کچھ سری لنکا کے بارے میں

اس کرہ ارض پر سات بڑے خشکی کے قطعے (براعظم ) موجود ہیں جو اس سیارہ زمین کا صرف 29 فی صد خشک حصہ ہے باقی 71 فیصد سیارہ پانی ہی پانی (سمندر) ہے۔ یہ سات ٹکڑے دنیا کے اس بڑے 71 فی صد سمندر پر دراصل سات جزیرے ہیں۔ ان میں سے چھ آباد اور ایک انٹارکٹیکا غیر آباد برفانی ہے۔ جو حالات گلوبل وارمنگ کے جا رہے ہیں عین ممکن ہے کہ بہت جلد انٹارکٹیکا بھی آباد ہونے

Read more

ستی پریوینشن ایکٹ: جب تاج برطانیہ نے خاوند کے ساتھ جل مرنے کی رسم ستی کو قابل تعزیر جرم بنا دیا

آج سے تقریباً دو سو سال قبل چار دسمبر سنہ 1829 بروز اتوار جب لارڈ ولیم بینٹنک نے انڈیا میں جاری ستی کی روایت کو قابل تعزیر جرم قرار دیا تو ہندو قدامت پسندوں کی جانب سے اسے چیلنج کیا گیا۔ لیکن انگلینڈ میں پھر سے اس کی توثیق کر دی گئی اور یہ بنگال پریزیڈنسی میں قابل تعزیر عمل ٹھہرا۔ اور پھر دو ماہ بعد بمبئی اور مدراس ریزیڈنسی میں بھی اسے نافذ کر دیا گيا۔

Read more

محبت کی قوس قزح تخلیق کرنے والا افسانہ نگار: قمر زیدی

(نوٹ۔ یہ خط ادارہ نو بہ نو کے چار دسمبر 2021 کے سیمینار میں پڑھا گیا جو قمر زیدی کی پچاس سالہ شعری و نثری خدمات کے اعتراف کے لیے عزیزی مظفر عباس نے زوم پر منعقد کیا) محترمی و مکرمی مظفر عباس صاحب! میں جب بھی آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اسلام آباد میں آپ کے ساتھ گزاری ہوئی چند شامیں یاد آ جاتی ہیں۔ ان شاموں کی خوشگوار یادیں میرے دل کے نہاں خانوں میں

Read more

ان کے جانے کے بعد

پچھلے تقریباً پانچ ماہ سے ایک قبیلہ میرے ہاں براجمان تھا۔ تیروں کی بوچھاڑ، تلواروں کی جھنکار، گھوڑوں کی ہنہناہٹ ان کے ٹاپوؤں کی آوازوں سے میری ایسی شناسائی ہوئی کہ میں ان میں بالکل کھو سی گئی بے، بے کی آوازیں ہر خاتون کو خاتون یا ہاتون کہہ کر پکارنا، ادب آداب، نظم و ضبط اور روایات کے پابند اور سب سے بڑھ کر اسلام کے علمبردار اور نام لیوا۔ اللہ اکبر، الحمد للٰہ، ماشا اللہ، انشا اللہ یا

Read more

نبیل قریشی کی ”کھیل کھیل میں“ ، مستنصر حسین تارڑ صاحب کی ”راکھ“ اور تاریخ پاکستان

’میں تمہیں موٹی عقل کا مالک اس لئے کہتا ہوں کہ تم بنیادی طور پر ایک ذہین انسان ہونے کے باوجود تاریخ کا شعور نہیں رکھتے۔ تم نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے۔ ایک وہ تاریخ ہے جو تمہیں نرسری سے پی ایچ ڈی تک پڑھائی جاتی ہے اور ایک ادھر دوسری تاریخ ہے جس کے بارے میں تمہیں لاعلم رکھا جاتا ہے۔ تم اسے جان نہیں سکتے، اس کا ذکر نہیں کر سکتے۔ اگر کرو گے تو پوری اسٹیبلشمنٹ کمر

Read more

گورنمنٹ کالج لاہور کا نام بدل کر تفہیم المذاہب رکھ دیا جائے

ایک مضبوط ریاست اسی وقت معرض وجود میں آتی ہے جب اس کے تمام ادارے مکمل آزادی کے ساتھ اپنی اپنی ڈومین میں رہ کر دلجمعی سے کام کر رہے ہوں بدقسمتی سے اگر ایسا نہ ہو تو (کیلا ریاست) یعنی (بنانا اسٹیٹ) بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ ممکن ہے آپ میرے اس موازنہ سے اتفاق نہ کریں لیکن اس سے مراد یہاں افراتفری یا کنفیوژن کا ماحول ہے اور ایسا منظر اس وقت بنتا ہے جب ادارے ایک

Read more

عقل اپنی بھی ایڑی میں ہے

شروع کرتا ہوں اس کا نام لیے بغیر جس کی ذات اپنی فردی پہچان، خودمختاری، اور بغیر کسی امتیاز کے سماج میں اپنے مقام کا حق لینے کی جد و جہد میں مصروف ہے۔ جی بالکل میرا اشارہ اس ذات کی طرف ہے تمام گالیاں، تقریباً لطیفہ اور اکثر خطبات جس کی ذات سے منسوب کیے گئے ہیں۔ ہم سب ڈاٹ کام ٹیم کی دریافت کی گئی ایک اور بری عورت کی اچھی باتوں کا تذکرہ آگے چل کر کرتے

Read more

کیا آپ سلویا پلاتھ کی شادی، شاعری اور خودکشی کی کہانی جانتے ہیں؟

سلویا پلاتھ کی کہانی اس لکھاری کی کہانی ہے جو اپنے مرنے کے بعد ادب عالیہ کی دنیا میں پیدا ہوئیں۔ ان کا فن ان کے پاگل پن اور شاعری ان کے اقدام خود کشی کی کوکھ سے پیدا ہوئے۔ سلویا پلاتھ 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا

Read more

موہوم کی مہک تلاشتا ڈاکٹر ابرار احمد

ڈکٹر ابرار سے میری بالمشافہ دو ہی ملا قاتیں ہیں ایک دفعہ اس کے کلینک میں دس پندرہ منٹ کی ملاقات اور ایک دفعہ عنبرین صلاح الدین کی کتاب کے فنکشن میں ہم دونوں نے اسکی کتاب پر مضمون پڑھا تھا مگر اُس سے ملاقات اور تعلق کی دوسری صورتیں بھی رہی ہیں جو بالمشافہ ملاقات سے کہیں بلند اور سچی ہوتی ہیں سب سے زیادہ ملاقاتیں تو نظم نگری میں ہوتی ہیں. میں اس کی نظموں کی پرانی قاری

Read more

پورس کا گھوڑا

پنجاب سے تعلق ہے۔ خود کو پنجابی قوم پرست کہتے ہیں۔ لیکن کی عادات دیکھ کر ان کو پنجاب کے مشہور راجہ پورس کا ہاتھی کہنا قطعی غلط ہو گا، کہ پورس کے ہاتھی گھبرا کر اتنی تیز رفتار سے پلٹ کر اپنی صفیں نہیں الٹتے تھے جتنی تیز رفتار سے یہ اپنا موقف دینے کے بعد مخالفین کی جمعیت دیکھ کر پلٹتے ہیں اور اپنی ہی صفوں کو روند کر میدان جنگ سے فرار ہوتے ہیں۔

Read more

چینی ذہنیت چینی ناولوں کی روشنی میں

گزشتہ کچھ عرصے سے میں نہایت دلچسپی سے چینی ناول پڑھ رہا ہوں۔ ان میں سے بیشتر گوگل سے ترجمہ شدہ ہیں۔ اس لیے ترجمہ نہایت لاجواب ہے۔ غالباً یہ چینی زبان کا کمال ہے کہ گوگل ترجمہ کرتے ہوئے ”تم“ کو ”میں“ اور ”تمہیں“ کو ”ہمیں“ کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ جب ایک کردار دوسرے کو دھمکی دیتا ہے کہ میں تمہاری ٹانگ توڑ دوں گا، تو اس کا ”میں اپنی ٹانگ توڑ دوں گا“ بن جاتا ہے۔ بہرحال پانچ دس صفحات پڑھ کر اس کی عادت پڑ جاتی ہے اور بندہ سمجھ جاتا ہے کہ کردار کس کی ٹانگ توڑے گا۔

Read more

ناروے کے شہر بھی حسین ہیں

پچھلے مضمون میں آپ کو ناروے کے قدرتی حسن سے مالا مال علاقوں کی سیر کروائی۔ اگر آپ کو فطرت کے ساتھ ساتھ شہروں کی گہما گہمی بھی پسند ہے تو وہ بھی مل جائے گی۔ اوسلو ناروے کا پائے تخت ہے اور کاسموپولیٹن شہر ہے۔ اوسلو کا پرانا نام کرسٹانیا تھا۔ 1624 میں ایک خوفناک آگ لگی اور پورا شہر جل گیا۔ اسے نئے سرے سے آباد کیا گیا اور نام بھی بدل کر اوسلو رکھ دیا۔ اوسلو میں کئی

Read more

پائی جان میں تے مذاک کر رہیا سی

بی بی سی میں ’’ رپورٹنگ ان ہوسٹائل انوائرنمنٹ‘‘ ( کشیدہ حالات میں رپورٹنگ کے گر ) نامی کورس کے دوران ایک ریٹائرڈ ایس اے ایس کمانڈو نے بطور انسٹرکٹر ہمارے ساتھ کچھ وقت گذارا۔ اس کا کہنا تھا کہ امریکیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ہمیں بس ایک مشکل پیش آتی ہے۔وہ دماغ کے بجائے بازو سے سوچتے ہیں اور جہاں چمٹے سے کام نکل سکتا ہو وہاں ہتھوڑا دے مارتے ہیں۔اس عادت سے فوری مطلوبہ نتائج تو برآمد

Read more

ہماری افسر شاہی اور محکومی کی نفسیات

ایک ایسا معاشرہ جو اندر سے کھوکھلا اور باہر سے محکوم ہو، وہ ایک ایسی ذہنیت کی تشکیل کرتا ہے جو خود نفسیات کے علم کی روشنی میں کسی طور پر بھی صحت مند نہیں کہلایا جا سکتا ہے۔ محکومی کی نفسیات ایک خاص طرز فکر کو جنم دیتی ہے اور یہی لوگوں میں مختلف رویوں اور اعمال کا سبب بنتا ہے۔ یہی اعمال پھر اسی ذہنیت کو ہی تقویت بخشتے ہیں جو ان کو جنم دیتی ہے۔ یوں معاشرہ

Read more

چوہتر سال بعد بھی

آزادی کے 74 سال بعد بھی ہمیں اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہے ’پاکستان‘ پاکستانیت اور ہمارے شناختی ورثے کی بحث تاحال جاری ہے۔ پاکستانی ہیرو کی تلاش اور ان کی شناخت پر دانشوروں کے بحث مباحثے بھی زوروں پر ہیں مگر صد افسوس کہ ہم فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ ہم کیوں ہیں ’کہاں ہیں اور ہمیں کہاں ہونا چاہیے؟ چل رہے ہیں مگر راستوں اور منزل سے بے خبر‘ بس چل رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ آج

Read more

کیا پکایا جائے اور کیا لکھا جائے؟

گھر چلانے کے لئے جہاں اور بہت سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، وہاں روزانہ ایک مشکل سوال بھی درپیش ہوتا ہے کہ آج کیا پکانا ہے؟ ہمارے گاؤں میں ایک چودھری صاحب رہتے تھے۔ سیاسی پس منظر بھی تھا۔ اس لئے ڈیرہ بھی چلتا تھا۔ نوکر صبح سویرے جب اس دن کے کھانے کے لئے پوچھتا تو اپنی پسند بتانے سے پہلے ہمیشہ یہی جواب دیتے کہ آج زہر پکا لو۔ اس جواب میں بھی یہی راز پوشیدہ تھا کہ

Read more

ملی نغمے اور قومی بیانیہ

اگست آتے ہی قوم میں ایک ولولہ جاگ اٹھتا ہے کہ آزادی کی یادگار کو منانا ہے اور ہر کوئی اپنے انداز سے 14 اگست کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ بچوں سب سے زیادہ جھنڈے اور جھنڈیوں کے طرف مائل ہوتے ہیں مزید کچھ سالوں سے باجا بھی پسندیدگی لسٹ میں شامل ہو گیا ہے۔ بڑے دن قریب آنے پر بچوں کے لئے شاپنگ اور قومی دن پر کہیں آنے جانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ بڑوں سے بڑے کہیں

Read more

دو ہی کیوں؟

ڈاکٹر عاصم بخشی کی حال ہی میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہونے والی کتاب ”دبدھا“ کا پہلا باب پیش خدمت ہے۔ کتاب کو سنگ میل پبلی کیشنز کی ویب گاہ کے درج ذیل لنک کے ذریعے آرڈر کیا جاسکتا ہے : Dubidha – Asim Bakhshi ***             *** فرض کیجیے آپ اپنے بہترین دوست کے ساتھ شہر میں کھلنے والے ایک نئے کافی ہاؤس میں موجود ہیں۔ کافی کی مختلف اقسام کا رسیا

Read more

اقلیت کا دن یا سب کا دن

پاکستان اجتماعیت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ نسلی، لسانی، علاقائی اور مذہبی تنوع اس کی خوبصورتی ہے۔ پاکستان میں پنجابی، بلوچ، سندھی، پختون اور مہاجر پانچ بڑی ایتھنو۔ ریجنل کمیونیٹیز ہیں اور چھوٹی کمیونٹیز اس کے علاوہ ہیں۔ مذہبی اقلیتوں میں مسیحی، ہندو، کیلاشا، پارسی، اور سکھ نمایاں ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تحریک پاکستان کی بنیاد مسلم ریاست کا قیام تھا۔ پاکستان کے قیام کے چند نمایاں اغراض و مقاصد میں اسلامی ریاست کے قیام کی خواہش، اسلامی

Read more

علامہ اقبالؒ مصور پاکستان یا معمار پاکستان!

ہمارے تعلیم یافتہ طبقے میں یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ نے اسلامیان ہند کے لیے آزاد وطن کا ”صرف تصور“ پیش کیا اور باقی کا کام دوسروں کے لیے چھوڑ دیا اور خود شعر و شاعری میں مگن رہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کے خیال میں علامہ اقبال ؒ نے پاکستان کا خواب دیکھا اور پھر کروٹ بدل کر سو گئے۔ یہ تاثر عام پاکستانی سے لے کر اہل علم و دانش تک

Read more

آخر سیکولرازم ہے کیا؟

پاکستان کے بڑے بینکوں میں سے ایک حبیب بینک نے، اس ہفتے، شریعت سے مطابقت رکھنے والی اپنی ایک مشین پیش کی ہے۔ رقم وصول کرنے والی ایک مشین شرعی کیسے ہو سکتی ہے؟ اور کیا اب بینک شریعت کا فیصلہ کریں گے؟ حبیب بینک کے کارپوریٹ افیئرز کے سربراہ فرحان احمد نے بی بی سی سے کہا کہ ’جو کاروبار پاکستان کے شرعی قوانین کے مطابق جائز ہیں، ان کو بینک شرعی سمجھتا ہے۔‘ ان کا یہ بھی کہنا

Read more

طاہر انوار پاشا ”نیل کے سنگ “

شاعر سعود عثمانی بھی کچھ نہ کچھ ٹھیک ہی کہتے ہونگے کہ کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے اور یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔ اگر اسے بالکل درست بھی مان لیا جائے پھر بھی اس صدی کا ابھی اکیسواں برس ہی شروع ہوا ہے۔ ابھی اس صدی کو ختم ہونے میں بہت عرصہ چاہئے۔ پھر عشق روٹھ بھی جائے تو عشاق میں ایک عرصہ تک وضع داریاں ضرور برقرار رہتی ہیں۔ سو ابھی کتابیں

Read more

پاکستانی ملی نغمہ: ’دل دل پاکستان‘ دل کی بات تھی جو دلوں میں اتر گئی

پاکستان میں ملی نغمے دنیائے موسیقی کے بڑے بڑے استادوں نے بھی گائے اور ان کے گیتوں کو قبول ِعام بھی ملا لیکن ’دل دل پاکستان‘ ایسا ملی گیت رہا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑے۔

Read more

افغانستان کی خواتین کا خوف: ہم نے کہا تھا نا شادی کر لو، اب طالبان ہاتھ مانگیں گے تو ہم کیا کریں گے‘

افغانستان میں طالبان کے بڑھتے کنٹرول کے بعد وہاں کی خواتین مایوسی کا شکار ہیں کہ ملک ایک بار پھر 20 سال پہلے کی حالت میں جا رہا ہے۔

Read more

ڈاکٹر نثار ترابی اور ”تم سے کہنا تھا“ کی تعارفی تقریب

مشاعرہ ختم ہوا تو شعرا چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوئے۔ میں چائے کا کپ اٹھائے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد ڈاکٹر نثار ترابی کے قریب آ گیا۔ برسوں سے ان سے غائبانہ تعارف تھا مگر ملاقات کا پہلا موقع تھا۔ وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ کلین شیو، درمیانہ قد، قدرے لمبے بال اور ٹو پیس سوٹ پہنے ہوئے خاصے خوشگوار موڈ میں تھے۔ رسمی دعا سلام کے بعد میں نے عرض کی

Read more

میرے دوست! مسئلہ کدھر ہے؟

روزمرہ کی زندگی میں کئی نوجوانوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ ہر کسی کو پروردگار نے بہت ساری خوبیوں اور خاصیتوں سے نوازا ہے۔ جیسا کہ دنیا کے سارے کوٹیشن حالات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں۔ یوں ہی انسان کبھی اسی حالات کے ہاتھوں مجبور تو کبھی وہی حالات اس پر مہربان رہتے ہیں۔ پر ایک عادت جو اسی ٹیکنالوجی کے وقت کی پیدائش ہے اور نئی نسل اس عادت کو اپنا اٹوٹ حصہ بنا چکی ہے وہ ہے ہر

Read more

شہر وینس

شہر وینس جس کو پلوں کا شہر بھی کہتے ہیں، اٹلی کا وہ طلسماتی شہر ہے جس کا جادو اس لمحے ہی مجھ پر طاری ہو گیا تھا جب میں نے مقید پانیوں کی پر نم فضا میں پہلا سانس بھرا تھا۔ غالباً صبح کے نو بج رہے تھے جب حیرت میں ڈوبی پچھلی رات کی جاگتی آنکھوں نے زرد پھولوں سے ڈھکا لکڑی کا پل پار کرتے ہوئے نیچے بہتے سبزی مائل نیلے پانی پر جھولتے شکارے (گوندولے )

Read more

نازیہ حسن: وہ سکول یونیفارم پہنے مائیک پر کھڑی ہوئیں اور برصغیر میں موسیقی کی شکل بدل دی

زینت امان سے اپنی بیٹی کا تعارف کرواتے ہوئے منیزہ بصیر حسن کے ذہن میں شاید یہ خیال بھی نہیں آیا ہو گا کہ ان کے ڈرائنگ روم میں رکھے گٹار میں اپنے وقت کی اس مشہور اداکارہ کی دلچسپی ان کی بیٹی کے مستقبل کا فیصلہ کر دے گی۔

Read more

جشن آزادی

پاکستانی قوم کو جشن آزادی مبارک یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان پاکستانی قوم 14 اگست کو پاکستان کا 75 واں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے سے منانے جا رہی ہے۔ زندہ قومیں اپنے ملک کی آزادی کا جشن تجدید عہد کے ساتھ سجدہ شکر ادا کر کے منایا کرتی ہیں۔ قوم کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہمیں آزادی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی اس کے

Read more

11 اگست اور قائدؒ کی روح

آج سے ٹھیک 74 برس پہلے ٹھیک آج ہی کے دن 11 اگست 1947 ء کو ایک نامور وکیل، جمہوریت کا ایک علمبردار اور ایک عظیم رہنما پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے خطاب کر رہا تھا۔ ہم نے اس شخصیت کو قائداعظمؒ کا خطاب دیا اور پھر ہم سب کچھ بھول گئے۔ آج ٹھیک 74 برس بعد بھی قائدؒ کی روح ہم سے سوال کرتی ہے کہ کیا ہمیں ان کا پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے

Read more

آرٹ اور مذہب

آپ اور پاپا 2007 میں بھی سیم ہیومر انجوائے کرتے تھے آپ 2021 میں بھی ان ہی باتوں پر ہنس رہے ہیں۔ آپ کے وہی ٹاک شوز، وہی ڈرامے وہی گھسا پٹا مزاح جو grow نہیں کر رہا۔ آپ کے مزاحیہ شوز کی ابھی تک وہی extreme ہے کہ آدمی عورتوں کا گیٹ اپ کر لیں تو یہ آپ لوگوں کے لئے بہترین مزاح اور مذاق ہے۔ ماما آپ لوگ grow کیوں نہیں کر رہے؟ آپ سب پاکستانی ایک ہی

Read more

لاہور کی مختصر تاریخ

اس محلہ کا نام مسجد نبوی میں سرور کائنات کے مقرر کردہ موذن حضرت بلال حبشی کی مناسبت سے ہے۔ اس محلہ میں دو عظیم شخصیات کا قیام رہا۔ ایک کا تعلق فلمی گلوکاری سے تھا جبکہ دوسری شخصیت کا تعلق علم و ادب اور تعلیم و تربیت سے رہا۔

ایک چھوٹے سے قد کے حاجی علی محمد نے 1901 کی دوسری دہائی میں امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ سے اہل و عیال سمیٹ محلہ بلال گنج میں رہائش اختیار کی۔ نہایت ملنسار اور مودب ان حاجی صاحب کا ہنر کھانا پکانے میں تھا۔ اور شادی بیاہ کے موقع پر آپ کے پکوان اپنی لذت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ اور اگر دولہا ”سوہنی کے بینڈ“ کے ساتھ برات لے کر آئے تو یہ شادی بڑے ”ٹھاٹھ“ کی تصور کی جاتی تھی۔ ان حاجی صاحب کے چھ بیٹے تھے جن کا ”ہنر کدہ“ بھاٹی دروازہ کے محلہ چومالہ میں تھا۔

Read more

گلی کا کتابی عشق اور شرمندگی

دبلا پتلا سا جسم تھا لیکن نین نقش تیکھے تھے۔ رنگ سانولا تھا لیکن موٹی موٹی آنکھوں میں ہر وقت ایک چمک سی رہتی تھی۔ آنکھوں کے گرد حلقے تھے لیکن یہ تو ان کے سب گھر والوں کے ہی تھے۔

گھر کے چھوٹے موٹے سبھی کام وہ ہی نمٹاتی تھی۔ شاید دو یا تین اس کی بڑی بہنیں بھی تھیں لیکن گلی کی نکڑ پر کریانے کی دکان سے گھی، چینی یا بسکٹ وغیرہ لینے ہمیشہ وہ ہی آتی تھی۔ سبزی لینی ہو، بازار سے کچھ لانا ہو یا درزی کے پاس جانا ہو، یہ سبھی کام وہ ہی سرانجام دیتی تھی۔ سانولے رنگ اور دبلے پتلے جسم کی وجہ سے شاید ہی کسی لڑکے کو اسے مڑ کر دیکھنے کا خیال آتا ہو لیکن مجھے اس میں بہت نفاست نظر آتی تھی۔ بڑے سلیقے سے سر پر دوپٹہ لیا ہوتا تھا، بال ہمیشہ ترتیب میں ہوتے تھے، سلیقے سے مانگ نکلی ہوتی تھی اور وہ آہو چشم اردگرد کی دنیا سے بے خبر صرف اپنے راستے کی تلاش میں رہتی تھی۔

Read more

ہم کس وجہ سے بیمار ہو جاتے ہیں؟

آج ہم جب بیمار پڑتے ہیں تو کلینک یا اسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ کورونا وائرس کے حالیہ بحران کے دوران ہم نے دیکھا کہ پاکستان اور دیگر ممالک کی حکومتیں صحت کی سہولیات، اسپتالوں، طبی عملے، حفاظتی ساز و سامان، مصنوعی تنفس کی مشینوں (وینٹیلیٹرز) ، وائرس کے خلاف ویکسین وغیرہ کی فراہمی کی تگ و دو کر رہی ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک، فالج، دمہ کے دورہ سے لے کر مرگی اور پاگل پن کے

Read more

مملکت روما کا زوال :تاریخ کا ایک سبق

مملکت روما جسے عرف عام میں رومن ایمپائر کہا جاتا ہے، تاریخ میں عظیم اور طویل ترین مملکتوں میں شمار کی جاتی ہے۔ ایک ہزار سال تک قائم رہنے والی اس مملکت کا موازنہ اگر ہو سکتا ہے تو صرف مسلم مملکت سے جس کا اقتدار بھی کم و بیش ایک ہزار سال تک دنیا کے مختلف مہذب حصوں پر قائم رہا۔ مملکت روما اور مسلم حکومت میں ایک تاریخی مماثلت یہ بھی ہے کہ روما نے یونانی تہذیب کے

Read more

موسیقی کا تہوار۔ لاہوتی میلو

ڈیجیٹل دور کے سمندر میں جب سوچ کی نیا انتہا پسندی، اکیلا پن، انا کی دوڑ اور ان گنے اور گھنے سامان کی گٹھڑی باندھ کر حالات کی لہروں کے اتار چڑھاؤ میں بھتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل روزی روٹی کے چکروں میں اپنے وجود سے بھی دور منزل سے بے خبر بس سفر ہی سفر میں ہے۔ جیون کے درخت خالی ہاتھوں سے حسیں سوچوں کے دلدل میں چھپے سقراطوں پر پھولوں کے کفن کی پرساد چڑھا رہے

Read more

افغانستان: ‘وہ دور آنے والا ہے جسے سوچنے سے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں’

"میں چاہتی ہوں کہ ماڈلنگ کے ذریعے افغانستان کی ثقافت اور تہذیب کو پوری دنیا میں جدید انداز میں روشناس کرا سکوں اور ساتھ ہی میں دنیا کی بہترین ماڈلز کی قطار میں اپنا نام بھی رقم کرانا چاہتی ہوں۔”

یہ کہنا ہے نوجوان افغان ماڈل رومیلا ناصری کا جو ماڈلنگ کو اپنا ‘خواب’ قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں افغان لباس ثقافت کے لحاظ سے بہت بھرپور ہے لیکن بدقسمتی سے آج تک اسے صحیح معنوں میں عالمی سطح پر متعارف نہیں کرایا جا سکا۔ ان کے بقول اب یہ کام وہ خود کرنا چاہتی ہیں۔

Read more

میرا سٹڈی روم

ہر شریف آدمی کو ہر جگہ ایک پناہ گاہ کی تلاش ہوتی ہے بے شک وہ اپنے گھر میں ہی کیوں نہ ہو۔ غالباً اسی غرض سے اس ناچیز نے اپنے گھر میں ایک سٹڈی روم بنوایا اور یقین کیجیے کہ ”زیست کا مزا پایا“ ۔ جب سے سٹڈی روم بنا ہے میری خواہش ہوتی ہے کہ میرا زیادہ وقت اسی میں گزرے اور سچ پوچھیے تو گھر والوں کی بھی کم و بیش یہی خواہش ہوتی ہے۔ سٹڈی روم

Read more

حضرت مولانا عبد الخالق صاحب سنبھلیؒ، نائب مہتمم دار العلوم دیوبند

استاذ محترم حضرت مولانا عبد الخالق صاحب سنبھلیؒ کئی مہینوں سے علیل تھے۔ رمضان کے بعد ، طبیعت کچھ زیادہ خراب ہوئی۔ آپ کو ماہ جون میں، مظفر نگر کے ایک ہاسپٹل میں علاج کے لیے داخل کرایا گیا تھا۔ جب وہاں کچھ افاقہ محسوس نہیں ہوا؛ تو دہلی کے ایک اسپتال میں ٹرانسفر کیا گیا۔ طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس ہوا اور آپ دیوبند واپس لائے گئے۔ مگر ادھر کچھ دنوں سے صورت حال کچھ زیادہ ہی سنگین ہو

Read more

اسلام میں صوفی عورتیں

آٹھویں صدی کی شروعات میں شہر بصرہ کی گلیوں میں ایک عورت ایک ہاتھ میں جلتی مشعل اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا مشکیزہ لے کر گھوما کرتی تھیں اور یہ کہا کرتی تھی، ’جنت کو میں آگ لگا دوں گی اور دوزخ کی آگ کو میں بجھا دوں گی۔‘

جی ہاں یہ عورت کوئی اور نہیں بلکہ اسلامی تاریخ میں ایک اہم و اعلیٰ مقام رکھنے والی حضرت رابعہ بصری تھیں۔ لفظ صوفی یا تصوف کے وجود میں آنے یا استعمال میں لانے کے کئی سال پہلے بھی کئی مرد و خواتین ایسے گزرے ہیں جن کے کردار بالکل صوفی کی صنف پہ پورا اترتے ہے۔ جن میں حضرت حسن بصری رح اور حضرت رابعہ رح بھی شامل ہیں۔

Read more

زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں

جیم عباسی کے افسانوں کا مجموعہ "زرد ہتھیلی اور دوسری کہانیاں” کئی مہینے پہلے مل گیا تھا۔ زیادہ تر کہانیاں پہلے ہی آج میں پڑھیں ہوئی تھیں۔ مگر اب بھی کتاب میں کچھ ایسا مواد بھی شامل تھا جو میرے لیئے نیا تھا۔ میں کمپیوٹر یا موبائل کی اتنی چھوٹی سی سم کو دیکھ کر اتنا حیران نہیں ہوتی کہ انسانی دماغ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے کہ ساری دنیا سمیٹ کر ایک نکتے میں سما دی ہے اس

Read more

ناصر کاظمی اور”پہلی بارش“

ناصر کاظمی جن کو میر ثانی بھی کہا جاتا ہے 8 دسمبر 1925 کو انبالہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری کے آغاز میں سب سے بڑا ہاتھ ان کے گھر کی فضا اور اس ادبی ماحول کا ہے جس میں ناصر نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی گزاری۔ کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ناصر کی والدہ کو شاعری سے گہرا شغف تھا اور وہ فن شاعری سے بخوبی واقف تھیں۔ ناصر نے اپنی ماں کی گود سے ہی شاعری کا درس لیا۔ ناصر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں :

Read more

قاصد – جدید ہندی ادب سے انتخاب

شہر کی جانب آنے والی شاہراہ پر ایک رتھ برق رفتاری سے چلا آ رہا تھا۔ رتھ پر سمراٹ کا مخصوص نیلا پرچم لہرا رہا تھا۔ جس پر بڑے سے راج ہنس کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ دوارپال نے دور سے رتھ کو آتے ہوئے دیکھ لیا اور جلدی سے دروازے کا بڑا سا ارگل ہٹا دیا۔ ارگل کے ہٹاتے ہی شہر پناہ کے اس عظیم الشان دروازے کے دونوں پھاٹک لوہے کے بھاری پنکھوں کی مانند دھیرے دھیرے پیچھے کی جانب کھلتے چلے گئے۔

Read more

انسان کو جانوروں سے سیکھنا چاہیے

سوشل میڈیا کا نام جس کسی نے بھی رکھا ہے بہت سوچ سمجھ کر رکھا ہے۔ ادھر کچھ ہوا، ادھر ویڈیو وائرل ہوئی اور چشم دید احوال آپ کو اس طرح بتاتے ہیں جیسے بندہ ادھر خود موجود ہو۔ کیا جنگل کیا سمندر، کیا فضا کیا ہوا کیا زمین کیا مکین اور کیا انسان کیا حیوان سب بیک جنبش انگشت آپ کے سامنے۔ جیسا کہ انہی دنوں ایک ویڈیو کسی بندہ نواز نے پوسٹ کی ہے جس میں کچھ لوگ

Read more

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

پاکستان کا خواب دیکھنے اور اپنی لازوال شاعری کے ذریعے محکوم اور بدحال مسلمانان برصغیر کو جگانے والے عظیم مفکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رح صاحب کے لکھے گئے اس شعر میں جتنا وزن، وسعت اور دور اندیشی میں نے محسوس کی ہے آج اپنی اس تحریر کے ذریعے اور اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ کسی حد تک اس کا احاطہ کر سکوں افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت

Read more

جستجو

اردو زبان کا لفظ تعلیم عربی زبان کے لفظ علم سے ماخوذ ہے علم کے معنی کسی چیز کو جاننا ہے انگریزی زبان میں تعلیم کا متبادل لفظ ایجوکیشن ہے جو کے لاطینی زبان سے ماخوذ ہے اس کا مطلب رہنمائی کرنا یا پرورش کرنا ہے اسی طرح ایجوکیشن کا لغوی مطلب معلومات کو جمع کرنا، رہنمائی کرنا اور پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔ اصلاحی معنوں میں تعلیم اس معاشرتی عمل کا نام ہے جو نئی نسل کو تجربات، مہارتوں

Read more

منور رانا۔ غزل میں ماں کی نغمہ سرائی کرنے والا شاعر

اردو شاعری میں جو استجابت اور مرغوبیت صنف غزل نے پائی وہ کسی اور صنف کو نصیب نہ ہوئی۔ غزل میں ہر دور میں شعراء نے مختلف موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔ میر ہو یا غالب، اقبال ہو یا حسرت، جگر ہو یا فراز ہر شاعر نے عمدہ غزلوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ نئے موضوعات، تجربات، احساسات اور جذبات کو اس میں داخل کیا ہے۔ غزل صرف عورتوں سے باتیں کرنا یا محبوب کا تذکرہ کرنے تک

Read more

خدا کا پیشگی علم اور انسانی اختیار کا مسئلہ

 (سن 1987 میں 23 تا 25 جون پاکستان فلسفہ کانگرس کا ستائیسواں سالانہ اجلاس کوئٹہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس وقت کانگرس کے صدر ڈاکٹر سی اے قادر مرحوم تھے۔ یہ ان کی زندگی کا آخری سیشن تھا۔ کانفرنس کا افتتاح اس وقت بلوچستان کے گورنر جنرل موسیٰ خان نے کیا تھا۔ اس کے دوسرے دن میں نے یہ مضمون پڑھا تھا جو گزشتہ دنوں پرانے کاغذات کھنگالتے ہوئے سامنے آ گیا، حالانکہ مجھے یقین تھا کہ یہ گم ہو

Read more

سامراجی وبائیں

تا دم تحریر دنیا کرونا وائرس کی طبی، سماجی، نفسیاتی اور سب سے بڑھ کر کے معاشی غارت گری کو جھیل رہی ہے۔ دنیا میں اس بارے ردعمل مختلف ہے کچھ کے نزدیک یہ ویسے ہی ایک مجسم حقیقت ہے جیسے عالمی ادارہ صحت ہمیں اس کی ہولناکی بیان کرتا ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ بس ایک بیماری ہے جس کا خوف اور دہشت بہت بڑھا دیا گیا جس کے پیچھے بہت سے شاطر اذہان کار فرما ہیں۔

Read more

انیتا غلام علی کی سالگرہ کے حوالے سے ایک تحریر

کراچی کے پرہجوم علاقے میں جہاں گاڑیوں کے ہارن، خوانچہ والوں کی پکار اور طوطے کی مدد سے قسمت کا حال بتانے والوں کے باعث کان پڑی آواز نہیں سنائی دیتی، بس اسٹاپ سے کچھ دور پہلے اسٹیل گرے رنگ کی گاڑی رکتی ہے۔ گاڑی چلانے والی خاتون کو پہچان کر آٹھ دس سال کا بچہ یوں بھاگ کر آتا ہے جیسے صرف اسی انتظار میں تھا۔ آنکھوں میں چمک، ہاتھ میں صفائی کا کپڑا لیے وہ جانفشانی سے گاڑی صاف کرتا ہے اور پھر فخر سے اپنی ننھی ہتھیلی پر اجرت وصول کرتا ہے۔ وہ کہتی ہیں ”ہم یہاں اس بچے کے لئے آتے ہیں۔ بہت محنتی ہے، کام بھی کرتا ہے اور پڑھ بھی رہا ہے۔“ میں برابر کی سیٹ پر بیٹھی ان کے لہجے میں ماں جیسی نرمی، مٹھاس اور گہرے درد کو شدت سے محسوس کرتی ہوں۔ یہ گداز دل رکھنے والی خاتون انیتا غلام علی ہیں اور یہ واقعہ تقریباً چوتھائی صدی ادھر کا ہے۔

Read more

”نکتہ چیں ہے، غم دل اس کو سنائے نہ بنے“ – مکمل کالم

ایک ہاتھ میں کافی کا مگ ہو، دوسرے میں سگار ہو، سامنے دریا کا کنارہ ہو، شب کا اندھیرا ہو، رعنائیوں کا پہرا ہو، خامشی کا بسیرا ہو اور ایسے میں اچانک کوئی غالب کی غزل گنگنا دے ’نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بنے‘ تو وہ لمحے یادگار بن جاتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ غزل درست طریقے سے گائی جائے۔ بر صغیر پاک و ہند کے ہر بڑے گلوکار اور گائیکہ کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ غالب کا کلام گائے لیکن غالب کی غزلوں کے بعض اشعار اور ان کے پوشیدہ معنی اس قدر لطیف اور باریک ہیں کہ انہیں سمجھ کر گانا کوئی آسان کام نہیں، یہی وجہ ہے کہ عام طور سے غالب کی آسان غزلوں کو فلمی گانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، گلوکار بھی عموماً سادہ غزلیں ہی محفلوں میں سناتے ہیں اور اگر ان میں کوئی پیچیدہ شعر آ جائے تو اسے چھوڑ دیتے ہیں۔

Read more

لفظ ”لبرل“، لغات اور پاکستان: چند آراء

انگریزی زبان سے آیا ہوا لفظ ”لبرل“ ، لغات میں جو معنی رکھتا ہے تقریباً ً وہی سوچ پوری دنیا میں رائج ہے۔ مگر پاکستان کے مختلف طبقات اسے جدا جدا مفاہیم میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں ہم نے چند احباب سے رائے لینے کی کوشش کی ہے۔ جیسا کہ ”ہم سب“ کی پالیسی بھی ہے، ہم نے متنوع نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی تدوین کے یہاں یکجا کر دیا ہے۔

کچھ احباب نے ”لبرل“ کے معنی بتاتے ہوئے اختصار سے کام لیا ہے۔ ان کے نزدیک لبرل کا مطلب ہے آزاد خیال، صلح کل کا ماننے والا، غیر جانبدار اور جس کے لئے گمان کی نسبت دلیل اہم ہو۔

Read more

خاکہ زنی : اک ضرب ظریفانہ

پھر کچھ کتابیں ایسی ہیں جو اپنے سائز اور حجم کی بنا پر مطالعے کے علاوہ دیگر کارہائے خیر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ مثلاً جب سے قاسمی صاحب کی ”کالم تمام“ اور شیرازی صاحب کی ”بابو نگر“ میرے سرہانے دھری ہیں میں اپنے آپ کو محفوظ سا سمجھنے لگا ہوں۔ یقین جانیئے! اب کوئی پریشانی تو کیا، گھر کے شرارتی بچے اور بیگم بھی قدرے فاصلے پر رہتے ہیں۔ اب ان کتابوں میں جناب اشفاق احمد ورک کی ”خاکہ زنی“ کا اضافہ ہو گیا ہے جس کا سائز اگرچہ اتنا بڑا نہیں لیکن رائٹر ایک دبنگ جاٹ ہونے کی وجہ سے اس کا پڑھنے والا اپنے اندر ایک عجیب دبدبہ محسوس کرتا ہے چنانچہ ”خاکہ زنی“ کے آنے کے بعد میرا حفاظتی حصار اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔

Read more

فیض کے دو عشق اور روشنی کا استعارہ

کارل مارکس نے کہا تھا ”فلسفیوں نے اب تک بس دنیا کی تشریح کی ہے اصل نکتہ تو اس کو بدلنے کا ہے“ فیض احمد فیض ایک ترقی پسند ذہن تھے انھوں نے گھسے پٹے، مفلوج زدہ، غلیظ اور بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ وہ ایک بے قرار روح کی مانند تھے۔ وہ تہلکہ مچانے والے شاعر تھے۔ ادب میں جن ناموں کی گونج سب سے نمایاں رہی ان میں ایک نمایاں نام فیض احمد

Read more

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی، پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی

پاکستان کے لئے مزید پریشانی کی بات نہ صرف داعش اور القاعدہ کا پھیلتا نیٹ ورک ہے بلکہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق موقف ہے۔ طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے سینئر اینکر سلیم صافی سمیت پاکستانی میڈیا کو کئی انٹرویوز دے چکے ہیں۔ تحریک طالبان سے متعلق ہر بار کیے گئے سوال پر ان کا جواب صرف ایک تھا کہ افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کھل کر داعش اور القاعدہ کے خلاف بیان دے رہی ہے مگر تحریک طالبان پاکستان سے متعلق مذمتی بیان دینے سے گریز کر رہی ہے۔

پاکستان کو خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ نئی داخلہ پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا قومی مفاد پر امن افغانستان سے وابستہ ہے اور ایسے نازک مرحلے میں افغان طالبان سے بگاڑنا عقل مندی نہیں ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ماضی میں دوبار افغان پالیسی کے تناظر میں پورے ملک کے امن و امان اور قومی مفادات کو داؤ پر لگا چکا ہے۔ تیسری بار ایسا کرنا تباہ کن ثابت ہوگا۔ لازمی ہے کہ حکومت نئے عزم کے ساتھ اپنا ہاؤس آرڈر میں رکھے اور نیشنل ایکشن پلان کو نئی روح کے ساتھ نافذ کرے۔

Read more

کنوت ہامسن کے ناول وکٹوریہ کا اردو ترجمہ

اردو زبانمیں مغربی ادب پاروں کے تراجم کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن انگریزی کے سوا دیگر زبانوں کے تراجم زیادہ تر انگریزیزبان میں کئے گئے ترجموں کی مدد سے کئے جاتے رہے ہیں۔ تاہممتعدد مغربی ممالک میں پاکستانی تارکین کے آباد ہونے کی وجہ سے اب یہ رجحان تبدیل ہونے کو ہے۔ ناروے میں مقیم شگفتہ شاہ نے نوبل امن انعام یافتہادیب کنوت ہامسن کے مقبول رومانوی ناول کا اردو میں ترجمہکرکے اس رجحان کو آگے بڑھایاہے۔

Read more

یک نہ شُد دو شُد

یک نہ شد دو شد ایک مشہور کہاوت ہے اور اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ایک نہ ہوا دو ہوئے۔ یہ عام طور پر اس مصیبت میں بولی جاتی ہے جب پہلی مصیبت ختم نا ہو رہی ہو اور دوسری مصیبت بھی گلے پڑ جائے۔ اس کہاوت کے پس منظر میں جو کہانی ہے اس کے مطابق ایک شخص منتر پڑھ کر مردوں کو زندہ کرنے اور دوسرا منتر پڑھ کر انہیں دوبارہ مارنے کا جادو جانتا تھا۔

Read more

ڈاکٹر روف پاریکھ کی کتاب: صحت زبان (الفاظ، محاورات اور، مرکبات کا درست استعمال)

مبصر: ڈاکٹر تہمینہ عباس پبلشر: ادارہ فروغ زبان قومی زبان، اسلام آباد قیمت: 400 ڈاکٹر روف پاریکھ علمائے لغت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات میں انگریزی اور اردو میں دوسری لکھی گئی کتابوں میں، لسانی مباحث، لغوی مباحث، فرہنگیں اور لغات کے علاوہ بعض اہم لغات بالخصوص اردو لغت بورڈ کی ضخیم 22 جلدی لغت کی تین جلدیں بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر روف پاریکھ ”صحت زبان“ کے حوالے سے کافی عرصے سے مضامین لکھ رہے

Read more

دائیں اور بائیں بازو والے کب دائیں بائیں ہو گئے

تغلق صاحب دفتری ساتھی اور خود ساختہ محقق ہیں۔ اپنا تعارف تاریخ کے ادنی طالب علم کے طور پر کرواتے ہیں۔ حفظ مراتب ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ اس لیے غوری کو ہمیشہ غوری صاحب، مغل کو مغل میاں اور ناچیز کو شاہ صاحب کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ تغلق صاحب جب میز پر سر دیے بیٹھے ہوں، تو سمجھ لیجیے کہ موصوف پر تاریخ کے اچھوتے اور نت نئے باب القا ہو رہے ہیں، جو کچھ دیر میں دفتری

Read more

عبدالقیوم نیازی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم کیسے بن گئے؟

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں وزارت عظمیٰ کا قلمدان ایسے سیاسی رہنما کے پاس آیا ہے جو اس عہدے کی دوڑ میں بھی شامل نہیں تھے۔

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے عبدالقیوم نیازی کی بطورِ وزیرِ اعظم نامزدگی کے بعد پاکستانی کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزارتِ عظمیٰ کے لیے بدھ کو ووٹنگ ہوئی۔ تحریک انصاف کے عبدالقیوم نیازی 33 ووٹ لے کر وزیرِ اعظم منتخب ہوئے جن کے مدِ مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر نے محض 15 ووٹ حاصل کیے۔

Read more

امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوریؒ

امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوریؒ کی پیدائش 12 /اگست 1944 ء کو آپ کے آبائی گاؤں منصور پور میں ہوئی۔ آپ کا تعلق منصور پور میں آباد سادات حسینیہ بارہہ کی ایک شاخ سے ہے۔ ”منصور پور“ اترپردیش کے ضلع: مظفر نگر کا ایک قصبہ ہے۔ آپ عوام و خواص میں ”قاری صاحب“ سے معروف تھے۔ آپ کے والد ماجد کا نام نواب محمد عیسیؒ تھا۔ قاری صاحب کے والد ماجدؒ: قاری صاحبؒ کے

Read more

حذیفہ اشرف عاصمی کی کتاب: سوچ کا سفر

ہمارے بڑوں کو آج کل نوجوانوں سے یہ شکایت رہتی ہے کہ نوجوان غیر ضروری سرگرمیوں پر زیادہ فوکس کرتے ہیں اور کار آمد سرگرمیوں کو وقت نہیں دے پاتے۔ مگر خوشی اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اکثر اوقات انھی نوجوانوں میں سے کچھ ایسے کارنامے انجام دے جاتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر دل خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ گزشتہ برس لاہور کے رہائشی نوجوان حذیفہ اشرف عاصمی نے ’سوچ کا سفر‘ تخلیق کر کے ادبی حلقوں

Read more

اولمپک ایسوسی ایشن بازار ہی سے تمغہ خرید لے!

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن ایک قسم کی سرکاری تنظیم ہے جو گزشتہ تہتر برس سے قائم ہے۔ تنظیم کی ویب سائٹ پر اس کا مشن کچھ یوں لکھا ہے کہ اس کا مقصد ’اولمپک چارٹر کے تحت اولمپک ایسوسی ایشن کے ویژن کو قابل عمل طریقے سے پھیلا کر پاکستان میں اولمپک تحریک کو ترقی دینا، اس کی ترویج کرنا اور اس کا تحفظ کرنا ہے۔‘ اللہ جانے اس کا کیا مطلب ہے، غالباً ’وہ‘ یہ کہنا چاہ رہے ہیں

Read more

فینا رینے وسکایا کون تھیں؟

ہر قوم کی تہذیبی، تخلیقی اور فکری روایت میں کچھ لوگ استعارے کا درجہ پا جاتے ہیں۔  شیکسپیئر کا نام آئے گا تو انگلینڈ کا ذکر ہو گا۔ ایران کا ذکر حافظ شیرازی کے بغیر کیسے مکمل ہو گا۔ پاکستان کا تذکرہ ملکہ ترنم نور جہاں کے بغیر ادھورا رہے گا۔ مصر کی کہانی ام کلثوم کے بغیر نامکمل ہے۔ ہندوستان اور نوشاد کا ستار ایک ہو گئے۔ امریکا کا تعارف مارلین منرو کے شعلہ مستعجل سے طے پاتا ہے۔

Read more

راسپوٹین کی موت

راسپوٹین دنیا کا سب سے بڑا گنہگار اور بدخصلت انسان جو روس میں پیدا ہوا، ولی سمجھا جاتا تھا، مگر درحقیقت وہ ایک شیطان تھا جس کے ہاتھوں زارِ روس کی عظیم الشان سلطنت برباد ہوئی اس کی گناہوں بھری زندگی اس قدر حیرت خیز ہے کہ اس پر کسی خیالی افسانے کا گمان ہوتا ہے۔ چھ فٹ دو انچ لمبے قد کا یہ گرانڈیل راہب جس کا سرگنبد نما تھا کئی سال روس پر اپنی شیطانی صفات کی بدولت

Read more

کہوں کہ نہ کہوں!

برادرم غلام مصطفی نے کالم لکھا، جس کا عنوان تھا، کراچی کی تباہی کا ذمہ دار کون ہے؟ اس میں انہوں نے اپنے تئیں کچھ وجوہات اور عوامل کا ذکر کیا۔ یہ کوئی نیا موضوع نہیں، اس عنوان پر ہزاروں کالم، تحریریں، ناول موجود ہیں۔ ہر کوئی اپنے تئیں اس کا جواب دینے کی سعی کرتا ہے۔ تجاویز مرتب کی جاتی ہیں۔ بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں۔ پلان بنائے جاتے ہیں، مگر عمل درآمد

Read more

تعلیمی ادارہ: چھ گھنٹے بمقابلہ 18 گھنٹے

فرض کریں ہم اپنے بچے کو ایک ”اچھے“ سکول میں داخل کرواتے ہیں۔ سکول کے اوقات کار صبح 8 : 00 بجے سے دوپہر 2 : 00 بجے تک ہیں۔ یہ بچہ 6 گھنٹے سکول میں گزار کر آتا ہے۔ اب ہماری توقعات ہیں کہ ہمارا بچہ 6 گھنٹے سکول میں گزار کر جب واپس آئے تو وہ صرف سچ بولے۔ وہ کوئی غلیظ زبان استعمال نہ کرے۔ وہ صاف ستھرا رہے۔ اس میں بڑوں کا ادب کرنا آ جائے۔

Read more

ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی کنٹرولر نیوز سجاد پرویز کی پہلی کتاب بائیس لوگ شائع ہو گئی

ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی کنٹرولر نیوز سجاد پرویز کی پہلی کتاب بائیس لوگ کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے شائع کر دیا ہے۔ سجاد پرویز نے گزشتہ دو عشروں کے دوران ریڈیو پاکستان کیلئے یہ تمام انٹرویوز کیے تھے جو اب ریڈیو پاکستان کی آرکائیو کا حصہ ہے۔ تصاویر پر مبنی رنگین کتاب میں بائیس مشہور قومی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں جنہوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔ان میں ڈاکٹر آصف فرخی، آصف نورانی، پروفیسر ڈاکٹر

Read more

ناصر ملک کا "مزاح کبیرہ”

کسی دانشوروں کا قول ہے کہ سب انسانوں کی زندگی میں آنے والے مسائل کم و بیش یکساں قسم کے ہوتے ہیں مگر ان کا سامنا کرنے کا انداز سب کا مختلف ہوتا ہے، لہذٰا انسانوں کی حقیقی پہچان ان کے مسائل سے نہیں بلکہ مسائل کے ساتھ نمٹنے کی قوت اور صلاحیت سے ہوتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عملی زندگی کے مسائل بہت جانکاہ ہوتے ہیں اور انسان ان سنگلاخ پتھروں پہ چلتے چلتے اپنی ظاہری اور باطنی

Read more

کرونا لاک ڈاؤن اور امتحان نہ دینے کے شوقین بچے!

سنا ہے کہ ہر سو سال بعد دنیا میں پینڈیمک (وبائی مرض) آتا ہے۔ اور لاکھوں افراد دنیا بھر میں اس کا نشانہ بننے کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ یہ وبائی امراض دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بہت تیزی سے اوپر جاتی معیشت کو بھی پیروں تلے روند دیتے ہیں۔ 1918 میں آنے والے ”اسپینش فلو“ نے ایک اندازے کے مطابق کم وبیش 50 ملین یعنی 5 کروڑ افراد کو لقمہ اجل بنایا تھا اور

Read more

حالت اب اضطراب کی سی ہے

میں، میلان کنڈیرا کی کتاب آئی ڈنٹیٹی کا اردو ترجمہ بعنوان ”پہچان“ مترجم محمد عمر میمن کی ابھی صرف ورق گردانی کر رہا تھا کہ میری بیٹیوں نے میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھ سے کہا، ”ابو جی۔ ہماری بات دھیان سے سنیں۔ کرونا کی وجہ سے سکول کبھی بند ہو رہے ہیں کبھی کھل رہے ہیں۔ ہم نے تو لڑکیوں کو سکول سے اٹھوا لیا ہے۔ گھر پر ہی پڑھیں گی۔“ ” کون پڑھائے گا گھر پر؟“ میں

Read more

داتا کی نگری: لاہور کی مختصر تاریخ

داتا کی نگری کا یہ جغرافیہ 1942 ء سے 1956 ء تک مزار داتا گنج بخش کے قرب کے متعلق ہے۔ 1942 ء میں ہمارا خاندان برلب داتا دربار روڈ عثمانیہ محلہ میں کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہوئے۔ داتا کی یہ نگری مشرق میں لوئر مال اور راوی روڈ جنون میں آؤٹ فال روڈ، مغرب میں رتیگن روڈ اور کھیتوں اور شمال میں موہنی روڈ کے حصار میں ہے۔ مزار گنج بخش کو مرکز تصور کرتے ہوئے اس کی ذیلی مسجد کے ملحق مشرق میں اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ تھا شمال میں ایک ذیلی سڑک ذیلدار روڈ کے پار ہجویری محلہ اور اس محلہ کے نچلے حصہ کے سامنے سڑک کے پار شیش محل پارک محلہ ہے۔

Read more

ارائیں بچے کا دل وحشی ہو گیا

کسی دھندے کے بند ہونے کا کیا ماتم کرنا۔ ایک بند ہوتا ہے تو دس کھل جاتے ہیں۔ لاہور کی قدیم اور سب سے بڑی کتابوں کی دکان فیروز سنز بک شاپ متصل الفلاح بلڈنگ مال روڈ کچھ عرصہ قبل بند ہوئی تو زندہ دلان لاہور کی زندہ دلی میں کوئی فرق نہیں آیا۔  جنھوں نے کتابوں کے اس خزینے پر شٹر گرتے اور کرائے کے لیے خالی کا بورڈ لگا دیکھا انھوں نے بھی یہی سوچا ہوگا کہ آخر

Read more

ہماری لڑکیاں

اس بات کو ماننے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں حقوق نسواں کے لیے جتنی تحریکیں چلیں، جتنے سیمینار ہوئے، جتنے موم بتی والے احتجاج ہوئے، جتنی شعلہ بیان تقاریر کی گئیں، جتنے عورت مارچ ہوئے ؛ سب بے سود اور بے فائدہ رہے، سب دعوے زمیں بوس ہو گئے، سب نعرے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں آج سے صدیوں پہلے زمانہ جاہلیت کے وہ لوگ کھڑے تھے جو اپنی

Read more

سائرہ بانو اور یوسف خان کی مثالی محبت اور ”ڈیڈی ایشوز“

دلیپ کمار کی موت پہ سائرہ بانو کی مثالی محبت، خدمت اور تیمارداری کے حوالے سے لکھنے والے قلمکاروں کے قلم کی روشنائی اور تعریف کرنے والوں کے لیے الفاظ کم پڑ گئے۔ اپنے شوہر کی صحت یابی کے بعد ایک بار جب سائرہ سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا ”جس کا شوہر کوہ نور ہو وہ ست ساوتری کیسے نہ ہو گا؟ میں تو ان پہ مرتی ہوں۔ میں تو اس سے سو گنا زیادہ (خدمت) کروں۔“ ان

Read more

سندھ کے نقاش اور 4 مارچ واقعے کے اہم کردار قاضی خضر حیات کا تعزیت نامہ

سندھ، کچھ افراد کو ان کی انفرادی کارکردگی کی بنا پر پہچانتی ہے، تو کچھ علمی و ادبی خانوادوں کو ان خاندانوں کے متعدد افراد کی ہمہ جہت غیر معمولی خدمات کی وجہ سے عزت دیتی ہے۔ قاضی خضر حیات، جنہیں سندھ، ایک نامور اور باصلاحیت مصور، خطاط، کاشی کار، سول انجنیئر اور 4 مارچ کی سندھی سٹوڈنٹ جدوجہد کے حوالے سے یادگار بنے ہوئے قومی دن کے اہم کردار کے طور پر پہچانتی ہے، بھی ایسے ہی علمی اور

Read more

مینا کماری: ”آپ کے پاؤں بہت خوبصورت ہیں، انہیں زمین پر مت اتاریے گا“

”ان کی آنکھوں میں اک جادو سا محسوس ہوتا تھا، ان کی آواز بے انتہا خوبصورت تھی، آواز اور مکالموں کی دلکش ادائیگی سے ایک حسین سنگم سا بن جاتا تھا، موتی برستے تھے جب وہ بولتی تھیں، الفاظ ترستے تھے کہ وہ انہیں اپنے ہونٹوں سے ادا کرے“ ۔ اداکار پردیپ کمار نے یہ الفاظ انڈین کلاسیکی سینما کی اس لیجنڈ اداکارہ اور خوبصورت شاعرہ کے لئے کہے تھے جو اپنی جواں مرگی کی پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود

Read more

ثقافت کا ناسٹلجیا

زبانوں کے جامع ہونے کا تب پتہ چلتا ہے جب بہت سے لفظوں کے لیے ایک لفظ اور ایک چیز یا عمل کے لیے بہت سے الفاظ میسر آنا ممکن ہو۔ اب اس لفظ ”ناسٹلجیا“ کو ہی لے لیں۔ اس کا اردو میں ترجمہ کرنا ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے۔ اس کا ایک ترجمہ تو شاعر نے کیا تھا کہ ”یاد ماضی عذاب ہے یارب“ لیکن وہ درست نہیں ہے کیونکہ اس لفظ کا مطلب ماضی کے اعمال و افراد کے ساتھ جذباتی لگاؤ ہوتا ہے اور ان کے بارے میں یادیں اکثر و بیشتر خوشگوار اور کیف آگیں ہوتی ہیں۔

Read more

اقبال، پنجاب اور پنجابی

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد ضرب کلیم میں لکھی گئی پنجابی مسلمان کے نام اقبال کی اس نظم سے تحریر کا آغاز اس لیے کیا کہ میں مقصد تحریر کو ابتدا ہی میں واضح کر سکوں

Read more

تعمیر نسل نو

بچے کسی بھی قوم کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں جنھوں نے مستقبل میں سارے نظام کی باگ ڈور سنبھالنے کا فریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے۔ اس بیش بہا اہمیت کے سبب ہر فکر مند قوم کے افراد اپنے بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں کہ بچوں کی بہترین تعلیم و تربیت ہی ملک و ملت کے روشن مستقبل کی ضامن ہے اور اگر اس اہم اور عظیم ذمہ داری سے پہلو تہی کی گئی تو اس کا خمیازہ بھی لازماً بھگتنا پڑے گا۔

Read more

سوشل میڈیا۔ صحبت طالع ترا طالع کند

دنیا کی ہر شے کا استعمال صحیح اور غلط طریقے سے کیا جاسکتا ہے۔ ہر ایجاد کے پیچھے یہ مقصد کارفرما ہوتا ہے کہ اس کا ورتاؤ آسانی، ترقی، خوشحالی اور سہولت کے لیے کیا جائے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شے کو تخریب کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ آس پڑوس میں ہونے والے واقعے کی خبر دو تین دن بعد انسان کے کان تک پہنچتی تھی لیکن سوشل میڈیا کے سبب دنیا کے ایک کونے میں وقوع پذیر ہونے والا واقع چند ساعتوں کے بعد دوسرے کونے تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔

Read more

مغربی ادب ۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (نویں قسط)۔

بیسویں صدی کا آغاز یورپ کی ادبی دنیا میں ’ازم‘ کی دنیا کے آغاز سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ انیسویں صدی کے آخر میں یکے بعد دیگر کئی ایک ادبی تحریکوں یا ازم کا یورپین ادب میں تعارف ہوا جنہوں نے ریئلزم اور نیچرل ازم کے زیر اثر ادبی تخلیقات کو روایتی اور فرسودہ قرار دے دیا۔ ان تحریکوں میں سمبل ازم، ایکسپریشن ازم، فیوچر ازم، سیورل ازم، دادا ازم اور ایگزسٹینشل ازم شامل تھیں جو ماڈرن ازم (جدیدیت) کی چھتری میں جمع ہو کر تمام تر مغربی ادب کو ایک نئے دور میں دھکیلتی چلی گئی اور یوں مغربی ادب ریل ازم اور نیچرل ازم (حقیقت اور فطرت پسندی) کے دور سے نکل کر ماڈرن ازم کے عہد میں شامل ہو گیا۔

Read more

مینا کماری: ٹریجڈی کوئین کی ٹریجڈی دنیا میں آنے سے پہلے ہی شروع ہو گئی تھی

مینا کماری کو قریب سے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ مینا کماری فنکارہ بڑی تھیں یا انسان؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اُن کی ذاتی زندگی دکھوں کا ایک جوار بھاٹا تھی۔

Read more

شادی اور خواتین کی معاشی خودمختاری (خط # 9)

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! میں آپ کی مشکور ہوں کہ آپ نے مجھے کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض سے مختلف ملاقاتوں کے تجربات سے آگاہ فرمایا۔ بد قسمتی سے ایسی نایاب عورتوں کا تذکرہ ہمارے ہاں بہت کم ہے۔ میرے سرکل میں ہی بہت سی نوجوان لڑکیاں ان باہمت اور ذہین خواتین کی کوششوں سے واقف نہیں۔ اردو ادب جہاں بھی تعلیمی نصاب کا حصہ بنتا ہے اس میں خواتین کے کردار کو بہت زیادہ نظرانداز کیا جاتا ہے جس

Read more

زمانہ عدالت نہیں ہے

یہ عنوان بیسویں صدی میں اردو کے ایک بڑے شاعر مبارک احمد کی 1961ء میں لکھی نظم سے ماخوذ ہے۔ مبارک احمد کا کچھ ذکر رہے گا مگر اس سے پہلے صاف کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دن بے کراں ذہنی انتشار، پژمردگی اور اعصابی دباؤ  میں گزرے۔ ملکی سیاست بدستور دگرگوں ہے اور میری نسل کے عرصہ حیات میں کسی بامعنی بہتری کے کوئی آثار نہیں۔ خیر یہ تین نسلوں کی رائیگانی کی حکایت ہے اور چوتھی نسل کے

Read more

سرائیکی کا آل راؤنڈر ادیب

کسی بھی قوم کے ادب کا تعلق اس قوم کے عروج سے جڑا ہوتا ہے۔ مجھ ناچیز کی رائے میں جب تک کوئی قوم اپنے عروج پر رہتی ہے اس کی ادبی تخلیقات بھی بام عروج پر ہوتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ زوال کے عمیق گڑھوں میں گرتی ہے اس کے تخلیق کاروں کے اذہان اور قلم بھی آہستہ آہستہ جواب دینا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اس زوال کے دور میں کچھ ایسے سر پھرے اور دیوانے بھی

Read more

بن بیاہی بیوہ اور معلق بوسہ

کوہ قاف کی پری، رقاصہ اپنے بستر پر بیٹھی تھی۔ جلد کی رنگت سفید پڑ چکی تھی لیکن اس کے نیچے بہتے خون میں زعفران کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ گول کتابی چہرے پر بھویں کمان کی طرح اوپر اٹھی ہوئیں تھیں۔ پر کشش لب خاموش سے جھانکتے دانت موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ سیدھی مانگ سے نکلتے ہوئے کالے بالوں نے ماتھے کے کناروں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ دونوں بازو سینے کے نیچے لپیٹے تھے گویا نرم و نازک کومل جسم میں سلگتے الاؤ کو بھڑکنے سے روک رہی ہے۔ پنجرے میں بند چیتے کی طرح، بغاوت کے ڈوروں سے دمکتی سرکش شرابی آنکھیں، آنے والی عورتوں کے جسم کو چیرتی، مٹی کی دیواروں کے پار دیکھ رہی تھیں۔

Read more

میں بھی نبی پاکﷺ کے مدحت کدے میں تھی

چند دن پہلے سعودی عرب میں حکام نے خانہ کعبہ کے جنوب مشرقی حصے پر موجود مقدس پتھر حجراسود کی کچھ نئی اور نایاب تصاویر جاری کیں۔ ایسی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر لائی گئی تھیں جو فوٹوگرافی کی جدید ترین تکنیک کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔ میں اس پتھر کی قسمت پر حیران تھی اور اس بارے میں لکھنا چاہتی تھی کہ فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے فرمان نے ساری وضاحت فرما دی: ”اے حجراسود! میں

Read more

ادھم سنگھ: جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا ’بدلہ‘ لینے والا ’شہید اعظم‘ کون تھا؟

برصغیر پر برطانوی سامراج کے قبضے کے خلاف کام کرنے والی غدر پارٹی کے رکن ادھم سنگھ نے سنہ 1919 میں انڈین پنجاب کے جلیانوالہ باغ میں ہونے والے قتل عام کے بعد بدلہ لینے کے لیے پنجاب کے سابق لیفٹیننٹ گورنر مائیکل او ڈائر کو لندن میں قتل کر دیا۔

Read more

اس ذہین نوجوان کو لڑکیوں سے نفرت تھی

میں اس وقت ایڈنبرا میں تھا جب یہ خبر پہنچی کہ سلیم نے ایک نرس کو تھپڑ مار دیا جس کے بعد اسے ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

ایڈنبرا بھی ایک شہر ہے اسکاٹش تاریخ، ادب اور ثقافت کا ایک عجیب و غریب ترجمان۔ شاہی قلعے، میوزیم، ہرے بھرے میدان اور شہر کی پتلی پتلی گلیوں میں اُگا ہوا شہر جہاں اگر کوئی ایک دفعہ رہ لے تو وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور جس نے ایڈنبرا نہیں دیکھا اس نے شاید یورپ میں سب سے اچھی جگہ نہیں دیکھی۔ ایڈنبرا آکر میں ایسا مصروف ہوا کہ کسی کی خبر نہیں رہی کہ کون کیا کررہا ہے۔ جب سال بھر ایڈنبرا میں رہتے رہتے ایک دن ایک دوست کو فون کیا تو اس نے یہ خبر دی تھی۔

Read more

جرگائی فیصلہ (سندھی کہانی)

آج دو سرداروں کی سربراہی میں گزشتہ دو سالوں سے، دو متحارب دھڑوں میں جاری خونی تصادم کا فیصلہ ہوا۔ دونوں دھڑوں میں یہ خونی تصادم دراصل کسی کی فصل میں، مویشی کے اچانک گھس آنے سے شروع ہوا تھا، جس میں اب تلک چالیس خون ہو چکے۔ ایک طرف ظالمانی ذات کے لوگ اور دوسری طرف مظلومانی ذات کے لوگ بیٹھے تھے۔ دونوں سرداروں کا تعلق بھی ان دو مختلف دھڑوں کی ذاتوں سے تھا۔ ایک کا تعلق حکومتی

Read more

فنون لطیفہ کے لئے افلاطون اور موجودہ ڈکٹیٹرز میں فرق

پاکستان کا حکومتی نظام ہر دور میں کسی monarch کے زیر احسان، ڈکٹیٹر کے نافذ کردہ جائز اور ناجائز اصولوں پہ عمل پیرا نیم مردہ ڈیموکریسی کا نظام ہے جہاں ہر انسان کو انفرادی اظہار رائے کا اعتماد دے کر کس خوش اسلوبی سے بہلایا جا رہا ہے! ادبی حلقوں میں اگر Dark Comedy پر مشتمل کوئی ضخیم تصنیف درکار ہو تو پاکستانی میں جمہوریت کی تاریخ کو جوں کا توں رقم کر دیا جائے لیکن یہاں ایسا کرے کون

Read more

مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر پر فلم اور وقائع بابر کا جدید اردو ترجمہ

اپنے حالیہ سرکاری دورہ ازبکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ازبک صدر شوکت مرزا ایوف کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں سیاسی اور اقتصادی اعلانات کے ساتھ ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے ایک اعلان یہ بھی کیا کہ وہ ازبک حکومت کے ساتھ مل کر برصغیر پاک و ہند میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھنے والے بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کی زندگی پر ایک فلم بنائیں گے۔ وزیر اعظم نے مغل بادشاہ پر فلم کا اعلان کرتے

Read more

حضرت مولانا نور عالم خلیل امینیؒ اور ماہ نامہ الداعی کی ادارت

حضرت مولانا وحید الزماں صاحب کیرانویؒ ( 1930۔ 1995 ) عربی زبان و ادب کے چند مثالی اساتذہ میں سے ایک تھے۔ دار العلوم، دیوبند میں تدریسی خدمات کے دوران، انھوں نے اپنی نگرانی میں، اپنے شاگردوں کو عربی زبان و ادب میں تقریر و تحریر، صحافت و خطابت اور لکھنے بولنے کی مشق کرائی اور ان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھایا۔ انھوں نے اپنے شاگردوں کو اس طرح تراشا تھا کہ وہ جہاں بھی گئے نمایاں کارکردگی

Read more

افغانستان: طالبان کے ہاتھوں قتل ہونے والا خاشہ زوان، مزاحیہ اداکار یا جاسوس؟

افغانستان میں ایک سابق پولیس اہلکار اور مقامی مزاحیہ اداکار کو مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا ہے جن کے اہل خانہ قتل کا الزام طالبان پر عائد کر رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ کی پشتو سروس کے مطابق قندھار میں فضل محمد نامی شخص کی مسلح افراد کے ساتھ گاڑی میں موجودگی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں سامنے آنے والی ویڈیو میں موجود شخص کو ’خاشہ زوان‘ کے نام سے جانا جاتا ہے جن کی مزاحیہ ویڈیوز اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر بھی مشہور ہوتی رہی ہیں۔

Read more

حماقتیں: شفیق الرحمن نرے ادیب نہیں، پہنچے ہوئے بزرگ تھے

"ان دنوں الیکشن زوروں پر تھا۔ الو شناس معروض ہوا کہ ہم دلی میں اس قدر مقبول ہوچکے ہیں کہ خواہ کسی ٹکٹ پر کھڑے ہو جائیں انشا اللہ کامیاب ہوں گے۔ بادشاہ گروں سے مشورہ لینا بے کار تھا۔ کیونکہ الیکشن کے معاملے میں وہ بالکل یوں ہی تھے۔ ایک ایک ٹکٹ پر لاتعداد امیدواروں کو نامزد کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض اوقات امیدواروں کی تعداد رائے دہندگان سے زیادہ ہوجاتی۔ لطف یہ تھا کہ ہمارے مقابلے

Read more

کارل پوپر کی سالگرہ: سائنس اور غیر سائنس میں امتیاز کا مسئلہ

(آج کارل پوپر کی ایک سو انیسویں سالگرہ ہے۔ اس موقع پر اس کے فلسفہ سائنس کا مختصر سا تعارف پیش کر رہا ہوں۔) بیسویں صدی کے فلسفہ سائنس میں یہ مسئلہ بہت نزاع کا باعث رہا ہے کہ سائنس اور دیگر علوم بالخصوص ما بعد الطبیعیات میں کیا فرق و امتیاز ہے۔ منطقی اثباتیت کے فلسفیانہ دبستان نے ما بعد الطبیعیات کو رد کرنے کی خاطر ایک ایسی زبان کی تشکیل کا بیڑہ اٹھایا جس کی مدد سے سائنس

Read more

والیِ خیرپور جن کے لیے ہیرا منڈی کی گائیکہ کا عشق جوگ سے روگ بن گیا

ان کی صبح کا آغاز رومانوی انداز میں ہوتا تھا بالی کو گلابوں میں تولا جاتا اس کے بعد میر ناز ان پر پھول نچھاور کرتے تھے، جب کبھی وہ لاہور جاتیں واپسی پر راستے میں پھول بچھائے جاتے، پھر ایسا کیا ہوا کہ مرتے وقت میر ناز نے انھیں شکل تک نہ دیکھنے دی۔

Read more

جوش، فیض اور مودودی کی دوستی

سید ابو الاعلیٰ مودودی سے کسی نے جوش ملیح آبادی کے بارے میں رائے لی تو مولانا نے فرمایا’’اچھا اس لئے نہیں کہوں گا کہ دین دار نہیں،برا اس لئے نہیں کہوں گا کہ میرے پرانے دوست ہیں۔‘‘جوش صاحب بھی مولانا کو بہت مانتے تھے مگر کچھ اور لوگوں کی طرح ان کی بھی رائے تھی کہ اگر وہ سیاست میں نہ آتے تو بہتر ہوتا ۔’’سیاست پیغمبروں کا میدان تھا جس پر شیاطین نے قبضہ کر لیا ہے۔ جو

Read more

بصارت زیادہ اہم ہے یا بصیرت؟

یہ عنوان تجویز کرنے کے بعد، میں خود، جی بھر کے کنفیوز ہوں کہ واقعی اگر ان دونوں کی ترتیب اور اہمیت مقرر کی جائے تو کس کو کہاں رکھا جائے گا (یا رکھا جانا چاہیے)۔ منظر کو دیکھنے، سمجھنے اور جانچنے کے لئے، عملاً بصارت درکار ہے یا بصیرت؟ کبھی یوں لگتا ہے، جیسے بصارت بنا کیا منظر اور کیا اس منظر کی تشخیص، پھر یہ خیال آتا ہے کہ بصیرت سے بالا ہو کر بصارت جو دکھائے، اس

Read more