درد کی زنجیر، زینب سے نور تک

گھناؤنے جرائم کی نہ کوئی قومیت ہوا کرتی اور نہ کوئی تذکیر و تانیث۔ ابھی پچھلے دنوں 3 مارچ کو لندن کے ایک خاموش علاقے میں سارہ نامی ایک خاتون اپنی سہیلی سے ملنے کے بعد شام ڈھلے واپس پیدل آ رہی تھی کہ اچانک غائب ہو گئی۔ پولیس نے تفتیش شروع کرتے ہوئے کیس کی خوب تشہیر کی۔ ایک ہفتے کے بعد ایک قریبی جنگل سے خاتون کی لاش بر آمد ہو گئی۔ اس سے اگلے دن لندن پولیس کی خاتون سربراہ نے پریس کانفرنس میں ایک پولیس والے کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے سخت ندامت اور افسوس کا اظہار کیا۔

Read more

دکھوں کا مداوا

ہم پر عجب وقت آن پڑا ہے کہ قوم سے زیادہ اس کی قیادت انتشار اور بے سمتی کا نہایت شرمناک نمونہ پیش کر رہی ہے اور عظیم لوگ ہمارے درمیان سے اٹھتے جا رہے ہیں۔ غالبؔ نے اپنے بھتیجے زین عارف کے انتقال پر مرثیہ لکھا تھا جس کا ایک شعر یوں ہے ؎ جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے، کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور۔ ہمارے دوست شعیب بن عزیز کے دل پر

Read more

نور مقدم کے اصل قاتل: وہ لوگ جنہوں نے تشدد کے خلاف قانون پاس نہیں ہونے دیا

نور مقدم پر ہونے والے بہیمانہ ظلم اور خوفناک قتل کے ذمے دار وہ مولوی ہیں جنھوں نے آج تک خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے بل کو پاس نہیں ہونے دیا۔ اس قتل کے ذمے دار وہ سیاستدان ہیں جنھوں نے گھریلو تشدد کے خلاف بل کو ووٹ آؤٹ کیا۔ اس قتل کا ذمے دار صرف ظاہر جعفر نہیں بلکہ وہ مشیر، وزیر اور اسپیکر اسمبلی ہیں جنھوں نے یہ بل پاس کرنے کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل میں

Read more

جمہوریت کی آزادی یا آمریت کی کج روی

منٹو لفظ کا جوہری تھا۔ اسے اونچی دکان کی جھالر پٹی یا دست فروش کی کم مائیگی سے غرض نہیں تھی۔ وہ اپنے قلم کی نوک سے ایسا لفظ اٹھاتا تھا جو معنی ہی نہیں، کیفیت بھی بیان کرے۔ احساس کے کیف و کم ہی پر اکتفا نہ کرے، سوچ کے پیچ و خم کا احاطہ بھی کرے۔ اواخر نومبر یا دسمبر 47ء کے ابتدائی ہفتوں میں منٹو بمبے کی بندرگاہ سے پاکستان روانہ ہوا۔ اس نے اپنی ان دنوں

Read more

مینارِ پاکستان: قراردادِ لاہور کی یادگار جس کی تعمیر کی رقم سینما گھروں اور گھڑ دوڑ کی ٹکٹوں سے جمع کی گئی

برصغیر کی تاریخ پر نظر رکھنے والے محققین کے مطابق مینارِ پاکستان کی تعمیر کے وقت اور اس کے بعد بھی اس پر کئی قسم کے اعتراضات اٹھائے جاتے رہے۔ ایک نقطہ یہ بھی سامنے آتا رہا کہ پاکستان کی آزادی کی جدوجہد کی علامت صوبہ پنجاب ہی میں کیوں تعمیر کی گئی۔

Read more

آج بھی منٹو کا پاکستان اور ”کھول دو“ کی سکینہ کا کھلا ازار بند

یہ وہی پاکستان ہے نا، جس کا مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کے تحفظ کے لیے جناح صاحب نے مطالبہ کیا تھا؟
یہ وہی پاکستان ہے نا جس کا وعدہ تھا کہ یہاں بسنے والی تمام قوموں کو یکساں حقوق حاصل ہوں گے؟
یہ وہی پاکستان ہے نا، جو طاقتور شہنشاہیت کی غلامی سے آزادی کا دعویدار تھا؟

Read more

بیانیے کی ریاست

ریاست پاکستان کے داخلی اور خارجی محاذوں پر اس وقت بھونچال آیا ہوا ہے۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور کل کے دشمن آج کے دوست ٹھہرائے جا رہے ہیں۔ ارباب اختیار گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہے ہیں اور ایک دفعہ پھر نیا بیانہ تراش رہے ہیں۔ یہ تمام صورتحال ریاست ہائے متحدہ امریکا کے اچانک افغانستان سے جانے کے بعد پیدا ہوئی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی نے ٹھہرے ہوئے پانی پر چاند کے عکس

Read more

بلوچ عورت، مرد اور مصنوعی غیرت کے علمبردار

چند دن پہلے فیس بک پر ایک گروپ میں کسی نے سنج بلوچ نام کی لڑکی کی وڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ ماسک پہنے ولاگ بنا رہی ہے۔ جس میں یقیناً ناپختگی صاف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن بیچاری مردوں کو تنقید کا دعوت دیتی بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس بات سے انجان کہ اس کی وڈیوز کے بعد بلوچ غیرت ناگاساکی اور ہیروشیمائی بربادی کی تصویر بن جائی گی۔ نیچے کمنٹس میں گالیوں کے پھول برسانے کے ساتھ

Read more

دلیپ کمار، امیتابھ بچن اور شراب

بر صغیر کے سینما میں شراب اور شرابی کا کردار مستقل ہوتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے اکثر فنکاروں نے پردہ کے اوپر اور پس ِپردہ بھی مے نوشی کی جس کے باعث ان کی صحت کے ساتھ، ساتھ کیریئر متاثر ہوا۔ مگر دلیپ کمار اور امیتابھ بچن دو ایسے فنکار ہوئے ہیں جنہوں نے شرابی کا کردار ادا کرتے ہوئے الٹا شرابیوں سے داد و تحسین کے ڈونگرے وصول کیے ہیں۔ دلیپ کمار صاحب نے ’’دیوداس‘‘ میں ایک ایسا

Read more

انقلابی راہنما سینگار نوناری کا جبری اغوا، ریاستی بیانیہ اور بے بس عدالتیں

چند ہفتوں بعد ہمارے وطن عزیز کو ایک آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آئے 74 برس ہو جائیں گے۔ نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے والے ممالک کا بغور جائزہ لیں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم نے ان 74 برسوں میں اپنے عوام کو کیا دیا؟ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کو کس حد تک یقینی بنایا؟ ان کی تعلیم، صحت اور روزگار کا کس قدر بندوبست کیا ہے؟ ان کے آئینی و جمہوری حقوق کو کس حد تک یقینی بنایا؟ یہی وہ بنیادی انسانی حقوق ہیں، جن کے تحفظ کے لیے ریاست قائم کی جاتی ہے۔

Read more

عمران خان کا ’فلمی ڈاکٹرائن‘ کیا ہے اور کیا پاکستانی فلمساز وزیر اعظم کے وژن کے مطابق فلمیں بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟

پاکستان میں فلمی دنیا سے وابستہ ماہرین کے مطابق فی الحال ہمارے ہاں عالمی معیار کی فلم بنانے کی تربیت،تکنیک اور وسائل نہیں ہیں۔ لیکن اگر بدلتی ہوئی دنیا میں فلم کی اہمیت کو تسلیم کر لیا گیا ہے تو ریاستی اور حکومتی سطح پر اس صنعت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔

Read more

ٹورنٹو میں دلیپ صاحب کے ساتھ ایک انٹرویو کی کہانی

سنہ 1985 میں، گرمیوں کے موسم میں، ایک دن چندر شیکھر کا فون آیا کہ آج اسٹوڈیو میں دلیپ کمار اور سائرہ بانو کو میں نے انٹرویو کے لئے بلایا ہے، تو تم بھی آ جاؤ اور دلیپ کمار سے اردو میں انٹرویو کر لو۔ میں نے دل میں سوچا دلیپ کمار تو بہت بڑے اداکار ہیں اور اپنے پاکستانی پس منظر کی وجہ سے ان کے بارے میں اس وقت تک میری معلومات بھی بہت واجبی سی تھیں۔ کیوں کہ 1965 کی جنگ کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہر قسم کے ثقافتی اور ادبی رابطے ختم ہو گئے تھے۔

Read more

منٹو ایک سوچ

سعادت حسن منٹو ان ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں کہ جنہوں نے معاشرے کے ایسے مسائل کو موضوع بنایا جو عام آدمی کی نظر سے دور تھے۔ ادب کی دنیا کا وہ نام کہ جس نے ایک الگ طرز فکر سے اپنی تحریریں سماج کے سامنے رکھیں، ان کی تحریروں کے موضوعات محدود نہیں۔ منٹو نے صرف جنس یا طوائف پر بات نہیں کی بلکہ فسادات اور معاشی بدحالی کو بھی اپنے افسانوں میں بیان کیا۔ انھوں نے سماج

Read more

ہماری بنیادی ضروریات اور ( اڈ۔ ایگو۔ سپر ایگو)

انسانی وجود کو زندہ رہنے کے لیے بہت ساری چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک بھی عدم دستیاب ہو تو انسانی وجود کے ذروں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ انسان اس قدر کمزور، مایوس، مضطرب اور کاہل ہو جاتا ہے کہ وہ کار زندگی کو بجا لانے کے ساتھ ساتھ عبادات کو سرانجام دینے میں بھی کوتاہی برتنے لگ جاتا ہے۔

Read more

جنس اور جارحیت کی نفسیات

جنس اور جارحیت کا رشتہ
پیچیدہ بھی ہے گنجلک بھی
شعوری بھی ہے لاشعوری بھی
صحتمند بھی ہے مریضانہ بھی

جنسی مباشرت بظاہر ایک جارحانہ عمل ہے لیکن جب یہ عمل دو محبوبوں کے درمیان ہوتا ہے تو اس میں محبت، پیار، اپنائیت اور خلوص آپس میں بغلگیر ہو جاتے ہیں اور دو چاہنے والے اپنی خوشی اور رضامندی سے ایک دوسرے کو جنسی معراج تک پہنچاتے ہیں اور جب اس معراج سے واپس لوٹتے ہیں تو ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مشرق کی تانترک روایت تو جنسی مباشرت کو نروان حاصل کرنے کا روحانی طریقہ سمجھتی ہے۔

لیکن جب جنسی تعلق غیر صحتمند ہو جائے تو پھر ایک فریق مباشرت کو جارحیت کے طور پر اور اپنے غصے، نفرت، تلخی اور بدلہ لینے کے جذبے کے لیے جنس کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

Read more

علی اکبر ناطق کا ناول: کماری والا

بچپن میں ہمارے گاؤں ایک مداری آیا کرتا تھا۔ جو سڑک کنارے اپنی ڈگڈگی بجا کر مجمع لگاتا تھا۔ اس کا کم سن بیٹا بانسری بجا بجا کر لوگوں سے پیسے وصول کر رہا ہوتا تھا کہ اچانک باپ بیٹے کی ڈگڈگی اور بانسری بجنا بند ہو جاتی تھی۔ وہ مجمعے کی جانب منہ کر قسمیں دیتا کہ اس مجمعے میں کوئی جادوگر موجود ہے وہ مہربانی کرے ہماری بانسری اور ڈگڈگی پر سے اپنا جادو ختم کردے۔ جادو گر

Read more

منٹو وارث علوی کی نظر میں

سعادت حسن منٹو کی شخصیت میں دلچسپی کا آغاز ان کے نام ہی سے ہو جاتا ہے۔ شروع میں سب ہی کو حیرت ہوتی ہے کہ یہ منٹو کیا ہے۔ بلونت گارگی لکھتے ہیں۔ ”بہت عجیب نام تھا۔ منٹو جیسے لارڈ منٹو، پنٹو۔ یا ومٹو، بہت نقلی یا مضحکہ خیز! منٹو کے نام میں سعادت حسن کی پوری ادبی اور غیر ادبی شخصیت سمٹ آئی تھی۔ منٹو کو بھی اس کا احساس تھا چنانچہ لکھتے ہیں :  ”اور یہ بھی

Read more

شیطان بھی شرما جائے

وطن عزیز کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ جو اب نہ تو اسلامی رہا اور نہ ہی جمہوریہ۔ جمہوری ملک میں جمہور کی نمائندگی ہونا ضروری ہے، مگر یہاں جمہور کی نہیں بلکہ اشرافیہ کی، یا یوں کہنا چاہیے کہ چند خاندانوں کی اجارہ داری اور حکمرانی ہے۔ جو نسل در نسل سیاست کے میدان کو اپنی موروثی جاگیر سمجھتے ہیں۔ رہی بات اسلامی کی تو نہ یہاں کا قانون شریعت اسلامی کے عین مطابق ہے اور نہ ہی معاشرہ۔

Read more

کئی چاند تھے سر آسماں

ایک دکھ ہے جو دامن سے لپٹ رہا ہے، ایک درد ہے جو جگر کو لہو کر رہا ہے، ایک ٹیس ہے جو دل کو چھلنی کر رہی ہے، ایک برسات ہے جو آنکھوں سے جاری ہے، ایک فغاں ہے جو لبوں پر رقصاں ہے اور خیالات ہیں کہ شکست خوردوں کی مانند منتشر ہو رہے ہیں، فقط اس لیے کہ اپنے محبوب سے ملاقات نہ ہو سکی، جن کو محبوب کا فراق لاحق ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ محبوب سے ملاقات نہ ہونا کتنی بڑی اذیت ہے، جو نہیں جانتے وہ ان کے مردہ دلوں کے لیے دعائے خیر، شمس الرحمان فاروقی سے فقط اتنا تعارف تھا کہ وہ نقاد ہیں، کبھی کبھار یوٹیوب پر کوئی ویڈیو بھی دیکھ لی جاتی تھی، مگر ابھی ان کو پڑھا نہیں تھا، یہ کم بخت رزق کی پریشانی کہیں اور بسیرا کرے تو ادب کی طرف توجہ مرکوز ہو، جہانزیب ساحر کا شعر تھوڑی سے تبدیلی کے ساتھ ملاحظہ ہو۔

Read more

ادب میں فحاشی کا مسئلہ

فحاشی کا مسئلہ، بلاشبہ مذہبی اصلاح پسندوں اور ریاست کو طاقت کے اندھے استعمال کی غیر معمولی ترغیب دیتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخلاقی اصلاح کے طوفانی جوش اور ریاستی جبر کو کسی ردّعمل کا سامنا نہیں ہوتا اور انھیں اپنی طاقت کے یک طرفہ استعمال کی کھلی چھٹی ملتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ادب کے خلاف فحاشی کی فردِ جرم، ادیبوں کے لیے ایک آزمائش تو ثابت ہوتی ہی ہے، انھیں ادب کی نہاد

Read more

مارکسی راہنما سی آر اسلم کی یاد میں

دس جولائی کو برصغیر کے نامور مارکسی دانشور، انقلابی رہنما اور پاکستان میں ترقی پسند تحریک کے بانیوں کے سرخیل، استاد محترم سی آر اسلم کی چودھویں برسی ہے، جو 10 جولائی 2007 کو اپنے دوستوں، ساتھیوں اور رفیقوں سے 70 سالہ طویل سیاسی رفاقت نبھا کر رخصت ہو گئے تھے۔ بلاشبہ سی آر اسلم برصغیر کی ترقی پسند تحریک کا ایک اہم باب تھے۔ انیسویں صدی میں انگریز سامراج نے اپنی کپڑے کی صنعت کا خام مال پیدا کرنے

Read more

سہیل عظیم آبادی کی افسانہ نگاری

افسانہ ایک ایسی نثری، تخلیقی و بیانیہ صنف ہے جو انسانی حیات کے کسی ایک پہلو کو قاری کے سامنے پیش کرتا ہے مگر اس رنگ و روغن کے ساتھ کہ واقعہ اور احساس کی سطح پر تشنگی کا احساس نہیں ہوتا، ساتھ ہی قاری کے ذہن اور طبیعت کی سیری بھی ہو جاتی ہے۔ بالکل گلاب کی اس کلی کی مانند جو ایک پورے گلاب کی جزئیات اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔

افسانہ کی صنفی تعریف کے مطابق نا ہی وقت کی تنگی کی شکایت اور نا ہی اس کے زیاں کا احساس مصروف ترین اور عدیم الفرصت قاری کے ذہن کو کچوٹتا ہے۔ ایک افسانہ اور افسانہ نگار کا تعلق بھوک اور غذا کا سا ہوتا ہے۔ ایک اچھے افسانہ نگار کی بھوک اس سے اچھے افسانے تخلیق کرواتی ہے۔

Read more

چندن راکھ ( افسانے ) مصباح نوید

افسانوں کے اس مجموعے نے اپنے خوبصورت سرورق اور انوکھے نام کی وجہ سے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔ پبلشر، نگارشات نے ایک ہی فون کال پہ کتاب مجھے مہیا کردی اور میں نے ان افسانوں کا مطالعہ کر ڈالا۔ چندن راکھ، محترمہ مصباح نوید کے 16 افسانوں کا مجموعہ ہے اور کتاب کے مطالعے سے علم ہوا ہے کہ یہ ان کے افسانوں کا اولین مجموعہ ہے۔ ادب اور افسانے کا طالب علم ہونے کے باوجود میری نظر میں اس سے پہلے ان کی کوئی ادبی تحریر نہیں گزری۔

Read more

عثمان خان کاکڑ شہید

عالیہ دنوں ایک سانحہ رونما ہوا جس سے سارے جمہوریت پسند اور مزاحمت پسند اشکبار ہوئے لوگوں کو اس واقعے نے جھنجوڑ کہ رکھ دیا۔ جمہوریت پسند اور مزاحمت پسند اقوام کی چوٹی کے لیڈر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری، صوبائی صدر اور سابقہ سینیٹر عثمان خان کاکڑ شہید ہوئے جو کہ ایک نظریاتی، انسان دوستی کے ساتھ مظلوم اقوام کی نمائندگی ماورائے رنگ، نسل، زبان اور علاقہ جس خلوص یا اخلاص سے انہوں نے کی واقعی ایک

Read more

مفتی اور خلیل الرحمان قمر جیسوں کا کیا ہو گا

صاحب، بات کرنے سے پہلے قسم لے لیجیے جو کسی بھی ادبی، سیاسی، مذہبی اور سماجی گروہ سے ہمارا تعلق ہو اور ہم کسی ایک کے ایجنڈے پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے دوسروں کے بھڑکتے ہوئے جذبات پاؤں تلے روند رہے ہوں۔

مفتی نام سے خوش فہم ایک صاحب نے ہمیں بے وقوف عورت کے لقب سے نوازا ہے۔ ہم انہیں جانتے نہیں سو ہمیں حیرت بھی نہیں ہوئی بلکہ اپنی پیٹھ ٹھونکنے کو جی چاہا کہ ہم مرد ذات کے متشددانہ رویوں کے متعلق جو لکھتے ہیں وہ انہوں نے دو منٹ میں ثابت کر دیا۔ ایک انجان عورت پر فتویٰ جاری کرنے والا مرد ذاتی زندگی میں کیا کیا کرتا یا کر سکتا ہو گا، تصور کر لیجیے!

Read more

بچوں کو یہ بھی پڑھایا جائے

لازم ہے بچوں کو پڑھایا جائے کہ جب چار لوگ مل کے رہتے ہیں تو کچھ اصول وضع کرتے ہیں۔ سب پر واجب ہے کہ ان اصولوں کی پیروی کریں۔ اگر یونیورسٹی ہے تو یہ اصول پراسپیکٹس کہلاتے ہیں۔ یونیورسٹی میں کسی نے پڑھنا ہے کسی نے پڑھانا ہے کسی نے امتحان میں پاس فیل ہونا ہے کوئی کورس منتخب کرنا ہے۔ یہ سب اسی پراسپیکٹس کے مطابق ہو گا۔ ایسا ہر گز نہیں ہو گا کہ ایک بچے کے

Read more

بڑے ایوانوں پر مادری زبانوں کے دروازے بند کیوں ہیں؟

قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے، کچھ دن پہلے بجٹ پر بحث کرتے ہوئے حزب اختلاف کے ایک ممبر جاوید شاہ جیلانی نے سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی اور سرائیکی زبان کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا، اسی اجلاس میں سرائیکی وسیب کے ممبر مہر ارشاد نے سرائیکی زبان میں خطاب شروع کیا، تو پریزائیڈنگ افسر امجد خان ولد شیر افگن خان نے ان کو روک کر اردو میں بات کرنے کو کہا، روکنے والی کی اپنی

Read more

احمد راہی۔ پنجابی ادب کا ایک چمکتا ستارہ۔

احمد راہی متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے۔ 1947 میں پاکستان ہجرت کر کے لاہور میں قیام کیا۔ ان کے 1952 میں چھپنے والے پنجابی نظموں کے مجموعے ً ترنجن ً کو پنجابی ادب میں ایک کلاسیک کا درجہ حاصل ہے۔ اس شعری مجموعے میں پنجابی ثقافت اور تقسیم ہند میں پیش آنے والے واقعات کو ہیر۔ صاحباں اور سوہنی جیسے لوک کرداروں کی تشبیہات سے پیش کیا گیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی بیشتر نظمیں

Read more

اندرون لاہور کے کوتوال: پولیس کا وہ نظام جو دلی سلطنت سے لے کر انگریز دور تک جاری رہا

اندرون لاہور میں ’شاہی گزرگاہ‘ کہلائے جانے والی ڈیڑھ کلومیٹر طویل سڑک پر چند افراد خاکی رنگ کی وردی اور اونچے شملے والی پگڑی پہنے، ہاتھ میں ڈنڈا اٹھائے اور گھٹنوں تک لمبی پتلون کی بیلٹ کے ساتھ پانی کی بوتل لٹکائے گذشتہ چند روز سے گھوم رہے ہیں۔

Read more

مختصر لباس اور روبوٹ مرد

وزیراعظم پاکستان نے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب جو کہ پاکستان میں بڑھتے ہوئے جنسی تشدد، ریپ، بچوں سے زیادتی، سے متعلق تھا اس میں جو بھی کہا الگ الگ سوچ اور طبقہ فکر کے لوگ اس بیان کو اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ایک طبقے نے جسے ہمارے سماج میں ایلیٹ، لبرلز، ماڈرن، فیشن ایبل کہا جاتا ہے۔ وہ اس بیان پر اسے اپنی شخصی آزادی پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ اور خواتین کے لباس کو ان کا مکمل انفرادی حق قرار دے رہے ہیں۔

میڈیا اور فیشن انڈسٹری سے وابستہ لوگ بھی اس بیان پر شدید نا پسندیدگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ میڈیا پرسن اور فیشن انڈسٹری کے لیے تو یہ بات اس لیے بھی انتہائی ناپسندیدہ ہے کی اس سے ان کا بزنس اور سرمایہ کاری براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

دوسری طرف وہ طبقہ ہے جسے ہمارے سماج میں قدامت پسند یا مذہبی تصور کیا جاتا ہے۔

Read more

اقبال اور منٹو میں بحث: اردوادب کو ماہواری کیوں نہیں آتی؟

ہم عجیب سی الجھن کا شکار ہو گئے جب ہماری بیٹی نے ہم سے وہ سوال پوچھا۔ پہلے تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ کیا جواب دیں؟ سمجھ آیا تو دل مچل اٹھا کہ کون کون؟ پھر یوں ہوا کہ دل بے تاب کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے ہمیں فہرست مرتب کرنے کی ضرورت پیش آ گئی۔ ارے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ سوال کیا تھا؟ ہوا کچھ یوں کہ ہماری بیٹی کچھ ایسے واقعات کے بارے میں

Read more

ایک عورت کو شلوار اتارنے کی دھمکی دینے والا قبیلہ دنیا میں نشان عبرت

ہم ٹھہرے چھوٹے موٹے سے لکھنے پڑھنے اور کڑھنے کڑھانے والے اس لیے آج تک واقف تھے تو منٹو سے جس کے افسانے ”کالی شلوار“ اور ”کھول دو“ اکثر و بیشتر نظروں سے گزرتے تو جیسے ہی کسی مولوی ٹائپ کے سامنے منٹو کا ذکر بھی ہوتا تو وہ لاحول پڑھ کر، ناک بھوں چڑھا کر اور ہمیں برا بھلا کہہ کر وہاں سے چلا جاتا، ان اوریاؤں کے پاٹے پرانے ایڈیشنوں کے نزدیک منٹو، عصمت چغتائی اور عورت کے کھلے

Read more

کینیڈا میں مقیم مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم پر تشویش: ’یہ خواتین کینیڈا خوفزدہ ہونے نہیں بلکہ بہتر اور محفوظ زندگی گزارنے آئی ہیں‘

کینیڈا کے شہر لندن میں پاکستانی نژاد خاندان کے چار افراد کے قتل کے بعد ملک میں نفرت پر مبنی جرائم کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے اور حالیہ دنوں میں کم از کم چار ایسے واقعات پیش آئے ہیں جن سے یہاں بسنے والے مسلمان غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔

Read more

میں ایک عورت دشمن شاعر رہا ہوں

حالی نے انیسویں صدی کے آخر یا بیسویں صدی کی ابتدا میں اپنے دیوان میں غزلوں کو جدید اور قدیم جیسے دو حصوں میں بانٹا تھا۔ اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ شاعری میں ہونے والی تبدیلیوں کو وہ نمایاں کرسکیں۔ یہ کون نہیں جانتا کہ حالی نے ایسی شاعری کی مخالفت کی تھی، جس میں شاعری کے نام پر عورت یا محبوب کو لے کر ابتذال کی حد کردی گئی تھی۔ ان کی تنقید میں ایک قسم

Read more

لائسنس۔ مابعد منٹو

اکیسویں صدی اپنی عمر کی بیس بہاریں دیکھ چکی تھی۔ نانیوں دادیوں سے سنتے آئے تھے لڑکیاں جلدی بڑی ہو جاتی ہیں اور لڑکے بے چارے باپ کے کاندھے تک آتے آتے بہت وقت لگا دیتے ہیں حالانکہ بچاروں کی داڑھی پیٹ میں ہوتی ہے مگر کون مانے۔ صدی بھی مونث ٹھہری سو پیدائش کے ساتھ ہی جوانی چلی آئی۔ مگر یہ موصوفہ ایسے رنگ ڈھنگ بدلے گی یہ کس نے سوچا تھا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی پری نے سب

Read more

ہمارے ڈراموں میں بڑی عمر کی عورت کے لیے کچھ نہیں: ثانیہ سعید

کراچی — پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی مشہور اداکارہ ثانیہ سعید کہنا ہے کہ یہ سمجھنا غلط ہے کہ چالیس برس کے بعد عورت کی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔

بتیس برس سے ٹیلی ویژن سے وابستہ اداکارہ ثانیہ سعید نے وائس آف امریکہ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ہم ایک انتہائی ‘سیکسٹ’ (صنفی تعصب) اور ‘ایجسٹ’ (عمر کی بنا پر تعصب) معاشرے میں رہتے ہیں۔

Read more

منٹو کا افسانہ ’لائسنس‘ اور صحافی کا روزگار

درویش گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا تو ایک طرف، ڈھنگ سے سڑک پار کرنا بھی نہیں جانتا۔ وہی جو سیماب اکبر آبادی نے کہا تھا، ’کم بخت جب ملا ہمیں، کم آشنا ملا‘۔ اساتذہ نے سبق دیا تھا کہ صحافی کو صیغہ متکلم سے گریز کرنا چاہیے۔ اخبار کا صفحہ پڑھنے والوں کی امانت ہے، صحافی کی ذات کا اشتہار نہیں۔ مجبوری آن پڑی ہے۔ کچھ ایسا بجوگ پڑا ہے کہ کسی کا نام لئے بغیر بھی بات کرو تو

Read more

پورنو اور فکشن

۔ منٹو کی کہانی ”بو“ بنت میں موضوع اور ڈکشن میں پینیٹریٹ ہو کر قاری تک پہنچتی ہے۔ وہاں تھوڑا تلذذ ہے مگر بو بو کو ریپلیس کر کے جب پڑھنے والے کو پہنے پھرتی ہے تو وہ بھیگی کالی بھٹیارن ایکراس دی سوسائٹی مہک بکھیرتی دہلیز پار کرتی ہے۔ ” ٹھنڈا گوشت“ پڑھ کر آدمی مزہ لینے کی بجائے خود ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ تلذذ لیتے قاری اپنے آرگنز ٹٹولنے لگتے ہیں۔ تسلی ہونے پر شرمندہ نظر آتے۔ اسی

Read more

سچ بیان نہ کرنے کا ٹھوس جواز

کتابوں کے کبھی ”قلمی نسخے“ ہی ہوا کرتے تھے۔ کئی مہینوں کی مشقت سے تیار ہوئے ”مخطوطے“ بادشاہوں، نوابوں اور رئیسوں ہی کو میسر ہوتے۔ خلق خدا تک ان کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ غریب گھرانوں کے طالب علم بہت تگ و دو کے بعد ان تک رسائی حاصل کرتے تو کتابوں میں لکھی باتوں کو محض یاد رکھنا ہوتا تھا۔ استادوں کی جی حضوری بھی اسی باعث لازمی تھی۔

آج سے چھے صدیاں قبل مگر چھاپہ خانہ ایجاد ہو گیا۔ علم کو اس نے عام لوگوں تک پہنچانا ممکن بنا دیا۔ دنیا بھر کی بادشاہتیں اس ایجاد سے البتہ گھبرا گئیں۔ خلافت عثمانیہ ویسے تو اپنے زمانے کے اعتبار سے معاصر سلطنتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ”روشن خیال“ تھی۔ اس کے علماء نے مگر چھاپے خانے کو ”حرام“ قرار دیا۔ جواز یہ تراشا کہ طباعت کے مراحل مقدس کتابوں خاص طور پر کلام پاک کی ”بے حرمتی“ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسلامی دنیا کی بے پناہ تعداد لہٰذا طبع شدہ کتابوں سے کئی دہائیوں تک محروم رہی۔

Read more

ڈاکٹر آصف فرخی دوستوں کو جُل دے گئے

گستاخی معاف ڈاکٹر صاحب، آپ نے کھیل کے آداب کی خلاف ورزی کی ہے۔ چپکے سے تالہ بندی کا تالہ توڑ کے دوستوں کے گھیرے سے نکل لئے، جو ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ ہوا کیا اور اب وہ کیا کریں! پچھلے دو ماہ سے شگفتگی اور امید کے رنگ لئے، مرصع اردو میں حالاتِ حاضرہ پہ کہی جانے والی باتوں اور دیس دیس کی کہانیوں نے ہر کسی پر ایسا جادو کیا تھا کہ بار بار

Read more

جسٹس فائز عیسیٰ کیس، دوسری نظرثانی اپیل پر اعتراضات درست ہیں یا غلط؟

سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے حکومت کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرِ ثانی کیس میں ہونے والے فیصلے کے خلاف جمع کرائی گئی نظرِ ثانی کی نئی درخواستوں پر اعتراض لگا کر واپس کر دیا ہے۔

یہ نظرِ ثانی درخواستیں صدر، وزیرِ اعظم اور وزیرِ قانون نے جمع کرائی تھیں۔ جب کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور شہزاد اکبر نے بھی نظرِ ثانی کی علیحدہ درخواستیں سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھیں۔

Read more

یودوکیہ

یہ ناول ویراپانووا کا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ قرۃ العین حیدر نے کیا ہے۔ نومبر 1965 ء میں مکتبہ جامعہ نئی دہلی لمیٹڈ سے یہ کتاب شائع ہوئی۔ مجھے اس کتاب کو پڑھنے کا شرف پچھلے مہینے جب تیس اپریل، یکم مئی میں بدل رہی تھی تب ملا۔ میں بالکل اس بات سے نا آشنا تھی کہ یہ ناول اپنے اندر سویت یونین یا پھر مزدوروں کے بارے میں اور خاص کر اس دور کے بارے میں اتنے حقائق سمیٹے ہوئے ہو گا۔ اس ناول کے پیش لفظ میں اس کی مصنفہ کا ایک اجمالی سا تعارف پیش کیا گیا ہے کہ ویرپانووا 1905 ء میں پیدا ہوئیں، انہوں نے چار ناول، متعدد ناولٹ، افسانے اور ڈرامے بھی لکھے۔ حیرت کی جو بات مجھے کھٹکی وہ ہے ان کی تصانیف کی مجموعی تعداد پچاس لاکھ ہے۔ اس ناول کو لکھنے کا خیال ویرپانووا کو دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں آیا مگر مکمل ناول کی صورت میں 1959 ء میں چھپا۔ یاد رہے کہ ویرپانووا کی پہلی کہانی 1944 ء میں جب کہ ان کی پہلی باقاعدہ کتاب 1946 ء میں چھپی۔

Read more

جب منٹو کو آگ پر چلنا پڑا (دوزخ نامہ سے اقتباس)

میرے والد مولوی غلام حسن نے اپنی پہلی بیوی کے تینوں بیٹوں کو پڑھایا لکھایا، بیرون ملک بھیجا، انھیں مستحکم کیا، اور اس منٹو کو سڑک پر چھوڑ دیا۔ جاؤ سالے، لاوارث کتے کی طرح گھومو اور لوگوں کے پھینکے ہوئے ٹکڑے چن کر کھاؤ۔ ان کی پہلی بیوی کے تینوں بیٹے، محمد حسن، سعید حسن، سلیم حسن، انگلینڈ میں رہتے تھے، مرزا صاحب، اور میں سمرالہ کی سڑکوں پر، کیا کر رہا تھا بھلا؟ بندر کا تماشا دیکھ رہا

Read more

آزادی نسواں یا آزادی انسان؟

محترم ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم ”کیا مرد ماضی کی زنجیروں سے آزاد ہوسکتے ہیں“ پڑھا اور مجھے احساس ہوا کہ یہ کالم/تقریر نہ صرف ایک انسان دوست ماہر نفسیات نے لکھی بلکہ ایک منجھے ہوئے ہوئے طبیب نے بھی لکھی ہے کیونکہ اس میں نہ صرف مرض کی تشخیص کی گئی ہے بلکہ اس کی وجہ اور اس causing factor کے تدارک پر بات کی گئی ہے۔ میرے لیے یہ ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنا کہ یہ کالم

Read more

نامور ہاری رہنما حسن عسکری بھی چلے گئے

سندھ دھرتی کے نامور انقلابی سپوت، سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی کمٹڈ اور بے لوث ہاری راہنما کامریڈ حسن عسکری بدھ 5 مئی کو کینسر سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے آخری تقریبات میں شرکت لے لیے کراچی آنے والے ترقی پسند کارکنوں اور عقیدت مندوں نے اشکبار آنکھوں سے ان کی تدفین کر دی۔ ان کے جسد خاکی کو عوامی ورکرز پارٹی کے سرخ پرچم میں رکھا گیا، جسے تھامے وہ 55 برس

Read more

ٹھنڈا گوشت: وہ افسانہ جو منٹو کے لیے بہت گرم ثابت ہوا

ٹھنڈا گوشت نہ صرف قیام پاکستان کے بعد منٹو کی پہلی افسانوی تخلیق تھا بلکہ اپنی مخصوص نوعیت کے اعتبار سے بھی اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

Read more

آہ شمیم حنفی! لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے

اس برس تو کرونا وبا نے ایسے وار کیے کہ بڑوں بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر ان کے پھیھڑوں کو چھلنی کر دیا اور سانسوں کی مالا کو چھین کر اللہ گھر پہنچا دیا۔ مشرف عالم ذوقی ایسی وائرس کا شکار ہوئے اور وائرس نے ان کو لپک لیا پھر ان کی بیگم کو بھی۔ کتنا اذیت ناک صدمہ تھا ابھی یہ صدمہ بھولا ہی نہیں تھا کہ ایک اور صدمہ دل کے دروازے پر دستک دے گیا، آہ شمیم حنفی صاحب! وہ بھی اس منحوس وائرس کا شکار ہو گئے۔ انہیں چند روز قبل کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

Read more

رحمان صاحب: ہلکی پھلکی یادیں (1)

جناب آئی اے رحمان کے دنیا سے چلے جانے پر سوشل میڈیا پہ جو بے شمار چاہنے والے سپاسِ عقیدت پیش کرتے رہے اُنہیں دو زمروں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک تو ایسے عامل صحافی جنہوں نے پاکستاں ٹائمز، روزنامہ آزاد یا ہفت روزہ ویو پوائنٹ میں اُن کی ہمکاری یا سرپرستی میں ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر کام کیا۔ دوسرے انسانی حقوق کے وہ کارکن جنہیں رحمان صاحب کی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے طویل وابستگی

Read more

کاش میں نے منٹو کو نہ پڑھا ہوتا

(11 مئی منٹو کا یوم ولادت ہے) میں نے استاد سے سنا کہ علم حاصل کرنا شاید افضل بات ہو لیکن علم کا بوجھ اٹھانا ہر انسان کے بس کی بات نہیں، علم کا بوجھ ہلکان کر دینے والا ہوتا ہے، اور اگر خدانخواستہ علم آپ کی شخصیت میں جذب ہو جائے اور جو بات آپ پڑھ رہے ہوں وہ آپکو سمجھ بھی آنا شروع ہو جائے تو یہ وہ قیامت ہے جو آپ پر مسلسل ٹوٹتی ہے، جون ایلیا

Read more

دیسی مرد، ابھی تک دائیوں اور بائیوں کے خمار سے نہیں نکل سکا

دیسی مرد، ولائتی بھی ہو جائے، شہری ہو یا دیہاتی، جتنا مرضی پڑھ لے، کوئی بھی ڈگری حاصل کر لے، کسی بھی ادارے میں کام کر لے، پوری دنیا گھوم لے، نہ گھومے تب بھی رزلٹ ایک ہی ہے، اس میں سے دائیوں اور بائیوں کا خمار اور لطف نہیں نکلتا۔

اس کو منٹو بھی اس لئے پسند ہے کہ بائیوں کو شریف عورت سے بلند مقام دیتا ہے۔ ان کی مجبوری کا مرتبہ زیادہ ہے۔ (شاید شریف عورت کے پاس ایک خبیث مرد ہو تا ہے اس لئے۔ اب یہ شاید دل پہ لگانے والی بات تو ہے نہیں ) یہ عورتیں ان مردوں کو اس لئے عزیز ہیں کہ ان کی ذمہ داری ہوتی کوئی نہیں، چسکا مفت کا۔ جس نے سینکڑوں مرد بھگتائے ہوں، وہ مرد کی رگ رگ کو اچھے سے جانتی ہے۔ کیونکہ کاروبار کرنے کے لئے اس کے اصولوں سے واقفیت ضروری ہے۔ مگر یہ سب جانتے ہوئے بھی وہ بہت مظلوم عورت ہے یا بہت مشکوک عورت ہے یو نہی تاریخ کی چند حسین کتابوں میں لکھا رنجیت سنگھ کو قابو کرنے والی موراں بائی، جنرل رانی، مادام موسیقی، اور ان سب جیسی اور ہم عورتوں میں کوئی خاص فرق ان کو دکھائی نہیں دیتا۔ آہ

Read more

صحافت اور انسانی حقوق کے سالار قافلہ آئی اے رحمان کی یاد میں

اتوار 2 مئی کو پاکستانی صحافت کی عظیم ہستی، مارکسی دانشور، انسانی حقوق کی جدوجہد کی علامت، پاک انڈیا دوستی، مذہبی اور جنگی جنون کے خاتمہ، امن کی بحالی اور جمہوریت کی بالادستی کے روح رواں جناب آئی اے رحمان کا آن لائن ریفرنس ہو رہا تھا، جو محبتوں سے بھرپور، انتہائی باعمل اور متحرک زندگی کی 90 اننگز کھیل کر سوموار 12 اپریل کو اپنے لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑ کر کوچ گئے۔ اس تقریب کا اہتمام عوامی

Read more

لاپتہ صحافی مدثر نارو کی اہلیہ صدف چغتائی کی بے وقت موت کا نوحہ

اگست 2018 میں شمالی علاقہ جات سے لاپتہ ہونے والی صحافی و سماجی کارکن مدثر نارو کی اہلیہ صدف چغتائی آٹھ مئی کو ان کی راہ تکتے تکتے دل کے دورہ پڑنے کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئیں، ان کا ساڑھے تین سال کا بیٹا ہے۔ صدف چغتائی نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے بڑی شد و مد سے تحریک چلائی تھی۔

Read more

ملازمت اور صحافت (مکمل کالم)

گولی لگنے کے بعد آئی سی یو میں بغیر ٹی وی اور موبائل فون کے گزاری دو راتوں نے ذہن کے کچھ دریچے کھولے۔ لوگوں کی بے پناہ محبتیں، دعائیں اور گلدستے مجھے مسلسل پہنچ رہے تھے، اللہ کے کرم سے اپنی جسم و جان کے بچ جانے پر مجھ گناہگار کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا، اپنی کامیابی صرف اس بات کو سمجھ رہا تھا کہ اپنی ماں کو اس حادثے کا پتہ نہیں چلنے دیا، لیکن ساتھ

Read more

چند مفید اور ضروری کتابیں

آج کے دور میں کتاب کی اہمیت سے انکار ناممکنات میں سے ہے۔ کتاب کی اہمیت و ضرورت پر بہت کچھ لکھنا بھی بہت کم ہے۔ سوچ رہا تھا اس دن کی مناسبت سے کیا لکھوں، کیسے لکھوں، کتنا لکھوں؟ کتاب کے بارے کچھ سطور لکھنے سے کیا میں کتاب کے ساتھ انصاف کر سکوں گا؟ کافی سوچ بچار کے بعد آخر فیصلہ کیا اس دن کی مناسبت سے کچھ نہ لکھنا بھی بہت زیادتی ہے تو اٹھا قلم اور

Read more

تاریخ کے ساتھ تاریخی گھپلا کرنے والی قوم

میں ان دنوں روزنامہ خبریں لاہورمیں سب ایڈیٹر تھا، جب ایک روز گورنر ہاؤس لاہور کے قریب واقع تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ لائبریری میں مختلف فائلوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے اچانک میری نظر سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے تحریک پاکستان کے مشہور ترین کارکن اصغر سودائی کی فائل پر پڑی اصغر سودائی کا دعوی ہے کہ’’پاکستان کا مطلب کیا ۔۔۔ لا الہ الا اللہ‘‘ نعرہ اس کی تخلیق ہے اور اس بناء پر اصغر سودائی کو تحریک پاکستان کا ورکر مان کر اس کو بھی گولڈ میڈل سے نوازا جا چکا ہے لیکن اس کی اپنی فائل میں ایک پریس ریلیز مع ثبوت لگی ہوئی چیخ چیخ کر اس کے دعوے کو جھٹلا رہی تھی۔

اس پریس ریلیز کے ساتھ ایک نظم کی فوٹو کاپی بھی منسلک تھی اور ساتھ کئی لوگوں کے نام بطور گواہوں کے درج تھے کہ اصغر سودائی کے دعوے سے بہت پہلے نہ صرف، پاکستان کا مطلب کیا۔ لا الہ الا اللہ، نعرہ تخلیق ہو چکا تھا بلکہ ایک نظم کی صورت میں چھپ بھی چکا تھا۔ مذکورہ پریس ریلیز سے صاف عیاں تھا کہ اصغر سودائی اس نعرے کے خالق نہیں ہیں اور انہوں نے یہ نعرہ چوری کیا ہے اور اس کی وجہ سے تاریخ کو بھی مسخ کیا ہے لیکن اس تاریخی گھپلے کے باوجود آج تک انہی کا نام اس نعرے کے ساتھ لیا جاتا ہے اور نعرے کے اصل خالق کی کسی کو خبر تک نہیں ہے۔

Read more

سڑک پر کھڑی خوبرو لڑکی اور سب اچھا ہے کی رپورٹ

نماز عشا کی ادائیگی کے بعد شمس آباد سے سروس روڈ لے کر کمرشل جا رہا تھا۔ تھوڑی مسافت طے کرنے کے بعد دیکھا کہ دو نوجوان ایک خوبرو حسینہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی آہستہ کی کہ شاید لڑکی کو میری مدد کی ضرورت ہو۔ گاڑی کا رکنا تھا کہ لڑکی بھاگ کر میرے پاس آئی۔ میں نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا۔

لڑکی بولی صاحب کہاں چلیں؟ میں نے جواب دیا کہیں بھی نہیں میں تو اپنے کام کے سلسلے میں کمرشل جا رہا ہوں میں تو اس لیے رکا تھا شاید تمھیں مدد کی ضرورت ہو۔ صاحب میں تو آپ کے پاس آئی تھی کہ آپ کے پاس گاڑی ہے ٹھیک پیسے مل جائیں گے۔ مگر آپ نے تو رک کر میری مزدوری بھی ضائع کروائی۔ وہ نوجوان بھی اب چلے گئے۔ گاڑی سائیڈ پر کر کے میں مری روڈ پر لگے بینچ پر بیٹھ گیا اور اسے بھی بیٹھنے کے لیے کہا۔

Read more

مشرف عالم ذوقی: لمحے جو مردار ٹھہرے

ریختہ کے انٹرویو کا سوال آج بھی میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ ’آپ اتنا کیسے لکھ لیتے ہیں؟‘ یہ سوال ذوقی سے تھا۔

’ہاں۔ مجھ سے یہ سوال بار بار کیا جاتا ہے۔ اور یہ الزام بھی مجھ پر لگایا جاتا ہے کہ آپ تو بسیار نویس ہیں۔ مگر آج میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ کیا کسی نے ٹیگور سے پوچھا اس نے اتنا کیسے لکھ لیا؟ کیا کسی نے دوستوئیفسکی سے پوچھا کہ اس نے اتنا کیسے لکھا؟ کیا کسی نے بالزاک سے یہ سوال پوچھا؟ نہیں پوچھا۔ کیوں کہ ان لوگوں کا کام ادب کی دنیا میں سانسیں لینا تھا۔‘

Read more

پاکستانی منٹو۔ بھارتی منٹو

سعادت حسن منٹو 1912 میں لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور 18 جنوری 1955 کو لاہور میں وفات پائی۔ ان کے والد غلام حسن منٹو ذات کے کشمیری اور امرتسر کے محلہ وکیلاں کے باسی تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھے جو سوتیلے بہن بھایؤں کی موجودگی اور والد کی سخت طبیعت کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکے۔ وہ ابتدا ہی سے سکول کی تعلیم کی طرف مائل نہ تھے چنانچہ میٹرک میں تین

Read more

گلگت بلتستان: آئینی حیثیت اور عوامی حقوق

ہمارے پیارے وطن پاکستان کے 95 فیصد سے زائد شہریوں کو تو اس بات کا علم بھی نہیں ہو گا کہ گلگت بلتستان کہاں واقع ہے، یہ پاکستان کا باقاعدہ حصہ ہے یا پھر صرف پاکستان کے زیر انتظام علاقہ ہے، اس کی آئینی حیثیت کیا ہے، اس خطے میں بسنے والے عوام پر کون سا آئین اور قانون لاگو ہوتا ہے، وہاں کے عوام اپنے حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے کس عدالتی نظام سے رجوع کر سکتے

Read more

بھارتی ریاست بہار کی 130 سال پرانی ‘خدا بخش لائبریری’ کا وجود خطرے میں

نئی دہلی — بھارتی ریاست بہار میں ایک فلائی اوور کی تعمیر کے منصوبے کی وجہ سے پٹنہ شہر میں واقع 130 سال پرانے کتب خانے ‘خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری’ کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔

Read more

سر گنگا رام: ’فادر آف لاہور’ کون تھے اور ان کے شہر نے انھیں کیوں بُھلا دیا؟

لاہور کے مال روڈ کی بیشتر عمارات لاہور ہائی کورٹ، جی پی او، عجائب گھر، نیشنل کالج آف آرٹس، کیتھڈرل سکول، ایچی سن کالج، دیال سنگھ مینشن اور گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ انھی سر گنگا رام کی بنوائی ہوئی ہیں۔ لیکن جس نے منٹو کا افسانہ نہیں پڑھا، اس کے لیے گنگا رام ایک اجنبی نام ہو سکتا ہے۔

Read more

میری تخلیقات انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہیں

جاوید دانش کا اپنے فیس بک لاؤ پروگرام۔ آوارگی۔ کے لیے خالد سہیل سے انٹرویو ڈاکٹر خالد سہیل دانش : ڈاکٹر صاحب! کرونا وبا نے آپ کی زندگی کو کیسے متاثر کیا؟ سہیل: کرونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تنہائی کے ساتھ وقت گزارنے کا زیادہ موقع ملا۔ میں نے کرونا وبا اور تنہائی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ایک لکھاری ہونے کے ناتے بھی اور ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے بھی ایک لکھاری ہونے کے ناتے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کا گرین زون کا فلسفۂ محبت اور فن شادی

پاکستان میں مارچ کا مہینہ عورت مارچ کے حوالے سے متنازع رہتا ہے اور ہر قسم کے گالم گلوچ سے بھرا ہوتا ہے۔ 2021 کے مارچ کو شہر لاہور کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم محبت میں گرفتار نوجوان جوڑے کے سر عام شادی کے پروپوزل نے مزید متنازع کر دیا اور گالم گلوچ کی زبان کو نئی جلا بخشی۔ اس سارے واقعے کو دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کیا واقعی محبت اور پسند کی شادی اتنی

Read more

توہین نسواں اور امت کی روایت

کراچی کے اخبار ’ امت‘ نے عورت مارچ کرنے والی خواتین کو رنڈیاں کہا۔ اس اخبار سے اس سے زیادہ کی توقع کی جا سکتی ہے، کم کی نہیں۔ خواتین کو دی گئی اس غلیظ گالی سے اردو صحافت کی ’’روشن‘‘ تاریخ کے بہت سے واقعات میرے ذہن میں آئے۔ ’امت ‘اخبار اور اس کا ایڈیٹر کس شمار قطار میں ہیں۔ خواتین کی تضحیک کے معاملے میں بڑے بڑے جید صحافیوں کا نام آتا ہے۔ واقعات کے طومار میں سے

Read more

ناروے میں اپنا مقام بنانے والے پاکستانی

ناروے میں پاکستانی سیاست بھی کر رہے ہیں اور بہت سے دیگر شعبوں میںبھی قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان سے ناروے آنے والی پہلی نسل کے لوگ کام کرنے آئے تھے، بہت محنت سے کام کیا اور آجروں کے دل جیت لیے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں پاکستانی نہ ہوں۔ پاکستانی سیاسی طور پر کافی بیدار ہیں۔ پاکستان میں بھی سیاست ان کا مرغوب ترین موضوع ہے اور یہاں ناروے میں بھی وہ صرف پاکستانی سیاست

Read more

درویش کی کٹیا، زرتشت اور گاتھاز

مجھے نوجوانی کا وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب میں اپنی محبوب کتابوں کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا۔ میں پشاور صدر کی آرٹس کونسل کی لائبریری میں باقاعدگی سے جاتا اور ہر ہفتے دو چار کتابیں لے آتا۔ جب وہ کتابیں واپس کرنے جاتا تو چند اور کتابیں لے آتا۔ ہر کتاب پر خفیہ نشان لگاتا تا کہ پتہ چلے کہ میں نے کون سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔ ہر دفعہ لائبریری کے کسی اور حصے کے شیلف سے کتابیں لیتا

کبھی ادب کبھی فلسفے کے شیلف سے
کبھی مذہب کبھی روحانیات کے شیلف سے
کبھی نفسیات کبھی سماجیات کے شیلف سے
کبھی شاعری کبھی افسانوں کے شیلف سے

Read more

یوم پاکستان، لاہور کی دھرتی اور اساتذہ کی فریاد

23 مارچ 2021ء کے دن میں اپنے پنجاب بھر سے آئے اپنے ساتھی اساتذہ (ایس ایس ایز اور اے ای اوز ) کے ساتھ وزیراعلیٰ آفس کے سامنے ڈیوس روڈ پر کھلے آسمان کے نیچے طوفان بادو باراں سے نبرد آزما یہ سوچ رہا تھا کہ آ ج سے اکیاسی سال پہلے اسی دن اسی شہر لاہور میں ہم سے چند کلومیٹر کی دوری پر ہمارے آباء و اجداد آنکھوں میں حسیں سپنے سجائے، دلوں میں جوش و ولولے بسائے،

Read more

23 مارچ یوم جمہوریہ سے یوم پاکستان تک

دنیا کے کئی ممالک میں قومی دن منانے کی روایت موجود ہے۔ کوئی بھی ملک سال کی کسی مخصوص تاریخ کو کسی کام یا کسی واقعہ کی بنیاد یا نسبت سے قومی دن مناتا ہے یہ دن ان کی ملی تاریخ میں ایک خاص حیثیت اور مقام رکھتا ہے۔ اس قومی دن کو قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے اور اکثر ممالک میں اس دن سرکاری سطح پر فوجی پریڈ ہوتی ہیں اور قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا

Read more

یوم جمہوریہ سے جمہوریت تک

سارا دن سرکاری ٹیلی ویژن پر ان جہازوں، ٹینکوں، گاڑیوں کے بارے میں تفصیلات بتائی جاتی ہیں۔ کئی سالوں سے بار بار دہرانے سے اب تو دیکھنے والے سب کو نشریات کا پورا متن بھی زبانی یاد ہو چکا ہے۔ اگر جہازوں اور دیگر سامان حرب کی تفصیلات بتانے سے تھوڑا فرصت ملے تو اس دن کے منانے کی وجہ 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسے میں پاس کی گی گئی قرار داد بتائی جاتی ہے۔ یہ بات بھی اتنی بار بتائی گئی ہے کہ اب لوگوں خاص طور پر نئی نسل کے ذہنوں میں اس اس قدر نقش ہو چکی ہے کہ امتحان میں بھی اس سوال کا یہی جواب دیا جاتا ہے جو سرکاری طور بھی درست بھی مانا جاتا ہے۔

Read more

یوم پاکستان: چالیس سے سینتالیس تک

قوموں کی زندگی میں موڑ آتے ہی ہیں، زندہ قومیں اپنے عزم اور وقار کے ساتھ ان سے نبرد آزما ہوتی ہیں، ایسا ہی ایک موڑ برصغیر کے مسلمانوں کی قومی زندگی میں مارچ 1940 میں آیا، قیادت اور قوم کو ایک فیصلہ کرنا تھا کہ انہوں نے آگے کیا کرنا ہے، انگریز حکمرانوں کی حالت دوسری جنگ عظیم کے بعد خاصی نازک تھی اور کانگریس موقع کی تلاش میں تھی کہ انگریز برصغیر سے جائیں اور وہ اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر خطے کے حکمران بن جائیں، یہ ناممکن نہیں تھا، کم از کم آج کے ہندوستان کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

Read more

’’حیات اقبال‘‘ کچھ الگ تھی

اقبال افغانستان گئے۔ وہاں عبدالمجید اتاشی کے ساتھ مذاق کا سلسلہ رہتا۔ ایک روز عبدالمجید اتاشی نے کہا!ڈاکٹر صاحب کیا اچھا ہو کہ آپ بھی انگلستان آتے ہوئے یادگار کے طور پر بیویاں لانے والوں کی طرح افغانستان سے جاتے وقت افغان خاتون سے شادی کر کے لے جائیں۔ اقبال نے پوچھا کہ یہ خاتون مجھ سے کیا برتائو کرے گی۔ مجید نے کہا کہ اچھا برتائو کرے گی‘ ہاں منہ نہار جگا کر حکم دیا کرے گی’’او ڈاکٹر او

Read more

تجدیدِ عہد کا دن

تاریخ گواہ ہے، جو قومیں تاریخی واقعات کا مطالعہ کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کا عمل جاری رکھتی ہیں، وہی زندہ رہتی ہیں۔ وہ لمحے جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنتے ہیں ، وہ ساعتیں جو روز و شب کی مسافتوں میں سنگ میل بنتی ہیں۔ وہ گھڑیاں جو صدیوں کی دیواریں پھلانگ کر تمام زمانوں کو اپنی گرفت میں لے کر مسکراتی ہیں، انسانی عزم و ہمت اور جہد مسلسل کی پذیرائی و کامرانی کا معیار بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی گھڑیوں، ایسے ہی لمحوں اور ایسی ہی ساعتوں میں قوموں کی تشکیل ہوتی ہے۔

Read more

سیمیں درانی کے افسانے: آنول نال

یہ کتاب محترمہ سیمیں درانی کے 15 افسانوں اور ایک مضمون پر مشتمل ہے۔ کتاب کا نام قدرے چونکا دینے والا ضرور ہے لیکن مصنفہ کا یہ دعوی کہ مرد حضرات آنول نال کو جانتے تک نہیں اور اس کے ذکر پر اپنی ناف کھجانے لگتے ہیں، حقیقت نہیں۔ مزید وہ کہتی ہیں کہ مرد آنول نال کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے کہ مرد جانتے بھی نہیں اور استعمال بھی کرتے ہیں۔ جس جنسی استحصال،

Read more

23 مارچ قرارداد پاکستان اور اصل حقائق

23 مارچ 1940 ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر یہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ اس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کے حصول کے لئے تحریک شروع کی پھر 7 برس بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ شیربنگال ابوالقاسم فضل الحق قائداعظم کے قریبی رفیق جنہوں نے تحریک پاکستان اور مسلم لیگ میں نمایاں اور

Read more

سوشل میڈیا پر اُبھرتے نفرت کے جذبات

وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہباز گل صاحب سے ملاقات کا موقعہ ہی نہیں ملا۔ اپنی متحرک شخصیت کی وجہ سے تاہم ٹی وی سکرینوں پر چھائے رہتے ہیں۔ اندازِ گفتگوانتہائی جارحانہ ہے ۔اکثر ’’تمہیں کہو کہ یہ…‘‘ والا مصرعہ یاد دلادیتا ہے۔یہ سب کہنے کے باوجود اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ پیر کے دن لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے مجھے مزید گھبرادیا ہے۔ ’’مزید‘‘ کا لفظ میں نے اس

Read more

مرگ انبوہ سے مردہ خانے میں عورت تک

’مردہ خانے میں عورت‘ مشرف عالم ذوقی کا تازہ ناول ہے جو پاکستان میں سنگ میل اور ہندوستان میں میٹر لنک پبلکیشنز سے، ایک ساتھ شائع ہوا ہے۔ مردہ خانے میں عورت کو مرگ انبوہ کا دوسرا حصہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ناول کا ہیرو مسیح سپرا آزاد ہندوستان میں خود کو مردہ ثابت کرنے کے لئے طرح طرح کے حادثات و واقعات سے گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کو مردہ خانہ بنا لیتا ہے۔ گھر میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو زندہ رہنے کی علامت ہو۔ مسیح سپرا کو یقین ہے کہ مردوں کو بھوک ضرور لگتی ہو گی۔ وہ محض اپنے کھانے پینے کا انتظام کرتا ہے، سفید کفن پہنتا ہے اور مردوں کی طرح زندگی گزارنے لگتا ہے۔ مگر مردوں کو بھی چین نصیب نہیں۔ پھر ایک دن اس مردہ خانے میں ایک عورت آ جاتی ہے۔

Read more

کراچی کی نیپیئر روڈ کے قحبہ خانے اور کوٹھے کیسے اجڑے؟

نیپیئر روڈ پر خستہ حالت عمارتیں اور بالکونیوں یہاں کئی بہاریں دیکھ کر اب بیوگی کا لباس تن کیے ہوئے ہیں جہاں کئی کہانیوں نے جنم لیا اور وہیں دفن ہو گئیں، اس محلے کے درو دیوار میں کئی ایسے راز ہیں جو کبھی دہلیز کی دوسری طرف نہیں گئے۔

Read more

عورت مارچ: جیو اور جینے دو

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مارچ کے آٹھویں تاریخ کو ”خواتین کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے۔ اس دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں انسانی حقوق کے کارکن ہر مقام پر خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مظاہرے اور مطالبے کرتے ہیں۔ پہلے پہل تو یہ تصور مقبول نہیں تھا۔ 2018ء کے بعد یہ تحریک جو پہلے سے موجود تھی ، زور پکڑ گئی، اب اسے عورت مارچ کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔

Read more

پریم چند اور منٹو: چند مماثلتیں

اردو ادب میں موازنے کی پختہ روایت رہی ہے۔ میر انیس کا دبیر سے موازنہ ہمارے سامنے کی مثال ہے۔ دو شاعروں کا ان کی شاعرانہ خصوصیات کی بناء پر موازنہ کرنا برا بھی نہیں اگر غیر جانب داری سے کام لیا جائے۔ علامہ شبلی پر یہ الزام آیا کہ انہوں نے انیس کو دبیر پر فوقیت دی۔ موازنہ کرنا اور مماثلتیں ڈھونڈنا بڑا ادق اور پچیدہ کام ہے۔ ذرا سا دھیان بھٹک جائے تو ذہن کسی اور وادی کی

Read more

عورت مارچ اور ہمارا ادب

پیارے ساتھی سعید احمد کی نظم ’عورت مارچ سے گزرتے ہوئے‘ مشرف عالم ذوقی ہٹ جاؤ راستے سے، عورتوں کا جلوس آ رہا ہے، انہیں جاہیداد نہیں، عزت، انسانی حقوق اور تمھارے ساتھ برابری سے کھڑے ہونے کی جگہ چاہیے! ۔ سعید احمد وہ آ چکی ہیں اور اس بار پوری تیاری کے ساتھ ”وہ اپنے جسم کے تنے سے اپنے گرے پتے اٹھاتی ہے اور روز اپنی بند مٹھی میں سسک کے رہ جاتی ہے وہ سوچتی ہے کہ

Read more

کیا حج کرنے اور کتاب لکھنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں؟

تین سال قبل ایک عزیز کے ساتھ ایک جگہ کام کر رہا تھا۔ پیاس محسوس ہوئی، عرض کی کہ سامنے والے گھر کے گھڑے سے پانی پی لوں؟ جواب ملا یہ کسی شیعہ کا گھر ہے، یہاں سے پانی پینا ناجائز ہے، چند ثانیے بعد خود اسے پیاس لگی تو اسی گھڑے سے پانی پینے لگا۔ تب منٹو یاد آیا کہ بھوکے پیٹ کا مذہب روٹی ہوتا ہے۔ تین، چار سال قبل ہی کی بات ہے، میں کسی ہمسائے اور

Read more

فحش اور فحاشی کی نئی تعریف

فحش لفظ کا لغوی معنی لیا جائے تو بنتا ہے بدکاری، بیہودگی، بے شرمی کی باتیں، گالی یا پھر بدکلامی۔ اگر اظہار کی بات کی جائے تو ایسے کلمے جس میں جنسی امور کا برہنہ اظہار ہوا ہو، عریاں اور بے ہودہ الفاظ کا چناؤ کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح فحش نگاری کی بھی تعریف کی گئی ہے (گندی باتیں لکھنے والا، بیہودہ لکھنے والا، وہ ادیب یا مضمون نگار جو جنسی بے راہ روی کا برہنہ الفاظ میں

Read more

منگو کوچوان کی سادہ لوحی اور حسن ناصر کی ملاقات

سعادت حسن منٹو کے لافانی افسانے ’نیا قانون‘ کے مرکزی کردار منگو کوچوان کو تعارف کی ضرورت نہیں۔ ایک سادھارن محنت کش ہے جس نے ہندوستان میں ’نیا قانون‘ نافذ ہونے کی خبر کو اپنی دبی ہوئی خواہشوں کا رنگ دے لیا ہے۔ ذاتی تجربے سے منگو پر انکشاف ہوتا ہے کہ نئے قانون میں کچھ بھی نیا نہیں۔ وہی فیض صاحب کا من موہنا انکسار، ہم سادہ ہی ایسے تھے، کی یوں ہی پذیرائی۔ دلچسپ بات یہ کہ ایک

Read more

اردو زبان و ادب اور موجودہ ہندوستانی منظر نامہ

یہ بات عام طور پہ کہی جاتی ہے کہ اردو زبان جاننے والے اور ان میں اچھا ادب تخلیق کرنے والے اب ہندوستان میں خال خال ہی رہ گئے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس زبان کی تاریخ کو پڑھو تو اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ دو سو برس میں اس زبان میں ایک سے ایک ادیب اور شاعر پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس زبان کو کسی بھی احساس کمتری کے بغیر اپنی زبان کہا اور اس

Read more

ترقی پسند ادیب،صحافی اور انقلابی رہنما احمد نظامی کی یاد میں

برطانیہ میں ساؤتھ ایشین کمیونٹی میں ایک بڑا نام، انسانی حقوق کے علم بردار، ریسزم مخالف کمپینر اور سماجی برابری کے لیے کوشاں سید احمد وارث نظامی جو صحافتی اور سیاسی حلقوں میں احمد نظامی کے نام سے جانے جاتے تھے، برسوں تک کینسر جیسی جان لیوا بیماری سے لڑتے لڑتے جمعرات 4 فروری کو انتقال کر گئے۔ وہ عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے قائم مقام صدر اور اور جلیانوالہ باغ سانحہ کے خلاف 2019 میں بننے والی صد

Read more

خوبصورت آنکھوں میں بولتی خاموشی اور کتاب سے پیار کرنے والا زاہد ڈار

رات کا آخری پہر تھا جب آنکھ کھل گئی۔ ہم بڈھے لوگ بھی اب کچھ دعائیں پڑھنے کی بجائے موبائل کو ہاتھ مارنے لگتے ہیں۔ زاہد ڈار کی تصویر تھی۔ نیچے اس کی ایک نظم۔ ”یا اللہ خیر“ بے اختیار ہونٹوں سے نکلا۔ تاہم کوئی خبر نہیں تھی۔ سوچا کسی چاہنے والے  نے یہ پوسٹ لگائی ہو گی۔ دن میں موبائل سے کھیلنے کا موقع کم ہی ملتا ہے۔ سو رات کو یہ خبر مل گئی کہ شہر ادب کا

Read more

آدمی کائناتی ابتری کی روح ہے: زاہد ڈارکی یاد میں

زاہد ڈار ( 1936ء۔ 2021ء) نے اپنے پیچھے چند سوگوار احباب کے علاوہ نظموں کے تین مجموعے ( ”درد کا شہر“ ، ”تنہائی“ اور ”محبت اور مایوسی کی نظمیں“ ۔ ”آنکھ میں سمندر“ انتخاب ہے) ادب کے ان تھک قاری کا امیج اور کچھ سوال چھوڑے ہیں۔ یہ سوال ان کی نظموں سے بھی متعلق ہیں اور ان کے طرز حیات سے بھی۔ اکثر ادیب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے لیے ادب طرز حیات ہے۔ یعنی ان کی

Read more

مُردوں سے ریپ کا معاملہ

میں نے منٹو کو پڑھنا چھوڑ دیا۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ منٹو کو فحش لکھنے پر مقدمات کے علاوہ عوامی ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس سے مجھے ایک بات کا اطمینان بھی ہوا کہ برصغیر جب دولخت ہوا تو معاشرہ بے حس نہیں تھا،ردعمل دیتا تھا، گو کہ اس وقت سوشل میڈیا تھا اور نہ ہی الیکٹرانک میڈیا کی یلغار تھی، وہ لوگ پڑھتے تھے اور پھر بولتے تھے۔ اب عوام نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور

Read more

میں تمثال ہوں: فحاشی کے الزام کا جواب

آج کل عارفہ شہزاد کا ناول "”میں تمثال ہوں“ ادبی حلقوں میں زیر بحث ہے۔ یہ کتاب ٹھیک دو دن پہلے میرے ایک قریبی دوست نے عنایت کی تھی۔ اس وقت یہ کتاب میرے سامنے ہے جس کو میں تین نشستوں کے بعد مکمل کر چکی ہوں۔ کتاب درحقیقت ایک خودنوشت ہے جو مرکزی کردار تمثال کے گرد گھومتی ہے۔ کتاب کے اندر تمثال اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ بیان نہیں کرتی نہ ہی وہ یہ بیان کرتی دکھائی دیتی

Read more

ویلنٹائن ڈے اور محبت کی مختصر نظمیں

چودہ فروری کی آمد آمد ہے۔ چاہت کے قدموں کی دھیمی دھیمی چاپ سنائی دے رہی ہے اور ساری دنیا کے عشاق محبت کی مختصر نظمیں تلاش کر رہے ہیں تا کہ اس موقع پر اپنی محبوباؤں سے اپنے رومانوی جذبات کا برملا اظہار کر سکیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اردو شاعری کی زنبیل محبت کی مختصر نظموں سے بھری پڑی ہے۔ آج میں آپ سے منیر نیازی کی ایک ایسی مختصر نظم شیر کرنا چاہتا ہوں جس کے

Read more

سر گنگا رام کا مجسمہ (مکمل کالم)

اتوار کی صبح ہم گاڑی لے کر نکل جاتے ہیں اور پرانے لاہور کی گلیوں اور اندرون شہر کے محلوں میں گھومتے ہیں۔ کبھی کوئی پرانا مزار اپنی جانب کھینچ لیتا ہے توکہیں کوئی اجڑا ہوا باغ راستے میں آ جاتا ہے، کبھی کسی مندر کی باقیات دکھائی دے جاتی ہیں تو کہیں مسجد کے میناروں سے روشنی پھوٹتی نظر آجاتی ہے، کبھی کسی قدیم حویلی کی کشش کھینچ کے لے جاتی ہے تو کہیں کسی چوبارے پہ تاریخ آواز

Read more

مردوں کے لئے مانع حمل طریقے اور مردانہ کمزوری 

کیا کہیے کہ ہمیں اکثر اپنے قارئین کی ذہانت و فطانت دنگ کرتی ہے جو بھانپ لیتے ہیں کہ موضوع پہ بات کرتے ہوئے کہاں ہم دانستہ پہلو تہی کر گئے اور کہاں نادانستگی میں چوک ہو گئی۔ مانع حمل کی گفتگو میں خواتین کے زیر استعمال طریقے تو زیر بحث آئے لیکن مرد حضرات کی کہانی ہم نے اس لئے نہ چھیڑی کہ انہی سے تو شکوہ ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی سے بیر رکھ چھوڑا ہے۔ ایسے میں

Read more

انتظار حسین: کچھ یادیں کچھ باتیں (پانچویں برسی پر خصوصی تحریر)

انتظار حسین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے ایک بہت بڑی پینٹنگ گویا آنکھوں کے سامنے سج جاتی ہے۔ اس پینٹنگ میں سمندر ہے، سمندر بھی اور اس کا وہ کنارہ بھی جس پر ہم ہیں۔ صبح کا منظر ہے۔ چمکتی لہراتی پانی کی سطح کے اندر سامنے کے درختوں کا جھنڈ جھانک کر جھول رہا ہے۔ بیچ لگژری ہوٹل والوں نے اردو کانفرنس کے مندوبین کے ناشتے کا بندوبست سمندر کے اندر تیرتے اس تختے پر کیا ہے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کی نثری تخلیقات: لفظیات، ترکیبات اور نظریات

معلوم نہیں کس طرح عجب ڈھنگ سے باذوق خواتین کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ پرنٹ گل احمد کا ہے، کھاڈی کا ہے، ست رنگی کاہے یا ریپلیکا ہے ، اس کی بنت کیسی ہے اور دوسرے کے ہاتھ میں پکڑا بیگ گوچی کا ہے یا اچھرے کی عام دکان سے نقلی مہر کے ساتھ خریدا گیا ہے۔ جیسے ایک لاہور میں رہنے والے کو پتہ ہوتا ہے کہ کوزی حلیم رائل پارک سے کھانی ہے، مزے دار مچھلی

Read more

گنگا ہائی جیکنگ: جب دو کشمیری نوجوان انڈین طیارہ اغوا کر کے لاہور لے آئے

دوکشمیری نوجوانوں کی ایک کھلونا پستول اور لکڑی سے بنے ہینڈ گرنیڈ کی مدد سے انڈین طیارے کو ہائی جیک کرنے کی کہانی جس نے پہلے انھیں لوگوں کی نظروں میں ہیرو اور پھر ملک دشمن ایجنٹ بنا دیا۔

Read more

برصغیر کی فلمی صنعت: سہراب مودی وہ ہدایتکار جن کی فلموں کے شائقین نابینا افراد بھی تھے

ہدایتکار سہراب مودی کی فلم ’مرزا غالب‘ کی نمائش سے ان کی پروڈکشن کمپنی ’منروا مووی ٹون‘ کو بہت آمدنی ہوئی جس کے ایک حصے سے سہراب مودی نے دہلی میں مرزا غالب کا مزار تعمیر کروایا۔

Read more

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور "کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ”

آپ کسی شاعر کا مسلسل ایک ہی ڈھب سے لکھا ہوا کلام بار بار پڑھیں تو کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ ہر بار اسے داد دیں؟ یا پھر کوئی مُصنف جو ایک ہی چیز ایک ہی موضوعِ کو زیرِبحث لائے، اور بار بار ایسے کرتے ہوئے بھی وہ اتنی ورسٹائلٹی کے ساتھ حقائق سے روشناس کروائے کہ لُطف آ جائے۔ تب تو آپ بھی یقیناً میری طرح اس مُصنف / مُصنفہ کے عشق میں مبتلا ہو جائیں گے۔۔۔۔۔کچھ ایسا

Read more

پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ: والدین چاہتے تھے کہ عمران تعلیم پر توجہ دے لیکن بیٹے کے دل و دماغ پر کرکٹ کا بھوت سوار تھا

عمران بٹ نے اپنے فرسٹ کلاس کریئر کا آغاز دسمبر 2012 میں اسی نیشنل سٹیڈیم میں کیا جہاں آج وہ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں۔ لاہور شالیمار کی طرف سے کھیلتے ہوئے کراچی وائٹس کے خلاف انھوں نے نصف سنچری سکور کی تھی۔

Read more

لاہور قلندر سے پاکستان قلندر تک

کھیل کی دنیا کبھی تفریح اور تندرستی کے دو اشاریوں سے عبارت تھی۔ کھیل کے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے ہار اور جیت کو تسلیم کرنا کھیل کا اخلاقی فلسفہ تھا۔ ہارنے والے کے لئے فتحمند کھلاڑی کی بہتر صلاحیت اور مہارت کا اعتراف کرنا اعلیٰ ظرفی کہلاتی تھی۔ ہماری روایت میں تو ڈبلیو جی گریس اور ماجد جہانگیر کی بیٹنگ بسی ہے۔ آؤ ٹ ہونے پر امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کیے بغیر پویلین لوٹ جاتے تھے۔ ہماری

Read more