رام کوٹ کی سیر

معلوم ہوا کہ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ کے زیر سر پرستی، سینیئر اور جونئیر صحافیوں

کا وفد، یوم سیاحت کے عالمی دن کے موقع پہ رام کوٹ کی سیر کو جائے گا۔ فوراً انٹرنیٹ سے مدد لی اور رام کوٹ کے بارے میں آگاہی حاصل کی اور اس کے بعد اسے دیکھے بنا جی کو کہاں سکون ملنا تھا۔ دل اتنا بے قرار تھا کہ قدرت کے اس شاہکار کو دیکھنا ہی دیکھنا ہے۔ شدت طلب چشم کا یہ عالم تھا، جیسے سات سمندر پار سے محبوب اپنی محبوبہ کو دہایوں بعد ملنے چلا ہو۔ ”پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ“ صحافیوں کے لئے ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے، تا کہ پیارے وطن کے ان علاقوں کو دریافت کیا جائے، جو عام طور پہ عوام کی نظر سے پوشیدہ رہتے ہیں۔ اس کا مقصد میڈیا کے پلیٹ فارم سے، دنیا کو پاکستان کی جھلک دکھلانا ہے کہ ہماری دھرتی کیسی دل کش اور خوش نما ہے۔

Read more

کراچی کا سفر اور غربت کا مجرا – مکمل کالم

گاؤں کے سرے پر واقع آخری مکان مجھے بہت پسند ہے، جیسے ریل گاڑی کا آخری ڈبہ، جس کے بعد تا حد نگاہ صرف ریل کی پٹری دکھائی دیتی ہے۔ آخری مکان بھی ایسا ہی ہوتا ہے، دور دور تک کوئی آبادی نہیں ہوتی، زندگی اس مکان سے شروع ہوتی ہے۔

کافی دنوں سے سوچ رہا تھا کہ لاہور سے کراچی براستہ موٹر وے سفر کیا جاوے، یار لوگوں سے سنا تھا کہ اب بارہ گھنٹوں میں بندہ کراچی پہنچ جاتا ہے اور واپس بھی صحیح سلامت آتا ہے، بوری میں نہیں آتا۔ مبالغہ آرائی چونکہ لاہوریوں کی گھٹی میں پڑی ہے سو احتیاطاً گوگل مد ظلہ سے بھی پوچھ لیا کہ سفر کتنا طویل ہے، جواب آیا چودہ گھنٹے۔ ’خاکم بدہن‘ میں یوسفی صاحب ایک شخص کا خاکہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”اس کے متعلق محلے میں مشہور تھا کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے نہیں نہایا ہے۔“ صبح خیزی کے باب میں اپنا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، اسکول کے زمانے کے بعد شاید ہی کبھی منہ اندھیرے اٹھنے کا اتفاق ہوا ہو۔ مگر اب مجبوری تھی سو ہمت کر کے علی الصبح پانچ بجے روانہ ہو گئے اور ساتھ میں کھانے پینے کا اتنا سامان رکھ لیا جتنا عام طور پر لوگ جنگ کے دنوں میں گھر پر ذخیرہ کر لیتے ہیں۔ دراصل ہمیں بتایا گیا تھا کہ موٹر وے صرف سکھر تک ہے اور اس پر سروس ایریاز تعمیر تو ہو چکے ہیں مگر ابھی چالو نہیں ہوئے، وہاں پٹرول ملتا ہے اور نہ کھانا۔

Read more

آذربائیجان کا سفر نامہ: آذری پلاؤ، ناگورنو قرہباخ اور کشمیر

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کشیدگی جاری ہے لیکن اس تاریخی ملک کی ثقافت انتہائی متنوع اور دلچسپ ہے۔ وہاں کے عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کو عقیدے کے علاوہ لسانی، ثقافتی اور نسلی رشتوں نے بھی آپس میں باندھ رکھا ہے۔

Read more

شفا خانہ فیس بک

میری عمر 36 سال ہے، شادی شدہ ہوں، 3 سال سے ذہنی مسائل کا شکار ہوں، یاداشت کی کمی محسوس ہو رہی ہے اور وقت کے ساتھ ان مسائل میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ کچھ لکھتا ہوں تو لکھتے لکھتے الفاظ بھول جاتا ہوں، گفتگو کے دوران بات بھول جاتا ہوں اتنا ہی نہیں ایک بار ہاتھ دھونے کے باوجود بار بار دھوتا ہوں، نیند پوری کرنے کے بعد بھی غنودگی طاری رہتی ہے۔ کوئی دوست رہنمائی فرمائے مجھے کیا ہوا ہے اور کیا اس کا علاج ممکن ہے؟

Read more

تشدد اور طاقت کا کلچر

تشدد اور طاقت پر بات کرتے ہوئے ایک قابل ذکر بات یہ سامنے آتی ہے کہ تاریخ کی سب سے خون ریز دشمنیاں ایسے لوگوں کے درمیان ہوئیں جو ایک دوسرے سے مختلف کم اور مماثل زیادہ تھے۔ انیس سو سترہ میں فرائڈ نے ”معمولی اختلافات کی نرگسیت“ کی اصطلاح وضع کر کے بتایا کہ پڑوسیوں کی طرح رہنے والے جو ایک براری کی طرح ہوتے ہیں اور ایک جیسے رسم و رواج رکھتے ہیں بہت معمولی اختلافات پر حد

Read more

کیا ہم ماضی پرست ہوتے ہیں یا اذیت پسند؟

لوگ کہتے ہیں برا وقت جب بھی یاد آئے، رُلاتا ہے۔ میری نرسری کی ٹیچر بہت سخت مزاج تھیں۔ نجانے وہ ایسی ہی تھیں یا ایک واقعے کی وجہ سے ان کا سلوک میرے ساتھ ایسا ہو گیا تھا۔ ہوا کچھ یوں کے میری خالہ جو بہت عرصے سے ماموں کی شادی کے لیے لڑکی کی تلاش میں تھیں، ان کو میری ٹیچر پسند آ گئیں۔ ان سے گھر کا ایڈریس لے کر، وہ بڑی خالہ اور امی سمیت رشتہ دیکھنے پہنچ گئیں۔ بڑی خالہ کو ٹیچر کی بجائے، ان کی چھوٹی بہن پسند آ گئیں۔ اس وجہ سے اس گھر میں رشتہ کا ارادہ ہی کینسل ہو گیا۔ پر رشتہ نہ کرنے کے سبب ٹیچر کا رویہ مجھ سے بہت سخت ہو گیا۔ سوا دو سال کی عمر میں جو خوشی سے سکول جاتی تھی، اب روز رویا کرتی۔ میری کلاس سمیت پورے سکول کو میرے رونے کی خبر ہو جاتی۔

میری کلاس پہلی منزل پہ تھی۔ سکول پہنچتے میری آواز وہاں تک جاتی تھی اور کلاس فیلو کہا کرتے تھے، لگتا عائشہ سکول آ گئی ہے۔ ٹیچر کے رویہ کی وجہ سے سکول تو چھڑوا دیا گیا۔ پر وہ رونا اور کلاس کا مذاق سب کو اکثر یاد آ جاتا تھا۔ جو باتیں مجھے اس وقت معلوم بھی نہیں تھیں، وہ بھی وقت کے ساتھ یاد آ گئیں۔ وہ رونا مجھے آج بھی یاد ہے، پر اب جب بھی یاد آتا ہے، ہنسی آتی ہے۔ اس واقعے نے ایک بات سمجھا دی، وہ یہ کہ ساری عمر کے لیے کام کی جگہ ہو، یا پڑھنے کی رشتہ داریاں نہیں بنانا چاہیے۔ میں شعوری و لا شعوری طور پر ہمیشہ اس پر عمل پیرا رہی ہوں۔

Read more

موسیقار ایم ارشد سے ایک ملاقات

اس مرتبہ میرا لاہور آنا نامور شخصیات سے ملاقات کا موجب رہا۔ ان ملاقاتوں کے لئے میں حضرت تنویرؔ نقوی کے صاحبزادے شہباز تنویر نقوی اور نعیم وزیر کا مشکور ہوں۔ شہباز کا گزشتہ تحریر میں تعارف ہو چکا۔ نعیم وزیر کا تعارف یہ ہے کہ وہ پاکستانی فلمی دنیا کی نامور موسیقار جوڑی بخشی وزیر کے وزیر صاحب کے بیٹے ہیں۔ اور خود بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ نگار ایوارڈ یافتہ مشہور فلمی موسیقار ایم اشرف کے موسیقار بیٹے ایم ارشد سے میری ایک دلچسپ ملاقات ہوئی جو پڑھنے والوں کے لئے پیش خد مت ہیں۔

” کچھ اپنے والد صاحب کے بارے میں بتائیے“ ۔
” اپنے ابا جی، ایم اشرف صاحب کا میں بھلا کیا تعارف کرا سکتا ہوں۔ وہ بڑے خوش مزاج، مزے دار آدمی اور میرے دوست تھے۔ شروع میں وہ میرے دوست نہیں بلکہ باپ ہی تھے“ ۔
” ان کو فلمی دنیا میں کس نے متعارف کروایا؟“ ۔

Read more

تشدد اور طاقت کا کلچر

تشدد اور طاقت پر بات کرتے ہوئے ایک قابل ذکر بات یہ سامنے آتی ہے کہ تاریخ کی سب سے خون ریز دشمنیاں ایسے لوگوں کے درمیان ہوئیں جو ایک دوسرے سے مختلف کم اور مماثل زیادہ تھے۔

انیس سو سترہ میں فرائڈ نے ”معمولی اختلافات کی نرگسیت“ کی اصطلاح وضع کرکے بتایا کہ پڑوسیوں کی طرح رہنے والے جو ایک براری کی طرح ہوتے ہیں اور ایک جیسے رسم و رواج رکھتے ہیں بہت معمولی اختلافات پر حد درجہ حساسیت کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں۔

Read more

گھر میں رہنے کے مسائل

جب سے وبا نے باہر گھومنا شروع کیا انسانوں نے کھڑکیاں کواڑ بند کر کے خود کو چار دیواری میں قید کرنے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ گھر میں خود کو محصور کرنے کے فوائد سے قطع نظر نقصانات کو دیکھیے انسان اور زیادہ پریشانی کے نزدیک جاتا ہے۔ گھر بہت سارے افراد پہ مشتمل ہوتا ہے اور ایک دوسرے کی شکل کے ساتھ ساتھ عقل اور نظریے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ گھر کے افراد ہر وقت آس پاس ہی رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جو چیز چوبیس گھنٹے آنکھوں کے سامنے رہتی ہے اس سے نفرت ضرور ہو جاتی ہے۔

Read more

وضاحتوں پر وضاحتیں، آخر کیوں؟

گزشتہ دوتین دہائیوں سے قوم سخت اذیت کا شکار ہے کہ آخر پاکستان میں کتنے پاکستان ہیں اور ہر پاکستان کتنا آزاد و خود مختار ہے۔ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے میں ہی کل پاکستان ہوں اور پھر کچھ ہی دیر یا دن بعد پاکستان کے کسی ادارے کے سامنے کہنے والا بے بسی کی تصویر بنا نظر آ رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کے ادارے تو پھر ادارے ہیں اور اپنا اپنا

Read more

قومی ٹی ٹوئنٹی کپ: شاہین شاہ آفریدی کی ایک مرتبہ پھر پانچ وکٹیں، اس برس ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر بن گئے

پاکستان کے لیے تینوں فارمیٹس میں نمائندگی کرنے والے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی وہ پہلے پاکستانی بولر بن گئے ہیں جنھوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں چار مرتبہ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کی ہیں۔

Read more

ارتغرل” کے بعد عمران خان کی نئی نسل کو ترکی ناول پڑھنے کی تجویز

رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں وزیراعظم عمران خان کی خصوصی سفارش پر ترکی ڈرامہ سیریل ”ارطغرل“ سرکاری ٹی وی چینل پر دکھایا گیا۔ جس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اس ضمن میں بہت سے معروف پاکستانی فنکاروں کی طرف سے تنقید بھی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں بھی زیادہ بجٹ دیا جائے تو ہم بھی اپنی تاریخ و ثقافت کو سکرین کی زینت بنا سکتے ہیں۔ ہمارے پاس اتنا قلیل بجٹ ہوتا ہے

Read more

مثبت سوچ کی طاقت

چیزوں اور انسانوں کے درمیان امتیاز کرنے کی صلاحیت آپ کی زندگی کا ایک بہترین لمحہ اور بیداری ہو سکتی ہے۔ جب آپ جیت اور ترقی کر رہے ہوتے ہیں تو یہ محسوس کرنا بہت آسان ہوتا ہے کہ لوگ آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کو سپورٹ کرتے ہیں۔ انسانوں کے رویے اور طریقوں کو جانچ لینا اور امتیاز کر لینا ایک اہم خوبی اور صلاحیت ہے، کیونکہ اکثر لوگ آپ کو مذہب، سیاست، قوم، زبان، علاقے اور عوام کی خدمت کے نام پر استعمال کرتے ہیں۔

وہ آپ کی صلاحیتوں کے مترادف بھی ہوتے ہیں اور اعتراف بھی کرتے ہیں، لیکن صرف اس وقت تک جب تک آپ آگے بڑھ رہے ہوں۔ لیکن جیسے ہی آپ ایسا کرنا بند کر دیں اور مشکلات کا شکار ہوں تو ایسے لوگ آپ کو منہ بھی نہیں لگاتے۔ اپنے خاندان، دوستوں، رشتہ داروں، کمیونٹی اور پروفیشنل لوگوں میں ایسے تعلقات کا بھر پور جائزہ لیں اور تجزیہ کریں۔ کوشش کر کے ایسے لوگوں سے کنارہ کشی کریں، جو صرف اور صرف آپ سے کچھ لینے کی وجہ سے آپ کے ساتھ منسلک ہیں۔

Read more

کچھ حقوق ریاست کے بھی ہیں!

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ ”جس شخص نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا، (سورۃ المائدہ آیت 23 ) ۔ اپوزیشن کے ساتھ دین اسلام کے بے نظیر رویے کا تصور موجودہ جمہوری نظام سے نہیں کیا جا سکتا کہ جتنی آزادی اسلام نے اپوزیشن کو دی ہے اتنی آزادی کسی بھی نظام میں ممکن نہیں۔ جب تک بات صرف زبانی حد تک رہی، تو تحمل و برداشت کا مظاہرہ کیا گیا لیکن جب باقاعدہ جنگی کارروائیاں کیں تو جہاد بھی کیا گیا۔

حقوق انسانی کا یہ تصور اسلام نے سیکڑوں برسوں سے بنی نوع انسان کو دیا ہے، لیکن جب حقوق انسانی کے حوالے سے وائٹ ہاؤس اور برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ یا مغرب کا حوالہ دیے جائیں تو حیرت ہوتی ہے کہ حقوق انسانی کے حوالے سے انھیں اسلام کے جید خلفا راشدین ؓ و مسلم حکمرانوں کی مثالیں کیوں یاد نہیں آتیں، حالاں کہ یہ نعمت اسلام کے ذریعے پوری دنیا کو ملی ورنہ دنیا ان چیزوں سے نا آشنا اور نری جہالت میں مبتلا تھی۔

Read more

جاوید دانش کی ٹیلی مووی ”بڑا شاعر چھوٹا آدمی“

انسان ایک بہت ہی کمپلیکس اور پراسرار چیز ہے۔ کبھی یہ اعلٰی اور ارفع بن کر آسمان کی بلندیوں کو چھونے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی بہت چھوٹا بن کر انسانی سطح سے بھی گر جاتا ہے۔ سب انسان اپنے اپنے معاشروں میں پروان چڑھتے ہیں اور انہی معاشروں کے جبر کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ اپنی پسند کے ماحول و معاشرے میں آنکھ کھولنا انسان کے بس میں نہیں ہوتا اسی لیے انسانی زندگیوں پر ماحول کا بہت اثر پڑتا ہے۔ ایک بچے کے پیدا ہونے کے بعد اس کی ابتدائی کنڈیشننگ اس کے اپنے گھر سے شروع ہوجاتی ہے اور وہ بالغ ہونے تک اسی ابتدائی کنڈیشننگ میں فریم ہوجاتا ہے اس کے بعد پھر وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں اپنی ابتدائی کنڈیشننگ بیگج کے ساتھ ہی اپنی شخصیت کو فریم کرتا چلا جاتا ہے اور پھر ایک دن وہی ابتدائی بیگج اس کی شخصیت کا خاصا بن جاتا ہے۔

ایسے لوگوں کو ہم روایت پسند یا روایتی کہتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو بچپن سے ہی سوال کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ ایک طرح کے فریم آف لائف سے بوریت محسوس کرنے لگتے ہیں او ر زندگی کی یک رنگی سے اکتانے لگتے ہیں۔ کوئی بھی سکول، کالج اور یونیورسٹی کا ماحول ان کی تجسس و جستجو کو مسخ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ اس طرح کے لوگ غیر روایتی اور آزاد فکر کے مالک ہوتے ہیں اور اپنی آزاد پسند فطرت کی وجہ سے ایک بڑی چیلنجنگ لائف گزارتے ہیں۔

Read more

چھاتی کا سرطان: آپ کو یہ سب کیسے جھیلنا ہے؟

 چھاتی کا سرطان۔۔۔ اف اس لفظ سے ہی دل کانپ جاتا ہے۔ جب عورت پر یہ ظالم حملہ آور ہوتا ہے تو وہ تو اسے جھیل ہی رہی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی فیملی بھی متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر شوہر یا پارٹنر پر یہ خبر بجلی بن کر گرتی ہے۔ انہیں یہ سب ایک ڈراونا خوب لگتا ہے جس سے وہ جلد جاگ جانا چاہتے ہیں۔ آج میرے مخاطب وہی مرد حضرات ہیں جنہیں

Read more

بہترین ”تنظیم سازی“ پارٹ2

بحیثیت پوری قوم ہم جانتے ہیں کہ ہمارے بنیادی اصول یعنی ایمان، تنظیم اور اتحاد اس وقت بہت کمزور دکھائی دیتے ہیں، ہر شعبہ زندگی میں ایمان کی کمزور ترین پوزیشن ہے اور اتحاد تو ویسے ہی ہمارا پارہ پارہ ہوئے مدت بیت چکی ہے وگرنہ دنیا میں آ ج امت اس طرح بے یارو مددگار نہ ہوتی اور جہاں تک تنظیم کا معاملہ ہے تو اس کی دھجیاں طلال چوہدری نے اڑا کر رکھ دی ہیں۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: بارہ مئی 2007ء

28 مئی 2007ء

پھر گئے دور کی ابتدا ہو گئی

کل مرے شہر میں انتہا ہو گئی

آج ’ایس ایم ایس‘ میں آنے والی نظم کا یہ آخری شعر میرے دماغ میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ 12 مئی کو جو کچھ ہوا، وہ واقعی انتہا تھی۔ موت کا کھیل کھلے عام سڑکوں پر کھیلا جا رہا تھا اور کرکٹ میچ کی طرح ٹی وی چینلوں پر براہء راست دکھایا جا رہا تھا۔ جانے کون جیت رہا تھا، لیکن لوگ جانیں ہار رہے تھے۔ یہ سب ریاست کے سب سے بڑے شہر میں ہو رہا تھا۔ ریاست جانے کہاں تھی، فریق تھی یا تماشائی۔ اسلحہ بردار لڑکے پورے اطمینان سے گنیں لوڈ کرتے، پھر تاک تاک کر نشانہ لیتے۔

Read more

وہ خواتین جن کو معاشرہ چھپا رہا ہے

میں اپنی روزمرہ کی زندگی میں تقریباً چالیس سے پچاس عورتوں سے ملتی ہوں، جن میں وہ خواتین بھی موجود ہیں جن کو کسی قسم کی معذوری ہے۔ ہم جس معاشرے میں جینے کی بھرپور کوشش میں، کبھی مار دی جاتی ہیں، کبھی اغوا کرلی جاتی ہیں، کبھی ہم عورتیں محبت کے نام پر زبر جنسی میں استعمال کی جاتی ہیں، کبھی شادی جیسے استحصالی بندھن میں باندھ دی جاتی ہیں، کبھی رشتوں کو بچاتے ہوئے وٹا سٹا جیسی فضول روایت کا حصہ بنا دی جاتی ہیں۔ یہ سب ان عورتوں کی بات کی گئی ہے جن کو کوئی معذوری نہیں ہے۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ جب ہم ان عورتوں یا لڑکیوں جن کو کوئی معذوری ہے ان کی زندگی کو محسوس کریں تو لگتا ہے سانس بند ہو جائے گی۔ عقل کے دروازے بند ہو جاتے ہیں، جب ایک اکیس سالہ لڑکی یہ کہتی ہے، انگلیوں پر گن کر بتا سکتی ہوں باجی کہ میں پیدا ہونے سے لے کر اب تک کتنی بار اس چار دیواری سے باہر نکلی ہوں۔ صرف اس لیے کہ میں چل نہیں سکتی مجھے کہیں بھی لانے لے جانے میں گھر والوں کو پریشانی ہوتی ہے۔

آپ کی آنکھیں آنسووں سے بھر جائیں گی، جب کسی سانولے حسن کو آنکھوں میں کسی انہونی کا انتظار لئے دیکھیں گے، جس کے شوہر نے اس کو اس لیے طلاق دے دی کہ ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں، ڈاکٹرز کو اس کی ٹانگ کاٹنا پڑی، تا کہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ آپ اس وقت کیسا محسوس کریں گے، جب آپ ایک معصوم لڑکی جو کہ ذہنی طور پر چیزوں کو سیکھنے میں تھوڑا وقت لیتی ہے، شوق سے سیکھتی ہے، سیکھتے ہوئے مسکراتی ہے، آنکھوں میں کچھ پا لینے کی خوشی ہوتی ہے اور اپنے الفاظ کو زبان دینے کے لیے اسے اشاروں میں بات کرنا پڑتی ہے۔ اس کو سامنے والے کی بات سننے کے لیے کانوں کی نہیں آنکھوں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ ایسی لڑکی کسی کے لیے کیا نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے لیکن نہیں، اس کو تشدد کر کے گھر کے اندر بند رکھا جاتا ہے، تا کہ وہ باہر نہ جائے۔ کیونکہ اگر اس کا دل کرے گا باہر جانے کو، تو اس کو کوئی بھی انسان اپنے مفاد کے لیے استعمال کر لے گا۔

Read more

کیا آپ کے شوہر ایک دہریہ ہیں؟

یہ اس دور کی بات ہے، جب آتش جوان تھا اور اپنے مذہبی اور غیر مذہبی اور لا مذہبی دوستوں سے خدا اور مذہب کے موضوعات پر گرما گرم بحثیں کیا کرتا تھا۔ اس دور میں ایک دن خبر آئی، کہ میرے ایک عزیز دہریہ دوست نے امریکہ سے پاکستان جا کر شادی کر لی ہے۔ وہ دوست اپنی بیگم کو لے کر واپس آئے تو میں نے فون پر اپنے دوست اور بھابی جان کو کینیڈا آنے کی دعوت

Read more

اے غدارو گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

اپنے اپنے مفادات نے ہم کو یکجا کیا

وطن عزیز پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مجرم اپنے جرم کو اس کی اصل کے مطابق تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالا گیا تو بھٹو صاحب نے اپنی عوامی اور بین الاقوامی مقبولیت کے زعم میں اس کو پہلے تو پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہ دی۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار بلاشبہ ایک عالی دماغ تھے۔ لیکن وہ بھی اس کیس کو اس کی اصل روح کے مطابق لڑنے میں ناکام رہے، ان کا سارا زور اسے سیاسی کیس ثابت کرنے پر صرف ہوتا رہا۔ جب یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوا تو پھر بھٹو صاحب سمیت ان کے سب حامیوں کو اندازہ ہوا کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور چڑیاں سارا کھیت چگ چکی ہیں۔

یہی حال نواز شریف کا پاناما کیس میں رہا، ان کے خواجہ آصف جیسے نادان دوستوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ چند ہفتوں کا شور شرابا ہے، میاں صاحب، قوم جلد ہی اسے بھول جائے گی۔ جن کی خوشامد میں آ کر میاں صاحب نے قومی اسمبلی میں جھوٹ پر مبنی وہ تقریر کر ڈالی، جس میں کہا گیا تھا، کہ حضور یہ ہیں وہ ذرائع، جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات: اے غداروں گھبرانا نہیں ہے

وہ جو کہتے ہیں کہ گھوڑا گھاس سے یاری لگائے گا تو کھائے گا کیا؟ اسٹیبلشمنٹ کے نہ تو مستقل حریف اور نہ ہی مستقل حلیف ہوتے ہیں۔ دوستی یا دشمنی کا معیار بس یہ ہے کہ جب آپ کو ایک طے شدہ نظریہ پاکستان دے دیا گیا ہے تو پھر اپنا نظریہِ پاکستان الگ سے گھڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

آزاد قیدی

قلم اٹھانے سے پہلے دل میں خیال آیا کہ خاموشی ہی بہتر ہیں، پھر سوچ لیا کہ کب تک یہ خاموشی؟ ایسا نہ ہو کہ یہ خاموشی مجھے اپنے اندر ہی سے مار ڈالے۔ میرے ذہن میں ہزاروں ایسے سوالات اور خیالات جو کہ قابل سوچ طلب ہیں، مگر معاشرے کی جذباتی فطرت کے سامنے ایک بے بس بندہ کیا کر سکتا ہے؟ مجھ سے سوال کرنے کا حق اور کسی چیز پر سوال اٹھانے کا حق چھین لیا گیا۔

Read more

سیاست جغرافیہ: سلطنت میں نازل ہونے والی قدرتی آفات

سیاسی قدرتی آفات: سلطنت سیاست میں قدرتی سیاسی آفات کا آنا معمول کا کام رہا ہے۔ ٹیکسوں کی سر پھوڑ، مہنگائی کی کمر توڑ اور یوٹیلٹی بلز کی گردن توڑ امراض اور وبائیں پورا سال ہی عوام کے سر رہتی ہیں۔ ان کے علاوہ احتجاج، ہڑتالیں، دھرنے، آئی ایم ایف اور بد اخلاقی کے سیلاب نمایاں آفات ہیں۔ ماضی میں ایک خوفناک آفت ”آٹھویں ترمیم“ کا زور بھی رہا، جس پر اب سیاسی سائنسدانوں نے مکمل قابو پا لیا ہے۔

Read more

’مبینہ ریپ: 18 برس سے چرچ سے انصاف کی منتظر خاتون پادری

9 اگست 2020 کو جنوبی افریقہ کے یوم خواتین کے موقع پر، ریو میجر ان متعدد خواتین اور سماجی کارکنوں میں شامل تھیں، جنھوں نے آرچ بشپ تھابو میک گوبا کی رہائش گاہ کی باڑ کے ساتھ انڈرویئر لٹکائے تھے۔

Read more

صرف 22 رہائشیوں پر مشتمل یونانی جزیرہ جس سے موسمیاتی سائنسدانوں کو پیار ہے

یونانی جزیرہ اینٹی کیتھیرا ایک ایسی جگہ واقع ہے جہاں تین سمندر آ کر ملتے ہیں۔ سو یہاں صحارا کی مٹی ہے، ماؤنٹ ایٹنا سے ابلنے والے پتھر اور کینیڈا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ کے بعد کی راکھ بھی موجود ہیں۔

Read more

بریٹن گاٹ ٹیلنٹ: برطانیہ کے ریئلٹی شو میں اپنی آواز کا جادو جگانے والی پاکستانی نژاد برطانوی گلوگارہ سیرین جہانگیر

چودہ برس کی نابینا پاکستانی نژاد برطانوی گلوگارہ سیرین جہانگیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلی پاکستانی برطانوی ہیں جنھوں نے بریٹن گاٹ ٹیلنٹ شو کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔

Read more

کھلونا جان کر تم تو۔ ۔ ۔ سطحی ملائیت سے پاک کالم

اب سے چار برس قبل میں سندھ کے ایک پسماندہ شہر میں برسر روزگار تھا۔ ایک دن خبر ملی کے میرے والد صاحب کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ خبر برق بن کر جسم سے گویا روح قبض کر گئی۔ میں جو کے ایک منچلا نوجوان تھا، اب اپنی دنیا کو بدلتا محسوس کر رہا تھا۔ کچھ موڑ زندگی میں قدرت کی طرف سے ایسے آتے ہیں جو انسان کو نا چاہتے ہوئے بھی تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس موڑ میں راستہ اچانک ناہموار ہو جاتا ہے، جگہ جگہ ٹائر پنکچر ہوتا ہے، دور دور تک کوئی چارہ گر دکھائی نہیں دیتا، البتہ زمانہ شناسی کے سائن بورڈز اور دانائی کے سپیڈ بریکر ضرور آتے ہیں۔

اب آپ وہ راستہ کیسے طے کرتے ہیں، اس میں اللہ کی مدد کا بہت عمل دخل ہے کیونکہ انسان تو زندگی کے بیشتر لمحات میں خود کو عقل کل ہی سمجھتا ہے۔ خیر اپنی لا اوبالی طبیعت کو خیر باد کہنا پڑا کیونکہ میرے والد نے میری بڑی بہن کی پیدائش پر جہاں بے پناہ خوشی منائی وہاں انہوں نے ہسپتال کی دریدہ کھڑکی سے طلوع صبح کا سورج دیکھتے ہوئے یہ آرزو کی کہ اللہ تو نے مجھے چاند عطا کر دیا ہے، اگر تو بہتر سمجھ تو سورج بھی عطا کر دے۔ اور اس بات میں دو رائے بھی نہیں کے بسا اوقات ہمارے معاشرے میں بیٹوں کا اصل کردار ماں باپ کی ادھیڑ عمری سے ہی شروع ہوتا ہے، اس کے علاوہ عمومی طور پر وہ گھر سے لاتعلق ہوتے ہیں۔

Read more

شارلٹ برونٹے = اے آر خاتون جین آئیر، شرلی، ویلیٹ=شمع، تصویر، افشاں صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لئے

شارلٹ برونٹے کے ناول بے شک جین آئیر ہو، شرلی یا ویلیٹ ہوں سب انگریزی ادب میں کلاسیک کاجو مقام حاصل کرچکے ہیں۔ اس سے انگریزی ادب پڑھنے والا کوئی فرد انکار نہیں کر سکتا۔ شارلٹ برونٹے اور ان کے فن پاروں پر تفصیلی بات کرنے سے قبل مجھے اپنے قارئین کے سامنے ایک سوال اٹھانا ہے کہ کیا ہمارے اردو ادب میں بھی کسی خاتون کے تحریر کردہ ایسے ناول ہیں جنہیں ہم بھی اردو ادب میں کوئی مقام دے سکیں۔ معذرت کے ساتھ قرۃ العین یا ان کا آگ کا دریا یا عصمت چغتائی اور ان کے ناول افسانے یا اور بڑے نام میرے سامنے نہیں۔

میرا مسئلہ جین آئیر جیسے ناول اس کے پلاٹ، اس کی تھیم اور اسے ملنے والی بے پایاں شہرت کے حوالے اور ساتھ ہی کم و بیش اسی نسبت سے تعلق رکھنے والے ناولوں اور ان سے جڑے اپنے لوگوں کے رویوں اور تعصبات سے ہے۔ جنہیں اپنی چیزوں میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی تاآنکہ باہر کی دنیا کا کوئی بندہ اس کا احساس نہ دلائے۔ نصرت فتح علی خان کی مثال وضاحت کے لئے کافی ہے۔

Read more

کیا ہم ذہنی معذور ہیں؟

قدرت کے کارخانے میں ناکارہ کچھ نہیں ہے۔ اس نے بے سبب یوں ہی نہیں کائنات میں ہر شے بنا دی۔ اس نے بڑی محبت سے ہر شے ہر زرہ خوبصورت بنایا ہے۔ ہر ایک کا اپنا کشش کا دائرہ ہے جو ایک مدار میں گردش کرتا ہے۔ حسن کا میرے نزدیک یہ معیار ہے جو آنکھوں کو بھلا لگے اور دل اس کی گواہی دے بس وہ خوبصورت ہے۔

مگر ہمارے ہاں حسن کا معیار ہی کچھ اور مانا جاتا ہے۔ بہترین برانڈ کے کپڑے پہنے برانڈ کی گھڑی پرفیوم اور میک اپ کے ڈھیروں لوازمات لو جی ہم ہو گئے حسین۔ یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے شرط یہ ہے آپ کے پاس ڈھیروں پیسہ ہو جو آپ کو پر کشش بنا دے۔

Read more

غریب ہندو لڑکی کا ریپ اور خودکشی: اس لئے بنا تھا پاکستان؟

جب وسط جولائی دو ہزار انیس میں، تین آدمی ایک سولہ سالہ ہندو لڑکی مومل میگھواڑ کے ساتھ جبری زیادتی کر رہے تھے، تب ان کو ادراک تھا کہ دلن جوتڑ گاؤں کی اس غریب ہندو لڑکی کی فریاد کسی کے ضمیر پر بھی بوجھ نہ بنے گی۔ تینوں اس دور اندیشی اور درست فہمی میں بجا تھے۔ اجتماعی جبر جنسی کا مقدمہ درج ہونے پر تینوں کو ہی ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور آج تک آزاد ہیں، جو کہ اس ملک کا وتیرہ بن چکا ہے۔ جبر جنسی کا یہ انوکھا واقعہ تھا نہ کسی ہندو لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا تشدد کا انوکھا حادثہ۔ یقین کیجئے یہ روز ہوتا ہے اور بے حساب و کتاب ہوتا ہے۔

Read more

مرحومہ کی یاد میں

سقراط کے استاد بقراط نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ وہ ایک صحرا میں دور نکلا تو اسے وہاں ایک پرانی بوسیدہ عمارت نظر آئی جو کہ پرانے وقتوں میں یہ کسی قوم کی عبادت گاہ ہوا کرتی تھی۔ اس نے کہا کہ اس کے دروازے کے اوپر دیوار پر قدیم زبان میں ایک جملہ لکھا ہوا تھا جس کا مطلب تھا ”ریسپیکٹ تھائی سیلف“ یعنی اپنے خود کی عزت خود کرو، اور اسی جملے سے وہ متاثر ہو کر آج فلسفے کی دنیا میں ایک بڑے فلسفی کے نام سے مشہور ہے۔

Read more

بھگت سنگھ کون ہے؟

پاکستانی، ہندوستانی، بنگالی نوجوانوں کے لئے انقلابی سوچ کی وہ کہانی جس کو انہیں ایک بار ضرور پڑھنا چاہیے۔ تاکہ وہ اپنے بچوں کو بتا سکیں کہ بھگت سنگھ کیسے پیدا ہو تا ہے اور وہ کون ہو تا ہے؟

بھگت سنگھ بننے کا پہلا قطرہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

19 سال کے کرتار سنگھ سرابھا نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں کہا اس کی پارٹی انگریز حکومت کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا چاہتی ہے کیونکہ یہ سرکار تشدد اور نا انصافی پر قائم ہے۔ اسے عدالت میں بیان بدلنے کا مشورہ دیا گیا اس نہ صرف انکار کیا بلکہ لندن میں پھانسی پانے والے مدن لال دھینگڑا کا بیان دہرایا؛

”جو ملک غیر ملکی سنگنیوں کی نوک سے دبا ہوا ہے، وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں ہو تا ہے“ ۔ اسے 16 نومبر 1915 کو پھانسی دے دی گئی۔

Read more

نیُو شُو: چین میں خواتین کے لیے مخصوص خفیہ زبان

چین کے صوبے ہنان کی دیہاتی عورتیں اپنے بہت ہی لطیف احساسات کے ایک دوسرے سے اظہار کے لیے صدیوں سے ایک خفیہ رسم الخط استعمال کرتی آئی ہیں اور یہ لکھائی جسے معدوم سمجھا جا رہا تھا، ایک مرتبہ پھر سے مقبول ہو رہی ہے۔

Read more

سلطان صلاح الدین ایوبی: شیعہ فاطمی خلیفہ کے وزیر سے صلیبی جنگوں کے ہیرو بننے تک

جانتھن فلپس لکھتے ہیں کہ تاریخ میں کوئی اور ایسی مثال تلاش کرنا ناممکن ہے جس میں ایک شخص نے کسی قوم اور مذہب کے ماننے والوں کو اتنی چوٹ پہنچائی ہو اور پھر بھی وہ ان میں مقبول ہو گیا ہو۔

Read more

تین ہزار سال پرانی اولیگارکی اور ہمارا طرز حکمرانی

پاکستان میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں میں کئی اختلاف سہی لیکن یہ اتفاق بڑھتا جا رہا ہے کہ جمہوریت ہی ملک کا شاندار پہناوا ہے۔ دل میں اقتدار کی قیامت خیز تڑپ لئے کچھ ایسی جماعتیں بھی ہیں جن کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کی جگہ اگر سلیکشن نہ ہوتی تو وہ اپنی حسرتوں پر آنسو بہاکر سوتی ہی رہتیں۔ تاہم سلیکٹروں کے احسان تلے دبی یہ جماعتیں بھی جمہوریت کے خلاف سرعام گناہ سے

Read more

شعر و ادب کے سرخیل: ڈاکٹر مختار شمیم

چمنستان سرونج کے جن پھولوں کی مہک سے جہان اردو مہک رہا ہے ان میں ایک معتبر نام ڈاکٹر مختا ر شمیم کا بھی ہے۔ ڈاکٹر مختار شمیم در س و تدریس کے پیشے سے ہمیشہ وابستہ رہے اور ہر چند کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے پرنسپل کے عہدے سے سبکدوش ہوچکے ہیں لیکن آج بھی میدان عمل میں نہ صرف یہ کہ سرگرم ہیں بلکہ نو واردان ادب کی رہنمائی بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے حمیدیہ کالج

Read more

امن کی تلاش میں

حال ہی میں کینیڈا کے ایک ٹی وی چینل اور یو ٹیوب پر آغاز کیا جانے والا، ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کا پرو گرام ”In Search of Peace“ دیکھا، بہت اچھا لگا۔ ۔ ۔ دل چاہا کہ چند سطور دل چسپی کے لئے اپنے قارئین کی نذر کروں۔ اس پرو گرام کا بنیادی خیال ڈاکٹر خالد سہیل کا ہے۔ اس قبل وہ اور ڈاکٹر بلند اقبال اسی ٹی وی چینل پر: In Search of Wisdom : کے نام سے

Read more

مکافات عمل

صدیقی صاحب آپ ہمیں خوش کرتے رہے ہم آپ کو خوش کرتے رہیں گے۔ عاصم صاحب نے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ عاصم صاحب کا شمار شہر کے معزز لوگوں میں ہوتا تھا اللہ نے انھیں دولت، اولاد دونوں کی نعمت سے نوازا تھا۔ دو جوان بیٹے ان کے مضبوط بازو تھے۔ ․ یہ حسن اور فریحہ کہاں ہیں؟ عاصم صاحب نے بیگم رونق سے کھانے کی میز پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ میاں صاحب دونوں کی نئی نئی شادی

Read more

بندہ مزدور کی سلگتی آنکھیں۔۔۔ اور سانجھ کا سپنا

سوا نیزے پہ سورج، چلچلاتی دھوپ، مانو آسمان سے آگ برس رہی ہو لیکن کاروبار حیات موسموں کا مرہون منت تو نہیں ہوا کرتا۔ اپنے پرسکون، نیم تاریک اور خنک آمیز گھر کے دروازے سے نکل کے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے لو کے تھپیڑے چہرے سے ٹکراتے ہیں۔ اونگھتا برگد اپنی نیم باز آنکھوں سے دیکھ کے مسکراتا ہے اور پھر سے اپنے گیان میں گم ہو جاتا ہے۔ پیاسے پرندے آنگن میں رکھے پانی کے برتن میں اپنی

Read more

بیجنگ میں نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدا لسلام سے ملاقات

سترہ ستمبر 1987 ء کا دن ہمارے لئے ایک یادگار دن تھا کیونکہ اس دن ہماری پاکستان کے نامور فرزند اور بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدان جناب عبدالسلام سے ملاقات ہوئی۔ وہ بیجنگ میں تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز کی دوسری جنرل کانفرنس کے موقع پر تشریف لائے تھے۔ کانفرنس کا آغاز چودہ ستمبر کو ہوا تھا اور اس وقت کے چینی وزیر اعظم چاؤزے یانگ سمیت دنیا بھر کے ممتاز سائنسدانوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ سترہ ستمبر کو جناب عبدالسلام کی جانب سے کانفرنس کے شرکا کے اعزاز میں ایک دعوت منعقد کی گئی جس میں انہوں نے پاکستانی برادری کو بھی مدعو کیا تھا، اسی دعوت میں ہمیں اس مشہور عالم ہستی سے گفتگو کا موقع ملا۔

Read more

بھیڑ بکریاں چرانے والا انقلابی

کہانی کچھ اس انداز سے شروع ہوئی کہ کچھ دن پہلے قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے ایم فل اسکالر محب شیراز نے اپنے تحقیقاتی مقالہ/ ریسرچ پیپر کو کتابی شکل دینے کے بعد مجھے بھی کتاب کی کاپی دی کتاب کا موضوع اتنا جاندار تھا کہ پڑھنے والوں کو اس موضوع کے متعلق اور بھی پڑھنے کی تلقین کرتا تھا۔

Read more

وبا کے دنوں کے بعد

وبا کے دنوں میں ملی فرصت میں کتابیں پڑھیے، پودے لگایے، فلمیں اور ڈرامے دیکھیے، فطرت کو محسوس کیجیے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ مشورے ہیں جو لاک ڈاؤن کے دوران وقت گزاری کے حوالے سے پڑھنے کو ملے۔ یعنی جس فرصت کو ترستے تھے وہ ملی تو اس سے لطف اندوز ہونا بھول گئے۔ ایک اور دلچسپ پہلو کے حوالے سے خبریں پڑھنے کو ملیں کہ مردوں کی اکثریت کی فراغت کی وجہ سے کنڈوم کی ڈیمانڈ بڑھ گئی۔ دنیا کی آبادی میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔ دوسری طرف میاں بیوی کے زیادہ وقت گھر میں گزارنے سے گھریلو تشدد اور طلاق کی شرح بڑھنے کی رپورٹس بھی سامنے آئیں۔

Read more

پاکستان ٹی ٹوئنٹی کپ: اپنے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنچری کرنے والے عبداللہ شفیق کون ہیں؟

عبداللہ شفیق بھارت کے شیوام بھمبری کے بعد دوسرے بیٹسمین ہیں جنہوں نے اپنے پہلے فرسٹ کلاس اور پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہی سنچری اسکور کی ہے۔

Read more

جوڑو مت بس کاٹ دو

آج کل کاٹنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کاٹ کی نوعیت معمولی، گہری اور مکمل طور پہ الگ کرنا ہے۔ موجودہ کاٹ ٹرینڈ، ایک خاص جنس اور رویے کے لیے ہے۔ جس میں میری طرح کے بہت سے لوگ کاٹنے کے حق میں ہیں۔ کچھ درد دل رکھنے والے اس کاٹ کے خلاف ہیں۔ وہ کہتے ہیں ایسی کاٹ سے چیلوں کوؤں کے وزن بڑھ جائیں گے۔ لیکن معاشرے پہ اس کاٹ کا اثر نہیں ہو گا۔ قوم پہلے ذہنی طور پہ کٹ کے مفلوج ہے، بس ایک اور عذر کا اضافہ ہو جائے گا۔

Read more

کیا آپ فرانسیسی فلسفی لوئی ایلتھوزر کی دانائی اور دیوانگی سے واقف ہیں؟

فرانسیسی فلسفی لوئی ایلتھوزر  نے اپنی سوانح عمری کے دیباچے میں ایک اعتراف کیا ہے، جس کی تلخیص اور ترجمہ حاضر ہے۔

دو تاریکیوں کے درمیان
میں ایک تاریکی سے ابھرا اور دوسری تاریکی میں ڈوب گیا۔ ان دو تاریکیوں کے درمیان جو چند لمحے تھے ان کی یادیں میرے دل کی دیواروں پر کندہ ہیں۔ میں وہ یادیں آج قلم بند کرنا چاہتا ہوں۔

وہ اتوار کا دن تھا اور نومبر کی سولہ تاریخ تھی۔ صبح کے نو بجے تھے۔ خواب گاہ کی کھڑکی سے دودھیا روشنی کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ کھڑکی پر جو پردے پڑے تھے، وہ وقت اور حالات کی زد پر آ کر بوسیدہ ہو گئے تھے۔

Read more

رنگ برنگی ڈوریں – دو باجوہ پریواروں کی کہانی

کہانی کب اور کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ یہ لکھنے والا بھی نہیں جانتا، ہاں اتنا طے ہے کہ بیتنے والی بہت سی باتیں، کہنے اور سننے والوں کی محتاج رہتی ہیں۔ منظر بدل جاتے ہیں، پس منظر بدل جاتے ہیں، نہیں بدلتے تو کہنے اور سننے والوں کے درمیان کہانی کے بندھن نہیں بدلتے۔

سو دو دیسوں اور کئی پردیسوں سے جڑی، اس ڈور کی کہانی، شاید 1885 میں شروع ہوتی ہے جب مغربی پنجاب میں دریائے بیاس، ستلج اور جہلم سے نکالی نو نہروں پر برطانوی راج نے کنال کالونیوں کے نام پر رہائش اور زراعت کے فروغ کے لئے آباد کاری کا منصوبہ بنایا۔ 1902 میں اس وقت کے ضلع شاہ پور میں دریائے جہلم کے پاس، جہلم کالونی کے نام سے الاٹمنٹ کی گئی۔

Read more

اپنی بیٹیوں سے خوف زدہ مرد

آپ کیمرے کے سامنے ایک خاتون کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں تو آپ کی بیٹی یہ پیغام لے سکتی ہے کہ مرد اور خاتون کا ہاتھ ملانا جائز ہے۔ وہ بھی کسی مرد سے ہاتھ ملا سکتی ہے یا ایسا سوچ سکتی ہے۔ آپ یہ پیغام اپنی بیٹی کو دینا ہی نہیں چاہتے۔ کیونکہ آپ کی اور آپ کے خاندان کی غیرت گھر کی عورتوں کے بدن سے جڑی ہوئی ہے۔ اور آپ ہر وقت اپنی بیٹی کو یہ

Read more

تقسیم ہند: بٹوارے کے دوران اپنے خاندان سے بچھڑنے والی لڑکی 73 برس بعد اپنے خاندان سے کیسے ملی؟

ضلع بہاولپور کے علاقے احمد پور میں گنجیانوالا کھو 4 چک سے داپھیا بائی کے ماں باپ نے جہیز دے کر جب ان کے شوہر ہیملہ رام کے ساتھ خیرپور ٹامیانوالہ کے لیے انھیں رخصت کیا تھا تو انھیں نہیں معلوم تھا کہ وہ آخری مرتبہ انھیں دیکھ رہے تھے۔

Read more

کسی قوم اور معاشرہ کو تباہ کرنے کے چند اصول

ساؤتھ افریقہ کی یونیورسٹی کے دروازے پر یہ فکر انگیز جملے درج ہیں :

”کسی قوم کو تباہ کرنے کے لیے ایٹم بم اور دور تک مار کرنے والے میزائلز کی ضرورت نہیں، بلکہ اس کا نظام تعلیم گرا دو اور طلباء و طالبات کو امتحانات میں نقل لگانے کی اجازت دے دو، وہ قوم خود تباہ ہو جائے گی۔ اس ناکارہ نظام تعلیم سے نکلنے والے ڈاکٹرز کے ہاتھوں مریض مرتے رہیں گے۔ انجینئرز کے ہاتھوں عمارات تباہ ہوجائیں گی۔ معیشت دانوں کے ہاتھوں دولت ضائع ہو جائے گی۔ مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں انسانیت تباہ ہو جائے گی۔ ججز کے ہاتھوں انصاف کا قتل ہو جائے گا۔ نظام تعلیم کی تباہی قوم کی تباہی ہوتی ہے۔“

Read more

بچوں کی کہانی :ارفع جادوگروں کی بستی میں

شہر سے تقریباً 01 کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خوبصورت و سر سبز علاقہ ”جادوگروں کی بستی“ کے نام سے مشہور تھا۔ یہاں سو، دو سو گھر تھے۔ کیونکہ سالوں پہلے یہاں بہت سارے سرکس میں تماشا دکھانے والے جادوگر رہتے تھے بس ان ہی کی وجہ سے اس جگہ کا نام ”جادوگروں کی بستی“ پڑ گیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد اس خوبصورت بستی میں ارفع اور اس کی فیملی منتقل ہونے والی تھی۔ ارفع یہ کیا کر رہی

Read more

منا کتنا بڑا بے وقوف ہے

سلیکٹر سمجھتے ہیں کہ وہ پس پردہ رہ کر حکومت کر رہے ہیں اور کارکردگی کی ذمہ داری صرف کپتان پر ہے۔ وہ جو مرضی مشکل فیصلے چاہے کپتان سے کروا لیں ساری ٹینشن کپتان کی ہے ان کا اپنا نام خراب نہیں ہو رہا۔ جبکہ عوام کپتان کو ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ دوسری طرف کپتان بظاہر ہونقوں کی طرح بیٹھا دہی کھا رہا ہے اور مزے سے حکومت کر رہا ہے۔

نواز شریف سمجھتے ہیں کہ کپتان اپنی خراب حکومت سے خوب گندا ہو رہا ہے اور اس کی حکومت کا ذمہ دار سلیکٹروں کو سمجھ کر عوام اتنے بیزار ہو رہے ہیں کہ اگلی مرتبہ میاں نواز شریف کی حکومت آئی تو وہ سلیکٹروں کو نظر انداز کر کے اپنی مرضی کر سکیں گے۔ اس لئے کپتان کے خلاف کچھ نہ کیا جائے اور چپ کر کے بیٹھ کر اسے اپنی مرضی سے حکومت کرنے دینا ہی بہترین پالیسی ہے۔ دوسری طرف کپتان سکون سے بیٹھ کر دہی کھا رہا ہے اور مزے سے حکومت کر رہا ہے۔

Read more

کل اور آج: ثقافت اور شعور کا سفر

شاید آج کچھ لوگوں کو خواب جیسا لگے مگر کوئی بہت پرانی بات نہیں۔ وقت کا سفر اک ہمیشگی اور تسلسل سے وابستہ ہے۔ بچپن اک مستانہ سا زمانہ تھا، ابھی بہت سی سہولتیں عام نہیں تھیں اور ترقی نے ہر اک در پر اخباروں اور اسکرینوں پر ائے اشتہارات کی بھرمار کے ذریعے یلغار نہیں کی تھی۔ خواہشیں اور معلومات بہت نہ تھیں۔ جاننے کا ذریعہ سننا تھا یا پڑھنا، دیکھنے کی محدود سہولت عفریت نہ بن پائی تھی۔

Read more

جشن احفاظ الرحمن

انتیس ستمبر کو کراچی کی سول سوسائٹی احفاظ الرحمن کی زندگی اور کارناموں کا جشن منا رہی ہے۔ بارہ اپریل 2020 ء کو پانچ سال تک کینسر سے لڑنے کے بعد جب اس نے آنکھیں موند لیں تو کرونا کی وبا کووڈ 19 کی وجہ سے کراچی میں سخت قسم کا لاک ڈاؤن چل رہا تھا۔ ایک طرف وائرس کا خوف، دوسری طرف پولیس کی سختی اس لئے صرف چند قریبی رشتہ دار اور دوست ہی جنازے میں شرکت کر

Read more

50 برس بعد دنیا کیسی ہو گی: ’دنیا میں اب جھگڑے نہیں ہوتے کیونکہ اقوامِ متحدہ اب بالکل ختم ہو چکا ہے‘

بی بی سی اردو نے پچاس سال پہلے ایک مضمون نویسی کا ایک مقابلہ کروایا تھا جس میں پوچھا گیا تھا کہ ان کے خیال میں پچاس سال بعد دنیا کیسی ہو گی۔ ذار دیکھیئے ہمارے سامعین نے کیا جواب دیے۔

Read more

اسرائیل، پاکستان تعلقات: کراچی سے ہجرت کر کے تل ابیب آباد ہونے والے عمانوئیل متات کی پاکستانی کرکٹرز سے محبت کی داستان

سنہ 1987 میں عمانوئیل متات 25 برس کے تھے جب ان کے خاندان نے کراچی سے ہجرت کی اور وہ اسرائیل میں آباد ہوئے۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ پاکستانی کرکٹرز کے دیوانے ہیں اور کرکٹ کی یادیں ان کے لیے سرمایہ حیات ہیں۔

Read more

محبت بدنام ہے یا اس سے جڑی ہوس

محبت؟ دور حاضر کا اک بدنام لفظ جانا جاتا ہے میں اکثر سوچتی ہوں کہ محبت بدنام ہے یا اس سے جڑی وہ ہوس بدنام ہے جسے لوگ محبت کا نام دے کر ڈراما رچاتے ہیں اور لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ کیا واقعی لوگ محبت کے اصل معنی سے آشنا ہیں؟ نہیں مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے آج کل کے لوگ محبت کے اصل معنی سے آشنا نہیں ہیں بلکہ لوگوں نے دل لگی وقتی جذبے اور

Read more

ہمارے محمد علی جناح: لنکنز ان سے ماڑی پور تک

سولہ سال کا لڑکا تھا، جو اپنی ماں کی آرزو مکمل کرنے کی خاطر پنیلی گاؤں کی ایک چودہ سالہ لڑکی سے بیاہ کر رہا تھا۔ اس کو تو والد کے دوست فریڈرک لی کرافٹ کی منشاء کے مطابق اب انگلستان جا کر پڑھنا لکھنا تھا۔ گاؤں بھر میں جشن ہوا کہ پونجا صاحب گھر کی پہلی شادی ہے وہ بھی ان کے سب سے بڑے بیٹے محمد علی کی۔ محمد علی نے سنہ اٹھارہ سو پچانوے میں لنکنز ان

Read more

ایسا پہلی بار ہوا ہے۔۔۔

پہلی بار یہ بھی ہو رہا ہے کہ دفاع کے لیے لائی جانے والی حکومت مدافعت کے لیے دفاعی ادارے کو استعمال کر رہی ہے اور ادارہ اپنے دفاع میں مدافعانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

وارث میر اور روشن خیالی

مضامین کے اس سلسلے کے پہلے حصوں میں ہم نے عبدالسلام خورشید اور مسکین حجازی کے سرکاری صحافت کے مطالعہ پاکستانی مکتب فکر سے لے کر سرکاری بیانیوں کو للکارنے والے ضمیر نیازی اور ڈاکٹر مہدی حسن کی کتابوں اور مضامین کا ذکر کیا۔ اس مضمون میں ہم پاکستانی صحافت کے ایک اور بڑے نام پروفیسر وارث میر کا ذکر کریں گے جن کی تحریروں کو پڑھنا آج کے پاکستانی صحافیوں کے لیے ضروری ہے تاکہ ان کے ذہن روشن

Read more

انوشکا شرما اور سنیل گاوسکر کی کرکٹ کمنٹری کے معاملے پر گرما گرمی اور فیمینزم کے متعلق کچھ سوالات

تین دن پہلے ٹوئٹر پر ‘بائیکاٹ گواسکر’ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا تھا اور جب میں کل صبح اٹھی تو ایک نیا ہیش ٹیگ ‘بائیکاٹ فیمینزم’ نظر آیا ہے۔ تاہم یہ ہیش ٹیگ اتنا مقبول نہیں تھا کہ ٹرینڈ کرنے لگتا۔ آخر یہ سب کیا ماجرہ ہے؟

Read more

گجرانوالہ کے بٹ

کچھ لوگ کھانا کھانے کے لئے زندہ رہتے ہیں، اور کچھ لوگ صرف اتنا سا کھاتے ہیں، جس سے زندہ رہیں۔ پر گوجرانوالہ کے بٹ صاحبان کا معاملہ الگ ہے۔ یہ کھانا کھانے اور کھلانے کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ ان بٹ صاحبان کو نام اتنے پسند ہیں کہ ان کا چہرہ بھی اب نان کی طرح سفید نظر آتا ہے، اور کچھ کا لال نان کی طرح۔ ایسے ہی ایک بٹ صاحب جن کا پیٹ ان کے جسم سے

Read more

میری مادر علمی: سراج الہدیٰ

یہ 1999ء اکتوبر کی بات ہے جب مجھے اس عظیم دانش گاہ کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہونے جا رہا تھا۔ پانچویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد مجھے والدین کی خواہش کے مطابق دنیا کی سب سے عظیم کتاب ”قرآن مجید“ کو حفظ کرنے کے لیے داخل کروا دیا گیا۔ میں اگرچہ اس وقت اس درس گاہ کی قدرومنذلت سے چنداں واقف نہ تھا مگر بطور طالب علم اس ادارے سے وابستگی نے مجھے جہاں اس ادارے کی

Read more

سفر کی جہتیں: اک الگ سی کہانی

آسمان پر جیسے روشنی کے بہت سے در کھلے ہوں اور چمک گویا راستہ دکھا کر بلا رہی ہو۔ کتنا صاف اور شفاف تھا آسمان۔ کہیں سنہری اور کہیں روپہلی سی لگنے والی نرم ریت پر نیم دراز ہم اس عجیب سے آسمان کو دیکھتے تھے اور محو تھے شاید گہرے سے خیالوں میں، اور شاید لاکھوں سالوں سے بھی پرانی یاداشتوں کے کچھ ذرے ہمارے ذہن میں جگمگاتے تھے اور پھر کہیں غائب سے ہو جاتے تھے۔ ستارے کہ

Read more

ایک تھے مصطفیٰ زیدی

مصطفیٰ زیدی کے حوالے سے کچھ لکھنا آسان بھی ہے اور دشوار بھی۔ آسانی کی بات کریں تو ان کی جمال پرستی، رومانوی زندگی اور شاعری پر اظہار خیال کرکے کہانی مکمل کی جا سکتی ہے اور اگر دشواری کو دیکھیں تو ان کی شخصیت کی جذباتی پیچیدگیوں، نفسیاتی الجھنوں اور ان کی زندگی کے حالات و واقعات کا منظر نامہ سامنے رکھ کر کچھ لکھنا پڑتا ہے جو ایک مشکل کام ہے۔ ان پر کافی لوگوں نے لکھا، ان

Read more

کنواری ماں، اندھا قانون اور مسیحا کا جرم

چودہ برس کا سن، پیلی پھٹک رنگت، چہرے پہ بے بسی، آنکھ میں رنج و الم، لیبر وارڈ کے ایک بستر پہ ایسی دکھتی تھی جیسے مقتل میں ننھی سی گڑیا بھولے بھٹکے آ گئی ہو۔ اس چڑیا سی بچی کے لئے یہ مقتل گاہ ہی تو تھی جہاں وہ پچھلی رات ہی چودہ برس کے سن میں ماں بنی تھی۔ ریپ اور پولیس کے متعلق بات چلی تو بھولی بسری یادوں میں سے بے اختیار وہ بچی جھانک کے

Read more

میرا باپ کم نا تھا میری ماں سے

والد۔ ۔ ۔ اس لفظ کو لکھتے اور پڑھتے ہوئے ذہن کے دریچوں میں اک بھنور سا آ جاتا ہے یادوں کا اک بھنور۔ اس لفظ کو محض اک دو جملوں میں بیان کرنا مشکل ہی نہیں نا مکمن ہے۔ میرے نزدیک اس لفط کی قدروقیمت شاید باقیوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیوں کے میرے والد محترم حیات نہیں۔ میں نے بے شمار تحریں ماں کی عضمت پر پڑھیں جو کہ بلا شبہ درست ہیں تو سوچا اک تحریر باپ

Read more

سندھو تہذیب اور اس کے قدیم باشندے

اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وادی کشمیر کے باشندوں کی اکثریت وہ ”پشاچ“ لوگ تھے جو سندھو ویلی یعنی موئنجو ڈڑو اور ہڑپہ تہذیب کے دور میں آرینز کی آمد اور غلبے کے بعد ہجرت کر کے کشمیر میں جا بسے تھے۔ وانی یا وائیں بھی ان ہی میں شامل تھے اور اس ہجرت کی بہت سی علامات زبان، تہذیب اور ثقافت میں آج بھی موجود ہیں۔ بحوالہ، مشہور ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر احمد حسن دانی، سید سبط

Read more

پروفیسر بختیار حسین صدیقی: چند یادیں

میں جب 1967 میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ایف اے سال اول کے طالب علم کے طور داخل ہوا تو میرا ایک مضمون تھا فلسفہ ۔ شعبہ فلسفہ ان دنوں مین بلڈنگ سے باہر پنجاب یونیورسٹی سے متصل بلاک میں تھا جہاں اب نفسیات کا شعبہ تھا۔ ان دنوں نچلی منزل شعبہ فلسفہ کے پاس اور اوپر والی منزل شعبہ نفسیات کے پاس تھی۔ فلسفہ میں پانچ اساتذہ تھے، جن میں صرف ایک صاحب باریش تھے، شیروانی شلوار پہنتے تھے

Read more

ول یو بی مائے گرل فرینڈ؟

سوشل میڈیا میں آج کل کیا ہو رہا ہے یہ کسی سے چھپا نہیں۔ ایک لڑکا اگر لڑکی سے دوستی کرنا چاہے تو باتوں کا سلسلہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے : پہلے دن لڑکا: ہائے کیسی ہیں آپ؟ لڑکی: میں ٹھیک آپ کون؟ لڑکا: میں ٹیپو، آپ کی dp بہت اچھی ہے۔ ۔ ۔ لڑکی: سچی! شکریہ لڑکا: مجھ سے دوستی کریں گی؟ لڑکی: اوکے کچھ دن بعد لڑکا: آپ مجھے بہت اچھی لگنے لگی ہیں لڑکی: مطلب؟ لڑکا:

Read more

فن خطاطی کی نمائش

تاریخ کے زرد اوراق بتاتے ہیں کہ تجسس کی راہوں پہ رینگتی تہذیب کو پہلی کامیابی تب ملی جب انسانی آنکھوں میں سماتے قدرتی نظارے پتھروں کی سلوں پہ اترنا شروع ہوئے۔ بھونڈی و بے تکی تصویریں ہاتھوں کی مہارتوں سے ٹپکتے رنگوں سے رنگین ہونے لگیں تو ترقی کی راہیں کھوجتی تہذیب خوش نمائی کے مقام ارفع تک پہنچتی تصویری دور کے نام سے موسوم ہونے لگی۔ انسانی سمجھ بوجھ میں رچتی بستی تصویروں نے جب خاکوں کی شکل

Read more

سیاحت کا عالمی دن اور کورونا

دنیا بھر میں سیاحت کا عالمی دن 27 ستمبر کو منا یا جاتا ہے، سیاحت کا یہ عالمی دن ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن کی ایگزیکٹیو کونسل کی سفارشات پر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد کے مطابق 1970 ء سے منایا جا رہا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ سیاحت بین الا قومی برادری کے لیے ناگزیر ہے اور سیاحت سماجی، ثقافتی اور اقتصادی حالات پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ ورلڈ اکنامک

Read more

پشاور میں دلیپ کمار اور راج کپور کے گھروں کو محکمۂ آثارِ قدیمہ کو دینے کا فیصلہ

ڈپٹی کمشنر پشاور کے مطابق ڈائریکٹر آف آرکیالوجی اور میوزیم صوبہ خیبر پختونخواہ کے خط ملنے کے بعد دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی کو حاصل کرنے کے لیے ضروری کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

Read more

تنویرؔ نقوی/ شہبازؔ نقوی اور طفیل ہوشیارپوری / عرفان باری: خوشبو کا سفر جاری ہے

پچھلے دنوں میرا کراچی آنا ہوا۔ یہاں کافی لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں مدیر نگار ویکلی اسلم الیاس رشیدی صاحب اور دیگر احباب شامل ہیں۔ یہاں سے میرا پروگرام لاہور جانے کا تھا اور یہ ٹھان رکھا تھا کہ اس دفعہ لاہور فلم انڈسٹری کی تاریخ پر مزید تحقیق کی جائے۔ اتفاق سے میں جوہر ٹاؤن میں ایک دوست کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ وہاں ہماری فلمی صنعت کے نامور شاعر حضرت تنویرؔ نقوی مرحوم کے صاحبزادے شہباز تنویر

Read more

رات بھر جاگنا اور آہیں بھرنا: یہ کیسا پیار ہے؟

وہ جسے تم سکون کہتے ہو اس میں بھی سکون نا ملا تو؟ آج کل میں سوشل میڈیا کو زیادہ وقت دے رہی ہوں یا شاید لوگوں کے رویوں کو زیادہ نوٹ کر رہی ہوں۔ کچھ لوگوں کو دیکھتی ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ لوگ کس طرح پوری پوری رات جاگ کر گزارتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا مسئلہ یہ عشق محبت ہی ہے جس نے ان کی زندگیوں کو بے سکون کیا ہوا ہے۔ کبھی تو مجھے واقعی

Read more

اپنا اپنا قید خانہ اور چھوٹے بڑے پنجرے

کراچی کی جیل چورنگی سے گزرنے والے کم ہی لوگ جیل کی بڑی بڑی دیواروں پر غور کرتے ہیں۔ وہاں سے گزرنے والوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ ان دیواروں کے اندر کیسے لوگ رہتے ہیں، ان کی زندگی کیا ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ قیدی نام نہاد اچھی بیرکوں اور کھولیوں میں جانے کے لئے رشوت دیتے ہیں اور اس کے خواب دیکھتے ہیں۔ لوگ مہینوں تک کوشش کرکے اور اپنا سارا زار لگا کر اپنی

Read more

بشری ببوشکا سیکس ورکر کیسے بنی؟

میرا نام بشری تھا۔ اپنا یہ نام مجھے کبھی کبھی ہی یاد آتا ہے۔ کیونکہ میرے کئی نام رکھے اور بدلے گئے۔ یہ بشری نام بھی عجیب ہے۔ جب اوپر تلے کئی لڑکیاں پیدا ہو جائیں تو ایک کا نام بشری رکھ دیا جاتا ہے کہ یہ آنے والے بیٹے کی بشارت لائے گی۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ بڑی بہنوں مہ ناز اور مہ جبیں کے بعد میرا نام بالکل الگ سا لگتا۔ لیکن یہ ٹوٹکا بھی کام نہ

Read more

میاں صاحب کے لیے تالیاں

میاں صاحب کی تقریر اچھی ہو گی، شاید کسی کو اس پر یقین بھی ہو لیکن معاش کی چکی میں پستے ہوئےعوام کو یہ چمکیلے نعرے، سماجی انصاف، غیر مرئی قوتوں سے جنگ کے نادیدہ خواب اور کوہ ندا کی کہانیاں سمجھ نہیں آتیں۔ آمنہ مفتی کا کالم۔

Read more

ابنارمل رویے

نارملائزیشن کا تعلق بنیادی طور پر عمرانیات سے ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی رو سے بہت سے خیالات اور افعال سماج میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور کچھ عرصہ بعد یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ رائج الوقت نظام زندگی میں قدرتی طور پر موجود رہے ہیں۔ نارملائز ہونے یا کرنے کا عمل بظاہر سادہ سا ہے مگر اس کے کئی ایک محرکات ہیں جو بتدریج اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ حیرت کا مقام

Read more

حرمین کے پھولوں سے حضرت بل کی اذان تک

عصر کی اذان ہو رہی تھی اور عارفہ نے عدیل کو رخصت کرتے ہوئے اس کے ہاتھوں میں حرمین سے لایا ہوا گلدستہ تھما دیا۔ عارفہ کو علم تھا کہ عدیل اس کا ہاتھ مانگنے کی ہمت کرنے سے قاصر ہے۔ عدیل کو حسرت تھی کہ عارفہ پھولوں سے پہلے اس دامن کی بھیک دیدے جو عدیل نے بیتے ہوئے تین برسوں میں اپنے آنسوؤں سے خوب بھگویا تھا۔ عدیل عارفہ کی اس اوڑھنی کا متمنی بھی تھا جس سے

Read more

کاون کی نئے گھر کے لیے تربیت جاری: کچھ گانے، کچھ چہل قدمی اور ڈھیر سارا پانی

کاون کو منتقلی سے پہلے اس طویل سفر کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں مصر کے ماہرِ حیوانات ڈاکٹر عامر خلیل۔ فرینک سیناٹرا کے گانوں سے جھوم اٹھنے والے کاون کی پلے لسٹ میں اب اریب اظہر کی آواز کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

Read more

قابل اعتراض رشتے میں مت باندھو کہ میرا جسم اور روح دونوں تھک جائیں

ساون کا موسم ہے دن بھر خوب گرمی کے بعد ابر کرم کھل کر برسا۔ اب میں چائے اور موسم کے مزے لینے اپنی چھت کے اک کونے میں آ بیٹھی ہوں۔ اک سہانی شام ہو ہاتھ میں چائے ہو اور یادیں یلغار نہ کریں، ایسا کم ہی ممکن ہے۔ میرا دھیان بھی کچھ عرصہ پہلے شاپنگ مال کے اک منظر میں اٹکا ہوا ہے۔ میں خوشی خوشی لاک ڈاؤن کے بعد پہلی دفعہ شاپنگ کرنے گئی تھی، اک تو

Read more

الاسکا میں پہلا پڑاؤ – مچھلی پلانٹ، ریچھ اور سیاح

تفریحی بحری جہاز اپنے مسافروں کے مکمل آرام کا خیال اور اعلی میزبانی کرتے علی الصبح رفتار آہستہ کر رہا تھا۔ سپیکر سے آئسی سٹریٹس ( ہونا ) الاسکا میں چند گھنٹے کے پڑاؤ کا اعلان کرتے مسافروں سے اپنے پاسپورٹ ساتھ لینے، چند گھنٹے کے قیام، یہاں دیکھنے یا تفریح کے مقامات اور سہولتوں کے متعلق بتاتے یہ بھی بتایا گیا کہ چونکہ اتنے بڑے بحری جہاز کے لنگر انداز ہونے کی سہولت اس چھوٹی بندرگاہ پر نہیں لہذا نیچے کی منزل سے موٹر بوٹس پر مسافروں کو ساحل تک پہنچایا جائے گا۔ اور اس کے لئے ہدایات جاری کر دی گئیں۔

لمبے پل سے گزرتے ساحل پہ پہنچ چکے تھے۔ بچوں نے دنیا کی سب سے بڑی اور تیز رفتار زیپلن کی سواری کا ٹکٹ لیا اور بس ان کو تیرہ سو فٹ اونچی پہاڑی چوٹی پر لے گئی جہاں سے ( چھ متوازی ) تاروں کے ساتھ لٹکتے سیاح سو کلو میٹر کی رفتار سے چند منٹ میں نیچے پہنچتے ہیں۔ ہم تو بمشکل چل سکنے والے ان لذتوں کو صرف دیکھنے والے تھے۔ ہم نے وہیں گھومتے رہنے کا پروگرام بنایا۔ اچانک نظر پڑی کہ ساحل کے بالکل ساتھ نیچے سے ڈبے سے اوپر جا رہے ہیں۔

Read more

ہم ابھی تک انسانیت بھی تلاش نہ کرسکے!

بھلائی اور برائی برابر نہیں اگر کوئی برائی کرے تو اس کا جواب اچھائی سے دو پھر تو تیرے اور جس کے درمیان دشمنی ہے وہ ایسا ہو جائے گا گویا دوست ہے ناتے والا اور یہ بات ملتی ہے انھیں کو جنھیں صبر ہے اور یہ بات ملتی ہے اس کو جس کی بڑی قیمت ہے۔ (ترجمہ) ۔ عدم برداشت سے مراد وہ منفی رویہ ہے کہ جب کسی کی رائے سوچ رویے نقطہ نظر سے آپ کو اختلاف

Read more

دیو آنند: بالی وڈ لیجنڈ جو اپنی محبت کی کہانی کی طرح اپنی سیاسی جماعت کو کسی انجام تک نہ پہنچا سکے

یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ دیو آنند نے نہ صرف عملی سیاست میں حصہ لیا بلکہ وہ واحد بالی وڈ سٹار تھے جنھوں نے ایک قومی سطح کی سیاسی پارٹی تشکیل دی، جس کا نام تھا ’نیشنل پارٹی آف انڈیا‘ تھا۔

Read more

راجند ر سنگھ بیدی کے آخری ماہ وسال

راجندر سنگھ بیدی اردو ادب کا ایک بے مثال نام جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسا حقیقت پسند افسانہ نگار ہے جس کے ہاں قوت مشاہدہ اور قوت متخیلہ دونوں جواہر اپنی بھرپور توانائی اور شدت سے موجود ہیں۔ انسانی ذات کی جتنی پرتیں اور تہیں ہیں، اس کی شخصیت میں نفسیاتی مسائل کی جو کجیاں اور گرہیں ہیں۔ وہ بیدی کی ایکس رے مشین میں فٹ آنکھ کی طرح اس کے اندر اتر کر

Read more

شاداب زمینوں پر کھلے پھول

رات ڈھل رہی تھی اور کمرے کے اندھیرے میں بیگم اختر کی پرسوز آواز ڈوب اور ابھر رہی تھی۔
اے محبت تیرے انجام پے رونا آیا۔

شکیل بدایونی کی غزل کے بولوں کے ہم آہنگ ہارمونیم کی سنگت اور طبلے کی مدہم تھاپ نے ایک عجیب سماں باندھ رکھا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے ڈھلتی رات میں ساری کائنات چپ چاپ سن رہی تھی۔ وہ غزل کے سحر میں گرفتار دنیا و مافیہا سے بے خبر بہت دور پہنچا ہوا تھا۔ زندگی کی دوڑ میں گم انسان شاید ایسے ہی پرفسوں لمحات میں اپنے دل کے نہاں خانوں میں پوشیدہ محبتوں کی پوٹلی نکال بیٹھتا ہے۔ گزرے لمحوں کی وہ حسین یادیں اس کے ہونٹوں پر

Read more

جب سوویت یونین میں ایک کتاب گرفتار ہوئی

کتابوں کے اٹھائے جانے اور غائب ہونے کا موسم ہے (ویسے آج کل یہ اصطلاحات انسانوں کیلے زیادہ استعمال ہو رہی ہیں ) تو سوچا کیوں نہ اس کتاب کا ذکر کریں جو باقاعدہ اندیشہ نقص امن میں گرفتار کی گئی اور پھر کوئی دو دہائی اوپر پابند سلاسل بھی رہی۔ سال ہے انیس سو اکسٹھ کا اور ذکر ہے آئرن کرٹن کے اس پار سویت یونین کا، جب خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ہرکاروں نے ایک ادیب کے اپارٹمنٹ پہ چھاپہ مار کر اس کے ناول کے مسودے، نوٹس بک اور ٹائپ رائٹر پر قبضہ کر لیا۔

واسلی گروسمین ایک جنگی نامہ نگار تھا جو دوسری جنگ عظیم کے دوران سٹالن گراڈ اور ماسکو کے محاذوں پہ رپورٹنگ کر چکا تھا، اس سے پہلے کمیونسٹ پارٹی سے وابستگی کے دنوں خصوصاً 1930 کے عشرے کی بدنام زمانہ گریٹ پرج کے دوران بیوی اور قریبی دوست کی گرفتاری اور غائب کر دیے جانے نے اسے اسٹالن کی استبدادی ریاست کے قریبی مشاہدے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ یہ سارے تجربات اس کے شاہکار ناول لائف اینڈ فیٹ (life and fate) میں شامل ہو گئے۔

Read more

حقوق جواں

پاکستان کے ماتھے کا مثل جھومر گلگت بلتستان کو رب ذوالجلال نے جہاں دیگر بیش بہا قدرتی نعمتوں سے نوازا ہے وہاں ان سب میں عظیم اور قابل قدر نعمت اس علاقے کے پر امن و محب وطن جدوجہد کرنے والے باصلاحیت نوجوان ہے۔ اس خطے کے عوام کو یہ افتخار حاصل ہے کہ رب ذوالجلال کی مدد سے یہ علاقہ ڈوگرہ راج سے آزاد کرا یا اور وطن عزیر پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا۔ خطہ

Read more

پیاسوں کو ٹھنڈا پانی پلانے والے پر کیا بیتی

جوڑیا بازار میں دریا لال اسٹریٹ کے بعد بھگوان داس بلڈنگ میں نظامانی صاحب رہتے تھے۔ بہت دوستی تھی ہماری نظامانی صاحب کے خاندان سے۔ وہ سانگھڑ کے رہنے والے تھے اور نہ جانے کب سے کراچی میں رہ رہے تھے۔ جب سانگھڑ سے ان کا خاندان کراچی آیا تو شروع میں آ کر کھارادر میں رہنے لگا تھا۔ میمن مسجد کے پیچھے بمبئی بازار کے بعد کھارادر کی پرانی بلڈنگوں میں سے ایک بلڈنگ میں نظامانی لوگوں کے بھی گھر تھے۔ انہیں میں انہوں نے زندگی شروع کی تھی۔

کسی کو کچھ پتا نہیں تھا کہ انہوں نے سانگھڑ کیوں چھوڑا۔ خاندان کے لوگ ابھی بھی سانگھڑ میں رہتے تھے۔ ہمارے ابا جی نے بھی ایک دن پوچھا تھا مگر نظامانی چاچا بات ٹال گئے تھے۔ کوئی بات تھی ایسی کہ وہ سانگھڑ کی بات کرنا نہیں چاہتے تھے۔ شاید زمینوں کا کوئی مسئلہ ہو گا۔ شاید باپ کے مرنے کے بعد دولت کے بٹوارے کے مسئلے پر بھائیوں سے کوئی رنجش ہو گئی ہوگی یا پھر کسی عورت کا چکر ہو گا۔ موہنجو داڑو کے زمانے سے آج تک زن زر زمین کے چکر نے انسانوں کو چکر میں رکھا ہے۔ یہ میرے ابا جی کا خیال تھا مگر وہ نظامانی صاحب سے پوچھ نہیں سکتے تھے۔ ان کے بڑے احسانات تھے ہمارے خاندان پر۔ ابا جی نے مرتے وقت بھی یہی کہا تھا بیٹے نظامانی صاحب خیال رکھنا، بڑے برے وقت پر کام آئے تھے ہمارے۔

Read more

حمایت علی شاعر: سماجی شعور اور عوام دوستی

نوٹ: یہ مقالہ 20 ستمبر 2020 کوکاروان فکر و فن شمالی امریکہ کے زیر اہتمام زوم انٹرنیٹ پر منعقد ہونے والے ایک بین الاقومی سیمینار۔۔۔ یاد رفتگاں۔۔۔ بنام حمایت علی شاعر۔۔۔ میں پڑھا گیا۔ ٭٭٭            ٭٭٭ ہم سب جانتے ہیں کہ ہر شاعر دانشور نہیں ہوتا اور ہر دانشور شاعر نہیں ہوتا لیکن حمایت علی ان معدودے لکھاریوں میں سے ایک تھے جو شاعر بھی تھے اور دانشور بھی۔ حمایت علی شاعر کو مقبولیت اور

Read more

ماموں کی قومی خدمات

تئیس مارچ انیس سو چالیس کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی پچیس اپریل کو غیر منقسم خطے کے بلند شہر میں ہمارے ماموں کی پیدائش ہوئی۔ خطے کے ہر بچے کے طرح ماموں کلمہ اور اشلوک ساتھ پڑھتے ہوئے پیدا ہوئے، دائی نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک مسلمان گھرانے میں قدم رنجہ فرمایا ہے تو ماموں نے کلمہ پڑھتے ہوئے سجدہ شکر ادا کیا اور اپنی والدہ کی خدمت میں سلام پیش کیا۔

نانی اتنا سعادت مند بیٹا پا کر خوشی سے نہال ہو گئیں اور دائی کو سونے کی آدھا درجن چوڑیاں عطا کیں، نانا گورے کی فوج میں ملازم تھے، انہوں نے خوشی میں انگریزی بندوق سے گولیاں داغیں، جن کی آواز سے بلند شہر گونج اٹھا۔ نانا نے ماموں کو بلند بخت کا اسم گرامی عطا کیا جو ماموں نے کورنش بجا کر قبول کیا۔

Read more

پختون، پشتون، پشتین اور گٹکا

امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر کی تحریک کے آغاز کے بعد سے ہی سماجی روابط کے ذرائع اور ٹی وی پر فنکاروں، سماجی کارکنان، محققین، دانشور اور مشہور و معروف کاروباری کمپنیوں نے ایسا مواد تخلیق کرنے کا عمل شروع کیا جس سے امریکہ میں پائے جانے والے منظم تشدد اور تعصب کی سرکوبی میں عوام کو آگہی دی جاسکے۔ منظم تشدد اور تعصب بالخصوص سیاہ فام نسل کے خلاف تو پایا جاتا ہی ہے مگر چین سے اٹھنے والے کرونا وائرس نے مشرقی بعید کے ایشیائی امریکیوں کے لئے بھی نسلی تعصب کی فضا قائم کر دی۔

باقی لاطینی امریکیوں، مقامی امریکیوں، ایل جی بی ٹی اور مسلمانوں کے خلاف حد بندیاں تو اپنی مثال آپ ہی تھیں۔ مگر بلیک لائیوز میٹر تحریک نے ذرائع ابلاغ میں سب نسلوں، عقائد اور رنگوں کو یک جگہ کچھ ایسے اکٹھا کیا ہے کہ تعصب اور تفریق پر دلیرانہ سوالات ہو رہے ہیں جن میں امریکہ کے سفید فام لبرل، خواتین اور نوجوانوں کی بھی بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ اب ایک اشتہار پر نظر ڈالتے ہیں کہ معاشرے اور ریاست میں پائے جانے والے رویہ ختم کرنے کے لئے وہ کیسا مواد مرتب کر رہے ہیں اور تخلیقی مواد تخلیق کرنے والوں کی سوچ اور دانش کا زاویہ کیا ہے۔

Read more

خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات یا انسانیت کا سفر معکوس

میں یہاں برطانیہ میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزار چکی ہوں مگر اتنا عرصہ یہاں گزارنے کے باوجود ہمارا دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے، پاکستان کے بارے میں کوئی اچھی خبر آ جائے تو دل خوش ہوجاتا ہے۔ بری خبر پر دل اداس۔ قومی نغمے سن کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں تو جنگی نغموں پر جوش۔ ہر وقت پاکستان کی بھلائی اور خوشحالی کے لئے دعاگو رہتے ہیں۔ برطانوی معاشرے کی جہاں اپنی خوبیاں

Read more