"جنت کی تلاش” سے حقیقت کی تلاش تک

جب کوئی شخص اپنی ساری عمر نگینے جیسی ناک، بچوں جیسی حیران آنکھیں، شانوں پر پریشان خوب صورت سیاہ بال، مرمریں گردن، عمودی لائنوں والے انگوری ہونٹ اور سرخ و سفید قیمتی لباس میں لپٹی ہوئی حسین اور موت سے نہ ڈرنے والی جوان عورت کی تلاش میں مانسہرہ، دریائے سرن، آزاد کشمیر، ہنہ جھیل، زیارت، بالاکوٹ، کاغان، ناران، جھیل سیف الملوک، گلگت، دیوسائی، اور نلتر کے جھمیلے جھمیلے سبزہ زاروں، اونچے اونچے پہاڑوں، یخ بستہ ہواؤں، اور مسحورکن پانیوں

Read more

بے ‏خواب آنکھیں

”اس نے کہا تھا۔ میں دیکھ سکتا ہوں اس لیے میں ہوں“ بوڑھے داستان گو نے اپنی گھنے بالوں والی سموری ٹوپی کو اپنے چہرے پر کھین‍چا اور ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کسی پرانے فلسفی کا قول دہرایا۔ ” مگر سوال یہ ہے کہ جو آپ نہیں دیکھ سکتے کیا وہ واقعی ناموجود ہے؟ کیا دیکھنے والے سب کچھ دیکھتے ہیں؟ کیا حاضر و موجود سے آگے بھی کچھ ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر یہ پیغمبر پہاڑ کے

Read more

آلنا

شام کے سائے گہرے ہوئے تو خنکی بڑھ گئی اور چہل پہل میں کمی ہو گئی۔ قدیم شہر کی تنگ و تاریک گلی کی نکڑ پر بوسیدہ حال مکان کی چھت سے بارش کا پانی ٹپ ٹپ برس رہا تھا۔ گلی کے بائیں جانب پتلی سی نالی غلاظت سے بھری پڑی تھی۔ اکہرے بدن کا پچاس سالہ شخص گندگی سے بچتا بچاتا، چھپ چھپ کرتا ہوا سبزی فروش کی ریڑھی کو تقریباً گراتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ سبزی فروش، ریڑھی

Read more

حسینی تحریک ایک مقدس حمادسہ از نگاہ ادبیات

حماسہ کے معنی شدت اور سختی کے ہیں۔ کبھی یہ لفظ شجاعت اور حمیت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شعر کے عالم شعروں کے مجموعوں کا شعر کی اقسام اور مقاصد کے لحاظ سے الگ الگ نام رکھ دیتے ہیں۔ بعض نظموں کو غنائی، بعض کو حماسی، بعض کو وعظی اور نصیحتی، بعض کو رثائی اور بعض کو مدحی کہتے ہیں۔ حافظ کی غزلیں اور دیوان سعدی، شمس تبریزی کا دیوان غنائی مجموعے ہیں، یعنی ان کا ہدف عرفان الہیٰ

Read more

"صحرا میں بہار” (تیسری قسط۔)

آشرم سے نکل کے ہم نے پھر سفر شروع کیا۔ سفر کا دورانیہ تھوڑی دیر کا بتایا گیا تھا اور یہ تھوڑی دیر ڈھائی پونے تین گھنٹے پہ محیط تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا کہ کراچی سے نکلنے کے بعد سے تو گویا منظر ہی تبدیل ہو گیا تھا۔ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جا رہے تھے ہر طرف شام ہو چکی تھی دن ڈھل رہا تھا تو شہ فلک اپنی آرام گاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ خیر

Read more

جھوٹ – للی پوٹ پارا کا افسانہ

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسی ایشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو“ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔

Read more

منیر نیازی: شہر کی فصیلوں میں جڑا ہوا ایک پراسرار داخلی دروازہ

ان دنوں منیر نیازی صاحب کالج کے کسی طالب علم سے ملنے پر آمادہ نہیں تھے، چاہے وہ طالب علم گورنمنٹ کالج، لاہور کا ہی کیوں نہ ہو۔ بہ طور مدیر ’راوی‘ مجھے ان سے ملنا تھا اور ان کی کوئی غزل یا نظم لے کر چھاپنی تھی۔ میں انھیں نیو ہاسٹل کے مرکزی دروازے پر رکھے کالے رنگ کے پرانے، گھما گھما کر نمبر ڈائل کرنے والے سیٹ سے فون کرتا تو وہ ہر بار طرح دے جاتے ”میری

Read more

پڑھنے لکھنے کے بارے میں کچھ ضروری نکات

اس تحریر کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں : غور و فکر کا معیار کیا ہونا چاہیے، اور معیاری فکر کی زیادہ سے زیادہ افادیت کس گروپ (age group) سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس تحریر کے مخاطب بالخصوص لکھاری اور طلبہ اور بالعموم علم و فکر سے محبت رکھنے والے تمام افراد ہیں۔ فکر کا ایک معیاری نمونہ پیش کرنے میں سب سے زیادہ دقت مجھے ادبی تخلیق کے معاملہ میں پیش آتی ہے۔ کبھی کبھی جب

Read more

کالم منیر نیازی کے اور باتیں ان کے احباب کی

منیر نیازی نے حنیف رامے کے زیر ادارت رسالے ’نصرت‘ میں فروری 1961 سے اپریل 1964 تک وقفے وقفے سے منوچہر کے قلمی نام سے ادبی کالم لکھے جو دو کتابوں میں محفوظ ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر صدف بخاری نے انھیں ’باب گزری صحبتوں کا‘ کے عنوان سے 2014 میں کتابی صورت میں ترتیب دیا۔ ڈاکٹر سمیرا اعجاز کی مرتب کردہ ’’کلیاتِ نثرِ منیر نیازی‘‘(2017) میں بھی یہ کالم شامل ہیں۔ منیر نیازی کی یہ ادبی گپ شپ ’نصرت’ کے پرچوں

Read more

فرید الدین عطار کی مثنوی ’‘ منطق الطیر ”کے بارے میں

ایران کے شہر نیشاپور پر چنگیز خان کے حملے کے دوران ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔ جلد ہی کسی نے، اس شخص کو پہچان کر، اس شخص کو گرفتار کرنے والے منگول سپاہیوں کو اس شخص کی رہائی کے بدلے بطور تاوان ایک ہزار چاندی کے سکوں کی پیشکش کی۔ اس شخص نے بڑی بے اعتنائی سے سپاہیوں کو متنبہ کیا کہ اس کو اس قیمت پر نہ بیچا جائے، کیونکہ وہ اس قیمت سے کہیں زیادہ گراں ہے۔

Read more

اکرم کنجاہی کی کتب :غزل کہانی اور شعور سے لاشعور تک

”مجھے دل سے یقین ہے کہ میں لکھنے کے لیے پیدا ہوئی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ میں لکھ کر اپنی زندگی کا مقصد پورا کر رہی ہوں۔ میرے کتبے پر یہ الفاظ قابل تعریف ہوں گے ۔ ”وہ لکھنے کے لیے زندہ تھی“ ۔ مارگریٹ منکس کی طرح شاید ہر لکھنے والے کی کم از کم یہ خواہش ضرور ہوتی ہے کہ اس کے بعد کہیں نہ کہیں یہ تذکرہ ضرور ہوتا رہے کہ وہ لکھنے کے لیے زندہ

Read more

لاہور محبت ہے

کتنا ہی اچھا ہو اگر سال کے اختتام کے ساتھ ہی ہمارا بھی اختتام ہو جائے۔ کبھی کبھی مجھے زندگی سے بہت گھبراہٹ ہوتی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب زندگی کی مہربانیاں خاموش ہو جائیں۔ ایسے لمحات میں۔ زندگی مجھے بادشاہی کے تخت سے اتار کر غلامی کی ڈور تھما دیتی ہے اور پھر میں حسرت بھری نگاہوں سے بادشاہی پر رشک کرتی ہوں اور پھر اس فقیری کا درد میری زندگی میں لہو کی مانند رقص

Read more

ورجینیا وولف اور سلویا پلاتھ کا خودکشی سے پہلے آخری خط

انگلستان کی مایہ ناز ادیبہ ورجینیا وولف نے مارچ 1941 میں فیصلہ کیا کہ وہ ڈپریشن کی اذیت سے اتنا تھک چکی ہیں وہ مزید زندہ نہیں رہنا چاہتیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے کوٹ کی جیبوں کو بھاری پتھروں سے بھرا اور اپنے گھر کے قریب دریا میں اتنی دور تک چلتی چلی گئیں کہ واپس لوٹ کر نہ آئیں۔ خودکشی کے لیے گھر سے رخصت ہونے سے پہلے وہ اپنے شوہر لینرڈ وولف کے لیے ایک خط چھوڑ گئیں

Read more

شہر برباد کی دھول

بڑی سی واشنگٹن فلائر کی ٹیکسی کے لمبے چوڑے گورے چٹے ڈرائیور نے میرا سوٹ کیس اور بیگ اٹھا کر ڈگی میں ڈالا اور پچھلی سیٹ کا دروازہ میرے لیے کھول دیا۔ مجھے پیچھے بیٹھنے میں ہمیشہ کوفت ہوتی ہے۔ میں آگے کا دروازہ کھول کر آگے ڈرائیور کی سیٹ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ وہ بھی پچھلا دروازہ بند کر کے فوراً ہی اپنی سیٹ پر آن بیٹھا تھا۔ ”ہاؤ آر یو؟“ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔ ”الحمداللہ، فائن

Read more

ہاروکی موراکامی کا ناول: Norwegian Wood

جدید فکشن نگاری میں ہاروکی موراکامی ایک بڑا نام ہے۔ وہ جاپانی ادب کے نمایاں لکھاریوں میں سے ہیں۔  ‘نارویجین ووڈ’ ہاروکی موراکامی کا کثیر الاشاعت ناول ہے۔ اس کا پچاس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اردو میں اس کا ترجمہ ڈاکٹر عبد القیوم نے عمدگی سے کیا ہے۔ اردو ترجمے والی جلد میں نارویجین ووڈ کا ٹائٹل ‘نغمٔہ مرگ’ ہے۔ یہ ناول جنگِ عظیم دوئم میں امریکہ سے جاپان کی شکست کے بعد جاپان میں

Read more

چودھویں عالمی اردو کانفرنس: علم و ثقافت کا اجتماع

 کراچی شہر میں ہر طرح کی سرگرمیاں ہوتی ہیں جن میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیاں بہت زیادہ اور بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں۔ سال کے اختتامی مہینوں میں جب گرمی کی شدت کم ہونے لگتی ہے۔ موسم قدرے خُنکی ماٸل ہوتا ہے۔ تب ادب شناس اور ادب نواز سُخن وران، یوں لگتا ہے کہ جیسے جوش سے بھر جاتے ہیں اور یکے بعد دیگرے ادبی تقریبات منعقد ہونے لگتی ہیں ادبی محفلیں سجنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کراچی کی

Read more

منیر نیازی: خواب میری پناہ ہیں

بس میرا چلتا نہیں جب سختی ایام پر فتح پا سکتا نہیں جب یورشِ آلام پر اپنے ان کے درمیاں دیوار چن لیتا ہوں میں اس جہانِ ظلم پر اک خواب بُن لیتا ہوں میں منیرنیازی کی شاعری مجھے اچھی لگتی ہے۔یہ شاعری ایسی نہیں ہے جسے آپ پڑھتے چلے جائیں اور یہ آپ کو روکنے کی سکت نہ رکھتی ہو۔ اس کی تاثیرمیں اکیلے کردینے والا عجیب بھید چھپا ہے۔ اس راز کو منیرنیازی نے ہرایک پرنہیں کھولا ۔

Read more

منیر نیازی سے ایک ملاقات

میں‘زاہد ڈار اور سعید احمد ’سنگِ میل‘ کے دفتر میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے کہ اصغر ندیم سید مسکراتے ہوئے داخل ہوئے اور جلد ہی فضاﺅں میں لطیفوں اور قہقہوں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔ ’خالد سہیل! تم اتنی دور کنیڈا سے لاہور آئے ہو۔ ہم تمہاری کیا خواہش پوری کر سکتے ہیں؟‘ اصغر ندیم سید نے پوچھا۔ ’میری ایک دیرینہ خواہش ہے کہ میں منیر نیازی سے ملوں۔ یہ ایک کرامت ہوگی کیونکہ کنیڈا میں ایک دفعہ کسی

Read more

للی پوٹ پارا کا افسانہ: موبائل فون

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسئیشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو“ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔ ***

Read more

مَردوں کا پردہ بکارت

ملک پور ایک چھوٹا سا مضافاتی قصبہ تھا۔ وہ بھی پنجاب کے دور افتادہ علاقے میں۔ ملک بشیر وہیں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ اس نے کسی نہ کسی طرح میٹرک تو پاس کر لیا تھا لیکن اس کے بعد نہ تو اس نے آگے پڑھنے کی کوشش کی اور نا ہی کوئی ہنر سیکھنے کی طرف دھیان دیا۔ البتہ کبھی کسی ایک اور کبھی کسی دوسرے دوست کے ساتھ مل کر کوئی کاروبار شروع کرتا اور ناکام ہوتا رہا۔

Read more

فکشن کی تنقید کا المیہ

ڈاکٹر وارث علوی کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔وہ ایک منجھے ہوئے اور نڈر نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تنقید برائے تنقید نہیں کرتے بلکہ ان کا مقصد اصلاح اور حقائق پر مبنی بات کرنا ہوتا ہے۔اردو ادب کا خاصا رہا ہے کہ اس میں ہر دور میں ایسے لوگ سامنے آئے جن کی چپقلشیں بڑی دل آویز رہی ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی ” افسانے کی حمایت میں ” اور وارث علوی کی ” فکشن کی تنقید کا

Read more

پری زاد کا کالا ہیرو

پری زاد کا کالا امیر ہیرو۔ اس ایک لفظ نے ہمیں ڈرامے کی بجائے ناول اور مصنف کی طرف مائل کیا۔ دل کو قرار آ یا کہ ہاشم ندیم خان مصنف ہیں۔ اگر کسی خاتون نے یہ آگ لگائی ہوتی تو لطیفہ بھی الٹا بننا تھا۔ سب سے پہلے تو مصنف اور ان کی پو ری ٹیم کو یہ مبارک کہ کالے ہیرو کو ایک بار پھر زندہ کیا گیا۔ دوم مرد کے مسائل پہ آ واز اٹھی۔ ورنہ عشروں

Read more

کورونا وائرس: ایک وبا اور سو افسانے

دسمبر میں کورونا وبا کو شروع ہوئے دو برس مکمل ہو گئے۔ ان دو سالوں میں جہاں اس وائرس نے ہمیں نفسیاتی اور معاشی طور پر تھکا دیا وہیں وبا کا مقابلہ کرنے والوں نے محنت کے نئے باب بھی رقم کیے ۔ ایک ایسا وائرس جس کا دو برس پہلے دنیا کو علم بھی نہ تھا، اس کی ویکسین ایک برس میں ہی بنا ڈالی۔ نو دسمبر کے دن اس ویکسین کے عام استعمال کو شروع ہوئے بھی ایک

Read more

سید وارث شاہ۔ پنجابی سخن کا وارث (3)

وارث شاہ سے پہلے کئی شاعروں نے قصہ ہیر رانجھا منظوم کیا۔ ہر ایک کے لکھے ہوئے قصہ میں کوئی نہ کوئی خوبی ہوتی تھی لیکن وارث شاہ کے قصہ میں جو کمالات اور خوبیاں ہیں وہ اور کسی قصہ میں نہیں ہیں۔ پنجابی شاعری میں وارث شاہ پہلے شاعر ہیں جنہوں نے مقولہ شاعر کا رواج قصے میں ڈالا یعنی جو بات انہوں نے قصہ کے کسی کردار سے نہیں کہلوانا چاہی وہ مقولہ شاعر کے تحت کہہ دی

Read more

جغرافیہ، قافیہ، اشرافیہ اور مافیا

جغرافیہ کے لحاظ سے ہمارا ملک انتہائی زرخیز اور اہم خطے میں واقع ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت پر ماضی قریب میں بہت کتابیں لکھی گئی ہیں۔ گئے وقتوں میں لوگوں کو یہ گلہ رہتا تھا کہ قافیے کا صحیح استعمال نہیں ہو رہا اور اب بہت سے لوگ یہ گلہ کرتے پائے جاتے ہیں کہ ہم اپنے جغرافیہ کا صحیح استعمال نہیں کر رہے۔ برصغیر میں بسنے والے تمام افراد بالعموم اور مومن حضرات بالخصوص عمر کے کسی نہ کسی

Read more

اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑی عورت

وہ اکثر رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑی دکھائی دیتی۔ رات گیارہ بجے میری شفٹ ختم ہوتی۔ جب میں دفتر سے باہر نکلتا، تو فضا میں خاموشی کا خفیف سا شور ہوتا۔ بوسیدہ عمارتوں کی اوپری منزلوں سے بے نام آواز سنائی دیتیں۔ پیڑ خاموش ہوتے۔ اور تاریکی میں مصنوعی روشنی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہوتی۔ جب میں آئی آئی چندریگر روڈ سے آرٹس کونسل کی سمت مڑ تا، تب، ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچے وہ عورت

Read more

اردو ادب کی شہزادی: بُلبُلِ غزل ‎‎پروین شاکر

آج ہم ایک ایسی شاعرہ پر گفتگو کریں گے جسے بلا مبالغہ مملکت شعر و سخن کی شہزادی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ افسوس اس کی عمر نے وفا نہ کی، اگر وہ اپنے ”عمو“ احمد ندیم قاسمی کی سی عمر پاتی تو یقیناً نسائی شاعری کی ”میر“ ہوتی۔ پروین شاکر 24 نومبر سن 1952 کو کراچی میں سید ثاقب حسین شاکر کے ہاں پیدا ہوئیں۔ رضویہ گرلز ہائی اسکول سے میٹرک، سرسید گرلز کالج سے بی اے اور جامعہ

Read more

سلمان اختر: ڈاکٹر، شاعر اور دانشور

میں ایک شام امریکہ میں دو بھائیوں سے ملا۔ دونوں نہایت عمدہ شاعر ہیں لیکن ایک جتنا معروف ہے دوسرا اتنا ہی غیر معروف۔ معروف فلمی دنیا کا جاوید اختر اور غیر معروف ماہر نفسیات سلمان اختر۔ چند روز پیشتر جب میں سلمان اختر کے مجموعہ کلام۔ دوسرا گھر۔ کا مطالعہ کر رہا تھا اور محظوظ و مسحور ہو رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ اردو کے بہت سے شاعر یا تو رومانوی شاعری کرتے ہیں یا سیاسی شاعری لیکن

Read more

کیا ہم نے وبا کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ لیا ہے؟

کرونا ایسی وباء دنیا میں پہلی دفعہ نہیں پھیلی۔ایسی ہی ایک وباء سو سال قبل بھی دنیا بھر میں پھیلی تھی۔ جس نے کووڈ 19 سے کہیں بڑی تباہی پھیلائی تھی۔  وباؤں کی تاریخ میں 1918ء کا انفلوئنزہ شدید ترین تھا۔ اس کو سپینش فُلو کا نام بھی دیا گیا ۔ وباء  کا آغاز تو سپین سے ہوا ۔ مگر اس کی پہلی بڑی تباہی امریکہ میں دیکھی گئی جہاں دوسری جنگ عظیم میں مصروف فوجی اس کی زد میں آگئے اور چند

Read more

تئیس برس، پانچ مہینے اور گیارہ دن۔۔۔

جان مادر تئیس برس، پانچ مہینے اور گیارہ دن۔۔۔ اتنی جلدی؟ یہ کوئی عمر تھی جانے کی؟ ابھی تو بہت کچھ باقی تھا بہت کچھ کرنا اور کہنا تھا کنتی ہی باتیں  بہت سا اور پیار بھی تمہیں دینا تھا ویسے تم اکیلے نہیں گئے میرے دل کا ایک ٹکڑا ساتھ لے گئے اور وہاں جو جگہ خالی ہوئی  اسے میں نے تمہارے کھلونوں سے بھر لیا ہے انہیں خاموشی سے دیکھتی ہوں کیونکہ اب کوئی نئی یاد تو بنے

Read more

منٹو نے "ٹھنڈا گوشت” کا دفاع کیسے کیا؟ (2)

ڈاکٹر آئی لطیف ہیڈ آف دی سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ ایف سی کالج، لاہور بلائے گئے۔ میں نے ان کا نام سنا تھا لیکن دیکھا کبھی نہیں تھا۔ آپ صوفی صاحب کے بیان کے دوران میں میاں سعید صاحب کے پاس بیٹھے تھے اور رسالہ ”جاوید“ کا خاص نمبر ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ان کی طرف غور ہی نہیں کیا تھا۔ جب وہ بیان دینے لگے تو میں نے انہیں غور سے دیکھا۔ کالا رنگ، سب سے پہلے مجھے

Read more

منٹو نے "ٹھنڈا گوشت” کا دفاع کیسے کیا؟ (1)

بمبئی چھوڑ کر کراچی سے ہوتا ہوا غالباً سات یا آٹھ جنوری 1948ء کو یہاں لاہور پہنچا۔ تین مہینے میرے دماغ کی عجیب و غریب حالت رہی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کہاں ہوں۔ بمبئی میں ہوں۔ کراچی میں اپنے دوست حسن عباس کے گھر بیٹھا ہوں یا لاہور میں ہوں جہاں کئی ریستورانوں میں قائد اعظم فنڈ جمع کرنے کے سلسلے میں رقص و سرود کی محفلیں اکثر جمتی تھیں۔ تین مہینے تک میرا دماغ کوئی فیصلہ

Read more

جون صاحب کے نثری شاہکار

آج جون ایلیاصاحب کا یوم ولادت ہے ، جون سے محبت کرنے والے آج خوشی کے ساتھ جون صاحب کی اداس شاعری کو شئیر بھی کررہے ہیں۔ جون صاحب کی وجہ شہرت ان کی شاعری ہے جو بیک وقت نوجوانوں ، بلکے ہر عمر کے لوگوں میں یکساں  مشہور ہیں ، بڑی عمر کے لوگ جون صاحب سے کتابوں کی شکل میں  جڑے ہیں اور نوجوان نسل سوشل میڈیا کی شکل میں جون صاحب سے محبت کا اظہار کرتے رہتے

Read more

للی پوٹ پارا کا ایک اور افسانہ: ہائی وے

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ اور مترجم ہی۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینا ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے جو ”ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن“ میں شائع ہوا تھا۔ اس کہانی کی راوی خود ہی اس کا مرکزی کردار بھی ہے۔ وہ عجیب جذباتی کشمکش سے گزر رہی ہے۔ ابتدا میں ایک روحانی انکشاف نے اس پر ایک مسرت کی کیفیت طاری کر دی

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (8)

قسط نمبر سات کا آخری حصہ نہیں وہ ایسا نہیں۔ گرانڈ بازار کے جالولو حمام میں جب اس نے اس کے پیسے بھی دینے چاہے تو اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکنے کی کوشش کی۔ وہ تنہا حمام کی طرف بھی جانے پر رضامند نہ تھی سو ارسلان کا ہاتھ اس نے تھامے ہی رکھا۔ وہاں سے واپس باہر آنے کے بعد بھی اس نے کوئی عجلت اور رغبت نہ دکھائی نہ ہاتھ تھاما، نہ کمر پر ہاتھ

Read more

فحاشی اور ادب

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﻓﺤﺎﺷﯽ ﮐﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﮐﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺗﮩﺬﯾﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺎﺟﯽ ﺭﻭﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺎﺿﯽ ﺑﻌﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﻣﺤﺾ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﭨﮫ ﺑﺮﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺣﺴﻦ ﻣﻨﭩﻮ ﺍﻭﺭ ﻋﺼﻤﺖ ﭼﻐﺘﺎﺋﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺎﻑ ﮔﻮﺋﯽ، ﺑﮯ ﺑﺎﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﯾﺎ

Read more

جون ایلیا ایک منفرد شاعر

جون ایلیا سے میری پہلی شناسائی یونی ورسٹی کے زمانے میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب میں قراقرم انٹرنیشنل یونی ورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن کر رہا تھا۔ مجھے وہ دل نشین لمحات آج بھی یاد ہیں جب ہم لکچر سے فارغ ہو کر یونی ورسٹی کی کیفے ٹیریا تو کبھی سبزہ زار میں لکڑی کی سادہ کرسیوں پر ایک پیالی چائے سے محظوظ ہونے بیٹھ جاتے تھے۔ انگریزی ادبیات کا ایک طالب علم میرا دوست تھا۔ کبھی کبھار

Read more

ٹوٹی ہوئی دیوار” سے "کھوئے ہوئے صفحات” تک”

کھوئے ہوئے صفحات ڈاکٹر بلند اقبال کی تازہ ترین تخلیق ہے۔ یہ ایک شہکار ناول ہے، جو ایک جرمن عورت کی کہانی بیان کرتا ہے، جو نازی جرمنی کے مظالم کا شکار ہو کر پاکستان میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوتی ہے۔ لیکن یہ صرف ایک عورت کی آپ بیتی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک پورے زمانے کی کہانی ہے، جس میں کروڑوں لوگ رنگ، نسل، عقیدے اور دیگر تعصبات کا شکار ہوئے۔ یہ کہانی آج بھی جاری ہے۔

Read more

اقبال کے نظریۂ فن کا افلاطون اور ارسطو سے اجمالی جائزہ

فن کی جامع تعریف بیان نہیں کی جا سکتی البتہ کسی کام میں ایسی حسن و خوبی پیدا کرنا کہ اس سے انسان کا ذوق جمال تسکین پائے، فن کہلاتا ہے۔ راقم الحروف نے فن کے حوالے افلاطون اور ارسطو کے فلسفہ کو پیش کرنے کے بعد اقبال کے نظریہ فن پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں افلاطون فن کو نقالی کہتا ہے اور شاعری کو نقل کی نقل قرار دے کر شعراء کو اپنی جمہوریت سے دیس

Read more

آہ! پروفیسر رئیس علوی بھی چل بسے

سڈنی آسٹریلیا کا اس لحاظ سے منفرد شہر ہے کہ یہاں تین دہائیوں سے اردو شعر و ادب کا گلستاں آباد ہے۔ مقامی ادباء اور شعرا ء کا ایک گلدستہ سجا ہے جن کی درجنوں کتابیں چھپ چکی ہیں۔ ادبی محافل منعقد ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں علاوہ پاکستان اور ہندوستان سے بھی اہم ادبی شخصیات تشریف لاتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ادبی رونقیں جاری و ساری رہتی ہیں۔ قریباً دس برس قبل پاکستان کے شہر کراچی سے مشہور

Read more

دھند کی بو

دسمبر کا مہینہ تھا روزانہ کی طرح کام سے فارغ ہو کر ہوٹل کے کونے اس چھوٹے کمرے میں بیٹھ کر چائے پی رہے تھے کہ دھند اور اندھیرا سا چھانے لگا۔ دن کے وقت اس طرح تاریکی تو ہو نہیں جاتا، آخر وجہ کیا ہے، یہ کہہ کر سعد چائے کی پیالی میز پر رکھی۔ خادم اس سے پہلے اپنے حصے کا چائے پی چکا تھا اور یہ دیکھ کر حیرت میں طاری ہو چکا تھا۔ سعد نے جب

Read more

کھڑکی سے: للی پوٹ پارا

(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسی ایشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈیبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کر سٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو “ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع

Read more

سہاگ رات کی سفید چادر کی حقیقت

حلیمہ، باپ کی لاڈلی ہونے کے باوجود ایک سیدھی سادھی لیکن پراعتماد لڑکی تھی، جو حسن و خوبصورتی کے اعلیٰ پیمانوں پر بھی پوری اترتی تھی۔ اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرنا، اس کے خاندان میں ایسے ہی ضروری تھا، جیسے روز کپڑے پہننا اور کھانا پینا۔ اس نے بھی ایم اے، ایم ایڈ کیا اور ایک اچھے سکول میں ٹیچنگ کرنے لگی۔ شادی کے لئے رشتے آنے لگے تو اس کی صرف ایک ہی شرط تھی کہ وہ شادی

Read more

سید وارث شاہ۔ پنجابی سخن کا وارث (2)

وارث شاہ نے غریبوں اور عوام کی معاشی استحصال اور انفرادی تذلیل کا تذکرہ جہاں اپنے کلام میں اپنے انداز میں کیا ہے وہیں اسلامی شرع کے منافی اپنے خاوند اور اہل خانہ کو بے عزت کرنے والی خواتین اور اوباش مردوں کو بھی نشانہ تنقید بنایا ہے۔ اپنے کلام میں لالچی کھتریوں اور ظالم چوہدریوں کے کالے کرتوت کھول کر پیش کیے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی صبح کا ایسا نقشہ کھینچا کہ پنجاب کا کلچر اور رہن سہن

Read more

نمکین چائے

آج اتوار ہے اور میں گھر کی دوسری منزل پر ٹیرس پہ بیٹھا سامنے وادی میں بادلوں کی آنکھ مچولی دیکھ رہا ہوں۔ بارش ابھی ابھی رکی ہے چھت کے کھپریلوں سے بارش کا پانی بوند بوند ٹپک رہا ہے فضا میں ایک رومانوی غنائیت رچی ہوئی ہے میں چائے پی رہا ہوں اور ماحول سے رستے کیف میں بھیگ رہا ہوں۔ سامنے وادی کے اس پار سر بفلک پہاڑوں کا سلسلہ ہے جن کی ترتیب کچھ اس طرح ہے

Read more

یوسف رند: جذبات و تخیلات کا شاعر

تخلیق مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چلنے والے بہت کم  لوگ ہوتے ہیں اور خاص طور پر تو ایسے روگ کو پالنے سے لوگ گریزاں ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اس میدان میں مقصدیت کی راہ ہموار کرنے کے لئے کھیت میں ہل چلانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر دل کی زمین زرخیز ہوتی ہے ۔اگر تخلیق کے میدان اور انتخاب میں یوسف رند کا نام  بھی لیا جائے تو فیصل آباد کی زمین علم و ادب سے

Read more

سید وارث شاہ۔ پنجابی سخن کا وارث ( 1 )

وارث شاہ کو پنجابی زبان، پنجابی شاعری، پنجابی ثقافت اور تہذیب و تمدن کا وارث کہا جاتا ہے۔ وہ قصبہ جنڈیالہ ضلع شیخوپورہ متحدہ ہندوستان (موجودہ پاکستان ) میں 1722 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے یوم پیدائش پر مختلف دانشوروں اور محققین کی مختلف آرائیں ہیں لیکن کوئی واضح ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کے کلام میں موجود مختلف اشعار کی روشنی میں ان کا سن پیدائش 1722 ء ہی مانا جاتا ہے۔ آپ کے والد محترم

Read more

پچھتاوا

مصنف: Thom Conroy ترجمہ: سید محمد زاہد وہ آدمی مرتے وقت بہت پر سکون تھا۔ ہلکے پھلکے لہجے میں بات کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ میں نے ایسی کامیاب زندگی گزاری ہے جس میں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ اس شام وہ کچن میں بیٹھی اپنی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں سوچنے لگی۔ لطف اندوز ہوتے ہوئے ان کو ترتیب دینا شروع کیا۔ دو کالموں کی فہرست بنائی۔ پچھتاوا / اطمینان۔ پہلے کالم میں شادی، بچے اور پڑھانا

Read more

علامہ اقبال: ایک عظیم مردِ خود آگاہ

آج ہم بیسویں صدی کی ایک عظیم شخصیت ڈاکٹر شیخ محمد اقبال ”رح“ کے یوم پیدائش نو نومبر 1877 کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے آج کا دن اس بلند اقبال کے نام کرتے ہیں جس کی ترنم ریزیاں ایک قریب المرگ قوم کے لئے صدائے قم ثابت ہوئیں اور انہوں نے بعض بے جانوں میں حرکت پیدا کردی۔ کوئی کہتا ہے کہ اقبال شاعر ہے، کوئی اسے حکیم و فلسفی بتاتا ہے، تو کوئی سیاستدان و مدنیات کا علم

Read more

تھکی ہوئی زندگی

ولیم کا سٹریچر ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک میں ایسے داخل ہوا جیسے اس کی زندگی کا ہوائی جہاز طویل مسافت کے بعد رن وے پر لینڈ کر رہا ہو۔ اس نے ویٹنگ روم میں چاروں طرف دیکھا۔ موت کی پرچھائیاں پوسٹروں کی صورت میں اس کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں ’موت زندگی ہے‘ ’زندگی کی انتہا موت ہے‘ ’صرف ان لوگوں کو زندہ رہنا چاہیے جو زندہ رہنا چاہتے ہوں‘ ’باعزت زندگی کے لیے ڈی ڈی سی۔ ڈگنیفائڈ ڈیتھ کلینک۔

Read more

قائداعظم اور آزادی صحافت

قائداعظم محمدعلی جناح ایک روشن خیال سیاست دان تھے۔ قائداعظم کی سیاسی زندگی جمہوری عمل سے عبارت تھی چنانچہ زندگی بھر دستور اور قانون کی بالادستی پر ان کا یقین مضبوط رہا۔ ابتدائی زندگی ہی میں وہ مغربی جمہوریت کے اصولوں نیز پارلیمانی طرز حکومت سے بے حد متاثر ہوئے۔ ذاتی طور پر قائداعظم تنقید اور اختلاف کو نہ صرف قبول کرتے تھے بلکہ کھلے دل سے اس کا خیر مقدم کرتے تھے۔ چنانچہ قائداعظم اصولوں کی بنیاد پر اظہار

Read more

رومانوی نظموں کا شہنشاہ: نزار قبانی

عرب دنیا کے مقبول ترین شاعر "نزار قبانی” کی رومانوی نظموں کی یہ کتاب بہت ہی خوبصورت اور اچھوتی ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے سے قبل میں نزار قبانی کے نام اور انکی دلکش نظموں سے تھوڑا بہت واقف ضرور تھی لیکن اس کتاب کو پڑھنے کے بعد میں نزار قبانی کی نظموں کے عشق میں گویا گرفتار ہوچکی ہوں۔ کیا اس قدر خوبصورت نظمیں بھی کوئی تخلیق کر سکتا ہے وللہ! نزار قبانی نے محبت کی روشنائی سے لکھی

Read more

ناصر کاظمی کی ”پہلی بارش“

(8 دسمبر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش ہے) (1) میں سکول میں پڑھتا تھا۔ نیا نیا شعر کہنا شروع کیا تھا۔ ایک محبوب مشغلہ پاپا کی غیرموجودگی میں، ان کے کمرے میں، ہر قسم کے نئے اور پرانے رسالے ’کھنگالنا‘ تھا (غیرنصابی کتابیں پڑھنے کا دور ابھی نہیں آیا تھا) ۔ ایک روز ’نیا دور‘ کے دو مختلف شماروں میں پاپا کی کئی غزلیں ایک ساتھ ملیں۔ ان کے بارے میں انوکھی بات یہ تھی کہ یہ سب کی سب

Read more

صدیوں پر پھیلی رات

شام ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ گہرے بادل گزشتہ رات سے ہی چھائے ہوئے تھے۔ ہوا کے چلنے سے سردی مزید بڑھ گئی تھی ساتھ ہی بارش بھی شروع ہو گئی تھی جو آہستہ آہستہ تیز ہوتی جا رہی تھی۔ ایسے میں پندرہ گاڑیوں پر مشتمل سیکورٹی فورسز کا ایک کانوائے گوٹھ کہلائے جانے والی اس دو صدیوں پرانے علاقے میں پہنچ گیا تھا۔ یہاں اس وقت بھی ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جب اوپر کے علاقے

Read more

ماحولیاتی تنقید، پیسٹورل ایلجی اور ہم

آج کل میں پشتو ادب میں ماحولیاتی تنقید میں پیسٹورل ایلیجی پر کتاب لکھ رہا ہوں اور اب تک چھ متعلقہ مضامین سوشل میڈیا پر شائع کرا چکا ہوں اور سنجیدہ دوستوں نے اس کاوش کو سراہا بھی ہے۔ عالمی ادب میں تو اس پر خاصہ کام ہو چکا ہے لیکن ہمارے اردو ادب میں صرف اورنگ زیب نیازی صاحب نے اس موضوع پر خارجی لکھاریوں کے مضامین اکٹھا کرنے کے بعد ترجمہ کر کے کتابی صورت میں شائع کیا

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (7)

افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال قسط نمبر چھ کا آخری حصہ سعید کی دلہن بن کر برطانیہ آنا ایک رسم دنیا اور ایک نئی دنیا کی کھوج تھی۔ سعید کے مد مقابل دستیاب سب رشتے قرابت داروں اور برادری والوں کے تھے۔ سب ہی بہت روٹین سے مرد تھے۔ برطانیہ آنے کے فیصلے میں نیلم کا سامنے یہ نقطہ بھی تھا کہ اگر شادی میں کوئی اڑچن آئی تو وہ اس

Read more

محبت کی قوس قزح تخلیق کرنے والا افسانہ نگار: قمر زیدی

(نوٹ۔ یہ خط ادارہ نو بہ نو کے چار دسمبر 2021 کے سیمینار میں پڑھا گیا جو قمر زیدی کی پچاس سالہ شعری و نثری خدمات کے اعتراف کے لیے عزیزی مظفر عباس نے زوم پر منعقد کیا) محترمی و مکرمی مظفر عباس صاحب! میں جب بھی آپ کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اسلام آباد میں آپ کے ساتھ گزاری ہوئی چند شامیں یاد آ جاتی ہیں۔ ان شاموں کی خوشگوار یادیں میرے دل کے نہاں خانوں میں

Read more

خط: میکسیم گورکی کی ایک کہانی

میں نیا نیا ماسکو یونیورسٹی میں پہلے سال میں داخل ہوا تھا۔ اتنے بڑے شہر میں رہائش ڈھونڈنے میں خاصی دقت پیش آ رہی تھی۔ بہت تگ و دو کے بعد ایک کمرے والا اپارٹمنٹ ملا جہاں سے میں دس منٹ میں پیدل چل کر یونیورسٹی پہنچ سکتا تھا۔ ساتھ والا کمرہ ایک عورت کا تھا۔ ہمسایوں میں اس کے چال چلن کے بارے میں افواہیں اڑاتیں۔ کھسر پھسر ہوتی۔ وہ پچیس، چھبیس سال کی ہو گی۔ رنگ خاصا سانولا

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں ( 6 )

افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال قسط نمبر 5 کا آخری حصہ بے چارہ. چلو اس کی کوئی مدرنگ کرتے ہیں اس نے اپنا ٹرینچ کوٹ اس کے گارمنٹ بیگ سے نکالا اور ارسلان پر ڈال دیا تاکہ امیر مقام خوشبو بھی سونگھتے رہیں گے اور اس کی وجود کی متروکہ گرماہٹ سے لپٹ کر سوتے بھی رہیں گے. رات کی خنکی کے پیش نظر اپنا کیپ پہن لیا اور شال سے

Read more

لاٹری – شرلی جیکسن کا شہرہ آفاق افسانہ

مترجم: ڈاکٹر آفتاب احمد ستائیس جون کی صبح شفاف اور دھو پیلی تھی۔ گرمی کے طویل دنوں کی تازہ گرماہٹ اپنے اندر سموئے ہوئے۔ فطرت نے ہری ہری گھاس کی چادر پر رنگ برنگے پھولوں کی پچکاریاں چھوڑ کر ماحول کو بہار آگیں بنا دیا تھا۔ دس بجے کے قریب گاؤں کے لوگ ڈاک خانے اور بینک کے درمیان والے میدان میں لاٹری کے لئے جمع ہونے لگے۔ کچھ گاؤں کی آبادی اتنی زیادہ تھی کہ لاٹری کی تقریب میں

Read more

کافکا کا دوست

نوٹ۔ آئزک سنگر 1902 میں پولینڈ میں پیدا ہوئے اور 1991 میں امریکہ میں فوت ہوئے۔ وہ ساری عمر اپنی مادری زبان یدش میں کہانیاں لکھتے رہے۔ انہیں 1978 میں ادب کا نوبل انعام ملا تھا۔ میں نے ’ہم سب‘ کے لیے ان کی کہانی A FRIEND OF KAFKA کی تلخیص اور ترجمہ کیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ میں نے فرانز کافکا کے بارے میں سن رکھا تھا لیکن جب کئی برس بعد میری اس کے دوست جیک کوہن سے

Read more

پتنگ

مصنف: ادیتی مہروترا مترجم : ڈاکٹر آفتاب احمد، سینئر لیکچرر، کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک ادیتی مہروترا کا اس افسانچے کی راوی ایک نئی بہو ہے جو اپنے شوہر کے ساتھ کسی شہر میں رہتی ہے۔ آزاد۔ اپنی مرضی کی مالک۔ کہانی دو حصوں میں ہے۔ پہلے حصے میں راوی دیوالی کے موقع پر اپنے شوہر امر کے گاؤں یعنی اپنی سسرال جانے کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسرے حصے میں وہ سسرال میں پہنچ چکی ہے۔ دونوں حصوں میں روزمرہ

Read more

ادیبوں کا استحصال بند کریں

گزشتہ کالم پہ محترم حسین مجروح کا خط موصول ہوا ’خط میں سائبان تحریک کے اغراض و مقاصد اور اب تک کی جانے والی کوششوں کے بارے تفصیلی آگاہ کیا‘ آپ خط ملاحظہ فرمائیں : ”عزیزم آغر ندیم سحر صاحب، سلام و رحمت! آپ کا کرم کہ آپ نے سائبان تحریک کے مقاصد اور طریق عمل میں دل چسپی ظاہر کی اور اس قافلے کا فعال حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ سائبان تحریک کی بابت تعارفیہ ہمراہ پانچ

Read more

”میں افسانہ کیوں کر لکھتا ہوں؟“ پریم چند

اردو افسانہ نگاری میں پریم چند کے نام اور مرتبے سے کون نہیں واقف؟ ایک انشا پرداز صاحب قلم کی حیثیت سے اردو فکشن نگاری اور بالخصوص افسانہ نگاری میں پریم چند کا اسلوب اپنی یکتا پہچان رکھتا ہے۔ پریم چند کا لہجہ ایک ٹھیٹ ہندوستانی ادیب کا لہجہ ہے، یعنی پریم چند ہندی تہذیب کا نفیس ترین شارح اور معبر ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پریم چند نے ہندو سماج کو حقیقت پسندی کے آئینے

Read more

بانو قدسیہ: اردو ادب کی ماں!

یہ 28 نومبر 1928 ء کی بات ہے۔ بدھ کا دن تھا۔ موسم بڑا خوش گوار تھا۔ ہلکی ہلکی بارش کی رم جھم کے ساتھ تیز ہوا کے جھونکے چل رہے تھے۔ دریں اثنا فیروز پور ہندوستان کے کسی ہسپتال میں ایک حاملہ خاتون کو زچگی کے سلسلے میں داخل کیا جاتا ہے۔ تھوڑی دیر میں مولود بچی کی چیخ و پکار سے ہسپتال کے در و دیوار گونجنے لگتے ہیں۔ ہسپتال کے باہر ایک جوتشی رہتا تھا۔ جس نے

Read more

کمینے۔۔!

گیارہ برس سات ماہ تیرہ دن اور اس دوران فقط دو ملاقاتیں۔ دونوں ملاقاتیں نرم گرم جذبات کے ساتھ شروع ہوئیں اور ان گنت غلط فہمیوں پر اختتام پذیر ہوئیں۔ خدشہ تھا کہ شاید اب کمینہ کمینی سے کبھی نہ مل پائے۔ ربط کا آخری خفیہ ذریعہ بھی کمینی بلاک کر چکی تھی۔ آخری ملاقات ہوئے بھی تو تین برس بیت چکے تھے۔ لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ ”نیچر ہیز اِٹس اُون وے“ ۔ ٹرمپ کے دیس میں نواں دن تھا۔ پہلے ہفتے تو ایک دو امریکی دوستوں کے توسط سے ”بریڈ اینڈ بَٹر“ کا انتظام کرلیا لیکن اب ظاہر ہے کہ سیلف ہیلپ اب لازم ہو چکی تھی۔

لہذا اب ہم تھے یا گُوگل سرکار۔ یہ ابتدائی نومبر کی ایک نسبتاً خنک ”جمعراتی“ سرمئی شام تھی جب ہم لائن میں لگ کر چند ”گراسری آئٹمز“ ٹرالی میں ڈالے چیک آوٹ کر رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس سٹور میں تو خود سے ہی سسٹم پر پے منٹ کرنی ہے۔ آٹو سسٹم طبیعت پر ناگوار گزر رہا تھا، پلٹ کر دائیں جانب نگاہ ڈالی تو ہیڈ فون پہنے ایک خاتون دھڑا دھڑ سودا سلف شاپنگ بیگز میں ڈالنے میں مصروف تھی۔ بہتیرا کہا، ”ایکسکیوز می!

”کین یو ہیلپ می؟“ مجال ہے کانوں پر پہنے کھوپے ہماری آواز اس کی سماعتوں تک پہنچنے دیتے۔ آگے بڑھ کر ہاتھ کے اشارے سے اسے مخاطب کیا۔ وہ پلٹی، ہیڈ فون اتارے، الجھی زلفیں سنوارنے کی کوشش کی۔ ہاتھ میں قریب قریب دو لٹر کا سافٹ ڈرنک جس میں آدھ انچ قطر کا ’پائپ‘ موجود تھا۔ سُڑ سُڑ کرتے ہمیں دیکھتے ہی جیسے اس کی ہچکی بندھ گئی ہو۔ ہم خود بھی تو حواس باختہ ہو چکے تھے۔ اس نے حلق میں معلق گھونٹ نیچے اتارا اور دو لیٹری گلاس نیچے رکھتے ہوئے کہا، ”کمینہ اِن امریکہ؟ تم پھر ٹکر گئے مجھے! اب کیا میرا گھر برباد کرنے آئے ہو؟ وٹ دا ہیل آر یُو ڈوئنگ آوٹ ہیئر؟“

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (5)

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) رات چلی ہے جھوم کے ان اتفاقیہ ہم سفروں کا ناؤ نوش کا سلسلہ جب بخیر و خوبی اختتام کو پہنچا تو نیلم نے اپنے پاؤں سینڈل سے آزاد کیے۔ ایک بڑی سی جامنی شال اپنے رول آن بیگ سے نکالی اور صوفے کے ایک آرمز ریسٹ سے کمر جوڑ کر پشت پر لگی دیوار سے سر ٹکا دیا گھٹنوں کی محراب بنا کر دوسرے آرمز

Read more

آمریت سے لڑنے والا شاعر اور محبت کی تاریخ لکھنے والی صحافی

اگر ٹائم ٹریولنگ ممکن ہو جائے تو میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں اُتر کر اُن تمام شخصیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہوں گی جو آج نہ ہوتے ہوئے بھی، اپنے جری کارناموں کی بدولت ہمارے درمیان موجود ہیں۔ جن کے نام اپنے اپنے عہد کے روشن ستارے ہیں۔ اوریانا فلاشی کے معروف تاریخی شخصیات کے تاریخی انٹرویوز تو یقیناَ آپ نے پڑھ رکھے ہوں گے،دو دن قبل بیکن بکس کے جبار صاحب کی وساطت سے اوریانا فلاشی کا

Read more

منٹو کا آدمی: اچھائی اور برائی کے تناظر میں

سعادت حسن منٹو کے ہاں آدمی کا تصور ادب کے دیگر شہسواروں کی نسبت بہت زیادہ مختلف پایا جاتا ہے۔ ادب کے تمام شہسواروں نے لکھا اور بہت خوب لکھا ہے مگر اس میدان میں اپنا زور قلم نہ آزمایا جو سب سے بنیادی اور انسانی جبلت کا نمایاں حصہ تھا۔ مگر سعادت حسن منٹو نے اپنے قلم کو، نظیر اکبر آبادی کے اس مصرعے کی تائید کرتے ہوئے کہ سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی،

Read more

جلی ہوئی کشتیوں کا سپہ سالار

غضب کی سردی تھی اس دن۔ طوفانی رات کے بعد لندن شہر کے بہت سارے درخت گر گئے تھے۔ طوفان کا زور ٹوٹ چکا تھا مگر ابھی تک سرد ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں اور وقفے وقفے سے پھوار بھی پڑتی تھی۔ موسم کی خبریں یہی تھیں کہ یہ ویک اینڈ اس سال کے کر اب ویک اینڈ میں سے ایک ہو گا۔ انگلستان میں جمعہ کی شام سے ویک اینڈ شروع ہوجاتا ہے۔ سارے ہفتے خوب کام کرنے

Read more

ادبی میلوں کا مینا بازار

میلہ لوٹ لو میلہ، لاہور کا میلہ، کراچی کا میلہ، ملتان کا میلہ، فیصل آ باد کا میلہ۔ ( یہاں ہم اسلام آ باد کی بات اس لئے نہیں کر سکتے کہ وہ وفاق ہے۔ ) کتنا کڑوا جملہ ہے ناں مینا بازاز کے معانی کے ساتھ۔ بالکل ایسی ہی کڑواہٹ پھیلتی ہے۔ جب کسی شہر میں ادب کا میلہ ہو اور وہاں کا ادیب اس میلے میں دکھائی نہ دے۔ اگر دکھائی دے تو کسی پیچھے کی کرسی پہ

Read more

حمیرا اشفاق کا افسانہ ”کتبوں کے درمیان“ ایک مسموم نوحہ

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بعض طرائق و افعال میں انسان بے اختیار ہوتا ہے، اس کی شعوری طور پر جذباتی وابستگی اس حوالہ سے کہیں پیچھے رہ جاتی ہے، بلکہ یہاں ہم آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ تبھی وہ لاشعور کے زیر اثر اور مجبور محض ہوتا ہے، جو اسے بے اختیار اور بے بس کیے دیتا ہے، بعض دفعہ گزرا ہوا معروض جو کہیں اب انسان کے لاشعور کا حصہ بن چکا ہوتا ہے،

Read more

امرتا پریتم۔ ایک یاد (3)

ادبی رسالے سویرا کا شمارہ جس کا نمبر بارہ تھا، غالباً ً پچاس کی دہائی کے پہلے سالوں میں احمد راہی کی ادارت میں شائع ہوا تھا۔ احمد راہی کے امرتا پریتم پر لکھے ہوئے مختصر تعارف کے ساتھ آنکھوں پر لکھی امرتا جی کی یہ تین چھوٹی چھوٹی خوبصورت نظمیں بھی سویرا کے اسی شمارے میں چھپی تھیں۔ (1) کہندی ساں تیری نین ندی۔ میں کر سکاں کی پار ڈول گئی میرے من دی نیہا۔ میرے چھٹک گئے پتوار

Read more

زاہد ڈار، شخصیت نہیں کیفیت

13 فروری، 2021 ء کو ہم لوگ جس وقت فیض کا جنم دن یاد کرنے میں مصروف تھے ایک دل خراش خبر ہماری سماعتوں سے ٹکرائی اور اس التباسی (virtual) دنیا میں ہماری نظر کے پردوں کو دھندلا کر گئی کہ مادھو (زاہد ڈار) اب اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ اس خبر کو خوب پھیلایا گیا اتنا کہ جتنا شاید زاہد ڈار کی زندگی میں اس کے وجود کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ مگر وہ جو کام

Read more

فطرت کی شیدائی شاعرہ شاہدہ حسن کے جنم دن کے موقع پر

آج 24 نومبر ہماری ایک ایسی صوفی منش دوست کا جنم دن ہے جنہیں آپ شاعرہ شاہدہ حسن کے نام سے جانتے ہیں اور میں انہیں اپنی بہت ہی پیاری دوست گردانتی ہوں۔ میرا ادب سے تعلق واجبی سا ہے بس اردو کو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کی حد تک لہٰذا ان کی ادبی حیثیت پہ گفتگو کی توقع رکھنا ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہو گا۔ ان کی بہت اعلی معیار کی شاعری پہ خیال آرائی میں

Read more

بوجھ

”غیرت مند ہوتی تو اپنا جنازہ بھی شوہر کے ساتھ اٹھوا لیتی اور کچھ نہیں تو بچیوں کو تو سسرال میں چھوڑ کر آتی یہاں اپنے خرچے پورے نہیں ہو رہے کہ اب ان کی بچیوں کو بھی پالو“ ۔ رانیہ اپنی عدت پوری ہونے کے بعد میکے لوٹی تو نازیہ بھابھی کا پارہ سوا نیزے پر پہنچ گیا اور اب وہ اس کا اظہار کھلے عام کر رہی تھیں۔ ٭ ٭ ٭ ”امی آپ کو میری شادی کی اتنی

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں ( 4 )

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) دھیمے دھیمے اس نے سوچا کاش اس کا میاں سعید گیلانی، اس سامنے بیٹھے اتفاقی مرد، ارسلان کی شخصیت کا دس فیصد ہی دل چسپ ہوتا تو وہ ابھی واپس برمنگھم لوٹ جاتی۔ اس کی دوست جس کا اصل نام تو برمیندر کور تھا وہ اور نیلم شام کو دفتر سے لوٹتے وقت یا توEagle & Ball پب یاBacchus Bar میں بیٹھ کر چل (Chill) کرنے

Read more

عالمی ادب

"ادب”انسانیت کو بیان کرتا ہے۔ "ادب”قوت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مذہب کے بنیادی اجزاء میں "ادب”انتہائی اہم جُز ہے۔”ادب”انسانی تمدن،ایمان اور رسومات کی بنیاد ہے۔ حقیقت کا عکس، فن کو پیداکرنے والا اور تصورات کو بیان کرنے والے علم کا نام "ادب” ہے۔ اس کُرۂ ارض پر انسانی تہذیب و تمدن کے آغاز سے قبل بھی سُمندروں کی گہرائیوں اور جنگلات کی پنہائیوں میں کہانیوں کا وجود تھا۔ قدیم تہذیبوں اور معاشروں میں بھی "ادب”ایک اہم کردار ادا کرتے

Read more

سی آر شمسی کی زندگی اور جدوجہد کا سفر

”پڑھ”، اردو کا ایک اخبار سی آر شمسی کی ماں نے اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا، جب شمسی کی عمر کوئی پانچ چھ برس ہو گی۔ یہ چھوٹا سا واقعہ جس نے اس کی آئندہ زندگی کی تشکیل کی، 1963 یا 1964 میں پیش آیا۔ اس کی فیملی گجرات سے مری اور وہاں سے راولپنڈی ہجرت کر کے اصغر مال روڈ پر کوٹھی ہری سنگھ میں عارضی طور پر مقیم تھی۔ ماں نے اخبار سے اس کی ملاقات کیوں

Read more

ادیب، ناشر اور سائبان تحریک

میرے 2؍ نومبر کے کالم (شاکر شجاع آبادی:ویڈیو کی اصلیت) پر دوستوں نے بہت سراہا کہ اگر شاکر شجاع آبادی کو اس قدر امداد ملی ہے تو وہ کہاں خرچ ہوئی ’اس کا آڈٹ ہونا چاہیے۔ یہ سچ ہے کہ تخلیق کار اور فنکار کسی بھی طبقے کی اہم شناخت اور اثاثہ ہوتا ہے مگر اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ ایک فنکار کو مسلسل نوازا جائے جب کہ باقی سینکڑوں ایسے فنکاروں یا ادیبوں کو نظر انداز کر

Read more

لنگی بردار اوگھڑ سادھو اور عورت

بزرگوں سے سنا ہے کہ کسی محلے میں ایک ہندو سیٹھ اور ایک مسلمان ساتھ ساتھ رہا کرتے تھے۔ مسلمانوں کے گھر گوشت پکتا تو سیٹھانی کا بھی من کھانے کو کرتا۔ آخر سیٹھانی نے مسلمان بی بی کے ساتھ دوستی گانٹھی اور گاہے گاہے بھنا ہوا گوشت چکھ لیا کرتی، اس دوران رازداری شرط تھی کہ سیٹھ کو اس حرکت کا پتا نہ چلے، ایک دن جانے کس بات پہ دونوں عورتوں میں ٹھن گئی۔ اب مسلمان خاتون ہاتھ

Read more

فیض احمد فیض نے ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ کس کی یاد میں لکھی تھی؟

سلیمہ ہاشمی نے لکھا ہے کہ ’مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ‘ شاید فیض کی بہترین نظم نہ ہو لیکن یہ سب سے زیادہ مقبول اور بلاشبہ ان کی پہچان مانی جاتی ہے۔

Read more

بلاؤز

کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوئے، حتٰی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایسا درد جس کو اگر وہ بیان کرنا چاہتا تو نہ کر سکتا۔ بعض اوقات بیٹھے بیٹھے وہ ایک دم چونک پڑتا۔ دھندلے دھندلے خیالات جو عام حالتوں میں بے آواز بلبلوں کی طرح پیدا ہو کر مٹ جایا کرتے ہیں مومن کے

Read more

اقبال : جہان نو کا شاعر

تخیل اقبال زماں و مکاں کی قیود سے بہت آگے بندہ حر کی طرح آزاد نظر آتا ہے۔ شعور و آگہی سے پرے مستقبل کی جلوہ آفرینیوں میں ڈوبا ایک شاعر، حسین و تابناک عظمت گزشتہ کے پس منظر میں عظمت فردا کی شان اور کرو فر کا ایک خواب ہمیں دکھاتا ہے۔ شوکت رفتہ کے مناظر دل کو لبھانے کے لئے ہمارے سامنے پیش نہیں کیے جاتے ہیں بلکہ اسی شوکت اور اوج و کمال کو دوبارہ زندہ کرنا

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں (2)

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) نیلم ایک طویل عرصے برطانیہ میں رہنے کے باوجود بہر طور ایک پاکستانی عورت تھی۔ پاکستانی عورت میں، بائبل کے دس بڑے ضوابط (Commandments) اور پاکستانی قانون میں ایک قدر بڑی مشترک ہے۔ ان کی اکثر دفعات کا آغاز نفی سے ہوتا (عبادت مت کرو بجز میری، مت کرو قتل۔ مت کرو بدکاری وغیرہ وغیرہ) بائبل کی طرح پاکستان کے قوانین بھی Notwithstanding (ہرچند، باوجود اس

Read more

سفرنامہ پنجاب: تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (8)

”باغوں کے شہر کی سیر“ گزشتہ رات کی ایک اچھی محفل اور عمدہ مشاعرے نے طبیعت کو شاداں و فرحاں کر دیا تھا۔ حامد انوار صاحب مرکز قومی زبان کے سربراہ ہمارے میزبان تھے اور سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے بہترین میزبانی کی۔ مشاعرے کے فوری بعد چائے کا انتظام تھا۔ ساتھ ہی ڈھیروں اقسام کے بسکٹس تھے غالباً مارکیٹ میں دست یاب ہر بسکٹ وہاں لا کے سجا دیا گیا تھا۔ چائے بہت مزے دار تھی بلکہ

Read more

کہروڑ پکا کی نیلماں ( 1 )

(افسروں کے معاشقوں پر مبنی ایک نیم حقیقی نیم افسانوی واردات قلبی کا احوال) ارسلان آغا کو یہ دیکھ کر بے پایاں مسرت ہوئی کہ وہ بی بی جس کے تعاقب میں وہ یہاں کائونٹر تک پہنچا تھا وہ بھی استنبول جانے والی اسی فلائیٹ کے کاؤنٹر پر کھڑی تھی جہاں پر خود اس نے بھی بورڈنگ کے لیے رپورٹ کرنا تھا, سفری دستاویز کی جانچ پڑتال کے بعد ایک بورڈنگ کارڈ کی صورت میں اسے بھی پروانۂ روانگی ملنا

Read more

امرتا پریتم۔ ایک یاد (1)

امرتا پریتم ایک ہندوستانی ناول نگار اور شاعرہ تھیں جنہوں نے ہندی اور پنجابی میں لکھا۔ وہ پنجابی زبان کی پہلی ممتاز ناول نگار، مضمون نویس اور بیسویں صدی کی پنجابی زبان کی سرکردہ شاعرہ تھیں جنہیں پاک بھارت سرحد کے دونوں جانب یکساں طور پسندیدگی سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ چھے دہائیوں سے زیادہ اپنے ادبی دور میں انہوں نے شاعری، افسانے، سوانح عمری، مضامین، پنجابی لوک گیتوں کے مجموعے اور ایک خود نوشت سمیت سو سے زیادہ

Read more

سفرنامہ پنجاب: تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (7)

” شہر دلداراں کی طرف“ ۔ گزشتہ شام کی عمدہ محفل اور لذیذ کھانے نے بہت لطف دیا تھا۔ محفل برخاست ہونے کے بعد اسی احساس کے ساتھ میں گیسٹ ہاوٴس کی چھت پہ چلی آئی۔ ابھی چاند نہیں نکلا تھا لہٰذا ماحول پہ گہری تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ گیسٹ ہاوٴس کی روشنیاں ایک محدود رقبے میں تو اس تاریکی پر غالب آئی ہی تھیں لیکن اس سے آگے گھور تاریکی تھی۔ دن کا چمکتا دمکتا روشن منظر اس وقت

Read more

ظفر یات

ظفر علی خان کی علمی و ادبی زندگی کا ایک اہم دور اس وقت شروع ہوا جب وہ شبلی نعمانی اور محسن الملک کی سفارش پر حیدر آباد پہنچے۔ شبلی 1899ء میں یہاں پہنچ چکے تھے ’اب ظفر علی خان کو ایک بار پھر اپنے اس آئیڈیل استاد کی صحبت اور راہ نمائی میسر آ گئی۔ اس خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ہم حیدر آباد میں ”شبلی جیسے وحید العصر و یکتائے زمن کے خرمن

Read more

جن کا درخت

یہاں ایک چھتنار درخت ہوا کرتا تھا۔ بہت زمانے پہلے کی بات ہے۔ بہت زمانے پہلے کی تم لوگوں کے لیے۔ درختوں اور جنوں کی زندگی میں تو یہ عرصہ اتنا زیادہ نہیں ہوتا۔ تم لوگ تین سو پینسٹھ مرتبہ سورج ابھرنے اور ڈوبنے کو ایک سال سمجھتے ہو اور ہماری زندگیوں میں سورج کے گرد گھومنے سے ایک دن بنتا ہے، اس لیے کہ ہم، یعنی جن اس کرے کی مخلوق نہیں ہیں۔ ہم تو یہاں گھومنے آتے ہیں

Read more

گمراہ لڑکی یا بے داغ چاند؟

میں اس کی زندگی میں اٹھائیسواں مرد تھا۔ باپ بھائی اور عام تعلقات والے مرد ان کے علاوہ تھے۔ یہ اس نے مجھے خود ہی بتایا تھا۔ وہ اٹھائیس سال کی تھی اور ایسی خوبصورت لڑکی کم از کم میں نے تو نہیں دیکھی تھی۔ سرخی مائل گھنے بال تھے اس کے اور لانبا قد، چہرہ دودھ کی طرح سفید تھا جس پر بڑی بڑی نیلی آنکھیں ایسے تھیں جیسے دو دیے ٹمٹما رہے ہوں۔ لانبی سی گردن ہونے کے

Read more

تم مر کیوں نہیں جاتی!

بال بکھرے ہوئے، خستہ کپڑوں میں ملبوس باون سالہ شہزاد کمرے میں داخل ہوا۔ میشا کا ذہن کلبلایا۔ تین زندگیاں! نہیں دو زندگیاں اور ایک! ایک کیا؟ پھر پچپن سالہ چست و چوکس میشا نے نے شہزاد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ ’کل پورا ایک سال ہو جائے گا۔ ایک سال سے میں اور تم باری باری اس کے سرہانے بیٹھے ہوئے ہیں! ‘ ’ہوں۔ ‘ پھر شہزاد کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ آئی، پیلے چہرے میں دھنسی

Read more

پابلو نیرودا، امن، محبت اور انقلاب کا شاعر

ہسپانوی زبان کے سب سے بڑے شاعر اور مارکسی دانشور پابلو نیرودا کو 1971 ء میں ادب کا نوبل ایوارڈ ملا تو دنیا بھر کے ترقی پسند ادیبوں، شاعروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں، امن، آزادی، انصاف اور سماجی برابری کے لیے برسرپیکار سیاسی و سماجی کارکنوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا۔ یہ ایوارڈ انہیں ایک ایسے ادب کی تخلیق پر دیا گیا تھا جس کے ذریعے انہوں نے اپنے خطے کی عوام میں بنیادی انسانی قدروں

Read more

اقبالؒ اور احیائے ملت اسلامی

علامہ اقبال ؒ کو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا گہرا ادراک و احساس تھا اور اس عظمت کے کھو جانے کا شدید ملال تھا۔ مگر وہ اس پر ماتم نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کو ان کا کھویا ہوا مقام یاد کراتے ہیں اور انہیں یہ مقام پھر سے حاصل کرنے کا ولولہ اور حوصلہ دیتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے کلام کا بیشتر حصہ ملت اسلامیہ کی عظمت کی بحالی کے عزم سے مزین ہے۔ علامہ نے ملت اسلامیہ کو خواب

Read more

پنجاب تیرے شہر میں یوں زندگی ملی (3)

” جب گلاب فرش راہ ہوئے“ ۔ ہمارا یہ دن بہت بھرپور بھی تھا اور یادگار بھی۔ ہمیں گھر سے رخصت ہوئے تیسرا دن تھا لیکن انھی دو دنوں میں ہم نے بہت مصروف وقت گزار لیا۔ صبح کھیتوں کی سیر، دوپہر کو چھانگا مانگا کی سیر اور اب شام کو مشاعرہ۔ یہ مشاعرہ پتوکی پریس کلب رجسٹرڈ نے کراچی کے مہمان شعرا کے اعزاز میں منعقد کیا تھا۔ چھانگا مانگا سے واپسی پر ہم سب پھر تیار ہونے لگے

Read more

بانکے بہاری

راجندر کمار دوبے نام تھا اس کا ۔ اور پہلی ملاقات میں اس نے اپنی زندگی کی کہانی مجھے سنا دی۔ وہ بہاری تھا اور پٹنے کا رہنے والا تھا۔ پرنس آف ویلز میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد ایک مسلمان لڑکی سے محبت کر بیٹھا تھا۔ بات کافی آگے چل نکلی۔ جب اس کے باپ کو پتہ لگا تھا تو انہوں نے اسے بلا کر کہا تھا ”بٹوا ہمرے گھر میں اگر رہنا ہے اور

Read more

وحید احمد کی شاعری : ”پریاں اترتی ہیں“

وحید احمد کی شاعری متنوع خیالات و موضوعات کی شاعری ہے۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔ ”پریاں اترتی ہیں“ تیس نظموں پر مشتمل ان کی چوتھی کتاب ہے۔ اس سے قبل ان کی منظوم شاعری کی جو شاہکار کتب منظر عام پر آئیں ان میں : ”شفافایاں“ ”ہم آگ چراتے ہیں“ اور ”نظم نامہ“ شامل ہیں پریاں اترتی ہیں ”پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کے اندر ایک متجسس اور بے قرار روح بستی ہے جو

Read more

سفر اور میں؟ پہلی قسط

صائمہ نفیس اپنے نام کے دوسرے حصے کی طرح خود بھی خاصی نفیس خاتون ہیں۔ نفیس تو وہ ہیں ہی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ خاصی متحرک اور توانائی سے بھرپور خاتون ہیں۔ انھوں نے ادبی سرگرمیوں کے فروغ ایک ادبی تنظیم چاک ایونٹ مینجمنٹ اور ادبی فورم کے نام سے تشکیل دی ہے جس کے تحت وہ ہمیشہ دل چسپ پروگرام ترتیب دیتی رہتی ہیں۔ میری اس بات کی تائید ان تمام سرگرمیوں سے ہوتی ہے جو وہ

Read more