موٹروے ریپ کیس: کیا شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں لاہور، سیالکوٹ موٹروے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی؟

بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا واقعی شہباز شریف نے ریپ واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کو موٹروے بنانے کا کریڈٹ دیا؟ یا اصل کہانی کچھ جو 18 سیکنڈ کے کاٹے گئے کلپ میں توڑ مروڑ کر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

Read more

ریپ کلچر: بیٹی کے مقدمے کی پیروی کرتی ماں کا شکوہ، ’ریپ کے بعد صلح کرنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟‘

پنجاب میں ہر ماہ ریپ کے 292 یعنی ہر روز لگ بھگ ریپ کے دس مقدمات درج ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب قانونی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں ریپ کے واقعات کی اصل تعداد باقاعدہ رپورٹ ہونے والے کیسز سے کہیں زیادہ ہے۔

Read more

احساس ذمہ داری اور خاتون کے ساتھ ریپ

من حیث القوم ہمارا یہ رویہ بنتا جا رہا ہے کہ ہم اپنی ذمہ داری اور فرائض کو کماحقہ پورا نہیں کرتے اور غفلت و لاپرواہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور جب اس کے نتائج سامنے آتے ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنے سے انکاری ہوتے ہیں۔ پھر اس کا ذمہ دار دوسرے افراد کو ، حالات کو یا پھر قسمت کو ٹھہرا نے کی کوشش کرتے ہیں۔

کچھ ایسا ہی رویہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا موٹروے پر گجر پورہ کے علاقہ میں خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ میں دیکھنے میں آیا ہے۔

موصوف کہتے ہیں ”کہانی یہ ہے کہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلی ہیں۔ پہلے تو میں حیران ہوں کے تین بچوں کی ماں ہے اور اکیلی ڈرائیور ہے۔ آپ ڈیفنس سے نکلی ہو، آپ سیدھا جی ٹی روڈ لو، جہاں پر آبادی ہے اور گھر چلی جاؤ۔ اگر اس طرف سے (موٹروے ) سے نکلی ہوتو اپنا پیٹرول چیک کر لو، بہرحال یہ مسئلہ تھا ان کا “ ۔

Read more

حوا کی بیٹیوں کو تذلیل سے بچائیں

تاریک رات میں ہونے والا جنسی درندگی کا سانحہ موٹروے ظلم و بربریت کے ایسے انمٹ نقوش اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے جنہیں بھلانے کے لئے ایک عرصہ درکار ہے۔ معصوم بچوں کے رگ و پے میں سرایت کر جانے والے خوف کے سائے جانے کیسے ختم ہوں گے۔ جانے کیسے وہ بھول پائیں گے ظلم کی اس تاریک رات کو جس نے ان کے دل و دماغ کے ساتھ ان کی روح کو بھی چھلنی کر دیا ہے۔ جانے کب ان کے ذہنوں پر چھائے خوف و دہشت کے اثرات قصہ پارینہ بنیں گے اور جانے کب ان کے خوفزدہ چہروں پر دوبارہ مسکراہٹ بکھرے گی۔

اس واقعہ میں جہاں ایک طرف انسان کے بھیس میں چھپے درندوں نے بربریت کے پہاڑ توڑے وہیں پر پولیس کے سی سی پی او عمر شیخ نے اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ طور پر بربریت کا شکار ہونے والی خاتون کو ہی لاپروا کہہ کر اس بے گناہ خاتون کے زخموں پر بارہ مسالے ڈالنے کا کام کیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انچارج لاہور پولیس تگ و دو کر کے جنسی درندوں کو گرفتار کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچاتے مگر انہوں نے ظلم کا شکار ہونے والی خاتون پر ہی ایسے اعتراضات کرنے شروع کر دیے جو کہنے کا استحقاق صرف اہل خانہ کو تھا۔

Read more

انڈیا: آسام میں مندر تعمیر کروانے والے ایک مسلمان جوڑے کی کہانی

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مذہب کے نام پر سیاست سے ہٹ کر ایک مسلم جوڑا ہندوؤں کی عبادت گاہوں کی تعمیر اور مرمت میں مالی امداد کرکے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کررہا ہے۔

Read more

خواتین کی صحت: ’دوران حمل ماں میں ذیابیطس کنٹرول میں نہ رہنے سے بچے کی موت بھی ہو سکتی ہے‘

طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ دورانِ حمل بہت سی حاملہ خواتین بلڈ پریشر کے معاملے کو تو مسئلہ سمجھتی ہیں لیکن ذیابیطس کو کنٹرول کرنے پر توجہ نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے زچہ و بچہ دونوں ہی کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: لاہور ہائی کورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو طلب کر لیا

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سی سی پی او کے بیان پر پوری صوبائی کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی، جس سے قوم کی بچیوں کو کچھ حوصلہ ہوتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اسی ذہن کے ساتھ تفتیش ہو رہی ہے تو پتا نہیں کتنی حقیقت ہے اور کتنی ڈرامہ بازی ہے۔

Read more

چین کی عورتیں کتنی آزاد ہیں؟

چین کی عورتیں کس حد تک آزاد ہیں اکثر پاکستانی یہ جاننے کے خواہش مند ہوں گے ۔ 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے یقیناً عورتوں کوکچھ ایسے اقتصادی اور سیاسی حقوق ملے ہیں جو انہیں پہلے حاصل نہ تھے، خصوصاً ملازمت کرنے کا حق اور مردوں کے مساوی تنخواہ حاصل کرنے کا حق، اکثر عورتوں نے بڑی کامیابی سے زندگی کے مختلف شعبوں میں میں مردوں کو چیلنج کرتے ہوئے حاصل کیا ہے۔ اور اب

Read more

مجرم اور محافظ میں کوئی فرق باقی رہا یا نہیں؟

موٹر وے روڈ پر بچوں کے سامنے ان کی ماں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے پر سی سی پی او لاہور کے بیہودہ بیان کو سن کر مجھے تو چنداں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ان کا یہ غلیظ بیان ہی تو دراصل ہمارے نام نہاد مشرقی اقدار کی دین ہے۔ پاکستان میں ہر دوسرا شخص آپ کو خواتین کے حوالے سے اسی طرح کے بیانات دیتا دکھائی دے گا کیونکہ یہی ہمارے معاشرے کی روایت ہے۔ صرف سی سی

Read more

پورن سے ریپ تک۔۔۔ سب جائز ہو گیا ہے

سکیس ڈول کلچر کو پروموٹ کیا جائے، جب یہ بات پڑ ہی گئی۔ بہت سوں کے تن بدن میں آگ اس لئے لگی کہ انہیں ڈول نہیں، انہیں عورت اور بچے بھی چاہئیں لیکن اس کے باوجود اکثریت نے شاباش کی تھپکی دی کہ جو کہی گئی نہ ہم سے، وہ کہہ دیا ہے تم نے۔ بہت سے فون بھی آئے اور والدین کا درد دل یہ تھا کہ اب ہمیں بیٹی کے ریپ ہونے سے زیادہ خوف بچوں کے

Read more

ریپ ہونے کی صورت میں محکمہ ہذا ذمہ دار نہ ہوگا – مکمل کالم

اس دنیا میں روزانہ ہر عمر کی عورت کا ریپ ہوتا ہے، تین سال کی بچی سے لے کر پچھتر برس کی بڑھیا تک۔ رنگ، نسل، مذہب، قومیت اور لباس کی کوئی قید نہیں۔ بکنی، ساڑھی، برقع، نیکر، عبایہ، جینز، حجاب، فراک، سکرٹ، شلوار، کچھ بھی پہنا ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عورت رات کے دو بجے اکیلی سڑک پر ہو یا بس میں اپنے دوست کے ساتھ ہو، کسی بھرے پرے دفتر میں ہو یا نائٹ کلب میں، پنج وقتہ نمازی ہو یا کسی مرد کی طرح ڈرنک کرتی ہو، میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگاتی ہو یا یتیم بچیوں کی پناہ گاہ کی محافظ ہو، ڈومنی ہو یا پردہ دار، چہرہ بغیر میک اپ کے رکھتی ہو یا غازے کی تہیں سجاتی ہو، قائد اعظم کے مزار کے احاطے میں ہو یا اپنی قبر میں، ریپ کرنے والا اس کی لاش نکال کر بھی ریپ کرے گا اور مردوں کے اس معاشرے میں کچھ لوگ ہوں گے جو کہیں گے کہ کفن میں چہرہ ڈھانپا نہیں گیا تھا اس لیے ریپ ہوا۔

موٹر وے پر تین بچوں کی ماں کے ساتھ گینگ ریپ ہوا، اس سے زیادہ بھیانک جرم کا تصور ممکن نہیں، لیکن یہ جملے اب بے معنی ہو چکے، جس ملک میں ایسی گھناؤنی واردات کے بعد یہ بحث شروع ہو جائے کہ کیا اس عورت کو رات کے وقت ویران موٹر وے پر سفر کرنا چاہیے تھا یا نہیں اور یہ بحث چھیڑنے والے نہ صرف پڑھے لکھے لوگ ہوں بلکہ ان کا تعلق سول سروس سے ہو تو باقی اندازہ خود لگا لیں کہ اس معاشرے کا عام مرد کیسے سوچتا ہوگا۔ آپ کے لیے اگر یہ اندازہ لگانا اب بھی مشکل ہو تو بطور مرد میں مدد کر دیتا ہوں۔

Read more

اذیت پسندی کیسے کم ہو گی؟

لاہور کے علاقے گجرپورہ میں لنک موٹر وے پر کار سوار خاتون سے زیادتی ہوئی۔ وقفے وقفے سے وحشی مزاج ہمارے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔ کئی قانونی سوال اٹھے ہیں جن کو دماغ قبول کرنے لگے ہیں، صدمے سے نکلنے پر سارا سماج سوچ سکتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور اسے کیسے روکا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات پر ہر بار عوامی سطح پر شدید ردعمل آیا۔ حیرت یہ کہ اس ردعمل کی شدت قانون کا حصہ نہیں بن پائی۔

جانے کتنی زینب قتل ہوئیں تو زینب ایکٹ تیار ہوا۔ یہ جو جمہوریت کے لیے جینے مرنے کی بات کرتے ہیں، ان لیڈروں نے دو سال تک زینب ایکٹ منظور نہ ہونے دیا۔ آج ہر کسی کا خون ابل رہا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ مہنگے اینکروں سے سجا الیکٹرانک میڈیا۔ ہر جگہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گجر پورہ لنک روڈ پر زیادتی کے واقعہ میں ملوث افراد کو پکڑ کر سرعام پھانسی دی جائے۔ کیا آپ جانتے ہیں بے حس کسے کہتے ہیں : سب مومی الفاظ مظفر بے حس تھے گونگے تھے دل کی آنچ ملی تو نکلی بوند بوند چنگاری سی اپنے اردگرد دیکھ لیجیے، بہت بے حس مل جائیں گے۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 19: ”یہ بچے ایم کیو ایم میں سیاست کے لیے نہیں لڑنے مرنے آئے ہیں“۔

موت کو پہلی بار اتنے قریب سے دیکھا جب اپنا گھر ”موت کا گھر“ بن گیا۔ وہ خوف ناک رات ہمارے گھر کی خوشیاں کھا گئی اور امی جان کی زندگی نگل گئی۔ ہم سب کے دل زخمی ہیں مگر ذیشان پر تو قیامت گزر گئی ہے۔ انھوں نے میت کے سرہانے کھڑے ہو کر کہا تھا، ”میری ماں مری نہیں قتل ہوئی ہوئے، خدا کی قسم میں انتقام لوں گا۔“ میں ان کا یہ جملہ سن کر سہم گئی تھی۔ امی جان کا صدمہ کیا کم تھا کہ یہ خدشہ مجھے اندر ہی اندر کھانے لگا کہ ذیشان کی جذباتیت اور ماں سے محبت انھیں نہ جانے اب کس طرف لے جائے، اور یہی ہوا۔

کہتے ہیں ہمیشہ اچھا سوچنا چاہیے، برا سوچو تو برا ہوجاتا ہے، ان حالات میں انسان برے کے علاوہ کیا سوچ سکتا ہے۔ اس رات پیروں کی دھمک اور کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھلنے کی آواز سے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔ اندھیرے میں ہر طرف سائے تھے، بندوقیں تانے، میرے پہلو میں سوئے ذیشان کو گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور دیوار سے لگادیا گیا۔ سارنگ شور سے اٹھ گیا اور رونے لگا تھا۔ میں نے بدحواسی میں ڈھونڈ کر دوپٹہ اوڑھا۔

Read more

انسانیت کی موت ہو چکی

ایک دور تھا جب سلطنت اسلامیہ کے حکمران کہا کرتے تھے کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی مر گیا تو اس کا ذمہ دار حاکم ہے اور آج کی اسلامی جمہوری سلطنت میں کتا دور کی بات ہے انسانوں کا چیڑ پھاڑ کیا جا رہا ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والے خاموش ہیں۔ کبھی زینب کی روح تڑپتی ہے تو کبھی ملکی شاہراؤں پر ایک ماں کی عزت اس کی اولاد کے سامنے ہی تار تار کر دی جاتی ہے۔ یہ کیسی اسلامی جمہوریہ ہے جہاں نہ شیر خوار محفوظ ہیں اور نہ مائیں محفوظ ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر طرف درندے پھر رہے ہیں۔ اسلامی سلطنت کا ایسا عظیم دور تھا جب مکہ مدینہ سے کوفہ تک جوان عورت بے خوف و خطر سفر کرتی تھی اور آج مملکت خداداد میں راہ جاتی ایک ماں اپنے بچوں کے سامنے عزت لوٹا بیٹھتی ہے اور پھر بھی ہم ریاست مدینہ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ آج شاید زمین و آسمان بھی شرمندہ ہوں گے مگر حضرت انسان کو پتہ ہی نہیں کہ شرمندگی ہے کیا؟ اگر پاکستان میں پچھلے تین چار سالوں میں دیکھا جائے تو ہر روز میڈیا پر اس طرح کے واقعات سننے کو ملے ہیں اور پتہ نہیں اس سے کہیں زیادہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو میڈیا کو پتہ نہیں چلتا۔

Read more

ایک خوف کی داستان اور آہوں بھری بازگشت

وہ ہے ہی کیا غریب ماں باپ کی نادار بیٹی جو طلاق کے خوف سے اپنی ذات کے لئے کھلی فضا میں زور سے سانس لینا بھی نازیبا حرکت سمجھتی ہو گی۔ آپ فرض کریں کے ابھی وہ نرس غیر شادی شدہ ہے اور آپ اس کو کسی اچھے کولیگ سے قریب ہوتا دیکھ رہے ہیں اس غرض سے کہ زندگی کا بقیہ سفر شاید اس کے ساتھ خوشگوار گزرے اور عہد گزشتہ کی تلخیاں اسے خیر باد کہہ دیں۔ وہ روزانہ چند روپے بچا کر جو لپ اسٹک خریدی تھی اسے اپنے کولیگ کے لئے لگاتی ہے اور پھر بھی اس سے اظہار محبت نہیں کرتی کیونکہ یہ اقدام بہر حال اس کی تربیت کے منافی ہے۔

وہ کولیگ موقع سے فائدہ اٹھا کر اس سے وعدہ وفا کرتا ہے، اس کے ساتھ چند لمحے تفریح کرتا ہے۔ اس تفریح کے دوران وہ اسے اپنی ذات کی الجھنیں اور اپنے مسائل بتانا چاہ رہی ہوتی ہے لیکن اس کا کولیگ اپنے درد کا درماں کسی اور انداز میں کر رہا ہوتا ہے۔ پھر ایک دن اسے کھری کھری سناتا ہے کے تمہارا ’کریکٹر ٹھیک نہیں‘ اور وہ بقول پروین شاکر اپنے گھر کے اندھیروں میں لوٹ آتی ہے۔ اب یہ فرض کریں کہ شادی اس کی کسی عمر رسیدہ آدمی سے ہو جاتی ہے اور اس پر اپنی شریک حیات کا پرانا معاشقہ کھل جاتا ہے تو وہ کیا اقدام کرے گا۔

یا تو وہ پل بھر میں طلاق یافتہ ہو جائے گی یا اس غلطی کی پاداش میں تاحیات مزید حیوانی سلوک کی حقدار ٹھہرے گی۔

Read more

فلم ”جوش“ اور کراچی کی بپتا

آج سے کوئی سترہ یا اٹھارہ سال قبل ایک بھارتی فلم ”جوش“ ریلیز ہوئی تھی، فلم میں شاہ رخ خان صاحب اور دیگر معروف اداکاروں نے کام کیا تھا، فلم تو خیر عام سی تھی مگر اس میں خاص چیز دکھائی گئی تھی جو اس فلم کے آنے کے کچھ عرصے بعد کراچی کی کہانی بھی بنی اور جس کے اثرات یہ شہر آج کے دن تک بھگت رہا ہے۔ اس فلم میں بھارتی ریاست ”گوا“ دکھائی گئی تھی۔ یہ

Read more

رات کو اکیلی گھومتی ہو؟ جاؤ بی بی واپس جاؤ ہماری ”قدریں“ نہ بگاڑو

حالیہ کیس، زینب کیس کی طرح ایک ہائی پروفائل کیس بن گیا ہے سوشل میڈیا پر لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے لوگوں کا حسب معمول مطالبہ ہے کہ مجرم کو سرعام پھانسی دو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردو، نامرد بنا دو، جیسے کہ ایسا کرنے سے جرم رک جائے گا۔ مایوس کن بات یہ ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ مسئلے کا حل سزا کی نوعیت نہیں بلکہ سزا کا یقینی ہونا ہے۔ اگر مجرموں کو یہ پتہ ہو کہ وہ جرم کر کے بچ نہیں پائیں گے۔ پولیس پاتال میں سے بھی ان کا کھوج لگا لے گی، عدالتیں عدم ثبوت کا بہانہ بنا کر چھوڑ نہیں دیں گی تو لازماً جرائم میں کمی آئے گی۔

Read more

میرا بھائی: ڈاکٹر شیر شاہ سید

سن 2002 میں جب فیگو (FIGO) نے ڈاکٹر شیر شاہ کے لیے ایوارڈ کا اعلان کیا تب ان کے اہل خانہ نے اس خوشی کو پرجوش طور پر منایا۔ گھر میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں خاندان کے افراد کے علاوہ ڈاکٹر شیر شاہ کے احباب کو بھی مدعو کیا گیا۔ اکثر احباب کو اس ایوارڈ کی اطلاع اسی تقریب کے ذریعے ملی۔ ڈاکٹر شیر شاہ کی بہن ڈاکٹر شاہین ظفرنے اس موقع پر جو مضمون پڑھا وہ

Read more

رب کائنات عورت کو صنف نازک نہ بنا

زیادتی کیسا لفظ ہے سوچا جائے تو بہت سے پہلو نکلتے ہیں اور روزمرہ گفتگو میں اس کا استعمال مختلف نوعیت سے لیا جاتا ہے لہٰذا جتنی آپ کی سوچ کی گہرائی یا آپ کا اپنے ماحول کے حالات سے تجربہ ہو گا اتنا آپ سوچ سکیں گے، جیسے کسی نے آپ کا حق مارا ہو یا کسی نے آپ کی کوئی قیمتی چیز آپ کے سامنے نوچ ڈالی ہو۔ میں ہمیشہ زیادتی کے واقعات پہ ہونے والی بحث میں شامل ہونا تو دور کچھ بھی کہنے، رد عمل دینے، شور مچانے، سب سے دور رہی ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ ہوتا کیا ہے۔ میڈیا کو بس ایک نیا موضوع ملتا ہے اور معاشرے کو اپنا گریبان چھوڑ کر ایک منفرد موضوع پہ ہائے ہائے کرنے اور اپنے گلوں شکووں سے کچھ دیر کی فرصت ملتی ہے۔

لیکن آج تک کتنی پیشرفت ہوئی۔ زینب الرٹ بل کا کیا فائدہ ہوا۔ اس کے مجرم کو پھانسی تو ہوئی لیکن اگلے ماہ چھ بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ اگر پھانسی حل ہوتی تو اگلے ماہ ہی اتنے زیادہ کیسز سامنے نہ آتے۔ یہ تو سامنے کے اعداد و شمار ہیں اور نا جانے کتنی ہی ہوں گی جو ڈر سے بولتی ہی نہ ہوں گی کیونکہ ان کو معاشرے سے بھی نہیں اپنے گھر والوں کی سوچ سے بھی ڈر لگتا۔ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ بھگتنا تو بس اس نے ہے جس نے پہلے ہی یہ عذاب جھیلا ہے۔ اور کردار صرف داؤ پہ نہیں لگا بلکہ سولی پہ چڑھ جاتا۔

Read more

اپنی بیٹی کو پستول کا لائسنس لے دوں؟

گھر سے باہر تھا، بیٹی کا برقی پیغام آیا کہ ”بابا میں سو نہیں پا رہی، مجھے واپس آکے سیلف ڈیفینس کا کورس لے کر دیں یا گن کا لائسنس۔ دماغ میں بہت کچھ چل رہا ہے، یہ معاشرہ رہنے کے قابل ہے؟“ اسے جھوٹی سچی تسلی دی اور اب میری نیند اڑی ہوئی ہے۔ ٹی وی دیکھنے سے تو منع بھی کیا جاسکتا تھا۔ لیکن خبر تو ہوا کے دوش پر ٹی وی اور اخبارسے آگے بڑھ کر فون

Read more

جسٹس فار مروہ

ڈگڈگی بجتی ہے، تماشا ہوتا ہے، تالیاں بجتی ہیں اور ہم گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ مداری کے اشاروں پر رقصاں یہ جسم سوال تک نہیں پوچھتے کہ ناچنا کب تک ہے اور رقص کیسا ہے۔ مداری جانتا ہے کہ یہ تماشا ختم ہوا تو اس کا روزگار بھی جاتا رہے گا اور اس کی ذات بھی توجہ کی محور نہیں رہے گی۔ احساس سے مبرا اس معاشرے میں ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا ہے لیکن ہم بے حس،

Read more

کشمیر میں سب کچھ ہے پیارے

کہساروں، آبشاروں، مرغزاروں، پہاڑوں، بیابانوں، کھلے میدانوں، دلفریب نظاروں کے علاوہ یہاں خراب حالات اور افراتفری ہے۔ یہاں سیاست دان زیادہ ہیں یا بہاری، وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سیاست دانوں اور بہاریوں میں ایک مطابقت ہے کہ دونوں استحصال کرتے ہیں، سیاست دان عوام کا اور بہاری یہاں کے مزدور طبقے کا۔ جس طرح کام کے لحاظ سے بہاریوں کی سو قسمیں ہیں اسی طرح یہاں کے سیاست دان بھی کئی اقسام کے ہیں :۔ 1۔

Read more

بھنگ اپنائیے: سرکار کی اجازت ہے

میری عادت ہے کہ مجھے سونے کے لیے مصنوعی سہارا لینا پڑتا ہے۔ میں ان خوش نصیبوں سے نہیں جنھیں نیند سولی پر بھی آجاتی ہے مجھے تو نیند مولٹی فوم کے میٹرس پر بھی نہیں آتی۔ اوپر سے میں ٹھہری خواب دیکھنے کی بے انتہا شوقین لیکن جاگتی آنکھوں نہیں، کہ جاگتی آنکھوں اور بہت کچھ دیکھ لیتی ہوں۔ ویسے بھی جاگتی آنکھوں خواب دیکھنا خواب کی توہین سمجھتی ہوں۔ خواب دیکھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خواب

Read more

چین کے ساتھ 1962 کی لڑائی میں شامل انڈین جنگی قیدیوں کی داستانیں

بریگیڈیئر دالوی کو چینی فوجیوں نے انڈین فوجیوں سے علیحدہ تبت کے سیتھانگ کیمپ میں تنہائی میں رکھا تھا۔ ہمیشہ محفلوں کی شان سمجھے جانے والے دالوی کچھ ہی دنوں میں افسردگی کا شکار ہوگئے۔ 1962 میں چینی فوج کی قید میں جانے والے انڈین فوجیوں پر کیا بیتی۔ ریحان فضل کی زبانی

Read more

چین کے ساتھ 1962 کی لڑائی میں شامل انڈین جنگی قیدیوں کی داستانیں

بریگیڈیئر دالوی کو چینی فوجیوں نے انڈین فوجیوں سے علیحدہ تبت کے سیتھانگ کیمپ میں تنہائی میں رکھا تھا۔ ہمیشہ محفلوں کی شان سمجھے جانے والے دالوی کچھ ہی دنوں میں افسردگی کا شکار ہوگئے۔ 1962 میں چینی فوج کی قید میں جانے والے انڈین فوجیوں پر کیا بیتی۔ ریحان فضل کی زبانی

Read more

جنسی زیادتی ہو تو زبان بند رکھو

غلطی آپ کی ہے آپ انسان تھیں، کیا انسانیت کے اصول سیکھنے کے لیے اپنی جنم بھومی پر قدم ٹکانے ضروری ہیں۔ یہ سب حیلے بہانے چھوڑیے سچی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو پاکستان دکھانا چاہتی تھیں۔ بچوں کو سنی سنائی باتوں کے بجائے خود ان کی آنکھوں سے انہیں یقین دلانا چاہتی تھیں کہ پاکستان کے خلاف جو کچھ کافروں اور غداروں کے منہ سے نکلتا ہے سب جھوٹ ہے۔ کچھ نہیں ہوتا۔ بڑے کروفر

Read more

خبردار! شہر میں درندے کھلے پھر رہے ہیں

”شہر میں ایک ایسا درندہ آ چکا ہے، جو وقتاً فوقتاً جنگل سے باہر آتا ہے، کسی معصوم کو نوچتا ہے، اور پھر منظر سے غائب ہو جاتا ہے۔ اس شہر کے باسی آنکھیں مسلتے ہوئے اس معصوم کو دیکھتے ہیں، کچھ اس کے غم میں شریک ہو تے ہیں، کچھ اسے ہی قصوروار ٹھہراتے ہیں اور پھر سے اپنے اپنے گھروں میں جا کر سو جاتے ہیں۔ چند دن بعد ایک اور درندہ کسی اور شکل میں باہر آتا

Read more

دو کوڑی کی عورت

عورت جسے مالک دو جہاں نے بنی نوع انسان کی تخلیق کا ذریعہ بنایا، اسے ماں کے درجہ پر فائز کیا، پیارے نبیۖ نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دی۔ ہم ناخلق بندوں نے عورت کی عزت دو کوڑی کی کردی اسے پیر کی جوتی سمجھ لیا، اس کی ہر جیت ہر کام کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اسے نیچا دکھانے کے لیے روندنا شروع کر دیا۔ اس ملک پاکستان میں عورت ہونا ایک گالی

Read more

موٹروے ریپ کیس: ڈی این سے ملزم کی شناخت ہو گئی: میڈیا رپورٹس

سما نیوز اور دوسرے میڈیا سورسز کے مطابق لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون سے ریپ کے کیس میں ڈی این اے کی مدد سے ایک ملزم کی شناخت کر لی گئی ہے۔ اس کا پہلے بھی ڈکیتی اور ریپ کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔

Read more

ریپ کی اصلیت

جب حیا مارچ والے عورتوں پر اپنے اعضائے تناسل لہرا رہے تھے، باوجود اس کے پوری قوم کی حمایت بھی انہی کو حاصل تھی تب سے ہی لاہور موٹر وے اور اس جیسے لاکھوں ریپ کے آنے والے دیگر سانحات کے بیج بو دیے گئے تھے۔ جب کراچی کی پانچ سالہ مروہ کے حالیہ ریپ، تشدد اور قتل کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ اعلیٰ صبح بچی کو باہر بھیجا ہی کیوں، تب اس قوم نے لاہور موٹر وے

Read more

کیا ریاست شہریوں کی حفاظت سے دستبردار ہو گئی؟

بچپن میں کبھی کسی چوکیدار سے منہ سے آتی یہ آواز سن کر کہ ”جاگتے رہنا“ توہم بہن بھائیوں نے اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ چوکیدار دوسرے الفاظ میں یہکہنا چاہتا ہے کہ جاگتے رہنا اور میرے پر نہ رہنا۔

بھلا بندہ پوچھے کہ اگر خود ہی جاگنا ہے تو تمہارا پہرہ دینا چہ در معنی!

لاہور پولیس کے آفسر کا بیان سن کر بے ساختہ یہ بات آ گئی کہ بھئی عورت کوضرورت کیا تھی رات بارہ بجے گاڑی لے کر نکلنے کی؟

Read more

داستاں چھوڑ آئے

تخلیقی ذہن کے حامل افراد، خواہ وہ شاعر ہوں، یا ادیب، فنکار ہوں یا مصور، دانشور ہوں یا سائنسدان، کسی بھی ملک کا قیمتی سرمایہ ہو تے ہیں۔ یہ افراد کسی بھی قوم میں ذہنی نشوونما اورمثبت رویوں کی نمود کا باعث بنتے ہیں۔ ان کی قدر کی جانی چاہیے۔ مجھے یہ خیال رحیم گل کی، ان کے اپنے قلم سے لکھی سوانح حیات: ”داستاں چھوڑ آئے“ پڑھ کر آیا ہے، کہ ان کا تعلق بھی اسی تخلیقی گروہ سے

Read more

انڈین صحافی کے والدین کی وائرل کہانی: ماں کے لڈو کے شوق میں گھر پر ہائی سپیڈ انٹرنیٹ لگوانا پڑا

خیر سیوک خاصے خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ان کے والد کا ای میل پاس ورڈ کا جنون اور ماں کے لڈو کھلینے میں لوگوں کو اتنی دلچسپی ہو گی۔

Read more

ریپ کے لیے سازگار فضا

چلیں جی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ بدھ کو علی الصبح لاہور سیالکوٹ ایم الیون موٹر وے پر جس خاتون کا اس کے دو بچوں کے سامنے مسلح افراد نے ریپ کیا ، تشدد کیا ، سامان لوٹا اور فرار ہو گئے تو اس میں بنیادی غلطی عورت کی ہے۔ اس عورت کو دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آدھی رات کو سنسان موٹر وے پر سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

Read more

عورت کو غیرت کے نام پہ مارنے والے، عورت کو شرم سے نہ مرنے دیں

میں پاکستان کے دارالحکومت یعنی اسلام آباد میں رہتی ہوں۔ ابھی بہت زیادہ دن نہیں ہوئے غالباً گزشتہ جمعرات کی رات دو بجے ہوں گے، میری اسلام آباد سے کراچی کے لیے پرواز تھی، فلائٹ ٹائمنگ علی الصبح تھی۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں سے ذکر کیا کہ مجھے ائرپورٹ پہنچا ہے تو پتا چلا کہ ہمارے ایک ساتھی نے بیلاروس جانا ہے، ان کی اور میری پرواز میں دو گھنٹے کا وقت فرق ہے۔

آخر طے ہوا کہ میں اور میرے دوست اکٹھے ائرپورٹ جائیں گے۔ جبکہ میری گاڑی ہمارے تیسرے ساتھی کے سپرد کی جائے گی۔ شاید، میرا یہ فیصلہ میری گاڑی کو پسند نہیں تھا کہ وہ کسی اور کے ہاتھوں سے چلے۔ اتفاق سے میری گاڑی ائرپورٹ کے داخلی دروازے کے باہر بند ہو گئی۔ اور بند بھی ایسا ہوئی کہ پھر دوبارہ نہیں چلی۔

Read more

قصور وار خاتون براستہ موٹر وے

کہتے ہیں کہ برا وقت پوچھ کر نہیں آتا، اب چاہے سفر موٹر وے سے کیا جائے یا جی ٹی روڈ سے منزل بالآخر گوجرانوالہ ہی تھی۔ آج پھر ایک اور واقعہ ہو گیا، ابھی کل ہی تو ایک پھول جلا تھا، دھواں ابھی بھی اٹھ رہا تھا، دل بے چینی سے سلگ رہا تھا کہ ہائے کس کافر نے یہ ظلم ڈھا یا اور اس ماں کے کلیجہ کو کیسے اور کب قرار آئے گا؟ اس پاک شہزادی کا کیا قصور تھا؟ ان گنت سوال دماغ میں گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک ماں اور اجڑ گئی، عزت خاک میں مل گئی اور منزل پہ پہنچنے سے پہلے ہی درندگی کا سامنا کر نا پڑ گیا۔

آخر اس لاچار کا کیا قصور تھا؟ شاید ناقص العقل تھی اسی لیے ہوس کا نشانہ بن گئی؟ یا شاید ایک شہری کو ریاست کا تحفظ نہیں ملا۔ اور جب ملا تو بہت سے سوالات کا سامنا، تجاویز کا پلندا، گھڑی کی سوئی سے لے کر پٹرول کی سوئی تک کی نوک جھوک، جس میں وہ بے چاری خود کو بے گناہ ثابت کرتے کرتے تھک کر چور ہو چکی گی۔

Read more

شکر ہے کہ میں عورت نہیں ہوں

مردوں کے سماج میں ایک مرد پیدا ہونے پر میں خود کو بہت خوش قسمت محسوس کرتا ہوں اور شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے یہاں عورت پیدا نہیں کیا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مجھے میرے پیدا ہونے سے لے کر اور مرتے دم تک وہ سب جھیلنا پڑنا تھا جو ایک عورت کو یہاں اپنی پوری زندگی جھیلنا پڑتا ہے۔ میری سزا کے لیے میرا عورت ہونے کا جرم ہی کافی ہوتا۔ سب سے پہلے میرے پیدا ہونے پر ہی کوئی خاص خوشی نہ منائی جاتی اور رب کی رضا سمجھ کر مجھے برداشت کیا جاتا۔

پھر میرے بچپن میں ہی میرے گھر والوں کی طرف سے میرے ساتھ لڑکوں کے مقابلے میں امتیازی سلوک کیا جاتا اور میرے کچے سے ذہن کو اس سب کی وجہ بھی نہ سمجھ آتی۔ مجھے بہت ہی چھوٹی عمر میں اپنے جاننے والے اور انجان مردوں کی طرف سے جنسی ہراسانی بھی برداشت کرنا پڑتی۔ ہو سکتا ہے مجھے کچھ درندوں کی طرف سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا اور مار کر بھی پھینک دیا جاتا۔ جیسے قصور کی ننھی زینب کے ساتھ ہوا یا حال ہی میں کراچی کی ماورا کے ساتھ ہوا، یا ایسی اور کتنی بے شمار ننھی کلیوں کے ساتھ ہوا۔

Read more

قائد اعظم حیات ہوتے تو ابصار عالم اور بلال فاروقی کو کیا جواب دیتے؟

صدر مملکت عارف علوی نے آج قائد اعظم محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر کراچی میں ان کے مزار پر حاضری دی اور کہا کہ قوم کی فلاح و ترقی بابائے قوم کے اصولوں پر چلنے اور ان کا بتایا ہؤا راستہ اختیار کرکے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ ملک کا سربراہ جب کسی شخصیت کے اصولوں کو اس قدر اہمیت دے رہا ہو تو یہ باور کرنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ واقعی اس بات پر

Read more

گجرپورہ میں بچوں کے سامنے ماں سے اجتماعی زیادتی کا مرکزی ملزم گرفتار: اے آر وائی نیوز

لاہور : پنجاب پولیس نے گجرپورہ اجتماعی زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق پولیس حکام نے گجرپورہ لنک روڈ پر بچوں کے سامنے ماں سے اجتماعی زیادتی کرنے والے مرکزی ملزم گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے اب کرول گاؤں میں وسیع پیمانے سرچ آپریشن جاری ہے۔

Read more

باہر نکلتے ہوئے وقت نہیں، اپنا عورت ہونا دیکھیں

اپوزیشن حکومت دست و گریبان ہوتی رہی میں خاموش رہی، استعفوں کی بھرمار ہوئی میں تب بھی دیکھتی رہی۔ ترکی کا ڈرامہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے لئے ایک خوفناک خواب بن گیا میں نے سوچا ضرور لیکن لکھا نہیں۔ کراچی میں بارشیں شہر کو نگل گئیں میں نے بیان ضرور کیا لیکن تحریر نہ کر سکی۔

آج میرا قلم مجھے آتے جاتے کچوکے لگانے لگا کہ اب بات تیرے عورت ہونے کی غلطی پر ہے اب بھی تو خاموش رہے گی؟ تو میں چیخ اٹھی۔ میں صحافت میں دس برس سے ہوں گھر سے نکلتے ہوئے میں نے اپنے والٹ میں پیسے اور اے ٹی ایم کارڈ تو ضرور چیک کیا ہوگا لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ میں شہر کے ہر کونے پر گئی اور واپس آ گئی لیکن آج مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں اتنی بے خوف کیسے ہو گئی مجھے اپنے اس عمل پر آج جھرجھری آ رہی ہے کہ میں کئی برسوں سے انجان رکشے ڈرائیوروں، کریم اوبر والوں کے ساتھ وقت بے وقت کیسے سفر کرتی رہی؟ کئی کئی منٹ سنسان سڑک یا فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر نہ صرف سواری کا انتظار کیا تو کئی بار ایسا بھی ہوا کہ اکیلے سفر کے دوران گاڑی خراب ہوئی تو آگے کا راستہ کافی تاخیر کے بعد کسی سواری کے ملنے پر طے کیا۔

Read more

خاتون ویرانے میں محفوظ تھی پھر اس نے پولیس کو مدد کے لئے کال کر دی

ابھی تک ذہن ماؤف ہے۔ سوچوں تو وجود میں سنسنی سی دوڑ جاتی ہے۔ خیالات ذہن میں اتنی بری طرح گڈ مڈ ہیں۔

اگر سننے والوں کو اس واقعے کے اثرات سے نکلنے میں ہفتے مہینے لگیں گے تو جن پر یہ دلخراش سانحہ گزرا، وہ مجبور ماں اور اس کے کمسن بچے تو شاید تاعمر اس سانحے کے اثر سے نکل نہ پائیں گے۔ یہ قیامت رات تو رہتی زندگی تک ان کی یادداشتوں میں نقش ہو جائے گی۔

Read more

76 ہزار پاؤنڈ کی ڈیزائنر مصنوعات چوری کرنے والے خاتون جیل جانے سے بچ گئیں

برطانیہ میں ایک خاتون نے ٹرین میں سوار ایک دوسری خاتون مسافر سے گفتگو شروع کی اور پھر اس کا سوٹ کیس چرایا جس میں 76 ہزار پاؤنڈ مالیت کے ڈیزائنر کپڑے اور زیورات تھے۔

Read more

اللہ جانے ہم کس جانب چل نکلے ہیں

پاکستان اب ایسا ملک بنتا جا رہا ہے جس کو اسلامی پھر جمہوریہ اور پھر پاکستان، تینوں القابات سے پکارتے ہوئے ہر پاکستانی کا سر بار شرمندگی سے جھکتا چلا جاتا ہے۔ ہم سب تو پاکستان کے اندر رہتے ہیں اس لئے شرمندہ ہوں گے بھی تو ایک دوسرے کے سامنے ہی شرمسار ہو کر رہ جائیں گے لیکن میں سوچتا ہوں کہ وہ پاکستانی جو پاکستان سے باہر کسی مسلم یا غیر مسلم ملک میں قیام پذیر ہیں، غیر ملکیوں کا سامنا کس منہ سے کرتے ہوں گے۔

Read more

رات کے سناٹے میں بہرے قانون کو دی صدا

وہ یہ سوچ کر گھر سے نکلی تھی کہ قانون جاگ رہا ہے۔ وہ قدم قدم پر اسے دیکھ رہا ہوگا اس کے گرد ڈھال بن کر محو سفر ہو گا۔ لہذا وہ بے خوف ہو گئی اور اپنے جگر گوشوں کو ساتھ لے کر شاہراہ پر آ گئی۔ اسے مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ یہاں جو سوچا جاتا ہے۔ وہ ہوتا نہیں ہے۔

اس کی گاڑی ایندھن ختم ہونے پر رکتی ہے۔ رات کا سناٹا ہے۔ ویرانہ ہے۔ وہ اکیلی ہے۔ اب کیا کرے اس کے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے۔ وہ شب کے پہریداروں کو پکارتی ہے۔ مدد کی درخواست کرتی ہے۔ وہ اسے حوصلہ دیتے ہیں۔ اس دوران کچھ وحشی اس کے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔

Read more

کرول جنگل میں انسانی درندگی

یوں تو جنگل میں خطرناک جانوروں کا راج ہوتا ہے لیکن انسان کی درندگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب شہر ہوں یا دیہات یہاں تک کے جنگل بھی انسان کی درندگی سے محفوظ نہیں رہے۔ انسان کی درندگی دیکھ کر جانوروں نے بھی جنگل چھوڑنا شروع کر دیے ہیں۔ اب نہ جانے جانور کہاں روپوش زندگی گزار رہے ہیں۔ خطرناک سے خطرناک جانور بھی وہ کچھ نہیں کرتے جو آج کل انسانی درندے کرنے لگے ہیں۔ ایسے ہی انسانی درندگی کا ایک واقعہ چند روز قبل موٹر وے پر ہوا جہاں ایک خاتون کی عصمت دری اس کے بچوں کے سامنے کی گئی۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق گوجرانوالہ کی رہائشی خاتون کے ساتھ انسانی درندگی کا یہ واقعہ 8 اور 9 ستمبر کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور سے گوجرانوالہ جانے کے لیے لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے پر سفر کر رہی تھی۔ یہ موٹر وے حال ہی میں ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا۔ موٹر وے پر خاتون کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہو گیا اس نے مدد کے انتظار میں گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کرلی اور گاڑی کے شیشے بند کر دیے۔

Read more

اللہ آپ سے زیادہ پوچھے گا، سی سی پی او صاحب

نو ستمبر کو آفس میں فیس بک کھولی ایک لائن کی خبر پڑھی کہ لاہور کے قریب گجر پورہ میں نامعلوم افراد نے موٹروے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، دل دہلا دینے والے واقعہ کی سرخی پڑھ کر فوراً ایک ویب سائٹ کھولی اور تفصیلات پڑھیں، اس حیوانوں کے معاشرے پر انا للہ پڑھنے کے علاوہ کیا کر سکتے ہیں۔

وہی معمول کے کام وزیراعلی پنجاب نے واقعہ مذمت کرتے ہوئے اس کا فوری نوٹس لے لیا اور آئی جی پنجاب سے جواب طلب لیا، اس کے علاوہ چند بڑھکیں جو ایسے واقعات کے بعد اکثر با اختیار افراد مارا کرتے ہیں۔ ملزمان جلد گرفتار کر لیں گے اور ان کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔ پولیس کی ٹیمیں تشکیل دیدی ہے وغیرہ وغیرہ۔

Read more

قبر میں اکیلی کیوں لیٹی؟

باہر اکیلی کیوں نکلی؟ رات کے وقت سفر کیوں کیا؟ سر پہ دوپٹہ کیوں نہیں تھا؟ منہ حجاب سے کیوں نہیں ڈھانپا؟ جینز کیوں پہنی؟ شوخ رنگ کیوں اوڑھے؟ بھنویں کیوں ترشوائیں؟ چست لباس سے جسم کیوں نمایاں کیا؟ چادر سے جسم کے زاویے چھپائے کیوں نہیں ؟ منہ پھاڑ کے ہنسی کیوں؟ زیادہ باتیں کیوں کرتی ہے ؟ میک اپ کیوں کیا ؟ بال کیوں کٹوائے تھے؟ لڑکوں کے ساتھ تعلیم کیوں حاصل کی؟ مردوں کے ہمراہ دفتر میں

Read more

کیا آپ نے اپنی ماں کا ریپ ہوتے دیکھا ہے؟

یہ سوال تو بظاہر ایک انسان سے کرنا ہی تکلیف دہ ہے۔ مگر کیا آپ کے لئے یا میرے لئے ہے۔ شاید نہیں ہے۔ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ اس ملک میں روز ایک المیہ ہے روز ایک نئی داستان ہے۔ کیا آپ نے زینب کے واقعات کے بعد سبق سیکھا۔ کیا آپ نے مانسہرہ میں پچھلے سال، چار سال کی بچی جس کو ریپ کر کے کنویں میں پھینک دیا تھا وہ وہاں تین دن پڑی رہی۔ اس سے کچھ سیکھا۔ اور اس کے اگلے دن وہ سردی اور تکلیف کی شدت برداشت نا کرتے ہوئے مر گئی تھی۔ اچھا ہوا، ورنہ ایسی اولاد کو کون پالتا۔ کون اس کے زخم سیتا۔ کون اس کی زندگی بھر کونسلنگ کرتا۔

ہم روز ایسے واقعات دیکھ دیکھ کر بے حس ہو چکے ہیں۔ آخر کب تک روئیں سر پیٹیں۔ اس کا حل کیا ہے۔ کچھ بھی نہیں۔ کسی کی کوئی ذمہ داری ہی نہیں۔

Read more

جدید ریاست مدینہ میں عورت کی تکریم

نئے پاکستان اور جدید ریاست مدینہ کے قیام کے بلند بانگ نعرے لگانے والے ہمیں قدم قدم پر باور کرواتے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پینا اور خوشی خوشی جینا شروع کر دیں گے۔ انصاف کا بول بالا، عدل کا اجالا اور ظلم اور ظالم کا منہ کالا ہو جائے گا۔ پھر سونے چاندی کے زیورات سے لدی عورت کراچی سے کشمیر اور لیپا سے لنڈی کوتل تک جائے گی مگر کوئی ظالم، زانی، غنڈہ اور بدمعاش و اوباش اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکے گا۔

ان بلند آہنگ مگر کھوکھلے نعروں کی سر بریدہ اور بدن دریدہ لاش موٹر وے کے ساتھ لہلہاتے جھومتے ان کھیتوں کے بیچ پڑی نیو ریاست مدینہ والوں کا منہ چڑا رہی ہے جہاں دو دن قبل دو انسان نما درندوں اور وحشیوں نے کم سن بچوں کے سامنے ان کی ماں کا ردائے عصمت تار تار کردی۔

Read more

بیگم کلثوم نواز کی آخری خواہش اور میاں نواز شریف کا عزم

آج سے ٹھیک ایک برس پہلے بیگم کلثوم نواز کا لندن کے ہارلے سٹریٹ کلینک میں انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت کلثوم نواز وینٹی لیٹر پر تھیں اور دل کے عارضے کے علاوہ کینسر بھی ان کے جسم میں پھیل چکا تھا۔ گزشتہ کئی دنوں سے کلثوم نواز، نواز شریف اور مریم نواز سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ وہ اس بات پر بہت حیران ہوتیں اور شکوہ کرتیں کہ ”باؤ جی جہاں بھی ہوں رات کو مجھے کال ضرور کیا کرتے تھے اب ایسی کون سی مصروفیت آن پڑی ہے“ ۔ لندن میں مقیم بچوں نے ان سے یہ بات چھپا کر رکھی تھی کہ نواز شریف اور مریم نواز اس وقت جیل میں ناکردہ گناہوں میں قید ہیں۔

آخری دنوں میں کلثوم نواز میں جب بھی سکت ہوتی تو وہ خود بھی کبھی موبائل ہاتھ میں لے کر ”باؤ جی“ کو کال کرنے کی کوشش کرتیں مگر کوئی جواب نہیں آتا۔ اس خدشے کے پیش نظر کہ ان کو گرفتاری کا علم نہ ہو جائے اور اس حالت میں ان کو مزید تکلیف پہنچے ان کے موبائل اور آئی پیڈ سے انٹرنیٹ کا کنکشن ختم کر دیا گیا تھا۔ اس صدمے سے بچانے کے لئے ان کے کمرے کے ٹی وی کا کنکشن بھی اتار دیا گیا تھا۔ لیکن کلثوم نواز کو دھڑکا تو لگا ہوا تھا۔ وہ ہر کسی سے پوچھتیں کہ ”تم لوگ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو“ ۔ ایک دن انہوں نے اپنی پرانی آیا سے بھی دریافت کیا کہ ”تم ہی مجھے اصل بات بتا دو۔ مجھے لگتا ہے یہ سب مجھ سے کچھ چھپا رہے ہیں۔“ لیکن کسی نے ان کو یہ صدمہ نہیں پہنچایا۔ وہ ہوش میں آتیں تو سوال ضرور کرتیں ”باؤ جی کا فون آیا، مریم کی کال آئی“ اور اسی جواب کے انتظار میں گیارہ ستمبر کو ان کی زندگی کا سانس سے رشتہ ٹوٹ گیا۔
پہلی تاریخ اشاعت: 10/09/2019

Read more

ممتاز مفتی، علی پور کا ایلی اور شہزاد

ممتاز مفتی کا نام ادبی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ میں ان سے ان کی کتاب ”لبیک“ کے ذریعے متعارف ہوا جو ان کے سفر حج کی روداد ہے۔ وہ سکول اور کالج کا زمانہ تھا جب اس کتاب کے کچھ حصے ماہ نامہ ”سیارہ ڈائجسٹ“ میں شائع ہوئے۔ موضوع، ان کے اسلوب بیان اور انداز فکر نے مجھے ہی نہیں، بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ جب کتاب چھپی تو تفصیل سے پڑھنے کا موقع ملا۔ بطور

Read more

مودی کی مقبولیت اور میرا علمِ نجوم

ضائع کرنے کو وقت ان دنوں میرے پاس ضرورت سے زیادہ میسر ہے۔بہتر تو یہی تھا کہ اسے کوئی کتاب لکھنے میں صرف کرتا۔کتاب مکمل نہ بھی ہوتی تو کم از کم دل کو یہ تسلی رہتی کہ اپنے ذہن کو کسی ہدف پر فوکس رکھے ہوئے ہوں۔ بستر پر لیٹے ہوئے سارا دن گزار دینا مگر راحت فراہم کرنا شروع ہوگیا ہے۔خود کو یہ سوچتے ہوئے بھی مطمئن رکھتا ہوںکہ طالب علمی کے زمانے سے بہت متحرک زندگی گزاری

Read more

ساری غلطی ہے ہی اس ریپ ہونے والی عورت کی

آپ جانتے ہی ہیں کہ ہم ہمیشہ سچ کا ساتھ دیتے ہیں۔ سچ کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ حکمران بتاتا ہے کہ سچ اور حق کیا ہے۔ اور اس وقت پورے سوشل میڈیا پر جس شخص کا سچ چھایا ہوا ہے وہ لاہور کے پولیس چیف ہیں جن کی حمایت حکومت کے نامی گرامی وزرا اور مشیر کر رہے ہیں یعنی ان کے موقف کو حکومتی موقف سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ موٹر وے پر ہونے والے واقعے میں بنیادی غلطی کس کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں ”میں سیدھی بات کرنے والا افسر ہوں۔ کیا ہم اپنی بہن کو ماں کو اکیلے بچوں کے ساتھ جانے دیتے ہیں ساڑھے بارہ بجے۔ پاکستان میں کوئی اس طرح نہیں جانے دیتے۔ نمبر ون۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اگر وہ جائیں بھی کسی ایمرجنسی سے تو ہم اسے کہتے ہیں کہ بیٹا جی ٹی روڈ سے جانا۔ یہ باتیں کرنے سے میری مراد اسے مورد الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔ مجھے یہ بتانا ہے کہ ہماری سوسائٹی اس طرح کی ہے۔ بہنوں والو بیٹیوں والو آئندہ خیال رکھو ۔ ۔ ۔ دیکھیں اس کی فیملی فرانس کی ہے اس کا ہسبینڈ فرانس رہتا ہے۔ اس نے یہ سارا کام اس لیے کیا ہے کہ اس کی اورینٹیشن میں فرانس تھا۔ یہ مینلی اسی طرح کا محفوظ معاشرہ ہے اور معاشرے وہاں پہ صرف لا سے نہیں محفوظ ہوتے۔ وہاں اخلاقی قدروں سے محفوظ ہیں۔ رول آف لا کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ رٹ آف گورنمنٹ کی وجہ سے محفوظ ہیں۔ اس لیے بچیاں وہاں پہ رات کو ٹریول کرتی ہیں، موٹر ویز پر کرتی ہیں، ان کو کچھ نہیں ہوتا۔“

اب دیکھیں انہوں نے اس خاتون کو ہرگز بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا ہے۔ لیکن معاملہ پانی کر دیا ہے۔

Read more

ماں: میکسم گورکی سے ساجد گوندل تک

ساجد گوندل کی ماں رو رہی ہے۔ آسمان کانپ رہا ہے کہ نہیں، ارباب اختیار بت بنے بیٹھے ہیں۔ مان لیا کہ گوندل کو ریاست کے کسی ادارے نے اغوا نہیں کیا۔ مان لیا کہ حساس ادارے بے حس نہیں، بلکہ انتہائی حساس ہیں۔ اتنے حساس کہ کوئی ”اوئے“ کی آواز بھی لگا دے تو ان کا دل دکھ جاتا ہے، اور آنسو آ جاتے ہیں۔ یہ ہر وقت قوم کی خدمت میں رہتے ہیں۔ جان بھی دیتے ہیں۔ جان

Read more

خواجہ فرد فقیر اور نخل سخن کا سوز دروں

سخنوروں کی بستی گجرات شعروادب کا اہم مرکز رہی ہے۔ یہ مشہور زمانہ ”نخل سخن“ کی ہی کرامت ہے کہ یہاں شعروشاعری کی بہار ہمیشہ قائم رہی ہے۔ اس کا چشمہ فیض گجرات میں محلہ شاہ حسین میں صوفی بزرگ شاہ حسین ملتانی کے مزار سے مغرب میں ملحقہ خواجہ فرد فقیر کی قبر ہے جو مسجد کے صحن میں ایک کونے میں واقع ہے۔ قبر کے ساتھ ایک درخت ہوا کرتا تھا جو آج نظر نہیں آیا اسے ”نخل

Read more

اخلاقیات کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے!

لاہور کے انسانیت کو شرما دینے والے واقع نے ہماری اخلاقی گراوٹ کی آخری حد تک پھلانگ ڈالی ایک خاتون سے بچوں کے سامنے زیادتی ایک افسوسناک ہی نہیں بلکہ شرمناک واقع ہے۔ عورت یکساں طور پر قدرو قیمت اور اہمیت رکھتی ہے عورت کسی مختلف ماحول کسی بھی مذہب کسی بھی معاشرے والدین یا ملک میں پیداہوئی ہو اس سے اس کے ”عورت“ ہونے کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم سب کو مختلف حالات ماحول موسم ثقافت

Read more

صدر ٹرمپ کی امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزدگی، کیا ماضی میں بھی متنازع نامزدگیاں کی گئی ہیں؟

ناروے کے ایک انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان نے صدر ٹرمپ کا نام 2021 میں امن کے نوبیل انعام کے لیے بھیجا ہے اور انھوں نے اس کی وجہ صدر ٹرمپ کا حال ہی میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار بتائی ہے۔

Read more

مہمند حادثہ: پہاڑ کی جانب تکتی نگاہیں، لواحقین کی دم توڑتی امیدیں

مہمند ایجنسی میں پیر کو سنگ مرمر کی کان پر پہاڑی تودے گرنے سے اب تک کم از کم 24 افراد کے ہلاک اور 9 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق لگ بھگ 8 سے 10 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

Read more

مقدس

صائمہ حسب عادت صبح جلدی اٹھی اور اس نے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ پھر وہ تلاوت کرنے کے لیے دوسرے کمرے میں گئی۔ اس نے طاق کی طرف ہاتھ اٹھایا تو کیا دیکھتی ہے کہ قرآن غائب ہے۔ اس نے سوچا شاید وہ بیسمنٹ میں قرآن رکھ کر بھول گئی ہو۔ وہ وہاں گئی تو وہاں بھی قرآن غائب تھا۔ پھر وہ اپنے بیٹے کے کمرے میں گئی لیکن وہاں بھی قرآن موجود نہ تھا۔ صائمہ کو جب اندازہ ہوا کہ گھر کے سب قرآن غائب تھے تو وہ بہت حیران ہوئی۔

Read more

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے مبینہ ریپ کے واقعے پر بیان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

قانون نافذ کرنے والوں کی طرف سے یہ کہا جانا کہ رات گئے، اکیلے سفر کرتے ہوئے موٹروے پر مبینہ طور پر ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کو دوسرے راستے سے جانا چاہیے تھا یا پھر پیٹرول نہ ہونا ان کی کوتاہی کا نتیجہ تھا، اس سے کیا پیغام ملتا ہے؟

Read more

سماج کا کپڑا، چلغوزہ اور دو چینک چائے

ماما قادرکے سامنے سبز قہوے کا فنجان رکھا ہوا تھا اور ماما خم پہ خم انڈیلے جا رہے تھے۔عرض کیا ماما حال دو، گزشتہ آٹھ ماہ میں کیا کھویا کیا پایا؟ ماما نے آہستہ سے سر اٹھایا، ایک ابرو کو پینتالیس کے آکڑے پر لیگ سلپ کی طرح کیچنگ پوزیشن پر جمایا اور بولے، حال تو اچھا ہے مگر بہت عرصے سے ہم کو علم کا بدہضمی ہو گیا ہے۔عرض کیا ماما یہ علم کی بدہضمی والی اصطلاح پہلی بار

Read more

کیا ریپ کردہ خاتون کو انصاف مل سکے گا؟

حضرت عمرؓ کے دور کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایسا امن تھا کہ ایک بڑھیا سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے تک بلا کھٹکے سونا اچھالتی چلی جاتی تھی اور اسے کوئی خوف نہیں ہوتا تھا۔ پنجاب میں ایسا واقعہ ہوا تو لاہور پولیس کے سربراہ عمر شیخ کا کہنا ہے کہ یہ اس عورت کی اپنی غلطی ہے، اسے خود خیال کرنا چاہیے تھا۔

Read more

فہمیدہ ریاض: ڈرو مت، پورا سچ بدصورت نہیں ہوتا

خبر پڑھی کہ معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کی بیٹی نے ملک میں صحافیوں اور ادیبوں کے اغوا اور تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی مرحومہ والدہ کے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔ بہادر ماں کی بہادر بیٹی۔ خود فہمیدہ کے اپنے الفاظ ہیں۔ "فنکار کو اپنے فن کے ساتھ مکمل طور پر مخلص اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرے لیے فن مقدس ہے” فہمیدہ ریاض سے

Read more

نام نہاد "ساجد گوندل کیس” اور ففتھ جنیریشن وار کا شکار مظلوم ریاست

ایک طرف پاک فوج کے سربراہ تواتر سے ملک کو ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وار کے خطرہ سے آگاہ کر رہے ہیں تو دوسری طرف ریاست کے بعض ’غیر ذمہ دار‘ افسر اپنے لاابالی پن کی وجہ سے ریاست کے لئے پریشانی اور شرمندگی کا سبب بن رہے ہیں۔ اب سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کے لاپتہ اور بازیاب ہونے کی کہانی ہی دیکھ لیں۔ ایک طرف اسلام آباد ہائی کورٹ تو دوسری طرف وزیر اعظم

Read more

بچوں کی پیدائش میں وقفہ اور خواتین کی صحت: ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اندر سے بالکل ختم ہو گئی ہوں‘

ماں کا صحت مند ہونا بھی اُتنا ہی ضروری ہے جتنا بچے کا اِس دنیا میں آنا، لیکن اگر بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ نہ ہو تو زچہ و بچہ دونوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ آخر دو بچوں کی پیدائش میں کتنا وقفہ ہونا ضروری ہے؟

Read more

بلوچستان کے گاؤں میں انسداد منشیات مہم: بلیدہ گاؤں کی خواتین نے اپنے علاقے کو منشیات سے کیسے محفوظ بنایا؟

کچھ عرصہ پہلے تک صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے ایک چھوٹے سے گاؤں بلیدہ میں منشیات باآسانی اور ارزاں نرخوں پر دستیاب تھی مگر پھر وہاں کی خواتین آگے بڑھیں اور منشیات کے انسداد کی مہم شروع کی جسے دیکھتے ہی دیکھتے عوامی پزیرائی حاصل ہوئی۔

Read more

افسانہ: چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا

چار مناظر۔ یہ بار بار مرنا۔

اس دن موسم کافی خوشگوار تھا۔ اس بات کا احساس اسے ریتلی زمین پر ڈھیر ہوتے وقت ہوا۔ ریت کا سینک قابل برداشت تھا ورنہ اس پہر تک زمین تپ کر تنور ہو جایا کرتی تھی۔ بدلیوں کے باعث آسمان پر نگاہ ٹکانا ممکن تھا۔ ایسے میں اذیت کا واحد سبب وہ گولیاں تھی جو آڑی ٹیڑھی، کچھ اس کے بدن کے پار اور کچھ ابھی بھی اس کے سینے میں پیوست تھیں۔ وہ اپنے دھڑ کے بیچوں بیچ ایک خلا محسوس کر رہا تھا، چھاتی کے پار ہوئے ان چھیدوں کی انفرادیت کا ادرک مشکل تھا، بس ایک خلا تھا جو اس کے پورے وجود کو اپنی جانب کھینچ رہا تھا۔

Read more

شرلے جیکسن کا افسانہ: لاٹری

گرمیوں کی حدت کے ساتھ، ستائیس جون کی صبح بہت صاف اور روشن تھی۔ گہری سبز گھاس کے ساتھ پھول کثرت سے کھلے ہوئے تھے۔ گاؤں کے لوگ پوسٹ آفس اور بینک کے درمیان کے میدان میں دس بجے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ کچھ قصبوں میں اتنے افراد تھے کہ لاٹری ختم ہونے میں دو دن لگتے تھے۔ اس لئے چھبیس جون کو شروع کرنی پڑتی تھی۔ لیکن اس گاؤں کی آبادی تقریباً تین سو تھی اور پوری لاٹری مکمل ہونے میں دو گھنٹے لگتے تھے۔ یہ صبح دس بجے شروع کی جا تی تھی، پھر بھی اتنا وقت ہوتا تھا کہ گاؤں والے دوپہر کے کھانے کے وقت اپنے گھروں کو جا سکتے تھے۔

بچے میدان میں سب سے پہلے جمع ہوئے کیونکہ اسکولوں میں گرمیوں کی چھٹیاں حال ہی میں ہوئیں تھیں اور بیشتر بچے ابھی چھٹیوں کی عیاشی کے عادی نہیں ہوئے تھے۔ وہ کچھ دیر خاموشی سے ہی کھیلتے رہے پھر غل غپاڑہ مچانے لگے۔ وہ اب بھی بھی کلاس روم، کتابوں، ٹیچرز، اور ان کی ڈانٹ ڈپٹ کی باتیں کر رہے تھے۔ بچوں میں بوبی مارٹن نے سب سے پہلے اپنی جیبیں پتھروں سے بھریں تو باقی لڑکوں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی فورا چکنے اور گول گول پتھر چننے شروع کر دیے۔

Read more

نوشابہ کی ڈائری 18: کراچی میں کئی خودمختار علاقے وجود میں آچکے ہیں

سارنگ کے آنے سے زندگی کو نئے معنی مل گئے ہیں۔ ماں بن کر احساس ہوا کہ صوفی خدا سے عشق میں ہر شے سے بے گانے کیوں ہو جاتے ہیں، عاشق کے لیے معشوق کی خاطر اٹھائی جانے والی ہر تکلیف راحت کیسے بن جاتی ہے۔ دوسروں کے بچوں کے نام جھٹ سے رکھ دیتی تھی لیکن اپنے بچے کا نام رکھنے کا موقع آیا تو انتخاب مشکل ہو گیا۔ پہلی بار اندازہ ہوا کہ نام بھی اپنے ماضی، تہذیب، عقیدے اور نظریے کے اظہار اور اس سے جڑے رہنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔

بھائی جان کہہ رہے تھے نام ٹیپو، جوہر، غالب یا خسرو رکھو، پھوپھا کا اصرار تھا نام خالص اسلامی ہو جیسے فیض اللہ، نور اسلام۔ سسر کے سپاہ صحابہ والے دوست اکرام صاحب کی تجویز تھی ”معاویہ“ ، دو گھر چھوڑ کر رہنے والے باقر رضوی کی بیگم نے نام حیدر یا جعفر رکھنے کی صلاح دی۔ ذیشان کے دعوت اسلامی والے ماموں ”عطا المصطفی“ اور ”غلام دستگیر“ پر مصر تھے، میں نے ”جیون“ اور میکسم گورکی کے ناول ماں کے کردار ”پاویل“ کے نام پیش کیے، جیون کو سسر نے ہندوانہ نام قرار دے دیا اور ”پاویل“ پایل کی مشابہت کے باعث نسوانی ٹھہرا دیا گیا۔

Read more

بلوچی غیرت اور بلوچ تاریخی روایات

مکران ( انتظامی لحاظ سے نہیں، تاریخی و جغرافیائی لحاظ سے ) کو بلوچستان کے دیگر علاقوں سے معتدل مزاج سمجھا جا تا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر علاقوں کی نسبت سخت قبائلی طرز معاشرت اور روایتی سرداری نظام سے کافی حد تک یہ آزاد تعلیم یافتہ ہے اور باقی علاقوں کے بڑے جاگیرداروں کی نسبت اس کی آبادی مختلف متوسط بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ کچھ عرصہ سے گوادر میں سی پیک اور مختلف نا خوشگوار واقعات و حالات کی وجہ سے ملکی میڈیا میں اس کا نام آتا رہتا ہے۔

چند مہینوں سے مکران کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر اور بلوچستان کے سب سے بڑے شہروں میں سے ایک شہر تربت میں ڈکیتی کے دوران خواتین ( ملک ناز بلوچ اور کلثوم بلوچ ) کے قتل کے واقعات نے اہل علاقہ سمیت تمام بلوچوں کو ایک غیر معمولی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور نوجوان شہید حیات بلوچ کے ناحق قتل نے اس تشویش اور عوامی غیض و غضب میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ شہید حیات بلوچ کے واقعہ کی ابھی دھول بھی نہیں چھٹی تھی کہ 5 ستمبر کو تربت میں خاتون شاہینہ شاہین بلوچ کی قتل کا المناک واقعہ رونما ہوا ہے۔

Read more

آپریشن جبرالٹر سے سیز فائر تک

یہ بات 1965 کی ہے۔ 1965 کے آغاز میں متنازع صدارتی انتخاب ہوئے جس میں ایوب خان کامیاب ہوئے اور مادر ملت فاطمہ جناح کو شکست ہوئی۔ کچھ دنوں کے ہنگامے کے بعد حالات معمول پر آنے لگے۔ اب اپریل 1965 ہے۔ سر کریک پر پاکستان اور بھارت کا تنازعہ تھا اور ادھر دونوں ملکوں میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ پاکستان نے رن آف کچھ کے علاقے میں پیش قدمی کی اور بھارتی پسپائی ہوئی۔ پھر برطانوی وزیر اعظم اور

Read more

میرے درد کا کوئی درماں ہو

بیل بجی تھی۔ 40 کے پیٹے میں ایک سنجیدہ سی لڑکی نما خاتون نے دروازہ کھولا۔ دروازے پر ادھیڑ عمر کے ایک اے ایس آئی کے ساتھ ہیڈ کا نسٹیبل کو کھڑے دیکھ کر گھبرائے ہوئے تاثر اور سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے آنے کی غرض و غایت کا پوچھا۔ ”آپ کوئی اکیڈیمی چلارہی ہیں؟“ اے ایس آئی نے سوال کیا۔ خاتون نے تھوڑے سے تذبذب بھرے لہجے میں کہا۔ ”کہہ لیجئیے۔ باقاعدہ اکیڈیمی تو کرونا سے پہلے تھی۔

Read more

بچے قوم کا مستقبل

بلا شبہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں لیکن ہمیں کم از کم ایک بار خود احتسابی کے عمل سے گزر کر یہ جانچ لینا چاہیے کہ لفظ ”قوم“ کی جو تعریف دنیا بھر کے دانا لوگوں نے کی ہے، کیا ہم کسی بھی طرح اس تعریف پر پورا اترتے بھی ہیں یا نہیں۔ ہمیں ایک بار یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نسل در نسل جن وڈیرے، خان، ملک، چوہدری، راجے مہاراجے اور سرداروں کے لیے ووٹ

Read more

یا اللہ! یا رسول! عاصم باجوہ بے قصور

سی پیک پاکستان کے عوام کی خوش حالی کا وہ منصوبہ ہے، جس کا سن کے بھارتی پردھان منتری مودی کو ایک رات بھی چین کی نیند نہیں آئی۔ ادھر اسرائیل نے بھی امریکا کو دھمکی دی کہ اگر سی پیک منصوبہ مکمل ہو گیا، تو تمام یہودی امریکا سے اپنا سارا سرمایہ نکال لیں گے۔ یہ تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، امریکا کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، تو امریکا نے سی آئی اے میں اینٹی سی پیک

Read more

’’ہم کیا ہماری صحافت کیا؟‘‘

ربّ کا صد شکر کہ میرے قارئین کی اکثریت سنجیدہ مزاج کی حامل ہے۔ میرا پھکڑپن برداشت کرتے ہوئے بھی یہ توقع باندھتی ہے کہ اس کالم کے ذریعے میں اہم ترین ملکی اور غیر ملکی سیاست سے جڑے مسائل کو زیر بحث لانے کی کوشش کروں گا۔ منگل کی صبح چھپے کالم کو پڑھتے ہوئے لیکن انہیں مایوسی سے زیادہ حیرانی ہوئی۔چند مہربانوں کو تاہم یہ خیال بھی آیا کہ شاید اس کے ذریعے میں نے طنزیہ انداز اختیار

Read more

کمسن بچوں پر جنسی تشدد کا ذمہ دار کون؟

حال ہی میں میر ہزار خان کے علاقے میں زین نامی پندرہ سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اس کے نازک حصہ پر گولی مار دینے کی خبر پڑھی تو پورے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ پریشانی کے عالم میں اپنے ننھے معصوم بچوں کی طرف نظر دوڑائی تو بے اختیار آنکھ میں آنسو آ گئے اور میں سوچنے لگا کہ اس جنسی تشدد کا سب سے بڑا ذمہ دار کون ہے؟ معاشرہ، والدین، اساتذہ یا حکومت؟ جب سے پوری دنیا میں انٹر نیٹ کی سہولت آئی ہے تو اس گلوبل ویلج میں جنسیت اور جنسی تشدد کو اتنی ہوا ملی ہے کہ حکومت کے لئے جنسی جرائم پر قابو پانا ناممکن ہو گیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی سب سے بڑی وجہ وہ جنسی غبار ہے جو ایک مجرم کے دل و دماغ پر چھایا ہوتا ہے اور آخر کار اس سے وہ عظیم گناہ سرزد ہوتا ہے جسے دیکھ اور سن کر انسانیت بھی شرما جاتی ہے۔ گھر ہو یا مدرسہ، سکول ہو یا یونیورسٹی جب بھی ایک گھٹن زدہ ماحول میں پلنے والے کسی بھی فرد کو موقع ملتا ہے وہ حیوان بننے سے نہیں چوکتا اور پھر اپنے جرم کو چھپانے کے لئے وہ قتل جیسے جرم سے بھی نہیں گھبراتا۔

Read more

تعلیمی اسناد کی ویریفیکشن، ریاست کا اپنے نظام پر عدم اعتماد

برسوں پہلے پاکستان میں یہ سننے میں آیا کہ بہت سے لوگوں کو جعلی تعلیمی اسناد جاری ہو گئی ہیں اور یہ اچھا نہیں۔ سنجیدہ مسئلہ تھا اور حل یہ نکالا گیا کہ تمام اسناد کو ویریفائی کروایا جائے تاکہ درست اسناد قائم رہیں اور جعلی کاغذات کی روک تھام ہو۔ یہ کیا گیا اور اس کے بعد طالب علموں اور جاب حاصل کرنے والوں کو ڈگریاں ویری فائی کروانے کا کہا جانے لگا۔ بڑے تعلیمی اداروں میں داخلے سے پہلے اور بیشتر نوکریوں کے حصول پر یہ ڈگریاں ویری فائی کرائی جاتی ہیں۔ اب تو سننے میں آ رہا ہے کہ آئندہ ڈگری الگ ویری فائی ہو گی اور مارکس شیٹ الگ۔

Read more

اشفاق احمد: ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

داستاں گوئی بھی شاید زبان دانی کے جتنا ہی پرانا فن ہے۔ یا داستاں گوئی کا تعلق سفر و سیاحت کے ساتھ شروع ہوا کہ جو باہر کی دنیا دیکھ کر آئے وہ واپسی پہ اپنے سفر کی داستاں بیان کرتے یا پھر داستاں گوئی کا آغاز ماں کی اس لوری سے ہوا ہو گا جس میں وہ بچے کو مختلف حکایات سنا کر تربیت کا پہلو بھی پورا کرتی رہی۔

حکایت اور معانی خیز کہانی ہمیشہ ہی براہ راست نصیحت سے زیادہ کار گر ثابت ہوئی ہے۔ جیسے مولانا روم نے حکایات کا حوالہ دے کر مثنوی کے کئی باب منور کیے یا جیسے سعدی نے حکایات بیان کیں جس سے آج بھی استفادہ کیا جاتا ہے۔ ان کا حکایات کا اسلوب ایسا اثر انگیز اور دل پذیر ہے کہ پوری داستاں کا مطلب ’خلاصہ‘ نتیجہ اور پیغام پوری طرح سننے والے تک پہنچ جاتا ہے۔

Read more

احمد شاہ مسعود کی برسی: جب دو عرب نوجوانوں نے شمالی اتحاد کے سربراہ کو دھماکے سے اڑا دیا

شمالی اتحاد کے سربراہ اور ماہر گوریلا جنگجو کو 9 ستمبر کو ان کے ہی علاقے میں صحافیوں کے روپ میں آئے دو عرب خود کش بمباروں نے ہلاک کر دیا تھا۔

Read more

آزادی اظہار رائے۔ مذہب کی حساسیت۔ اختلافات فطری ہیں۔ شدت پسندی کا خاتمہ

لڑائیاں کہاں ہوتی ہیں۔ لڑائیاں ہمیشہ حساس معاملات پر ہوتی ہیں۔ ایسے معاملات جن سے حد درجہ ہمارے جذبات وابستہ ہوں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص میری ماں کو گالی دے گا، تو میں بغیر کچھ سوچے سمجھے اس کا گریبان پکڑ لوں گا۔ اور اس کی ایسی کی تیسی پھیر دوں گا۔ ایسا میں کیوں کروں گا۔ ایسا میں اس لیے کروں گا، کیوں کہ میری والدہ میرے لیے بہت خاص ہے۔ میرے اس سے بہت شدید جذبات وابستہ ہیں۔ ایسے جذبات جو میرے سوچنے سمجھنے کی قوت سلب کر لیتے ہیں۔

Read more

ناصر خالد: بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی

ناصر خالد کی والدہ ابھی 30 سال سے بھی کم عمر تھیں کہ ایک دن اچانک گھر کا کام کرتے ہوئے شوہر کی شہادت کی خبر آئی۔ شوہر پر دیوار گری، اور بیوہ پر آسمان۔ چار چھوٹے چھوٹے بچے گود میں لیے بے بسی کی تصویر بنی رہ گئی۔

Read more

کیپٹن محمد اقبال سے لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ تک

یہ سن 86 کی بات ہے، اس وقت غالباً میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا، جب فوج سے پہلا بھرپور تعارف ہوا۔ درسی کتابوں میں پڑھتے اور ٹی وی پر فوج کے متعلق دیکھتے آئے تھے لیکن یکایک ہمارے چھوٹے سے گاؤں کی فضائیں ایک شہید کے نام سے گونج اٹھیں۔ گاؤں کا ایک دلیر سپوت وطن کی مٹی پر قربان ہو گیا تھا۔ سیاچین کی برف پوش چوٹیوں سے سرفروشی کی یہ داستان پاکستان آرمی کے ذریعے ہمارے گاؤں پہنچی لیکن اس سے پہلے یہ انڈیا پہنچ چکی تھی۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سفید یخ برف کو اپنے گرم خون کی سرخ دھار فراہم کرتا کیپٹن اقبال دشمن پر اپنی دھاک یوں بٹھا چکا تھا کہ دشمن بھی تعریف کرنے پر مجبور ہوا۔

Read more

روبی بریجز: چھ سالہ سیاہ فام بچی جس نے امریکہ کی تاریخ بدل دی

چودہ نومبر 1960 ء امریکہ کی تاریخ کا یادگار دن تھا جب امریکی ریاست لیوزیانا کے شہر نیو آرلینز میں واقع ولیم فرنٹز ایلیمنٹری کے باہر کم از کم دو سو افراد کا مشتعل ہجوم جو والدین اور اس اسکول کے کمسن بچوں پہ مشتمل تھا اسکول کے باہر احتجاجی نعرے لگا رہا تھا۔ ٹو فور سکس ایٹ ۔ ۔ ۔ وی ڈونٹ وانٹ ٹو انٹیگریٹ two four six eight، we don ’t want to integrate ان کا کہنا تھا

Read more

یہ آواز کہاں سے آئی

مدت ہوئی نانی کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب جب بھی ان کی بات کرتی ہوں میں انھیں ایرانی نانی کہتی ہوں۔ نانی کو مجھ سے بڑی شکایت تھی کہ یہ لڑکی کبھی جو میرے پاس بیٹھ جائے۔ آئی ایک مکھی مار سلام کیا اور یہ جا وہ جا۔ وہ پنکھے سے مکھیاں ہلاتے یا غصے میں پنکھے کی ڈنڈی سے مکھی مارتے ہوئے کہتیں، جو کبھی نہ مری۔ میں سنی ان سنی کر جاتی۔ اب ان بڑی بی سے کیا

Read more

ساجد گوندل بازیابی کیس کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت: آنکھوں دیکھا حال

سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل بازیابی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ڈپٹی کمشنر عدالت کے روبرو پیش ہوئے جبکہ ایس ای سی پی کے لاپتہ افسر کے اہل خانہ بھی عدالت میں موجود تھے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا یہ عام کیس ہے؟عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔ دارالحکومت صرف

Read more

معذور افراد: گوچی کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی انسٹا پوسٹ کے پیچھے کن خواتین کا ہاتھ ہے؟

بی بی سی کی ہفتے وار سیریز ‘دی باس’ میں دنیا بھر میں کاروبار کرنے والی مختلف شخصیات کا انٹرویو کیا جاتا ہے۔ اس ہفتے ہم نے زیبدی مینجمنٹ کی بانی، لورا جانسن اور زوئی پروکٹر سے بات کی جو ایک ایسی ایجنسی چلاتی ہیں جو جسمانی اور سیکھنے سے معذور ماڈلز اور اداکاروں کی نمائندگی کرتی ہے۔

Read more

خواتین کی صحت: پاکستان میں زیادہ تر حاملہ خواتین آئرن کی کمی یا اینیمیا کا شکار کیوں ہوتی ہیں؟

پاکستان میں ستر فیصد خواتین اینیمیا کا شکار ہوتی ہیں اور ان میں پڑھی لکھی کھاتے پیتے گھرانوں کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

Read more

نوشابہ کی ڈائری 17: عظیم طارق کے قتل پر ہر ایک دکھی ہے

اس شہر کی قسمت میں شاید یہی ہے، مکمل سناٹا یا پھر گولیوں کی دل دہلاتی آواز۔ کئی مہینے ایسا سکوت رہا کہ آپریشن کرنے والوں کے امن قائم کردینے کے دعوے پر یقین آنے لگا تھا۔ ہم لوگ بندوقوں کی دھائیں دھائیں اور موت کی خبروں کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ کچھ دن گولی نہ چلے اور کسی کے قتل کی اطلاع نہ ملے تو طبیعت بے چین ہوجاتی ہے، لگتا ہے اب کچھ زیادہ برا ہونے والا ہے۔

ذیشان کو آنے میں ذرا دیر ہو جائے تو میں اور میری ساس پریشان ہوجاتی ہیں۔ ذیشان کچھ بدلے بدلے سے لگنے لگے ہیں۔ انھیں غصہ بہت کم آتا تھا، ہر وقت ہنساتے ہنساتے رہتے تھے، بے فکر، اپنی ذات اور میری اور گھر والوں کی محبت میں مگن، مگر اب خاموش اور بے زار سے رہتے ہیں، بات بات پر چیخ پڑتے ہیں، پھر معافیاں مانگ مانگ کر مجھے مناتے ہیں۔ جب انھیں پتا چلا تھا کہ باپ بننے والے ہیں تو کتنا خوش تھے، کبھی میرے لیے پھل لا رہے ہیں کبھی ناریل کا پانی ”پیو پیو، بچہ گورا ہوگا“ مجھے زبردستی پلاتے، خوش تو اب بھی ہیں، میرے کھانے پینے کا خیال بھی اسی طرح رکھتے ہیں، لیکن وہ بات نہیں۔ شاید وہ واقعہ ان پر بہت اثرانداز ہوا ہے۔

Read more

خدا کو خدا حافظ کہنے کے بعد

زیبا شہزاد کا ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے نام خط
آداب ڈاکٹر صاحب!
آپ کے کالم پڑھ کر جہاں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے وہیں جب آپ خود کو دہریہ لکھتے ہیں تو اس بارے جاننے کی آرزو ہوتی ہے کہ آپ دہریہ کیسے بنے؟ وہ کیا وجوہات تھیں جس نے آپ کو مذہب سے دور کیا۔ آپ اپنے کالمز میں بڑے فخریہ انداز خود کو دہریہ بتاتے ہیں وہی فخر جو کسی بھی مذہب سے منسلک افراد کو اپنے مذہبی ہونے پہ ہوتا ہے۔ آپ جب خود کو دہریہ لکھتے ہیں تو آپ کے لہجے سے کسی طرح کا ڈر یا خوف نظر نہیں آتا کہ آپ کے قاری یا آپ کے مریض اس بات کو کس طرح لیں گے۔

کسی بھی مذہب کو ماننا یا نہ ماننا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی دوسرا انسان اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ دہریہ لوگوں کو بھی اس معاملے خدا کے ذات کو تسلیم کرنے سے انکار میں اتنی ہی آزادی ہے جتنی کسی بھی مذہب کے ماننے والے کو، کوئی مسلم ہونا چاہتا ہے کوئی سکھ، کوئی عیسائی اور کوئی ہندو یا پھر کسی اور مذہب پر چلنا چاہتا ہے اس پہ جبر نہیں۔ کسی بھی مذہب کو ماننا یا نہ ماننا ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی دوسرا انسان اس سے یہ حق نہیں چھین سکتا کہ یہ اس کا خالص ذاتی معاملہ ہے۔

Read more

خالد حسینی کا ناول: اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

آج زیر مطالعہ ناول کانام ہے ’‘ A Thousand Splendid Suns ”جس کے مصنف ہیں خالد حسینی۔ یہ وہی خالد حسینی ہیں جو اس سے پہلے دی ’‘ کائٹ رنر“ جیسا معروف ناول دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ خالد حسینی ایک ڈاکٹر ہیں جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ شمالی کیلفورنیا میں رہتے ہیں وہ 1965ء میں کابل میں پیدا ہوئے ان کے والد ایک ڈپلو میٹ تھے اور ماں فارسی اور تاریخ پڑھاتی

Read more

اپنی کرپشن خود چھپاؤ

مردوں کی مالی بے ضابطگیوں پر گھر کی خواتین کی تصاویر اور ان کے نام اچھلتے دیکھ کر اتنا ہی دکھ ہوتا ہے جتنا ملازمت پیشہ، کاروبار کرنے والی یا کسی نہ کسی طرح سماج میں اپنی موجودگی کا ثبوت دینے والی خواتین کے لیے ‘دو نمبر عورت’ کا خطاب دیکھ کر ہوتا ہے۔

Read more

ایک واقعہ جس میں کرداروں اور جگہوں کے نام تبدیل کرنا پڑے

صدف، جس کی عمر پچیس سال تھی بچپن سے ماموں زاد کے نام مانگی ہوئی تھی۔ ماموں زاد پڑھنے کے لئے آسٹریلیا گیا اور ایک آسٹریلوی لڑکی سے شادی کرلی۔ یہاں صدف پر تو جو پہاڑ ٹوٹا سو ٹوٹا مگر ماموں زاد اور ماموں جان کی کم ظرفی تو یہ تھی کہ اس بات پر قائم تھے کہ صدف ابھی بھی ان کے گھر کی منگ ہے۔ خاندان میں سبکی نہ ہو، اس لیے صدف کی بیوہ ماں کو مجبور

Read more

محبت کی شادی، شہری دلہن اور دیہاتی ساس

میرے ایک اچھے دوست کی بہن جامعہ کراچی کے شعبہ فارمیسی کی طالبہ تھی۔ وہاں اس کی ایک اپنے ہم جماعت سے دوستی ہوئی اور لڑکے کے گھر والے لڑکی کا رشتہ لے کر اس کے گھر آئے، لڑکا پنجابی تھا اور اس کا خاندان پنجاب میں گاؤں میں مقیم تھا۔ لڑکی کے اہل خانہ ماڈرن خیال کے حامل لوگ تھے، انہوں نے تھوڑی سوچ بچار کے بعد ہاں کر دی اور لڑکے لڑکی کا ڈی فارم مکمل ہوتے ہی دونوں کی شادی کر دی گئی۔ اولاً لڑکی، لڑکے کے سائٹ کے علاقے میں بنے چھوٹے سے مکان میں منتقل ہو گئی۔

کچھ عرصہ گزرا اور لڑکا بے روزگار ہو گیا۔ اس ’دو ہنسوں کے جوڑے‘ کے لئے مشکلات بڑھیں۔ لڑکے کو فیصل آباد میں نوکری ملی۔ وہ وہاں نوکری کرنے چلا گیا اور اپنی بیوی کو میکے چھوڑ گیا۔ کچھ وقت گزرا اور وہ واپس آیا اور اپنی بیوی کو لے گیا۔ وہ سمجھی کہ شوہر اسے فیصل آباد لے جائے گا مگر اس کے برخلاف وہ اپنی بیوی کو اپنے گاؤں لے گیا جو فیصل آباد سے 2 گھنٹے کی مسافت پر تھا اور خود فیصل آباد میں رہنے لگا۔ اب لڑکی گاؤں میں تھی جہاں اس کی درجن بھر نندیں تھیں، دیور تھے، ایک دیہاتی قسم کی سخت گیر ساس تھی۔

Read more

خط ان مردوں کے نام جن کے لیے عورت بس گوشت کی دکان ہے

آداب عرض ہے!

ایسے تمام مردوں کو میرا آداب جو عورت کی عزت کرنا جانتے ہیں اور اسے جسم سے نکل کے اسے ایک مکمل انسان سمجھتے ہیں۔ اور ایسے تمام مردوں کو جو عورت کو سوائے گوشت کی دکان کے کچھ نہیں سمجھتے، میری طرف سے جواب ہے۔ اچھا گوشت کی دکان تو سمجھتے ہیں۔ مگر اس کے لیے بھی استعارے رکھے ہوئے ہیں۔ کم عمر ہے تو چکن۔ درمیانی عمر اور چھریرے بدن کی ہے تو چھوٹا گوشت۔ اگر زیادہ عمر اور جسامت میں بھاری ہے تو بڑا گوشت کہلائی جاتی ہے۔

آپ نے کبھی سنا کہ کسی عورت نے کبھی مردوں کے متعلق ایسے الفاظ کہے ہوں۔ کبھی کسی عورت نے مرد کو دیکھ کے فحش اشارے کیے ہوں۔ یا پھر بنا اجازت چھونے کی کوشش کی ہو۔ کبھی عورت نے کسی مرد کو گزرتے دیکھ کر اپنی ٹانگوں کے بیچ کھجانا شروع نہیں کیا۔ یہ خارش بس مردوں کو پڑی ہے۔ اور زئی بان (خارش کا ایک مرہم) سے بھی ٹھیک ہونے والی نہیں۔

Read more

اتر پردیش سے وولور ہیمپٹن تک: جسے لوگ پیدا ہوتے ہی دریا میں پھینک دینا چاہتے تھے وہ ’مچھلی‘ جال توڑ کر باہر آ گئی

دماغی فالج کی مریضہ کولی کوہلی تمام عمر اپنے خلاف تعصب کے رویے سے لڑائی لڑتی رہیں اور ساتھ ساتھ اپنے احساسات کو لفظوں میں پروتی رہیں۔ آج وہ ایک کامیاب شاعرہ ہیں۔

Read more

فلمی نقاد اعجاز گُل کی منتخب کردہ دس بہترین پاکستانی فلمیں

مشہور فلم نقاد اعجاز گل کے نزدیک یہ سبھی 10 فلمیں بہترین ہیں اور انھیں نمبر ایک یا دو تین کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق یہ تمام فلمیں ہر انداز اور طریقے سے ہماری فلمی تاریخ کا بہترین اور نہ بھلانے والا سرمایہ ہیں۔

Read more