سات اکتوبر: خراب حالات میں ملک بچانے کا واحد راستہ؟

وطن عزیز میں وزیر اعظم کو منصب سے ہٹانے کے مختلف پیٹرن رائج ہیں، تین تو صرف نواز شریف کے حوالے سے متعارف ہوگئے ہیں۔ ایک بار صدر نے ان کو عہدے سے ہٹایا ۔ دوسری دفعہ آرمی چیف نے۔ تیسری بارسپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا۔ باقی وزرائے اعظم کے منصب سے الگ ہونے کا قصہ پھر سہی، اس وقت آپ کو متحدہ پاکستان کے آخری وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی اقتدار سے رخصتی کی داستان سناتے ہیں۔ صدر پاکستان سکندر مرزا نے آئین کی تنسیخ کے بعد وزیر اعظم کو خط لکھا ، جس میں انھیں عہدے سے ہٹانے کی چتاونی تھی، اس تاریخی خط کو مرزا کا اے ڈی سی رات گیارہ بجے بنفس نفیس فیروز خان نون کو پہنچانے گیا تو وہ سو رہے تھے ، کام ضروری تھا سو ان کو ’غفلت‘ کی نیند سے جگایا۔ خط ڈلیور کرکے نامہ بر رفوچکر ہونے کو تھا، نون نے کہا ، ذرا رکئے ، ممکن ہے جواب کی ضرورت ہو تو اس نے یہ کہہ کر لاجواب کردیا ’’ سر جواب نہیں چاہیے۔

Read more

آن لائن اور آف لائن کا تقابل

حالیہ برسوں میں فیس بک کو حیرت انگیز کامیابی ملی ہے۔ اس وقت، اس میں دو ارب سے زیادہ متحرک آن لائن صارفین ہیں۔ پھر بھی اس کے نئے وژن کو نافذ کرنے کے لیے آن لائن اور آف لائن کے مابین کشمکش کو ختم کرنا پڑے گا۔ ایک کمیونٹی بطور آن لائن اجتماع کے شروع ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں اسے نشو و نما پانے کے لیے آف لائن دنیا میں بھی جڑیں پانا ہوں گی۔ اگر ایک دن کچھ ڈکٹیٹر اپنے ملک سے فیس بک پر پابندی لگاتے ہیں، یا اسے مکمل طور پر انٹرنیٹ سے ہٹا دیتے ہیں، تو کیا یہ آن لائن کمیونیٹی ختم ہو جائیں گی، یا پھر دوبارہ جمع ہو کر لڑیں گی؟ کیا وہ آن لائن مواصلات کے بغیر کسی مظاہرے کا اہتمام کر سکیں گی؟

مارک زکر برگ نے فروری 2017ء کے اپنے منشور میں وضاحت کی تھی کہ آن لائن کمیونٹیاں، آف لائن تعلقات کو فروغ دینے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ کبھی کبھی سچ ہوتا ہے۔ پھر بھی بہت سے معاملات میں آن لائن تعلق، آف لائن کی قیمت ادا کرنے پر آتا ہے۔ لیکن پھر بھی ان دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ جسمانی برادریوں میں گہرائی ہے، جس کا مقابلہ ورچوئل کمیونٹیاں نہیں کر سکتیں۔ کم از کم مستقبل قریب میں ایسا ممکن نہیں۔ اگر میں اسرائیل میں اپنے گھر کے اندر بیمار پڑا ہوں، تو کیلیفورنیا سے میرے آن لائن دوست مجھ سے بات کر سکتے ہیں، لیکن وہ مجھے سوپ یا ایک کپ چائے لا کر نہیں دے سکتے۔

Read more

غیر جمہوری سیاسی نظام!

ملک عزیز کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس ملک کی ترقی میں حائل پرعزم ’ایماندار اور محب وطن قیادت کا فقدان اور سیاستدانوں کا روایتی طرز عمل ہے جس کے باعث عام فرد اپنے گرد مسائل کے انبار دیکھ کر تبدیلی کی شدید خواہش تو رکھتا ہے لیکن ملک میں جمہوری اور مفاد عامہ سے عاری سیاست کے سامنے اس کی خواہش دم توڑ جاتی ہے۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں گڈ گورننس‘ اداروں میں اکاؤنٹبیلٹی اورشفافیت

Read more

ریاستیں کیوں ناکام ہوتی ہیں؟

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر سیاست پروفیسر جیمز اے رابنسن اور ایم آئی آٹی کے ماہرمعیشت ڈیرن ایس موگلو کی لکھی ہوئی کتاب ”Why Nations Fail: Origin of power, prosperity and poverty“ میری پسندیدہ ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ پانچ سو اکہتر صفحات پر پھیلی یہ کتاب اس سوال پر بحث کرتی ہے کہ ریاستیں کیوں کامیاب یا ناکام ہوتی ہیں۔ کتاب میں سوال کیا گیا ہے کہ ایک اوسط امریکی، پیرو کے شہری سے دس گنا، سب صحارا افریقہ کے شہری

Read more

اپنے اپنے مفادات نے ہم کو یکجا کیا

وطن عزیز پاکستان کی گزشتہ چالیس سالہ تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ یہاں اشرافیہ کے طبقہ سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مجرم اپنے جرم کو اس کی اصل کے مطابق تسلیم کرنے سے ہمیشہ انکاری رہا ہے۔ نواب محمد احمد خان قتل کیس ذوالفقار علی بھٹو پر ڈالا گیا تو بھٹو صاحب نے اپنی عوامی اور بین الاقوامی مقبولیت کے زعم میں اس کو پہلے تو پرکاہ کے برابر حیثیت بھی نہ دی۔ ان کے وکیل یحییٰ بختیار بلاشبہ ایک عالی دماغ تھے۔ لیکن وہ بھی اس کیس کو اس کی اصل روح کے مطابق لڑنے میں ناکام رہے، ان کا سارا زور اسے سیاسی کیس ثابت کرنے پر صرف ہوتا رہا۔ جب یہ کیس اپنے آخری مراحل میں داخل ہوا تو پھر بھٹو صاحب سمیت ان کے سب حامیوں کو اندازہ ہوا کہ اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور چڑیاں سارا کھیت چگ چکی ہیں۔

یہی حال نواز شریف کا پاناما کیس میں رہا، ان کے خواجہ آصف جیسے نادان دوستوں نے انہیں یقین دلایا کہ یہ چند ہفتوں کا شور شرابا ہے، میاں صاحب، قوم جلد ہی اسے بھول جائے گی۔ جن کی خوشامد میں آ کر میاں صاحب نے قومی اسمبلی میں جھوٹ پر مبنی وہ تقریر کر ڈالی، جس میں کہا گیا تھا، کہ حضور یہ ہیں وہ ذرائع، جن سے لندن کے فلیٹ خریدے گئے۔

Read more

کرپشن کے بعد غداری: عوامی مینڈیٹ چوری کرنے کے ہتھکنڈے

عمران خان کی قیادت میں حکومت اور تحریک انصاف یہ ثابت کرنے پر کمربستہ ہیں کہ نواز شریف فوج کی پیداوار ہیں مگر عمران خان فوج کے حقیقی کماندار اور نگران ہیں۔ آرمی چیف، وزیر اعظم کی مرضی کے بغیر ایک قدم اٹھانے کی ’جرات‘ نہیں کر سکتے۔ یہ آئیڈیل صورت سننے میں جتنی سہانی لگتی ہے اگر حقیقت میں بھی ویسی ہی ہو تو نواز شریف کا سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف بیانیہ خود اپنی موت مر سکتا

Read more

دیوتا کی آنکھ

میری عمر اس وقت پچاس سال سے اوپر ہے، میں نے یہاں ہر شے بدلتے دیکھی، آئین بدلے، قانون بدلے، حکومتیں بدلیں، پارٹیاں بدلیں، نظریات و خیالات بدلے، روایات بدلیں، رجحانات بدلے، کھانے پینے کے انداز بدلے، پہناوے بدلے، قصبے، گاؤں اور شہر بدلے، گلیاں، محلے اور شاہراہیں بدلیں، موسم کے رنگ ڈھنگ بدلے، ندی نالوں اور دریاؤں نے راستے بدلے، علاقائی نقشے بدلے، دوست دشمن بدلے، پہاڑوں نے رنگت بدل لی اور تو اور مجھے لگتا ہے آسمان میں ستاروں نے جگہیں تک بدل ڈالیں لیکن میں نے ایک چیز کو بدلتے نہیں دیکھا اور وہ ہے اس مملکت پاکستان کا نظام۔

آپ کراچی سے طور خم تک اور کوئٹہ کے باب دوستی سے خنجراب تک کسی بھی شخص سے پوچھ لیں جس نے چار پانچ دہائیاں یہاں بسر کی ہیں وہ میرے ایک ایک لفظ کی تصدیق کرے گا۔ چینیوں کی ترقی کی مثال آپ کو گھسی پٹی لگتی ہے تو چلیں اپنے سابقہ ہم وطن بھائیوں کی بات کر لیتے ہیں۔ صرف پانچ دہائیوں پہلے ہمارے بطن سے الگ ہونے والے کالے کلوٹے، کاہل اور ناٹے بنگلہ دیشی آج ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ہم سے معیشت میں آگے، کرنسی ویلیو میں آگے، برآمدات میں آگے اور جمہوری اقدار میں بھی ہم سے بہت آگے نکل چکے۔

Read more

بورات 2: 2020 میں ساشا بیرن کوہن کے مزاحیہ کردار کی واپسی اور مائیک پینس کی ریلی میں فلمائے گئے سین کے سوشل میڈیا پر چرچے

اس فلم کے بارے میں چہ میگوئیاں ایک عرصے سے جاری تھیں اور اس بارے میں امریکی صدارتی انتخاب سے قبل گذشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ہونے والی پہلے مباحثے کے بعد جب ایک پراسرار ویڈیو جاری ہوئی تو کئی افراد پہچان گئے تھے کہ یہ دراصل بورات 2 کا غیر رسمی ٹریلر ہے۔

Read more

امریکی صدارتی انتخاب 2020: وہ رات جب امریکی جمہوریت بدترین تنزلی کا شکار ہوئی

گذشتہ رات ہونے والا شرمناک مباحثہ کسی رکھ رکھاؤ والی بحث سے زیادہ ’پنجروں میں ہونی والی لڑائی‘ کی طرح تھا اور اس نے ایک بالکل مختلف دور اور ملک کی عکاسی کی۔ نہ پاٹی جا سکنے والی خلیج کا حامل امریکہ، ایک ایسا ملک جس میں جمہوریت زوال کی شکار ہے۔

Read more

آمر پرویز مشرف، نواز شریف اور عدالتی ریمارکس

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ کی عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت کے دوران میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نواز شریف کو پتا ہے کہ وہ پورے سسٹم کو شکست دے کر باہر گئے ہوئے ہیں۔ وہ باہر بیٹھ کر حکومت اور اس ملک پر ہنستا ہو گا۔ یہ ایک شرمناک طرز عمل ہے حکومت کو بھی آئندہ سوچنا چاہیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف نے پھر وارنٹ گرفتاری وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی قونصل اتاشی کے ذریعے پھر تعمیل نہ ہو سکی۔ قونصل اتاشی حسن نواز کے سیکرٹری کی درخواست پر دوبارہ وارنٹ لے کر گئے مگر کسی نے وصول نہیں کیے۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: ”نو گو ایریا“ ختم․․․ مہاجر ”اردو بولنے والے سندھی“ ہو گئے

16 جولائی 2003 سال اور قد بچے کی عمر بتاتے ہیں لیکن بچوں کے شعور کی اٹھان کا پتا ان کے سوال دیتے ہیں۔ وہ سوال جو ہمیں پریشان یا سوچنے پر مجبور کردیں۔ کچھ دنوں پہلے سارنگ نے جب پوچھا، ”ماما! آپ ڈائری کیوں لکھتی ہیں، کوئی پڑھتا نہیں تو فائدہ؟“ تو مجھے خبر ہوئی کہ میرا بیٹا تیزی سے بڑا ہو رہا ہے۔ اس کا پہلا سوال میرے ہاتھ میں پکڑی ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تھا،

Read more

نواز شریف پاکستان کے چی گویرا بن سکتے ہیں

جمہوریت نواز شریف کا نام نہیں ہے۔ نواز شریف نے کبھی جمہوریت کی جنگ لڑی ہے اور نہ جمہوریت کے کبھی پرچارک رہے ہیں۔ نواز شریف کی جماعت کے اندر جمہوریت ہے اور نہ مسلم لیگ ن جمہوری جماعت ہے۔ کاروباری اور تاجر پیشہ نواز شریف نے ہمیشہ نفع و نقصان کی بنیاد پر سیاسی فیصلے کیے ہیں۔ اقتدار کی سیاست میں کوئی ایک فیصلہ نواز شریف کا ایسانہیں ہے۔ جس سے جمہوریت کو تقویت ملی ہو۔ مسلم لیگ ن

Read more

جمہوریت سے آمریت تک

پاکستان ایک ایسا ملک جسے بہت کوششوں اور قربانیوں سے حاصل کیا۔ ہر ادوار میں بہت سی قربانیاں پیش کرنے کے بعد اس ملک کو حاصل کیا گیا۔ اب بات کرتے ہیں جمہوریت کی جس کا راگ ہر سیاستدان الاپتا تو ہے کیا صحیح معنی میں اس لفظ کے مفہوم سے بھی یہ لوگ واقف ہے اگر بلا دریغ کہا جائے کہ نہیں تو بالکل غلط نہیں ہوگا۔ اسٹیبلیشمنٹ کی باگ ڈور تو آج بھی کسی مضبوط ہاتھوں میں جکڑی

Read more

خرابی کا ذمہ دار کون۔ سیاست دان یا بیوروکریسی

نئے پاکستان کی اصلاح کا اگر بغورجائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی نئی اصلاح نہیں ہے۔ یہ بھی سب سے پہلے پاکستان کے نعرے کا تسلسل ہی ہے۔ تھوڑا سا ماضی کی طرف جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے جب حکومت سنبھالی تو ہمیشہ کی طرح انہوں نے پاکستان کے ہر شعبہ ہائے زندگی کو بگڑا ہواپایا اور ہر محب وطن فوجی آمر کی طرح انہوں نے اس بگڑے ہوئے نظام

Read more

فلپائن کی وہ خاتون جو سوشل میڈیا ٹرولز کو ان ہی کے کھیل میں مات دے رہی ہیں

دنیا بھر میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کی جو لہر آئی ہوئی ہے، اُس میں فلپائن کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ نام نہاد ٹرول فارمز کا استعمال کرتے ہوئے متعدد جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنائے جا رہے ہیں جو سیاسی پروپیگنڈے کی تشہیر اور تنقید کرنے والوں پر حملے کرتے ہیں۔

Read more

اسٹیبلشمنٹ اور ووٹ کی عزت

ویسے تو کرنے والے بہت سے اعتراضات کرتے ہیں لیکن اسلام پر ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر یہ اتنا ہی بڑا اور انقلابی مذہب تھا تو اس نے غلامی کا خاتمہ کیوں نہیں کیا؟ ظاہر ہے یہ ایک بڑا اعتراض ہے اور علماء اس کے جوابات دیتے آئے ہیں۔ آپ مدلل علماء کے پاس جائیں تو آپ کو 8 ایسے طریقے بتائے جائیں گے جن کے ذریعے اسلام نے غلامی جیسی قبیح رسم کا خاتمہ کرنے کی لیے کچھ اقدامات اٹھائے۔ ظاہر ہے یہ ایک بڑا اقدام تھا اور اس وقت یہ انقلابی فیصلہ یوں گلے پڑ سکتا تھا کہ لوگوں کے پاس ویسے روزگار اور آمدنی کے ذرائع نہیں تھے جیسے یورپ کے صنعتی انقلاب اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے معجزے کے بعد وقوع پذیر ہوئے۔ لہٰذا اسلام نے محمود و ایاز برابر کیے اور باقی کام انقلاب کی بجائے ارتقا پر چھوڑ دیا۔

Read more

کیا حزب اختلاف عوام کو متحرک کر سکے گی؟

حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے موجودہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہیں عوام کی بڑی فکر ہے کیونکہ وہ مہنگائی اور بے روز گاری کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں ان کا جینا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے لہذا انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتیں انہیں اس حکومت سے نجات دلا کر ہی دم لیں گی؟ احتجاج ہر شہری

Read more

اگر آئین سے عہد وفا کرتے تو۔۔۔

اپوزیشن جماعتوں کی کانفرنس کا ہنگام ابھی تھما نہیں تھا کہ میڈیا پر پارلیمانی رہنماؤں اور آرمی چیف کی ملاقات کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ ذرائع کے حوالے سے چلنے والی خبروں میں دعویٰ کیا گیا کہ ملاقات میں عسکری قیادت نے کہا ہے کہ فوج کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ فوج کو سیاسی معاملات سے دور رکھا جائے۔ آرمی چیف نے واضح کہا کہ سیاست میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں۔ جو بھی منتخب حکومت ہوگی اس

Read more

جماعت اسلامی اپوزیشن کی اے پی سی میں کیوں شریک نہیں ہوئی؟

جماعت اسلامی جو ہر دور میں خود کو عوام دوست اور جمہوریت کا داعی قرار دیتی رہی ہے، نے اتوار کو حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کرنے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیاں دراصل حکومت کی بی ٹیم کی حیثیت رکھتی ہیں اور ملک میں سامراجی ایجنڈا نافذ کرنے کے لئے تحریک انصاف کا ساتھ دے رہی ہیں۔

Read more

بنگلا دیش کی عدلیہ پاکستان کے راستے پر

پاکستان میں تو انتظامیہ اور عدلیہ کی رسی کشی کی تاریخ خاصی پرانی ہے مگر اب لگتا ہے بنگلا دیش بھی اسی راستے پر چل رہا ہے۔ کچھ عرصے پیشتر بنگلا دیش سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہاں کے چیف جسٹس سریندر کمارسہنا نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ گوکہ اس بارے میں اتنظامیہ اور عدلیہ دونوں نے زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں پھر بھی اس اعلان کے پیچھے بہت کچھ پوشیدہ ہے۔ سریندر کمار سہنا بنگلا دیش کے پہلے

Read more

ہمارے سیاسی المیے کے اسباب

حقیقی جمہوریت میں سیاسی پارٹی جمہوری نظام کی بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ یہی بنیادی اکائیاں مل کر ایک مضبوط جمہوری نظام تشکیل دیتی ہیں۔ پاکستان میں سیاسی پارٹیاں آمریت کے استعارے بنی ہوئی ہیں۔ جو اپنے منشور اور نعروں پر عمل کرنے کی بجائے خاندانی آمریت کے تحفظ کو ہی اپنا نصب العین بنا چکی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف جب پرانی سیاسی جماعتوں کو شکست دے کر اقتدار میں آئی تو اس کے دو نعرے احتساب سب کا، دو نہیں

Read more

بھونکتے، کاٹتے کتے

یہ لطیفہ غالباً صدر ایوب کے زمانے کا تھا۔ ایک پاکستانی کتا سرحد پار کر کے انڈیا جا نکلا اور اس کی ملاقات ایک انڈین کتے سے ہوئی۔ انڈین کتا جو نحیف و نزار تھا، پاکستانی کتے کی صحت سے بڑا مرعوب ہوا۔ ایک دوسرے کے حالات پوچھے اور انڈین کتے کو پاکستان کی خوشحالی کا سن کر اپنی حالت پر بڑا افسوس ہوا۔ پاکستانی کتے سے پوچھا کہ ایسے اچھے ملک کو چھوڑ کر ادھر کیوں آ گئے؟ پاکستانی کتے نے جواب دیا کہ وہاں کھانے کو تو بہت ملتا ہے، پر بھونکنے کی آزادی نہیں۔

Read more

مرتضی بھٹو: تیری یاد کے آنسو

نجانے کیوں آج کربلا اور شہیدان کربلا کے بارے سوچتے سوچتے مجھے پہلے پابلو نرودا اور پھر مرتضی بھٹو یاد آ گئے شاید ان کے مابین کوئی رشتہ ہے؟

شہیدان کربلا حق و باطل کے درمیان امتیاز کا استعارہ ہیں تو پابلو نرودا کی نظموں میں مزاحمت کے پورے پورے شہر آباد ہیں اور جرات و انصاف کے نور سے دھلا شخص مرتضی بھٹو تو سر تا پا مزاحمت تھا۔

اسی مہینے کی 20 تاریخ کو مرتضی بھٹو کی نجانے برسی کا کون سا نمبر ہے جو کہ میرے لیے بالکل بھی اہم نہیں کیونکہ چاہے آج وہ ہمارے درمیاں موجود نہیں لیکن میرا ماننا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں اپنے لہو بھرے کپڑے لیے تاریخ کے چوراہے پر مظلوم مزاحمت کی علامت بن کر ارنسٹ ہمینگوے کی نوبل انعام یافتہ کتاب ”The old man and the sea“ کے اس فقرے کو سچ ثابت کر رہا ہے کہ
”آدمی کو مارا جا سکتا ہے اسے شکست نہیں دی جا سکتی“
اور یقیناً مرتضیٰ بھٹو بھی مار دیا گیا لیکن اسے شکست ابھی ہرگز نہیں ہوئی۔

Read more

کیا خونریزی انقلاب کا لازمہ ہے؟

انقلاب کا نام آتے ہی ہمارے ذہنوں میں تشدد و خون ریزی کا تصور پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ تصور اپنی جگہ درست ہے کیونکہ اگر دنیا میں برپا ہونے والے نماٰیاں انقلابات کا مطالعہ کیا جائے تو تشدد کا عنصر لازمی نظر آتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تشدد واقعی انقلاب کی خصوصیت ہے؟ سماجی علوم کے ماہرین کی نگاہ میں تشدد انقلاب کی خصوصیت نہیں ہے اور انقلابی کا متشدد ہونا اس کی تربیت کا حصہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ تشدد کو انقلاب کا لازمہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ جہاں بھی انقلابی تحریکیں اٹھتی ہیں وہاں سب سے پہلا خطرہ موجودہ حکومت کو لاحق ہوتا ہے اور وہ ان تحریکوں کو سرکوب کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہیں۔

بعض اوقات اس حکومتی تشدد کے ردعمل میں انقلابی تحریکیں بھی تشدد کا مظاہرہ کرتی ہیں یا انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلاب مخالف افراد کو سزائیں دینے کا کام بھی تشدد کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں گزشتہ دو سو سالوں کے اندر تشدد کا عنصر مشترک طور پر تمام انقلابی تحریکوں میں ملتا ہے اور شاید اسی لیے تشدد کو انقلاب کی خصوصیت سمجھا جانے لگا۔ تشدد در حقیقت بیرونی عوامل کی وجہ سے مراحل انقلاب میں پیدا ہوتا ہے جبکہ خود انقلاب کے اندر ایسا کوئی تقاضا موجود نہیں ہوتا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی انقلاب بذات خود تشدد نہیں چاہتا بلکہ حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ تشدد پیدا ہوجاتا ہے اور اس تشدد کا درجہ اور شدت کیا ہوگی، یہ مختلف عوامل پر انحصار کرتا ہے۔

Read more

نواز شریف نے جو کیا وہی بھگتا

نواز شریف کی آج کی آل پارٹیز کانفرنس میں تقریر دلچسپ تھی۔ اس میں بعض نکات شکوے شکایت پر مبنی تھے، مگر کیا وہ ان معاملات میں بڑی حد تک خود قصور وار نہیں ہیں؟ عدالتوں کے ہر ڈکٹیٹر کی حمایت کرنے اور بغاوت کو جائز قرار دینے کا شکوہ کرنے والے یہ بھی تو بتائیں کہ یہ جج تعینات کرتے وقت انہوں نے کیا سوچا تھا؟ کیا ایسے جج تعینات کرنے کا سوچا تھا جو جبر کے زمانے میں بھی حکومت وقت کی بجائے قانون کا ساتھ یقینی طور پر دیں؟ اس وقت تو انہیں بہت شوق تھا کہ جی ہمارا حامی جج تعینات ہو، جو ہمارے خلاف فیصلہ نہ دے۔ پھر ایسے جج تو حکومتِ وقت کا ہی ساتھ دیں گے۔ حکومت مشرف کی ہو گی تو اسے آئین میں تین برس کی من مانی تبدیلی کا اختیار بھی دیں گے۔ جج تعینات کرتے وقت یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وہ حکومت نہیں بلکہ قانون کے ساتھ کھڑے ہونے کا ریکارڈ رکھتے ہوں۔

ایک عبرتناک مثال ثاقب نثار کی ہے جنہیں نواز شریف نے لاہور ہائی کورٹ کا جج جس میرٹ پر بنایا تھا وہی ان کے سامنے آیا۔ ججوں کی تعیناتی اور احتساب کا جو طریقہ میثاق جمہوریت میں طے کیا گیا تھا اس سے انحراف کیوں کیا گیا؟ تمام سپیشل کورٹس بشمول احتساب عدالتیں ختم کرنے کا عزم کیا ہوا؟ پھر وہی احتساب عدالتیں میاں صاحب کے لیے عبرتناک عدالتیں ثابت ہوئیں اور ثاقب نثار بھی میاں صاحب کی خواہش کے برعکس ان پر نثار نہ ہوئے بلکہ انہوں نے اپنا ممدوح کسی اور کو جانا۔

Read more

مرتضیٰ بھٹّو: ذوالفقار علی بھٹّو کے ’حقیقی سیاسی جانشین‘ جو اپنی ہی بہن بےنظیر کے دورِ حکومت میں مارے گئے

والد کی پھانسی بعد مرتضیٰ بھٹّو اور ان کے بھائی شاہنواز نے ذولفقار علی بھٹو کی موت کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور مبینہ طور پر ’الذوالفقار‘ نامی تنظیم قائم کی۔ البتہ مرتضیٰ بھٹو کا خاندان اس حوالے سے ان کا دفاع کرتے ہوئے آج تک اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ان کا اس نظیم سے کوئی تعلق تھا بھی یا نہیں۔

Read more

سیاست، طاقت اور اخلاقیات

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق 16ستمبر 2020کو کیپٹل ٹیریٹری وقف املاک بل پر ووٹنگ ہوئی تو ابتدا میں اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی۔ مشترکہ اجلاس کی کارروائی دیکھ کر میں حیران ہورہا تھا کہ وقف املاک بل پر اپوزیشن حکومت کی مخالفت کیوں کررہی ہے حالانکہ جب اس بل کو اگست کے تیسرے ہفتے میں ریاض فتیانہ کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف میں پیش کیا گیا

Read more

پاکستان کی پولیس کب غیر سیاسی ہو گی؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے چند روز پہلے موٹر وے ریپ کیس کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی وخوف کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کو پروفیشنل بنانے اور اس کے نظام میں سیاسی مداخلت ختم کرنے پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ کئے بغیر عام شہریوں کی حفاظت ممکن نہیں ہوگی۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک

Read more

زنا ، زنا بالجبر اور عورت کی حیثیت طے کرتے قوانین پر ایک نظر

جب پاکستان اس خطے پر ابھر تو اس نے ایسے قوانین کو اپنایا جو برصغیر پاک و ہند میں پہلے سے موجود تھے اور پاکستانی سول اور فوجداری ضابطے کے قانون بھی اسی روایت کا حصہ بن گئے۔ ریپ کے لیے قانون سازی ان اپنائے گئے قوانین کا ایک حصہ تھا۔ 1979 میں اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا جب فوجی آمر جنرل ضیا الحق، جس نے پاکستان میں اسلامی قانون کے انتہائی قدامت پسند اور متنازعہ ورژن کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا، ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کی سزا ہم اب بھی بھگت رہے ہیں۔

اس قانون کا سب سے زیادہ تباہ کن نتیجہ 1979 میں حدود آرڈیننس کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ حدود آرڈیننس پانچ ایسے آرڈیننس کا مجموعہ ہے جن پر پارلیمنٹ میں کبھی بحث نہیں ہوئی۔ قومی بحث و مباحثے کے بغیر کوئی بھی قانون لاگو کرنا مارشل لا رجیم کا یوں بھی خاصہ رہا ہے۔ اقتدار میں غیر قانونی تسلسل کا جواز پیش کرنے کا یہ ایک عامیانہ سا حربہ ہوتا ہے۔

Read more

کراچی کے برساتی نالے کا بھیانک انتقام

یہ 1962 کی بات ہے جب پاکستان کے پہلے فوجی آمر نے اپنا تیار کردہ آ ئین پاکستان کے عوام پر مسلط کیا تھا۔ ہم اس وقت کے فیڈرل کیپٹل ایریا میں رہتے تھے، جسے اب عرف عام میں ایف سی ایریا بھی کہا جاتا ہے۔ سرکاری ملازمین کی یہ کالونی اس زمانے میں کراچی کے شمال کی جانب آخری بستی تھی اور ہم اس بستی کے بالکل آخری سرے پر رہا کرتے تھے۔ ہمارے گھر کے شمال اور مشرق

Read more

قائد اعظم حیات ہوتے تو ابصار عالم اور بلال فاروقی کو کیا جواب دیتے؟

صدر مملکت عارف علوی نے آج قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر کراچی میں ان کے مزار پر حاضری دی اور کہا کہ قوم کی فلاح و ترقی بابائے قوم کے اصولوں پر چلنے اور ان کا بتایا ہؤا راستہ اختیار کرکے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ ملک کا سربراہ جب کسی شخصیت کے اصولوں کو اس قدر اہمیت دے رہا ہو تو یہ باور کرنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ واقعی اس بات پر

Read more

آج 10 ستمبر ہے

سب فلم کی مانند آنکھوں کے سامنے ہے۔ میں نشتر میڈیکل کالج کے قاسم ہال کے اپنے کمرے میں بیٹھا پتھالوجی کی کتاب کھولے مطالعہ میں مشغول تھا کہ دروازہ کھلا۔ علی شمس القمر ( اب مرحوم ) اور فواد علی شاہ ( آج کل مفقود ) داخل ہوئے اور کہا چل مرزا پی آئی ڈی سی کھاد فیکٹری والوں کے جلوس میں چلتے ہیں۔ میں تب طالبعلموں کی چین نواز تنظیم این ایس او نیشنلسٹ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں فعال

Read more

مسئلہ کشمیر اور گپکار ڈیکلریشن

ان دنوں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاستدانوں کا ایک مشترکہ بیان موضوع بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت سے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرینگرمیں گپکار روڈ پہ واقعہ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ میں گزشتہ سال 4 اگست کو ہونے والے اس اجلاس کا مشترکہ بیان ”گپکار اعلامیہ“ کے نام سے اب جاری کیا گیا ہے۔ فاروق عبداللہ کی زیرصدارت اجلاس میں پی ڈی پی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ ر محبوبہ مفتی، ، پی ڈی پی کے مظفر حسین بیگ، پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون، پیپلز کانفرنس کے عمران رضا انصاری، عبدالغنی وکیل، تاج محی الدین پیپلز کانفرنس، صدر پردیش کانگرنس جی اے میر، محمد یوسف تاریگامی ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی، عمر عبداللہ نیشنل کانفرنس، مظفر شاہ عوامی نیشنل کانفرنس اور ممبران پارلیمنٹ جسٹس حسنین مسعودی، محمد اکبر لون این سی، ناصر سوگامی، شاہ فیصل پیپلز متحدہ محاذ، علی محمد ساگر این سی، مظفر شاہ، عوامی نیشنل کانفرنس، عزیر رونگا پی یو ایف، سہیل بخاری پی ڈی پی نے شرکت کی۔

” گپکار ڈیکلریشن“ میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین تمام حملوں اور حملوں کے خلاف جموں و کشمیر کی شناخت، خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے تحفظ اور دفاع کے عزم میں متحد ہوں گے۔ یہ ترمیم، آرٹیکل 35 اے، 370 کو منسوخ کرنا، غیر آئینی حد بندی یا ریاست کا جداگانہ جموں، کشمیر اور لداخ کے عوام کے خلاف جارحیت ہوگی۔ اعلامیہ میں ہندوستان کے صدر اور وزیر اعظم اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماں کے ساتھ انھیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کرنے اور ان سے عوام کے جائز مفادات کے تحفظ کے لئے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ ہمارے ملک (انڈیا) کے آئین کے ذریعہ ریاست کو دی گئی ضمانتوں کے حوالے سے وہ ان ضمانتوں کی غیرآئینی خلاف ورزی کی پیروی کرنے کے پابند غیر مہذب نتائج سے بھی آگاہ کریں گے۔

Read more

کسی انہونی تک یہ انتظام چلتا رہے گا

وزیر اعظم عمران خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات بہت خوشگوار ہیں، غالباً اپوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگوں کی بڑی خواہش ہے کہ ان کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں۔ خان صاحب نے یہ کوئی بڑی خبر نہیں دی۔ ہر ذی شعور پاکستانی کو علم ہے کہ موجودہ حکومت اور افواج پاکستان ایک ہی صفحے پر ہیں۔ ماضی کی سویلین

Read more

بجلی کے بلوں کے جلنے سے دلوں کے جلنے تک

تازہ ترین خبروں کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کے الیکٹرک کے لئے ایڈجسٹمنٹ ٹیرف کے تحت بجلی 1.09 روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دیدی۔ بدھ کو کابینہ ڈویژن میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی کا اجلاس ہوا جس میں کے الیکٹرک کے لئے 2016 تا 2019 کے عرصے کے لئے سہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ ایڈجسٹمنٹ کے مطابق کے الیکٹرک بجلی کی قیمتوں میں 1.09 روپے فی یونٹ کے حساب سے اضافہ کرسکے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ حکومت جو ہر قسم کی سبسڈی کے خلاف ہے اور عوام کو جن جن مدات میں حکومت سبسڈی ادا کیا کرتی تھی وہ سب واپس لے کر عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ تو ڈال دیا گیا ہے لیکن کے الیکٹرک جیسا ادارہ جو عوام کو مسلسل بجلی کی کے جھٹکے پر جھٹکے دینے سے باز آ کر نہیں دے رہا، اسی اقتصادی اجلاس میں زر تلافی کی مد میں کے ای کو 4 ارب 70 کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری کے احکامات بھی جاری کر چکا ہے۔

Read more

وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خواتین قیدیوں کی رہائی کے احکامات، کون کون رہا ہوگا؟

عمران خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث خواتین قیدیوں کی رہائی کی ہدایات وزارت انسانی حقوق اور اٹارنی جنرل سے مشاورت کے بعد جاری کی گئی ہیں۔

Read more

ریاست سویلینز کی ماں کب بنے گی؟

تین حروف کا مجموعہ لفظ ’ماں‘ ذہن میں آتے ہی ایسا فرحت بخش احساس پیدا ہوتا ہے جیسے تمام تکالیف سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ جیسے تپتی دھوپ کے بعد اچانک گھنے سیاہ بادل دیکھ کر ہوتا ہے لیکن اگر ماں کے ساتھ لفظ ’سوتیلی‘ لگ جائے تو خوف، دکھ اور اضطراب کی لہر جھرجھری طاری کر دیتی ہے۔ یہ کرب وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے سوتیلی ماں کے جسمانی و ذہنی اذیتیں جھیلی ہوں۔ ریاست بھی ماں کے جیسی ہی ہوتی ہے جس کا کام رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر سب شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوتا ہے۔ ایسا ماحول میسر کرنا ہوتا ہے جس میں شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی، یکساں عدل و انصاف اور مساوات دکھائی دے مگر جب ریاست شہریوں میں تفریق کرنا شروع کر دے تو ایسا طبقاتی فرق پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے انحطاط کا سبب بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ تہتر سالوں میں طبقاتی فرق بہت بڑھ چکا ہے اور ریاستی اکابرین کی جانب سے اسے زائل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نظر نہیں آتی۔

Read more

احمد نورانی کی خبر اور دو نمبر جمہوریت‎

کئی دنوں سے خیال تھا کہ دو نمبر جمہوریت کے نعرے یا دلیل کی حقیقت واضح کروں اور عرض کروں کہ جس چیز کو تحریک انصاف دو نمبر جمہوریت کہتے نہیں تھکتی تھی اس کا مطلب در اصل کیا ہے۔ شکر گزار ہونا چائیے احمد نورانی کا جنہوں نے اس مطلب کو ثبوت کے ساتھ سب کے سامنے رکھ دیا اور دو نمبر جمہوریت کی وضاحت کر دی۔ جن دوستوں کے لئے یہ تصویر ابھی تک ادھوری ہے اسے میں

Read more

مسئلہ کشمیر اور ”گپکار ڈیکلریشن“

ان دنوں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کے بھارت نواز سیاستدانوں کا ایک مشترکہ بیان موضوع بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت سے 5 اگست 2019 کے اقدام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ میں گزشتہ سال 4 اگست کو ہونے والے اس اجلاس کا مشترکہ بیان ”گپکار اعلامیہ“ کے نام سے اب جاری کیا گیاہے۔ فاروق عبداللہ کی زیرصدارت اجلاس میں پی ڈی پی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی، پی

Read more

”جلیبی بائی“ اور ”چپلی دراز“

عام تصور یہی ہے کہ تمام آلام و مصائب زندگی کے ساتھ منسوب ہوا کرتے ہیں اور سانس کی ڈور ٹوٹتے ہی انسان بھی مکت ہوجاتا ہے اور اس کے قائم کردہ تصورات و تشکیلات بھی زمانے کی نظر سے محو ہو جاتے ہیں۔ یہ تصور حال ہی میں ایک خوردنی تیل بنانے کی کمپنی نے اپنی اشتہاری مہم کے ذریعے خاک میں ملا دیا اور ایک ہی ہلے میں دو متوفین، یعنی حضرت امیر خسرو اور اردو کا جنازہ دوبارہ نکال دیا۔ آخر الذکر کے سلسلے میں احباب کی دھوم دھام کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔

زیربحث کمپنی اس سلسلے میں عادی مجرمان کے زمرے میں تو آتی ہی ہے، ”اشتہاری مجرم“ بھی ہے۔ چند برس قبل اسی کمپنی نے ایک اشتہار چلایا تھا، جس کا بنیادی نعرہ تھا ”کشمیر پر سودا؟ ہو ہی نہیں سکتا!“ یہ چونکہ کشمیر کی نقشہ پر فتح سے قبل کا دور تھا، اس لیے مطعون نہ ٹھہرا اور یوں ان تاجران ملک و ملت کا حوصلہ بڑھ گیا اور اب کی بار انہوں نے اردو زبان کی ترویج کی آڑ میں امیر خسرو جیسے درویش صفت شاعر کا کلام اپنے تیل کی کڑاھ میں جلیبی کی صورت میں تلوایا ہے اور لوگ باگ اسے خسرو ہی کے کلام سے مرصع کاغذوں میں لپیٹے، ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں اور ہر ایک دو ”دندی“ (بائٹ کا اردو ترجمہ ہو نہیں سکتا لہٰذا پنجابی سے گزارہ کیجئیے ) کے بعد اردو کی اس عظیم نشاۃ ثانیہ پر کمپنی ہذا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اردو کی اس جلیبی بائی درگت پر مبنی اشتہار کے مبصرین اور سراہنے والوں میں عدیم المثال شاعر ناصر کاظمی کے صاحبزادے باصر کاظمی بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری: جو قائد کا غدار ہے، وہ موت کا حق دار ہے

12 اکتوبر 1991 اب یقین آیا کہ دنیا بہت چھوٹی ہے۔ صدام حسین نے قبضہ کیا ہے کویت پر، لڑ رہے ہیں سعودی حکم راں اور صدام حسین، حملہ کیا امریکا نے عراق پر، اور نام بدل گیا ہمارے ننھے منے فہد کا۔ میرے منہ پر اب تک اس کا نیا نام نہیں چڑھا ہے، اکثر اسے ”صدام“ کی جگہ ”فہد“ کہہ جاتی ہوں، اور تو اور خود بھائی جان جنھوں نے نام تبدیل کیا انھیں بھی اب تک اپنے

Read more

صدارتی نظام کی باز گشت، عوام کیا چاہتے ہیں؟

ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں کافی عرصے سے صدارتی نظام کے لئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نظام صدارتی ہو، پارلیمانی ہو، بادشاہت سے ملتی جلتی کوئی آمریت ہو یا خالص بادشاہتی نظام، عوام کو ان سے کبھی کوئی غرض و غایت نہیں ہوا کرتی کیونکہ ہر ملک کے عوام امن چاہتے ہیں، سکون چاہتے ہیں، روزگار کا عام ہونا چاہتے ہیں، عدل و انصاف چاہتے ہیں، مساویانہ سلوک چاہتے ہیں، عزت

Read more

جنرل عاصم باجوہ کیس: کیا فوجی کرپشن پر بات کرنا منع ہے؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شاید ملکی سیاست دانوں میں واحد شخص ہیں جنہوں نے سی پیک کے سربراہ اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے اہل خاندان کے اثاثوں کے بارے میں سامنے آنے والی رپورٹ اور اس پر سوشل میڈیا میں ہونے والے مباحث پر رائے دینے کا حوصلہ کیا ہے۔ اس صورت حال میں سب سے پہلے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ملک کا کوئی حاضر

Read more

خلوت و جلوت کا بیانیہ ایک رکھیں یا الگ الگ؟

2012 میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے باہر جانا ہوا، ملک انگریزوں کا تھا، ہمارے بہت ہی قریبی دوست ہمیں ملنے آئے۔ ان سے کچھ معلومات دریافت کیں، کہ اس ملک میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ تہذیب و تمدن بہت مختلف تھا۔ باتوں باتوں میں تذکرہ ہوا تو فرمانے لگے کہ یہاں کسی کو نہیں بتانا پاکستان سے ہو، ہم ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئے، کیوں جناب وجہ۔ فرمانے لگے کوئی بھی پوچھے تو کہنا کہ میں پنجاب سے ہوں، زیادہ پوچھے تو کہنا کہ پاکستان اور بھارت کے باڈر کے ساتھ ہے۔ میں نے کہا یہ کیا بات ہوئی۔ کہنے لگے زندگی میں ہمیشہ دو بیانیے رکھو، خلوت کا اور جلوت کا، زندگی آسان، حسین و خوبصورت گزرے گی۔

میری زندگی کے یہی دو بیانیے تھے، جو زندگی کا حصہ تو تھے، مگر آشکار 22 سال بعد ہوئے۔

Read more

کیا تم راہ حسینی کا انتخاب کرتے ہو؟

تاریخ عالم میں اگرچہ کئی ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں مختلف قسم کی تحریکوں اورقیام کا ذکر ملتا ہے لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو تحریک کربلا اور قیام حسین ابن علی جیسا کوئی دوسرا قیام نظر نہیں آتا کہ جس نے یزید و یزیدیت کو ہمیشہ کے لئے شکست فاش دے دی۔ امام عالی مقام کے قیام کا مقصد حصول اقتدار نہیں بلکہ اصلاح امت تھا۔ آج تک تاریخ انسانیت میں جتنے بھی قیام برپا ہوئے ان میں

Read more

عاصم سلیم باجوہ: آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ پر صحافی احمد نورانی کے الزامات، ’خاندانی کاروبار کا پھیلاؤ اور اُن کی فوج میں ترقی ساتھ ساتھ چلیں’

جنگ گروپ سے منسلک صحافی احمد نورانی نے اپنے ایک تحقیقاتی مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون برائے اطلاعات اور آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کے ‘خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلاؤ اور ان کی فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔’

Read more

تحریک انصاف کی کارکردگی: نواز شریف سے نواز شریف تک

پاکستان جیسے ملک میں جہاں دہائیوں کے دوران معاشی و سیاسی مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں بڑھانے پر صلاحیتیں صرف کی گئی ہوں، کسی بھی نئی حکومت کے لئے دو سال کی مدت میں کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانا ممکن نہیں ہوسکتا۔ تاہم ایسی حکومت جو تحریک انصاف کی طرح بلند بانگ دعوؤں اور ’22‘ سال کی تیاری یا جد و جہد کے بعد برسر اقتدار آئی ہو، دو برس کے دوران حالت کی تبدیلی کا کوئی واضح نقشہ

Read more

آقا گوئبلز کے پیروکار

حال ہی میں گوئبلز کے نظریات اور ’فرمودات‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ اس قدر دلچسپ فرمودات کہ یوں سمجھیے جیسے ٹیلی وژن سکرین پر روشن کئی چہروں سے تعارف ہو رہا ہو۔ ایسے کہ گوئبل کہیں جرمنی میں نہیں یہیں بہت ہی قریب لاہور، فیصل آباد یا اسلام آباد میں ہی بات کر رہا ہو: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

محمد حسن عسکری کا تصور روایت و مابعد الطبیعیات

[نومبر 1981 میں جاوید احمد (غامدی) ، ابو شعیب صفدر علی (مرحوم) اور راقم نے الاعلام کے نام سے ایک سلسلہ منشورات کا آغاز کیا۔ ستمبر 1982 کے پانچویں شمارے میں میرا یہ مضمون شائع ہوا جو اس وقت بوجوہ خاصا ہنگامہ آفریں ثابت ہوا۔ اس مضمون کی تصنیف کے محرکات پر بہت رائے زنی ہوئی تھی لیکن حقیقت بس اتنی تھی کہ رسالے کا پیٹ بھرنا مقصود تھا۔ کچھ دوستوں کی فرمائش پر وجاہت مسعود صاحب کی عنایت سے

Read more

تماشا ختم کر دیں

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی نیب کی زد میں آگئے ہیں، آمر پرویز مشرف نے کیا خوب ادارہ بنایا ہے، اس ادارے نے 20 سال میں احتساب کو مذاق بنا کررکھ دیا ہے، ایاز امیر نے خوبصورت کالم لکھا تھا کہ بزدار کو دھرا بھی ہے تو کس کیس میں؟ نیب کو پنجاب کی اتنی بڑی حکومت میں کوئی چج (کام) کا کیس نہیں ملا تھا، اپوزیشن چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ نیب احتساب کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ انتقامی ادارہ بن چکا ہے

میری ذاتی رائے میں نیب ایک ایسا جانور پالا گیا ہے جس کو ”مالک“ کے اشارے پر کسی پر بھی چھوڑ دیا جاتا ہے، صحافت کرتے ہوئے دو دہائیوں سے زیادہ کا وقت گزر گیا، عمر گزر گئی ایسے ڈرامے دیکھتے دیکھتے، نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا، نواز شریف، بینظیر بھٹو کے ادوار دو سے تین بار دیکھے، جمالی صاحب کا طرز حکومت بھی دیکھا، شوکت عزیز جیسے پپٹ کی حکومت بھی دیکھی

Read more

عتیقہ اوڈھو اور ناچتی بوتل

یہ خبر پڑھ کر کہ ”نو برس بعد اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو شراب کی بوتلیں جہاز سے لے جانے کے مقدمے سے بری کر دیا گیا“ ، ہمارے ذہن کے پردے پر جو فلم چلی وہ کچھ یوں تھی،
استغاثہ: ملزمہ پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ دو بوتل شراب لے کر جہاز میں جا رہی تھی۔
قاضی: کیا آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتی ہیں؟

ملزمہ:
خود اپنی مستی ہے جس نے مچائی ہے ہلچل
نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل

قاضی: کیا بوتل ناچ رہی تھی؟
استغاثہ: نہیں۔ ایسی کوئی شہادت نہیں ہے۔
قاضی: کیس ڈسمس کیا جاتا ہے۔ نشہ نہیں تھا تو وہ سرکہ ہو گا۔ نیز ملزمہ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ مستی میں ہلچل مچانے سے گریز کرے۔

Read more

ہمارے وزرا جیسا کوئی نہیں!

دنیا کے تمام ممالک میں نظام حکومت متعین ہے۔ کچھ ممالک میں صدارتی نظام نافذ ہے، کچھ ممالک میں پارلیمانی نظام ہے، کچھ ملکوں میں آمریت ہے اور کچھ میں بادشاہت ہے۔ مگر ان تمام نظام حکومت میں ایک چیز مشترک ہے وہ ہے وزراء۔ خواہ حکومت کا سربراہ صدر ہو، وزیر اعظم ہو، آمر ہو یا کوئی بادشاہ اسے حکومتی امور چلانے کے لئے وزراء درکار ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے وزراء ہماری قوم کے لئے اللہ تعالی کی طرف

Read more

شاہ محمود قریشی: کیا بازی پلٹ گئی؟

مخدوم شاہ محمود قریشی کو ملکی سیاست میں قدم رکھے چار دہائیاں ہونے کو ہیں جب کہ خارجہ امور سے بھی خاصے واقف ہیں۔ تنظیم تعاون اسلامی یا سعودی عرب کی قیادت میں قائم او آئی سی کے بارے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا حالیہ سخت بیان جس کے بعد سعودی عرب نے نہ صرف پاکستان کو دیے گئے تین ارب ڈالر قرض میں سے ایک ارب ڈالر واپس لے لیے بلکہ موخر ادائیگی پر تیل فراہم کرنے کی

Read more

کیا اپوزیشن میں اتنا دم خم ہے کہ عوام کو سڑکوں پر نکال سکے؟

کیا اپوزیشن میں اتنا دم خم ہے کہ وہ محرم الحرام کے بعد حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر نکال سکے؟ صدر نون لیگ شہباز شریف کو بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ حکومت کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کی قیادت شہباز شریف کریں گے تو اس موقع پر شہباز شریف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے کندھوں کو تھپکی دے کر کہتے ہیں کہ اس احتجاج کی قیادت جوان کندھوں پر ڈالنا چاہتا ہوں تو خود نون لیگ کی ذمہ داری مریم نواز کے جواں کندھوں پر ڈالنے کو تیار کیوں نہیں؟ ان سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کے لیے دو روز قبل نون لیگ کے ایک اہم رہنما سے وقت لیا۔ کچھ گفتگو آف دی ریکارڈ اور کچھ آن دی ریکارڈ ہوئی۔ آف دی ریکارڈ گفتگو امانت ہے آن دی ریکارڈ گفتگو کو کالم کا حصہ بنانے سے قبل مسلم لیگ کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔

Read more

اسرائیل، فلسطین اور کشمیر: تنازعات کے حل کی کلید

مشرق وسطیٰ کے بحران کے بنیادی فریقین اسرائیل (یہودی) اور فلسطینی عوام تھے فلسطینیوں کی اکثریت مسلمان اور عربی بولتی ہے لہٰذا تنازعے کے متحاربین عرب اسرائیل بن گئے۔ 1967ء کی جنگ کے بعد یہ تنازعہ اسرائیل اور مسلم ممالک کی کشمکش بن گیا۔ فلسطینی عوام یہودی ریاست کے جبر و استحصال اور بے دخلیوں کے نتیجے میں دریائے اردن کے مغربی کنارے اور اردن کے کچھ حصوں میں آن بسے۔ مسلم ممالک نے 80 کی دہائی تک فلسطینیوں کی

Read more

جنرل ضیا کا آخری تحفہ

مرحوم کی زندگی کا سچا واقعہ جس کے راوی پی ٹی وی کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر اختر وقار عظیم ہیں۔ واقعہ جنرل ضیا کے مرحوم ہونے سے چند دن پہلے کا ہے اور راوی نے اپنی یاداشتوں کی کتاب ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ ، میں رقم کیا ہے۔

اس واقعہ سے آپ کو نہ صرف یہ اندازہ ہوگا کہ شہادت سے چند دن پہلے مرحوم کی ذہنی حالت کیا تھی لیکن یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مرحوم کی اصل وراثت کیا ہے۔

Read more

وہ اتنظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں

حضور والا! ہم بھی عدلیہ بحالی تحریک کے بڑے حامی تھے، ججز کے لیے مور پاور کے متمنی تھے، افتخار محمد چوہدری کی بحالی سے لے کر عنایت اللہ بھٹو کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر ہر وقت ہم نے عدلیہ کا ساتھ دیا تھا۔ ہم نے اس کے دوراں اپنے اچھے اچھے دوست کھوئے، محبتوں کو نفرتوں میں بدلتے دیکھا۔ لیکن افسوس، وہ اتنظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں یہ وہ سحر تو نہیں

Read more

ہم کب آزاد ہوں گے؟

ہم نے سکول کی کتابوں میں ایک کہانی پڑھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک سوداگر نے طوطا پال رکھا تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ سوداگر تجارت کے لیے چین جانے لگا تو طوطے کے پنجرے کے پاس آکر پیار سے بولا میاں مٹھو! میں تمہارے لیے چین سے کیا لاؤں؟ میاں مٹھو نے جواب دیا آپ میرے لیے وہاں سے کچھ مت لائیں، بس میرا ایک پیغام چین میں میرے طوطے بھائیوں کو دے دیں کہ میں

Read more

ملائیت کے 73 سال

پاکستان کو بنے 73 سال بیت گئے ہیں۔ ان 73 سالوں میں بحث ہمیشہ یہی رہی کہ پاکستان میں کون سا نظام ہونا چاہیے۔ پارلیمانی یا صدارتی۔ جوں جوں پاکستان کی عمر بڑھتی گئی یہ بحث بھی بڑھتی گئی۔ پچھلی دو دہائیوں سے بحث کا زور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو تباہ کس نے کیا۔ جمہوریت نے یا آمریت نے۔ سیاسی جماعتیں آمریت کو جی بھر کر گالیاں دیتی ہیں لیکن اقتدار کی خواہش ان سب سیاسی جماعتوں

Read more

میں آزاد ہوں یا بدستور مغوی؟

اس الیکشن میں میں خود بھی بطور صحافی امیدوار ہوں اس لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پریس کلب کی سیاست میں فریق ہوں۔ یہی وجہ ہے یہاں میں کوئی غیرجانبدار تجزیے دینے کی بجائے آ پ کے سامنے اپنا نقطہ نظر رکھ رہا ہوں۔ پریس کلب کے یہ انتخابات تقریباً آٹھ ماہ کی تاخیر سے ہونے جا رہے ہیں۔ کلب کے آئین کے مطابق الیکشن دسمبر میں ہونے تھے مگر پھر روایتی طور پر برسر اقتدار دو مخالف

Read more

جوزف سٹالن کی بیٹی اور بھارتی راجکمار کا رومان

ایک ڈھلتی عمر کے چھوٹے قد والے اور صحت کے مسائل سے دوچار بھارتی راجکمارسے سوویت روس کو بھلا کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔ یہ خیال تھا ولادیمیر سیمی شاستنی کا جو 60 کی دہائی میں کے جی بی کے سربراہ تھے۔ اگر انھیں رتی بھر بھی اندازہ ہوتا کہ اس بھارتی رئیس اور جوزف سٹالن کی بیٹی سویتلانا آلیلویوا کی وجہ سے ان کا عہدہ خطرے میں پڑ جائے گا تو شاید ان کی سوچ مختلف ہوتی۔ کریملن کی

Read more

سر سبز پاکستان کی جانب ایک قدم

ہر 14 اگست کو ہم اپنا یو م آزادی جوش وولولہ کے ساتھ مناتے ہیں۔ 1980 ؁ء کی دیہائی میں ایک فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے عوام کی توجہ ملک پہ چھائے گمبھیر سایوں سے ہٹانے کی خاطر انہیں یوم آزادی کے موقع پہ جھنڈیاں لہرانے کو خصوصی جشن منانے پہ لگادیا۔ اس وقت سے یہ رسم ایسی جڑ پکڑ چکی ہے کہ یکم اگست سے ہی ملک کے کونے کونے پہ ہر سڑک کے کنارے ہر ٹریفک سگنل

Read more

میجر عامر: فوج، سیاستدان اور افغان جہاد

عید کا دوسرا دن تھا اور دوستوں کے ساتھ گاؤں میں نشست اور گپ شپ جاری تھی۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی۔ میجر ریٹائرڈ عامر لائن پر تھے۔ ”آپ کل ساتھیوں سمیت گیارہ بجے پنج پیر صوابی آجائیے۔ دوسرے مہمان بھی ہوں گے۔ بات چیت بھی ہو جائے گی اور لنچ بھی“ ۔ انکار کی مجال کہاں۔ افغان جہاد کے دوران تاریخی شہرت حاصل کرنے والے آئی ایس آئی کے عظیم اہلکار، جن کی ان گنت کہانیاں پڑھ سن

Read more

مالاکنڈ میں ملازمین کا پر امن احتجاج

تاریخی طور پر مالاکنڈ کی سرزمیں ہر مثبت تبدیلی کے لیے استعمال ہوئی ہے اور اس مٹی نے ایسے بہادر، حق پرست اور نڈر لوگوں کو جنم دیا ہے جو حق کے لیے لڑے ہیں اور انہوں نے ہر تعمیری و فلاحی تبدیلی کے نعرے پر لبیک کہا ہے۔ اس علاقے کے زیادہ تر عام لوگوں نے حق پرستی کا حق ادا کرتے ہوئے 1895 ء اور 1897 ء میں انگریزوں کے خلاف غازی عمرا خان اور سرتور فقیرکی اخلاقی

Read more

مساجد کا تقدس آمدن سے کہیں زیادہ قیمتی!

مقدس مقامات سے عقیدت و احترام ہر پاکستانی کے ایمان کا حصہ ہے، مقدس مقامات کی بے حرمتی کی پاکستانی قانون میں گنجائش ہے نہ ہی معاشرتی اقدار ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے باوجودایک نجی پروڈکشن کمپنی نے مسجد وزیر خان میں ریکارڈنگ کے لئے وضع کیے گئے قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے رقص اور قابل اعتراض عکسبندی کی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ مغلیہ دور کی تاریخی مسجد وزیر خان میں عسکبندی کی

Read more

کرپشن فری پاکستان میں بدعنوانی کی نئی کونپلیں

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے انگریزی اخبار دی نیوز کو دیے گئے انٹرویو سے اپوزیشن میں انتشار کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں نفاق کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری نے عید الاضحیٰ سے پہلے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں عید کے فوری بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تھا تاکہ حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جاسکے۔ اب اس

Read more

تین عظیم شہر ایک ہی شخص کے ہاتھوں تباہ

1970ء کی دہائی تک ایشیاء میں چارعظیم شہر تھے جن میں لبنان کا دارالحکومت بیروت سرفہرست تھا۔ اسے مشرق کا پیرس بھی کہا جاتا تھا۔ ہر سال کروڑوں سیاح آرام کرنے، دکھ اور مسائل سے پرے بیروت کے عشرت کدوں میں وقتی پناہ تلاش کرتے تھے۔ بلاشبہ بیروت بحیرہ روم کے ماتھے کاجھومر تھا۔ بیروت کے بعد کراچی کا نمبر تھا۔ جنوبی ایشیاء کے خطے میں کراچی کے مقابلے کا کوئی شہر نہیں تھا۔ کراچی کا موسم، روزگار کی فراوانی،

Read more

چین میں تبدیلی کب اور کیسے آئی؟

ہمارے بڑوں نے جب ڈیفنس فیز ون کراچی میں رئیر ایڈمرل حاجی محمد صدیق پاکستان کے پہلے کمانڈر ان چیف کے سمجھانے پر فیز ون میں ایک پلاٹ خریدا تو خاندان کے غیر عسکری ممبرز نے انہیں سمجھایا کہ اتنے میں تو سنگاپور میں بھی پلاٹ کیا گھر بھی مل جاتا ہے۔ ابوالکلام آزاد کی بات مت سنو مگر جناح صاحب نے یہ کب ضد کی تھی کہ ڈیفنس کراچی میں رہو۔ نہیں مانے۔ بہت بعد میں بستر مرگ پر

Read more

سٹینلے والپرٹ کی کتاب "جناح آف پاکستان” پر پابندی کیوں لگی؟

جنرل ضیاء الحق، آمر صدر کے دورحکومت میں محمد علی جناح کی اب تک کی سب سے مستند سمجھی جانے والی سوانح عمری 1984 میں جناح اوف پاکستان کے نام سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، امریکہ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے مصنف معروف امریکی اسکالر پروفیسر اسٹینلے والپرٹ تھے۔ پروفیسروالپرٹ ہندوستان کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے ماہرین میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ پروفیسر والپرٹ نے جناح کے علاوہ گاندھی، جواہر لعل نہرو اور ذولفقار علی بھٹو کی سوانح حیات

Read more

نیب کا زنبور اور ٹین کے سیاستدان

آج تک جس طرح نیب حسبِ ضرورت محمود و ایاز کو ایک صف میں یا ایک صفحے پر لانے میں حسبِ ضرورت کامیاب ہوا۔ ماضی کا کوئی ادارہ یا ایجنسی اتنے موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

جو ڈیٹا کا مالک ہے، وہی مستقبل کا مالک ہے

جو ڈیٹا کا مالک ہے، وہی مستقبل کا مالک ہے پچھلی چند دہائیوں میں، پوری دنیا کے لوگوں کو بتایا گیا کہ انسانیت مساوات کی راہ پر گامزن ہے اور عالمگیریت اور نئی ٹیکنالوجی ہمیں جلد وہاں پہنچنے میں مدد فراہم کریں گی۔ حقیقت میں اکیسویں صدی تاریخ کا سب سے غیر مساوی معاشرے تشکیل دے سکتی ہے۔ اگرچہ عالمگیریت اور انٹرنیٹ ممالک کے مابین پائے جانے والے فاصلے کو ختم کرتے ہیں، لیکن وہ طبقوں کے مابین پائے جانے

Read more

ڈوبتا ہوا کراچی، ذمہ دار صرف حکومت سندھ یا وفاق بھی؟

جولائی آتے ہی پاکستان میں مون سون شروع ہو جاتا ہے۔ مون سون سے چاروں صوبے اور شمالی علاقہ جات سیراب ہوتے ہیں تو دوسری طرف یہ مون سون رحمت سے زحمت بھی بن جاتا ہے خاص کر پاکستان کے زیریں علاقوں میں سیلاب آ جاتے ہیں جس سے دیہی آبادی شدید متاثر ہوتی ہے۔ مون سون بارشیں سے پاکستان کی پانی کی ضروریات کا ایک بڑے حصہ بھی پورا ہوتا ہے جو کہ ڈیمز میں محفوظ کر لیا جاتا

Read more

عوامی انگوٹھوں سے منتخب شدہ حکومت اور پھوکی اپوزیشن

پٹرول کی قیمت بڑھے یا چینی آٹے کی قلت ہو، کراچی کے سڑکیں تالاب بن جائیں یا لاہور کی سڑکیں کوڑے کے انبار۔ اپوزیشن سمیت میڈیا اور عوام حکومت وقت کو ہی کوستی ہے۔ جسے کوسنے والی عوام خود اپنے انگوٹھوں سے منتخب کر کے اقتدار میں لاتی ہے۔ تاہم اگر سوچا جائے اور سوچ کر ان انگوٹھوں کی طرف دیکھا جائے۔ جن کے استعمال سے نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن بھی منتخب کی جاتی ہے۔ تو معاشرتی علوم کی

Read more

نیب کے پہاڑ تلے آئے اونٹ کا بلبلانا

ملیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق بدعنوانی کے الزام میں مجرم قرار دیے گئے اور انہیں بارہ برس جیل کی سزا ہوئی۔ ان پہ دس ملین ڈالر ملیشیا کے ترقیاتی منصوبوں سے خورد برد کا الزام تھا۔ دنیا بھر میں بدعنوانی بھی رائج ہے لیکن سمجھدار حکومتیں اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی خاطر اس کے سد باب بھی تلاش کرتی ہیں۔ برادر ملک ترکی، ملیشیا سعودی عرب والی مثالیں سامنے ہیں جہاں انسداد رشوت ستانی کی مہم کامیاب ہوئی۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 2017 ؁ میں متعدد شہزادوں کو جو بدعنوانی میں ملوث تھے، بلا کر ایک ہوٹل میں قید کر لیا تھا۔ انہیں رہائی اسی وقت ملی جب انہوں نے اقبال جرم کیا اور لوٹی ہوئی دولت واپس کی۔ اطلاعات کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے 406 بلین ڈالر لوٹی ہوئی رقم واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرائی۔

Read more

سازشیں روکنی ہیں تو مکالمہ بہت ضروری ہے

جولائی میں ہونے والے واقعات پاکستان کی تاریخ میں دور رس اثرات رکھتے ہیں۔ مینار پاکستان کی تعمیر بھی جولائی ہی میں مکمل ہوئی تھی۔ مینار پاکستان کو یادگار پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھٹو کی حکومت کے خلاف ڈائریکٹ مارشل لا بھی جولائی میں لگا اور پاکستان میں پردے میں لپٹی آمریت بھی دو سال پہلے جولائی میں ہی مسلط ہوئی۔ عدلیہ بحالی تحریک میں آزاد عدلیہ کا نقطۂ آغاز بننے والا صدارتی ریفرنس بھی جولائی میں

Read more

کیا عام شہری لاوارث ہے؟

یوں تو معاشرے کے کئی بنیادی اجزاء یا عناصر ہوتے ہیں لیکن جب انسان کسی خاص نظام کے تحت ایک ریاست کے اندر یکجا ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی اجتماعی زندگی کے لئے ایک عہد نامہ کرتے ہیں۔ اس عہد نامے کو ہم عام طور پر کسی ریاست کا آئین یا دستور کہتے ہیں۔ آئین کے ذریعے ایک معاشرہ طے کرتا ہے کہ وہاں حکمرانی کا نظام کیا ہو گا؟ حکمران کس طرح چنے جائیں گے؟ انہیں کس کس

Read more

خداراعقل کو بام سے اتاریے

بچپن میں بزرگ کہا کرتے تھے ”اپنی حد میں رہا کرو“ لیکن ان کی بات کون سنتا تھا۔ تاہم، ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھا کرتا تھا کہ آخر یہ ”حد“ ہے کیا چیز، یہ کہاں سے شروع اور کہاں جاکر ختم ہوتی ہے۔ بہت بعد میں جاکر کہیں یہ علم ہوا کہ جہاں عقل کی حدیں تمام ہوتی ہیں، وہاں سے حدوں سے ماورا کم عقلی کی ایک وسیع و عریض دنیا شروع ہوتی ہے۔ رسمی تعلیم سے عاری

Read more

کیا کبھی عوام کی حکومت قائم ہو گی؟

سوچتا ہوں کہ اس ارض پاک پر کبھی کوئی ایسی سحر طلوع ہو گی جس میں کوئی داغ نہ ہو، جس میں باد نسیم چلتی ہو جو لوریاں سناتی ہو، جو روح کو معطر کرتی ہو، جو فضا میں خوشبو گھولتی ہو۔ اس سحر کی آس آنکھوں میں سجائے ہم نے ستر سال گزار دیے، کئی نسلیں اس سحر کے خواب آنکھوں میں سجائے قبروں میں جا اتریں لیکن یہ سحر نہیں آئی، اس صبح کے انتظار میں کئی بہنوں

Read more

سپریم کورٹ کا فیصلہ اور احترام آدمیت

نیب یعنی۔ ”قومی احتساب بیورو“ میرا موضوع نہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں یاد دلایا کہ یہ ادارہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بنا جو اس وقت سے ”سیاسی انجینئرنگ“ کے لئے استعمال ہو رہا ہے۔ خیال آتا ہے کہ جب سیاستدانوں نے کئی مہینوں کی محنت اور مشاورت سے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آمر پرویز مشرف کے تمام قوانین، ضابطوں اور آئینی ترامیم کو دستور سے خارج کر دیا تو ”نیب“ کو کس مصلحت کے

Read more

کراچی نام کا یتیم خانہ

میرے والد صاحب مرحوم کی نوکری پی ٹی وی میں تھی اور ہر چند سال بعد ان کا تبادلہ کسی نہ کسی دوسرے شہر میں ہو جایا کرتا۔ وہ دو مرتبہ کوئٹہ میں تعینات ہوئے، چند سال سکھر میں رہے، چند سال حیدر آباد میں اور آخر میں ان کا تبادلہ پشاور ہوا۔ میرے ایک چچا اور ایک ماموں اسلام آباد میں رہتے تھے اور ایک پھوپھی واہ کینٹ میں رہتی تھیں۔ والد صاحب کو خود سیاحت کا شوق بھی

Read more

بولنے والے توتے اور منتخب وزیر اعظم 

ملک میں آئین کے ہوتے مارشل لاؤں کے ذریعے فوجی حکومتوں کے ادوار، ایک پیج کی سیاست یا قومی مفاد کے نام پر مقتدر قوتوں کو اصل اختیار کا مالک و مختار سمجھنے کی صورت حال میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ منتخب حکومت اور وزیراعظم کی حیثیت کسی بولنے والے توتے سے زیادہ نہیں ہے۔ بلکہ اب تو یہ بھی عیاں ہوگیا ہے کہ اگر کسی صحافی کو قومی مفاد کی حفاظت کے لئے اچانک نامعلوم طور سے

Read more

وزیر اعظم عمران خان کو اٹھارہویں ترمیم سے بیر کیوں ہے؟

کچھ دن پہلے ہی کپتان نے کراچی میں اٹھارہویں ترمیم کے خلاف دل کی بھڑاس یہ کہہ کر نکالی تھی کہ اٹھارہویں ترمیم نے وزیر اعلیٰ کو اتنے اختیارات تفویض کر دیے ہیں کہ وہ ڈکٹیٹر بن گئے ہیں۔ یہ الفاظ بولتے وقت اگر کوئی ہمدردی سے خان صاحب کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ دیتا تو شاید ان کی آنکھیں چھلک پڑتیں مگر کیا یہ کہنا کہ وزیراعلی ڈکٹیٹر بن گئے ہیں اپنی کمزوری اپنی بے بسی اپنی بے چارگی کا اظہار نہیں تھا۔

Read more

رانی باجی

’’رانی باجی، کیا نام ہے واہ واہ ۔۔۔اور شکل دیکھو ذرا۔۔۔ یہ نام اماں اور ابا میں سے کس نے رکھاہو گا۔ "ُبھتنی باجی‘‘ کتنا موزوں نام ہے۔ نہ شکل نہ صورت، نہ آنکھ جگہ پر نہ دانت اور اس پر ناک ایسی جیسے سانس کی نلکی، گنتی کے چند بال سر پر تیل سے چپکائے ہوئے۔ بغیر دوپٹے کے تو بالکل آٹے کی بوری لگتیں۔ تھل تھل کرتا گوشت، چیختا چلاتا ہوا پھٹے ڈھول کی طرح بجے جاتا۔ صبح

Read more

ڈیجیٹل آمریت: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 14)۔

جب تک روبوٹ شفیق آقاؤں کی خدمات میں لگے رہتے ہیں، یقیناً تب تک ان کی اندھی فرمانبرداری میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران قاتل روبوٹوں پر انحصار کرنا اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار میدان جنگ میں جنگی قوانین پر عمل کیا جائے گا۔ انسانی فوجی کبھی کبھار اپنے جذبات سے مغلوب ہو کر قتل، لوٹ کھسوٹ اور عصمت دری جیسے اعمال کی بدولت جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر بیٹھتے ہیں۔ عمومی طور پر ہم جذبات کو ہمدردی، محبت اور رحم دلی سے جوڑتے ہیں، لیکن اکثر جنگ کے وقت خوف، نفرت اور ظلم جیسے جذبات ہمارے اوپر حاوی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ روبوٹ میں جذبات نہیں ہوتے ہیں، اس لیے ان پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہمیشہ سخت نوعیت کے فوجی ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں گے اور کبھی ذاتی خوف اور نفرتوں کے زیر اثر بہہ نہیں جائیں گے۔

Read more

بیوروکریسی سے اب کوئی امید نہ رکھیں

کرنٹ ایشو تو وزیراعظم کے مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثوں کا ہے۔ موڈ بھی کچھ اس پر ہی لکھنے کا تھا کیونکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا تعلق بھی میرے علاقہ ضلع رحیم یار خان سے ہی ہے۔ رحیم یار خان کے دوستوں سے خبریں اور معلومات ملتی رہتی ہیں مگر دو تین دنوں سے طبیعت شدید بے چین سی ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ 50 سال میں ہمیں ایک بھی ایسا لیڈر، سیاستدان، بیوروکریٹ، جنرل یا کوئی علامہ، مولانا نصیب نہ ہوسکا جو قوم کو سیدھے راستے پر لے آتا۔

ہم نے تو جیسے تیسے گزار ہی لی، ہماری آنے والی نسلیں کیسے اس ملک میں زندہ رہ پائیں گی۔ کچھ روز ہوئے ایک بہت ہی پیارے انسان جو کہ میرے محسن بھی ہیں سے ملاقات ہوئی، موصوف قابل ترین ڈی ایم جی افسر ہیں مگر آج کل افسر بکار خاص بنے ہوئے ہیں۔ بہت عرصہ ہوا ان سے ملاقات کا وقت ہی نہ مل سکا، بہت کوشش کی مگر وقت نہ نکال سکا، بس ایک دن فون کیا تو فوراً بولے آج کیسے یاد آئی، بہرحال ملنے کا وقت مانگا تو فوری مہربانی کردی۔

Read more

پاکستان میں جمہوریت کا سفر

ایک پائیدار جمہوری نظام کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ جب جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جاتا تو اس کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے ادارے کمزور ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انصاف اور آزادی رائے ختم ہو جاتی ہے۔ کرپشن اور اقرباپروری بڑھتی ہے۔ با اثر افراد ملک میں قابص رہتے ہیں۔ ھمارا ملک پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا ہے اس وقت سے لے کر آج

Read more

خود تونے پیدا کیا، کہ میں نے کہا احسان کر

سندھ اور پنجاب کے عام لوگوں میں یہ یکسانیت اتم درجہ پائی جاتی ہے کہ دونوں نثر سے زیادہ نظم کو پسند کرتے ہیں، اور نظم بھی اس کو مانتے ہیں جس کو گایا جائے، موسیقی سے مزین کیا جائے اور ساتھ ساتھ رقص بھی شامل ہو جائے کیا بات ہے۔ رقص زندگی ہے، تمام ملامتی صوفیاء رقص کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے اور یہ شدت پسندوں کے خلاف ایک زبردست جوابی حملہ ہے، بلکہ کاری وار ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب کے تمام صوفیاء کی درباروں پر موسیقی اور رقص لازم ہوتا ہے۔ قوالی کی صورت ہو، دھمال کی صورت ہو یا راگ کی صورت مگر موسیقی ضروری ہے۔ جس طرح پنجاب میں خواجہ غلام فرید، بابا بلھے شاہ اور مادھو لال حسین کی درگاہیں عشاق کا مرکز ہیں ویسے ہی سندھ میں شاہ بھٹائی، سچل سرمست، شاہ عنایت شہید اور بیدل فقیر کی درگاہیں سندھ میں صدیوں سے قائم اہنسا، عشق اور رواداری والی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں اور کافی ہیں۔

Read more

کیا کچھ بدل سکتا ہے؟

یہ بات وبا کے دنوں سے پہلے کی ہے۔ میرے دوست میاں مٹھو بڑے کاروباری ہیں اور ان کی حیثیت تجارتی اداروں میں بہت اہم ہے۔ گزشتہ سال جب انجمن تاجران کے انتخاب ہونے کو تھے مجھے تاریخ کا اندازہ نہیں، وہ کہنے لگے سیاست میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ اس زمانہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف عدالتی فیصلہ کے بعد جیل میں تھے اور ان کی سیاسی جانشین مریم صفدر بھی سزا کے بعد جیل میں تھیں۔ میاں مٹھو بتانے

Read more

ظالم صوبائی اکائیاں اور مظلوم وفاق!

ملکی وفاق کے اندر صوبوں کی مظلومیت کی کہانی اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تاریخ۔ وطن عزیز کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کے وزیر اعظم سے لے کر وفاقی وزرا تک سب وفاق کی مظلومیت کا ماتم کر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا کا شاید واحد وفاقی ماڈل ہوگا، جہاں صوبائی خود مختاری اور وفاقی اکائیوں کے حقوق کے لیے چاروں صوبوں ( تخت لاہور کو استثنا حاصل ہے، باقی سرائیکی وسیب پڑھا اور سمجھا جائے ) میں سے ہر ایک صوبے میں چار سے زیادہ سیاسی پارٹیاں سرگرم ہیں اور ان کا بنیادی نکتہ وفاق سے صوبوں کو حقوق دلانا ہے۔

ان حقوق کے لیے کچھ سیاسی جماعتیں نئے عمرانی معاہدے کی بات کرتی رہی ہیں، اور ان میں سے کچھ 1940 کی قرارداد کے تحت صوبائی اکائیوں کے حقوق چاہتی ہیں۔ قوموں اور صوبائی اکائیوں کے حقوق پر مبنی نیا عمرانی معاہدہ تو دور کی بات ہے یہاں ”عمرانی حکومت“ کے اس سنہری دور میں صوبوں کو 1973 کے آئین میں کی گئی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد جو حقوق ملے ہیں ان میں وزیراعظم پاکستان کو آمرانہ بو آ رہی ہے۔ وزراء اعلیٰ، جناب وزیر اعظم کو آمر لگتے ہیں۔

Read more

عمران خان جمہوریت کے شہید بننے کے خواہش مند نظر آتے ہیں

یہ بات وبا کے دنوں سے پہلے کی ہے۔ میرے دوست میاں مٹھو بڑے کاروباری ہیں اور ان کی حیثیت تجارتی اداروں میں بہت اہم ہے۔ وہ گزشتہ سال جب انجمن تاجران کے انتخاب ہونے کو تھے مجھے تاریخ کا اندازہ نہیں، وہ کہنے لگے سیاست میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔ اس زمانہ میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف عدالتی فیصلہ کے بعد جیل میں تھے اور ان کی سیاسی جانشین مریم صفدر بھی سزا کے بعد جیل میں تھیں۔

میاں مٹھو بتانے لگے کہ عنقریب میاں نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت مل جائے گی اور میاں نواز شریف کے ساتھ ان کی بیٹی مریم اور خادم اعلیٰ بھی ملک سے باہر چلے جائیں گے۔ ایک بات اور بتائی کہ خادم اعلیٰ بھی ایک آنے والی مخلوط حکومت میں اہم حیثیت میں حکمرانوں کے ساتھ ہوسکتے ہیں۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ ایسا ہوگا مگر چند دن کے بعد ہی سابق وزیراعظم پنجاب ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد علاج کے لیے اپنے بھائی خادم اعلی شہباز شریف کے ساتھ لندن روانہ ہو گئے اور ہمارے بیوپاری بھائی کی ایک اطلاع درست ثابت ہو گئی۔

Read more

مائنس اور پلس کے درمیان معلق قوم

انسانی کھوپڑیوں کے مینار سجانے والے درندے چنگیزخاں کے جھنڈے تلے پچاس وحشی قبائل محض اس لیے اکٹھے ہو گئے کہ اس نے ”یاسا“ (آئین) مرتب کیا جس پر وہ نہ صرف خود عمل کرتا بلکہ کرواتا بھی تھا۔ لیکن جہاں آئین کو 100 صفحے کی فضول کتاب سمجھا جاتا رہا ہو، جہاں آمروں کو حق حکمرانی بخشنے کے لیے ”نظریۂ ضرورت“ گھڑا جاتا ہو، جہاں عادل سرعام اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوں، جہاں کیس بنتے نہیں، بنائے جاتے

Read more

دین کو قومی فخر کا ذریعہ بنانے کا رجحان

دین خدا کی ہدایت بنا کر انسانوں کو دیا گیا تاکہ وہ اپنا تزکیہ کریں اور دوسروں کو بھی اس سے آگاہ کریں تاکہ وہ بھی اپنا تزکیہ کریں اور سب آخرت کے امتحان میں کامیابی حاصل کریں۔ سب پیغمبروں کو، جنھیں ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے، یہی دین دے کر بھیجا گیا تھا۔ محمد رسو ل اللہ ﷺ آخری پیغمبر تھے۔ ان کی تعلیمات محفوظ کر دی گئیں۔ اب یہ انسانوں کو وہی یاد دہانی کراتی ہیں جس

Read more

مادر ملت یا غدار وطن؟

نو جولائی کو مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا گیا۔ میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے شہریوں نے مادر ملت کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مگر میں ایک اضطراب کی حالت میں تھا کہ میں فاطمہ جناح کو کیا مانوں مادر ملت یا ایک سنگین غدار۔ آپ یہ حملہ پڑھ کر چونک گئے ہوں گے اور میرے بارے میں ایک رائے اپنے ذہن میں ضرور قائم کریں گے کہ کس قسم کا شخص ہے یہ۔ مادر

Read more

دو ٹکڑے ہوتا پاکستان اور یحییٰ خان کی سیاسی انجینرنگ

1970کے الیکشن سے پہلے میجر جنرل غلام عمر کی سربراہی میں نیشنل سکیورٹی سیل بنا جس نے صدر یحییٰ خان کو انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر تجزیہ کرکے سیاسی صورت حال کا جائزہ پیش کرنا تھا۔ اس سیل نے اپنے ذمے کام مکمل کر کے صدر کو جو رپورٹ پیش کی اس میں بتایا گیا کہ 33 چھوٹی بڑی پارٹیوں میں ووٹ اس طرح تقسیم ہوں گے کہ کوئی ایک پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں

Read more

فاطمہ جناح کا یومِ وفات: پاکستانیوں کا ’مادرِ ملت‘ کو سوشل میڈیا پر خراج تحسین

صبح سے ہی #FatimaJinnah پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے اور اس اگر اس ہیش ٹیگ کے ساتھ کی گئی ٹویٹس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر صارفین اپنی ’مادرِ ملت‘ کو سابق فوجی آمر اور صدر جنرل ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑنے اور ان کے خلاف ڈٹ جانے کے لیے یاد کررہے تھے۔

Read more

تیری چوائس ہی میری چوائس ہے پاپا

ہمارا ہینڈ سم وزیر اعظم تقریر بڑی شاندار کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تقریروں کا نتیجہ مختلف آتا ہے۔ وزیر اعظم کی اسمبلی والی تقریر سننے کے بعد نہ جانے کیوں میرے منہ سے بے ساختہ یہ لفظ نکلا۔ بے چارہ ہینڈ سم وزیر اعظم۔ تقریر تقریر ہوتی ہے اور پاکستانی تاریخ میں جانے والے وزیر اعظموں کی تقاریر ایسی ہی ہوتی ہے۔ کرسی مضبوط ہے سے لے کر پانامہ کیس تک سارے احوال ہمارے سامنے ہیں۔

کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں ہوتا ہے کہ وزیر اعظم جلد فارغ ہونے والے ہیں۔ لیکن حالات اور واقعات بہت جلد تصویر کا دوسرا رخ سب کو دکھا دیتے ہیں۔ کامران خان اینکر پرسن ایک پروگرام کرتا تھا ”عجب کرپشن کی غضب کہانی“ یا ”غضب کرپشن کی عجب کہانی“ جو بھی ہے اس ملک کے لئے دونوں ہی سوٹ کرتے ہیں عجب کو پہلے لکھو یا غضب کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ یہ ملک غضب اور عجب طریقے سے ہی وجود میں آیا ہے۔ غضب اس لئے کہ ہندو مسلمانوں پر غضب کے ستم ڈھاتے تھے اور اس غضب سے بچنے کے لئے مسلمانوں نے قائد کی سربراہی میں عجب اور ناقابل یقین قربانیاں دی تھیں۔

Read more

سانحہ بلدیہ، انصاف اور سزا مل سکے گی؟

کسی شاعر نے کیا دل سوز بات کہی تھی کہ لے کے چٹکی میں نمک آنکھ میں بھر کر آنسو اس پہ مچلے ہیں کہ ہم زخم جگر دیکھیں گے ہر ایک دوماہ بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کے سوگواروں کے زخموں کو کریدنے کے علاوہ ہمارے ارباب اختیار و اقتدار کے پاس شاید کوئی کام نہیں رہ گیا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرونک، نہایت باقاعدگی کے ساتھ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی کسی نہ کسی خبر کا ایکشن ری پلے

Read more

مغربی جمہوریت اور چینی آمریت کے تضادات

تضادات کا مجموعہ بنے میرے چند دوست امریکہ و مغرب کی جمہوری حکومتوں سے تو بغض رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی مغربی جمہوریت کے سائے تلے پیدا ہو کر پروان چڑھے کیپیٹل ازم، پرائیویٹ کارپوریٹ سیکٹر اور فری ٹریڈ اکانومی کے گن گاتے ہیں۔ چین کو محبوبہ سمجھ کر کی اس کی الفت میں رومیو بنے رہتے ہیں، لکین ساتھ ہی سوشلسٹ معاشی نظام کو برا بھی کہتے ہیں۔ حالانکہ کمیونزم صرف سوشلسٹ معاشی انتظام کا نام نہیں ہے۔ نہ

Read more

’’مرشد مروا نہ دینا‘‘

5 جولائی آیا اور گزر گیا صرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اس روز 43 سال قبل اس وقت کے آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے دن کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ بلاول بھٹو کی بات اصولی طور پر درست ہے۔ شاید سانحہ مشرقی پاکستان جسے ایک آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کی پالیسیوں کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے کے علاوہ 5 جولائی1977ء

Read more