اگر انور سن رائے سے ہم مل نہ چکے ہوتے تو ہم سے دو غلطیاں ضرور سرزد ہو جاتیں۔ ایک ناول پڑھنے سے پہلے اور دوسری بعد میں۔
ذلتوں کے اسیر ہمارے سامنے کھلا پڑا ہے۔
ایک ایسا ناول جس کا بنیادی کردار ایک ایسی عورت سے متاثر ہو کر بنایا گیا جو اپنے متعدد جنسی معاشقوں، شادیوں، بے راہ روی اور پراسرار موت کی وجہ سے آج بھی یاد کی جاتی ہے۔ ایک ذلت آمیز زندگی گزار کر رخصت ہو جانے والی ہی تو ذلتوں کی اسیر تھی۔ پھر عنوان ذلتوں کے اسیر کیوں؟ کیا یہ کتابت کی غلطی ہے، طباعت کی یا انور سن رائے سے چوک ہو گئی؟ کیونکہ ناول کے نام کا صیغہ واحد نہیں۔
ناول پڑھ چکے تو خیال یہ آیا کہ اس ناول کا مصنف مرد نہیں ہو سکتا۔ آخر کوئی مرد فاحشہ سمجھی جانے والی عورت کے اندر بھڑکتی ہوئی آگ کو کیسے الفاظ کا روپ دے سکتا ہے؟ وہ کیسے جان سکتا ہے کہ وہ عورت زخموں سے چور، سسکیاں بھرتے ہوئے موت کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ جیسے جیسے موت کی آرزو شدید ہوتی ہے، زندگی ایک اور امتحان میں ڈال دیتی ہے۔
Read more