ملک میں بڑھتے تشدد کی نفسیات: چند وجوہات

کچھ عرصہ سے شدید ترین تشدد کے واقعات نے ملک میں تشدد کی بڑھتی نفسیات کی انتہائی تصویر دکھائی ہے۔ یہ اکثریت وہ متشدد افراد ہیں جو مارشل لاء کے دور میں پروان چڑھے یا پیدا ہوئے۔ مارشل لا کا دور سرعام تشدد کی صحافت بھی تھا اور ثقافت بھی۔ بچہ جو دیکھتا ہے سیکھتا ہے پھر اس پہ کبھی نہ کبھی عمل کرتا ہی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جن کے والدین براہ راست آرٹ کلچر کے دور سے

Read more

سگ، پگ اور ٹھگ

ہماری قومی تاریخ بالعموم اور دیہی تاریخ بالخصوص ”ٹھگ“ ، ”سگ“ اور ”پگ“ کے ذکر کے بغیر نامکمل بھی ہے اور بے کیف بھی۔ اگرچہ ٹھگ ہمیشہ قابل صدحیف رہے ہیں مگر وہ ہماری تاریخ کو رنگین بھی بناتے ہیں اور سنگین بھی۔ سگ بھی دیہات میں ہر گھر کا حصہ ہیں اگرچہ اب شہروں میں بھی امیر لوگ ”سگ“ کے بغیر نہیں رہتے ہیں۔ ٹھگ نہایت پیشہ ور لٹیرے تھے جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی

Read more

سائیں جاموٹ اور انسانی تاریخ کے ادوار

سائیں جاموٹ آج کل تاریخ کا مطالعہ زور و شور سے کر رہے ہیں اور ہر ملنے والے شخص پر اپنی علمیت کی جھاڑ ضرور مارتے ہیں کئی نام ان کو یاد ہیں خاص طور پر ٹوائن بی کا نام بہت لیتے ہیں۔ ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے کہنے لگے یہ سالے انگریز تاریخ کے ادوار بنا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ہم نے سمجھایا بھائی آپ بھی تو انگریزوں کو ہی پڑھ رہے ہیں انہوں نے اس

Read more

برف کی تہذیب

مجھے احساس تھا کہ گلیشیئر ٹوٹ رہے ہیں۔ میں حبس کی ایک نادیدہ خلاء میں داخل ہو رہا ہوں۔ اور جس وقت ساحل پر خس و خاشاک میں لپٹیں تند ہوائیں سیاہ آندھی میں تبدیل ہوئیں، سمندر میں لمحہ موجود کی بپھری ہوئی موجوں سے ایک غیر آہنی قلعہ تعمیر ہو چکا تھا اور اس کی کچھ سفید دیواریں بھر بھرا کر تیزی سے گرتی جا رہی تھیں۔ آبی سطح پر دور دور تک پھیلی ہوئی پانیوں کی ایک چمکتی

Read more

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی کتاب: جدیدیت اور نوآبادیات

”جدیدیت اور نوآبادیات“ ناصر عباس نیر صاحب کی تازہ کتاب ہے، جو حال ہی میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے۔ اردو ادب کے معاصر منظر نامے پر ناصر عباس نیر صاحب کا نام علم و ادب سے شغف رکھنے والے اصحاب کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے۔ ان کا کام ان کا موثر اور مؤقر تعارف ہے۔ شاید اسی لیے انھوں نے اس کتاب کی لوح پر اپنے نام کے ساتھ ”ڈاکٹر“ کا سابقہ لگانا بھی گوارا نہیں

Read more

کیا یہ مسلم معاشرہ ہے؟

اللہ کے فضل سے ہم مسلمان اور پاکستانی ہیں۔ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے خوش قسمت ترین لوگ ہیں۔ الحمدللہ نمازیوں سے مساجد کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں۔ عاشورہ محرم الحرام کے جلوس و مجالس ہوں یا ربیع الاول کی تقریبات ہم بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ جمعہ اور عیدین سمیت دیگر مذہبی تہواروں پر بڑے بڑے اجتماعات اسلام سے ہماری والہانہ محبت کا ثبوت ہیں۔ اولیائے کرام کے مزارات پر عرس تقریبات کا اہتمام اور کثیر تعداد میں شرکت اللہ کے نیک بندوں سے ہماری عقیدت و احترام کا ایسا اظہار ہے جس کی مثال دیگر مسلم ممالک میں نہیں ملتی۔ کبھی کوئی غیر مسلم للکار کر تو دیکھے بچہ بچہ اللہ کے دین پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ دنیا و آخرت کی بھلائی سمیٹنے کے لیے انفرادی عبادات، وظائف، اذکار، چلے، مجاہدے اور سہ روزوں کا اہتمام ہمارا طرہ امتیاز ہے۔

Read more

بلوچستان کی اونٹ لائبریری، جو گاؤں گاؤں جا کر بچوں میں کتابیں تقسیم کرتی ہے

بلوچستان کے ضلع کیچ کی ’کیمل لائبریری‘ کے ذریعے اردگرد کے دیہات میں جا کر وہاں موجود بچوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں فراہم کی جاتی ہیں۔

Read more

TRIBIDOسے LIBIDO کا سفر (خط # 8)

محترمہ مقدس مجید صاحبہ! میں اس خط میں دو حوالوں سے بات کروں گا کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض سے ملاقاتیں اور نوجوانوں کے رومانوی اور ازدواجی رشتے کشور ناہید سے میری ایک سے زیادہ ملاقاتیں ہوئیں کینیڈا میں بھی اور پاکستان میں بھی۔ میں نے انہیں نہایت صاف گو ’حق پرست‘ بے خوف اور نڈر خاتون پایا۔ وہ سچ کہتی ہیں ’سچ لکھتی ہیں اور پھر سچ کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہتی ہیں۔ کشور ناہید کو

Read more

کیا افغان طالبان کی پیش قدمی پاکستان میں ٹی ٹی پی کی مضبوطی کا باعث بنے گی؟

افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتوحات پر پاکستان میں ایک جانب جہاں مذہبی حلقے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں وہیں ملک کے اعلیٰ حکام اور سیکیورٹی ماہرین اس خدشے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ اس سے ملک میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسی کالعدم مذہبی شدت پسند تنظیموں کو تقویت مل سکتی ہے۔

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمیوں پر حکومتِ پاکستان ٹی ٹی پی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ 2014 میں شروع کردہ آپریشن ضربِ عضب کے دوران ٹی ٹی پی کے وہ کارندے جو افغانستان چلے گئے تھے وہ اب مہاجرین کی شکل میں واپس پاکستان آسکتے ہیں۔

Read more

مشتاق احمد یوسفی کے منتخب کرداروں کا نفسیاتی و غیر نفسیاتی مطالعہ

اردو نثر میں مزاح کی پہلی بڑی اور جاندار آواز خطوط غالب ہیں۔ غالب ؔکی نثر میں پہلی بار اردو اپنی آزاد اور فطری روش پر قدم رکھتی ہے۔ جہاں عقل، جذبہ اور طرز اظہار تینوں میں فطری رنگ و آہنگ کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ خطوط غالب ؔ کے بعد اردو طنز و مزاح کے میدان میں سب سے بڑا انقلابی اقدام لکھنؤ میں ”۔ اودھ پنچ“ کے اجراء کا تھا۔ اودھ پنچ سے وابستہ مزاح نگاروں میں سرشار،

Read more

محمد علی جناح پر قاتلانہ حملہ: جب رفیق صابر مزنگوی نے بانیِ پاکستان کو جان سے مارنے کی کوشش کی

ماؤنٹ پلیزنٹ روڈ پر واقع ہوم آفس میں ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے ’میں جناح سے ملنا چاہتا ہوں۔‘ جب ملاقاتی اسی وقت ملنے پر زور دیتا ہے تو جناح مصروفیت کی بنا پر معذرت کر لیتے ہیں۔ یہ سن کر وہ شخص بپھر جاتا ہے اور جناح کے جبڑے پر ایک زبردست مکا مارتا ہے۔ وہ پھر اپنی جیب سے ایک کھلا ہوا چاقو نکال لیتا ہے۔

Read more

بیماری رحمت ھے

بیماری کے متعلق انسانوں کے ہر دور میں مختلف تصورات رہے ہیں، کبھی سمجھتے تھے کہ فلاں گناہ کی وجہ سی بیمار ہوا ہے، اور کبھی بد روحوں نے جسم پر قبضہ کیا ہے اور جو شخص بیمار ہوتا تو اس کو گناہ گار سمجھا جاتا تھا، جو نیک روح والا ہوتا تو کہتے بد روحوں نے تسلط اختیار کر لیا ہے ان پر لیکن انبیائی کرام علیھم السلام نے جو بھی ہدایات (بیماری، تصور علاج) لائے اس میں مکمل

Read more

سرزمین سندھ: دختر مشرق سے عینی بلیدی تک

سندھ کی سرزمین کو جہاں یہ افتخار حاصل ہے کہ یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب Indus valley civilization کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے یہ تہذیب اپنی ہم عصر تہذیبوں سے چار گنا بڑی اور پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ یہ شاہ عبدالطیف بھٹائی اور شیخ ایاز کی سرزمین ہے جن کی شاعری محبت اور مرد و عورت کی برابری اور انسانوں کی باہمی محبت عزت اور، تہذیب کا پیغام دیتی ہے۔ بے نظیر بھٹو جیسی بے نظیر خاتون

Read more

مبشر علی زیدی اور مبینہ فرشتہ صفت سالار اعظم

بیرون ملک مقیم جناب مبشر علی زیدی صاحب ادب کی دنیا کا بڑا نام ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے بذریعہ ٹویٹس ایک شریف النفس اور ولی اللہ قسم کے جرنیل سے وطن عزیز کی باگ ڈور سنبھالنے کی معصومانہ خواہش کا اظہار کیا ہے۔ مذکورہ ٹویٹس سے جہاں جمہوریت پسندوں کو تشویش لاحق ہوئی ہے، وہیں زیدی صاحب سے محبت کرنے والے ان کی معصومانہ خواہشات پر حیران پریشان بھی ہیں۔ مبینہ ولی اللہ جرنیلوں سے تاریخ اسلام بھری پڑی

Read more

مذہب ہر چند اعتراضات کا جائزہ

مذہب پر وہی اعتراض قابل اعتنا سمجھا جا سکتا ہے جو مذہب پر ہو نہ کہ اہل مذہب کی تعبیر و کردار پر۔ معترض اگر متعصب نہیں تو وہ بتائے گا کہ اس کے اعتراض کا محل مذہب ہے یا اہل مذہب کی تعبیر اور ان کا کردار، ورنہ خلط مبحث ہوگا اور سطحی ذہن کے لیے ایسی کنفیوژن کفایت کرتی ہے۔ اہل مذہب کی مذہب کے بارے میں تعبیرات، اطلاقات اور مذہبی نصوص کے مصداقات کی تعیین خارجی چیزیں

Read more

عورت ہر زمانے میں ہی بری قرار پاتی رہی ہے

عورت کا کردار مذہب سے لے کر معاشرے اور دور قدیم سے لے کر جدید تک خدا اور مرد کا اولین مسئلہ رہا ہے۔ اماں حوا کے آدم کو جنت سے نکلوا کر ہم انسانوں کی نسل کا اس دنیا میں آغاز وہ پہلا الزام ہے جو عورت پر لگا۔ اسی جرم کی سزا کے طور پر کچھ عقائد کے مطابق عورت کو ماں بننے کے عمل میں تکلیف سے گزرنے کی سزا ملی۔ تاریخ نے بڑے چسکوں کے ساتھ

Read more

تاروں سے کریں باتیں

دنیا کی بہت سی خوشیوں میں سے ایک خوشی یہ بھی ہے کہ انسان رات کو کھلے آسمان تلے چارپائی پر لیٹے چمکتے ہوئے تاروں کو دیکھتا رہے۔ شہروں میں یہ نظارہ چھت پر ممکن ہوتا ہے جب کہ گاؤں کی تو کیا ہی بات ہے۔ گھر کے صحن میں چارپائی بچھا کے گاڑھے کالے آسمان پر موجود سفید ستاروں پہ نظریں جمائے رکھنا ایک الگ ہی دنیا کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کسی دور میں انسان انہی

Read more

جب ضیاالحق نے ایوان صدر کے درخت کٹوائے

پروفیسر سید وقار عظیم ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا منہ بولتا نمونہ تھے۔ سفید لٹھے کا پاجامہ، شیروانی اور خاص نشانی گلے میں مفلر، چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے طالب علموں کے لیے شفقت اور علمی فیض پہنچانے کے لیے سراپا تیار دکھائی دیتے تھے۔ اورینٹئل کالج میں آنے سے پہلے آپ کے فیض کا چشمہ علی گڑھ میں جاری ہو چکا تھا۔ تعلیم و تہذیب کے ساتھ ادب کے میدان میں اپنا حصہ ڈال چکے تھے۔ ان کے ایک

Read more

سور پر رحم کرو

عید الاضحی کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں درد مند دل رکھنے والے کئی لوگ سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس لگانے لگتے ہیں جس میں بے زبان جانوروں پر ظلم کو لے کر تنقید کی جاتی ہے۔ یہ درس دیا جاتا ہے کہ یہ رقم غریبوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنی چاہیے۔ کئی دوست تو اسے وحشی پن، جنگلی اور ظالمانہ رویہ قرار دیتے ہیں۔ اس سال بھی چند دوستوں کے گزشتہ برسوں میں اپنے لگائے واٹر کولر

Read more

استاد دامن

برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ، جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا ء الحق کی طاقت، ظلم اور جبر کا بلا خوف مقابلہ کیا۔ جھوٹے مقدموں کا سامنا کیا قید و بند کی مصیبتیں جھیلیں، لیکن قدم کہیں نہیں ڈگمگائے۔ ان کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اس سخت گیر معاشرے میں لوگ ان سے پیار کرتے تھے جبکہ حکمران ان سے نفرت کرتے تھے۔ ٹکسالی گیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا کمرا جس میں بچھی ایک چارپائی اور دو

Read more

الزام تراش نسلیں

وہ جو کہتے ہیں ٹک ٹاک نے ہمارے نوجوانوں کو خراب کیا ہے۔ تو ان سے پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں۔ کہ اس اپلیکیشن کی آمد سے پہلے اپ کے نوجوانوں نے کون سی ایجادات کی ہیں جو اب اس سلسلے پر بریک لگے گی؟ اگے سے وہ مخاطب ہوا ”کیسے کرتا ایجادات۔ انگریز نے تو ہماری نئی نسل کو انڈرائیڈ فون جو پکڑایا ہے۔ صبح شام سے بے خبر کیا ہوا ہے ہمارے نوجوان کو۔ اب تو اس کو

Read more

کباڑی کی دکان

جام صاحب کے ایک دوست جاوید کباڑیہ صاحب تھے، وہ لاہور کے سب سے بڑے کباڑیہ تھے ان کا کہنا تھا اگر کسی قوم کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانا ہو تو اس قوم کی کسی کباڑی کی دکان کی سیر کریں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ گنگا کس رخ پر بہہ رہا ہے۔ جام صاحب بتاتے ہیں کہ جاوید کباڑیہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی رگ رگ سے واقف ہے۔ جاوید کے مطابق اس ملک کے امراء

Read more

عید قربان اور میری مزاحیہ شاعری

پٹواری باپ مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہے۔ پورے گھر کا بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر ہے۔ بیٹا یوتھیا ہے۔ سارا دن فون ہاتھ میں اٹھائے سوشل میڈیا پر بنتے نئے پاکستان کو دیکھتا رہتا ہے۔ عید قریب آئی تو محلے میں بکروں کی چہل پہل بھی شروع ہو گئی۔ بیٹے نے دیکھا تو باپ سے ضد شروع کر دی کہ ہم بھی قربانی کریں گے اور ہمارا بکرا محلے کا سب سے مہنگا اور خوب صورت بکرا ہو

Read more

ن۔ م راشد: اک شمع ہے دلیل سحر

ن۔ م راشد یکم اگست 1932 کو پیدا ہوئے۔ 9 اکتوبر 1975 یعنی 65 برس کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کا پورا نام نذر محمد راشد ہے۔ پیدائش اکال گڑھ گوجرانوالہ میں ہوئی۔ اکال گڑھ کا یہ چمکتا ہوا سورج مختلف ممالک اور تہذیبوں کا سفر کرتے ہوئے ”سرے ( انگلینڈ)“ کے ساحلوں میں غروب ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم اکال گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد منٹگمری، لائلپور اور پھر لاہور کی تعلیمی فضاؤں میں

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (آٹھویں قسط)

مغربی ادب۔ ریلزم اور نیچرل ازم کے دور میں انیسویں صدی میں یورپ کی سوسائٹی کئی ایک سیاسی، سماجی، سائنسی اور اخلاقی تبدیلیوں سے گزرتی چلی گئی۔ تبدیلی کا یہ عمل اس قدر شدید اور تیزرفتار تھا کہ رومانس ازم کی حسین اور خیالی ادبی دنیا اس کے سامنے بہت دیر تک پاؤں نہ ٹکا پائی اور بالآخر فطری اور حقیقی دنیا میں اپنی بقاء کے امکانات ڈھونڈنے لگی۔ انیسویں صدی میں ہونے والی اہم سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہمیں

Read more

یہ خط ہم نے نہیں لکھا!

(راہ رواں: بانو قدسیہ: صفحہ نمبر 119) دیال سنگھ کالج لاہور اکتوبر 1951 حضور امی جان! قدسیہ کی وہ کہانیاں جو ایک عرصے سے میرے پاس تھیں، اچانک طلب کر لی گئیں۔ ایک رات اثر صاحب تشریف لائے اور کہا کہ کاکی (قدسیہ) نے لکھا ہے کہ وہ افسانے اشفاق سے لے کر اسے پہنچا دیئے جائیں۔ میں نے بلا چون وچرا وہ فائل اثر صاحب کے سپرد کر دی اور انہوں نے اسے مقام مقصود تک پہنچا دیا۔ ان

Read more

سنتوش کمار نے ظہیرکاشمیری سے کیا کہا؟

بابا ظہیر کاشمیری میرے والد کے دوستوں میں شامل تھے ، اسی رشتہ کی بنیاد پرمیں نے ہمیشہ ان کا حد سے بڑھ کر احترام کیا۔ بابا جی کو جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے روزنامہ ’’مساوات ’’ کا ایڈیٹر بنایا ، میں اسی ادارے میں سب ایڈیٹر کے طور پر کام کررہا تھا ، ایڈیٹر بننے سے پہلے باباجی اخبار کے ایڈیٹوریل ہیڈ تھے اور اداریہ کے ساتھ روزانہ ’’ قطعہ’’ بھی لکھا کرتے تھے۔ وہ بنیادی طور پر

Read more

ڈاکٹر محمد ضیا الحق صوفی اور ڈاکٹر خورشید رضوی

فکری افلاس کے شکار اس معاشرے کو تو جانے دیجیے، وہ اگر علمی اعتبار سے درخشاں عہد میں زیست کر رہے ہوتے، تو بھی اپنی علمیت کی بنیاد پر دوسروں سے ممتاز نظر آتے۔ گئے وقتوں میں لاہور میں کئی ایسی باوقار علمی ہستیاں موجود رہی ہیں، کہ اہل علم بھی جب کسی علمی مسئلے پر الجھن محسوس کرتے تو اپنی تشفی کے لیے ان سے بے تامل رجوع کرتے۔ اب مگر ایسا نہیں۔ اگر کسی علمی و ادبی گتھی

Read more

مندرا بیدی: ہندو عقیدے میں چتا جلانے کی رسم کے دوران خواتین کی موجودگی کے بارے میں کیا کہا جاتا ہے؟

انڈین اداکارہ اور ٹی وی میزبان مندرا بیدی کا نام حال ہی شہ سرخیوں میں آیا جب انھوں نے اپنے خاوند کی وفات کے بعد ان کی آخری رسومات خود سے ادا کیں۔ لیکن مندرا بیدی کی جانب سے روایت کے برخلاف جانے سے انڈیا کے چند قدامت پرست طبقے اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ٹرولز نے ان کو سوشل میڈیا پر تضحیک کا نشانہ بنایا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ چتا ان کے دس سالہ بیٹے کو جلانی چاہیے تھی۔

Read more

جانوروں کی جبری کھیتی باڑی

دنیا بھر میں ہر روز کروڑوں کی تعداد میں جانور غذا اور انسانی استعمال کی خاطر ذبح کیے جاتے ہیں۔ ایسی کون سی جادوئی چھڑی ہے جو روزانہ اتنی بڑی تعداد میں مرنے والے جانوروں کی نسل کم نہیں ہونے دیتی؟

عید قرباں کی آمد آمد ہے۔ گلیوں محلوں، چوراہوں میں جا بجا قربانی کے جانور بندھے اور مچلتے ہی نظر آتے ہیں۔ گائے، بیل، بکرے، اونٹ، دنبے ہر ہی گلی میں اپنی زندگی کے دن گنتے دیکھیں گے۔ قربانی مذہبی فریضہ ہے جس کی توثیق یہ ہے کہ اس روز غریبوں کو وہ غذا کھانے کو میسر آتی ہے جو سارا سال ان کو نصیب نہیں ہو پاتی۔

Read more

قوس قزح کے سب رنگ

کہتے ہیں کہ کتاب سے اچھا دوست کوئی نہیں ہے۔ صاحبان ذوق اور اہل علم حضرات اس قول کی صداقت کے پوری طرح قائل ہیں۔ ہمیشہ سے کتب بینی یا مطالعے سے شغف ہونا پڑھے لکھے ہونے کی نشانی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ کسی دور میں مطالعہ صرف علم میں اضافے کا سبب ہی تصور نہیں کیا جاتا تھا بلکہ یہ فاضل وقت گزارنے کے لیے ایک بہترین مشغلہ بھی سمجھا جاتا تھا۔ یہ صدی سائنسی ترقی اور اس کے عروج کی صدی ہے۔ اس دور میں علم کے اضافے اور وقت گزاری کے لیے اب صرف کتابیں ہی نہیں ہیں بلکہ سائنس کی ترقی کی بدولت دیگر کئی ذرائع بھی وجود میں آچکے ہیں مثال کے طور پہ الیکٹرانک میڈیا۔ جس کے سبب کچھ لوگوں کے خیال میں کتاب سے رغبت کم بلکہ خاصی کم ہوئی ہے۔ شاید یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے کہ;

Read more

عمران خان کا ’فلمی ڈاکٹرائن‘ کیا ہے اور کیا پاکستانی فلمساز وزیر اعظم کے وژن کے مطابق فلمیں بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

پاکستان میں فلمی دنیا سے وابستہ ماہرین کے مطابق فی الحال ہمارے ہاں عالمی معیار کی فلم بنانے کی تربیت،تکنیک اور وسائل نہیں ہیں۔ لیکن اگر بدلتی ہوئی دنیا میں فلم کی اہمیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے تو ریاستی اور حکومتی سطح پر اس صنعت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔

Read more

ڈاکٹر خضر نوشاہی: ہم نے سونا سپرد خاک کیا

پروفیسر ڈاکٹر خضر نوشاہی بھی چل بسے، فارسی زبان و ادب میں تحقیق و تنقید کا ایک معتبر حوالہ اور مخطوطہ شناسی میں سند کی حیثیت رکھنے والے عالم کی موت نے ایک عالم کو افسردہ کر دیا۔ نصف صدی تک زبان و ادب اور تحقیق و تنقید میں اپنا لوہا منوایا ’پنجاب کی اہم ترین درگاہ کا گدی نشین ہونے کے باوجود عاجزی اس قدر کہ ایک زمانہ مداح۔ مجھے نہیں یاد کہ کسی ہم عصر‘ جونیئر ’شاگرد یا

Read more

آصف فرخی بحیثیت مترجم

ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ انہیں ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، اور پاکستان کے مقامی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اردو میں لکھنے کا آغاز ”نیا ناول“ نامی مضمون سے ہوا۔ آنے والے برسوں میں باقاعدگی سے لکھا۔ انگریزی زبان میں بھی لکھا۔ ابتدائی

Read more

”کھو گئی دشت فراموشی میں آواز خلیل“ :چند باتیں، جدید شاعری کے باب میں

جدید شاعر جس دنیا کا خاکہ اور تخیل پیش کرتا ہے، وہ انسانی دنیا ہے۔ صرف اس معروف مقولے کی رو سے نہیں کہ ’انسان ہی اشیا کا پیمانہ ہے‘ ، بلکہ اس مفہوم میں بھی کہ یہاں کوئی شے، کوئی وجود، کوئی تصور، کوئی قدر انسانی پیمانے سے بلند نہیں ؛انسانی پیمانے کا تعین بھی انسان ہی کرنے کا مجاز ہے ؛وہ زوال اور کمال، بلندی اور پستی کو بھی انسانی آدرشوں، خوابوں، اعمال کی روشنی میں دیکھتا ہے

Read more

ہنگری: ہم جنس پرستی سے متعلق مواد پر پابندی، ادیب اور کتب فروش سراپا احتجاج

بڈاپسٹ — یورپی ملک ہنگری میں بچوں کی کتابوں کے حوالے سے نئے قانون کے نفاذ کے بعد کتابیں فروخت کرنے کی کئی دکانوں کے باہر ایسے سائن بورڈز آویزاں ہیں جن پر درج ہے کہ ان دکانوں پر ‘غیر روایتی مواد’ فروخت کیا جاتا ہے۔

Read more

اسٹیفن ہاکنگ اور ”زمان و مکان کا دیوہیکل ڈھانچا“

ہم واجبی سا پڑھے ہوئے ہیں اور سائنس کو ہماری وہ محبوبہ سمجھیے جو کہ ہماری نیم خواندگی کے سبب نہ ہماری طرف مائل ہوئی اور نہ حاصل! لیکن جب سے پڑھنا سیکھا ہے سائنس کو پڑھنے سمجھنے کی اپنی سی سعی ضرور کی ہے اور یہ کوشش ہنوز جاری ہے۔ بہت سے اردو خوانوں کی طرح عمران سیریز بھی پڑھی۔ ابن صفی صاحب کی کتابوں میں آٹے میں نمک جتنی سائنس اور نفسیات نے ہمارے علم اور ”فشار علمی“

Read more

افریقہ کے بلوچ

چند سال قبل میں اور پناہ بلوچ گجرانوالہ میں منعقدہ ادبی تقریب اٹینڈ کرنے گئے تو وہیں مجھے جانکاری ملی کہ گجرانوالہ میں ایک بستی ہے بلوچ کالونی کے نام سے۔ بلوچ بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ جانے کا اشتیاق پیدا ہوا جب گئے وہاں تو کھڑا مجمع ہم پر پھول برساتا رہا۔ بلوچی بیٹھک کا اہتمام تھا۔ بلوچی میں ایک دوسرے سے حال احوال ہوتی رہی۔ قدیم زمانے سے آباد یہ لوگ رند ہیں دوسری اقوام کے ساتھ بندھن

Read more

ٹورنٹو میں دلیپ صاحب کے ساتھ ایک انٹرویو کی کہانی

سنہ 1985 میں، گرمیوں کے موسم میں، ایک دن چندر شیکھر کا فون آیا کہ آج اسٹوڈیو میں دلیپ کمار اور سائرہ بانو کو میں نے انٹرویو کے لئے بلایا ہے، تو تم بھی آ جاؤ اور دلیپ کمار سے اردو میں انٹرویو کر لو۔ میں نے دل میں سوچا دلیپ کمار تو بہت بڑے اداکار ہیں اور اپنے پاکستانی پس منظر کی وجہ سے ان کے بارے میں اس وقت تک میری معلومات بھی بہت واجبی سی تھیں۔ کیوں کہ 1965 کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہر قسم کے ثقافتی اور ادبی رابطے ختم ہو گئے تھے۔

Read more

غلیظ لوگ

اتنا پریشان چہرہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔ ہمیشہ ہنستی مسکراتی، بھاگتی دوڑتی، گنگناتی لڑکی کو نہ جانے کیا ہو گیا تھا۔ جب وہ ڈاکٹر بنی، کیسا دمکتا ہوا چہرہ تھا اس دن۔ کتنی خوش تھی وہ ڈاکٹر بننے کے بعد پانچ سال کا کورس چھ سال میں ہوا تھا۔ ایک سال کے نقصان کے ساتھ، اس کے ڈاکٹر بننے کے بعد جو خوشی ہمارے خاندان میں آئی اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں تھا۔ ہم اپنی بیٹی

Read more

دلیپ کمار کیا محض ایک عظیم اداکار ہی تھے؟

ان کی سوانح عمری کے مطابق جب دلیپ کمار کو 1951 میں فلم ”دیدار“ کے لیے ایک اندھے کا کردار ملا تو وہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ ایک اندھا کے طور پہ وہ کس طرح کیمرہ کا سامنا کریں گے۔ اس وقت کے مشہور فلمساز محبوب نے انہیں بمبئی سینٹرل ریلوے اسٹیشن میں بیٹھ کر بصارت سے محروم ایک فقیر کے مشاہدے کا مشورہ دیا۔ جس پر دلیپ کمار نے عمل کیا۔ اس فقیر کے مشاہدے کے دوران ایک اور بینائی سے محروم فقیر اس سے ملنے آیا۔ جب دلیپ نے اس سے بات کی تو اس نے دلیپ سے پوچھا ”تم کون ہو؟ تم ایک اداکار لگتے ہو جس کی فلم میں نے حال میں ہی دیکھی ہے۔“ دلیپ حیران ہوئے اور پوچھا ”تم نے کیسے فلم دیکھی؟“ اس پر اس نے جواب دیا۔ ”ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہم سوچ سکتے ہیں۔ محسوس کر سکتے ہیں۔ رو سکتے ہیں۔“

Read more

دلیپ کمار اور سائرہ بانو – آخری بوسے کی ٹھنڈک

ایک انسان کا اپنی خواہش، چاہت اور مرضی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی دوسرے انسان کے مکمل سپرد کر دینا محبت کہلاتا ہے۔ محبت کی مختلف تعریفیں زمانے میں رائج رہیں۔ ادب کے دانشوروں کے نزدیک محبت کا مقام کچھ اور ہے جبکہ سائنسدانوں کے نزدیک محبت صرف ہارمونز کے رد و بدل کا نام ہے۔ کسی انسان کو بے لوث، غیرمشروط اور اپنی چاہت سے اپنانے کا نام محبت ہے۔ اگر یہی محبت، چاہت اور غیر مشروط عشق

Read more

منٹو ایک سوچ

سعادت حسن منٹو ان ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں کہ جنہوں نے معاشرے کے ایسے مسائل کو موضوع بنایا جو عام آدمی کی نظر سے دور تھے۔ ادب کی دنیا کا وہ نام کہ جس نے ایک الگ طرز فکر سے اپنی تحریریں سماج کے سامنے رکھیں، ان کی تحریروں کے موضوعات محدود نہیں۔ منٹو نے صرف جنس یا طوائف پر بات نہیں کی بلکہ فسادات اور معاشی بدحالی کو بھی اپنے افسانوں میں بیان کیا۔ انھوں نے سماج

Read more

گوہر جان کلکتے والی

انیسویں صدی میں انگریزی حکومت کے زیراثر ہندوستان میں نئی نئی ایجادات کی آمد شروع ہوئی۔ گراموفون بھی اس زمانے کی نئی ایجاد تھی۔ آواز کو مشین کے ذریعے ریکارڈ میں بھر لیا جاتا تھا اور پھر گراموفون پر بجا کر سنا جاتا تھا۔ موسیقی ہمیشہ سے ہی ہندوستانی تہذیب کی پہچان سمجھی جاتی تھی اس لیے انگلینڈ کی کمپنی گراموفون اینڈ ٹائپ رائٹر لمیٹڈ نے اپنے ایجنٹ فریڈرک ولیم گیسبرگ کو ہندوستان بھیجا تاکہ ہندوستانی سنگیت کو ریکارڈوں میں

Read more

ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کرسکے

مجھے جینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن میرے ڈاکٹر مجھے مرنے نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں زندگی ایک امانت ہے اور اسے اپنے ہاتھوں تلف کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں مگر میرے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ کسی کو کیوں یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں جیتے جی مار دے پھر سانسوں کا یہ بوجھ بھی ہم کیوں اٹھائیں۔ کبھی کبھی ندامت اور پچھتاوے کا احساس مجھے کچوکے لگاتا ہے، ڈستا ہے۔ کاش میں احمر کو یوں آگے نہ بڑھنے دیتی کاش میں جان پاتی کہ دامن چھڑانا دامن بچانے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

میرا نام فلک ہے۔ احفاظ مجھے فلکی کہہ کر پکارتے تھے۔ تھے اس لئے کہ اب تو ایک دوسرے کو پکارنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ کام کی بات کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں ہوتی۔

Read more

اب کتاب میں بھی ملالہ

ھم سادہ دل والوں کا خون جلانے کو یہی بہت کافی ہے کہ وقفے وقفے سے ملالہ کسی میگزین یا ٹی وی پہ نظر آئے اور زمانے بھر کی توجہ حاصل کر لے۔ آخر اس لڑکی میں ایسا کیا ہے کہ لاکھوں ستارے گمنام رہ جاتے ہیں اور یہ ایک کے بعد دوسری منزل عبور کرتی چلی جاتی ہے؟ ملالہ کے پیچھے سرگرم لابی کی تازہ واردات نے تو ہمارے دل کے ساتھ روح کو بھی پھونک ڈالا۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، سیدھا اس کی تصویر سکول کی کتاب میں چھاپ دی، جہاں کم سن بچے اس کے شر سے ہر گز محفوظ نہ رہ سکیں۔ بھلا ہو ان کا جنھوں نے اس فتنے کا تدارک کرنے کی ٹھانی، وہ تمام کتابیں قبضے میں لینا شروع کیں اور ہمارے معصوم بچوں کو فتنے سے بچا لیا۔

Read more

فارسی کے معتبر عالم، ڈاکٹر خضر نوشاہی: ”وہ جو ہم تم میں نہیں، خاک میں پنہاں ہو کر۔۔۔“

پاکستان کے فارسی کے عظيم عالم، دانشور، شاعر اور مترجم، ڈاکٹر خضر نوشاہی بھی سُوئے عدم کُوچ کر چلے۔ اور ملک کے دبستانِ فارسی میں ایک گہرا خلا چھوڑ گئے۔ 
 
ڈاکٹر خضر نوشاہی، 30 مارچ 1952ء کو پنجاب میں ضلع شیخوپورہ کے علاقے ”چنبھل“ میں عبدالکریم عبّاسی نوشاہی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد، خانوادہء نوشاہیہ کے ممتاز صُوفی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ خضر صاحب نے میٹرک کا امتحان، گورنمنٹ ہائی اسکول اجنیانوالہ سے 1969ء میں پاس کیا۔ اسی دوران

Read more

جنس اور جارحیت کی نفسیات

جنس اور جارحیت کا رشتہ
پیچیدہ بھی ہے گنجلک بھی
شعوری بھی ہے لاشعوری بھی
صحتمند بھی ہے مریضانہ بھی

جنسی مباشرت بظاہر ایک جارحانہ عمل ہے لیکن جب یہ عمل دو محبوبوں کے درمیان ہوتا ہے تو اس میں محبت، پیار، اپنائیت اور خلوص آپس میں بغلگیر ہو جاتے ہیں اور دو چاہنے والے اپنی خوشی اور رضامندی سے ایک دوسرے کو جنسی معراج تک پہنچاتے ہیں اور جب اس معراج سے واپس لوٹتے ہیں تو ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مشرق کی تانترک روایت تو جنسی مباشرت کو نروان حاصل کرنے کا روحانی طریقہ سمجھتی ہے۔

لیکن جب جنسی تعلق غیر صحتمند ہو جائے تو پھر ایک فریق مباشرت کو جارحیت کے طور پر اور اپنے غصے، نفرت، تلخی اور بدلہ لینے کے جذبے کے لیے جنس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

Read more

صدر ممنون حسین کے دوست نہ بدلے

سابق صدر مملکت ممنون حسین نے بھی الوداعی سیٹی بجا دی۔ یہ 2003 کا ذکر ہے میں ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کی غرض سے موجود تھا منون حسین اور پروفیسر غفور احمد مرحوم سے سے ٹی وی پروگرام کے دوران تعارف ہوا جو پھر ان دونوں بزرگوں سے ان کے آخری وقت تک محبت و شفقت کی صورت میں برقرار رہا۔ یہ مشرف کی آمریت کے جوان دن تھے اور کراچی میں ممنون حسین جمہوری جدوجہد کی ایک آواز کے طور پر متحرک تھے۔ ان کے ساتھ اس جدوجہد میں ہمہ وقت خواجہ طارق لیاقت آرائیں منور رضا اور ناصر الدین محمود شانہ بشانہ رہتے۔

جب بھی سفارت کار کراچی میں کسی سے ملاقات کئی مجھ سے خواہش کا اظہار کرتے جو معاملہ فہم بھی ہو تو سب سے پہلے جس کا نام منہ سے نکلتا وہ ممنون حسین ہی ہوتے۔ گورنر کے عہدے تک پہنچنے والے شخص پر اس کی مخالف ترین حکومت ایک ڈھیلی بدعنوانی تو دور کی بات کسی شناسا کے لیے کوئی میرٹ سے ہٹ کر سفارش تک کا الزام عائد نہیں کر سکی تھی اور بات بھی بہت کمال دلیل سے کرتے۔ یہ دونوں وصف سفارت کاروں کے لیے بہت اثر انگیز ثابت ہوتے۔

Read more

طالبان کے بڑھتے قدم، ایک رپورٹر کی 1994 کی یادداشتیں

واشنگٹن ڈی سی — پشتو میں مذہبی مدارس کے طلبہ کے لیے طالبان کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی جنھیں تاریخی طور پر افغانستان، پاکستان اور وسطی ایشیا میں پھیلے سیاست سے گریز کرنے والے عبادت گزار اور دنیا ترک کرنے والے طبقے کےطور پر جانا جاتا تھا۔

Read more

بانو قدسیہ اور اشفاق و شہاب پر تنقید

چلیے پھر یہی کر گزریے کہ ناقدین کا گلہ گھونٹ کر اپنے خداؤں کو تنقید سے بچا لیجیے۔ آپ کے مزاج فقط اس لیے برہم ہیں کہ لوگ بانو قدسیہ۔ اشفاق احمد۔ اور قدرت اللہ شہاب پر تنقید کیوں کرتے ہیں۔ کیا اختلاف روا رکھنا یا تنقید کرنا گناہ کبیرہ ٹھہر گیا ہے۔ ایک کہانی جو لکھی گئی ہے۔ اک سبق جو پڑھایا گیا ہے۔ ایک سوچ جس کا پرچار کیا گیا ہے۔ اس پر تنقید تو ہو گی۔ لوگ

Read more

جب میں ایک ہم جنس پسند مرد (Gay) کی بیوی بنی

روبی سے میری پہلی ملاقات ایک افطار پارٹی میں ہوئی۔ جاذبِ نظر، چھوٹی چھوٹی باتوں پر معصوم بچوں کی طرح کھلکھلا کر ہنسنے والی، خوش مزاج، ملنسار اور صاف گو سی لڑکی۔ اسکی عمر 31 سال کی تھی۔ پاکستان سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکہ میں فیلو شپ کررہی تھی۔ عمر کے تفاوت کے باوجود ہم دونوں کے بیچ یگانگت اور اعتماد کا پل قائم ہوچکا تھا لہٰذا پہلی ہی ملاقات میں اس نے اپنی ناکام

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: کماری والا

بچپن میں ہمارے گاؤں ایک مداری آیا کرتا تھا۔ جو سڑک کنارے اپنی ڈگڈگی بجا کر مجمع لگاتا تھا۔ اس کا کم سن بیٹا بانسری بجا بجا کر لوگوں سے پیسے وصول کر رہا ہوتا تھا کہ اچانک باپ بیٹے کی ڈگڈگی اور بانسری بجنا بند ہو جاتی تھی۔ وہ مجمعے کی جانب منہ کر قسمیں دیتا کہ اس مجمعے میں کوئی جادوگر موجود ہے وہ مہربانی کرے ہماری بانسری اور ڈگڈگی پر سے اپنا جادو ختم کردے۔ جادو گر

Read more

پاکستان کے انتہائی ’کم گو صدر‘ ممنون حسین چل بسے

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئینی طریقے سے عہدہ صدارت منتقل ہونے کے بعد ملک کے بارہویں صدر بننے والے مسلم لیگ ن کے رہنما ممنون حسین وفات پا گئے۔

Read more

امریکہ میں میرے پراسرار قتل کی ’’خبر‘‘

پیر کی رات دو بجے کے قریب سونے ہی والا تھا کہ سرہانے رکھے موبائل کی گھوں گھوں نے چونکا دیا۔ فون دیکھا تو میری بیٹی کا پیغام تھا۔ اس کے چند دوستوں نے ایک وڈیو کلپ بھیج رکھی تھی۔ وہ ایک یوٹیوب چینل کا ابتدائیہ تھی جسے ساگر نام کے کوئی بہت ہی سینئر صحافی چلاتے ہیں اور قوم کو اس کے ذریعے پاکستان کے ازلی دشمنوں کی مسلط کردہ ففتھ جنریشن وار کی گھنائونی چالوں سے آگاہ رکھتے

Read more

کشمیر میں روحانیت کے نقیب میر سید علی ہمدانی (یوم وصال 6 ذوالحجہ)

قوموں کی تاریخ میں ایسے بھی فیصلہ کن مراحل آتے ہیں جب اگر سمت سفر کا صحیح تعین نہ کیا جائے تو قوم اپنا مقصد وجود کھو بیٹھتی ہے اور اس کے نقوش تاریخ عالم کے دفتر سے کچھ اس طرح محو ہوتے ہیں کہ انسانیت کے مجموعی اور مشترکہ حافظے سے اس کی یاداشت بالکل مٹ جاتی ہے! یعنی کسی بھی قوم کو اپنی قومی حیات کو جاوداں بنانے کے لئے ایسے معماروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے جو

Read more

محسن خان کا ناول : اللہ میاں کا کارخانہ  

حال ہی میں بھارت اور پاکستان میں شائع ہونے والا محسن خان کا ناول ”اللہ میاں کا کارخانہ“ دل کو چھو لینے والی کتاب ہے۔ یہ ناول ایک بچے کی آپ بیتی ہے۔ جو اپنے ہوش سنبھالنے سے لے کر بلوغت کی عمر تک پہنچتے پہنچتے اپنے اردگرد کے ماحول کا جو اثر لیتا ہے اس کو قلم بند کرتا رہتا ہے۔ یوں یہ ڈائری ایک معصوم کی مختصر سی سوانح بن جاتی ہے۔ جبران نامی بچہ ایک مذہبی گھرانے

Read more

الوداع! دلیپ کمار صاحب

سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

یہ وہ گانا ہے جو ہم زمانہ طالب علمی میں سکول، کالج یا کسی بھی نجی ٹرپ پہ جاتے ہوئے کورس میں گایا کرتے تھے۔ دلیپ صاحب کی فلم ”مدھومتی“ کا یہ گانا مقبول عام تھا۔ مدھومتی کا مرکزی خیال آوا گون کا نظریہ تھا۔ کون جانتا تھا اس فلم کا ہیرو سرما کی ایک ٹھٹھرا دینے والے دن کو 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے ایک پھل فروش کے ہاں پیدا ہوا۔ یہ بچہ گوری رنگت سیاہ بال اور سیاہ آنکھوں والا گویا کہ پٹھانوں کے مخصوص حسن سے مالا مال تھا۔

Read more

قصہ میر تقی میر کے پاگل پن کا۔۔۔

سورن کرکیگارڈ SOREN KIERKEGAARD نے ایک جگہ لکھا ہے ’ شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں‘۔ میر تقی میر کا شعر ہے خوش ہوں دیوانگیِ میر سے سب۔۔۔۔۔ کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ ! جب ہم میر تقی میر کی زندگی کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان

Read more

آخری بوند

میں بالکونی میں بیٹھا بارش سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک ایک بوند میرے ساتھ پڑی خالی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے آنے کا انداز ڈرا دینے والا تھا۔ میں ایک بار تو چونکا مگر فوری سنبھل گیا۔ اس سے دریافت کیا کہ اس انداز میں آنے کا کیا مقصد ہے ”اس سے پہلے تو جب بھی آئی ہو بڑے رومانوی انداز میں مگر اس دفعہ چونکا دینے والا انداز کیوں اختیار کیا؟“ جواب ملا ”کہ اس

Read more

منٹو وارث علوی کی نظر میں

سعادت حسن منٹو کی شخصیت میں دلچسپی کا آغاز ان کے نام ہی سے ہو جاتا ہے۔ شروع میں سب ہی کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ منٹو کیا ہے۔ بلونت گارگی لکھتے ہیں۔ ”بہت عجیب نام تھا۔ منٹو جیسے لارڈ منٹو، پنٹو۔ یا ومٹو، بہت نقلی یا مضحکہ خیز! منٹو کے نام میں سعادت حسن کی پوری ادبی اور غیر ادبی شخصیت سمٹ آئی تھی۔ منٹو کو بھی اس کا احساس تھا چنانچہ لکھتے ہیں :  ”اور یہ بھی

Read more

انار کلی جو کینیڈا کی مٹی کو بھا گئی

انار کلی جو کینیڈا کی مٹی کو بھا گئی اور آج میں ڈھونڈتا ڈھانڈتا دھکے کھاتا بالآخر تیز ہوتی بو ندا باندی میں اپنی اس منہ بولی چھوٹی بہن کی قبر پہ کھڑا فاتحہ پڑھتے بارش کے ان ہی قطروں کی طرح آنسوؤں کی جھڑی بہا رہا تھا۔ میرے کانوں میں اس کی آواز کی بازگشت گونجی، ”لئیق بھائی ان حالات میں بھی میں انار کی پتیاں نکالتی کلی کی طرح سرخ و حسین تھی“

Read more

کئی چاند تھے سر آسماں

ایک دکھ ہے جو دامن سے لپٹ رہا ہے، ایک درد ہے جو جگر کو لہو کر رہا ہے، ایک ٹیس ہے جو دل کو چھلنی کر رہی ہے، ایک برسات ہے جو آنکھوں سے جاری ہے، ایک فغاں ہے جو لبوں پر رقصاں ہے اور خیالات ہیں کہ شکست خوردوں کی مانند منتشر ہو رہے ہیں، فقط اس لیے کہ اپنے محبوب سے ملاقات نہ ہو سکی، جن کو محبوب کا فراق لاحق ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ محبوب سے ملاقات نہ ہونا کتنی بڑی اذیت ہے، جو نہیں جانتے وہ ان کے مردہ دلوں کے لیے دعائے خیر، شمس الرحمان فاروقی سے فقط اتنا تعارف تھا کہ وہ نقاد ہیں، کبھی کبھار یوٹیوب پر کوئی ویڈیو بھی دیکھ لی جاتی تھی، مگر ابھی ان کو پڑھا نہیں تھا، یہ کم بخت رزق کی پریشانی کہیں اور بسیرا کرے تو ادب کی طرف توجہ مرکوز ہو، جہانزیب ساحر کا شعر تھوڑی سے تبدیلی کے ساتھ ملاحظہ ہو۔

Read more

چار ستارے جو ڈوب گئے!

گزشتہ چند دنوں کے اندر علم، ادب اور فن کے تین مزید ستارے ڈوب گئے۔ یہ تین ستارے بیگم خورشید شاہد، انور اقبال بلوچ اور مسعود اشعر ہیں۔

بیگم خورشید شاہد کی اداکاری کی شاید معراج ”استانی راحت کی کہانی“ تھا جس میں معاشرے میں جہیز کی برائی کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا تھا۔ یہ ڈرامہ پہلی دفعہ نشر ہوتے وقت بھی ایک کلاسک تھا اور آج بھی کلاسک ہے۔ سحرش خان کی اداکاری تو لاجواب تھی ہی لیکن بیگم خورشید شاہد نے سحرش کی سادہ دل، پرامید اور بیٹی کے بہتر مستقبل کی آس رکھنے والی ماں کا کردار جس خوبصورتی سے ادا کیا تھا، اور بعد میں جس طرح بیٹی کی خودکشی سے ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے، ایک غمزدہ ماں کا کردار ان سے بہتر کوئی نہیں ادا کر سکتا۔

Read more

مغربی ادب افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (ساتویں قسط)

مغربی ادب۔ رومانوی دور میں نیوکلاسیکل دور کے بعد کی اگلی صدی مغرب میں رومانوی ادب سے تعبیر کی جاتی ہے۔ گو کہ یہ دور اٹھارہویں صدی کے آخر سے انیسویں صدی کے درمیان کا عرصہ ہے مگر انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیاں اس دور کا زریں وقت سمجھا جاتا ہے کیونکہ ’پری رومانس ازم‘ کے اس دور میں ہمیں جارج کریب، گولڈ اسمتھ، تھامس گرے اور ولیم کوپر جیسے شہرہ آفاق شاعر برطانوی ادب کی دنیا پر راج کرتے

Read more

قبل ازوقت انتخاب

جن دنوں قومی اسمبلی یا سینٹ کے اجلاس ہورہے ہوں تو ہفتہ وہ واحد دن ہوتا ہے جب میں لکھنے کی مشقت سے آزاد ہوتا ہوں۔ وگرنہ یہ کالم دفتر بھجوادینے کے بعد ہفتے کے بقیہ پانچ دن ’’دی نیشن‘‘ کے لئے پریس گیلری بھی لکھنا ہوتی ہے۔ اپنی فراغت والے دن کو لہٰذا میں بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ حتیٰ الوسع کوشش ہوتی ہے کہ دُنیا کے بکھیڑوں سے ذہن کو آزاد کئے یہ دن پھولوں،درختوں اور جانوروں سے

Read more

پلّوی برنوال: انڈیا میں لوگ سیکس کے بارے میں بات نہیں کرتے، اس لیے میں ان کی مدد کرتی ہوں‘

بہت سے انڈین سکول سیکس ایجوکیشن فراہم نہیں کرتے، اور یہ والدین پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے جنسی تعلقات کے بارے میں بات کریں۔ سیکس کوچ پلّوی برنوال والدین کو بتاتی ہیں کہ بچوں سے اس موضوع پر کیسے بات کرنی ہے۔

Read more

مسعود اشعر اور ذوالفقارعلی بھٹو کی سیاسی لیپا پوتی

یہ بات 5 اپریل 2018 کی ہے۔ جب ملتان سے خالد مسعود خان۔ رضی الدین رضی۔ آصف کھیتران اور دیگر احباب نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے مہمان تھے۔ سالانہ کتاب میلے کا افتتاح 6 اپریل کو ہونا تھا۔ تو 5 اپریل کو ڈنر پر جناب مسعود اشعر کی ملتان کے احباب سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے کہ میرا ملتان کیسا ہے؟ ہم نے کہا، آپ کے بغیر ملتان اداس ہے۔ اگر ملتان میرے بغیر اداس ہے، تو پھر اہل

Read more

جیہان سادات: مصر کی خاتونِ اول جنھوں نے حقوقِ نسواں کی نوعیت بدل دی

جیہان سادات جن کے شوہر کو سنہ 1981 میں ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر کی جانے والی فوجی پریڈ کے دوران قتل کردیا گیا تھا، ان کا 88 برس میں انتقال ہوگیا ہے۔

Read more

پاکستان کے خلاف سازش کس نے کی؟

فواد چودھری بڑے کمال کے آدمی ہیں۔ میں انہیں اس وقت سے جانتا ہوں، جب وہ طالب علم تھے۔ ان کے انکل چودھری الطاف حسین پنجاب کے گورنر تھے۔ چودھری صاحب گورنر بننے سے قبل قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے تھے اور میری ان سے کافی ذاتی نیاز مندی تھی۔ لاہور کے گورنر ہاؤس کے علاوہ پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں ان کے ساتھ ہماری محفلیں جمتی تھیں اور کبھی کبھی ہماری فواد سے بھی دعا سلام ہو جاتی

Read more

انارکلی جو کینیڈا کی مٹی کو بھا گئی

انارکلی کی آپ بیتی ٹکڑوں کی صورت میں میں دوپہر سے شروع ہو چھبیس دسمبر کی شام تک وقفہ وقفہ سے ملتے میرے دکھ کی شدت میں اضافہ کرتی جا رہی تھی۔ صبح ناشتہ کی میز پر رات دیر سے آئے پیرا گراف سینہ چیر رہے تھے۔

” پھر بی اے میں داخلہ مل گیا سکالرشپ کے ساتھ۔ میں بڑے شہر کے کالج میں پڑھنے اور ہوسٹل میں رہنے لگی۔ مجھے ڈانس، شاعری اور لکھنے کا بہت شوق تھا مگر ابا جی نے وارننگ دے کے بھیجا تھا کہ اگر یہ لچھن اپنائے تو گولی مار دوں گا۔ سب گھر والے مجھے طلاق یافتہ کے کچوکے لگاتے اور منحوس کہتے۔ میرا گھر سے ناتا واجبی سا تھا۔ دو مہینہ بعد چکر لگانا ورنہ ہاسٹل کی لائف انجوائے کرنا۔ پورے کالج میں میرے حسن، سادگی اور ذہانت کی دھوم تھی۔

Read more

فورٹ ولیم کالج: انگریزوں کا قائم کیا گیا وہ تعلیمی ادارہ جس کا وجود محض چند سال کا رہا مگر اثرات دو صدیوں بعد بھی باقی ہیں

لارڈ ویلزلی فورٹ ولیم کالج کو ‘آکسفورڈ آف دی ایسٹ’ یعنی مشرق دنیا کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی حیثیت سے پروان چڑھانا چاہتے تھے اور ٹیپو سلطان کے خلاف انگریزوں کی فتح کی پہلی سالگرہ کے جشن سے اسے منسوب کرنا چاہتے تھے۔

Read more

مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندرؒ، ایک عہد جو تمام ہوا۔

یہ 30 جون 2021 کا دن تھا، آج سورج آب و تاب سے طلوع ہوا، نہ معلوم کتنے لوگ اپنے اعزا و اقارب سے جدا ہوئے، نہ معلوم کتنی زندگیاں اختتام کو پہنچیں، بالکل اسی طرح معلوم نہ تھا کہ عالم اسلام کی ایک عظیم ہستی ابدی حقیقت کی طرف رخت سفر باندھے ہوئے ہے، آج ان کا اس دنیا فانی میں آخری دن تھا، خبر پہنچی تو عقیدت مند ہجوم در ہجوم کھینچے چلے آرہے تھے، آج ایک عہد

Read more

شاعری سے تعلق کیسے بنتا ہے

سکول کے زمانے میں میرا خیال تھا کہ کورس کی کتابوں کے علاوہ دنیا میں جو واحد کتاب ہے وہ قرآن ہے۔ باقی ڈائجسٹ ہوتے ہیں اس کے علاوہ شعر و شاعری اور لطیفوں کے پاکٹ سائز کتابچے جو ہر سال رمضان سے پہلے ایک پر اسرار سا شخص تھیلا اٹھائے سکول میں آتا اور پانچ روپے میں شاعری، لطیفوں کے پاکٹ سائز کتابچے کے علاوہ ایک عدد جنتری ہوتی تھی۔ اس جنتری میں پورے سال کا کیلینڈر، ستاروں کے

Read more

دلیپ کمار , سائرہ بانو اور ہمارے لکھاری

گزشتہ دنوں برصغیر پاک و ہند کے ایک عظیم فنکار جناب ”دلیپ کمار“ صاحب کا انتقال ہوا، فضا سوگوار رہی، کیونکہ وہ اپنی اعلی و خوبصورت شخصیت کی وجہ سے پوری دنیا میں بلا تخصیص مذہب و عقیدہ و قومیت چاہے گئے، اداکاری کی مہارت میں بھی ان کا کوئی ثانی نہیں تھا، اسی لیے ان کے نام پر اداکاری کی دنیا میں بہت سے محاورے بھی بنے، مثلاً اگر کسی ایک اداکار پر کسی دوسرے اداکار کی جانب سے

Read more

جب بے زاری آتی ہے!

عذرا عباس کی نظمیں تو یقیناً آپ نے پڑھ رکھی ہوں گی۔ احساس اور درد کی شدت میں گندھے ہوئے الفاظ جو صرف ایک عورت ہی بیان کر سکتی ہے اور ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔ زندگی کی کھٹنائیوں اور نارسائی سے سجی ان نظموں کا کمال یہ ہے کہ آپ ان کو پڑھتے ہیں، الفاظ دل پہ اثر کرتے ہیں، لیکن آپ جونہی صفحہ پلٹتے ہیں، نظم کی حساسیت اور شدت آپ کو واپس لوٹ کے پھر سے

Read more

افسر کے ادب کے سامنے اردو ادب کیا بیچتا ہے؟

ادب اور افسر کا رشتہ بہت پرانا ہے۔ پرانے زمانے میں ادب کی محبت میں لوگ شاعری اور نثر کے خارزار میں نکل جاتے تھے۔ آج کا انسان اس اعتبار سے زیادہ مشکل میں ہے کہ اگر وہ ادب سے لگاؤ رکھتا ہے تو اسے سب سے مشکل راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اس راستے کو انگریزی میں سول سروس کہتے ہیں۔ جب سے افسر ہے تب سے ادب ہے۔ یہ رشتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوا

Read more

شاعری میں چھپے ماضی کے حقائق

قتیل شفائی نے کہا تھا: لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے شاعری سچ بولتی ہے یہ سچ ہے کہ شاعری سچ بولتی ہے، اور جب شاعر کی قسمت ڈولتی ہے تو شاعری زیادہ ہی منہ پھٹ ہو کر سچ بولتی ہے اور شاعر کی اہلیہ کے سامنے اس کے راز کھولتی ہے، اس کے بعد بیوی کھولتی ہے اور کھول کھول کر ابلتی ہے تو شاعری چپ ہوجاتی ہے بس زوجۂ شاعر بولتی ہے۔ خیر یہ تو شاعر

Read more

دلوں کے دیوداس، اداکارِ اعظم کا آخری سلام

دلیپ کمار۔ برصغیر کی سلور اسکرین کے ایک دور نہیں بلکہ، ایک ’مکتب فن‘ کا نام۔ جنہوں نے پورے 44 برس، پہلے مشترکہ ہندوستان اور بعد ازاں بھارت کے سنیما پر اپنے انتہائی منفرد انداز سے نہ صرف راج کیا، بلکہ ایسے ”سپر اسٹار“ کی حیثیت سے اپنا لوہا منوا کر، پرفارمنس کا ایک مشکل ”بنچ مارک“ مقرر کیا، کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فلمی ستارے، ”سپر اسٹار“ کا درجہ پانے کے باوجود ان کے مقام کو چھو نہیں سکے۔ اور دلیپ کمار، جیسے ’اعلیٰ اداکاری‘ کا استعارہ بن گئے۔ 11 دسمبر 1922 ء کو پشاور کے قصہ خوانی بازار کے نواح میں محلہ خداداد میں واقع، ہندکو بولنے والے، ایک اعوان پٹھان خانوادے میں جنم لینے والے محمد یوسف خان، بدھ، 7 جولائی 2021 ء کو ممبئی میں 98 برس، 6 ماہ، 26 دن کی عمر پا کر، اپنے ان گنت مداحوں کی آنکھوں میں اشک سجا کر، عدم کے راہی ہوئے۔

Read more

سنیماٹوگرافی: برصغیر میں دکھائی جانے والی لومیئر برادران کی پہلی فلمیں اور انڈیا میں فلم انڈسٹری کی ابتدا

فلم میں اگرچہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو آپ کے لیے حیران کن ہو، بس ایک ٹرین پلیٹ فارم پر آ کر رک رہی ہے۔ تاہم جب یہ منظر لندن میں بڑے پردے پر پہلی بار دکھایا گیا تو فلم کے ناظرین کو یوں لگا جیسے ٹرین پردۂ فلم سے نکل کر ان کی جانب آرہی ہے اور وہ چند ہی لمحوں میں اس کے نیچے آکر کچلے جانے والے ہیں۔

Read more

مسعود اشعر کا صحافتی اثاثہ

مسعود اشعر صحافیوں کی اس قبیل سے تھے جو بیک وقت ادب و صحافت دونوں سے وابستگی نبھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک صحافت شعر و ادب کو سمجھے بغیر ممکن نہیں اور اسی طرح شعر اور کہانی کی سمجھ بھی اس وقت نہیں آتی جب تک سماج اور سیاست کو پوری طرح نہ سمجھ لیا جائے۔ صحافت وہ میدان ہے جو براہ راست ادب سماج اور سیاست سے جڑا ہوتا ہے۔ مسعود اشعر نے اپنی تمام عمر ادب  ’سماج اور

Read more

احمد فراز، مولانا کوثر نیازی اور ذوالفقار علی بھٹو

آج سے چوالیس برس پیشتر کی ایک صبح صادق۔ میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد حنیف رامے کے ٹیلیفون پر جاگ اُٹھا۔ حنیف بھائی نے پوچھا : آج کے’’ نوائے وقت‘‘ کا اداریہ پڑھا ہے؟ نہیں پڑھا۔ میں تو ابھی ابھی آپ کے فون پر بیدارہوا ہوں۔ اخبارات کا بنڈل کہیں باہر صحن میں پڑا ہوگا۔ پڑھا تو میں نے بھی نہیں۔ مجھے بھی بھٹو صاحب کے ٹیلیفون نے جگایا ہے۔ بھٹو صاحب احمد فراز کے خلاف اِس اشتعال انگیز اداریے پرسخت

Read more

دلیپ کمار کی زبان ایک عہد کی زبان تھی جو ان کے ساتھ ہی رخصت ہو گئی

نہ میں دیوداس ہوں نہ میری کوئی پارو ہے اور جب پارو نہیں تو چندرمکھی کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ پھر بھی میں جب بھی اداس ہوتا ہوں دلیپ کمار کی فلم دیوداس ضرور دیکھتا ہوں۔

Read more

میں ادبی دنیا کی Muggle ہوں

آپ میں سے جنہوں نے ہیری پورٹر دیکھی یا پڑھی ہے وہ اس اصطلاح مگل سے بخوبی واقف ہوں گے۔ جب شروع میں ہیری پورٹر کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ نجیب الطرفین جادوگر نہیں اور غیر جادوگر دنیا سے آ گیا ہے اور مس فٹ ہے۔ اسے بار بار مگل کہہ کر غیر ہونے کا احساس دلایا جاتا رہا۔ ادبی دنیا میں، خاص طور سے ادبی نشست و برخاست کے حوالے سے میں خود کو کسی قدر Muggle

Read more

مجلہ ”بساط“ میری بساط کے مطابق

علمی و ادبی مجلات او ر جرائد و رسائل کسی بھی زندہ زبان اور زندہ قوم کا قیمتی اثاثہ و ترجمان ہوتے ہیں۔ اس لیے ان علمی و ادبی مجلات کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ ان کے توسط سے نہ صرف قارئین کے خیالات و جذبات اور تاثرات کو تقویت ملتی ہے بل کہ ان ادبی مجلات کے ذریعے سے قلم کار کو اپنا مطمح نظر تحریراً پیش کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ ”بساط“ گورنمنٹ بوائز انٹر

Read more

دلیپ کمار کے لیے سائرہ بانو کو اردو اور فارسی پڑھنا پڑی

دلیپ کمار شوبز دنیا کی ان چند ہمہ جہت شخصیات میں سے ہیں جن کا تذکرہ صرف فنِ اداکاری میں ان کے کمالات تک محدود نہیں رہتا۔ بات نکلتی ہے تو شاعری، کتابوں سے محبت اور کانوں میں رس گھولتے اُن کے اُردو لہجے کی جانب چل پڑتی ہے۔

ان کی خود نوشت ’دلیپ کمار: دی سبسٹینس اینڈ دی شیڈو‘ کے پیش لفظ میں ادب اور مطالعے سے ان کی محبت کو ان کی شریکِ حیات سائرہ بانو نے خاص طور پر اجاگر کیا ہے۔

Read more

ادب میں فحاشی کا مسئلہ

فحاشی کا مسئلہ، بلاشبہ مذہبی اصلاح پسندوں اور ریاست کو طاقت کے اندھے استعمال کی غیر معمولی ترغیب دیتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاقی اصلاح کے طوفانی جوش اور ریاستی جبر کو کسی ردّعمل کا سامنا نہیں ہوتا اور انھیں اپنی طاقت کے یک طرفہ استعمال کی کھلی چھٹی ملتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ادب کے خلاف فحاشی کی فردِ جرم، ادیبوں کے لیے ایک آزمائش تو ثابت ہوتی ہی ہے، انھیں ادب کی نہاد

Read more

غالبؔ اور میں

میں نویں دسویں میں ہوں گا جب مجھے غالب ؔ سے عشق ہوا۔ اسی دوران دو ایک عشق اور بھی ہوئے لیکن انجام کے حوالے سے وہ اتنے خوشگوار نہیں رہے کہ انہیں اب تک یاد رکھا جائے۔ البتہ غالبؔ سے عشق تب سے لے کر اب تک روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غالبؔ ہمیں سمجھ بھی آتا تھا۔ استاد غالب ؔ ہمیں، الحمدللہ، نہ تب سمجھ آتا تھا نہ اب آتا ہے۔ میرے

Read more

مارکسی راہنما سی آر اسلم کی یاد میں

دس جولائی کو برصغیر کے نامور مارکسی دانشور، انقلابی رہنما اور پاکستان میں ترقی پسند تحریک کے بانیوں کے سرخیل، استاد محترم سی آر اسلم کی چودھویں برسی ہے، جو 10 جولائی 2007 کو اپنے دوستوں، ساتھیوں اور رفیقوں سے 70 سالہ طویل سیاسی رفاقت نبھا کر رخصت ہو گئے تھے۔ بلاشبہ سی آر اسلم برصغیر کی ترقی پسند تحریک کا ایک اہم باب تھے۔ انیسویں صدی میں انگریز سامراج نے اپنی کپڑے کی صنعت کا خام مال پیدا کرنے

Read more

سہیل عظیم آبادی کی افسانہ نگاری

افسانہ ایک ایسی نثری، تخلیقی و بیانیہ صنف ہے جو انسانی حیات کے کسی ایک پہلو کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے مگر اس رنگ و روغن کے ساتھ کہ واقعہ اور احساس کی سطح پر تشنگی کا احساس نہیں ہوتا، ساتھ ہی قاری کے ذہن اور طبیعت کی سیری بھی ہو جاتی ہے۔ بالکل گلاب کی اس کلی کی مانند جو ایک پورے گلاب کی جزئیات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔

افسانہ کی صنفی تعریف کے مطابق نا ہی وقت کی تنگی کی شکایت اور نا ہی اس کے زیاں کا احساس مصروف ترین اور عدیم الفرصت قاری کے ذہن کو کچوٹتا ہے۔ ایک افسانہ اور افسانہ نگار کا تعلق بھوک اور غذا کا سا ہوتا ہے۔ ایک اچھے افسانہ نگار کی بھوک اس سے اچھے افسانے تخلیق کرواتی ہے۔

Read more

ہماری لا وارث زبان

نسٹ یونیورسٹی اسلام آباد میں دوران تدریس ملک بھر میں مردم شماری جاری تھی، رومی ہاسٹل میں بھی مردم شماری کے فارم پر کروائے گے۔ بہاولپور ساہیوال، لاہور اور پنجاب کے بیشتر علاقوں سے تعلق رکھنے والے اکثریتی شاگردوں کے ناموں کے آگے ’اردو‘ کو مادری زبان دیکھ کر انتہائی خیریت ہوئی، دریافت کرنے پر معلوم ہوا جی ہم تو اردو بولتے ہیں پنجابی امی ابو کو آتی ہے لیکن انہوں نے شروع سے ہم سے اردو یا انگریزی بولی ہے ہاں البتہ نوکروں سے پنجابی میں بات کرتے ہیں۔

Read more

چندن راکھ ( افسانے ) مصباح نوید

افسانوں کے اس مجموعے نے اپنے خوبصورت سرورق اور انوکھے نام کی وجہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ پبلشر، نگارشات نے ایک ہی فون کال پہ کتاب مجھے مہیا کردی اور میں نے ان افسانوں کا مطالعہ کر ڈالا۔ چندن راکھ، محترمہ مصباح نوید کے 16 افسانوں کا مجموعہ ہے اور کتاب کے مطالعے سے علم ہوا ہے کہ یہ ان کے افسانوں کا اولین مجموعہ ہے۔ ادب اور افسانے کا طالب علم ہونے کے باوجود میری نظر میں اس سے پہلے ان کی کوئی ادبی تحریر نہیں گزری۔

Read more

کامیاب زندگی کے راز (خط نمبر 4)

محترمہ مقدس مجید صاحبہ! مجھے آپ سے اس ادبی ’سماجی اور نظریاتی مکالمے سے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ہزاروں میلوں کے جغرافیائی اور کئی دہائیوں کے عمر کے فاصلوں (جسے روایتی لوگ جنریشن گیپ کہتے ہیں ) کے باوجود ہم ایک دوسرے سے بامعنی مکالمہ کر رہے ہیں۔ مجھے اس بات کی بھی مسرت ہے کہ آپ کسی خوف‘ ڈر اور سنسر شپ کے بغیر اپنا پورا سچ لکھ رہی ہیں۔ آپ کا ادب پارہ پڑھ کر مجھے

Read more

مسعود اشعر: اپنے آپ کو کہانیاں سنانے والا

(مگر یہ کہانیاں سب کے لئے ہیں)       اخبار نویسی اور صحافت کو ادب کی روایت سے الگ کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کیا ہے۔ نا انصافیوں کے مر تکب بھی ہوئے۔ غالبا یہ ادعائیت زدہ سماجی حقیقت نگاری کی ضد میں ہوا۔ بہر نوع، وجہ کچھ بھی رہی ہو، خسارہ تو اپنی ادبی روایت کا ہی ہوا۔ پتہ نہیں، ہم یہ کیوں بھول جا تے ہیں کہ عام زندگی اور یہاں تک کہ زندہ مسئلوں کا حق ادا

Read more

افتخار عارف کا کثیر الابعاد شعری پرتو!

یک رخا شعر جلد موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ چونکہ معنیاتی پہلوؤں کے بغیر اس میں صرف ایک لفظی پرت ہوتی ہے، جو اس کے سطحی چہرے سے فوراً پردا اٹھا دیتی ہے۔ عروس سخن کا یوں عریاں ہونا اس کے باطنی اور ظاہری حسن کو نہ صرف وسعت پذیر ہونے سے روکتا ہے بلکہ قاری کی لذت اندوزی کا سارا ذائقہ بھی کرکرا کر دیتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ یک رخا شعر جس کی جڑیں

Read more

بریفنگ اور دلاورانِ پاکستان

خلافت عباسیہ کے دورِ زوال والے بغداد کے لوگوں کی طرح ہم بھی فروعات میں الجھ جاتے ہیں۔ گزشتہ جمعرات کے روز پاک فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہوں نے 80کے قریب اراکین پارلیمان کے ساتھ افغانستان کے موضوع پر آٹھ گھنٹوں تک پھیلی گفتگو کی۔ اس گفتگو کو ’’آف دی ریکارڈ‘‘ ٹھہرایا گیا تھا۔ ہمارے رپورٹروں کی کماحقہ تعداد کو مگر اس کی تفصیلات کاپتہ چل گیا۔ یوٹیوب پر چھائے چند’’ذہن سازوں‘‘ کے پروگرام سنے تو گماں یہ

Read more

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کا اسلوب تحریر: جس کے پیرہن سے خوشبو آئے

ہم اس مضمون میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے اسلوب تحریر کے انشائی پہلو پر گفتگو نہیں کریں گے بلکہ اس کی باطنیت یعنی جوش و جذبے، ذوق و شوق اور اس میں پنہاں وفور عشق و محبت اور وارفتگی کے حوالے سے بات کریں گے، جو ان کے قلم کو قوت و رعنائی اور آتش و زیبائی بہم پہنچاتی ہیں، اس میں شیرنی گھولتی ہیں اور ان کے قلم کو ہردم جواں اور ہر لحظہ رواں رکھتی ہیں۔

Read more

میں مابعد جدیدیت کا شکار کیوں نہیں ہوں؟

ڈاکٹر صلاح الدین درویش اردو نوجوان مفکر ہیں۔ ادب، فلسفہ اور تاریخ کے ان کی دلچسپی کے خاص مضمون ہیں۔ بہترین نقاد اور شاعر بھی ہیں ایم اے اردو کرنے کے علاوہ میں پی ایچ ڈی اردو کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں محکمہ تعلیم کے استعمال کے ساتھ منسلک ہے۔ بندہ ناچیز نے چند دن قبل درویش صاحب کا ایک لیکچر سنا جس میں ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے مابعد جدیدیت کی بنیاد پر تقریباً ہر قسم کو

Read more

کچھ مرد پورے کے پورے ”عضو مخصوص“ سے بنے ہوتے ہیں

ہائے ایک ننھے فرشتے کو ایک دن خمیر لانے پہ مامور کر دیا گیا۔ ننھا منا تھا۔ چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں جتنا خمیر اٹھا سکتا تھا۔ اٹھا کر آسمان تک پہنچا تو پتا لگا کہ بس اتنا ہی خمیر اس کے ہاتھوں میں بچا ہے جتنا ایک مرد کے عضو مخصوص کی تخلیق میں کام آتا ہے۔ اور خمیر بھی اسی خاص جگہ کا بچا تھا۔ شاید نم تھا، ہاتھوں سے چپکا رہ گیا۔ بہرحال اب اس کو بنانا تو

Read more

کیا مرد کو روبوٹ ہونا چاہیے؟

آج کل یہ بحث بہت شدت اختیار کر چکی ہے کہ عورت کا نا مکمل لباس مرد کو اکساتا ہے یا نہیں، اور مرد اس کے ردعمل میں کیا کرتا ہے۔ ہم نے جنس کے ساتھ جس طرح اخلاقیات کو جوڑ دیا ہے ہم اسے باقی جبلتوں اور دوسری انسانی اقدار کی طرح یا تو سمجھتے نہیں یا سمجھنا چاہتے نہیں۔ جنس کے موضوع پہ بات ہو تو ہمیں فوراً یہ خوف کھائے جاتا ہے کہ کہیں ہم اپنی روایات

Read more