آپ نے کبھی فرعون دیکھا ہے؟

آپ نے فرعون دیکھا ہے؟ یقینا نہیں دیکھا ہو گا۔ ۔ لیکن میں وہ بدقسمت انسان ہوں جس نے فرعون کے گھر میں جنم لیا۔ جمعے کی تقریر میں جب بھی مولوی غوث بخش لہک لہک کے فرعون کا قصہ سناتا تو مجھے یوں لگتا تھا جیسے وہ ابا کی باتیں کر رہا ہے ”او مسلمانو۔ اللہ کے پیارو، میرے بزرگو، نوجوانو، بات مختصر ہو گی مگر پراثر ہو گی۔ حکم الہی ہوا کہ اے میرے کلیم لگا اس سمندر

Read more

اقبال، پنجاب اور پنجابی

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد ضرب کلیم میں لکھی گئی پنجابی مسلمان کے نام اقبال کی اس نظم سے تحریر کا آغاز اس لیے کیا کہ میں مقصد تحریر کو ابتدا ہی میں واضح کر سکوں

Read more

مغربی ادب ۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (نویں قسط)۔

بیسویں صدی کا آغاز یورپ کی ادبی دنیا میں ’ازم‘ کی دنیا کے آغاز سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ انیسویں صدی کے آخر میں یکے بعد دیگر کئی ایک ادبی تحریکوں یا ازم کا یورپین ادب میں تعارف ہوا جنہوں نے ریئلزم اور نیچرل ازم کے زیر اثر ادبی تخلیقات کو روایتی اور فرسودہ قرار دے دیا۔ ان تحریکوں میں سمبل ازم، ایکسپریشن ازم، فیوچر ازم، سیورل ازم، دادا ازم اور ایگزسٹینشل ازم شامل تھیں جو ماڈرن ازم (جدیدیت) کی چھتری میں جمع ہو کر تمام تر مغربی ادب کو ایک نئے دور میں دھکیلتی چلی گئی اور یوں مغربی ادب ریل ازم اور نیچرل ازم (حقیقت اور فطرت پسندی) کے دور سے نکل کر ماڈرن ازم کے عہد میں شامل ہو گیا۔

Read more

سرائیکی کا آل راؤنڈر ادیب

کسی بھی قوم کے ادب کا تعلق اس قوم کے عروج سے جڑا ہوتا ہے۔ مجھ ناچیز کی رائے میں جب تک کوئی قوم اپنے عروج پر رہتی ہے اس کی ادبی تخلیقات بھی بام عروج پر ہوتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ زوال کے عمیق گڑھوں میں گرتی ہے اس کے تخلیق کاروں کے اذہان اور قلم بھی آہستہ آہستہ جواب دینا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اس زوال کے دور میں کچھ ایسے سر پھرے اور دیوانے بھی

Read more

بن بیاہی بیوہ اور معلق بوسہ

کوہ قاف کی پری، رقاصہ اپنے بستر پر بیٹھی تھی۔ جلد کی رنگت سفید پڑ چکی تھی لیکن اس کے نیچے بہتے خون میں زعفران کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ گول کتابی چہرے پر بھویں کمان کی طرح اوپر اٹھی ہوئیں تھیں۔ پر کشش لب خاموش سے جھانکتے دانت موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ سیدھی مانگ سے نکلتے ہوئے کالے بالوں نے ماتھے کے کناروں کو ڈھانپ رکھا تھا۔ دونوں بازو سینے کے نیچے لپیٹے تھے گویا نرم و نازک کومل جسم میں سلگتے الاؤ کو بھڑکنے سے روک رہی ہے۔ پنجرے میں بند چیتے کی طرح، بغاوت کے ڈوروں سے دمکتی سرکش شرابی آنکھیں، آنے والی عورتوں کے جسم کو چیرتی، مٹی کی دیواروں کے پار دیکھ رہی تھیں۔

Read more

اس ذہین نوجوان کو لڑکیوں سے نفرت تھی

میں اس وقت ایڈنبرا میں تھا جب یہ خبر پہنچی کہ سلیم نے ایک نرس کو تھپڑ مار دیا جس کے بعد اسے ہسپتال سے فارغ کردیا گیا ہے۔

ایڈنبرا بھی ایک شہر ہے اسکاٹش تاریخ، ادب اور ثقافت کا ایک عجیب و غریب ترجمان۔ شاہی قلعے، میوزیم، ہرے بھرے میدان اور شہر کی پتلی پتلی گلیوں میں اُگا ہوا شہر جہاں اگر کوئی ایک دفعہ رہ لے تو وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اور جس نے ایڈنبرا نہیں دیکھا اس نے شاید یورپ میں سب سے اچھی جگہ نہیں دیکھی۔ ایڈنبرا آکر میں ایسا مصروف ہوا کہ کسی کی خبر نہیں رہی کہ کون کیا کررہا ہے۔ جب سال بھر ایڈنبرا میں رہتے رہتے ایک دن ایک دوست کو فون کیا تو اس نے یہ خبر دی تھی۔

Read more

امریکہ کے اصلی ہیر اور رانجھا

وہ دونوں شہر کے مشہور کالج میں پڑھتے تھے۔ لڑکے کا باپ ایک ریٹائرڈ فوجی کرنل تھا اور ان کا خاندانی پیشہ سپاہ گری تھا۔ لڑکی کا باپ ایک امیر بزنس مین اور ایک بڑے کسینو کا مالک تھا۔ لڑکے کا نام رچرڈ تھا۔ وہ دراز قد، سنہری بال، نیلی آنکھیں اور مردانہ وجاہت رکھنے والا خوبصورت نوجوان تھا۔ وہ پیار بھرا دل رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھا پینٹر بھی تھا۔ وہ اپنی ایک کالج فیلو Native American

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (8)

قسط نمبر سات کا آخری حصہ کراچی ائرپورٹ پر ہی اسے ٹیپو کا میسج آیا کہ لاہور وہ ائرپورٹ پر اس کے سواگت کے لیے خود موجود ہوں گے. باہر آتے وقت البتہ اسے بہت احتیاط کرنی ہوگی. سب سے زیادہ انٹیلی جینس اور خفیہ ادارے ائرپورٹ پر سرگرم ہوتے ہیں. ٹیپو کو دیکھ لے تو وہ یہ اہتمام کرے کہ بیگ میں سے نکال کر عبایہ پہن لے. یہ اشارہ ہوگا کہ اس نے انہیں سپاٹ کر لیا ہے.

Read more

مشتاق احمد یوسفی کے منتخب کرداروں کا نفسیاتی و غیر نفسیاتی مطالعہ

اردو نثر میں مزاح کی پہلی بڑی اور جاندار آواز خطوط غالب ہیں۔ غالب ؔکی نثر میں پہلی بار اردو اپنی آزاد اور فطری روش پر قدم رکھتی ہے۔ جہاں عقل، جذبہ اور طرز اظہار تینوں میں فطری رنگ و آہنگ کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ خطوط غالب ؔ کے بعد اردو طنز و مزاح کے میدان میں سب سے بڑا انقلابی اقدام لکھنؤ میں ”۔ اودھ پنچ“ کے اجراء کا تھا۔ اودھ پنچ سے وابستہ مزاح نگاروں میں سرشار،

Read more

کرسٹی اینڈ ٹوٹو (طبع زاد سندھی کہانی کا ترجمہ)

کرسٹی نے اپنی میڈیکل رپورٹ کو بار بار دیکھا؛ لیکن اس میں کوئی تبدیلی نہی آئی؛ وہ + ہی رہی۔ رپورٹ کے مطابق وہ حاملہ تھی۔ اور زچہ و بچہ بالکل صحتمند اور توانا تھے۔ لیکن یہ مثبت رپورٹ اس پر منفی طور اثرانداز ہونے والی تھی۔ اسے گزشتہ روز ہی شک ہو گیا تھا اور اس نے حمل ٹیسٹ کرنے والی سٹرپ خرید کر خود ہی ٹیسٹ کیا اور معلوم کر لیا کہ وہ حاملہ ہے، لیکن اس نے

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (7)

قسط نمبر چھ کا آخری حصہ ابو امی جب ملتان کے لیے سامان سفر کمرے میں سمیٹ رہے تھے، ٹیپو کی جانب سے بینو کو بتا دیا گیا کہ وہ فون وغیرہ کے معاملے میں احتیاط کرے۔ اب ان کا ملنا اچانک ہو گا۔ اسکول کی ملازمت کا جو موجودہ سیٹ اپ ہے، وہ اس ملاقات میں بہت معاون ہو گا۔ کبھی وہاڑی تو کبھی ملتان۔ فوری طور پر اس میں اب کسی تبدیلی کی کوشش سے معاملات آؤٹ آف

Read more

استاد دامن

برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ، جنرل ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیا ء الحق کی طاقت، ظلم اور جبر کا بلا خوف مقابلہ کیا۔ جھوٹے مقدموں کا سامنا کیا قید و بند کی مصیبتیں جھیلیں، لیکن قدم کہیں نہیں ڈگمگائے۔ ان کی انہی خصوصیات کی وجہ سے اس سخت گیر معاشرے میں لوگ ان سے پیار کرتے تھے جبکہ حکمران ان سے نفرت کرتے تھے۔ ٹکسالی گیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا کمرا جس میں بچھی ایک چارپائی اور دو

Read more

ن۔ م راشد: اک شمع ہے دلیل سحر

ن۔ م راشد یکم اگست 1932 کو پیدا ہوئے۔ 9 اکتوبر 1975 یعنی 65 برس کی عمر میں اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔ ان کا پورا نام نذر محمد راشد ہے۔ پیدائش اکال گڑھ گوجرانوالہ میں ہوئی۔ اکال گڑھ کا یہ چمکتا ہوا سورج مختلف ممالک اور تہذیبوں کا سفر کرتے ہوئے ”سرے ( انگلینڈ)“ کے ساحلوں میں غروب ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم اکال گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد منٹگمری، لائلپور اور پھر لاہور کی تعلیمی فضاؤں میں

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (آٹھویں قسط)

مغربی ادب۔ ریلزم اور نیچرل ازم کے دور میں انیسویں صدی میں یورپ کی سوسائٹی کئی ایک سیاسی، سماجی، سائنسی اور اخلاقی تبدیلیوں سے گزرتی چلی گئی۔ تبدیلی کا یہ عمل اس قدر شدید اور تیزرفتار تھا کہ رومانس ازم کی حسین اور خیالی ادبی دنیا اس کے سامنے بہت دیر تک پاؤں نہ ٹکا پائی اور بالآخر فطری اور حقیقی دنیا میں اپنی بقاء کے امکانات ڈھونڈنے لگی۔ انیسویں صدی میں ہونے والی اہم سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہمیں

Read more

ڈاکٹر محمد ضیا الحق صوفی اور ڈاکٹر خورشید رضوی

فکری افلاس کے شکار اس معاشرے کو تو جانے دیجیے، وہ اگر علمی اعتبار سے درخشاں عہد میں زیست کر رہے ہوتے، تو بھی اپنی علمیت کی بنیاد پر دوسروں سے ممتاز نظر آتے۔ گئے وقتوں میں لاہور میں کئی ایسی باوقار علمی ہستیاں موجود رہی ہیں، کہ اہل علم بھی جب کسی علمی مسئلے پر الجھن محسوس کرتے تو اپنی تشفی کے لیے ان سے بے تامل رجوع کرتے۔ اب مگر ایسا نہیں۔ اگر کسی علمی و ادبی گتھی

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (6)

پانچویں قسط کا آخری حصہ واپسی پر اس کے ابو سامنے والی نشست پر اور وہ خود ظہیر کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔ کوشش وہی کہ ظہیر کو یہ نہ لگے کہ اس کی اپنی تو پتنگ ہی کٹ گئی ہے۔ لمبی ڈھیل سے اب بھی اس بات کو سنبھالا جا سکتا تھا باوجود اس کے کہ ٹیپو نے اس سفر میں بینو کے دل میں مزید جگہ گھیر لی۔ راستے بھر وہ کبھی ظہیر کی خاموش ٹھنڈی، بے

Read more

ڈاکٹر خضر نوشاہی: ہم نے سونا سپرد خاک کیا

پروفیسر ڈاکٹر خضر نوشاہی بھی چل بسے، فارسی زبان و ادب میں تحقیق و تنقید کا ایک معتبر حوالہ اور مخطوطہ شناسی میں سند کی حیثیت رکھنے والے عالم کی موت نے ایک عالم کو افسردہ کر دیا۔ نصف صدی تک زبان و ادب اور تحقیق و تنقید میں اپنا لوہا منوایا ’پنجاب کی اہم ترین درگاہ کا گدی نشین ہونے کے باوجود عاجزی اس قدر کہ ایک زمانہ مداح۔ مجھے نہیں یاد کہ کسی ہم عصر‘ جونیئر ’شاگرد یا

Read more

آصف فرخی بحیثیت مترجم

ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ انہیں ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، اور پاکستان کے مقامی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اردو میں لکھنے کا آغاز ”نیا ناول“ نامی مضمون سے ہوا۔ آنے والے برسوں میں باقاعدگی سے لکھا۔ انگریزی زبان میں بھی لکھا۔ ابتدائی

Read more

جھوٹا خواب خوارزم شاہ کے ہاتھوں چنگیز خان کی شکست اور سچ

بخارا سمرقند اور ایران تک پھیلی ہوئی مملکت کے سربراہ جلال الدین خوارزم شاہ نے بہت بڑا اجلاس بلایا تھا۔ مشیر، عمائدین، علما اکرام اور چار بڑی مسجدوں کے خطیبوں کے ساتھ مملکت میں آباد اقلیتوں کو بھی بلایا گیا تھا۔ آج تک خوارزم شاہ نے اس طرح کا مشاورتی اجلاس نہیں بلایا تھا۔ فیصلے وہ خود کرتے تھے یا شاہی خاندان کے افراد سے کبھی کبھار مشاورت ہوجاتی تھی۔ مسلمانوں کی یہ حکومت موثر انداز میں حکمرانی کر رہی تھی اور علاقے پر ان کی مضبوط گرفت تھی۔

خوارزم شاہ کے رویے سے پتا چل رہا تھا کہ وہ انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں۔

Read more

”کھو گئی دشت فراموشی میں آواز خلیل“ :چند باتیں، جدید شاعری کے باب میں

جدید شاعر جس دنیا کا خاکہ اور تخیل پیش کرتا ہے، وہ انسانی دنیا ہے۔ صرف اس معروف مقولے کی رو سے نہیں کہ ’انسان ہی اشیا کا پیمانہ ہے‘ ، بلکہ اس مفہوم میں بھی کہ یہاں کوئی شے، کوئی وجود، کوئی تصور، کوئی قدر انسانی پیمانے سے بلند نہیں ؛انسانی پیمانے کا تعین بھی انسان ہی کرنے کا مجاز ہے ؛وہ زوال اور کمال، بلندی اور پستی کو بھی انسانی آدرشوں، خوابوں، اعمال کی روشنی میں دیکھتا ہے

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ ( 5 )

چوتھی قسط کا آخری حصہ میڈا سانول مٹھڑا، شام سلونا من موہن جانان وی توں۔ میرے جانو تم کہاں جانو کہ محبت نغموں، دعاؤں اور کہانیوں میں گھر بناتی ہے۔ بینو کا یہ اہتمام کہیں اور ہوتا تو پرانی دوست ضویا ڈاہا کی پھٹے چک دینے والی بات سچی نکلتی مگر ظہیر کے ساتھ یہ معاملہ محض سلگتے صحرا پر برسات کا ایک بے فیض چھڑکاؤ ثابت ہوا ٭٭٭ ٭٭٭ منگل کی صبح فجر کی نماز کے فوراً بعد ٹیپو

Read more

غلیظ لوگ

اتنا پریشان چہرہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔ ہمیشہ ہنستی مسکراتی، بھاگتی دوڑتی، گنگناتی لڑکی کو نہ جانے کیا ہو گیا تھا۔ جب وہ ڈاکٹر بنی، کیسا دمکتا ہوا چہرہ تھا اس دن۔ کتنی خوش تھی وہ ڈاکٹر بننے کے بعد پانچ سال کا کورس چھ سال میں ہوا تھا۔ ایک سال کے نقصان کے ساتھ، اس کے ڈاکٹر بننے کے بعد جو خوشی ہمارے خاندان میں آئی اس کا اندازہ کرنا آسان نہیں تھا۔ ہم اپنی بیٹی

Read more

عندلیبِ جاں

بات صرف اتنی ہی نہیں تھی۔ ٹیچر کو اس بچی سے ایسے جواب کی ہر گز توقع نہیں تھی۔ ماریہ نے جھکا ہوا سر اٹھایا اور ٹیچر ذکیہ کے ماتھے پر گھورتی ہوئی نظریں گاڑ دیں۔ ذکیہ حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
” آخر ہوا کیا ہے تمہیں؟ کیا استاد کے ساتھ ایسی بد تمیزی سے بولتے ہیں؟“

ماریہ کو اندر ہی اندر اس ٹیچر سے سخت نفرت ہو چکی تھی اور وہ جانتی تھی کہ ایک نہ ایک دن ایسا ہی ہوگا۔ اس سکول میں پچھلے سال سے ایک نیا تجربہ کیا جا رہا تھا۔ ٹیچر ذکیہ اگرچہ آرٹس اور ڈرامے کی انچارج تھی تاہم اسے یہ فرض بھی سونپا گیا تھا کہ وہ طالبات اور ان کے والدین کے درمیان تعلقات کی نوعیت بھی دریافت کرے تاکہ ان بچوں اور والدین میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے جو اپنی مصروفیات کے باعث بچوں سے وہ تعلق نہیں رکھتے جو والدین اور اولاد میں ہونا چاہیے۔

Read more

منٹو ایک سوچ

سعادت حسن منٹو ان ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں کہ جنہوں نے معاشرے کے ایسے مسائل کو موضوع بنایا جو عام آدمی کی نظر سے دور تھے۔ ادب کی دنیا کا وہ نام کہ جس نے ایک الگ طرز فکر سے اپنی تحریریں سماج کے سامنے رکھیں، ان کی تحریروں کے موضوعات محدود نہیں۔ منٹو نے صرف جنس یا طوائف پر بات نہیں کی بلکہ فسادات اور معاشی بدحالی کو بھی اپنے افسانوں میں بیان کیا۔ انھوں نے سماج

Read more

عراقی بچّے کا سایہ اور امریکی فوجی

گندے اور نا زیبا کپڑوں میں ملبوس پچیس سالہ انٹونی پاگلوں کی طرح بھاگ رہا تھا۔ ’یہ تو وہی ہے، اس نے یہاں پر بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔‘ پھر اس کو ایسا لگا کہ اچانک ایک سایہ اس کے سامنے آ گیا دھندلا سا مگر اس کے نقش و نگار جانے پہچانے۔ انٹونی چیخ مار کر رینا کے ساتھ چمٹ گیا۔ ’رانی رانی، کس طرح اس سے جان چھڑاؤں! یہ ہر جگہ میرے ساتھ ہے مجھے یہ ایک بار مار کیوں نہیں دیتا تاکہ میں اس اذیت ناک زندگی سے نجات پا لوں۔‘

میک اپ سے عاری سادہ طبیعت کی حامل تیس سالہ رینا نے انٹونی کو الگ کرتے ہوئے کہا۔ ’انٹونی میں تمہاری پوری مدد کروں گی، تمہیں اس سے فائدہ پہنچے گا مجھے خود پہ اور تم پہ پورا اعتماد ہے۔‘

Read more

ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کرسکے

مجھے جینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن میرے ڈاکٹر مجھے مرنے نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں زندگی ایک امانت ہے اور اسے اپنے ہاتھوں تلف کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں مگر میرے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیتے کہ کسی کو کیوں یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ ہمیں جیتے جی مار دے پھر سانسوں کا یہ بوجھ بھی ہم کیوں اٹھائیں۔ کبھی کبھی ندامت اور پچھتاوے کا احساس مجھے کچوکے لگاتا ہے، ڈستا ہے۔ کاش میں احمر کو یوں آگے نہ بڑھنے دیتی کاش میں جان پاتی کہ دامن چھڑانا دامن بچانے سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

میرا نام فلک ہے۔ احفاظ مجھے فلکی کہہ کر پکارتے تھے۔ تھے اس لئے کہ اب تو ایک دوسرے کو پکارنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔ کام کی بات کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں ہوتی۔

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: کماری والا

بچپن میں ہمارے گاؤں ایک مداری آیا کرتا تھا۔ جو سڑک کنارے اپنی ڈگڈگی بجا کر مجمع لگاتا تھا۔ اس کا کم سن بیٹا بانسری بجا بجا کر لوگوں سے پیسے وصول کر رہا ہوتا تھا کہ اچانک باپ بیٹے کی ڈگڈگی اور بانسری بجنا بند ہو جاتی تھی۔ وہ مجمعے کی جانب منہ کر قسمیں دیتا کہ اس مجمعے میں کوئی جادوگر موجود ہے وہ مہربانی کرے ہماری بانسری اور ڈگڈگی پر سے اپنا جادو ختم کردے۔ جادو گر

Read more

کاسنی رنگ کا آدمی

بہا الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان میں تین ہی سال گزارے لیکن سچ پوچھیے تو ان تین برسوں میں کئی زندگیاں جینے کا موقع ملا۔ کسی روز ان خواب ناک ایام کی مفصل روداد لکھنے کی کوشش کروں گا، جنہوں نے نہ صرف مجھے میرے ہونے کا التباس فراہم کیا، بلکہ نہ ہونے کا آگہی بھی دی۔ میری یادوں کی زنبیل میں ایک نہیں، ہزاروں پوٹلیاں ہیں جن پر زکریا یونی ورسٹی کا نام لکھا ہے۔ ان میں سے ایک

Read more

دوسرے کی بیوی

عبدالجبار کو دوسروں کی بیویاں اچھی لگتی تھیں۔ وہ جب بھی کسی دوست، رشتے دار یا ہمسائے کی بیوی کو دیکھتا تو نہ جانے کیوں اس کا دل گدگدانے لگتا، دماغ سنسنانے لگتا اور بدن کپکپانے لگتا۔ اکثر و بیشتر اس کی اس کیفیت کا دوسروں کی بیویوں کو اس وقت تک پتہ نہ چلتا جب تک اس کی نگاہیں ان کے ریشمی بدن کو کاٹتی ہوئی ایسے پیچیدہ زاویے بنانے لگتیں کہ جن میں کوئی بھی زاویہ قائم نہ

Read more

مرد جب شیو لنگ بن جائے

”صدیوں پرانے کٹاس راج میں جن کہانیوں نے جنم لیا مہا بھارت ان سے بھری پڑی ہے۔ ہماری دھرتی پر جنم لینے والے اس مذہب میں صرف دیومالائی داستانیں ہی ہیں یا ان کا اصل انسانی زندگی سے کوئی تعلق بھی ہے؟“ میرا سوال سن کر وہ پریشان ہو گیا۔ طارق مجھے بہت گہرا شخص لگ رہا تھا۔ مقامی لوگ کہتے تھے کہ وہ مخبوط الحواس ہے۔ کئی دنوں سے وہ میرے ساتھ تھا۔ میں نے کوئی ایسی بات نہیں

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ ( 4 )

تیسری قسط کا آخری حصہ اپنی شکست پر وہ رنجور تھے مگر ٹیپو نے اپنے بڑوں سے بات کر کے ٹوانہ صاحب کو بہت خاموشی سے لاہور میں ڈی آئی جی ریسرچ میں لگوا دیا۔ یہ کوئی ایسی بری پوسٹنگ نہ تھی۔ ٹہورٹہکا یوں بھی ٹوانہ صاحب کے مزاج کا حصہ نہ تھا۔ ٹوانہ صاحب کی جگہ جو نئے ڈی آئی جی صاحب تعینات ہو کر آئے وہ کچھ اور مزاج کے تھے پنجاب پولیس کے رنگ میں رچے بسے۔

Read more

قصہ میر تقی میر کے پاگل پن کا۔۔۔

سورن کرکیگارڈ SOREN KIERKEGAARD نے ایک جگہ لکھا ہے ’ شاعر ایک ایسا دکھی انسان ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے داخلی کرب کا اظہار کرتا ہے تو اس کے غم شعر و نغمہ میں ڈھل جاتے ہیں‘۔ میر تقی میر کا شعر ہے خوش ہوں دیوانگیِ میر سے سب۔۔۔۔۔ کیا جنوں کر گیا شعور میں وہ ! جب ہم میر تقی میر کی زندگی کا نفسیات کے آئینے میں مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان

Read more

منٹو وارث علوی کی نظر میں

سعادت حسن منٹو کی شخصیت میں دلچسپی کا آغاز ان کے نام ہی سے ہو جاتا ہے۔ شروع میں سب ہی کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ منٹو کیا ہے۔ بلونت گارگی لکھتے ہیں۔ ”بہت عجیب نام تھا۔ منٹو جیسے لارڈ منٹو، پنٹو۔ یا ومٹو، بہت نقلی یا مضحکہ خیز! منٹو کے نام میں سعادت حسن کی پوری ادبی اور غیر ادبی شخصیت سمٹ آئی تھی۔ منٹو کو بھی اس کا احساس تھا چنانچہ لکھتے ہیں :  ”اور یہ بھی

Read more

مغربی ادب افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (ساتویں قسط)

مغربی ادب۔ رومانوی دور میں نیوکلاسیکل دور کے بعد کی اگلی صدی مغرب میں رومانوی ادب سے تعبیر کی جاتی ہے۔ گو کہ یہ دور اٹھارہویں صدی کے آخر سے انیسویں صدی کے درمیان کا عرصہ ہے مگر انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیاں اس دور کا زریں وقت سمجھا جاتا ہے کیونکہ ’پری رومانس ازم‘ کے اس دور میں ہمیں جارج کریب، گولڈ اسمتھ، تھامس گرے اور ولیم کوپر جیسے شہرہ آفاق شاعر برطانوی ادب کی دنیا پر راج کرتے

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (3)

دوسری قسط کا آخری حصہ تحقیق و تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا تو یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ عشق اور شادی دونوں میں ناخوش رہنے کے وافر مواقع ہیں۔ میاں کا مزاج اگر پرتشدد نہیں۔ اسے اپنی کمزوریوں کا شعور اور احساس ہے تو شادی کو نبھاﺅ۔ اسے گھر کے دروازے پر بے ضرر ٹاٹ کا پردہ بنا کر لٹکا لو۔ چینوں جاپانیوں نے اس میں اب نت نئے روپ نکال لیے ہیں۔ بہت سجل، نرم و نازک، من

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ ( 2 )

(گزشتہ قسط کا آخری حصہ) پاکستان سے دولت لوٹ کر مفرور یہ سیاسی اور سرکاری فرزندان توحید پیچھے رہ جانے والے سیاست دانوں، ہر قسم کے افسروں اور تھانے داروں کی کرپشن اور نا اہلی پر تبرہ بھیجتے ہیں۔ اللہ سبحانہ کو تواب الرحیم مان کر سب نے یہاں داڑھیاں رکھ لیں ہیں۔ دوران ملازمت جو مال کمایا ہے وہ بیگمات کے کولہوں کی چربی کے معاملے میں ہوا کی جسمانی خصوصیات (Physical Properties) کی مانند ہے۔ وزن بھی رکھتا

Read more

اس رات کیا ہوا تھا؟

بارش اس قدر تیز تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے بادلوں میں سوراخ ہو گئے ہوں اور پانی آبشاروں کی طرح برس رہا ہو۔ شام کا وقت تھا مگر گہرے کالے بادلوں کی وجہ سے رات کا گمان ہوتا تھا۔ ایسے میں دور تک دیکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔ اچانک بجلی چمکی اور بادل زور سے گرجا۔ اس ایک لمحے میں مجھے سامنے ایک مکان نظر آیا جس کے دروازے پر شیڈ گویا ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تھا۔ میں لپک کر اس شیڈ کے نیچے آ گیا مگر یہ شیڈ مجھے بارش کے پانی سے بچانے سے قاصر تھا۔ ہوا تیز تھی اور میں شیڈ کے نیچے ہونے کے باوجود بری طرح بھیگ رہا تھا۔ میں نے سوچے سمجھے بغیر فوراً دروازے پر زور دار دستک دے ڈالی۔

مجھے امید نہیں تھی کہ دروازہ فوراً کھل جائے گا۔ ایسا لگتا تھا کہ دروازہ کھولنے والا بالکل دروازے کے پاس ہی کھڑا تھا۔ جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک لڑکی تھی۔ اس کی عمر انیس بیس برس کے قریب رہی ہو گی۔ وہ دیدہ زیب لباس میں ملبوس تھی۔ لمبے سیاہ بال شانوں پر لہرا رہے تھے۔ میں ایک لمحے کے لیے اس کے حسین چہرے کو دیکھ کر کھو سا گیا۔ وہ میری طرف خالی خالی آنکھوں سے یوں دیکھ رہی تھی جیسے سمجھ نہ پائی ہو کہ کیا کہے۔

Read more

حکم کی ملکہ (الیگزینڈر پشکن کی ایک کہانی)

ماسکو کی سرد طویل رات تاش کی بازیاں کھیلتے پلک جھپکنے میں گزر گئی۔ رات کا کھانا صبح پانچ بجے لگا۔ جیتنے والوں نے ڈٹ کر کھایا۔ ہارنے والے اداسی سے خالی پلیٹوں کو گھورتے رہے۔ لیکن جب شیمپین کا دور چلا تو گفتگو میں خوب گرما گرمی آ گئی۔ ”بھئی میں تو مان گیا اس ہرمن کو۔ ساری رات تاش کے کھلاڑیوں کے ساتھ گزاری لیکن ایک پتے کو ہاتھ نہیں لگایا۔“ میزبان نے کہا، جو فوج کا ایک

Read more

شاعری سے تعلق کیسے بنتا ہے

سکول کے زمانے میں میرا خیال تھا کہ کورس کی کتابوں کے علاوہ دنیا میں جو واحد کتاب ہے وہ قرآن ہے۔ باقی ڈائجسٹ ہوتے ہیں اس کے علاوہ شعر و شاعری اور لطیفوں کے پاکٹ سائز کتابچے جو ہر سال رمضان سے پہلے ایک پر اسرار سا شخص تھیلا اٹھائے سکول میں آتا اور پانچ روپے میں شاعری، لطیفوں کے پاکٹ سائز کتابچے کے علاوہ ایک عدد جنتری ہوتی تھی۔ اس جنتری میں پورے سال کا کیلینڈر، ستاروں کے

Read more

ڈی آئی جی کی محبوبہ (1)

پہلے میرے تین چار بیانات سن لیں تاکہ اس قصے کو پڑھتے وقت آپ کو میرے حوالے سے کوئی ویاکو لتا ( ہندی میں کنفیوژن) نہ ہو۔ مجھے ایسی بڑی گنجلک باتیں کرنے کا بہت شوق ہے مگر میں آگے چل کر بہت سادہ انداز اختیار کروں گی۔ آپ اگر توجہ اور دل چسپی سے میری داستان شرارت سنیں گے تو یہ چاروں باتیں آپس میں گہرا تال میل رکھتی ہیں۔ پہلی بات۔ یہ میرا ذاتی تجربہ اور مشاہدہ ہے

Read more

میں ادبی دنیا کی Muggle ہوں

آپ میں سے جنہوں نے ہیری پورٹر دیکھی یا پڑھی ہے وہ اس اصطلاح مگل سے بخوبی واقف ہوں گے۔ جب شروع میں ہیری پورٹر کو یہ احساس دلایا گیا کہ وہ نجیب الطرفین جادوگر نہیں اور غیر جادوگر دنیا سے آ گیا ہے اور مس فٹ ہے۔ اسے بار بار مگل کہہ کر غیر ہونے کا احساس دلایا جاتا رہا۔ ادبی دنیا میں، خاص طور سے ادبی نشست و برخاست کے حوالے سے میں خود کو کسی قدر Muggle

Read more

ادب میں فحاشی کا مسئلہ

فحاشی کا مسئلہ، بلاشبہ مذہبی اصلاح پسندوں اور ریاست کو طاقت کے اندھے استعمال کی غیر معمولی ترغیب دیتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاقی اصلاح کے طوفانی جوش اور ریاستی جبر کو کسی ردّعمل کا سامنا نہیں ہوتا اور انھیں اپنی طاقت کے یک طرفہ استعمال کی کھلی چھٹی ملتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ادب کے خلاف فحاشی کی فردِ جرم، ادیبوں کے لیے ایک آزمائش تو ثابت ہوتی ہی ہے، انھیں ادب کی نہاد

Read more

مسعود اشعر کی کچھ یادیں

1953 میں تحریک ختم نبوت لاہور میں زوروں پر تھی۔ حالات اس قدر بگڑے کہ شہر میں مارشل لا لگاتے ہی بنی اور ساتھ کرفیو بھی لگ گیا۔ جنرل اعظم خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوئے۔ میں اس زمانے میں میکلوڈ روڈ پر رہتا تھا۔ ایک دن شام کو میں سائیکل پر نسبت روڈ پر واقع لکشمی بلڈنگ کے پاس پہنچا تو فوجی چوکی پر مجھے فوجی افسر نے پکڑلیا۔ اس وقت گولیاں چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ فوجی

Read more

غالبؔ اور میں

میں نویں دسویں میں ہوں گا جب مجھے غالب ؔ سے عشق ہوا۔ اسی دوران دو ایک عشق اور بھی ہوئے لیکن انجام کے حوالے سے وہ اتنے خوشگوار نہیں رہے کہ انہیں اب تک یاد رکھا جائے۔ البتہ غالبؔ سے عشق تب سے لے کر اب تک روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غالبؔ ہمیں سمجھ بھی آتا تھا۔ استاد غالب ؔ ہمیں، الحمدللہ، نہ تب سمجھ آتا تھا نہ اب آتا ہے۔ میرے

Read more

سہیل عظیم آبادی کی افسانہ نگاری

افسانہ ایک ایسی نثری، تخلیقی و بیانیہ صنف ہے جو انسانی حیات کے کسی ایک پہلو کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے مگر اس رنگ و روغن کے ساتھ کہ واقعہ اور احساس کی سطح پر تشنگی کا احساس نہیں ہوتا، ساتھ ہی قاری کے ذہن اور طبیعت کی سیری بھی ہو جاتی ہے۔ بالکل گلاب کی اس کلی کی مانند جو ایک پورے گلاب کی جزئیات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔

افسانہ کی صنفی تعریف کے مطابق نا ہی وقت کی تنگی کی شکایت اور نا ہی اس کے زیاں کا احساس مصروف ترین اور عدیم الفرصت قاری کے ذہن کو کچوٹتا ہے۔ ایک افسانہ اور افسانہ نگار کا تعلق بھوک اور غذا کا سا ہوتا ہے۔ ایک اچھے افسانہ نگار کی بھوک اس سے اچھے افسانے تخلیق کرواتی ہے۔

Read more

مسعود اشعر: اپنے آپ کو کہانیاں سنانے والا

(مگر یہ کہانیاں سب کے لئے ہیں)       اخبار نویسی اور صحافت کو ادب کی روایت سے الگ کر کے ہم نے اپنا بہت نقصان کیا ہے۔ نا انصافیوں کے مر تکب بھی ہوئے۔ غالبا یہ ادعائیت زدہ سماجی حقیقت نگاری کی ضد میں ہوا۔ بہر نوع، وجہ کچھ بھی رہی ہو، خسارہ تو اپنی ادبی روایت کا ہی ہوا۔ پتہ نہیں، ہم یہ کیوں بھول جا تے ہیں کہ عام زندگی اور یہاں تک کہ زندہ مسئلوں کا حق ادا

Read more

ممتاز افسانہ نگار اور صحافی مسعود اشعر انتقال کر گئے

اردو کے معروف افسانہ نگار اور صحافی مسعود اشعر آج لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 91 برس تھی اور کچھ عرصے سے علیل چلے آ رہے تھے۔ مسعود اشعر کا اصل نام مسعود احمد خان تھا۔ وہ 10 فروری 1930ء کو رام پورمیں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور اور ملتا ن میں قیام پذیر رہے اور روزنامہ احسان، زمیندار، آثار اور امروز سے وابستہ رہے۔ انہوں نے آزادی صحافت کے لئے متعدد آمریتوں میں

Read more

افتخار عارف کا کثیر الابعاد شعری پرتو!

یک رخا شعر جلد موت سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ چونکہ معنیاتی پہلوؤں کے بغیر اس میں صرف ایک لفظی پرت ہوتی ہے، جو اس کے سطحی چہرے سے فوراً پردا اٹھا دیتی ہے۔ عروس سخن کا یوں عریاں ہونا اس کے باطنی اور ظاہری حسن کو نہ صرف وسعت پذیر ہونے سے روکتا ہے بلکہ قاری کی لذت اندوزی کا سارا ذائقہ بھی کرکرا کر دیتا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ یک رخا شعر جس کی جڑیں

Read more

مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کا اسلوب تحریر: جس کے پیرہن سے خوشبو آئے

ہم اس مضمون میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے اسلوب تحریر کے انشائی پہلو پر گفتگو نہیں کریں گے بلکہ اس کی باطنیت یعنی جوش و جذبے، ذوق و شوق اور اس میں پنہاں وفور عشق و محبت اور وارفتگی کے حوالے سے بات کریں گے، جو ان کے قلم کو قوت و رعنائی اور آتش و زیبائی بہم پہنچاتی ہیں، اس میں شیرنی گھولتی ہیں اور ان کے قلم کو ہردم جواں اور ہر لحظہ رواں رکھتی ہیں۔

Read more

ممتا کی مجبوری

اس چھوٹے سے قصبے میں بسوں ویگنوں کا یہ اڈا ابھی نیند سے پوری طرح جاگا بھی نہیں تھا۔ سورج کی پہلی کرنوں نے اس کی ٹوٹی پھوٹی، میلی کچیلی دیواروں کو پہلا بوسہ ہی دیا تھا کہ وہ عورت سہمے سہمے قدم اٹھاتی وہاں داخل ہوئی۔ چکنی مٹی جیسے رنگ کی ایک با وقار سی چادر میں اس نے خود کو لپیٹ رکھا تھا۔ سر کے بالوں کی ایک ضدی لٹ جو چادر سے باہر لٹک رہی تھی، غماز

Read more

میں مابعد جدیدیت کا شکار کیوں نہیں ہوں؟

ڈاکٹر صلاح الدین درویش اردو نوجوان مفکر ہیں۔ ادب، فلسفہ اور تاریخ کے ان کی دلچسپی کے خاص مضمون ہیں۔ بہترین نقاد اور شاعر بھی ہیں ایم اے اردو کرنے کے علاوہ میں پی ایچ ڈی اردو کی ڈگری حاصل کی اور بعد میں محکمہ تعلیم کے استعمال کے ساتھ منسلک ہے۔ بندہ ناچیز نے چند دن قبل درویش صاحب کا ایک لیکچر سنا جس میں ڈاکٹر صلاح الدین درویش نے مابعد جدیدیت کی بنیاد پر تقریباً ہر قسم کو

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ ماڈردن ازم تک (چھٹی قسط)

جس طرح نشاط ثانیہ نے ایک پل کی طرح یونانی و رومن تہذیبی ورثے کے پس منظر میں قرون وسطی اور اور ماڈرن دور کو آپس میں جوڑ کر ایک جدید دور کی بنیا رکھی اور مڈل ایج کی مذہبی فکر کو سیکولر ازم، ہیومنزم اور فرد کی انفرادیت جیسے تصورات سے آراستہ کیا اسی طرح نیوکلاسیکل ازم نے قدیم کلاسیکس کو جدید دور میں شامل کر کے اسے حیات نو عطا کی۔ نشاط ثانیہ اگر مغربی تہذیبی ارتقا کے

Read more

نمرہ وارث کا شعری جہان

ابہام کو شعری قرات کا عیب قرار دینے والے شارحین اور قارئین متن کو کسی لازمی وحدت کی شکل میں دیکھنے کے خواہاں ہوتے ہیں جن کے نزدیک شعر کی مختلف پرتیں دریافت کرنے کی کوششیں بھی لغوی یا روایتی طور پر روا استعاراتی معنوں تک پہنچنے کی سعی سے زیادہ نہیں ہوتیں، حالانکہ معنی کا ہالہ لفظ سے جڑت کے باوجود متن کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر موجود ہوتا ہے۔ مثلاً میرا جی کی نظم ”کئی ستارے

Read more

ظفر صمدانی: ایک با کمال شخصیت  (آئی اے رحمان کی تحریر)

دوسری یا تیسری بار گھنٹی بجانے کے بعد امید بندھی کہ گھر میں رہنے والے کسی فرد سے ملاقات ہو ہی جائے گی اور ممکن ہے مکان میں داخلے کی اجازت بھی مل جائے، وہ یوں کہ ایک نوجوان گیٹ کی طرف آتا نظر آیا۔ وہ سفید قمیص شلوار پہنے ہوئے تھا جو کھاتے پیتے لاہوریوں کا شب خوابی کا لباس ہوتا تھا، گریبان کھلا ہوا، سر پر بال بڑے سلیقے سے بکھرائے ہوئے اور ہاتھ میں آدھی کھلی کتاب

Read more

کاکروچ ہی بہتر ہے

عدالت کا کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا، جج کے آتے ہی شور اچانک بلند ہو کر وہیں رک گیا، جیسے کسی نے آہستہ آہستہ ریموٹ کا بٹن دبا کے ٹی وی کی آواز بند کی ہو۔ جج نے اپنی کرسی سنبھالی اور اردگرد دیکھا۔ کالا کوٹ سنبھالتا ہوا ایک وکیل اٹھ کھڑا ہوا۔ ’جناب عالی اگر آپ اجازت دیں تو عدالت کی کارروائی شروع کی جائے‘ ۔ ’ہاں اجازت ہے، لیکن ملزم کدھر ہے‘ ؟ جج نے سوالیہ نظروں

Read more

لاک ڈاؤن

جھلسا دینے والی گرمی پڑ رہی تھی عارفہ گھر سے نکلتے ہوئے جوس کی ٹھنڈی بوتلیں ساتھ رکھ لیتی اور دھوپ میں کام کرنے والے مزدوروں میں تقسیم کرتی جاتی۔ لیکن پہلے ان کا نام پوچھ کر تسلی کر لیتی کہ وہ ہندو تو نہیں۔ یوں اپنی نیکی کو اس نے تعصب کا لبادہ اوڑھا دیا تھا۔ اس روز بھی وہ دلی کے پرانے محلے سے گزر رہی تھی کہ ایک بوڑھے مزدور کو دیوار سے ٹیک لگائے دیکھ کر گاڑی روکی۔ نام پوچھا تو اس نے رامو نام بتایا۔ عارفہ نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

گھر پہنچ کر وہ کام کاج میں لگ گئی پر نہ جانے کیوں آج عارفہ کے دل کو عجیب بے کلی تھی بار بار دیوار سے ٹیک لگائے رامو کا چہرہ اس کی نظروں میں آ رہا

Read more

مستنصر حسین تارڑ: راکھ میں چنگاری کی تلاش

پاکستانی قومیت کی بے قرار روح گزشتہ پچاس برس سے اپنے بدن کی تلاش میں سرگرداں تھی۔ بارے اب آن کر مستنصر حسین تارڑ نے اسے مردانؔ کا شایان شان پیکر عطا کیا ہے۔ مستنصر نے ”راکھ“ میں دیس پردیس کے بیسیوں جاندار اور متحرک کردار پیش کیے ہیں۔ رنگا رنگ جغرافیائی اور تہذیبی پس منظر میں نشو و ارتقا کے مراحل سے فن کارانہ نفاست سے گزرتے ہوئے منفرد کردار۔ مگر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارا قومی

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (پانچویں قسط)

قرون وسطی یا مڈل ایج کے فوراً بعد مغربی تہذیب کا وہ یاد گار دور یورپ میں شروع ہوجاتا ہے جس نے وہاں کے آرٹ، کلچر، سیاست اور اقتصادیات میں نہ صرف دیر پا اثرات پیدا کیے بلکہ آنے والے ادوار کے لیے بھی ایک جدید ماڈرن ترقی یافتہ یورپ کی بنیادیں مستحکم کردی۔ نشاۃ ثانیہ جسے فرانسیسی زبان میں ’رینیسانس‘ کہا جاتا ہے، جس کے معنی دوبارہ پیدا ہونا یا ’ری برتھ‘ کے ہیں یعنی اس دوران یورپ میں

Read more

علم کیا، علم کی حقیقت کیا؟

لاہور میں ایک صاحب سلیم نام (ان کا پورا نام جان بوجھ کر نہیں لکھ رہا ہوں ) کے ہوا کرتے تھے انہیں پتہ نہیں کیوں یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ ڈاکٹر علامہ اقبال سے بڑے شاعر ہیں۔ یار دوستوں نے بھی شغل شغل میں ان کو بڑھاوا دینا شروع کر دیا اور مذاق مذاق میں بات بڑھتی چلی گئی اور وہ سچ مچ میں سنجیدہ ہو گئے اور انھوں نے واقعی خود کو اقبال سے بڑا اور

Read more

احمد راہی۔ پنجابی ادب کا ایک چمکتا ستارہ۔

احمد راہی متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں پاکستان ہجرت کر کے لاہور میں قیام کیا۔ ان کے 1952 میں چھپنے والے پنجابی نظموں کے مجموعے ً ترنجن ً کو پنجابی ادب میں ایک کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ اس شعری مجموعے میں پنجابی ثقافت اور تقسیم ہند میں پیش آنے والے واقعات کو ہیر۔ صاحباں اور سوہنی جیسے لوک کرداروں کی تشبیہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی بیشتر نظمیں

Read more

مغربی ادب۔ افلاطون سے پوسٹ ماڈرن ازم تک (چوتھی قسط)

جب بھی ہم قرون وسطی یا مڈل ایج کا ذکر کرتے ہیں تو ہمارا ذہن خودبخود پانچویں صدی ہجری سے پندرہویں صدی ہجری کے درمیان گزرے ہوئے ایک ہزار برسوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ مغربی تاریخ کا یہ دور 476 عیسوی میں مغربی رومن ایمپائر کے زوال سے شروع ہوتا ہے اور لگ بھگ 1454 عیسوی میں مشرقی رومن ایمپائر کے زوال پر ختم ہوتا ہے جس کے بعد یورپ کی تہذیب سے تاریکی کا مکمل خاتمہ ہوجاتا ہے اور وہ چند سو برس نشاط ثانیہ کے آتے ہیں جس کے بعد یورپ ایک جدید ماڈرن سائنسی دور سے بدل جاتا ہے۔

Read more

کتنے ہی پھول چن لیے میں نے

مریدکے میں بنگلا روڈ پر واقع ہمارا گھر اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں فرنٹ لان کے ساتھ ساتھ ایک خاصا کشادہ بیک یارڈ بھی موجود تھا۔ گھر کی تعمیراتی ترکیب شمالاً جنوباً تھی۔ شرقاً غرباً اس کی چوڑائی پچاس فٹ سے زیادہ تھی۔ جی ٹی روڈ سے اتر کر مغرب کی جانب چند قدم چلنے پر پہلے ہمارے گھر کی تقریباً چالیس فٹ لمبی دیوار آتی تھی اور پھر کوئی دس فٹ چوڑا گیٹ۔ دیوار کے ساتھ باہر کی جانب کوئی تین فٹ چوڑی جگہ چھوڑی گئی تھی جسے میں نے کیاری کی شکل دے کر آٹھ آٹھ فٹ کے فاصلے پر الٹا شوک نامی پودے لگائے ہوئے تھے۔ ان پودوں کو پانچ فٹ کی اونچائی پر کاٹ کر چھتری کی شکل دی گئی تھی۔ ان پودوں کی درمیانی جگہ کو دیسی گلاب کے سرخ پھولوں والے پودوں سے بھر دیا گیا تھا۔ یہ پودے سارا سال پھول دیتے اور ہر آنے جانے والے شخص کا استقبال خوشبو اور خوبصورتی سے کرتے۔ یہ بغیر معاوضے کی خدمت تھی۔ ویسے بھی بقول شخصے ہر ایک چیز کا صلہ تو نہیں دیا جا سکتا۔ جیسے ہم پھول کو خوشبو کے عوض کیا دے سکتے ہیں؟

Read more

ضامن ادب: شخص اور شاعر

ضامن صاحب اپنے وقت کے بہترین ادبی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کہنہ مشق شاعر بھی تھے چناں چہ شاعری ان کی شخصیت کا بھر پور حوالہ ہے. انھوں نے نصف صدی پر محیط تخلیقی زندگی گزاری. اردو کے ساتھ فارسی میں بھی طبع آزمائی کی. نمونے کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ کیجیے : بت کافر, ادائے کج کلاہے حسینے, مہ جبینے, رشک ماہے بہ شوخی خرامے, کرد مفتوح دلم بردہ بہ دزدیدہ نگاہے ٭٭٭ حیدرآباد کے شعرا

Read more

ساقی فاروقی اور منصور آفاق کی قلم کلامی

( 2004 کی لکھی ہوئی تحریر ہم سب کے لئے) ساقی فاروقی لندن میں رہتے ہیں اور میں لندن سے ڈیڑھ سو کلو میٹر دور برمنگھم میں مقیم ہوں مگر زندگی اتنی زیادہ مصروف ہے کہ پچھلے پانچ سال میں صرف ایک مرتبہ میں ساقی فاروقی کے لئے یہ ڈیڑھ سو کلو میٹر کا راستہ طے کر سکا ہوں۔ ان سے صاحب سلامت، علیک سلیک اور میل ملاقات کا واحد وسیلہ ٹیلی فون ہے۔ کبھی وہ میرے فون کی گھنٹی

Read more

مختلف ادوار میں ادیب کی بدلتی ہوئی سماجی حیثیت

اجتماعیت کا دور جس میں ادیب کو کوئی الگ شناخت حاصل نہ تھی ایسے دور میں پیدا ہونے والا ادب اجتماعیت پر مبنی تھا اسے کسی ایک فرد کے ساتھ موسوم نہیں کیا جاتا تھا۔ جب کہ دوسرے دور کا ادب جسے ہم کلاسیکی ادب کا نام دیتے ہیں اس میں ہمیں ادیب تین حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے پہلے نمبر پر ایسا ادیب جو دربار اور درباری روایت سے براہ راست جڑا ہوا ہوتا ہے دوسرے نمبر پر

Read more

مغربی ادب ۔افلاطون سے پوسٹ مارڈدن ازم تک (تیسری قسط)

مغربی ادب ۔رومن دور میں یہ درست ہے کہ338 بی سی میں یونان پر رومن سیاسی طور پر غالب آگئے تھے مگر تہذیبی فتح یونانیوں کو نصیب ہوئی۔ادبی اعتبار سے کم وبیش ہر ایک رومن صنف چاہے وہ ٹریجڈی ہو یا کامیڈی،طویل مذہبی نظم (ایپک) ہو یا گیت، بیانیہ ہو یا تاریخی اندازِادب یونانی کمپوزیشن کی ہی ڈھلی ہوئی شکل سے ملتی ہیں۔ صرف ستایر ہی واحد صنف ِادب ہے جوسراسررومن دور کی یادگار ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ

Read more

اردو ترجمے کی روایت میں دہلی کالج کا کردار

فورٹ ولیم کالج کی خدمات بلا شبہ بہت زیادہ ہیں لیکن ایک بات ذہن میں رکھی جائے کہ فورٹ ولیم کالج کے قیام کا مقصد درحقیقت ہندوستانیوں کو تعلیم دینا نہ تھا۔ انگریز چونکہ اپنا اقتدار مضبوط کرنا چاہ رہے تھے اس لیے وہ آبادی کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کے خواہاں تھے۔ اس لیے انھوں نے اپنے انگریز افسروں کو جو ہندوستان میں تعینات تھے ان کو اردو سکھانے کا سوچا۔ اگرچہ ان کا مقصد مضموم تھا مگر زبان

Read more

نسوانی الوہیت

منزل کی تلاش میں جویا حق برسوں سرگرداں پھرا تھا۔ اس کے پاؤں پورے ہندوستان کی دھول سے اٹے ہوئے تھے۔ چودہ سال بیت گئے تھے۔ تقدیر اسے کھینچ کر کشمیر لے آئی تھی۔ راستے میں اسے بہت سے لوگ ملے۔ پیدل بھی اور گاڑیوں، گھوڑوں، خچروں پر سوار بھی۔ گھیروے رنگوں کی چادروں میں ملبوس ہندو اپنے متبرک مقامات کی یاترا کرنے جا رہے تھے۔ وہ سب مارتنڈ سوریا تیرتھ، کھیر بھوانی اور امرناتھ کے مندروں کی طرف رواں دواں تھے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد شکتی فرقہ کے ان ہندوؤں کی تھی جو اپنی دیوی ماں کو بہ حیثیت خدا مانتے ہیں۔

Read more

نفسیاتی تنقید

کسی فن پارے کی تخلیق سے پہلے ہی تخلیق کار کے ذہن میں اس فن پارے کی تنقید آجاتی ہے وہ اس فن پارے کو نقاد کی صورت سوچتا ہے اپنے خیالات و افکار کو کمال سنجیدگی سے زیب قرطاس کرتا ہے اسی طرح خود تخلیق کار اپنے فن پاروں کی ترامیم اور اصافتوں سے مزین کرتا ہے اس موضوع کے پیچھے چھپے ہوئے میرے نقطہ نظر کو پا لے گا یا اس کے اندر میرا اصل موضوع جاننے کی سکت بھی ہو گی یاں وہ بغیر اس موضوع اور نقطہ نظر کو مسخر کرنے کے لیے ہی اسے پڑھے گا یا اس سے استفادہ کرے گا۔

Read more

میں ایک عورت دشمن شاعر رہا ہوں

حالی نے انیسویں صدی کے آخر یا بیسویں صدی کی ابتدا میں اپنے دیوان میں غزلوں کو جدید اور قدیم جیسے دو حصوں میں بانٹا تھا۔ اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ شاعری میں ہونے والی تبدیلیوں کو وہ نمایاں کرسکیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ حالی نے ایسی شاعری کی مخالفت کی تھی، جس میں شاعری کے نام پر عورت یا محبوب کو لے کر ابتذال کی حد کردی گئی تھی۔ ان کی تنقید میں ایک قسم

Read more

پاکستان میں ٹیلیویژن کے پہلے پانچ سال: چند یادیں

پاکستان میں ٹیلیویژن سروس کا آغاز 1964 میں لاہور سے ہوا ۔ تب میری عمر گیارہ برس تھی۔ یہ سن کر حیرت ہوتی کہ اب تک ہم ریڈیو کے ذریعے دور بیٹھے ہوئے جن لوگوں کی باتیں سنتے تھے اب انہیں بات کرتے دیکھ بھی سکتے تھے، بلکہ وہ سب کچھ دیکھ سکتے تھے جو سنیما ہاﺅس میں دکھائی جانے والی فلموں میں دیکھتے تھے۔ فلم کے معاملے میں میرا تجسس کافی کم ہو چکا تھا۔ میرے ننھیال ساہیوال (

Read more

حمایت علی شاعر (نجی زندگی، تعلیمی، تخلیقی اور علمی ادوار کا سفر)۔

حمایت علی شاعر کا تعلق اورنگ آباد (دکن) سے ہے۔ تقسیم ہندوستان کے بعد کچھ وقت دہلی اور بمبئی میں گزارنے کے بعد 1951 ء میں پاکستان آ گئے۔ ابتدا میں کراچی اور بعد ازاں حیدرآباد (سندھ) میں سکونت اختیار کی۔ 1986 ء کے بعد واپس کراچی چلے گئے۔ وہ شاعر ہونے کے قدم بہ قدم نثر نگار، ڈراما نگار، صحافی، محقق، مدرس، براڈ کاسٹر، فلم ساز و ہدایت کا ر بھی تھے۔ ان کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تصانیف

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک (دوسری قسط)

مغربی ادب یونان میں : افلاطون سے پوسٹ مارڈرن ازم کی پچھلی قسط میں ہم نے زمانہ قدیم یعنی موسوی دور میں مغربی ادب کی بنیادی روایتوں یعنی ہیلینک اور ہیبریک کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ آئیں گفتگو کے اگلے مرحلے میں اب ہم یونانی دور میں چلتے ہیں اور مغربی ادب کے ارتقائی سفر پر نظر کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ حضرت عیسی کی پیدائش سے تین سے چار برس قبل کا یونان علم و ادب

Read more

محمد سلیم الرحمٰن: کرکٹ سے محبت کے 76 برس اور وزڈن سے تعلق

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمٰن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ادب ہے۔ گزرے ساٹھ برسوں میں مختلف اصنافِ ادب کو باثروت بنایا۔ ادب سے ہٹ کر دیگر کئی علوم میں انھیں گہری دلچسپی ہے۔ انگریزی میں ایسے افراد کو Polymath اور اردو میں جامع العلوم کہا جاتا ہے۔ علم و ادب کی دنیا سے باہر بھی ان کی توجہ کا میدان خاصا وسیع ہے جس میں کرکٹ بھی شامل ہے۔ اس کھیل سے ان کے اُس دیرینہ اور پختہ تعلق

Read more

لوح خاک پر گراں مایہ تحریر: ڈاکٹر آصف فرخی

کتابوں کے ڈھیر میں اکیلا، تنہا بچہ بیٹھا ہے اس کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں ہیں جیسے کسی گہری سوچ میں غرق ہے، یہ تصویر ڈاکٹر آصف فرخی کی پسندیدہ تصویر تھی جو وہ بچپن میں بنایا کرتے تھے ان کی والدہ تاج بیگم نے مجھے ہنستے ہنستے بتایا۔ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ مصوری کا شوقین تھا طلسم ہوش ربا تو کم عمری میں ہی پڑھ لی تھی اور پھر گھر کی ادبی فضا نے ان کے

Read more

لائسنس۔ مابعد منٹو

اکیسویں صدی اپنی عمر کی بیس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ نانیوں دادیوں سے سنتے آئے تھے لڑکیاں جلدی بڑی ہو جاتی ہیں اور لڑکے بے چارے باپ کے کاندھے تک آتے آتے بہت وقت لگا دیتے ہیں حالانکہ بچاروں کی داڑھی پیٹ میں ہوتی ہے مگر کون مانے۔ صدی بھی مونث ٹھہری سو پیدائش کے ساتھ ہی جوانی چلی آئی۔ مگر یہ موصوفہ ایسے رنگ ڈھنگ بدلے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی پری نے سب

Read more

دولے شاہ کا چوہا

آج دفتر سے واپسی پر گھر پہنچا تو سیدھا اپنے کمرے میں داخل ہو کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا۔ دل بہت اداس تھا اور وجہ میری سمجھ سے بالاتر تھی۔ شاید میں تھک گیا تھا ایک مکمل انسان بننے کی ہر ہر کوشش سے، فکر اور غموں کی نوکری کرتے کرتے، اپنی پلکوں پر جلتے خوابوں کی راکھ سنبھالتے، ایک کے بعد دوسری امید پر آس لگاتے یا شاید پھر اپنے آپ میں سے گرز کر زندگی کو ایک انجانے مدار میں گھومتے دیکھ کر۔ آج مجھے اپنے اندر کئی صدیوں کا سناٹا سنائی دے رہا تھا اور اس خاموشی کی گود میں سر رکھ کر نجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔

Read more

مغربی ادب: افلاطون سے پوسٹ مارڈن ازم تک

مغرب کی موجودہ جداگانہ تہذیبی شکل سے تعارف کے لیے ضروری ہے کہ ہم مغربی ادب کے تاریخی سفر سے کسی حد تک ضرور واقف ہوجائیں ورنہ دوسری صورت میں ہمارے قیاس و خیال محض یک طرفہ شکل میں ہمارے ذہن کا حصہ بن کر رہیں گے اور ایک علمی توازن کے ہمیشہ محتاج رہیں گے۔ مغربی تہذیب نے درحقیقت دو قطعی مختلف اور مخالف قدیم ترین مذہبی اور غیر مذہبی روایتوں کے درمیان مستقل ٹکراو سے پرورش پائی ہے

Read more

کچھ ذکر محمد انور خالد کا

خاکسار کو مقبول لکھنے والے کا درجہ حاصل نہیں۔ کبھی کوئی مہربان ایک آدھ سطر سے حوصلہ افزائی کردیتا ہے۔ کہیں سے کوئی اختلافی زاویہ بھی سنائی دے جاتا ہے۔ لکھنے والے کو پڑھنے والے کے ردعمل پر ہمیشہ احسان مند رہنا چاہئے۔ پڑھنے والے کو حق ہے کہ بے اعتنائی سے صفحہ پلٹ دے یعنی ’اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، ہی سے انکار کردے ۔ اور اگر چاہے اڑتی اڑتی سی اک نظر ڈال کر اخبار

Read more

پورنو اور فکشن

۔ منٹو کی کہانی ”بو“ بنت میں موضوع اور ڈکشن میں پینیٹریٹ ہو کر قاری تک پہنچتی ہے۔ وہاں تھوڑا تلذذ ہے مگر بو بو کو ریپلیس کر کے جب پڑھنے والے کو پہنے پھرتی ہے تو وہ بھیگی کالی بھٹیارن ایکراس دی سوسائٹی مہک بکھیرتی دہلیز پار کرتی ہے۔ ” ٹھنڈا گوشت“ پڑھ کر آدمی مزہ لینے کی بجائے خود ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ تلذذ لیتے قاری اپنے آرگنز ٹٹولنے لگتے ہیں۔ تسلی ہونے پر شرمندہ نظر آتے۔ اسی

Read more

دو صدیوں کا انسان ۔ آصف فرخی

آصف سے میری تفصیلی گفتگو سترہ اپریل کو ہوئی تھی۔ وہ دنیا زاد کے ”وبا نمبر“ کی تیاری میں مصروف تھے۔ اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد پرچے کے لئے کچھ بھیجوں۔ میں نے کہا ایک غیر مطبوعہ نظم ہے ”پرندے چہچہاتے ہیں“ ۔ ادھر سے آواز آئی۔ اچھا عنوان ہے! ۔ پھر ٹھہر کر بولے، اور آپ کی وہ نظم جو ’ہم سب‘ میں آئی ہے (وبا کے دنوں میں ایک نظم) عمدہ نظم ہے اسے اور بڑھائیے۔

Read more

انتظار حسین کے نام آصف فرخی کا یادگارخط

1980 میں آصف فرخی صاحب لاہور آئے تو انتظار صاحب نے انھیں اپنی کتاب ’آخری آدمی ‘دی جو انھوں نے ٹرین میں پڑھ ڈالی ۔ کراچی پہنچتے ہی مصنف کو خط کے ذریعے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیس برس کی عمر میں گہری ادبی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ ’آخری آدمی ‘انتظار صاحب کے فنی سفر کا اہم پڑاﺅ ہے اور اس کے افسانوں کی تفہیم میں تو پکی عمر کے نقادبھی ٹھوکر کھاجاتے

Read more

تخلیق سے جنون تک

لوئی آلتھوسر اکتوبر 1918 ء کو نارتھ الجیریا میں پیدا ہوئے۔ یہ نارتھ افریقہ کا ایک ملک ہے۔ وہ پیرس میں پڑھتے رہے۔ جہاں وہ ایک دن فلسفے کے پروفیسر بن گئے۔ وہ فرانس میں معتبر اور معزز ہوئے۔ انہوں نے empiricist اور Marxist کام میں گراں قدر اضافہ کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک تنقیدی سوچ کے حامل بھی رہے۔ انہوں نے کارل مارکس کے کام پر تنقید بھی کی۔ لوئی 1980ء میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ ذہنی

Read more

ہمارے ڈاکٹر ساجد علی کون ہیں؟

ڈاکٹر ساجد علی خود کو پیدائشی استدلال پسند کہتے ہیں۔ بچپن دیہات میں بسر ہوا جو توہم کا کارخانہ تھا مگر وہ توہمات پر یقین کرنے میں متامل رہتے تھے۔ والدین نے جالندھر سے ہجرت کر کے گوجرہ کو مسکن بنایا، یہیں وہ 1951 میں پیدا ہوئے۔ تین برس بعد گوجرہ سے پانچ میل دور گاؤں میں زمین الاٹ ہو گئی تو خاندان وہاں منتقل ہو گیا۔ میٹرک تک کے تعلیمی مدارج گاؤں میں رہ کر طے کیے۔ بچپن میں

Read more

اردو ترجمے میں فورٹ ولیم کالج کا کردار

1600 ء میں ایک تجارتی کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ عہد ملکہ الزبتھ کا عہد تھا۔ اسے درج ذیل نام دیا گیا۔ ”گورنر اینڈ کمپنی آف مرچنٹس ٹریڈنگ ان ٹو ایسٹ انڈیا“ ۔ اس کمپنی کے یہاں قیام کاخالصتاً مقصد تجارتی سرگرمیاں تھا۔ اس کا نام مختصر ہوتا گیا یہاں تک کہ اسے ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کہا جانے لگا۔ لیکن اس کمپنی نے نہ صرف یہاں تجارت کے بہانے برصغیر پاک و ہند کے وسائل کو استعمال

Read more

سیمون دی بووا۔ ایک دانشور فیمنسٹ

جب ہم بیسویں صدی کی عورتوں کی جدوجہد اور فیمنسٹ تحریک کے بارے میں سنجیدگی سے سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں سیمون دی بووا اور ان کی اہم کتاب THE SECOND SEXکے نام ابھرتے ہیں۔ اس کتاب کا نجانے کتنی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اسے پڑھ کر نجانے کتنی ہزاروں لاکھوں عورتوں کی زندگیاں بدل گئیں۔ سیمون 1908 میں فرانس کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والدین کو اعلیٰ تعلیم کا بہت شوق تھا

Read more

جوناتھن کلر کا ساختیاتی تصور

ادب کی دنیا میں مختلف ادوار کے تحت تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ ترقی پسند، جدیدیت اور مابعد جدیدت بذات خود ادبی تنقیدی نظریات نہیں ہیں بلکہ یہ مختلف ادوار ہیں جن کے تحت مختلف ادبی و تنقیدی رجحانات نے جنم لیا۔ جدیدیت کے تحت جو تنقیدی نظریات اردو ادب میں متعارف ہوئے ان میں ساختیاتی تصور اہم نظر یہ کے طور پر ابھرا۔ ساختیات نے نہ صرف زبان و ادب کی ماہیت کے بارے میں، بلکہ ذہین انسان کی کارکردگی کے

Read more

دیوان غالب: ”نسخہ عرشی“ کا تجزیاتی مطالعہ

مولانا امتیاز علی عرشی ( 8 دسمبر 1904۔ 25 فروری 1981 ) اردو ادب کے نامور اور کہنہ مشق مصنف، محقق، مدون، ماہر غالبیات اور مہتمم کتب خانہ رامپور تھے۔ تحقیق و تدوین کی دنیا میں ان کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ مولانا عرشی علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام عمر ادب کی خدمت کے لئے وقف کر دی لیکن ان کی اصل پہچان اور شوق و رغبت اس بات میں تھی کہ نایاب

Read more

فلسطین: اردو ادب میں

انتظار حسین کے افسانہ ”شرم الحرم“ کے مرکزی کردار کی نیند اڑ گئی ہے۔ وہ آنکھیں بند کرتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ بیت المقدس میں ہے اور لڑ رہا ہے۔ انتظار حسین کا یہ کردار ہماری قوم کا ضمیر ہے۔ ہماری قوم جو گزشتہ نصف صدی سے بیت المقدس میں ہے اور لڑ رہی ہے۔ اقبال۔ ؔ نے اس جنگ کو اپنی قومی آزادی کی جنگ کا اٹوٹ حصہ سمجھا اور اس کی تہ در ہ

Read more

آنکھیں ملتا صوفی۔ ریحان اقبال

آپ اسے صوفی کہہ لیں، سست اور آرام پرست سمجھ لیں، بے ضرر سا ذرہ سمجھ لیں، اصول پسند نظریاتی مان لیں یا فلسفوں میں الجھا ہوا مذہبی تصور کر لیں۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ آپ کی سمجھ کا پاس رکھے گا اور آپ ہمیشہ اسے وہی سمجھتے رہیں گے جو آپ سمجھ رہیں ہیں۔ وہ اتنا کثیر الجہت نہیں کہ یہ سب خوبیاں خود میں رکھتا ہو مگر وہ اتنا وسیع المزاج ضرور ہے کہ آپ

Read more

ساجد علی کی سترویں سالگرہ اور دوستی کی گولڈن جوبلی

سال رواں میرے لیے دو باتوں کی بنا پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ساجد علی کی سترویں سالگرہ ہے اور ہماری دوستی کی گولڈن جوبلی۔ اس موقع پر اس گولڈن رفاقت کی چند جھلکیاں پیش کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ساجد کے جاننے اور چاہنے والے انہیں دلچسپ بھی پائیں گے اور ان میں کچھ نیا بھی۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں سال سوم کا طالب علم تھا۔ ایک دن بخاری آڈیٹوریم کی طرف جا رہا تھا۔ بک

Read more

آزادؔ کی ”آب حیات“ اور آج کا قاری

اگلے دن محمد حسین آزادؔ کی شہرہ آفاق کتاب ”آب حیات“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سچ پوچھیں تو انتہائی شاندار اور اذیت ناک تجربہ رہا۔ ہمارا خیال ہے کہ ”آب حیات“ لکھنے کے بعد جناب آزاد ؔ بھی اسے دوبارہ پڑھتے تو وہ شاید اردو لغت کی مدد کے بغیر خود بھی نہ پڑھ سکتے۔ ایسے میں دوران مطالعہ ہمارا حال کیا ہوا ہوگا مت پوچھیے۔ تقریباً ہر سطر میں دو تین بار لغت کی مدد لینی پڑی۔ ہمیں دو

Read more

فیض، فلسطین، لوٹس اور بیروت

انقلابی شاعر فیض احمد فیض سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، لاہور میں تعلیم حاصل کی، امرتسر میں تدریس سے وابستہ رہے، سری نگر میں اپنی اہلیہ ایلس سے شادی کی، راولپنڈی سازش کیس کا حصہ رہے، حیدرآباد (سندھ) میں قید کاٹی، ماسکو میں داد و تحسین کے پھول سمیٹے۔ زندگی کے آخری ایام کا بیشتر حصہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جلا وطن رہے۔ جب جنرل ضیاالحق کی فوجی آمریت نے معاشرے کے سیاسی طور پر فعال طبقات پر استبداد کا

Read more

اماوس کی رات: ایک سماجی تجزیہ

پریم چند کا افسانہ (اماوس کی رات) گاؤں کے ایک مذہبی پنڈت کی کہانی ہے جس نے اپنے پرکھوں کی یاد کے طور پر کاغذوں کے پلندوں کی پوجا کی۔ جس کا نقصان دو طرح سے ہوا، ( 1 ) ۔ ایک یہ اس نے اپنی ساری زندگی اس انتظار میں گزاری کہ کبھی تو آسمانی خدا (بگھوان) اس پر مہربان ہو کر اپنے کرپیا (نظر کرم) کرے گا جس سے اس کی زندگی سپھل (آسان) ہو جائے گی۔ (

Read more

لسانی مطالعہ کیوں کیا جائے؟

لسانی مطالعے کا مقصد کیا ہے۔ لسانی مطالعہ کیوں کار آمد ہے۔ 1۔ لوگوں میں زبان کی ماہیت کے بارے میں عموماً پائی جانے والی ناواقفیت کو دور کرنے کے لیے ہم زبان کا مطالعہ کرتے ہیں 2۔ لسانیات کی تعلیم ایک تربیت بھی ہے۔ ایسی ذہنی تربیت جو جس کا معیار اس سطح کی دوسری اعلا تربیتوں کے برابر ہو۔ تربیت سے مراد کسی زبان کے ایسے حقائق سے با خبر ہونا ہے جنھیں کسی مخصوص نظریے کے دائرے

Read more

شو کمار بٹالوی۔ وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جاں

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم، نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جان، میرے تو دل میں اتر گیا وہ شو کمار بٹالوی پر لکھتے ہوئے محبت کی اس سے خوبصورت کوئی دوسری مثال نہیں دے سکتا۔ پنجابی زبان ادب کا بہت مقبول ترین شاعر، شو کمار بٹالوی جس نے اپنی کم عمری میں شہرت کے پہاڑوں کو سر کیا۔ اس کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خود

Read more

جب منٹو کو آگ پر چلنا پڑا (دوزخ نامہ سے اقتباس)

میرے والد مولوی غلام حسن نے اپنی پہلی بیوی کے تینوں بیٹوں کو پڑھایا لکھایا، بیرون ملک بھیجا، انھیں مستحکم کیا، اور اس منٹو کو سڑک پر چھوڑ دیا۔ جاؤ سالے، لاوارث کتے کی طرح گھومو اور لوگوں کے پھینکے ہوئے ٹکڑے چن کر کھاؤ۔ ان کی پہلی بیوی کے تینوں بیٹے، محمد حسن، سعید حسن، سلیم حسن، انگلینڈ میں رہتے تھے، مرزا صاحب، اور میں سمرالہ کی سڑکوں پر، کیا کر رہا تھا بھلا؟ بندر کا تماشا دیکھ رہا

Read more

سید محمد عبداللہ شاہ المعروف بابا بلھے شاہ ؒ

وقت کی یہ کیسی پراسرارتبدیلی ہے۔ وہ شخص جسے انتقال کے بعد ملاؤں نے اس کے انقلابی فکر و عمل کے باعث اپنے قبرستان میں دفن کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آج وہ دنیا میں عقیدت اور روحانیت کی پہچان ہے۔ قصور اور اس کے آس پاس کے علاقے میں بلھے شاہ کا مزار ایک ایسی واحد جگہ ہے جس میں شہرکا مراعات یافتہ اشرافی طبقہ اس شخص کی قربت میں دفن ہونا باعث فخر سمجھتا ہے، جس کو

Read more

سلیم راز صاحب بھی اللہ کو پیارے ہو گئے!

16 مئی اور 17 مئی سن دو ہزار اکیس یک کے بعد دیگرے ایسے سانحات لے آئے کہ پشتون سیاست اور ادب دونوں سکتے میں رہ گئے۔ سولہ مئی کو آئرن لیڈی محترمہ ( مور بی بی ) بیگم نسیم ولی خان اس دار فانی سے کوچ کر گئیں اور ابھی یہ غم تازہ ہی تھا کہ مرد آہن سلیم راز صاحب بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا کو الوداع کر گئے۔ محترمہ نسیم ولی خان پر تو ان

Read more

کیا آپ لفظ و معنی کے پراسرار رشتے سے واقف ہیں؟

میں نے جب اپنے سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے ادیب ’شاعر اور دانشور دوستوں سے پوچھا کہ کیا آپ HERMENEUTICS ہرمانیوٹکس کی روایت سے واقف ہیں تو انہوں نے مجھے عجیب و غریب نگاہوں سے دیکھا۔ ان میں سے اکثر نے یہ لفظ اور یہ اصطلاح پہلے نہ سنی تھی لیکن وہ اس کے بارے میں کچھ جاننے کے خواہشمند تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہرمانیوٹکس فلسفے ’نفسیات اور ادب کی وہ روایت ہے جس کا بنیادی موقف

Read more