گمراہی سے گولی تک

سب سے پہلے تو لیاقت بلوچ صاحب کو ان کے بیٹے کی ٹورنٹو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی پر مبارکباد، اس میں نہ کوئی طنز ہے اور نہ کوئی طعنہ، خود باپ ہوں اس لئے ایک باپ کو اپنی اولاد کی کامیابی پر جو خوشی ہوتی ہے اس کا مجھے احساس ہے، لیکن بلوچ صاحب کے اس ٹویٹ سے اپنے خاندان کی گمراہی کے دن اور کچھ دبے ہوئے غم یاد آ گئے سوچا آپ کے سامنے آج کچھ اور اعترافات کروں، ہو سکتا ہے میرے اعتراف سے مزید لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آ جائے کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر کے کس طرح سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے

Read more

تاریخ کے فرقے اور ہمارا اثاثہ (دوسرا حصہ)

ہمارے ہاں صوبوں کی سطح پہ بھی یہ تقسیم واضح ہے ایک طرف راجہ داہر ہیرو ہیں تو دوسری طرف محمد بن قاسم۔ ایک صوبے میں صرف پنجاب کے ہیروز کی بات ہوتی ہے تو دوسرے میں پشتون، سندھی یا بلوچ کی، پنجاب کی نصابی کتب پڑھ کر غنی خان، خوشحال خان خٹک یا رحمان بابا کے بارے میں جاننا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کے پی کی کتابوں میں بلھے شاہ، وارث شاہ یا سلطان باہو کے بارے میں۔

Read more

مغرب دشمنی، اسلامی نظام کا خاکہ اور صحافتی اخلاقیات

لگ بھگ دو ہفتے قبل معروف دانشور اور کالم نگار جناب وجاہت مسعود نے اپنی ویب سائٹ پر "جماعت اسلامی، جنرل ضیاء الحق اور اسلامی نظام کی ناکامی” کے عنوان سے مضمون شائع کیا ہے۔ مضمون میں ایک واقعے کا حوالہ دے کر انھوں نے چند نہایت اہم اور دلچسپ موضوعات پر بحث کی ہے۔ آغاز انھوں نے اس نکتے سے کیا ہے کہ مغرب دشمنی دہشت گردوں کا اہم ہتھیار ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں

Read more

آئی اے رحمان: یہ خلا کیسے پر ہو گا؟

آئی اے رحمان اور ضیا شاہد بھی رخصت ہو گئے۔ آج کورونا کی تیسری لہر نے قیامت بپا کر رکھی ہے۔ ناقص حکمت عملی کے باعث یہ لہر اب ایک بپھری ہوئی آندھی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس آندھی کی زد میں آنے والے درخت گرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی کوئی گنتی ممکن ہے نہ شمار۔ ہر روز کسی نہ کسی کے دنیا سے گزر جانے کی خبر ملتی ہے۔ عزیزوں، رشتہ داروں، جان پہچان کے لوگوں اور معروف شخصیات میں سے ہر روز کوئی نہ کوئی اس جہان سے گزر جاتا ہے۔

جہاں سے ہم سب نے ایک نہ ایک دن گزر جانا ہے۔ وبا کے دنوں میں ہر موت، وبا کے کھاتے ہی میں ڈال دی جاتی ہے جس کا سبب چاہے کچھ بھی ہو۔ ضیا شاہد اور آئی اے رحمان کورونا کی زد میں نہیں آئے لیکن یہ افسوس ناک خبریں سننے والے کا پہلا دھیان، اس موذی وبا ہی کی طرف گیا۔

Read more

اسمبلیوں کی تحلیل پر وجاہت مسعود کے سوال

عبدالقیوم صدیقی، شمع جونیجو، حماد غزنوی اور وجاہت مسعود سوشل میڈیا پر پاکستان میں اسمبلیوں کی تحلیل پر لندن میں سٹے بازی کے موضوع پر گفتگو کر رہے تھے۔ گفتگو کا آغاز محترمہ شمع جونیجو سے ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ لندن میں بکی عمران خان کی حکومت پر سٹہ لگا رہے تھے کہ کپتان اسمبلیوں کو تحلیل کرنے جا رہے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ یہ بکی انڈین تھے۔ گفتگو کے شرکا کا ماننا تھا

Read more

کتاب، سکرین اور رومانس

یادش بخیر! یہ سلسلہ سن دو ہزار چار پانچ میں شروع ہوا۔ کتابیں تو پہلے بھی لیتا رہتا تھا مگر اپنی لائبریری بنانے کا خیال انہی برسوں میں آیا جن کا اوپر ذکر ہوا۔ میرے ذخیرے کی اولین کتاب ”علی پور کا ایلی“ تھی جو الحمرا میں لگے ایک کتاب میلے سے پچاس فیصد رعایت پر خریدی تھی۔ تھوڑی سی تنخواہ ہوتی تھی اور لاہور میں قیام۔ چنانچہ یوں ہوا کہ مال روڈ پر واقع فیروز سنز کے اس وسیع

Read more

مسلح افواج کا جانتے بوجھتے تمسخر اڑانے کے خلاف مجوزہ بل کی منظوری پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے مسلح افواج اور ان کے اہلکاروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف دو سال کی قید اور پانچ لاکھ تک کے جرمانے کی مجوزہ سزاؤں کے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

Read more

ملک بھر کے دانشوروں اور سول سوسائٹی کا امر جلیل کی حمایت میں بیان

ہم زیر دستخطی، ملک بھر کے مختلف حصوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادیب، شاعر، دانشور، انسانی حقوق کے کارکن، وکلاء، صحافی، ڈاکٹر، اساتذہ، طلباء اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہری حالیہ دنوں میں ملک کے معروف ادیب،کالم نگار اورمفکر جناب امر جلیل صاحب کو دی جانے والی دھمکیوں اور ان کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز پروپیگنڈے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ہم ریاستِ پاکستان، وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ سے جناب

Read more

تاریخ وجاہت مسعود کے ساتھ: پاکستان کا دستوری ارتقا 1947 سے 1973 تک

پاکستان کا دستوری ارتقا۔  نوابزادہ لیاقت علی خان۔ قرارداد مقاصد۔ 1956 کا دستور۔ اسکندر مرزا۔ جنرل ایوب خان۔ 1962 کا دستور۔ جنرل یحییٰ خان۔ جنرل یحییٰ کی دستور سازی کی کوشش۔ سقوط ڈھاکہ۔ ذوالفقار علی بھٹو۔ قائد اعظم، لیاقت علی خان، اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خان کی بے بسی۔

Read more

پاک بھارت تعلقات: جسونت سنگھ اور یشونت سنہا کے درمیان

پاکستان اور ہندوستان وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں کشیدگی کی کیفیت سے گزرنے کے بعد تعلقات کو "معمول پر لانے” کی طرف گامزن ہیں۔ نریندر مودی کے پاکستانی ہم منصب، عمران خان کی طرف سے امن کے متعدد اشارے اکارت گئے بلکہ ان کے نتیجے میں فروری 2019 میں "پلوامہ واقعہ” ہوا، جس نے قریب قریب ایک اور پاک بھارت جنگ شروع کر دی۔ پلوامہ کے دو سال بعد، 2021 میں برف پگھلنے کے آثار نمودار ہوئے ہیں

Read more

لفظوں کا جادوگر: وجاہت مسعود

الفاظ کی نفاست، خوبصورت انداز بیاں، تشبیہات کی بہتات، تشریحات کا استعمال، مثبت تنقید، استعارات کی فراوانی، شاعرانہ مثالیں، اردو اور انگریزی ادب سے مثالیں، لفظوں سے چھیڑ چھاڑ، نفاست، الفاظ کا بہترین چناؤ، تجسس، اور ذوق ، یہ سب ہم سب کے ایڈیٹر وجاہت مسعود کی تحریروں کے لازمی عناصر ہوتے ہیں۔ جمہوری سوچ رکھنے والے، انسانی حقوق کے نہ بکنے اور نہ جھکنے والے علم بردار وجاہت مسعود کی تحریریں یقیناً نئے لکھاریوں کے لئے مشعل راہ کی

Read more

تاریخ وجاہت مسعود کے ساتھ: پاکستان میں 1971 سے سیاسی ارتقا

ذوالفقار علی بھٹو اقتدار سنبھالتے ہیں۔ شملہ معاہدہ۔ 1973 کا دستور۔ نیپ پر پابندی۔ حیدر آباد ٹریبونل۔ بھٹو نے ایمرجنسی کیوں نافذ کی؟ ایجنسیوں نے بھٹو کو گمراہ کیا۔ نیشنل ازم۔ سوشل ازم کا زوال۔ جنرل ضیا الحق کی حکومت۔ سیاسی کارکنوں پر کیا کیا لیبل چسپاں کیے گئے۔ کراچی میں کیا ہوا؟ پاکستانی معیشت کا عروج اور زوال۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں۔ جنرل مشرف کی حکومت۔ نائن الیون اور پاکستان۔ چارٹر آف ڈیموکریسی۔ بے نظیر بھٹو کا قتل۔ پیپلز پارٹی کی حکومت۔ اٹھارہویں ترمیم۔ پاکستان کی زرعی اور صنعتی معیشت۔ معیشت میں خواتین کا کردار۔ بیوروکریسی اور سیاسی عزائم۔

Read more

ہم جنسیت اللہ کی مرضی ہے

ہم جنسیت پر استاذی وجاہت مسعود کی تحریر میں انسانی اخلاقیات، انسان کے انسان کے ساتھ رویے، انسانی حقوق اور مختلف شناخت کے حامل افراد کی معاشرے میں قبولیت کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ جس پر حسب روایت دشنام ترازی اور ہم جنسیت کو فروغ دینے کے الزامات دھرے گئے ہیں بجائے اس کے دلیل سے بات کی جائے اور مسئلہ سلجھایا اور سمجھا جائے۔ ہم جنسیت کو فروغ دینے کی بات ایسے ہی ہے کہ اگر کوئی معذور

Read more

شاہ جمال کا مجاور

بہت دن ہوئے وہ مجھے افغان حملہ آور احمد شاہ ابدالی کے نام سے موسوم سڑک پر سر راہ اس جگہ ملا جہاں خواتین کا ہسپتال ہے۔ ہم دونوں ہی کسی سرکاری نوکری کے لئے تحریری امتحان دے کر نکلے تھے۔ حیرت ہے کہ یونیورسٹی میں ایک ہی سیشن اور ایک سے ”مشاغل“ ہونے کے باوصف ہم کبھی اک دوجے سے نہ ملے تھے۔ اس اتفاقی ملاقات کے بعد یہ تعلق انتہا سے بڑھی ہوئی بے تکلف دوستی میں بدل

Read more

چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اور وجاہت مسعود کا تبصرہ

کیا موجودہ ریاستی بندوبست بدل دیا جائے گا؟
کیا اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے؟
گیلانی صاحب کی فتح کے کیا امکانات ہیں؟
اشارے کیا مل رہے ہیں؟
پاکستان جیسے ملک میں ہر حربہ استعمال کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے؟
شیخ رشید کا تاریخی فقرہ جو ان کے گلے میں تمغہ بن کر لٹک جائے گا
عمران خان کی حکومت نیو بگ منی کے گرد گھومتی ہے جو اولڈ بگ منی سے برسر پیکار ہے۔
کیا آصف زرداری کا سب سے بھاری ہونا اور مولانا فضل الرحمان کی زیرک نگاہی کسی کام آئے گی؟

Read more

ویڈیو: سوال آپ کا جواب ہمارا

اعجاز حسین کا سوال: عمران خان کی حمایت جبر کا کرپٹ نظام تبدیل ہونے کی امید پر کی۔ مایوسی ہوئی تو آپ جیسے جمہوریت پسندوں کی تحریریں پڑھ کر ایک مرتبہ نون لیگ اور پی پی پی سے توقع رکھنے لگا کہ شاید سبق سیکھنے کے بعد ان میں تبدیلی ہو چکی ہو گی، لیکن اس کرپٹ سینیٹ انتخاب کو دیکھنے کے بعد سوچنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ کیا یہی وہ نظام ہو گا جس کا خواب آپ جیسے جمہوریت پسند دیکھ رہے ہیں۔ کیا مستقبل میں ایسے ہی انتخابات جیتے جائیں گے۔

رحمت علی رحمت کا سوال: جس طرح سیاسی اور معاشی حالات خراب ہو رہے ہیں، آپ کے نزدیک پاکستان کا مستقبل کیا ہو گا؟

Read more

خبر اور تبصرہ: اب پنجاب کا نیا وزیراعلیٰ کون ہو گا؟

وزیراعظم ٹریپ ہو گئے یا اپوزیشن بھاگ گئی؟
اپوزیشن مرکزی نہیں پنجاب حکومت گرانا چاہتی ہے
کیا اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے صدر کو کہنا چاہیے تھا؟
عثمان بزدار کا متبادل وزیراعلیٰ کون ہے؟ وجاہت مسعود بتاتے ہیں۔
کیا میاں نواز شریف اپنا گنڈاسا دفن کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟
شاہد خاقان عباسی اور مصدق ملک کے ساتھ مار پیٹ کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
لیاقت علی خان کے ساتھ ممدوٹ اور حمید نظامی کے دھڑے نے کیا سلوک کیا؟
مریم نواز نے ملفوف لفظوں میں دھمکی دی ہے۔ یہ بات انہیں زیب نہیں دیتی۔
بلاول بھٹو نے اس رویے سے فاصلہ اختیار کیا۔

Read more

مقدس رفیق، ابونائل اور مغرب زدہ عورتوں کی پارٹیاں

ابونائل تو عورتوں کے حقوق کے قائل نکلے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اگر ہماری عورتوں کو بھی تعلیم ملے اور صحت کا خیال رکھا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ جیسے ہم اپنے موٹرسائیکل یا کار کی صحت کا بھی تو خیال رکھتے ہیں۔ وقت پر اسے ورکشاپ لے کر جاتے ہیں۔ کیونکہ ہم اگر اسے اچھی کنڈیشن میں رکھیں گے تو کار ہماری بہتر خدمت کر پائے گی۔ اور اپنی کار کی خوراک یعنی اس میں پٹرول ڈالنا تو اور بھی لازمی ہے، اس کے بغیر تو وہ ہمارے مقاصد پورے ہی نہیں کر پائے گی۔ اور ہماری جو پراپرٹی ہماری خدمت نہ کر پائے اس کا کیا فائدہ۔

Read more

خبر اور تبصرہ: سینیٹ کا سنسنی خیز مقابلہ

حفیظ شیخ ایک تسلسل کا حصہ اور آزمودہ اہلکار ہیں
حفیظ شیخ کس کے نمائندے ہیں؟
فرحت اللہ بابر کی ناکامی ناکام رہے لیکن کیا وہ ہار گئے؟

مولانا فضل الرحمان بھی کامیاب نہ ہو سکے لیکن کیا انہیں نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟
وجاہت مسعود کو ان کے سیاسی نظریات سے لاکھ اختلاف ہے لیکن ان کے جمہوری کریڈنشل لاجواب ہیں۔ وہ ملک کا ایک اثاثہ ہیں

فیصل واؤڈا کی ٹائمنگ لاجواب ہے یا پریشان کن؟

Read more

سکھوں کی ٹرین ٹو پاکستان چھوٹ گئی: چند حقائق

فیصل مسعود صاحب کا مضمون ”سکھوں کی ٹرین ٹو پاکستان چھوٹ گئی“ دیکھا تو تاریخ کے اس ادنیٰ طالب علم کو دھچکا سا لگا۔ راقم اس سے قبل اپنے استاد ڈاکٹر فیصل مسعود کے متعلق لکھ چکا ہے جو وفات پا چکے ہیں، لیکن ان کے ہم نام لکھاری، جو ابھی تک حیات ہیں، کی تحریر میں بہت سے جھول نظر آئے۔ بظاہر فیصل صاحب نے مضمون کے عنوان میں خوشونت سنگھ کی مشہور کتاب کا حوالہ دیا ہے لیکن متن میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ سن وارانہ (chronological) طور پر دیکھا جائے تو محترم نے مارچ سنہ 1940 سے مارچ 1947 تک کا فاصلہ ایک جست میں مکمل کیا، یہ اور بات کہ ان سات سالوں میں ہندوستانی تاریخ میں بہت بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں۔

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور وجاہت مسعود صاحب کا بہت شکریہ کہ “کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ” ملی۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کو کتاب کی اشاعت کی ڈھیروں مبارکباد۔ طاہرہ آپ کے لئے تو میں یہی کہہ سکتی ہوں کہ :  “وہ آئی، اس نے لکھا اور فتح کر لیا!” ڈاکٹر طاہرہ کاظمي سے میری ملاقات “ہم سب” میں ان کے تواتر سے چھپنے والے کالموں اور مضامین کی نسبت سے ہوئی۔ ان کی تحریر کا انوکھا پن اور اس کی

Read more

الیکشن اور اندھیری رات کا شر

رات مسلم لیگ نون والے ڈسکہ میں اپنی فتح کے قبل از وقت نعرے بلند کر رہے تھے۔ ان کی امیدوار کی لیڈ تین ہزار کے قریب تھی۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہم نے انہیں سمجھایا کہ ”نون لیگ والے فتح کا جشن نہ منائیں۔ ابھی رات باقی ہے۔ کہانی باقی ہے۔ تاریکی چھا رہی ہے۔ ابھی چاند ابھرے گا اور سب گندے ریزلٹ اس قمری روشنی سے دھل کر صاف ہو جائیں گے اور فتح حسب معمول حق ہی کی ہو گی۔“

پھر صبح دنیا نے دیکھا کہ واقعی فتح حق کی ہوئی گو کہ الیکشن کمیشن نے مزید تحقیقات تک ریزلٹ روک لیا ہے۔ بخدا ایسا نہیں ہے کہ ہم وجاہت مسعود یا وسی بابا کی طرح سیاسی تجزیہ کرنے کے ماہر ہیں۔ ہماری درست پیش گوئی کا سبب کوئی منطق نہیں۔ پتہ نہیں اس کا باعث روحانیت میں ہماری دسترس ہے یا ہماری فطری قنوطیت پسندی۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے، یعنی 2018 کے الیکشن سے، تو یہی دیکھا ہے کہ رات چڑھنے پر جو فتح یاب ہوتا ہے صبح کی روشنی میں چیزیں واضح ہونے پر وہ شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے اس مشاہدے سے کم از کم شادی شدہ حضرات متفق ہوں گے کیونکہ وہ زندگی کے حقائق کو تسلیم کرنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

Read more

اپنی آپ بیتی پر تنقید و تبصرہ

چونکہ مستقبل قریب میں میری آپ بیتی کا دوسرا حصہ منظر عام پر آنے کو ہے، دوسرے پینسٹھ برس سے زائد عمر کے ہونے اور کورونا کے سبب ویکسی نیشن کے بعد بھی ہجوم میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت برقرار ہے، تیسرے اس بار بے تحاشا برف پڑی ہے اور درجہ حرارت معمول سے خاصا کم ہے، پھر گزشتہ کئی برس سے آمدنی ہے ہی نہیں ، چنانچہ نئی کتابیں میسر نہ آ سکیں اس لیے میں نے اپنی آپ بیتی کے پہلے حصے ”پریشاں سا پریشاں“ کو دوسری بار پڑھنے کا ارادہ کیا۔

ایک کمرے کے کوارٹر میں تین بچوں کے ساتھ رہتے ہوئے پڑھنا کوئی اتنا آسان نہیں ہوتا۔ پھر فیس بک، کورونا کی وبا کا فالو اپ اور ساتھ ہی ساتھ، وقت کاٹنے کو پاکستانی ڈرامہ سیریلز دیکھتے ہوئے مجھے اپنی لکھی اس کتاب کو باقاعدہ اور مکمل پڑھنے میں، آپ حیران ہوں گے ، دو تین ماہ لگ گئے، جب کہ میں ضخیم کتاب تین چار روز میں پڑھ لیا کرتا ہوں۔

Read more

خبر اور تبصرہ: سینیٹر مشاہد اللہ، سینیٹ کیس اور پرویز رشید

سینیٹر مشاہد اللہ کا انتقال، ان کی روایت اور میراث
سنیٹیر پرویز رشید کے کاغذات نامزدگی کو مسترد کرنے پر وجاہت مسعود کا تبصرہ
کیا سپریم کورٹ میں سینیٹ کے انتخابات میں سندھ کے اٹارنی جنرل کو کم وقت دینا ایک غلطی ہے؟
چیف جسٹس کا کمنٹ کہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح کرتے ہوئے سیاسی کام کرتی ہے۔ اس پر وجاہت مسعود کا موقف۔

Read more

سیاسی کارکن رہنماؤں کی کہہ مکرنیوں کے تابع نہیں

چند روز قبل ایک سفر سے واپس آ رہا تھا کہ کھانا کھانے کی غرض سے ہائی وے پر بنے ایک ہوٹل پر گاڑی روکی۔ جہاں ایک کونے میں زمین پر چھ سات سال کا بچہ سویا ہوا تھا، اتنے میں ایک لڑکا جس کی عمر دس بارہ سال ہو گی آیا اور اس نے سوئے ہوئے بچے کے بال کھینچ کر اٹھایا اور تھپڑ مار کر لوگوں کی جانب بھیک مانگنے کے لیے دھکیل دیا۔ اس بچے کی آنکھیں

Read more

آزادی انسان کا علمبردار: تھامس پین

انسانی آزادی کی تاریخ تھامس پین کا نام لیے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ جہالت، اوہام، تعصبات اور جبر کے اندھیروں میں انسان کا آزادی کی طرف سفر تکلیف دہ حد تک سست رہا ہے۔ آزادی کے لیے لڑنے والی لافانی ہستیوں پر انہی انسانوں نے پتھر برسائے ہیں جن کی بہتری اور ترقی کے لیے یہ مجاہد اپنا سر ہتھیلیوں پر لے کر نکلتے تھے۔ یہ عجیب لشکر ہے جس کے لئے فتح یا شکست دونوں صورتوں میں سنگ زنی

Read more

عنوان کا فساد

شوقیہ لکھاری جن کا اخبارات اور جرائد میں مدیران سے واسطہ نہیں پڑتا، بسا اوقات اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی تحریر کا عنوان کیوں بدلا گیا ہے۔ ہم سب کی مضمون بھیجنے کی گائیڈ لائن میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی ہے "یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہو، اسے

Read more

دو پاکستان: بالکل مختلف

پانچ سال پہلے کی بات ہے جب وجاہت مسعود کی سٹڈی میں بیٹھے ہوئے میں نے اپنے گورنمنٹ کالج لاہور کے زمانے کے ہم جماعت اور اب پروفیسر ڈاکٹر حاجی شیخ محمد اسلم کو فون کیا کہ کل میں تمہارے پاس فیصل آباد پہنچ رہا ہوں۔ اس کے تھوڑی دیر بعد میرے بیٹے نے جو سٹڈی سے باہر اپنی والدہ سے بات کر رہا تھا، مجھے آ کر بتایا کہ ”پاپا، کل ہمیں گزشتہ برس گھر پہ پڑے ڈاکے کے

Read more

ہم سب ویڈیو چینل

ہم سب نے مختلف موضوعات پر ویڈیوز بنا کر اپنے ویڈیو پیج اور یوٹیوب پر شیئر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں تجزیات، سیاست، جمہوری حقوق، خواتین کے مسائل، بچوں کی تربیت اور وہ تمام موضوعات شامل ہوں گے جو ہم سب کی زینت بنتے ہیں۔

Read more

سعدی یوسف کا جنت سے جو بائیڈن کے نام خط

جو بائیڈن آپ کو چٹھی لکھنے کی وجہ بڑی خاص ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے ہم عراقی، فلسطینی، شامی اور مصری شاعر عالم بالا میں اپنی ال شابندر کافی شاپ میں باقاعدگی سے اکٹھے ہو رہے ہیں اور سچی بات ہے کہ ان دنوں آپ ہمارے درمیان کچھ زیادہ ہی زیربحث رہے ہیں۔ محمود درویش اور نازک الملائیکہ آپ کی بہت وکالت کر رہی ہیں۔ میں نے انہیں تنبیہہ کی ہے کہ وہ زیادہ جذباتی نہ بنیں۔

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

یہ چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔ کراچی آرٹس کونسل کی تیرہویں عالمی اردوکانفرنس ہو رہی تھی جب مہ ناز رحمان کا میرے پاس فون آیا۔ انھوں نے اس ادبی محفل میں شرکت کے لیے آنے والی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کو اپنے گھر مدعوکیا تھا۔ اس دعوت میں شہرکی نام دار اور عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم خواتین مدعو تھیں۔ اپنی طبیعت کی ناسازی کے سبب میں نے معذرت کر لی اور افسوس رہا کہ ڈاکٹر طاہرہ سے ملاقات

Read more

کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ: دل و دماغ کی یکجائی میں لکھی کتاب

کہتے ہیں گانے والوں کو جن چیزوں سے پرہیز ہوتا ہے، مثلاً کھٹائی وغیرہ، وہ اپنے سامنے بچوں کو کھلا کر خوش ہو لیتے ہیں۔  ہم جس شعبے میں رہے ہیں وہاں عام فہم زبان لکھنے کا جاری حکم ہے۔ ایک بار تو متضاد لکھنے پر بھی اعتراض ہوا، اس کی جگہ الٹ لکھنے کے لئے کہا گیا۔ ایسے ہی ایک ادارے میں تو ہدایت تھی کہ ایسی زبان لکھیں کہ آٹھ جماعتیں پڑھی گھریلو عورت بھی سمجھے۔ سو ہماری

Read more

منٹو کے افسانے صرف ذہنی بالغوں کے لیے ہیں

ڈاکٹر خالد سہیل ادیب بھی ہیں اور ماہر نفسیات بھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس مختصر مضمون میں منٹو کے افسانوں کے بارے میں اتنی بصیرت رکھ دی ہے جس کے لئے کسی گٹھل طبع نصابی مدرس کو شاید ادبی تنقید کی اصطلاحات میں الجھی کئی کتابیں لکھنا پڑتیں۔ رند بخشے گئے قیامت میں / شیخ کہتا رہا حساب حساب

Read more

وجاہت مسعود! ہم تمہارا انتظار کرتے ہیں

جب تم دونوں، معاف کرنا، چاروں آنکھوں سے شرارت اور غصہ انڈیلتے ہوئے جمال اشرف کے پنجابی افسانے پر خوفناک سوال پوچھتے تھے تو صابر لودھی اور اقبال حیدر بٹ ہی نہیں، پوری پنجابی مجلس محظوظ ہوتی تھی ادھر مجلس اقبال کے اجلاس میں، شفقت اللہ اور میں تمہارا انتظار ہی کرتے رہ جاتے کہ گورنمنٹ کالج بہر حال تمہارے لئے ایک ٹوڈی درس گاہ تھی ہم تمہارا انتظار کرتے رہے تم بیاہ کر کرشن نگر جا پہنچے اور پھر

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی کتاب: کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ

ڈاکٹر طاہرہ منفرد انداز بیاں کی مالکہ ہیں، وہ دور رس نگاہ رکھتی ہیں اور ذہانت کے ساتھ خواتین کے مسائل اور ان کے حل پر بات کرتی ہیں اور یہی ان کی خوبی ہے جو مجھے متاثر کرتی ہے۔ بلوغت کے مسائل ہوں یا زچگی کی پیچیدگیاں، یا فرسودہ نظریات و رسوم رواج کی بھول بھلیاں، ڈاکٹر طاہرہ ہر موضوع پر بے خوفی اور جرأت سے قلم اٹھاتی ہیں۔

Read more

حسن نثار قومی نفسیات کا نمائندہ نشان کیسے بنا؟ (وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم)

آج اس پیر فرتوت، تند خو صحافی کا ذکر رہے جو ہماری اجتماعی نفسیات اور ہمارے انفرادی مزاج کا نمائندہ ترین نمونہ ہے۔ حقیقی نام لینے کی ضرورت نہیں۔ غالب نے بھی تو کہا تھا، ’بنا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا‘۔ آپ انہیں اسرارالحق کہہ لیجیے۔ اگرچہ 69 برس اور چھ ماہ کی عمر میں ایسی سیماب صفت ہستی کے لئے کون سے اسرار کی دریافت باقی رہ گئی ہو گی۔ اس پیرانہ سالی میں تو عاقبت کے

Read more

دائیں بازو کے جذباتی لکھاری، بائیں بازو کے منطقی دانشور اور پانچ واقعات

پہلا واقعہ۔ 3 جنوری کی صبح بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے گیارہ مزدور اپنے جھونپڑی نما مکان میں سوئے رہے تھے کہ اچانک کچھ مسلح افراد نے ان پر دھاوا بول دیا۔ بندوق کی نوک پر ان بد حال مزدوروں کے ہاتھ پیر باندھے گئے، انہیں گولیاں ماری گئیں اور پھر انہیں کسی جانور کی طرح ذبح کر کے اس عمل کی ویڈیو بنا کر انٹر نیٹ پر چڑھا دی۔ قتل ہونے والے مظلوموں کا تعلق شیعہ ہزارہ برادری سے تھا جبکہ قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔

دوسرا واقعہ۔ چند ہفتوں سے ٹی وی چینلز پر ایک اشتہار نشر کیا جا رہا تھا جس میں ایک پاکستانی مرد اداکار کسی قوت بخش وٹامن کی تشہیر کرتا ہوا کہتا تھا کہ یہ صرف مردوں کے لیے ہے۔ سنا ہے کہ اب سے چند گھنٹے پہلے پیمرا نے اس بیہودہ اور فحش اشتہار کے نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ تیسرا واقعہ۔ 30 دسمبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع کڑک میں انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے ہندوؤں کی ایک مقدس ہستی کی سمادھی اور اس میں واقع مندر کو تباہ کر کے آگ لگادی اور اسی جگہ پر واقع ہندو برادری کے ایک زیر تعمیر مکان کو بھی مسمار کر دیا۔

چیف جسٹس جناب گلزار احمد نے فوری طور پر واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے مندر کی از سر نو تعمیر کا حکم دیا ہے۔ کئی سال بعد تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب از خود نوٹس کے اختیار کا درست استعمال کیا گیا ہے۔ چوتھا واقعہ۔ 2 جنوری کو اسلام آباد میں اکیس سالہ نوجوان اسامہ ستی کو پولیس نے ناکے پر روکنے کی کوشش کی اور گاڑی نہ روکنے پر چاروں طرف سے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے موقع پر اس نوجوان کو ہلاک کر دیا۔ نوجوان کی جتنی عمر تھی اتنی ہی اسے گولیاں ماری گئیں۔

مقتول کے والد کے مطابق چند دن پہلے اسامہ کی پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی اور پولیس نے اسے ’مزا چکھانے‘ کی دھمکی دی تھی۔ پانچواں واقعہ۔ 22 دسمبر کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والی خاتون کریمہ بلوچ ٹورنٹو میں اچانک مردہ حالت میں پائی گئیں۔ مس بلوچ پانچ برس سے کینیڈا میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ ان کی موت کی خبر کے چند ہی گھنٹوں بعد ٹورنٹو پولیس نے بیان دیا کہ اس واقعے میں کسی قسم کے جرم کے شواہد نہیں ملے۔

یہ پانچ مختلف واقعات ہیں، ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں، اسی لیے یہ واقعات لکھتے ہوئے میں نے کسی ترتیب کا خیال نہیں رکھا۔ بطور لکھاری یہ میری ’صوابدید‘ ہے کہ میں کس واقعے کو موضوع بناؤں اور کس زاویے سے اس پر لکھوں۔ لیکن جب بھی کوئی لکھاری اپنے صوابدیدی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے موضوع کا انتخاب کرتا ہے تو ساتھ ہی وہ قاری پر اپنی ترجیحات، نظریات اور انداز فکر بھی واضح کر دیتا ہے۔ پہلے واقعے سے شروع کرتے ہیں۔ شاید ہی کوئی کالم نگار ہو جس نے اس موضوع پر ماتم نہ کیا ہو، لیکن محض نوحہ لکھنا کافی نہیں، یہ زاویہ دکھانا بھی ضروری ہے کہ یہ داعش ہمارے

ملک میں کہاں سے آئی، اس کی ہمدرد اور ہم خیال تنظیمیں کون سی ہیں، یہ کون لوگ ہیں جو مذہب کے نام پر سفاکی سے قتل کو جائز سمجھتے ہیں اور کیوں ہمارے وہ دوست جنہیں ذرا سی بھی آزاد خیالی برداشت نہیں، اس مذہبی جنونیت پر منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور اگر بولتے بھی ہیں تو یوں کہ داعش جیسی کسی تنظیم کی دل آزاری نہ ہو۔ کسی موضوع پر محض لکھنے سے حق ادا نہیں ہو جاتا بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ لکھنے والے نے کیا لکھا ہے۔

میرے پاس بھی یہ اختیار موجود ہے کہ جس اشتہار پر پیمرا نے پابندی لگائی اس پر لکھوں اور کہوں کہ یہ پابندی ٹھیک لگی ہے، اس قسم کے اشتہارات ٹی وی پر نہیں چلنے چاہئیں کہ یہ اشتہارات تو مغربی ممالک میں بھی رات کو ایک مخصوص وقت کے بعد نشر کیے جاتے ہیں مگر پھر سوچا کہ کیا میری ترجیح یہ اشتہار ہے یا کڑک میں تباہ کیا گیا مندر جس نے میرے ملک کا تاثر برباد کر دیا! مندر کو آگ لگائی گئی، سمادھی جلا دی گئی، ایک ہم وطن ہندو کا گھر مسمار کر دیا گیا۔ کیا اس موضوع پر لکھنے کا ٹھیکہ صرف وجاہت مسعود کا ہے؟ مذہبی رجحان رکھنے والے ہمارے دوست اس پر کیوں نہیں لکھتے؟ انہیں اس ضمن میں کیا امر مانع ہے؟ کیوں اس موضوع پر ویسے ہی پھنکارتے ہوئے کالم نہیں آئے جیسے عورت مارچ کے پلے کارڈ پر درج نعروں کے خلاف آتے ہیں؟

چوتھے واقعے پر بھی میڈیا میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ یہ موضوع ایسا ہے جس پر مرد حر بننا قدرے آسان ہے کیونکہ مجرمان پولیس اہلکار ہیں۔ اس واقعے کی تفصیلات پڑھیں تو روح کانپ جاتی ہے کہ کیسے سفاک پولیس والوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر کے اس نوجوان کو چھلنی کر دیا۔ پولیس کی جاری کردہ پریس ریلیز اور بعد ازاں عدالت میں بیانات سے صاف لگتا ہے کہ کسی کو اپنے کیے پر پشیمانی نہیں۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ ہے نا آخری۔

خروٹ آباد سے لے کر حیات بلوچ کے قتل تک اگر کسی کو سزا ہو جاتی تو شاید یہ پولیس والے گولیاں مارنے سے پہلے کچھ سوچتے۔ لیکن جس معاشرے میں سی سی پی او کی ذہنی پستی قابل رحم ہو وہاں گریڈ سات کے نیم خواندہ کانسٹیبل کے ہاتھ میں خود کار اسلحہ اسی قسم کے بہیمانہ قتل کے کام ہی آئے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسے حالات میں بھی ریاست سے محبت غیر مشروط ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب اسامہ ستی کے والد، ہزارہ برادری کے پسماندگان اور ہندو ہم وطنوں سے لینا چاہیے، ہم لکھاری اس بات کا جواب نہیں دیں گے کیونکہ ہمارے پاس لکھنے کے لیے اور بہت سے ’اہم موضوعات‘ ہیں۔

اب کچھ بات پانچویں واقعے کی بھی ہو جائے۔ جس روز کریمہ بلوچ کی ’پراسرار‘ موت کی خبر آئی، ٹویٹر پر اس کا ٹرینڈ چل گیا اور بہت سے بائیں بازو کے لکھاریوں نے مس بلوچ کی موت کو قتل قرار دیا۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس بنیاد پر انہوں نے یہ رائے قائم کی! ٹورنٹو پولیس نے دو ٹوک الفاظ میں ایسے کسی امکان کو رد کر دیا تھا مگر ہمارے یہ دانشور دوست مسلسل یہ تاثر دیتے رہے کہ مس بلوچ کو ان کے بلوچ قوم پرست خیالات کی پاداش میں یقیناً قتل ہی کیا گیا ہوگا۔ عام حالات میں یہ لوگ عقلی دلائل سے کام لیتے ہیں اور یہی بات انہیں دائیں بازو کے جذباتی لکھاریوں سے ممتاز کرتی ہے مگر اس معاملے میں انہوں نے جذبات سے کام لیا اور یہ نہیں سوچا کہ ہم جمال خشوگی قتل کے بعد کے

عہد میں ہیں، یہ ممکن نہیں کہ کینیڈا جیسے ملک میں جلا وطنی کی زندگی گزارتی ہوئی کسی عورت قتل کر دیا جائے اور ٹورنٹو پولیس اس کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرے۔ آج سے دس سال پہلے لندن میں عمران فاروق کا قتل ہوا تھا، سکاٹ لینڈ یارڈ نے تفتیش کی اور بالآخر گزشتہ برس مجرمان کو سزا ہوئی۔ عرض صرف اتنی ہے کہ جس طرح مذہبی رجحان رکھنے والوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی اور جنونیت کی دوسرے لکھاریوں سے بڑھ کر مذمت کیا کریں اسی طرح بائیں بازو کے آزاد خیال دانشوروں پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے نظریات کے ہاتھوں یرغمال بننے کی بجائے حقائق کو پرکھا کریں اور درست بات کہنے سے نہ ہچکچایا کریں چاہے وہ بات ان کے نظریات سے میل نہ کھاتی ہو۔ کبھی کبھی بزم مے سے تشنہ کام آنے میں بھی کوئی حرج نہیں!

Read more

نیا مندر بننے نہیں دیں گے، پرانے مندر کو آگ لگا دیں گے

کرک کا مندر جلا دیا گیا۔ ایک بار پھر مذہبی جذبات بھڑک اٹھے تھے۔ کچھ لوگ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ ان جیسے نیک لوگوں کی موجودگی میں مندر کی تعمیر نو ہو۔ آخر یہ ملک اس لئے تو نہیں بنایا گیا تھا کہ اس میں جس کا جی چاہے جس طرح چاہے عبادت کرے۔ 11 اگست کو قائد اعظم نے یہ کہا تھا کہ آپ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں خواہ وہ مسجدیں ہوں یا گرجے ہوں یا

Read more

کریمہ بلوچ کی موت اور ٹویٹر ٹرینڈ

سوشل میڈیا پر بدزبانی، کردار کشی اور مہم جوئی اب کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ اس باب میں ٹویٹر من حیث القوم ہمارے عدم برداشت پر مبنی رویوں کا بھرپور عکاس ہے۔ بے شمار گمنام اکاؤنٹس صبح و شام حالت جنگ میں رہتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے جتھے ہیں جو ایک دوسرے پر ہمہ وقت حملہ آور دیکھے جا سکتے ہیں۔ اکثر سطحی جملے بازی اور ذاتیات پر مبنی دشنام طرازی ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ افسوس مگر اس وقت ہوتا ہے جب اچھے خاصے قد کاٹھ کی شخصیات نفرت اور بے جا تعصب میں ڈوب کر اچانک کہیں سے نمودار ہو جانے والے ”ٹرینڈ“ کی رو میں خشک تنکوں کی طرح بہہ نکلتی ہیں۔

Read more

بی بی رانی بینظیر بھٹو کی کہانی

کہانی کراچی کے پنٹو ہسپتال سے شروع ہوتی ہے۔ یہیں نصرت بھٹو نے گلابی چہرے اور لانبی انگلیوں والی اک خوبصورت پیاری بچی کو جنم دیا۔ وہ بیشک ایک بینظیر بچی تھی۔ سو اس کا نام بھی بینظیر ہی رکھا گیا۔ ذو الفقار علی بھٹو ان دنوں لندن میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ پھر بہت کچھ ہوا۔ لاڑکانہ کے اس جاگیردار گھرانے میں اقتدار آیا بھی اور چھینا بھی گیا۔ یہ 19 ستمبر 1977 کا ایک

Read more

معیشت اور استاذی وجاہت مسعود

پی ڈی ایم کے لاہور میں جلسے کے بعد سے سیاسی منظر نامے پر کہر سا چھایا ہے۔ سنجیدہ اذہان کے لئے مزید بدمزگی غیر اخلاقی ویڈیوز کے اعلان کے بعد سے اور بڑھ گئی۔ وہ تو شکر خدا کا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کوئی نہ کوئی لطیفہ چھیڑی رکھتی ہے اور زندگی کا سامان میسر رہتا ہے ورنہ بیانیے والی سرکار تو تو شکیل کی ٹھنڈی چائے کی طرح بدمزہ کرنے پر تلی ہے۔ استاذی وجاہت مسعود صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی کبھی، ان کی کالم پڑھ پڑھ ہماری اردو ادب سینکتی ہے، لوگوں نے ہمیشہ ان کے منہ سے خاکسار کے بارے میں اچھا ہی سنا یا۔ اپنے ایک کالم میں انہوں نے معیشت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اپنے خیالات کی بجائے کچھ رپورٹس کے حوالے سے انتہائی فصاحت و بلاغت پر مبنی تبصرہ کیا کہ الفاظ کے تو شناور ہیں، اور جیسا کہ ایسے مواقع پر طریقہ واردات ہے بندوقیں غریبوں کے کندھوں پر رکھ کر فائر کی گئیں۔ ایسی صورتحال میں ٹیکنیکل نمبر ملیں نہ ملیں، ترحمانہ نمبر ضرور مل جاتے ہیں۔ انتہائی ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے استاذی کے فصیح و بلیغ کالم پر تبصرہ سادے سے الفاظ میں حاضر ہے۔

Read more

لاہور جلسہ: کتنے آدمی تھے؟

نوم چومسکی نے کہا تھا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے کا سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ فیصلہ کن طاقت ایسے اداروں کو سونپ دی جائے جو احتساب سے بالا تر ہوں۔ جیسے بادشاہ، شہزادے، مذہبی رہنما، فوجی حکمران اور جدید کارپوریشنز یعنی صنعتی ادارے۔ جہاندیدہ نوم چومسکی نے غلط نہیں کہا تھا اگر ذرا غورکریں تو بلاشبہ یہ شخصیات اور ادارے احتساب سے بالا تر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی صاحبزادی بے نظیر بھٹو شہید سے ایک

Read more

پاکستان میں جمہوریت اور افغان امن

1970ء کے دہائی کے آخر میں، جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد سے، پاکستان میں سیاسی اور عسکری قوتوں مین اشتراک اقتدار کا ایک طرفہ نمونہ حکومتی بندوبست کی مستقل خصوصیت بن چکا ہے جس میں عسکری قوتوں کو بالادست حیثیت حاصل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس حکومتی بندوبست میں فوجی قیادت کو ملکی سلامتی اور خارجہ امور کی فیصلہ سازی میں بھی فیصلہ کن کردار مل گیا ہے۔ پاکستان کی افغان پالیسی پر فوج، خاص

Read more

دانشور بمقابلہ دانش فروش

انسان میں شعور بیدار ہونے تک انسان کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو انسان تعلیم حاصل کرتا ہے۔ پھر اس حاصل ہونے والی تعلیم سے انسان کے اندر علم کی شمع جلتی ہے۔ جیسے ہی علم کی شمع انسان کے اندر جلنا شروع ہوتی ہے تو وہ انسان کے اندر ”دانش“ یعنی عقل کو بڑھاوا دیتی ہے۔ اور پھر اس دانش کا مثبت استعمال اور عملی مظاہرہ انسان کے اندر شعور بیدار ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس کی مثال یوں لے لیجیے کہ مثال کے طور پر ایک انسان انجینئر بننا چاہتا ہے۔ تو سب سے پہلے وہ انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرے گا۔ جس میں اسے گزشتہ تجربات، انجینئرنگ کی مختلف اقسام، اس کے تھیوریٹیکل پرسپیکٹو (theoretical perspectives ) سمیت ہزاروں سینکڑوں مختلف پہلو پڑھے گا۔ پھر ان تعلیمی مشاہدات سے جو اس کو علم حاصل ہوگا وہ اس کے مطابق مختلف تجربات کرے گا، کچھ نیاء کرنے کی کوشش کرے گا، ہو سکتا ہے ہزار بار ناکام ہو پر اس کا علم اس کو بات کی یقین دھیانی کرواتا رہے کہ کوشش مت چھوڑنا اور وہ ایک دن کامیاب ہو جائے گا۔

Read more

نیشنل ڈائیلاگ۔ کس کے درمیان؟

ملتان جلسے کے دوران حکومتی اقدامات، رویے اور پکڑ دھکڑ کے خلاف پی ڈی ایم کے موقف و عزم کے واضح اظہار کے بعد ملک کے سنجیدہ صحافتی حلقے ایک بار پھر ”تصادم“ سے بچنے کی دہائی دینے اور تمام اسٹیک ہولڈر کے مابین نئے عمرانی معاہدے یا مذاکرات کے ذریعے بحران حل کرنے کی تجویز دے رہے ہیں۔ یہ تجویز سیاسی حلقوں کے نقطہ نظر سے ہم آہنگ ہے یا نہیں؟ اس سے قطع نظر مذکورہ تجویز بارے مباحثہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ ملک کے آئینی سیاسی بندوبست میں رچی بسی سیاسی مداخلت کی بحرانی نوعیت اور کیفیت کو کم کرنے۔ حل کرنے میں معاون ہوگی؟ یا اس کے بر عکس بحران کے اسباب کو ختم کرنے کی بجائے اسے مستحکم سماجی تائید و سیاسی بنیاد مہیا کر دے گی؟ کیا، تصادم کے خوف ”کے ذریعے۔ ملک میں سیاسی استحکام ممکن العمل ہے؟

Read more

لبرل یا لوزر؟

ہم نیم خواندہ دانشوروں کے قلم سے "لبرل” کا طعنہ پڑھ کے ایک بلند آہنگ قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھتے ہیں، "اگر ہم لبرل ہیں تو آپ کیا ہیں؟ لوزر؟” پچھلے ڈیڑھ برس میں یہ لقب ( لنڈے کی لبرل آنٹی) بہت دفعہ ہمیں عطا ہوا اور ہر دفعہ اس نے ہمارے چہرے پہ مسکراہٹ بکھیری۔ ہمیں ہر دفعہ یوں لگا کہ جیسے ہم جانے انجانے میں کچھ لوگوں کی دم پہ پاؤں رکھ دیتے ہیں۔ ہمارے مہربانوں نے ڈارون کا

Read more

وجاہت مسعود کا ناقابلِ اشاعت کالم: ویڈیو

مانٹریال کے پولی ٹیکنیک سکول میں 6 دسمبر 1989 معمول کا دن تھا۔ انجنیئرنگ کے طلبا اور طالبات درس و تدریس میں مصروف تھے۔ سہ پہر 5 بج کے دس منٹ پر ماخت لپینو (Marc Lépine) نام کا 35 سالہ مسلح شخص دوسری منزل کے ایک کمرہ جماعت میں داخل ہوا۔ یہاں نو طالبات سمیت ساٹھ طالب علم موجود تھے۔ حملہ آور نے طالبات اور طلبا کو علیحدہ کر کے طالبات پر فائرنگ شروع کر دی۔ چھ بچیاں موقع پر ہلاک ہو گئیں۔ اس دوران حملہ آور نعرے لگاتا رہا ۔ I hate feminists. I am fighting feminists. (مجھے فیمنسٹوں سے نفرت ہے۔ میں فیمنسٹوں سے جنگ کر رہا ہوں)۔ اگلے بیس منٹ میں حملہ آور نے درسگاہ کے برآمدوں اور کیفے ٹیریا میں درجنوں طالبات پر گولیاں برسانے کے بعد خود کو گولی مار لی۔ چودہ طالبات ماری گئیں۔ حملہ آور نے اپنی خود کش تحریر میں کسی ذاتی عداوت کی تردید کرتے ہوئے اپنے فعل کو سیاسی جدوجہد قرار دیا تھا۔

Read more

وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم

مانٹریال کے پولی ٹیکنیک سکول میں 6 دسمبر 1989 معمول کا دن تھا۔ انجنیئرنگ کے طلبا اور طالبات درس و تدریس میں مصروف تھے۔ سہ پہر 5 بج کے دس منٹ پر ماخت لپینو (Marc Lépine) نام کا 35 سالہ مسلح شخص دوسری منزل کے ایک کمرہ جماعت میں داخل ہوا۔ یہاں نو طالبات سمیت ساٹھ طالب علم موجود تھے۔ حملہ آور نے طالبات اور طلبا کو علیحدہ کر کے طالبات پر فائرنگ شروع کر دی۔ چھ بچیاں موقع پر

Read more

حیدر عباس گردیزی: تیرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہو گا

28  اکتوبر 2020 کا دن تھا میں اور میرے ساتھی دوسرے ملتان لٹریری فیسٹیول کی تیاریوں میں غرق تھے، ہزار طرح کے مسائل، الجھنیں، خدشے ہر روز ہمارے سامنے آ کھڑے ہو رہے تھے، کبھی اطلاع آتی کہ فلاں سپانسر نے انکار کر دیا ہے تو کبھی اطلاع آتی کہ فلاں پارٹیسیپنٹ نہیں آ پا رہا، کبھی کوئی کہتا کہ کہیں فیسٹیول سے پہلے لاک ڈاؤن نہ لگ جائے تو کبھی کچھ اور، ایسے میں مجھے جنابِ حیدر عباس گردیزی

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کے ”آدرش“

رات تاریک ہوئی جاتی ہے ایک مہتاب سلامت رکھنا راستے تنگ ہوئے جاتے ہیں دل میں اک باب سلامت رکھنا وہ تمہیں دار پہ لے جائیں گے آنکھ میں خواب سلامت رکھنا خالدسہیل اس دنیا میں نہ شاعروں کی کمی ہے، نہ ادیبوں کی، نہ لکھنے والوں کی، نہ ہی پڑھنے والوں کی۔ سائنسدان تسخیر کائنات میں مگن ہیں تو فلسفی ہر دم فلسفے کی گمبھیر گتھیاں سلجھانے میں گم، نفسیات دان شعور اور لاشعور اور تحت الشعور کی گہرائیوں

Read more

ایک مکالمہ، مکالمے پر!

پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) مختلف موضوعات پر مکالمے کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ چند دن قبل اس ادارے کی طرف سے مکالمے (dialogue) کی ضرورت و اہمیت کے موضوع پر ہونے والے ایک مکالمے میں شرکت کا پیغام موصول ہوا۔ ایک سیشن میں گفتگو کی دعوت بھی ملی۔ محدود وقت اور دفتری امور کے انبوہ کثیر کے باوجود حامی بھر لی۔ وجہ یہ کہ چند ماہ قبل مجھے اس ادارے کے زیر اہتمام ایک ورکشاپ میں شرکت کا

Read more

ایسٹ انڈیا کمپنی: وہ کمپنی جس نے ایک ملک پرراج کیا

ولیم ڈیل رمپل اپنی کتاب ‘دی انارکی، دا ری لینٹ لس رائز آف ایسٹ انڈیا کمپنی’ میں لکھتے ہیں کہ یہ تاریخ کی ایک منفرد مثال ہے جس میں اٹھارویں صدی کے وسط میں ایک نجی کمپنی نے اپنی زمینی فوج اور بحریہ کی مدد سے 20 کروڑ لوگوں پر مشتمل ایک پوری قوم کو غلام بنا دیا تھا۔

Read more

ادّھا پہلوان اور مزاحمتی ادب!

ادّھا پہلوان ٹھنڈی کھوئی والا بہت عرصے کے بعد مجھے اِن دنوں بہت خوش نظر آ رہا ہے، میں کل اُس کی دکان پر لسی پینے گیا تو وہاں حسبِ معمول بہت رش تھا اور اُس نے حسبِ معمول میری عزت افزائی کرتے ہوئے ’’چھوٹے‘‘ کو آواز لگائی اور کہا ’’تو دیکھتا نہیں ’قاشمی شاب‘ کھڑے ہیں، اُن کے لئے اشٹول لے کر آ‘‘ اور اِس کے ساتھ اُس نے میری مزید ’’عزت افزائی‘‘ کے لئے اسٹول نہ لانے کی

Read more

کل اور آج: ثقافت اور شعور کا سفر

شاید آج کچھ لوگوں کو خواب جیسا لگے مگر کوئی بہت پرانی بات نہیں۔ وقت کا سفر اک ہمیشگی اور تسلسل سے وابستہ ہے۔ بچپن اک مستانہ سا زمانہ تھا، ابھی بہت سی سہولتیں عام نہیں تھیں اور ترقی نے ہر اک در پر اخباروں اور اسکرینوں پر ائے اشتہارات کی بھرمار کے ذریعے یلغار نہیں کی تھی۔ خواہشیں اور معلومات بہت نہ تھیں۔ جاننے کا ذریعہ سننا تھا یا پڑھنا، دیکھنے کی محدود سہولت عفریت نہ بن پائی تھی۔

Read more

کیا لکھاری کی تحریروں کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے؟

کچھ دوستوں نے یہ سوال کیا کہ تم کیوں لکھتے ہو؟ اس سوال کا جواب تو ایک مضمون میں دے دیا تھا مگر جو سوال ہمیشہ میری سوچ میں سر اٹھاتا ہے کہ کیا ان تحریروں کا کوئی اثر بھی ہوتا ہے مثبت یا منفی، اوائل سے پہلے میرا انداز تحریر مشکل پسندی سے عبارت ہوتا تھا اور اس انداز کے لئے میری دلیل یہ تھی کہ اول تو میں پڑھے لکھے لوگوں کے لیے لکھتا ہوں دوئم یہ کہ مشکل سے سمجھے جانے والی تحریر کی دو وجوہ ہوتی ہیں پہلی یہ کہ لکھنے والے کو کچھ زیادہ علم نہیں ہے اور وہ لچھے دار تحریر میں اپنی کم علمی کو چھپانا چاہتا ہے دوسری یہ کہ معلومات زیادہ ہیں اور بہت کچھ کو کم لفظوں میں بیان کرنے کے لیے زبان ثقیل ہو جاتی ہے۔

تحریر کو سہل کرنے کے لیے عزیزی وجاہت مسعود کی ایک ہی دلیل کافی بلکہ اونٹ کی کمر پر آخری تنکے کی مانند تھی جس نے میری مشکل پسندی کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی اور میں لکھنے کی زمین پہ آ رہا تھا۔ دلیل یہ تھی کہ ہم تحریریں عام لوگوں کے لیے چھاپتے ہیں، اب یہ تو اخبارات کے دفاتر کو ہی علم ہوگا کہ ادارتی صفحات کو کتنے قاری سنجیدگی سے لیتے ہیں لیکن مجھے ایک بات وجاہت کے کہتے ہی جو سمجھ آئی تھی وہ یہ تھی کہ اخبار تو ”ڈسپوزیبل آئٹم“ ہوتا ہے جس کی تحریر پر اگر کوئی دوبارہ نظر ڈالے، وہ شاید کوئی محقق ہو لیکن عام قاری نہیں ہو سکتا۔

Read more

جناب زاہد کاظمی، ایک روپے والا اسکول اور تیس ہزاری لائبریری

کیا آپ کسی ایسے آدمی کو جانتے ہیں جس کا کام کتابیں اکٹھی کرنا، دوستوں کو تحفہ دینا اور دوستوں کی کتابیں شائع کرنا ہو؟ نہیں نا! تو آئیے ہم آپ کو ایک ایسی ہستی سے ملواتے ہیں جو اس دور بے ہنراں میں بھی نہ صرف علم کی شمع جلائے ہوئے ہیں بلکہ ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلائے چلے جاتے ہیں۔ ہری پور سے تعلق رکھنے والے ہمارے پیارے دوست، بہت ہی مشفق اور علم دوست شخصیت جناب زاہد کاظمی صاحب نے اپنے گھر میں ایک لائبریری قائم کر رکھی ہے۔

اس لائبریری میں تیس ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ ان کتب میں سب سے بڑا ذخیرہ خودنوشت سوانح سے متعلق ہے۔ یہ پاکستان میں خودنوشت سوانح کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتے ہیں۔ ان کی لائبریری کے دروازے تو طلبہ و محققین کے لیے ہمہ وقت کھلے ہی ہوتے ہیں، ان کا مہمان خانہ بھی ہمہ وقت آباد رہتا ہے۔ آپ کوئی حوالہ تلاش کرنے پہنچے ہیں تو پہلے چائے پیجیے اور پھر حوالہ ڈھونڈیے گا۔ ہاں اگر حوالہ تلاش کرتے کرتے دیر ہو گئی ہے اور کھانے کا وقت ہو گیا ہے تو آپ کھانا کھائے بغیر یہاں سے نہیں جا سکتے۔

Read more

محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعد الطبیعیات

[نومبر 1981 میں جاوید احمد (غامدی) ، ابو شعیب صفدر علی (مرحوم) اور راقم نے الاعلام کے نام سے ایک سلسلہ منشورات کا آغاز کیا۔ ستمبر 1982 کے پانچویں شمارے میں میرا یہ مضمون شائع ہوا جو اس وقت بوجوہ خاصا ہنگامہ آفریں ثابت ہوا۔ اس مضمون کی تصنیف کے محرکات پر بہت رائے زنی ہوئی تھی لیکن حقیقت بس اتنی تھی کہ رسالے کا پیٹ بھرنا مقصود تھا۔ کچھ دوستوں کی فرمائش پر وجاہت مسعود صاحب کی عنایت سے

Read more

راگ شنکرا اور جنم دن

ضابطوں سے جدا ہوکر دل توڑنا اور دل جوڑنا ہمارے ایڈیٹر وجاہت مسعود کو ہم سے زیادہ آتا ہے اور ہمیں بہت تھوڑا۔ ہم دونوں سے زیادہ استاد ولایت خان کو آتا تھا۔ دنیائے موسیقی میں تو میر کا درجہ آپ روی شنکر جی کو دیں اور غالب کا استاد ولایت کو۔ ولایت حسین خان کی مینڈھ بہت اچھی ہوتی تھی۔ شعلہ سا لپک جائے والی مگر راگ بہاگ، باگیشری، پیلو، دیش، کیدارا، جے جے ونتی جو ٹھمری انگ کے

Read more

وجاہت مسعود: صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے تمغہ انسانیت تک

جن آزمائشوں اور مصیبتوں کا آج ہمیں سامنا ہے، ان میں سے ایک آزمائش اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار سے عاری ہونے کی آزمائش ہے، اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف، ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم، ایک عظیم اصول، جو اپنے اندر بہت سے اخلاق جمع کر لیتا ہے، انسانیت کا شرف بھلائیوں کا سرچشمہ، ادب کا جامع اور آزاد اور باوقار زندگی کا ضامن ہے، یہ تمام بھلائیوں اور کمالات کا مجموعہ ہے۔ حسن اخلاق کی بدولت ایک شخص ہزار لوگوں کے برابر ہو جاتا ہے۔

لوگوں کی مثال سونے اور چاندی کے ذخائر کی طرح ہے، یا پھر باڑے میں موجود ان سو اونٹوں کی مانند ہے کہ جن میں سے بمشکل ہی کوئی سواری کے قابل اونٹ نظر آتا ہے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو انسانیت کے کمال سے مزین کر لیتا ہے، وہی کمال انسانیت کہ جسے بڑے لوگ پسند کرتے ہیں، عظیم اور دانشمند لوگ جس کی قدر کرتے ہیں اور جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں گھر کر لیتا ہے چاہے، وہ معاشرتی اعتبار سے ان سے کم ہی کیوں نہ ہو۔

Read more

دو قومی نظریہ: چند سوالات

وجاہت مسعود صاحب نے کچھ عرصہ قبل دو قومی نظریہ کے بارے میں چودہ سوالات اٹھائے تھے۔ یہ سوالات چودہ تو نہیں ہیں کیونکہ زیادہ تر سوالات overlap کرتے ہیں ،تاہم ان سے تعرض کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ سوالات سے پہلے اولین پیراگراف میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ مسلم لیگ نے دو قوموں کا ذکر کیوں کیا تھا؟ سکھ، پارسی اور مسیحی کیوں الگ اقوام نہیں تھیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سکھ، پارسی اور مسیحی

Read more

مسجد میں ناچ

حاجی صاحب غصے میں تھے۔ بڑا کاروبار ہے۔ کھارادر میں بڑا ٹھیہ جما کر بیٹھے ہیں۔ میمن مسجد میں جمعہ پڑھنے آئے تھے۔ نماز کے بعد مسجد کے صدر دروازے پر ملے تو ٹھک سے پوچھ لیا کہ سیٹھ تیرے پاس وہ چھوکری کا واٹس اپ نمبر ہے۔ ہم نے پوچھا کس کا ریحام خان کا۔ انہیں حاجی صاحب نے اچھے لفظوں میں یاد نہیں کیا۔ میمنی میں ایڈی وڈی گالی دے کر کہنے لگے کہ نہیں اڑے اس نچوڑی

Read more

گرین زون سیمینار کی دعوت۔۔۔ پر سکون زندگی کی طرف سات قدم

میرے ’ہم سب‘ کے دوستو! پچھلے چند مہینوں میں ان مردوں اور عورتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو مجھ سے اپنے نفسیاتی مسائل کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے ہیں لیکن میں اپنی گوناگوں ادبی و سماجی مصروفیات کی وجہ سے انہیں اتنا وقت نہیں دے سکتا جس کے وہ خواہشمند ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں کرونا وبا کی وجہ سے میری پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں بھی بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ میرے ان مریضوں کی تعداد

Read more

رانا اعجاز محمود۔ ۔۔۔ قافلہ درد کا اب کیا ہو گا

پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو سمجھ نہیں آ رہا کہ شروعات کہاں سے کروں۔ آج اس شخصیت کے بارے میں قلم اٹھا رہا ہوں جس نے مجھے یہ قلم پکڑنا سکھایا، اس قلم کی حرمت سے روشناس کروایا۔ رانا اعجاز محمود صاحب ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ اگر ہم رانا صاحب کے اپنے الفاظ میں بیان کریں تو ایسے دانے دنیا میں بہت کم رہ گئے ہیں۔ رانا صاحب سے پہلی ملاقات تب

Read more

بلاول لیڈرشپ سیاسی لائحہ عمل کے دوراہے پر

ایک ہی حوالے کے ضمن میں جب کسی کو دو حقیقتوں کا اس طرح سامنا کرنا پڑے کہ ہر دو کا بیک وقت درست اور سچا ہونا خلاف توقع اور ناممکن دکھائی دے تو عام فہم زبان میں اسے دو عملی کا مخمصہ یا پیراڈوکس کا نام دیا جاتا ہے۔ ایسی صورتحال سے دوچار ہونے والے شخص کو بہرحال یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ مروجہ و مقبول عام حقیقت ان دونوں میں سے کون سی ہے اور باطنی و

Read more

کیا مودی ہمارے بھی ہیرو ہیں؟

حضرت وجاہت مسعود صاحب کا پچھلے ہفتے کا نوحہ ”بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر“ مجھے دو، تین دن تک عجیب سی کیفیت میں مبتلا کیے رکھا۔ میں وجاہت صاحب کی قلمی طاقت اور معاشرتی درد و فکر کے بارے سوچ رہا تھا۔ وہ مجھے پرندوں کے اس جھنڈ میں دکھ رہے تھے جس کا ذکر فقیہہ حیدر اس شعر میں کرتے ہیں،

ہوا میں نوحہ کناں ہیں تھکے پروں کے ساتھ
پرندے جلتے شجر کا طواف کرتے ہوئے

Read more

کورونائی آفات اور کورونائی عمرانیات دونوں کی مناعات لاک ڈاؤن ہے

کورونائی عفریات یا آفات تو وبائی شکل میں رونما ہوتی ہیں جو نظام زندگی کے طبعی اور قدرتی عوامل کے لئے ہیجان اور بحران کا باعث بن اٹھتی ہیں۔ ایسی وبائیں اگر متعدی یعنی ایک متاثرہ زندگی سے آگے دیگر زندگیوں کی طرف پھیلنے والی ہوں تو ان کی وسعت پذیری کے تدارک کا فوری اور انتظامی حل ایک دوسرے سے دوری اور نقل و حمل پر پابندی اپنانے سے ہی نکالا جا سکتا ہے اور جو لاک ڈاؤن کے طریقے سے متعارف ہوتا ہے۔ ان کے طبی یا سائنسی علاج کا میدان متعلقہ شعبوں کی تحقیق کا مرہون منت ہو جاتا ہے۔

Read more

زاہد کاظمی کا وجاہت مسعود پر بہتان در بہتان اور میری تابڑ توڑ حیرانی

”وجاہت بھائی کہتے ہیں، تم سیدھے لفظوں کو مشکل بنا دیتے ہو“ ۔
”یہ وجاہت مسعود صاحب نے کہا؟“
”ہاں! انھوں نے فرمایا، تم ’خوش‘ اور ’بو‘ کو توڑ کے لکھتے ہو تو ایسا پڑھا جاتا ہے، جیسے ’خوش ہو‘ لکھا ہے۔ زاہد بھائی میں نے اب سابق املا سے رجوع کر لیا ہے۔ میں نیک پرویز بن چکا ہوں۔ آئندہ تمام الفاظ جوڑ کے لکھا کروں گا۔ ’خوشبو‘ بھی نہیں، بلکہ خ کے بعد کا واؤ حذف کر کے ’خشبو‘ لکھوں گا۔
”ایسے لکھنا بھی ٹھیک ہے۔ لیکن وجاہت صاحب آپ کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ دو لفظوں کو توڑ کے لکھتے ہیں، تو اس سے معنی واضح ہوتے ہیں“ ۔
”میں غلط ہوں۔ بس میں تسلیم کر چکا“ ۔

ہمارے دوست زاہد کاظمی ہری پور میں ہوتے ہیں۔ کتابوں سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں تیس ہزار سے زائد کتب ہیں۔ یہ تعداد سننے میں بہت نہیں لگتی، لیکن حقیقت میں ایک فرد کے لیے اتنی کتابیں اکٹھی کرنا معنی رکھتا ہے۔ گزشتہ دو سال سے انھوں نے ”سنگی اشاعت گھر“ کے نام سے ادارہ بنایا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے وہ معروف و غیر معروف شخصیات کی آپ بیتیوں کو شایع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ زاہد کاظمی نے مجھے ایک کتاب دی کہ آپ اس کی پروف ریڈنگ کر دیں۔

Read more

آصف فرخی کا اپنے پیاروں کو دلاسہ

آج صبح سویرے انتظار حسین بڑی بے چینی سے چہل قدمی کر رہے تھے انہیں جب سے پتہ چلا کہ آصف فرخی میرے شہر میں آئے ہوئے ہیں تو ان سے ملنے کا اضطراب اور بھی بڑھ گیا تھا۔ آصف سے ملے بہت دن ہو گئے تھے ابھی اسی سوچ بچار میں تھے کہ آصف فرخی ہاتھوں میں کچھ کاغذات تھامے چلتے آ رہے ہیں انتظار حسین نے بڑھ کر گلے لگایا خوشی اور رنج کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا اور پھر بولے ارے آصف! اتنے بہت سے کام ادھورے چھوڑ کر اس شہر میں کیوں آ گئے ہو؟

Read more

منٹو، غالب اور فدوی – مکمل کالم

آپ کا پسندیدہ افسانہ نگار کون ہے؟ منٹو۔ ان کا پورا کیا نام کیا تھا؟ پورا نام تو یاد نہیں بس منٹو منٹو کہتے ہیں۔ اچھا کوئی بات نہیں، ان کے کچھ افسانوں کے نام بتائیے جو آپ نے پڑھے ہوں۔ افسانے تو بہت پڑھے ہیں، مگر اس وقت بس ایک آدھ نام ہی یاد ہے، ایک تو سفید شلوار تھا۔ بیٹا، سفید نہیں کالی شلوار تھا۔ اوہ سوری مجھے بس شلوار یاد رہی، رنگ بھول گیا، ویسے بھی منٹو صاحب کہہ گئے ہیں کہ رنگوں میں کیا رکھا ہے۔

برخوردار، یہ بات منٹو نے کبھی نہیں کہی۔ ارے! نہیں کہی تو انہیں کہنی چاہیے تھی نا، اتنی اچھی لائن ہے، کسی بھی افسانے میں فٹ کر دیتے۔ اور کوئی افسانہ یاد ہے منٹو کا؟ جی ہاں، رضائی، بہت دلچسپ افسانہ تھا۔ نوجوان، اس کا نام رضائی نہیں، لحاف تھا، اور وہ منٹو کا نہیں عصمت چغتائی کا افسانہ تھا۔ وہی وہی، جس کا بھی تھا بہت مزے کا تھا۔

یہ اس گفتگو کا مغز ہے جو ایک نوجوان سے کسی یونیورسٹی کی تقریب میں ہوئی تھی۔ نوجوان پر کیا بگڑتا، میں خود لڑکپن میں منٹو کو ایسے ہی چسکے لے لے کر پڑھتا تھا۔ کچھ روز پہلے کتابوں کے طاقچے میں ”پورا منٹو“ کی تین جلدوں پر نظر پڑی تو ایک مرتبہ پھر ان میں سے ایک جلد ورق گردانی کی نیت سے اٹھا لی۔ منٹو کے افسانے تو اپنی جگہ شمس الحق عثمانی کا ”مقدمہ“ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس عرق ریزی سے انہوں نے منٹو کے تمام افسانوں کو اکٹھا کیا۔

Read more

دھونس کی وبا اور پون صدی کو محیط بلوچستان کا لاک ڈاؤن

پینسٹھ کی جنگ میں انتظار حسین نے شاکر علی سے پوچھا، وطن کے دفاع کے لیے بھی آپ کچھ کر رہے ہیں کہ نہیں؟ شاکر علی نے کہا، میں تو ان دنوں چاند پینٹ کر رہا ہوں۔ تعجب سے انتظار صاحب نے پوچھا، جنگ کے دنوں میں چاند پینٹ کرنے کا کیا مطلب ہوا؟ بولے، چاند ہندوستان میں بھی چمکتا ہے اور پاکستان میں بھی۔

کوئی پانچ برس قبل اپنے ہفتہ وار کالم میں وجاہت مسعود نے یہ حوالہ باندھا تو جنوں کی حکایتیں لکھنے والے قلم کاروں نے وہ سارے کینوس نکال کے سامنے رکھ دیے جو انہوں نے دل کے نہاں خانوں میں چھپا رکھے تھے۔ کسی کینوس پر درد کے کھینچی ہوئی آدھ ادھوری لکیریں کھنچی ہوئی تھیں اور کسی پر جنگ زدہ عمارتوں سے جھانکنے والی سہمی ہوئی زندگی کو پینٹ کیا گیا تھا۔ ان میں ایک کینوس ایسا بھی تھا جو در اصل کینوس نہیں تھا۔ یہ بہن کا سفید دوپٹہ تھا جس پر کسی بے چین روح نے خاک ہوئے ارمان پینٹ کیے ہوئے تھے۔ کچھ حسرتیں بھی پینٹ کی ہوئی تھیں جو ناتمام رہ گئی تھیں۔ اس میں ایک کینوس دھول سے اٹا ہوا تھا جو بلوچستان سے آیا تھا۔ یہ در اصل چیخوں اور آنسووں کی گواہی دینے والے اخبار نویس ارشاد مستوئی کا دامن تھا، جسے دکھائی نہ دینے والے کچھ لوگوں نے دفتر میں گھس کر قتل کر دیا تھا۔ عابد میر غم کی سیاہ راتوں میں اس دامن پر خاموشی پینٹ کر رہے تھے۔

Read more

! تاریخی حقانیت اور ہے ؛ مروجہ حقانیت اور

کوئی مانے یا نہ مانے، تاریخی حقانیت اپنی جگہ یہی ہے کہ پاکستان ’مسلم قومی ریاست‘ ہے۔
تاہم مروجہ حقانیت چیزے دیگر است۔ مروجہ حقانیت مقبولیت عامہ کا درجہ پا جائے اور کلاماً و دستوراً اسے حق بحق ہونے کا درجہ بھی دے دیا جائے تو اس کے طے کردہ معنی جھٹلانے کا نتیجہ قدماء میں سے سقراط یا گلیلیو وغیرہ کی مثالوں سے اخذ کیا جاسکتا ہے یا موخر میں سے ’عبرت کا نمونہ‘ بھٹو کی پھانسی سے لیا جا سکتا ہے جنہیں ’تحریک نظام مصطفی ﷺ‘ کے مذہبی کلمہ حق کا دعویٰ گرما کر معزول کیا گیا اور پاکستان میں امریکی سفیر کو ان کی حکومت کی طرف سے ’بھٹو کو پھانسی دلوانے‘ کے حکم پر عمل کروانے سے پورا کر دکھایا گیا جس کی نشاندہی بریگیڈئیر ترمذی کی کتاب ’پروفائلز آف انٹیلیجنس‘ کے صفحہ 33 اور 38 پر درج ہے۔

Read more

ہم سب کی انفرادیت!

آن لائن جرنلزم یا نیو میڈیا کے ناموں سے معروف ڈیجیٹل جرنلزم یا ڈیجیٹل صحافت ایک ایسا شعبہ ہے جہاں ادارتی مواد انٹرنیٹ کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔ تحریر، سمعی اور بصری مواد کے ذریعے پیش کی جانے والی خبریں، تجزیے، فیچرز ڈیجیٹل میڈیا ٹیکنالوجی کے ذریعے وزیٹرز تک پہنچائے جاتے ہیں۔

ہم سب ایک ایسا علمی، بر حقائق پلیٹ فارم ہے، جو ہر لمحہ قارئین کو حالات و واقعات سے حقیقی آگاہی فراہم کر تا ہے، وہ تلخ حقائق بھی جو شاہد ہی کہیں اور ملتے ہوں۔ میں ہم سب کی جملہ ٹیم سے بے حد متاثر ہوا ہوں، جدت و معیار ایک ساتھ اس ادارہ کا طرہ امتیاز ہے۔ لکھاری حضرات کو کالم موصول ہونے، اور پھر کالم کی اشاعت پر باقاعدہ بذریعہ ای میل آگاہی فراہم کی جانے کے علاوہ چیک لسٹ بھی مہیا کی جاتی ہے۔ جو کہ یقیناً اعلیٰ ظرفی کی ایک تابناک مثال ہے۔ یہ مثال بہت ہی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

Read more

وجاہت مسعود صاحب یہ بھی حقائق ہیں!

میرے گزشتہ لکھے گئے کالم ”عمران خان کا وژن اور خرم حمید روکھڑی“ پرتنقیدی و اصلاحی تبصرہ کرتے ہوئے محترم وجاہت مسعود نے راقم کو اپنی علمی بصیرت سے ایسے حقائق سے آشنا کیا جس سے یقیناً مجھ سمیت کوئی بھی صاحب علم ان تاریخی مستند حقائق سے مفر اختیار نہیں کر سکتا۔ میرے کالم پر تبصرہ سے قبل محترم وجاہت مسعود نے مجھے فون کال کر کے آگاہ کیا کہ آپ کے کالم میں کچھ تسامحات سر زد ہوئی

Read more

عزیزم وجاہت مسعود کی گمراہ خیالی اور ’شفاف آئینی سیاست‘

وجاہت بھائی! آپ کا کالم پڑھا، "زوال کے دھندلے میں نجات کا راستہ"۔ آپ کی تحریر دل پذیر کا نخچیر ہوں۔ خوبصورت تحریر، پر کشش، شوخ رنگ، زرق برق لباس جیسی ہوتی ہے، جس کی چکا چوند کسی بھی بزعم خویش حسینہ کے خد و خال چھپا لیتی ہے اور شاید اس آتش بازی کا مدعا بھی یہی ہوتا ہے۔ آپ کا معاملہ دوسرا ہے۔ شعر و ادب اور تاریخ و تہذیب کی چاشنی چڑھی تحریر، اس عہدِ بے حرف

Read more

وجاہت مسعود صاحب کے جواب میں

جناب وجاہت مسعود صاحب نے اپنے حالیہ کالم میں کسی راؤ غلام مصطفیٰ صاحب کے کالم کا جواب لکھا ہے، اور راقم السطور اس کالم کے ذریعے اسی بحث کا احاطہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جہاں تک فاضل کالم نگار جناب وجاہت صاحب کے اس بیان کی بات کی جائے، جہاں وہ پاکستان کی نام نہاد اشرافیہ یعنی اسٹیبلشمنٹ کو ملک عزیز کی اس حالت کا ذمہ دار گردانتے ہیں، تو میں اس بات کے اندر وجاہت صاحب کے

Read more

وہ نائی تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے؟

کئی لوگ ہم جیسے بھی ہوتے ہیں جو سال بھر میں عید کے عید نہاتے اور بال کٹواتے ہیں۔ اگر عید سے قبل وہ بال کٹوانے کی شش ماہی مہم پر بازار جائیں اور نائی کی دکان بند پائیں تو ان کا کیا حال ہو گا؟ ہمارے لیے تو یہ بنیادی حقوق کا معاملہ ہے۔ اگر نائی ہی نا ہو تو کیا آپشن باقی رہ جاتی ہے؟ کتنے لوگ ایسے ہیں جو اپنی اپنی بیگم کے ہاتھ میں استرا اور قینچی تھما کر اس کے سامنے سر جھکا سکتے ہیں؟ اردو میں تو شوہر کو کہا بھی خصم جاتا ہے جس کو حسبِ رواج بغیر اعراب کے لکھا جائے تو اس کا مطلب دشمن نکلتا ہے۔ کون ذی شعور شخص ایسا ہے جو دشمن کو قینچی استرا تھما کر جان اس کے ہاتھ میں دینے کا حوصلہ یہ رجز پڑھتے ہوئے رکھتا:۔

ہم نے ان کے سامنے اول تو ”استرا“ رکھ دیا
پھر کلیجا رکھ دیا دل رکھ دیا سر رکھ دیا

Read more

کورونا اور دوا پاکستان میں، دارو دہلی میں

کمبخت کورونا کی وبا کیا آئی۔ ہندوستان پاکستان دونوں ممالک میں پرانے کشکول گدائی جگمگا اٹھے۔ مانو، بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا۔ اب یہ آج کل کے بچے کیا جانیں کہ چھینکا کیا ہوتا ہے؟ ان مظلومین کو تو ڈبے کے دودھ کی بوتل بھی فرج سے نکال کردی جاتی رہی ہے۔ چھینکا فرج سے پہلے کے زمانے میں کھانے کی ٹوکری ہوتی تھی۔ گھر میں کھانا تھوڑا اور لذیذ بنا کرتا تھا۔ بچ جاتا تو اسے کھلی ہوا میں

Read more

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک اور عبرت ناک ورق

استنبول میں آبنائے باسفورس کے نیلگوں پانیوں کے کنارے، دولمہ باہچے خلافت عثمانیہ کے دور کا شاندار محل ہے۔ ماسکو میں کریملن کے اندر روسی زار کا محل یا پیرس کے قریب لوئی چار دہم کا بنوایا ہوا ورسائی محل ہو تو ہو، کم از کم بر صغیر پاک و ہند میں دولمہ باہچے کی شان کو تاج محل سمیت کوئی عمارت نہیں پہنچتی۔

Read more

جمہوریت پاکستان کی بقا کی ضامن ہے: وجاہت مسعود

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تھنکرز فورم کے باہمی تعاون سے پاکستان میں جمہوریت کا ارتقاء اور جمہوریت کا مستقبل کے عنوان سے آن لائن کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف کالم نویس وجاہت مسعود نے خصوصی طور پر بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ سعودی عرب سمیت دنیا بھر سے سیاسی، سماجی، ادبی اور مذہبی جماعتوں کے ارکان نے شرکت کی. آن لائن کانفرنس سے ابتدائی خطاب میں پیپلز پارٹی

Read more

کیا مریم نواز اگلی سونیا گاندھی ہو سکتی ہیں؟

دنیا بھر کی جمہوریتوں میں اپوزیشن کو Government in Waiting یعنی اگلی آنے والی حکومت کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حزبِ اختلاف اہم معاملات پر ایک مختلف زاویہ یا نظریہ سامنے رکھتی ہے۔ بالغ جمہوریتوں میں حزبِ اختلاف پالیسی پیپرز شائع کرتی ہے، حکومت کی معاشی، دفاعی، خارجہ اور داخلہ پالیسی پر کڑی نظر رکھتی ہے، حکومت بجٹ پیش کرتی ہے تو اپوزیشن بھی اپنا ایک shadow budget پیش کرتی ہے اور اپنا نکتہ نظر عوام کے سامنے

Read more

وجاہت مسعود کا ”محاصرہ“

آج سے تیرہ برس قبل جب میں نے جنگ میں کالم لکھنے شروع کیے تو میرا خیال تھا کہ یہ کام بہت آسان ہے، کہیں بھی بیٹھ کر کچھ بھی گھسیٹ دو چھپ جائے گا، اور یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں تھی، بے شمار کالم نگار آ ج بھی اپنے پیر کے انگوٹھے سے قلم پکڑ کرکالم گھسیٹتے ہیں اور ان کے مضامین پورے کروفر کے ساتھ اخبارات کی زینت بنتے ہیں، میں ایسے کالم نگاروں کا بے

Read more

رموز اوقاف کا استعمال

جملے کے اختتام کو ظاہر کرنے کے لئے رموز اوقاف (وقف کی علامات) میں سے کوئی ایک علامت، اور صرف ایک علامت استعمال کی جاتی ہے۔ ان علامتوں میں وقف (۔ فل سٹاپ)، استعجاب کا نشان (! ) یا سوالیہ نشان (؟) شامل ہیں۔ ان میں سے صرف ایک کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ جملے کے اختتام پر ان میں سے اکٹھی دو تین مثلاً (۔ !) یا (۔ ؟) وغیرہ ڈالنا غلط ہے۔وجاہت مسعود صاحب ان علامات کے استعمال کی تفصیل کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

Read more

’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟

مضمون ان ہدایات کے مطابق بھیجیں تاکہ آپ کا بھیجا گیا مضمون جلد پراسیس کیا جا سکے۔ ان ہدایات کے آخر میں ایمیل ایڈریس دیا گیا ہے جس پر مضمون بھیجا جانا چاہیے۔ اگر آپ کی ایمیل کا سبجیکٹ اردو میں ہے تو سسٹم آپ کو غلطی سے ایک ایرر میسیج بھیج سکتا ہے۔ اسے نظرانداز کر دیں۔ مضمون صرف ایک مرتبہ ہی بھیجیں اور بھیجنے سے پہلے اسے کم از کم دو مرتبہ خود پڑھ کر اسے فائنل کریں۔

Read more