طنز و مزاح: کیا یہ واقعی ادب کا حصہ ہے؟

تحریر: فینانہ فرنام کامران عباس ادب انسانی زندگی کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہے۔ یہ محبت، غم، خوشی، اور تنقید جیسے مختلف موضوعات کے ذریعے معاشرتی رویوں اور انسانی کرداروں کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن ادب کی ایک صنف ایسی بھی ہے جو ہمیشہ سوالات کے گھیرے میں رہتی ہے : طنز۔ کیا طنز واقعی ادب کا ایک مثبت پہلو ہے؟ یا یہ درحقیقت دوسروں کو زچ کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کا ایک ذریعہ ہے؟ مزاح اور

Read more

فرحت عباس کو شاعروں سے کیا مسئلہ ہے؟

فرحت عباس شاہ اُردو شاعری میں جانا پہچانا نام ہے۔ بطور شاعر انھیں عرصے سے اپنی شاعر برادری سے کچھ تحفظات رہے ہیں، جن پر گاہے گاہے تحریر و تقریر میں ان کی رائے سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہتی ہے۔ سوشل میڈیا کی آمد سے جہاں رابطوں میں سہولت کی گنجائش پیدا ہوئی ہے، وہاں ایک قباحت یہ در آئی ہے کہ جسے نہیں سننا چاہتے، اُسے زبردستی سنوایا جا رہا ہے، جسے نہیں پڑھنا چاہیے اُس کی تحاریر

Read more

بلا عنوان

ربع صدی زندگی میں بے شمار لوگوں سے ملاقاتیں رہیں۔ طبعی میلان شروع سے ایسا تھا کہ خود سے بڑے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند رہا۔ مختلف فکر کے بلکہ طبقہ فکر کے افراد سے میل جول نے نسبتاً جلدی بالغ کر دیا۔ بزرگوں کی باتوں سے تاریخ میں جھانکنے کا شغف ہوا تو تاریخی کرداروں سے بھی آگاہی حاصل ہوتی رہی اور پھر اس قسم کے باقی لوگوں سے ملاقات کی خواہش پنپتی رہی جس کو وقتاً فوقتاً مختلف

Read more

اسکول کے بچوں کے مسائل اور انتظامیہ کی لاپرواہی

ہمارے معاشرے کے کئی ایسے مسائل ہیں جو زیر بحث نہیں لائے جاتے، جن کے حوالے سے آگہی ضروری ہے۔ ان میں بیشتر مسائل کا تعلق بچوں سے ہے۔ بچوں کو زندگی میں مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے، بیشتر اوقات والدین کی موجودگی کی بدولت ان مشکلات کا سد باب ہو جاتا ہے لیکن کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں جب ان کی راہنمائی یا ان کے بچاؤ کے لئے کوئی بڑا موجود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اسکول

Read more

پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری۔ عہد بہ عہد جائزہ

پوٹھوہاری ڈرامے اور ٹیلی فلموں کے ارتقاء اور مقبولیت میں پہلے پہل ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن، پھر پاکستان ٹیلی وژن اسلام آباد سنٹر اور بعد ازاں نجی ٹی وی چینلز اور پروڈکشن ہاؤسز نے اہم کردار ادا کیا ہے، پوٹھوہاری زبان و ادب کے ارتقاء اور فروغ کی اگر بات کی جائے تو ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے، ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن یکم ستمبر 1950 میں قائم ہوا، اس کے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر محمود

Read more

ہوادان سے : اُس شہر ِخوباں سے گزر گیا

ہر شہر منفرد پہچان رکھتا ہے۔ پرانا ہو تو بلند دروازے، پکے قلعے، اونچے برج، مقدس معبد، میناروں اور گھنٹہ گھروں کے علاوہ مخصوص اطوار اور چال چلن والے جان دار کردار بھی شہر کی پہچان بن جاتے ہیں۔ بات اندرون شہر کردار سازی، بلکہ کردار سوزی کی ہوتو جہاں دلی و لاہور کے رنگ باز، احمد آباد اور لکھنؤ کے پتنگ باز اور قاہرہ و لندن کے نوسرباز مشہور ہیں وہیں فیصل آباد کے جگت باز، پیرس کے شوباز،

Read more

مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری سید فضل الرحمن تنہا غرشین کی نظر میں

  یہاں پیش کردہ خیالات میرے اپنے نہیں ہے بلکہ میرے استادِ محترم و مکرم سید فضل الرحمن تنہا غرشین کے ہیں، جو ان کی ماسٹرز کے تحقیقی مقالے ”مولوی عبدالخالق ابابکی کا تعارف اور ان کی فکری و فنی جہتیں“ پر مشتمل ہے۔ یہ مقالہ 2016 میں برا ہوئی اکیڈمی کوئٹہ، پاکستان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ یہ مقالہ چار مختلف ابواب میں تقسیم ہے۔ پہلے باب میں مولوی ابابکی صاحب کا ذاتی اور ادبی تعارف بیان کیا

Read more

ناولٹ ”لندن کی ایک رات“ بطور ترقی پسند ادب و سماج کی صورت حال کا منعکس

سجاد ظہیر 1905 کو ریاست اودھ میں پیدا ہوئے۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ادب کی تعلیم حاصل کی۔ بیرسٹر بن کر واپس آئے تو اس سے ساتھ ساتھ انھوں نے ادب کا مطالعہ بھی جاری رکھا۔ اگر ہم اس حوالے سے بات کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سجاد ظہیر کی کتاب روشنائی دراصل ترقی پسند تحریک و ادب کا تاثراتی جائزہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجاد ظہیر نے جیل میں رہتے ہوئے یہ کتاب لکھی۔ 1931

Read more

کینسر ویکسین کا انقلاب اور دعوت اسلامی کا کرپشن انقلاب

آج کل روس سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، شنید ہے کہ انہوں نے کینسر ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے 2025 کے اوائل میں مریضوں کو مفت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ ویکسین مختلف تحقیقی اداروں کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، پری کلینیکل ٹرائلز میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ ویکسین ٹیومر کی نشوونما کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم اس کی افادیت پر کچھ شکوک و شبہات بھی پائے جاتے ہیں۔

Read more

افسانہ جوتے: انتون چیخوف

مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت کا پلستر گرا ہے یا اس نے ابھی اپنے کمرے میں کوئی بھوت دیکھا ہے۔ ”سیمیون خدا کو مانو!“ خادم کو اپنی طرف سرعت سے آتا

Read more

چلو اچھا ہوا تم بھول گئے

چلو اچھا ہوا تم بھول گئے۔ ایک بھول ہی تھا میرا پیار۔ ویسے تو یہ ایک گانے کے بول ہیں مگر اس کے پہلے بھول پاکستان کی تاریخ میں نہایت ہی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ جملہ صرف ایک طنز نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی، لاعلمی، اور تاریخ سے سبق نہ سیکھنے کا عکاس ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں کو یاد رکھنے اور ان سے سیکھنے کے بجائے انہیں بھلا دینے میں

Read more

سی ایم نعیم: اک ستارے میں ہے مکاں میرا

شہر میں اس دانش ور، نقاد، محقق اور مترجم کی موجودگی کی اطلاع ملی تو ملنے کی سبیل ڈھونڈنے لگے۔ تگ ودو کے بعد رابطہ ہوگیا۔ ان سے ملاقات، جس بھی جگہ پر ہوئی، بجلی کو غیر حاضر پایا۔ دیال سنگھ لائبریری میں ان سے ملنے پہنچے تو وہ اندھیرے میں داخلی دروازے سے آنے والی روشنی کی مدد سے لائبریری کارڈ کیٹلاگ دیکھتے پائے گئے۔ پنجاب پبلک لائبریری میں بھی دو ڈھائی دن وہ لوڈ شیڈنگ کے باوجود تندہی

Read more

تبدیلی کی تلاش: آئینہ دیکھنا ممنوع ہے؟

پاکستان میں تبدیلی کی بات کرنا ایک قومی مشغلہ بن چکا ہے۔ یہ بات اتنی عام ہو گئی ہے کہ اگر کسی محفل میں کوئی شخص کہے کہ ”پاکستان میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی“ ، تو لوگ اسے ایسے دیکھتے ہیں جیسے اس نے کوئی کفر کر دیا ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تبدیلی پر ہماری بحثیں زیادہ تر باتوں تک محدود رہتی ہیں، عمل میں نہیں آتیں۔ ہم پاکستانیوں کی ایک خاص عادت ہے کہ ہم اپنے

Read more

علم کے دشمن، سوال کے قاتل

فیس بک کے ایک گروپ میں ایک سولہ سالہ لڑکے کا سوال پڑھا: ”کیا انسان کو ہر چیز کا علم حاصل کرنا چاہیے؟“ سوال جتنا معصوم لگتا ہے، اتنا ہی گہرا تھا۔ یہ سوال سن کر میرے دل میں دو جذبات ابھرے۔ ایک فخر کہ ہماری نوجوان نسل تجسس کی آگ میں جل رہی ہے، اور دوسرا افسوس کہ ہماری حکومت اور تعلیمی ادارے اس آگ کو بجھانے میں مصروف ہیں۔ کہنے کو ہم اکیسویں صدی میں ہیں، لیکن ہمارا

Read more

کیا آپ اقبال حسن آزاد کو جانتے ہیں؟

میرے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ میں آج کے اہم ادیبوں کو سامنے لانے میں مگن رہتا ہوں۔ ہاں کبھی کبھار نوخیز لکھاریوں کے کام کو بھی ہائی لائیٹ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ مگر اس مضمون میں اردو کے ایک اہم افسانہ نگار کا شخصی و ادبی و پروفیشنل تعارف کروانے کی سعی کر رہا ہوں۔ جس سے ادب کے طلباء کو اس ادبی آواز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اقبال حسن آزاد 26 جنوری

Read more

‎اپنی لِکھت میں بولتا تخلیق کار۔ مظہر عباس رضوی

دُکھ یا غم کی کیفیت میں غیر تخلیقی یا نیم تخلیقی شخص کے ہاں چیخ کی شدت فضا میں ارتعاش پیدا کر کے اِس کا حصہ بن جاتی ہے، جو ماحول کو سوگوار تو کرتی ہے لیکن اس کا تاثر تا دیر نہیں رہتا اور وہ ہوا کی لہروں کا حصہ بن کر جلد ختم ہو جاتی ہے اس کے برعکس تخلیق کار کے ہاں ایسی کیفیت میں دُکھ کا بیج فکر، جذبے اور احساس کے زیر اثر رہ کر

Read more

بیانیات کے دو تَصَوُّرات کے تحت ایک مطالعہ

  یہاں، اس مضمون میں، یہ دِکھانا مطلوب ہے کہ کیا غزلیہ اشعار اور افراد پر بیانیات/نیراٹالوجی کے دو تصورات: دِکھانا (Showing) اور بتانا (Telling) ، مُنطبِق ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ تو سب سے پہلے ہم کہانی بیان کرنے کے دو فنی حربوں، دِکھانا اور بتانا کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟ ”ان بابا جی کی عمر چار سو برس تھی۔ ستّر برس میں کایا پلٹ کرتے تھے۔ اس طرح کہ چھ مہینے تک ایک کوٹھڑی میں

Read more

پِٹ سیاپا!

رونا دھونا، خود ترسی و خود رحمی، خود کو برا بھلا کہنا، اپنی تحقیر کرنا آج کل ہمارے قومی رویے ہیں۔ ہر بندہ جو کہ خود اسی قوم کا حصہ ہے، وہ درج بالا کام زوروشور سے کرتا ہے اور اس بات کا احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ بھی اس میں شامل ہے۔ جیسا کہ ہمارے پسندیدہ جملے ہیں : یہ قوم نہیں، ہجوم ہے، (بھائی آپ بھی اسی کا حصہ ہیں ) ۔ یہ قوم نہیں، بھیڑ بکریاں

Read more

پیامبر: ایک نئی پوسٹ، ایک نیا لائیک

انٹرنیٹ کی بندش ہونے پر یہ خبر یوں پھیل جاتی ہے جیسے کسی نے پورے ملک میں آکسیجن کی فراہمی بند کرنے کا عندیہ دے دیا ہو۔ لوگ اپنی ہنستی کھیلتی زندگیوں کو یوں دیکھنے لگتے ہیں جیسے وہ کسی گہرے کنویں میں گر گئے ہوں جہاں نہ کوئی روشنی تھی، نہ آواز، نہ امید۔ انٹرنیٹ کی غیر موجودگی میں ملک کا ہر شہری ایسے ہڑبڑاتا ہے جیسے وہ کسی ویرانے میں بھٹک رہا ہو۔ جنہیں صبح کی پہلی خبر

Read more

کافر عشقم

کافر عشقم آغا گل کا تازہ ترین رومانوی ناولٹ ہے، جس میں ملک سے باہر کوئٹہ والوں کی پرخلوص محبت کی عکاسی کی گئی ہے۔ ناولٹ کا ہیرو ‏فرید اور ہیروئن ایک خوب صورت گوری لڑکی کینوی ہے۔ متوازی کرداروں میں داروخان، بلال، اشیش، آرعیا اور اوبون شامل ہیں۔ ‏ ناولٹ کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ فرید کے بابا اور دادا اکبر خان کی خواہش ہے کہ اپنے اکلوتے وارث فرید کو بلوچستان میں جاری قتل و غارت، ‏دہشت

Read more

مسخاکے بائی علی نعیم

علی نعیم بنیادی طور پر ایک مجسمہ ساز ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں جنوبی پنجاب کے اہم چوراہوں پر جتنے بھی مجسمے نصب ہوئے، وہ سب اُسی کی دِین ہیں، لیکن اُس نے کبھی اِس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ایک منکسر المزاج فن کار ہے، جو نام سے کہیں زیادہ اپنے کام سے وابستہ ہے۔ اُس کے مجسمے ہماری ثقافتی زندگیوں کا ایک انمٹ حصہ ہیں، مگر اُس نے کبھی یہ باور نہیں کروایا۔ سچ کہوں

Read more

اردو افسانہ، جنگ، عصرِ حاضر اور فلسطین

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ جنگ کے اردو افسانے پر اثرات اور فلسطین اور اردو افسانہ پر بات کرنے سے قبل ہم اردو افسانے کا مختصر جائزہ لیں گے۔ جہاں تک اردو افسانے کا تعلق

Read more

غزلیہ اشعار کا بیانیاتی نیراٹالوجیکل مطالعہ

ہماری اردو ادب کی دنیا میں بیانیات کی مُباحِث شعری تنقید کی طرح معروف نہیں۔ لہٰذا غزلیہ اشعار کے بیانیاتی نقطۂ نظر سے جائز لینے سے قبل یہ جاننا مناسب رہے گا کہ بیانیات کیا ہے؟ ”افسانوی ادب کی تنقید کے لیے پہلے فکشن کی تنقید کی ترکیب مستعمل تھی؛ پھر کرِکشن کی اِصطلاح وضع ہوئی جسے کرِٹیسزم اور فکشن سے بنایا گیا تھا مگر اُس کا چلن نہ ہو سکا۔ فی زمانہ ’بیانیات‘ کی اِصطِلاح رائج ہے اور اِسی

Read more

وی پی این غیر شرعی، الحمدللہ – مکمل کالم

الحمدللہ۔ ہم خدا کا جتنا شکر ادا کریں کم ہے۔ بالآخر کسی کو تو خیال آیا کہ اِس ملک کا بنیادی مسئلہ اور اُس کا حل کیا ہے۔ اب دنیا کی کوئی طاقت ہمیں منزل مقصود پانے سے نہیں روک سکتی، جنہیں منزلِ مقصود کا علم نہیں وہ جان لیں کہ تاندلیانوالہ میں چودھری مقصود احمد کا گھر ہی ہماری منزل ہے۔ اگلے دو چار برس انتہائی اہم ہیں، اگر ہم نے اسی طرح اپنی سمت درست رکھی تو میں

Read more

ڈیجٹل لٹریسی اور سائبر کرائم سے بے خبری

پاکستان میں گزشتہ چند سالوں میں سیاسی و مذہبی راہنماؤں اور ججز سمیت کئی لوگوں کی نجی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔ ایسی ویڈیوز کو سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لاکھوں صارفین ثواب سمجھ کر آگے پھیلاتے اور ان پر تبصرے و تجزیے کرتے رہے ہیں۔ ان تبصروں کے دوران غیر جانبدارانہ اور سائنسی تبصرے و تجزیے کم جبکہ پسند نا پسند کی بنیاد پر طنز اور تنقید زیادہ کیا جاتا ہے۔ اگر زیر بحث فرد اپنے پسند کے قبیلہ،

Read more

شرطیہ پرانا پرنٹ اور داغوں کی بہار

اخبار سے خبر تو اب غائب ہو گئی۔ کالم کے نام پر خامہ فرسائی کے اطوار بھی چراغ حسن حسرت کے لفظوں میں ’کثرت استعمال‘ سے متروک ہو رہے ہیں۔ فکاہیہ کالموں میں ایک عطا الحق قاسمی اگلے وقتوں کی نشانی بچے ہیں۔ رپورٹنگ سے کالم کا رخ کرنے والے خبر کو کالم کا لبادہ پہناتے ہیں مگر صیغہ متکلم کی خود آرائی اور مبینہ ذرائع کے دام میں الجھ جاتے ہیں۔ کچھ ماضی کے آثار ہیں جنہیں شاید نظریاتی

Read more

اورویلین /Orwellian

جارج اورویل شدید کمیونسٹ مخالف تھے، ان کی یہ رائے سپین میں جاری خانہ جنگی اور روس میں موجود فاشسٹ کمیونسٹ حکمران جماعت کو پھلتے پھولتے دیکھ کر قائم ہوئی۔ ڈرامہ نگاری میں اگر برنارڈ شا کو پروپیگنڈا مواد لکھنے والا ڈرامہ نگار کہا جائے تو ناول نگاری میں طنز و تنقید کے نشتر برساتے جوناتھن سوئفٹ کے بعد ہمیں جارج اورویل نظر آتے ہیں۔ جارج اورویل نے اپنا ناول Animal Farm 1943 میں لکھنا شروع کیا، 1944 کی جنگ

Read more

کہانیاں جہان گم گشتہ کی

  بڑے عرصے بعد کوئی ایسی چونکا دینے والی کتاب پڑھی جس نے اپنے فکری موضوعات سے ہی نہیں بلکہ اپنے زرخیز تخلیقی اسلوب سے بھی بے حد متاثر کیا۔ مطالعے سے قبل یہ میرے لیے فقط ایک تخلیقی نثری کتاب تھی، مگر ان کہانیوں میں اتر جانے کے بعد یہ میرے لیے دکھ درد کی ایسی بپتا بن گئی کہ جس میں نگہت سلیم صاحبہ نے جانے کتنی محرومیوں، حسرتوں، خواہشوں اور خاک ہوتی تشنہ انسانی آرزوؤں کو یکجا

Read more

روشن خیالی کے دو علمبرداروں روسو اور والٹیئر کے درمیان فکری اور ادبی تصادم

گزشتہ تحریر میں آپ کو بتایا گیا تھا کہ کیسے روسو کو اپنے انفرادی فیصلے کی وجہ سے ہَزِیمَت اٹھانا پڑی، اور معمولی ذکر کیا گیا تھا کہ والٹئر نے کیسے روسو کی عملی اور نجی زندگی کے تضاد پر کھُل کر تنقید کی۔ والٹئر اور ژاں ژاک روسو کے درمیان فکری اختلافات نہایت گہرے اور شدید تھے۔ اگرچہ دونوں فلاسفرز کا تعلق روشن خیالی کے دور سے تھا اور دونوں معاشرتی اصلاحات کے حامی تھے، مگر ان کے نظریات

Read more

پرواز رکھ بلند کہ بن جائے تو عقاب

میرا کالم ”گدھ ہاؤس“ شائع ہوا تو اس پر بے شمار تبصرہ کیا گیا بیشتر لوگوں نے اسے بہت پسند کیا اور مجھے بہت سے قاری حضرات نے اپنی رائے دی اور کچھ نے تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ ایک دوست نے کہا ہے کہ ”آپ نے تو گدھ کو ہیرو بنا دیا ہے۔“ میں نے جواب دیا کہ بھائی میرا مقصد تو گدھ کی افادیت اور ضرورت کا احساس دلانا تھا اس کی تعریف مقصود نہ تھی۔ اسی طرح

Read more

پاکستان، آئینی ترمیم، انصاف اور عوام

پاکستان میں آئینی ترامیم پر لکھتے وقت طنز کرنا تقریباً ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک طبیب بیماری کے بارے میں ہنسی مذاق کرے۔ ہم آئین کو اپنے معاشرتی اصولوں اور انصاف کے ترازو میں تولتے ہیں، لیکن یہاں انصاف کی جگہ طاقتور فیصلے کر رہے ہیں اور ترازو کہیں دفتر کی الماری میں رکھا ہوا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عوام میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ شاید عدالتیں عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے

Read more

معاصر روسی ادب : رجحانات، مسائل، انداز

مارینا کراوچینکو اس وقت نقادوں کے لیے معاصر روسی ادب کو آنکنے کے سلسلے میں مسئلے در پیش ہیں۔ سماج کو جاننے سے متعلق غیر معروضیت در آئی ہے، اکثریت منفی تاثر لیے ہوئے ہیں اور کچھ میں استعداد ہی نہیں ہے۔ معاصر زبان سے متعلق نقطہ نگاہ محض ایک ”اسطور“ ہے۔ تو اس ضمن میں ایسا ہے کہ کچھ کہتے ہیں،۔ ”ہمارے ہاں آج ادب ہے ہی نہیں“۔ ”معاصر روسی ادب کا فنی معیار بہت پائیں ہے“۔ ”آج بہتر

Read more

جرمنوں کا ذوق مطالعہ

ایک پرانا محاورہ ہے کہ اچھے موسم میں فرانسیسی کھاتے، جرمن پڑھتے اور انڈین سوتے ہیں۔ اس محاورے کا کوئی مستند ذریعہ یا مخصوص ادبی ماخذ تو نہیں ہے البتہ ایسا لگتا ہے کہ یہ یورپی لوک داستانوں یا غیر رسمی محاوروں کا حصہ ہے، جو ممکنہ طور پر پرانے علاقائی تصورات کی عکاسی کرتی ہے۔ غالباً 19 ویں یا 20 ویں صدی میں یہ خیال ابھرا ہو گا جب یورپ میں ثقافتی تصورات اور قومی خصوصیات پر عام بحث

Read more

گاندھی اور ٹیگور کی سماجی رفاقت اور نظریاتی رقابت کی کہانی

بیسویں صدی میں مشرق کی ان شخصیات کی فہرست میں، جو مغرب میں بہت مقبول ہوئیں، موہن داس گاندھی اور رابندرا ناتھ ٹیگور کے نام سنہرے حروف میں لکھے جائیں گے۔ گاندھی نے مارٹن لوتھر کنگ جونیر جیسے سیاسی رہنماؤں اور ایرک ایرکسن جیسے ماہرین نفسیات کو بہت متاثر کیا۔ ایرکسن نے گاندھی کی ذات اور نظریات پر ایک ضخیم کتاب مرتب کی جس کا نام GANDHI’S TRUTH ہے۔ رابندرا ناتھ ٹیگور وہ واحد ہندوستانی ادیب ہیں جنہیں اپنی نظموں کی

Read more

قاضی فائز عیسیٰ سے بدسلوکی، دوسرے ججوں کے لئے وارننگ

بدھ کے روز جس شخص سے بھی ملاقات ہوئی پریشانی کے عالم میں اپنا فون کھول کر مجھے برطانیہ کے شہر لندن میں سپریم کورٹ کے حال ہی میں ریٹائر ہوئے چیف جسٹس صاحب کے ساتھ ہوئے سلوک کی ویڈیوز دکھانا شروع ہوجاتا۔ یہ سب دکھاتے ہوئے سوال یہ بھی پوچھا جاتا کہ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کو کیا ہو گیا ہے۔ عرصہ ہوا کج بحثی سے جند چھڑانے کی عادت اپنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ صبر مگر

Read more

ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ : چند تاثرات

ناول ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ فیصل آباد کے ایک نوجوان لکھاری احمد افتخار کا پہلا ناول ہے جو حال ہی میں سلیکھ پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوا ہے۔ ناول کا انتساب ”عین الف“ کے نام ہے اور ٹائٹل بہت خوبصورت انداز میں عثمان ضیا نے ڈیزائن کیا ہے جو ناول کے تھیم اور فضا کے ساتھ حد درجہ موافقت رکھتا ہے۔ ”سیاہ اور سفید میں لکیر“ وہ لکیر جس میں سیاہ اور سفید دونوں شامل ہیں۔ جو نہ

Read more

"شہزاد نئیر کی ”کہانی چل رہی ہے

شہزاد نئیر جدید اردو نظم و غزل گوئی میں بہت بڑا نام ہے۔ ان سے پہلا تعارف بھی ان کی بے باک غزلوں اور نظموں سے ہوا، جب 2020 ء میں جہلم لٹریری فیسٹیول میں میری پہلوٹی کتاب ”ڈھولکی“ کی تقریبِ پذیرائی تھی اور ہمیں لاہور سے ایک ساتھ سفر کرنا تھا۔ تب رَستے میں جو نظمیں اور غزلیں اِنھوں نے سنائیں، اُنھوں نے ورطہ حیرت میں مبتلا کر ڈالا۔ مزید ملاقاتوں کے سلسلے چل نکلے اور ہر محفل میں

Read more

تحریک انصاف کی جسٹس منصور علی شاہ سے ”محبت“ کا انجام

رات بے خوابی میں کروٹیں لیتے گزری ہے۔ ممکن ہوتا تو کالم لکھنے سے گریز کرتا۔ یوں مگر کام چوری ہو جاتی۔ قلم اٹھاتے ہی لیکن منیر نیازی کا ایک شعر یاد آیا ہے۔ بے خوابی کی وجہ سے ماﺅف ہوئے ذہن سے اگر ایک آدھ لفظ مذکورہ شعر میں آگے پیچھے ہوجائے تو معاف کردیجئے گا۔ بہرحال جو شعر ذہن میں آیا ہے وہ ہر اس شخص کے مرجانے کا اعلان کرتا ہے ”میں جس سے پیار کرتا ہوں۔“

Read more

نواز شریف دل برداشتہ کیوں ہیں؟

ہندوستان کا بٹوارا انسانی تاریخ میں ایک منفرد تجربہ ہے۔ زمانہ امن میں شاید ہی کہیں ایسا ہوا ہو کہ چند مہینوں کے اندر ایک کروڑ سے زائد انسانوں کو مجبوراً نقل مکانی کرنا پڑی۔ اس افراتفری میں مرنے والوں اور بچھڑنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے دس لاکھ تک رہی۔ اس خونچکاں انسانی المیے میں ہر گھرانے کی اپنی ایک داستان تھی اور ہر فرد کی ایک کہانی تھی۔ میرے بچپن تک اس اکھاڑ پچھاڑ کے معاشی اور

Read more

ہسپانوی ناول ’لاثار لیودے تورمیس‘ کا جائزہ

لاثار لیودے تورمیس ہسپانوی ادب کا ایک شاہکار ناول ہے جسے سولہویں صدی میں ایک نامعلوم ادیب نے قلم بند کیا۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق پہلی بار یہ 1554 میں چھپا۔ 1559 میں ہسپانوی کلیسا کی عدالت نے ناول پر پابندی عائد کر دی کیوں کہ اس میں کلیسا کے نمائندوں کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ ناول نے اتنی مقبولیت پائی کہ اس کا ترجمہ دنیا بھر کی زبانوں میں کیا گیا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1576 میں

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا پہلا عشق

یوسفی نے اپنی پوری زندگی میں پانچ عشق کیے۔ ہو سکتا ہے اور بھی کیے ہوں لیکن ان کو صیغہ راز میں رکھا ہو جیسے بعض نیک اور پارسا لوگ اپنی دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ چھپ کر نکاح کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یوسفی نے اپنی میوس سے اپنے پانچ عشقوں کا برملا اظہار اور اقرار کیا اور زندگی میں اپنے مزاحیہ خاکوں اور مضامین کے پانچ

Read more

موٹیویشنل نوسر بازی

میرے دوست کو اپنا کاروبار کرنے کی کھرک تھی، اکثر مجھے کہتا دیکھو یار! کاروبار نسلیں سنوارتا ہے، نوکری سے بس ضرورتیں پوری ہوا کرتی ہیں۔ مجھے پتہ تھا کہ اس طرح کے سنہری اقوال کی آمد موٹیویشنل سپیکروں کو سن اور دیکھ کر اسے ہو رہی تھی۔ مجھے جب بھی کاروبار کے فضائل اور نوکری کے رذائل سناتا میں پورے خشوع و خضوع سے سنتا۔ کیونکہ میں کسی کو مشورہ نہیں دیا کرتا۔ بہر حال ہمارے دوست نے اچھی

Read more

دیشت گردی کا تسلسل اور حکمت عملی کا فقدان

کیا ہمارے ہیلی کاپٹر صرف دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ مارے جانے والوں کی لاشیں ڈھونے کے لیے ہی رہ گئے ہیں۔ کیا بلوچستان کے پہاڑوں میں دہشت گردوں کے قائم کردہ فراری کیمپوں کا سراغ لگا کر ان کو گھیر کر تباہ کرنے کے کام نہیں آ سکتے؟ بلوچستان کے سنگلاخ اور بے آب و گیاہ پہاڑ کون سے کوہ ہمالیہ ہیں جہاں ان دہشت گردوں کے قائم کئیے اڈوں کو ڈھونڈا اور تباہ نہیں کیا جا سکتا۔

Read more

اشاعرہ۔ قدیم مسلم مکتب فکر

اشاعرہ مسلمانوں کے کیتھولک تھے۔ مگر یہ اسلامی کیتھولک ”پروٹسٹنٹ معتزلہ“ کے ردِعمل میں وجود میں آئے۔ اشاعرہ ایک فکری ردِعمل تھا جو بعد ازاں ایک بہت بڑے مکتبہ فکر کی شکل اختیار کر گیا۔ یونانی فلسفے کے ترجمے نے مسلم دماغوں میں کھلبلی مچا دی تھی۔ بیت الحکمہ سے افلاطون اور ارسطو نکل کر مسلم دماغوں کو جھنجھوڑنے لگے۔ عربی مزاج عملی تھا اس میں فلسفیانہ گہرائی نہیں تھی، تراجم کی اس فلسفیانہ یلغار نے فکری موشگافیوں سے نابلد

Read more

ایک انسان کی زندگی اور مبتدی تاریخ دان

گزشتہ اظہاریے میں ہندوستان پر برطانوی تسلط کی تاریخ کے بارے میں چند سوال اٹھائے تھے۔ یہ اشارہ مقصود تھا کہ دونوں ملکوں میں تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی نسلیں تاریخ کا نامکمل اور گمراہ کن تصور رکھتی ہیں۔ اخباری کالم ایک مشکل صنف ہے۔ لفظوں کی تعداد طے ہے اور حقائق سے انحراف کی وہ آزادی بھی میسر نہیں جو فکشن نگار کو حاصل ہوتی ہے۔ مذکورہ تحریر پر ایک مہربان نے اپنے مخصوص انداز میں کاٹ دار

Read more

چوڑیاں لیتا جا وے باؤ ونگاں لیتا جا

ایک نفیس سریلی ونگاں لیتے جانے کی فرمائش کرتی آواز پہ وہ مڑ کے دیکھتا ہے تو چوڑیاں بیچنے والی سانولے رنگ کی بنجارن اسے ونگاں خرید لے جانے کی درخواست کرتی ہے۔ اسے لگتا ہے یہ پیشکش کرتے بنجارن کے چہرے پہ بھی چوڑیوں کے خوبصورت رنگ چڑھ چکے۔ بازو آگے کرتے پوچھ بیٹھا کہ کیا میں یہ چوڑیاں پہنوں گا؟ تو جواب میں دلکش مسکراہٹ لئے اپنی کسی دوست کسی سہیلی کے لئے لے جانے کی فرمائش ہوتی

Read more

خندہ نواز ( طنزیہ و مزاحیہ شاعری) کا ایک مطالعہ

مزاح نگار اپنے لفظوں کی جادوگری سے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹوں کا غازہ ملتا ہے۔ مسکراہٹوں کا یہ غازہ اُن زخموں کے لیے مرہم ثابت ہوتا ہے جو بصارت سے نہیں بصیرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ ہنسنا انسان کی جبلت ہے۔ ایک مزاح نگار اپنے فن سے اس جبلت کو مہمیز کر تا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو بیمار اور وکیل ملزم دیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ اس دنیا میں مزاح نگار ایک ایسی ہستی ہے جو آپ کے چہرے پر

Read more

جسمانی طور پر بالغ، ذہنی طور پر نابالغ

تحریر: ڈاکٹر خالد سہیل / مقدس مجید مقدس مجید کا ڈاکٹر سہیل کو خط محترم ڈاکٹر خالد سہیل! امید کرتی ہوں کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں نے آپ کی تحریروں اور آپ کی ذات سے بہت کچھ سیکھا ہے اور جب بھی آپ کے سامنے اپنے ذہن میں ابھرتے سوالات رکھتی ہوں تو آپ کی رہنمائی مجھے اپنے اندر کی الجھن کو سلجھانے میں ہمیشہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ آج میں ایک اور سوال پوچھنا چاہتی ہوں جو

Read more

سورج اور سایہ: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ

پرانے شہر کی دیواروں کے ساتھ طویل گزرگاہ پر، درختوں کی شاخیں یوں مل رہی تھیں کہ سبز اور سایہ دار برآمدہ سا بن گیا تھا۔ ان شاخوں کے درمیان اچانک چاند حیرت سے نمودار ہوا اور اس ویران اندھیرے راستے پر بے وقت قدم اٹھاتے تنہا دراز قد آدمی سے یوں مخاطب ہوا۔ ”ہاں، میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔“ اور جیسے ہی اُس آدمی نے خود کو ظاہر ہوتا محسوس کیا۔ وہ رک گیا اور اپنا ہاتھ سینے پر

Read more

قلم و قرطاس کا قلندر

اپنے وادیٔ سوات میں، پشاور جی ٹی روڈ پر بری کوٹ ٹاؤن سے تین چار کلومیٹر آگے لنڈا کی چیک پوسٹ کے سنگم اور دریائے سوات کے دیار میں دو زندہ و تابندہ جڑواں بستیاں بڑی بے ہنگم طور پر پھیل رہی ہیں، نام ہیں کوٹہ اور ابوہا۔ انہیں بستیاں کہنا، لفظ بستی کی بے حرمتی ہے، کہ ان میں کل کی اُس بستی پن کی رونق آج کہاں؟ آبادی کے بے ربط و بے ترتیب بڑھوتری کے باعث دونوں

Read more

حکومت کا تحریک انصاف کو سبق سکھانے کا ارادہ

”صحافت“ کے حوالے سے اگر خود کو ان دنوں کا ”بطل حریت“ ثابت کرنا ہے تو سینہ ٹھوک کر یوٹیوب پر بیٹھ جائیں اور گریبان پھاڑنے کا ڈرامہ رچاتے ہوئے دنیا کو بتائیں کہ پاکستان کی تاریخ میں ”پہلی بار“ پولیس نے ”منتخب نمائندوں“ کو گرفتار کرنے کے لئے پارلیمان کا گھیراؤ کیا۔ جن معزز اراکین پارلیمان کی گرفتاری مقصود تھی انہوں نے اپنا ”آئینی حق“ استعمال کرتے ہوئے گزرے اتوار کے دن اسلام آباد کے نواحی سنگ جانی کے

Read more

چالیس برس کا ساتھ

دونوں قبریں چالیس سال سے کھدی ہوئی تھیں اور اپنے مردوں کے انتظار میں تھیں۔ ہر سال بارش کے دنوں قبروں میں پانی بھر جاتا اور وہ ایک گڑھے کی شکل اختیار کر لیتیں۔ اندرونی حصہ جسے سل رکھنے کے لئے کاٹا گیا ہوتا زائل ہوجاتا۔ سل جسے قبر کے قریب ہی رکھا گیا ہوتا اس طرح کیچڑ میں دھنس جاتی کہ بارش کے بعد اسے نکالنا مشکل ہو جاتا۔ پچھلے چالیس سال میں چار بار نئی سلیں لائی گئی

Read more

قاضی عبد الرشید: کوئی کہاں سے تمہارا جواب لائے گا

آغا شورش کاشمیری کے نام سے کون واقف نہیں۔ انہوں نے آمریت کے خلاف جس بہادری سے جنگ لڑی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یقیناً اس راہ میں آنے والی مشکلات کا جس پامردی سے سامنا کیا اس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ ان کا ایک شعر ان کی جد و جہد کا لب لباب بیان کر رہا ہے : ہمارے بعد کہاں یہ وفا کے ہنگامے کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا۔ قاضی

Read more

 زندہ ہے ”دو قومی نظریہ“ زندہ ہے

16 دسمبر 1971 ء کو ڈھاکا کے پلٹن میدان میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم سرنگوں ہوا تو اس وقت کی بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے فخریہ انداز میں کہا کہ ”آج دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں غرق ہو گیا ہے“ پاکستان اپنے قیام کے 24 سال بعد ہی دولخت ہو گیا بنگلہ بندھو 6 نکات کے ذریعے ملک کو کنفیڈریشن میں تبدیل کرنا چاہتا تھا لیکن اسے بھارت کی مدد سے بنگلہ دیش بنانے کا موقع مل

Read more

شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش میں خود کو ایک سرکاری رہائش گاہ کیسے دلائی تھی؟

شیخ حسینہ بنگلہ دیش کی واحد حکمران تھیں جو سرکاری رہائش گاہ ’گنابھابن‘ میں رہیں۔ یہ گھر ان کی ذاتی ملکیت نہیں تھی تاہم انھیں اس سے دلی لگاؤ تھا۔ اس رہائش گاہ کا تنازع کافی پُرانا ہے اور سنہ 1996 میں اقتدار میں آنے کے بعد شیخ حسینہ کو گنابھابن کی الاٹمنٹ کی گئی تھی۔

Read more

بورخیس کی جادو نگری اور بابل کا کتب خانہ

  تحریر آمیز ہستی بورخیس کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے، جنھیں میں پہروں پڑھ سکتی ہوں۔ جن کی ایک ایک سطر، ایک ایک کہانی میں چھپے معنی کے نت نئے جہان دیر تک میرے ذہن پہ نقش رہتے ہیں۔ یہ معنی بھی عجب ہیں کبھی بنتے ہیں، کبھی الجھتے ہیں اور کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے مجسم ہو کر میرے سامنے آ کھڑے ہوئے ہوں۔ یوں جیسے بورخیس کی بھول بھلیاں صرف کہانی میں ہی نہیں

Read more

زندگی کے زنداں میں میری قید جاری ہے

فرح نے ایک مضمون میں کامران کی بیماری، اُس کی شاعری کا مجموعہ ’وحشت ہی سہی‘ کی اشاعت کا معاملہ، پردیس اور دو چھوٹے بیٹوں کا خیال، کاروبار کو دیکھنا، ڈاکٹروں کا مایوس کُن جواب اور فرح کا دیوانہ وار نئے ڈاکٹر کی تلاش میں مارے مارے پھرنا، کامران کو حوصلہ دینا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ چراغِ سحری ہے اور موت سے متعلق ایک مضمون لکھا ہے، نجانے یہ مضمون لکھنے کا حوصلہ فرح میں کہاں سے آیا

Read more

عطیہ سید کے فکشن کا اسلوب

اُسلوب وہ سر چشمہ ہے یا وہ فن ہے جو ادب کو غیر ادبی تحریر سے جدا بھی کرتا ہے اور ممتاز بھی اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہے کہ اسلوب فنکار کی شخصیت کا مظہر بھی ہوتا ہے کیونکہ اسی پیرائے میں فنکار کی شخصیت کی تمام تر رعنائیاں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ ”اُسلوب سے مراد بات کو بلیغ انداز میں پیش کرنا ہے اور وہ تمام وسائل کو استعمال کرنا مراد ہے جن سے کوئی

Read more

معاصر روسی افسانہ

الیکساندر سیپکن 28 ستمبر 1975 میں سینٹ پیٹرزبرگ جو تب لینن گراد کہلاتا تھا، میں پیدا ہوئے۔ 2015 میں اپنی افسانوں کی کتاب ”بڑھاپے سے پہلے کی عمر کی عورتیں اور دوسری بے اصول کہانیاں“ سے معروف ہوئے۔ وہ اب روس کے طنزیہ افسانہ نگاروں میں مقبول ترین ادیبوں میں سے ایک ہیں اور ان کی لکھی کہانیاں روس اور امریکا دونوں ہی ملکوں کی محفلوں میں ثقہ اداکار و صدا کار پڑھ کے سناتے ہیں۔ وہ تزویراتی تعلقات عامہ

Read more

محمد خالد اختر کی کلک گہر بار: ایک جھلک

(صف اول کے اردو ادیب محمد خالد اختر نے دسمبر 1977 میں عطا الحق قاسمی کے کالموں کا انتخاب کیا اور اس پر ’عرض حال (جسے آپ دیباچہ بھی کہ سکتے ہیں)‘ کا عنوان باندھا۔ تب عطا الحق قاسمی صاحب کی عمر 34 برس تھی۔ انگریزی ادب میں ایذرا پائونڈ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کسی نوجوان ادیب کی تحریر دیکھ کر اس کی ٹھیک ٹھیک قدر پیمائی کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اردو ادب میں مولانا

Read more

ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی شروع ہوئی

ملکی سیاست پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے بنیادی طورپر رزق کمانے کے لئے ہفتے کے پانچ دن اس کالم کے ذریعے تبصرہ آرائی کی مشقت میری مجبوری ہے۔ یہ مجبوری اکثر مجھے اب قوم یاجوج ماجوج کی یاددلانا شروع ہوگئی ہے۔ قوم یاجوج ماجوج کا ذکر کیا ہے تو ذہن میں برجستہ یہ سوال امڈ آیا کہ ہماری نوجوان نسل کا کتنے فی صد اس قوم پر مسلط ہوئے عذاب سے واقف ہے۔ اگر ان کی اکثریت قوم یا جوج

Read more

جے شاہ آئی سی سی کے چیئرمین منتخب، سوشل میڈیا پر تنقید اور پاکستان میں ہونے والی چیمپیئنز ٹرافی پر سوال

انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے سیکرٹری جے شاہ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا نیا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور تنقید کا تانتا بندھا ہوا ہے اور آئندہ سال پاکستان میں مجوزہ چیمپیئنز ٹرافی، انڈیا میں اقربا پروری اور کرکٹ کے حوالے سے تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

Read more

کیا مبینہ نسل کشی پر اکسانے کے عمل کی روک تھام کے لیے اسرائیل کی کوششیں کافی ہیں؟

بی بی سی نے عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلے کے بعد سے متعدد ایسے واقعات کا جائزہ لیا ہے جو فیصلے کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں اور اس بارے میں قانونی ماہرین سے بھی بات کی ہے۔ حالانکہ یہ فیصلہ اسرائیل کے بارے میں تھا، ہم نے حماس کے رہنماؤں کی جانب سے تقریروں میں متعدد مرتبہ استعمال کی گئی زبان کا بھی جائزہ لیا ہے۔

Read more

حمزہ علی عباسی کی کتاب اور ہم

بے شک ایک اچھا اداکار بننے کے لئے جو حساسیت درکار ہے وہ ہر انسان میں موجود نہیں ہوتی۔ اپنی ذات سے مختلف کسی دوسرے کا سوانگ بھرنا، کسی کے درد، دکھ یا شیطانیت کے اندر داخل ہو کر اسے ایک حقیقت کا روپ دینا کوئی آسان کام نہیں۔ مگر ہماری مذہبی اور معاشرتی منافقت کے کیا کہنے کہ ایک طرف محظوظ ہونے کے لئے انہی اداکاروں کو دیکھنا اور پھر دوسری طرف انھیں لعن طعن کر کے نیکیاں اور

Read more

غلام عباس کے افسانوں کا تنقیدی جائزہ

غلام عباس اردو افسانہ نگاری کے ایک ممتاز اور اہم ستون مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی افسانہ نگاری سے اردو ادب کو نئے افق دیے اور ان کے کام کو نہ صرف اردو ادب میں بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا۔ غلام عباس کے افسانے مختصر ہوتے ہوئے بھی ایک مکمل دنیا کی عکاسی کرتے ہیں، جو ان کی فنی مہارت اور گہری بصیرت کا ثبوت ہے۔ غلام عباس 17 نومبر 1909 ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔

Read more

بلوچستان کے غیر مادی ثقافتی ورثے کے 100 خزانے

شبیر احمد کاکڑ 2010 میں میرے کلاس فیلو تھے جب ہم سی ایس ایس افسر نور احمد سموں سے مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے لئے انگریزی مضمون کی کلاس لے رہے تھے شبیر احمد کاکڑ اس وقت بلوچستان کے ثقافت اور آرکائیوز کے محکمے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھے۔ یہ جان کر کہ اس نے کتاب شائع کی ہے مجھے خوشی اس وجہ سے بھی ہوئی کہ ہم دونوں ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں۔ یہ جان کر مزید دل

Read more

خود کشی کوئی کیوں کرتا ہے؟

خودکشی کی اصل وجہ صرف ایک ہے ’بے حد و بے حساب مایوس ہو جانا‘ ۔ اگر کسی شخص کو کوئی راہ نظر نہ آئے، کوئی اپنا نہ لگے، کوئی ہمدرد اور غم خوار نہ ملے، تو ایسے میں اس کو دنیا کے غم بہت بڑے لگنے لگتے ہیں۔ وہ اس دنیا سے اتنی نفرت کرنے لگتا ہے کہ اس کو جینے میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ زندگی کی رعنائیاں اس کو بے رنگ لگتی ہیں۔ خودکشی صرف یہ نہیں

Read more

سنگھاسن بتیسی – تفہیم، تسہیل، تحشیہ

معلم، نقاد، محقق، مرتب، مدون، مترجم اور ماہرِ اقبالیات ڈاکٹر بصیرہ عنبرین اورئینٹل کالج سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون استاز ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کے ادبی سفر کا آغاز اقبالیات سے ہوا۔ آپ نے اقبال کے فن کے ان گوشوں پر تحقیق و تنقید کی ہے جن پر بہت کم یا بالکل کام نہیں ہوا۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کے فکر و فن کی ایک اہم جہت فن ِتدوین ہے۔ ان کی اہم تدوینی کاوش میں سنگھاسن بتیسی کی تدوین، تفہیم،

Read more

عورت کس کے اعصاب پر سوار ہے؟

علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں ہند کے شاعروں، صورت گروں اور افسانہ نویسوں پر طنز کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ‘آہ بے چاروں کے اعصاب پہ عورت ہے سوار’۔ 1936ء میں شائع ہونے والی اس تصنیف کو حضرت اقبال نے ‘دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ’ کا ذیلی عنوان دیا تھا۔ اس کتاب میں عورت کے موضوع پر نو مختصر نظمیں شامل ہیں۔عورت کے حقوق, آزادی اور مساوات کے تصورات یورپ میں روشن خیالی کی تحریک کے زیر اثر اٹھارہویں

Read more

’پہلے یہ بتائیں وی پی این استعمال کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟‘: سست انٹرنیٹ پر وزیر مملکت کے بیان پر لوگ برہم

پاکستان کی وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شزہ فاطمہ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں حکومتی سطح پر انٹرنیٹ بند نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسے ’سلو ڈاؤن‘ کیا گیا ہے۔ بلکہ انٹرنیٹ پر دباؤ کی وجہ ایک بڑی تعداد میں صارفین کی جانب سے ’وی پی این کا استعمال‘ ہے۔ مگر اس میں کتنی حقیقت ہے؟

Read more

’بِل بِل پاکستان‘ گانے والے عون علی کھوسہ کا مبینہ اغوا: ’لوگوں کو غائب کروانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے‘

عون کی اہلیہ بینش اقبال نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنے شوہر کی گمشدگی سے متعلق ایک درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے جمعے کو سی سی پی او لاہور کو 20 اگست تک ان کی بازیابی کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

Read more

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں

پیاز کی محبت آرائیوں کے خون میں شامل ہے۔ لیکن عجیب بات ہے کہ یہ مشترکہ محبوبہ ان کے درمیان رقابت کی دیوار کھڑی نہیں کرتی۔ آرائیوں کے تمام مکتبہ فکر بلا اختلاف اس کی زلف کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ پیاز کے پیار میں ہمارے تقریباً تمام آرائیں دوست ہی دیوانے تھے، مگر چوہدری طاہر صاحب تو غلو کی حد تک پیاز پرست تھے۔ دوپہر کو ان کے کمرے میں کبھی جھانکتے تو وہ پیاز کی باس سے بھرا

Read more

ایمان خلیف: روٹی اور کچرا بیچنے والی باکسر جن کا اولمپکس میں متنازع سفر طلائی تمغے پر ختم ہوا

ایمان خلیف کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کی کہانی میں سب کچھ ایک فلم جیسا ہے، ان کے والد کا معاشرے کے خوف سے کھیل کی ٹریننگ کرنے دینے سے انکار، ان کا اپنی پھوپھی کے گھر منتقل ہونے سے باکسنگ کی دنیا میں ان کے عروج تک، ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل سے لے کر انھیں مقابلے سے باہر کر دینے تک اور بالاخر سینے پر تمغہ سجانے تک۔

Read more

پاکستان نمبر 53 اور انڈیا نمبر 63: شکریہ ارشد ندیم

پاکستانی قوم کے چند لوگ چند دن پہلے تک جو خواب دیکھ رہے تھے۔ ارشد ندیم نے اکیلے ان خوابوں کو عملی جامہ پہنا دیا۔ ہزاروں لاکھوں پاکستانیوں نے، رنگ و نسل، مذہب اور سیاسی نفرتوں سے بالاتر ہو کر اس کامیابی پر جشن منایا۔ جس میں وفاقی حکومت کا تھوڑا سا اور شاید پنجاب حکومت کا ذرا زیادہ حصہ ہو لیکن جو کچھ چار آٹھ آنے اس پر خرچ ہوئے تھے حقیقت یہ ہے کہ وہ سب اس نوجوان

Read more

کیا واقعی وہاں ڈریکولا موجود تھا؟

آغا گل سے میرا تعلق ان کے ناول ”بابو“ پڑھنے کی بنیاد پر بنا۔ اس کتاب کا تاثر اتنا مضبوط اور پختہ تھا کہ اس کی وجہ سے میں نے ان کی تمام تخلیقات سلسلہ وار پڑھنے کا ایک مصمم ارادہ کیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کا ایک افسانہ ہے جو ان کے افسانوی مجموعہ ”گوانکو“ میں موجود ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ مکتبۂ الحمراء لاہور سے 2005 ء میں شائع ہوئی۔ نند کشور وکرم نے آغا گل

Read more

افغانستان میں لڑکی کے گھر کے باہر فائرنگ کے ذریعے دعویداری کی رسم جس پر طالبان قابو پانا چاہتے ہیں

یہ جھگڑا اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب ایک شخص کسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن گھر والے رشتہ دینے کے لیے راضی نہیں ہوتے۔ لڑکا زور اور تشدد کی راہ اختیار کرتا ہے، لڑکی کے گھر کے سامنے فائر کرتا ہے اور چیخ کراعلان(غگ) کرتا ہے کہ فلاں لڑکی میری ہے۔
اس کے بعد اس فرسودہ رسم کا شکار ہونے والی لڑکی کو’غگ کی شکار لڑکی‘ کہا جاتا ہے اور کوئی بھی اس سے شادی پر آمادہ نہیں ہوتا۔

Read more

زندگی ریل کا سفر تو نہیں

شاعرانہ تخیل اور فکری جہت، اپنے لیے اظہار کے قالب کا اہتمام خود ہی کیا کرتی ہیں۔ ذہن میں رہے کہ تخیل کی موزونیت وہ نکتہ ہے جو کسی شعری صنف میں جان ڈالتا ہے، باقی شاعر پر منحصر ہے کہ وہ علائم کی پہلو داری اور لفظیات کی لطافت سے اس صنف کو ، چاہے تو بامِ عروج پر پہنچا دے، چاہے تو عامیانہ بنا دے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے نثری نظم نے متنازع ہو نے کے باوجود اپنے

Read more

ن م دانش کے ”بچے، تتلی، پھول“

دنیا میں جینا اور شاعری میں اسی دنیا کو برتنا، یکساں نہیں ہے۔ دنیا کے اصول و قاعدے اور شاعری کی دنیا کے اصول و قاعدے جدا ہیں۔ نیز شاعری کے قاعدے کے تحت، معمول کی زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ ن م دانش نے یہ خیالات اپنے شعری مجموعے ”بچے، تتلی، پھول“ کی دوسری اشاعت کے پیش لفظ میں ظاہر کیے ہیں۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے، اور آج کل امریکا میں مقیم نقاد اور شاعر ن م دانش

Read more

بنگلہ دیش کے ہنگامے

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصہ پر محیط کیریئر میں سیاسی حریفوں کی جانب سے بے شمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا مگر حالیہ احتجاج نے ان کی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ حالیہ مظاہروں میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ مظاہرین نے ڈھاکہ میں سرکاری ٹی وی کی عمارت کو نذرِ آتش کرتے ہوئے عمارت کے کئی حصوں کو تہس نہس کر دیا۔ تباہ حال سرکاری

Read more

مظلوم فلسطینیوں کی جرات مندانہ پکار

  تباہ حال علاقے میں کرب و اذیت کا شکار چند محصور روحیں بے یقینی کے عالم میں پھنسی ہوئی ہیں۔ دھوئیں اور خوف کی تیز بو سے علاقے کی آزاد ہوا بھی بھاری ہو چکی ہے، کیونکہ بم دھماکے زمین پر اور گن شپ ہیلی کاپٹر آسمان پر چیخ رہے ہیں دھماکہ خیز مواد اور گولیوں کی آوازیں کانوں کے پردوں کو چھیدتی ہیں۔ اطراف میں ہونے والی تباہی کی مستقل یاد دہانی کے طور پر ، ان روحوں

Read more

لاہور کا گڑوی محلہ اور اس کے ’بلاک بسٹر‘ گلوکار: ’ہمیں کوئی نہیں سکھاتا، لوگ ہم سے سیکھتے ہیں‘

منھ میں پان، ہاتھ میں گڑوی اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ، یہ لاہور کے علاقے گڑوی محلے کے رہنے والوں کی پہچان ہے جہاں پہنچ کر آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی موسیقی بنانے والی فیکٹری میں آگئے ہوں۔

Read more

پیرس اولمپکس میں پاکستانی تیراکوں کی کارکردگی: ’اصل غصہ کھیلوں کے نظام پر ہے، نکل ان بچوں پر رہا ہے‘

احمد درانی کی اس کارکردگی کے بعد پاکستانی سوشل میڈیا پر جہاں ان پر بھانت بھانت کے تبصرے کیے جاتے رہے اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایسے ایتھلیٹس کو پیرس اولمپکس 2024 میں ملک کی نمائندگی کے لیے کیوں چنا گیا جو پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو گئے۔

Read more

کھڑکی بھر چاند

دور جدید میں انسانی زندگی پر سوشل میڈیا کے یلغار نے دیگر معمولات کی طرح کتب بینی کو بھی شدید متاثر کیے رکھا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب بُک کی جگہ فیس بُک اور ریڈر یا رائٹر کی بجائے ٹویٹر کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں انسان کے لئے آسانیوں کا باعث ہے، وہی پر یہ انسان کے اندر سے تخلیقی صلاحیتیں کھو دینے کا بھی سبب بن رہا ہے۔ کسی زمانے

Read more

وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

کالم نگار: بلال مختار (آسٹریلیا) کیٹگری: کتاب تبصرہ تجسس بھی انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ یہ میرے ادبی تجسس کی کارستانی ہے۔ جس سبب میں اک اہم ادیب سے جا ملا۔ احباب! ماجرا اک وائرل ویڈیو سے شروع ہوتا ہے۔ کلپ میں ہلکے سانولے، جنٹل مین تراش خراش کے ساتھ نظر کی عینک پہنے اک شاعر تھے۔ وہ لہک لہک کر اپنی شاعری سامعین کو سنا رہے تھے۔ پھر انہوں نے اک شعر کہا تو سکرین کے

Read more

سیاستدان چور ہیں

1947 سے لے کر آج تک کے اخبارات کے آرکائیوز اگر دیکھے جائیں تو جو جملہ سب سے زیادہ تواتر کے ساتھ اخبارات کی زینت بنا ہو گا وہ ہے کہ ”سیاستدان چور ہیں“ ایسا ہے کہ نہیں مگر یہ فیصلہ کرنا میرا کام نہیں یا تو صحافتی ادارے کو بہتر خبر ہوگی یا عدالت فیصلہ کرے گی کرتی بھی رہی ہے کہ کون چور ہے کون چور نہیں ہے۔ مجھے تو ان لوگوں کے متعلق کچھ رائے قائم کرنی ہے

Read more

ٹرمپ پر حملے سے کانگریس میں جرح تک، امریکی سیکرٹ سروس کی سربراہ جنھیں دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیکنا پڑے

امریکی سیکرٹ سروس کی سربراہ کمبرلی چیٹل اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوگئی ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد انھیں ’سکیورٹی لیپس‘ پر تنقید کا سامنا تھا۔

Read more

جدیدیت اور غالب: دانیال طریر کی نظر میں

مرزا اسد اللہ خان غالب کی شخصیت اور فن پر کئی ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں، مگر دانیال طریر کی کتاب ”جدیدیت، مابعد جدیدیت اور غالب“ تفہیم غالب کے سلسلے میں ایک نایاب اضافہ ہے۔ یہ کتاب کم و بیش 130 صفحات اور چھے مضامین پر مشتمل ہے۔ کتاب کی سادہ اور پرخلوص زبان سے اندازہ ہوتا ہے کہ دانیال طریر نے یہ کتاب طلبہ کے لیے لکھی ہے۔ غالب پر لکھی گئی اکثر کتابوں سے طلبہ اس لیے بھی

Read more

ہندوؤں کی یاترا کے دوران دکانوں کے باہر نام لکھنے کا حکم: ’یہ مسلمانوں کو الگ کرنے کی کوشش ہے‘

انڈیا کی ریاستوں اترپردیش اور اتر کھنڈ میں ہندوؤں کی مذہبی یاترا کے لیے مختص راستوں پر دکانوں اور کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والوں کو دکانوں پر اپنے نام جلی حروف میں لکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بعض لوگوں نے اسے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک قرار دیا جبکہ کچھ نے اس کا موازنہ نازی جرمنی میں یہود مخالف اقدامات سے کیا۔

Read more

ہڑپا کا تانیثیتی مطالعہ

دور جدید میں اگر عورت کے حوالے سے بات کی جائے تو طاہرہ اقبال نے اپنے قلم کی تیز نوک کے نیچے عورت سے متعلقہ بہت سے پیچیدہ مسائل کو رکھا ہے یہ ایسے مسائل ہیں جو بظاہر ہمارے اس فرسودہ معاشرے میں بہت ہی عام یا معمولی ہوں گے لیکن عورت کے لئے یہ مسائل بہت اہم ہیں۔ طاہرہ اقبال نے بحیثیت ایک عورت ان مسائل کو سمجھا اور انہیں ”ہڑپا“ کا بنیادی موضوع بھی بنایا۔ زمانہ جاہلیت سے

Read more

غروب شہر کا وقت: کتاب پر تبصرہ

اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ پڑھنے کے دوران مجھے بار بار یہ احساس ہوتا رہا جیسے میں بلندی سے نیچے جانے والی سیڑھیاں ایک کے بعد ایک طے کرتا جا رہا ہوں۔ سیڑھیاں جو جگمگاتی ہوئی زمین پر نہیں بلکہ کسی لامتناہی اندھیرے میں اتر رہی ہوں۔ زوال کے اصل معنی شاید یہی ہوتے ہیں۔ ایک شہر جو ثقافتی اور اخلاقی اعتبار سے ڈوبنے کے بعد اقدار کی ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں پر تعمیر ہو رہا ہے۔ لاشیں

Read more

شاعروں کی شاعرانہ خصوصیات

شعرا کبھی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہوتے تاہم بقول ڈاکٹر اشفاق احمد ورک شعرا ”تعارف“ کے سوا دنیا کی ہر چیز کے محتاج ہوتے ہیں۔ شعرا اپنی زندگی کا کچا چٹھا ببانگِ دُہل کھول سکتے ہیں۔ ان کے ہاں کردہ تو کیا نا کردہ سر گرمیوں کا بیان بھی خلعتِ فاخرہ سے کم نہیں ہوتا۔ شاعرات تک اپنے دل کی بات کھلے بندوں کہہ کر طشت از بام کر دیتی ہیں مگر عملی زندگی میں اپنی ہی کہی یا

Read more

شاعر ،شاعری اور خواب در خواب

’خواب در خواب‘ ڈاکٹر خالد سہیل کے چار شعری اشاعت شدہ کتابوں کی کلیات ہے۔ کلیات ہمیشہ ضخیم ہوتی ہیں۔ یہ برس ہا برس کی ریاضتوں کا ثمر ہے۔ تلاش پہلا مجموعہ آزاد فضائیں دوسرا خواب نگر تیسرا اور ادھورے خواب چوتھے مجموعے کا نام ہے۔ یہ بالترتیب انیس سو چھیاسی، انیس سو نوے، اور دو مجموعہ کلام سن دو ہزار اٹھارہ میں پبلش ہوئے۔ سب سے پہلے میرے خواب آسا ذہن کو خواب در خواب کھٹکا خواب در خواب

Read more

”چُپ رہا نہیں جاتا“ کے چُپ چاپ مصنف کی گُل افشانی پرایک نظر

اگر آپ میری طرح طنزو مزاح نگار محمد عثمان جامعی سے بخوبی واقف ہیں تو اُس کی کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے پوری کتاب پڑھنی ضروری نہیں۔ یہ فتویٰ خاکسار نے بہت سوچ سمجھ کر صادر فرمایا ہے، مگر براہِ کرم آپ اسے اپنے حق سند سمجھتے ہوئے، ”مُفتہ“ مت طلب کیجئے گا، کیونکہ ہر ”مُفتہ“ پا نے والا، باقاعدہ مُفتی نہیں ہوتا۔ عثمان کی طنزیہ نگارشات میں شعوری محنت کار فرما ہے جو اَپنے قارئین کو

Read more

وزیراعلیٰ پنجاب کا پروٹوکول اور عوامی مشکلات

واقعہ عام سا ہے۔ ہجومِ رعایا کا زرہ ہوئے میرے اور آپ جیسے لوگوں کے ساتھ ایسے واقعات تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہوا کرتے ہیں۔ میرے ساتھ ہوئے واقعہ نے البتہ بہت کچھ سوچنے کو مجبور کردیا۔ جمعہ کی شام سے چند لمحے قبل پیش آیا تھا اور اتوار کی صبح یہ کالم لکھتے ہوئے اسے دل ودماغ سے نکالنا چاہ رہا ہوں۔ لاہور میں ایک خاندانی تقریب تھی۔ اس میں شمولیت لازمی تھی۔ اپنے خاندان کا سینئر رکن

Read more

کٹار

اور پھر یوں ہوا کہ گہرے کالے اندھکار کے بیچوں بیچ اجیارے کا ننھا سا بیج پھوٹا اور دھیرے دھیرے بڑا ہونے لگا۔ آگے کو بڑھنے لگا۔ اور پھر بڑھتے بڑھتے پورن ماشی کے چندرما جتنا بڑا اور گول ہو گیا۔ پھر جیسے اس چندرما کی جیوتی میں جان پڑ گئی۔ پہلے دو گول نین ابھرے۔ پھر ما تھا۔ پھر وہ تیکھی دھار جیسی ناک۔ اور پھر وہ دو رسیلے مدھ بھرے لب جو دھیرے دھیرے آگے بڑھے اور اس

Read more

’کوئی مجھے باہر نہیں نکال رہا‘: جو بائیڈن کا صدارتی انتخابات سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ ڈیموکریٹس کو مہنگا پڑ سکتا ہے؟

واضح رہے کہ ڈیموکریٹ نیشنل کمیٹی کے اراکین اگست میں ہونے والے پارٹی کنونشن میں باضابطہ طور پر صدر بائیڈن کی نامزدگی کے لیے ووٹ دیں گے جس کے بعد ہی ان کا نام ملک میں بیلٹ پر بطور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار چھپے گا۔

Read more

دلجیت دوسانجھ: انڈین پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں سے پنجابی گانوں پر مغربی دنیا کو نچانے تک

40 برس کے گلوکار ’پنجابی ویو‘ میں ان گلوکاروں میں سرفہرست ہیں جس میں اب فنکاروں کی ایک نئی نسل مقامی پنجابی میوزک کا ریپ میوزک اور ہپ ہاپ سے امتزاج کر رہی ہیں۔ دلجیت کے کریئر پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

Read more

اور قفل کھل گیا…

جب میں نے صابرہ جبران کو بطور لائبریرین، یونیورسٹی کی کشادہ لائبریری میں، کتابوں کے متلاشی طلبا کو خوش دلی اور مسکراتے لبوں کے ساتھ مدد کرتے دیکھا تو یقین مانیے مجھے لگا کہ جیسے وہ لائبریری کے کمرہ کی قید میں نہیں کسی جنگل کی آزاد فضا میں پر پھیلائے خوشی سے تھرکتی مورنی ہو یا پھر کسی اونچے درخت کی شاخ پہ چہچہاتی، آزادی کے گیت گاتی چڑیا ہو، جس کے قرب میں بہتی ندی میں بدمست اور

Read more

ادھورے جملے، ’آوارہ بلی‘ اور عمر سے جڑے خدشات: ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان صدارتی مباحثے میں کون حاوی رہا؟

بائیڈن کی ٹیم کی خواہش تھی کہ اس بحث کی ساری توجہ ٹرمپ پر مرکوز رہے۔ وہ چاہتے تھے کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال اور افراتفری کے بارے میں امریکی ووٹرز کو یاد دلایا جا سکے۔ تاہم اس بحث کے بعد لگتا ہے کہ سابق صدر کی نسبت اب لوگ مسٹر بائیڈن کی کارکردگی کے بارے میں زیادہ بات کریں گے۔

Read more

عجیب داستاں ہے یہ۔۔۔

کافی دن ہو چکے تھے چنانچہ کل سہ پہر ملاقات کی غرض سے میں پھر اپنے دوست راجہ رجب کے ہاں پہنچ گیا۔ ڈھلتی دھوپ میں چھوٹے سے صحن میں کرسی بچھائے ایک رسالہ پڑھ رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے لیکن میں نے محسوس کیا کہ چہرے پہ بشاشت بس برائے نام تھی۔ میں نے چٹکی لی۔ نارمل نظر آنے کی اداکاری کے باوجود آپ کا موڈ کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ

Read more