انہی کچھ منٹس کی کہانی ہے جو ناول کے مرکزی کردار تاکیلہ لیلی نے مرنے کے بعد سانسیں بھرتے دماغ کے ساتھ گزارے ہیں وہ دس منٹ جس میں زندگی بھر کے چلتے ہوئے قدموں پر سے اسے ایک بار پھر گزرنا پڑا، جب صرف دس منٹ میں اسے اپنی زندگی کا عذاب پھر سے جینا پڑا، سر سے اتار پھینکنے سے پہلے اس بوجھ کو برق رفتاری سے ہی سہی مگر دوبارہ کاندھے پر اٹھانا پڑا۔
تاکیلہ لیلی کون ہے؟ یہ ایک طوائف کی لاش ہے جس نے لاش بننے سے پہلے ایک طوائف اور طوائف ہونے سے پہلے ایک بیٹی اور ایک بیٹی ہونے کے بعد چائلڈ ابیوز کا سامنا کیا ہے۔ زندگی میں طوائف ہونا بھی آسان کام نہیں، اس سے پہلے ہزار عذابوں سے عورت گزرتی ہے تب آ کر بازار میں سجتی ہے۔ طوائف کا کوٹھا بہتی نہر میں لگی وہ جالی ہے جو ٹوٹی پھوٹی لاشوں کو رستے میں پکڑ کر کچھ اور سانسوں کے لئے سطح آب پر لے آتی ہے اور پھر عورت سب کچھ ہار کر محض زندگی کی خاطر یہ زندگی جیتی ہے۔ مگر یہ صرف طوائف کی کہانی نہیں۔ یہ اس بیٹی کی بھی کہانی ہے جس کے پیدا ہوتے ہی مڈ وائف کے منہ سے بدشگونی نکلی کہ
Read more