شوبھا ڈے: سوفٹ پورن ادیبہ یا سنجیدہ صحافی ؟

وہ شام کچھ عجیب سی تھی۔ کمرے کے باہر بارش کی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔ ہر سو ماحول نکھرا نکھرا سا لگ رہا تھا۔ کھڑکی کا شیشہ، نمی کے باعث دھندلا سا گیا تھا۔ لیکن کمرے کا ماحول بہت خواب ناک تھا۔ معلوم نہیں کہ یہ آتش دان میں دھیمی دھیمی چٹخنے والی لکڑیوں کی آواز کا اثر تھا یا ہندوستان کی معروف کالم نگار اور ناول نگار شوبھا ڈے کی موجودگی کا، جن کے ساتھ ہم تقریباً ایک گھنٹے سے محو گفتگو تھے۔ جی ہاں! وہی شوبھا ڈے، جن کو بھارت کی ”جیکی کولینز“ بھی کہا جاتا ہے۔

انہوں نے ہندوستان کی فلمی صحافت کو اپنی تحریروں کے ذریعے ایک نیا رنگ اور انداز دیا۔ شوبھا ڈے کا جنم بر صغیر کی تقسیم کے تقریباً پانچ ماہ بعد 7 جنوری 1948ء میں ہوا۔ ان کا اصل نام شوبھا راجا دھکشہ ہے لیکن ادبی و صحافتی حلقوں میں وہ شوبھا ڈے کے نام سے مقبول ہوئیں۔ انہوں نے گریجوئیشن کے بعد ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی ایک منفرد مقام حاصل کر لیا۔ لیکن ہندوستانی فلمی دنیا میں ان کا نام اس وقت جانا مانا گیا جب 70ء کی دہائی میں معروف فلمی جریدے ”اسٹار ڈسٹ“ سے بطور پہلی خاتون ایڈیٹر منسلک ہوئیں۔

Read more

خبر لیجیے دہن بگڑا

نواز شریف درست ہی کہتے تھے کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بچھونا ہے۔ قوم یہ نہ سمجھے کہ اگر آپ نے ہمیں تخت اقتدار پر بٹھا دیا ہے تو ہم عیش و آرام میں ہیں۔ نواز شریف ہی کیا، ہر شریف انسان یہ بات خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ ذمہ داری کیسی بھی ہو، ہر ذمہ دار انسان کے لئے بڑی آزمائش ہوا کرتی ہے، لہٰذا کوئی بھی ذمہ دار انسان نہ تو خود سے آزمائش طلب کرتا ہے اور نا ہی اس کی خواہش اپنے دل میں رکھتا ہے۔ البتہ اگر آزمائش آہی جائے تو وہ آزمائش کو، من جانب اللہ سمجھ کر صبر، شکر اور استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتا ہے۔

ذمہ داری تو ایک گھر کی ہی ہر ذمے دار انسان کی کمر دہری کر دیا کرتی ہے۔ چہ جائے کہ کسی پر پوری قوم و ریاست کی ذمہ داری آن پڑے۔ اتنا پہاڑ بوجھ آ پڑنے کے با وجود، اگر وہ زندہ بچ جائے تو بڑی بات ہے۔ میں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی رہنماؤں کے سر پر نظامت اعلیٰ کا تاج سجتے دیکھا ہے۔ اعلان ہونے کہ بعد کئی کئی گھنٹے بے ہوشی کے بعد بھی انھیں پہلے خطاب کے لئے کندھا دے کر اسٹیج تک لایا جاتا تھا، تب بھی وہ چند الفاظ سے زیادہ کچھ نہ کہہ پاتے تھے۔ احساس ذمہ داری جن کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو، وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی ذمے داری کی جواب دہی کوئی آسان کام نہیں اور پھر وہ ذمے داریاں جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، ان کا بوجھ تو نہ جانے کتنے ہمالیہ کے برابر ہوتا ہے۔

Read more

جانی لیور: بالی وڈ کے مزاحیہ اداکار کی بیٹی جیمی لیور بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر

لندن کی ایک نامور یونیورسٹی سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں اپنی ملازمت کو چھوڑ جیمی لیور نے کامیڈی کے سٹیج کو اپنی اصل راہ کیسے بنایا۔

Read more

رانی سارندھا: پریم چند

اندھیری رات کے سناٹے میں دہسان ندی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی سہانی آواز پیدا کرتی تھی، گویا چکیاں گھمر گھمر کرتی ہوں۔ ندی کے داہنے کنارے پر ایک ٹیلا ہے، اس پر ایک پرانا قلعہ بنا ہوا ہے، جس کی فصیلوں کو گھاس اور کائی نے گھیر لیا ہے۔ ٹیلے کے پورب میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ قلعہ اور گاؤں دونوں ایک بندیل سردار کی یادگار ہیں۔ صدیاں گزر گئیں، بندیل کھنڈ میں سلطنتیں بنیں اور بگڑیں، مسلمان آئے اور گئے، بندیل راجے اٹھے اور گرے۔ کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جس پر ان تبدیلیوں کے داغ نہ لگے ہوں۔ مگر قلعے پر کسی دشمن کا پھریرا نہ لہرایا اور اس گاؤں میں کسی دشمن کے قدم نہ آئے۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی۔

انردھ سنگھ دلیر راجپوت تھے۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا، جب ہر شخص کو ضرورتاً دلیر اور جانباز بننا پڑتا تھا۔ ایک طرف مسلمان فوجیں پرا جمائے کھڑی رہتی تھیں تو دوسری طرف زبر دست بندیل راجے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ہوس ناک نگاہوں سے دیکھتے رہتے تھے۔ انردھ سنگھ کے پاس سواروں اور پیادوں کی مختصر مگر آزمودہ کار جماعت تھی، اس سے وہ اپنے خاندان کا وقار اپنے بزرگوں کی عزت قائم رکھتا تھا۔ اسے کبھی چین سے بیٹھنا نصیب نہ ہوتا۔

Read more

سانحہ کار ساز کی یاد میں

اسے معلوم تھا کہ وہ موت سے لڑنے جا رہی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں سے بخوبی واقف تھی۔ اسے معلوم تھا کہ ریاست پاکستان کی ”مستقل“ مقتدر قوتیں، اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ وہ ان کی رگ رگ سے واقف تھی، اپنے باپ کی موت کے بعد سے ان کے خلاف ایک مسلسل جدوجہد کر رہی تھی کہ ”نہ ان کی رسم نئی ہے نہ اپنی ریت نئی“۔ اس کی جد و جہد تھی، اس ملک کے لیے۔ جمہوریت کے لیے۔ شخصی آزادیوں کے لیے۔ روشن خیال اور ترقی پسند سوچ کے لیے۔ ملائیت کی چھتری تلے پلنے والی آمریت سے آزادی کے لیے۔ مظلوموں کے لیے۔ مزدور اور کسان کے لیے۔ عوام کے حق حکمرانی کے لیے۔ یعنی میرے لیے۔ اور آپ کے لیے۔

اسے علم تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ لڑائی آسان نہیں ہے۔ حریف نا صرف بہت طاقتور ہے، بلکہ بے رحم بھی۔ منافقت اور پروپیگنڈا اس کا خاص ہتھیار ہے۔ اسی ہتھیار کا سہارا لے کر جب چاہتا ہے، اسلام کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ اور جہاد کے پر فریب نعرے کے ذریعے عوام کے مذہبی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ چاہے اس کے لیے اپنے معصوم ذہن نوجوانوں کو ”شہادت“ کی بھینٹ چڑھانا پڑے۔ چاہے اس کے لیے عدم برداشت اور مذہبی منافرت کے بیج بونے پڑیں۔ اور جب ضرورت پڑتی ہے تو بغل میں کتے دابے، روشن خیالی کا چورن بیچنا شروع کر دیتا ہے۔ دو دہائیوں سے بنائے گئے نام نہاد ہیرو ایک پل میں ولن قرار دے سکتا ہے۔ مقصد صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنا، عوام چاہے جئیں یا مریں، اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

Read more

ہیں تاک میں شکاری نشانہ ہیں بستیاں

میں نے ایک موقع پر کچھ یوں کہا تھا:

کبھی منزل تو کبھی نقل مکانی مانگے

زندگی روز نئی ایک کہانی مانگے

پاکستان ایک ملک سے زیادہ تماشا اور تجربہ گاہ ہے، جہاں ہر چند سال کے بعد کوئی نا کوئی ایک تجربہ اور تماشا برپا کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کیا بنا کہ اس کے بنتے ہی تماشوں پر تماشے اور تجربوں پر تجربے شروع ہو گئے۔ جن مقاصد کے لئے عزت، آبرو، مال، دولت اور جانوں کی قربانیاں دی گئی تھیں، 14 اگست کا سورج طلوع ہوتے ہی اس مقصد عظیم کو تماشے میں تبدیل کر دیا گیا۔ جس سر زمین پر وعدوں اور دعووں کے مطابق خلافت کا اعلان ہونا چاہیے تھا، گورنر جنرل بننے کے اعلان کے ساتھ ہی اسی طوق غلامی کو گلے میں دوبارہ پہن لیا گیا، جس سے نجات کے لئے 1857ء سے جد و جہد کا آغاز کیا گیا تھا۔

Read more

ملاوٹ زدہ سچ

طاقت کی وجہ سے خوف پیدا ہوا کرتا ہے اور پھر یہ خوف بڑھتا بڑھتا نفرت میں بدل جاتا ہے۔ یہ نفرت آہستہ آہستہ بغاوت بن جاتی ہے اور بغاوت جب طاقت سے ٹکراتی ہے تو طاقت کے پلے کچھ نہیں رہتا۔ یہ عارضی دنیا جس میں خاک کا بنا نادان انسان، مستقل اور پختہ اقتدار چاہتا ہے۔ چاہے اس کے لئے اسے کوئی بھی حربہ اختیار کرنا پڑے۔

یہاں اقتدار کے ایوانوں کی ہوس اس قدر ہے کہ لوگ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کے اپنے پیاروں کی جان تک لے لیتے ہیں۔ تخت کے نشے میں دھت ہوتے ہیں، یوں کہ خبر نہیں رکھتے ارد گرد کے مکینوں کی۔ روشنیوں کی چکا چوند میں گم ہوتے ہیں، اس قدر کہ اندھیروں کی تاریکی کا سن کر گھبرانے لگتے ہیں۔

Read more

طویلے کی بلا، بندر کے سر

دور جہالت میں لوگوں میں توہم پرستی عام تھی، تو لوگوں کا خیال تھا کہ جب بھی کوئی بلا آتی ہے، تو طویلے میں موجود بھیڑ، بکریاں، گائے، گھوڑے وغیرہ پر گرتی ہے، جس کی وجہ سے وہ مر جاتے ہیں۔ انہوں نے اس کا یہ حل نکالا کہ طویلے میں بندر کو باندھ دیتے تا کہ قیمتی جانور بچ جائیں اور بندر کی قربانی ہو جائے۔ کیوں کہ بلا کو کسی بھی جانور کی قربانی چاہیے ہوتی ہے، اس طرح وہ قیمتی جانور کو بچانے کے لیے بندر کی قربانی دے دیتے۔

پھر اس میں بھی تبدیلی آئی اور بندر کی بلا، طویلے کے سر ہو گئی۔ یعنی الٹ معنی دونوں کا ایک ہے کہ قصور کسی کا اور سزاوار کوئی اور ٹھہرا، یا کرے کوئی اور بھرے کوئی اور۔ امیر کو بچانے کے لیے کسی غریب کی قربانی وغیرہ۔ تبدیلی تو شروع ہی سے کسی چیز کے الٹ ہونے کا نام ہے، اور اس وقت ملک میں ہر چیز الٹ ہی ہو رہی ہے تو آج لوگ تبدیلی لانے والوں سے اتنے نالاں کیوں ہیں؟

Read more

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مریم نواز کے لیے نانی کے لفظ کا استعمال، نانی کا رشتہ اور خواتین کے لیے ’عمر کے طعنے‘ پر بحث

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے ملک کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے خود کو نانی کہنے پر جواب میں کہا تھا کہ عمران خان نے ’مقدس رشتے کی تذلیل کی ہے‘۔ مختلف سیاسی رہنما خواتین اس پر کیا کہہ رہی ہیں۔

Read more

ٹیکنالوجی کا استحصال اور گھریلو تشدد: ’گھر کی گھنٹی میں نصب کیمرے سے وہ میری جاسوسی کرتا رہا‘

سمارٹ سپیکرز اور ٹریکنگ ایپس کی مدد سے بعض افراد نے لاک ڈاؤن کے دنوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھریلو تشدد اور بدسلوکی کی اور کچھ نے تو ٹیکنالوجی کے استحصال سے اپنے ساتھیوں کی جاسوسی بھی کی۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ کے مختصر، غیر تحریری سفر نامے

”مجھے پک کرنے کے لئے ٹی وی کی گاڑی نہ بھیجیں، میں پیدل آ جاؤں گا۔“ یہ پیغام، صبح کی نشریات کے ایگزیکٹو پروڈیوسر، کو ایک دفعہ نہیں، بارہا وصول پایا جو مختلف حوالوں سے سب کے لئے حیرت کا باعث ہوتا۔ ان کے پڑاؤ (پرانے ایم این اے ہوسٹل) اور سیکٹر ایف سکس میں واقع پی ٹی وی مرکز کے درمیان اتنا کم فاصلہ نہ تھا کہ کوئی صبح صبح یہ ارادہ باندھے۔

یہ تجسس، وضاحت چاہنے پر، ایک خوش گوار حیرت ہر تمام ہوا کہ ایسی خواہش کی وجہ، محض اس لئے کی گئی ہے کہ تنہا چہل قدمی میں میسر آنے والی یکسوئی نئے خیالات کو بڑھاوا اور موجودہ خیالات کو نکھار دیتی ہے۔

Read more

بنام ابو جی!

میں ابو جی کے جانے سے پہلے خود کو بہت بہادر ہمت والا ہر مصیبت سے جنگ کرنے والا کبھی ہار نہ ماننے والوں میں خود کو شمار کرتا تھا، مگر ابو جی کے جانے کے بعد ہر چھوٹی سی تکلیف بھی پہاڑ جیسی لگتی ہے اور ہر خوشی پھیکی سی۔ اللہ نے مجھے اتنے مضبوط اعصاب کے ساتھ پیدا کیا تھا، میں زندگی میں کبھی رویا نہیں تھا لیکن نا جانے کیوں اب ہر خوشی غمی میں آنکھیں اتنی جلدی نم ہو جاتی ہیں کہ آنکھیں خشک ہونے کے بعد کچھ سکون سا میسر آنے لگتا ہے، لیکن وہ سکون کہاں جو کبھی ابو جی کے گلے لگ کر ملتا تھا۔ آنکھیں خشک ہونے کے بعد پتا نہیں کیوں اندر سے یقین آ جاتا ہے، جیسے ہم ابو جی کو سنا رہے ہوں اور ابو جی سے ملاقات ہو گئی ہو اور ابو جی صرف جواب نہیں دے رہے۔

زمانے کی ہزار شاباشی بھی ہمارا اتنا حوصلہ نہیں بڑھا سکتی، جتنی ابو جی کی ایک تھپکی کے ساتھ ”میں ہوں نا“ سے ہمارا سینہ چوڑا ہو جاتا اور حوصلہ آسمان کو چھونے لگتا تھا۔ ہمیشہ سے سن اور پڑھ رکھا تھا کہ ماں جنت اور باپ چھپر (سایہ) ہوتے ہیں، مگر میں اب سمجھتا ہوں باپ صرف سایہ ہی نہیں بلکہ باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے جس میں بیلنس نہ ہوتے ہوئے اولاد کے لئے بیش قیمت خزانے موجود ہوتے ہیں۔

Read more

سیاسی اور سماجی ”بڈھوں“ کے دکھ

آخر کار اپنے بالوں میں بھی چاندی مسکرانے لگی، تو پتا لگا بھئی کہ ہم نے بھی بال دھوپ میں سفید نہیں کیے۔ یہ بات ہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں۔ کیوں کہ ہم تو سو کے ہی تب اٹھتے ہیں، جب دھوپ ڈھل جاتی ہے۔ لہذا اب سے ہمارا شمار بھی سماجیات میں سمجھا جائے، تو مناسب ہو گا۔

اجی، آپ سمجھے نہیں؟

تو بات کچھ یوں ہے کہ جب سے ہم نے ان دو بچوں کے بارے میں، ایک بابا جی سے سنا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ کھیل نہیں کھیلتے۔ دونوں ان کے لئے بچے اور شاید بچے کھچے، بھی ہیں۔ اور موصوفہ تو نانی دادی بھی بن چکی ہیں تو احباب من یہ جملہ نہیں، یہ ہمارا فلسفہء حیات اور آئینہء سماج ہے، جو زندگی کی کچھ گرہیں کھولتا ہے، تو کچھ لگا دیتا ہے۔ مثلا: بابا جی کے مطابق آپ کو شادی جلدی کر لینی چاہیے، تا کہ آپ جلد کئی نسلیں دیکھ لیں۔ کیوں کہ بابا جی اپنی تمام تر بزرگی کے با وجود، نا صرف جوان جہان ہیں، بلکہ نہ تو دادا بن سکے، نہ ہی نانا۔

Read more

وزیر اعظم زخموں پر نمک پاشی تو نہ کریں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ ادارے قوم کو عزیز ہیں، قوم کو استحکام کی راہ پر ڈال دیا ہے اور قومی دولت کو لوٹنے والے صرف اور صرف این آر او کی تلاش میں ہیں، جو میں ان کو کسی بھی صورت نہیں دوں گا۔ پوری قوم اس وقت جس اذیت کے دور سے گزر رہی ہے، شاید اس کا احساس ابھی تک وزیر اعظم کو نہیں ہو سکا۔ اس لئے یہ وہی پرانا راگ الاپے جا رہے ہیں کہ وہ ملک کی دولت لوٹنے والوں کو کسی صورت نہیں بخشیں گے، چوروں ڈاکوؤں کو کسی بھی صورت کوئی چھوٹ نہیں دیں گے اور ان کے پیٹ پھاڑ کر ان میں بھری ساری دولت نکال کر ہی رہیں گے۔

اس حوالے سے اگر ان کی گزشتہ 27 ماہ کی کارکردگی دیکھی جائے، تو وہ نفی سے بھی نجانے کتنے درجے نیچے ہے۔ کیوں کہ اب تک نہ تو وہ، ان سے ایک پائی وصول کر پائے اور نا ہی کسی بھی قسم کی عدالت سے ان پر لگائے گئے الزامات کی تصدیق کر وا سکے ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ نہ تو کوئی چور جیل میں ہے اور نا ہی کوئی لٹیرا مع ثبوت گرفت میں آ سکا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جن کو وہ چور کہہ رہے ہیں، ان سب نے نا صرف پورے ملک میں ان کے خلاف چور چور کا شور ڈالا ہوا ہے، بلکہ وہ نہایت طمطراق کے ساتھ ریلیاں، جلوس اور جلسے کرتے پھر رہے ہیں۔

Read more

آنکھوں کے اس پار: فوزیہ رباب کی شاعری

اردو شاعری کے وسیع تر کینوس پر ادھر دو دہائیوں میں جن شاعرات نے اپنے شعری وجود سے فضا کو مشک بار کیا ہے، ان کی فہرست اگر چہ طویل ہے، پھر بھی کچھ شاعرات ایسی ہیں، جنہوں نے اپنی فکری توانائی سے غزل کے وہ رنگ بکھیرے ہیں، جو ہمارے عہد کی یقیناً شناخت کہے جا سکتے ہیں۔ ان شاعرات کے بنائے ہوئے راستے پر جن شاعرات نے آگے کا سفر طے کیا، ان میں ایک نمایاں نام فوزیہ رباب کا بھی ہے۔ فوزیہ رباب کا تعلق گجرات سے بھی ہے اور یو پی سے بھی، کہ ان کی تعلیم و تربیت احمد آباد میں ہوئی اور زندگی کا اعتبار بجنور، یوپی میں حاصل ہوا۔ ان کے شوہر کا تعلق روہیل کھنڈ کے اسی دیار سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب معاشی ضرورتوں کے تحت یہ ایک عرصے سے گوا میں مقیم ہیں۔

جہاں تک فوزیہ رباب کے شعری سروکار کا تعلق ہے میرے پیش نظر ان کا شعری مجموعہ ”آنکھوں کے اس پار“ ہے، جس میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے لگتا ہے کہ انہوں اس میدان میں پوری سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا ہے اور سنبھل سنبھل کر یہاں تک کا سفر طے کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے یہاں زبان و بیان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا تعلق یقیناً ایک علمی و ادبی گھرانے سے رہا ہے۔ ویسے ادھر جو شاعری کے نئے رجحانات ہمارے سامنے آرہے ہیں، ان کی تازگی اور لفظوں کے نشست و برخاست کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شاعری اس شاعری سے کسی حد تک الگ ہے، جسے ہم بیسویں صدی کے ڈوبتے سورج کے ساتھ ہی چھوڑ آئے۔

Read more

نو نان سینس بلقیس ایدھی اور نان سیرئیس بیوروکریٹ

ایدھی صاحب سے اپنی پیشہ ورانہ ملاقاتوں کا سلسلہ (15، اپریل 1985 کی اس رات جب صبح سویرے بہاری ڈرائیور راشد حسین نے روٹ این ون کی منی بس چلاتے ہوئے سرسید کالج کے سامنے وہاں کی طالبہ بشری زیدی، اس کی بہن نجمہ زیدی اور ان کی پاپوش نگر کی پڑوسن کو کچل دیا تھا) کے بعد بھی جاری رہا۔ ان کا اپنا گھر (ایدھی ویلفئیر ہوم) جو گلبرگ سہراب گوٹھ کے نزدیک تھا وہ لیاقت آباد سب ڈویژن

Read more

کچھ ذکر قائد ملت لیاقت علی خان کا

وزارت عظمی کی چمک دمک میرے لیے بے معنی ہے، اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ میں بطور چپڑاسی پاکستان کی بہتر خدمت کر سکتا ہوں، تو بخدا میں اس سے انکار نہیں کروں گا۔۔۔ میرے پاس نہ روپیہ ہے اور نہ دولت، صرف ایک جان ہے جو قومی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہے، میں یقین دلاتا ہوں کہ جب کبھی بھی پاکستان کے لیے خون دینے کا وقت آیا تو میرا خون بھی عوام کے خون میں

Read more

طالبان کے خونی سوات سے خوشیوں کے باغ تک

یہ علاقہ شروع سے ہی سرسبز اور شاداب رہا ہے۔ شیو شنکر بھگوان کے نام کی نسبت سے آباد ہونے والے شیوا گاؤں کو تہذیبوں کا امین کہا جاتا ہے۔ یہ خیبر پخونخواہ کا ضلع صوابی ہے جہاں سے سوات کے لئے روانہ ہونے سے پہلے محترم فرہاد زمان نے ایک قصہ سنا کے رخصت کیا جو اس طرح تھا۔ نماز فجر کی اذان سن کر، سید کمال کاکا لبیک کہتا ہوا مسجد کی طرف چل پڑا۔ کیا دیکھتا ہے

Read more

بو: منٹو کا وہ افسانہ جس پر فحاشی کا مقدمہ بنا

برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔ کھڑکی کے پاس باہر پیپل کے نہائے ہوئے پتے رات کے دودھیالے اندھیرے میں جھمکوں کی طرح تھرتھرا رہے تھے۔ اور شام کے وقت جب دن بھر ایک انگریزی اخبار کی ساری خبریں اور اشتہار پڑھنے

Read more

سنہری پنجرہ

بیس سال محنت مزدوری کرنے کے بعد پردیسی نے مستقل وطن واپسی کی ٹھانی۔ دیار غیر میں دو دہائیاں گزارنے کے دوران وہ ہر دو تین سال کے بعد جب کچھ مہینے کے لیے وطن جاتے تو دعوتوں، دوستوں رشتے داروں سے ملنے ملانے اور توجہ کے منتظر کاموں کو نمٹانے میں وقت پر لگا کر اڑ جاتا اور پتہ ہی نہ چلتا کہ کب واپسی کا وقت ہو گیا۔ بڑھتے ہوئے خاندان کی ہر دم بڑھتی ضرورتوں، کچھ عرصے کے بعد غیر محسوس طور پر پیدا ہوتی چلے جانے والی خواہشوں اور خاندان کے نت نئے تقاضوں نے پردیسی کو وطن واپسی کے لیے سوچنے کی بھی مہلت نہ دی اور بیس سال گزر گئے۔ ان بیس سالوں میں بوڑھے والدین گزر گئے، خاتون خانہ بوڑھی ہو گئی اور بچے جوان ہو گئے۔ بڑھتی عمر، بیماریوں، پردیس کے بدلتے حالات اور اپنی نوکری کے ختم ہو جانے کی وجہ سے اب پردیسی کو بھی وطن واپسی پر مجبور ہونا پڑا۔

Read more

بڑھتی معاشرتی بے حیائی کا جائزہ

ہمارے ملک میں فحاشی اور بے راہ روی کو جس طرح گزشتہ چند برسوں میں عروج اور پذیرائی ملی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب ہمارے اقدار کی پاسبانی کرنے کے لئے عمر رسیدہ افراد سے لے کر نو جوانوں تک میں سے کوئی تیار نہیں۔ اس سلسلے میں ایک علمی جائزہ لینا ضروری ہے، تا کہ آنے والے وقت میں ہمیں در پیش مسائل کا احاطہ کیا جا سکے اور ساتھ ہی درست سمت کا تعین بھی۔ آپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا جائزہ لیں۔ مثلاً: فیس بک یا ٹک ٹاک، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں صارف کو دینی، فحش اور بے وقعت تفریح کا سامان مہیا کیا جا رہا ہے۔

پہلے آپ قرآن مجید کی کسی آیت کو لائک کرتے ہیں، تو ساتھ ہی اگلی پوسٹ پر کوئی فحش کلپ نمودار ہو جاتا ہے اور اس سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عورت کے لباس کو لے کر جہاں بے تحاشا مرد اسے موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، وہیں وہ ہر انجان پروفائل پر میسیج بھیجنا بھی فرض سمجھتے ہیں۔ ہمارے گھروں سے لے کر مساجد تک جھوٹ، منافقت اور عدم برداشت نے جگہ بنا لی ہے۔ ایک جوان لڑکا لڑکی گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے ہونے کی سوچ سے باہر نہیں نکل پا رہے۔

Read more

’حکیم سعید کے قتل سے متعلق شکوک و شبہات کبھی دفن نہیں ہو سکے‘

’ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان‘ کے بانی سربراہ، ممتاز سماجی شخصیت، سیاستدان اور پاکستان کے نامور طبیب حکیم محمد سعید 17 اکتوبر 1998 کو ایک حملے میں ہلاکت کے بعد مدینہ الحکمت میں دفن کر دیے گئے مگر اُن کے قتل سے متعلق شکوک و شبہات کبھی دفن نہیں ہو سکے۔

Read more

آپ کے تصور جاناں میں کون بسا ہوا ہے؟

ہر عاشق اور ہر محبوب اس رومانوی حقیقت سے واقف ہے کہ وہ بہانے بہانے سے زندگی کی گہما گہمی میں تخلیے کے وہ لمحے تلاش کرتا رہتا ہے جب وہ تصور جاناں میں محبوبہ سے ملاقات کرے اور وہ سب کچھ کرے جو وہ حقیقی دنیا میں نہیں کر سکتا۔ تنہائی کے ایسے لمحے محبوب کو خیالوں کی جنت میں لے جاتے ہیں۔ وہ خیالی دنیا کی ملاقاتیں اتنی دلفریب ’اتنی دل گداز‘ اتنی دلنشیں اور اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ مرزا غالب بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے

؎ جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

Read more

وعدہ تو کیا ہوتا

میں شراب پیتا تھا، یہی ایک خرابی تھی مجھ میں۔ ہمارے گھر میں کوئی بھی نہیں پیتا تھا بلکہ اٹھتے بیٹھتے سگریٹ اور شراب کے خلاف ہی بات کی جاتی تھی۔ شاید میں بھی نہیں پیتا اگر کراچی یونیورسٹی میں میری ملاقات شبیر سے نہیں ہوتی۔ ہم دونوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا تھا۔ کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں شراب سے ہمارا تعارف ہوا تھا۔ میں اور شبیر دونوں ہی ہاسٹل میں سلیم سے ملنے گئے تھے۔ سلیم کے کمرے کے ساتھ ہی اگالا وکابی کا کمرہ تھا۔

Read more

پنجاب میں بلوچ طلبا کا لانگ مارچ

بلوچستان کے تعلیمی اداروں کی ناگفتہ صورتحال، بنیادی ضروریات و سہولیات کی عدم فراہمی اور دیگر کئی مسائل کے حل کے آرزو مند چند باہمت اور دور اندیش طلباء کو تقریباً آج سے چھ یا سات برس پہلے ”بلوچ سٹوڈنٹس کونسل“ کے قیام پر ابھارا۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل ( بی ایس سی ) مکمل طور پر غیر سیاسی تنظیم ہے جس کا مقصد بلوچستان سمیت ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچستان کے (بلوچ) طلبا و طالبات کے

Read more

سوئے اتفاق

بچپن سے میری خواہش رہی ہے کہ کسی طرح نئی جگہیں دیکھوں، نئے نظریات سے آشنا ہو جاؤں، نئے

لوگوں سے ملوں اور ان سے زندگی کے تجربات کے بارے میں پوچھ گچھ کر کے بہت ساری باتیں سیکھوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ایک مثبت شوق ہے۔ ایسا کرنے سے بہت ساری ایسی باتوں سے واقفیت ہو جاتی ہے جو کتابوں میں نہیں پائی جاتیں۔ اللہ کا کرم ہے کہ ہر جگہ میری اس خواہش کا سامان ہو ہی جاتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں شام کا وقت ہو اور چائے نہ پی جائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہاسٹل کے کینٹین میں اپنے نئے دوست فراز کے ساتھ چائے پینے بیٹھا تھا۔ فراز سے پہلی ملاقات ایک ہفتہ پہلے یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں ہوئی تھی اور پہلی ہی ملاقات میں دوستی ہو گئی۔ وہ بلوچستان کے ایک خوبصورت لیکن پس ماندہ علاقے سے ہے اور پنجاب یونیورسٹی سے نفسیات میں بی ایس کر رہا ہے۔ کچھ گپ شپ کے بعد میں نے فراز سے پوچھا:

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کالک ملنے کا واقعہ: نوبیل انعام یافتہ سائنسدان کو مذہبی امتیاز کا سامنا کیوں؟

گوجرانوالہ کے ایک کالج کے باہر متعدد مشہور شخصیات کے ساتھ موجود ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر چند نوجوانوں کی جانب سے کالک ملنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

Read more

ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر کالک ملنے کا واقعہ: نوبیل انعام یافتہ سائنسدان کو مذہبی امتیاز کا سامنا کیوں؟

گوجرانوالہ کے ایک کالج کے باہر متعدد مشہور شخصیات کے ساتھ موجود ڈاکٹر عبدالسلام کی تصویر پر چند نوجوانوں کی جانب سے کالک ملنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔

Read more

فیملی پلاننگ ہی اکسیر اعظم ہے

سائنس کی کوئی ایک ایجاد جو پورے گھر، پورے ملک اور خاص طور پر عورتوں کو فوری سکھ دے سکتی ہے۔ زندگی میں سکون کے کئی سال دے سکتی ہے۔ غربت کو اگلی نسل میں شفٹ ہونے روک سکتی ہے۔ عورتوں کو خوب صورت اور صحت مند رکھ سکتی ہے۔ اخراجات کم کرنے اور آمدنی بڑھانے میں آپ کی مدد کر سکتی ہے۔ بچوں کے ساتھ کھیلنے، ان سے دوستی اور پیار کے اظہار کا موقع دے سکتی ہے۔ وہ

Read more

اپنے دکھ مجھے دے دو: راجندر سنگھ بیدی

شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا، تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: کیو اینون نامی سازشی نظریے کی یہ تحریک کیا ہے اور کہاں سے شروع ہوئی؟

کیو اینان ایک سازشی نظریہ ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ حکومت، کاروبار اور ذرائع ابلاغ میں ’شیطان کو پوجنے والے پیڈو فائلز‘ کے خلاف ایک خفیہ جنگ لڑ رہے ہیں۔

Read more

شوبز ڈائری: کنگنا کی بالی وڈ ستاروں کو جھاڑ پلانے کی کوشش اور کشمیرہ شاہ سلمان خان کی شکر گزار

زیورات کے مقبول برانڈ تنشک کے اشتہار سے جڑے تنازع پر منی ماتھر کا ردعمل، کنگنا کا بالی وڈ ستاروں کے خلاف نیا محاذ اور کشمیرہ شاہ کا سلمان خان کو شکریہ ادا کرنا، یہ سب پڑھیے شوبز ڈائری میں۔

Read more

اگر تم دنیا بدلنا چاہتے ہو!

مادام ٹریسا دی گریٹ فرماتی ہیں : ”اگر تم دنیا بدلنا چاہتے ہو تو گھر جاؤ اور گھر والوں سے محبت کرو۔“ اچھا، یعنی کیا؟ یعنی دنیا کو تبدیل کرنے، بہتر بنانے، انقلاب لانے کا پہلا میدان آپ کا اپنا گھر، اپنا صحن، اپنا آنگن، اپنی اولاد، اپنا خانوادہ، اپنا خاندان ہے۔ یعنی آپ کا گھر پہلا دائرہ کار ہے، جہاں آپ محبت، توجہ، خلوص، انصاف، احساس، برابری، رواداری، قربانی اور ہر فرد کے لئے یکساں عزت نفس برقرار رکھنے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اپنے معاشرے کو مطعون کیے اور ریاست و ملت کے سر پہ ذمہ داری ڈالے بغیر۔

ایک جائزہ ہے، مشاہدے اور اطراف کے تجربے سمیت، 90 فی صد مسائل اور Split Personality بکھری ہوئی شخصیات، پیچیدہ نفسیاتی الجھنوں کے ساتھ، جو انسان ہمارے آس پاس سانس لے رہے ہیں، ان کی موجودہ حالت کے تانے بانے اور کریڈٹ ان کا Problematic Childhood ہے، دل پہ ہاتھ رکھیے اور کہیے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا ایک بچہ نو ماہ اندر رکھ کے اسے دنیا میں لانے کے عوض آپ کے قدموں تلے واقعی جنت آ جاتی ہے؟ یا Parenting نام کی کوئی شے خدا کے یہاں قابل مواخذہ بھی ہو گی؟ نو سے پانچ کی نوکری کر کے گھر کا خرچ سرتاج/ولی ہونے کو کافی ہے؟ یا بچے کی تربیت اور جذباتی نشو و نما میں بھی باپ کا کوئی کردار ہے؟

Read more

پاکستانی طلبہ کی خلا میں دلچسپی: جب کراچی کے بچوں کے سوالات کے جوابات خود خلابازوں کو دینا پڑے

کراچی کے ایک سکول میں چوتھی جماعت کے طلبہ کو نہ صرف خلا سے متعلق سوالات کے جوابات مل گئے ہیں بلکہ یہ جوابات خلابازوں اور جرمن خلائی مرکز کی جانب سے دیے گئے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے ان کا ردِ عمل سب سے دلچسپ ہے۔

Read more

دکھ کی دھوپ میں مسافرت

اب تو بہت سال ہو گئے، میرا بلاوا امریکا کے اردو اخبار ”اردو ٹائمز“ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا، جس کے لیے میں کئی سال سے کالم لکھ رہی تھی۔ یہ پروگرام نیویارک میں تھا۔ میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ہوٹل کے جس کمرے میں مجھے ٹھہرایا گیا، وہاں میرے ساتھ پاکستان سے آئی ہوئی ایک اہم صحافی اور شاعرہ بھی تھیں۔ راز داری کے لیے ہم ان کا فرضی نام شہلا تصور کر لیتے ہیں۔ بہت محنتی، مثبت سوچ کی حامل، زندہ دل اور خوش لباس۔

کسی نے بتایا کہ وہ ایک گلوکار کی اہلیہ ہیں، جن کا بہت سال قبل جوان سالی میں اچانک انتقال ہو گیا تھا۔ بد قسمتی سے انتقال کے وقت وہ وطن اور گھر والوں سے کوسوں دور اور تنہا تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا، کیوں کہ یہ سب میرے علم میں نہ تھا۔ مگر میری یاد کے جگنو میں ان کے شوہر کا ایک خوبصورت اور مقبول گانا مستقل جھلملا رہا تھا۔

Read more

مردوں میں جسم فروشی کے کچھ پہلو

کچھ عرصہ پہلے ایک مضمون لکھا تھا کیا جسم فروشی قانونی ہونی چاہیے؟ یہ عورتوں کی جسم فروشی سے متعلق تھا۔ اس پر کسی نے توجہ دلائی کہ مرد بھی جسم فروشی کرتے ہیں، اس پر بھی لکھیے۔ اندازہ تو تھا لیکن لکھنے بیٹھی تو پتہ چلا کہ صورت حال کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ زمانہ قدیم سے ہر معاشرے، تمدن اور ہر سرزمین پر ہم جنسیت موجود رہی ہے۔ کبھی اسے ناپسندیدہ کہا گیا، کبھی برداشت کر لیا گیا، کبھی

Read more

جیسندا آرڈن: جس سے سیکھنے کو بہت کچھ ہے

دنیا میں لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، مگر زندہ وہی رہتے ہیں جو دنیا میں نام کمانا جانتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنے کام کی وجہ سے زندہ رہتے ہیں اور لوگوں کی دلوں میں اعلیٰ مقام پیدا کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں چھوٹی تھی تو اس وقت لیڈی ڈیانا انگلینڈ کی شہزادی تھیں، وہ خوب صورتی کی مالک تھیں۔ وہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں، تو ہمارے یہاں بھی ایسی عورتیں پیدا ہوئی ہیں، جنہوں نے اپنے کام اور کردار کی وجہ سے دنیا میں نام کمایا ہے۔ رعنا لیاقت علی، محترمہ فاطمہ جناح جنہیں ہم مادر ملت کہتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں۔ جہاں عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ وہ مرد کے گلے کا ہار نہیں بننا چاہتی، مگر اسے پاؤں کی جوتی بنانے کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگوں میں شعور بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل لڑکیوں کو پڑھانے میں کافی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ لیکن اب تمام تر مسائل کے با وجود لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ پڑھی لکھی ماں ہی ایک پڑھا لکھا معاشرہ پیدا کر سکتی ہے۔

Read more

آخری چیخ

” یاد ہے، تم اکثر میرا ہاتھ تھام کر اسلام آباد کی سب سے اونچی پہاڑی پر جایا کرتے تھے؟ مجھ سے اظہار وفا کرتے تھے؟ تم مجھے بتاتے تھے، یہ نیچے جو دنیا بس رہی ہے، میں اس سے بہت جدا سا ہوں۔ تم مجھے دنیا والوں جیسا نہیں پاؤ گی۔ یہ لوگ صرف تماشائی ہیں، لوگ کبھی ہم درد نہیں ہو سکتے، لوگ ہمیشہ آپ کے ٹوٹ کر بکھر جانے کا انتظار کرتے ہیں۔ لوگ آپ کا استعمال کرتے ہیں اور وقت گزاری کے بعد آپ کو بہت بری طرح دھکا دیتے ہیں۔ جس کے بعد آپ پھر سے کھڑے ہونے کی طاقت بھی کھو دیتے ہیں۔ تم یہ بھی کہتے تھے، میں ہی تمہارا ہم درد ہوں۔ مجھے بھی اس پہاڑی پر رشک آتا تھا، جسے ہم جیسے خوش قسمت ترین محبت کرنے والوں کی قربت نصیب ہوئی تھی۔

یاد ہے، اکثر ہم نیلم جہلم دریا کے پانی سے باتیں کرتے تھے؟ کتنی دیر تک پانی میں پاؤں رکھ کر پانی سے سکون حاصل کرتے تھے اور پھر اس سکون کو خود میں اتارتے تھے۔ تم اس وقت بھی محبت کے دعوے کرتے تھے۔ کشمیر کے پہاڑ اور دریا کا پانی بھی میری محبت پر مسکراتا رہتا تھا۔ کتنے قیمتی تھے وہ پہاڑ بھی، وہ دریا کا پانی بھی جنہیں ہماری قربت نصیب تھی۔

Read more

ناسٹیلجیا: سلمان باسط کا آتش رفتہ کا سراغ

پروفیسر سلمان باسط۔ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے دادا غلام حیدر مرحوم صاحب دیوان شاعر تھے۔ دادا کے بھائی میراں بخش منہاس، پنجابی زبان کے پہلے ناول نگار اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ سلمان باسط کے بڑے بھائی عثمان خاور شاعر اور سیاح ہیں اور سیاحت نگری پر خامہ فرسائی فرماتے رہتے ہیں۔ سلمان باسط انگریزی ادب کے استاد اور پروفیسر ہیں۔ انہوں نے انگریزی زبان و ادب کے چند چنیدہ کتابوں کے اردو میں تراجم بھی کیے اور ایک اچھے شاعر اور طنز و مزاح خاکہ نگار بھی ہیں۔ ان کی کتاب ”خاکی خاکے“ خاصی مقبول ہوئی۔ ”ناسٹیلجیا“ آپ کی تازہ ترین کتاب ہے جو کہ آپ بیتی پر مشتمل ہے اور ابھی اس کا پہلا پڑاؤ ہے۔ یعنی آپ پہلا حصہ کہہ سکتے ہیں اور یہ آج کل ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ انسان ماضی گزیدہ ہے، اور اگر اس کی یاد داشت اچھی ہو تو وہ خواب گزیدہ جہاں، اس کے لیے عذاب بھی بن سکتا ہے۔ اور اگر جنت گم شدہ میں بچپن کا ساون، کاغذ کی کشتی اور بارش کا پانی ابھی بھی آنکھوں میں موجود ہو، تو وہ کبھی خدا سے اپنے حافظے کے چھن جانے کی استدعا نہیں کرے گا۔ وہ بیتے دنوں کو کبھی بھول نہیں پائے گا اور آخری دن تک یاد رکھتا ہے۔ بچپن سب کا ایک جیسا ہی حسین خوبصورت اور دلربا ہوتا ہے، یہ ایک ایسی ٹائم مشین ہے جس میں کوئی بھی جب چاہیے ان وادیوں میں اتر سکتا ہے اور جتنا چاہے اپنے آپ کو گم کر کے اک خوشی، اک تسکین سی پا سکتا ہے۔ اس ٹائم مشین کی فریکوئنسی اور کانفیگریشن تبھی مکمل ہو گی، جب آپ ناسٹیلجیا کے بٹن کو پریس کریں گے۔

Read more

چکر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں ہے

“مجھے کامیابی کا کیا انعام ملے گا؟ یہ میری زندگی کا اہم سنگ میل ہے” زندگی کے دکھائی نہ دینے والے امتحانوں کے ساتھ جینا تو ہر کسی کی اپنی ہمت اور ظرف کا امتحان ہوا کرتا ہے مگر وہ امتحان جن میں برسہا برس کے دن رات کی مغز پچی کی گئی ہو، ان سے عہدہ برآ ہونے کا احساس رگ و پے میں برق دوڑ دیا کرتا ہے۔ ہمیں موہوم سا خیال گزرتا ہے کہ سنکی اور پاگل

Read more

شادی کے کچھ مزید فوائد نیز ذیلی اثرات

شادی کے بعد پہلی بار آپ کو پتہ چلتا ہے کہ جو بیڈ دکھنے میں سات فٹ کا ہے، آپ کے سونے کے لئے اس میں بس دو ہی فٹ جگہ ہے۔ بیڈ کے تھوڑے سے اضافی ایریے پر ٹانگ پھیل جائے تو ایسی فیلنگ آتی ہے جیسے دشمن ملک کی چھاونی پر قبضہ کر کے اپنا جھنڈا لہرایا دیا ہو۔ شادی کے بعد آپ کی اپنی الماری آپ کی نہیں رہتی، پرائی ہو جاتی ہے۔ جہاں آپ کی شرٹس

Read more

آہستہ بولیں! ایک ماں مقتولہ بیٹی کی نعش کے ساتھ رورل ہیلتھ سنٹر اوچ شریف کے فرش پر سو رہی ہے

زیر نظر تصویر دراصل ہمارے بانجھ بنجر سماج کی بے حسی کی ”مردہ“ مثال اور سسکتی، بلکتی، کرلاتی انسانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلکہ اس خون آشام معاشرے میں درندگی اور شرمندگی کے درمیان پھنسی زندگی کا بوجھ ڈھوتے ہوئے کبھی کبھی تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ من حیث القوم ہم ابھی بھی وائی کنگز کے دور میں جیتے ہیں۔ گزشتہ روز حق مہر سے دستبردار نہ ہونے کے ”جرم“ میں اپنے ”مجازی خدا“ کی ”شقاوت قلبی“

Read more

شجر الدر: ایوبی خاندان کے آخری فرمانروا کی بیوہ کا غلام سے طاقتور ملکہ بننے تک کا سفر

مؤرخ کہتے ہیں کہ شجر الدر آغاز میں ایک پُرعزم اور خوبصورت روپ میں مصر میں نمودار ہوتی ہیں۔ لیکن بعد میں یورپ کی ایک طاقتور صلیبی فوج کو ناکام بنا کر خود کو ایک ذہین سیاستدان میں بدل لیتی ہیں۔

Read more

رشتوں میں کاروبار کرنے والے، تنہائی کی شکایت کس منہ سے کرتے ہیں

سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کی آنکھوں پر یہ پٹی باندھ دی ہے کہ صرف دولت کا حصول ہی کامیابی، خوشی اور عزت کا ضامن ہے۔ ایسے میں ہر انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ سنگین مقابلے پر چل نکلا ہے۔ اس مقابلے کے تمام امیدواروں میں دو خصلتیں عام ہیں، لالچ اور دکھاوا۔ لالچ انھیں دوسروں کو سیڑھی کی طرح استعمال کرنے کے گن سے متعارف کراتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے تحفے میں دیے گئے اس مقابلے کی بدولت تمام تعلقات اور رشتوں کی بنیاد لالچ طے پائی اور بڑی خوبصورتی سے لالچ کی عمارت پر استوار تعلقات کو جھوٹے دکھاوے سے فروغ حاصل ہوا۔ یوں انسان کا ہی بنایا ہوا یہ نظام انسان کے ساتھ ہی کچھ اس طرح سے کھیل گیا کہ اس بیچارے کو خبر نہ ہوئی۔

چوں کہ خاندان معاشرے کا بنیادی جزو ہوتا ہے اور خاندان کی تشکیل شادی جیسے سماجی ادارے سے شروع ہوتی ہے۔ اگر اس تعلق کی بنیاد کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمارے سماجی رویوں سے جڑی بہت سی گرہیں کھلنے لگتی ہیں۔ ہمارے یہاں ذات، فرقے اور معاشی پہلوؤں کی سخت حدود کھینچنے کے بعد ’روح کے ساتھی‘ ڈھونڈے جاتے ہیں۔ جہاں ایک لڑکے کے لئے تقریباً یہی تین پیمانے ہوتے ہیں وہیں ایک لڑکی کے لیے کچھ امتحانات اور بھی ہیں جن میں رنگ گورا ہونا، سماج کے بنائے ہوئے حسن کے معیار پر پورا اترنا اور عمر کچی ہونا شامل ہیں۔

Read more

تنشق: انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو بہو دکھانے کے بعد ایک بار پھر لو جہاد پر بحث

انڈیا میں زیوارت کی ایک معروف کمپنی اپنے تازہ اشتہار کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور اس کے متعلق سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثے جاری ہیں جس میں دو فرقوں کے درمیان منافرت کی باتیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

Read more

تنشق: انڈیا میں زیورات کے اشتہار میں مسلمان گھرانے میں ہندو بہو دکھانے کے بعد ایک بار پھر لو جہاد پر بحث

انڈیا میں زیوارت کی ایک معروف کمپنی اپنے تازہ اشتہار کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور اس کے متعلق سوشل میڈیا پر گرما گرم مباحثے جاری ہیں جس میں دو فرقوں کے درمیان منافرت کی باتیں واضح طور پر نظر آتی ہیں۔

Read more

خواجہ سگ پرست از اسد محمد خان

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں۔ یوں سمجھیے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہو گا، حسین اور دل آویز ہو گا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟

جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا، تو لندن روانہ ہو گیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلے کی کوششیں کرنے لگا۔ یونیورسٹی والوں نے کہا، ”یہاں تمھیں بی اے دوبارہ کرنا پڑے گا۔“

Read more

ویران آغوش اور مامتا کا کرب

( 9 تا 15 اکتوبر بچے کو کھو دینے سے آگہی کے ہفتے کی مناسبت سے لکھی گئی تحریر)

(روداد: منیژے وقاص)

تحریر: گوہر تاج

مشی گن ڈیٹرائیٹ، امریکا

تقریباً دو سال قبل میری بھتیجی اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے تجربے سے گزری، اسی طرح جس طرح دنیا کی تمام مائیں گزرتی ہیں۔ زمانے حمل کی مشکلات اور پیدائش کا دکھ جو ہر ماں کا حصہ ہے۔ لیکن افسوس کے وہ بچہ دنیا میں چند سانسیں ہی مستعار لایا تھا۔ ماں نے اولاد کے اس دکھ کو اپنے اندر ہی اندر پنپنے دیا اور کسی اظہار کے بجائے بس ایک چپ سادھ لی۔ تمام سوشل میڈیا سے کٹ کے اور بیٹے کی یاد میں بس کے۔

Read more

میں بھی نواز شریف ہوں

اپوزیشن کی تحریک کا وقت درست نہیں ہے۔ نواز شریف کے جذباتی خطاب پر سب نے جذبات میں آ کر تحریک شروع کردی ہے۔ تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے کئی مشکلات اور رکاوٹیں ہیں۔ پچھلے مضامین پر کچھ احباب نے سوال اٹھائے کہ نواز شریف پر تنقید اور مخالفت جائز نہیں ہے۔ ماضی کی بجائے آج کے حالات اور آج کے نواز شریف کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حقیقی جمہوریت کا سنگ بنیاد ثابت ہوگی۔ احباب

Read more

نسائی جنسیات اور مذہبی معاشرہ

میں نے کوئی دس سال پہلے ”محبت۔ تصور اور حقیقت“ کے عنوان سے کتاب لکھی تھی۔ یہ محبت سے متعلق تحقیق پر مبنی کتاب تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ اس کے بعد ”مباشرت۔ تعیش اور ضرورت“ کے عنوان سے ایک تحقیقی کتاب لکھوں گا اور پھر ”مناکحت۔ تسکین اور صعوبت“ کے عنوان سے۔ میں نے شائع شدہ کتاب نذیر لغاری کو بھی دی تھی۔ پھر ہم جب اس کی گاڑی میں جا رہے تھے تو میں نے اسے اپنے اس

Read more

31 سالہ جولیا کے محبوب کی عمر 72 برس ہے لیکن "محبت میں بہت مزہ آ رہا ہے”

31 سالہ جولیا اسٹراس اور 72 سالہ برنڈ ہیسن بینک کی عمر میں  40 سال کا فرق ہے۔ اس جوڑے کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت سے اجنبی انہیں باپ بیٹی سمجھ بیٹھتے ہیں لیکن اس جوڑے کا کہنا ہے کہ ہماری محبت کا ہماری عمر سے کوئی تعلق نہیں۔ برنڈ ہیسن بینک اور جولیا اسٹراس اپریل 2019 میں ایک سیمینار کے دوران ایک دوسرے سے ملے تھے۔ اس کے بعد سے دو ماہ کے ایک مختصر وقفے کو چھوڑ

Read more

پانی کا درخت: کرشن چندر

جہاں ہمارا گاؤں ہے اس کے دونوں طرف پہاڑوں کے روکھے سوکھے سنگلاخی سلسلے ہیں۔ مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ بالکل بے ریش و برودت ہے۔ اس کے اندر نمک کی کانیں ہیں۔ مغربی پہاڑی سلسلے کے چہرے پر جنڈ، بہیکڑ، املتا، ساور، کیکر کے درخت اگے ہوئے ہیں۔ اس کی چٹانیں سیاہ ہیں لیکن ان سیاہ چٹانوں کے اندر میٹھے پانی کے دو بڑے قیمتی چشمے ہیں، اور ان دو پہاڑی سلسلوں کے بیچ میں ایک چھوٹی سی تلہٹی پر

Read more

ٹورنگ ٹاکیز اور چوری چھپے دیکھی فلمیں

میرے گھر کے نزدیک اس سال خزاں ایک عجب رنگینی لئے ہے۔ سوکھتے پتے پیلے نارنجی ہلکے سرخ گہرے سرخ میں تبدیل ہو ایک آگ سی لگائے ہیں۔ اور پت جھڑ کی سرد ہوا اب نیچے گرا ایک رنگ برنگی چادر بنا چکیں۔ ان پتوں کی طرح جھڑتی عمر کے میرے جیسے لوگ چھڑی کا سہارا لئے جب ان کی رونق دیکھنے نکلے ان کے جوبن کی رنگینیوں کے متعلق سوچتے ہیں۔ تو جو "آرزوئیں پہلے تھیں جو غم سے حسرت

Read more

مذہبی منافرت: سیاست کو مذہب سے علیحدہ کیا جائے

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں ریاست دشمن عناصر کا خاتمہ کرنے کے لئے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی ہے۔ بظاہر اس تشویش کا مقصد دو روز قبل کراچی میں ایک دیوبندی عالم کا قتل ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم کا خیال ہے کہ اس کے درپردہ بھارتی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے کیوں وہ ملک میں فرقہ وارانہ فساد کے ذریعے

Read more

چوتھی طرف مت جانا

وہ اپنی ذات سے کٹی ہوئی اپنے ہی گم شدہ وجود کا کوئی کھویا ہوا حصہ تھی، جو اپنی تلاش میں در در بھٹک کر اپنی اصل کو نہ پا سکے اور پھر اپنی موجودہ حالت ہی کو اصل سمجھ لے۔ عافیہ نام تھا اس کا، لیکن عافیت کے لغوی معنی بھی اس نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ کسی نے اسے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ شاید زندگی کی گاڑی اس بری طرح راستہ نہ بھٹکتی، اگر وہ حادثہ نہ ہوتا، جو اس کی شخصیت کو نگل گیا۔ وہ شخصیت جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں قدم رکھ رہی تھی۔ آنکھ کھولی تو گھر میں ماں باپ، نانی اور چاچو کو پایا۔ اس کی ماں کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ وہ ایک ان پڑھ دیہی عورت تھی جو صرف اس لیے اس کے باپ کی زندگی میں شامل ہو گئی تھی کہ اس کی ماں نے اپنی بہن سے وعدہ کر لیا تھا۔ ماں کا وعدہ تو انعام علی نے خوب نبھایا لیکن زندگی اس کا ساتھ زیادہ دیر نہ دے سکی۔ آٹھ برس کی عافیہ اور تین سال کے معاذ کو اپنی نا تجربہ کار بیوی پر چھوڑ کر وہ اس دنیا سے کوچ کر گیا۔ اپنی مرضی کہاں تھی اس کی۔

انعام علی نے بینک بیلنس بھی چھوڑا تھا اور ایک فلیٹ اور چند دکانیں بھی، جن کا معقول کرایہ آتا تھا۔ لیکن پیسے کی ریل پیل اور ایک نا تجربہ کار دوسرے معنوں میں بے وقوف عورت کے ہاتھ میں لوگ جتنا فائدہ اٹھاتے کم تھا۔ اس آٹھ سالہ بچی کی تعلیم متاثر ہوئی۔ پھر تربیت۔ پھر نیک نامی اور پھر زندگی۔ ”بچی ہے“ کہہ کر بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنا، ایک دن اس کی ماں کو اس کی اپنی نظروں میں گرا گیا۔

Read more

کیا آپ اپنی ماں بولی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں؟

کیا آپ کے والدین نے آپ کو گھر میں اپنی ماں بولی پڑھنا سکھائی تھی؟

کیا آپ کے اساتذہ نے آپ کو سکول میں اپنی مادری زبان لکھنا سکھائی تھی؟

میں پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کو نہیں جانتا، جہاں بچوں کو سکولوں میں اپنی مادری زبان میں تعلیم نہ دی جاتی ہو۔

مجھے نجانے کیوں میری ماں نے اردو، عربی اور انگریزی تو لکھنا پڑھنا سکھائی لیکن بہت سی اور پاکستانی ماؤں کی طرح اپنی ماں بولی پنجابی لکھنا پڑھنا نہ سکھائی۔

Read more

حامد سراج کا ناول آشوب گاہ: ایک مطالعہ

 آشوب گاہ حامد سراج کا اہم ناول ہے ناول کے دو مرکزی کردار، خلجی اور خدیجہ ہیں، جن کے درمیان محبت کا سلسلہ چل رہا ہے، لیکن کئی معاون کردار بھی اہم ہیں جن سے بہت سی سرگوشیوں کو سنا اور روزنوں سے جھانکا جا سکتا ہے، خاص طور پہ سامری، جو ناول کے بیانیہ کو پر اسرار بنا دیتا ہے۔ ناول کے یہ کردار مختلف جگہوں، یونیورسٹی، گاؤں، شہر گھومتے ہیں، زیادہ حصہ ایک ریلوے پلیٹ فارم پہ گزرتا

Read more

مس شازی بنام مسمی عبدالرشید

ڈیئر عبدالرشید، سلام خلوص!

عرصے بعد تمھارا بے ہنگم جذبات سے معمور اور املا کی غلطیوں سے بھر پور مراسلہ ملا، جسے تم بڑے فخر، بلکہ ڈھٹائی سے ”محبت نامہ“ کہتے ہو۔ پڑھ کر کوئی مسرت نہیں ہوئی، بلکہ تمھاری مزید حماقتیں جان کر دھچکا پہنچا۔

رشید! خدارا، اگر خود تمھیں صحیح لکھنا نہیں آ رہا، تو کسی سے لکھوا لیا کرو۔ کم از کم مجھے تو خواندگی میں اتنا سر نہ کھپانا پڑے۔ کہتے ہیں کہ خط سے آدھی ملاقات ہو جاتی ہے، مگر تم سے یہ آدھی ملاقات اس قدر درد ناک بلکہ عبرت ناک ہوتی ہے کہ بس! میری درخواست ہے کہ اختصار نویسی اپناؤ اور خود بھی مختصر الفاظ سے اصل مدعا سمجھنے کی کوشش کیا کرو۔ میں نے لکھا تھا، ”تاریخ آنے والی ہے، اک نیا امتحان در پیش ہے، دیکھیں کیا ہوتا ہے“۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم دونوں نے پنجاب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرار اردو کے لیے اپلائی کر رکھا ہے۔ میری مراد صاف ظاہر تھی کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے لیکچرار اردو کے لیے تحریری امتحان کی تاریخ آنے والی ہے۔ مگر تم نے اپنی کج فہمی کے باعث مجھے نانیوں، دادیوں والا پند نامہ لکھ بھیجا، تاریخ کے دنوں میں ٹھنڈی چیزیں استعمال نہ کرنا، ہو سکے تو دودھ میں دیسی گھی ملا کر پینا۔ پھر گھر کی پسی ہوئی ہلدی کے خواص پر تم نے آدھا صفحہ لکھ ڈالا۔

Read more

فرنچ اوپن: رافیل نڈال نے نوواک جوکووچ کو شکت دے کر 13ویں مرتبہ فرنچ اوپن ٹائٹل اپنے نام کر لیا

سپین کے ٹینس سٹار رافیل نڈال نے سربیا کے نوواک جوکووچ کو شکت دے کر فرنچ اوپن ٹائٹل 13ویں بار اپنے نام کر لیا ہے جبکہ انھوں نے راجر فیڈرر کا 20 گرینڈ سلیم جیتنے کا ریکارڈ بھی برابر کر دیا ہے۔

Read more

حقیقت عشق

کبھی کبھی میں تنہا بیٹھی ہوں، تو سوچتی ہوں کہ یہ عشق ہے کیا؟ اک جنوں، اک جذبہ، اک تڑپ، اک پاگل پن یا پھر محض احساس؟ کیا کسی چیز کی جستجو میں حد سے گزر جانا عشق ہے؟ یا کسی کی خواہش دل میں رکھ کے دنیا کا دستور نبھانا عشق ہے۔

اگر عشق اک منزل ہے تو سفر اور راہ کے کیا نام ہیں؟ اگر عشق زندگی ہے تو کیا اس کا اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ اگر عشق عبادت ہے تو کیا اس کے اوقات مقرر ہیں؟ اگر عشق دھڑکن ہے تو موت کے ساتھ فنا ہو جائے گی؟ اگر عشق معشوق کی طلب ہے تو مطلوب کے ملنے سے عشق بے معنی ہو جائے گا؟ اگر عشق مجاز سے ہے تو کیا یہ جذبہ جسم کا جسم سے ہے یا روح کا روح سے؟ اگر جسم فانی ہے تو عشق لافانی؟ کیا فانی کا لافانی سے ملاپ ہے؟ اگر عشق سچا جذبہ ہے، تو پھر اتنا خود غرض کیوں ہے، جو بس معشوق کا طلب گار ہے اور کوئی نظر ہی نہ آئے؟!

Read more

پاکستانی یادگار فلمی حمد، نعتیں اور قوالیاں

نہ جانے کیوں بعض دانشور پاکستانی فلموں اور اس سے منسلک شعبوں کو کسی قابل گردانتے ہی نہیں۔ جب کہ ہماری فلموں کے تمام شعبوں میں معیاری کام ہوا ہے جیسے حمد، نعتیں، منقبتیں اور قوالیاں۔ ہماری فلموں میں حمدیہ اور نعتیہ کلام نہایت اعلیٰ پائے کا لکھا گیا اور پھر ان کی طرزوں نے ایک ایسا سماں باندھا کہ آج بھی ان کو سنا جائے تو دل کھنچتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ فلمی گلوکاروں نے خوبصورت طرزوں اور بولوں کو ادا کرنے میں اپنی روح نکال کر رکھ دی۔

ایک جائزہ:

Read more

سیاحت: ایک اہم نفسیاتی ضرورت

ٹورازم یا سیاحت کے موضوع پر کافی کچھ لکھا جا چکا ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ سیاحت کسی بھی ملک کی معاشرتی اور اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جملہ مصنفین نے نے ان تمام پہلوؤں کو خوش اسلوبی سے اجاگر کیا۔ تاہم میرے اس کالم کا کا موضوع ایک منفرد پہلو ہے جو انسانی نفسیات اور سیاحت سے وابستہ ہے۔

میرے نزدیک سیاحت صرف معاشی سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں، بلکہ ایک انسان کی انتہائی اہم نفسیاتی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جاوید اقبال ایک گفتگو میں فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں ذاتی وقت کا تصور ہی نہیں۔ ذاتی وقت یعنی اپنے ساتھ وقت گزارنا۔ اپنے آپ کے لیے وقت نکالنا۔ مغربی معاشرے میں اس چیز کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے کہ ہر انسان اکیلا بھی ہو اور اگر میاں بیوی ہوں، تو دونوں مہینے میں ایک بار اکیلے وقت گزارتے ہیں۔ جس کو پرسنل ہالیڈے کہا جاتا ہے۔

Read more

کورونا وائرس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے غیر ملکی لوٹنے پر مجبور

برطانوی تجزیہ کار کمپنی آکسفورڈ اکانومکس کا اندازہ ہے کہ متحدہ عرب امارات میں نو لاکھ نوکریاں ختم ہو سکتی ہیں اور ایک کروڑ سے کم آبادی والے اس ملک میں یعنی 10 فیصد تک لوگوں کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

Read more

پدرسری معاشرے کی بااختیار عورت یا دولے شاہ کی چوہیا؟

لمبوترا منہ، چھوٹا سا سر، احساس سے عاری آنکھیں، وحشت زدہ چہرہ، ڈھیلا ڈھالا پیوند زدہ لباس، گلے میں منکوں کی مالا، ہاتھ میں کشکول! یہ ہمارے بچپن میں کیے گئے سفر کی اولین یادوں میں سے ایک ہے۔ جب بھی ٹرین گجرات سٹیشن پہ رکتی، وہ گیروے لباس میں ملبوس کمپارٹمنٹ میں داخل ہو جاتا، ساتھ میں ایک بڑی بڑی مونچھوں اور دہکتی آگ سی آنکھوں والا ساتھی ہوتا جو اسے گاڑی میں چڑھاتا یا اتارتا۔ اسے دیکھتے ہی

Read more

انڈیا میں ہاتھرس کیس: میڈیا کا کیمرہ آف ہو چکا ہے، ماں اب بھی رو رہی ہے

مبینہ ریپ کے بعد یہ ہلاک شدہ لڑکی اب ‘لائیو’ ہو چکی ہے۔ لیکن کسی کو نہیں معلوم کہ ایسی لڑکی کو جلانے کی کیا جلدی تھی جس کے مرنے سے قبل ہاتھ پیر اور گردن ٹوٹ چکی تھی۔

Read more

آرمی چیف نے ہائبرڈ حکومت کے غبارے سے ہوا نکال دی

یہ اچھا ہوا کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے وضاحت کردی ہے کہ پاک فوج کا طرز عمل آئین اور قومی مفاد کی روشنی میں طے ہوتا ہے۔ فوج قانون کے مطابق مختلف شعبوں میں حکومت کے ساتھ تعاون کرتی رہے گی۔ کاکول میں نئے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے جائز تنقید پر شبہ کرنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مثبت نکتہ

Read more

نوزائیدہ بچہ اور پتھر کا بینچ

اس کے دو بچے پہلے ہی مر چکے تھے۔ پیدا ہونے سے قبل، جب کچے ہی تھے۔ ایک حمل کے اٹھارہ ہفتے میں اور دوسرا بائیسویں ہفتے میں۔ ”نہ جانے ہماری قسمت میں کیا ہے۔“ اس نے تقریباً روہانسا ہو کر کہا تھا، ”ڈاکٹر صاحب، جو بھی علاج ممکن ہو سکے، کیجیے گا۔ میں بڑی امید لے کر آیا ہوں۔ مجھے آپ کے دوست رفیق نے بھیجا ہے۔“

اسے رفیق ہی نے بھیجا تھا۔ رفیق کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے محکمہ مالیات میں کام کرتا تھا اور وہ بھی ”کے ایم سی“ ہی میں چپراسی تھا۔ اس نے رفیق کو بتایا تھا کہ دو دفعہ اس کی بیوی کو حمل ٹھہرا اور اچھا خاصا وقت گزر گیا، مگر پانچویں چھٹے مہینے میں بچے کچے ہی تھے تو ضائع ہو گئے۔ اب پھر اس کی بیوی کو حمل ٹھہر گیا ہے اور آنے والے خوف سے وہ پریشان تھا۔ رفیق نے اسے اپنا کارڈ دے کر میرے پاس بھیجا تھا۔

وہ دونوں میاں بیوی میرے پاس ساتھ ہی آئے تھے۔ وہ ڈھائی ماہ کے حمل سے تھی اور پریشان تھی۔ پریشانی اس کے چہرے پر صاف عیاں تھی اور ایسی صورت حال میں مریضوں کا پریشان ہونا کوئی غیر معمولی بات تھی بھی نہیں۔ میں نے اسے تسلی دی تھی۔ سمجھایا تھا کہ انہیں اب میرے پاس ہر دو ہفتے بعد آنا ہو گا۔ حمل کو چودہ ہفتے گزر جائیں گے تو پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔

Read more

بابا جان والے ہنزہ سے ابھی ایک آواز آئی، آپ نے سنی؟

شاہراہ قراقرم پر گلمت سے کچھ پہلے آپ آسمان کی وسعتوں کو سمیٹتے ہوئے ایک تنگ و تاریک سرنگ میں چلے جاتے ہیں۔ اس طویل ترین سرنگ کے اگلے سرے کے پار ہوتے ہی آپ نیلے پانیوں کی ہوا دار بہشت میں نکل جاتے ہیں۔ اسے عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کے ارمانوں پر پانی پھر جانے کو ہم عطا آباد جھیل کہتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے جن کے گھر یہاں ڈوب گئے تھے وہ در در رسوائی کاٹ رہے ہیں۔ جو ان کا حق مانگ رہے تھے وہ آشفتہ سر غذر کی جیلوں میں پڑے ہیں۔ جو بے خبر ہیں وہ جھیل کے سینے کو واٹر بائیک سے چیر کر پانی اڑا رہے ہیں۔

یہ سطریں ایک کالم میں آئیں تو پوچھنے والوں میں اکثر نے پوچھا، عطا آباد جھیل کی کہانی کیا ہے؟ کن کے ارمانوں پر یہاں پانی پھرا تھا اور کون ہیں وہ آشفتہ سر جو اب غذر کی جیلوں میں ہیں۔ سوالات سے اندازہ ہوا کہ ہنزہ آنے جانے والوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جس نے عطا آباد جھیل کے نیلگوں پانیوں میں قیامت کے نامے تیرتے ہوئے دیکھے ہوں۔ ہم جب کسی کشتی میں بیٹھ کر اس جھیل کا پانی چیر رہے ہوتے ہیں، ہم اندازہ نہیں کر پاتے کہ اس کی گہرائیوں میں کتنے خواب دفن ہیں۔ ان پانیوں میں کہیں کہیں جو یہ درخت کھڑے ہیں، آپ کو کیا لگتا ہے کہ یہ ویسے ہی کھڑے ہیں؟ یہ اس سمت میں اشارہ کرنے کے لیے ہی تو کھڑے ہیں جہاں زندگی کبھی رقص کیا کرتی تھی اور بچے کبھی کھیلا کرتے تھے۔ یہ جس جگہ اب مچھلیاں تیرتی ہیں یہاں کبھی پرندے اڑا کرتے تھے۔ یہاں مال مویشی تھے، گرم تنور تھے، پرندوں کے گھونسلے تھے، دریا کا کنارہ تھا، رستے اور گلیاں تھیں، لین دین اور میل جول تھا، عبادتیں اور روایتیں تھی، رسم تھے اور رواج تھے، شہد کے چھتے تھے، بانسریوں کے سر تھے، ستار کی دھنیں تھیں، محبتوں کے نشان تھے، ہجر کی داستانیں تھیں، پرکھوں کی قبریں تھیں اور بچپن کا ساون تھا۔ کچھ نہیں رہا، سب ڈوب گیا۔

Read more

پہلوانی: جب ضیا الحق نے بھولو برادران کے انڈیا جانے پر پابندی عائد کر دی

پہلوانی کے فن میں مشہور بھولو خاندان میں اب کوئی بھی پہلوانی کا شوق نہیں رکھتا جس کی وجوہات بھولو پہلوان کے صاحبزادے ناصر بھولو نے بی بی سی کو بتائی ہیں تاہم اس خاندان کا ماضی انتہائی درخشاں تھا۔

Read more

ہم سفر کے سنگ خوبصورت سفر

”سنو عمرہ کرنے چلو گی؟“ ہمارے شوہر محترم نے آئینے میں بالوں کو برش کرتے ہوئے، ہم سے پوچھا، تو کچھ لمحے ہم حیرانی سے ان کی شکل ہی تکتے رہے۔ اپنی سماعتوں پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ پھر حیرت اور خوشی کے سمندر سے ابھر کر ہم نے کہا، ”واقعی؟“

”ہاں نا! دیکھو، بات تو کی ہے ٹریول ایجنٹ سے۔ پہلے ہم ابو ظہبی اور دبئی جائیں گے، پھر چار دن وہاں رک کر ان شا اللہ مکہ جائیں گے۔ بس دعا کرو ویزا لگ جائے۔

اصل میں ان کا بچپن ابو ظہبی میں گزرا ہے۔ اور جہاں بچپن گزرا ہو وہاں کی یاد اکثر و بیش تر انسان کو ستاتی رہتی ہے۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ ہمیں بھی ایک دفعہ ضرور وہاں لے کر جائیں اور ہمیں بھی ان گلی محلوں کی سیر کروائیں، جہاں بچپن میں وہ کھیلا کرتے تھے۔ سوری محلے تو نہیں وہاں تو بلڈنگ اور فلیٹس سسٹم ہے۔ یہ محلے وغیرہ تو ہمارے دیسی علاقوں میں ہوتے ہیں۔

Read more

اپنی شرطوں پر زندگی

ہر انسان دنیا میں ایک منفرد افتاد طبع لے کر آتا ہے اور اپنی شرطوں پر زندگی جینا چاہتا ہے۔ زندگی کے اس رستے میں کبھی کبھی بظاہر بہت خوبصورت موڑ آتے ہیں، جہاں سے اگلی منزلیں بہت سہل اور آسان نظر آتی ہیں، بشرطیکہ انسان اپنی شرائط پر سمجھوتا کر لے۔ بہت سے لوگ ایسا ہی کرتے ہیں اور ایک نا معلوم سی خلش دل میں لئے تا عمر سلگتے رہتے ہیں۔ صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کرنا، صحیح بات کہنا بہت مشکل کام ہے، کیوں کہ زندگی اکثر اوقات صرف سیاہ یا سفید کے بجائے سرمئی رنگت کی حامل ہوتی ہے۔ ہر موڑ پر ملگجے اندھیرے اور نیم جاں روشنی میں کچھ پگڈنڈیاں ڈوبتی اور ابھرتی ہیں۔ ایسے میں اگر دل میں اپنی ذات پر یقین کی شمع روشن نہ ہو، تو بہت ممکن ہے کہ انسان غلط پگڈنڈی پر چل پڑے۔

کچھ عرصہ پہلے لٹل وومن نامی ایک فلم دیکھی تھی۔ اس میں اس خیال کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا۔ لوئیسا مے ایلکوٹ کے ناول پر بنی اس فلم میں امریکی سول وار کے زمانے میں چار بہنوں کی زندگی، خوابوں اور محبت کو بیان کیا گیا ہے۔ غریبی میں پلی ان چار بہنوں اور ان کی ماں کی یہ کہانی، ایک نئی امریکی عورت کا تصور پیش کرتی ہے۔

Read more

پھر امام شافعی شہید ہو گئے – مکمل کالم

مذہبی معاملات میں جہاں غلطی جان بوجھ کر کی جائے یا غلطی ہو جائے اس کی قیمت معاشرے کا ہر طبقہ ادا کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے سبب سے بزرگ علما تہہ خاک سلا دیے جاتے ہیں مگر پھر بھی اس کی قیمت اور تقاضے کبھی نہیں تھمتے۔ امام شافعی کو ایک منفرد حیثیت حاصل ہے آپ امام مالک کے شاگرد ہیں، امام احمد بن حنبل آپ کے شاگرد ہیں جبکہ آپ نے امام ابوحنیفہ کے مایہ ناز شاگرد امام محمد سے کوفہ میں تحصیل علم کی۔ امام ابو حنیفہ کے بعد ان کے دو شاگرد ان کی مسند پر موجود تھے امام محمد اور امام ابو یوسف، جب مکہ سے طلب علم کے لیے امام شافعی مدینہ پہنچے تو امام مالک کے درس میں حاضر ہونا شروع ہو گئے امام مالک نے دیکھا کہ ایک نوعمر لڑکا ان کے درس کے دوران مسلسل تنکا منہ میں ڈالتا ہے اور ہاتھ پر مارنے لگتا ہے دوران درس وہ اس کو دیکھتے رہے مگر اس وقت نہیں ٹوکا۔

جب اس روز کا درس مکمل ہوا تو سب طالبعلموں کو جانے کی اجازت دے دی مگر اس نو عمر لڑکے کو روک لیا جو بعد میں امام شافعی بنا۔ اپنے پاس بلا لیا اور دریافت کیا کہ تم کون ہو حسب نسب پوچھا پھر بولے اچھے خاندان کے ہو مگر درس کے آداب میں بے ادبی کر رہے تھے۔ امام شافعی نے پوچھا کہ مجھ سے کیا بے ادبی سرزد ہو گئی؟ امام مالک نے منہ میں مسلسل تنکا لینے اور ہاتھ پر مارنے کا ذکر کیا امام شافعی نے جواب دیا کہ میرے پاس لکھنے کے لئے قلم وغیرہ نہیں ہے منہ کے لعاب سے آپ کی بیان کردہ احادیث مبارکہ اپنے ہاتھ پر تحریر کر رہا تھا امام مالک نے ہاتھ دیکھیے اور کہا کہ ان پر کہاں تحریر ہے؟

امام شافعی نے جواب دیا کہ ان پر تو موجود نہیں رہ سکتا مگر میرے حافظے میں موجود ہے۔ اچھا تو پھر سب نہ سہی ایک حدیث ہی سنا دو۔ مگر امام شافعی نے ایک نہیں بلکہ وہ پچیس احادیث مبارکہ سند کے ساتھ سنا دیں جو امام مالک نے اس درس میں بیان فرمائی تھی۔ امام مالک اپنے شاگرد کی قابلیت کو بھانپ گئے اس غریب الوطن کو اپنے گھر لے گئے اور جب تک امام شافعی مدینہ ٹھہرے اپنے استاد امام مالک کے گھر ٹھہرے۔ امام مالک اپنے شاگرد سے اتنی محبت کرتے تھے کہ جب امام شافعی مدینہ سے کوفہ روانہ ہونے لگے تو اپنے اس شاگرد کو رخصت کرنے مدینہ کے آخر تک خود تشریف لائے۔

Read more

کثیر تعداد میں جوان خواتین اب بھی شوہر کا نام ساتھ لگانے کے لیے اپنا نام کیوں بدل لیتی ہیں؟

شوہر کا خاندانی نام اپنانے کی روایت تاریخی اعتبار سے پدرسری نظام میں پائی جاتی ہے، تو پھر اب بھی بہت سی جوان عورتیں اس روایت کو کیوں زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

Read more

نواز شریف سے جیتنا آسان نہیں!

اپنی نوجوانی میں میاں صاحب زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آئے تو والد صاحب نے انہیں جنرل جیلانی کے حوالے کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن وطن عزیز میں آئے روز پیدا ہونے والی ہر ہیجانی صورت حال کے اندر میاں صاحب کو ایک دائمی فریق کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ میاں صاحب کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرچی کے بغیر ایک جملہ ٹھیک سے نہیں بول سکتے، آدھے صفحے سے زیادہ جو تحریر پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں، انہی میاں صاحب نے بڑے بڑے طاقتورافراد کو ان کے مقتدر اداروں سمیت کم و بیش تین عشروں سے آگے لگا رکھا ہے۔

جنرل مشرف کو میاں صاحب کس طرح جل دینے میں کامیاب ہوئے، یہ قصہ ابھی کل کی بات ہے۔ پچھلے برس کے کسی مہینے، جسٹس کھوسہ نے جیل میں بندشدید ذہنی دباؤ کے شکار قیدی کو اسی قدر شدید انسانی ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ ہفتے گھر گزارنے کی انوکھی رعایت عطا کی تھی۔ رہائی ملی تو عام خیال یہی تھا کہ قیدی عافیت پا کر گھر میں سستاتا ہوگا۔ کسے معلوم تھا کہ ضمانت پر رہائی کے انہی دنوں، قیدی کو سزا سنانے والے جج سے جاتی عمرہ میں معاملات طے پا رہے تھے۔

Read more

کیا باسمتی ہم سے چھن جائے گی؟

آپ کے پاس گاؤں میں رہنے کی کیا وجہ ہے؟ میں نے ایک بار اپنے دادا جی سے پوچھا۔ آپ کی ساری اولاد شہر میں بس چکی۔ باغ کی دیکھ بھال اب آپ سے ہو نہیں سکتی۔ طبیعت خراب ہو جائے تو وہی نیم حکیم، نیم ڈاکٹر۔ ان کی آنکھوں میں انار کے پھولوں جیسے رنگ بھر گئے، محبت کی ہریاول ان کے سفید دراز بالوں کے گرد حاشیہ بنا کر اتر آئی۔ بولے! تم جس راستے سے آئے ہو وہاں چاول کی فصل پکنے کو تیار ہے۔ اس کی خوشبو سے ملے؟

Read more

ایرانی ثقافت اور موسیقی کا ’بین الاقوامی سفیر‘ سمجھے جانے والے شجریان کون تھے؟

ایران کے معروف کلاسیکل گلوکار اور موجودہ حکومت کے مخالف فنکار، آغائے محمد رضا شجریان جن کا گذشتہ روز تہران میں انتقال ہوا، کسی سیاسی نظریے کے حامی نہیں تھے اور نہ وہ سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن انھوں نے اپنے فن کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

Read more

آزاد ریاست جموں و کشمیر سیاحوں کے لئے جنت، مگر کیسے؟ (2)

آزاد ریاست جموں و کشمیر کو اللہ تعالی نے خوبصورت اور حسین وادیوں، سرسبز جنگلات اور دلکش دریاؤں سے نوازا ہے۔ اسی لئے اسے جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ریاست قدیم تاریخی ورثے کی مالک بھی ہے۔ سیاحتی نقطہ نظر سے یہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایک جنت ہے۔ اس کی وادیاں اور ان میں واقع قدرتی جھیلیں کسی بھی یورپین ملک سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ اس کا قدیم ترین تاریخی ورثہ کسی

Read more

زندگی، کینسر اور امید

آج کیلینڈر پر نگاہ پڑی تو اندازہ ہوا کہ اکتوبر بھی شروع ہو چکا ہے۔ اکتوبر میں کیا خاص بات ہے؟ بدلتے موسم کی دستک یا کچھ اور بھی؟ جی ہاں یہ بریسٹ کینسر آگاہی کا مہینہ ہے۔ کینسر کا لفظ ہی عام انسان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے اور بیچاری عورت کو جہاں بہت سے تاوان اپنی صنف کی وجہ سے ادا کرنے پڑتے ہیں ان میں سر فہرست بریسٹ کینسر ہے مگر میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی بھی ضرور ہو چکی ہے کہ بر وقت علاج سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

Read more

میاں بیوی کے محرومیوں کے سائے میں سلگتے ہوئے رشتے

تخلیق آدم ؑ کے بعد حضرت حواؑ کی تخلیق قدرت کی جانب سے اس بات کا ادراک تھا کہ انسان تنہا زندگی نہیں گزار سکتا، اسے ایک محبوب ساتھی کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت آدم کی آدم سے نہیں بلکہ حوا یعنی ایک عورت سے پوری ہو گی۔ یہ اس بات کی جانب بھی ایک واضح اشارہ تھا کہ انسانی زندگی کو خوب صورت رنگوں اور خوشیوں سے صرف عورت کا وجود ہی بھر سکتا ہے۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کی ازلی ضرورت ہیں، ہر مذہب اور معاشرے میں اسے ایک مربوط اور حلال رشتے کی ڈور سے باندھا گیا، جسے میاں بیوی کہتے ہیں۔

جو ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ادھورے پن کو بھی پورا کرتے ہیں۔ سیکس مرد اور عورت دونوں کی ضرورت ہے مگر اس کو خوبصورت اور مضبوط ان کے مابین موجود رومانوی رویہ اور ہم آہنگی بناتا ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں اس وقت جو رشتہ سب سے زیادہ جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہے وہ میاں بیوی کا یہ حلال رشتہ ہے۔

Read more

چینی بچے

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ چین جانے کے بعد آپ کو سب سے زیادہ خوبصورت کیا لگا؟ تو میرا جواب ہو گا ”چینی بچے“ ۔ ننھے منے، گول مٹول، پھولے پھولے سرخ سرخ گالوں والے، ڈھیر سارے کپڑوں میں لپٹے ہوئے اور سر پر خوبصورت سی ٹوپی پہنے ہوئے چینی بچے۔ بچے سب ہی کو اچھے لگتے ہیں اور سب ہی ان سے پیار کرتے ہیں لیکن چین میں صرف انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر جس طرح بچوں کا خیال رکھا جاتا ہے، شاید ہی کہیں اور رکھا جاتا ہو۔

Read more

انسانوں کی بستی میں جانوروں کے حقوق

کراچی کے چڑیا گھر میں موجود برفانی ریچھ کی حالت زار کی خبریں، میڈیا پر آنے کے بعد ماحولیات اور جانوروں سے محبت کرنے والے افراد، اس کے تحفظ کے لئے میدان میں آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی پاکستان میں نایاب نسل کے اس ریچھ کے تحفظ کے لئے بھرپور مہم چلائی جا رہی ہے۔ براؤن کلر کے اس ریچھ کا نام رانو ہے، اور اس کا تعلق اردن سے بتایا جا رہا ہے، جو کہ سرد موسم میں رہنے کا عادی ہے، لیکن کراچی میں درجہ حرارت زیادہ ہونے کے باعث یہ ریچھ سست اور کمزور ہو رہا ہے۔

کراچی کے 38 شہریوں نے مشترک طور پر براؤن کلر کے اس ریچھ اور دیگر جانوروں کے تحفظ کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ برفانی ریچھ کو ایک چھوٹے سے تنگ پنجرے میں ماں باپ کے بغیر رکھا گیا ہے، جہاں اس کی صحت کا بہتر خیال نہیں رکھا جا رہا، جس سے اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ ریچھ کے بچے کو سکردو منتقل کیا جائے، جہاں اس نسل کے دیگر جانور پائے جاتے ہیں اور وہاں کی آب و ہوا بھی ان کے لیے موافق ہے۔ اس پر عدالت نے چڑیا گھر انتظامیہ کو ریچھ کو سازگار ماحول فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

Read more

میں پاگل نہیں ہوں

موسلادھار بارش کے ساتھ زویا کی آنکھیں پورے آب و تاب سے بہہ رہی تھیں۔ وہ اپنے ہوش میں نا تھی، آوارہ بارش کا تھپڑ گال پر پڑا تو خیال آیا، وہ چھت سے کپڑے اتارنے آئی تھی۔ تیز دھرکتے دل کے ساتھ ساکن جسم کو جھنجوڑ کر کپڑوں کو رسی سے اتارنے بھاگی۔ وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی کوئی دیکھ کر بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اسے بارش نے بھگویا ہے یا آنکھ کے آبشار نے۔ تیز تیز قدموں سے سیڑھیاں اترتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ کمرے میں ایک طرف کپڑے پھیلا دیے اور پلنگ پر جا لیٹی۔ منہ تکیے میں ڈالے ماضی کے اوراق پلٹنے لگی۔

”کب سے کال کر رہا ہوں کہاں ہو تم؟“

Read more

کامران آن بائیک: سائیکل پر 50 ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنے والے لیہ کے کامران علی جن کے لیے آرام کا مطلب تھکاوٹ ہے

کامران علی ایک پاکستانی سائیکلسٹ ہیں جنھوں نے لیہ سے اپنے سائیکل کا سفر کیا شروع کیا کہ اب وہ آرام سے بیٹھنے سے تھک جاتے ہیں۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: جب پاکستانی بشیر ساربان بنے امریکی نائب صدر کے مہمان

یہ کہانی ایک ایسے پاکستانی اونٹ گاڑی بان کی ہے جس نے نہ صرف امریکی میڈیا کا دل اپنی سادہ اور مخلص باتوں سے جیتا بلکہ وہ ایک امریکی صدر کو فخر کے ساتپ اپنا دوست بھی کہہ سکتے تھے۔

Read more

میڈیکل کالج کے اساتذہ کی باتیں اور یادیں

5 اکتوبر: پوری دنیا میں اس دن کو ”یوم اساتذہ“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن پوری دنیا، اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں، استاد سے محبت کے اظہار کے لیے کسی دن کی ضرورت نہیں، لیکن دنیا ایک گلوبل ولیج کا روپ دھاڑ چکی ہے، تو جس دن کو کسی سے منسوب کیا جاتا ہے، تو ہم سبھی اسی دن ہی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوستوں نے اپنے پسندیدہ اساتذہ کے بارے میں لکھا، تو دلی خوشی ہوئی۔ تو سوچا کیوں نا میں آپ کو اپنے میڈیکل کالج کے اساتذہ سے ملاؤں!

Read more

مرد بھی مجبور ہو سکتا ہے!

ہمارے معاشرے میں تمام معاملات زندگی میں مرد کو برتری حاصل ہے چاہے وہ گھریلو ہو یا سماجی۔ رعب دار، غصے کا تیز، پتھر دل، احساس سے نالاں جیسی ان تمام خصوصیت کو ہم نے خود ہی مرد کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔ ہوش سنبھالتے ہی ہمارے ذہنوں میں مرد کی تصویر کچھ یوں بنا دی جاتی ہے کہ خود بہ خود مرد اپنی شخصیت کو اسی انداز میں ڈھالنے لگتا ہے۔ اگر غور کریں تو کیسے یہ سوچ

Read more

فرصت

سلام سناؤ کیسے ہو، کئی دنوں سے تم سے بات کرنے کا من تھا مگر فرصت ہے کہ ملتی ہی نہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ تم یاد نہیں ہو مگر اب حالات اور اپنی ذات کے گرداب میں ایسا الجھ گیا ہوں کہ تمہیں فرصت سے یاد کرنے کی فرصت نہیں۔ یوں تو حالات نارمل ہو رہے ہیں مگر جانتے ہو اب حالات کے نارمل ہونے سے بھی ڈر لگتا ہے، اس ابنارمل زندگی کی عادت سی ہو گئی ہے

Read more

ہم اتنے اگڑم بگڑم کیوں ہیں؟

ہمارے تصورات اس قدر الجھے ہوئے اور پیچیدہ ہیں کہ ہم کسی بھی چیز کو اس کے درست مقام سے پہ نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں دوستی اور محبت میں فرق کرنا نہیں آتا۔ ہم محبت کو قید مانتے ہیں، رشتوں کا تقابل کیرئیر سے کرنے لگتے ہیں، ایک فرد کی حیثیت میں اہمیت کو رشتوں کے کردار پہ تولنے لگتے ہیں۔

ہم فرض کیے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ایک بیٹے یا بیٹی کا فرض یہ ہے کہ وہ خاندان کے سارے ریت روایات نبھائے، اپنی ہر خواہش اور خوشی کی قربانی دے کے والدین کی خواہشات میں ڈھل کے اپنی زندگی برباد کر لے لیکن فرمانبردار کہلائے۔ ہمیں اولاد اپنا اثاثہ لگتی ہے جس پہ انوسٹمنٹ ہوئی ہے اور ہمارا حق ہے کہ ہم اس سے پوری زندگی سود وصول کریں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ ایک جیتا جاگتا انسان ہے آرڈر پہ بنوایا گیا روبوٹ نہیں جسے کیرئیر کا انتخاب کرنا ہو، دوست چننے ہوں یا رشتہ بنانا ہو تو وہ والدین کے طے کردہ اصولوں کے مطابق نہیں کرے گا۔ بلکہ اس کی ذمہ داری ایک اچھے بیٹے یا بیٹی کی حیثیت میں والدین کا خیال رکھنا ہے نہ کہ ان کی ہر بات کو ماننا ہے۔

Read more

سلام ان استادوں کو۔ ۔ ۔

سلام ان استادوں کو جو اخبار بھی ہجے کر کے پڑھتے ہیں۔ جنھیں کالم کے مضمون اور سیاق و سباق کا گھنٹہ پتہ نہیں ہوتا، بس اس میں املا کی غلطیاں ڈھونڈھ کر آپ کو گناہ صغیرہ و کبیرہ سے بچانے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

سلام ان استادوں کو جو ساری قوم کے مسیحا ہوتے ہیں۔ پرانی خارش سے لے کر شوگر تک اور چنبل سے لے کر کینسر تک ہر بیماری کا علاج پوری دیانت داری سے ڈھونڈ کر شیئر کرتے ہیں۔ وہ بھی فی سبیل اللہ بنا کسی لالچ کے۔

سلام ان استادوں کو جو پاپا کی پرنسس اور بے بی ڈول کی معمولی چھینک والی پوسٹ پڑھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ گرمیوں میں دیسی انڈے اور شہد کھانے کا قیمتی مشورہ دینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے اور ساری رات جاگ کر ان پر غائبانہ دم کر کر کے پھونکیں مارتے رہتے ہیں۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 25 ادھر لیاری․․․․․ادھر کٹی پہاڑی․․․عمران فاروق شہید انقلاب قرار پائے!

آج چائے بناتے ہوئے ہاتھ جل گیا۔ جلن کی اذیت جھیلتے ہوئے خیال آیا، ان پر کیا گزر رہی ہوگی جن کے پورے جسم شعلوں میں گھرے تھے۔ بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری کے سانحے کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنے ارد گرد تپش محسوس ہونے لگتی ہے۔ ڈھائی سو سے زیادہ مزدور زندہ جل گئے۔ زندہ جلنا! تصور بھی کتنا خوف ناک ہے، اسی لیے سب سے زیادہ جہنم کی آگ سے ڈرایا گیا ہے۔ لیکن یہ ڈراوا بھی دوسروں کی زندگی جہنم بنا کر اپنے لیے جنت تعمیر کرنے والوں کو ان کے ارادوں سے نہیں روک پاتا۔

میرا شہر بھی تو ایک جہنم ہے، مسلسل خوف کا عذاب۔ سوچتی ہوں کیا دوزخ میں اس سے بڑھ کر اذیتیں ہوں گی جو اس شہر کے باسی جھیل رہے ہیں؟ کیا باپ کے سامنے بیٹے کی سر کٹی لاش لائی جائے گی؟ یہ اطلاع کسی کا دل کرب سے بھر دے گی کہ اس کے پیارے کا جسم ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا، کوئی ماں گم شدہ بیٹے کے انتظار میں تڑپنے کی تکلیف جھیلے گی اور کیا کسی جہنمی کو یہ سوال ستائے گا کہ ”جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟“ خدا کتنا مہربان ہے، اس کی تو سزائیں بھی اس کے رحم کی دلیل ہیں، اور انسان کس قدر سفاک۔

Read more

یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ ہم اب تک زندہ ہیں

کیا آپ نے اوڈری لورڈی کا نام سن رکھا ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک سیاہ فام امریکی شاعرہ تھیں؟

کیا آپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ انہوں نے ساری عمر عورتوں کے حقوق کی خاطر روایتی فیمنزم ’پدر سری اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ لڑی اور سیاہ فام عورتوں کی جدوجہد میں گرانقدر اضافے کیے۔

Read more

اور وہ ایک ملک کا بادشاہ بن گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسے کچھ بننے کا شوق تھا۔ مگر اسے نہیں پتا تھا کہ اسے کیا بننے کا شوق تھا۔ منتوں مرادوں والی اکلوتی نرینہ اولاد کچھ نہ بھی بنے تو والدین کو تسلی ہوتی ہے کہ چلو خیر ہے اولاد نرینہ تو ہے۔ جن درباروں مزاروں سے اس کے والدین اسے مانگتے تھے۔ جب وہ بڑا ہوا تو وہ انہیں کو نہیں مانتا تھا۔ خیر اس سے کیا فرق پڑتا ہے اسے تو کچھ بننا تھا۔ کچھ بہت بڑا خواب اس نے اپنی تنہائی میں پال لیا تھا۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خالی ذہین شیطان کا گھر۔ گویا تنہائی، خالی کے مترادف ہوئی۔ یعنی شیطان انکل کا وائٹ ہاؤس

Read more

حب الوطنی کی اسناد اور  شبلی فراز:  … نور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دریافت کیا ہے کہ انہیں بتایا جائے کہ ’حب الوطنی‘ کے سرٹیفکیٹ کہاں سے ملتے ہیں۔ وہ اگرچہ ملک کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں تاہم وہ بھی یہ سرٹیفکیٹ لینا چاہیں گے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ چند روز کے دوران نواز شریف کو ملک دشمن اور بھارتی ایجنڈے پر گامزن قرار دینے کے تناظر میں شاید استہزائیہ انداز میں پوچھی ہے۔ لیکن اگر سنجیدگی سے اس معاملہ پر غور کیا جائے

Read more

مجھے پتہ ہے، قید میں چڑیا کیوں گاتی ہے

آٹھ برس کی عمر میں زنا بالجبر سے چھلنی بچپن کے ساتھ بڑی ہوتی ہوئی مایا اینجلو نے کئی مقام دیکھے۔ کال گرل، بس کنڈیکٹر اور پھر ادیب، یونیورسٹی کی سطح پر تدریس، ملک و بیرون ملک امریکا کی نمائندگی، اخبارات و جرائد کی ادارت اور ان گنت اعزازات سے نوازی جانے والی اس امریکی ادیبہ، شاعرہ، رقاصہ، ڈرامہ نگار اور صحافی نے فروری 2014 میں وفات پائی۔  I Know Why the Caged Bird Sings (1969)ان کی خود نوشت ہے۔

Read more

بدھا کے حضور: گیان جیوتی کا دیا اور نربل سادھنا کی شکتی

جونہی ہم سڑک سے مڑے سامنے بلند چبوترے پر ایک دیو ہیکل پیکر دکھائی دیا۔ درختوں کے جھنڈ میں گھرا یہ مہاتما بدھ کا عظیم الشان مجسمہ تھا۔ جاپانی مہاتما کو دائی بتس Diabatsu کہتے ہیں۔ آلتی پالتی مارے بدھا پورے انہماک سے اپنی دنیا میں گم بیٹھے تھے ان کے چہرے پر اس قدر شانتی تھی کہ جس پر سکون کی کئی دنیائیں قربان کی جا سکتی تھیں۔ اس طرح کی شانتی تو دیکھنے والوں کو بھی سکون کی

Read more

محبت، سیکس اور آن لائن بدسلوکی کی ایک داستان

برسوں پہلے انڈین فنکار اندو ہری کمار جب محبت میں گرفتار ہوئیں تو انھیں بہترین رومان کا احساس ہوا تھا۔ لیکن چند ہی مہینوں کے اندر ہی لِو ان ریلیشن شپ کی پرتیں کھلنی شروع ہو گئیں۔

Read more