من حیث القوم ہمارا یہ رویہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری اور فرائض کو کماحقہ پورا نہیں کرتے اور غفلت و لاپرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ پھر اس کا ذمہ دار دوسرے افراد کو ، حالات کو یا پھر قسمت کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی رویہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا موٹروے پر گجر پورہ کے علاقہ میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔
موصوف کہتے ہیں ”کہانی یہ ہے کہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلی ہیں۔ پہلے تو میں حیران ہوں کے تین بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے۔ آپ ڈیفنس سے نکلی ہو، آپ سیدھا جی ٹی روڈ لو، جہاں پر آبادی ہے اور گھر چلی جاؤ۔ اگر اس طرف سے (موٹروے ) سے نکلی ہوتو اپنا پیٹرول چیک کر لو، بہرحال یہ مسئلہ تھا ان کا “ ۔
Read more