خلیل الرحمن قمر سے پروفیسر رانا اعجاز تک

زیادہ دن نہیں گزرے کہ ہم اس بات پہ اپنے آپ سے شرمندہ تھے کہ ہم اس دور میں عمر تمام کرتے ہیں، جس میں خلیل الرحمٰن قمر اپنے منہ سے جھڑنے والے پھولوں کے ساتھ موجود ہیں۔ یقین جانیے ابھی وہی زخم ہرا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر رانا اعجاز احمد کی خبر سامنے ہو گئی۔  موصوف استاد کے رتبے پہ فائز ہیں لیکن نہ جانے کیسے زمینی حقائق سے نظریں چرا کے کسی یوٹوپیا میں بسیرا کیے

Read more

کورونا وائرس: لاک ڈاؤن نے میرے اسقاط حمل کو مزید درد ناک تجربہ بنا دیا

کورونا وائرس کی وجہ سے کئی حاملہ خواتین کو بہت ہی درد ناک تجربات سے گزرنا پڑا ہے۔ بی بی سی نے تین ایسی خواتین سے بات کی ہے جن کا حمل کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن کے دوران گر گیا تھا۔

Read more

صدف زہرہ نے خودکشی کی تھی: پولیس ذرائع

لاہور (فہد شہباز خان سے ) بلاگر علی سلمان علوی کی اہلیہ صدف زہرہ قتل کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صدف قتل کیس میں کسی قسم کے قتل کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق صدف زہرہ نے خودکشی سے پہلے نوٹ لکھا تھا۔ دو صفحات پر مشتمل خود کشی نوٹ انگریزی زبان میں لکھا گیا تھا۔

Read more

ممتازمفتی کی یاد میں

گیارہویں جماعت میں سب روایتی نوجوانوں کی طرح ڈاکٹر بننے کی کوشش میں چار و ناچار جتی ہم کچھ دوستوں کے ہاتھ لبیک لگی تھی۔ جس پر ہم سب کا گروپ ایمان لے آیا تھا۔ کالے کوٹھے پر براجمعان سفید نورانی چہرے کے ساتھ نمزدہ آنکھیں لیے بیٹھا اپنا اپنا سا لگتا رب دیکھ کرہماری محفل میں اک طوفان برپا ہو گیا تھا۔ ایف ایس سی کے دو سال فزکس کیمسٹری اور باییو کو رٹا لگانے کی بجائے ہم نے

Read more

بنائے لا الہ است حسین

اسلام کی تاریخ کا بغورمطالعہ کیاجائے تو اسلام کا بچپن جناب ابوطالب ؑ کی گود میں بہلتا نظر آئے گا، اسلام کی جوانی رحمتہ اللعالمین ﷺ کے دامن کی چھاؤں تلے آرام کرتی نظرآئے گی اوراسلام کا بڑھاپا مولاعلی ؑکے طاقتور بازوؤں کے آنگن میں سانس لیتا نظرآئے گا۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اسلام کو خود کو بچانے کے لئے حسین ؑجیسے لجپال کا سہارا اور پناہ لینا پڑی۔ حسین مولا کی زندگی پر طائرانہ نظرڈالیں تومعلوم

Read more

ریاست سویلینز کی ماں کب بنے گی؟

تین حروف کا مجموعہ لفظ ’ماں‘ ذہن میں آتے ہی ایسا فرحت بخش احساس پیدا ہوتا ہے جیسے تمام تکالیف سے چھٹکارا مل گیا ہو۔ جیسے تپتی دھوپ کے بعد اچانک گھنے سیاہ بادل دیکھ کر ہوتا ہے لیکن اگر ماں کے ساتھ لفظ ’سوتیلی‘ لگ جائے تو خوف، دکھ اور اضطراب کی لہر جھرجھری طاری کر دیتی ہے۔ یہ کرب وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے سوتیلی ماں کے جسمانی و ذہنی اذیتیں جھیلی ہوں۔ ریاست بھی ماں کے جیسی ہی ہوتی ہے جس کا کام رنگ و نسل کی تفریق کے بغیر سب شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوتا ہے۔ ایسا ماحول میسر کرنا ہوتا ہے جس میں شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی، یکساں عدل و انصاف اور مساوات دکھائی دے مگر جب ریاست شہریوں میں تفریق کرنا شروع کر دے تو ایسا طبقاتی فرق پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے انحطاط کا سبب بن جاتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ تہتر سالوں میں طبقاتی فرق بہت بڑھ چکا ہے اور ریاستی اکابرین کی جانب سے اسے زائل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش بھی نظر نہیں آتی۔

Read more

اداکارہ بپاشا باسو اپنے حاملہ ہونے کی افواہوں سے چڑتی کیوں ہیں؟

اداکارہ بپاشا باسو اپنے بارے میں پھیلنے والی افواہوں سے خاصی ناراض ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی ان کا وزن بڑھتا ہے ان کے بارے میں افوا پھیلا دی جاتی ہے کہ وہ ماں بننے والی ہیں۔

Read more

جب میرے والد کی میت نذر آتش کی گئی

(بعد از مرگ نذر اتش کئے جانے کے بارے میں وصیت پر ن۔ م۔ راشد کی بیٹی، یاسمین حسن کے تاثرات) 9 اکتوبر 1975، مانٹریال (کینڈا) کی ایک خاموش صبح تھی۔ میں اور میرے شوہر فاروق باورچی خانے کی میز پہ بیٹھے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے اور قریب ہی کھیلتے اپنے بچے کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب میری انگریز سوتیلی ماں شیلا تھیں (جن سے میرے والد نے امی کی وفات کے

Read more

گوگل کے سندر پچائی اور رومالی روٹی

جہاز کا اندرونی منظرکسی خلائی شٹل کا تھا۔ غزنوی کی تڑپ رکھنے والے خطوط کی مالکن تمام فضائی میزبان سفید رنگ کے کاغذی پیرہن میں ملبوس تھیں۔ چہرے پر حفاظتی شیلڈ، منھ پر ماسک کا ڈھاٹا اور چشم بے باک پر آویزاں چشمہ جس کی جھری کو بائی پاس کرکے مہلک جرثومے تو کیا پاکستان کے کس مولوی کی بری سے بری گستاخ نظر بھی پار نہ جا سکے۔ آپ نے اگر بزنس یا فرسٹ کلاس کا ٹکٹ خریدا ہو

Read more

خواجہ سراوں کو معاشرے کا حصہ بنانے میں حق وارثت کی اہمیت

پاکستان میں عدم مساوات ایک بڑا مسئلہ ہے۔ خواجہ سرا کمیونٹی زیادہ عدم مساوات کا شکار ہے۔ خواجہ سرا سماج سے الگ تھلگ رہنے پر مجبور ہیں۔ یہی نہیں خواجہ سراوں کو کمیونٹی کے اندر بھی استحصال کا سامنا رہتا ہے۔ غربت اور تنگ دستی کے باعث بھیک مانگنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ بھیک کی کمائی سے بھی انہیں گرو کو حصہ دینا پڑتا ہے۔ سب سے بڑا ظلم کہ خواجہ سراوں کے اپنے والدین، بہن

Read more

عامل کا آسیب اور مامتا

ایک مرتبہ میری بھولی ماں مجھے ایک عامل کے پاس لے کر گئی جس نے مجھے اپنے سامنے بیٹھنے کا کہا اور پھر اپنی پتلون کی جیب سے ایک شاخ نکالی اور اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس کی پیمائش کرنے لگا اور پھر اسے میرے چہرے کے سامنے لہراتے ہوئے مجھ سے آنکھیں بند کرنے کا کہا، میں نے ویسا ہی کیا پھر اس نے شاخ کو اپنی ہتھیلی پر رکھا، جو اچانک سے چند انچ لمبی ہو کر

Read more

مریم واقعی مریم ہے

وہ آیا اس نے دیکھا اور وہ چھا گیا پتہ نہیں کس نے کب اورکس لیے کس کے حق میں ایسا کہا۔ لیکن اگر آج وہ کہنے والا زندہ ہوتا تو وہ ضرور کہتا وہ آئی اس نے دیکھا اور وہ چھا گئی۔ وہ صرف ایوانوں میں ہی نہیں چھائی وہ دلوں پر بھی چھا گئی اور دماغوں کی حکمران بن گئی اس کا لڑکپن بھی آزاد گزرا تو اس کی جوانی آزمائش میں چلی۔ آزمائشیں آنا کوئی بڑی بات

Read more

صوبہ خیبرپختونخوا میں سیلاب کی صورتحال: ’میرے بچے چیختے رہے مگر میں انھیں بچا نہیں سکا‘

سوات میں پیر جان کا گھر گذشتہ ہفتے سیلاب ریلے میں بہہ گیا۔ اس وقت ان کے گھر میں خاندان کے 11 افراد موجود تھے۔ ان کا بڑا بیٹا وطن لوٹنے پر اسی صدمے میں ہے۔

Read more

مقدس بیوہ

شدید گرمی اور حبس بھرے دن کی سہ پہر اچانک تیز ہوا چلنی شروع ہو گئی اور بادل چھا گئے۔

ہوا کے پہلے جھکڑ کے ساتھ ہی بجلی بند ہو گئی، میرے چھوٹے سے آفس کے کمرے میں گھپ اندھیرا چھا گیا اور کمپیوٹر آف ہو گئے، میں نے سلائیڈ ہٹا کر باہر جھانکا اور صورتحال کا اندازہ کرتے ہی اپنے ماتحتوں کو کہا، چلو بھئی بند کرو سب کچھ، اگر بارش ہو گئی تو ہم یہیں پھنس جائیں، جی سر بس نکلتے ہیں۔ ایک بولا، وہ تینوں باری باری چلے گئے، میرا اپنا، ایک ذاتی سافٹ وئیر ہاؤس ہے، تین افراد میرے ماتحت ہیں، بلکہ ماتحت نہیں میری دوست اور کولیگز ہیں، میں ایک کم گو فطرت کا حامل فرد ہوں، مجھے زیادہ شور شرابا اور بکھیڑے پسند نہیں ہیں، نہ ہی زیادہ دولت کمانے کا شوق ہے، میرے خیال میں زندگی لطف اٹھانے کے لئے ہے، اس لیے نہیں کہ اس کو زیادہ دولت کمانے کے جنون میں، کسی عہدے کے حصول کے لئے یا انسانوں کے لئے برباد کیا جائے، سو میں اپنی محدود زندگی میں خوش و مطمئن ہوں۔

Read more

باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں

مجھے نہیں پتا ماں زیادہ قابل احترام ہے یا باپ۔ دونوں کی حثیت بہت سی کتابوں کہانیوں میں مختلف دیکھی گئی ہے۔ فرمان الہی ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ لیکن فرمان رسول بھی ہے کہ قبولیت میں باپ کی دعا کو اولیت حاصل ہے۔ لہٰذا کوئی ترازو ان دونوں کی محبت کو تول نہیں سکتا اور نا ہی کوئی حتمی فیصلہ دے سکتا ہے۔ لیکن شاعر اور ادیب ماں کی محبت میں محبوب کی محبت جیسے

Read more

مائیکل فلپس کی حیران کن داستان حیات

مائیکل فلپس کے بارے میں پاکستان کے لوگ زیادہ نہیں جانتے۔ مائیکل فلپس اس زمین کا وہ انسان ہے جس نے اس زمین پر سب سے زیادہ میڈلز جیت رکھے ہیں۔ مائیکل فلپس کی حیرت انگیز موٹیویشنل داستان سننے سے پہلے چینل کو سبسکرائب کر لیں اور بیل آئیکن بھی پریس کر لیں۔ اور دل تھام کے یہ کہانی سنیں ہو سکتا ہے کہانی کے اختتام پر آپ کو بہت کچھ مل جائے۔ مائیکل فلپس 1985 میں امریکی ریاست بالٹی

Read more

نچلے درجے کے ملازم کیا برابر لیبر رائٹس نہیں رکھتے؟ قسط نمبر چوبیس

بسمہ کافی تھک گئی تھی مگر منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھانے اور لیٹنے کے دوران مسلسل اس کا دماغ سوچوں سے گھرا رہا۔

بختاور نے اس کے لیے کہا کہ اس کی شخصیت مثبت زیادہ ہے۔ جبکہ اسے آج کل اپنا آپ بالکل منفی لگ رہا تھا۔ وہ اپنی شخصیت کے برعکس گھر والوں سے لڑتی جھگڑتی تھی۔ جو کما رہی تھی صرف خود پہ خرچ کر رہی تھی۔ گھر میں کوئی مسئلہ ہو کوئی بیمار ہو وہ بالکل بے حس بن جاتی تھی۔ اپنے طور پہ وہ انہیں احساس دلانا چاہ رہی تھی کہ انہوں نے اس کے ساتھ جو کیا غلط کیا۔ مگر آج وہ دوبارہ اپنے رویے کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ بڑے بھیا صرف اس کی وجہ سے الگ رہ رہے تھے۔

Read more

دادی اماں کا دن

اب اماں اور ابا کا دن مناتے ہیں تو دادی کا دن منانا بھی ضروری تھا۔
میں شگفتہ پھولوں کا گلدستہ لے کر ان کے گھر اور پھر ان کے کمرے میں پہنچی تو وہ سنگھار میز کی دراز میں کچھ سٹر پٹر کر رہی تھیں، یعنی کوئی ایسی چیز ڈھونڈ رہی تھیں جو وہاں نہیں تھی کیونکہ انھوں نے وہاں رکھی ہی نہیں تھی۔ اب کھوئی یادوں اور چیزوں کو ڈھونڈتے رہنا ہی ان کا مشغلہ رہ گیا تھا۔ بہرحال میں نے ان کے کمزور کانوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ذرا اونچی آواز میں کہا۔ ”دیکھئے دادی اماں میں آپ کے لئے پھول لائی ہوں۔“

Read more

محرم کی سبیل اور میری انگوٹھی والی انگلی

غالباً میں پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور گرمیوں کی چھٹیاں اپنے ننھیال ہی گزارتا تھا۔ یہ ان برسوں کی بات ہے جب محرم الحرام کا مہینہ بھی گرمیوں کی چھٹیوں یعنی مئی جون میں آتا تھا۔ گاؤں میں محرم شروع ہوتے ہی مٹی کی چھوٹی چھوٹی ”ڈولیاں اور بادیاں“ بیچنے والے آ جاتے اور ہم ان سے ایک ایک دو دو روپے کی ڈھیروں ڈولیاں بادیاں خرید لیتے۔ یہ مٹی کی چھوٹے چھوٹے ایک ایک ہاتھ کے گاگر اور پرات نما برتن ہوا کرتے تھے گاگر یا گھڑا نما چھوٹی سی گھڑولی کو ڈولی اور پرات نما چھوٹی سی تھالی کو بادی کہا جاتا تھا۔

Read more

دو بار یتیم ہونے والا بچہ اور نفرت کی مار

میں گرینج ولیج نیویارک کے جیفرسن مارکیٹ کی لائبریری کے اندر ایک بینچ پر بیٹھا ہوا احمد کا انتظار کر رہا تھا۔ راستے سے ہی میں نے نیویارک ٹائمز کا تازہ شمارہ بھی لے لیا تھا جس پر اچٹتی ہوئی نظر ڈالتا، پھر لائبریری، اس کا احاطہ اور وہاں آنے جانے والے چہروں کو دیکھتا بھی جا رہا تھا۔ انہیں آتے جاتے چہروں میں مجھے وہ نظر آئی تھی۔ اس نے عبایہ تو نہیں پہنا ہوا تھا مگر اس کا سر ڈھنپا ہوا تھا، جیسے آج کل کچھ مسلمان لڑکیاں اپنے سر اور سر کے بالوں کو چھپا کر رکھتی ہیں۔ جیسے ہی میری نظر اس پر پڑی مجھے لگا کہ میں نے اسے کہیں دیکھا ہے۔ گندمی رنگ، کتابی چہرہ، دبلا جسم وہ لائبریری کے بڑے دروازے سے میری نظروں کے سامنے داخل ہو رہی تھی۔

برسوں پہلے گرینج ولیج کے علاقے پر جنگ کے بعد ولندیزیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ یہ لوگ اپنے ساتھ سیاہ فام افریقی غلاموں کو لے کر آئے تھے اور دریائے ہڈسن کے ساتھ اس زرخیز زمین پر انہیں کاشتکاری کرنے پر لگادیا تھا۔ سونا اگلتی ہوئی وہ زمین آج بھی سونا ہی اگل رہی ہے۔ 1644 میں ولندیزیوں نے گیارہ افریقی غلاموں کو آزاد کر دیا تھا اور زمین کے کچھ حصے انہیں دے دیے تھے۔ 1666 ء میں انگریزوں نے ولندیزیوں کو شکست دے کر یہاں قبضہ کر کے گرینج ولیج کی داغ بیل ڈالی تھی۔

Read more

بے گھروں کے گھر

شام کے پونے سات بجنے کو ہیں۔ مجھے گھر آئے قریب پونے دو گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اس وقت ٹانگیں اور پیر یوں تھک چکے ہیں جیسے انہیں کبھی آرام نصیب ہی نہ ہوا ہو۔ سائیڈ ٹیبل پر دھرے لیمپ کی مدھم پیلی روشنی بھی اب ٹمٹمانے لگی ہے۔ لگتا ہے بلب فیوز ہونے والا ہے۔ یوں تو مجھے اٹھ کر لیمپ بجھا دینا چاہیے لیکن میرے جسم کی تھکان مجھے مفلوج کیے بیٹھی ہے۔ آج بہت تھک گئی ہوں۔ کئی میل پیدل چلی ہوں۔ کیوں چلی ہوں؟ مجھے نہیں معلوم۔ رات کا کھانا بنانا ہے لیکن جسم و جان غالباً ہر قسم کی ہمت سے جواب دے چکے ہیں۔

Read more

کیا ہم اپنے بچوں سے جھوٹ بولتے ہیں؟

میری ایک کینیڈین مریضہ جینیفر جب پچھلے ہفتے مجھ سے ملنے آئیں تو وہ بہت اداس تھیں۔ کہنے لگیں میری دس سالہ بیٹی کیرن مجھ سے دس دن سے ناراض ہے۔ میں نے جینیفر سے وجہ پوچھی تو کہنے لگیں کہ کیرن کہتی ہے کہ آپ ساری عمر مجھ سے جھوٹ بولتی رہی ہیں۔ آپ جب ہر سال مجھے کرسمس کے موقع پر تحفے دیتی تھیں تو کہتی تھیں کہ وہ تحفے میرے لیے سانتا کلاز لے کر آیا ہے۔ اب مجھے پتہ چل گیا ہے کہ سانتا کلاز ایک بہت بڑا جھوٹ ہے، بہت بڑا ڈرامہ ہے، بہت بڑا فراڈ ہے۔ اب میں سوچتی ہوں کہ اگر آپ نے میرے ساتھ سانتا کلاز کے بارے میں جھوٹ بولا ہے تو نجانے اور کتنی باتوں میں جھوٹ بولا ہوگا۔

Read more

کراچی پر اور کتنی ڈرامے بازی ؟

یہ جو پچھلے چند روز سے کراچی کی حالتِ زار پر مرکز سے صوبے تک ہر فیصلہ ساز ماتمی اداکاری کر رہا ہے۔ یہ تماشا ہم اہلیانِ کراچی کئی عشروں سے سالانہ بنیاد پر دیکھتے آ رہے ہیں۔اب تو سب کچھ ایک پھٹیچر اسکرپٹ جیسا لگنے لگا ہے۔ پہلے منظر میں شدید بارش ہوگی۔شاہراہوں اور گلیوں میں پانی جمع ہو گا۔میڈیا کے کیمروں کی چاندی ہو جائے گی اور ریٹنگ کی آنکھ سے چھ انچ اونچا پانی بھی چھ فٹ

Read more

قادر بخش المعروف ’قادو مکرانی‘: انگریز سرکار کے لیے ’سرکش ڈاکو‘ مگر عوام کے لیے ’وطن کا رکھوالا‘

قادو مکرانی انگریز سرکار کے لیے ’سرکش ڈاکو‘ جبکہ مقامی لوگوں کے لیے وطن کا رکھوالا اور امیروں سے دولت لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرنے والا تھا، یہ ہی وجہ ہے کہ کاٹھیا واڑ کے لوک گیتوں میں آج بھی قادو مکرانی کا نام زندہ ہے۔

Read more

مردانہ بانجھ پن: کیا، کیسے اور کیوں؟

ایک مرد اور دو عورتیں! ہمیشہ کی طرح وہی مثلث، اور ہمارا کلینک! شوہر بیوی اور ساس! صاحب، ہمارا مسئلہ کچھ اور ہے- ہمیں عورت کی شکم سیری اور سر پہ چھت کے عوض وہ تازیانے نہیں قبول جو مالک اپنا حق سمجھتے ہوئے اپنی ملکیت پہ برساتا ہے۔ کاش میں وہ منظر ان تمام لکھاریوں کو دکھا سکوں جنہیں عزت سے سر اٹھا کے زندگی گزارنے کی خواہش اور ” ظالم مرد کی برابری” میں فرق معلوم نہیں۔ اس

Read more

پولیس اصلاحات ضروری مگر کیسے؟

جب شعور کی وادی میں قدم رکھا تب ایک سوال ہمیشہ ذہن پر دستک دیتا رہا کہ اس ملک میں جتنی عزت خاکی وردی کی ہے اتنی کالی وردی کی کیوں نہیں؟ اس ملک کے ادیبوں، دانشوروں شاعروں اور گلوکاروں نے اپنے فن کا جادو صرف خاکی وردی کے لیے ہی کیوں جگایا؟ پولیس کے ساتھ سوتیلا رویہ کیوں روا رکھا گیا؟ کسی ادیب دانشور، قلم کار، شاعر یا گلوکار کی اس طرف توجہ کیوں نہیں گئی؟

دوسرا سوال یہ تھا کہ پولیس فرنٹ پر لڑتی ہے۔ پولیس کے پاس وسائل بھی نہیں ہوتے اس کے باوجود اس کے جوان ہتھیار نہیں پھینکتے، بھاگنے کی بجائے موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ قوم ان سے نفرت کیوں کرتی ہے؟ یہ مر جائیں تو لوگ دکھی کیوں نہیں ہوتے؟ ان کے لیے کوئی آنسو بہانے والا کیوں نہیں ہوتا! قوم کے اس سلوک خاص کی وجہ کیا ہے؟

Read more

باجوہ گھرانے کا کاروبار اور تحقیقاتی کمیشن کی ضرورت

‎نورانی تحقیقاتی رپورٹ کا ہدف ریٹائرڈ جرنیل اور اس کے اہل خانہ نہیں، مسلح افواج کا ادارہ ہے جس کی وجہ سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی ساکھ بھی داؤ پر لگ گئی ہے، جن کا جنرل عاصم سلیم باجوہ سے رشتے داری کا دور نزدیک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بھارتی اور امریکی کلاکار اس پر بغلیں بجا رہے ہیں اور ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ‎معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں کہ دو سطری تردید

Read more

کابل یونیورسٹی میں استاد کی طالبہ کے بچے کو امتحان کے دوران دودھ پلانے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

گذشتہ ہفتے کو کابل یونیورسٹی کے استاد کی ایک طالبہ کے چار ماہ کے بچے کو امتحان کے دوران بہلانے کی تصویر کی سوشل میڈیا صارفین تعریف کرتے ہوئے اسے افغانستان میں 2020 کی بہترین تصویر قرار دے رہے ہیں۔

Read more

کورونا وائرس کے باعث حفاظتی ٹیکوں کی سرکاری مہم میں خلل: ‘کورونا سے نہ گھبرائیں بچوں کو حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں‘

کورونا وائرس نے جہاں دنیا بھر میں معاشی اور معاشرتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے وہیں اس کے باعث بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں بھی خلل پڑا ہے جبکہ پاکستان میں ان پروگرامز کو بحال کیا جا چکا ہے۔

Read more

جاپانی عورت اور پیار کی تلاش

سب سے پہلے تو اپنے اس پرانے دوست کا ایک فرضی نام رکھ لیتے ہیں۔ جواد گھانچی۔ گھر والے دوست سبھی اسے جاجو پکارتے تھے۔ سو بہتر ہے آپ بھی اسی نام کو یاد رکھیں۔ نوے کی دہائی میں لپک جھپک میں جاپان جا پہنچا تھا۔ یہاں لیاری کی ایک پانچ منزلہ بلڈنگ کے دو فلور والے گھر میں دس بھائی اور کئی سو بھابھیاں رہتے تھے۔ ماں زبردست عورت تھی مگر اس کے باوجود ان گھروں میں ہر وقت

Read more

عارف فاروقی نے سب کھو دیا

زندگی پھولوں کی سیج نہیں یہ ہم سب سن چکے ہیں مگر ہماری خدا سے ہمیشہ یہ دعا رہی کہ اللہ ہمیں ہر مصیبت سے بچائے اور وہ عطا کرے جس میں دینی اور دنیاوی سکون ہے۔۔۔ آج دل بہت اداس اور گھٹن محسوس ہو رہی ہے۔ 22 مئی جمعہ المبارک کو طیارہ حادثے نے یہ سوچنے پر مجبور کیا انسان کی چاہ اور اللہ کی چاہ میں فرق کیا ہے۔۔۔ بہت سی جانیں گئیں کئی خاندان اجڑ گے۔ ہم

Read more

سنگین دیوار

چھ مہینہ بعد آج میں اپنے گاؤں واپس آیا ہوں۔ یہاں داخل ہوتے ہی کیا دیکھتا ہوں کہ وہ سڑک جس کے دونوں طرف ہمارا گاؤں آباد ہے اس کے ٹھیک بیچوں بیچ ایک قد آدم دیوار کھڑی ہے۔ میں اپنے گھر آ گیا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ میں نے اپنا بیگ پیک ایک ٹیبل پر ڈال دیا اور اپنے بائیں ہاتھ کی کلائی سے گھڑی نکالتے ہوئے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ ارے اس کمبخت دیوار نے

Read more

انصر چوہدری کا مذہب اور سابقہ خاندان

مختلف عمروں کے چند بچے، بھاگ کر آئے اور اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئے۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے لفافے ایک ایک بچے کا نام لے کر اسے تھمانے شروع کیے ۔ یہ اس کا خاندان تھا۔ اور یہ اس کا گاؤں تھا۔ مگر وہ یہاں نہ پیدا ہو ا تھا اور نہ یہ بچے اس کے کچھ لگتے تھے۔ وہ کون تھا؟ اس کی پہچان گم گئی تھی یا یہی اس کی پہچان تھی۔ یہ بچے۔

Read more

سائیں ظہور احمد کا حق ادا کیا جائے

گزشتہ روز حسب معمول اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اچانک ایک ایسی خبر پر نظر پڑی جس سے پڑھنے کے بعد دل افسردہ ہو گیا۔ پاکستان کے مشہور صوفی گلوکار سائیں ظہور احمد کے بارے میں رپورٹ تھی کہ حکومت پاکستان ان کے ساتھ ہاتھ کر گئی۔ خبر کچھ یوں تھی ”وفاقی حکومت سائیں ظہور کو ایوارڈ کی امید دلا کر بھول گئی، سائیں ظہور کی جگہ ایوارڈ کسی اور کو دے دیا گیا“ ۔ سائیں ظہور کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ ڈویژن نے ایوارڈ کی نامزدگی کا خط لکھا اور بتایا گیا کہ ان کا نام ایوارڈ کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ وقت آنے پر انہیں ایوارڈ نہیں دیا گیا بلکہ ان کی جگہ کسی اور کو ایوارڈ دے دیا گیا ہے۔

Read more

شکاگو کا ویلنٹائین ڈے قتل عام اور ماں کے ہاتھ کی بنی ایپل پائی

چند سال قبل میں اور بڑے بھائی ڈاکٹر شفیق احمد ان کے گھر کے پچھواڑے چھوٹی سی ندی کنارے بنی بارہ دری میں بیٹھے چائے پیتے گپ مار رہے تھے۔ کہ بات خدا تعالی کی معجزانہ حفاظت کی طرف چلی گئی۔ اچانک بولے۔ کیا تم نے شکاگو کے ویلنٹائین ڈے قتل عام کا سنا ہے۔ عرض کیا سرسری پڑھا ہے, تفصیل نہیں معلوم۔ ۔ ۔ تو چلئے تھوڑی سی آگاہی آپ کو بھی دوں تاکہ اس کہانی کا پورا لطف

Read more

اشکومن خاص میں محکمہ برقیات کا مرکزی واٹر چینل: موت کا کنواں

اشکومن خاص میں محکمہ برقیات کی مرکزی واٹر چینل کو غالباً 1980 کی دہائی میں پن بجلی پیدا کرنے کی غرض سے بنائی گئی تھی۔ یہ چینل فیض آباد اور داؤد آباد گاؤں کے درمیان سے گزر کر داؤد آباد میں واقع مرکزی واٹر ٹینکی میں پانی سٹور ہو کر پاور ہاؤس میں ٹربائن چلانے کے کام آتا ہے۔ چونکہ یہ واٹر چینل لنک روڈ فیض آباد کے ساتھ بنی ہوئی ہے، اور لوگوں کے گھروں کے بالکل درمیان سے

Read more

محبت اور سرمایہ داری

دودھ سی سپید رنگت، سحر انگیز سرمئی آنکھیں، جبین نور افشاں، لب کہ شگفتگی گل سے مزین، گیسو کہ مشک ختن، سیمیں بدن کہ عالم کی بہاریں نثار ہوں، شیریں سخن کہ شہد کی مٹھاس پھیکی پڑنے لگے، غنچہ دہن کہ گل و گلاب اسے دیکھ سر جھکانے لگیں۔ بے رخی، کج ادائی اسے زیب دیتی تھی۔ زندگی اس پر نثار ہوا کرتی تھی۔ ماحول سے بے نیاز، آنکھوں میں طلوع آفتاب سے پہلے کے وقت کی چمک لئے، بے

Read more

حسین علیہ السلام سب کے

شجاعت میں مثل جناب علی کرم اللہ وجہہ، عباس علیہ السلام جیسا جری سپہ سالار لشکر، اذن جنگ مل جاتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ لیکن وقت کے امام نے اس کو ایک جنگ کے بجائے معرکۂ حق و باطل رہتی دنیا کے لیے قائم رکھنا تھا۔ اور آج تک جہاں حق کا ذکر ہو وہاں فلسفۂ حسینیت کی پکار سنائی دیتی ہے اور جہاں باطل کی پہچان کی جانی مقصود ہو اسے یزیدیت سے پہچانا جاتا ہے۔ چھ ماہ کے علی اصغر علیہ السلام کے گلے کو تین منہ کے تیر نے چھلنی کیا تو اس کے بعد کیا یزیدیت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں ہوا؟

جناب قاسم علیہ السلام کا سرزمین کرب و بلا میں ٹکڑے ہو جانا، علی اکبر علیہ السلام جیسے کڑیل جوان کے سینے میں برچھی کا اتر جانا، عون و محمد علیہم السلام اجمعین کی بچپنے کو شکست دیتے ہوئے داد شجاعت دینا۔ حبیب ابن مظاہر علیہ السلام جیسے پر خلوص دوست کا آواز امام حسین علیہ السلام پہ لبیک کہنا، دربار یزید میں بنت علی سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ، کیا یہ سب آج کے دور میں مشعل راہ اب نہیں رہا؟ کیا کردار امام حسین علیہ السلام اور اصحاب حسین علیہ السلام آج کے دور میں زندگیوں میں نکھار لانے کے لیے کافی نہیں؟ دلوں کو شفاف، پاکیزہ کرنے کے لیے کربلا کا پیغام کافی نہیں؟ بالکل کافی ہے۔ لیکن حقیقتاً ہم آج حسینیت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

Read more

کربلا یوں بسائی جاتی ہے: یہ ہمارے ابا نے بتایا

گھڑی کی سوئیوں کی تیزی کے ساتھ، اس کے چمکتے شیشے میں اپنا عکس دیکھتی ہوں تو مجھے اپنی ماں نظر آتی ہے اور سر جھکائے غور و فکر میں غلطاں اپنے شوہر کو دیکھتی ہوں تو مجھے ان میں ان کے ابا کی شباہت نظر آتی ہے۔ اپنے ماں باپ سے لاکھ اختلاف کے باوجود گزرتا وقت ہمارے چہرے میں ان کی شباہت ہی نہیں لاتا، عادت و اطوار بھی ان سے لگا کھانے لگتے ہیں۔ ماں کی عظمت

Read more

ایک باپ کو کیسا ہونا چاہیے

ہمارے معاشرے میں والدین اولاد کی شادی تو کر دیتے ہیں۔ مگر وہ اولاد کی اس نہج پہ تربیت نہیں کرتے۔ کہ بطور زوجین اور بطور والدین ان کو کیسا ہونا چاہیے۔ میاں بیوی کا رشتہ کیسا ہونا چاہیے۔ اس پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ لکھا جاتا ہے۔ اور ہم سب کہیں نہ کہیں لکھتے رہتے ہیں۔ مگر بطور والدین ہمیں کیسا ہونا چاہیے۔ بچہ پیدا کرنے سے لے کر اسے بڑا کرنے تک ہماری کیا ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ ہمیں معاشرے کو ایک صحت مند اور باشعور شہری دینا ہے۔ تو اس کے لیے ہمیں کن باتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ہمیں کن باتوں پہ عمل کی ضرورت ہے۔

میں ہمیشہ سے جب بھی کسی باپ کو اپنی اولاد سے محبت برتتے دیکھتی تھی۔ تو میرے ذہن میں ایک سوال ہوتا تھا۔ میرا باپ کہاں ہے۔ بچپن میں گلی میں کھیلتے جب اچانک سے بچوں نے پوچھ لینا کہ تمہارے ابو کہاں ہیں۔ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ ہوتا تھا۔ مجھے یہ تو پتہ تھا کہ میرا باپ زندہ ہے۔ مگر وہ کہاں ہے۔ یہ سمجھ نہ آتی تھی۔ کراچی گلشن اقبال کی روڈز پہ کتنی کتنی دور تک میں اپنے باپ کو ڈھونڈھنے کی کوشش میں پھرتی رہتی تھی۔ گھر پہنچتی تو ماں سے مار الگ پڑتی۔ مگر میرے سوال کا کوئی جواب نہ دیتا۔ (بروکن فیملی چائلڈ کو جواب کم ہی ملتے ہیں ) ۔

Read more

مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری

دمشق میں پہلا دن، پہلا کام مزار اقدس بی بی زینب پر حاضری کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ ہوٹل سے نکلتے ہی طلائی گنبدوں کی چمک نے آنکھوں کو خیرہ کیا۔ روضہ مبارک میں داخل ہونے سے قبل ایک آواز کانوں میں گونجی تھی۔ ”خدا کی راہوں میں شہادت پانے والے لوگ کبھی فنا نہیں ہوتے۔“ حضرت زینب۔ عفت و عصمت کی تصویر۔ صبر ورضا کا پیکر۔ خاتون جنت کی لخت جگر، علی المرتضیٰ کی آنکھوں کا نور۔ زینب

Read more

میرے بچپن کا محرم کہاں چلا گیا؟

پلٹ کر آدھی صدی پیچھے دیکھتی ہوں تو اپنے بچپن کا کراچی اور اس کے تیج تہوار بانہیں پھیلائے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ماہِ محرم کی یاد سے وابستہ کہیں سبیلوں کے جگمگاتے ہوئے مٹی کے کورے گھڑے تو کہیں تعزیہ کی جھلملاتی پنیوں سے مزین مہمان کربلا کے روضے کی یاد میں آباد عقیدت کی ایک دنیا۔ میرے بچپن کا ابتدائی زمانہ جس محلے میں گزرا وہ ملیرکالونی میں بی ایریا کا آخری محلہ تھا جو” فاروق آباد” کہلاتا

Read more

نفرت انسان سے ہے جرم سے نہیں!

ایک انسان میں اندھا پن اس وقت پیدا ہونے لگتا ہے جب اسے اپنی ہر چیز مکمل دکھائی دینے لگتی ہے۔ انسان فطری طور پر محبت پسند ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا میں ہر سو انسان کی لگائی ہوئی نفرت کی آگ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ہر جانب قتل و غارت، جنگ و جدل، لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد، معاشرہ برائیوں کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔ اخلاقیات نام کی کوئی چیز نہیں رہی

Read more

فوزیہ رفیق کے پنجابی ناولٹ ”کیڑو“ کا ایک جائزہ

پاکستان میں کتنی مذہبی گھٹن ہے، کتنی تنگ نظری ہے اور کتنی منافرت ہے اس کا اظہار فوزیہ رفیق نے اپنے پنجابی ناولٹ ’‘ کیڑو ”میں کیا ہے۔ فوزیہ رفیق کینیڈا میں رہتی ہیں۔ اس سے پہلے ان کا پنجابی ناول سکینہ بھی سنجیدہ حلقوں میں پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ فوزیہ رفیق ایکٹیوسٹ ہیں انگریزی زبان میں ارٹیکل لکھتی ہیں جو کینیڈا میں شائع ہوتے ہیں۔ اس ناول کا عنوان کیڑو یعنی کیڑے یا حشرات الارض ہے جو ایک

Read more

گنگا جمنی تہذیب اور محرّم

ابھی میں ”ہم سب“ میں ایک کالم پڑھ رہی تھی محرم کے حوالے سے اور ذکر تھا ”پیک“ کا۔ پیک یا پائک کے ذکر کے ساتھ مجھے چونتیس برس پہلے کا اپنا ہندوستان کا پہلا محرم یاد آگیا، یوں جیسے بھولی بسری کسی ڈائری کا پرانا ورق الٹ جائے۔ میں مشرقی یوپی کے چھوٹے سے شہر بلرام پور میں ہوں۔ سال ہے انیس سو پچاسی اور مکان ہے ”کوٹھی سید صاحب“ جس کے مرکزی حصے میں ہم رہتے ہیں اس کے اطراف ہندؤوں اور مسلمانوں کے ملے جلے مکانات ہیں۔

Read more

الیکشن انجینئرنگ؟

بلدیاتی نظام کے خاتمے سے قبل ہی سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آ رہی ہے، کیونکہ ہر سیاسی جماعت نچلی سطح پر من پسند ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتیاں کروانے کی کوشش کررہی ہے، اس طرح انہیں ترقیاتی کام کروانے کے علاوہ بلدیاتی انتخابات میں بھی مدد فراہم ہوگی۔ یہ مسئلہ صرف کراچی کا نہیں بلکہ پاکستان کے طول عرض میں ہوتا ہے، اس قسم کے معاملات کو عموماً الیکشن انجینئرنگ بھی کہا جاتا ہے، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ

Read more

بلاول بھٹو اور عمران خان کے نام ایک غیر خوشامدی کھلا خط

پاکستان بننے کے بعد جناح کا زندہ جوہر سیاست صرف ذوالفقار علی بھٹو ہے، جس کی سیاسی فرزندی کا خواب مدینہ اور جواب کوفہ سے مشابہ ہے۔ مدینہ کا خواب حسینیت کی تڑپ بن کر زندہ رہتا ہے اور جواب کوفہ ابن زیاد کی عداوت بن کر اوجھل ہو جاتا ہے۔ اسلامی سیاست کا جوہر زمین کربلا کا ستارہ بن کر چمکتا ہے اور سیاسی اسلام کا زور تیور زینب کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے سامان دربار سمیت ڈھیر ہو جاتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے کانگریس چھوڑ کر اور اس کے مقابل خم ٹھونک کر مسلم لیگ کی طرف آ کر اس کی سیاسی قیادت سنبھالی۔ ذوالفقار علی بھٹو ایوبی اقتدار سے بغاوت اپنا کر اور اس کے نظام سیاست و حکومت کے لیے چیلنج بن کر اپنی قیادت میں نئی پارٹی سامنے لائے۔ کلید اقتدار اس وقت تھمائی گئی جب ملک شکست خوردہ اور قوم ماتم کناں تھی۔ فوج بے دست و پا؛ نظام بے آئین اور ملکی بقا بھارتی خطرات کی پیش قدمی سے دوچار تھی۔

Read more

نظام صحت کے مسائل کی تشخیص اور علاج

خدا کا نام جس شدت اور کرب سے سرکاری ہسپتالوں کی راہداریوں میں لیا جاتا ہے، شاید ہی کسی مسجد، مندر یا کلیسا میں لیا جاتا ہو۔ یہ شدت تو شاید ہمارے جذبۂ ایمان کا مظہر ہے لیکن اس کرب کی وجہ یقینی طور پہ عوام کو درپیش وہ مسائل ہیں جو ناکافی اور غیر معیاری طبی سہولیات سے جنم لیتے ہیں۔

اسی راہداری کے ساتھ ایک کمرے میں نظام صحت کسی ازلی بیمار کی مانند آکسیجن لگائے پڑا کراہ رہا ہے۔ نظام کے بستر کے آس پاس شاہی طبیبوں اور نوکر شاہی کی فوج ظفر موج گھیرا ڈالے کھڑی ہے۔ کسی کے خیال میں نظام کو بدانتظامی کی بیماری لاحق ہے، کوئی فنڈز کی کمی کو مورد الزام ٹھہراتا ہے تو کوئی ڈاکٹرز میں سیاست کو تمام مسائل کی جڑ قرار دیتا ہے۔ چنانچہ کوئی بورڈ آف گورنرز کا انجکشن تجویز کرتا ہے، کسی کے نزدیک ہیلتھ انشورنس کی گولی ہی نظام کو بچا سکتی ہے اور کوئی پی ایم ڈی سی کا آپریشن کرنے کو آخری حل سمجھتا ہے۔

Read more

کچھ الفاظ ادھار دے دیں

کل رات خواب میں ملک جہانگیر اقبال صاحب کو فون کیا اور ان سے درخواست کی کہ مجھے کچھ الفاظ ادھار دے دیں۔ جہانگیر صاحب پہلے تو ہچکچائے کہ کیا چاہیے؟ میں نے کہا الفاظ ادھار چاہیے۔ کون سے الفاظ؟ کیسے الفاظ؟ میں نے کہا وہ الفاظ جن سے غم کا اظہار لکھا جاتا ہے۔ وہ میری بات سمجھ گئے اور سمجھانے لگے کہ جس طرح دکھ ادھار نہیں نا دے سکتے اسی طرح الفاظ بھی ادھار نہیں ملتے۔ اپنے

Read more

ڈاکٹر عطیہ ظفر: نہ بھلا سکوں جسے عمر بھر…

فروری 2020ء میں اماں کو خالق حقیقی سے ملے ہوئے چھ سال بیت گئے۔ کئی دفعہ سوچا کہ اماں کے لیے کچھ لکھوں مگر ہمت ہی نہ پڑی کہ اماں سے ڈانٹ نہ پڑ جائے۔ اماں کو برا نہ لگ جائے، اماں کو تکلیف نہ ہو، ایسا ہی رشتہ تھا ہم لوگوں کا اماں کے ساتھ۔ اماں کی ناراضگی ناقابل برداشت مگر اماں کے ساتھ ہنسنا بولنا مذاق کرنا، ہنسی ٹھٹھے لگانا بھی ناممکن۔ جیسے آپ کسی کی پوجا کرتے

Read more

نفسیاتی عدم توازن کا کرب

شاید تین یا چار سیڑھیاں باقی تھیں کہ ساس کی بوڑھی مکروہ کھانسی کی آواز سے اس کا دماغ بج اٹھا۔ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے قدم رک گئے۔ کھانسی کی بوڑھی جادوگرنی نے پھر دانت بجائے۔ اوپر چڑھنے والے قدم واپسی کے لیے مڑ گئے۔ آہٹ کم ہونے لگی۔

شبانہ کا خوش گوار احساس سے دھڑکتا دل۔ ۔ ۔ زور زور سے اتھل پتھل کرنے لگا۔ دماغ میں نفرت اور غصے کا سیاہ دھواں بھر گیا۔ دل چاہا، دو چھال مارکر یہ گیارہ سیڑھیاں عبور کرے اور بڑھیا کا گلا دبا کر۔ ۔ ۔ قصہ ہی پاک کر دے لمحے بھر میں۔ پھر اس کے منحنی سے، دبلے پتلے بیٹے کو نیچے سے اوپر اٹھا کر دو چار گھمیریاں، پٹخنیاں دے کر، اس کی چھاتی پر چڑھ کر بیٹھ جائے۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ اور

Read more

مردوں کی دنیا میں عورتوں کا گاڑی چلانا

مان لیا حضور، عورت بنی ہی اسی لئے ہے کہ اس پہ پھبتیاں کسی جائیں، حظ اٹھایا جائے، ایک آنکھ میچ کے، قہقہہ لگا کے! ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں کہ معاشرے کے طرز عمل سے واقف ہیں۔ یہی تو سنتے، سہتے زندگی کی منزلیں طے کرتے ہوئے اس عمر تک آن پہنچے ہیں۔ قلم اٹھانے پہ اس لئے مجبور ہوئے ہیں کہ دل پہ چوٹ سی لگی ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے بھی

Read more

یاد رکھیں! تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے

ہمارے ہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں کسی بھی بڑے حادثہ کا ہونا یا کوئی بھی بڑا واقعہ کا رونما ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ ہمارے ہاں اس ریاست میں حق اور سچ کی بات کہنا کسی گناہ سے کم نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہاں اندھیرا ہے جہالت ہے لاقانونیت ہے یہاں جنگل کا قانون ہے۔ یہاں ہمیشہ حق کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔ یہاں جو اپنے حق کے لئے آواز بلند کرتا ہے

Read more

اور آخر ابا مر گیا!

آج 21 اگست 2020ء ہے اور یکم محرم بھی۔ آج کے دن ہماری سماجی و سیاسی زندگی کا ’حاصل‘ رزق خاک ہوا۔ وہ اپنے قریبی دوستوں میں ’ابا‘ کہلاتا اور اس پر ناز بھی کرتا تھا۔ ہماری مادر علمی یعنی جامعہ کراچی نے یکم جولائی 1982ء کو گویا پہلی بار ہمیں ابا کے درشن کرائے۔ وہ نئے تعلیمی سال کا پہلا دن تھا اور ہم نوواردان جامعہ کراچی کا بھی جامعہ کراچی میں پہلا قدم۔ ایک عجیب منظر تھا سلورجوبلی

Read more

ظلم دیکھ کر خاموش رہنے والوں کے نام

اس ابلاغ کے طوفان نے ہم سے ہماری اقدار، اخلاق، روایات یہاں تک کہ ہمارا نظریہ یا نقطہ نظر تک چھین لیا ہے، آج ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ کسی سانحہ، کسی واقعہ کسی المیہ پر ہم نے کیا ردعمل دینا ہے بلکہ ہم لاشعوری طور تقلید اور تعمیل کر رہے ہوتے ہیں ہیں اس عفریت کی جو آزاد میڈیا یا آزادی اظہار کے نام پر ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ جو مسلسل ہمارے عوام کی ذہن سازی

Read more

کیا حضرت عیسی بلوچ تھے؟

اس جملے پر آدھا پاکستان معترض ہوا۔ جن خاتون نے یہ ”منقول“ کیا، یعنی خود نہیں لکھا، ان کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی بپا کر دیا گیا۔ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا بلوچ کہنا یا ہونا اتنی بری بات ہے کہ اگر یہ پوچھ لیا جائے تو توہین مذہب کا ارتکاب ہو جاتا ہے؟ دوسرے کیا اس منقول مزاح کو کوئی باشعور اور حساس پاکستانی واقعی مزاح یا مذاق سمجھ سکتا ہے؟ ”اٹھا لیا جانا“ ۔۔۔ اس اصطلاح

Read more

سیاست کا جغرافیہ (قسط چہارم )

محل وقوع، موسم اور باشندوں کے بعد اس قسط میں سیا ست کی اقسام پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔ سیاست کی اقسام اہل مغرب حکومت کرنے کے فن کو سیاست کہتے ہیں۔ عرف عام میں سیاست، رسو ا ئے زمانہ اصطلاح ہے جسے ہیرا پھیری، دروغ گوئی، وعدہ شکنی، منافقت وغیرہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ کچھ ڈیمو کریسی، کچھ ارسٹوکریسی، کچھ آٹو کریسی توکچھ محض ہیپو کریسی تصور کرتے ہیں۔ ماضی کے ایک بزرگ سیاستدان سے صحافیوں نے پوچھا

Read more

جوائنٹ فیملی سسٹم کے مضر اثرات

جوائنٹ فیملی سسٹم مشرقی روایات کا امین ہے۔ لیکن ہم اپنی سوچ اور رویوں کی وجہ سے اپنی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو یقیناً بے سکونی کا باعث بھی ہیں جہاں جوائنٹ سسٹم کے بہت سارے فائدے ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ کسی کا تجربہ اچھا رہتا ہے اور کسی کا برا۔ سب کی سوچ مختلف ہوتی ہے ’حالات و واقعات مختلف اور اسی طرح تجربات بھی۔ بزرگوں کے وجود سے گھر میں جہاں سکون ہوتا

Read more

ڈاکٹر رشید جہاں: انگارے والی یا سراپا چراغ؟

” ڈاکٹرنی نے مجھ سے میری عمر پوچھی میں نے کہا بتیس سال۔ کچھ اس طرزسے مسکرائی جیسے کہ یقین نہ آیا۔ میں نے کہا، مس صاحب آپ مسکراتی کیا ہیں؟ آپ کو معلوم ہو کہ سترہ سال کی عمر میں میری شادی ہوئی تھی اور جب سے ہر سال میرے ہاں بچہ ہوتا ہے۔ سوائے ایک تو جب میرے میاں سال بھر کو ولایت گئے تھے اور دوسرے جب میری ان سے لڑائی ہو گئی تھی۔ اور یہ دانت

Read more

میرا شاگرد حیات بلوچ اور اگست کا جشن ماتم

چھ یا سات سال پہلے تربت کے ایک نجی اسکول میں دوران تدریس شہید حیات بلوچ سے واقفیت ہو گئی تھی۔ اپنے کئی سال کے تدریسی تجربہ کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ یہ ہم بلوچوں کی خوش قسمتی ہے (بد قسمتی بھی کہہ لیں ) کہ ہمارے بچوں کی اکثریت اپنی ذمہ داریوں اور حالات سے واقف ہے، اس لئے جسمانی بلوغت سے کچھ پہلے ہی ذہنی طور پر بالغ ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی ذمہ دار اور ذہنی طور پر بالغ طالب علموں میں سے ایک شہید محمد حیات بلوچ تھا۔

Read more

ہمارے بچوں کو جینے دیا جائے

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہوئے یہ لازم ہو چکا ہے۔ کہ آپ اپنی آنکھیں اور کان بند رکھیں۔ کچھ بھی ہو جائے۔ کسی سانحے کسی واقعے پہ آواز نہ اٹھائی جائے۔ ورنہ آپ کو کون کب کہاں لے جائے۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔ بطور پاکستان کی شہری میں بالکل چپ رہ سکتی ہوں۔ مگر میں کیا کروں۔ کہ میں ایک ماں بھی ہوں۔ ماں ہوں تو اولاد کے لیے فکر مندی شاید میری رگوں میں دوڑتی ہے۔ اولاد

Read more

جندر: اختر ر ضا سلیمی کا ناول

ناول ”جندر“ ازل سے ابد تک کی کہانی ہے، جس کی ابتدا اس روز ہو چکی تھی، جب حضرت آدم علیہ السلام نے گندم کا پہلا دانہ چبایا تھا۔ یہ کہانی رو زمین پر انسان کے قدم دھرتے ہی شروع ہوئی اور روز قیامت صور پھونکے جاتے تک چلتی رہے گی۔ گندم کا پہلا دانہ کھا کر انسان نے اپنے وجود کو چکی کے دو پاٹوں بیج دے کر اپنی روح کو تار تار اور اپنے جسم پر موجود گوشت

Read more

حسینیت کی تلاش میں امام حسین ؑ کا ایک سفر

امام حسین ؑنبی پاک ﷺکے چھوٹے نواسے ہیں۔ آپؑ ہجرت نبی ﷺکے بعد مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ نبی پاک ﷺخود بھی حضرت امام حسینؑ سے بے پناہ محبت فرماتے اور اپنی امت کو بھی امام حسین ؑسے محبت کا درس دیتے۔ آپ ﷺنے امت کی تربیت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ”جس نے حسین ؑسے محبت کی گویا اس نے مجھ سے محبت کی۔ اور اجس نے حسینؑ سے بغض رکھا اس نے گویا مجھ سے بغض رکھا۔ امام حسینؑ

Read more

آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا

میں دو دہائی اور پانچ سال کا ہو گیا تھا۔ اتنی مدت گزارنے کا مطلب یہ ہوا کہ میں وثوق سے کہہ سکتا تھا کہ یقیناً میں ایک ماضی کا اکلوتا مالک ہوں۔ بالکل آزاد پنچھی تھا۔ اپنی مرضی کا مالک۔ کوئی پابندی نہ قید۔ سوچا زندگی میں کوئی ہنگامہ ہونا چاہیے۔ سفر سے اچھا اور کیا کارنامہ ہو سکتا ہے؟ ابھرتی جوانی تھی۔ صحت اچھی تھی، دل میں جذبہ اور جوش تھا، گھر بار کا کوئی بوجھ نہ تھا۔

Read more

بلوچستان کی آہ۔۔۔

حیات بلوچ سے اس کی حیات جس بیدردی سے چھینی گئی اس بارے میں لکھنے کے لئے کئی دنوں سے سوچ رہا تھا لیکن مجھے حیات کی لاش پر نوحہ کناں اس کی اٹھی، لرزتی ہوئی اور اشکوں سے بھری کمزور آنکھیں جہنوں نے حیات کے لئے ایک کامیاب حیات کے خواب دیکھے تھے کو دیکھ کر لکھنے کے لئے الفاظ بڑی مشکل سے ملے۔ اور ان ریزہ ریزہ خوابوں کو سمیٹنے کے لئے حیات کے سرہانے بیٹھے حیات کے

Read more

حیات بلوچ کو انصاف کون دے گا؟

شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ مگر جب ریاست میں موجود خون آشام درندے خود ہی شہریوں کو لوٹنے کا باعث بنیں تو وہ ریاست رہنے کے قابل نہیں رہتی۔ آج آپ پاکستان بھر میں سروے کر لیں، حب الوطنی کا دعوی کرنے والے تو بہت مل جائیں گے لیکن اگر ان کو امریکہ، کینیڈا یا یورپ کے کسی ملک کا ویزہ مع مستقل رہائش مل جائے تو وہ یہاں

Read more

نایاب سیاسی نسل کے سیاستدان کی جدائی!

وطن عزیز میں نایاب ہوتے ہوئے سیاسی نسل کا ایک مثبت حوالا میر حاصل بزنجو خضدار سے تقریباً 60 کلومیٹر دور اپنے آبائی گاؤں نال میں اپنی دھرتی ماں کی گود میں ہمیشہ کے لیے سو گیا۔ ماضی قریب میں ایوانوں کے اندر جو نظریے، اصول، اور کمزور طبقات کی سیاست کرنے والی دو چار بڑی آوازیں رہی ہیں میر حاصل بزنجو کا شمار ان میں ہوتا ہے۔ حاصل بزنجو نان سویلین طاقتوں سے عوامی طاقت اور سیاسی مہارت سے

Read more

پناہ مانگتا ہوں بلوچ ماں کے سوال سے

کبھی بیٹے کو غلط اور برا نہیں کہتی۔ ماں کہتی ہے، میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔ اسے دوستوں نے گمراہ کیا ہے، دل کا بہت اچھا ہے۔ میرا بیٹا نیک ہے۔ میرا بیٹا مجرم نہیں ہے۔ میرے بیٹے کو برا نہیں کہو۔۔۔۔ اگر بیٹے کو تکلیف دی جائے  تو ماں بھوکی شیرنی کی طرح لپکتی ہے ۔۔۔ دنیا میں کوئی بندوق ایسی نہیں بنی جو ماں کو خوف دلا سکے۔ کوئی بم ایسا نہیں بنا جس سے ڈر کے ماں بچے کے گرد اپنی شفقت کی بانہہ ہٹا لے

ماں بیٹوں کی سب سے بڑی وکیل ہے۔

Read more

کیا اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری ہے؟

ایک شام مجھ جیسے پاپی کو ایک نیک اور پارسا دوست فاطمہ کا فون آیا۔ موسم کی حرارت اور ڈونلڈ ٹرمپ کی گمراہ کن قیادت کی شکایت کے بعد کہنے لگیں

”آج میں آپ سے ایک سنجیدہ سوال پوچھنا چاہتی ہوں“

”فرمائیں۔ جو سوال چاہے پوچھیں“ میں نے جواب دیا

کہنے لگیں، آپ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ایک پکی مسلمان ہوں۔ میں خدا، پیغمبروں، آسمانی کتابوں، قیامت اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتی ہوں۔ میرا مذہب زندگی کے ہر موڑ اور ہر موقع پر میری رہنمائی کرتا ہے اور میں ایک اچھی مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔ لیکن وہ تمام لوگ جو کسی خدا اور مذہب پر ایمان نہیں رکھتے وہ نیکی بدی، اچھے برے، خیر و شر میں کیسے تمیز کرتے ہیں؟ آپ کے خیال میں کیا اخلاقیات کے لیے مذہب ضروری ہے؟

Read more

گ گبھرو گم شدہ، س سوال سوختنی

نوبل انعام بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں ملنا شروع ہوا۔ ٹالسٹائی، مارسل پراؤست، جیمز جوائس اور فرانز کافکا کو نہیں ملا۔ اناطول فرانس کو مل گیا۔ یہ بھی اچھا ہوا، برا نہ ہوا۔ پہلے چار ناموں کے بغیر بیسویں صدی کے فکشن پر بات نہیں ہو سکتی۔ اناطول فرانس کا نام بھی اب مشکل ہی سے کسی کو یاد رہا ہو گا۔ ایک صدی پہلے البتہ اناطول فرانس کا طوطی بولتا تھا۔ مصنف کا طوطی بولے تو مدرس اور

Read more

چین میں شادیاں اور بڑھاپے میں طلاقیں

چین کے پرانے جاگیرداری معاشرہ میں والدین اپنے بچوں کی شادیاں طے کرتے تھے اور اگر کوئی لڑکی شادی کی عمر کو پہنچنے کے باوجود کنواری رہتی تھی تو والدین خاص طور پر ماں احساس جرم میں مبتلا ہو جاتی تھی اور جب تک اپنی لڑکی کے لئے بر نہیں ڈھونڈ لیتی تھی، اس کا کھانا پینا حرام ہو جاتا تھا۔ ویسے بھی اپنے بچوں کی شادیوں کا فیصلہ کرنا والدین کا نا قابل تنسیخ حق سمجھا جاتا تھا اور اکثر وہ اولاد کی مرضی معلوم کیے بغیر من مانے فیصلے بھی کیا کرتے تھے۔

اگر اولاد اپنی من مانی کرتی تھی تو اسے ناخلف قرار دیا جاتا تھا۔ بہر حال آزادی کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی اور نئے عائلی قوانین میں فریقین کواپنے شریک حیات کے براہ راست انتخاب کی آزادی حاصل ہے اور اب والدین کو اپنے بچوں کی شادی کے فیصلے کا مکمل اختیار نہیں رہا۔ والدین کی اکثریت مشاورتی کردار ادا کرتی ہے گو کہ کچھ دور افتادہ پسماندہ علاقوں میں ابھی بھی ایسا نہیں ہوتا۔

Read more

مرے ہوئے شوہر کا پرس

امی کے چہرے پر بکھرے ہوئے غصے اور نفرت نے ان کی اداسی اور غم کی کیفیت کو مکمل طو پر زائل کر دیا تھا۔ یہ میرے لیے عجیب وغریب تجربہ تھا۔ گزشتہ ایک سال سے میں انہیں مسلسل پریشان، اداس اور مغموم دیکھ رہی تھی۔ ہم دونوں بہنوں کو اندیشہ ہوگیا تھا کہ خدانخواستہ انہیں کچھ ہونہ جائے، ہر وقت روتے رہنا۔ آنسوؤں کی جھڑی تھی جو بہتی ہی رہتی تھی۔ پانی کا سمندر تھا جو ابلتا ہی رہتا

Read more

حیات بلوچ کی ”حیاتی“ ماورائے عدالت چھین لی گئی

برسوں بڑے مان سمان سے پال پوس کر جوان کیے خواب دیکھتی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دکھائی دیں تو جس اذیت، کرب اور درد سے واسطہ پڑتا ہے اسے لفظوں کا جامہ پہنانا بھلا کہاں ممکن ہے؟ ماں باپ کی آنکھوں کے سامنے جب بے گناہ جوان شیر ”دہشتگرد“ کہہ کر ”محافظ“ پھڑکا ڈالیں بتلائیے تب والدین کے دکھ کو بھلا قلم کی زبان سے بیان کیا جا سکتا ہے؟ ارادہ باندھ رکھا تھا کہ لکھنے لکھانے کا سلسلہ چند

Read more

کراچی: ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

ساٹھ کی دیہائی میں کراچی پاکستان کا دارلخلافہ ہونے کے علاوہ سارے مشرق وسطی اور مشرق بعید میں بیروت کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت اور ماڈرن شہر تھا۔ جدید ہوٹلوں کی کثرت تھی۔ جدید ترین سینما ہاؤسز تھے۔ تمام ملکوں کی ائرلائنز کی پروازیں کراچی میں اترتی تھیں اور ان سب ائرلائنز کے دفاتر بھی کراچی میں موجود تھے۔ ساٹھ کی دیہائی میں تو پاکستان کا واحد پاسپورٹ آفس بھی کراچی میں ہی ہوا کرتا تھا اور انٹرنیشنل ہوائی

Read more

حیات بلوچ قتل: قصہ ختم نہیں ہوا

نوجوان حیات بلوچ کی افسوسناک شہادت کے بعد ایک بار پھر باوردی اہلکاروں کے اختیارات اور ان کے احتساب کا طریقہ کار زیر بحث ہے۔ یہ واقعہ ہمیں اسی طرح کے ماضی کے واقعات کی یاد دلاتا ہے، ان واقعات پر بھی خوب شور مچاتھا، لیکن شور تھمنے اور توجہ ہٹنے کے بعد پس پردہ ان واقعات میں ملزمان کو تحفظ دینے کے لیے کیا گیا اس سے آج بھی اکثر لوگ بے خبر ہیں۔ حیات بلوچ کے معاملہ میں

Read more

ظلم اتنا کرو جتنا برداشت کر سکو

وہ دھرتی جس کی خاطر ہمارے اجداد نے جان ومال اور جائیدادوں کی قربانی دی اور پھر بھی خوش تھے کہ ہم نے ا پنا ایک ملک پالیا ہے۔ اور جس پر آتے ہی انہوں نے اپنی جبینوں سے شکرانے کے سجدے ثبت کیے تھے۔ آج اس دھرتی ماں کو ہمارے لیے سوتیلی ہی نہیں بلکہ کالی ماتا بنا دیا گیا ہے جو ہر وقت ہمارا خون پینے پر تیار ہے۔ جن بیٹوں اور بھائیوں کے شانہ بشانہ ہم نے

Read more

راجہ تری دیو رائے نے مجھے شرمندہ کر دیا

مقررہ دن اور وقت پر ہماری فائنل ملاقات شروع ہوئی اور ان کی خواہش پر لائبریری سے حاصل کردہ کتاب، میں نے انھیں تھما دی اور وہ میری لائی ہوئی کتاب پڑھنے میں محو ہوئے اور میں ان کا چہرہ! دراصل وہ ایک مختصر دورانیہ کا پروگرام تھا جو مہاتما بدھ کے حوالے سے منایا جانے والے Festival of Lights کے موقع پر، 1980 کی دہائی میں تیار کیا جانا تھا۔ عام طور پر ایسے پروگراموں کے لئے، سکرپٹ رائٹر

Read more

حیات بلوچ: چراغٍ حیات کی لو مدہم تو نہیں ہوئی

13 اگست 2020ء کے دن گیارہ اور ساڑھے بارہ بجے کے درمیان کا وقت ہے۔ تربت کے نواحی علاقے آبسر میں سردار عبدالرحمن کے کھجور کے باغ میں مرزا بلوچ اس کی اہلیہ اور بڑا بیٹا تپتی دھوپ اور شدید گرمی میں درختوں سے کھجوریں اتارنے کا کام کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر مرزا بلوچ کولوہ کے رہنے والے تھے لیکن عرصہ ہوا تربت منتقل ہو چکے تھے۔ انتہائی غریب محنت کش اور مفلس مرزا بلوچ کے چار بچے

Read more

اشفاق احمد کی "ماما سیمیں” اور ہمارے بچے

اسی کی دہائی میں نشر ہونے والا ڈرامہ "ماما سیمیں” دیکھا تو بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے نقطۂ نظر کو جانچنے کے لئے تھا لیکن احساس کا کوئی لمحہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے پہ مجبور کر گیا۔ "کیا ہمارے بچوں نے بھی یہی سوچا ہو گا؟ اسی طرح ماما طاہرہ کو برا بھلا کہا ہو گا جب وہ کبھی ہسپتال، کبھی سہیلیوں سے ملاقات اور کبھی دوسرے ملکوں کو روانہ ہو جایا کرتی تھیں”۔ بیسویں صدی غروب ہونے

Read more

اسلام آباد کا چڑیا گھر اور بلوچستان کا مقتل

جب سے تصویر دیکھی ہے ایک ماں اپنے بیٹے کی لاش سامنے رکھے ہاتھ اٹھا کر کرب اور رنج و الم کی تصویر بنی آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے، مجھے گمان ہوا کہ شاید آسماں اس شکوے کی تاب نہ لا سکے اور پھٹ پڑے، اذیت، رنج، حسرت، الم اور بے بسی اس ماں کے چہرے پر جم سی گئی ہے۔ اس ماں کے چہرے پر جو وحشت، جو ملال ہے اس کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے

Read more

نوشابہ کی ڈائری: الطاف حسین کو پیرصاحب کہنے لگے ہیں

20 جولائی 1989 ء منگنی کیا ہوئی لگتا ہے زندگی ہی نئی نئی سی ہوگئی ہے۔ پتا نہیں انگلی میں پہنی انگوٹھی زیادہ چمکتی ہے یا اسے دیکھ کر میری آنکھیں، ہر لمحہ اس انگوٹھی کے سنہرے پن میں رنگ گیا ہے۔ بھابھی نے جب ذیشان کی تصویر دکھائی تو سچی بات ہے دل پورے زور سے دھڑکا تھا، مگر زبان سے یہی کہنا پڑا تھا کہ ”نہیں نہیں مجھے ابھی شادی نہیں کرنی“ اپنی بات تو نبھانا تھی نا،

Read more

کاش حیات ہم میں زندہ رہے

ہمیں موت کا ادراک نہیں کہ اس کی وحشت دراصل ہوتی کیا ہے۔ موت کا ادراک ہوگا بھی کیسے جب اس کا مزہ چکھا نہیں اور جب چکھ لیا تو ادراک کی وقعت کیا رہ جائے گی؟ موت کا اندازہ شاید مر کر ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن اس کا ستم ہی یہی ہے کہ ادراک کے باوجود کچھ کیا نہیں جا سکتا۔ زندگی کی اصل قیمت تو مر کر ہی معلوم ہوتی ہوگی۔ آپ ریاستی طاقت اور حب

Read more

حیات بلوچ کاقتل۔ یہ بربریت کب تک․․․؟

انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی یہ تصویر ایک بلوچ خوبرو نوجوان حیات بلوچ کی لاش کی تصویرہے جو کئی دنوں سے سوشل میڈیا پرزیر گردش ہے۔ تربت میں سڑک پر اوندھے منہ پڑی حیات بلوچ کی خون میں لت پت لاش کے پاس ایک طرف ان کابوڑھا باپ بیٹھا ہوا ہے اور دوسری طرف لاش کے پہلومیں بیٹھی ان کی بوڑھی ماں آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے گریہ کررہی ہیں۔ حیات کی اس بوڑھی ماں کو بھی

Read more

کملا ہیرس کی نامزدگی اور پاکستانی

انڈین ماں اور جمیکن باپ کی بیٹی کملا ہیرس کو آج ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے آئندہ امریکی انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لئے باقاعدہ نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ صدر کے لئے جو بائیڈن کو نامزد کیا گیا ہے کملا ہارس کی نامزدگی سے انڈین کمیونٹی بہت خوش ہے جبکہ کمیلا ہیرس انڈیا بلکہ جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والی پہلی فرد ہیں جو امریکی نظام مملکت میں اس درجہ تک پہنچی ہیں، اس میں

Read more

سچا سعادت، جھوٹی طاہرہ

شادی کو تین سال ہی ہوئے تھے۔ ضرورت تو نہیں تھی لیکن ماں کے اصرار پر سعادت نے اپنا اور طاہرہ کا چیک اپ کروا لیا تھا۔ رپورٹ آنے کے بعد سعادت نے طاہرہ کو منع کر رکھا تھا، کسی کو نہ بتائے کہ بے اولادی کا سبب سعادت ہے۔ طاہرہ اس کی محبت میں ایک ہاتھ آگے بڑھ گئی۔ سعادت کی ماں نے جب رپورٹ کی بابت پوچھا تو طاہرہ نے بتایا کہ سعادت بالکل ٹھیک ہے جب کہ

Read more

دو پاٹن کے بیچ

میرے بیٹے علی نے ہمیشہ کی طرح اپنا سکول بیگ شاپ کے ایک کونے میں پٹخا اور سٹول کھینچ کر میرے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے بھی اپنا معمول کا سوال دہرایا۔  ’’کھانا کھا لیا تھا؟‘‘ حقیقت یہی ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کے کھانے پینے کے بارے میں ہمیشہ متجسس اور فکرمند رہتی ہے۔ چاہے بچہ جتنا مرضی صحت مند اور ہٹا کٹا ہی کیوں نہ ہو؟ اب بچہ رہا بھی نہ ہو مگر اسے ہمیشہ یہی لگتا

Read more

بانو قدسیہ پتی بھگتی، اشفاق احمد پتنی بھگت کیوں نہیں؟

نیلم احمد بشیر نے پنڈورا باکس کھولاہے یا ایک ایسی پٹاری کا ڈھکن اٹھا دیا ہے جس میں برسہا برس کے خوابیدہ سوالات کلبلا کلبلا کے پھن پھیلا رہے ہیں۔ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کی تحریروں کی آئیڈیل عورت! کون ہے وہ آخر؟ بے جان، گونگی، ستی ساوتری، سر جھکائے، نگاہیں نیچی رکھے، اپنی خواہشات سے بے نیاز، ممتا کے شیرے سے لتھڑی، پتی ورتا، جی حضوری میں باکمال، لب پہ قفل لگائے، قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار،

Read more

زندگی اور موت کے فیصلوں میں طبی اخلاقیات کے سوالات

یہ سرمئی کے کئی رنگ کا دوسرا حصہ ہے۔ انٹرنل میڈیسن کی بورڈ رویو کانفرنس میں‌ جا کر یہ معلوم ہوا کہ پچھلے دس سالوں‌ میں‌ میڈیسن میں‌ کتنی تبدیلیاں‌ آچکی ہیں۔ ایتھکس کا لیکچر کافی دلچسپ تھا۔ اس میں‌ کئی نوعیت کے کیس ڈسکس کیے گئے جن میں‌ سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ امید ہے کہ یہ کیسز قارئین کو سوچنے پر مجبور کریں‌ گے۔ سوال: آپ کی ایک 16 سال کی مریضہ ایک روٹین وزٹ کے لیے آئی

Read more

عصمت آپا

(21 اگست کو اردو ادب کی پہلی جون آف آرک محترمہ عصمت چغتائی کا 109واں یوم پیدائش ہے۔) عقیل عباس جعفری نے جب مجھ سے عصمت چغتائی کے حوالے سے کچھ لکھنے کو کہا تو میں انکار نہ کرسکی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ نثر میرا میدان نہیں ہے، میں نے ان سے وعدہ کرلیا۔ میں قلم لے کر بیٹھی تو عصمت آپا جیسے میرے سامنے آبیٹھیں۔ محسوس ہوا کہ آنکھیں سکیڑے مسکرا رہی ہیں۔ وہی گہری معنی خیز مسکراہٹ۔

Read more

"پہل اس نے کی تھی” کیوں لکھا گیا؟

کسی کی نثری و شعری تخلیق کو علمی ادبی تناظر سے دیکھنا پڑھنا اور اس کی نئی جہتیں جو پڑھتے محسوس ہوں اسے دیگر قارئین کے سامنے لانا گویا کتاب لکھنے سے زیادہ کٹھن کام ہے اور ایسے امور کو ماہر نقاد اور سینئر اہل قلم ہی سر انجام دیتے ہیں۔ لیکن میں آج آپ کی بصارتوں کی نظر ایک منفرد اور عام اسلوب و موضوع سے ہٹ کر لکھے گئے ناول ”پہل اس نے کی تھی“ پر اپنا نقطہ

Read more

کیا کراچی کو کسی خضر کی تلاش ہے؟

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں کراچی کے ایک قدیم علاقے میں پیدا نہیں ہوا بلکہ کراچی نے میرے اندر اک نیا جنم لیا ہے۔ یہ میری جنم بھومی ہی نہیں بلکہ میرا وہ استاد ہے جس نے خضر راہ سے مجھے روشناس کرایا۔ اس نے مجھے سمجھایا کہ تم جس مشنری اسکول کا حصہ بنے دراصل وہ جناح پونجا کے بیٹے کا اسکول ہے لیکن سرکاری حاشیہ بردار وثیقہ نویس ایک قائداعظم بنانے کے لئے اس اسکول

Read more

بونوں کے شہر میں شعور کا قتل

گزشتہ دنوں تربت میں کڑیل جوان حیات بلوچ پر بوڑھے ماں باپ کے سامنے ایف سی اہلکار نے 8 گولیاں مار کر شہید کر دیا۔ یہ حیات کا قتل نہیں بلکہ اس شعور کا قتل ہے جو علم اور بنیادی انسانی حقوق کا طالب ہے۔ وائرل ہوئی تصویر دیکھ رہے ہیں نا! ہمت ہے لکھنے کی تو لکھ کر دکھائیں اس تصویر کا کیپشن، میں اتنا بہادر نہیں کہ یہ لکھ سکوں کیونکہ معلوم ہے کہ یہ لکھا تو ”بھارت

Read more

حیات بلوچ کی اندوہ ناک موت کا نوحہ

کیسا روح فرسا، دل شکن اور جگر پاش و دلدوز منظر ہے۔ تپتی مظلوم زمین پر جوان بیٹے کا لہو لہو لاشہ پڑا ہے۔ جس کے ناتواں جسم میں آٹھ گولیاں پیوست کر دی گئی ہیں۔ حرماں نصیب باپ غم و اندوہ کی تصویر بنا بیٹھا ہے۔ ماں کی مامتا کی نظریں سوئے آسمان ہیں اور ہاتھ اللہ کے حضور اٹھے ہوئے ہیں اور سراپا سوال بنی زبان حال سے فریاد کناں ہے کہ اسے کس جرم میں مارا گیا

Read more

دو کھڑکیوں والا نیشنل کا اصلی ٹیپ ریکارڈر

دریاؤں کے کنارے تہذیبوں کے پالن ہار ہوتے ہیں ان کی فطرت میں دین ہے، لین کا کوئی تصور نہیں۔ شیرو اپنی یہی دریائی فطرت لے کر روزانہ گدائی کے لئے شہر آتا تھا۔ اس نے گلی گلی مانگنے کی بجائے اپنا ایک ہی ٹھکانہ بنا رکھا تھا۔ پرانے کیتھولک چرچ کے پچھواڑے میں جانی میوزک ہاؤس۔ وہ جاوید جانی کا یہ ہاؤس کھلنے سے پہلے ہی خدا کے گھر کی دیوار سے پشت لگا کے بیٹھ جاتا۔ جو دے

Read more

ہائے یہ بین کرتی مائیں مر کیوں نہیں جاتیں

بچپن میں ایک بار میرے گھر کے کونے پر ایک بلی اپنے پیدا ہوئے بچوں کے ساتھ دبکی رہتی تھی پتہ نہیں مجھے کیا سوجھی جب وہ ذرا ادھر ادھر ہوئی اس میں سے ایک بہت پیارا والا بلی کا بچہ میں اٹھا کر گھر لے آئی۔

اب سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں اس کو میں نے گھر کے اسٹور میں چھپا دیا تھا۔ چھوٹا سا بچہ آواز بھی نہیں نکل رہی تھی اس کی لیکن کچھ دیر میں ہی بلی میرے گھر کے گیٹ پر پاگلوں جیسے چکر کاٹ رہی تھی۔ اس کی میاؤں میاؤں سن کر میری دادی گیٹ پر اس بلی کو دیکھنے آئیں اور مجھ سے پوچھا اس نے تو ابھی ابھی بچے دیے ہیں یہ یہاں کیوں تڑپ رہی ہے؟

میں نے ڈرتے ڈرتے ان کو بتا دیا کہ اس کا ایک بچہ میں لائی ہوں اسٹور میں ہے۔ دادی نے مجھے ایک نظر دیکھا اور کہا جاؤ اس کا بچہ لاؤ میں چپ چاپ اسٹور سے وہ چھوٹا سا بچہ لے کر گیٹ پر آ گئی۔

آج بھی وہ منظر میری آنکھوں میں کہیں ٹھہر سا گیا ہے جب بلی اپنے بچے کو منہ میں دباکر بھاگی تھی اور آج بھی دادی کی بات مجھے یاد آتی ہے ماں ہے وہ کیا ہوا اگر جانور ہے۔ خدا کسی ماں کو اس کی اولاد کے چھن جانے کا غم نہ دے آئندہ ایسی حرکت مت کرنا۔

Read more

دو گمراہ پاکستانی لڑکیوں کی کہانی

نرگس ماول والا نامی اس بے حیا عورت نے ہم پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔ جس اخبار کو دیکھیں، اسی کی تصویر منہ چڑا رہی ہوتی ہے۔ جس نیوز یا سائنس ویب سائٹ کو کھولیں، اس کی شکل ہماری غیرت کا تمسخر اڑا رہی ہوتی ہے۔ یا خدا ہم پر یہ دن بھی آنا تھا کہ اقوام عالم میں ہم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ یہ میم اور لام کی تکرار والے ناموں کی لڑکیاں ہم غیرت مند پاکستانیوں کو کیسے کیسے شرمسار کرتی ہیں۔ پہلے ملالہ ہی کم نہ تھی کہ اب ماول والا نے غضب ڈھا دیا ہے۔

Read more

جیکب آباد پولیس کی کرپشن کہانی

تیسری دنیا بیشتر ملکوں میں محکمہ پولیس کو کرپٹ اداروں میں شمار کیا جاتا ہے، محکمے میں اگر کسی کرپشن کا بھانڈا پھوٹے تو ایک کام ہوتا ہے، انکوائری، بد عنوانی کی تحقیقات کے لیے محکمہ صاف ستھرے افسر کا چناؤ کرتا یے اچھی شہرت کے ایماندار افسر کو انکوائری سپرد کی جاتی ہے لہذا یہ اچھی شہرت کے افسر بد عنوانی سے پریشان رہتے ہیں خود یہ کسی کرپشن، مفاد پرستی کا حصہ نہیں ہوتے لیکن انہیں اپنے ضلع

Read more