دکھوں کا مداوا
ہم پر عجب وقت آن پڑا ہے کہ قوم سے زیادہ اس کی قیادت انتشار اور بے سمتی کا نہایت شرمناک نمونہ پیش کر رہی ہے اور عظیم لوگ ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں۔ غالبؔ نے اپنے بھتیجے زین عارف کے انتقال پر مرثیہ لکھا تھا جس کا ایک شعر یوں ہے ؎ جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے، کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔ ہمارے دوست شعیب بن عزیز کے دل پر
Read more













































































