عرفان صدیقی صاحب کی کتاب ”جو بچھڑ گئے“

معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی کے کالموں کا مجموعہ ”جو بچھڑ گئے“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ تمام کالم صدیقی صاحب کے ساتھ کسی نہ کسی طرح منسلک لوگوں کے نام ہیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ صدیقی صاحب نے اپنی کتاب میں 28 اکتوبر 2010 کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والا کالم ”آغا جی“ شامل کیا ہے جو ”آغا شورش کاشمیری“ کے بارے میں ہے۔ مصنف نے آغا صاحب کو عطاء اللہ شاہ بخاری کے بعد

Read more

صدام حسین اور اپنا بستر درست کرنا

بہت سی خوبصورت روایتوں اور اختراعو ں کی طرح امریکی یونیورسٹیوں میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ سالانہ گر یجوشن کی تقریب میں خطاب کرنے کے لئے کسی ایسے مہمان کو بلایا جاتا ہے جو اپنی محنت کے بل بوتے پر زندگی کے کسی شعبے میں نمایاں مقام پر پہنچا ہو۔ یہ خطاب اکثر عملی زندگی میں داخل ہونے والے طلبا کے لئے مشعل راہ بن جاتا ہے۔ ہمارے یہاں کانووکشن کے نام پر ہونے والی تقریبات اتنی ہی

Read more

ایک سابق سفیر کی سرگزشت ”جو ہم پہ گزری“۔

سابق سفیر سید سبط یحییٰ نقوی کی کتاب ”جو ہم پہ گزری“ مارچ، 2020 میں شائع ہوئی اور سفیروں کی آپ بیتیوں میں ایک زبردست اضافے کا موجب ٹھہری۔ مصنف عرض داشت میں ہی رقمطراز ہیں کہ ”یہ محض اتفاق ہے کہ میری زیادہ تر تقرریاں ایسے ممالک میں ہوئیں جہاں آمرانہ حکومتیں تھیں۔ پہلی پوسٹنگ لیبیا کی تھی جہاں کرنل قذافی نے آمرانہ نظام قائم کیا تھا، اس کے بعد رومانیہ جہاں چاؤ شسکو مطلق العنان حکمران تھے۔ پرتگال میں جمہوریت آ گئی تھی لیکن پرتگال پر چالیس سال حکومت کرنے والے حکمران انتونیو سالازار کے باقیات نظر آتے تھے۔

پھر انڈونیشیا میں سوہارتو ایک ڈکٹیٹر تھے اور شام میں حافظ الاسد اور پھر بشار الاسد جابر حکمران تھے۔ نیدر لینڈ میں بادشاہت تھی لیکن یہ ایک جمہوری ملک تھا۔ پاکستان میں میری نوکری کے دوران بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کسی ڈکٹیٹر سے کم نہیں تھے۔ بینظیر اور نواز شریف کے دور میں بس نام کی جمہوریت تھی۔ جنرل مشرف بھی ایک ڈکٹیٹر تھے۔ مجھے ڈکٹیٹروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ بات صحیح ہے کہ ڈکٹیٹروں کو اپنی ذات کے علاوہ کسی سے دلچسپی نہیں ہوتی۔

Read more

سیموئیل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔

سیموئل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔

دو بے گھر بوڑھے۔ ۔ ۔ ایک درخت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالی سڑک۔ ۔ ۔ انتظار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی خاص وقت میں نہ مخصوص مقام پر۔ ۔ ۔ کہیں نہیں اور ہر کہیں۔ ۔ ۔ دو دن۔ ۔ ۔ بحث۔ ۔ ۔ بیزاری۔ ۔ ۔ مضحکہ خیزی۔ ۔ ۔ اپنی ہی کہی باتوں کی بار بار دہرائی۔ ۔ ۔ خود کشی پر غور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انتظار۔ ۔ ۔ جو کبھی نہیں آئے گا، اس کا انتظار۔ ۔ ۔ گوڈو کا انتظار۔

یہ ہے سیموئل بیکٹ کا بے مثل ”ڈرامہ ویٹنگ فار گوڈو“ ، ایک لازوال شاہکار۔ بیسویں صدی کے ڈرامے کے سر کا تاج۔

Read more

ممتاز مفتی کی ”تلاش“۔

جو صاحب علم ہیں ان سے پیشگی معذرت کرتا ہوں کہ اگر بندے سے کوئی حماقت ہوگئی بلکہ کئی ہوں گی تو درگزر کیجیے گا۔ کیوں کہ یہ بڑا ثواب کا کام ہے اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہوئی جو کہ لازمی ہوگی تو وہ بھی کر دیجئے گا۔

ممتاز مفتی کے بیٹے عکسی مفتی نے اس کتاب تلاش کا دیباچہ ممتاز مفتی کی یاد میں کے عنوان سے لکھا ہے۔ جس میں وہ اپنے والد کی کچھ قابل اعتراض باتوں کے حوالے سے کہتے ہیں کہ وہ ان سے مجذوبانہ کیفیت میں لکھی گئی ہیں۔ کیوں کہ ہوش و حواس میں وہ باتیں کر گزرنا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر ممتاز مفتی اپنی کتاب لبیک جو ایک طرح کا سفر نامہ حج ہے میں خانہ کعبہ کو کالا کوٹھا لکھ دیتے ہیں۔

Read more

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں!

فیض صاحب کا مصرعہ ہے، ”چاند کو گل کریں تو ہم جانیں“ اسی مصرعے پہ اسامہ صدیق صاحب نے ایک اعلی درجے کا ناول لکھ مارا۔ چونکہ ناول انگریزی بلکہ شدھ انگریزی میں ہے تو اس کا نام ”snuffing out the moon“ ہے۔ ناول موصول ہوا تو لاک ڈاؤن چل رہا تھا۔ فرصت کے رات دن میں اس سے اچھا مشغلہ کیا ہو گا کہ دھریکوں کی کاسنی کلیوں کی چھاوں میں ایک دلچسپ ناول لے کے وقت کاٹا جائے۔

Read more

حسن منظر کا ناولٹ ”وبا“ (ایک بیانیہ)۔

گزشتہ پچاس سال میں اردو ادب کے ایسے قلم کار جن کا بنیادی تعلق طب کے شعبے سے رہا بہت اچھا ادب تخلیق کرچکے ہیں۔ ان میں تین نام خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ڈاکٹر حسن منظر، ڈاکٹر شیر شاہ سید اور ڈاکٹر آصف فرخی، تینوں اعلیٰ پائے کے ڈاکٹر بھی ہیں اور مصنف بھی۔ ڈاکٹر آصف فرخی نے شاندار افسانے لکھے اور ترجمے کیے۔ اس کے علاوہ ایک ادبی مجلہ بھی نکالتے رہے۔ پھر ادبی میلوں کوپاکستان میں متعارف

Read more

تنہائی کے ایک سو سال: جادوئی حقیقت نگاری سے بھرپور ناول

گزشتہ سال کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار گبریل گارشیا مارکیز کے بیٹوں نے نیٹ فلکس کو مصنف کے مشہور ناول ’تنہائی کے ایک سو سال‘ پر ویب سیریز بنانے کے حقوق دیے۔ خبر پڑھ کر پہلے توحیرت ہوئی کیوں کہ مارکیز نے خود سیکڑوں فلم سازوں کی اس درخواست کو رد کر دیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس ناول پر فلم بننا ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران میں نے اس ناول کو سندھی،

Read more

کتاب کا نام: علم و آگہی کا سفر: قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ

مصنف: ڈاکٹر شیر شاہ سید مبصر: گوہر تاج مشی گن، ڈیٹرائٹ، امریکہ پچھلے دنوں جو کتاب زیرِ مطالعہ رہی وہ دلچسپ اور متحرکن قسم کی معلومات سے مزین ”علم و آگہی کا سفر“ (قدیم یونیورسٹیوں کی مختصر تاریخ) ہے۔ جس کے مصنف ڈاکٹر شیر شاہ سید ہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ کسی مصنف نے دنیا کی قدیم جامعات کی تاریخ کو اردو زبان میں مرتب کرنے کا بیڑا اٹھایا ہو۔ دقیق تحقیق اور انتھک مطالعہ کا حاصل اس کتاب

Read more

چار درویش اور کچھوا: بدقسمت اردو ناول کے تابوت میں ایک اور کیل

سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور کچھوا“ پڑھتے کے بعد میری حالت بعینہٖ ویسی ہی تھی جیسی کچھ سال قبل ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے میں ہوئی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل صدارتی امیدوار کا جلسہ تھا، امیدوار موصوف انتہائی درمیانے درجے کا وکیل تھا اور ڈری ڈری محتاط طبیعت کا مالک، ایک بھلا مانس آدمی تھا۔ سٹیج سیکرٹری، جو امیدوار کا قریبی دوست بھی تھا،

Read more

علم کی راہ میں متعصبانہ رکاوٹیں

مغربی درسگاہوں میں رائج علمی نظام حالیہ کچھ عرصہ میں، اندرونی و بیرونی، کڑی جانچ پڑتال کی زد میں ہیں۔  ساری دُنیا، خصوصاً عالمی جنوب، میں ایسی علمی تحاریک ابھر رہی ہیں جو ”عالمگیریت“ کے چولے میں صرف یورپی مرکزیت کے حامل خیالات و افکار کی تعلیم و ترویج پر سوال اٹھا رہی ہیں۔  اور اب تو نوبت بہ ایں جا رسید کہ استعمار مخالف مفکرین لفظ ”عالمگیریت“ پر ”تکثیریت“ کو ترجیح دینے لگے ہیں تاکہ علوم میں غیر مغربی

Read more

ہڈالی کا بیٹا خوشونت سنگھ: پنجاب، پنجابی، اورپنجابیت

دریائے جہلم کے پانی میں نہ جانے کیا تاثیر ہے کہ دو بڑے لکھاری پیدا کیے ۔ دونوں ہی ماں (مٹی) کے لیے وجہ شہرت بن گئے، دونوں ہی کو اسے مجبوری میں چھوڑ کر پردیس جانا پڑ گیا۔ میری مراد گلزار صاحب اور خوشونت سنگھ ہیں۔ دونوں کو اپنی مٹی سے انتہا کی محبت رہی۔ خوشونت سنگھ شاہ پور کے ایک گاؤں ہڈالی (موجودہ ضلع خوشاب) کی مٹی سے جنم لینے والا، مگر ہڈالی کا بیٹا، تقسیم کے وقت

Read more

مشرف عالم ذوقی کا ناول ”پو کے مان کی دنیا“ ”تبصرہ اور تجزیہ“

پو کے مان کی دنیا ناول آج کی تبدیل ہوتی دنیا اور ختم ہوتی تہذیب کا مرثیہ ہے۔ گلوبل ولیج کے دائرے میں سمٹتی دنیا مگر قدروں کی موت کی سرگوشی ہے۔ ماڈرن کلچر کے نام پر اخلاقیات اور معصوم بچپن کی قبرگاہ ہے۔ مغربی اطوا ر کو نقل کرنے کی خواہش میں اپنی شناخت کا جنازہ نکالنے والوں کی روداد ہے۔ انٹرنیٹ تک آسان پہنچ اور گیم کلچر نے بچّوں کے ذہنوں کو اس قدر پراگندہ کر دیا ہے

Read more

23 اپریل کتاب کا عالمی دن: میں اور ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی

23 اپریل کتاب کا عالمی دن ہے۔ شکریہ انٹرنیٹ اور دوستوں کا، کہ انھوں نے اپنے پیغامات اور پوسٹوں کے توسط سے اطلاع دی کہ ایسا ایک دن، ہے۔ جس میں کتاب کی اہمیت اور افادیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ہم بہت سارے موضوعات اور مساہل کے دن بھی مناتے ہیں۔ لیکن اس دن کے حوالے سے میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اس دن میرے جیسے کم پڑھنے والوں کو کم از کم ترغیب

Read more

طاہرہ اقبال کا ناول: نیلی بار

ایک عہد کا بیانیہ، تاریخ کا آئینہ۔ نیلی بار ناول محض ایک ناول نہیں ہے نہ اُسے صرف ادب اور فکشن تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ وہ اپنے عہد کا مکمل بیانیہ ہے۔ ایک آئینہ ہے جس کی روشنی میں تاریخ داں تاریخ سے انصاف کر سکتے ہیں۔ نیلی بار ناول ایّوب خان کے کے دور سے بھٹو کے اِنقلاب اور اس کی پھانسی کے وقت سے لے کر موجودہ دور تک محیط ہے۔ اس دوران کے سارے واقعات،

Read more

مہان تخلیق کار

فنونِ لطیفہ کی عظیم دھرتی ڈیرہ اسماعیل خان نے ہر دور میں کیا کیا یگانہ روزگار ہستیاں پیدا کیں، ہر ستارہ اپنے ساتھ ایک کہکشاں لئے ہوئے ہے۔ اسی روشن کہکشاں میں عصر حاضر کا ایک چمکدار ستارہ حمزہ حسن شیخ بھی شامل ہے جس نے اپنے قلم کی روشنی سے اس کہکشاں میں مزید رنگینیاں بکھیر کے سرزمینِ ڈیرہ اسماعیل خان کو ملکی سرحدوں کے پار بھی پہچان دی۔ حمزہ حسن شیخ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے

Read more

صراطِ حسان پر ایک تحسینی اظہاریہ

نعتیہ ادب محض میلانِ طبع کے طفیل تخلیق کار کو اپنی جانب راغب کرتا بلکہ یہ ایک خاص عطا ہے جن کے لیے خاص دل اور خاص بصیرت چنی جاتی ہے۔ جب تک کوئی تخلیق کار اپنے محبوب یا تصور کی جمالیات سے آشنا نہیں ہوتا وہ اسے لسانی طور پر متشکل نہیں کرسکتا، گویا اپنے تصورِ محبوب کو تہذیبی جمالیاتی پیرائے اور لسانی ذخیرے کے ذریعے دریافت کرنا اور اسے ایک پختہ تر روایت میں ایک نئے، تازہ اور

Read more

ڈاکٹر بلند اقبال ”ٹوٹی ہوئی دیوار“ میں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں

ڈاکٹر بلند اقبال کثیر الجہت صلاحیتوں کے مالک ہیں، چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک منفرد انداز رکھتے ہیں اور ان کا یہی منفرد پن ان کی تحریروں اور باتوں میں بھی نظر آتا ہے۔ پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب اور قابل ڈاکٹر ہیں مگر ادب، شاعری، لکھنا اور سوچنا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے کیونکہ آپ ہندوستان اور پاکستان کے نامی گرامی شاعر اور ادیب حمایت علی شاعر کے بیٹے ہیں۔ جیسے انگریزی میں کہا جاتا ہے

Read more

سفر جمال: سیرت نگاری میں قابل تحسین تازہ کاری

سید کائنات ؐ کی سیرت طیبہ ایک ایسا عظیم و جلیل موضوع ہے جس کی زمانی اور مکانی وسعت کا احاطہ انتہائی دشوار ہے۔ مالک ارض و سما نے اپنے محبوب نبئی آخرالزماں ؐ کو تمام عالمِ انسانیت کا ہادی و راہبر بنایا تو اس میں یہ پروانہ صفت فطرت بھِی ودیعیت کر دی کہ سب اپنی اپنی فہم و بساط، علم و معرفت اور خیال و فکر کے مطابق ذات و صفات محمدیؐ اور اعمال و خصائلِ نبویؐ کا

Read more

خالد سہیل کے تین سو محبت نامے اور فیملی آف دی ہارٹ

کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا شخص دیکھا ہے جو بیک وقت طبیب بھی ہو اور ادیب بھی، ایک کالم نگار بھی ہو اور مترجم بھی، جو ایک مسیحا بھی ہو اور شاعر بھی، جو مسافر بھی ہواور منزل بھی، جو ایک درویش بھی ہو اور جدید دور کی چالیس کتابوں کا مصنف بھی اور جو ایک ادبی و تخلیقی ادارے کا روحِ رواں بھی ہو اور اپنی ذات میں ایک ادارہ بھی؟ آئیے آج میں آپ کو ’ھم سب‘

Read more

ماضی کے دھندلکوں سے چند اوراق

آج کل ہر طرف ایک ہی موضوع ”قرنطینہ“ زیر بحث ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی تھم سی گئی ہے ایک ایک دن، ایک ایک لمحہ بھاری ہو گیا ہے۔ کرونا وائرس سے دنیا میں خوف اور وحشت کا چلن ہوا، لاک ڈاؤن نے سب بلاکڈ کر دیا، گویا انسانی دنیا تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ تیزی سے چلتے ہوئے ماہ و سال اب گھنٹوں اور منٹوں میں رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ چمکتی صبحیں اور ڈھلتی

Read more

”ہم سب“ پر ڈاکٹر خالد سہیل کے 300 محبت نامے

دنیا میں ان گنت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بے شمار کتابیں پڑھنے کے باوجود علم، دانائی اور حکمت سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ ان کی علمی چھان پھٹک انہیں حقیقت کی شناسائی سے بہت دور لے جاتی ہے اور وہ ساری عمر انتشار خیالات کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا علمی ماحصل چند دعووں تک محدود ہو جاتا ہے اور وہ اپنی فکر میں نرگسیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ علم و حکمت کے متلاشی ایسے

Read more

مورتیاں تراشنے والاعرفی

کہانی ایک پتھر ہے اورافسانہ نگاری مورتیاں تراشنے جیسا عمل ہے۔ افسانہ نگار اپنی ہتھوڑی چھینی سے کہانی کے پتھر کو کس پہلو سے تراشتا ہے یہ اس کا اختیار ہے۔ اچھا افسانہ نگار وہی ہے جو اپنے اوزار سے تراش خراش کے اس عمل کو بہت سبھاؤسے جاری رکھتا ہے اور ایک اسلوب وضع کرتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آرائش اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ پتھرغائب ہوکررہ جاتا ہے اور کچھ مورتی ساز ایسے بھی

Read more

محمد وسیم شاہد کی کہانیاں

آج سرزمین بلوچستان کی ایک خوبصورتی، ایک انعام اور فن و حکمت کے چشمے کا ذکر آپ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ ہے، جس سے تعمیر و اصلاح انسانی کے سوتے پھوٹتے ہیں، ہزاروں سال پرانی زرخیز تہذیب کے وارث بلوچستان کئی طرح کی خوبصورتی اور قسم ہا قسم کے انعامات اپنے دامن مالدار میں سموئے ہوئے ہے۔ یہاں فطری ماحول کی فراوانی ہے، سنگلاخ پہاڑ، ریتلے صحرا، چٹیل میدان، سرسبزوشاداب وادیاں، مکران سے جڑی سات سو کلو میٹر

Read more

ادبی محبت نامے

آج کل جب کرونا کی وجہ سے زندگی کی بھاگ دوڑ کچھ کم ہو چلی ہے۔ اور جہاں ایسے بہت سارے کام جو ہم کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہاں یہ بہترین موقع بھی ہے ایسے کام کرنے کا جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن وقت ہاتھ نہیں لگتا۔ ذاتی طور پر میرے لئے یہ اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھنے کا بہترین موقع ہے۔ ایک کتاب جو میں نے انہی دنوں میں پڑھی۔ وہ ڈاکٹر خالد سہیل

Read more

مقصُود گل کی منفرد قلمی کاوش: سچّل سرمست کے فارسی کلام کا منظوم اردو ترجمہ

مقصود گل کا شمار سندھ کے قادرالکلام شعراء میں ہوتا ہے، جنہوں نے شعر و سخن کے ساتھ ساتھ نثرکے میدان میں بھی اپنے قلمی کارنامے انجام دیے۔ انہوں نے کالم نویس، افسانہ نگار، محقق، مترجم، صحافی، بچّوں کے ادیب، خاکہ نویس اور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے اپنی نمایاں ادبی خدمات کی وجہ سے شہرت پائی۔ وہ شاعر ابنِ شاعر تھے۔ ان کی پیدائش، 70 برس قبل 15 اپریل 1950 ء کو لاڑکانے ضلع کے شہر ”رتودیرو“ میں ہوئی،

Read more

زیرِ آسماں: کالم میں خاکے

کبھی دل فرصت کے دن ڈھونڈتا تھا، تصورِ جاناں سے زیادہ اپنے آپ سے ملاقات کے لیے۔ فراغتے و کتابے و گوشۂ چمنے کی خواہش دل میں مچلتی رہتی تھی، لان میں پڑی بید کی کرسی پر اُس وقت بیٹھنا ہوتا تھا جب کوئی بھولا بھٹکا مہمان آجاتا۔ وہ بھی شام کے وقت۔ اور شام بھی ایسی کہ کہیں جانا نہ ہو۔ اب جو کورونا نے سماجی زندگی کو معطل کر دیا ہے، دفاتر اور بازار بند ہیں، کہیں آنے

Read more

رابعہ الربا اور درویش کے نام

رابعہ سے میری ملاقات دو سال پہلے ایکسپو سنٹر میں ہوئی اور رابعہ کے خواب ناموں کے ساتھ بھی میری پہلی ملاقات تھی۔ خواب ہر انسان دیکھتا ہے کیونکہ اس پر کوئی بندش نہیں ہوتی رابعہ کے خواب ”درویشوں کا ڈیرہ“ کی صورت میرے ہاتھ آئے تو ڈاکٹر خالد سہیل (لفظوں کی صورت) سے بھی ملاقات ہوئی۔ خطوط کے ذریعے مشرق اور مغرب کے درویش ایک دو سرے کی ذات میں اپنا سچ ڈھوندتے نظر آتے ہیں کبھی خوابوں کی

Read more

الطاف گوہر کی کتاب ”گوہر گز شت“ سے!

بقو ل ہمایوں گوہر: میرے والد الطاف گوہر مرحوم خود نوشت سوانحی انداز میں اپنی رودادِ حیات بزبان اردو لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اگر وہ اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ خود نوشت سوانح عمری خاصی دلچسپ اور معلومات افزا ہوتی کیونکہ انہوں نے بڑی بھرپور اور متنوع زندگی بسر کی تھی۔ بد قسمتی سے وہ خرابی صحت کے باعث ایسا نہ کر پائے۔ انہوں نے اپنے ایامِ علالت میں صرف چند ابواب قلمبند کیے، جن

Read more

راکھ۔ مستنصر حسین تارڑ

مستنصر حسین تارڑ صاحب کو پہلی دفعہ پی ٹی وی کی سکرین پر دیکھا جب وہ صبح کی نشریات کی میزبانی کرتے تھے۔ پھر جب کچھ عرصے بعد طبیعت پڑھنے کی طرف راغب ہوئی تو ابنِ انشا کا سفرنامہ ”چلتے ہو تو چین کو چلیے“ پڑھا اور جس کو پڑھنے کے بعد سفرناموں کی پسندیدگی کی ایک لو بھڑک اٹھی اور یہ لو ہمیں تارڑ صاحب تک لے گئی۔ نوے کی دہائی کے آخر کی بات ہے جب تارڑ صاحب

Read more

جناب عامر خاکوانی کی کتاب: زنگار نامہ

اس وقت لوگوں کی ایک کثیر تعداد لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں تک محدود ہو چکی ہے۔ زیادہ تر خواتین تو پہلے ہی گھر وں میں رہتی تھیں کہ ”ہاؤس وائف“ کہلاتی ہیں۔ سکول جانے والے بچے، دفاتر میں کام کرنے والے مرد اور عورتیں وغیرہ دوسری بہت سی پریشانیوں کے علاوہ ایک اور پریشانی میں مبتلا ہیں کہ وافر ملے اس وقت کو کیسے گزارا جائے؟ دوسرے بہت سے لکھاریوں کی طرح جناب عامرخاکوانی بھی اپنے کالمز میں

Read more

افسر ساجد کی سات کتابیں سات حیرتیں

دیکھنے والے کے لیے یہ دنیا ایک نگار خانہ ہے جہاں پلک جھپکنے کی دیر ہوتی ہے کہ سامنے والا لینڈ سکیپ تبدیل ہو جاتا ہے۔ جیسے Heraclitus نے کہا تھا تم اسی دریا میں دوبارہ پاٶں نہیں رکھ سکتے کہ نہ وہ دریا ہوتا ہے اور نہ تم وہ ہوتے ہو مگر حیرت کا مقام ہے کہ شاعری شاعری ہی رہتی ہے اور آپ اس میں بار بار پاٶں رکھ سکتے ہیں اور شاعری کا دریا آپ کو ساتھ

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب ”لوگ در لوگ“ کے لوگ

جمہوری پبلیکیشنز کے روحِ رواں جناب فرخ سہیل گوئندی نے ”لوگ در لوگ“ کے نام سے ایک کتاب لکھ رکھی ہے جو ان واقعات اور تجربات پر مشتمل ہے جنہیں گوئندی صاحب نے اپنی سیاسی جدو جہد اور عملی زندگی کے دوران دیکھا، بیتایا یا محسوس کیا۔ سر گودھا کا یہ سپوت اپنی سیاسی جدو جہد میں بھٹو کا ”دیوانہ“ تھا، ایسا دیوانہ کہ بھٹو کو بطور وزیرِ خارجہ دیکھنا شروع کیا اور 4 اپریل 1979 تک پھانسی پر جھولتے،

Read more

ڈاکٹر جاوید باتش کی ”خموشی بھی صدا ہے“

شعر کی ابتدا، غالباً غنا سے ہوئی ہو گی اور غنا کا شروع لامحالہ آہنگ سے۔ پھر آہنگ تو بذات خود فطرت کا انگ ہے۔ آہنگ ہی نے ترنم کو جنم دیا۔ البتہ یہ لازم نہیں کہ باد صبا کی یکساں سرسراہٹ یا کسی خاموش ندی کے ایک سے پتھروں پر سے قلقل مے کے مانند ایک لے سے بہنے کی صدا آہنگ کہلائے۔ سرشور ہوا کا بے ہنگم پن، ادھر سے ادھر قوی تھپیڑوں کی سی چٹاخ پٹاخ کے

Read more

ایک نئی زمین ایک بہتر زندگی پیدا کرتی ہے

A New Earth Create a Better Life: یہ نئی کتاب قاری کو یہ سیکھنے میں مدد دیتی ہے کہ وہ کس طرح تکلیف کو امن میں بدل سکتا ہے۔ کتاب میں غصے اور غم سے لے کر حسد اور اضطراب تک ہر طرح کے مصائب کا ازالہ کیا گیا ہے ، کتاب میں مصنف نے بہت سے انا کے بارے میں بات کی ہے اور ہم خود کو اس سے کس طرح الگ کرسکتے ہیں ، مصنف نے اس کتاب

Read more

2 اپریل: بچّوں کی کتب کا عالمی دن

2 اپریل کو ”بچّوں کی کتب کے عالمی دن“ کے طور پر منایا جاتا ہے، جبکہ اسی مہینے کے دوران ہی اس دن کے 20 دن بعد 23 اپریل کو اقوامِ مُتحدہ کی جانب سے ”کتب اور کاپی رائٹ کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے۔ ”کتب اور کاپی رائٹ کا عالمی دن“ 1995 ء سے منایا جاتا ہے، جبکہ ”بچّوں کی کتب کا عالمی دن“ ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے ”انٹرنیشنل بورڈ آن بُکس فار یَنگ پیپل“ (آئی بی

Read more

آپ نے آخری دفعہ کوئی کتاب کب پڑھی تھی؟

ان دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے معمولات زندگی تقریباً معطل ہیں۔ عوام کو ہر طرف سے سماجی تعلقات محدود کر کے گھروں میں دبکے رہنے کی تلقین ہو رہی ہے۔ لوگ اس پر نوے فیصد عمل پیرا بھی ہیں۔ گویا زندگی کو بچانے کے لیے کاروبارِ زندگی کو کلوزڈ فار مینٹینینس (Closed for maintenance ) کر دیا گیا ہے۔ اس ماحول میں وہ احباب جن کو کتب بینی کی عادت نہیں تھی، قدرے ذہنی دباؤ کا شکار اور بے

Read more

فاروق خالد کا ناول ”سیاہ آئینے“

کسی ایسے ناول کے بارے میں لکھنا جس کا ادبی مقام متعین ہو چکا ہو، آسان نہیں ہوتا۔ ایسے فن پارے کے مختلف زاویوں اور جہتوں پر سیر حاصل بات عموماً ہو چکی ہوتی ہے، لہذا ایسی تحریر پر قلم اٹھانے کا سزاوار کوئی فقط اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ اس کا کوئی نیا پہلو دریافت کرے یا اس کے حسن و قبح کے حوالے سے کوئی نیا نکتہ اٹھائے۔ فاروق خالد کے آدم جی انعام یافتہ

Read more

جب غالب ملے بھگت کبیر سے (دوزخ نامہ سے اقتباس)

کبھی کبھی میں آدھی رات کے وقت منیکرنیکا گھاٹ پر چلاجاتا اور اس کی سیڑھیوں پر بیٹھا رہتا۔ کاشی چھوڑ کر جانے کی میری بالکل خواہش نہ تھی۔ گنگا کی ٹھنڈی ہوائیں میرے اندر کی ساری بے اطمینانی اور جنون کو پُرسکون کردیتی تھیں۔ مجھے لگا کلکتہ جاکرکیا ہوگا۔ کیوں میں تھوڑی سی رقم کی خاطر، اس طویل سفر میں خود کومارے ڈال رہا ہوں۔ منیکرنیکا کی چتاؤں کی آگ نے میری ساری نفسانی خواہشوں اور آرزوؤں کو خاکستر کر

Read more

”حاجی صاحب اور دوسری کہانیاں“ اک جائزہ

فیصل اقبال اعوان سے میرا تعلق کافی پرانا ہے۔ لیکن حال ہی میں شائع ہونے والی اُن کی کتاب ”حاجی صاحب اور دوسری کہانیاں“ کی وساطت سے جو ملاقات ہوئی، اُس سے، اُن کے ساتھ محبت کا رنگ اور بھی گہرا ہو گیا۔ میرا فیصل سے محبت کا رشتہ ہے اس لیے اگر میری تحریر میں کوئی تعصب یا جانبداری کا عنصر پایا جائے تو وہ اک فطری عمل ہوگا جس کے لیے میں بالکل معزرت خواہ نہیں ہوں۔ میں

Read more

All The Light We Can not See: محبت اور جنگ کی ایک عجب کہانی

انتھونی ڈوئر عصر حاضر کے ابھرتے ہوئے امریکی ادیب ہیں۔ جن کی اب تک ایک سوانح عمری، دو افسانوی مجموعے اور دو ناول منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ”آل دا لائٹ وی کین نوٹ سی“ ان کا دوسرا ناول ہے جو 2014 ء میں شائع ہوا۔ اور 2015 ء میں اس ناول نے پلتزر انعام اور اینڈریو کارنیج میڈل جیسے انعامات جیتے۔ اس ناول میں دوسری جنگ عظیم کے دوران دو نو عمروں کی کہانی بیان کی گئی ہے،

Read more

قاتل جراثیم کے خلاف تاریخ کی مہلک ترین جنگ

ڈاکٹر مائیکل ٹی۔ اوسٹر ہولم کی کتاب ”مہلک ترین دشمن: قاتل جراثیم کے خلاف ہماری جنگ“ اور جَون ایم بیری کی کتاب ”عظیم انفلوئنزا: تاریخ کے مہلک ترین بین الاقوامی وبائی مرض کی کہانی“ کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مال آف امریکہ پر جراثیمی حملہ ہو سکتا ہے اور کیا متعدی امرض یک دم پوری دنیا میں وبا کی صورت پھیل سکتی ہیں؟ تو اس کا جواب ہے، جی

Read more

محمد الیاس کا ’آئینے میں گُم عکس‘ او ر ثقافتی گھٹن

برٹرینڈر رسل نے بہترین زندگی کی تعریف کرتے ہوئے ایک کتاب میں لکھا ہے : (The best life is inspired by love and guided by knowledge) ۔ ”بہترین زندگی وہ ہوتی ہے جس کا محرک محبت ہو اور جس کے لیے رہنمائی علم سے حاصل کی جائے“۔ ٍ چنانچہ نہ تو علم کے بغیر محبت اور نہ ہی محبت کے بغیرعلم سے اچھی زندگی پیدا ہوسکتی ہے۔ گویا ان دونوں کا عدم توازن یا کسی ایک کی عدم موجودگی انسانی

Read more

دوزخ نامہ یا بہشت نامہ؟

تصوّر کیجیے انیسویں صدی اگر آکر بیسویں صدی کو گلے لگالے، اور ہم اور آپ، دو صدیوں کے اس ملاپ کے گواہ بن جائیں تو کیسا لگے گا؟ یوں دیکھا جائے تو دو صدیوں کے ملاپ کا یہ موقع اٹھارہ برس پہلے اُس وقت آیا تھا جب 13 /دسمبر 1999 ء کی رات دو صدیاں لمحہ بھر کے لیے ایک ہوگئی تھیں، لیکن یہاں تو بنگالی ادیب ربیسنکر بال نے دو صدیوں کو ایک کتاب میں بند کردیا ہے اور

Read more

سندھ پر برطانوی مفکرین کی کتابیں

گوکہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو سندھ میں اس کی خراب کارکردگی پر نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ تنقید بڑی حد تک درست بھی ہے مگر کم از کم کتابوں کی سطح پر سندھ حکومت کی محکمہ ثقافت نے کچھ اچھے کام کیے ہیں جن کا ذکر کیا جانا چاہیے۔ اگر آپ کتابوں کے شوقین ہیں تو آپ پرانی کتابوں کی تلاش میں ضرور رہتے ہوں گے اور کتاب میلوں میں بھی جاتے ہوں گے مگر ان کے علاوہ

Read more

دا اوور سٹوری: رچرڈ پاورز کا ناول اور درختوں سے محبت

دا اوور سٹوری، رچرڈ پاورز کا بارہواں ناول ہے، جو بکر انعام کے لئے شارٹ لسٹ رہا اور پلٹزر انعام جیتا، اس ناول کو پڑھتے ہوئے آپ یقینی طور پر سوچیں گے کہ جو کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے وہ کس درخت سے بنی ہے، جس کرسی یا بستر کو آپ استعمال کرتے ہیں اس کے لئے کون سے درخت کاٹے گئے، جن دروازوں میں سے آپ اپنے گھروں اور دفاتر میں گزرتے ہیں ان کے لئے کتنے درخت

Read more

ادب، کورونا وائرس اور سازشی تھیوری

سوال یہ ہے کہ کیا ڈین کونٹزؔ کے ناول ”اندھیرے میں آنکھیں“ میں کورونا وائرس کا ذکر ہے؟ تو جواب ہے کہ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ اُس نے ایک فکشنل بائیولوجیکل ہتھیار کا ذکر کیا ہے جس کا نام ”Whuhan۔ 400“ ہے لیکن یہ نام بھی اس کے ابتدائی ایڈیشن میں نہیں ہے وہاں اس کا نام روس کے حوالے سے ”Gorki۔ 400“ ہے۔ اس ناول کا پہلا ایڈیشن 1981ء میں آیا تھا۔ اس وقت یہ ناول Leigh Nicholas فرضی

Read more

قلم بولتا رہا: حماد حسن سچ بولتا رہا

لگ بھگ ڈیڑہ سال قبل راقم نے اردو کالم نگاری کی مقبول ترین سائٹ ”ہم سب“ پر لکھنا شروع کیا تو اردو کے جیّد، اکابر اور ممتاز کالم نگاروں کی فکر انگیز، دماغ افروز اور جگر سوز تحریروں کے جلو میں جن دوسرے لکھاریوں نے ہمیں چونکایا، ان میں حماد حسن کا نام سر فہرست تھا۔ سو ہم نے وجاہت مسعود، عدنان خان کاکڑ، اظہر سیّد، رٶف کلاسرا، خورشید ندیم اور عطا الحق قاسمی جیسے کالم نگاروں کے ساتھ ساتھ

Read more

ضیأ الرحمان امجد صاحب کی کتاب: کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت)۔

ضیا الرحمان امجد صاحب کی کتاب، ”کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت) “۔ شاعری کی ایسی کتاب ہے جس کا اولین مقصد تو ایک خاص عمر اور خاص ماحول میں جذباتی کیفیات کی ترجمانی کرنا ہے۔ ثا نیاً، اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ یہ کتاب بالغانِ نظر کے لیے نہیں ہے۔ جیسا کہ عنوان میں لفظ ’کالج‘ نمائندہ ہے ایک خاص عمر میں، ایک خاص ماحول، ایک خاص تعلیم کے مرحلے کا۔ ایسا مرحلہ جب بچپن پیچھے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”دانائی کی تلاش میں“

اس خزینہ معرفت اور دانائی سے معّطر کتاب کا آغاز چند بنیادی فلسفیانہ سوالات سے ہوتا ہے۔ 1۔ سچ کیا ہے؟ 2۔ دانائی کس کو کہتے ہیں؟ 3۔ ساری دنیا کے انسان اتنے دکھی کیوں ہیں؟ 4۔ انسان اپنے دکھوں کو سکھوں میں کیسے بدل سکتے ہیں؟ 5۔ انسان اس کرّہ ارض کو ایک پُرامن معاشرے میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کا یہ کتاب احاطہ کرتی ہے۔ یہ وہ سوال ہیں جن کے

Read more

سنگی کتابیں، ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ، اور خاتون افسانہ نگار

قصہ دراصل یہ ہے کہ ہمیں ایک عدد کالم لکھنا تھا ایک کتاب ”سنگی کتابیں، کاغذی پیراہن“ پہ۔ یہ کتاب دراصل کنفیوشس کی تعلیمات کا ترجمہ ہے اور اسے ترجمے کے پیراہن میں ڈھالا ہے اپنے یونس خان ؔ بھائی نے۔ جی، جی وہی دھان پان سے نازک سے یونس بھائی، جن کو انڈیا کے معروف و معتبر ادیب مشرف عالم ذوقی ؔنے پاکستانی ارنسٹ ہیمنگ وے ؔ کہا ہے اور صحیح طور یہ نام دیا ہے۔ مگر ہمارا یہ

Read more

انیس عورتیں۔ سندھی ناول کے اردو ترجمے پر تبصرہ

بچپن سے الف لیلیٰ کی کہانیوں میں پڑھتے آئے کہ ایک شہزادے نے کبھی سات مشکل سوالوں کا جواب دے کرتو کبھی دیو سے مقابلہ کرکے اپنی محبت کوقید سے چھڑایا۔ بہت تخیلاتی اور خوش گوار احساس ہوتا تھا، لیکن یہ سوال بھی کہ ہمیشہ یہ ظالم بادشاہ یا دیو بیچاری شہزادیوں کو کیوں قید کرلیتے ہیں۔ اور ان کی آزادی اتنی جوکھم کا کام کیوں ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ شہزادی ہمیشہ اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے؟ بڑے ہونے

Read more

نغمانہ شیخ کا افسانوی مجموعہ: دھوپ میں جلتے خواب

نغمانہ صاحبہ حقوق نسواں کی عملی تصویر ہیں۔  نغمانہ شیخ کو پڑھنے سے پہلے کلام کرتے ہوئے دیکھا، وہ تقریبات کی نظامت خوبصورتی سے انجام دیتی ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق میں مکمل تعارف ہوا، دل نشین انداز میں افسانے اور نظمیں سناتی ہیں، رواں اور سادہ انداز بیاں، لبوں پر تبسم، چمکتی آنکھیں، اور برجستہ جملے بازی، میں ان کی قربت میں سکون محسوس کرتی ہوں، شرارتی جملے بازی یا اختلافی مباحث پر ساتھ دینے کے لئے کوئی موجود ہے، یہ

Read more

عاصم بٹ کا ناول بھید: وجود کی تلاش کا سفر

بھید معروف ناول نگار محمد عاصم بٹ کا تازہ ترین ناول ہے۔ اس سے قبل وہ دائرہ جیسا رجحان ساز ناول لکھ چکے ہیں۔ ان کا ایک ناول ناتمام UBL ایوارڈ بھی وصول چکا ہے۔ دو عدد افسانوی مجموعے، مشہور اردو فکشن نگاروں کے انتخاب، بے شمار ادبی مضامین، کافکا، بورخیس اور جاپانی کہانیوں کے تراجم وغیرہ اس کے علاؤہ ہیں یعنی وہ کلہم ادیب ہیں۔ یہ جتنا بڑا اعزاز ہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے سو عاصم

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی مشترکہ کتاب ٹو کینڈلز آف پیس پر تبصرہ

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی کتاب ”ٹو کینڈلز آف پیس“ پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نئے انداز میں لکھی گئی۔ یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے جو دو باشعور، انسان دوست اور حساس دوستوں نے ایک دوسرے کو لکھے ہیں۔ یہ ان کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ جو مختلف مسائل پر انتہاٰئی دیانت داری سے کیا گیا ہے۔ موضوعات اگر چہ مختلف ہیں لیکن ان میں ایک ربط اور تعلق ہے۔ اور اس انداز سے بیان کیے

Read more

سندھ کی ”اُنیس عورتیں“ اور تاریخ کا مسخ شدہ چہرہ

سندھ پر اہلِ عرب کے حملوں کی تاریخ کا ایک رُخ جو عام قاری کو دکھایا جاتا ہے وہ دیبل کے بحری قذاقوں کا عربوں کا جہاز لُوٹنے اور عربی خواتین کو قید کر کے یر غمال بنانے سے منسلک رہا ہے۔ اس پر کئی لکھاریوں نے لکھا اور سترہ سالہ محمد بن قاسم کے ساتھ ساتھ بنو امیہ کے سفاک حکمران حجاج بن یُوسف کو بھی ہیرو کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔ ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی مشترکہ کتاب: Two Candles Of Peace

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی کتاب "ٹو کینڈلز آف پیس” پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نیؑےانداز میں لکھی گئی یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے جو دو باشعور، انسان دوست اور حساس دوستوں نے ایک دوسرے کو لکھے ھیں۔ یہ ان کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ جو مختلف مسایؑل پر انتہائی دیانت داری سے کیا گیا ہے۔ موضوعات اگرچہ مختلف ہیں لیکن ان میں ایک ربط اور تعلق ہے۔ اور اس انداز سے بیان کیے گے ھیں

Read more

ُمُندری والا اور امن کا آدرش

” جمال لان میں ٹہلتے ہوئے سوچنے لگا: یہ کون سی جگہ ہے؟ وہ یہاں کیوں آیا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں جو یہاں رہتے ہیں؟ بہت کم بولتے ہیں۔ شانت اور پُر سکون ہیں۔ اُجلے اُجلے سے لگتے ہیں۔ کسی بات پر حیران نہیں ہوتے۔ اِدھراُدھر گھومتے پھرتے رہتے ہیں۔ یہ حویلی ’مُندری والا‘ کے آباء نے کب بنائی ہوگی؟ کیا ’مُندری والا‘ بہت امیر شخص ہے؟ ’مُندری والا‘ کبھی صوفی تو کبھی شیطان لگتا ہے۔ حقیقت میں وہ

Read more

After the Prophet: A book by Lesley Hazelton

لیزلی ہیزلٹن کی کتاب ”after the Prophet“ اسلام کے دو بڑے حصوں میں ٹوٹ جانے کی وجوہات کی ایک مکمل داستان ہے۔ The first Muslim میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی داستان حیات کو ایک مکمل اور زندہ صورت میں پیش کرنے کے بعد یہ کتاب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ ان تمام مراحل، حالات و واقعات کے گرد گھومتی ہے جو آپ کے وصال کے بعد اہل بیت، آپ

Read more

”شہر ہو تو ایسا ہو، عاشق ہوں تو ایسے ہوں“

”کسی بھی بڑے آدمی کی زندگی کا جائزہ لیں، معلوم ہو گا اسے جن چیزوں نے بڑا بنایا اس میں اس ماحول کا بہت دخل رہا جس میں وہ پروان چڑھا۔ “ کتاب کے آخری صفحات میں درج یہ جملہ اس کتاب کی اشاعت کے محرّک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ لاہور سے بے پناہ محبت کرنے والے ایک صحافی کی کتاب ہے۔ نام ہے ”لاہور: شہر پرکمال“ اور یہ تذکرہ ہے لاہور کے تین عشاق کی لاہور سے جڑی یادوں کا۔

اردو کے تین قدآورادیبوں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور کنہیا لال کپور کو حالات کے جبر کے تحت یہ شہر چھوڑنا پڑا لیکن ان کا دل عمر بھر اس شہر کے محلوں، بازاروں اور گلیوں میں اٹکا رہا۔

Read more

انتخابی تاریخ کی ورق گردانی

پاکستان کی سیاسی تاریخ یا انتخابات کی روداد پر انگنت کتابیں مارکیٹ اور لائبریریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں اس فہرست میں ایک نیا اضافہ فاروق اعظم کی کتاب ”انتخابات 2018 : پس منظر سے پیش منظر تک“ کی صورت میں ہوا ہے۔ میرے تجربے اور مطالعے کے لحاظ سے مذکورہ کتاب بہت مفید اور معلوماتی ہے۔ اس میں ایک مختصر اضافہ جو مقدمہ کی صورت میں شامل کیا گیا ہے، وہ بجائے خود پاکستان کی مختصر

Read more

قاضی قیصر الاسلام کی کتاب: فلسفے کے بنیادی مسائل

قاضی قیصر الاسلام صاحب ( 25 دسمبر 1934۔ 18 اکتوبر 1998 ) کا نام پہلی مرتبہ سن انیس صد ستانوے میں، اس وقت پڑھا، جب ایم اے فلسفہ کے ایک مضمون بعنو ان ”پرابلمز اُف فلاسفی“ کی تیاری اور امتحان کے پل صراط سے گزرنے کا مرحلہ درپیش آیا۔ ہمارا تعلیمی پس منظر اردو میڈیم ہونے کی بنا پر، انگریزی کُتب اور وہ بھی فلسفے کے مسائل جیسے دقیق مضمون پر، ہمارے دائرہ فہم سے باہر تھیں۔ اوؔلین کوشش کے

Read more

گاندھی جی کی آپ بیتی

مہاتما گاندھی کی آپ بیتی ”تلاش حق“ پڑھی، گاندھی جی کے افکار و نظریات اور جہد حیات کے ساتھ بہت مقصود تھا کہ آزادی کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو ان کی زبانی پڑھنے کاموقع ملے گا لیکن اس حوالے سے مایوسی ہوئی کہ اس میں آزادی ہندکی جدو جہد کے آغاز میں پہنچتے ہی یہ ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ گاندھی جی کے نزدیک یہی تھی کہ بہت سی وہ شخصیات جن کے حوالے سے اس کے

Read more

اداکار نواز الدین صدیقی کے ہاتھوں نندیتا داس کی کتاب ”منٹو اور مَیں“ کی رونمائی

ممبئی: ”یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے سعادت حسن منٹو کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ بطور اداکار مَیں نے کئی کردار نبھانے اور اسٹیج ڈراموں کے لئے اردو اور ہندی ادب پڑھا ہے لیکن منٹو کو پڑھنے کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ وہ عظیم لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔ منٹو کا کردار میری زندگی پر اثر انداز ہوا ہے۔ منٹو کے ذریعہ مَیں نے اپنے دل کی بات کہی ہے۔ “ اِن خیالات کا اظہار

Read more

مسلم ریاست جدید کیسے بنے؟

محمود مرزا صاحب مرحوم کی کتاب ”مسلم ریاست جدید کیسے بنے؟ “ اپنے موضوع کے لحاظ سے غیر معمولی توجہ کی مستحق کتاب ہے۔ کتاب مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، جس میں مرزا صاحب نے جو نتائجِ فکر پیش کیے ہیں وہ محمود مرزا صاحب کی وسیع المطالعگی، اہل علم سے ہونے والے تبادلہ خیالات اور مشاہدے کا مظہر ہے۔ مرزا صاحب نے جن موضاعات پر مضامین لکھے ہیں ان پر مختلف پہلوؤں سے بات ہوسکتی ہے۔ مثلاً مسلم دنیا

Read more

عامر خاکوانی کا ”زنگار نامہ“

عامر ہاشم خاکوانی صاحب سے نسبت کے کئی پہلو ہیں، وہ ایک شفیق استاد، ایک خوبصورت لکھاری اور ایک نفیس انسان ہیں۔ ایک اور تعلق ان سے وسیب کا بھی ہے۔ ان کی تحریر میں موجود سرائیکی کی چاشنی اور حلاوت، وہی محسوس کر سکتے ہیں جن کا کچھ نہ کچھ تعلق سرائیکی وسیب سے رہا ہو۔ جامعہ پنجاب میں کالم نگاری کی تدریس کرتے تھے اور انتہائی متانت کے ساتھ دقیق موضوعات کو بڑے سادہ اور آسان انداز میں

Read more

یہ کہانیاں پڑھنا منع ہے

جب مادی دور کی لعنتوں نے معاشرتی زندگی میں زہر گھول دیا ہو۔ ہوس زر نے نوع انساں کو خود غرضی، انتشار اور بے حسی کی بھینٹ چڑھا دیا ہو۔ مسلسل شکست دل کے باعث بے حسی پیدا ہو چکی ہو۔ عادی دروغ گو اور سادیت پسندی کے مرض میں مبتلا مخبوط الحواس درندوں نے رُتیں بے ثمر، کلیاں شرر، آہیں بے اثر، آبادیاں پُرخطر، زندگیاں مختصر اور گلیاں خوں میں تر کر دی ہوں۔ تو ایسے حالات میں اگر

Read more

محمد حامد سراج کی ”میا“

محمد حامد سراج کی ”“ میا ”کا مطالعہ کرنے کے بعد دل بہت اداس ہو گیا میا کو پڑھتے وقت آنکھوں سے آنسو خود بخود حامد سراج کی تحریر کو داد دینا شروع کر دیتے ہیں لگتا ہے“ میا ”کو حامد سراج نے آنسوؤں میں ہی پرویا ہے۔ واہ کیا کہنے۔ ”تمہارے بعد یہ زندگی بے ترتیب ہو گئی ہے ریزہ ریزہ زندگی کو کیسے ترتیب دیا جائے۔ آنسوں کو کس تاگے میں پرویا جائے“ ”میا“ میں ماں جیسی ہستی

Read more

سرمد کھوسو کی تعلیمی تحریروں پر مشتمل سندھی کتاب: ”تنیں کھے تعلیم جی“

اس شکایت کی کوئی بنیاد نہیں ہے کہ ”آج کل ہمارے یہاں قاری مر گیا ہے۔ “ قاری جاوداں ہے اور زندہ رہے گا، جب تک خوبصورت ادب تحریر ہوتا رہے گا اور خوبصورت ادب رہتی دنیا تک تحریر ہوتا رہے گا۔ وقت کے تغیّرات کاغذ، قلم، دوات، کتاب اور اخبار کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں فکشن اور نان فکشن میں عظیم ترین ادب تخلیق ہو رہا ہے اور آج بھی دنیا بھر کے قارعین

Read more

کم سنی کی شادی اور اسلام

مولانا سلطان احمد اصلاحی ایک بے باک، مخلص، صاحب طرز اور دور اندیش عالم دین تھے۔ وہ ہندوپاک کے ایک معروف محقق ومصنف تھے۔ انہوں نے ہمیشہ متنوع اور اچھوتے موضوعات پر کام کیا اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق علمی وتحقیقی موتیاں بکھیرتے رہے۔ مولانا موصوف بلند پایہ علمی سوچ کے حامل تھے۔ وہ روایتی رکھ رکھاؤ، سطحی تحقیق اور پرانی چیزوں کو پھر سے دہرانے کے قائل نہیں تھے۔ مولانا سلطان اصلاحی 26 فروری 1950 ء میں اعظم

Read more

زیرِ آسماں : لکھت اور لکھاری

عالمگیریت کے خروش میں، مقامیت سے انحراف کے اس زمانے میں اگر کوئی اپنی مٹی سے جڑے رومانوں کی بات کرے، اپنی ثقافت کے اجلے رنگوں کو یاد کرے، اپنی تاریخ کے روشن حوالوں اور کرداروں اور قصوں کی کھوج کرے، اپنے آس پاس کی زندگی کے تابندہ نقش ابھارے، اپنے گزرے ہوئے اچھے کل سے وابستہ یادوں کو دُہرائے اور اپنے گھمبیر آج میں سے روشنی کے نشان ڈھونڈ نکالے اور لکھے اور بار بار لکھے تو یقینا حیرت

Read more

سیاست اور اے آر خالد کی کتاب

پاکستان میں سیاسی انتخابات کی تاریخ سات دہائیوں پر مشتمل ہے انتخابات کے ذریعے جتنی بھی سیاسی جماعتوں کو اقتدار ملا انہوں نے جمہوریت کے ثمرات جمہور تک پہنچانے کی بجائے صرف ملکی سیاست کو اپنے اقتدار اور مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کیا۔ المیہ ہے کہ مفاداتی سیاست نے عوام کو مہنگائی ’بے روزگاری‘ کرپشن ’غربت‘ لوڈشیڈنگ ’دہشت گردی‘ انصاف کی عدم دستیابی ’اقرباء پروری‘ رشوت ’سفارش جیسے مہلک مسائل سے دوچار کیا۔ حالانکہ سیاست کو ملک میں

Read more

”گوروں کے دیس سے“

گوروں کے دیس سے ”“ عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ٹرینرعارف انیس ملک کی کتاب ”کی پاکستان بھر میں تقریب رونمائی منعقد کی گئی۔ 23 جنوری کو گورنر ہاؤس لاہور میں کتاب کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی جس کے بعد 24 جنوری ملتان ٹی ہاؤس اور 29 جنوری 2020 کو کراچی بوٹ کلب میں تقریب ِپذیرائی کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا آغاز کلام ِ پاک کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد جناب عارف انیس ملک کا مختصر تعارف پیش

Read more

دارا شکوہ: ایک محقق اور بدنصیب شہزادہ ۔ پروفیسر سُپریا گاندھی کی نئی کتاب

مغلوں کی تاریخ میں شاہ جہاں کے بیٹوں میں سے ایک دارا شکوہ کو نہایت ذہین، تعلیم یافتہ اور فراخ دل شہزادہ تصور کیا جاتا ہے۔ دارا نے ویدک ادب کا مطالعہ کیا اور اسلام اور عیسائیت کا آپسی موازنہ بھی کیا۔ دارا مذہبی رواداری، سماجی آہنگی، اتحاد پسندی، باہمی محبت، تنوع میں جدت اور مخلوط معاشرت اور ثقافت کا قائل تھا۔ دارا شاہ جہاں کے بہت قریب تھا اور اُس کے اگلے شہنشاہ بننے کے ہر امکان موجود تھے

Read more

وقار عظیم کی کتاب اور حکمرانوں کے ”قومی خطاب“

اختر وقار عظیم نے ”پاکستان ٹیلی وژن“ میں متعدد عہدوں پر کام کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات سے مزین ایک کتاب ”ہم بھی وہیں موجود تھے“ کے نام سے مرتب کر رکھی ہے۔ اُن کی کتاب پڑھ کے لگتا ہے کہ وہ جہاں بھی گئے کچھ دلچسپ واقعات ان کے ارد گرد ضرور رونما ہوئے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں متعدد حکمرانوں کے ”قوم سے خطاب“ سے لے کر دیگر تقاریب کی خاطر ٹیلی

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب: انسانی شعور کا ارتقا

کتابوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری سوچ کو شعوری خوراک دے کر ہماری عقل اور فہم میں بالیدگی کا عنصر پروان چڑھاتی ہیں۔ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو بار بار پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ایسی کتابوں میں زندگی کی ایسی بصیرتیں چھپی ہوتی ہیں جنہیں صا حب فکر و نظر ہر دور میں نئے زاویے سے جانچنے، پرکھنے اور کریدنے کی کوشش میں مگن رہتے ہیں۔ میری نظر سے بھی ایک ایسی

Read more

شجر حیات: ایک رمزیہ تمثیل، ایک ناول

زندگی کا پھیلا ہوا بیابان اور کہیں ایک تنہا شجر جس پر انواع واقسام کے دانش کے چمکتے ہو ئے موتی۔۔۔ یہ خواب نہیں، حقیقت ہے۔۔۔ یہ حرف و صوت کا افسانہ نہیں۔ اور نہ ہی لکیروں یا رنگوں کا جال ہے۔۔۔ کہانی تو کچھ اور ہے۔۔۔ ہم اس کی تلاش کر رہے ہیں۔ ہم اپنے اپنے مسیحا کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ہم ہیں متاع کوچہ وبازار کی طرح۔ رنگ چہار جانب ہیں۔ رنگ، ہوا اور خوشبو۔ کہیں بھی

Read more

پوکے مان کی دنیا۔ مشرف عالم ذوقی کے ناول کا ایک جائزہ

آگے پوکے مان کا چہر ہ ہے اور پیچھے پوری کنزیومر ورلڈ ہے، اپنے چہرے سے اس ماسک کو اتارو اور چیخو کہ یہ ایک ایسی گلوبل ورلڈ ہے، جو بچوں کے اخلاق کو تباہ کر رہی ہے۔ ایسا ہی ایک کریکٹر۔ بارہ سال کا بچہ۔ جو پوکے مان بننا چاہتا تھا۔ ریپسٹ بن گیا۔ اس نے اپنی ہی ہم عمر لڑکی کا ریپ کیا تھا۔ یہ ہے اس ناول کا موضوع، یہ ایک جج کی کہانی ہے جو یہ

Read more

صفدر زیدی کا ناول ’بھاگ بھری‘: دہشت کا سفر

پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور کئی دوسرے ممالک کے امن و سکون کو تہہ و بالا کرنے والے جہاد کے نام پر دہشت گردی کے موضوع پر مکمل تفصیلات اور جزئیات کے ساتھ حقائق پر مبنی صفدر زیدی کا ناول ’بھاگ بھری‘ پچھلی دہائی /اس دہائی میں بلا شبہ اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے، جس پر پاکستان میں (کم از کم میرے علم کے مطابق) اس موضوع پر کوئی ایسا ضخیم ناول نہیں چھپا۔ ( مجھے یاد ہے

Read more

’شکارپور۔ تاریخ کے آئینے میں‘ ۔ ایک اہم تاریخی کتاب

’سندھ کا پَیرس‘ کہلانے والا شہر، شکارپور، بہت سے تاریخی حوالوں سے انتہائی یکتا اہمیت کا حامل ہے، جس کی انفرادی پہچان کے کئی حوالے ہیں۔ ایک طرف برِصغیر میں چھاپہ خانوں کا آغاز شکارپور سے ہوتا ہے، تو دُوسری طرف اس خطّے کو روڈ کے اُوپر سے گزرنے والے پُل (فلائی اوور) کا تصوّربھی یہی شہر فراہم کرتا ہے۔ برِصغیر ہندوپاک کی پہلی لیڈی ڈاکٹر، سارہ صدیقی بھی اسی شہر میں پیدا ہوتی ہیں، تو پاکستان ہندوستان کا سب

Read more

کمال کے شہر میں تین باکمال

ادب کے مؤرّخین نے اکثر یہ بات محسوس کی ہے کہ بعض بعض شہروں کی زندگی (یا شخصیت) کا بڑا حصّہ ان شعرا اور فن کاروں کا مرہونِ منّت ہوتا ہے جو وہاں قیام پذیر ہوتے ہیں۔ انّیسویں صدی کا پیرس تو خیر اس معاملے میں لاجواب بلکہ عدیم النّظیر ہے، کہ اس پوری صدی میں وہاں ایک سے ایک نامور مصوّر، ایک سے ایک بلند درجہ شاعر، ایک سے ایک بڑھ کر ناول نگار، تمام دنیا میں ممتاز اداکار

Read more

غلام عباس کے افسانے: حاصل ہے پشیمانی

غلام عباس ان با کمال فکشن نگاروں میں شامل ہیں جن کے افسانے ہر نئے افسانہ نگار کو ایک مرتبہ غور سے پڑھنے چاہئیں۔ چاہے وہ ان کی طرح حقیقت پسندانہ روش اختیار کرنا چاہتا ہو، چاہے کسی نئے رنگ کو اپنانے کے لیے کوشاں ہو، غلام عباس سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔ غلام عباس کی زبان اور بیانیہ قابلِ توجہ ہیں۔ یہاں صفائی اور سادگی سے واسطہ رکھا گیا ہے۔ ان کے ہاں کوئی عبارت آرائی نہیں،

Read more

کئی چاند تھے سرِآسمان

اس بے پناہ داستان کا مرکزی کردار محمد یوسف سادہ کار کشمیری کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم ہے۔ محمدیوسف سادہ کار کی پیدائش غالِباً 1793 میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام محمد یعقوب بڈگامی تھا اور چچا کانام یعنی محمد یعقوب بڈگامی کے بھائی کا نام محمد داؤد بڈگامی تھا۔ محمد یعقوب اور محمد داوٴد کے والد کا نام محمد یحیٰی اور دادا کا نام مخصوص اللہ تھا جو میاں مخصوص اللہ مرقع

Read more

”میٹرک فیل“ عین حیدر کے لئے ”عین نوازش“ کے ساتھ

یہ حالیہ دنوں کی بات ہے، ہم گاؤں میں دوپہر کے کھانے کے بعد کوئلوں پر پکی گڑ والی چائے سے حظ اٹھا رہے تھے کہ واقعتا موبائل فون کی مترنم گھنٹی بج اٹھی۔ کوئی انجان سا نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا۔ دل ہی دل میں موبائل فون کے خالق ”مارٹن کوپر“ کو کوستے ہوئے ہم نے کال ریسیو کی تو دوسری طرف سے ایک صاحب گویا ہوئے ”نعیم صاحب! کہاں ہیں آپ؟ میں آپ کا ہم نام بول

Read more

سلگتے چنار اور این بی سی

1973 میں روزنامہ ”مساوات“ کراچی میں ایک ستارہ طلوع ہوا۔ اس کی پیش عملیاں دیکھیں ،تو دم بخود رہ گیا۔ یہ ایٹمی توانائی اس نوجوان کے اندر کیسے آئی۔ پہلے یونیورسٹی کے طلبا کی سرگرمیاں Cover کیں۔ پھر دیکھا ،رپورٹر کے عہدے پر فائز ہے، پلک جھپکی اور نیوز ڈیسک سنبھال لی۔ توانائی چین نہ لینے دیتی تھی، میگزین کے لیے کام اور ادارتی صفحات کے لیے اپنے تبصرے بھی لکھنے لگا۔ پسینہ پسینہ ہو رہا ہے، لکھتا جاتا ہے، درمیان میں گفتگو بھی جاری ہے، اور اس کا قہقہہ، پرزور قہقہہ، دل کے اندر اتر جاتا ہے، کسی نرم معصوم خوشبو کی طرح۔

Read more

لاہور کے بازار حسن کا جلوہ

لوئز براﺅن ایک برطانوی شہری ہیں اور ریسرچ سے شغف رکھتی ہیں۔ ان کی زیرِ نظر کتاب لاہور کے ریڈ لائٹ ایریا کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا دیگر زبانو ں میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔ یہ ایک حیر ت انگیز کتاب ہے۔ لوئز نے کسی طور سے بھی افسانہ نہیں تراشا اور نہ ہی حقائق کو مسخ کرتے ہوئے کوئی لیبل چسپاں کیا ہے۔ کتاب کیسے لکھی جاتی ہے، اس کا ا دراک یہ کتاب پڑھ کر

Read more

”بارِ شناسائی“ میں چھُپی ”بندہ شناسی“

سب سے پہلے ذکر ہوا ہے جنرل ضیاء الحق کا جن کے ”باب“ کو مصنف نے ”جنرل ضیاء الحق۔ مومن کہ منافق“ کا نام دے رکھا ہے۔ مصنف لکھتے ہیں کہ ”ضیاء الحق میں چھوٹوں اور اپنے سے کہیں کمزور افسروں کی بات غور سے سننے کا حوصلہ تھا، جو ان سے پہلے میں نے کسی لیڈر میں محسوس نہیں کیا تھا“۔

اگلا باب ہے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے جسے ”ذوالفقار علی بھٹو۔ اک معمہ“ کا نام دیا گیا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے ”میں نے ذوالفقار علی بھٹو جیسا ذہین انسان نہیں دیکھا اور میں نے اپنی زندگی میں بھٹو جیسا مغرور اور متکبر انسان بھی نہیں دیکھا“۔

Read more

اوپرا ونفرے کی زندگی کے چند واقعات

ننھی اوپرا کیلے کی چھال سے بنی بوری کے کپڑے پہنے اپنی غریب نانی کو گندے کپڑے پانی میں ابالتے ہوے دیکھتی اس لیے کہ غربت کی مہربانی سے ان کے ہاں کپڑے دھونے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ چناچہ کپڑے پانی میں ابال کر صاف کیے جاتے۔ اس تکلیف سے ناخوش اس کا دل کہیں لاشعور کی تہوں سے گواہی دیتا : ”میرا مقدر ایسا نہیں ہو گا! “ ساٹھ کی دہائی میں افریقی لوگوں کے امریکی علاقوں میں

Read more

روبینہ فیصل کے افسانے، عورت اور محبت

عورت ایک ایسی پہیلی ہے جسے صدیوں سے ہر قوم ’ملک اور عہد کے ادیب‘ شاعر اور دانشور بوجھنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن جونہی وہ پہیلی بوجھنے کے قریب ہوتے ہیں اس پہیلی کی کوکھ سے ایک اور پہیلی ’ماں کی کوکھ سے ایک نئی بیٹی پیدا ہوجاتی ہے } جو پہلی پہیلی سے زیادہ پیچیدہ‘ گنجلک اور پراسرار ہوتی ہے اور ادیب شاعر اور دانشور اس نئی پہیلی کو بوجھنے کی کوشش میں غزلیں ’نظمیں‘ مقالے اور

Read more

سلمان رشدی کے نئے ناول ”کی شوٹ“ کا کچھ تذکرہ

سلمان رشدی کا نیا ناول (Quichotte (kee SHOT ابھی مارکیٹ میں آیا ہے جس کی کچھ ہی دن پہلے امریکہ میں رونمائی ہوئی ہے۔ یہ سلمان رشدی کا چودھواں ناول ہے۔ زیر نظر ناول سلمان رشدی نے میگوئیل دے سروانتس ؔکے کلاسیکی ناول Don Quixote سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔ Don Quixote کواردو میں ڈان کیخوتے وغیرہ ترجمہ کیا گیا وجہ سامنے تھی کہ یہ نام سپینش زبان کا ہے اور اردو دَاں طبقہ سپینش زبان سے واقف نہیں۔

Read more

”میں“ اور ”شجر حیات“ ایک مطالعہ

خالد فتح محمد عصر حاضر کے اہم ترین ناول نگار اور افسانہ نگار ہیں ان کے اب تک 6 افسانوی مجموعے اور 8 ناول شائع ہو چکے ہیں اس کے علاوہ تراجم کے حوالے سے کافی کام کیا ہے۔ 4 ترک ناولوں اور ایک جرمن ناول کو اردو ادب کا حصہ بنا چکے ہیں زیر طبع 5 ناول ہیں ان سارے کاموں کو وہ کمال مہارت سے کرتے ہیں۔ سال میں ایک کتاب ان کی ضرور منظرعام پر آتی ہے۔

Read more

صحافی راجدیپ سردیسائی کی تصنیف ”2019 ء: مودی نے کیسے ہندوستان جیتا“ کی رونمائی

ممبئی: گزشتہ دنوں این سی پی اے اور ہارپر کولِنز کے اشتراک سے لِٹریچر لائیو کے زیر اہتمام یہاں ایکسپریمنٹل تھیٹر میں منعقدہ تقریب میں معروف صحافی راجدیپ سردیسائی کی تازہ تصنیف ”2019 ء: مودی نے کیسے ہندوستان جیتا“ کی رسمِ رونمائی راجدیپ کی ماں نندینی سردیسائی اور معروف صحافی، ادیب اور سابق راجیہ سبھا رکن کمار کیتکر کے ہاتھوں عمل میں آئی۔ تقریب کی میزبانی لِٹریچر لائیو نے کی جبکہ نظامت کے فرائض کمار کیتکر نے بحسن و خوبی

Read more

پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

گزشتہ ہفتے صحافت کے حوالے سے دو شاہکار سامنے آئے۔ ایک وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر توصیف احمد خان کی کتاب ”پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ“ اور دوسرا پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف نیوز کاسٹر مہ پارہ صفدر کے یوٹیوب چینل پر پاکستان ٹیلی ویژن کے سابقہ جنرل منیجر اورکنٹرولر پی ٹی وی اکیڈمی اور اظہر لودھی اور سابقہ ڈائریکٹر نیوز عبدالشکور طاہر کی گفتگو، جن کے مطالعے اور گفتگوسے صحافت کی اس تاریخ

Read more

ڈھولکی اور اس کی رونق!

نوجوان لکھاری ظاہر محمود بہت اچھے تخلیق کار ہیں ان کی پہلی کتاب ڈھولکی پر پہلے شدید مصروفیت میں بات کرنا شروع کی جو کہ ادھوری رہ گئی ان کو گِلہ بھی رہا کہ جائزہ نہیں لیا گیا اور ان کی کتاب پر سیرحاصل بات نہ کی گئی۔ کسی کے لئے یہ بڑی خوشی کا مقام ہوتا ہے جب وہ اتنی کم عمری میں صاحب کتاب ہوجائے اور ادب بھی ایسا تخلیق کرے جو اس کی انفرادیت میں اپنی ایک

Read more

اپنے عہد کی گواہی

اردو کے کرشماتی افسانہ نگار انتظار حسین نے یاداشتوں کو ٹٹول کر کہانی بنا دیا تو ان پر پر ناسٹیلجیا کی پھبتی کسی گئی، خاص طور پر اُن حلقوں کی طرف سے جنھوں نے اپنی روایت سے کنارہ کشی اختیار کر کے مغربی تجربے کی روشنی میں اپنے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کی۔ یہ بحث ہمارے ہاں عشروں چلی۔ جس پر ایسے ایسے خیالات ظہور میں آئے کہ حیرت ہوتی ہے، حالانکہ یہ ماضی کے واقعات ہی ہوتے ہیں

Read more

کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ

کتنے برسوں کے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا جس نے راتوں کی نیند اڑا دی اور پھر ایک ایک دوست کو پکار پکار کے کہا کہ یہ ناول ضرور پڑھو دیکھو لفظ کیا ہوتے ہیں کہانی کیا ہوتی ہے اور تخلیقی اظہار کیا چیز ہے سب نے پڑھا اور اتفاق کیا قبل ازیں قرۃ العین حیدر کے ناول ”آگ کا دریا“ نے بھی کچھ اسی طور اپنے سحر میں جکڑا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو ادب

Read more

”تاریخ اوچ متبرکہ“ ایک مطالعاتی جائزہ

دینی و علمی حلقوں میں جناب علامہ مفتی محمد سراج احمد قادری رضوی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں، گزشتہ چالیس برسوں سے انہوں نے اوچ شریف جیسے چھوٹے سے علاقے میں دین کی شمع روشن کر رکھی ہے، اپنی دینی خدمات، معلمی جیسے مقدس پیشے سے عرصہ دراز تک وابستگی، جامعہ مدرسہ عزیزالعلوم کے خطیب اور جماعت اہلسنت اوچ شریف کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے اتحاد بین المسلمین اور بین المسالک ہم آہنگی کے لئے ان کی

Read more

” تنہائی کے سو سال“ اور اردو تراجم

سہ ماہی آج نے 1991 میں اپنا گابریل گارسیا مارکیز نمبر شائع کیا تو اس میں مشہور زمانہ ناول ”تنہائی کے سو سال“ کے پہلے تین ابواب کا اردو ترجمہ بھی شامل کیا، جس کی مترجم زینت حسام صاحبہ تھیں۔ بہت عرصہ تک اردو میں بس یہی تین ابواب ہی ترجمہ کی صورت دستیاب رہے، پھر فکشن ہاؤس نے اس ناول کا مکمل ترجمہ شائع کیا اور مترجم ڈاکٹر نعیم کلاسرا تھے۔ ترجمہ کس قدر مشکل کام ہے کہ جب

Read more