مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ ماڈردن ازم تک (چھٹی قسط)

جس طرح نشاط ثانیہ نے ایک پل کی طرح یونانی و رومن تہذیبی ورثے کے پس منظر میں قرون وسطی اور اور ماڈرن دور کو آپس میں جوڑ کر ایک جدید دور کی بنیا رکھی اور مڈل ایج کی مذہبی فکر کو سیکولر ازم، ہیومنزم اور فرد کی انفرادیت جیسے تصورات سے آراستہ کیا اسی طرح نیوکلاسیکل ازم نے قدیم کلاسیکس کو جدید دور میں شامل کر کے اسے حیات نو عطا کی۔ نشاط ثانیہ اگر مغربی تہذیبی ارتقا کے

Read more

مفتی اور خلیل الرحمان قمر جیسوں کا کیا ہو گا

صاحب، بات کرنے سے پہلے قسم لے لیجیے جو کسی بھی ادبی، سیاسی، مذہبی اور سماجی گروہ سے ہمارا تعلق ہو اور ہم کسی ایک کے ایجنڈے پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے دوسروں کے بھڑکتے ہوئے جذبات پاؤں تلے روند رہے ہوں۔

مفتی نام سے خوش فہم ایک صاحب نے ہمیں بے وقوف عورت کے لقب سے نوازا ہے۔ ہم انہیں جانتے نہیں سو ہمیں حیرت بھی نہیں ہوئی بلکہ اپنی پیٹھ ٹھونکنے کو جی چاہا کہ ہم مرد ذات کے متشددانہ رویوں کے متعلق جو لکھتے ہیں وہ انہوں نے دو منٹ میں ثابت کر دیا۔ ایک انجان عورت پر فتویٰ جاری کرنے والا مرد ذاتی زندگی میں کیا کیا کرتا یا کر سکتا ہو گا، تصور کر لیجیے!

Read more

امریکہ کے جشن آزادی پر پاکستانی تارکینِ وطن کیا محسوس کرتے ہیں؟

چار جولائی امریکہ میں یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہاں پاکستان کی طرح گلی محلے جھنڈیوں سے سجانے کی روایت تو نہیں مگر اکثر شہری ایسے لباس پہن کر، جن پر سرخ و سفید دھاریاں ہوں یا امریکی پرچم بنے ہوں، اپنے ملک سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ جشن آزادی منانے کے لئے آتش بازی اور بار بی کیو پارٹیز کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

امریکہ کو عام طور پر تارکین وطن کا ملک کہا جاتا ہے۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے یہ تو میں نہیں جانتی لیکن یہ اک حقیقت ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں اتنے تارکین وطن نہیں، جتنے امریکہ میں بستے ہیں۔

Read more

ٹرمینل لوسیڈیٹی: کچھ انتہائی بیمار مریض موت سے پہلے اچانک ٹھیک کیوں ہو جاتے ہیں؟

کئی شدید علیل مریضوں کی حالت میں موت سے پہلے بہتری کے رجحان کو بیان کرنے کے لیے مختلف زبانوں اور زمانوں میں اصطلاحات موجود ہیں تاہم یہ ایسی بات ہے جو سائنس کے لیے ابھی تک نا قابل فہم ہے۔

Read more

گونجتی سرگوشیاں (افسانے )۔

محترمہ فرحین خالد نے نہایت محبت و تکریم سے مجھے یہ کتاب بھیجی۔ بھیجی تو انہوں نے بقول ان کے ”میرے ذوق مطالعہ“ کے لیے تھی لیکن کتاب کے مطالعے نے مجھے اس پر کچھ لکھنے کو اکسایا۔ بندہ اگر پیشہ ور نقاد نہ ہو تو مضمون لکھنا کافی مشکل امر ہوتا ہے، سو میری گزارشات مضمون کی صورت ہیں۔

افسانوں کے اس مجموعے میں سات افسانہ نگاروں، ابصار فاطمہ۔ ثروت نجیب۔ سمیرا ناز۔ صفیہ شاہد۔ فاطمہ عثمان۔ فرحین خالد اور معافیہ شیخ کی 35 سرگوشیاں ہیں جنہیں گونج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان میں سے ثروت نجیب کا تعلق کابل، افغانستان سے ہے اور باقی سب ہماری ہم وطن ہیں۔

Read more

امریکہ میں مہا بھارت

یہ کہانی، امریکہ میں بسنے اور کام کرنے والے عظیم بھارت نژاد امریکی شہریوں کی ہے جو اپنے، دھرم، ارتھ، کام اور موکش کے اصولوں پر چلتے ہوئے، امریکہ میں مہا بھارت جیسی مہاکاوی کی نت نئی داستانیں رقم کر رہے ہیں۔ بھارت کے یہ سپوت، اپنے وطن، اپنی ثقافت اور نظریے کی جنگ تلواروں، نیزوں، برچھی یا بندوق کی مدد سے نہیں بلکہ اپنے علم، ہنر، محنت اور اخلاق سے جیت رہے ہیں۔ وہ ہر شعبہ ہائے زندگی میں

Read more

شینا کا وقار اور ادب کا تاج، ظفر وقار تاج

گلگت بلتستان میں شاعری، ادب، موسیقی، ثقافت اور مقامی زبانوں کا ذکر ہو اور تاج خاندان کا ذکر نہ ہوتو کہانی ادھوری ہی نہیں بلکہ بدذائقہ ہوجاتی ہے۔ تاج خاندان سے ہماری محبت کا رشتہ دادا کے زمانے سے رہا ہے۔ سرکاری مصروفیات کے باوجود عبدالخالق تاج نے ادب، شینا شاعری اور موسیقی کے لئے اپنی جوانی وقف کر رکھی تھی اور یہ سلسلہ ریٹائرمنٹ کے بعد اب تک جاری ہے۔ اس سے قبل تعلیم یافتہ لوگ موسیقی کی محفلوں

Read more

ظفر صمدانی: ایک با کمال شخصیت  (آئی اے رحمان کی تحریر)

دوسری یا تیسری بار گھنٹی بجانے کے بعد امید بندھی کہ گھر میں رہنے والے کسی فرد سے ملاقات ہو ہی جائے گی اور ممکن ہے مکان میں داخلے کی اجازت بھی مل جائے، وہ یوں کہ ایک نوجوان گیٹ کی طرف آتا نظر آیا۔ وہ سفید قمیص شلوار پہنے ہوئے تھا جو کھاتے پیتے لاہوریوں کا شب خوابی کا لباس ہوتا تھا، گریبان کھلا ہوا، سر پر بال بڑے سلیقے سے بکھرائے ہوئے اور ہاتھ میں آدھی کھلی کتاب

Read more

ضیا الحق کو بھٹو نے کس وجہ سے آرمی چیف بنایا تھا؟

مہینہ جولائی سال 1977 ء اور تاریخ تھی پانچ جب جنرل ضیاء الحق نے بندوق کی نوک پر پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے نکال کر پابند سلاسل کر دیا اور خود پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک بن گئے۔

بھٹو اس خوش فہمی میں رہے کہ ضیاءالحق ان کا اپنا بنایا ہوا آرمی چیف ہے وہ انھیں کبھی زک نہیں پہنچائے گا۔ ان کی خوش فہمی بجا تھی کیوں کہ بھٹو نے ضیاءالحق کو آرمی چیف بناتے وقت تمام اصول و ضوابط نظر انداز کر دیے تھے چھ جرنیلوں کو سپرسیڈ کر کے ضیاءالحق کو سپہ سالار بنایا گیا۔ ضیاءالحق کی بطور آرمی چیف تقرری بھی دلچسپ ہے۔

Read more

عمران خان اور پاکستانیت

عمران خان نے ”پاکستانیوں“ کو شعوری طور پر خود کو ”پاکستانیت“ کے رنگ میں رنگنے کی تلقین کی ہے تاکہ آزاد اور خود مختار اقوام کی عالمی مارکیٹ میں اُنہیں عزت افزائی حاصل ہو اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے۔تاہم اس تصور کا کھوج لگانے سے کچھ پریشان کن سوالات اٹھتے ہیں، لیکن کوئی آسان جواب نہیں ملتا۔ ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ”پاکستانیت“ کے اندرون اور بیرون ملک کیا منفرد اور ممتاز خواص ہیں؟ وہ غیر ملکیوں کے

Read more

معصومیت سے شعور تک کا سفر

بہت سے خواب آنکھوں میں سجائے، محنت، امید اور کامیابی کے جذبے سے سرشار دل اور آگے بڑھنے کی لگن مجھے جامعہ پنجاب کھینچ لائی۔ ایف اے میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے کے بعد والد صاحب کے پرزور اصرار، خواہش اور اپنی بیٹی کی محنت پر یقین رکھتے ہوئے میرا ایڈمیشن ڈیپارٹمنٹ آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر، جامعہ پنجاب میں کروا دیا گیا جو کہ اب انسٹیٹیوٹ آف انگلش سٹڈیز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ معلوم کروایا گیا تو

Read more

کاکروچ ہی بہتر ہے

عدالت کا کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا، جج کے آتے ہی شور اچانک بلند ہو کر وہیں رک گیا، جیسے کسی نے آہستہ آہستہ ریموٹ کا بٹن دبا کے ٹی وی کی آواز بند کی ہو۔ جج نے اپنی کرسی سنبھالی اور اردگرد دیکھا۔ کالا کوٹ سنبھالتا ہوا ایک وکیل اٹھ کھڑا ہوا۔ ’جناب عالی اگر آپ اجازت دیں تو عدالت کی کارروائی شروع کی جائے‘ ۔ ’ہاں اجازت ہے، لیکن ملزم کدھر ہے‘ ؟ جج نے سوالیہ نظروں

Read more

اگر بن لادن شہید ہے!

”جب برصغیر میں انگریز آیا، اس نے مدرسوں کے علم اور طریقۂ تعلیم کو فرسودہ کہہ کر نظام سے خارج کر دیا تو بر صغیر میں دو طرح کے علماء پیدا ہوئے ؛ اول وہ جنھوں نے کہا کہ دنیا جہان کا علم صرف قرآن اور احادیث کے اندر ہے، ہمیں کسی اور علم کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے، دوم وہ جنھوں نے کہا کہ اصل علم صرف سائنس ہی ہے، جہاں بھی قرآن اور سائنس کے بیچ نزاع

Read more

انگریزی زبان، لباس اور احساس کمتری

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فرما یا ہے کہ انگریزی بولنا اور مغربی لباس پہننا فخر کی بات نہیں، بلکہ احساس کمتری کی نشانی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب دنیا میں انگریزی کو جدید علوم کے حصول کا بنیادی ذریعہ اور کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے ناگزیر تصور کیا جاتا ہے۔ اس باب میں دنیا کے کئی ممالک کی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن ہم یہاں صرف عوامی جمہوریہ چین کی مثال

Read more

الف انار، ب بکری، پ پتا نہیں

ممکن ہے کہ آپ کے ساتھ کبھی نہ کبھی ایسا ضرور ہوا ہو۔ مراد ہے کسی کی زبان سے نکلی ہوئی کوئی بات جس نے آپ کا ورلڈ ویو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا۔ گپ نہیں ماروں گا، صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ پچھلے تیس برس میں یہ اتفاق میرے ساتھ دو مرتبہ ہوا۔ پہلا مشورہ جس نے میری کایا پلٹ کے رکھ دی ممتاز صدا کار اور ایکٹر جناب ضیا محی الدین کا ایک جملہ ہے۔ سنٹرل

Read more

بچوں کو یہ بھی پڑھایا جائے

لازم ہے بچوں کو پڑھایا جائے کہ جب چار لوگ مل کے رہتے ہیں تو کچھ اصول وضع کرتے ہیں۔ سب پر واجب ہے کہ ان اصولوں کی پیروی کریں۔ اگر یونیورسٹی ہے تو یہ اصول پراسپیکٹس کہلاتے ہیں۔ یونیورسٹی میں کسی نے پڑھنا ہے کسی نے پڑھانا ہے کسی نے امتحان میں پاس فیل ہونا ہے کوئی کورس منتخب کرنا ہے۔ یہ سب اسی پراسپیکٹس کے مطابق ہو گا۔ ایسا ہر گز نہیں ہو گا کہ ایک بچے کے

Read more

سافٹ امیج یا کریہہ تصویر!

وزیراعظم نے ایک بار پھر سافٹ امیج پر حملہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ احساس کمتری کی علامت ہے۔ انگریزی بولنا، مغربی ملبوسات پہننا یہ سب خرافات ہیں۔ بس ایک ہی چیز آج اس ملک کو چاہییے وہ ہے صرف اور صرف خود داری۔ وزیراعظم آئی ایس پی آر کی تقریب "نیشنل ایمیچیور شارٹ فلم فیسٹیول” سے خطاب کر رہے تھے۔ اسی تقریب سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجرل جنرل افتخار بابر نے بھی خطاب کیا

Read more

سجاد جہانیہ کی ادھوری کہانیاں

فیس بک ایک ایسا سوشل میڈیا ہے جس نے نہ صرف سالوں سے بچھڑے ہوئے دوستوں اور گم شدہ لوگوں کو آپس میں ملایا ہے۔ بلکہ اس ذریعہ سے بہت سے اہل قلم، دانشوروں اور ادیبوں کے علاوہ ادب سے روشناسی ہوئی۔ میری فیس بک کے توسط سے جن اہل قلم سے جان پہچان ہوئی ان میں ایک بڑا نام سجاد جہانیہ کا ہے۔ ان سے تعارف ہوا تو ایسا لگا کہ برسوں سے ان سے جان پہچان ہے۔ چند

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (پانچویں قسط)

قرون وسطی یا مڈل ایج کے فوراً بعد مغربی تہذیب کا وہ یاد گار دور یورپ میں شروع ہوجاتا ہے جس نے وہاں کے آرٹ، کلچر، سیاست اور اقتصادیات میں نہ صرف دیر پا اثرات پیدا کیے بلکہ آنے والے ادوار کے لیے بھی ایک جدید ماڈرن ترقی یافتہ یورپ کی بنیادیں مستحکم کردی۔ نشاۃ ثانیہ جسے فرانسیسی زبان میں ’رینیسانس‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی دوبارہ پیدا ہونا یا ’ری برتھ‘ کے ہیں یعنی اس دوران یورپ میں

Read more

طلسمات کا شاعر منیر نیازی

منیرؔنیازی کے کلام میں طلسماتی اندازبہت نمایاں ہے۔اُن کے کلام میں طلسم ایک منفردحیثیت سے ملتاہے یوں محسوس ہوتاہے کہ طلسم اُن کی رگوں میں رچابساہےجس نے شاعری کاروپ دھار لیاہے،کیوں کہ جب داخلی کیفیات شاعری کی دیوی سے ٹکراتی ہیں توشعرمیں جولذت،شدت اورشعریت پیداہوتی ہے وہ دیدنی ہوتی ہے ،منیرؔنیازی کی داخلی کیفیات بھی شعرکے روپ میں آکرکچھ ایساہے سماں تخلیق کرتی ہیں جس سے اُن کی شعری فضا طلسم میں ڈوب جاتی ہے اورطلسماتی فضااٹکیلیاں کرتی ہوئی دکھائی

Read more

نئی نسل کے نئے سوال۔۔۔۔خط نمبر 02

میں جب پاکستان کے پچھلے پچاس برس کی تاریخ پر نگاہ دوڑاتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ بعض حوالوں سے پاکستان نے ترقی کرنے کی بجائے ترقی معکوس کی ہے۔ پچاس سال پہلے جو ہم سوال پوچھ سکتے تھے اب نہیں پوچھ سکتے کیونکہ ادیب شاعر اور دانشور خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں ان پر فتویٰ نہ لگ جائے کہیں انہیں جیل میں نہ ڈال دیا جائے کہیں انہیں قتل نہ کر دیا جائے۔

Read more

امرد بازی، بادشاہ، مشائخ اور شاعر

سعودی عرب کے سابق گرینڈ مفتی شیخ عبدالعزیز بن باز کے شاگرد رشید، ڈاکٹر سلمان العودہ نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پسندی کی اس دنیا میں کوئی سزا نہیں ہے اور ہم جنس پسند اس فعل کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوتے۔ 

اسی طرح عرب سپرنگ کا آغاز کرنے والے ملک، تیونس کے 80 سالہ مفکر راشد الغنوشی نے بھی ایک انٹرویو میں بتایا، ”ہم جنس پسندی کو ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق ہم جنس پسندی ایک نجی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں قانون کا اختیار نہیں ہونا چاہیے چنانچہ اسے جرم نہیں ہونا چاہیے۔

مردوں میں ہم جنس پسندی کی تاریخ نسلوں کی بجائے صدیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ عربی زبان میں اسے لواطت اور انگریزی میں سدومی کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں ہی اصلاحات میں مذہب کا دخل ہے۔ عربی کا لواطت پیغمبر لوط کے نام سے مشتق ہے جب کہ انگریزی سدومی موجودہ اسرائیل میں بحیرہ مردار کے جنوب مغربی کنارے پر واقع جبل سدوم  سے ماخوذ ہے۔

Read more

علم کیا، علم کی حقیقت کیا؟

لاہور میں ایک صاحب سلیم نام (ان کا پورا نام جان بوجھ کر نہیں لکھ رہا ہوں ) کے ہوا کرتے تھے انہیں پتہ نہیں کیوں یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ ڈاکٹر علامہ اقبال سے بڑے شاعر ہیں۔ یار دوستوں نے بھی شغل شغل میں ان کو بڑھاوا دینا شروع کر دیا اور مذاق مذاق میں بات بڑھتی چلی گئی اور وہ سچ مچ میں سنجیدہ ہو گئے اور انھوں نے واقعی خود کو اقبال سے بڑا اور

Read more

احمد راہی۔ پنجابی ادب کا ایک چمکتا ستارہ۔

احمد راہی متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں پاکستان ہجرت کر کے لاہور میں قیام کیا۔ ان کے 1952 میں چھپنے والے پنجابی نظموں کے مجموعے ً ترنجن ً کو پنجابی ادب میں ایک کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ اس شعری مجموعے میں پنجابی ثقافت اور تقسیم ہند میں پیش آنے والے واقعات کو ہیر۔ صاحباں اور سوہنی جیسے لوک کرداروں کی تشبیہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی بیشتر نظمیں

Read more

اختر الایمان کی نظم ”مسجد“ ایک جائزہ

اختر الایمان جدید اردو شاعری کے ایسے منفرد و ممتاز شاعر ہیں، جن کی شاعری جدید اردو ادب میں ایک مستقل عنوان کی حیثیت رکھتی ہے۔ نہ صرف ان کے شعری تجربے بلکہ ان کی نظموں کی تکنیک نے بھی پوری جدید اردو شاعری کو متاثر کیا ہے۔ ان کی شاعری کا بنیادی رویہ تہذیب اور معاشرے میں سماجی اور نفسیاتی اقدار کی کشمکش اور تصادم سے عبارت ہے۔ شکست و ریخت اور داخلی و خارجی ہیجانات کے عہد میں اختر الایمان نے انسانی زندگی میں نا برابری، ذہنی دباؤ اور جذباتی تنہائی کے تجربوں کو شعری پیکروں میں ڈھال کر اردو شاعری کو ایک نئے تجربے سے روشناس کرایا ہے۔

Read more

ایک اجنبی دنیا میں دس منٹ اور 38 سیکنڈ

الف شفق کا یہ تازہ ترین ناول ہے۔ میں نے ان کی تقریباً تمام کتابیں مطالعہ کی ہیں اور ان پر اپنی رائے کا اظہار ایک مضمون کی صورت میں کر چکا ہوں۔ کل ہی میں نے اس ناول کا مطالعہ ختم کیا ہے۔ الف ان کا نام ہے اور شفق ان کی والدہ کا نام۔ اس ناول کے آخر میں وہ اپنی ماں کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنانے کے بارے میں بھی بتاتی ہیں۔ اور شاید اس کا ذکر اس کتاب میں ضروری بھی تھا بہرحال شفق سے شفقت اور یہ شفقت اور ہمدردی ہے الف شفق کی جو ان کے تمام ناولوں میں نمایاں ہیں۔

Read more

بچوں سے جنسی رغبت کا عارضہ (پیڈوفیلیا) – ایک نفسیات دان کا نقطہ نظر

ڈاکٹر سہیل گیلانی سے ہماری عمر بھر کی واقفیت ہے۔ ڈاؤ میڈیکل کالج میں دوران طالب علمی ان کا حوالہ شعر و ادب، فن تقریر اور طلبا سرگرمیوں میں شرکت تھا۔ اب ان کی شناخت امریکہ کے ایک ایسے سائیکاٹرسٹ کی ہے جو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں انتہائی خطرناک مجرمانہ ذہنوں کے نہاں خانوں میں اتر کر مقفل دروازے وا کرتا ہے تاکہ تشخیص، علاج، اصلاح اور دوبارہ ان کو سماجی زندگی میں لانے کی راہیں نکالی جاسکیں۔

پیڈوفیلیا کیا ہے؟

سہیل گیلانی: یہ ایک بالغ شخص کی نابالغ بچوں میں حد سے بڑھی ہوئی جنسی کشش ہے جو بار بار سر پر سوار ہو کر شہوانی جذبات ابھار دیتی ہے۔ یہ کبھی بلا استثنا (Exclusive) نہیں ہوتا۔

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (چوتھی قسط)

جب بھی ہم قرون وسطی یا مڈل ایج کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا ذہن خودبخود پانچویں صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری کے درمیان گزرے ہوئے ایک ہزار برسوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ مغربی تاریخ کا یہ دور 476 عیسوی میں مغربی رومن ایمپائر کے زوال سے شروع ہوتا ہے اور لگ بھگ 1454 عیسوی میں مشرقی رومن ایمپائر کے زوال پر ختم ہوتا ہے جس کے بعد یورپ کی تہذیب سے تاریکی کا مکمل خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ چند سو برس نشاط ثانیہ کے آتے ہیں جس کے بعد یورپ ایک جدید ماڈرن سائنسی دور سے بدل جاتا ہے۔

Read more

چترال کے عبدالواحد: ’آکسفورڈ میں داخلے پر لوگوں نے دولہے کے جیسا استقبال کیا‘

ابھی عبدالواحد خان آکسفورڈ سے ہی ماسٹرز کے آخری مرحلے میں تھیسز کر رہے ہیں اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کے تھیسز اور آگے پی ایچ ڈی کا موضوع چترال کے ہی بارے میں ہے۔

Read more

نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل خط نمبر 01

میرے ذہن میں فلم کی طرح سے ایک واقعہ چل رہا تھا جب میں نے اپنے ایک استاد سے پوچھا تھا کہ ”اقبال کو کتابوں میں ہمیشہ ہیرو کی طرح پڑھا ہے۔ ایک نئی تحریر میں میں نے یہ پڑھا کہ اقبال نے اپنی شاعری میں مذہبی شدت پسندی کو بھی فروغ دیا ہے۔ اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟“ اس استاد نے مجھ سے مکالمے کی بجائے مجھے آدھے گھنٹے کے لئے پوری کلاس کے سامنے کھڑا کر کے اس طرح سے احساس دلایا کہ میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کر دیا ہو اور تو اور میرا کوئز بھی نہیں لیا تھا۔

Read more

عورت نہیں یہ تو گوشت کا لوتھڑا ہے

گزشتہ روز، میٹرو بس ایک اسٹاپ پر ٹھہری، جہاں کم عمر طالبہ پر نویں یا دسویں جماعت کا لڑکا چیخ چلا رہا تھا۔ بآسانی معلوم ہوتا تھا کہ کم عمر طالبہ کو وہ لڑکا ہراساں کر رہا تھا، وہ اس قدر بد معاشی اور بد تمیزی کا مظاہرہ کرتا رہا کہ لڑکی اس پر یہ کہہ کر چلانا شروع ہوئی کہ وہ اپنی بد کلامی بند کرے۔ اس وقت اس اسٹاپ پر پندرہ سے بیس افراد اور سکیورٹی اہلکار موجود تھے، جن میں سے ایک بھی اتنی سکت نہ رکھتا تھا کہ بدمعاشی کرتے اس لونڈے کی زباں کو قفل لگاتا۔

گالیاں، دھمکیاں، ہراسانی کو دیکھتے جب میں نے اور میرے ساتھ میری عزیزہ نے اس لڑکے کو منہ بند رکھنے اور حدود میں آنے کا کہا، جب ہی اس نے ہم پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ اس لڑکے کی عمر ہماری تعلیم سے بھی کم تھی، مگر اس کے اندر دہکتا عورت دشمنی کا الاپ تھا کہ جلتا رہا۔

Read more

حضرت طالب جوہری: جن سے ملنے کا ہر کوئی طالب تھا

دنیا میں ایسے چند ہی لوگ وجود رکھتے ہیں جن سے لوگ ان کی زندگی میں بھی ملنے کا اشتیاق رکھتے ہیں اور ان کے گزر جانے کے بعد ان سے جڑی یادوں کو یاد کر کے لمبی سانسیں بھرتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی ہے اور آنکھوں دیکھا مشاہدہ بھی کہ دولت مند آدمی زندگی میں تو شاید لوگوں کا منظور نظر ہو مگر مٹی میں جانے کے بعد اس کا تذکرہ زبانوں پر پھر نہیں آتا۔ مگر علم کی

Read more

اسلامی دنیا میں سائنس کا زوال، غزالی اور تصوف

فلسفہ کے خلاف اپنی مشہور عالم تصنیف تہافۃ الفلاسفہ کی ابتداء میں ہی الغزالی نے سائنس کے حوالے سے اپنے اس موقف کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ تہافۃ الفلاسفہ کے دوسرے مقدمہ میں غزالی لکھتے ہیں :

”ایسے امور جن پر فلاسفہ تو یقین رکھتے ہیں، لیکن وہ کسی مذہبی اصول سے متصادم نہیں ہیں، ان معاملات میں فلسفیوں سے اختلاف کرنا ایمان بالرسالت کا تقاضا نہیں ہے۔

مثلاً ان (فلسفیوں ) کا ماننا ہے کہ چاند گرہن کا سبب یہ ہے کہ سورج اور چاند کی روشنی کے درمیان زمین حائل ہو جاتی ہے، کیونکہ چاند سورج ہی سے روشنی مستعار لیتا ہے اور زمین ایک کرہ ہے۔ سو اگر چاند پر زمین کا سایہ پڑ جائے تو اس سے سورج کا نور چھین جائے گا۔ اسی طرح ان (فلاسفہ) کا نظریہ ہے کہ سورج گرہن کا سبب ناظر اور سورج کے درمیان کا چاند حائل ہونا ہے ؛ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب چاند اور سورج ایک ہی زاویے پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں۔

Read more

گالی کلچر نہیں، جرم کی دھمکی ہے – آڈیو ویڈیو کے ساتھ

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے گالی کو پنجاب کا کلچر قرار دیا ہے۔ بظاہر محترم روحیل اصغر پارلیمنٹ کے فلور پر اپنے رویے کا مسکت دفاع کرنے سے قاصر تھے چنانچہ رکھائی سے اپنا ذاتی فعل پنجاب کی ثقافت کے سر منڈھ دیا۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ 80 کی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں انڈر گریجویٹ طالب علم تھا اور انگریزی اختیاری کا مضمون لے رکھا تھا۔ منظور شدہ نصابی کتاب

Read more

ضامن ادب: شخص اور شاعر

ضامن صاحب اپنے وقت کے بہترین ادبی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کہنہ مشق شاعر بھی تھے چناں چہ شاعری ان کی شخصیت کا بھر پور حوالہ ہے. انھوں نے نصف صدی پر محیط تخلیقی زندگی گزاری. اردو کے ساتھ فارسی میں بھی طبع آزمائی کی. نمونے کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ کیجیے : بت کافر, ادائے کج کلاہے حسینے, مہ جبینے, رشک ماہے بہ شوخی خرامے, کرد مفتوح دلم بردہ بہ دزدیدہ نگاہے ٭٭٭ حیدرآباد کے شعرا

Read more

شین فرخ۔ بی پڑوسن (حصہ دوم)

دنیا جانتی ہے کہ احفاظ اپنے نظریات کے حوالے سے کتنے سخت گیر اور بے لچک تھے۔ صحافتی ٹریڈ یونین میں وہ منہاج برنا کو اپنا لیڈر مانتے تھے۔ جب کچھ لوگ برنا پی ایف یو جے سے الگ ہوئے تو ان میں احفاظ کے بہنوئی نسیم شاد اور شین فرخ بھی شامل تھے، اس پر احفاظ ہمیشہ ان دونوں سے ناراض رہے حالانکہ شین نے شاید میری وجہ سے ہمیشہ ان کے ساتھ دوستی نبھانے کی کوشش کی۔ اور

Read more

ساقی فاروقی اور منصور آفاق کی قلم کلامی

( 2004 کی لکھی ہوئی تحریر ہم سب کے لئے) ساقی فاروقی لندن میں رہتے ہیں اور میں لندن سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور برمنگھم میں مقیم ہوں مگر زندگی اتنی زیادہ مصروف ہے کہ پچھلے پانچ سال میں صرف ایک مرتبہ میں ساقی فاروقی کے لئے یہ ڈیڑھ سو کلو میٹر کا راستہ طے کر سکا ہوں۔ ان سے صاحب سلامت، علیک سلیک اور میل ملاقات کا واحد وسیلہ ٹیلی فون ہے۔ کبھی وہ میرے فون کی گھنٹی

Read more

چھاؤں سے دھوپ تک کا سفر

پاکستان میں ان دنوں ایک ڈرامے کے پرومو کا کافی چرچا ہے جس کے اسکرپٹ پر قیاس آرائیاں جاری ہیں دیگر پاکستانیوں کی طرح ہمیں بھی بذریعہ سوشل میڈیا ہی اس کے متنازعہ اسکرپٹ کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ اس ڈرامے کی رائٹر رومانوی ناول نگار کی حیثیت سے شہرت رکھتی ہیں۔ پھر ایک پرائیویٹ چینل نے ان کے ناول کو ڈرامائی تشکیل دی اور یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی کئی شہرہ آفاق ناولوں کو

Read more

مجھے اپنی طالب علمی کی یاد سے ڈر کیوں لگتا ہے؟

کچھ عرصہ قبل ایک دوست جو کہ پرائمری سکول میں بطور استاد اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں، بتایا کہ وہ ہفتے میں ایک دن بچوں کو اپنے خیالات لکھنے کا موقع دیتے ہیں۔ بچے خوشی خوشی چھوٹی چھوٹی کہانیاں یا پھر اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتے ہیں اور ذہنی مسرت پاتے ہیں۔ یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہ دوست ایک استاد کا فرض ہی نہیں بلکہ محبت کا اظہار کر رہا ہے، محبت کا

Read more

زندگی، خوشی اور ابو جان

زندگی کیا ہے؟ پیہم جستجو۔ کائنات کے بھید کے حصول کا تسلسل۔ رجائیت بھرے وجود کے ساتھ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں۔ صبر و تشکر کے جذبات سے معمور دل اور ہر لمحہ خوشیوں کا تعاقب۔ ہر ایک پل سے رنگ ’خوشبو مسکراہٹ‘ قہقہے اور کامرانیاں کشید کرنے کا عمل۔ یہ سب کوئی کتابی باتیں نہیں کائنات میں اپنے وجود کے تعارف کا وہ قرینہ ہے جو میں نے اپنے والد سے سیکھا۔ میرے پیارے ابو جان

Read more

میرے پاپا

احمد کی جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی ہے وہ مجھے اپنے پاپا جیسے دکھتے ہیں، کبھی کبھی میری بہنیں بھی کہتی ہیں، احمد بھائی پاپا کی طرح لگتے ہیں۔ اچھا لگنا اور ہونا الگ الگ بات ہو سکتی ہے، لیکن ان کی عادتیں تو شروع دن سے پاپا کی طرح ہیں۔ غیر مذہبی، انسان دوست، رکھاؤ، مروت، مہمان نوازی، پلمبر، مزدور، الیکٹریشن سب کے وقت کے حساب سے چائے، پانی اور کھانے کا خیال۔ ارے بھئی یہ مضمون پاپا

Read more

بی پڑوسن (شین فرخ)

کوئی بیس سال پہلے کی بات ہے، میں طاہرہ خان کے ساتھ ایک مشاورتی پروگرام کے لئے کوئٹہ گئی ہوئی تھی۔ ہم سرینا ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ ایک صبح ناشتے کے لئے باہر نکلے تو ایک میز پر فراز اکیلے بیٹھے نظر آئے، غالب کی طرح ہمارے بھی ہاتھ پاؤں خوشی سے پھول گئے، ساحر اور فیض کے بعد ہم ان ہی کی شاعری کے دیوانے تھے لیکن کبھی ذاتی طور پر ملاقات کی نوبت نہیں آئی تھی حالانکہ وہ

Read more

مختلف ادوار میں ادیب کی بدلتی ہوئی سماجی حیثیت

اجتماعیت کا دور جس میں ادیب کو کوئی الگ شناخت حاصل نہ تھی ایسے دور میں پیدا ہونے والا ادب اجتماعیت پر مبنی تھا اسے کسی ایک فرد کے ساتھ موسوم نہیں کیا جاتا تھا۔ جب کہ دوسرے دور کا ادب جسے ہم کلاسیکی ادب کا نام دیتے ہیں اس میں ہمیں ادیب تین حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے پہلے نمبر پر ایسا ادیب جو دربار اور درباری روایت سے براہ راست جڑا ہوا ہوتا ہے دوسرے نمبر پر

Read more

نوجوان لکھاری ابصار فاطمہ کا پہلا سنجیدہ ناول

’ہم سب‘ پر کالم لکھتے رہنے کے دوران جن لکھاریوں ’ادیبوں اور دانشوروں سے میری غائبانہ ملاقاتیں ہوئیں ان میں سے ایک ابصار فاطمہ بھی ہیں۔ میں نے جب ان کے کالم اور افسانے پڑھے تو مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کم عمری میں ہی زندگی اور ادب کے بارے میں سنجیدہ رویے کی مالک بن چکی ہیں۔ حال ہی میں ان کے پہلے ناول۔ افسانے کی حقیقی لڑکی۔ پڑھنے کا موقع ملا تو میں حیران بھی ہوا اور متاثر

Read more

چراغ آخر شب: ایک تبصرہ

”عذاب شدہ قوموں پر بارش میں مینڈک ٹپکے تھے، ہم پر حکمرانوں کا عذاب ٹپکتا ہے۔ یہ ہم پر نازل کیے جاتے ہیں کہ ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیں، ایک پہیہ ہے جو مسلسل پیچھے کی طرف چل رہا ہے۔ پاکستان کی کل عمر میں سے نصف سے زائد، جب صبح آنکھ کھلتی ہے تو ایک شخص کرسی پر بیٹھا ملتا ہے۔ کیا ہے جی؟ کہ آج سے میں آپ کا حکمران ہوں۔ اور ہم سب یہ پوچھنے

Read more

ضرورتوں کا خدا تو ہے، تو فقیر ہم بھی نہیں

عمران کے دوست چلہ بھی کاٹ رہے ہیں، دعا بھی کر رہے ہیں، مگر اثر نظر نہیں آ رہا سب کے عمل میں خرابی ہے اور سب ہی معلوم کے چکر میں نا معلوم کا وظیفہ کر رہے ہیں۔ سب کچھ بدلنے کے لئے سب اکٹھے تو تھے مگر نیت کے کارن ناکام و نامراد ہیں۔ عمران کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور آپ کے پاس بنانے کو کچھ نہیں۔ وطن پرستوں پر یلغار ہے۔ وطن پرستوں کو کہہ رہے ہو وطن کا دشمن۔ ڈرو خدا سے، جو آج ہم سے خطا ہوئی یہی خطا کی سب کریں گے۔

Read more

اقبال اور منٹو میں بحث: اردوادب کو ماہواری کیوں نہیں آتی؟

ہم عجیب سی الجھن کا شکار ہو گئے جب ہماری بیٹی نے ہم سے وہ سوال پوچھا۔ پہلے تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا جواب دیں؟ سمجھ آیا تو دل مچل اٹھا کہ کون کون؟ پھر یوں ہوا کہ دل بے تاب کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے ہمیں فہرست مرتب کرنے کی ضرورت پیش آ گئی۔ ارے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ سوال کیا تھا؟ ہوا کچھ یوں کہ ہماری بیٹی کچھ ایسے واقعات کے بارے میں

Read more

جنید بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی-ایچ-ڈی کے خواہش مند ہیں

جنید کا تعلق چیچیاں میرپور آزاد کشمیر سے ہے۔ دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ میٹرک میں اے جے کے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ ایف اے میں اے جے کے بورڈ میں ٹاپ کر کے والدین کا سر فخر سے بلند کیا۔ آج کل یونیورسٹی آف گجرات سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں گریجویشن کر رہے ہیں۔ مستقبل میں سی ایس ایس اور بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی ایچ ڈی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جنید کی پیدائش

Read more

ریاست کا وجود

جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں ماضی، حال اور مستقبل کی نشاندہی کی تھی۔ آپ کے اشعار ہر دور میں ہونے والے واقعات پر صادق آتے ہیں۔ علامہ نے مذکورہ بالا شعر کو کب، کیوں اور کس تناظر میں بیان کیا ہوگا، یہ تو مجھے نہیں معلوم۔ لیکن آج جو پاکستان میں جمہوریت اور سیاست کا حال ہے، اس پر یہ شعر ضرور

Read more

ایس بی جون! ایک معذرت

سب سے پہلے تو ہم اس بات پر اپنے قارئین سے معذرت کے طلب گار ہیں کہ ایس بی جون صاحب کے حوالے سے مضمون میں ایک گانے ”“ گوری گھونگھٹ میں شرمائے ”کے بارے میں غلطی سے کہہ دیا کہ یہ گانا جون صاحب کا گایا ہوا ہے لیکن اصل میں یہ گانا محمد کلیم صاحب ( 1925 تاء 1994 ء) نے گایا ہے۔ ہم اس غلطی پر جون صاحب اور کلیم صاحب دونوں کے پرستاروں سے معذرت خواہ

Read more

ہیر رانجھا کی 51ویں سالگرہ: جب لاہور کے سٹوڈیوز میں ’رانجھا‘ کا گاؤں تخت ہزارہ اور ’ہیر‘ کا علاقہ جھنگ سیال بسائے گئے

ہیر رانجھا فلم کی مرکزی کہانی 1776 میں سید وارث شاہ کی لکھی لوک عشقیہ داستان ‘ہیر رانجھا’ سے ماخوذ تھی جس کی ڈرامائی تشکیل احمد راہی نے کی تھی۔

Read more

طارق عزیز: ہمزاد دا دکھ

زندگی میں آپ جن لوگوں سے محبت رکھتے ہیں وہ مرتے دم اس زمانے کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جو آپ کے ہمراہ گزرا تھا۔ انسان کی زندگی قطرہ قطرہ ختم ہوتی ہے۔ اپنی قبر میں جانے تک وہ اپنے پیاروں کی قبروں میں ٹکڑے ٹکڑے دفن ہوتا ہے۔ طارق عزیز اکیلا نہیں گیا، کروڑوں مداحوں کا زمانہ اس کے ساتھ دفن ہوا ہے۔ وہ صدا کار ایسی صدا دیتا تھا جو دل میں گھر کرتی تھی۔ گلی گلی،

Read more

شرفو

سہ پہر کے وقت میں اپنے گھر کے صحن میں پودوں کو پانی دے رہا تھا کہ مجھے کسی کے گنگنانے کی آواز آئی، میں نے پانی کیاری میں ڈال کر مٹکا اسی کیاری کے ایک سرے پر لگی اینٹوں کے سہارے ٹکا دیا اور خود اس آواز کی طرف لپکا جو ابھی تک مسلسل سنائی دے رہی تھی۔ اس آواز کا تعاقب کرتے ہوئے جب میں گاؤں سے باہر نکلا تو پاس ہی ایک کھیت کی منڈیر پر بیٹھا

Read more

مولانا کی ویڈیوز پر ایک مختصر گزارش‎

اٹھتی ہے در یار پہ اب پردے کی دیوار کس کا سر شوریدہ ہے ٹکرا نے کے قابل لاہور کے ایک مولانا کی ویڈیوز عام ہوئیں۔ "شور کی ثقافت” میں پہلے سے موجود بپا طوفان کی لہریں مزید بے قابو ہوئیں۔ ہمارے گھر کی رونق اب انھی طوفانوں پر موقوف ہے۔ تقسیم در تقسیم ہوتے معاشرے میں مورچہ زن گروہوں کے ہاتھ طعنہ زنی اور پوائنٹ اسکورنگ کے نئے بہانے لگے ہیں لہٰذا کچھ دن تو میلہ خوب جمے گا۔

Read more

ہم عورتیں آپ سے کیا چاہتی ہیں؟

ہم عورتیں مردوں سے کیا چاہتی ہیں؟ آپ ہم سے بہت کچھ چاہ سکتے ہیں مگر آپ ہم سے ہمارے بھائی، باپ، دوست، ہمسفر، دفتر کے ساتھی، استاد ہونے کے ناتے کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم آپ سے ہمارے بارے کیا چاہتی ہیں؟ اللہ نے عقل اور شعور تو دیا ہے اور سب کو ہی دیا ہے، اگر زمانے کے لحاظ سے عقل اور شعور کو استعمال کرنے کی سکت بھی دی ہے تو پھر بھی آپ لوگ کیوں نہیں

Read more

مغربی ادب ۔افلاطون سے پوسٹ مارڈدن ازم تک (تیسری قسط)

مغربی ادب ۔رومن دور میں یہ درست ہے کہ338 بی سی میں یونان پر رومن سیاسی طور پر غالب آگئے تھے مگر تہذیبی فتح یونانیوں کو نصیب ہوئی۔ادبی اعتبار سے کم وبیش ہر ایک رومن صنف چاہے وہ ٹریجڈی ہو یا کامیڈی،طویل مذہبی نظم (ایپک) ہو یا گیت، بیانیہ ہو یا تاریخی اندازِادب یونانی کمپوزیشن کی ہی ڈھلی ہوئی شکل سے ملتی ہیں۔ صرف ستایر ہی واحد صنف ِادب ہے جوسراسررومن دور کی یادگار ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ

Read more

ایک دراز قد امریکی حسینہ

الزبتھ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ گوری رنگت، نیلی آنکھیں، سنہرے بال، دراز قد اور چست بدن رکھنے والی الزبتھ کا شمار اپنے سکول کی خوبصورت ترین لڑکیوں میں ہو تا تھا۔ قدرت نے حسن کی دولت کے ساتھ ساتھ اسے ذہانت کی نعمت سے بھی نوازا ہوا تھا۔ اس کی پرورش ایک متوسط، روایتی اور قدامت پسند امریکی خاندان میں ہوئی جہاں اس نے معاشرت کے اعلٰی اسلوب سیکھے۔ زندگی کے تمام مراحل بڑی کامیابی کے ساتھ

Read more

مدارس کی جنسی اور معاشی ثقافت

جنسی جذبات کو جانوروں پر آزمانے کے ثبوت آئے روز سامنے آرہے ہیں۔ سوچنے کے لیے یہ سارے واقعات بھی شاید کم ہوں۔ لیکن صورت حال جب یہ ہو جائے کہ صبح دفنائی ہوئی خاتون کو شام قبر سے نکال کر ہوس کا نشانہ بنایا جائے، تو پھر کچھ دیر کے لیے رک کر ہمیں سوچنا چاہیے کہ تہذیب کے شیرے میں نشہ آور ادویات ملا کر ہمیں کس نے کھلائی تھیں اور کب کھلائی تھیں۔

Read more

موسیقار ایس بی جون

جب اللہ تعالیٰ کی عنایات ہو تو وہ راتوں رات اپنے بندے کو شہرت کے آسمان کا تارہ بنا دیتا ہے۔ فلمی دنیا کے کئی ایک فنکاروں کے ساتھ ایسا ہوا۔ ایسی ہی عنایات ایس بی جون پر بھی ہوئیں جب فلم ’سویرا‘ کا گیت مقبول زدعام ہو کر ان کی شخصیت کا حصہ بن گیا۔ آج یہ گیت کلاسیک کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔ 1959 میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی فلم ’سویرا‘ کا ماسٹر منظور حسین

Read more

روحیل اصغر کے بیان پر تنقید: ’گالم گلوچ کو پنجاب کے کلچر سے جوڑنا کم علمی ہے‘

ویب ڈیسک — پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور رُکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر کا گالی کو پنجاب کا کلچر قرار دینے پر اُن پر تنقید کی جا رہی ہے۔

قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور نامناسب الفاظ کے استعمال کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں شیخ روحیل اصغر سے سوال کیا گیا تھا کہ اسمبلی میں دی جانے والی گالیوں کو آپ کے اہلِ خانہ اور دیگر افراد نے بھی دیکھا اور سنا ہے تو اس پر شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ یہ پنجاب کا کلچر ہے۔

Read more

تھپڑ کی گونج اور قومی اسمبلی کا میدان جنگ

مرزا نوشہ نے کہا تھا کہ ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے۔ یوں تو مرزا غالب کی شاعری کی دنیا معترف ہے مگر ہم معترف ہونے کے ساتھ ساتھ مرعوب اس لیے بھی تھے کہ مرزا غالب کو دیدہ بینا عطا ہوئی تھی جو اپنے سامنے ہونے والے شب و روز کے تماشوں کو دیکھ سکتی تھی۔ مگر بھلا ہو بلاول بھٹو زرداری کا کہ ان کے بقول سلیکٹرز نے موجودہ ٹیم سلیکٹ کی ہے تو ان سلیکٹرز

Read more

ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتے کالم سے

عبقری شخصیات جب بھی اپنے نظریات پیش کرتی ہیں تو دھتکار دی جاتی ہیں، ناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ ابو الکلام آزاد اس فہرست میں اول درجہ پر ہیں، مولانا کی شخصیت کے ہر پہلو کا جائزہ اگر آپ لینا چاہتے ہیں تو آغا شورش کاشمیری کی تصنیف ”ابوالکلام آزاد“ زیر نظر کرنا ہو گی، سکولوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ پاکستان کی بنیاد پر اپنے دلائل پیش کرنے والوں کے لیے یہ کتاب شمالی کوریا کے ہائیڈروجن بم

Read more

ایک سخت جان افسانوی مجموعے کی روداد

”ٹوٹے پھوٹے لوگوں کی فیکٹری“ کا پہلا ایڈیشن سن دو ہزار دس میں شائع ہوا تاہم انیس افسانوں اور ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل یہ کتاب اپنا رنگ جمانے میں ناکام رہی۔ کچھ افسانے کچے رہ گئے تھے۔ کچھ ضرورت سے زیادہ پک گئے تھے۔ پروف کی بھی کافی اغلاط تھیں۔ کچھ عالی ظرف دوستوں اور بزرگوں نے خوب حوصلہ افزائی کی، مگر قبر کا حال تو مردہ ہی جانتا ہے، لہذا ان افسانوں کو مسلسل قطع و برید

Read more

جانا ہمارا پی ٹی وی کے یوتھ پروگرام ”فروزاں“ میں

عزیز دوست باصر کاظمی نے پی ٹی وی کے بارے میں کچھ یادیں شیئر کی ہیں تو مجھے بھی 41 برس پرانا ایک ٹی وی پروگرام یاد آ گیا ہے۔ سن 1980 کی بات ہے جب لاہور سنٹر سے ایک یوتھ پروگرام فروزاں کے نام سے نشر ہوا کرتا تھا جس کی میزبان غزالہ قریشی تھیں۔ ابتدا میں یہ پروگرام کراچی سنٹر سے شروع ہوا تھا جس کی میزبانی کے فرائض مہتاب چنہ (راشدی) کے ذمہ تھے۔ فروری کا شاید

Read more

طارق عزیز: 'دیکھتی آنکھوں، سُنتے کانوں' کو طارق عزیز کا وہ سلام جو پوری دنیا میں گونجا

علم و سائنس کی دنیا میں جس طرح ہر ابتدا ارسطو سے جا ملتی ہے اسی طرح برصغیر میں انٹرٹینمنٹ اور نیوز چینلز پر دکھائے دینے والے ٹی وی پروگراموں کے ہر فارمیٹ کے بانی طارق عزیز جا نکلتے ہیں۔

Read more

بے حیا سی لڑکی اور دین دار سا داڑھی والا

اس لڑکی نے کبھی دوپٹہ نہیں اوڑھا تھا۔ کبھی بولڈ مغربی لباس تو کبھی دیسی اسٹائل کے کپڑے۔ بال کھلے ہوتے تھے، میک اپ کی دلدادہ تھی۔ آتے جاتے لڑکوں سے مسکرا کر بات کر لیا کرتی تھی۔ کھلی طبعیت کی لڑکیوں یا لڑکوں کے قصے نہ بھی ہوں تو بنا لیے جاتے ہیں، زبانوں اور کانوں سے نکلی کہانیوں کا سفر جاری رہتا ہے، بلاوجہ لوگوں کو ان کے بارے میں باتیں کر کے سکون ملتا ہے، کہانیاں گڑھ کے مزہ آتا ہے۔

میں جب بھی کسی کے پاس کھڑا ہوتا، اس لڑکی کا ذکر آتے ہی مرد کیا خواتین بھی یہی کہتیں کہ وہ ”بے حیا“ سی لڑکی ہے، اس کا کیا ہے بھلا، اسے اچھے برے کی تمیز ہی کیا ہے، اپنی روایات بھول چکی ہے اور جن لوگوں کی تربیت نہیں ہوتی ایسی حرکتیں ہی کرتے ہیں۔

Read more

ملکہ پکھراج کی آپ بیتی: بے زبانی زبان ہو جائے

یہ ملکہ پکھراج کی آپ بیتی ہے۔ ملکہ پکھراج، آواز کی ملکہ جس نے کئی زمانوں کو اپنی آواز کے سحر میں جکڑے رکھا۔ ویسے بھی آپ بیتیاں کھڑکیاں ہوتی ہیں جس سے آپ کسی اور کی زندگی ہی میں نہیں تاریخ کے ایک دریچے سے بیتا ہوا زمانہ دیکھتے ہیں مگر اس کے ساتھ آپ اپنے اندر بھی ایک دنیا طے کر رہے ہوتے ہیں اپنے اندر کے تاریک اور روشن گوشوں کو دریافت کر رہے ہوتے ہیں کون

Read more

کینیڈا کی مردم شماری: ایک بھاشا اور لپیوں کا قضیہ

آج کل کینیڈا کی مردم شماری جاری ہے جو ہر پانچ سال کے بعد باقاعدگی کے ساتھ ہوتی ہے، اور اس میں حاصل کیے گئے اعداد و شمار اور تجزیے جلد ہی دیانت داری کے ساتھ عوام کو پیش کر دیے جاتے ہیں۔ اس کی مدد سے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی منصوبہ بندی کرتی ہیں تاکہ شہر یوں کو ہر وہ سہولت مہیا کی جاسکے جو ان کا استحقاق ہے۔ ان اعداد و شمار کو کاروباری ادارے، ثقافتی ادارے،

Read more

عرفان صدیقی کا ناقابل اشاعت کالم: تاریخ بیان کرنا قوم کا قرض ادا کرنا ہے

عرفان صدیقی کے بارے میں کون نہیں جانتا وہ جب لکھتے ہیں تو خوبصورت الفاظ کی مالا تیار ہو جاتی ہے۔ ایک ادب پارہ یا یوں کہہ لیجیے اعلیٰ درجے کی انشاء کی تخلیق ہوتی ہے مگر وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے ملک اور قوم کو درپیش تلخ ترین سیاسی حقائق کا مرقع بھی اسی کے ساتھ تیار کر کے پڑھنے والوں کے لیے دوآتشہ وجود میں لے آتے ہیں۔ یوں ان کا شمار پاکستان کی اردو صحافت کے

Read more

نسوانی الوہیت

منزل کی تلاش میں جویا حق برسوں سرگرداں پھرا تھا۔ اس کے پاؤں پورے ہندوستان کی دھول سے اٹے ہوئے تھے۔ چودہ سال بیت گئے تھے۔ تقدیر اسے کھینچ کر کشمیر لے آئی تھی۔ راستے میں اسے بہت سے لوگ ملے۔ پیدل بھی اور گاڑیوں، گھوڑوں، خچروں پر سوار بھی۔ گھیروے رنگوں کی چادروں میں ملبوس ہندو اپنے متبرک مقامات کی یاترا کرنے جا رہے تھے۔ وہ سب مارتنڈ سوریا تیرتھ، کھیر بھوانی اور امرناتھ کے مندروں کی طرف رواں دواں تھے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد شکتی فرقہ کے ان ہندوؤں کی تھی جو اپنی دیوی ماں کو بہ حیثیت خدا مانتے ہیں۔

Read more

نفسیاتی تنقید

کسی فن پارے کی تخلیق سے پہلے ہی تخلیق کار کے ذہن میں اس فن پارے کی تنقید آجاتی ہے وہ اس فن پارے کو نقاد کی صورت سوچتا ہے اپنے خیالات و افکار کو کمال سنجیدگی سے زیب قرطاس کرتا ہے اسی طرح خود تخلیق کار اپنے فن پاروں کی ترامیم اور اصافتوں سے مزین کرتا ہے اس موضوع کے پیچھے چھپے ہوئے میرے نقطہ نظر کو پا لے گا یا اس کے اندر میرا اصل موضوع جاننے کی سکت بھی ہو گی یاں وہ بغیر اس موضوع اور نقطہ نظر کو مسخر کرنے کے لیے ہی اسے پڑھے گا یا اس سے استفادہ کرے گا۔

Read more

لوح آئندہ کے ملال کا حزنیہ یا امید کی خیال گائیکی

اس میں کیا شک کہ جو دن گزر رہے ہیں، وہ کچھ ایسے خوشگوار نہیں۔ پچھلے موسم میں جو آندھیاں چلیں، انہوں نے ریت پر کسی ناقابل فہم طرز خطاطی میں کچھ نقش و نگار چھوڑے۔ بارش تو ہوئی نہیں کہ گھاس کی نمود ہو سکتی۔ سو ہم سب ایک چٹیل میدان میں اپنی اپنی قوس اور لکیر کے قیدی خراش زدہ آوازوں میں ایک دوسرے پر نعرہ زن ہیں۔ ہماری للکار میں یقین کی کھنک نہیں اور ہمارے غصے

Read more

عرفان صدیقی سے کیا گناہ سرزد ہوا ہے؟

عرفان صدیقی کے بارے میں کون نہیں جانتا وہ جب لکھتے ہیں تو خوبصورت الفاظ کی مالا تیار ہو جاتی ہے۔ ایک ادب پارہ یا یوں کہہ لیجیے اعلیٰ درجے کی انشاء کی تخلیق ہوتی ہے مگر وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتے ملک اور قوم کو درپیش تلخ ترین سیاسی حقائق کا مرقع بھی اسی کے ساتھ تیار کر کے پڑھنے والوں کے لیے دوآتشہ وجود میں لے آتے ہیں۔ یوں ان کا شمار پاکستان کی اردو صحافت کے مقبول ترین اہل قلم میں ہوتا ہے۔ ہر کسی کو یہ کمال حاصل نہیں کہ واقعات جو رقم کیے جائیں مستند ترین ہوں۔

Read more

عورت کے لئے مرد ناکافی کیوں ہو گیا ہے؟

تحریم بہت دنوں بعد آنے کی وجہ ہے کہ ہم ملالہ کے کیس کی کارروائی کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔ یوں بھی چونکہ بنیاد فکشن ہے تو ذرا رومانی کیفیات کا غلبہ شاعری یا افسانے کے ساتھ محبت پہ اکسا رہا ہے۔ یہ موضوع جس سفاکی کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس کا ماحول نہیں بن رہا تھا۔ تاحال، حال دل نازک ہے۔

ہاں ملالہ کا مقدمہ دونوں فریقین نے خوب لڑا ہے۔ مگر اس میں ایک بات ثابت ہوئی کہ شادی کوئی بہت ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ جو کبھی بہت حسین خواب تھا۔ اور حسین بھی ایک عام سی عورت سے تھا۔ آج وہی عورت ڈر رہی ہے۔ ایک دستخط سے ڈر رہی ہے۔ آج وہی مرد جو اس کے لئے شہزادہ و سائبان و آ سمان تھا۔ اس کے لئے جن اور بھوت سے بڑھ کر موت کے فرشتے کے مترادف ہو گیا ہے۔ سوال تو ہے اور بہت بڑا ہے۔

Read more

میں ایک عورت دشمن شاعر رہا ہوں

حالی نے انیسویں صدی کے آخر یا بیسویں صدی کی ابتدا میں اپنے دیوان میں غزلوں کو جدید اور قدیم جیسے دو حصوں میں بانٹا تھا۔ اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ شاعری میں ہونے والی تبدیلیوں کو وہ نمایاں کرسکیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ حالی نے ایسی شاعری کی مخالفت کی تھی، جس میں شاعری کے نام پر عورت یا محبوب کو لے کر ابتذال کی حد کردی گئی تھی۔ ان کی تنقید میں ایک قسم

Read more

داعش کے پہلے اردو میگزین کا اجرا، کیا یہ اثر و نفوذ بڑھانے کی کوشش ہے؟

کراچی — عالمی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) کی پاکستانی شاخ نے حال ہی میں اردو زبان میں ایک میگزین جاری کیا ہے جسے شدت پسند گروہ کا مقامی سطح پر پہلا مقامی اردو مطبوعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Read more

حمایت علی شاعر (نجی زندگی، تعلیمی، تخلیقی اور علمی ادوار کا سفر)۔

حمایت علی شاعر کا تعلق اورنگ آباد (دکن) سے ہے۔ تقسیم ہندوستان کے بعد کچھ وقت دہلی اور بمبئی میں گزارنے کے بعد 1951 ء میں پاکستان آ گئے۔ ابتدا میں کراچی اور بعد ازاں حیدرآباد (سندھ) میں سکونت اختیار کی۔ 1986 ء کے بعد واپس کراچی چلے گئے۔ وہ شاعر ہونے کے قدم بہ قدم نثر نگار، ڈراما نگار، صحافی، محقق، مدرس، براڈ کاسٹر، فلم ساز و ہدایت کا ر بھی تھے۔ ان کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تصانیف

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (دوسری قسط)

مغربی ادب یونان میں : افلاطون سے پوسٹ مارڈرن ازم کی پچھلی قسط میں ہم نے زمانہ قدیم یعنی موسوی دور میں مغربی ادب کی بنیادی روایتوں یعنی ہیلینک اور ہیبریک کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ آئیں گفتگو کے اگلے مرحلے میں اب ہم یونانی دور میں چلتے ہیں اور مغربی ادب کے ارتقائی سفر پر نظر کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ حضرت عیسی کی پیدائش سے تین سے چار برس قبل کا یونان علم و ادب

Read more

باسمتی کی سیاست: چاول کے جی آئی ٹیگ پر پاکستان اور انڈیا کا جھگڑا آخر ہے کیا؟

برِ صغیر میں پیدا ہونے والے باسمتی چاول کے پیٹنٹ یا حقِ اخترائی کے بارے پاکستان اور انڈیا کے درمیان چپقلش کب، کیسے اور کیوں شروع ہوئی۔

Read more

بجٹ کی تاریخ اور ہم

ہمارے ہاں مختلف قسم کے میلے لگائے جاتے ہیں جن میں مذہبی میلے یعنی عرس (جس میں عقیدت مند لوگ شرکت کرتے ہیں ) سماجی میلے جیسے بیساکھی کا تہوار جس میں اس ثقافت سے جڑے لوگوں کا ایک بڑا حصہ شامل ہوتا ہے اس کے علاوہ ادبی میلے بھی سجائے جاتے ہیں جس میں ادب سے محبت کرنے والے افراد جوش و خروش سے حصہ لیتے ہیں بیساکھی کے علاوہ دیگر میلوں کو سجانے اور ان کی کامیابی کو

Read more

معاشرے میں عدم برداشت

علم انسان میں سب سے پہلے برداشت کا مادہ پیدا کرتا ہے، اگر کسی تعلیم یافتہ شخص میں برداشت کا عنصر موجود نہیں ہے اور وہ کسی بات پر کوئی پر تشدد قدم اٹھاتا ہے تو یہ اس کے تعلیم یافتہ ہونے پر سوالیہ نشان ہے۔ عمومی طور پر تشدد سے مراد جسمانی تکلیف پہچانا جیسے کہ ہاتھ اٹھانا مار پیٹ کرنا وغیرہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ تشدد کی 11 اقسام ہیں جن میں جنسی، جسمانی، جذباتی، نفسیاتی زبانی تشدد

Read more

آغا ناصر کی تصنیف : گمشدہ لوگ

آغا ناصر بہت بڑے آدمی تھے، وہ بڑی عجیب صلاحیتوں کے مالک تھے۔ انھیں شاعری افسانے ناول جیسی اصناف ادب سے بے پناہ لگاؤ تھا لیکن ڈرامے سے تو گویا انھیں عشق تھا۔ وہ اپنے کام سے حد درجہ مخلص تھے۔ انھوں نے ریڈیو پاکستان کی نوکری سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور اپنی صلاحیتوں کی بنا پر ریڈیو اور پھر پاکستان ٹیلی ویژن کے اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچے۔ ظاہر ہے اس طویل سفر میں انھیں بے شمار

Read more

محمد سلیم الرحمٰن: کرکٹ سے محبت کے 76 برس اور وزڈن سے تعلق

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمٰن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ادب ہے۔ گزرے ساٹھ برسوں میں مختلف اصنافِ ادب کو باثروت بنایا۔ ادب سے ہٹ کر دیگر کئی علوم میں انھیں گہری دلچسپی ہے۔ انگریزی میں ایسے افراد کو Polymath اور اردو میں جامع العلوم کہا جاتا ہے۔ علم و ادب کی دنیا سے باہر بھی ان کی توجہ کا میدان خاصا وسیع ہے جس میں کرکٹ بھی شامل ہے۔ اس کھیل سے ان کے اُس دیرینہ اور پختہ تعلق

Read more

فرشتہ بہار کا مجموعہ چغار می اورہ

ضلع کرک خیبر پختونخوا میں دور، ضلع بنوں کے ساتھ سرحد پر ایک گاؤں ہے جس کا نام ہے لتمبر! لتمبر شاعروں کی سر زمین ہے۔ اس صدی کی دوسری دہائی سے پہلے تک یہاں لطافت کا دور تھا (پھر بد قسمتی سے کثیف جذبوں نے بھی اپنی جگہ بنا لی ) ۔ یہاں لوگ اسی خاک سے وابستہ سید حسن استاد اور شمس الزمان شمس صاحب کے اشعار محاوروں کی طور پر پڑھتے ہیں۔ کہیں عمران صابر کی مترنم

Read more

پطرس بخاری کا خط

پیارے اور عزیز از جان، عدیل! سلام مسنون، ویسے تو تم جانتے ہو کہ میں رسوم و قیود کا بالکل بھی پابند نہیں، کیونکہ میرا خیال ہے جو دماغ رسوم و قیود کا پابند ہو اس کی آزادی بلکہ دماغی آزادی سلب ہو جاتی ہے۔ قیود دماغ کبھی بھی ادب میں طرائے امتیاز کے علمبردار نہیں ہو سکتے، طرۂ امتیاز کے حامل نہیں ہو سکتے اور نہ ہی بڑا ادب پیدا کر سکتے ہیں۔ خیر تفنن بر طرف، سنا ہے

Read more

نورالہدیٰ شاہ سندھ ہے

یہ 1976 کی یہی رت یہی زمانہ تھا جب میں اور میرا دوست اور روم میٹ منظور عباسی اس نوجوان سندھی خاتون کی تحریر و تصاویر سے قتیل ہوئے تھے، جو حیدرآباد سے نثار حسینی اور اس کی ٹیم کی طرف سے شائع ہونے والے جریدے “؛نئون نیاپو” (نیا پیغام) میں چھپی تھیں۔ اتنی جرات مند کہانیاں اور انٹرویو! کون ہیں یہ، خاتون؟ کسی نے کہا کہ یہ لاہور اور جدہ میں پلی بڑھی ہیں لیکن ان کا تعلق ٹکھڑ

Read more

کینیڈا: جب زندہ بچنے والا بچہ فائز گھر آئے گا۔۔۔

آج سے 14 سال پہلے جب افضال خاندان نے پاکستان کو چھوڑنے کا سوچا ہو گا تو وہاں موجود کرپشن، منافقت، تعصب، مذہبی شدت پسندی اور بچوں کی جان و مال کی حفاظت کے حوالے سے تنگ آ کر ہی سوچا ہو گا۔ جیسا ہم سب ہجرت کر نے والے سوچتے ہیں۔ کون ہے جو اپنی جڑیں کاٹ کر ہوا میں معلق رہنا چاہتا ہے۔ اس خاندان نے جب کینیڈا کا انتخاب کیا ہو گا تو اس کی وجہ انہی عناصر کی عدم موجودگی کو دیکھ کر کیا ہو گا۔ مگر یہ انتخاب ان کی جان لے گیا۔

لندن اونٹاریو میں مقیم یہ خاندان پاکستان اور اسلام کا خوبصورت چہرہ تو تھے ہی انسانیت کے بھی علم بردار تھے۔ ان میں کسی بھی معاشرے کو پر امن اور خوبصورت بنانے کے تمام گن موجود تھے۔ سلمان افضال ( 46 سال) ۔ فیصل آباد، لاہور اور کراچی کا پڑھا ہوا ایک ڈاکٹر جو یہاں بھی اپنے پیشے سے منسلک تھا، کرکٹ کھیلتا تھا، مسجد جا تا تھا اور اولڈ ہو مز میں جا کر بزرگوں کی خدمت کیا کرتا تھا۔ 44 سالہ مدیحہ سلمان ایک انجینئر جو یہاں ویسٹرن یونیورسٹی میں جیو انوائیرمنٹ انجنیئرنگ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی اور وہ لکھاری اور ادب دوست بھی تھی۔

Read more

عورتوں کی آزادی کا استعارہ۔ لو سیلوم

لوسلوم کو ادب ’فلسفے اور نفسیات کی دنیا میں وہ عزت اور عظمت نہیں ملی جس کی وہ بجا طور پر حقدار تھیں۔ جو تھوڑی بہت مقبولیت ملی بھی تو اس لیے نہیں کہ وہ ایک نابغہ روزگار فیمنسٹ اور مایہ ناز ماہر نفسیات تھیں بلکہ اس لیے کہ وہ سگمنڈ فرائڈ کی دوست اور فریڈرک نیٹشے کی محبوبہ تھیں۔ یہ علیحدہ بات کہ انہوں نے نیٹشے سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ نیٹشے وہ واحد دانشور مرد نہ تھے جو ان کی زلف کے اسیر ہوئے تھے اور وہ بھی پہلے یا آخری دانشور نہ تھے جن سے شادی کرنے سے لو سیلوم نے انکار کیا تھا۔ لو سیلوم ایسی لیلیٰ تھیں جن کی زندگی میں بہت سے مجنوں آئے لیکن وہ سب مجنوؤں سے ایک مخصوص ذہنی قربت لیکن رومانوی فاصلہ رکھتی تھیں۔

Read more

تاریخ کا ایک سفاک حکمران: جب روم جل رہا تھا تو کیا نیرو واقعی بانسری بجا رہا تھا؟

نیرو کو تاریخ کے ایک ایسے سفاک حکمران کے طور پر جانا جاتا ہے جس نے اپنی ماں، سوتیلے بھائی اور بیویوں کو قتل کرایا اور اپنے دربار میں موجود خواجہ سراؤں سے شادیاں کیں۔

Read more

توہین مذہب کے قوانین: مکالمہ کی ضرورت

کچھ روز قبل مکرمی وجاہت مسعود صاحب کا ایک ویڈیو کالم ”کیا ریاست کا کوئی مذہب ہوتا ہے؟“ سننے کا موقع ملا۔ اس کے آخر میں یہ نتیجہ پیش کیا گیا کہ اگر کسی ریاست میں ایک مذہب کو ریاست کا مذہب قرار دے دیا جائے تو اس ریاست میں دوسرے مذاہب سے وابستہ لوگوں سے برابر کا سلوک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کے عقائد سرکاری مذہب کے مطابق نہیں ہوں گے۔ اس کالم میں اس سے ایک

Read more

لوح خاک پر گراں مایہ تحریر: ڈاکٹر آصف فرخی

کتابوں کے ڈھیر میں اکیلا، تنہا بچہ بیٹھا ہے اس کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں ہیں جیسے کسی گہری سوچ میں غرق ہے، یہ تصویر ڈاکٹر آصف فرخی کی پسندیدہ تصویر تھی جو وہ بچپن میں بنایا کرتے تھے ان کی والدہ تاج بیگم نے مجھے ہنستے ہنستے بتایا۔ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ مصوری کا شوقین تھا طلسم ہوش ربا تو کم عمری میں ہی پڑھ لی تھی اور پھر گھر کی ادبی فضا نے ان کے

Read more

دولے شاہ کا چوہا

آج دفتر سے واپسی پر گھر پہنچا تو سیدھا اپنے کمرے میں داخل ہو کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا۔ دل بہت اداس تھا اور وجہ میری سمجھ سے بالاتر تھی۔ شاید میں تھک گیا تھا ایک مکمل انسان بننے کی ہر ہر کوشش سے، فکر اور غموں کی نوکری کرتے کرتے، اپنی پلکوں پر جلتے خوابوں کی راکھ سنبھالتے، ایک کے بعد دوسری امید پر آس لگاتے یا شاید پھر اپنے آپ میں سے گرز کر زندگی کو ایک انجانے مدار میں گھومتے دیکھ کر۔ آج مجھے اپنے اندر کئی صدیوں کا سناٹا سنائی دے رہا تھا اور اس خاموشی کی گود میں سر رکھ کر نجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

Read more

آزادی، جمہوریت اور مساوات

نفسیات کی ایک اصطلاح ”فکسڈ آئیڈییشن“ یعنی ”فکر منجمد“ بھی ہے۔ اسی میں مبتلا ایک سابق مزدور رہنما نے مجھ سے سوال کیا کہ ”آزادی، جمہوریت اور مساوات“ بارے آپ کا کیا خیال ہے آیا یہ ہمارے ملک میں موجود ہیں اور اگر نہیں تو انہیں پانے کی خاطر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں نے چھوٹتے ہی کہا کہ یہ تینوں صفات ہمارے بلکہ آپ کے ملک میں موجود ہیں۔ آزادی یوں کہ چوک میں بیٹھ کے ہم بات کر

Read more

شدید گرمی کی حالیہ لہر اور لوڈشیڈنگ سے تنگ عوام: ’درجہ حرارت 42 ڈگری اور لوڈشیڈنگ لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘

پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ چند روز سے موضوع بحث گرمی کی حالیہ لہر اور لوڈشیڈنگ ہے اور شدید موسم سے تنگ لوگ آہ و بکا کرتے نظر آتے ہیں۔

Read more

کینیڈا: مسلمان مخالف حملے میں ہلاک ہونے والے خاندان کے رفقا نے اُنھیں کیسا پایا؟

اس خاندان کے پڑوسی کے مطابق مدیحہ اور سلمان نے اپنی بیٹی کو بہت ہی چھوٹی عمر میں سبق دیا تھا کہ دنیا میں کچھ ایسا کرنا ہے جس سے دوسروں کی بھلائی ہوسکے۔

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک

مغرب کی موجودہ جداگانہ تہذیبی شکل سے تعارف کے لیے ضروری ہے کہ ہم مغربی ادب کے تاریخی سفر سے کسی حد تک ضرور واقف ہوجائیں ورنہ دوسری صورت میں ہمارے قیاس و خیال محض یک طرفہ شکل میں ہمارے ذہن کا حصہ بن کر رہیں گے اور ایک علمی توازن کے ہمیشہ محتاج رہیں گے۔ مغربی تہذیب نے درحقیقت دو قطعی مختلف اور مخالف قدیم ترین مذہبی اور غیر مذہبی روایتوں کے درمیان مستقل ٹکراو سے پرورش پائی ہے

Read more

کچھ جھنگ میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر سلام کی لاوارث جائے پیدائش بارے

خاکسار کا شہر جھنگ ان دنوں فرقہ وارانہ انتہائی پسندی کے حوالے سے زیادہ جانا جاتا ہے اور دوسرے شہروں میں بسنے والے اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ جھنگوی ہر وقت قبائلیوں کی مانند کندھے سے اسلحہ لٹکائے پھرتے ہیں۔ یہ وہی ”تاثر“ ہے جو کہ پاکستان بارے باہر کی دنیا میں بڑی ”محنت اور عیاری“ سے پیدا کیا گیا اور اب اس تاثر کی نفی کرنا مشکل ہو چکا ہے اور یہاں غیر ملکی سیاح آنے سے کافی حد تک کتراتے ہیں حالانکہ آپ اگر جھنگ آئیں تو آپ کو حیرت کا جھٹکا لگے گا کہ یہاں تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے اور یہ شہر تو علم و ادب کا گہوارہ ہے اور یہاں کی مٹی ہر لحاظ سے زرخیز کہی جا سکتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ 90 کی دہائی میں جھنگ میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کا جن پوری طرح سے باہر آیا ہوا تھا اور بارود کی بو نے عام شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا تھا بلکہ اس کے کچھ علاقے کراچی کی مانند مخالف مسلک کے لوگوں اور قانون نافذ کرنے والوں تک کے لیے ”نو گو ایریاز“ کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔

Read more

پہلا قدم

ملتان ٹی ہاؤس میں ہماری مختصر سی ملاقات ہوئی لیکن یوں محسوس ہوا کہ شاید برسوں کی واقفیت ہو۔ خواجہ مظہر نواز صدیقی صاحب اتنی بڑی شخصیت ہیں کہ ان کی کتاب کو پڑھنے کے بعد اس پر تبصرہ لکھتے ہوئے بار بار ان کی شخصیت آڑے آ رہی تھی۔ جس خیال کو کتاب کی جانب موڑتا وہ گھوم پھر کر خواجہ صاحب کی ذات اور ان کے اوصاف کی جانب چل پڑتا۔ چونکہ ہمیں بچپن سے ہی کہانیوں کی صحبت ملی اور اب زندگی کی چوتھی دہائی میں بچوں کے ادب سے وابستہ ایک مکمل کتاب ”پہلا قدم“ احقر تک پہنچی تو بچپنے والی خوشی لوٹ آئی۔ خواجہ مظہر صدیقی صاحب اس سے قبل بھی تین کتابیں لکھ چکے ہیں اور یہ ان کی چوتھی کتاب ہے۔

Read more

سہ ماہی لاہور کا اجرا

ادبی رسائل و جرائد کی اہمیت ظاہر و باہر ہے۔ جمالیاتی حظ کی دستیابی کا ذریعہ تو یہ ہیں ہی، کسی معاشرے کے کلچر کی حیات پذیری کے آئینہ دار بھی ہیں۔ یہی ادبی جرائد ہیں جن کے توسط سے دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والی بلند پایہ ادیب شخصیات کا شاہکار ادب ان کے قارئین تک پہنچتا رہا ہے۔ اس اعتبار سے دنیا بھر کے ادب میں ان جرائد کو سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ لیکن

Read more

سوشل میڈیا پر پوسٹ کسی نے کاپی کر لی تو شارٹ کیوں ہوتے ہو بھئی؟

آج سے چار پانچ چھ ہزار سال قبل مسیح کے زمانے میں ایک سے ایک بڑا مفکر، فلسفی اور سائنس دان گزرا ہے۔ قدیم ہندوستان ہو یا یونان، مصر ہو یا فارس، روم کی سلطنت ہو یا موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے باسی ان سب میں اعلی ’پائے کے معیشت دان، سیاست دان، مذہبی راہنما، فلسفی اور سائنس دان موجود تھے۔ یہ لوگ سائنس اور دیگر علوم میں کس قدر آگے تھے اس کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ

Read more