بکھرے ہوئے لفظوں کی نامکمل کہانی

سنا ہے کہ قصے اور کہانیوں نے ظالم بادشاہوں کے دور میں رواج پایا اور ترقی کی کہ جب براہ راست بات نہ سمجھ آئے اور نہ کوئی اسے سمجھنے کی کوشش کرے تو اشاروں کنایوں میں باتیں کی جاتی ہیں اور کہانی سے اچھے اشارے کا طریقہ اور کیا ہو گا۔ ساری کہانیاں بھی اک طرز کی نہیں ہوتی کہ جن میں کچھ واضح کردار ہوں اور ان سے وابستہ کچھ باتیں۔ مگر کچھ کہانیاں پکاسو کی تصویروں کی

Read more

موہوم کی مہک تلاشتا ڈاکٹر ابرار احمد

ڈکٹر ابرار سے میری بالمشافہ دو ہی ملا قاتیں ہیں ایک دفعہ اس کے کلینک میں دس پندرہ منٹ کی ملاقات اور ایک دفعہ عنبرین صلاح الدین کی کتاب کے فنکشن میں ہم دونوں نے اسکی کتاب پر مضمون پڑھا تھا مگر اُس سے ملاقات اور تعلق کی دوسری صورتیں بھی رہی ہیں جو بالمشافہ ملاقات سے کہیں بلند اور سچی ہوتی ہیں سب سے زیادہ ملاقاتیں تو نظم نگری میں ہوتی ہیں. میں اس کی نظموں کی پرانی قاری

Read more

ابرار احمد سے دس سوالات

ابرار احمد ایک سنجیدہ شاعر ہیں، وہ نظم بھی بہت اچھی لکھتے ہیں اور غزل بھی۔ان کی ایک نظم پر مجھے یاد ہے کہ حاشیہ پر زور دار مکالمہ قائم ہوا تھا۔میں نے اس سے بھی بہت پہلے ان کی شاعری پڑھی تھی، اور ہمیشہ پسند کی۔ان کے یہاں شاعری ایک بہترین رومانی لہجہ اوڑھے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔ان کے دو شعری مجموعے آخری دن سے پہلے اور غفلت کے برابر شائع ہوئے ہیں۔ان سے فون پر بھی گفتگو ہوئی

Read more

نکولائی شیڈرین کی ایک کہانی: موژیک

اشتراکی انقلاب آنے سے پہلےروس میں ایک طبقہ ہوتا تھا جو غلام، نوکر، اجڈ ، گنوار، گھامڑ اور کام چور، غرض ہر حقارت آمیز وصف اور خاصیت کا امتزاج سمجھا جاتا تھا۔ اس طبقے کے افراد کو موژیک کہتے تھے۔  انیسویں صدی کے اواخر کا ذکر ہے ماسکو میں دو سول سرونٹس تھے ۔ دونوں کے سروں میں دماغ نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ ایک دن انہوں نے اپنے آپ کوایک ویران، سنسان جزیرے پرپایا جہاں نہ آدم نہ

Read more

اماں نامہ: ایک بلیک کامیڈی

یس بائیس سال قبل جب میں نے پطرس بخاری کو پڑھا تھا تو میرے ہونٹوں کا ذائقہ ہی بدل گیا تھا۔ کئی دنوں تک میں مسکراہٹ اور ظریفانہ سرشاری کے مدار میں گھومتا رہا اور اس سے باہر نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا تھا مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ پطرسی مدار میں اپنا گردشی چکر مکمل کرنے کے بعد مجھے وہاں سے جانا پڑے گا۔ ان ہی چکروں چکر میں، میں یوسفی مدار میں داخل ہو گیا مگر

Read more

شاکر شجاع آبادی: کسمپرسی اور امداد

چند روز قبل معروف شاعر شاکر شجاع آبادی صاحب کی اک ویڈیو وائرل ہے اور ہر طرف سے حکومت اور سرائیکی اگوانوں کو غیرت دلائی جا رہی ہے کہ ان کی کسمپرسی کا خیال کریں۔ مختلف والز پہ بہت سے دوست مجھے ان کی ویڈیو پہ مینشن کر رہے ہیں۔ میں جو کہنا چاہ رہا تھا وہ پہلے تو ڈاکٹر زری اشرف نے کہہ دیا ہے۔ ”حکومت نے انہیں دو بار تمغہ حسن کارکردگی اور 14 لاکھ نقد دیے ہیں۔

Read more

ادبی تنقید اور فلسفانہ اصطلاحات کی تاریخ (7)

دنیائے ادب میں دو لوگ ناقابلِ فراموش ہیں ایک وہ شخص جو شاعری کو بیکار اور قابلِ اجتناب سمجھتے ہوئے اس پر حملے کرتا رہا ہو اور دوسرا وہ جو اول الذکر کو یہی اعزاز دے کر شاعری کا دفاع کرتا رہا ہو۔ فلپ سڈنی کے زمانے میں ایک سٹیفن گوسن Stephen Gosson نامی حملہ آور نے مذہب کی آڑ میں شاعری پر ہرزہ سرائی کی۔ The School Of Abuse (Containing a Pleasant Invective Against Poets) اس تصنیف میں گوسن

Read more

اُردُو زبان ……دیارِ غیر میں

  اُردُو زبان دُنیا بھر میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے تیسری بڑی زبان ہے۔دُنیا بھرمیں بالخصوص برصغیر پاک و ہند میں اُردُو زبان بولنے اور سمجھنے والوں کی اکثریت پائی جاتی ہے۔ اگر اس زبان کو بین الاثقافتی زبان کہا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔اسے لشکری زبان بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ زبان فارسی، عربی،  ہندی،سنسکرت جیسی متعدد زبانوں سے مل کر بنی ہے۔ جس طرح مختلف زبانوں کے اثرات اُردُو زبان میں دیکھے

Read more

باتیں مرزا رسوا کی

مرزا محمد ہادی مرزا المعروف مرزا رسوا 20 نومبر 1858 کو لکھنو کے محلہ کوچہ آفرین خان میں پیدا ہوئے۔ مرزا رسوا کو بہت سے علوم و فنون میں مہارت حاصل تھی جن میں علم کیمیا، علم نجوم، گھڑ سواری، تیراکی، ناول نگاری اور شاعری وغیرہ شامل ہیں، تاہم ان کی وجہ شہرت ان کی ناول نگاری سمجھی جاتی ہے۔ مارچ 1898 میں رائے صاحب منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز پریس لکھنو کے تحت پہلی مرتبہ زیور طباعت سے آراستہ

Read more

شمیم حنفی صاحب کی باتیں

آرتیگا۔ ای۔ گاست نے اپنے مضمون The Barbarism of Specialization میں سائنس دانوں کی ذہنی مشغولیتوں کا دائرہ تنگ ہونے پر بات کی ہے جن کے قدم مخصوص علمی دائرے سے باہر نہیں اٹھتے۔ اس مضمون کا اردو ترجمہ ڈاکٹر تحسین فراقی نے ”اختصاص کا وحشی پن“ کے عنوان سے کیا ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اس وحشی پن نے سائنس ہی نہیں دوسرے شعبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا ہے جس میں ادب شامل ہے۔ شمیم

Read more

زمان خان کی باتیں

(محمود الحسن نے 2011 میں روزنامہ ایکسپریس کے لئے زمان خان مرحوم سے یہ انٹرویو لیا تھا۔) وہ زندگی بھر عام آدمی کے حقوق کے لیے لڑتے رہے اور اب بھی اسی راستے پر رواں ہیں، بس اب ذرا انہوں نے پلیٹ فارم بدل لیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں بائیں بازو کی طلبہ سیاست کا حصہ بن کر کبھی تو ویت نام میں جاری جنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور کبھی ایوب آمریت کے خلاف سرگرم عمل رہے۔ نیشنل

Read more

لیلیٰ

رات حامد کا فون آیا تھا کہ لیلیٰ نے اپنی بچی کے ساتھ خودکشی کر لی، دونوں کی لاشیں گاڑی ملی تھیں۔ گاڑی کے شیشے چڑھے ہوئے تھے۔ نہ کوئی خودکشی کا خط تھا اور نہ کسی کے لئے کوئی پیغام۔ یہ خبر لاس اینجلس ٹائمز میں آئی تھی، جس کو کنفرم کر کے حامد نے مجھے فون کیا تھا۔ آٹھ سال کے بعد مجھے اس کی خبر ملی تھی اور خبر بھی ایسی کہ میں نہ چاہنے کے باوجود

Read more

گلزار کا جادو جو سر چڑھ کر بولے "گر یاد رہے”

بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے سادہ اسلوب، حقیقت پر مبنی بیان ہے اور اثر انداز سے قاری کو کتاب پر پہلی نظر سے ہی اپنی گرفت میں لے لیتیں ہیں۔ ایسی کتابوں کا جادو ان میں موجود تحریر کردہ مواد کی وجہ سے ہی نہیں اثر انداز ہوتا، بلکہ اسے لکھنے والے کی شخصیت اور مزاج بھی کتاب کو ایک ایسی روح عطا کرتے ہیں جو کتاب سے نکل کر قاری سے مل جاتی ہے جو اسے روحانی

Read more

پھٹا ہوا دامن

 بس ایک لمحے کی تو بات تھی اچانک کیٹ واک کے دوران نہ جانے کیسے زرینہ کا پاؤں اُس کی چار انچ لمبی سینڈل کی ہیل میں الجھا اور پھر وہ لاکھ چاہنے کے باوجود خود کو بیلنس نہ کر سکی اور قلابازیاں کھاتے ہوئے ریمپ سے سیدھا شائقین میں جا گری۔ زرینہ کو کیا پتہ تھا کہ اچانک یہ ایک چھوٹا سا کڑا لمحہ صدیوں کی تاریخ خود میں سمیٹ کر اسے زرینہ سے زلیخا میں بدل دے گا۔

Read more

راجہ گدھ: ناول اور ناول نگار کے مابین تصادم کی روداد

بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ کو پاکستان میں ابھرنے والے ان صوفی نما فن کاروں کی جماعت کی مجموعی مساعی کی روشنی میں دیکھنا بہتر ہو گا جنہیں اقتدار کی سر پرستی حاصل رہی۔ یہ مختلف النوع افراد کا ایک ایسا گروہ تھا جو فنون لطیفہ کے کم و بیش ہر اظہار میں ایک خاص طرح کی پہچان پر مصر تھا۔ اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے اس گروہ کے فن کار خود اپنی سطح پر متحرک ہوئے اور

Read more

وجہ بے گانگی نہیں معلوم

برلن سے زاہد کے کئی فون آچکے تھے۔ قادیانی ہونے کے بعد سے وہ وہیں رہ رہا تھا اور میں نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ برلن جا کر اس سے ملوں گا، کئی دفعہ پروگرام بنایا تھا مگر جا نہیں سکا تھا۔ برلن میں ہی انگو برت نارڈ رہتا تھا۔ اس نے بھی کئی دفعہ کارڈ لکھے تھے کہ میں اس سے آ کر ملوں۔ زاہد اور انگو دونوں مجھے لندن میں ملے تھے۔ انگو سے بڑی سرسری

Read more

رواں برس کا ادبی گرو: عبدالرزاق گرناہ

ناول نگار عبدالرزاق گرناہ کا تعلق بحر ہند میں تنزانیہ کے جزیرے زینجبار (Zanzibar) سے ہے جہاں اس نے 02 دسمبر 1948 ء کو جنم لیا۔ جب زینجبار میں 1964 ء میں انقلاب وقوع پذیر ہوا تو اس کے بعد ، وہ انگلستان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوا کیوں کہ اب وہاں کے حالات ناساز گار تھے۔ ہجرت کے وقت گرنا نے عمر رواں کی صرف اٹھارہ بہاریں دیکھی تھیں۔ اگرچہ اس کی مادری زبان سواہلی تھی لیکن اس

Read more

سر سید احمد خاں: نہ اٹھا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌زاروں سے

سرسید احمد خاں کی 204 ویں سالگرہ ہے۔ وہ ہمہ جہت شخصیت تھے۔ وہ بیک وقت معلم، مقرر، ، مصنف، مصلح قوم، ماہر تعلیم، ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار اور جدید ہندوستان کے عظیم معماروں میں سے ایک تھے۔ جدید ہندوستان کی تعمیر و ترقی، فلاح اور مسلمانوں کے احیاء ملی کے لیے سر سید نے جو عظیم الشان خدمات سرانجام دی ہیں وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ حالی نے کہا تھا تیرے احسان رہ رہ کر سدا یاد

Read more

منکہ مسمی منیر نسیم (4)

تیسری قسط کا آخری حصہ عباس خان کی بیٹی رفیقہ اسے چابی دیتی تو وہ یہ سوزوکی لے کر کام پر چلا جاتا۔ چابی کے اس لین دین میں سلیمان کا رفیقہ سے کچھ معاملہ سیٹ ہو گیا۔ دونوں ہی بے حد خوب صورت تھے۔ علی اشرف کو اس افیئر کا علم کا مسجد میں ہوا۔ میاں والی کے کئی لوگ وہاں مسجد میں آتے تھے۔ رفیقہ کے چچا نے اسے بتایا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اس کا ملازم

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ قسط نمبر 6

دانتے کی مقامی زبان کے ادبی استعمال Vernacular Eloquence (De Vulgaria Eloquentia) لونجائنس (پہلی صدی عیسوی) کے نظریۂ علویت کے بعد یورپی ادب کی شعبۂ ہائے تنقید کی تشنگی صدیوں پر محیط ہے اور یہ شعبۂ ادب چلتے چلتے جیسے رک سا گیا مگر صدیوں سے مترقب ادب کے قافلے کا انتظار اب فلورنس میں پیدا ہونے والے ایک فلسفی شاعر دانتے پہ ختم ہوا۔ ادب میں علویت Sublimity کے عنصر سے پیشتر یہ امر در خور اعتنا سمجھا گیا

Read more

اجمل نیازی: چند یادیں

اب عمر کا وہ مرحلہ آن پہنچا ہے جب اکثر و بیشتر کسی ہم عصر عزیز، دوست اور شناسا کی وفات کی خبر سننے کو ملتی ہے۔ آج صبح فیس بک کھولی تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر اجمل نیازی بھی اس فانی زندگی کے جھمیلوں سے نجات پا کر ابدی زندگی کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس غم انگیز خبر کو پڑھ کر گزشتہ نصف صدی سے زیادہ کے واقعات کی فلم پردہ

Read more

کڑوی مسکراہٹ

میں نے سات سو سے زائد لوگوں کا قتل کیا ہے۔ میں نے اسے حیرت سے دیکھا۔ یہ بات سن 2042 ء کی ہے جو میں آج سن 2051 ء میں لکھ رہا ہوں۔ رچرڈ گومزے کے مرنے کے چھ گھنٹے بعد جب اس کا جنازہ ہم لوگوں کی مشترکہ رہائش گاہ ہیون لی لیونگ سے جا چکا ہے۔ میں اور سیما ریٹائر ہونے کے بعد جب ہیون لی لیونگ پہنچے تو سب سے پہلے ہماری ملاقات رچرڈ گومزے سے

Read more

راجہ گدھ کا فکری پہلو

بانو قدسیہ کو اردو ادب میں خاص مقام حاصل ہے۔ وہ ناول نگار ہونے کے علاوہ افسانہ نگار بھی تھیں۔ ناولوں میں بازگشت، موم کی گڑیا اور راجہ گدھ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ادبی زندگی کا آغاز ناولٹ سے کیا۔ راجہ گدھ بطور خاص آپ کی پہچان بنا۔ آپ مشہور افسانہ نویس اشفاق احمد کی زوجہ بھی ہیں۔ ناول کے بارے میں کہا جاتا ہے یہ زندگی کی روشن کتاب ہے۔ ایک ایسا ارتعاش ہے۔ جو انسان کے اندر

Read more

قادر یار۔ کلاسیکی پنجابی شاعری کا ایک منفرد نام

قادر یار کا پنجابی کلاسیکی شاعری میں ایک منفرد مقام ہے۔ ان کا اصل نام قادر بخش تھا۔ وہ ایمن آباد کے ایک نزدیکی گاؤں ً مچھی کے ًکے سندھو جاٹ زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کا سال 1802 ء مانا جاتا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کی مسجد سے حاصل کی۔ پنجابی چونکہ ان کی مادری زبان تھی اس پر

Read more

میں اور خدا

اس پر ایمان لانا میری مجبوری ہے۔ وہ میری محنت کا کچھ حصہ اپنے پاس ادھار رکھتا ہے۔ میں جب سرتوڑ کوشش کروں تو نتیجہ امید سے گھٹا کر اور کچھ محنتوں پر میرے استحقاق سے بڑھا کر دیتا ہے۔ اب ایسی ہستی جس کی طرف آپ کا حساب کتاب (خصوصاً ادھار) نکلتا ہو۔ اسے کیسے نہ مانیں؟ کوئی تیسری بار میں نے مولانا صاحب کے سامنے رکھے اس طشت کو دیکھا جس میں مٹھائی رکھی تھی۔ وہ اور ساری

Read more

سومرسیٹ مام کے افسانے "The Verger” کا اردو ترجمہ

اس دوپہر سینٹ پیٹرز، نیویل اسکوائر میں بپتسمہ کی تقریب تھی اور البرٹ ایڈورڈ فورمین نے اب تک اپنا چوب داری کا گاؤن پہنا ہوا تھا۔ اس نے اپنا نیا گاون صرف، جنازوں اور شادیوں ( با ذوق لوگ ایسی تقریبات سینٹ پیٹرز، نیو ویل گرجا میں منعقد کرنا پسند کرتے تھے۔ ) کے لیے رکھا ہوا تھا جس کی کریزیں ایسی کڑک تھیں گویا وہ الپاکا (جنوبی امریکہ میں پائی جانے والی بھیڑ) اوون کی بجائے کانسی سے بنا ہو اور اس دوپہر البرٹ ایڈ ورڈ نے اپنا دوسرا بہترین گاون پہنا ہوا تھا۔

Read more

نہیں ۔۔ گوشہ ادب

آپا نے سوچا اور پھر یہ تبدیلی بھی ایک دن کی تو نہ تھی پورے چودہ سال۔ اب تو آپا خود بھی اپنا اصلی نام بھولتی جا رہی تھی۔ وقت کو تو جیسے پر لگے تھے، تیرہ سال کی تھیں آپا، جب ہی اماں نے جھبلا سی دیا تھا کہ لڑکی ذات ہے نہ جانے کب قد نکال لے، پھر قرآن شریف بھی حفظ کرا دیا سوائے دو ایک سورۃ کے، جن میں ازدواجی مسائل کا ذکر تھا اور پھر آپا کی یادداشت بھی اتنی اچھی کہ مجال ہے جو زیر و زبر کا بھی فرق آیا ہو۔

Read more

شعر کو انگلیوں پر پرکھ لیں

اب یہ ہمارے نظام تعلیم کی خامی ہے یا کچھ اور، لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں اردو، اور اس کے علاوہ دیگر علاقائی زبانیں بھی ایک وسیع اور لازوال شعری روایت اپنے اندر سموئے ہوئے ہوں، وہاں کا پڑھا لکھا طبقہ شاعری کی بنیادی ساخت اور بنت سے اس قدر نابلد ہو، بڑے افسوس اور تشویش کی بات ہے۔

Read more

اردو زبان کی بقا کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں؟

کتابت خوش خط، فریم عمدہ اور تزئین پرکشش کے باوجود اگر املا کی غلطی اور زبان میں سقم ہو تو پڑھتے ہوئے کوفت ہوتی ہے اور تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔ اس وقت اور بھی کوفت ہوتی ہے جب بعض ایلیٹ کلاس کے خواتین و حضرات اردو کا کوئی پروگرام سیمینار، سمپوزیم، کنسرٹ کی نظامت کرتے ہوئے صحیح تلفظ بھی ادا نہیں کرتے۔ لام تشدید کے ساتھ Allama علامہ اقبال کا تلفظ alama اور elama کرتے ہیں اور ایکسنٹ سے ایسا

Read more

اودھو

بھور کے پنچھی چمکیلے پر پھیلا رہے تھے، سورج ابھی ابھرا نہیں تھا۔ ہوا صاف تھی، یمنا ندی ایسی مانو شیشہ ہو، اور جھانکنے پر ندی کی تہہ دکھ رہی تھی۔ اتنے میں دو جوان ایک جانب سے آتے دکھائی دیے، ایک سی چال، ایک جیسی دھوتی اور ایک جیسے انگ وستر، دیکھنے پر لگتا تھا جڑواں پکھیرو ہوں۔ ”آج ہوا کچھ زیادہ ہی ٹھنڈی ہے، ہے نا مادھو؟“ اودھو نے اپنا انگ وستر کستے ہوئے کہا۔ لیکن مادھو اپنے

Read more

دیوانِ غالب

(آغا گل بلوچستان سے اردو فکشن کی آبرو ہیں۔ "دیوان غالب” ایسی کہانی ہے جو نسلوں کی نفسیات بدل کے رکھ دیتی ہے۔ بولان کی سنگی چٹانوں سے برآمدہ برگ سبز) سیاہ مجلد دیوانِ غالب کو میں بہت سینت سینت کر رکھتا ہوں۔ مقدس کتابوں کی طرح اس پر کپڑے کا غلاف چڑھا رکھا ہے۔ اس لیے اس کی چرمی جلد تو دکھائی ہی نہیں دیتی۔ بعض دوست میری لائبریری میں دیوانِ غالب تک رسائی حاصل کر بھی لیں تو

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ (قسط نمبر 5)

اسم کی مماثلت کی پاداش میں اس تصنیف کا شاعر قرطاس تاریخ پر ابھر نہ سکا۔ پس یہ ساکنان شام کی ملکہ زینوبیا Zenobia کا وزیر ہو، یونانی ہو یا رومن، فرق نہیں پڑتا، لونجائنس اپنے کام سے امر ہو گیا نام سے دفن۔ تاریخی شواہد میں اس تصنیف کے چند مصرعے بطور حوالہ تیرھویں صدی عیسوی کی ایک کتاب میں ملتے ہیں، پھر سولھویں صدی میں 1554 میں Francis Robortello نے اور 1560 میں Niccolò da Falgano نے اس

Read more

خاموش دستک

اس نے نہ جانے کتنے عرصے کے بعد آج سگریٹ سلگایا تھا۔ سگریٹ کی ڈبیا تو اس کی لائبریری میں دو سال سے پڑی ہوئی تھی ایک دراز کے اندر۔ کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ اسے باہر نکالے لیکن اس سوچ کو دھکا دے کر ہمیشہ ذہن سے نکال دیا کرتا تھا۔ لیکن آج کا دن مختلف تھا گرمی عروج پر تھی ہوا بھی خلاف معمول رکی ہوئی تھی جیسے کسی کے آنے کی منتظر ہو۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ایک اداس خاموشی۔ اس کی خاموشی اور تنہائی کے ساتھ پکی دوستی تھی لیکن یہ آج کی خاموشی مختلف تھی کچھ عجیب سی، ایسے کچھ ہونے والا تھا۔

Read more

برطانیہ میں ترقی پسند شاعر امتیاز گوہؔر کی شاعری

گزشتہ ماہ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں تھیں اور بچے گھر پر تھے، جبکہ کوویڈ۔ 19 کے خوف و ہراس میں بھی قدرے ٹھہراؤ آ گیا تھا۔ اعصاب شکن پیشہ وارانہ مصروفیات کی تھکاوٹ کو کم کرنے کے لیے بیوی بچوں کے ساتھ چند روز کے لیے سکاٹ لینڈ چلے گئے۔ حسین و جمیل وادیاں، گھنے درختوں اور سبزہ سے ڈھکے ہوئے بلندوبالا پہاڑی سلسلے، شفاف پانی سے تزین خوبصورت جھیلیں، بلند و بالا پہاڑوں سے گرتی آبشاریں سکاٹ لینڈ کے

Read more

روبوٹ 420 (ایک ایکٹ کا ڈراما)

(پیشکار تھیٹر کمپنی (Peshkar) نے یہ ڈرامہ جون۔ جولائی1992ءمیںورنتھ پارک اولڈہم (Werneth Park, Oldham) اور ابراہم موس سنٹر چیتم ہل، مانچسٹر (Abraham Moss Centre Cheetham Hill, Manchester) میںپیش کیا۔ یہ جین کریو (Jan Crew) کے کھیل Robot TS137 سے ماخوذ ہے۔ ]) کردار مرزا نادرہ (بیگم مرزا) روبوٹ مسٹر اور مسز چوہدری پہلا منظر (مرزا کا گھر۔ مرزا ایک آرام کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے۔ نادرہ کی آواز سنائی دیتی ہے) نادرہ: میں تو تنگ آچکی ہوں۔ ایسے

Read more

میں ہوں مغرب کا المیہ!

انسانی معاشرے میں آئے روز کئی المیے جنم لیتے ہیں۔ کبھی ان کی نوعیت انفرادی ہوتی ہے تو کبھی گروہی۔ غاروں کے زمانے سے لے کر جدید ٹیکنالوجی کے دور تک، چشم فلک نے کئی انسانی المیے دیکھے۔ غلامی، قتل و غارت گری، جبر و استبداد، لوٹ ماری، عزتوں کی پامالی، یہ سب انسانی المیوں کی بھیانک شکلیں ہیں۔ سادہ معاشرے کے مسائل بھی سادہ تھے۔ جب سے معاشرتی ترقی کو صنعتی پہیے لگے ہیں تو زندگی میں عجب سی

Read more

من کہ مسمی منیر نسیم… (3)

دوسری قسط کا آخری حصہ یہاں کے مرد کڑیل، عورتیں حسین، گھوڑے اور بیل ناچنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ قتل کا بدلہ ضرور لیتے ہیں۔ اس میں بھی ایک شان رکھ رکھاؤ ہے۔ بیٹی گھر میں کنواری بیٹھی ہے تو بدلہ موقوف رہے گا۔ بیٹی سب کی سانجھی ہے۔ اس بے چاری کو اپنے گھر کی ہو لینے دو۔ دشمن کی بیٹی رخصت ہو کر جائے گی تو اسے رخصت کرنے گاؤں کی سرحد تک دیگر گھر والوں کے ساتھ

Read more

کلیات یگانہ میں ترتیب اور تلاش کا طریقہ کار

اردو ادب میں یہ روایت اور رواج ہے کہ شاعر یا فنکار کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے کے لیے اس کی تخلیقات کو ادوار میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ان ادوار سے تخلیق کار کے موضوعات اور اسالیب کے درجہ بدرجہ ارتقا کا علم ہوتا ہے۔ اس ارتقا میں بہت سے معاشرتی، سیاسی، ذہنی اور انفرادی عوامل ہوتے ہیں۔ اس ارتقا کی درست نشان دہی کا پہلا عنصر یہ ہے کہ تخلیقات کی تاریخیں معلوم ہوں یعنی کون سی

Read more

آدم جی انعام کی یادیں

آدم جی انعام کے اعلان سننے کا تجربہ سنئے جسے میں شاید کبھی نہیں بھولوں گی۔ ہمارے خاندان میں خبریں سننے کا رواج نانا دادا کے زمانے سے ہے۔ نانا کے ہاں پہلے پہل ریڈیو آیا تو جنگ عظیم کی خبریں محلے والے سننے آتے تھے۔ عورتوں کو پردے میں جانا ہوتا تھا، اور سچ بات ہے عورتوں کو خبروں سے دلچسپی کم ہی تھی۔ چنانچہ خبریں کسی زبان میں ہوں ریڈیو آن ہوتا تھا۔ یہ عادت ہمارے گھر تک

Read more

من کہ مسّمی منیر نسیم…. (2)

پہلی قسط کا آخری حصہ آپ کا خادم من کہ مسمی منیر نسیم اے ایس آئی، ان دنوں معطل ہے۔ معاملہ کچھ خاص نہیں تھا مگر ہم پنجابی ملازمان، سندھی میں کہتے ہیں ” شل نہ“ جس کا مطلب ہوتا ہے ’اللہ نہ کرے‘ ان کم بخت، ڈی ایم جی افسران کے ہتھے چڑھ جائیں۔ میری معطلی کے احکامات خاص طور پر سیکر ٹری محکمہءداخلہ سے موصول ہوئے تھے۔ ہم پولیس والوں سے تو یوں بھی یہ زکوٹے جن، اینٹ

Read more

محمد نصیر زندہ جدید رباعی کا کوزہ گر

شاعری وصف پیمبری ہے، اپنی ذات کا وجدان پائے بغیر قافیہ کاری تو کی جا سکتی ہے، مگر بلند پایہ مضمون، یا شعری جمالیات سے بھر پور کوئی مصرع نہیں کہا جا سکتا۔ کوئی تخلیق کار اپنی ذات کا ہی سراغ پا لے تو اسے کامیابی کی دلیل کہا جائے گا مگر محمد نصیر زندہ، جنھوں نے اپنے شعری مجموعہ کا نام ”میرا دوسرا وجود“ رکھا ہے، نے اپنی ذات کا وجدان پا لیا ہے، انھوں نے بڑی مہارت سے

Read more

من کہ مسّمی منیر نسیم (1)

”من کہ مسمی اے ایس آئی منیر نسیم، متعینہ تھانہ جوہر آباد امشب بحکم ایس ایچ او بہادر جعفر نقوی، علاقہ گشت پہ تھا کہ مخبر خاص، جہانگیر بھورے کے ذریعے یہ اطلاع ملی تھانے کے قرب و جوار میں واقع ایک غیر قانونی طور پر قائم شدہ ٹال کے پہلو میں، لکڑی کے بے ترتیب ڈھیر کی آڑ میں ایک نوجوان جوڑا دنیا و مافیا سے بے خبر والہانہ انداز میں باہم بوس و کنار ہے۔ ان کا یہ

Read more

غٹئی (ایک سچی کہانی)۔

خدا جانے نام اس کا کیا تھا لیکن سب اسے غٹئی کہتے تھے۔ غٹئی کا مطلب ہے موٹی یا بڑی۔ موٹی تو وہ بالکل نہیں تھی پھر نہ جانے کیوں اس کا نام غٹئی پڑ گیا۔ شاید وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی اس لئے والدین نے اسے غٹئی پکارا ہو گا۔ یہی پھر اس کا نام پڑ گیا، ویسے بھی جب حیثیت شکل اور لباس سے جھلکتی ہو تو کسے پڑی ہے کہ حقیقی نام معلوم کرے؟

Read more

بڑے دادا

مدرسہ مجیدیہ کے آنگن میں میرے ابا مولانا امداد احمد علی تعزیتی ہجوم میں گھرے چھوٹے دادا کے آخری لمحات کے بارے میں بتا رہے تھے ”حسب معمول تہجد کے لئے بیدار ہوئے، وضو بنایا اور تہجد کے معمولات سے فارغ ہو کر اسی مصلے پر کمر سیدھی کرنے لیٹ گئے۔ حسب معمول فجر کی اذان کے ساتھ بیدار ہوئے اور وضو تازہ کر کے خلاف معمول اسی مصلے پر دو سنتوں کی نیت باندھ لی اور پہلی رکعت کے

Read more

ھم دیکھیں گے (گزشتہ سے پیوستہ)

اج دولتاں ساڈے گھر آ گئیاں نیں جب بھٹو برسراقتدار آئے تو پاکستان ٹی وی کی لائیو ٹرانسمیشن میں ساری رات بھٹو صاحب کی کامیابی کا جشن منایا جا رہا تھا مجھے دس بجے کے قریب فیض کا فون آیا، کہا، ‘ آ جاؤ،’ میں ہوٹل انٹر کا نٹیننٹل پہنچا جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ دروازے پر گھنٹی دی تو ایک دبلا پتلا شخص نمودار ہوا اور دروازے کے چوکھٹے میں آڑا ہو کر ایسے کھڑا ہوگیا کہ میں اندر

Read more

اردو ادب میں شہرت اور گلیمر کا بڑھتا ہوا رجحان

تاریخی اہمیت کے حامل قدیم دریائے سندھ کی تہذیب کے آثار قدیمہ ہڑپہ اور موہنجوداڑو سے کون واقف نہیں۔ پاکستان میں واقع یہ قدیم مقامات اندازہً 2500 ق م پرانے ہیں۔ ان پوشیدہ حقیقتوں کو آج کی دنیا کے لئے دریافت کرنے والی شخصیت سے شاید کم ہی لوگ واقف ہوں یعنی سرجان ہوبرٹ مارشل جو کہ 1902 ء سے 1928 ء تک آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل رہے۔ اس کی اس کاوش اور لگن کی بدولت ہم

Read more

جنم ورودھی

سکھیا اس کی دیوانی تھی۔ وہ ہیر گاتا تو کسی پجارن کی طرح اس کے بولوں میں کھو جاتی۔ قالوا بلٰی دے دینہہ نکاح بدھا روح نبی دی آپ پڑھایا ای قطب ہو وکیل وچ آ بیٹھا حکم رب نے آن کرایا ای یوم الست کو جب خدا نے پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں؟ تو مجسم روحوں نے خدا کے سامنے سر جھکا دیا، قالو بلیٰ، شھدنا۔ وہ سکھیا کا بازو پکڑ کر کہتا ”تیرا میرا نکاح بھی

Read more

ادبی تنقید اور فلسفانہ اصطلاحات کی تاریخ قسط نمبر4

نظم: فن شاعری Ars Poetica ہر شعبۂ حیات و تخلیق میں اہل یونان کی تنقیص و تقریظ والے نوشتے جدید علم و فکر کے فٹ نوٹس مانے جاتے ہیں۔ حریم یونان میں مفکرین کا غیر معمولی تفکر نے انھیں اس مقام پہ متمکن کر دیا ہے کہ علم اور اہل یونان ایک دوسرے کے مترادف بن چکے ہیں۔ تزئین ادب اور بڑا ادب تخلیق کرنے کے لئے یونانیوں کی ادب پر دور اندیشی، باریک بینی، ژرف نگاہی، آفاقی نظریات، اور

Read more

اردو غزل ابتدا سے بہمنی سلطنت تک

شمس قیس رازی لکھتے ہیں ”غزل اس درد ناک چیخ کا نام ہے جو ہرن کے منہ سے اس وقت نکلتی ہے جب اسے شکاری کتوں سے بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی“ جب کہ علامہ شبلی کہتے ہیں ”غزل کی تحریک عشق و محبت سے ہوتی ہے“ ۔ ہیiت کے اعتبار سے غزل ایک خاص صنف سخن کا نام ہے۔ جس میں مطلع، مقطع، قافیہ، ردیف کا ہونا ضروری ہے۔ غزل کے اشعار زیادہ سے زیادہ سترہ اور کم

Read more

تھالی کا بینگن – ایک ثقافتی استعارہ

ہر تخلیق چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہو اپنے اندر ایک خاص طرح کا اظہار لیے ہوئے ہوتی ہے جس کو کہانی کار اپنے الفاظ کی صورت میں ایک منفرد رنگ عطا کرتا ہے اور پھر اس رنگ سے سماج کی اس انداز میں منظر کشی کرتا ہے جو عام فرد کے بس کی بات معلوم نہیں ہوتی یہی رویہ ہمیں کرشن چندر کے افسانے تھالی کا بینگن میں نظر آتا ہے جو آج بھی گزرے اور موجود سماج

Read more

”سدہارتھ“ ناول کے بارے میں ڈاکٹر خالد یوسف کے ساتھ ایک مکالمہ

یادش بخیر۔ ہمارے یار مہربان ڈاکٹر خالد یوسف سے جب بھی بات ہو ذہن پر پرانی یادوں کے کسی ساون کی پھوار گرنے لگتی ہے۔ دو تین مہینے ہوئے انہوں نے میر پور سے فون پہ بتایا تھا کہ وہ ”ہرمن ہیس“ کے ناول سدہارتھا میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد گاہے گاہے فون کر کے ناول کے بارے میں اپنے خیالات اور تاثرات سے بھی آگاہ کرتے رہے۔ ادب کے بارے میں ہماری گفتگو کالج کے زمانے سے

Read more

قدیم یونانی فلسفہ

فلاسفی یونانی لفظ ہے جس کا اصل معنی عقل و دانش سے محبت ہے۔ یونانیوں کی ذہانت و فطانت سب سے زیادہ فلسفے کے شعبے میں نمایاں ہوئی۔ یہ کہنا تو مبالغہ ہوگا کہ فلسفہ یونان کی ایجاد ہے کیونکہ یونان میں فلسفہ کے آغاز ( 6 ویں صدی ق م ) سے پہلے چین اور ہندوستان میں بھی فلسفے کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ابتدا میں مصر اور بابل کے افکار و نظریات سے یونانی مفکرین

Read more

اردونصابات: غریب کی جورو سب کی بھابھی

پاکستانی تعلیمی اداروں میں اردو، غریب کی جورو سب کی بھابھی بنی ہوئی ہے۔ ریاستی آئیڈیالوجی، مذہب، اخلاقیات، تاریخ غرض کیا کچھ نہیں ہے جسے اردو کے نصابات میں ٹھونسا نہیں جاتا۔ اردو، غریب کی جورو کی طرح سب کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے، اور وہ سب بوجھ اٹھاتی ہے جو حقیقت میں دوسرے مضامین کے ہیں۔ اردو نصابات کی اس بوالعجبی کا علم سب کو ہے، مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کے چلن نے، اس کی طرفگی

Read more

ہاں بھئی زندہ ہو؟

فیض صاحب جب بھی مجھے ملتے سب سے پہلے یہی پوچھتے۔ ’ہاں بھئی زندہ ہو؟‘ میں سوچتا کیا وہ مجھ سے یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ میں تخلیقی یا ذہنی طور پر مر تو نہیں چکا، کہیں میں نے جینے کی ہمت تو نہیں ہار دی؟ ایک دن ملاقات ہوئی تو دیکھا سفید پتلون پر تربوزی رنگ کی بڑی رونقی اور پربہار بش شرٹ پہنے کھڑے ہیں۔ ہونٹوں میں سگریٹ کی لٹک اور آنکھوں میں ہلکی سی غنودگی، ’ہاں

Read more

بے گھری کی لعنت

وہ اپنے بوائے فرینڈ کے کندھوں پر سر رکھ کر زار و قطار رو رہی تھی اور درد بھرے لہجے میں کراہتے ہوئے کہہ رہی تھی، ہنی، مجھے نہیں جینا۔ یہ دنیا رہنے کے قابل جگہ نہیں۔ بس مجھے مرنے دو۔ اس کا بوائے فرینڈ اسے تسلی دے رہا تھا، سویٹ ہارٹ، ایک نوکری چلی گئی تو کیا ہوا، تم اتنی پڑھی لکھی ہو، سمارٹ ہو، خوبصورت ہو، تمہیں کوئی بھی اچھی ملازمت مل جائے اپنے دل کو تسلی دو

Read more

کوئی چشمہ نکل آیا

جاوید قاسم کا شمار ایسے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو شاعری کو ہمیشہ نئے مضامین اور تجربات سے نوازا۔ ان کی شاعری میں ان کی زندگی کے تلخ تجربات ’سرمایہ دارانہ سوچ کے حامل ادبی غنڈوں گردوں کے خلاف احتجاج‘ یورپی استعماری رویوں سے پروان چڑھنے والے غیر انسانی رویوں کی بازگشت ’سماجی عدم تحفظ‘ انسانی تذلیل اور وحشت و بربریت کی مثالیں بڑی واضح دیکھی جا سکتی ہے۔ جاوید قاسم کا مسئلہ کبھی بھی ذاتی نوعیت

Read more

اردو کا نوحہ کیا کہئیے

ابھی کل کی بات ہے کتب و رسائل کو پڑھنا ہر پڑھے لکھے گھرانے کی روایت تھی۔ اور تو اور سکولوں میں بھی بزم ادب سجانا، مضمون نویسی، مشاعرے، مباحثے، تقریری مقابلے منعقد کرنا معمول کا حصہ تھا۔ اس طورہم اپنی تاریخ، تہذیب اور اخلاقی روایات سے آگاہ ہوتے تھے۔ بڑھا دیتی ہیں عمروں کو نہ جانے یہ کتابیں کیوں میں چھوٹا تھا مگر سر پر کئی صدیوں کا سایہ تھا گئے دنوں میں معیاری ادب پڑھنے لکھنے سے ہم

Read more

شگفتہ شفیق کون ہیں؟

ارسطو کا خیال ہے کہ ” شاعر بھی فلسفی کی طرح کائناتی سچائیوں کو ڈھونڈتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ شاعر کے پاس کہنے کی اضافی خوبی ہے۔“ کہنے کی صلاحیت ایک پیدائشی خوبی ہے۔ (اختلافی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ) وقت کے ساتھ ساتھ اور فنون لطیفہ کی طرح شعری صلاحیت بھی ارتقا پذیر ہے۔ رجحان البتہ بچپن سے ہی عیاں ہو جاتا ہے۔ جیسے کھیت کے لیے مناسب موسم، زرخیز مٹی، بیج اور فصل پکنے

Read more

اس نے کہا تھا: اردو کا پہلا پوسٹ ماڈرن ناول

اشعر نجمی کے ناول ’اس نے کہا تھا‘ کو پڑھتے وقت مجھے بار بار شہرۂ آفاق چیک ناول نگار میلان کنڈیرا کی یاد آتی رہی۔ اس لیے نہیں کہ اس ناول کی مطابقت میلان کنڈیرا کے کسی ناول سے ہے بلکہ اس لیے کہ میلان کنڈیرا کے ناول پر لکھی اپنی تحریروں میں ناول کی فنی خوبیوں پر جو گفتگو کی ہے، اس کا عکس اشعر نجمی کے ناول میں حیرت انگیز طور پر نظر آتا ہے۔ میلان کنڈیرا کی

Read more

قدیم یونان میں ”ڈرامے“ کا فن

تیسرے ہزار قبل مسیح (3000 ق م) سے قدیم جزیرہ نما اور اس کے گرد و نواح کے ایجیئن جزائر میں کانسی دور (Bronze age) کی تہذیب (جس کو ایجیئن تہذیب کہا جاتا ہے) کی ابتداء اور نشو و نماء ہوئی جو بعد میں ایشیا کوچک سے وقتاً فوقتاً آنے والے دوسرے آریائی نسل باشندوں کی آمد اور کئی مراحل اور نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد 6 ویں اور 5 ویں صدی ق م کے دوران یونان خاص

Read more

ادبیات کا چمن اور اڑان بھرتے پرندے

لوئیس بورخیس نے کہا تھا، "ایک دوسرے کو الوداع کہنا گویا بچھڑنے سے انکار کرنے کے مترادف ہے، یعنی آج بچھڑنے کا کھیل کھیل رہے ہیں کل باہم ہونگے۔ ” وقت کی مسافت سے زندگی عبارت ہے نیز شب و روز کی کشمکش معین ہے۔ گردش دوراں کبھی کبھی ہم فانی انسانوں کیلئے ایسے لمحات لے آتی ہے کہ سرخوشی و طرب کا زندگی سے ناتا ٹوٹ جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک ناگزیر گھڑی ایک استاد کا طلباء کو ایک

Read more

نامور گیت نگار راجہ مہدی علی خان اور مولانا ظفر علی خان

نامور گیت نگار راجہ مہدی علی خان (1912 تا 1966) اور مولانا ظفر علی خان رحمہ اللہ علیہ (1873 تا 27 نومبر 1956) کے بارے میں کرکٹ تبصرہ نگار راجہ اسد علی خان کی بات چیت ٭٭٭            ٭٭٭ ” بھارتی فلمی دنیا کے نامور گیت نگار راجہ مہدی علی خان میرے والد راجہ فاروق علی خان کی پھوپھی ’ہوبیہ خانم‘ کے بیٹے تھے۔ مولانا ظفر علی خان رحمۃا اللہ علیہ میرے دادا کے سگے بھائی

Read more

عقد ثانی

صاحب! عرصہ پہلے ہم نے کسی دکھیا فلاسفر کا یہ قول پڑھا تھا کہ انسان کے لیے بہترین چیز تو یہ ہے کہ وہ شادی نہ کرے لیکن اگر بدقسمتی سے اس کی شادی ہو جائے تو اس کے لیے اگلی بہترین چیز یہ ہے کہ وہ فوری طور پر علیحدگی اختیار کر لے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ مرد حضرات (شادی شدہ) کی ایک قابل ذکر تعداد اسی خیال کی حامی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ خوف فساد

Read more

کتاب اور ہم

کتابوں کے ساتھ ہمارا کوئی عجیب قسم کا تعلق ہے۔ اس لیے ہم نے ان کو طاق نسیاں پر رکھا ہوا ہے۔ جیسے ہی ہم بولنا شروع کرتے ہیں ہمارا واسطہ کتاب سے پڑتا ہے اس لیے کتاب کو دیکھ کر ہم کو نیند آنا شروع ہو جاتی ہے اور اکثر و بیشتر یہ سلسلہ تمام عمر چلتا ہے۔ اس لیے لوگ اپنے آپ کو کورس کی کتابوں تک محدود کر لیتے ہیں لیکن پھر ان کو کورس کی کتابیں

Read more

سکھ دوشیزہ، ٹیوشن والے ماسٹر جی اور عشق کا سبق

چند برس ہوئے نئی دہلی کے سکھ انجنئیر کی لڑکی کو ایک ماسٹر جی گھر پر پڑھاتے تھے۔ ماسٹر جی لڑکی کو ایک الگ کمرے میں سبق دیتے، تاکہ لڑکی کی تعلیم میں کوئی مخل نہ ہو۔ ماسٹر جی جوان تھے، اور لڑکی بہت خوبصورت تھی۔ ماسٹر جی کی اس ٹیوشن کے ساتھ ساتھ عشق کے دیوتا نے بھی اپنا سبق دنیا شروع کر دیا۔ دونوں کے درمیان زندگی ہمیشہ مل کر گزارنے کا عہد ہوا۔ ایک روز صبح لڑکی

Read more

طوطخ امن کی بہنیں

ڈیوڈ نے کمرے میں آ کر بتایا کہ خلیے جاگ گئے ہیں اس کا چہرہ دمک رہا تھا، سانس پھولی ہوئی تھی، بجائے فون کرنے کے وہ تجربہ گاہ سے خود بھاگتا ہوا میرے کمرے میں آ گیا تھا۔ خلیوں کے جاگنے کی خبر سنتے ہی میں اس کے ساتھ روانہ ہو گیا تھا۔ خبر ہی ایسی تھی کہ میں خود کو جانے سے روک نہیں سکا تھا۔ لیبارٹری میں مکمل خاموشی تھی۔ نیلی روشنی میں لز اور آمنہ ساتھ

Read more

شریف لڑکیاں طوائف کیوں بنتی ہیں؟

آپ کسی بھی طوائف کے پچھلے حالات کی تحقیقات کریں، تو یہ ثابت ہو گا، کہ ایک دو یا تین پشت پہلے یہ اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی، اور اگر اس نے شادی کر لی، تو دو تین یا چار پشت کے بعد لوگ اس کی طوائفیت کو بھول کیے۔ ان طوائفوں کی انسٹی ٹیوشن یا نسل میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس صورت میں، کہ شرفاء کی لڑکیاں بری صحبت کے باعث گھروں سے نکل جاتی ہیں۔ گھروں

Read more

کملیشور کی کہانی: گرمیوں کے دن

چنگی کا دفتر خوب سجایا بنایا جا چکا ہے۔ اس کے پھاٹک پر قوس قزح کی وضع کے سائن بورڈ آویزاں ہیں۔ سید علی پینٹر نے بڑے مشاق ہاتھوں سے انہیں بنایا ہے۔ دیکھتے دیکھتے شہر میں ایسی بہت سی دکانیں ہو گئی ہیں جن پر سائن بورڈ لٹک گئے ہیں۔ اب سائن بورڈ لگانا اپنی عزت و وقعت کا بڑھانا ہے۔ بہت دن پہلے جب دینا ناتھ حلوائی کی دکان پر پہلا سائن بورڈ لگا تھا تو وہاں دودھ پینے والوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ پھر جیسے ایک سیلاب سا آ گیا اور نئے نئے طریقے اور بیل بوٹے ایجاد کیے گئے۔ ”اوم“ یا ”جے ہند“ سے شروع کر کے ”ایک بار ضرور آزمائش کیجیے“ یا ”ملاوٹ ثابت کرنے والوں کو سو روپیہ نقد انعام“ کے محاوروں اور نعروں پر عبارت ختم ہونے لگی۔

Read more

ایرانی افسانہ نگار جمال میر صادقی اور ڈاکٹر اطہر مسعود کی ترجمہ نگاری…

ڈاکٹر محمد اطہر مسعود فارسی ادبیات کے سنجیدہ طالب علم ہیں اور فارسی ادب اور فنونِ لطیفہ کے کئی قدیم و جدید فن پارے اردو اور انگریزی میں ترجمہ کرکے اہلِ فن سے داد پا چکے ہیں۔ پچھلے دنوں اُن کے ترجمہ کردہ فارسی افسانوں کے مجموعے جمال کہانیاں کا دوسرا ایڈیشن (2021ء) شائع ہوا تو سوچا کہ اُن کے فنِ ترجمہ نگاری کا ایک تحقیقی جائزہ لے لیا جائے۔ جمال کہانیاں میں جدید ایران کے معروف افسانہ نگار جمال

Read more

یادوں کے ذرے

میں نے افسانے لکھے، ناول لکھے، مزاح لکھا، شاعری کی اور پھر خاکے بھی لکھ ڈالے پھر بھی کچھ نہ کچھ لکھنے سے رہ جاتا ہے اور ایسا بھی ہوا کہ بہت کچھ ڈائریوں میں لکھا رہ گیا۔ آصف فرخی نے ایک مرتبہ کہا کہ انھیں ڈائریوں میں لکھی ہوئی تحریروں سے دلچسپی ہے سو میں نے بہت سی چھوٹی موٹی چیزیں انھیں بھیج دیں جو دنیا زاد میں افسانچوں کے نام سے شائع بھی ہو گئیں۔ اب ڈائریوں کے

Read more

الفاظ سوچ کے اوزار

امریکہ سے تعلق رکھنے والی شاعرہ امیلی ڈکنسن کہتی ہیں کہ اس جہاں میں کچھ بھی ایسا نہیں جو لفظوں سے زیادہ طاقتور ہو۔ لفظوں میں زندگی ہوتی ہے اور ان کی طاقت اور اثر ایک اٹل حقیقت ہے۔ لفظوں کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ اور یہ سننے والے پر اپنا منفی یا مثبت اثر ضرور چھوڑتے ہیں۔ اسی لئے شاید کہتے ہیں کہ تیر کے گھائل کو اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی لفظوں کے گھائل کو ہوتی ہے۔

Read more

منیر نیازی کے آٹوگراف سے انورسدید اور رام ریاض کے احمد ندیم قاسمی پر سنگین الزامات تک

منیر نیازی کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ چاہنے کے باوجود احمد فراز کی طرح خواتین میں بہت زیادہ مقبول تو نہ ہو سکے تھے لیکن ان کے سارے شوق فراز سے ملتے جلتے ہی تھے بلکہ ایک دو مقامات پر وہ فراز کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بھی محسوس ہوتے ہیں، ہاں ان کے ہاں اپنی شکل و صورت کے حوالے سے ”ہم سا ہو تو سامنے آئے“ والی کیفیت بھرپور طریقے سے پائی جاتی تھی اور اکثر اپنی

Read more

جھویرچند میگھانی کی کہانی: بدمعاش

ریل کے پہیے پہلا چکر گھوم چکے تھے کہ رام لال بھاٹی نے آخری کمپارٹمنٹ کا دروازہ کھول کر اپنی بیوی کو اندر دھکیل دیا۔ ریل کے پہیے ”کھٹ کھٹ کھٹاک“ تیزی سے گھومنے لگے، گونجنے لگے۔ تین بچوں اور ایک ٹرنک کو بھی رام لال نے کھڑکی میں سے باقاعدہ پھینک دیا۔ رکمنی سب سے آخر میں پھینکے گئے ٹرنک اور گود کے بچے کو سنبھالنے میں ہی مصروف تھی کہ ریل پلیٹ فارم چھوڑ چکی تھی۔

خالی پلیٹ فارم پر جو لوگ کھڑے تھے اور جنھوں نے یہ منظر دیکھا تھا۔ انھوں نے رام لال کو سنانی شروع کیں۔

”صاحب لوگوں کے بیٹے ہیں سب کے سب پنکچوئل ٹائم پر ہی آئیں گے۔ ذرا جلدی آ جائیں تو چھوٹے باپ کے نہ بن جائیں۔“

”اور پھر یہ تک نہ سوچا کہ بیوی کو کس کے حوالے کر رہے ہیں۔“

Read more

احمد فراز : برسوں کے بعد دیکھا ، اک شخص دلربا سا !

” یہ ممکن نہیں ہو گا۔“ یہ جواب کسی قدر حوصلہ شکن تھا جب میں نے 1990 کی دہائی میں، ان سے ان کے بارے میں ایک دستاویزی پروگرام کی رکارڈنگ کے لئے وقت مانگا۔ ٹیلی وژن اور ایسے دوسرے نشریاتی اداروں میں مقررہ وقت پر کسی بھی کام کی خوش اسلوبی سے تکمیل پہلی ترجیح بن جاتی ہے اور پروڈیوسر اپنی غرض میں اتنا لالچی ہو جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اپنی ساری مصروفیات چھوڑ

Read more

دھوپ کا ایک ٹکڑا

کیا میں اس بنچ پر بیٹھ سکتی ہوں؟ نہیں آپ اٹھیے نہیں، میرے لیے یہ کونا ہی بہت ہے۔ آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ میں دوسری بنچ پر کیوں نہیں بیٹھ جاتی؟ اتنا بڑا پارک ہے، چاروں طرف خالی بنچیں ہیں پھر میں آپ ہی کے پاس کیوں بیٹھنا چاہتی ہوں۔ برا نہ مانیں تو ایک بات کہوں۔ جس بنچ پر آپ بیٹھی ہیں، وہ میری ہے۔ جی ہاں، میں یہاں روز بیٹھتی ہوں۔ نہیں آپ غلط نہ سمجھیں۔ اس بنچ پر میرا نام نہیں لکھا ہے۔ بھلا میونسپلٹی کی بنچوں پر نام کیوں؟ لوگ آتے ہیں۔ گھڑی دو گھڑی بیٹھتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔ کسی کو یاد بھی نہیں رہتا کہ فلاں دن فلاں آدمی یہاں بیٹھا تھا۔ اس کے اٹھ جانے کے بعد بنچ پہلے کی ہی طرح خالی ہوجاتی ہے۔

Read more

ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں –

” سرمد یار میں تے چل ھاں، پر ایہہ باقی لوگ کون نیں؟” (سرمد یار چلو میں تو ہوں لیکن یہ باقی لوگ کون ہیں) منیر نیازی نے شام کو مال روڈ پر آوارہ گردی کرتے ہوئے کہا ” کون منیر صاحب؟” میں نے پوچھا  "ایہی مکروہ چہرے، خبیث روحاں تے چڑیلاں جیہڑیاں میرے اگے پچھے پھردیاں رھندیاں نیں۔”  (یہی مکروہ چہرے، خبیث روحیں اور چڑیلیں جو میرے آگے پیچھے پھرتی رھتی ہیں )  ” چھڈو منیر صاحب! آخر اللہ

Read more

تسبیح: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

خدا ریاضی کے ہر معلم کے ماں باپ کو، بلا استثنا، معاف فرمائے۔ اگر وہ اس دنیا سے جا چکے ہیں تو خدا کا نور ان کی قبروں پر برسے۔ اگر بقید حیات ہیں اور سانس لیتے ہیں، تو خدا ان کی عمر اور عزت میں اضافہ فرمائے۔ ہر ممکن طریقے، خوش زبانی، مہربانی، نصیحت اور ملائمت، ڈانٹ ڈپٹ، سخت کلامی، کانوں اور گردنوں پہ تھپڑ، لکڑی کے فٹ سے ہتھیلیوں پر ضربوں، غرض یہ کہ ہر ممکن طریقے سے

Read more

رضیہ آپا، ان کے کچھ افسانے اور میں

کہا جاتا ہے کہ اکثر بڑے ادیبوں اور دانشوروں سے دوری ہی بھلی، کیونکہ ان سے قربت پہ ان کی شخصیت کے جو مخفی ناپسندیدہ روپ آشکار ہوتے ہیں وہ آپ کو مایوس کرتے ہیں اور تب آپ سوچتے ہیں کہ اس سے تو بہتر تھا کہ صرف ان کی تحریروں پہ اکتفا کیا ہوتا۔ لیکن اس سلسلے میں میرا تجربہ رضیہ آپا سے ملنے کے بعد مختلف ہے۔ گو رضیہ آپا یعنی رضیہ فصیح احمد، ادبی دنیا کا بڑا

Read more

کٹی پوروں سے بہتی سلیم شہزاد کی بھید بھری نظمیں

سلیم شہزاد کی شعری کائنات میں جھانکنے اور سفر کرنے کے بعد بھی، اس کے تمام دروازے مجھ پر وا نہیں ہوئے ہیں۔ اس کائنات میں سیکڑوں دنیائیں بستی ہیں، کٹی پھٹی، خون آلودہ، زخم خوردہ اور سنسان و اجاڑ دنیائیں۔ مسافروں کو لہولہان کرنے والی دنیائیں۔ میرے لیے یہ سفر آسان نہیں تھا۔ کسی کے لیے بھی یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ان دنیاؤں کا سفر ایک بار کر لیا جائے تو، بار بار ان کے سفر

Read more

کوئٹے میں اردو مرثیے کا جداگانہ رنگ

بلوچستان میں اردو شاعری کی مختلف اصناف کے ساتھ ساتھ مرثیے کی بھی ایک مضبوط روایت قائم ہے۔ خانوادہ اہل بیت سے عقیدت کا اظہار بلوچستان میں اردو کے اولین شاعر محمد حسن براہوی کے کلام میں بھی موجود ہے جو ریاست قلات کا وزیراعظم بھی تھا۔ اس کا زمانہ 1848 ء کا ہے۔ بعد میں جب انگریزوں نے انیسویں صدی کے آخر میں کوئٹے شہر کو آباد کیا تو ہندوستان بھر سے اہل صنعت و حرفت کی ایک بڑی

Read more

بھلکڑ

اس نے آفس سے باہر نکلتے ہوئے تیسری بار سوچا، وہ کہیں کچھ بھول تو نہیں آیا؟ اس کا آفس بیگ اس کے پاس تھا، موبائل و وائلٹ اس کی پاکٹ میں تھا۔ نہیں! وہ کچھ نہیں بھول رہا تھا۔ اس نے خود کو اطمینان دلایا۔ گاڑی پارکنگ سے نکال کر وہ روڈ پر لایا تو اسے یاد آیا۔ آج باس نے اسے ایک گھنٹہ لیٹ جانے کا کہا تھا۔ اوہ نو! اسے جب پتہ چلے گا کہ وہ اسے

Read more

ادبی تنقید اور فلسفیانہ اصطلاحات کی تاریخ

زندگی کے کسی شعبے میں نئے آنے والوں کو اپنا منفرد مقام بنانا گویا بھڑوں کا چھتا چھیڑنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح ادب میں نئے لکھنے والوں کے لئے ہر وہ شخص ہی ٹی ایس ایلیٹ یا گوپی چند نارنگ ہے جس نے ایک مصرع کہا ہو۔ اس کے برعکس چند لوگ بے لوث محبت اور حوصلہ افزائی کرنے والے بھی ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا چند۔ لہٰذا بیٹھے بیٹھے خیال آیا تنقید کی تواریخ اور ادب

Read more

 احمد بشیر کے ناول ”دل بھٹکے گا“ میں بٹوارے کی اخلاقیات 

سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی عہد کو تمام تر سچائیوں کے ساتھ محفوظ کرنا مقصود ہو تو سوانحی ناول لکھ لیا جائے بشرطیکہ ناول نگار میں اتنا حوصلہ ہو کہ وہ خود کو بھی سچ کی عدالت میں پیش کر سکے کیونکہ سچ کا مقدمہ اس کی اپنی ذات سے شروع ہو کر سماج کے مختلف حصوں تک پھیلتا ہوا طوالت اختیار کر لیتا ہے اور وقت استغاثہ کا کامیاب وکیل بن کر ناول نگار سے ایسے چبھتے

Read more

دو ہی کیوں؟

ڈاکٹر عاصم بخشی کی حال ہی میں سنگ میل پبلی کیشنز لاہور سے شائع ہونے والی کتاب ”دبدھا“ کا پہلا باب پیش خدمت ہے۔ کتاب کو سنگ میل پبلی کیشنز کی ویب گاہ کے درج ذیل لنک کے ذریعے آرڈر کیا جاسکتا ہے : Dubidha – Asim Bakhshi ***             *** فرض کیجیے آپ اپنے بہترین دوست کے ساتھ شہر میں کھلنے والے ایک نئے کافی ہاؤس میں موجود ہیں۔ کافی کی مختلف اقسام کا رسیا

Read more

ڈاکٹر نثار ترابی اور ”تم سے کہنا تھا“ کی تعارفی تقریب

مشاعرہ ختم ہوا تو شعرا چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف ہوئے۔ میں چائے کا کپ اٹھائے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد ڈاکٹر نثار ترابی کے قریب آ گیا۔ برسوں سے ان سے غائبانہ تعارف تھا مگر ملاقات کا پہلا موقع تھا۔ وہ اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ کلین شیو، درمیانہ قد، قدرے لمبے بال اور ٹو پیس سوٹ پہنے ہوئے خاصے خوشگوار موڈ میں تھے۔ رسمی دعا سلام کے بعد میں نے عرض کی

Read more

مارچ 1947ء کے راول پنڈی کا ایک باب

ہندی لفظ تمس کا مطلب ہے، ظلمت، اندھیرا۔ تقسیم کے فسادات پر بھیشم ساہنی کے ہندی ناول “تمس” سے ایک اقتباس۔ بھیشم ساہنی 1915 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی۔  1947میں ہجرت کر کے دہلی چلے گئے۔ یہ ناول 1974ء میں لکھا گیا، اسے تقسیم ہند کی عظیم ادبی دستاویزات میں شمار کیا جاتا ہے۔ (ہندی سے ترجمہ: شہلا نقوی) ٭٭٭            ٭٭٭ دن کے اجالے میں شہر ادھ مرا سا

Read more

ماسٹر خدا بخش کی نواسی

میں قبر کے سامنے خاموشی سے کھڑا تھا. میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب ابل رہا تھا جنہیں میں روکنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا تھا. ایک طرح سے جیسے مجھے سکون سا مل رہا تھا پر آنسو جیسے میرے دل سے نکل کر آہستہ آہستہ میری آنکھوں سے گزر کر ٹپک رہے تھے. قبرستان میں اس جگہ پر صرف ان کی قبر سلامت تھی جس کے سرہانے ایک چھوٹے سے پتھر پر بڑے سلیقے سے ان کا نام

Read more

عقیدت کی نفسیات

عید کا دوسرا روز تھا، میں اپنے محلے میں ایک دوست کے ساتھ یونہی سیر کو نکلا۔ دیکھتا کیا ہوں کہ سڑک کنارے، کھمبوں کے آس پاس، کوڑا گھر پر لدے ہوئے یا پھر کونوں میں دبے ہوئے بہت سے سفید و سیاہ بورے رکھے ہوئے ہیں، ان سے تعفن اٹھ رہا ہے، سڑکیں کیچڑ سے بھری ہوئی ہیں۔ پوری سڑک ایک ایسی بو میں لپٹی ہوئی ہے کہ سانس لینا دوبھر ہورہا ہے اور یہ صرف ایک سڑک کا

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (آخری قسط)

گیارہوں قسط کا آخری حصہ ٹیپو جی کہنے لگے تمہاری زبان میرے لیے آئین پاکستان کا درجہ رکھتی ہے۔ میں نے اس آئین پر حلف اٹھایا ہے۔ بینو چوں کہ اچھی طرح سے چونا لگا چکی ہے لہذا اس نے ان کے دو تین بڑوں کا نام لے کر چھیڑتے ہوئے ان ہی الفاظ اور لہجے میں کہا۔ جذباتی باتیں مت کرو۔ بھوتنی کے بھانجے یہ بتاﺅ تمہارے ان بڑوں نے کیا کاما سوترا اور نیپال کے آئین پر حلف

Read more

سیکنڈ ہینڈ

کہانی کار : ویکوم محمد بشیر مترجم : جیلانی بانو غصہ میں بھری ہوئی، بال بکھرائے شاردا، آج تانڈو ناچ کے موڈ میں تھی۔ ”تم تو جانتی ہونا شاردے۔ آج مجھے کتنا ضروری کام ہے! کل اخبار نکلنے کا دن ہے نا! تو بھئی اگر کھانا تیار ہو تب مجھے جلدی سے دے دو۔“ نامہ نگار گوپی ناتھ نے بڑی نرمی سے کہا۔ ”کھانا؟“ شاردا نے تیز آواز میں کہا۔ ”میں بہت بیزار ہو چکی ہوں کھانا بنانے سے۔ میرا

Read more

ناصر کاظمی اور”پہلی بارش“

ناصر کاظمی جن کو میر ثانی بھی کہا جاتا ہے 8 دسمبر 1925 کو انبالہ پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری کے آغاز میں سب سے بڑا ہاتھ ان کے گھر کی فضا اور اس ادبی ماحول کا ہے جس میں ناصر نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی گزاری۔ کہتے ہیں کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے ناصر کی والدہ کو شاعری سے گہرا شغف تھا اور وہ فن شاعری سے بخوبی واقف تھیں۔ ناصر نے اپنی ماں کی گود سے ہی شاعری کا درس لیا۔ ناصر اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں :

Read more

قاصد – جدید ہندی ادب سے انتخاب

شہر کی جانب آنے والی شاہراہ پر ایک رتھ برق رفتاری سے چلا آ رہا تھا۔ رتھ پر سمراٹ کا مخصوص نیلا پرچم لہرا رہا تھا۔ جس پر بڑے سے راج ہنس کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ دوارپال نے دور سے رتھ کو آتے ہوئے دیکھ لیا اور جلدی سے دروازے کا بڑا سا ارگل ہٹا دیا۔ ارگل کے ہٹاتے ہی شہر پناہ کے اس عظیم الشان دروازے کے دونوں پھاٹک لوہے کے بھاری پنکھوں کی مانند دھیرے دھیرے پیچھے کی جانب کھلتے چلے گئے۔

Read more

ڈی۔ آئی۔ جی کی محبوبہ (11)

دسویں قسط کا آخری حصہ ٹیپو سے بینو کو عشق ہے۔ وہ اس کے پہلے مرد ہیں۔ فیض یاد ہے نا کہتے تھے جن کی آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے۔ ڈونگا گلی سے تو آخری ملاقات تک وہ ان کی نگاہوں کا ایک ایک رنگ، ہر لباس، ان کے لمس کا ہر ذائقہ، ان کی آغوش کی ہر خوشبو کو Recount کرسکتی ہے۔ اب وہ یہاں کینڈا میں نہیں تو اس کے باوجود جب زونی کو وہ گلے

Read more

ردی (افسانہ)۔

اس کا نام دانش تھا۔ کہنے کو وہ سب کچھ رد کرتا تھا مگر کچھ رد نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے ایسی ردی ہو کر رہ گیا تھا جسے نہ تو ری سائکل کیا جا سکتا تھا، نہ ہی مکمل طور پر نیست و نابود کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے آلودگی کے مسئلے کی طرح جوں کا توں زمانے کی ٹھوکروں میں پڑا تھا۔

زندگی کو تماشا سمجھنے والا، خود تماشا ہو کر رہ گیا تھا۔ ایسا تماشا جسے بغیر ڈگڈگی بجائے ہر وقت دیکھا جا سکتا ہے۔

Read more

میں اور وہ لڑکی

شاید غلطی میری ہی تھی۔ کمپنی کے اکاؤنٹس کے معاملات دیکھنا یقیناً میرے فرائض میں شامل تھا لیکن باس کو کمپنی دینا اضافی تھا وہ بھی ایسے کہ باس کے پینے کا اہتمام بھی کیا جائے۔ اب ایسے میں کئی ایسے راز بھی مجھ تک پہنچ گئے تھے جو باس کے مطابق پوشیدہ رہنے چاہئیں تھے۔ اس کے باوجود باس کی طرف سے کسی انتہائی اقدام کی توقع نہیں تھی لیکن کچھ دنوں سے میں باس کی سیکریٹری کی نظروں میں کھٹکنے لگا تھا۔ طوفان اس وقت آیا جب باس کی بیوی کی آفس میں دھواں دار آمد ہوئی۔ آفس میں جو شعلے بھڑکے اس کی آنچ باہر تک محسوس ہو رہی تھی۔ باس کی بیوی تو آنکھوں اور زبان سے آگ برساتی چلی گئی مگر اس کے فوراً بعد سیکریٹری نے باس سے ون ٹو ون ملاقات میں نہ جانے کیسے اس آگ میں اتنا پیٹرول ڈالا کہ باس آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑے۔

مجھے فوراً آفس میں بلایا گیا اور سارا الزام میرے سر ڈال دیا گیا۔ پرشباب سیکریٹری باس کے سینے سے لگ کر ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔ باس کی بری بھلی باتوں پر میرا خون کھول اٹھا، میں نے اسی وقت استعفیٰ لکھ کر باس کی ٹیبل پر رکھا اور باہر نکل آیا۔

Read more

فیض کے دو عشق اور روشنی کا استعارہ

کارل مارکس نے کہا تھا ”فلسفیوں نے اب تک بس دنیا کی تشریح کی ہے اصل نکتہ تو اس کو بدلنے کا ہے“ فیض احمد فیض ایک ترقی پسند ذہن تھے انھوں نے گھسے پٹے، مفلوج زدہ، غلیظ اور بوسیدہ نظام کو بدلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ وہ ایک بے قرار روح کی مانند تھے۔ وہ تہلکہ مچانے والے شاعر تھے۔ ادب میں جن ناموں کی گونج سب سے نمایاں رہی ان میں ایک نمایاں نام فیض احمد

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (10)

نویں قسط کا آخری حصہ بینو لاہور جاتی ہے تو اس کی امی کا بھی بیوٹی پارلر اپائنٹمنٹ ہوتا ہے۔ خوش لباسی سے اور بیوٹی پارلر کی وجہ سے عمر سے دس سال چھوٹی لگتی ہیں۔ بینو نے امی کو کہا بھی کہ ٹیپو جی کو کہہ کر ایک مقدمہ کر لیتے ہیں کہ آپ کی تاریخ پیدائش کا اندراج غلط تھا۔ نیا سرٹیفیکٹ بنوا کر دوبارہ ملازمت کر لیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہاتھ کھل گیا تو بینو

Read more

راسپوٹین کی موت

راسپوٹین دنیا کا سب سے بڑا گنہگار اور بدخصلت انسان جو روس میں پیدا ہوا، ولی سمجھا جاتا تھا، مگر درحقیقت وہ ایک شیطان تھا جس کے ہاتھوں زارِ روس کی عظیم الشان سلطنت برباد ہوئی اس کی گناہوں بھری زندگی اس قدر حیرت خیز ہے کہ اس پر کسی خیالی افسانے کا گمان ہوتا ہے۔ چھ فٹ دو انچ لمبے قد کا یہ گرانڈیل راہب جس کا سرگنبد نما تھا کئی سال روس پر اپنی شیطانی صفات کی بدولت

Read more

ہربرٹ جارج ویلز کی ایک کہانی: جادو گھر

لندن کی ریجنٹ سٹریٹ کے اس حصے سے میں نہ جانے میں کتنی مرتبہ گزرا ہوں گا لیکن کبھی اس معمولی سی دکان کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔ اس دن بھی میں جمی کو ٹہلانے نکلا تھا۔ وہ میری انگلی پکڑے چل رہا تھا۔ اچانک میری انگلی پر اس کے ننھے ہاتھ کی گرفت کچھ مضبوط ہو گئی۔ اس نے دکان کی طرف اشارہ کیا۔ اب میرے پاس سوائے دکان کی جانب مڑنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

Read more

مستنصر حسین تارڑ اور اوس میں بھیگا لمحہ

ان دنوں لاہور کے آسمانوں پر بارشوں کے دھنک رنگ لمحوں کی قطار اتری ہوئی ہے۔ ایسے ہی ایک بھیگے لمحے میں میری آنکھوں کے سامنے وہ مناظر کسی فلم کی طرح چلنے لگے جب میں پہلی بار مستنصر سر سے ملی تھی۔ ماڈل ٹاؤن پارک کی وہ دھند میں لپٹی صبح میں کیسے بھول سکتی ہوں جب میرے قدم میری ایک آرزو کی تکمیل میں انہی راستوں کی طرف چل پڑے جہاں سے تارڑ سر گزرتے ہیں۔ کتنا بلند

Read more