بارش اس قدر تیز تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے بادلوں میں سوراخ ہو گئے ہوں اور پانی آبشاروں کی طرح برس رہا ہو۔ شام کا وقت تھا مگر گہرے کالے بادلوں کی وجہ سے رات کا گمان ہوتا تھا۔ ایسے میں دور تک دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔ اچانک بجلی چمکی اور بادل زور سے گرجا۔ اس ایک لمحے میں مجھے سامنے ایک مکان نظر آیا جس کے دروازے پر شیڈ گویا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تھا۔ میں لپک کر اس شیڈ کے نیچے آ گیا مگر یہ شیڈ مجھے بارش کے پانی سے بچانے سے قاصر تھا۔ ہوا تیز تھی اور میں شیڈ کے نیچے ہونے کے باوجود بری طرح بھیگ رہا تھا۔ میں نے سوچے سمجھے بغیر فوراً دروازے پر زور دار دستک دے ڈالی۔
مجھے امید نہیں تھی کہ دروازہ فوراً کھل جائے گا۔ ایسا لگتا تھا کہ دروازہ کھولنے والا بالکل دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا۔ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک لڑکی تھی۔ اس کی عمر انیس بیس برس کے قریب رہی ہو گی۔ وہ دیدہ زیب لباس میں ملبوس تھی۔ لمبے سیاہ بال شانوں پر لہرا رہے تھے۔ میں ایک لمحے کے لیے اس کے حسین چہرے کو دیکھ کر کھو سا گیا۔ وہ میری طرف خالی خالی آنکھوں سے یوں دیکھ رہی تھی جیسے سمجھ نہ پائی ہو کہ کیا کہے۔
Read more