ بحث ”فرمانبردار اولاد“ کے گرد گھوم رہا تھا۔

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 16 : منگنی کی انگوٹھی

یسُوع نے جواب میں کہا، ”کیا تم نے نہیں پڑھا کہ جس نے ابتدا میں انسان کو بنایا، اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا؟ اور کہا، اس واسطے آدمی اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر اپنی بیوی کے ساتھ ملے گا اور وہ دونوں ایک جسم ہوں گے۔ پس وہ اب دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں۔ لہذا جسے خدا نے ملا دیا ہے، اُسے انسان جدا نہ کرے۔“ متی 19 : 4۔ 6 کیفے جارج میں کیشیئر کے

Read more

شمالی علاقہ جات کی سیر ( 5 )

مری پاکستان کا خوبصورت سیاحتی مقام ہے، ہم کشمیر سے مری شام پانچ بجے پہنچے۔ آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے، مری ٹھنڈا تھا، لیکن وادی سوات کے بحرین اور کالام جیسا ٹھنڈا نہ تھا، ٹھنڈی ہوا، گہرے بادل اور سر سبز پہاڑوں نے مری کو دلفریب بنایا ہوا تھا۔ مری میں قیام کے لیے بہت زیادہ ہوٹل ہیں، ہم جیسے ہی ہوٹلز کی لوکیشن پہ پہنچے تو پہلے سے کچھ لوگ کھڑے ہوئے تھے، وہ ہمیں ہوٹلز کی

Read more

گرم گرم چائے

سمیع کی زبان کے ذائقے کے سارے مسام حرکت میں آ گئے۔ اس نے پھر سوچا۔ ”گرم گرم چائے۔ “ صبح کی خنکی اس کے چوڑے ماتھے کو ٹھٹھرائے جا رہی تھی۔ اس تاریک اور سرد بنکر میں اس کو آئے ہوئے دس دن ہو گئے تھے۔ یہاں انتہائی مضبوط دیواروں کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ بس ایک دروازہ پچھلی طرف سے کھلتا تھا، اور مشین گن سے فائر کرنے کے لئے کچھ سوراخ۔ شاید سمیع کو اس وحشتناک جگہ

Read more

ایک تصویر۔ کئی عنوان

مقتدرہ سندھی زبان یعنی سندھی لینگویج اتھارٹی حیدرآباد کی جانب سے سندھی زبان کی بنیادی تربیت کا آن لائن کورس جاری ہے۔ جس میں ملک خواہ بیرونِ ملک سے ایسے دلچسپی رکھنے والے طلبہ و طالبات یہ کورس اپنے گھروں میں بیٹھ کے کر رہے ہیں، جن کی مادری زبان کوئی اور ہے اور وہ سندھی زبان کو اپنی ثانوی زبان کے طور پر سیکھنا چاہ رہے ہیں۔ اس کورس کے دوسرے بیچ کی کلاسیں جاری ہیں۔ جس میں پی

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 15 : بلیو ڈینیوب

”اور یوں ہوا کہ جب وہ واپس آ رہے تھے، جب داؤد فلستی کو مار کر لوٹ رہا تھا، تو اسرائیل کی عورتیں سب شہروں سے گاتے اور ناچتے ہوئے، دف اور خوشی کے گیتوں کے ساتھ، بربط بجا کر ساؤل بادشاہ کے استقبال کے لئے نکلیں۔“ سموئیل اول 18 : 6 چرچ خالی ہو چکا تھا۔ مریم ہال کے وسط میں ایک نشست پر جاکر بیٹھ گئی۔ دانی ایل نے دیوار پر لگے ہوئے روشنی کو کم کرنے والے

Read more

سم فروش

  کھڑکی کے پاس لگے بجلی کے کھمبے کا بلب خاموشی سے جل رہا تھا سردیوں کی راتیں کتنی جلدی سنسان ہو جاتی ہیں اور رات کو نیند نا آنا کتنا تکلیف دہ احساس ہوتا ہے اور خاص کر کے اس وقت جب آپ تنہا ہوں۔ ”شکر ہے کام مل گیا اب بس کسی طرح یہ ہدف پورا ہو جائے پھر کمپنی میں ملازمت مل جائے گی۔ لیکن یہ کروں گی کیسے؟“ عالیہ بیڈ پر لیٹی خیالوں میں گم تھی۔

Read more

آخری دو اشک: جاوید عباسی کا سندھی افسانہ

افسانہ نویس: جاوید عباسی مترجم: یاسر قاضی ولُو ہیروئنچی مر گیا۔ پُورے محلے میں ولُو کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ محلے والوں کے چہروں پر ولُو کی بیوی بختاور کے لیے ہمدردی اور بے چارگی کے مشترکہ تاثرات پھیل گئے۔ ولُو جس کو اس کے پڑوسی کافی عرصے سے ”ہیروئنچی۔ ہیروئنچی۔“ کے نام سے پکار کر، اسے اپنی نفرت اور ناپسندیدگی کا احساس دلاتے رہتے تھے، اس ہیروئنچی کے بچھڑنے

Read more

صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 14 : خداوند میرا چرواہا

” مسیح کا کلام تمہارے اندر پوری طرح بسا رہے، اور تم ہر طرح کی حکمت میں ایک دوسرے کو تعلیم دو اور نصیحت کرو، اور شکر گزاری کے ساتھ اپنے دلوں میں خدا کے لئے زبور، حمد اور روحانی گیت گاؤ۔“ کولسیوں 3 : 16 نومبر کے گلابی جاڑے میں اتوار کی صبح کو ہلکی سی خنکی ہونے کے باوجود ٹھنڈک کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔ ہولے ہولے چلنے والی ہوا کا کوئی ہلکا سا جھونکا رخسار کو

Read more

علامہ اقبال کا پورٹریٹ

گھر کے سامان سے لدا ہوا ٹرک ایک قدرے خاموش گلی میں آ کر رکا۔ ہم مزدوروں کے شانہ بشانہ سامان چار منزلہ عمارت میں واقع ایک فلیٹ میں منتقل کرنے لگے۔ میرے ماموں نے کچھ عرصہ قبل اس شہر میں نیا کلینک شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپنی فیملی کو بھی وہاں شفٹ کر لیا۔ اور میں میٹرک کی چھٹیاں گزارنے ان کے ساتھ چلا آیا تھا۔ وہ تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا فلیٹ تھا۔ گلی کی

Read more

ملاقات: صلیبیں اپنی اپنی (13)

”محبت صابر ہے، محبت مہربان ہے ؛ محبت حسد نہیں کرتی، محبت شیخی نہیں مارتی، گھمنڈ نہیں کرتی۔ یہ بے حیائی نہیں کرتی، اپنا فائدہ نہیں ڈھونڈتی، غصہ نہیں کرتی، برائی کا حساب نہیں رکھتی؛ بدکاری سے خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی سے خوش ہوتی ہے۔ سب کچھ برداشت کرتی ہے، سب کچھ یقین کرتی ہے، سب کچھ امید کرتی ہے، سب کچھ سہتی ہے۔“ 1 کرنتھیوں 4 : 7۔ 13 راستے بھر میں دانی ایل کو سمجھاتا آیا تھا

Read more

(12) گرانڈ پیانو: صلیبیں اپنی اپنی

”تم بگل کی آواز کے ساتھ خداوند کی ستائش کرو۔ بربط اور ستار کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ دف کے ساتھ اور ناچتے ہوئے اُس کی ستائش کرو۔ تار دار سازوں اور بانسلی کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔ بلند آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی ستائش کرو۔ اونچے آواز والے جھانجھ کے ساتھ اُس کی مدح سرائی کرو۔“ زبور 150 : 3۔ 6 پادری پال ان دنوں شیر خوار بچوں کی طرح قلقاریاں مار رہے

Read more

حویلی کے راز- منیر مانک کا سندھی افسانہ

گزشتہ سے پیوستہ سندھی سے ترجمہ:احمد علی کورار واقعے کے بعد ، جنت بی بی کو دورے پڑنے لگے۔ لوگوں کا قیاس تھا کہ ایسا پاک کلام سے شادی کی وجہ سے ہوا ہے، ان کا خیال تھا کہ کوئی پاکیزہ روح اس کے جسم میں داخل ہوئی ہے۔ مگر گاؤں کی مسجد کے مولوی صاحب کا خیال تھا کہ اب کسی بھی پاکیزہ روح کا اس دنیا میں وجود نہیں، ممکن ہے بی بی کو کسی بڑے ”دیو جن“

Read more

تھامس مان کا افسانہ: الماری

وہ سرد اور دھند آلود شام تھی۔ جب برلن سے روم جانے والی تیز رفتار ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن کے قریب پہنچی۔ درجہ اول کے ایک ڈبے میں تنہا سفر کرنے والا مسافر البرخت وان ڈیر کوالن ایک کشادہ اور پھولدار جھالر لگی مخملی نشست پر بیدار ہو گیا۔ جوں ہی وہ جاگا۔ اس نے اپنے منہ میں کڑواہٹ محسوس کی اور جسم نے اس ناخوشگوار احساس کا تجربہ کیا جو اچانک لمبے سفر کے رک جانے پر ہوتا

Read more

حویلی کے راز: منیر مانک کا سندھی افسانہ – 2

گزشتہ سے پیوستہ میں مسلسل منمناتا رہا، پھر میں نے حکیم صاحب کو دیکھا کہ کہیں اس نے میری بات تو نہیں سن لی۔ خوش قسمتی سے حکیم صاحب ہاون دستے میں دوائی کوٹنے میں مشغول تھا، اپنے خیالات کی دنیا میں گم سم تھا اور میری کہی ہوئی غیر ارادی بات سے بالکل بے خبر تھا۔ اسی لمحے، میری تخیلاتی وادی میں بچپن کی یادوں کا سیلاب امڈ آیا، ایسے کارنامے جو لاشعوری طور پر مجھ سے سرزد ہوئے

Read more

باجی نصرت کا دوسرا نکاح

آج پھر باجی نصرت کا فشار خون بلند ہو گیا۔ آج پھر انھیں اسپتال ایمرجنسی لے جانا پڑا۔ آج پھر ان کے پانچ اور چھ سالہ بچوں نے ماں کو تڑپتے دیکھا۔ آج پھر ان کی رات ماں کے انتظار اور باپ کی یاد کے ساتھ گزری۔ آج پھر اس پچیس سالہ تمکنت نے گھر میں وہی پرانی بات کی۔ آج پھر اس کو آپا بلقیس سے ڈانٹ پھٹکار سننے کو ملی۔ آج پھر گھر کے مرد لاتعلق رہے اور

Read more

حویلی کے راز: منیر مانک کا سندھی افسانہ

سندھی سے ترجمہ :احمد علی کورار دوپہر کا وقت تھا، میں حکیم خیر محمد کے ”حیدری شفا خانہ“ کی طرف گام فرسا تھا، میں نے دور سے دیکھا، حکیم صاحب ٹانگیں پھیلائے لکڑی کے بوسیدہ دیوان پر بیٹھے ہوئے ہاون دستے میں دوائی کے لیے اجزا کو ملا رہے تھے۔ حسب معمول، حکیم صاحب نے اپنے اوپری ہونٹ کو دانتوں کے زیر کیا ہوا تھا جبکہ اس کا پھولا ہوا نچلا ہونٹ لٹک رہا تھا، مجھے آتا ہوا دیکھ کر،

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (11)

”یاد کر کے سبت کا دن پاک ماننا۔ چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا، لیکن ساتواں دن خُداوند تیرے خُدا کا سبت ہے اس میں نہ کوئی کام کرے نہ تیرا بیٹا نہ تیری بیٹی نہ تیرا غلام نہ تیری لونڈی نہ تیرا چوپایہ نہ کوئی مسافر جو تیرے ہاں تیرے پھاٹکوں کے اندر ہو کیوں کہ خُداوند نے چھ دن میں آسمان اور زمین اور سمندر جو کچھ ان میں ہے وہ سب

Read more

کون سمجھے گا میرا درد یہاں

(گزشتہ دنوں لندن میں ایک مختصر اردو تمثیلچہ پیش کیا گیا جس میں مرکزی کردار ارم طور صاحبہ نے ادا کیا۔ اس کھیل کا سکرین پلے نیلم احمد بشیر نے لکھا۔) (سٹیج پر اندھیرا ہے۔ دھیرے دھیرے روشنی پڑتی ہے تو ایک لڑکی بُت بنی دکھائی دیتی ہے، اسکے چہرے پر ایک گھونگھٹ ہے۔ وہ رقص کے لباس میں ہے، بیک گراؤنڈ میں ایک گانا بجتا ہے، دو لائنز ہی بجائیں۔) گھونگھٹ کے پٹ کھول رے تجھے پیا ملیں گے

Read more

تن نا درستے

اصولاً تو اسے مر جانا چاہیے تھا مگر نہیں معلوم کیسے بچ گیا۔ ہجوم سے اسے نکالا گیا۔ نکالنے والے کی ہمت کو داد دینی چاہیے کہ اس نے پولیس کی لاٹھی چارج اور عوام کی طرف سے برستے پتھروں، اینٹوں اور ڈنڈوں سے اسے نکال لیا۔ جیسے ہی اسے نکالا گیا تو پھر چیخنے چنگھاڑنے لگا۔ ” تن نا درستے۔ تن نا درستے۔ تن نا درستے۔“ اٹھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ بھلا اٹھ کیسے سکتا تھا دونوں ٹانگیں

Read more

میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر

میری اس سے پہلی ملاقات اوڈیسا کی بندرگاہ پر ہوئی تھی۔ متواتر تین دن تک اس کا وہ کسا ہوا بدن، لمبوترا جسم اور نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی والا خوبصورت مشرقی چہرہ میری توجہ اپنی طرف کھینچتا رہا۔ مجھے نہیں پتہ کب مگر وہ یونہی اچانک کہیں سے نمودار ہو کر میری نگاہوں کے سامنے آ گیا تھا۔ وہ گھنٹوں سمندر کے سنگی پشتے پر کھڑا بندر گاہ کے گدلے پانیوں کو گھورتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بادام

Read more

چھٹکارا (افسانہ)

چلچلاتی دھوپ میں ارد گرد مٹی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ گویا پہاڑ تھے۔ ضرورت پڑنے پر ان پہاڑوں کو کھودا جا سکتا تھا۔ سکینہ نے مٹی میں سنے ہوئے ہاتھوں سے پیشانی سے پسینہ صاف کرتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا۔ مٹی کے ڈھیر کے درمیان بیٹھی سکینہ اینٹوں کا سانچہ ہاتھ میں لیے گیلی مٹی کو گوندھ کر بڑی تیزی سے اینٹیں بنا رہی تھی اور اپنی انگلیوں کی پوروں پر حساب لگا رہی تھی کہ قرض کی

Read more

اناؤں کا روگ

حد نگاہ پھیلی زرخیز زمین پر سرسوں نے اپنی زرد رنگ کی چادر بچھا دی تھی، جسے دیکھ کر بڑا چودھری سینہ پھلائے فخریہ انداز میں اپنے کامے ٫ گامے سے کہہ رہا تھا۔ ”گامے دیکھ اتنے مربعوں کا مالک ہے کوئی اس علاقے میں؟ یہ زمین شان ہوتی ہے چودھری کی۔ یہ سارا علاقہ میرے ماتحت ہے۔ کسی کی جراءت ہے میرا حکم نہ مانے؟“ ہاتھ باندھے گردن جھکائے گامے نے سر ہلایا۔ چودھری نے پورے علاقے کو اپنا

Read more

وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور دیگر خواتین سربراہ مملکت

موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے ہر ایک اسی کا دلدادہ ہے دنیا بھر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ موبائل ہاتھ میں کیا آیا جو بات پہلے کئی دن بعد دوسروں تک پہنچتی تھی اب منٹوں سیکنڈوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اس حوالے سے ٹک ٹاک اور واٹس ایپ سب سے زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ جس میں لوگ مختلف سوانگ بھر کے مختلف حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ آج سے کئی سال پہلے

Read more

سفید گلاب (افسانہ)

شہر کی سب سے خوبصورت سڑک کو دونوں جانب سے بڑے بڑے گھنے سرسبز درختوں نے ڈھانپ رکھا تھا اس دو رویہ سڑک کی خوبصورتی کو جو چیز بڑھا رہی تھی وہ درمیان میں بہتی ہوئی نہر تھی۔ نہر کا مٹیالہ پانی اٹکھیلیاں کرتے ہوئے رواں دواں تھا مگر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی، کہیں اکا دکا گاڑی گزرتی دکھائی دے رہی تھی۔ نہر کنارے سڑک کو لاہور کے حسن کا جھومر سمجھا جاتا ہے مگر آج اس کا

Read more

غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

کہیں پڑھا تھا کہ عورت افسر بھی لگ جائے پھر بھی روٹی اس کے ہاتھ کی ہی اچھی لگتی ہے۔ اور میں کہتی تھی سائیکالوجی، انگریزی لٹریچر، سوشیالوجی، انٹرنیشنل لاء، انٹرنیشنل ریلیشنز پڑھنے والی لڑکی روٹیاں بنائے گی امپاسیبل ( ناممکن ) ۔ علم کا غرور سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ کہنے والے کہتے ہیں ایک چھٹانک عمل سو تولہ علم سے بہتر ہوتا ہے۔ میں نے بھی ساری زندگی صرف علم کے ہوائی قلعے تعمیر کیے عمل کے

Read more

ہر کوشش پہ عطا کا وعدہ ہے

کمرے کی کھڑکی سے دن کی روشنی کو تاریکی میں بدلتے دیکھا تو وفور مسرت سے چھت کی جانب دوڑ لگائی۔ آسمان کالی گھٹاؤں سے گھرا ہوا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں سے باہر کے موسم کے ساتھ ساتھ اندر کا موسم بھی سہانا ہو گیا۔ ابھی پوری طرح لطف اندوز نہ ہو پائی تھی کہ ذہن کے پردے پر فکر کی پرچھائیاں لہرانے لگیں۔ اور دل ملال میں گھر گیا کہ اس بے موسمی بارش کی وجہ سے گندم کی

Read more

بُو

جس دن سے اس کے ذہن میں یہ منصوبہ آیا، اس میں زندگی کی رمق دوڑ گئی۔ شوہر سے جان چھڑانے کا اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اس شخص سے جس نے اس کا سکون پچھلے ایک سال سے برباد کیا ہوا تھا۔ شادی سے پہلے اس نے اسے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ اسے وہ کوئی خاص نہیں لگا تھا اس لیے اس نے شادی کی حامی بھر لی۔ خاص چیزوں میں اسے بالکل دلچسپی

Read more

حکمت سے جڑ جاؤ تو زندگی بھی عبادت ہے

مجھے برتن دھونے سے بہت چڑ تھی۔ برتن دھونا مجھے موت سے کم نہیں لگتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی کے بہت سے سال صرف اسی ایک بات پر کڑھتے گزارے ہیں کہ میرے حصے میں برتن دھونا ہی کیوں آتا ہے؟ چھوٹی تھی تو مدرسے میں باجی کہتی تھیں ”اوپر برتن پڑے ہیں سبق سنا کر ذرا دھو آنا“ اور میں اندر ہی اندر غصے سے پیچ و تاب کھاتے، صبر کے کڑوے گھونٹ بھرتے اوپر برتن دھونے چلی

Read more

مدھر ملن کی شبھ گھڑی

(وہ ایک ایسے میوزیم میں ملتے ہیں جہاں مورتیاں اور پینٹنگز ہندو دھرم کی پریم کتھائیں بیان کرتی ہیں۔ شکنتلا کے ملاپ کی مورتی، اروشی کی جدائی کی پینٹنگ، پریتم ملن کے بعد شکنتلا کی واپسی کی پینٹنگ۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور دونوں مہا بھارت کے کرداروں میں کھو جاتے ہیں۔ ) میں اس میوزیم میں صرف دو شہ پارے دیکھنے آتا ہوں۔ مرکزی ہال کے بیچ میں کھڑے شکنتلا و راجہ دشونت کی بغلگیر مورتیاں اور راجہ روی

Read more

جہاں شناس

گلے پر تیز دھار خنجر پھرنے سے نرخرا کٹ چکا تھا جو مسلسل تھرتھراتے ہوئے وقفے وقفے سے عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔ رات کے پچھلے پہر چارپائی کے قریب کھڑی جہاں شناس بستر پہ نیم مردہ جسم کو بغور دیکھتے ہوئے ہانپ رہی تھی۔ ملگجا حلیہ ، بکھرے بال اور چہرے پر خون کے چھینٹے پڑنے سے کسی وحشی درندے کا گماں ہوتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آگ اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔ چارپائی کے عین اوپر لمبی

Read more

امرتا پریتم کی دھنو اور ریپ

امرتا کی کردار دھنو ایک متمول گھرانے کی لڑکی، جو ایک لڑکے کی محبت میں گھر سے چلی آئی، لیکن لڑکے نے اسے دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا چاہا تو اس نے عقل مندی سے اس سے خلاصی حاصل کر لی اور بہادرانہ انداز میں اکیلے زندگی گزارنے لگی۔ جس گاؤں میں دھنو نے زندگی گزاری، مرتے وقت اپنا مکان اور تھوڑی سی زمین گاؤں میں موجود لڑکیوں کے اسکول کے نام کر دی، دھنو کے آخری الفاظ تھے ”لڑکیاں

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل

مذہب اور جنس کی بنیاد پر طاقت کی سیاست ہمیشہ سے انسان کے چال چلن اور بحیثیت مجموعی انسانی معاشروں کے رسم و رواج کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اب جب کہ انسان زیادہ آزادی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے تو مذہب اور جنس کی بنیادیں نئے ڈھنگ اختیار کر رہی ہیں اور طاقت کی سیاست بھی نئے نئے انداز میں ان دونوں کو استعمال کر رہی ہے۔ طاقت کبھی گولا بارود بن کر

Read more

بچہ باپ کا نہ بھی ہو شکل تو اس ہی پر ہو گی

ماں بننے والی نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ سابقہ ساس سرہانے کھڑی تھی۔ وہ غصے سے بولتی جا رہی تھی۔ سابقہ خاوند اسے پکڑ کر باہر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ”میں تم پر کیس کروں گی۔ تمہیں عدالت میں گھسیٹوں گی۔“ وہ بھی غصے میں تھا، بڑبڑا رہا تھا، ”تم نے بچے کو مار دیا۔ جان بوجھ کر یہ حمل ضائع کیا ہے۔“ کوسنے والا تو ہر مرحلے پر ساتھ نبھانے کا دعویدار تھا۔ وعدے ایفا

Read more

پونم پریت افسانہ (آخری قسط)

میں نے یادوں کے جھروکوں سے باہر دیکھا تو ایک ایک سروس ایریا کا سائن بورڈ نظر آیا۔ میں نے توقف کیا۔ گاڑی کو ری فیول کیا اور ریسٹورنٹ کے باہر کھلے برآمدے میں بیٹھ کر میک ڈانلڈ کا میک عریبیہ کھانے لگا۔ تازہ دم ہو کر جب دوبارہ موٹر وے پر آیا تو دماغ میں لاہور کے گیسٹ روم کا منظر ابھی تک قائم تھا : ’صبح جب میری آنکھ کھلی تو کمرے کا عجیب منظر تھا۔ کھڑکی کے

Read more

پونم پریت افسانہ (4)

ہم موٹروے پر شیخوپورہ پہنچے تو پونم نے کسی ریسٹ ایریا میں رک کر ہوا خوری کرنے کی خواہش کی۔ ہم گاڑی پارک کر کے تھوڑی دیر ٹہلتے رہے۔ پونم نے اگلے روز لاہور سے کچھ شاپنگ کرنی تھی اور اس سے اگلے روز علی الصبح برطانیہ کے لئے پرواز بھرنی تھی۔ اس لئے پونم کی خواہش پر ہم نے اگلی دو راتیں لاہور میں ہی گزارنی تھیں۔ اس کے کہنے پر میں نے ملک الطاف حسین کے توسط سے

Read more

دیہات میں نوجوانی کی منہ زور محبت

زمانے بیت گئے بے فصیل دل محلہ کسی فاتح کی توجہ حاصل کر سکا نہ کوئی مسافر دم بھر کو رکا۔ یادوں کی بے قفل حویلی پر نقب لگی نہ کسی مکڑی نے جالا تن کر اسے قصہ پارینہ بنانے کی جرات کی تھی۔ چٹخنی کے تکلف سے آزاد ماضی کی کھڑکی کسی مانوس چاپ پر باہر بند گلی میں کھلتی رہی، آہٹوں کے لاشے گرتے رہے، سماعتوں کے زخم رستے رہے روایات کے ماتھے پہ بل آئے نہ کھڑکی

Read more

موہنی مصلن

کھلی کھلی اجلی سی سردیوں کی دھوپ میں سرسوں کے پھول لہرا کر موسم کو زرد رنگ دے گئے تھے۔ یہ لپکتا لہکتا کھیت برف پوش پہاڑوں کی یخ بستہ ہوا میں تیلئر کی ڈار کی طرح اوپر سے اوپر جا تا دکھائی دیتا تھا۔ اس نے دو پھول توڑ کر ہاتھ میں پکڑ لیے اور ایک ایک کر کے اس کی پتیوں کو سہلانے لگی جیسے سنار کی نرم و نازک انگلیاں سنہری جھمکوں کو چمکا رہی ہوں پھر

Read more

گٹھڑیاں

”آخر وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتا ہے، مجھے وجہ سمجھ میں نہیں آئی۔“ ٹھیک ساڑھے تین بجے دروازے پہ دستک ہوئی۔ میں نے لپک کر دروازہ کھولا۔ پچاس سالہ سعید ہی تھا لیکن یہ کیا؟ اس نے کئی گٹھڑیاں اپنے پر لادی ہوئی تھیں، کندھے جھکے ہوئے، چہرے پہ ایک مصنوعی مسکراہٹ۔ کچھ لمحے تو میں اسے دیکھتا ہی رہا۔ پھر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ میں نے فوراً اسے اندر آنے کے لئے کہا۔ سعید کو شاید

Read more

زندگی کا ٹوٹا پل(افسانہ)

کڑکڑاتی دھوپ سر پر تھی۔ پسینے سے شرابور، خالی پیٹ شیزا کا چلنا دوبھر تھا۔ دو دن سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تھا۔ اس حالت میں دو کلومیٹر کی مسافت طے کر کے کالج جانا آسان نہ تھا۔ پیٹ میں بھوک کی وجہ سے انتڑیوں سے مختلف آوازیں آ رہی تھیں جیسے کوئی نا تجربہ کار سازندہ سر نکالنے کی ناکام کوشش میں ہو۔ بے ساختہ بولی: ”کیا کروں چلا نہیں جا رہا۔ گھر سے کھانا تو میں

Read more

زندگی محبت اور ذلت کی آمیزش ہے

یہ حقیقت مجھ پر دریائی ویرانوں میں کھلی۔ سفید چادر اوڑھنے والا محبت نہیں کر سکتا۔ داغدار دامن والا ہی زندگی کی ان بہاروں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ میری پہلی پوسٹنگ طالب والا پتن کے اس پار ماورائی داستانوں کی زمین تخت ہزارہ میں ہوئی۔ موٹر وے اس وقت نہیں تھی اس لیے سیال موڑ سے وہاں تک ویرانہ ہی ویرانہ تھا۔ چناب کی منہ زور موجوں کو بند باندھ کر قید کر لیا گیا تھا لیکن عشق و

Read more

بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ؒ

تاریخ کے اوراق پلٹتے پلٹتے کب میں اجودھن جا پہنچی خبر ہی نہ ہو سکی یہ تو منشائے الٰہی ہے نا آپ کب کہاں پہنچا دیے جائیں۔ دریائے ستلج کے کنارے پر واقع اجودھن ایک پسماندہ، بے آب و گیاہ، جنگلات سے گھرا ہوا غیر معروف، گمنام علاقہ تھا۔ میری ادب سے نا آشنا گستاخ نظریں مغرب کی سمت کریر کے درخت کے نیچے جا ٹھہریں۔ اس جمود و تعطل، ضلالت و گمراہی کے گڑھ میں ایک فقیر بادہ توحید

Read more

جرم محبت

”اماں میں یہ شادی نہیں کروں گی میں راحیل سے محبت کرتی ہوں آپ ایک دفعہ مل تو لیں وہ بہت اچھا لڑکا ہے“ وہ کب سے اماں کو پیار سے منا رہی تھی ”تمہارے ابا کبھی بھی محبت کی شادی پر رضا مند نہیں ہوں گے ویسے بھی وہ تمہارے دن رکھ چکے ہیں“ اماں نے بات ختم کی وہ پھٹی پھٹی نظروں سے ان کو دیکھنے لگی ”اماں یہ نہیں ہو سکتا میں محبت کسی اور سے کر

Read more

نولکھی کوٹھی کا پھوہڑ معمار

اردو میں ناول کی صنف کو بہت آسان سمجھ لیا گیا ہے۔ مدرسین اپنے موٹے شیشوں کی عینک کے عقب سے اپنے کوڑھ مغز طلبا و طالبات پر نظر شفقت فرماتے ہوئے کرم خوردہ نوٹسز سے یوں سنہری الفاظ لکھواتے ہیں : ”پیارے بچو! ناول افسانوی ادب کی بہت معروف صنف ہے جس میں زندگی کے حقیقی واقعات کا عکس پیش کیا جاتا ہے۔ یہ اپنی اصل میں افسانے سے ہی مماثل ہے۔ دونوں میں صرف طوالت کا فرق ہے۔

Read more

پانی پر لکیر (افسانہ)

کتاب پر رملا کے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے۔ الفاظ دھندلا چکے تھے۔ آج درختوں پر کوکتی کوئل کی آ واز بھی پر سوز تھی۔ ہر طرف اداس فضا نے پر پھیلا رکھے تھے۔ رملا کا دل بھنور میں پھنسی ناؤ کی طرح ڈوب رہا تھا۔ اسے ہر طرف لالچ اور خود غرضی کا لبادہ اوڑھے لوگ نظر آ رہے تھے۔ رملا کے لیے ساتواں پرپوزل آیا تھا جو کم جہیز کی نذر ہو گیا تھا۔ رملا کے غریب

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور گرین زون

گرین زون میرے لیے جنت جیسی سٹیٹ آف مائنڈ ہے جہاں ہم پرسکون ہوتے ہیں۔ چونکہ میرا تعلق عظیمی سکول آف تھاٹ سے ہے، سو مراقبے کے وسیلے سے اپنے انر سیلف سے متعلق کچھ خیالات واضح طور پر میرے من میں موجود تھے۔ میں نے اپنے استاد خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے توسط سے ایک بات ذہن نشین کر رکھی تھی کہ اگر تم خوش نہیں ہو تو بھی خوش رہنے جیسی شکل بنا لو کیونکہ خدا اپنے

Read more

ایک بیٹی کا ماں کے نام خط – فکشن

سلام امی آپ خیریت سے ہیں اس لیے خیریت نہیں پوچھوں گی۔ یہ اطلاع دینے کے لیے آپ کو لکھ رہی ہوں کہ میں اس قید خانے کو، جیسے آپ گھر کہتی ہیں چھوڑ دیا ہے۔ میں اب کبھی واپس نہیں آنا چاہتی۔ وہ سب جو میں کہنے کے لیے یہ خط لکھ رہی ہوں، آپ کے سامنے زبان سے بھی کہے سکتی تھی مگر آپ سے کسی قسم کی بھی بامعنی گفتگو کبھی سے ممکن نہیں۔ آپ کے خیال

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند  قسط نمبر 5

دو ماہ بعد خضر کی والدہ رشتہ لے آئیں۔ مسز احمد نے ایک مختصر سی منگنی کی تقریب رکھی تو حمیرا خالہ اور شاہ بانو کو بھی بلایا۔ وہ خضر کے گھر والوں سے اپنی ہونے والی بہو کو ملوانا چاہتی تھیں۔ اس دن شاہ بانو بہت دل سے تیار ہوئی، کائی گرین پشواز اور آتشی گلابی چوڑی دار پاجامے دوپٹے میں وہ کوئی مغل شہزادی لگ رہی تھی۔ رحمان نے اسے دیکھا تو چند لمحے دیکھتے رہ گئے بلاشبہ

Read more

ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ہمیں شہر میں منتقل ہوئے تین چار ماہ کا عرصہ گزرا تھا کہ قدرت نے ہمیں بیٹے کی ان مول نعمت سے نواز دیا۔ تم شادی کے تقریباً ایک سال بعد امید سے ہوئی تھیں اور اس ایک سال کا عرصہ تم پر بہت ہی بھاری گزرا بلکہ آخر میں تو اس بھاری پن کا احساس مجھے بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔ حالاں کہ پریگنینسی میں سال دو سال کی تاخیر ہو جانا تو کوئی ایسی بھی غیر معمولی

Read more

ہاتھوں کا کشکول (افسانہ)

سردی کی یخ بستہ رات تھی۔ ہوا کے جھکڑ چل رہے تھے۔ یہ ہوائیں بدن کے آر پار ہو رہی تھیں۔ لالی اپنی پکھی کے باہر لکڑیاں جلانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اس کا بوڑھا باپ پکھی کے اندر انتہائی بوسیدہ بستر زمین پر بچھائے سردی سے بچنے کے لیے سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ لالی کی زندگی کی کتنی ہی بہاریں ان بے در و دیوار کچی زمین پر گزر گئی تھیں۔ دل کی امنگیں کبھی

Read more

ذمہ داریوں میں اضافہ

ایک دن میں سکول سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ ابا جی ہاتھ میں فیتا لیے میجر صاحب کے گھر کے ساتھ پڑی ہوئی خالی جگہ کی پیمائش کر رہے تھے۔ استفسار پر بتایا کہ تمہارے لیے یہاں پر ایک چھوٹا سا گھر بنوا کر دے رہا ہوں۔ مجھے ان کی اس بات سے شرمندگی ہوئی کیونکہ اس کا پس منظر مجھے معلوم تھا۔ ان دنوں تم گاؤں میں رہا کرتی تھیں اور میں ہفتے میں ایک بار چھٹی کا

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند (4)

” تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے مہرین۔ یہ بات تم مجھے اب بتا رہی ہو، اتنا سب کچھ ہونے کے بعد“ خضر صاحب اور ایمن کے سونے کے بعد مہرین گیسٹ روم میں شرجیل کو سب کچھ بتا چکی تھیں جس پر شرجیل سخت غصے میں تھے ” میں نہیں چاہتی تھی بھائی جان کہ ایک بار پھر آپ کے اور اس کے درمیان کلیش ہو“ ۔ ” ہونہہ۔ کلیش۔ اب میرے پاس کیا بچا ہے جسے وہ چھین

Read more

گاؤں میں چھتوں کی دنیا

شادی کے بعد ہم لوگ تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گاؤں میں بقیہ خاندان کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں رہتے رہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ڈبل بیڈ اور اٹیچڈ باتھ روم کا رواج گاؤں میں تو کیا ہمارے تو شہر میں بھی نہیں تھا۔ سارا شہر ایک ہی طرز کے نقشہ کے مطابق بنائے گئے بلاکس پر مشتمل تھا۔ یکساں سائز کے ان رہائشی پلاٹوں پر تقریباً ایک ہی طرز کے گھر تعمیر کیے گئے تھے۔ گلی کے

Read more

ماحول میں تفاوت

تم اپنے والدین کی پہلی اولاد تھیں اور شادی کے دس سال بعد ڈھیر ساری دعاؤں۔ منتوں اور چڑھاووں کے بعد پیدا ہوئی تھیں۔ اس لیے تم پورے خاندان کی آنکھوں کا تارا تھیں۔ سرخ و سپید خوبصورت رنگت گھنگھریالے بال اور خصوصی رنگت کی پرکشش اور ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی آنکھیں جو کبھی نیلی محسوس ہوتیں اور کبھی ہلکی سبز۔ بلکہ بعض اوقات تو ان کی رنگت بلی کی آنکھوں کی رنگت جیسی بھی محسوس ہوتی۔ تم تقریباً

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند: قسط نمبر۔ 3

انٹر کالجیٹ تقریری مقابلوں کا انعقاد ایمن کے کالج میں کیا گیا تھا اور ابھی ابھی سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات پر ایک دھواں دھار تقریر کر کے ایمن ڈائس سے نیچے آئی تھی۔ اس کی سہیلیاں اسے داد دے رہی تھیں۔ ” ویل ڈن ایمن“ شناسا آواز پر ایمن پلٹی تو ماحد کو اپنے سامنے پا کر پھول سی کھل اٹھی۔ ” آپ۔ یہاں“ ” ہاں، ہمارے کالج نے بھی پارٹی سپیٹ کیا ہے تو میں اپنے کچھ

Read more

سوچ کا فرق

ضلع کے تمام ہائی سکولوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے سربراہان کی ماہانہ میٹنگ تھی۔ کارروائی کے رسمی آغاز کے بعد ضلع کے فنانس افسر سٹیج پر تشریف لائے جو ہمارے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے ہی گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے سٹیج پر آتے ہی حاضرین کو بتایا کہ ضلعی افسران کے پاس موجود پرانی جیپوں کو بیچ کر ان کو جی ایل آئی دی جا رہی ہے اور تحصیلی سطح پر کام کرنے والے افسران کے لیے سوزوکی کلٹس اور

Read more

ہم راز

سورج کی زرد کرنیں افق پر اپنا نور بکھیر رہیں تھیں گہرے بادلوں میں سے چھن چھن کر گزرنے کی وجہ سے اک انوکھا منظر پیش کر رہیں تھیں۔ سرد ہوا کے کھیتوں میں ہے سنسناتے ہوئے گزر نے کی وجہ سے دور دور تک چادر کی طرح پھیلے ہوئے کھیت اک عجیب منظر پیش کر رہے تھے۔ ہوا کے جھونکوں کی وجہ سے کھیتوں کے کناروں پر اگی ہوئی سبز اور لمبی گھاس لہلہاتے ہوئے جنت کا منظر پیش

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند  قسط نمبر۔ 2

رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت تھا۔ رحمان صاحب ہارن پر ہارن بجا رہے تھے۔ گھر پہنچنے پر گھر کے باہر انتظار کرنا ان کی شان کے سخت خلاف تھا کوئی ملازم بھی نہیں تھا اس لیے ماحد یا شاہ بانو ہی زیادہ تر گیٹ کھولنے آتے تھے۔ اس وقت بھی وہ سخت بیزار ہو رہے تھے تبھی ان کے پیچھے ایک اور گاڑی آ کر رکی۔ انہوں نے سائیڈ مرر پر کوفت زدہ نظر ڈال کر ہٹا لی پر

Read more

ہمیں رشتہ منظور ہے

میرا ماسٹرز کا آخری پیپر ہے۔ میں صرف خوش نہیں بلکہ بہت خوش ہوں۔ اس دن کا میں ڈیڑھ سال سے انتظار کر رہی تھی۔ میں نے اور جنید نے یہی طے کیا تھا کہ ہم اپنے گھر والوں سے شادی کی بات تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہی کریں گے اور کیونکہ جنید کو نوکری کی کوئی ایمرجنسی نہیں تھی اس لیے وہ ماسٹرز کے فوراً بعد میرے گھر اپنے ماں باپ کو رشتے کے لیے بھیجنا چاہتا تھا۔

Read more

شب ظلمت میں نکلا چاند  (1)

کون یہ جانتا ہے کہ کالی سیاہ رات اپنے اندر کیسی کیسی ظلمتوں کو چھپائے ہوئے ہے۔ کتنے ہی لوگوں کے گناہ اور کتنے ہی لوگوں کی بے بسی اس رات کے اندھیرے میں گم ہوجاتی ہے۔ زاہدوں کی عبادتیں، عیاشوں کی معصیتیں اور مظلوموں کی فریادیں سب رات کی کالی چادر میں لپٹ جاتی ہیں۔ ایسے میں چہرے پر آنسووں کی آڑی ترچھی لکیریں اور وجود پر دکھ اور بے بسی کا بوجھ لا دے شاہ بانو کے قدم

Read more

Book Review : Confessions of a Grandmother

Author: Yasmin Elahi Publisher:Auraq publications Pages: 240 دل چھونے والی کتاب کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو دل چھو لیتی ہیں۔ آپ سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ آپ پڑھتے ہوئے مسکرانے لگتے ہیں اور کتاب آپ کے ساتھ ساتھ مسکاتی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک کتاب گزشتہ دنوں زیر مطالعہ رہی جس نے مجھے اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ یہ کتاب یاسمین الٰہی صاحبہ کی confessions of a grandmother کے نام سے ہے جس میں انہوں نے ایک بیٹی، پھر

Read more

جو سات سمندر پار جا بسی ہے

رات ڈھل رہی تھی۔ سرد و جامد بے خواب رات میں احمریں ستارے جگمگا کر اپنا دیوانہ پن ظاہر کر رہے تھے۔ مکان، درخت، پہاڑ، چاند سب رت جگا منا رہے تھے۔ پورا عالم سما مع دب اکبر و اصغر قطبی تارے کے گرد طواف کر رہا تھا۔ وہی پانی جو سمندروں سے بخارات بن کے اڑا تھا بوند بوند دھرتی کی کوکھ میں ٹپک کر اسے زمردیں رنگ دے گیا تھا۔ مخملیں دوب اور درختوں کے سبز پتے مزید

Read more

پراجیکٹ عمران خان کے بعد پراجیکٹ نواز شریف

اکیس اکتوبر 2023 کو نواز شریف کی واپسی ہوئی اور مینار پاکستان میں فقید المثال جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ ملک بھر سے قافلے کی صورت لوگ پہنچے اور یہ ایسا ہی منظر پیش کر رہا تھا جب بینظیر طویل جلا وطنی کاٹ کر اٹھارہ اکتوبر 2007 میں پاکستان پہنچی تو کراچی ائر پورٹ پر استقبال کے لیے ایک جم غفیر امنڈ آیا تھا۔ سکیورٹی کے ناقص انتظامات تھے۔ استقبالی جلسے پر بم دھماکہ ہوا۔ سینکڑوں کارکن لقمہ اجل بنے۔

Read more

( 7 ) لنگر خانے میں آسمانی حور

بابا جی کے عقیدت مند اور مریدین پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لوگ دور دراز کے علاقوں سے آتے۔ اور اپنی حاجتیں اور مرادیں پانے کے لیے یہاں نوراتے کاٹتے۔ نوراتوں کے قیام کے دوران یہ مریدین ننگے پاؤں ہی چلتے پھرتے۔ پاؤں میں جوتا پہننے کی ممانعت ہے۔ بابا جی کے لنگر سے کھانا کھاتے۔ اور سارا دن دربار میں حاضری کی حالت میں رہتے۔ عورتیں عام طور پر دربار میں جھاڑو پوچا کرتیں۔ اور مرد بھی حسب

Read more

الجھن (افسانہ)

انٹرنیشنل گرامر اسکول میں او لیول کی طالبہ علیزے نے یوں تو ’ٹو نیشن تھیوری‘ کے نام سے ایک نظریے کے بارے میں سرسری سا پڑھ رکھا تھا مگر آج جس سلیس زبان سے میم صائمہ بتول نے ہسٹری کی کلاس میں اس کی وضاحت کی۔ یہ نظریہ اس کی سمجھ میں کافی حد تک آ گیا تھا۔ ٹیچر نے بتایا تھا کہ : ” نو دہائی قبل جنم لینے والا دو قومی نظریہ مذہبی قومیت کے اصول پر بنایا

Read more

سٹیٹس اور خودی (قسط 1 )

اس نے ہوٹل (ڈھابے ) کے نیک نہاد مالک، جس کا بڑا بھائی اس گاؤں (پنڈی گھیپ) کی جامع مسجد کا امام ہے، کے آگے ایک عدد روٹی کے لیے، دست سوال دراز کیا۔ مالک ملائم آواز میں بھکشا مانگنے کے انداز سے شانت ہوا۔ اس نے نہ صرف روٹی اس کی ہتھیلی پر رکھ دی بلکہ ایک پلیٹ کے برابر دال چنا بھی کشکول میں ڈلوا دی۔ اس کے نحیف کندھے پر میل سے اٹا تھیلا لٹک رہا تھا۔

Read more

محبت کی ایک کہانی

” اجی! سنتے ہو؟ میں کب سے چیختی پھر رہی ہوں مگر تم ٹس سے مس ہی نہیں ہو رہے ہو“ ، شہزاد کی بیوی ہاتھ میں بیلنا پکڑے، باورچی خانے سے آئی اور شہزاد پہ برس پڑی، جو بستر پہ لیٹا، آنکھیں بند کیے سوچ کی وادیوں میں گم تھا۔ ”ارے سن رہا ہوں اور کئی دن سے سن رہا ہوں، مگر سنانے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے، وہ میرے پاس نہیں ہے“ ، شہزاد نے آنکھیں

Read more

کائی کہانی

نوٹ : یہ کہانی اس دور کی ہے جب سیل فون ایجاد نہیں ہوا تھا۔ وہ بے بسی سے اپنے سامنے رکھے ہوئے بیسن کو دیکھنے لگا۔ بیسن میں خون ہی خون تھا۔ ابھی ابھی اسے الٹی ہوئی تھی۔ اس کا سارا سینہ درد سے کچا ہو رہا تھا۔ وارڈ بوائے کب آ کر بیسن اٹھا کر لے گیا اسے پتہ نہیں چلا۔ تھکن سے نڈھال ہو کر وہ لیٹ گیا۔ اس پر میٹھی سی غنودگی طاری ہونے لگی تھی

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (15)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

تعویذ سے انکار کرنے والی کہانی

کہانی کی درد ناک چیخوں سے اس کی نیند ٹوٹ گئی، وہ سونا چاہتی تھی لیکن کہانیاں اسے سونے نہیں دیتی تھیں۔ کبھی کہانیوں کے قہقہے اسے جگاتے تھے کبھی چیخیں۔ کبھی آہ و بکا اور کبھی ان کی لایعنی باتیں۔ اور وہ جاگتی رہتی۔ نہ جانے کب سے وہ پوری نیند نہ سو سکی تھی۔ اس وقت بھی کہانی کی دردناک چیخیں پرسکون فضا میں بلند تر ہوتی جا رہی تھیں، اس نے خوابگاہ کا دروازہ کھولا اور چیخوں

Read more

ادھوری عورت کی پوری کہانی

میں پیدا ہوئی تو میرا نام سندر رکھ دیا گیا۔ مجھے میرے خالق نے خوب تراش تراش کر بنایا تھا۔ میرے دماغ کو ذہانت کے مادے میں گوندھ گوندھ کر تخلیق کیا تھا۔ مجھے سیکھنے کی بے پناہ قوت سے نوازا گیا تھا۔ مجھ میں کیا کمی تھی! کیا خامی تھی جو مجھے بازار میں بیچنے کے لئے لے جایا گیا اور میری قیمت مقرر کر دی گئی۔ لوگ آتے، مجھ سے باتیں کرتے، میری تعریفیں کرتے اور قیمت دیکھ

Read more

افسانہ: واپسی

چک مراد خان کے ریلوے اسٹیشن پہ سرد ہوائیں معمول کی رفتار سے کچھ زیادہ ہی تیز چل رہی تھیں، جس سے موسم کی خنکی میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا تھا۔ یہ فروری کی اوائل شام کا وقت تھا، مگر گہرے سیاہ بادلوں نے سورج کو اپنی اوٹ میں اس طرح چھپا رکھا تھا، کہ آدھی رات کا سماں محسوس ہوتا تھا۔ کہنے کو تو بہار کا پرفریب موسم تھا، لیکن اس وقت کالے بادلوں کی گھنی چادر نے

Read more

پُنر جنم

آج تم سے ملاقات ہو ہی گئی، ایسے لگ رہا ہے جیسے کل ہی کی بات تھی جب ہم بچھڑے ۔ ۔ ۔ مگر ہم کئی یگوں کے بعد مل رہے ہیں۔۔ صدیاں بیت گئیں، ہم روپ بدلتے رہے۔ مجھے تمہاری باتیں یاد ہیں، تم نے ایک بار کہا تھا : ”میں بوند بن کر زمین پر گرتی ہوں، پانی بن کر بہتی دریا سے ہوکر ساگر میں گر جاتی ہوں۔۔ بادل بنتی ہوں ۔۔ پھر برستی ہوں۔ ۔ ۔

Read more

سفید چادر

بچپن میں ہم دونوں قاری ولی صاحب کے حجرے اور ماسٹر ریحان صاحب کے سکول میں اکٹھے پڑھتے تھے۔ ہمیں شرارت اور چھیڑ چھاڑ کرنے پر ہمیشہ مار بھی کھانی پڑتی تھی۔ اس نے جماعت پنجم کے بعد سکول کو خیر باد کہا، جب کہ میں نے میٹرک تک اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ اس دوران میں اس کے محلے میں سر بلال سے انگلش سیکھنے کے بہانے روزانہ اس سے ملاقاتیں اور آنکھ مچولیاں جاری رہیں، مگر اس کی

Read more

بھوک

درختوں پر شور مچاتے پرندے سورج کے ڈھلنے کی نوید سنا رہے تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کا اژدہام تھا۔ ہر انسان تیزی میں تھا۔ وہ بس اسٹاپ پر کھڑا گھر کی جانب جانے والی بس کا انتظار کر رہا تھا۔ ہر آنے والی بس رکتے ہی مسافروں سے بھر جاتی یہاں تک کہ بسوں کی چھتوں پر لد کر فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور اپنے گھروں کی جانب روا دواں تھے۔ منٹھار نے کئی بسوں میں سوار ہونے کی

Read more

اقبال گئے دلی، غالب سے ملنے

دسمبر کا دھندلکا اور صبح کے چھ بجے کا وقت تھا، جب علامہ اقبال ایک اونی شال اوڑھے، دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے، کوچہ بلی ماراں سے گزرتے ہوئے، مرزا غالب کے مکان پر پہنچے۔ مکان کی حالت بہت بہتر تھی، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ غالب نے شاید انگریز سرکار سے ملنے والی پنشن سے، اسے دوبارہ تعمیر کروایا ہے۔ دروازے کے ساتھ دیوار پہ تختی آویزاں تھی، جس پہ مرزا اسداللہ خان غالب، مکان نمبر 366 / 2

Read more

مصنّفہ کی کامیابی؟

نعیمہ آج پھر خورشید نقوی کے کمرے میں داخل ہوئی لیکن اس دفعہ وہ گھبرائی ہوئی نہیں تھی۔ خورشید نے سرسری نظروں سے نعیمہ کو دیکھا۔ ’بیٹھیں بیٹھیں، مجھے صرف پانچ منٹ کے لئے اجازت دیں۔ ‘ یہ کہہ کر خوش لباس اور انتہائی نحیف خورشید کمرے سے باہر جانے لگا۔ ’رکیے۔ مجھے اپنے سوال کا جواب چاہیے۔ آپ نے فون پہ میرے سوال کا جواب نہیں دیا اس لئے میں خود چلی آئی۔ ‘ خورشید نے اشارے سے بتایا

Read more

میلے سے لکھا گیا باپ کو ایک خط

از نہاں خانہ دل وقت زرد دوپہر موسم خزاں میں لپٹی دھند محترم ابا جان! السلام علیکم! ہم سب گھر والے خیریت سے ہیں اور امید کرتا ہوں کہ آپ بھی قبر میں خیریت سے ہونگے۔ ابا جان! آپ کو یہ خط اس واسطے لکھ رہا ہوں کہ امسال ہمارے یہاں بابا جی کا میلہ ، نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منایا جارہا ہے۔ آج میلے کو شروع ہوئے چار دن ہوچکے ہیں ، مگر دل میں ہمت نہیں

Read more

نقاب میں چھپے چہرے

کل امی ابو کی برسی ہے میں نہیں آ سکوں گی، تم ادھر کام سنبھال لینا پلیز۔ نیوز روم سے نکلتے ہوئے بینا نے اپنے کولیگ فہد سے درخواست کی۔ کیسی نیک بی بی بننے کی اداکاری کر رہی تھی۔ جیسے حاجن یہی تو ہے۔ روز پینٹ پہنے، بنا دوپٹے کے گھومتی ہے۔ اور آج آ گئی چاول لے کر ”جی یہ ختم دلایا تھا میرے امی ابو کی برسی ہے“ ۔ سر پہ کس کے دوپٹہ ایسے لپیٹا ہوا

Read more