سالگرہ کا تحفہ

ہ پارہ کو اچانک خیال آیا کیوں نہ سالگرہ پر یہ وائرلیس بلو ٹوتھ ہیڈ فون ہی دے دیں۔ کامیڈی ویڈیوز کی سمع خراشی سے بھی نجات ملے گی۔ وہ ہاتھ میں اٹھا کر جائزہ لینے لگیں۔ بے شمار خصوصیات اور قلیل مدتی پیشکش کی تکرار سے متاثر ہو کر وہ لینے ہی لگی تھیں کہ سیلزمین کے ایک فقرے پر ٹھٹک گئیں۔ وہ کہہ رہا تھا ”اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نوائز فری ہے“

”مطلب؟“
”، مطلب یہ کہ صرف آپ کی آواز کالر تک جائے گی بیک گراؤنڈ آوازیں نہیں“

Read more

معراج بھائی (قسط 2)۔

سب کزنز نے عفت پر دھاوا بولا کیونکہ تیمور سے ابھی وہ اتنے بے تکلف نہیں ہوئے تھے اور وہ اپنی جاب کے سیکنڈ انٹرویو کی تیاری میں مصروف تھی۔ اس نے ایم ایس سی سائیکالوجی میں یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا اور لیکچرر شپ اس کا دیرینہ خواب تھا۔

ارے میری منگنی ہو رہی ہوتی تو میں یہ جاب شاب کھڈے میں پھینکتی یار!
کشمالہ نے اس کو کاغذ کی ایک گولی بنا کر مارتے ہوئے کہا

Read more

معراج بھائی قسط ( 1 )

وہ لمبی بل کھاتی ڈھلوانی سڑک پر چلی جا رہی تھی اور بس جا رہی تھی، اس کی قیمتی شال اس کے پاؤں میں رل رہی تھی اور ننگے پاؤں سنگ ریزوں سے زخمی ہو رہے تھے مگر ہوش و خرد سے بیگانہ اس کی آ نکھیں جو دنوں سے نا سوئی تھیں اور سوجن سے بند ہو رہی تھیں اور ایک ہی ورد اس کی زبان پرتھا ”بس اللہ ہی اللہ باقی فانی“ چلتے چلتے اس کو ٹھوکر لگی

Read more

لوگ چلے جاتے ہیں یادیں رہ جاتی ہیں

آج مجھے اس کی بہت یاد آئی۔ آج جب صبح آنکھ کھلی تو فوراً موبائل فون کی طرف لپکا کے شاید اس کا میسج آیا ہو۔ پتا نہیں کیوں آج مجھے لگا ہی نہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر جا چکی ہے۔ حالانکہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔ خیر جیسے تیسے کر کے بستر سے اٹھا تو دیکھا کہ بارش ہو رہی ہے۔ دل کیا کہ کیوں نہ چائے پی چائے۔ چائے کا خیال آتے ہی ایک دفعہ تو مجھے

Read more

گوتم کی تلاش

گوتم برسوں پہلے مجھ سے بچھڑ گیا تھا۔ مجھے کہا گیا تھا کہ وہ نروان کی تلاش میں نکلا اورپھر کھو گیا۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی اس کی تلاش شروع کر دی۔ میں تب سے اس کی تلاش میں ہوں۔ پہلے میں پراتھنائیں کرتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ پراتھنا سے میرا بھائی مل جائے گا۔ لیکن وہ نہ مل سکا۔ پھر بٹوارا ہو گیا ہے۔ جو کبھی ایک ملک تھا۔ اب وہاں دو ملک بن گئے اور درمیان

Read more

قتل ( افسانہ)

لوگ کردار مار دیتے ہیں لیکن سچائی زندہ رہتی ہے۔ کردار مارنے کے بھی دو طریقے ہیں ایک آلۂ قتل سے مارنا اور دوسرا آدمی جب کسی زبردست روحانی رشتے سے الگ کر دیا جاتا ہے اور وہ اس جدائی کا عادی نہیں ہو پاتا تو خود بخود مر جاتا ہے۔ آدمی کی اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کسی چیز کا عادی نہ ہو پائے اور جو لوگ کسی چیز کے عادی نہیں ہو پاتے

Read more

گستاخ اکبر، بے چاری ماں اور محب اللہ

محب اللہ: تم تو سب جانتی ہو ماں اکبر کیسا ہے، پھر بھی انجان بن رہی ہو۔ اس نے تمہارے بارے میں جو کہا میں دہرا نہیں سکتا۔ مگر تم تو جانتی ہو کہ وہ تمہارے بارے میں کیا کہتا ہے۔ ماں : مجھ سے تو وہ کبھی کچھ نہیں کہتا، کوئی فرمائش، کوئی شکوہ کوئی التجا نہیں کرتا۔ محب اللہ : یہ ہی تو کہہ رہا ہوں ماں وہ گستاخ ہے، تم سے مانگنا اسے پسند نہیں۔ ماں :

Read more

پہلی محبت کا کانچ محل

اسے اس کی محبت کی شدت کا اندازہ اس وقت ہوا جب نم آنکھوں کے ساتھ شب برات کی پاکیزہ رات میں بھی دل نے چیخ کر اس واحد شخص کی باقی ساری زندگی کا ساتھ اپنے ساتھ مانگا۔ وہ جائے نماز پر بیٹھی رو رہی تھی اور اس کے خوبصورت سے گول چہرے کے گرد بڑی نفاست سے پھیلایا سفید دوپٹا بھی اس کے موتی سے چمکتے آنسوؤں سے بھیگ رہا تھا لیکن اس پل اسے نہ اپنی خبر

Read more

آدرش : صلاح الدین عادل کے ناول ”خوشبو کی ہجرت“ سے ایک اقتباس

(آج اردو کے معروف ادیب، فلسفی اور دانشور شیخ صلاح الدین کی برسی ہے۔ ) دور گھوڑوں کے فارم کے وسیع سبزہ زار میں چاندنی سبزے کا وصف بنی سو رہی تھی۔ یکایک سبزے کے مشرقی کونے کی پستہ قد عمارت میں سے ایک سفید گھوڑا اور گھوڑے کی اوٹ میں آدھا چھپا ہوا ایک آدمی اس کو ایال سے پکڑے سبزہ زار پر نکل آئے۔ سبزہ زار کے وسط میں پہنچ کر آدمی زمین پر بیٹھ گیا اور اس

Read more

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

گولڈن گرل رابعہ الربا نے اپنے کالم ’اچھا اور گندا لمس‘ میں ایک جملہ لکھ کرمنافقت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا۔ ”جو مجھے دنیا کے سامنے پا نہیں سکتا، میں اس کو چھپ چھپا کے چاہ نہیں سکتی۔“ اس جملہ کی داد نہ دینا منافقت میں حصہ داری کے مترادف ہے۔ ایک افسانہ حاضر خدمت ہے۔ وہ اردگرد کے ماحول سے بے نیاز پانی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جب سے وہ پول کی حدود میں

Read more

محبت نامے لکھنے والی لڑکی

”میں نے تو سنا تھا کہ لوگ موت کے خوف سے محبت اور چٹھیاں سب بھول جاتے ہیں“ اس نے خط کو تہہ کر کے الماری میں رکھا جہاں اس کا آرائشی سامان اور زیور رکھے تھے۔ یہ دل کی شکل کی ایک سنہری ڈبیہ تھی۔ اور ہاتھ میں رکھی رقم کو دیکھنے لگی۔ لوگ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اصلی نام بلیو بیل تھا۔ سب لوگ اسے محبت نامے لکھنے والی لڑکی کے نام سے جانتے تھے۔ اس

Read more

خاکستر بن چکی کتاب کی کہانی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا پہلا شمارہ چھپا۔ ادب سے گہرا لگاؤ رکھنے والے نوجوان طالب علموں، سنجیدہ خواتین اور بوڑھوں نے میرے ساتھ چھپنے والے ہمنواؤں کو ایک ایک کر کے کتاب گھر سے خریدنا شروع کیا۔ کتابوں کی الماری میں بالکل کونے میں الگ تھلگ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی خریدنے والا مجھ پر ایک نگاہ بھی نہ ڈالتا اور میرے ساتھیوں کو میرے سامنے پیار سے اٹھاتا اور ان کی قیمت ادا کرنے، ادائیگی والے میز کی طرف بڑھ جاتا۔ میں ہر بار اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیتی کہ ہر چیز کے آگے آنے اور نمایاں ہونے کا ایک وقت ہوتا ہے اور یقیناً میرا وقت بھی آئے گا۔

ایک روز جب کہ میں اپنے ساتھیوں کے پہلو میں بیٹھی ان کی کہانیاں سن رہی تھی ، میں نے ایک خاتون کو اپنے سامنے سے کئی بار گزرتے دیکھا اور پھر وہ ہماری طرف پلٹیں اور مجھے اپنے دونوں نازک ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ اس مہربان لمس کو شاید میں کبھی نہ بھول پاؤں کیونکہ میری زندگی میں واحد یہی پہلا اور آخری ناقابل فراموش مہربان لمس ہے۔

Read more

خوش نصیب پیغام رساں

’عمار، تم اس کام کے لئے سب سے زیادہ موزوں ہو جو میں تمہیں سونپنے والا ہوں۔‘ پلاٹون کے کمانڈر نے عمار کو اپنی سیاہ اور گہری آنکھوں سے گھورتے ہوئے کہا۔ ’جی سر، آپ حکم کریں۔‘ تیس سالہ عمار نے برجستہ جواب دیا۔ ’تمہیں سالار کے گھر جانا ہے خبر دینے کے لئے۔ تم فجر کے وقت صبح نکل جانا۔ تمہارے لئے جیپ کا انتظام کر دیا گیا ہے۔ اور کل سہ پہر پانچ بجے تک واپس پہنچ جانا۔

Read more

دھان منڈی کی مالا اور لندن والا اپارٹمنٹ

پہلا خط امی کا تھا۔ میرے ایم آر سی پی (MRCP) پاس کرنے پر بہت خوش تھیں اور اب میری شادی طے کر دی گئی ہے، کسی جنرل جمال اختر چودہری کی دختر نیک اختر عذرا چوہدری کے ساتھ۔ خط کے ساتھ ایک فیملی گروپ فوٹو تھا جس میں جنرل صاحب اپنی وردی اور تمغوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ساتھ میں ایک خوبصورت سی، معصوم سی چھوٹی سی لڑکی تھی جو عذرا تھی، میری ہونے والی دلہن۔ اور بھی

Read more

کہانی ایک کوزہ گر کی

(ریل کی پٹڑیوں کے پارمضافات میں گاؤں آباد ہے۔ ہر طرف ایک عجیب سی چیختی ہوئی خاموشی، راستوں پہ ہر طرف کیچڑ، بارش کا پانی نہ جانے کب سے ٹھہرا ہو ا ہے اور اس پانی کے کناروں پر کائی جمی ہوئی تھی۔ چھوٹے چھوٹے مینڈک تیزی سے پھدکتے ادھر سے ادھر جاتے اور ٹروں ٹروں کرتے ہوئے اس بے جان خاموشی کو چڑھاتے تھے۔ فیروزاسی بستی میں ایک جھونپڑی میں رہتا تھا۔ پیشے سے وہ ایک کوزہ گر تھا۔

Read more

لباس کی آنچ

’میں تو شبدوں کی پہیلی ہوں۔ ایک ہاتھ ایک طلسمی گھر ایک تربوز جو لڑھک رہا ہو ایک سرخ پھل ہاتھی دانت، صندل کی لکڑی وہ ریزگاری جو ابھی ابھی تازہ، ٹکسال سے نکلی ہو ۔ سلویا باتھ تاریکی کے پردے کو چیرتی ہوئی صبح پرنور اجلی کائنات کی آغوش میں سرد آہیں بھر رہی تھی۔ آگ اگلتا سورج نگاہوں سے اوجھل ابلیس کے دونوں سینگوں کے درمیان ٹھہاکا لگا رہا تھا۔ نیلگوں آسمان کے نیچے سمندر کی سطح پر

Read more

سفید ساڑی

لکشمی ایک خوب صورت عورت تھی۔ وہ دن اس کے لئے قوس قزح کی مانند تھے جب نندن اس کی زندگی میں آیا تھا اس کی زندگی خوشیوں کے رنگ میں رنگنے لگی تھی۔ نندن لکشمی سے بہت پیار کرتا تھا اور لکشمی بھی اس کے پیار کا سندور لگائے بہت خوش تھی۔ کچھ ہی عرصے کے بعد ان کے آنگن میں پیارا سا پھول کھلا جس کا نام انھوں نے مدھو رکھا۔ نندن کو اپنی قسمت پررشک تھا۔ اسے

Read more

دریا – ایک گرین زون کہانی

ایک صبح جب آئینہ دیکھا تو میں حیران و ششدر رہ گیا۔ مجھے اپنے چہرے میں بہت سی تبدیلیاں نظر آئیں۔ وہ تبدیلیاں اتنی معمولی تھیں کہ اوروں کو نظر نہ آئی تھیں۔ لیکن اتنی معمولی بھی نہ تھیں کہ میں انہیں نطر انداز کر سکتا۔ میری آنکھوں کی چمک کم ہو گئی تھی اور میرے دل کے شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک ذہنی طوفان اور جذباتی بحران کی آمد آمد ہے۔ میں ایک پھسلتی ڈھلوان پر کھڑا ہوں اور اگر ایک دفعہ پھسلنا شروع ہو گیا تو میں اسے روک نہ سکوں گا۔ گہری کھائی میں گرتا چلا جاؤں گا۔ میں اس عمل سے بخوبی واقف تھا کیونکہ میری زندگی میں ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔

Read more

خوشی کے آنسو

رات بھر کی بے خوابی اور ذہنی اذیتوں سے تنگ ہو کر میں طلوع آفتاب سے پہلے بند کھوٹی سے نکل چکا تھا، مجھے خود معلوم نہیں تھا کہ آج میری منزل مقصود کہاں ہے؟ میرے راستے بھی غیر متعین اور منزل کا بھی پتا نہیں تھا، کیونکہ اداسی اور شدید ڈپریشن کی وجہ سے میں پاگلوں کی طرح تاریک اور بند گلیوں میں آوارہ گھوم رہا تھا۔ چلتے چلتے میری نظر ایک خوبصورت عمارت پر اٹک گئی، قرب و جوار میں بھی کئی خوبصورت اور کھنڈرات نما بنگلے موجود تھیں۔ لوگوں کی رونق سی تھی اور ہر ایک کو جلدی اپنی منزل مقصود تک پہنچنا تھا۔

Read more

بے درو دیوار سا اک گھر بنایا چاہیے

مدت ہوئی اس نے ہونٹوں پہ قفل لگایا اور تکلم کو خیر باد کہہ دیا، میں نے تجسس سے پوچھا وہ کیونکر؟ بولی کیونکہ وہ اپنی ذات کے غار حرا میں رہنے لگا۔ میں نے کہا واہ یہ تو خوب کہا ذات کا غار حرا جب تم خامشی کا چلہ کاٹ چکو تو توقف کے بعد میں نے پوچھا ” اگر تمہیں موقع ملے تو تم کس سے بات کرنا پسند کرو گی؟“ کہنے لگی، دیواروں سے! کس کی دیواروں

Read more

خاموش بد دعا

آج دفتر پہنچنے میں دیر کیوں ہوئی۔ فراز کو دفتر میں داخل ہوتے ہی میں نے پہلا سوال کیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات ہی کچھ ایسے تھے۔ ہاں یار راستے میں بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔ میں نے بھی سوچا ابھی جانے دیتا ہوں دوپہر میں بات کروں گا۔ کھانے کے وقفے پہ اپنا اپنا کھانے کا ڈبہ لئے ہم کیفے پہنچے۔ فراز کو بے دلی سے کھانا کھاتے دیکھ کر مجھے

Read more

جھومر سائیں اور چودھویں کا چاند

آج پھر بہت دنوں کے بعد لوگوں نے جھومر سائیں کو شام نگر کی گلیوں میں گھومتے دیکھا۔ اس مرتبہ وہ کافی مہینوں بعد اپنی جھونپڑی سے باہر نظر آیا تھا۔ لوگ تو سمجھے شاید وہ مر گیا ہے۔ لیکن جب وہ کچھ دن پہلے جنگل کی طرف اس کی جھونپڑی کے پاس گئے تو وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ وہ اکثر آس پاس کے علاقوں میں بھی چلا جاتا تھا بلکہ لوگ بتاتے تھے کہ انہوں نے اسے دوسرے

Read more

پریم چند کا افسانہ ’قربانی‘

انسان کی حیثیت کا سب سے زیادہ اثر غالباً اس کے نام پر پڑتا ہے، منگرو ٹھاکر جب سے کانسٹبل ہو گئے ہیں،ان کا نام منگل سنگھ ہوگیا ہے۔ اب انھیں کوئی منگرو کہنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ کلو اہیر نے جب سے تھانہ دار صاحب سے دوستی کی ہے اور گاؤں کا مکھیا ہو گیا ہے۔ اس کا نام کالکا دین ہوگیا ہے، اب کوئی کلّو کہے تو وہ آنکھیں لال پیلی کرتا ہے۔ اسی طرح ہرکھ چندکورمی

Read more

مذاق

سوکینہ گو کہ اپنے سٹاپ کے انتظار میں تھی لیکن اب اس کی دلچسپی کا محور صرف وہی نابینا نوجوان تھا جس کے وجود سے اٹھتی دلفریب مہک مشام جاں کو معطر کیے جا رہی تھی۔ سورج کی کرنیں ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوئی تھیں۔ سوکینہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف ایک سرکاری ادارے میں کئی سال سے سٹینو کی جاب کر رہی تھی۔ اسے اکثر یوں لگتا تھا کہ ٹائپ کرتے کرتے اس کا اپنا وجود بھی کسی کی انگلیوں تلے کچلا گیا ہے۔

Read more

سلیماں سر بہ زانو

سبا باقی، نہ مہروئے سبا باقی! سلیماں سر بہ زانو، اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟ کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟ ۔ ن م راشد میں چھت پر ہوں۔ سگریٹ سلگاتا ہوں۔ دار بقاء میں راشد کو چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ اب کہاں سے قاصد فرخندہ پے آئے؟ کہاں سے، کس سبو سے کاسۂ پیری میں مے آئے؟ لوگ مر رہے ہیں۔ یقین و اعتماد کی مے خالی جام و سبو خالی،

Read more

محبت کا خسارہ

چار حرفوں سے بنا لفظ محبت دل کے چار دھاگوں سے بندھا ہوتا ہے ، اس کے ایک بھی حرف پر اثر پڑے تو دل کے تار متاثر ہوتے ہیں۔ آج مجھے اقرار کر لینے دیں کہ میں مبتلائے محبت ہوں اور اس سے میرا دل متاثر ہے۔ میں محبت کی شدت کا اندازہ ہی نہیں کر پائی۔ محبت کرنے والا پاس تھا تو اس کی محبت کا احساس تک نہ ہو سکا۔ وہ زندگی سے چلا گیا تو زیاں

Read more

برف کی چادروں میں سانپ

مجھے احساس تھا کہ برف گر رہی ہے۔ میرا وجود شل ہے۔ پاؤں نے چلنا بند کر دیا ہے۔ دھند کی ایک چادر ہے اور مجھے دور تک کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ یہ میرا واہمہ ہو سکتا ہے کہ وہ چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور اس نے پوچھا، تم خدا کے وجود پر یقین رکھتے ہو؟ ہاں۔ سیاہ و سپید میں تمہیں زیادہ کون پسند ہے؟ پتہ نہیں اس نے پھر پوچھا کیا خدا ہے؟ کیا

Read more

وہ ہوس تھی یا محبت

گزرے پل جو انہوں نے اپنی محبت کے سنگ گزارے تھے۔ اس کے لئے وہ پل جو کبھی حسین لمحے تھے۔ آج ان لمحوں کی یاد سوئی کی طرح چبھ رہی تھی۔ اس کی پلکوں پر آنسوؤں کی ایک لڑی جاری تھی۔ اسے غم اس کی جدائی کا نہیں تھا۔ اسے محض تکلیف اس بات کی تھی کہ جس کو کل کائنات سمجھتی رہی اور جس کے لئے دنیا کی ہر آسائش چھوڑ دی تھی۔ اپنے نازک وجود اور کم

Read more

اہم تنصیبات پر حملہ

ہماری بیگم کو خوبصورت چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے اور پھر ان خوبصورت چیزوں کو جان سے لگا کر رکھنے کا بھی شوق ہے۔ شامت اعمال اگر کسی بچے سے ان کی کوئی پسندیدہ چیز ٹوٹ جائے تو سمجھو اس کا جیون نرک ہو گیا اور اگر نصیب دشمناں یہ گناہ خود ان سے سرزد ہو گیا تو دنوں یاسیت کا شکار رہیں گی۔ حزن وملال کی تصویر بنی رہیں گی۔ ہم نے سمجھایا کہ مومن کو زیب نہیں دیتا کہ دنیاوی چیزوں سے اتنا دل لگائے ، پٹ سے بولیں۔ ”دل تو میرا آپ سے بھی لگا ہے۔“

Read more

افسانہ: چراغ

گلی کی نکڑ پہ کھڑے چراغ کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ جھکے کندھوں کے ساتھ وہ برسوں کا بیمار لگ رہا تھا۔ اس نے نگاہ اٹھا کر دو منزلہ عمارت کو دکھ سے دیکھا، جس کی تیسری منزل پر کام ہو رہا تھا۔ کبھی یہ عمارت اس کے لیے خوشی کا سبب تھی۔ لیکن آج اس کے چہرے پر اداسی، بے بسی اور لاچاری تھی۔ آج اسے اپنے کیے پر شرمندگی بھی تھی، اسے دکھ ہو رہا تھا کہ کاش اس نے وہ سب نہ کیا ہوتا۔ اگر اس کے ساتھ یہ سب ہی ہونا تھا تو پھر وہ کسی کا حق نہ مارتا، کاش وہ انصاف سے کام لیتا، کاش وہ خدا کی رحمت کی قدر کرتا۔

Read more

عشق کے کوچے سے

محبت کیا ہے؟ خود سے سوال کرتا ہوں تو دنیا کی بھیڑ بھاڑ سے الگ ایک نئی دنیا کے دروازے میرے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ غیب سے ایک آواز گونجتی ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو عشق کرنا جانتے ہیں۔ میرا بے خوف عشق مجھ سے اور میری روح سے وابستہ ہے۔ اس کی محبت میری ہی محبت کا پرتو ہے۔ اس کی لبیک مجھے انتہا کے دروازے تک لے آتی ہے اور محبت کا نغمہ مجھے مسحور و

Read more

مائی لولی پاپ… مائی لولی پاپ

یو آر مائی ٹیلی ویژن یو آر مائی فریج یو آر مائی آئسکریم یوآر مائی لولی پاپ یو آر مائی مون بار میں جا کر بیٹھا تھا کہ یہ آواز آئی اورمیں سمجھ گیا کہ گلو کسی لڑکی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اور اب وہ یہی کہے گا کہ میرا ٹیلی ویژن مجھے دنیا دکھاتا ہے اور تم نئی دنیا کی طرح ہو، تم فریج اس لئے ہو کہ اس کے سرد خانے میں میں نے اپنا دل رکھ

Read more

آخری سطر پڑھنا ضروری ہے

اس کا نام سرمایہ ہے مگر میں اسے پیار سے مایا کہتا ہوں وہ مصنوعی خفگی سے کہتی ہے ”آپ مجھے مایا کیوں کہتے ہیں مایا تو دھوکا ہوتا ہے“ اور میں کہتا ہوں مایا دولت کو کہتے ہیں اور تم میری دولت ہو ”وہ کھلکھلا کر ہنستی ہے۔ اس کی ہنسی بڑی منفرد ہے جیسے کسی نے موتیوں کو کانچ کی طشتری میں انڈیل دیا ہو۔ اس کی یہی من موہنی ہنسی ہی تو تھی جس نے مجھے سحر

Read more

سلیم رضا ٹھاکر کا تخلیق کردہ کردار: مانتا

کردار اور ان سے وابستہ حقائق ہمیشہ سے ادب کا محبوب موضوع رہے ہیں۔ کردار ادب اور فنی تقاضوں کے عناصر ترکیبی کا اہم جزو ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ زندگی کی مقصدیت اور کائنات کی وسعتوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں تو کہیں ہزار ہا سال پر محیط انسانی تہذیب و تمدن کے آئینہ دار بن کر زندگی سے جڑے سوا الت کے جواب دیتے نظر آتے ہیں۔ جب مجھے ادب سے لو لگی

Read more

وہ راسپوٹین تھا

دروازے کے پاس مٹیوں کا ایک ملبہ پڑا ہے۔ میں اندر داخل ہوتاہوں تو جابجا مکڑیوں کے جالے نظر آتے ہیں۔ اور اندر جاتا ہوں تو مجھے وہ چائے خانہ نظر آتا ہے جہاں پرنے زمانے کی کرسیوں پر آٹھ دس افراد بیٹھے تھے اور ایک جگہ بوسیدہ دیوارسے ٹیک لگائے وہ اجنبی کھڑا تھا، جس نے پادریوں جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ اس کی داڑھی کسی پہونچے ہوئے ولی کی یاد دلاتی تھی۔ اس کے بال سیاہ اور گھنگریالے

Read more

کسان موومنٹ

چیف منسٹر کا پی اے شرما بہت دیر سے ان کی خواب گاہ کے باہر ٹہل رہا تھا مگر گیارہ بجنے کو آئے تھے وہ اب تک سو کر نہ اٹھے تھے۔ مجبوراً پی اے شرما نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور انہیں اٹھایا، اٹھتے ہی ہمیشہ کی طرح انہیں سب سے پہلے تازہ سنگتروں کا جوس پیش کیا گیا اور  تین انڈوں کا آملیٹ، خستہ تازہ تیار ہوئی ڈبل روٹی کا ناشتہ کروایا گیا۔ ناشتے کے فوراً بعد انہیں

Read more

وکٹوریہ کی بلی

وکٹوریہ نے اپنی آستین اوپر کی اور مجھے اپنے کندھے کی خراشیں دکھاتے ہوئے کہا، ’دیکھو کل کیٹی نے میرا کیا حشر کیا، میں ساری رات صحیح سے سو نہیں سکی، وہ چلاتی رہی اور مجھ سے لحاف چھینتی رہی‘ وکٹوریہ، جسے سب وکی بلاتے تھے، کو میں نے کہا ’وکی تمہیں کیا ملتا ہے اس منحوس بلی سے ، جسے تم نے اپنے سر پر سوار کر رکھا ہے، رات بھر تمہیں سونے نہیں دیتی، میں تو کہتا ہوں

Read more

زندہ لاش(افسانہ)

قندھار شہر کے آسمان میں سرمئی بادلوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ وقفے وقفے سے بجلی ایسے کوندتی گویا شہر جلا کر راکھ کر دے گی۔ تیز ہوا نوجوان بیوہ کی مانند سسک رہی تھی۔ اچانک بادلوں نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ تیز بارش سے یوں سڑک پر جگہ جگہ پانی کے بلبلے بننے لگے تھے جیسے کوئی مریض جان دینے سے قبل اپنے لبوں پر آکسیجن کے آخری گھونٹ مانند بلبلے چھوڑ رہا ہو۔ بیس سالہ

Read more

ندی کنارے: چیخوف کی ایک کہانی

جن دنوں میں قصبے میں رہتا تھا اپنا زیادہ تر فارغ وقت کیاریوں کے چوکیدار، ساوک، کے ساتھ گزارنا میرا معمول تھا۔ قصبے سے ذرا باہر، ندی کے کنارے یہ کیاریاں کھاتے پیتے گھرانوں کو الاٹ ہوئی تھیں۔ ان میں وہ اپنے گھر کے استعمال کے لئے سبزیاں پھل وغیرہ اگاتے تھے۔

یہ میری پسندیدہ جگہ تھی۔ یہاں میں مچھلی کے شکار کے بہانے جاتا اور ڈور میں کانٹا لگا کر آرام سے ساوک سے باتیں کرتا رہتا۔ مجھ میں اور ساوک میں کوئی بات مشترک نہیں تھی۔ وہ پچیس سال کا خوش شکل، ٹھوس بدن نوجوان تھا۔

قصبے میں اس کی شہرت بری نہیں تھی۔ لیکن وہ پرلے درجے کا کاہل تھا۔ کام کاج کے بارے میں بالکل نکھٹو۔ اسے کسی کی نوکری سے دلچسپی نہیں تھی۔ ذہین بھی تھا اور تھوڑا بہت پڑھ لکھ بھی لیتا۔ لیکن نہ ہی ذہانت نے اور نہ پڑھائی لکھائی نے اس کا کچھ بگاڑا۔ اس کی ماں بھیک مانگ کر گزارا کرتی اور جب اسے بیکار رہنے پر لعن طعن سننی پڑتی تو وہ چند دن کے لئے کوئی نوکری کر لیتا لیکن اس پر ٹکتا نہیں تھا۔

Read more

بت (افسانہ)

اس قبرستان کی قبروں کا خیال رکھنا میرا حسبی نسبی پیشہ تھا۔ بابا کے مرنے کے بعد اس کا نظم و نسق میرے ہاتھ آ گیا۔ کافور، اگربتیوں اور خود رو پودوں کی مہک میرے بچپن کی سہیلیاں تھیں۔ ہم ان درختوں کے نیچے بے فکر گڈی گڈے کے بیاہ کی تیاریاں کرتے اور کھیلا کرتے تھے۔ سارا دن قبروں کی کھدائی کے عمل کو دیکھنا میرا معمول تھا۔ طرح طرح کے لوگ یہاں آتے ، اپنے پیاروں کو دفناتے۔

Read more

شراپ

آج میں ایک گنجان بازار سے گزر رہا تھا۔ اچانک ایک آواز سنائی دی۔ ’سنو۔ ادھر آؤ۔‘ آواز سننے کے باوجود میں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور چلتا رہا۔ ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ پھر وہی آواز سنائی دی۔ ’ میں تم سے مخاطب ہوں۔ ادھر آؤ۔ کہاں جا رہے ہو؟‘ میں رک گیا اور اس آواز کی سمت ڈھونڈنے لگا۔ مجھے تلاش کرنے میں کوئی دیر نہ ہوئی۔ دیکھا کہ درخت کی اوٹ

Read more

میں نے رشتے سے کیوں انکار کیا؟

بیس سال کی عمر ہونے کے باوجود مجھے خود پتا نہیں تھا کہ حقیقت میرا روپ تھی یا بہروپ!
جب میں پہلی بار حیات سے ملی تھی تو بغیر میک اپ کیے سادہ کپڑوں میں ملبوس تھی اور حیات کو پسند آ گئی۔ لیکن کیا میں نے اس کو ایک دھوکا دیا تھا؟

پتا نہیں کیوں لڑکیاں بچتی ہی نہیں تھیں ہمارے گھر میں، کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو جاتیں کم عمری میں ہی۔ میری عمر درازی کے لیے کیا کیا جتن نہیں کیے گئے، دعائیں، منتیں، نیازیں، ان کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا تھا۔ اور ان کے ساتھ ساتھ میری ضدیں بڑھتی رہیں اور پوری بھی ہوتی رہیں۔ آخر لاڈلی جو تھی سب کی اور اکلوتی لڑکی پورے ددھیال میں۔ ماموں جان نے کئی مرتبہ کہا بھی کہ اس کو پرائے گھر جانا ہے، کوئی سسرال والے اتنے ناز و نخرے برداشت نہیں کر سکتے لیکن سب نے ان کی سنی ان سنی کر دی۔

Read more

آئینے کے پیچھے

پیاری امی جان خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ لوگ سب خیریت سے ہیں۔ آج ہی آپ کا خط ملا اور آج ہی آپ کو جواب دے رہا ہوں۔ آج جمعہ کا دن ہے۔ دوپہر کو چھٹی لے کر جمعہ کی نماز پڑنے اسلامک سینٹر گیا تھا۔ واپس آیا تو آپ کا خط میز پر رکھا ہوا تھا۔ جب بھی جمعہ کو چھٹی مل سکتی ہے تو جمعہ کی نماز پڑھنے ضرور جاتا ہوں۔ یہ اچھے لوگ ہیں۔

Read more

لوم ( Loom)

میں فیکٹری کے گودام سے عجلت میں باہر آیا اور تیز قدموں سے پارکنگ ایریا میں پہنچ گیا، جہاں صرف ایک میری کار ہی پارک تھی، کیونکہ میں فیکٹری سے نکلنے والے آخری چند افراد میں سے تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا اور مجھے گھر پہنچنے کی جلدی تھی، سو گاڑی میں بیٹھتے ہی اسے تیزی سے سڑک پر لے آیا، موڑ مڑتے ہی مجھے فیکٹری کا ورکر راشد نظر آیا، وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا جا رہا

Read more

چھتیس سال کی عمر میں سولہ سالہ محبت اور ویلنٹائن ڈے

وہ انٹرنیٹ پر ویلنٹائن کارڈز سرچ کر رہی تھی تاکہ سب سے خوبصورت اور بھرپور جذبوں کا ترجمان کارڈ فائز کو بھیج سکے۔ اف میرے خدا چھتیس سال کی عمر میں سولہ سالہ رومانس؛ ساحرہ نے چھتیس سال پر زور دیتے ہوئے ایک بار پھر اسے گھرکا۔ اس کے لہجے میں بیزاری بھی تھی اور سرزنش بھی۔ اسے حریم کا اپنے شوہر کے لئے یوں مر مٹے جانا بڑا ہی کھلتا تھا۔ بھلا شادی کے دس سال بعد بھی کوئی

Read more

ایک پرانا دوست

میرا دوست بھگوان آج کل تہہ خانے میں رہتا ہے۔ یہ کسی کو پتہ نہیں کہ وہ خود تہہ خانے میں رہتا ہے یا کسی نے اسے وہاں رہنے پر مجبور کیا ہے۔ آپ نہیں جانتے ہوں گے کہ بھگوان کون ہے۔ میں آپ کو اس کے بارے میں بتاتا ہوں۔ بھگوان میرا دوست ہے۔ میں جب سوچنے کے قابل ہوا تو بھگوان پیدا ہو چکا تھا۔ اس حساب سے وہ میرا ہم عمر ہے۔ ہم نے لمبا عرصہ ساتھ

Read more

انگارہ آنکھیں سلگتے ہونٹ اور معصوم لڑکی

وہ مجھے گرینڈلیز بینک میں ملا تھا۔ درمیانہ قد، سامنے سے گھنگھریالے بال، جو بڑے سلیقے سے سر پر سجائے گئے تھے۔ گندمی رنگ، سلگتا ہوا چہرہ، بڑی بڑی انگارہ سی آنکھیں اور چہرے پر سب سے نمایاں چیز اس کے ہونٹ تھے، نہ افریقیوں کی طرح مولے موٹے، نہ جاپانیوں کی طرح پتلے پتلے۔ بھرے بھرے ہوئے ہونٹ، سلگتے ہوئے چہرے پر سلگتے ہوئے ہونٹ۔ میں اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئی تھی۔ خواہ مخواہ ہی دوسری بار دیکھنے کو دل چاہا تھا۔ دل بے اختیار ہو کر دھڑکا، بے چین ہو کر چونکا۔ میں گھبرا کر جلدی جلدی فارم بھرنے لگی تھی۔

کراچی میں بینک میں اکاؤنٹ کھولنا بھی ایک مسئلہ تھا۔ پہلے تو میں ناظم آباد چورنگی پر جو حبیب بینک ہے وہاں گئی، مگر ایک ہفتہ چکر کاٹنے کے بعد بھی اکاؤنٹ کھولنے کا فارم نہیں ملا تھا۔ عبداللہ ہارون روڈ پر موجود یونائیٹڈ بینک میں بھی یہی ہوا تھا۔ میں نے ازراہ تذکرہ فون پہ بہناز کو یہ بات بتائی تھی اس نے کہا تھا کہ کیوں نہ گرینڈ لیز بینک میں اکاؤنٹ کھول لو۔ گارڈن روڈ پر کانڈا والا بلڈنگ میں یہ کراچی کا پرانا بینک پارسیوں کا پسندیدہ بینک تھا۔

Read more

وہ بس ڈرائیور جو خدا بننا چاہتا تھا(عبرانی کہانی کا ترجمہ)

اس وقت سب سے بہترین بات یہ ہو گی کہ مطالعہ یہاں روک دیا جائے، کیونکہ ایڈی تو ڈولفینارئم وقت پر پہنچ گیا لیکن خوشی نہیں آئی، کیونکہ اس کا پہلے سے ہی ایک بوائے فرینڈ تھا۔ مگر وہ اتنی اچھی تھی کہ ایڈی کو یہ بات کہنے کی ہمت نہیں کر پائی، اور اس کے بجائے اس سے نہ ملنے کو بہتر سمجھا۔ ایڈی تقریباً دو گھنٹے تک خوشی کا اسی بینچ پر انتظار کرتا رہا جس پر دونوں نے ملنے کا فیصلہ کیا تھا۔

Read more

ہم بھی کسی کا خواب تھے

مگر وہ کون تھا جو ان کے درمیان آ گیا۔ دوشیزہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ دوشیزہ کی اپنی فیملی میں ایک ہی بہن سے دل لگی تھی ۔ اس کے علاوہ اس کے دل کے قریب کوئی بھی نہیں تھا۔ ضمیمہ نے ابان کو کس طرح بدظن کیا تھا یہ ہنر صرف ضمیمہ کا ہی تھا ۔ دوشیزہ ضمیمہ سے خوب واقف تھی مگر محبت کی بنا پر ہر چیز سے در گزر کر دیتی تھی۔ ایسا کیا تھا جو ضمیمہ نے ابان کو کہا۔ دوشیزہ آج تک نہیں جان سکی۔

Read more

جرات اظہار (افسانہ)

رمیز اور اس کے دادا معمول کے مطابق صبح کی ورزش کے لئے گھر سے نکلے، نزدیکی باغ میں تھوڑی دیر دوڑنے کے بعد دادا نے پارک کی ایک بینچ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ میں تھک گیا ہوں۔ رمیز نے ہوں کہا اور دوڑتا رہا، چند چکر لگانے کے بعد وہ دادا کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اور پوچھا دادا آپ ٹھیک تو ہیں۔ دادا نے مسکراتے ہوئے کہا، میں بالکل ٹھیک ہوں برخودار، بس تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے

Read more

آج اور کل کے درمیاں یہ جو اک رات پیوستہ ہے

وہ رات کہ جو اپنی آ غوش میں ناجانے کتنے راز رکھتی ہے۔ اس رات کی خبر کون لکھے گا؟ آج سے کل میں داخل ہونے کے لیے یہ جو رات بھر کی مسافت ہے، اس مسافت کو طے کرنے کے لیے غم کی سواری ہاتھ لگے تو یہ رات ایک قوسی شکل اختیار کر لیتی ہے، جس کی ایک طرف چڑھائی اور دوسری طرف ڈھلوان ہے۔ پھر یہ گاڑی ہر اسٹاپ پہ رکتی ہر مسافر اٹھاتی قوسی شب کی

Read more

دلہن کا دھوکا اور واپسی کا سفر

سجیت نے ایک سرد صبح کو سویرے دروازے پر دستک دی۔ جا کر دیکھا تو اس نے کہا: ”معاف کیجیے، میں آپ کو اس وقت تکلیف دینے آیا ہوں۔“

میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا : ”خیریت تو ہے ناں۔“
” خیریت ہوتی تو آپ کو کیوں بے وقت جگاتا۔ ایک مسئلہ ہے۔ آپ جلدی باہر آ جائیں؟“

Read more

جب شنکر کو دوست پر گولی چلانے کا حکم ملا

آمنے سامنے فوجی ڈٹے ہوئے تھے لیکن کچھ عرصے سے ایک دوسرے پر فائرنگ بند ہو چکی تھی۔ پچیس سالہ گبرو جوان شنکر دور بین لگائے دشمن کی نقل و حرکت دیکھتا رہتا۔ اب تو روز دشمن کا ایک ہی معمول تھا۔ ڈیوٹی کا بدلنا، کھانا پکانا اور مورچوں میں کھانا، چائے پکانا، سامان کی سپلائی کو ٹھکانے لگانا، کوڑا کرکٹ جمع کرنا۔ شنکر روز یہ دیکھ دیکھ کر کافی بور ہو چکا تھا۔ اس کے اپنی طرف بھی اسی

Read more

تقدیر کی گہرائیاں

ایف ایس سی کے دنوں کی بات ہے۔ گرمیوں کی ایک خوشگوار صبح تھی وہ۔ گلیوں میں چھاؤں کی ٹھنڈی چادر بچھی ہوئی تھی۔ دھوپ دیواروں سے نیچے کو بہنا شروع ہو چکی تھی۔ میں معمول کے مطابق اپنے سٹڈی روم میں پہنچ گیا۔ کام ہمیشہ کی طرح آپس میں گتھم گتھا تھا۔ میں سرا ڈھونڈنے لگا۔ اچانک میری بہن کمرے میں داخل ہوئی۔ ”تمھیں ظفر بلا رہا ہے باہر،“ اس نے کہا۔ ”مم، اچھا۔“ گویا سرا ہاتھ آ گیا۔

Read more

دوسری بیوی

میرا بھی ضبط ہے میں آپ کے ساتھ پہلے دن سے کیسے رہ رہی ہوں۔ بہت کچھ برداشت کر کے میں نے آج تک آپ کی فیملی پر کچھ نہیں بولا ہمیشہ انتظار کیا ہے کیوں کہ میں جانتی ہوں میں دوسری بیوی ہوں میرا مقام بعد میں ہے اور میری مجبوری صرف محبت ہے ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کمی آپ کو بھی نہیں تھی مجھے بھی نہیں میں نے بھی بہت سی قربانیاں دی ہیں آپ کو

Read more

مسز زمان

”زمان نہیں رہے“ مسز زمان نے شدت جذبات سے لرزتی آواز میں فون پر اسے بتایا اور اس کے ذہن میں بیتے دنوں کی یادیں در آئیں۔ **** زمان کے ساتھ اس کے خاندانی مراسم، دوستی، بے تکلفی اور احترام، ہر طرح کا رشتہ تھا۔ تقریباً دس گیارہ سال قبل ایک دن زمان نے باتوں باتوں میں ذکر کیا، ”یار آج کل اکثر سر میں درد رہتا ہے“ ” بڈھے ہو رہے ہیں جناب“ زمان اس سے عمر میں کوئی

Read more

لوگ جینے کہاں دیتے ہیں (افسانہ)۔

رات بہت ویران تھی۔ یہ گھنا اندھیرا اور سناٹا وحشت اور مایوسی کو جنم دے رہا تھا۔ یہ گہری رات گہرا راز اپنے اندر چھپائے ہوئے تھی۔ نوری صحن کے بیچ میں گم سم بیٹھی تھی، اسے کچھ ہوش نہیں تھا۔ وہ سکتے کی حالت میں تھی، اس کا سفید دوپٹہ خون سے سرخ ہو گیا تھا جیسے کسی نے رنگ دیا ہو۔

دوپٹہ تو رنگا گیا تھا لیکن اس کی زندگی کی ساری خوشیوں کے رنگ لے اڑا تھا۔ اس کی آنکھیں پتھر کی ہو چکی تھیں بلکہ وہ خود بھی پتھر کی مورت لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں چند لمحے پہلے ہونے والا واقعہ صاف نظر آ رہا تھا لیکن کوئی جھانک کر دیکھنے والا ہی نہ تھا۔

Read more

جرنیلی سڑک اور خاکی ٹرک

”بابا اس سے آگے موڑ پر ہم ٹرک سے آگے نکل جائیں گے“ ”نہ بیٹا۔ ہم ٹرک کے پیچھے ہی جائیں گے۔ دعا کریں کہ ٹرک سپیڈ پکڑے یا پھر ہم کو خود ہی آگے کر دے۔“ ”لیکن بابا یہ ٹرک ہے آخر۔ ہم ٹیوٹا کار میں ہیں۔ آپ اور ٹیک کر لیں پلیز بابا۔ یہ دیکھو۔ اب رستہ کھل گیا۔ please now، be quick“ بابا کچھ کہنا چاہتا ہے۔ مگر ایک گہری زیر لب مسکراہٹ پر اکتفا کرتا ہے۔

Read more

جب یوسف اپنی محبوبہ سے ملنے آیا

’میں تمہارے حسن کا اسیر ہوں اس لیے میں سیکڑوں میل کا سفر کر کے تمہارے پاس آیا ہوں۔‘ یوسف بہت بے قراری سے اسے پکار رہا تھا۔ ’لیکن مجھے تم لوگوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔‘ یوسف کو محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے کان میں سرگوشی کر رہا ہے۔ ’لیکن کیوں؟ یہاں تو کوئی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تم یہاں محفوظ ہو اور مجھے یقین ہے کہ تم یہاں ہمیشہ ایسے ہی رہو گی۔ بھلا اتنی دور

Read more

بٹو میاں رفو گر(کہانی)

دلہن نے انہیں مسہری پہ سے اتر جانے کو کہا اور خود غسل خانے کی جانب بڑھی۔
بہت دیر جب غسل خانے سے باہر نہ آئی تو بٹومیاں کو فکر لاحق ہوئی۔ دروازہ بجایا آوازیں دیں لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ کواڑ کو اندر کی جانب دھکیل کر کنڈی توڑی اور اندر داخل ہوئے۔
اندر دیکھتے ہیں کہ دلہن اوندھے منہ گری پڑی ہے، پاس ہی زہر کی شیشی گری ہوئی ہے۔

Read more

کیکر نمبر ایک (افسانہ)

میں ہر روز اسی سڑک پر نکلتا تھا۔ یہ میرا روز کا معمول تھا۔ آج سوچوں تو ایسے لگتا ہے کہ وقت کی دوڑ دھوپ اور دھول میں بہت کچھ پیچھے رہ گیا ہے ۔ ایک گاؤں ایک تھڑا اور ایک کیکر میرے یادوں کے بازار میں کھڑا فیصل آباد میں واقع گھنٹے گھر کی طرح، شہر بھر میں جہاں سے گھوم کے جاؤ سامنے کھڑا نظر آئے میں ، جدھر سے بھی گزرتا سامنے کیکر آ جاتا۔ اس کیکر

Read more

نظام مملکت، موکلین اور جھاڑ پھونک (افسانہ)

”میرے شہنشاہ! میں نے کہا تھا، جب تک یہ کنیز آپ کے چرنوں میں رہے گی آپ کے سرِ پُرغرور پر سایہ بال ہما موجود رہے گا۔“ ”ہاں! سچ کہا تھا، آپ نے۔“ ”یہ خاتم سلیمانی جو نسل در نسل چلتی ہوئی مجھ فقیر تک پہنچی ہے، یہ اسی کی برکت ہے۔ اسی کے صدقے میں نے آپ کو تخت کی بشارت دی تھی۔ ”ہاں! یہ سب کچھ ہوا۔ یہ اس پر نقش اسم اعظم کی برکت کے ساتھ ساتھ،

Read more

پیر کا جن اور ڈاکٹر کا انجکشن (سندھی افسانے کا ترجمہ)

ثمینہ بینچ سے اٹھ کر اس مریضہ کی والدہ کی طرف بڑھ آئی، جس نے معصوم نگاہوں سے بغیر پوچھے اسے بتایا۔ جیسے ثمینہ ان چیخوں کی وجہ پوچھنے کے لیے اس کے پاس آئی ہو۔

”بیٹا۔ نل کے قریب سرسوں کا پیڑ ہے۔ گاؤں میں، یہ وہاں ننگی نہاتی پھرتی ہے۔ سایہ ہو گیا ہے اس پر۔“
”سایہ؟“ ثمینہ نے مارے حیرت کے پوچھا۔
”اس کو ایک ’جن‘ چمٹا ہے بیٹی!

گاؤں کے مولوی اشرف نے بھی بہت کوشش کی۔ جتنی اس کے بس میں تھی۔ بہت دم درود کیامگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ ہر ماہ کے پہلے پیر کی رات کو ’جوسب شاہ جیلانی‘ کی درگاہ پر بھی پوری پوری رات حاضری دے کر آئے ہیں۔ مگر بیٹا! ایک دھیلے کا فرق نہیں پڑا۔ اس کا جن تو بولتا بھی ہے۔

Read more

اس نے تیزاب کیوں پھینکا؟

ارے موئی جب دیکھو آئینے کے سامنے کھڑی رہتی ہے ، یہاں آ کتھا نکال لا ہنڈیا سے۔ اماں جان سروتے سے چھالیہ کترتے ہوئے عائشہ کو دوچار صلواتوں کے ساتھ پکارتیں۔ یہ روز کا ہی معمول تھا،  عائشہ ناشتے کے برتن دھونے کے بعد کمروں کی جھاڑو اور پھر برآمدے اور آنگن کی دھلائی کرتی۔ آنگن میں لگے آم کے پیڑ کے عین نیچے اماں جان کی چارپائی بچھی رہتی ، سرہانے پاندان رکھا رہتا۔ عائشہ گھر کے کام

Read more

ماسٹر کون ہے؟

کچھ لوگ آپ کو آپ کی زندگی میں راہ چلتے اجنبی کی طرح ملتے ہیں۔ اور دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی عجیب و غریب شخصیت دیکھ کر بھی لوگ متاثر ہو جاتے ہیں۔ ماسٹر بھی ایسا ہی تھا۔ دکھ درد اور تلخ حالات نے اسے اتنا پختہ بنا دیا تھا کہ وہ کبھی قدرت سے مایوس نظر نہیں آیا۔ لیکن سوال اس کے ذہن میں بھی آتا ہو گا اور وہ قدرت سے یقیناً یہ سوال کرتا ہو گا کہ آخر میری زندگی کو فراز کب نصیب ہو گا؟

Read more

میری حسن پرستی اور بیوی کی جھنجھلاہٹ

یہ حسن پرستی شادی سے پہلے تک تو ٹھیک تھی۔ لیکن بیوی کے آنے کے بعد یہ عادت میری بیوی کے لیے درد سر بن گئی۔ وہ میرے ساتھ ہوں یا نہ ہوں، میں جہاں خوبصورت چہرہ دیکھتا وہیں رک جاتا۔ شادی بیاہ میں وہ اکثر اکیلی رہتیں اور میں ان سے دور کسی حسین چہرے کے قریب پایا جاتا۔

اگر ہم شاپنگ کے لئے مارکیٹ یا مال جاتے تو ہوتا ایسا کہ یا میں ان سے پیچھے رہ جاتا یا ان سے آگے نکل جاتا اور وہ مجھے ڈھونڈتی نظر آتیں۔ وجہ وہی کہ میں کسی حسین چہرے کے پیچھے بیوی سے دور ہو جاتا۔ کئی بار تو پٹائی بھی ہوئی اور کبھی بیوی نے بر وقت پہنچ کر جان بخشی کروائی۔

Read more

میرا روبوٹ میری مرضی

فلائنگ کیب اڑی جا رہی تھی۔ صدف کو یوں لگا کہ نیچے زمین پر ایک بہت بڑا سا قالین بچھا ہوا ہے اور اس کے کناروں پر جھالر لگی ہوئی ہے۔ اس نے کیپٹن سے کیب روکنے کو کہا۔ کیپٹن سے آج تک کسی نے یوں ہوا میں کیب نہیں رکوائی تھی۔ وہ بہت بیزار ہوا۔ صدف نے اپنے too smart فون سے منظر کو فوکس کیا۔ ”اوہو آج تو آٹھ مارچ ہے“ ۔ اسے یاد آیا۔ نیچے خواتین مارچ کا جلسہ ہو رہا تھا۔ وہ بڑا سا قالین جلسے کے مرد شرکاء تھے اور کنارے کی جھالر خواتین شرکاء تھیں۔

Read more

گدھا اور رئیس کرم خان کا سالا

مجمع سے ایک پگڑی والا شخص مجھے کہنے لگا ”سائیں گدھا تو مر جائے گا۔ اس کا ہرجانہ تو بھرنا پڑے گا۔ یہ گدھا ہمارے گاؤں کے غریب دھوبی کا ہے۔“

” کتنا ہرجانہ ہوگا“ میں نے کہا۔
” پچاس ہزار روپے!“ پگڑی والا کہنے لگا۔
” پچاس ہزار۔ گدھے کے!“ میں چونک گیا۔
” جی سائیں۔ یہ ایرا غیرا گدھا نہیں، نسلی گدھا ہے اور بہت مہنگا بھی۔“ پگڑی والے نے کہا۔
” لیکن گدھا اتنا مہنگا نہیں ہوتا۔“ میں کہنے لگا۔

میری بات کاٹتے ہوئے پگڑی والا کہنے لگا۔ ” پچاس ہزار ہی دینے ہوں گے ۔ کرمی کو گدھوں کی منڈی جانا ہو گا۔ وہ کسی اور شہر میں لگتی ہے۔ اس کا کرایہ، گدھے کی قیمت اور پھر وہاں سے گدھا لانا ہو گا۔ خرچہ ہوتا ہے صاحب۔“

Read more

جہاں زاد

وہ دھیرے دھیرے گنگنانے لگی۔ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ملکوتی تبسم سجائے میرے دل کے آنگن میں رنگوں، کرنوں اور لہروں کا سنگم ہونے لگا۔

اس نے فرمائش کی:
”اپنی آنکھیں موندو اورمجھے بتاؤ بھلا میرے دل میں کیا ہے؟“
تم سیلانی ہو، سراغ لگاتے ہو نا انجان منزلوں کا، اور اجنبی راستوں کا!
مجھے بتاؤ ان راستوں میں کسی کو پیچھے چھوڑ آئے ہو کیا؟
بتاؤ نا سردیوں کی شاموں میں کیوں اداس پھرتے ہو؟

Read more

لکھنوٴ سے آئی نظمیں

ماسٹر صاحب نے تو آوٴ دیکھا نہ تاوٴ۔ تسلیم کو سامنے بلایا اور دو تین چھڑیاں اس کے دائیں بائیں بازو پہ جڑ دیں۔ اور غصے میں بولے، ”گندی بچی۔ ایک ایک بال میں دس دس جوئیں ہیں تمہارے۔ پہلے وہ تو نکلواؤ پھر اس بچی کے قریب بیٹھنا اور خبردار جو آئندہ زارا کو ڈرانے کی کوشش کی، ورنہ تمہارے ناناجان سے شکایت کروں گا پھر دیکھنا کیا حشر کریں گے وہ تمہارا۔“ تسلیم نے کینہ پرور نظروں سے اس کو دیکھا۔ ماسٹر صاحب نے پیار سے زارا کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور بولے۔ ”اب ہم خود اپنی بیٹی کو روزانہ چھٹی میں گھر تک چھوڑ کر آئیں گے تاکہ یہ تسلیم پگلی ہماری بیٹی کو تنگ نہ کر سکے۔“

Read more

قبرستان کا بادشاہ

فیض کے ایک ہاتھ میں پانی سے بھری ہوئی بالٹی تھی۔ فیض کے علاوہ اور بچے بھی وہاں تھے جو پھٹے ہوئے کپڑوں میں ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ جیسے ہی کوئی مرد یا عورت قبرستان میں پھول چڑھانے کے لیے یا فاتحہ پڑھنے کے لیے آتا یا آتی تو یہ بچے پیچھے پڑ جاتے کہ وہ قبر کی صفائی کریں گے اور پانی ڈالیں گے۔ دو تین بار عمر کو بھی دوسرے بچوں کے ساتھ کچھ روپے مل گئے۔ عمر کو یہ کام اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن زندگی میں پہلی بار اس نے کچھ روپے کمائے تھے۔ ان روپوں کو چھو کر اسے ایک عجیب سی تسکین مل رہی تھی جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر بار بار ان روپوں کو چھو رہا تھا۔ ایک عورت نے آ کر بچوں میں چنے بھی بانٹے اور ایک دوسری عورت نے دو دو بسکٹ سب کو دیے۔ آج نہ جانے کتنے عرصہ بعد عمر نے بسکٹ کھائے تھے۔

Read more

کہانی چند سو لفظوں کی

بچپن کے ٹراماز بہت خطرناک حد تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر بچپن کے ٹراماز کا مستند طور پر بر وقت سدباب نہ کیا جائے تو ان کا اظہار اور بھی خطرناک اور گھناؤنے طریقے سے ہو سکتا ہے۔ اس کے گھر محلے کے ایک داڑھی والے بظاہر شریف، ہر وقت تسبیح کرنے والے ایک فرد کی اکثر آمد ہوتی ہے۔ اکثر وہ دین کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اچانک جب وہ سوتے سے جاگتا ہے تو انہی

Read more

محبت کا اعتراف

” پھر تم مجھ سے دور کیوں ہو گئے“ سندھو نے کہا۔ ” میں کب تم سے دور ہوا ہوں۔ اموشنلی تمہارے ساتھ ہوں۔ اور رہوں گا۔“ میں نے کہا۔
” پھر تم نے مجھے کیوں کہا کہ میسیج نہ کرنا، بات نہ کرنا۔ ؟“ سندھو گویا ہوئی۔ ” میرے پاس کچھ نہیں جو تمہیں دوں۔ تم نے بھی تو کہا تھا کہ ایک دن چلی جاؤ گی۔ وہ دن جس دن جاؤ گی کوئی بڑا صدمہ یا دکھ تم دو گی تو ابھی چھوٹا سا دکھ دے جاؤ۔“ سندھو نے پھر میرے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز بند کردی۔

Read more

بارک اوبامہ بڑے بھائی سے ملتے ہیں

” تم جا کہاں رہے ہو؟“ اس نے مجھ سے پوچھا۔ ” اپنے بھائی سے ملنے“ ” مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہارا بھائی بھی ہے“ ” اب تک نہیں تھا“ اگلی صبح میں طیارے کے ذریعے واشنگٹن ڈی سی پہنچا جہاں میرا بھائی رائے رہتا تھا۔ ہماری آپس میں پہلی بار بات چیت آؤما کی شکاگو میں آمد کے دوران ہوئی تھی، جس نے تب مجھے بتایا تھا کہ رائے نے امریکن پیس کور کی ایک اہلکار سے بیاہ

Read more

محبت اور عقیدت

سندھو نے مجھے ’شاہ جو رسالو‘ اور گلاب کا پھول تحفے میں دیا تھا۔ تب سے شاہ لطیف کی شاعری میرے شعور، لاشعور اور تحت الشعور میں بس گئی اور گلاب کی خوشبو میرے اعصاب اور خیالوں میں سمائی ہوئی ہے۔

یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریشن بلاک سے پگڈنڈی پر پہاڑی سے نیچے اترتے ہوئے سندھو اچانک درختوں کے جھرمٹ میں رک گئی اور آم کے ننہے پودے کو دیکھنے لگی۔

میں نے کہا ”کیا دیکھ رہی ہو؟“ ” آم کے پودا دیکھ رہی ہوں، یہ بہت چھوٹا ہے، یہاں اگ نہیں پائے گا، اگر اگ بھی گیا تو شاید ہم نہ ہوں۔ اس پیڑ کا پھل کوئی اور کھائے گا۔“

” کیسے، تمہاری فلسفیانہ بات مجھے سمجھ نہیں آئی؟“ میں نے پوچھا۔

Read more

حرف ایک طلسم

جیسے گیلی لکڑیوں کی سلگن میں یک دم اضافہ ہوا۔ نگاہ باغیچے کے گوشے سے ہٹی اور کھلتے گلابوں سے جا ٹکرائی، نگاہ کا لمس بھی عجب لمس ہے۔

کبھی محسوس ہوا۔ ؟
آواز کاسحر بھی عجب سحر ہے۔ ہے نا۔
نازکی کا فسوں بھی کیا فسوں ہے، دلربا سا۔ احساس کو حرف میں انڈیلنا بھی تو ایک ہنر ہے۔
بولی، ”جوتے اتار دیں“
”مخملیں گھاس پہ بیٹھ جائیں
اور آرام سے مجھے سنیں ”
جیسے سننے والے بھجن سنتے ہیں، قوالی سنتے ہیں،
وہ کسی معمول کی مانند سننے کے لیے تیارتھا۔
وہ آلتی پالتی مار کے دو زانو بیٹھ گیا جیسے مراقبے میں بیٹھا ہو چپ چاپ دم سادھے۔
روشنی کی لہر نے حرف کو اوڑھا جیسے رات چاندنی کا دوشالہ اوڑھے۔
اس نے پوچھا لکھاری کون ہوتا ہے۔ ؟

Read more

بے بی کا موبائل اور ادھوری فلم

دو سال سے زائد عرصہ گزر چکا تھا؛ فلم سیٹ تک نہیں جا سکی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ فلم صرف منصوبہ بندی کے مراحل میں اٹکی ہو، بہت سا کام مکمل بھی کر لیا گیا تھا۔ کہانی مکمل تھی، پہلے دو ایکٹ کا سکرین پلے لکھا جا چکا تھا، تین گانے ریکارڈ ہوچکے تھے اور کوریو گرافر استاد دتہ کی ہدایت میں ان دھنوں پر رقص کی مشق چلتی رہتی تھی۔ معاون کردار نبھانے والے اداکار چن لئے گئے

Read more

غیرت آباد کا موضع عزت پورہ

شاید چاندکی ابتدائی تاریخیں چل رہی تھیں۔ ہلکی ہلکی چاند کی روشنی میں بھی ملک مصور اشفاق المعروف ملک ساجی کا وجیہہ چہرہ واضح نظر آ رہا تھا۔ کیکر، شیشم، پوپلر اور نیم کے درختوں کے جھنڈ میں اپنے ڈیرے پہ چارپائی پر لیٹے اور حقے کے کش لیتے ہوئے بھی اس کی نگاہ گاؤں سے آنے والی پگڈنڈی پر ہی مرکوز تھی۔ پشت کی جانب سے نذیرا ماچھی ننگے پاؤں کسی اٹھائے ڈیرہ پہ پہنچا تو ساجی نے پلٹ

Read more

ایک عام سا شخص

وہ ایک عام سا شخص تھا، اس میں ایسی کوئی بات بھی نہیں تھی جو اسے خاص بناتی۔ پھر بھی ہر شام جب میں آفس سے واپس آتا تو میری نظر خود بخود اس کے کمرے کی جانب اٹھتی جہاں سے کمرے کی کھڑکی اور کچن کے ویکیوم فین سے چھن چھن روشنی باہر آتے دیکھ کر مجھے اس کی موجودگی کا پتہ چلتا۔ میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تو گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا تھا، میں آفس

Read more

اک وصل کی خاطر

”بی بی جی مجھے آج جلدی گھر جانا ہے“ ”کیوں کیا ہوا“ ”آج وہ گھر پہ ہے نا اس کی چھٹی ہے۔“ چاہت کمو ’کے لہجے سے چھلک رہی تھی۔ پہلی بار بلور بی بی جی نے کسی پہ رشک کیا۔ جب میں نے ”بلور“ کی خبر سنی تو سوچا ”شاہ لطیف“ نے حرف بہ حرف درست کہا تھا کہ ”عورت معشوق نہیں عاشق ہے“ بلور میری بچپن کی سہیلی تھی۔ ہم دونوں اپنے دکھ سکھ کی باتیں کیا کرتے

Read more

دیوتا کا وردان

وہ اماوس کی ایک رات تھی جب میں نے دارو کی خالی بوتل سمندر میں پھینکی تھی اور اپنی محرومیوں پر قسمت کو بھرا بھلا کہنے لگا۔ رات کے سناٹے میں سمندر کی لہریں شورمچا کر میری سوچ پر تانڈو ناچ کر رہی تھیں۔ میری آواز پر جب لہریں حاوی ہونے لگیں تو میں نے تنگ آ کر اپنی پیٹھ سمندر کی طرف کردی۔ میں اپنی بے بسی کے خیالوں میں گم ہی تھا کہ مجھے سمندرمیں طغیانی محسوس ہوئی۔

Read more

انا پرست لڑکی

ساری نظمیں، بہت ساری غزلیں بیکار گئی۔ بہت سے وعدے اور منتیں رائیگاں ہونے لگی۔ خواہشات نے آخر کار دم توڑ دیا۔ کیونکہ اسے صرف اپنے کتابوں اور کمرے سے محبت تھی۔ عجیب سی انا پرست لڑکی تھی۔ بہت سے کھلاڑی ہار مان گئے اور بعض نے تو کھیلنے کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ کیونکہ انا پرستی اپنی عروج پر تھی۔ حسن، جوانی، دولت سب ہی ایک طرف اور ان کی انا پرستی دوسری طرف۔ پتہ نہیں کتنے نوجوانوں کی

Read more

آئندہ دلربا سے ملنے آنا

بیس سالہ خوبرو عارف کیٔ مرتبہ جنت بی بی سے مل چکا تھا بلکہ ایک دو بار اس کے گھر میں رات بھی گزارچکا تھا۔ آج پھر وہ جنت بی بی کے سامنے بیٹھا ہوا تھا لیکن ایک بت کی طرح ساکت۔ اس کی زبان نے جذبات کی کشمکش کی وجہ سے ہلنے سے انکار کر دیا تھا۔ جنت بی بی سے ا س طرح کی بات کرنا عارف کے لئے شاید زندگی کا مشکل ترین کام تھا۔ عارف کو

Read more

بھوری

سردیوں کی یخ بستہ رات تھی۔
سکینہ تھر تھر کانپتی صاف ستھرے، نتھرے نتھرے ستاروں بھرے آسمان کو دیکھ رہی تھی۔

یکایک اس کی نظر ایک شعلے کی طرف لپکی، تاروں سے چم چم کرتے آسمان پر ، وقت کی بہت ہی چھوٹی سی اکائی کے ہزارویں حصے میں شعلہ لپکا اور غائب ہو گیا جیسے کسی کے گلے میں راگ اٹک گیا اور سانس کی ڈورٹوٹ گئی۔

Read more

آخری دس منٹ باقی ہیں

”آخری دس منٹ باقی ہیں“ اس کی پاٹ دار آواز ہال میں گونجی، جواب میں ایک مانوس بھنبھناہٹ ابھری، کچھ قلم مزید تیزرفتاری سے کاغذ پر گھسٹنے لگے، کچھ نے غیریقینی انداز میں اپنی کلائی کی گھڑیوں پر نظر ڈالی، ایک دو احتجاجی آوازیں اور کچھ التجائیہ فقرے۔ سر پانچ منٹ اور، پیپر بہت مشکل تھا، نہیں نہیں سر مشکل نہیں لمبا تھا۔ اور اس تمام بھگدڑ میں اس کی نظر اس چہرے پر پڑی۔ وہ چہرہ جو ہر کلاس

Read more

بوبو جان

بنیر کی پہاڑیوں پہ اپنی بکریاں چلاتی اچھلتی کودتی وہ خوب صورت بچی جانے کب جوان ہو گئی۔ گھر میں سب ہی کی چہیتی آج ڈھولک کی تھاپ پر پورے گاؤں کو الوداع کہ کے دوسرے گاؤں بیاہ دی گئی۔ اتنی کم عمری کی شادی کہ وہ اپنے بدن کی اٹھان کو محسوس بھی نا کرسکی اور ایک بچی کی ماں بن گئی۔ مامتا بھی ایک عجیب احساس ہے بلکہ نعمت خداوندی ہے کہ اس احساس کے بعد نا بے

Read more

میری دوسری محبت

مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ شام کی پھوار نے مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو سے ہوا کو معطر کر دیا تھا اور درختوں کے پتے ہلکے ہلکے سرسرا رہے تھے۔ شاید وہ آپس میں سرگوشی کر رہے تھے میرے اور ابراہیم کے بارے میں۔ جب میں اس سے پہلی بار ملی تھی، اس کے شائستہ اطوار نے، اس کے چہرے کی دلکش مسکراہٹ نے، اس کی شیریں زباں نے، اور جب اس نے میرے اصرار پر اپنے کہے

Read more

رنی کوٹ کی شہزادی

رنی کوٹ پر وہ ایک سرد چاندنی رات تھی، جب مجھے نیند نہیں آئی تو میں رہائشی کمروں کے باہر الاؤ کے گرد رکھی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ وقت دیکھا تو دو بجے تھے۔ رک رک کر ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے شال اور سوئٹر سے گزر کر جسم میں کپکپی پیدا کر رہے تھے۔ ہوا کے ایک جھونکے کے ساتھ تیز سرسراہٹ سے میں چونک گیا۔ سردی کا احساس بھول کر سرسراہٹ کی آواز کی سمت دھیان

Read more

دو فقیر، درد ایک

سندھ میں ہیجڑے کو فقیر کہتے ہیں۔ عام طور پر فقیر بھیک مانگنے والے کو کہا جاتا ہے، مگر سندھ میں فقیر کا ایک اور معنیٰ بھی ہے، جو بزرگ کے زمرے میں آتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فقیر کی بددعا نہیں لی جاتی، ہمیشہ دعائیں لی جاتی ہیں۔ میں آج آپ سے دو ہیجڑے فقیروں کا ذکر کروں گا۔ ایک دیہات میں اور دوسرا شہر میں رہتا تھا۔ یہ بھی دیگر ہیجڑوں کی طرح مانگ کر، شادی بیاہ

Read more

ادھورا وجود

زمیل سے میری پہلی ملاقات حادثاتی طور پر سر گیلانی کے دفتر میں ہوئی تھی اس دن میں ذرا تاخیر سے پہنچی کمرے میں چائے کا دور چل رہا تھا سر کا میز جس پر دنیا جہان کا علم بکھرا ہوتا تھا آج قدر سمٹا ہوا نظرآ رہا تھا میز کے سامنے انگریزی لباس پہنے خوبرو نوجوان موجود تھا میں آگے بڑھی فضا میں ایک عجیب اور غیر مانوس سی خوشبو پھیلی ہوئی تھی سر مجھے دیکھتے ہی بولے اوئے!

Read more

اظہار محبت

ہم دونوں کی نظر ملی تو میرا دل زور سے دھڑکا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ جب بھی اس سے نظریں چار ہوتیں، مجھے یوں لگتا کہ دل حلق کے راستے باہر آ جائے گا۔ وہ کلاس کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ یا شاید محبت میں ایک ہی شخص خوبصورت نظر آتا ہے۔ لیکچر کے دوران اس کی طرف نگاہ جاتی تو میں اس کی سحر زدہ آنکھوں میں کھو سا جاتا۔ وہ مسکراتی تو گویا پوری کائنات

Read more

1947 ء ابھی ختم نہیں ہوا

بہاول پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دکھاں بی بی اپنے کچے صحن میں چارپائی پر ہاتھ سے پنکھا جھل رہی تھی اور پاس زمین پہ اس کا پڑپوتا اور پڑپوتی کھیل رہے تھے۔ شادو کی عمر بارہ سال اور مٹھو پانچ سال کا تھا۔ دکھاں کی عمر اب ستاسی برس ہو چلی تھی۔ اس عمر کے بزرگ گھر میں رکھے پرانے فرنیچر کی طرح ہو جاتے ہیں جنہیں گھر کی تین نسلوں نے ہوش سنبھالنے سے دیکھا ہوتا

Read more

افسانہ _دیس نکالے

صبح دھوپ پھیلنے سے پہلے کوئی بالکنی پر نکلتا اور اس پر سجائے تمام پودوں کو پانی سے سیراب کرتا تو چھت سے لٹکی گل دوپہری کی پتلی پتلی ہتھیلیوں سے پانی کے قطرے نیچے کو گرنے لگتے۔ عمارتوں کے آس پاس سیاہ فاختائیں ہر وقت اپنی اداس لے میں کوئی گیت گاتی رہتیں، جسے لوگ موسیقیت سمجھتے، کوئی نہ جان سکتا تھا کہ ماتم بھی ہو سکتا تھا۔ سورج عمارتیں پھلانگتے آدھا دن لگا دیتا اور دن کے عین وسط میں عمارت سے آگے بڑھ کر رخ روشن عیاں کرتا تو بالکنی پر لگی نم دیدہ گل دوپہری بازو پھیلائے ایک طویل انگڑائی لیتی، شاخوں کو جھٹکتی، پتیوں کو سنوارتی کہ بالآخر دن کی روشنی کو کئی گھنٹوں تک سامنے والی عمارت پر تکتے رہنے کے بعد اب تمازت پنکھڑیوں تک پہنچی تھی۔

Read more

کہانی حرکت کیسے کرتی ہے؟

”سر مجھے ایک اچھے افسانے کے رموز بتا دیں اور ایک ایسی کہانی جو حرکت کرتی ہو۔“ مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں افسانہ تو لکھتی ہوں پر اس کی کہانی حرکت نہیں کرتی۔ فارحہ نے الجھے ہوئے لہجے میں سر فاران علی سے پوچھا۔ فاران علی شہر کے مشہور لکھاری تھے اور اکثر نوآموز لکھاریوں کے لیے لیکچرز اور سیمینارز کا اہتمام کرتے رہتے تھے۔ وہ بھی چاہتی تھی کہ کسی طرح خوبصورت کہانیاں لکھنا سیکھ لے۔ اسی

Read more

پتھر

مصنف : رچرڈ شیلٹن (امریکہ) مترجم: خلیل الرحمان کتاب: فلیش فکشن ( 72 انتہائی مختصر کہانیاں ) سردیوں کی راتوں میں مجھے باہر جانا اور دوسرے پتھروں کو بڑھتے ہوئے دیکھنا اچھا لگتا پے۔ میرے خیال میں وہ یہاں صحرا میں، جہاں پر موسم گرم اور خشک ہوتا ہے، کسی بھی دوسری جگہ کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں پھلتے پھولتے ہیں۔ یا پھر چھوٹے یہاں پر زیادہ فعال ہوتے ہیں۔ چھوٹے پتھروں کا رجحان اپنے بڑوں کی ناپسندیدگی کے

Read more

ماں: سمرسٹ ماہم کی ایک کہانی

اپنے فلیٹ کی کھڑکیوں سے جھانک کر دو تین لوگوں نے دیکھنے کی کوشش کی کہ لڑائی کی آوازیں کہاں سے آ رہی تھیں۔ ”یہ نئی کرایہ دار ہے اور مزدور سے جھگڑا کر ہی ہے“ ایک عورت نے اپنی ہمسائی کو بتایا۔ یہ واقعہ سپین کے شہر سیویل میں ظہور پذیر ہو رہا تھا۔ دائرے میں بنے اس بلاک میں بیس فلیٹس اور کچھ کمرے کرائے پر چڑھے ہوئے تھے۔ ان میں کم آمدنی والے ملازمین، ڈاکیے، ٹرام کے

Read more

ناری شکتی زندہ باد

” مکیش بھیا، کل فادرز ڈے تھا۔ آپ نے اپنے پاپا کو کیا دیا؟“ میں نے اپنے ٹیوٹر سے پوچھا، جو مجھے اور میری بہن رفعت کو ہندی اور حساب پڑھانے ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔

”زور کا ایک طمانچہ“۔ مکیش بھیا نے تیز آواز میں کہا۔

مکیش بھیا سے اس قسم کی گفتگو کی بالکل توقع نہیں تھی۔ وہ تو بڑے ہی خوش مزاج اور مہذب انسان تھے۔ ان کا برتاؤ ہمارے ساتھ بڑا مشفقانہ تھا۔ لیکن آج تو معاملہ ہی عجیب تھا۔ درشت لہجہ، خشمگیں آنکھیں اور خشونت زدہ چہرہ۔ یہ ہمارے والے مکیش بھیا تو نہ تھے۔

Read more

رانی سارندھا: پریم چند

اندھیری رات کے سناٹے میں دہسان ندی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی سہانی آواز پیدا کرتی تھی، گویا چکیاں گھمر گھمر کرتی ہوں۔ ندی کے داہنے کنارے پر ایک ٹیلا ہے، اس پر ایک پرانا قلعہ بنا ہوا ہے، جس کی فصیلوں کو گھاس اور کائی نے گھیر لیا ہے۔ ٹیلے کے پورب میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ قلعہ اور گاؤں دونوں ایک بندیل سردار کی یادگار ہیں۔ صدیاں گزر گئیں، بندیل کھنڈ میں سلطنتیں بنیں اور بگڑیں، مسلمان آئے اور گئے، بندیل راجے اٹھے اور گرے۔ کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جس پر ان تبدیلیوں کے داغ نہ لگے ہوں۔ مگر قلعے پر کسی دشمن کا پھریرا نہ لہرایا اور اس گاؤں میں کسی دشمن کے قدم نہ آئے۔ یہ اس کی خوش نصیبی تھی۔

انردھ سنگھ دلیر راجپوت تھے۔ وہ زمانہ ہی ایسا تھا، جب ہر شخص کو ضرورتاً دلیر اور جانباز بننا پڑتا تھا۔ ایک طرف مسلمان فوجیں پرا جمائے کھڑی رہتی تھیں تو دوسری طرف زبر دست بندیل راجے چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو ہوس ناک نگاہوں سے دیکھتے رہتے تھے۔ انردھ سنگھ کے پاس سواروں اور پیادوں کی مختصر مگر آزمودہ کار جماعت تھی، اس سے وہ اپنے خاندان کا وقار اپنے بزرگوں کی عزت قائم رکھتا تھا۔ اسے کبھی چین سے بیٹھنا نصیب نہ ہوتا۔

Read more

آگہی کا عذاب

”بازار اور دفاتر کھل گئے ہیں، لیکن کرونا کا خطرہ ابھی ہے۔“ حالات سے زیادہ گھمبیر آواز میں چلتا پیغام اس کے اعصاب پہ ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا۔ اس نے جھنجلا کر کال کاٹ دی۔

اس کے اعصاب شدید کشیدہ تھے۔ دل کی دھڑکن پہ توجہ جاتی تو لگتا کہ شاید اگلی دھڑکن سنائی ہی نہ دے گی۔ وہ موبائل اسکرین پہ نظر جمائے بیٹھی تھی، جو یوں ہلکورے کھاتی لگ رہی تھی، جیسے وہ کشتی یا ٹرین میں بیٹھی ہو۔ لیکن اسے پتا تھا کہ اسکرین نہیں ہل رہی بلکہ یہ صبح سے بھوکے ہونے کا اثر ہے۔ اس نے انگشت شہادت کو موبائل کی پشت پہ بنے فنگر پرنٹ پینل پہ رکھا، اسکرین ان لاک ہوتے ہی، اس نے کووڈ 19 کی ایپ کو چھونے کی کوشش کی، لیکن انگوٹھا اوپر والی ایپ پہ جا لگا۔

Read more

آخری چیخ

” یاد ہے، تم اکثر میرا ہاتھ تھام کر اسلام آباد کی سب سے اونچی پہاڑی پر جایا کرتے تھے؟ مجھ سے اظہار وفا کرتے تھے؟ تم مجھے بتاتے تھے، یہ نیچے جو دنیا بس رہی ہے، میں اس سے بہت جدا سا ہوں۔ تم مجھے دنیا والوں جیسا نہیں پاؤ گی۔ یہ لوگ صرف تماشائی ہیں، لوگ کبھی ہم درد نہیں ہو سکتے، لوگ ہمیشہ آپ کے ٹوٹ کر بکھر جانے کا انتظار کرتے ہیں۔ لوگ آپ کا استعمال کرتے ہیں اور وقت گزاری کے بعد آپ کو بہت بری طرح دھکا دیتے ہیں۔ جس کے بعد آپ پھر سے کھڑے ہونے کی طاقت بھی کھو دیتے ہیں۔ تم یہ بھی کہتے تھے، میں ہی تمہارا ہم درد ہوں۔ مجھے بھی اس پہاڑی پر رشک آتا تھا، جسے ہم جیسے خوش قسمت ترین محبت کرنے والوں کی قربت نصیب ہوئی تھی۔

یاد ہے، اکثر ہم نیلم جہلم دریا کے پانی سے باتیں کرتے تھے؟ کتنی دیر تک پانی میں پاؤں رکھ کر پانی سے سکون حاصل کرتے تھے اور پھر اس سکون کو خود میں اتارتے تھے۔ تم اس وقت بھی محبت کے دعوے کرتے تھے۔ کشمیر کے پہاڑ اور دریا کا پانی بھی میری محبت پر مسکراتا رہتا تھا۔ کتنے قیمتی تھے وہ پہاڑ بھی، وہ دریا کا پانی بھی جنہیں ہماری قربت نصیب تھی۔

Read more