وہ مشکل جس کا سامنا فاطمہ جناح، بینظیر اور مریم نواز سمیت پاکستان کی ہر خاتون سیاستدان نے کیا

پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے جب جنرل ایوب خان کے مقابلے میں انتخابات میں حصہ لیا تو ان پر کئی الزامات لگائے گئے، انھیں غدار، انڈین اور امریکی ایجنٹ تو کہا ہی گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنرل ایوب خان نے ان کے بارے میں دو ایسے الفاظ بھی کہے جو پوری طرح خواتین سے نفرت اور تعصّب کے زمرے میں آتے ہیں۔

Read more

کریمہ بلوچ کی پراسرار موت اور پرخطر زندگی

محترمہ افشیں بلوچ صاحبہ! چند روز پیشتر ’ہم سب‘ کے ایک دوست نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں کریمہ بلوچ کے بارے میں کچھ لکھوں جن کی پچھلے دنوں 2020 کی 21 دسمبر کی لمبی ترین اور تاریک ترین رات کو ٹورانٹو میں پراسرار طریقے سے موت واقع ہوئی۔ کریمہ بلوچ اور آزادی اظہار کے چاہنے والوں اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والوں کی خواہش ہے کہ کینیڈا کی حکومت اور پولیس اس پراسرار موت کی غیر جانبدارانہ

Read more

چودہویں صدی کا چینی مفکر اور ایک ترک ہم عصر

بات سے بات اس طرح نکلتی ہے کہ منزلوں کا نشاں نہیں ملتا۔ ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں مصطفیٰ زیدی نے ’لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ‘ کا مضمون باندھا تھا۔ خیر گزری کہ دیدہ تر کی شبنم ابھی خشک نہیں ہوئی، متاع احساس سلامت ہے اور قلم اپنے منصب سے دست بردار نہیں ہوا۔ اتنا ضرور ہوا کہ لاہور، لاڑکانہ اور اسلام آباد پر اتری دھند سے مجروح بصارت نے دور قریب کے دیاروں کی سیاحی

Read more

بانئ پاکستان کا پاکستان

بانئی پاکستان جناب قائداعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش پچھلے دنوں تھا، جسے ہم نے نہایت شان و شوکت سے منایا۔ لیکن قائد کے فرمودات کیا تھے ان کا ہمیں کچھ معلوم نہیں دوسرے الفاظ میں کہیں تو ہم تاحال ابہام کا شکار ہیں۔ گیارہ اگست کی تقریر، کا حوالہ ہماری تاریخ کا سب سے اہم سیاسی باب ہے، یہ تقریر ہمارے آزاد خیال اور رجعت پسند لوگوں کے مابین تنازع کا باعث ہے۔ آج کے دور میں پاکستان

Read more

بے نظیر بھٹو کا یوم شہادت اور میں

یہ 27 دسمبر 2007 کا دن ہے۔ میں اس وقت 6 سال کا تھا مگر مجھے آج بھی وہ دن بہت اچھی طریقے سے یاد ہے۔ اس دن جمعرات کا روز تھا۔ میں تب دبئی میں رہتا تھا۔ تب مجھے سکول سے چھٹیاں تھیں۔ جیسا آپ کو پتا ہو کہ متحدہ عرب امارات میں جمعہ اور ہفتہ چھٹی ہوتی ہے۔ جمعرات کو میرے والد کا ہاف ڈے ہوتا تھا۔ یعنی عام دنوں میں وہ گھر 7 بجے آتے تھے مگر

Read more

کنیز کربلا کی بس یزیدیت سے جنگ تھی!

زمانہ اپنی ابتدا سے آج تک ترقی کے جتنے بھی مراحل طے کر لے حق اور باطل کا فرق نہ مٹا ہے اور نہ مٹنے والا ہے۔ ہر دور میں حق اور باطل کے درمیان کشمکش اس بات کی غماز ہے کہ ہر دور میں حق کی پاسداری کرنے والے اور ظالم کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے والے گزرے ہیں جنھیں تاریخ نے صدا سنہرے حرفوں میں یاد کیا ہے۔ تاریخ نے ہم حرماں نصیبوں کے دامن میں بھی چند ایسے نایاب لوگ ڈالے ہیں جنھوں نے حق کی پاسداری کے لئے اپنی جان تک کی پرواہ نہ کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی ایسے ہی نڈر جیالوں کا گلدستہ ہے جہاں قربانی کارکنوں سے زیادہ پارٹی کی قیادت کے حصے میں آئی ہیں۔

Read more

بینظیر بھٹو کے قتل کا ذمہ دار کون؟

بینظیر بھٹو نہ صرف پاکستان، بلکہ عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنی۔ وہ پاکستان کے پہلے جمہوری وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھیں۔ ان کے والد کا سیاسی سفر ایک فوجی آمر نے ختم کیا جب 1979 میں جنرل ضیا الحق کے دور حکومت میں انھیں پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ 27 دسمبر 2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید کردی گئی۔ بینظیر بھٹو دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ اپنی موت کے وقت بینظیر بھٹو

Read more

سلیکٹڈ سے الیکٹڈ تک کا سفر

فرض کریں کہ اپوزیشن والے سچ کہتے ہیں کہ عمران خان سلیکٹڈ ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تو ذہن میں ایک الجھن پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ ملک کی تاریخ میں کیا عمران خان پہلے سلیکٹڈ حکمران ہیں یا ان سے پہلے بھی سلیکٹڈ حکمران ہو گزرے ہیں؟ مثلاًصدر جنرل سکندر مرزا کی مہربان آنکھوں نے نوجوان بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو کو چنا اور اپنی کابینہ میں وزیر بنالیا۔ یہ وہی جنرل سکندر مرزا تھے جن کی پشت پناہی

Read more

کامریڈ بھارا بھی چلے گئے

جمعرات 17 دسمبر کو پاکستان میں مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی جدوجہد کرنے والے ایک اور روشن ستارے، پاکستان کسان کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ملک محمد علی بھارا اپنی 69 سالہ سیاسی جدوجہد اور انقلابی تحریک کے ساتھ وابستگی نبھانے کے بعد انتقال کر گئے۔ وطن عزیز کا سیاسی منظر نامہ تو قیام پاکستان سے ہی دھندلا تھا۔ نہ منزل کا تعین، نہ سفر کا آغاز، نہ کوئی منصوبہ بندی، اور نہ ہی ملک کے 22

Read more

تعلیم بچاؤ تحریک

سترہ دسمبر لاہور میں پنجاب بھر سے پرائیویٹ سیکٹر کے اساتذہ کرام اور ادارہ مالکان احتجاج کے لیے اکٹھے ہوئے۔ مطالبہ بالکل واضح تھا کہ جب شادی ہالزمیں تین سو لوگ ایک ساتھ کھا نا کھا سکتے ہیں ’جب تمام مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھلے ہیں‘ جب پارک ’سینما ہال‘ کافی پوائنٹس ’پلے گراؤنڈ ز تک کھلے ہیں‘ جب پی ڈی ایم ملتان ’لاہور اور کراچی سمیت کئی بڑے شہروں میں اپنا تھیٹر لگا سکتی ہے یا عمران خان آئے

Read more

بارود کے شعلوں سے امن کی فاختہ

ایک تھا الفریڈ نوبل جو 1833 میں ملک سویڈن میں پیدا ہوا۔ اور 1896 میں اٹلی میں فوت ہوا۔ الفریڈ کی دلچسپی سائنس کے شعبے سے رہی۔ خاص طور پر دھماکا خیز مواد اسے بہت دلچسپی بھی تھی اور تجسس بھی۔ باپ انجنیئر تھا اس لیے بنیادی معلومات اسے حاصل کرنا مشکل نہ لگا۔ اپنے باپ کی فیکٹری میں کام بھی کیا جو ملٹری کے کام آنے والی مصنوعات تیار کرتی تھی۔ الفریڈ نوبل اپنے کام میں بہت مگن رہا

Read more

گوادر: سمندری ہواؤں پر کانٹوں کے پھندے

 بلوچستان کی ساحلی پٹی پر واقعہ ماہی گیروں کا قدیم دیس گوادر مجھے ہمیشہ بحیرہ عرب کی لہروں پر سفر کرتی کشتی کی مانند لگا۔ تین اطراف گہرے سمندر کی بلند بالا لہریں، دوسری جانب مٹی اور سخت چٹانوں والا کئی سو فٹ اونچا اور میلوں پر پھیلا پہاڑ ’کوہ باطل‘ ماہی گیروں کی بستیوں کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔ کوہ باطل کے دامن میں بسنے والے ماہی گیروں کے بعض قبیلوں کا عقیدہ ہے کہ یہ پہاڑ

Read more

کیا آپ کی داڑھی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے؟

میں نے دو ہفتے پہلے کینیڈا کے ایک حجام کو ’پھر دوسرے حجام کو اور پھر تیسرے حجام کو فون کیا اور درخواست کی کہ وہ میری حد سے زیادہ بڑھی غیر مہذب داڑھی کو تراش کر مہذب بنا دیں لیکن تینوں باربرز نے انکار کر دیا۔ میں نے ان کی بہت منت سماجت کی کہ مجھے کینیڈا ون ٹی وی کے سٹوڈیو جا کر ڈاکٹر بلند اقبال کے ساتھ۔ دانائی کی تلاش۔ کا ایک پروگرام ریکارڈ کروانا ہے لیکن

Read more

سویت یونین سے بیلاروس تک: آمریت کا بحران

بیلا روس مشرقی یورپ کا ملک ہے جس کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ ہے مگر روس اور یورپی یونین کے درمیان واقع ہونے کے باعث اس کی اہمیت یورپ کی سیاست میں اچھی خاصی ہے۔ پھر یہ ملک تین عشرے پہلے تک سوویت یونین کا حصہ تھا۔ اس لیے اس کی سماجی و معاشی حالت پر اب بھی سوشلسٹ نظام کے گہرے اثرات باقی ہیں۔ بیلا روس کے موجودہ سیاسی بحران پر گفتگو کرنے سے قبل آئیے بیلا روس

Read more

مزاحمتی پنجابی ڈی این اے! تخت نہ ملدے منگے

نیا دور کے سولنگی صاحب نے چند روز قبل ایک اون لائن پروگرام میں پی ڈی ایم کی تحریک کے حوالے سے کہا کہ ایسا لگتا ہے پنجاب کا ڈی این اے بدل رہا ہے۔ چڑیا والے سیٹھی بابا نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ دونوں حضرات کا اشارہ میاں نواز شریف اور مریم نواز کے سیاسی بیانیے کی طرف تھا کہ پنجابی عوام میں پہلی بار اسٹبلشمنٹ کے خلاف مزاحمتی بیانیہ مقبول ہو رہا ہے۔ دونوں

Read more

سیاسی کبوتر بازی

سیاست (Politics) ”ساس“ سے ماخوذ ہے جو یونانی زبان کا لفظ ہے، اس کے معانی شہر و شہرنشین کے ہیں۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے سیاست وہ فعل ہے جس کے عمل سے لوگوں کی اصلاح ہوتی ہے اور معاشرہ میں فساد نا برپا ہو۔ اہل مغرب کی زبان میں لوگوں پر حکومت کرنے کے فن کو سیاست کہتے ہیں۔ امور مملکت کے نظم ونسق کا انتظام سنبھالنے والوں کو سیاستدان کہتے ہیں۔ قرآن کریم فرقان مجید میں لفظ سیاست کا ذکر تو

Read more

مکالمے کا بنیادی نکتہ عوامی مفاد ہونا چاہیے

احتجاجی جلسوں کے سلسلے میں لاہور کا جلسہ پی ڈی ایم کا آخری پاور شو تھا۔ لاہور میں مینار پاکستان کے سائے تلے پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد ایک بار پھر کتنے بندے تھے کی بحث ہو رہی ہے اور گیارہ جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کے جلسے کا موازنہ دو ہزار گیارہ کے تحریک انصاف کے جلسے اور جونیجو مرحوم کی حکومت میں محترمہ بینظیر بھٹو کے استقبالی جلوس سے کیا جا رہا ہے۔ جلسے کے شرکا کی تعداد سرکاری ذرائع پولیس، اسپیشل برانچ اور آئی بی کی رپورٹس کے حوالے سے چار سے پانچ ہزار جبکہ ”آزاد ذرائع“ بیس سے پچیس ہزار بتا رہے ہیں۔

شرکا کی درست تعداد کا اندازہ لگانے سے قبل یہ حقیت ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ جلسہ گیارہ جماعتوں کی مشترکہ کاوش تھی۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ان میں سے کئی جماعتیں پنجاب میں اثر و رسوخ کی حامل نہیں لیکن یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت جے یو آئی پورے ملک میں کہیں بھی بڑی تعداد میں لوگ جمع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ لاہور مسلم لیگ نون کا گڑھ رہا ہے جہاں مشرف جیسا فوجی آمر بھی اس جماعت کی قوت ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا تھا۔

Read more

بے وقوف بنانے والے لوٹے اور جوکر

تاش کی گڈی میں 52 پتے ہوتے ہیں لیکن ان 2 اضافی جوکر بھی ہوتے ہیں، جب کوئی پتہ گم ہوجاتا ہے تو ان کی جگہ پر کسی جوکر کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ملک کی سیاست میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہاں تاش کے پتوں سے زیادہ جوکروں سے کام نکالا جا رہا ہے۔ ہمارے ملکی سیاست میں بادشاہ اور ملکہ سے بھی اہم جوکروں کی حیثیت ہے۔ ان جوکروں سے ملکی سیاست میں بڑے بڑے کام لئے جاتے ہیں۔ ان جوکروں سے بڑے بڑے حکومتیں گرائی جاتی ہے۔

الیکشن کے موسم میں پرندوں کے غول کی صورت میں ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں۔ بادشاہ بھی ان کے سامنے بے بس ہوتے ہیں اور وزیر بھی ان جوکروں کے اگے بے بس۔ ان جوکروں کو پس پردہ قوتوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ان ہی قوتوں کے کہنے پر یہ سیاسی پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ان کے بقول یہ ملکی مفاد کے تحت کر رہے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے لئے ملکی مفاد مقدم ہوتا ہے۔ ملکی مفاد کا مطلب ان کی ڈکشنری میں ان کا اپنا ذاتی مفاد ہی ہوتا ہے۔

Read more

نظام میں کرپشن یا کرپٹ نظام

پاکستان میں جب کبھی عوام مہنگائی اور بدانتظامی کے خلاف سراپا احتجاج ہوتے ہیں تو ہمارے حکمران فوراً یہ راگ آلاپنا شروع کر دیتے ہیں کہ ماضی کے حکمرانوں نے کرپشن کی ہے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور کرپشن ہے اور اس کا سدباب یہ ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے اور ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ دوسری جانب اپوزیشن یہ واویلا کر رہی ہوتی ہے کہ مہنگائی موجودہ حکومت کی نا اہلی

Read more

پاکستان میں سینسر شپ اور آزادی صحافت: ’جو آپ مارچ میں کہہ سکتے تھے وہ آپ اگست میں نہیں کہہ سکتے‘

پیروڈی اور طنز و مزاح پر مبنی جریدے ’دی ڈیپنڈنٹ‘ کے ایڈیٹر عمر عزیز خان کا کہنا ہے کہ تنقید برداشت کرنے کے لیے تمام ہی حکومتوں کے ’دل چھوٹے‘ ہوتے ہیں لیکن موجودہ حکومت تو حس مزاح سے یکسر عاری ہے۔

Read more

مریم نواز کے ڈگری یافتہ ان پڑھ بچے

دوستو، بزرگو، ساتھیو، کسانو اور محنت کشو جیسے الفاظ سیاستدان عموماً جلسوں میں حاضرین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ادا کرتے ہیں۔ ’میرے بچو‘ یہ الفاظ میں نے پہلی دفعہ بیگم نسیم ولی خان کے منہ سے سنے تھے۔ جب اس پردہ دار پختون خاتون کے گھر کے سارے مرد زندانوں میں ڈالے گئے تو وہ دوپٹے کو پگڑی بنا کر نکلی تھیں۔ تب میں نہیں تھا جب مادر ملت کی ساری ملت کو پہلی بار ایک بڑے جیل

Read more

کیا بھٹو کو منصفانہ سماعت ملی؟

ایک محترم اور معتبر صحافی جو ماضی میں ایک آزاد نجی چینل پر ایک مقبول ٹاک شو کیا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ آزاد ٹی وی چینل موجودہ حکومت کے قیام سے پہلے ہوا کرتے تھے۔ ان کے شو کو میں بھی کبھی کبھار دیکھ لیا کرتا تھا لیکن ان محترم کے بولنے کے مخصوص درشت انداز کی وجہ سے کبھی کبھی ان کی باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھیں۔ جس کی وجہ سے اکثر اس شو

Read more

"صبر طلب جمہوریت” اور صاحبزادہ فاروق علی خان کی خاموش موت

1973 ء کا متفقہ آئین منظور ہونے کے بعد معرض وجود میں آنے والی پہلی قانون ساز اسمبلی کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان طویل علالت کے بعد 29 نومبر 2020 ء کو ملتان میں انتقال کر گئے۔ 5 ستمبر 1931 ء کو گکھڑ منڈی میں پیدا ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان 9 اگست 1973 ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے نویں سپیکر منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1977ء تک اس منصب

Read more

تپتے توے پہ پھدکتا مینڈک!

ہماری بیٹی اور بیٹا خلاف معمول باورچی خانے میں تھے۔ "اماں! اماں، کچن میں آئیے، چولہے میں گیس رک رک کے آ رہی ہے اور لائٹر بھی کام نہیں کر رہا” "اف، انہیں آج کیا چولہا چوکی کا شوق لاحق ہوا؟” ہم زیر لب بڑبڑاتے ہوئے کچن میں پہنچے۔ کچھ جدید زمانے کی غذا تیار کرنے کے اجزا چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے اور چولہا تھا کہ جل کے نہیں دے رہا تھا۔ "گیس اور لائٹر ! دونوں میں ہی

Read more

پی ڈی ایم کا لانگ مارچ کا اعلان: کیا اپوزیشن جماعتوں کی دھرنے اور احتجاج کی سیاست اپنے مقاصد حاصل کر سکے گی؟

پاکستان میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے دھرنوں اور لانگ مارچ کی احتجاجی سیاست کا سلسلہ کافی پرانا ہے۔ ماضی کی احتجاج تحاریک کو مدنظر رکھتے ہوئے اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ڈی ایم اپنے سیاسی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟

Read more

نواز شریف پر لکھا گیا ایک مضمون

یہاں کسی کی ذات کو زیر بحث لانا ہر گز مقصود نہیں تھا، لیکن میاں نواز شریف پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جنہیں یوں نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ میاں صاحب گزشتہ چالیس سالوں میں وطن عزیز کو در پیش ہر بحرانی صورت حال کا مرکزی اور مستقل کردار رہے ہیں۔ آج قوم ایک بار پھر گرداب میں ہے اور میاں صاحب اپنے سامنے موجود ہر شے کو تہہ و بالا کرنے پر تلے ہیں۔

سنہ اسی کی دہائی کے کسی پہلے سال اپنے زیر تعمیر مکان پر کھڑے جنرل جیلانی لاہوری صنعت کار کے نوجوان بیٹے سے یوں متاثر ہوئے کہ اسے سیاست کے لئے مانگ لیا۔ شہباز شریف مگر خاندان کے کاروباری معاملات کے نگران تھے۔ باپ نے عرض کی کہ بڑا بیٹا حاضر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف اپنی معمولی صلاحیتوں کی بنا پر خاندانی کاروبار کا محض شعبہ تعلقات عامہ دیکھتے تھے۔

اداکاری کا شوق چرایا تو فلمسٹار رنگیلا کے حوالے کر دیا گیا۔ کچھ ہی روز میں معذرت کے ساتھ لوٹا دیا گیا۔ کرکٹ کوچ کا بندوبست کیا گیا تو جسمانی سستی آڑے آئی۔ پولیس کی وردی پہننے کو جی مچلا تو والد نے جنرل جیلانی سے ہی درخواست کر کے کچھ دن کے لئے آپ کو محکمہ سول ڈیفنس میں سیکٹر کمانڈر لگوا دیا۔ کسے خبر تھی کہ پنجاب کے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اقتدار کی راہداریوں میں قدم رکھنے والا ’بھولا بھالا‘ نوجوان آنے والے عشروں میں پاکستانی سیاست کے خدو خال بدل کر رکھ دے گا۔

Read more

دشمن کی سازش، کامیابی کے دعوے: حکومت کہاں ہے؟

اپوزیشن نےاراکین اسمبلی کے استعفے جمع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پی ڈی ایم کی اسٹیرنگ کمیٹی بدھ کو لاہور جلسے کے بعد اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا پروگرام طے کرے گی۔ اس دوران وزیر اعظم نے میڈیا ایڈیٹرز سے ایک ملاقات میں اپوزیشن تحریک کے درپردہ بین الاقوامی سازش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ ان کے بقول بعض ممالک دیگر اسلامی ملکوں کی طرح پاکستان کو بھی کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد میں آج پی ڈی

Read more

مقامی حکومتیں اور ہماری حکومتیں

اسلام آباد میں سٹیزن پورٹل کی دو سالہ کارکردگی سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے جہاں پورٹل سروس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ریاست مدینہ کی جانب بڑا قدم قرار دیا وہاں انھوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ سٹیزن پورٹل میں یہ بات سامنے آئی ہو ہمارا بلدیاتی نظام ٹھیک کام نہیں کر رہا میونسپل کمیٹی سے متعلق زیادہ شکایات سے واضح ہوتا ہے بلدیاتی نظام درست نہیں۔ انھوں نے کہا ہم ملک میں نیا بلدیاتی نظام لا رہے ہیں جس سے ملک میں انقلاب آئے گا اس نظام سے اختیارات اور فنڈز نچلی سطح پر منتقل ہوں گے ضلعی حکومتیں صوبائی حکومتوں کی طرح خود مختار ہوں گی عوام کے اختیارات میں اضافہ ہوگا لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے۔

Read more

جسٹس فار راجہ داہر اور محمد بن قاسم

ہم نے کئی بالی ووڈ اور پاکستانی پنجابی فلموں میں یہ منظر دیکھا ہو گا کہ ایک لڑکی چیخیں مار کر بھاگ رہی ہے۔ اس کے پیچھے ایک بد شکل ولن وحشیانہ انداز میں قہقہے مارتے ہوئے بھاگ رہا ہے۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ ایک دم ہینڈسم ہیرو نہ جانے کہاں سے ٹپک پڑتا ہے اور مار مار کر اس ولن کا بھرکس نکال دیتا ہے۔ اور لڑکی کو پہلی نظر میں ہی ہیروسے محبت ہو جاتی ہے۔ اگر

Read more

میر ظفر اللہ جمالی نے استعفیٰ کیوں دیا؟

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی گزشتہ روز راول پنڈی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا اور وہ وینٹی لیٹر پر تھے۔ یکم جنوری 1944ء کو صوبہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے گاؤں روجھان جمالی میں پیدا ہونے والے میر ظفر اللہ خان جمالی نے ابتدائی تعلیم روجھان جمالی میں ہی حاصل کی، بعد ازاں سینٹ لارنس کالج گھوڑا گلی مری، ایچی

Read more

”کاون“ ہاتھی اور عافیہ صدیقی

میں نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد کے چڑیا گھر میں قید ”کاون“ ہاتھی پر دو کالم لکھے۔ آج میرا ارادہ کچھ اور لکھنے کا تھا کہ مجھے اپنی ہونہار شاگرد کا فون آ گیا۔ میں اس فون کا ذکر کچھ دیر بعد کروں گی۔ پہلے یہ خبر کہ کاون بہ حفاظت کمبوڈیا کے وسیع و عریض قطعے میں پہنچ گیا ہے جہاں اپنے ساتھیوں سے اس کی دعا سلام شروع ہو چکی ہے۔ اس کے ہمراہ جانے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کاون نے سفر کے دوران ہرگز پریشان نہیں کیا۔

وہ معمول کے مطابق کھاتا پیتا بھی رہا۔ اونگھتا بھی رہا اور اپنے کمپارٹمنٹ میں بہت پر سکون رہا۔ ایسے جیسے وہ ہوائی سفر کرنے کا عادی ہو۔ ”کاون“ دنیا کا ”تنہا ترین“ ہاتھی قراردیا گیا جس کی آزادی کے لئے سوشل میڈیا پر ایک زور دار مہم چلی۔ اس مہم کو امریکی گلوکارہ ”شیر“ (Cher) نے آگے بڑھایا۔ جانوروں کے حقوق اور دیکھ بھال کی ساری تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کاون مظلومیت، اذیت اور تنہائی کی ایک علامت کے طور پر ابھرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ جب معاملہ اسلام آباد کی ہائیکورٹ پہنچا تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک بہت ہی یاد گار فیصلہ دیتے ہوئے کاون کو آزاد کرنے اور دنیا کے کسی موزوں مقام پر پہنچانے کے احکامات جاری کر دیے۔

Read more

عورت، ذہن کی آزادی اور صنف و ذات کا تعصب

آج میں نے ایک مختصر یو ٹیوب وڈیو دیکھی جس میں ایک چھوٹا سا معصوم کتے کا پلا چھلانگیں مارتا ہوا سیڑھیاں چڑھ رہا ہے اور اس کو دیکھ کر بچے ہنس رہے ہیں۔ ایک نئی زندگی جس کو کچھ ادراک نہیں کہ اس وسیع دنیا میں اس کی کیا جگہ ہے؟ کیا وہ ایسا جانور پیدا ہوا جس کو کھانے کے لیے بڑا کیا جائے گا، لڑانے کے لیے یا پھر اس کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے؟ اس کو کیا وسائل حاصل ہوں گے؟ کیا اس کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں گی؟ دنیا میں آنے والا ہر بچہ اسی طرح معصوم ہوتا ہے اور فطرت کی ایک خالی سلیٹ کے ساتھ آتا ہے۔ پھر ہم سب مل کر اس کو دنیا کی اونچ نیچ جیسی بھی ہمیں پتا ہو، سکھا دیتے ہیں۔

ڈاکٹر سہیل اور ہما جمال کا کالم پڑھا۔ ہما جمال نے بہت اچھا اور حقیقت پر مبنی سوال پوچھا اور ڈاکٹر سہیل کا جواب ہمیشہ کی طرح بہت عمدہ ہے۔ ہما جمال نے بالکل ٹھیک کہا کہ شرفاء کے شریف بیٹے منافقت سیکھ لیتے ہیں۔ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ سیدھی انگلیوں سے گھی نہیں نکلتا اور یہ انگلیاں سب کے سامنے ٹیڑھی نہیں کرنی ہیں۔ اور اس منافقت میں معاشرہ ان کا ساتھ دیتا ہے۔ ان کی مائیں تک ان کا ساتھ دیتی ہیں۔ کیوں نہ دیں آخر کو یہ سپوت اس پدرانہ نظام میں اونچی ذات کے حامل ہیں۔

Read more

نور حسین: بنگلہ دیش کے شہری کے جسم پر پینٹ ہوئے نعروں کی تصاویر جنھوں نے ایک فوجی آمر کا تخت ہلا دیا

یہ سنہ 1987 کی بات ہے جب ایک نوجوان اپنے جسم پر جمہوریت کے حق میں نعرے پینٹ کر کے مظاہرہ کر رہا تھا۔ اسے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں پولیس نے گولی مار دی تھی۔ پولیس سیل میں چھلنی جسم کی تصویر فوجی آمر کی رخصتی کا پروانہ ثابت ہوئی۔

Read more

احتسابی عمل سے وابستہ امیدیں

دنیا کے ہر ملک کی اپوزیشن ہمیشہ ایک تعمیری اور مثبت سوچ کے ساتھ حاکم وقت کی اصلاح اور ملکی مفاد کی حفاظت کرتی ہے۔ غیر ممالک میں حکومت اوراپوزیشن کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہاں ہمیشہ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے اورقومی ترجیحات، ذاتی ترجیحات پر غالب نظر آتی ہیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں پچھلے ستر سالوں سے کوئی بھی رہنما مثبت سوچ اور ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر سوچنے پر تیار نہیں تھا اور عوام کے حصے میں صرف تلخی وقت کے کڑوے گھونٹ پینے کو آئے۔

Read more

اسرائیل عرب دوستی اور پاکستان

دنیا بھر میں کئی غیر مسلم ممالک نے مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کر رکھا ہے یہ ممالک اقوام متحدہ کی گود میں بیٹھ کر مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے ہیں لیکن مجال ہے جو آزاد مسلمان ممالک اس معاملے پر ایک ہوجائیں اور اقوام متحدہ کو اور ان دہشت گرد ممالک کو آنکھیں دکھانے کی جرات کر لیں۔ پاکستان کم از کم اتنی جرات کرتا رہا ہے کہ ان ممالک کے موقف اور کردار کی کھل کر مخالفت کرتا رہا اور پاسپورٹ پر بھی اب تک تو درج ہے ہی کہ یہ پاسپورٹ اسرائیل کے علاوہ ہر ملک کے لئے ہے۔ لیکن اب اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں گو کہ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے لیکن حکومت کے پسندیدہ لوگ کچھ ایسا ماحول بنا رہے ہیں جس سے ایسا کرنے کی بو آ رہی ہے۔

Read more

میر ظفر اللہ خان جمالی، جنرل مشرف اور نواز شریف

سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی سیاسی جدوجہد نصف صدی کے لگ بھگ رہی، پہلا الیکشن 1977 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا لڑا جبکہ ان کی زندگی کا آخری الیکشن 2013 کا تھا جس میں آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے اور مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں ختم نبوت کے معاملہ پر نون لیگی حکومت سے ناراض ہو گئے اور اسمبلی کے فلور پر استعفی دے کر سیاست کو خیرباد کہہ دیا۔

ضیا الحق کی کابینہ میں وفاقی وزیر رہے، وزیراعلی بلوچستان، کئی مرتبہ رکن قومی اسمبلی، وفاقی وزیر، سینئر اور بالآخر 2002 میں وزیراعظم منتخب ہوئے، تاہم صدر پرویز مشرف کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے دو سال بعد وزارت عظمی کے عہدے سے ہٹا دیے گئے، بطور وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی انہوں نے دو اہم کارنامے انجام دیے جو جمہوری وزیراعظم کے لئے ایک مثال کے طور پر چھوڑ گئے ہیں، انہوں نے دو مرتبہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف دوسرے لفظوں میں امریکہ کو ناراض کیا جس کی وجہ سے ان کی چھٹی ہوئی۔

Read more

ناگورنو قرہباخ: سابق سوویت علاقوں میں روس کا اثر و رسوخ کیوں گھٹ رہا ہے؟

کیا روس کو اپنے پڑوس میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کا کوئی فائدہ بھی ہوگا؟ ماسکو کارنیگی سینٹر کے سینیئر محقق کے مطابق اگر حساب لگایا جائے کہ روس اس خطے میں اپنا اثر برقرار رکھنے کے لیے کتنے وسائل جھونک رہا ہے اور اس کے بدلے میں اسے کتنا فائدہ ہو رہا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک گھاٹے کا سودا ہے۔

Read more

چین میں می ٹو مہم: مشہور ٹی وی اینکر کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمے کی سماعت کا آغاز

چین میں مبینہ جنسی ہراسانی کے واقعے کے چھ سال بعد بالآخر ایک مقامی عدالت اس کیس کی سماعت کرنے جا رہی ہے اور بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ کیس چین میں ’می ٹو‘ تحریک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

Read more

میثاقِ جمہوریت کے بعد اپوزیشن کے ‘میثاقِ پاکستان’ کا مستقبل کیا ہو گا؟

اسلام آباد — پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ‘میثاقِ پاکستان’ کے نام سے ایک ایسے معاہدے کے مسودے پر اتفاق کیا ہے جس کا مقصد ملک میں فوج اور خفیہ اداروں کے سیاست میں کردار کو ختم کر کے حقیقی پارلیمانی جمہوریت کا نفاذ کرنا ہے۔

Read more

وزیر اعظم عمران خان: مجھ پر فوج کا کوئی دباؤ نہیں ہے، ساری خارجہ پالیسی پی ٹی آئی کی ہے

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان پر ڈھائی سال کے دورے حکومت میں کبھی بھی فوج کی جانب سے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا اور ایک بھی ایسی چیز نہیں ہے کہ جو وہ کرنا چاہیں اور فوج اس سے منع کرے۔

Read more

نواز شریف: جانے کس جرم کی پائی ہے سزا؟

نواز شریف کو اکتوبر 1999 ء کے بعد سے اب تک تقریباً ایک جیسے حالات کا ہی سامنا رہا ہے جن میں غاصب طاقتوں کا غیظ وغضب اور وفاداری کی قسمیں کھانے والے ساتھیوں کی بے وفائی سمیت پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کی کوششوں کا سامنا وغیرہ شامل ہیں۔ مثلاً جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد شریف خاندان کی خواتین کو تقریباً ایک سال تک نظربند رکھنے کے بعد جب رہائی دی گئی تو اس وقت نواز شریف

Read more

وبا کے موسم میں سیاسی تصادم اور اصلاح کا پہلو

ملک میں کورونا کی شدت میں شدید اضافہ ہورہاہے اور دنیا بھر سے حاصل تجربوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ وبا پاکستان میں بھی مزید پھیلے گی۔ اس کی ایک وجہ گزشتہ روز وزیر اعظم نے ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے بیان کی ہے کہ لوگ اس وبا کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں سیاسی تصادم کا موسم بھی شدید ہے۔ اپوزیشن30 نومبر کو ملتان میں جلسہ

Read more

پاکستان میں یہ بھی کر گزریے

زمین پر انسانوں کی تاریخ ایک لمبے عرصے پر محیط ہے اور 2000 قبل از مسیح یعنی آج سے کوئی 4000 سال پیچھے جا کر یہ مبہم ترین ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ کردار اور کہانیاں رہ جاتی ہیں لیکن نہ سراغ باقی بچتا ہے اور نہ منطقی انجام۔ کہا یہی جاتا ہے کہ پانچ یا سات ملین سال پہلے افریقہ میں انسان تب نمودار ہوا جب اس نے دو ٹانگوں پر چلنا شروع کیا۔ موجودہ شکل کے انسان دو لاکھ سال پہلے نمودار ہوئے۔

اب یہاں لوگ کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ہمارا مذہب تو کچھ اور کہتا ہے۔ اس نقطے پر کچھ لوگ اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ انسانوں میں سے اللہ نے آدمؑ کو منتخب کر لیا تھا۔ نوم چومسکی Linguistics کے ماہر ہیں اور ان کا یہی کہنا ہے کہ ساری زبانوں کا اصل ایک ہی زبان ہے۔ اور بھی دلائل ہیں لہٰذا بقول یاسر قاضی، یہ بات بھی عقلی معیار پر پورا اترتی ہے۔ مسلمانوں کو ارتقاء کی تھیوری کو لے کر مزید بے وقوفوں کی جنت میں رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سائنسدان کمیونٹی کے نزدیک کافی قابل قبول ہے۔

Read more

وزیراعظم کی تقریر، کورونا کی تباہ کاری اور معاشی فلاح کا ناقص خواب

ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان پر منعقد ہونے والی ورک شاپ سے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کو پیش نظر رکھا جائے تو پاکستان صنعتی ترقی کے گھوڑے پر سوار ہو چکا ہے اور تیزی سے منافع بخش معیشت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اس خطاب میں وزیر اعظم نے حسب معمول تمام مسائل کی جڑ ماضی میں کیے گئے فیصلوں کو قرار دیا اور واضح کیا کہ 60 کی دہائی کے بعد پہلی بار کسی حکومت نے ملک

Read more

ہماری کوئی برانچ نہیں

پی ٹی وی ڈراموں کے سنہری دور میں مزاحیہ ڈرامہ ”الف نون“ اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس کے دونوں کردار آج بھی ہمارے اردگرد ہی کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ کمال احمد رضوی الن کے کردار میں ایک چالاک اور مکار کاروباری شخصیت کے روپ میں ہر قسط میں ایک نئے بزنس پلان کے ساتھ نمودار ہوتے۔ رفیع خاور یعنی ننھا اس کا ایک معصوم اور بھولا بھالا دوست ہر بار الن کے دولت کمانے کے نت نئے پلان کا فرنٹ مین بن جاتا۔ الن کا دولت مند بننے کا خواب تمام تر چالاکیوں اور سازشوں کے باوجود اس وقت دھرے کا دھرا رہ جاتا جب ننھا لوگوں کے سامنے سچ بول دیتا مگر چالاک الن اس موقع پر نہایت مہارت سے غائب ہوجاتا اور آخر میں عوام اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا بدلہ معصوم ننھے سے اس کی پٹائی کی صورت میں لیتے۔ یوں ”الف نون“ کی مختصر دورانیے کی کہانی کا ایک اور باب اختتام پذیر ہو جاتا۔

Read more

ہندوستان کے کائو بوائز اور مسز اندرا گاندھی کا حلقہ گرہ گیر

ہمارے کتب خانہ میں دو ڈیجٹل کتابیں موجود ہیں۔ پہلی تو مشہور زمانہ جاسوس کم فلبی کے بارے میں ہے۔ اے سپائی امنگ فرینڈز مصنف بین میکن ٹائر اور جان لا کیئرے۔ اس کی تعریف ٹوئیٹر پر وکرم سود صاحب نے کی تھی۔ موصوف را کے چیف رہے۔ سن دو ہزار تین میں ریٹائر ہوئے۔ تعلق ہندوستان کے محکمہ ڈاک سے تھا۔ ہمارے محکمہ ڈاک کے اعلیٰ افسران بھی اُن کی طرح ایک ہی مقابلے کے امتحان سے آتے ہیں۔

Read more

تشدد کی قیمت کیا ہے؟

اتفاق سے میری نظر ایک تبصرے پر پڑی، جو چھاتی کے سرطان کے متعلق آگہی دینے والے صفحے پر کیا گیا تھا۔ مجھے اتنا معلوم تھا کہ مفید معلوماتی مچان پر کوئی منفی انداز فکر موجود نہیں ہو سکتا مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ چھاتی کا سرطان چونکہ چھاتی کا ہے تو اپنے ساتھ زندگی کو لاحق موت کے خطرے کے ہمراہ حیا اور شرم کے پہلو تک لے آتا ہے۔ حیا اور شرم کے جس پہلو کی جانب

Read more

خادم رضوی کی زبان پر عاصمہ جہانگیر کا نام اور میری بچپن کی تربیت !

بچپن سے دو چیزیں گھٹی میں ڈال دی گئی تھیں۔ جانوروں سے پیار اور علمائے کرام کا احترام۔ جانور اس لیے کہ اللہ کی بے زبان مخلوق ہیں۔ آج بھی کسی بچے کو کتے کو پتھر مارتے دیکھتا ہوں یا کسی گدھے پر زیادہ بوجھ لدا دیکھتا ہوں تو دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں۔ بچپن میں مولوی کا احترام یہ کہہ کر سکھایا گیا تھا کہ جب دنیا میں آتے ہیں تو کان میں پہلی اذان

Read more

گلگت بلتستان انتخابات: کیا تحریک انصاف کو وہ کامیابی نہیں ملی جو ماضی کی حکمراں جماعتوں کو ملتی تھی؟

پاکستان میں گلگت بلتستان کی تیسری قانون ساز اسمبلی کے انتخاب کے غیر حتمی نتائج لگ بھگ سامنے آ گئے ہیں اور اب حکومت سازی کے لیے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف متحرک نظر آتی ہے جبکہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھرپور احتجاج کا اعلان کر رہی ہیں۔

Read more

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

سچی بات ہے یہ دنیا عالم حیرت تو ہے ہی لیکن کمال یہ ہے کہ اس عالم حیرت میں جہاں ستاروں پہ کمند ڈالی جا چکی ہیں ہماری مقتدرہ و اشرافیہ اپنی کوتاہ کوشی، کم فہمی اور ذہنی و فکری افلاس کے ایسے ایسے نمونے اور مظاہرے پیش کرتی ہے کہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے۔ دور کیا جانا اب یہ جذباتی و غیر جذباتی والے معاملے کو ہی دیکھ لیں بندہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے نا۔

Read more

جذبات میں آنے کی بجائے ہوش سے کام لیں

یہ منگل کو کراچی واقعے پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے بلاول بھٹو زرداری سے فون کر کے کہا تھا کہ فوج تحقیقات کرے گی اور 10 دن میں انکوائری رپورٹ سامنے لائی جائے گی مگر جب نہیں آئی تو پی ڈی ایم نے 8 تاریخ کو مطالبہ کیا تھا کہ انکوائری رپورٹ سامنے لائی جائے جلد از جلد۔ پھر 10 تاریخ کو جب رپورٹ آئی تو جو آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کی اس کے مطابق مزار قائد پر جو کیپٹن (ر) صفدر نے ووٹ کو عزت دو اور مادر ملت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔

اس کے بعد مزار قائد کی بے حرمتی کی گئی تو عوامی دباؤ بڑھ رہا تھا اور پولیس سست کارروائی کر رہی تھی اور مقدمہ درج کرنے سے گریزاں تھی تو شدید ترین عوامی دباؤ پر آئی ایس آئی سیکٹر کمانڈ اور رینجرز کے اہلکاروں نے آئی جی سندھ کو اغوا کیا اور زبردستی ان سے وارنٹ گرفتاری پر دستخط لے کر پھر مریم نواز کا کمرہ توڑ کر کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کیا گیا اور یہ ساری کارروائی اس لئے ہوئی کیونکہ اہلکار جذبات میں آ گئے تھے اور اس سے دو اداروں میں بدمزگی ہوئی اور ناگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور ان چار افسران کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے مگر نام صیغہ راز ہیں اور مزید کارروائی جی ایچ کیو میں ہوگی۔

Read more

اصل نئے پاکستان کا راستہ کیا ہے؟

2007 میں ارسلان افتخار کی خلاف ضابطہ پولیس سروس آف پاکستان میں ہونے والی تعیناتی کی رپورٹ ہیرلڈ میں پڑھی تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا شدید ناقد بن گیا تھا، لیکن جب وہی افتخار محمد چوہدری زیر عتاب آئے اور انھیں پرویز مشرف کی جانب سے خلاف قانون اپنے عہدہ سے ہٹایا گیا تو میں دیگر وکلا، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کی طرح ان کا ہمدرد اور حامی بن گیا اور عدلیہ بحالی

Read more

اعلان لاتعلقی کی آہٹ

بیلنس آف پاور ایک تھیوری ہے۔ طاقت کا ترازو سیدھا کرنا۔ مخالف کے پاس الٰہ دین کا چراغ آ جائے تو اس کے برابر طاقت حاصل کرنے کے لیے بوتل کا جن آزاد کرنا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ نے کبھی سیاسی تحریک چلائی نہ اسے اس کی تربیت ہے۔ اب بھی اسے سیاسی ا تالیق جو پڑھا رہے ہیں وہ سیاست نہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم بنا کر حکومت کے خلاف اپوزیشن نے طاقت کا جو توازن قائم کرنے کی کوشش کی اس کا سارا فائدہ سیاسی موسمیات سے واقف اور تربیت یافتہ پیپلز پارٹی کو ہو رہا ہے۔

Read more

موجودہ سیاسی منظر نامہ اور پس پردہ حقائق!

موسم سرما کی آمد آمد ہے، درجہ حرارت نقطہ انجماد کی جانب گرا جاتا ہے، خزاں سبزہ و گل کا حسن گہنانے کو آیا ہی چاہتی ہے، اس کے برعکس پاکستان کی سیاست کا درجہ حرارت گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر یک جا ہوجانے والے حزب اختلاف کی قیادت بظاہر مولانا فضل الرحمٰن کے پاس ہے، لیکن خصوصی اہمیت تین بار وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے والے اور

Read more

گلگت بلتستان الیکشن۔ مذہبی جماعتیں کس موڑ پر ہیں؟

یوں تو ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ ان جماعتوں نے اخلاقی بالیدگی، اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ سیاست کو بھی اپنے دائرہ کار میں شامل کیا ہے اور ملک میں رائج مغربی طرز جمہوریت میں اپنی من پسند تعبیر کے تحت الیکشنز میں حصہ لیتی رہی ہیں۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا نام سر فہرست ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی سید مودودی صاحب نے تو باقاعدہ اسلامی ریاست

Read more

کیا عمران بھی بھٹو اور نواز بنے گا؟

پاکستانی جمہوریت پر بات کی جائے تو جمہوریت کی تاریخ انتہائی مختصر ہے برخلاف اس کے کہ جمہوریت اس ملک میں کبھی اپنی جڑیں گاڑ سکے گی بھی نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت کی کشتی ہچکولے کھاتے کھاتے 1973 میں سمندر کی طغیانی سے ایک امید بن کر نکل تو آئی۔ مگر جسے خالص جمہوریت کہا جاتا ہے وہ پھر بھی خالص نہ رہی اور نہ کبھی اسے کسی نے خالص بننے بھی دیا۔ جس کی وجہ سے

Read more

”قومی مفاد“ کے نام پر نقصان دہ حکمت عملی کا دفاع!

یہ جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں فوجی بغاوت سے چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا ہیلی کاپٹر مظفر آباد سے واپسی پہ مری کے قریب ایک فوجی کیمپ میں اتر گیا۔ اس وقت پی ٹی وی ہی تھا، نجی ٹی وی چینلز نہیں تھے۔ پی ٹی وی کی رات نو بجے کی خبروں میں ایک طویل وڈیو رپورٹ میں وزیر اعظم نواز شریف کا ہیلی کاپٹر فوجی کیمپ میں اترنے اور ان کی فوجی جوانوں سے ملاقات کے مناظر دکھائے گئے۔ اس رپورٹ کی ایک حیران کن بات یہ تھی کہ نواز شریف کا ہیلی کاپٹر اترنے کے ساتھ ہی وہاں بڑی تعداد میں فوجی جواب اکٹھے ہو گئے اور پرجوش انداز میں ایک ساتھ تالیاں بجاتے ہوئے وزیر اعظم کا خیر مقدم کرنے لگے۔

Read more

پی ٹی ایم سے پی ڈی ایم تک: شکست خوردہ ریاستی بیانہ

وطن عزیز ایک ایسی بدنصیب کھیتی ہے۔ جس کو باہر سے زیادہ اپنی باڑ سے نقصان پہنچا ہے۔ اس کی راکھی کے دعویدار ایوب خان ہو، یحییٰ خان ہو، ضیاء الحق ہو یا مشرف، سب نے ریاستی مفادات کے بیانیہ کی آڑ میں ملک وقوم کو خطرات اور سانحات سے دوچار کیا۔ چاروں نے سیاسی لیڈر شپ کو ملک وقوم کے لئے خطرہ اور خود کو ناگزیر باور کرایا۔ ایک خود کو ڈیگال دوسرا خود کو بین الاقوامی معاملات کا

Read more

سابق فوجی صدر پرویز مشرف: تین نومبر، ملک میں ایمرجنسی اور کھینچا تانی

ایسا نہیں تھا کہ تین نومبر سنہ 2007 کا دن آیا اور اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف کو اچانک خیال آیا کہ کوئی ماورائے آئین کام کیا جائے اور اُنھوں نے اپنے اس خواب کی تعبیر کرتے ہوئے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کر دیا ہو۔

Read more

سازشیں کیوں نہیں تھم رہیں؟

تین نومبر 2007 پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف آئین معطل کر کے ایمرجنسی پلس کے نام پر ایک بار پھر مارشل لا لگایا تھا لیکن یہ دن اس لحاظ سے منفرد بھی ہے کہ ساٹھ سے زائد ججز نے آئین شکنی کو قبول کرنے کی بجائے گھروں میں قید ہونا قبول کر لیا۔ پرویز مشرف پاکستان کے پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہیں آئین شکنی کے جرم میں خصوصی عدالت نے غدار قرار دیا اور انھیں سزائے موت سنائی گئی۔ اس دور میں وکلا، سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں سمیت تمام مکتبہ فکر کے لوگوں نے نے ببانگ دہل آمریت کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ خصوصی عدالت کے فیصلے نے آزاد جمہوریت کے داعیوں کے لئے مزید تقویت کا باعث ہے۔

Read more

مسولینی اور سلطنت کا بحران

ایک بوڑھی خاتون جانے کن وقتوں سے انصاف کی امید پر مقدمہ لڑ رہی تھی۔ اس کے خلاف فیصلہ آیا تو اس نے ماؤں جیسے ٹھہراؤ میں رندھی آواز میں صرف یہ کہا، ” پھر یہ عدالت تو نہ ہوئی…. ” منصف کی کرسی پر رستم کیانی بیٹھے تھے۔ جذبے اور خیال کا تعلق سمجھتے تھے۔ لرز کر رہ گئے۔ بزرگ خاتون کو روسٹرم کے قریب بلایا اور فرمایا، ’اماں جی، آپ سے کس نے کہا تھا کہ یہ عدالت

Read more

بائیس کروڑ بھیڑیں اور گڈریا

پاکستان کی سات دہائیوں کی سیاسی تاریخ میں فوجی حکمرانوں کے اقتدار اور ناتواں جمہوری حکومتوں کے مابین آنکھ مچولی نے پاکستان کی عوام کے سیاسی مزاج کو بھی پختہ نہیں ہونے دیا۔ ہم نے دیکھا کہ نوے کی دہائی میں عوام نے جس وزیراعظم کو دو تہائی اکثریت سے نجات دہندہ کے طور پر منتخب کیا اسی وزیراعظم کے معزول ہونے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس کے بعد جس فوجی آمر کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید

Read more

ہر دس سال بعد یہاں جمہوریت بحالی کی تحریک چلتی ہے

کہنے کو پاکستان ایک جمہوری ملک ہے مگر بدقسمتی سے ملک میں ابھی تک جمہوریت مضبوط ہوئی اور نہ پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہوئی ہے۔ جمہوریت ایک قدم آگے بڑھتی ہے تو دس قدم پیچھے دھکیلی جاتی ہے۔ ملک کو ایک تجربہ گاہ بنایا گیا ہے اور بار بار نئے تجربے دہرائے جاتے ہیں کبھی جمہوریت کو چلنے دیتے ہیں اور جب ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے، تو جمہوریت معطل کر کے مارشل لا نافذ کیاجاتا

Read more

بلبلی خانہ دہلی کی سلطان رضیہ اور غلام یاقوت کی قوت

نام رضیہ تھا۔ ہندوستان کی چار سال تک پہلی اور آخری مسلمان حکمران تھی۔ رضیہ اپنے لیے سلطانہ کا لقب پسند نہیں کرتی تھی کیونکہ اس کا مطلب ہے سلطان کی بیوی بلکہ اسے پسند تھا کہ اسے سلطان رضیہ کے نام سے پکارا جائے۔ ہم پاکستان ہندوستان والے اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس کے آگے پیچھے کون سا نام لگ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اسے رضیہ سلطانہ پکارتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جبڑا

Read more

کیا پاکستان میں سیاست ہے؟

سیاست کی تعریف کئی طرح سے کی جا سکتی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ کسی فرد، افراد، گروہ یا جماعت یعنی پارٹی کا اقتدار میں آنے کی خاطر لائحہ عمل اور برسر اقتدار آنے کے بعد حکومتی معاملات کو آگے بڑھانے اور انہیں اس انداز سے حل کرنے، جس سے حزب اختلاف کو جو خود بھی اقتدار میں آنے کا لائحہ عمل اختیار کیے ہوتی ہے، انگلی اٹھانے کا کم سے کم موقع میسر آئے، کی کوشش کرنے کو

Read more

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن: عاصمہ جہانگیر گروپ کے وکیل لالا لطیف آفریدی کون ہیں؟

انتخابات میں فاطمہ جناح کی حمایت کرنے کی پاداش میں لطیف آفریدی کو یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔ فوجی صدر ایوب خان کے دور میں انھیں طالبعلم رہنما کی حیثیت سے پابند سلاسل رکھا گیا اور وہ بطور سیاسی کارکن سابق ڈکٹیٹر ضیاالحق کے دور میں بھی پانچ مرتبہ جیل گئے۔

Read more

پاکستان میں صحافت پہ کیا گزری؟

ضمیر نیازی آبروئے قلم بھی ہیں اور آبروئے صحافت بھی۔ ان کا سر بلند قلم کبھی سر قلم نہیں کیا جا سکا۔ وہ ہمیشہ جنوں کی حکایات خونچکاں لکھتے رہے۔ ضمیر نیازی نے اپنی زندگی کو خودی اور خودداری کے جس جوہر کے ساتھ برتا وہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ جہاں اہل قلم قبیلوں میں بٹے ہوں، لفظ خریدے اور بیچے جاتے ہوں اور گفتار سے کردار کی سند چھین لی گئی ہو، وہاں ایک مرد علم

Read more

میں ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہوں

حالیہ گلگت بلتستان کے انتخابی دورے کے موقع پر ایک جلسے میں بلال بھٹو زرداری نے یہ الفاظ ایک بار پھر دہرائے ہیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ اور بی بی کا بیٹا ہے، وہ کوئی کھلاڑی نہیں ہیں کہ یو ٹرن لے گا۔ بلاول نے یو ٹرن تو نہیں لیا ہے لیکن یوں ٹرن لیا ہے اور وہ یوں کہ آصف علی زرداری کی دریا دلی سمجھے یا ان کی سیاسی دور اندیشی کہ بلاول کو صرف

Read more

کوئٹہ جلسہ: اب عدالت کو آگے بڑھنا پڑے گا

اپوزیشن کی طرف سے آئین کے احترام کا جو اصول بیان کیا جا رہا ہے، وہی اس ملک میں حکمرانی کے نظام کی اصلاح کا واحد راستہ ہے۔ اس کے برعکس وفاقی حکومت کے نمائندے اپوزیشن کے احتجاج اور سیاسی مطالبوں پر جس بے چینی سے شدید رد عمل ظاہر کر رہے ہیں وہ ملک کو تصادم اور انتشار کی طرف دھکیلنے کی افسوس ناک کوششوں کا حصہ ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب بدکلامی سے گریز کرتے ہوئے

Read more

سانپ موقع شناس ہوتا ہے!

ملکی سیاسی منظر نامہ جس تیزی سے بدل رہا تھا، اس سے مجھ جیسے سوشل میڈیائی مبصرین کی تو چاندی ہو گئی۔ عجیب کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنے بیٹھ جاتے تھے۔ کئیوں کا خیال تھا کہ اب کہ تب ”الطاف حسین پارٹ 2“ ریلیز ہوئی اور کچھ نے خیال پیش کیا کہ ”ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ بس انقلاب آیا کہ آیا“۔

پہلے پہل دھوم مچی گوجرانوالا جلسے میں نواز شریف کی دھواں دھار تقریر کی۔ ہم نے کہا کہ اب ہو گا، دما دم مست قلندر۔ پھر کراچی جلسے سے نواز شریف غائب ہو گئے۔ یوں ہماری دمام دم مست قلندر والی پیش گوئی ہی ٹھس ہو کر رہ گئی۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ بلاول، کوئٹہ جلسے میں شرکت نہیں کریں گے! لو بھئی! اب ہم کیا سمجھیں؟

Read more

جماعت اسلامی کہاں کھڑی ہے؟

وطن عزیز پاکستان میں اگر ایک سروے کرایا جائے کہ سب سے زیادہ جمہوری جماعت کون سی ہے، سب سے ایماندار جماعت کون سی ہے، سب سے پڑھے لکھے لوگ کون سی جماعت کے ہیں، سب سے موثر سٹریٹ پاور کس کے پاس ہے، قدرتی آفات و انسانی حادثات میں سب سے پہلے کون سی جماعت دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے پہنچتی ہے، تو ان سوالات کے جواب میں 90 فی صد سے زائد لوگ صرف ایک نام لیں گے: جماعت اسلامی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب لوگوں کی بہت بھاری اکثریت جماعت اسلامی کو ایسا اچھا سمجھتی ہے تو وہ پھر جماعت کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟ اس سوال کا جواب جماعت اسلامی کے کارکنان و رفقا یہ دیتے ہیں کہ پاکستانی عوام کا سیاسی شعور کمتر درجے کا ہے۔ رائے دہندگان کی اکثریت لالچ یا خوف کی بنیاد پر ووٹ دیتی ہے۔

Read more

نواز شریف کی واپسی یا ’بڑوں کی لڑائی‘ نہیں، جمہور کے حق حکمرانی کا سوال ہے

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 15 جنوری تک وطن واپس لا کر کوٹ لکھپت جیل میں ڈالنے کا اعلان کیا ہے۔ تو دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے لیڈر جنوری تک موجودہ حکومت کی روانگی کی نوید دے رہے ہیں۔ یعنی فریقین جنوری کو ڈرامائی مہینہ قرار دینے پر بہرحال متفق ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ نواز شریف

Read more

وزیر اعظم عمران خان کا انٹرویو: ’نواز شریف کو واپس لانے کے لیے جا کر بورس جانسن سے بات کروں گا‘

پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت ہم برطانوی حکومت سے نواز شریف کی وطن واپسی کے متعلق بات کر رہے ہیں کیونکہ وہ جھوٹ بول کر ملک سے گئے ہیں۔’انھوں نے کہا کہ ‘ہماری پوری کوشش ہے کہ اس کو ڈی پورٹ کروایا جائے۔‘

Read more

جمہویت کے لئے غداری

ہمارے ملک کی سر زمین ہر قسم کی آبیاری کے لئے زرخیز ہے۔ ایک طرف تو لہلاتے کھیت، دریا، پہاڑ، سمندر اور معدنیات سے لیس ہے تو دوسری طرف یہ ملک تشدد، فرقہ ورانہ فسادات، دہشت گردی، لا قانونیت اور غداروں کے ٹھپوں کے لئے ہموار بھی ہے۔ ہمارے ملک کا شروع سے یہ المیہ رہا ہے کہ جو محب وطن ہو یا آئین اور قانون کی حکمرانی کی بات کرے وہ غدار کہلاتا ہے۔ ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جس وزیر اعظم کو غدار اور اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ وہ اس ملک میں تین دفعہ وزیر اعظم رہ چکا ہے۔ اب بھی اس کے نام سے ووٹ لینے والوں کی اسمبلیوں میں کثیر تعداد ہے۔ عوام تو بار بار ووٹ کو عزت دیتی ہے، لیکن ہم نے اب تک تاریخ سے سبق حاصل نہیں کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو ڈکٹیٹر آئے، ان کے نام لیوا بھی نہ رہے۔ جن کو غدار بنا کر جلاوطن کیا گیا، جیل بھیج دیا گیا اور پھانسی دی گئی ان کی جڑیں آج بھی عوام میں موجود ہیں۔ تاریخ بڑی بے رحمی سے فیصلہ کرتی ہے کہ کون تاریخ کے درست سمت میں کھڑا تھا، اور کون غلط سمت میں۔

Read more

فاشزم اور تحریک انصاف

فاشزم دائیں بازو کی، آمرانہ الٹرنشنلزم کی ایک شکل ہے، آمریت کی طاقت، معاشرے اور معیشت کی مخالفت اور لوگوں کو زبردستی دبانے کی یہ تحریک جو کہ 20 ویں صدی کے اوائل میں مقبول ہوئی تھی، اب دوبارہ سے سر اٹھا رہی ہے، مگر اس دفعہ عالمی سطح پر اس کا شکار متوسط طبقہ ہے۔

وسطی یورپ میں پھیلنے سے پہلے اس تحریک کے تانے بانے پہلی جنگ عظیم کے دوران میں اٹلی سے ملتے ہیں، اٹلی میں سب سے پہلے فاشسٹ تحریکوں کا آغاز ہوا۔ لبرل ازم، مارکسزم اور انتشاریت کے خلاف فاشزم کو روایتی دائیں اور بائیں کی بجائے درمیان میں رکھا گیا، تا کہ دونوں اطراف سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: کیا امریکہ کے سپر پاور کے درجے کو صدر ٹرمپ سے خطرہ ہے؟

دنیا بھر میں معاشی، عسکری، تقافتی اور سفارتی سطح پر سب سے طاقتور گردانے جانا والا ملک امریکہ کب اور کیسے سپرپاور بنا اور کیا صدر ٹرمپ امریکہ کے اس عالمی تشخص کو برقرار رکھنے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہیں۔

Read more

ہر ملک مصر نہیں ہوتا

محمد مرسی مصر کی تاریخ میں حقیقی معنوں میں پہلے منتخب صدر تھے ۔ان کا تعلق اخوان المسلمین سے تھا جو اپنے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے ایک طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی تھی ۔ حسن البنا شہید اس کے پہلے قائد تھے ۔ پھر کیا ہوا ؟ مصر کے کچھ جرنیل اور ان کے ہم خیال ، جمہوری مزاج اور جمہوریت کی ترقی سے ہم خیال نہیں تھے ۔ عالمی سطح پر ایک سازش رچی گئی مغربی دنیا

Read more

خبر لیجیے دہن بگڑا

نواز شریف درست ہی کہتے تھے کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بچھونا ہے۔ قوم یہ نہ سمجھے کہ اگر آپ نے ہمیں تخت اقتدار پر بٹھا دیا ہے تو ہم عیش و آرام میں ہیں۔ نواز شریف ہی کیا، ہر شریف انسان یہ بات خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ ذمہ داری کیسی بھی ہو، ہر ذمہ دار انسان کے لئے بڑی آزمائش ہوا کرتی ہے، لہٰذا کوئی بھی ذمہ دار انسان نہ تو خود سے آزمائش طلب کرتا ہے اور نا ہی اس کی خواہش اپنے دل میں رکھتا ہے۔ البتہ اگر آزمائش آہی جائے تو وہ آزمائش کو، من جانب اللہ سمجھ کر صبر، شکر اور استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتا ہے۔

ذمہ داری تو ایک گھر کی ہی ہر ذمے دار انسان کی کمر دہری کر دیا کرتی ہے۔ چہ جائے کہ کسی پر پوری قوم و ریاست کی ذمہ داری آن پڑے۔ اتنا پہاڑ بوجھ آ پڑنے کے با وجود، اگر وہ زندہ بچ جائے تو بڑی بات ہے۔ میں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی رہنماؤں کے سر پر نظامت اعلیٰ کا تاج سجتے دیکھا ہے۔ اعلان ہونے کہ بعد کئی کئی گھنٹے بے ہوشی کے بعد بھی انھیں پہلے خطاب کے لئے کندھا دے کر اسٹیج تک لایا جاتا تھا، تب بھی وہ چند الفاظ سے زیادہ کچھ نہ کہہ پاتے تھے۔ احساس ذمہ داری جن کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو، وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی ذمے داری کی جواب دہی کوئی آسان کام نہیں اور پھر وہ ذمے داریاں جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، ان کا بوجھ تو نہ جانے کتنے ہمالیہ کے برابر ہوتا ہے۔

Read more

حزب اختلاف کا مطالبہ محض عمران کی معزولی نہیں بلکہ اختیارات کا نیا توازن ہے

18 اکتوبر (اتوار) کو حزب اختلاف کے گیارہ جماعتی اتحاد نے کراچی میں ایک زبردست جلسہ منعقد کیا جس میں نہ صرف وزیر اعظم عمران خان کو ہٹانے کا عزم ظاہر کیا گیا بلکہ مقتدرہ کے ان حصوں کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا جنہوں نے مبینہ طور پر عمران خان کو درپردہ سیاسی مدد فراہم کر کے اسلام آباد کا اقتدار بخشا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے گزشتہ ماہ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے

Read more

مریم گرفتار کیوں نہیں ہو سکتیں؟

کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور رہائی کے مختصر عرصے میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ حکومت اور اس کے پشت پناہ اپوزیشن کے پرجوش احتجاج اور ملک میں مہنگائی اور ابتر معاشی صورت حال کے باوجود مصالحت کے لئے تیار نہیں ہیں۔ فی الحال اس لڑائی کو طول دینے اور ایک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن لیڈر صاف انداز میں موجودہ سیاسی انتظام کو ووٹ کی توہین کہہ

Read more

مادر ملت زندہ باد

تاریخ گواہ ہے، خلوص نیت، سچ کی آواز اور ظلم کے مخالف جد و جہد، وقتی شکست کا شکار ہو سکتی ہے، لیکن حق و باطل میں جیت حق ہی کی ہوتی ہے۔ جب جنرل ایوب خان نے فاطمہ جناح کو غدار اور ملک دشمن کہا اور جمہوریت کا گلا گھونٹ کے آمریت کا زہریلا پیالہ، پہلی بار عوام کو پیش کیا۔ بظاہر دھاندلی سے الیکشن بھی جیت لیا۔ کیا ایوب نے سوچا ہو گا کہ آج پچپن سال بعد ”لہو پکارے گا آستیں کا“؟ مادر ملت زندہ باد! کے نعرے لگیں گے؟ وہ جنرل ایوب جس کے بیٹے ہر حکومت میں شامل ہوتے ہیں، وہ اپنے باپ کو مجرم ٹھہرانے سے نہ بچا سکے اور وہ نحیف جثے والی پراسرار موت سے رخصت ہو جانے والی، ایک اکیلی عورت، آج اپنی جنگ جیت گئی۔ آنے والے ہر دور تک با عزت و سرخ رو ہو گئی۔

فاطمہ، ایوب الیکشن انیس سو پینسٹھ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی اعتبار سے اہم ہیں۔

Read more

سیاسی جماعتیں اور اقلیتی ونگ

ویسے تو مجھے سیاسی جماعتوں کے اقلیتی ونگ کی آج تک سمجھ نہیں آئی، حالاں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر سینیٹر کامران مائیکل کے ساتھ میرا قریبی تعلق ہے (یہ میرا خیال ہے)، لیکن یہ تعلق پارٹی کی بنیاد پر نہیں ہے اور اس طرح سے دیگر سیاسی جماعتوں میں اقلیتی راہنماؤں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔ لہٰذا میں نے کبھی ان کی پارٹی کے معاملات میں دخل اندازی کی کوشش نہیں کی۔ یہ کارنامہ خیر سے سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے سر انجام دیا تھا کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کو ایوان میں جانے کے لیے بڑی سیاسی جماعتوں کے رحم و کرم پر ڈال دیا۔ (پھر کہتے ہیں کہ فوجی سیاست میں دخل اندازی نہ کرنے کا حلف اٹھاتے ہیں)۔

بھلا ”تحریک لبیک پاکستان“ جس کے سربراہ غیر مسلم کے بارے میں جن خیالات کا اظہار اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں، ایسے لوگ قانونی مجبوری کی بنا پر اقلیتی ونگ بنا بھی لیں، تو ان کی نظر میں غیر مسلم ارکان کی کیا قدر ہو گی؟ بد قسمتی سے یہی احوال ”جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام“ جیسی خالصتاً مذہبی جماعتوں کا ہے۔

Read more

پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں پہلا جلسہ، قائدین کی حکومت پر کڑی نکتہ چینی

پاکستان کی حزبِ اختلاف کی 11 جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈٰی ایم) کے زیر اہتمام پہلا جلسہ پنجاب کے وسطی شہر گوجرانوالہ میں ہوا۔

گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں ہونے والے جلسے میں اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں نے عوامی مسائل اور معاشی صورتِ حال پر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی۔

Read more

پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ میں جلسہ: 'نواز شریف اور ن لیگ کے لیے یہاں سے واپسی ممکن نہیں'

متحدہ اپوزیشن کے گوجرانوالہ جلسے میں نواز شریف نے اپنی تقریر میں پاکستانی فوج کے سربراہ کا نام لے کر ان پر الزامات عائد کیے۔ اس پر سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے لیکن سب متفق ہیں کہ یہ کوئی معمولی بیانات نہیں۔

Read more

پہلے پاکستانی فوجی صدر کا امریکہ میں فقیدالمثال استقبال کیوں ہوا؟

ساٹھ کی دہائی میں صدر ایوب خان کا امریکہ میں زبردست استقبال دراصل امریکہ کی اس خطے میں سرد جنگ کی پالیسی کا حصہ تھا جس میں چاہے کوئی فوجی آمر ہو یا مطلق العنان بادشاہ، اگر وہ کمیونزم کے خلاف ہے تو وہ امریکی اتحادی ہوگا۔

Read more

شیر بنا شیر؟

”دیکھو دیکھو کون آیا، شیر آیا شیر آیا“۔ یہ وہ نعرہ ہے، جو مسلم لیگ نون کے جلسوں میں اس وقت گونجتے ہیں، جب نواز شریف اسٹیج پہ خطاب کے لیے آتے ہیں۔ تین مرتبہ وزیر اعظم بننے والے میاں نواز شریف کی سیاسی کیریئر پہ نظر دوڑائیں، تو ایک طرف ہمیں وہ دن یاد آتے ہیں، جب نواز شریف ایک فوجی آمر جنرل ضیا الحق کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرنے کی دعا دیتے ہیں اور دوسری طرف ایک اور فوجی جنرل پرویز مشرف کو قاتل اور غدار کہتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

نواز شریف کو جب پاناما لیکس کے مقدمے میں، اقامہ کا ذائقہ ڈال کر اقتدار سے ہٹایا گیا، تو اس وقت نواز شریف نے مریم نواز شریف کے ساتھ ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ بلند کر کے اصلی شیر بننے کی کوشش کی۔ ان کی بیٹی مریم نواز شریف سوشل میڈیا پہ کافی متحرک نظر آنے لگیں اور بلاول بھٹو اور دوسرے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر اپوزیشن کو متحرک و منظم کیا۔

Read more

سروس شوز کی کہانی: جب تین دوستوں کو فوجی بوٹ بنانے کا آرڈر ملا

جب 1940 کی دہائی میں تین دوستوں نے جوتوں کا کاروبار شروع کیا تو ان کے پاس وسائل تھے نہ ہی ہنر مگر ایک قدر مشترک تھی کہ تینوں دوست ہی سرکاری نوکری کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔

Read more

قانون کی بالا دستی اور وزیر اعظم کا عزم

پاکستان کی جمہوری تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو سوائے مایوسی اور کوتاہ نظری کے کچھ نظر نہیں آتا۔ ایک طرف سیاسی جماعتیں ہیں جنہوں نے اقتدار کے لیے سیاست میں ایسے خلا پیدا کیے جن میں آمریت باآسانی سما گئی۔ دوسری طرف اشرافیہ ہے جس نے سیاست دانوں کے ساتھ مل کر ایسی ملک دشمن پالیسیاں بنوائیں کہ ملک کے پہلے تو دو ٹکڑے ہوئے، پھر اس کی معیشت امریکی قرض دینے والی ایجنسیوں کے ماتحت آ گئی۔ ساٹھ

Read more

12 اکتوبر 1999: پرویز مشرف کے شکریے کا دن

12 اکتوبر 1999 ویسے تو پاکستانی تاریخ کا سیاہ باب ہے، لیکن یہ دن ہمارے ذہن پر ان گنت نقوش چھوڑ کر گیا۔ اس دن نے مجھے سیاسی سوچ دی جو اب تک میرے ساتھ ہے اور مرنے تک رہے گی۔ شکریہ جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے رفقاء کا جنھوں نے میرے ذہن کو سیاسی طور پر اتنا پختہ کیا کہ میں آئین کو اس ملک کی سب سے مقدس دستاویز سمجھنے لگا۔ اس دن کی روداد یہ

Read more

مذہبی منافرت: سیاست کو مذہب سے علیحدہ کیا جائے

وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں ریاست دشمن عناصر کا خاتمہ کرنے کے لئے قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اقلیتوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران یہ بات کہی ہے۔ بظاہر اس تشویش کا مقصد دو روز قبل کراچی میں ایک دیوبندی عالم کا قتل ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم کا خیال ہے کہ اس کے درپردہ بھارتی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے کیوں وہ ملک میں فرقہ وارانہ فساد کے ذریعے

Read more

نوشابہ کی ڈائری: 22 اگست کی تقریر… اور شہر بدل گیا

10 ستمبر 2016 وہ نعرہ زمین پر پڑا تھا، میرے قدموں کے پاس ”ہم نہ ہوں، ہمارے بعد، الطاف الطاف“ میں ایم کیو ایم کے مسمار کردیے یونٹ آفس کے دور تک بکھرے ملبے سے بچتی ہوئی چل رہی تھی کہ اچانک ٹوٹی دیوار کا یہ ٹکڑا راستے میں آ گیا، میں پل بھر کو رکی، بار بار اس تحریر کو پڑھا اور آگے بڑھ گئی، یہ سوچتے ہوئے جو ایسا ناگزیر تھا آج اس سے کیسا گریز کیا جا

Read more

تحریک چلانے کا وقت ہوا چاہتا ہے

برے کام کرتے وقت، لوگ دن کی روشنی کا سامنا نہیں کر پاتے۔ اس لیے وہ اندھیرا ہونے کا وقت منتخب کرتے ہیں۔ تا کہ دنیا اور اپنے آپ سے نظریں چرائی جا سکیں۔ چوری ہو، ڈاکا ہو، کسی کی ملکیت پہ قبضہ ہو یا مارشل لا جیسے اقدام ہوں، یہ سب کام ہمیشہ رات کے پردے میں کیے جاتے ہیں۔ حق بات، دن دیہاڑے ببانگ دہل کی جا سکتی ہے۔

حال ہی میں شب کی تاریکی میں صدارتی آرڈیننس جاری کیا گیا۔ اس کے متن میں پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل دی گئی ہے۔ اس آرڈیننس کے مطابق سندھ کے ڈنگی، بھنڈار اور بلوچستان کے جزیروں کو وفاق کے حوالے کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جہاں وفاقی حکومت کی مرضی سے نئے شہر تعمیر کیے جا سکیں گے۔ حیرت کن بات تو یہ ہے اس آرڈیننس کو پیش کرتے ہی اتنی سختی سے کام لیا گیا ہے کہ اس کے خلاف نہ کوئی کورٹ میں جا سکے گا، نہ کوئی اس کو رکوانے کی اپیل کر سکے گا۔ جب کہ سبھی جانتے ہیں کہ آئین پاکستان میں صوبوں کو یہ حقوق حاصل ہیں کہ وہ اپنی حدود میں موجود، تمام قدرتی و معدنی وسائل کی نگرانی خود کریں۔ اگر چہ وہ اس کی ذمہ داری وفاق کو سونپنا بھی چاہیں، تو اس کے لیے ان کو صوبائی اسمبلی سے اکثریتی رائے سے بل پاس کروانا پڑے گا۔

Read more

مجھے یہ بھی یاد تھا

میں سکول کا طالب علم تھا کہ عمران خان کی قیادت میں سینیئر کھلاڑیوں نے جاوید میانداد کی کپتانی کے خلاف بغاوت کی تھی اور کچھ دنوں بعد عمران خان بذات خود ٹیم کے کپتان بن گئے تھے، مجھے وہ بھی یاد تھا۔ انیس سو بانوے میں جاوید میانداد، انضمام الحق، وسیم اکرم اور عاقب جاوید کی بہترین پرفارمنس کی وجہ سے پاکستان کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت گیا تھا اور ٹیم کا کپتان عمران خان ورلڈکپ اٹھانے آیا تو

Read more

پاکستان خدانخواستہ پائیدار جمہوریہ بن گیا تو؟

’خدانخواستہ فوج کمزور ہوئی تو پاکستان بھی شام، لیبیا، عراق، صومالیہ بن سکتا ہے۔ یہ فوج ہی ہے جس نے اس ملک کو متحد رکھا ہوا ہے۔‘ گرامر کے اعتبار سے یہ جملہ بالکل درست ہے مگر کیا حقائق کے اعتبار سے بھی مستند ہے؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

ٹک ٹاک پر پاکستان میں پابندی سے لاکھوں فالوورز والے سوشل میڈیا سٹارز پریشان

پنجاب کے دور دراز دیہات میں بھٹے پر اینٹیں بنانے والا مزدور ہو یا قومی ائیر لائن میں کام کرنے والی فضائی میزبان، یا پھر سیاست کے ایوانوں میں ہلچل مچا دینے والی حریم شاہ ۔۔۔ پاکستان میں ٹک ٹاک کی مقبولیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔

Read more

اللہ جمہوریت کے مستقبل پر رحم فرمائے!

پکڑ دھکڑ اور تھوک کے حساب سے اپوزیشن کے خلاف انکوائریوں اور مقدمات کے علاوہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے ایک متنازعہ شخص کی جانب سے بغاوت کی ایف آئی آر درج کرانے کے منظرنامے میں وزیراعظم کی یہ خواہش کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو عالمی طاقت بن کر ابھرے، بڑی نیک خواہش ہے اور کون پاکستانی ذی شعور ہو گا، جو اس سے اختلاف کرے گا لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف کے دو سال سے زائد عرصے کے دور حکومت میں صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اقتصادی صورتحال مسلسل روبہ زوال ہے، غربت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے حتیٰ کہ اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ تین برس میں چار فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021۔ 22 ء میں اوسطاً 1.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 2019 ء کی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 2020 ء میں 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے۔

Read more

غداری کے فتوے اور بغاوت کے سرٹیفکیٹ

شہید ذوالفقار علی بھٹو محسن پاکستان تھے انہیں نے ہند و پاک جنگ کے دوران قیدی بنائے گئے 93 ہزار جنگی قیدی رہا کروائے اور قبضہ کیا گیا سیکڑوں میل ملکی رقبہ ہندستان سے واگزار کروایا، پھر ٹوٹے پھوٹے دولخت منتشر ارض پاک کو متحد، منظم و مستحکم کیا، ادارے بنائے، تباہ حال اداروں کی بحالی اور تنظیم نو کی۔ پاکستان کی افواج کا پستیوں میں گرا ہوا مورال بلند کیا، انہیں جدید ہتھیاروں سے لیس کیا، ایک شکست خوردہ

Read more

اداروں کی غیر جانبداری پر سوالات! لمحہ فکر

ملکی سیاسی ماحول میں تلخی، نئی بات نہیں۔ یہ ہمیشہ موجود رہی ہے۔ کچھ عرصے سے مگر یہ تلخی، خطرناک حد چھوتی نظر آ رہی ہے۔ ہر گزرتے لمحے، سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے باعث خدانخواستہ کسی بڑے سانحے کا خطرہ نظر آ رہا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے ساٹھ فی صد حصے پر مشتمل، سب سے بڑے صوبے کی نمائندہ جماعت کے خلاف، مسلسل ایسے اقدامات ہو رہے ہیں، جس سے یہ تاثر یقین میں بدل رہا ہے کہ واقعتاً اس کا وجود مٹانے کی کوششیں ہو رہی ہے۔

مسلم لیگ نون میں خرابیاں ہو سکتی ہیں، مگر باوجود اپنی تمام تر کوتاہیوں اور جملہ خرابیوں کے، بہرحال وہ ایک ملک گیر جماعت ہے۔ ایک طرف کہا جا رہا ہے، ہمیں ففتھ جنریشن وار کا سامنا ہے اور دشمن ”خفیہ سازشی منصوبوں“ کے ذریعے ہمیں لسانی بنیادوں پر تقسیم کر کے کمزور کرنے کی کوشش میں مصروف ہے، لیکن اس نازک موڑ پر بھی احتیاط کا دامن تھامنے کی بجائے اپوزیشن کا وجود تک برداشت نہیں کیا جا رہا۔ حالاں کہ اس وقت ملک گیر جماعتوں کا وفاقی سیاست میں موجود رہنا قومی سلامتی اور وحدت کے لئے نا گزیر ہے۔

Read more

جوگندر ناتھ منڈل: پاکستان کے پہلے وزیر قانون جنھیں پاکستان میں ’غدار‘ اور انڈیا میں ’سیاسی اچھوت‘ سمجھا گیا

جوگندر ناتھ منڈل نے 70 برس قبل اُس وقت کے وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے استعفے میں مذہبی جنونیت کے فروغ کا ذمہ دار پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی مذہب کو ایک آلہِ کار کے طور پر استعمال کرنے اور پھر اس کے سامنے جھکنے کی روش کو قرار دیا تھا۔

Read more

غداری کا تمغہ قوم کی ماں کا ورثہ ہے

میری خوش فہمی تھی کہ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشان پاکستان ہے، مگر جب میں نے اپنے پیارے مملکت خداداد کی 73 سالہ تاریخ کا بغور مطالعہ کیا، تو معلوم ہوا، سب سے بڑا اعزاز تو ’تمغۂ غداری‘ ہے۔ آپ یہ پڑھ کر چونک ہو گئے ہوں گے، تو دوبارہ کہے دیتا ہوں، سب سے بڑا اعزاز، جو ریاست کسی معروف شخص کو دیتی ہے، وہ تمغۂ غداری ہے۔

اس تمغے کی تاریخ پرانی ہے۔ پہلے مارشل لا کے بعد، جب حسین شہید سہروردی آئین و جمہوریت و پارلیمان کی بحالی اور مارشل لا کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، تو آمر ایوب خان نے انہیں غدار بتلا کے جیل میں ڈال دیا۔ پھر بھی حالات نہیں سنبھلے، تو سہروردی کو ملک بدر کر دیا گیا۔ اسی دور میں مولانا مودودی، باچا خان اور مشرقی و مغربی پاکستان میں جو کوئی مارشل لا کے خلاف آواز اٹھاتا، اسے یہ تمغۂ غداری دیا جاتا رہا۔

Read more