خوبصورت لمحے

یہ بھی سچ ہے خوبصورت لمحے انسان کے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل جاتے ہیں اور ان لمحوں کا انتظار انسان سخت گرمی میں ہونے والی برسات کی طرح کرتا ہے۔ اس روز سردیوں کی دھوپ بھی آنکھ مچولی کھیل رہی تھی اور کرن اپنی بلیوں کو گھاس پر کھیلتے ہوئے دیکھ کر خوشی محسوس کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ یہ لمحہ بھی انتہائی کٹھن ہوتا ہے جب ہر خوشی آپ کی دہلیز پر ہو اور اس

Read more

میں دوغلی ہوں!

میں اس کے پاس بیٹھنا چاہتی ہوں، میں اس سے دور بھی رہنا چاہتی ہوں۔ میں اس کو چھونا چاہتی ہوں، میں اس سے فاصلہ بھی رکھنا چاہتی ہوں۔ میں اس کی طرف جاتی ہوں، کبھی میں واپس پلٹ آتی ہوں۔ میں اس کی باتیں سننا چاہتی ہوں مگر وہ بات چیت شروع کرتا ہے تو میں اس کو مختصر کر دیتی ہوں۔ میں گھر سے میں یہاں نہیں آنا چاہتی اور یہاں سے میں گھر واپس نہیں جانا چاہتی۔

Read more

جنگل کا کردار

اس کردار کو ابھی شہر میں آئے چند دن ہی گزرے تھے، کہ رات کی خاموشی میں اسے باگھ کی دھاڑتی ہوئی آواز سنائی دیتی اور وہ اٹھ کر بیٹھ جاتا۔ پھر باقی تمام رات اسے اللہ اللہ کر کے گزارنی پڑتی۔ ایک رات وہ خواب کی وادیوں میں یوں گم ہوا کہ اس نے خود کو اسی جنگل میں پایا، جہاں سے اس نے شہر کا رخ کیا تھا۔ اس جنگل میں وہ ان جڑی بوٹیوں کی تلاش میں

Read more

گمشدہ جنت

جناح روڈ پر وہ مسکراتا ہوا چلتا جا رہا تھا۔ خزاں رسیدہ پتے اس کے پاؤں کے نیچے کچلے جانے کے سبب چرچراہٹ کی آواز نکال رہے تھے گویا خود پر کیے اس جبر کے خلاف آواز اٹھا رہے ہوں۔ کوئٹہ میں اس وقت شدید ٹھنڈ تھی۔ درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے گر چکا تھا۔ ہلکی ہلکی برف پڑ رہی تھی۔ آج وہ بہت خوش تھا۔ اسے سرکاری نوکری تو کوئی مہینہ قبل مل چکی تھی مگر آج اسے

Read more

علامتی افسانہ۔ خُدا حافظ

برسوں پہلے کسی نے مجھے کہا تھا رات کی خاموشی میں چاند کو تکتے رہنے سے روح میں ایک ٹھنڈا سکون سا اترتا ہے اور پھر میں نے چاند کو ہی اپنا طبیب بنالیا۔ شام کو شہر کے مرکزی علاقے میں گلاب اور چنبیلی کے ہار بیچے جاتے ہیں، لوگ وہ خرید کے پانی کے گھڑوں پہ ڈال دیتے اور پانی پیتے سمجھتے ہیں خوشبو ان کے اندر جا کے ساری گھٹن کو ختم کر رہی ہے۔ اسی چوک سے

Read more

کھل جا سم سم

کھل جا سم سم، کھل جا سم سم، اور دروازہ نہ کھلا وہ دستک دیتی رہی، وہ بڑا آ ہنی تالہ کھلتا ہی نہ تھا۔ روز رات کو جب روح بوکھلا کر رقص ہجراں پر اترتی ہے، بھٹکتی ٹھوکریں کھاتی پھر اس بند دروازے پر جاتی ہے۔ کون سا طلسم ہے آ خر جو اس دروازے کو کھلنے نہیں دیتا؟ کون سا منتر ہے جس کو پڑھنے سے یہ دروازہ کھل جائے؟ آج پھر مکالمہ شروع ہوا۔ ’لیکن تم اس

Read more

مُندری

فرزانہ نے کمال ہوشیاری سے دروازہ بند کیا جو دروازہ تو نہیں کہا جاسکتا تھا۔ ایک ٹین کا جھولتا ہوا ٹکرا تھا جس میں ایک ہک لگادی تھی اور وہ ہک ٹوٹی دیوار کی ایک دراڑ میں اٹکا دی جاتی تھی مگر دو انگلی کا فاصلہ رہ جاتا تھا سو باہر سے بھی کنڈی اٹکائی جا سکتی تھی۔ یہ ”انجنئیرنگ“ بھی دو سال پہلے اسی نے انجام دی تھی ورنہ تو یہاں ایک ٹاٹ کا بوسیدہ پردہ ایک سپرنگ پر

Read more

ننھی کلی: افسانہ

وہ سٹریچر پر بے سدھ پڑی تھی مگر ٹوٹتی سانسیں اب بھی چل رہی تھیں۔ دل کی دھڑکن مدھم پڑ چکی تھی، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے دل دھڑک دھڑک کر اب تھک چکا ہو اور ابدی سکون کا متمنی ہو۔ ننھی پری کا گلاب جیسا جسم مانو مرجھائی ہوئی کلی کی مانند ہوا کے آخری جھونکے کے انتظار میں تھا اور گرم اتنا کہ جیسے تپتے صحرا پہ عمر گزاری ہو۔ اتفاق سے آج رات ہی میری سول ہسپتال

Read more

دل دلی میں، بدن ملتان میں

حقے کے دھویں کی ہلکی سی باس نے کمرے کی فضا پہ قبضہ جما رکھا تھا، یہ چاچا وزیر علی کی چوپال تھی جس میں تین چار کھاٹ ترتیب سے پڑی ہوا کرتی تھیں جن کے سرہانے تکیے اور پائنتی کی اور صاف ستھری دو تہیاں بچھی ہوتی تھی، گدی اور کشن کے تکلفات سے پاک لکڑی کی دو کرسیاں بھی ایک کونے میں رکھی ہوتی تھیں، سردی ہو یا گرمی پانچ، سات بوڑھے عصر کی نماز کے فوراً بعد

Read more

خوابوں کی تعبیر

یہ سردیوں کی پہلی بارش تھی اور ہر طرف بوندوں  کی ٹپ ٹپ کی آواز خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھی ۔ ماہ جنوری کا سرد موسم سے بہت گہرا تعلق ہے یہ ہر سال اس ہی طرح مہربان ہوتا ہے یا تو دھند عاشق ہو جاتی ہے  اس ماہ میں یا پھر بارشیں برسنے لگتی ہیں اور اس ماہ کی بارش انتہائی محصور کن ہوتی ہے یہ نئے سال کا پہلا ماہ ہوتا ہے اور اس میں ہر انسان

Read more

نیک لڑکا، ننھی بچی اور صدیوں پرانا بلیک ہول

امداد علی تم آخر اس گھر کا کچھ کرو گے بھی یا ہمارے اس ملبے میں دفن ہونے کے منتظر ہو۔ دیکھو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی طرف،کیا تمہیں ان پر ترس نہیں آتا؟ امداد علی کی بیوی اس پہ چلا رہی تھی۔اور اس کے پرانے گھر (جو اس کا باپ اس کے نام کر گیا تھا) کی بگڑی ہوئی حالت سے تنگ آ گئی تھی۔اور دن رات اسے کمروں میں داخل ہوتے خوف کھاتا تھا کہ کہیں کسی دن

Read more

ہیرے جڑی چین کی گھٹن

”سنیں محترمہ“ مجھے پیچھے سے آواز آئی پلٹ کے دیکھا تو ایک عام سے لباس میں ملبوس نسبتاً پختہ عمر عورت کھڑی تھی۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ ”آپ کی چین (chain) پیچھے سے آپ کی گردن پہ زخم ڈال رہی ہے۔“ میں نے غیر ارادی طور پہ ہاتھ پیچھے لے جاکر چین سمیت گردن پہ ہاتھ پھیرا۔ ایک جگہ جلد سے انگلی مس ہوتے ہی شدید ٹھیس اٹھی۔ میں ہاتھ آہستہ سے آگے لے آئی

Read more

دوسری شادی کی انوکھی اجازت

جان عزیز و فرحت دل و جاں ثنا! سدا خوش رہو۔ آج سے کوئی ایک ہفتہ قبل تمہارا محبت نامہ موصول ہوا، حالات سے آگاہی ہوئی۔ تم یقیناً سوچتی ہوگی کہ میں نے اس بار جواب دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔ میں بخیریت ہوں لیکن اس بار تمہارے خط کے جواب میں مجھے ایک ایسی بات لکھنی ہے، ایک ایسی التجاء کرنی ہے جس کی میں اپنے میں جرات نہیں پاتا۔ جانتا ہوں کہ میری ضرورت، میری خواہش، میری

Read more

بے ‏خواب آنکھیں

”اس نے کہا تھا۔ میں دیکھ سکتا ہوں اس لیے میں ہوں“ بوڑھے داستان گو نے اپنی گھنے بالوں والی سموری ٹوپی کو اپنے چہرے پر کھین‍چا اور ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کسی پرانے فلسفی کا قول دہرایا۔ ” مگر سوال یہ ہے کہ جو آپ نہیں دیکھ سکتے کیا وہ واقعی ناموجود ہے؟ کیا دیکھنے والے سب کچھ دیکھتے ہیں؟ کیا حاضر و موجود سے آگے بھی کچھ ہے؟ اگر نہیں ہے تو پھر یہ پیغمبر پہاڑ کے

Read more

آباد شہر کے ویران ہوتے لوگ

ہر طرف گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ رات اتنی تاریک اور گہری سیاہ کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ سردی ایسی کہ ہڈیوں کو بھی کپکپا دینے والی۔ اوپر سے یخ تیز ہوا چل رہی تھی گویا راہ چلتے ہوئے انسان کو راستے میں ہی جما دے گی۔ ایسے میں شعلہ اگلتی دو سرخ آنکھیں کسی نامعلوم ہدف کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ ” بڈھا سائیں، آپ کہتے ہو کہ قلعہ دراوڑ کے اندر اور نوابوں کے شاہی

Read more

چندرا

پرانے کنویں کی منڈھیر پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو ایک ٹھنڈا ٹھار اندھیرا اس کی تہہ میں ٹھہرا ہوا ہے جس نے اس کے ظاہر پر باطن کا پردہ ڈال رکھا ہے اس گھپ اندھیرے میں نظریں گم سی ہو جاتی ہیں تو انسان کو اپنی بینائی کے کھو جانے کا اندیشہ ہونے لگتا ہے اور نظریں کنویں کے سیلن زدہ دیواروں پہ رینگتی ہوئی باہر آجاتی ہیں۔ بی اے کے امتحانات ختم ہو چکے تھے اور ابا کی

Read more

پتھر کی کرامت

پتھروں کی ہماری زندگی میں بڑی اہمیت ہے۔ یہ ہماری پتھروں سے محبت ہے یا پھر ڈر کہ ہم پتھروں کو انگلیوں میں بھی پہنتے ہیں۔ مجھے انگوٹھی پہننے کا کبھی شوق نہیں رہا۔ اس لئے کبھی پتھر پہننے کا خیال تک نہیں آیا۔ حالانکہ میرے معاشی حالات اچھے نہیں رہے۔ میں ایک ٹیکسی ڈرائیور ہوں۔ میری ٹیکسی نئی نہیں مگر کھٹارا بھی نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود اکثر خالی رہتی ہے۔ سواریاں کم ملتیں۔ کبھی کبھی تو خالی

Read more

اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑی عورت

وہ اکثر رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑی دکھائی دیتی۔ رات گیارہ بجے میری شفٹ ختم ہوتی۔ جب میں دفتر سے باہر نکلتا، تو فضا میں خاموشی کا خفیف سا شور ہوتا۔ بوسیدہ عمارتوں کی اوپری منزلوں سے بے نام آواز سنائی دیتیں۔ پیڑ خاموش ہوتے۔ اور تاریکی میں مصنوعی روشنی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہوتی۔ جب میں آئی آئی چندریگر روڈ سے آرٹس کونسل کی سمت مڑ تا، تب، ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچے وہ عورت

Read more

پہچان کے دائرے

ہاڑ کے سخت دن تھے۔ گرمی کی تپش سے تارکول کی سڑک جلتا انگارہ بنی ہوئی تھی۔ گاڑی کا اے سی بند کیا ذرا دیر کو تو یوں لگا جیسے سورج بابا نے زوم کر کے مجھے ہی فوکس کیا ہوا ہے۔ آج پھپو کی ساہیوال سے واپسی تھی۔ لہٰذا میں آفس سے جلدی اٹھ گئی، ضروری رپورٹ تیار کر کے میں نے کمپوزنگ کا کام شائستہ کو سونپ دیا۔ گھر پہنچ کر پھپو کا کمرہ بھی صاف کروانا تھا،

Read more

خوشبو میں لپٹی یاد!

ہم کچھ دوست پرتگال سے واپسی پر سپین کے ایک دور افتادہ ساحلی شہر میں قیام پذیر تھے ہوٹل کا ریستوران تیسری منزل پر واقع تھا۔ جہاں سے سمندر کا انتہائی دلکش منظر دکھائی دے رہا تھا۔ تند خو لہریں پتھریلے ساحل سے سر ٹکرا ٹکرا کر دم توڑ رہی تھیں۔ لیکن ان کی سر فروشی میں کوئی کمی واقع نہیں ہور ہی تھی۔ ہر نئی لہر اپنی پیش رو سے زیادہ شدت کے ساتھ ساحل سے ٹکراتی اور بکھر

Read more

صدیوں پر پھیلی رات

شام ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ گہرے بادل گزشتہ رات سے ہی چھائے ہوئے تھے۔ ہوا کے چلنے سے سردی مزید بڑھ گئی تھی ساتھ ہی بارش بھی شروع ہو گئی تھی جو آہستہ آہستہ تیز ہوتی جا رہی تھی۔ ایسے میں پندرہ گاڑیوں پر مشتمل سیکورٹی فورسز کا ایک کانوائے گوٹھ کہلائے جانے والی اس دو صدیوں پرانے علاقے میں پہنچ گیا تھا۔ یہاں اس وقت بھی ایک چھوٹا سا گاؤں آباد تھا جب اوپر کے علاقے

Read more

بارش، جسم اور وہ

1947 ء کے بعد جتنے سال آئے اب ان کو ریورس گیر لگ چکا ہے۔ اس کی عمر کتنی ہے ٹھیک سے معلوم نہیں، شاید ہزار یا دس ہزار سال، شاید لاکھ سال شاید کروڑوں سال۔ با رش آہستہ آہستہ تیز ہو رہی تھی بالکل جیسے ہسپتال کے آپریشن تھیٹر میں پڑے کسی مریض کے دل کی دھڑکن جو نہیں جانتا ہوتا کہ اس پرجن ہاتھوں نے جراحی کرنا ہے وہ کسی مسیحا کے ہیں یا دولت کی ہوس میں

Read more

رنگ محل کے بے زبان جانور

وسیع و عریض شاندار کوٹھی، ”رنگ محل“ ، رنگ و نور اور خوشبوؤں، روشنیوں میں نہائی ہوئی تھی۔ وسیع مرکزی ہال میں سارے مہمان خوش گپیوں میں مصروف مختلف مشروبات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ پس منظر میں موسیقی کی خوبصورت دھنیں بج رہی تھیں۔ ایک شاندار دعوت طعام اپنے پورے جوبن پر تھی۔ شہر کے سارے امرا، عمائدین اور معززین اس بڑی تقریب میں مدعو تھے۔ مگر کچھ اور بھی تھا جو اس دعوت کو خاص بنا رہا

Read more

اسیر خوف

” زیبی! بیٹا پاپا کے لئے سوپ بنا دو۔“ ماما نے مجھے تیسری مرتبہ آ واز دے کر کہا، وہ نومبر کی ایک اداس، تھکی ماندی سہ پہر تھی اور میں چائے کا مگ ہاتھ میں لئے جانے کب سے سوچوں میں گم بیٹھی تھی کہ ماما کی آ واز سنائی ہی نہ دی۔ انٹر کے امتحانات کے بعد میرے شب و روز آج کل گھر پہ ہی بسر ہو رہے تھے۔ اسکول بند ہونے کی وجہ سے گیارہ سالہ

Read more

بوجھ

”غیرت مند ہوتی تو اپنا جنازہ بھی شوہر کے ساتھ اٹھوا لیتی اور کچھ نہیں تو بچیوں کو تو سسرال میں چھوڑ کر آتی یہاں اپنے خرچے پورے نہیں ہو رہے کہ اب ان کی بچیوں کو بھی پالو“ ۔ رانیہ اپنی عدت پوری ہونے کے بعد میکے لوٹی تو نازیہ بھابھی کا پارہ سوا نیزے پر پہنچ گیا اور اب وہ اس کا اظہار کھلے عام کر رہی تھیں۔ ٭ ٭ ٭ ”امی آپ کو میری شادی کی اتنی

Read more

قیمت

کمرے میں ایک ٹمٹماتا ہوا پیلا بلب جل رہا تھا، بستر کے کنارے ایک چھوٹا پنکھا رکھا تھا جس کی پنکھڑیوں پر رواں چپکا ہوا تھا، کمرے کی شمالی دیوار سے لگے دو پلنگ پڑے تھے، ایک دیوار کے ساتھ ایک برسوں پرانا شو کیس رکھا تھا جس میں پرانے برتنوں کا ڈھیر تھا جو مٹی میں اٹے ہوئے تھے، دوسری دیوار سے لگی الماری کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے اور فرش پر کچھ چیتھڑے بکھرے پڑے تھے۔ ایک

Read more

مفلس کی قبا

بغاوت پچھلے چند مہینوں میں بہت پھیل گئی اور فسادات شدید تر ہو گئے تھے۔ فورسز نے پورے علاقے پر کرفیو لگا کر آپریشن شروع کر دیا جس سے ظاہر ہے بہت خون خرابا ہوا اور فریقین کے ساتھ ساتھ عام آدمی بھی متاثر ہوئے۔ ہاں اگر کسی کو ان فسادات کی کوئی پرواہ نہ تھی تو وہ سمی اور خیر محمد تھے۔ سمی اور خیر محمد گاؤں کے سردار کے باغات اور کھیتوں کا سارا انتظام دیکھتے تھے۔ سردار

Read more

آزمائش (افسانہ)

روزینہ کے لئے یہ ماحول ناقابل برداشت تھا۔ لیکن اس حا لت مجبوری اور بے بسی میں وہ کیا کر سکتی تھی۔ یہ فلاحی سینٹر کسی قید خانہ سے کم نہیں تھا۔ لیکن ایک عورت اور وہ بھی بے گھر ہوتے ہوئے لیکن یہاں اسے کسی حد تک تحفظ تھا۔ ورنہ شہر تو تن تنہا عورت کے لئے ہوس پرست درندوں کا جنگل تھا۔

Read more

افسانہ۔ ”کھلے تھے جو گلاب مرجھانے کے لیے“

”نیلے اور سرخ رنگ کے پورے چاند کی رات تھی۔ ہم دونوں سرسوں کے کھیت کے کنارے بیٹھے تھے جس کے پیلے رنگ کے پھول ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا کے چلنے سے جھوم رہے تھے۔ گاؤں والے کہتے تھے، رات کو کھیتوں کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ بھوت پریت وہاں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ بھلا، عشق سے بھی بڑا بھوت کوئی ہوتا ہے؟“

Read more

قصہ گو

”اصل بات یہ ہے کہ پرانے زمانے میں جب قافلے پڑاؤ ڈالتے تھے تو سرائے خانوں میں کچھ قصہ گو ہوا کرتے تھے۔ جو اپنی چرب زبانی سے لوگوں کا دل بہلایا کرتے تھے۔ زمانہ بدلا تو اصطلاح بھی بدل گئی۔ ان قصہ گوان کہانی کاروں کو اب ادیب، قلم کار کہا جاتا ہے۔ “ کر یمن اپنی کہہ چکنے کے بعد ہماری جانب متوجہ ہوئی۔ ”کیوں صحیح کہ رہے ہیں ناں ہم“ ہم جانتے تھے کہ وہ اپنی رائے سے اختلاف پسند نہیں کرتی۔ سو یہی سوچ کر اثبات میں سر ہلا دیا۔ ”ان لوگوں کا کوئی تعمیری کردار نہ تھا۔ وہ تو محض لوگوں کا دل بہلانے کو بلائے جاتے تھے۔ اور بادشاہ و رؤساء کے یہاں سے مانگ بھر معاوضہ بھی پاتے تھے۔“ کر یمن نے پھر ایک جتلاتی نگاہ ہم پر ڈالی۔

Read more

لکی پلاسٹک اسٹور

ایمپریس پلاسٹک مارکیٹ شہر کی سب سے بڑی پلاسٹک مارکیٹ تھی۔ عارف نے حال ہی میں لکی پلاسٹک اسٹور کے نام سے اپنی دکان کا آغاز کیا تھا۔ بیرون ملک چند سال گزارنے کے بعد جمع شدہ سرمایہ سے اس نے اپنے اسٹور کا آغاز کیا۔ پردیس میں اسے اپنے بیٹے اور بیٹی کی بہت یاد آتی تھی۔ ملکی حالات خاص طور پر چھوٹے بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی اور قتل کی دل دہلا دینے والے واقعات عارف کو

Read more

روحانی راہوں کا بھٹکا مسافر شہر خموشاں کیوں بنانا چاہتا ہے؟

ایک روز یادوں کی کھڑکی میں کھڑا ارسلان آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اسے گئے وقتوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جس میں اسے جامعہ کے دالان میں ٹہلتے کچھ دوست نظر آتے ہیں۔ ان دوستوں میں وہ جوان بھی شامل ہوتا ہے جو حال ہی میں ”نیپال تاپو بان“ سے لوٹا ہے۔ نیپال سے لوٹا یہ جوان طالب علمی کے زمانے میں گرو رجنیش المعروف اوشو کی کرشماتی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ

Read more

نکولائی شیڈرین کی ایک کہانی: موژیک

اشتراکی انقلاب آنے سے پہلےروس میں ایک طبقہ ہوتا تھا جو غلام، نوکر، اجڈ ، گنوار، گھامڑ اور کام چور، غرض ہر حقارت آمیز وصف اور خاصیت کا امتزاج سمجھا جاتا تھا۔ اس طبقے کے افراد کو موژیک کہتے تھے۔  انیسویں صدی کے اواخر کا ذکر ہے ماسکو میں دو سول سرونٹس تھے ۔ دونوں کے سروں میں دماغ نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ ایک دن انہوں نے اپنے آپ کوایک ویران، سنسان جزیرے پرپایا جہاں نہ آدم نہ

Read more

خواہش نا تکمیل

آخر کار لمحۂ وصل نصیب ہو ہی گیا۔ اس بھرپور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں جہاں کمیونیکیشن نے فاصلوں کو تہس نہس کر کے قربتوں میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں بات نہ کرنے کے بہانے تراشنا اسے خوب آتا تھا۔ میں نے کہا، ”نور، میں نے تمہاری کمی بہت محسوس کی۔“ فاختہ جیسی آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے، اس نے انتہائی سادگی اور معصومیت سے کہا، ”کیوں؟“ اس کی اس ”کیوں“ پر بجائے غصہ یا شکوہ کرنے

Read more

اک نایاب حسینہ سے ملاقات

وہ نوجوان اپنے دیہات سے اٹلی کے دارالحکومت روم میں سیر کی غرض سے پہنچا تھا۔ یہ اس کا پہلا سفر تھا۔ نہ تو اس کی عمر اتنی کم تھی اور نہ ہی وہ ایسا سیدھا سادا تھا کہ یہ نہ جانتا ہو کہ اس عظیم الشان اور خوب صورت دارالحکومت کی اہمیت اور کشش کسی بھی دوسری جگہ کی نسبت کہیں زیادہ ہے۔ زندگی کے متعلق پہلے سے ہی اسے یہ علم تھا کہ یہ ایک سراب کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ اکثر انہونی بھی ہو جاتی ہے لیکن اس انجانی خوش قسمتی کا حساب برابر کرنے کے لیے مایوسیاں بھی کہیں نہ کہیں سے آ جایا کرتی ہیں۔ اگرچہ اسے بخوبی علم تھا کہ زندگی کئی بار بھیانک روپ میں بھی سامنے آتی ہے۔ گویا زندگی کی روش میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا کرتا اور زندگی کا ایسا روپ اکثر بڑے شہروں میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے جہاں بظاہر ہر شخص اپنے کام اور اپنی ہی ذات میں مگن دکھائی دیتا ہے۔

Read more

افسانہ :چھوٹی خالہ

سفر اپنے آخری مرحلہ میں تھا، ریل گاڑی کی رفتار دم توڑ رہی تھی، تھکن سے اس کا جسم چور چور تھا، ایک ایک ہڈی درد کر رہی تھی۔ حیدرآباد سے نئی دہلی، نئی دہلی سے امرتسر، اٹاری، پھر واہگہ بارڈر، پھر لاہور اور وہاں سے اسلام آباد، بیچ میں امیگریشن اور کسٹمز کی خواری۔ سلیمان بھائی نے کہا بھی تھا کہ ہوائی جہاز سے چلے جاؤ، ٹکٹ کے پیسے میں دے دیتا ہوں۔ لیکن ابا کی اصول پسندی، وہ کب کسی کا احسان لینے راضی ہوتے، وہ اپنی ضد پر اڑے رہے کہ ٹرین سے ہی جاؤں گا۔

Read more

افسانہ نامرد

ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی کے نوجوان ایم ڈی، عدنان ملک نے چار بجے سہ پہر دفتر میں اپنا سارا کام نمٹا دیا۔ ڈرائیور گاڑی لئے دروازے پر انتظار کر رہا تھا۔ وہ عدنان ملک کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا۔ عدنان بہت خوش تھا کیونکہ وہ آج بیوی اور نومولود بچے کو گھر لے جانے والا تھا۔ وہاں اس نے بیوی اور بچے کے استقبال کے لئے بہت ہائی فائی انتظام کر رکھا تھا کہ یہ اس کا پہلا بچہ اور اس امیر کبیر خاندان کا وارث تھا۔

Read more

مرغابیوں کے غول میں، ایک گونگی بطخ

متجسس طبعیت، دوہرے کردار اور ڈرپوک شخصیت کا مالک جمعہ خان ہر ویک اینڈ پر مے خانے جاتا تھا لیکن وہاں اس نے کبھی شراب نہیں پی۔ وہ شیشے کے گلاس میں کوک انڈیل کر پیتا رہتا اور سب دیکھنے والوں کو یہی تاثر دیتا کہ وہ بھی بہتی گنگا سے سیراب ہو رہا ہے۔ اگر کاؤنٹر پر گلاسوں میں مے انڈیلنے والی اس سے پوچھتی کہ سر کون سا برینڈ چاہیے تو وہ بہانہ بناتا کہ میں نامزد ڈرائیور

Read more

نیلی آنکھوں والی گڑیا (دوسری قسط)۔

بات ہو رہی تھی ڈائری کی جس کا ہر صفحہ زینب کے ذکر بنا ادھورا ہے کیونکہ میری ڈائری کے ہر لفظ کو وہ ہی دل جمعی سے سنتی تھی اور وہی میری ڈائری کا ہر ورق تھی۔ میں اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات اس سے شیئر کرتی۔ لوگ ڈائری کے اوراق کو اپنے راز و من کی باتیں سونپ کر دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور میں زینب کو سنا کرتی تھی۔ بہت عرصہ گزرنے کے بعد مجھے

Read more

بڑے دادا

مدرسہ مجیدیہ کے آنگن میں میرے ابا مولانا امداد احمد علی تعزیتی ہجوم میں گھرے چھوٹے دادا کے آخری لمحات کے بارے میں بتا رہے تھے ”حسب معمول تہجد کے لئے بیدار ہوئے، وضو بنایا اور تہجد کے معمولات سے فارغ ہو کر اسی مصلے پر کمر سیدھی کرنے لیٹ گئے۔ حسب معمول فجر کی اذان کے ساتھ بیدار ہوئے اور وضو تازہ کر کے خلاف معمول اسی مصلے پر دو سنتوں کی نیت باندھ لی اور پہلی رکعت کے

Read more

عصمت چغتائی کا افسانہ ”خرید لو“

عصمت چغتائی کا افسانہ ’خرید لو‘ کنزیومر ازم کے گرد گھومتا ہے۔ ساتھ ہی ایک نوجوان لڑکی کی نفسیات کو بھی عمدگی سے سامنے لایا گیا ہے۔ کیتھی جو کہ پندرہ سالہ لڑکی ہے جیسے تیسے کر کے میک اپ پر میک اپ خریدتی رہتی ہے۔ کوالٹی سے کہیں زیادہ کوانٹٹی کو سامنے رکھتی ہے۔ اندر ہی اندر کئی بے چینیوں کی شکار ہے۔

Read more

کتاب چور

وہ کن اکھیوں سے گرد و نواح کا جائزہ لیتے ہوئے، بلی کی طرح دبے پاؤں بک شیلف کی طرف بڑھی۔ بناء آواز پیدا کیے ، شیلف پر ہاتھ مارا، مطلوبہ شے اٹھا کر اپنے تھیلے نما بیگ میں ڈالی اور جس خاموشی سے آئی تھی واپس اسی خاموشی سے لکڑی کی سیڑھیاں اور اپنے کمرے کی کھڑکی پھلانگ کر اپنے اصل مقام پر پہنچ گئی۔ وہ ایسی وارداتوں کے بعد ، ”مال غنیمت“ کی تسلی کرنے میں وقت ضائع

Read more

تتلی کے تعاقب میں کوئی پھول سا بچہ

وہ آنکھیں بند کر کے کچھ دیر آرام کی غرض سے لیٹی ہی تھی کہ دروازہ زور زور سے دھڑ دھڑایا۔ اس نے ہڑبڑا کر دروازہ کھولا۔ ”مس گل کیا آپ نے ولی بخت کو کہیں دیکھا ہے؟ ولی بخت کو تو جانتی ہیں ناں آپ؟ اسکول کے سب سے بڑی فنانسر، عثمان بخت کا بیٹا۔ پونے بارہ ہونے کو آئے ہیں وہ نہ تو اسکول گیا ہے نہ ہی ہاسٹل میں کہیں ہے۔ بلڈنگ کا کونا کونا چھان مارا

Read more

جنگلی گلاب

گرچہ اس کی موت کی خبر بہت بعد میں ملی لیکن میرے لئے تو وہ اس سے بھی پہلے مر چکا تھا۔ وہ جو کبھی میرے خیالوں سے اوجھل نہ ہوا، اس کی موت کی خبر سن کر بھی میرا خوف غم میں نہیں ڈھلا تھا۔ وہ غم جو کسی قریبی ہستی کے منوں مٹی کے نیچے سو جانے سے محسوس ہوتا ہے۔ ہستی بھی ایسی جو کلیتہً و صراحتہً ہماری سوچ میں محفوظ ہوتی ہے۔ اس کی آخری ملاقات

Read more

تسبیح: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی

خدا ریاضی کے ہر معلم کے ماں باپ کو، بلا استثنا، معاف فرمائے۔ اگر وہ اس دنیا سے جا چکے ہیں تو خدا کا نور ان کی قبروں پر برسے۔ اگر بقید حیات ہیں اور سانس لیتے ہیں، تو خدا ان کی عمر اور عزت میں اضافہ فرمائے۔ ہر ممکن طریقے، خوش زبانی، مہربانی، نصیحت اور ملائمت، ڈانٹ ڈپٹ، سخت کلامی، کانوں اور گردنوں پہ تھپڑ، لکڑی کے فٹ سے ہتھیلیوں پر ضربوں، غرض یہ کہ ہر ممکن طریقے سے

Read more

بھلکڑ

اس نے آفس سے باہر نکلتے ہوئے تیسری بار سوچا، وہ کہیں کچھ بھول تو نہیں آیا؟ اس کا آفس بیگ اس کے پاس تھا، موبائل و وائلٹ اس کی پاکٹ میں تھا۔ نہیں! وہ کچھ نہیں بھول رہا تھا۔ اس نے خود کو اطمینان دلایا۔ گاڑی پارکنگ سے نکال کر وہ روڈ پر لایا تو اسے یاد آیا۔ آج باس نے اسے ایک گھنٹہ لیٹ جانے کا کہا تھا۔ اوہ نو! اسے جب پتہ چلے گا کہ وہ اسے

Read more

دھن کی پکی ( افسانہ)۔

”کس قدر قدیم عمارت ہے یہ ہمسائی جامعہ،“ زارا نے سوچا اور اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے ایک ستون کو چھوا۔ اس ستون کا رنگ اتر کر زارا کی انگلیوں کے پوروں سے لگ گیا۔ زارا خوش تھی، اس کے گال خوشی سے تمتما رہے تھے کہ آج اس ادارے میں آ کر اسے اپنی زندگی کی بہت بڑی خوشی مل گئی، یہ خوشی اس کی منزل سے متصل تھی۔ وہ بے حد پریشان تھی مگر اس عمارت کے فسوں میں خود کو غرق کرنا چاہتی تھی۔ ایک راہداری سے دوسری راہداری کا یہ سفر اسے جنموں کے کسی سفر کا شاخسانہ لگ رہا تھا۔

Read more

قلم کار۔ افسانچہ

”میں ایک ایسے قلم کار کو جانتی ہوں، جس کے لکھے پر لوگ لکھتے ہیں۔ سب لکھنے والے اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ بنا جھول، بنا طوالت، بنا بے کیفی کے ایک کہانی کو کیسے لے کر چلنا ہے یہ اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ دنیا میں جنم لینے والی کوئی ایسی کہانی نہیں جو اس کے قلم سے نہ گزری ہو۔“ کینٹین پہ کھڑی ایک بلوچ لڑکی نے انکشاف کیا۔

میں واقعی اس قلم کار کو نہیں جانتی تھی۔

”اس کی لکھت کہاں ملے گی؟ میرا مطلب ہے کس لائبریری، بک شاپ یا کس کی سٹڈی میں؟ میں اگر خرید نہ پائی تو چرا تو لوں گی۔ خیر سے اس معاملے میں بچپن سے خود کفیل ہوں۔“ میں نے پلٹ کر پوچھا۔

Read more

گل ریگزار پریشہ اور اس کا محبوب

ریگستان صحرا کے شمال مغربی کنارے پر واقع بی بی جان کلا کی چھوٹی سی منڈی میں صبح سویرے سنگلاخ ٹیلوں پر مال سجا دیا جاتا۔ دور دراز سے آنے والے خریداروں کا ہجوم سارا دن موجود رہتا پھر بھی یہ دو رویہ دکانیں بھری رہتیں۔ اب پچھلے کئی دنوں سے مال تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس منڈی میں عرصہ ہوا ایسے حالات نہیں دیکھے گئے تھے۔ ایسی ویرانی تو بیس سال پہلے طالبان کے دور میں ہوتی تھی۔

Read more

کیڑے مکوڑے (مختصر افسانہ)

نادر قریشی نے راستے بھر اپنی چودہ سالہ بیٹی ریحانہ کو سمجھایا تھا مگر پھر بھی وہ موٹرسائیکل سے اترتے ہی سیدھی ماں کے پاس پہنچی اور رو رو کر سارہ المیہ بیان کر دیا۔ نادر قریشی موٹرسائیکل کھڑی کر کے کمرے کی طرف لپکا ہی تھا کہ اس کی بیوی آسیہ، بیٹی کا دکھڑا سن کر ایک بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی۔ اسے گریبان سے پکڑا اور اس پر موٹی موٹی گالیوں اور بد دعاؤں کی

Read more

ریاضت بے ثمر

ارے شاہ میر آپ کیوں رو رہے ہیں؟ وہ بھی یہاں ہسپتال میں اتنی رات گئے۔ یہ بستر پر پڑی میری ہم شکل عورت کون ہے؟ آپ مجھے بتاتے کیوں نہیں؟ بچے بھی نظر نہیں آ رہے۔ آپ سارہ کو سکول سے لینے گئے تھے ناں اور علی کو بھی ساتھ ہی اٹھا کر لے گئے تھے۔ کہاں ہیں دونوں بچے؟ آپ تو ایسے روئے جا رہے ہیں جیسے میری بات سن ہی نہ رہے ہوں۔ کچھ تو بولیں! میرا دل بیٹھا جا رہا ہے۔

اسی دوران کمرے کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر نے کہا آپ فی الحال گھر جا سکتے ہیں۔ میت ابھی ہسپتال میں ہی رکھنی ہو گی۔ جب تک میڈیکل بورڈ موت کی وجہ دریافت نہیں کر لیتا تب تک انگلینڈ کے قانون کے مطابق آپ کو میت نہیں دی جا سکتی۔

Read more

کاغذ سے کاغذ تک

ٖ سیما نے دونوں کاغذ میز پہ رکھ دیے ساتھ ساتھ لیکن ان کے درمیان دس سال کا سفر تھا ایک گھر سے دوسرے گھر کا سفر، جانے پہچانے چہروں سے انجانے چہروں کے درمیان ہونے کا سفر، محبت کے اظہار سے نفرت کے آشکار کا سفر۔ سیما ان پہ لکھے ہوئے الفاظ کی طاقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ ایک کاغذ نے اسے دس سال پہلے زاہد سے باندھ دیا اس کی رضامندی کے بغیر، ماں باپ کے

Read more

جرگائی فیصلہ (سندھی کہانی)

آج دو سرداروں کی سربراہی میں گزشتہ دو سالوں سے، دو متحارب دھڑوں میں جاری خونی تصادم کا فیصلہ ہوا۔ دونوں دھڑوں میں یہ خونی تصادم دراصل کسی کی فصل میں، مویشی کے اچانک گھس آنے سے شروع ہوا تھا، جس میں اب تلک چالیس خون ہو چکے۔ ایک طرف ظالمانی ذات کے لوگ اور دوسری طرف مظلومانی ذات کے لوگ بیٹھے تھے۔ دونوں سرداروں کا تعلق بھی ان دو مختلف دھڑوں کی ذاتوں سے تھا۔ ایک کا تعلق حکومتی

Read more

برف کی تہذیب

مجھے احساس تھا کہ گلیشیئر ٹوٹ رہے ہیں۔ میں حبس کی ایک نادیدہ خلاء میں داخل ہو رہا ہوں۔ اور جس وقت ساحل پر خس و خاشاک میں لپٹیں تند ہوائیں سیاہ آندھی میں تبدیل ہوئیں، سمندر میں لمحہ موجود کی بپھری ہوئی موجوں سے ایک غیر آہنی قلعہ تعمیر ہو چکا تھا اور اس کی کچھ سفید دیواریں بھر بھرا کر تیزی سے گرتی جا رہی تھیں۔ آبی سطح پر دور دور تک پھیلی ہوئی پانیوں کی ایک چمکتی

Read more

سلوٹیں

نرملا کی دلہن بننے کے بعد پہلی ہی صبح تھی کہ وہ بستر کی سلوٹوں کو ٹٹول رہی تھی۔ بوڑھا وکیل ( گھوڑے بیچ کے سویا تھا ) جس نے نرملا کو کنواری ہی رہنے دیا۔ نرملا کے چہرے پر ایک دائمی اداسی نمایاں تھی۔ اس کے خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔ نرملا 40 سال کی ایک بھری ہوئی عورت تھی لیکن اس کی نفسانی امنگوں کا خون کرنے کے لیے اسے 60 سال کے وکیل کے سپرد کر

Read more

عشق تندوری اور چڑھی سانس والی پتلی

حسب معمول آج بھی دونوں دوست نسیم اور شمیم دفتر کی کینٹین میں ساتھ ساتھ بیٹھے تھے یہ ان کا برسوں کا معمول تھا کہ لنچ وہ دونوں لوگوں سے ذرا فاصلے پر بیٹھ کر کیا کرتے تھے، اس دوران وہ گھریلو اور ذاتی دلچسپی کی بہت سی باتیں کیا کرتے تھے۔ یہ دونوں بہت ہی دیرینہ دوست تھے اور ایک دوسرے سے بلا تکلف ہر موضوع پر بات کر لیا کرتے تھے۔ کھانا کھاتے کھاتے اچانک شمیم نے پوچھا

Read more

شکنتلا کون تھی؟

جنید کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا اس کے دوستوں کے لیے بھی مشکل تھا۔ وہ اپنے احساسات اور جذبات بہت سنبھال کر دل کے نہاں خانوں میں رکھتا تھا۔ بہت کم بولتا تھا شاید تولتا زیادہ تھا۔ دوست بھی گنے چنے تھے، وہی جو اس کے دفتر کے ساتھی تھے۔ سکول اور کالج کے دوست تو مدت ہوئی دنیا کی بھیڑ میں گم ہو چکے تھے۔ در اصل جنید خود کسی سے رابطہ رکھنے کا قائل نہیں تھا۔ ایسا

Read more

دوسرے کی بیوی

عبدالجبار کو دوسروں کی بیویاں اچھی لگتی تھیں۔ وہ جب بھی کسی دوست، رشتے دار یا ہمسائے کی بیوی کو دیکھتا تو نہ جانے کیوں اس کا دل گدگدانے لگتا، دماغ سنسنانے لگتا اور بدن کپکپانے لگتا۔ اکثر و بیشتر اس کی اس کیفیت کا دوسروں کی بیویوں کو اس وقت تک پتہ نہ چلتا جب تک اس کی نگاہیں ان کے ریشمی بدن کو کاٹتی ہوئی ایسے پیچیدہ زاویے بنانے لگتیں کہ جن میں کوئی بھی زاویہ قائم نہ

Read more

امریکہ میں گلیوں کے فنکار

اس روز مسٹر ٹام بہت مایوس تھا۔ وہ سارا دن ڈاؤن ٹاؤن کے بڑے شاپنگ مال کے سامنے بیٹھ کر اپنا ساز بجاتا رہا لیکن کسی راہگیر نے اسے ٹپ دینا تو کجا اس کی جانب نظر بھر کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ وہ ایک اچھا ڈرمر تھا اور امریکہ کے 60 s اور 70 s کے مشہور گانوں کی دھنوں کے ساتھ بہت خوبصورت انداز میں اپنا ڈرم بجایا کر تا تھا۔ وہ وہاں ہر آنے جانے والے

Read more

ممتا کی مجبوری

اس چھوٹے سے قصبے میں بسوں ویگنوں کا یہ اڈا ابھی نیند سے پوری طرح جاگا بھی نہیں تھا۔ سورج کی پہلی کرنوں نے اس کی ٹوٹی پھوٹی، میلی کچیلی دیواروں کو پہلا بوسہ ہی دیا تھا کہ وہ عورت سہمے سہمے قدم اٹھاتی وہاں داخل ہوئی۔ چکنی مٹی جیسے رنگ کی ایک با وقار سی چادر میں اس نے خود کو لپیٹ رکھا تھا۔ سر کے بالوں کی ایک ضدی لٹ جو چادر سے باہر لٹک رہی تھی، غماز

Read more

پہلا قدم

میں بتا رہی ہوں تمھارے بابا کو پتا چلا کہ تم کالج میں داخلہ لے رہی ہو ٹانگیں توڑ دیں گے۔ فاطمہ بی نے ماہ نور کو کالج کا داخلہ فارم بھرتے دیکھ کر دھمکانے کی کوشش کی۔ اماں میں آپ کو بتا رہی ہوں بابا کچھ نہیں کہیں گے۔ خود تو بھگتو گی اور میری پرورش پر انگلیاں اٹھواؤ گی۔ اماں بس کردیں کون سا کوئی غلط کام کر رہی ہوں۔ تعلیم حاصل کرنا کوئی گناہ ہے جو نہ

Read more

موسم

شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔ چالیس کے پیٹے کا ایک شخص بڑے جذباتی انداز میں زور زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر پرشور مجمعے سے خطاب کر رہا ہے۔ ہجوم اتنا بڑا ہے کہ ڈکٹا فون کے استعمال کے باوجود بہت سے لوگوں تک مقرر کی آواز پہنچ نہیں پاتی۔ کچھ دیر بعد ایک بلند نعرے کی آواز آتی ہے لیکن الفاظ صاف سنائی نہیں دیتے۔ نعرے

Read more

شرفو

سہ پہر کے وقت میں اپنے گھر کے صحن میں پودوں کو پانی دے رہا تھا کہ مجھے کسی کے گنگنانے کی آواز آئی، میں نے پانی کیاری میں ڈال کر مٹکا اسی کیاری کے ایک سرے پر لگی اینٹوں کے سہارے ٹکا دیا اور خود اس آواز کی طرف لپکا جو ابھی تک مسلسل سنائی دے رہی تھی۔ اس آواز کا تعاقب کرتے ہوئے جب میں گاؤں سے باہر نکلا تو پاس ہی ایک کھیت کی منڈیر پر بیٹھا

Read more

ایک دراز قد امریکی حسینہ

الزبتھ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ گوری رنگت، نیلی آنکھیں، سنہرے بال، دراز قد اور چست بدن رکھنے والی الزبتھ کا شمار اپنے سکول کی خوبصورت ترین لڑکیوں میں ہو تا تھا۔ قدرت نے حسن کی دولت کے ساتھ ساتھ اسے ذہانت کی نعمت سے بھی نوازا ہوا تھا۔ اس کی پرورش ایک متوسط، روایتی اور قدامت پسند امریکی خاندان میں ہوئی جہاں اس نے معاشرت کے اعلٰی اسلوب سیکھے۔ زندگی کے تمام مراحل بڑی کامیابی کے ساتھ

Read more

ماں کی گستاخ چیخ

یوں تو جون کے آغاز سے ہی گرمیوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، لیکن آج کا دن حد درجہ گرم ہونے کے باعث قیامت ڈھا رہا تھا۔ نجی نیوز چینل پر محکمہ موسمیات کے ماہرین اپنی رائے پیش کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ شہر سے تقریبا 400 کلو میٹر کے فاصلے پر بحیرہ عرب کے مقام پر ہوا کے کم دباو کی وجہ سے جو ڈپریشن بنا ہے، اس نے سمندر کی

Read more

کہانی ایک بڑے امریکی بنگلے کی!

یہ کہانی ایک ایسے بڑے امریکی بنگلے کی ہے جہاں خوشیاں ہمیشہ چند ہفتوں کی مہمان ہوتی ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے اکثر پاکستانی اور بھارتی نژاد صاحب ثروت لوگ بڑے بڑے بنگلوں میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ کہانی ایک بھارتی نژاد امریکی، رام شرما کی ہے جو اپنی آنکھوں میں بڑے بڑے سپنے سجائے خوابوں کی سرزمین امریکہ جا پہنچا۔ وہاں اس نے اپنی محنت اور لیاقت سے خوب پیسہ کمایا اور جلد ہی واشنگٹن سٹیٹ کے ایک

Read more

انتظار (افسانہ)

بچے کے رونے کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی، اس نے دیوار پر لگی گھڑی کی جانب دیکھا گھڑی کے درمیانی حصے میں اس کا چہرہ ٹنگا تھا۔ اس نے خود دروازہ بند کر کے کنڈی لگائی تھی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح وہ دروازے کی کسی جھری سے اندر آ گیا تھا۔ اس نے غور سے اس کی سوئیوں کو دیکھا، مگر وقت دیکھ کر بھی دھیان میں نہ رکھ سکی، کیوں کہ وہ مسلسل اسے تکے جا رہا

Read more

دو راستے

ماں اور بڑے بھائی دونوں کی یہی سوچ تھی کہ ضمیر کا دماغ خراب ہو چکا تھا لیکن وہ پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔ باپ کی سوچ کی تبدیلی کو کسی طرح انہوں نے برداشت کر لیا تھا لیکن وہ ضمیر کو صحیح راستے پہ واپس لا کر رہیں گے۔ پچیس سالہ ضمیر نجانے کتنی کتابیں مذہب کے بارے میں پڑھ چکا تھا اور اتنے ہی لیکچر انٹرنیٹ پر سن چکا تھا۔ اس کی ماں اور بڑے بھائی دونوں کو

Read more

کتھئی گھوڑا

میرے کمرے میں دو گھوڑوں کی تصویر لگی تھی۔ میں نے تصویر دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ”اماں ایک بات تو بتا“ بول۔ ” ”تو نے تو بتایا تھا محبت اپنی مرضی سے نہیں کی جاتی بلکہ ہوجاتی ہے۔“ کیا بیماری کی طرح اور اماں ہنس پڑی تھیں۔ گہری ہنسی۔ ”کچھ باتیں بتائی نہیں جا سکتیں“ میرا تجسس بڑھتا جاتا تھا۔ ”اماں اچھی اماں بتا نا“ ”راج دلاری ماں“ وہ بچوں کے ہوم ورک کی کاپیاں چیک کرر ہی ہوتی یا کبھی

Read more

نہ شکل نہ فیملی نہ اسٹیٹس

میرے سامنے والی کھڑکی میں اک چاند کا ٹکڑا رہتا ہے زہرہ جبیں نے حسب معمول ٹیپ ریکارڈر پر اونچی آواز میں یہ نغمہ چلایا ہوا تھا۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ اس کا آنگن اور درمیان کی چھ فٹ کی گلی کو پھلانگتی رامس کے کمرے کی کھڑکی سے گزر کر دالان تک دندناتی گھس آئی تھی۔ ہر روز بلا ناغہ یہ نغمہ دن میں ایک بار تو ضرور ہی بجتا۔ بادی النظر میں تو یہی لگتا کہ زہرہ

Read more

ننھی چڑیا کی موت

ننھی چڑیا کی وہ پہلی اڑان نہیں تھی۔ مگر اس اڑان میں ڈھیر سارے خوف، پور پور اذیت اور میلوں تک پھیلی دہشت تھی۔ کرب ناک لمحوں نے پہلی بار چڑیا سے بہت طویل گفتگو کی تھی۔ اپنے گھروندے سے باہر نکل کر چڑیا نے فضا میں کچھ دیر کھل کر سانس لیا تاکہ اپنے اس خوف کو آزاد فضاوں کے سپرد کر سکے۔ لیکن خوف اور دہشت تو اس روز چڑیا کی سانسوں کے ساتھ ہی سفر کر رہے

Read more

سلطان پورہ کے دوہرے قتل کا اصل قصہ کیا تھا؟

سلطان پور نام کا یہ مضافاتی قصبہ کبھی اس بڑے شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ مگر پھر شہر پھیلتا گیا اور یہ مضافاتی قصبہ شہر کا حصہ بن گیا۔ نام بھی بدل کر سلطان پورہ ہو گیا۔ کیوں اور کیسے ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ البتہ اب یہ سب جانتے ہیں کہ سلطان پورہ جرائم پیشہ لوگوں کا گڑھ ہے۔ یہاں منشیات اور ہتھیاروں سمیت ہر قسم کا غیر قانونی کام ہوتا ہے۔ اسی لئے لڑائی جھگڑے

Read more

سوال

اپریل کی ایک سرمئی شام کا وہ وقت جب سورج جامن کے درختوں کے برابر آ چکا تھا۔ علی اور حسن جامن کے ایک بوڑھے درخت سے ٹیک لگائے سامنے سڑک کی جانب دیکھ رہے تھے۔ وقفے وقفے سے کوئی کار یا موٹرسائیکل سڑک سے جب گزرتی تو دھول کے کئی دائرے ہوا میں اپنے پیچھے پیچھے بناتی چلی جاتی۔ سڑک کی دوسری جانب گندم کے کھیت تھے اور دن بھر گندم کے سٹے بھٹی میں پکتے رہے تھے اور

Read more

ایتھوپیا کے ابودجانہ کی کہانی

”اس ایتھوپین اتھلیٹ سے بچ کے رہنا ذرا، اس گروپ میں یہی تمہارے لیے خطرہ بن سکتا ہے“ میرے مینیجر نے دھیرے سے میرے کان میں سرگوشی کی تو میں نے بائیں طرف دوڑنے کے لیے تیار کھڑے اس سوکھے اور لاغر سے اتھلیٹ پر ایک بھرپور نظر ڈالی اور ”ہوں“ کہہ کر باقی اتھلیٹس کا بغور جائزہ لینے لگ گیا، وہ سب مختلف ملکوں سے آئے ہوئے تھے اور سب کی آنکھوں میں جیت کی چمک اور بھوک دور

Read more

سیاسی آنکھیں، نیلوفر اور بھاپ بن کر اڑ جانے والے

باغوں اور بہاروں والا دریاؤں کہساروں والا آسمان ہے جس کا پرچم پرچم چاند ستاروں والا جنت کے نظاروں والا جموں اور کشمیر ہمارا برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں خوبصورت جھاڑیاں اور کچھ سیب کے درخت سوکھتے جا رہے تھے۔ جھاڑیوں اور درختوں کے اردگرد سفید اور نیلے رنگ کے پرندے دانہ چن رہے تھے۔ بادلوں کا ایک کارواں وہاں سے گزر رہا تھا۔ ننھے منے پرندوں نے بادل کی طرف پر امید نظروں سے دیکھا۔ ”تم نے سیاسی

Read more

دہشت گرد کہانی

رات کے دس بج رہے تھے۔ امی ہم سب کو زبردستی سلا کر پھر سے نفل پڑھنے میں مصروف ہو گئیں۔ میں چادر کی اوٹ سے چھپ کر انہیں دیکھنے لگی۔ اب تو یہ سلسلہ روز کا چل پڑا تھا۔ امی ہمیں سلا کر جائے نماز پر بیٹھ جاتیں اور گھنٹوں روتی رہتیں۔ جب سے قریبی ہسپتال سے دھماکے کی آواز آئی تھی تب سے۔ اس سے پہلے ابو ہمیں کہانی سنایا کرتے تھے۔ لیکن دھماکے کے بعد سے وہ

Read more

نشیب کی نیلی لہر

”ہلکے نیلے اور تھوڑے سے سفید کی آمیزش۔ تھوڑا سا اور“ رنگوں کو باریک سے برش سے باہم ملاتے ہوئے اس نے بار بار تصویر کو دیکھا۔ ”کیا سوچ رہی ہو؟“ شامی اپنا سامان سمیٹ کر منتظر تھا کہ وہ اپنی تصویر مکمل کرے۔ گروپ کے باقی لڑکے لڑکیاں بھی اپنے اپنے رنگ برش کینوس ایزل سمیٹ رہے تھے کیونکہ اسے سارا کام ایک ہاتھ سے اور وہ بھی بائیں ہاتھ سے کرنا ہوتا تھا اس لیے تھوڑا سا زیادہ

Read more

لایعنیت کی کگر پر بیٹھے ایک منحوس کرگس کی داستان (ایک فلمی کہانی کا خاکہ)

ایک ناکجا، لازمانی و غیر مادی مادے کے بسیط ماحول میں، کسی لایعنی و غیر توانا ذرہ موہوم کے، بن باپ کے ہونے والے قرار حمل کے نتیجے میں، عدم کی وجودی الٹی سے پیدا ہونے والے وجودی بحران کا اظہار یہ دنیا۔ اس پیدائش فرار نما کے بعد، اس نو وجودیے کی سرخوشی و جوش و خروش کا وہ عالم تھا کہ پھولا نہ سماتا تھا، سو پھٹا اور چار سو ہو گیا۔ یہ ناشدنی وجود لذت ارتقاء سے

Read more

عشق ناتمام

میں نے سوچا تھا کہ شاید وقت سب کچھ مٹا دیتا ہے۔ مگر میری جان یہ تو ہر گزرتے لمحے نقش کو مزید گہرا کرتا جا رہا ہے۔ میں نے کبھی بھی قصدا تمھارے بارے میں نہیں سوچا مگر ہر تھوڑے عرصے بعد کہیں سے بھٹکتی ہوئی تم خواب میں آ جاتی ہو۔ یقین مانو ایسا لگتا ہے کہ خواب اصل ہے اور یہ جاگنا سیراب۔

کل بھی یہی ہوا۔ بالکل وہی احساس۔ وہی آسودگی جو تمھارے پاس بیٹھنے سے ملتی تھی۔ یہ صدیوں کی جدائی معدوم ہو جاتی ہے۔ وہی چہرہ، وہی آنکھوں میں چمک جو میرے لئے مخصوص تھی۔ اب کی بار بے تابانہ ملی تو تمھاری پیشانی کی ٹھنڈک میں نے اپن

Read more

دور حاضر کی اکبری و اصغری

”ہائے! میری نازوں سے پلی معصوم بچی، کیسے لوگوں سے تیرا واسطہ پڑ گیا؟ کبھی نہ رشتہ دیا ہوتا ان بے قدروں کو۔ ارے! اس نے تو کبھی خود سے پانی تک نہیں پیا تھا۔ آج دس دس لوگوں کی روٹیاں پکانے کو کہہ رہے ہیں کم بخت مارے! ”رشیدہ بیگم کی دہائیاں سن کر دروازے سے اندر داخل ہوتے شفیق صاحب لمحے بھر کو ٹھٹھکے اور پھر بیگم کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر سمجھ گئے کہ یقیناً بیٹی کا سسرال سے فون آیا تھا۔ پھر بھی انجان بننے کی کمال اداکاری کرتے آگے بڑھے اور بیگم سے پریشانی کی وجہ دریافت کی۔

بڑی بی نے منہ پر دوپٹہ رکھ کر رندھی ہوئی آواز میں دہائی دی ”اجی دیکھتے ہو پنکی کے ابا کتنا ظالم سماج ہے۔ میری نازوں سے پلی بچی کس عذاب میں پھنس گئی! میں کہاں جاؤں۔“

اب کہہ بھی چکو بھلی لوک! ہوا کیا ہے؟ شفیق صاحب بولے۔

Read more

تیز دھوپ میں کھلا گلاب

کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے مٹھو سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ کیا مسئلہ ہے۔ واپس آ کر اس نے مجھے بتایا کہ سڑک پر ایک عورت بکریاں چرا رہی ہے اور بکریاں ہمارے گھر کے باہر والے لان میں گھس آئی ہیں۔ مجھے باغبانی سے از حد دلچسپی ہے اور جب سے ہم دوسرے شہر میں اپنا بڑا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آئے ہیں میں اسی چھوٹے سے لان میں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کر لیتا ہوں۔ نئی کالونیوں اور جدید بستیوں میں دس مرلے کے گھروں میں اتنی گنجایش نہیں ہوتی کہ میرے جیسا شخص اپنا شوق بطریق احسن پورا کر سکے۔ میرے ایک دوست نے باغبانی سے میری دلچسپی دیکھ کر میرا نام نباتاتی مریض رکھ چھوڑا ہے۔

Read more

درد کا رشتہ

عامر تمہارے جانے کے بعد کچھ اس طرح محسوس ہوتا رہا جیسے کوئی چیز، کوئی حصہ میرے دل کا ٹوٹ کر مجھ سے جدا ہو گیا ہے۔ دو دن تو اس طرح بولائی بولائی گھومتی رہی جیسے دیوانی ہو گئی ہوں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کروں۔ ہر اڑتا ہوا جہاز دل میں طرح طرح کے شکوک پیدا کرتا ہوا جاتا تھا۔ سارا گھر، کالج، ہر چیز ویران لگتی تھی، حالانکہ زندگی کے معمولات میں کوئی تبدیلی

Read more

نتھلی والی

وہ عجب اٹھلاتے ہوئے چلتی تھی۔ اس کا سنہرا رنگ دھوپ سے سنولایا ہوا تھا، جیسے دھوپ کی تمازت نے جلد کو جھلسا دیا ہو، مگر اس کا ناک نقشہ راجپوتوں کی طرح تیکھا سا تھا۔ اس پہ باریک گھنگروؤں والی نتھلی پہنے ناز سے مٹکتی ہوئی چلتی تو شوخ رنگوں کا گھاگھرا ایک ادا سے گھومتا تھا۔ تین رنگوں کا پٹی دار گھاگرا جس کے رنگ میل سے آٹے پڑے تھے۔ جیسے کسی نے شوخ رنگوں کا سندر پن

Read more

مقابلہ، مقابلہ

واپسی پر ہم ناران بازار میں ہی اتر گئے۔ شام ہو رہی تھی۔ کچھ دیر کی مٹر گشت کے بعد تم نے ایک جیپ کو روکا اور اس سے ہوٹل تک جانے کا پوچھا۔ ہم اس کے ساتھ اگلی سیٹ پر ہی بیٹھ گئے۔ جوں جوں شام اپنی رنگت کھو کر سیاہ قبا اوڑھ رہی تھی تمہارے چہرے پر پھول کھل رہے تھے۔ مقابلہ، مقابلہ جاری تھا۔ اب میں بھی اس کھیل میں پھر پور شامل ہو چکی تھی۔ پھر پتا نہیں کیا ہوا کہ ڈرائیور کے چہرے پر شرمندہ سی ہنسی کھل اٹھی۔ ہوٹل پہنچ کر تم نے کرایہ دیا تو اس نے وصول کرنے سے انکار دیا۔ سیڑھیاں چڑھتے میں نے پوچھا کہ اس نے کرایہ کیوں نہیں لیا۔ تمہارے جواب سے میری ریڑھ کی نس میں ایک سرد لہر سی دوڑ گئی۔

Read more

بے عنوان نظمیں

نیلے پانیوں پہ پھیلے سبز منظر پلکوں سے جدا نہیں ہوتے آنکھوں کو سنہرے خوابوں کی تعبیریں نہیں ملتیں کئی ادھوری نظموں کے عنوان نہیں ہوتے حنا شیرازی نے اپنی ادھوری نظم کو پورا کیا۔ احتشام اس کی آواز کے سحر میں کتنی دیر تک ڈوبا رہا۔ اس کی ریشمی زلفیں پھسل کر بار بار اس کے عارض کو چھو رہی تھیں جب کہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار انہیں کسی مشاق کھلاڑی کی طرح سمیٹ رہی تھی۔ یہ

Read more

ضمیر کی آواز

خاموش اور سہمی ہوئی رات کی تاریکی میں بوجھل قدموں کی چاپ بھی یوں گونج رہی تھی جیسے فوج کا کوئی دستہ زمین کو اپنے بھاری بھرکم بوٹوں تلے روند رہا ہو، شاید یہی وجہ تھی کہ وہ انتہائی احتیاط سے قدم اٹھانے کے باوجود اپنے ہی قدموں کی چاپ پر چونک اٹھتا، اطراف کا جائزہ لیتا اور پھر چل پڑتا، محتاط انداز میں قدموں کی رفتار برقرار رکھنا اگرچہ مشکل تھا، لیکن اس کے پاس مسلسل تیزی سے آگے بڑھنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا، آدھی رات کا یہ پراسرار سناٹا اس کے کانوں میں یوں گونج رہا تھا جیسے مخبوط الحواس ہجوم ہاتھوں میں ہتھیار اٹھائے چیختا چلاتا اس کی جان کے درپے ہو۔

Read more

نارسائی کا دکھ

فریدہ کوآج ایک ہفتہ ہونے کو آیا تھا، وہ اپنے بھتیجے کی شادی پر آئی تھی۔ اس کا شوہر اور بچے واپس جا چکے تھے، لیکن بھائی کے بے حد اصرار پر وہ کچھ دنوں کے لیے رک گئی تھی۔ ویسے بھی گھر داری کے جھمیلوں سے فرصت کہاں ملتی ہے، اس لئے اس نے بھی سوچا کچھ دن فرصت میں گزار لوں۔ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد وہ کمرے میں آ کر لیٹ گئی تھی، گھر کی ملازمہ

Read more

زندگی خوبصورت ہے

باغ کے قریب پہنچتے ہی وہ تیز تیز قدموں سے چلنے لگا ایسا لگ رہا تھا کسی کے تعاقب کے خوف سے باغ کے گیٹ کے سامنے سے نظریں چرا کر تیزی سے گزرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہو۔ ایسا نہ کرتا تو کیا کرتا ہر دفعہ باغ کے گیٹ پر وہ اس کے انتظار میں کھڑی ہوتی ہے۔ اور وہ ہر دفعہ کل کا بہانہ لگا کر جان چھڑا کر گزر جاتا ہے اور وہ بے چاری اس

Read more

معراج بھائی (آخری قسط)

اگلے دن وہ لوگ واپس آ گئے اور امنگوں سے شروع کیا گیا پر جوش ہنی مون اپنے اختتام کو پہنچا۔ ایک دن گھر میں سیٹل ہوتے گزر گیا اور اس سے اگلے دن وہ ڈرائیور کو لے کر میکے چلی گئی، تیمور گھر پر نہیں تھا اس کو ٹیکسٹ کر دیا تھا۔ میکے میں سب خوش ہو گئے اور ایک چہل پہل ہو گئی لیکن شام اچانک وہ بھی آن پہنچا بس اب تو ایک ہلہ گلہ تھا اور

Read more

سیڑھی

”دیوار کے ساتھ سیڑھی لگی ہوئی ہے“ ” پھر دیکھتے کیا ہو۔ جلدی سے اوپر چڑھ جاؤ“ رات گزر گئی۔ سویرا ہونے سے پہلے ہی وہ ایک دوسرے کی انگلی پکڑے وہاں سے چل دیے۔ دن کے قریباً گیارہ بجے وہ دوبارہ اسی جگہ آئے تو دیواروں اور چھتوں پر سفیدی پھیرنے والا آدمی اپنی سیڑھی کو اٹھائے جنوب کے جانب پختہ اینٹوں سے بنی گلی میں چلا جا رہا تھا۔ ” دیکھ۔ میں نہیں کہتا تھا کہ یہ پل

Read more

فجر کا وقت

2020 میں جب کورونا کی وجہ سے یہ دنیا بدل رہی تھی تو ایک دفعہ تو اسے لگا تھا کہ اب انسان بھی بدل جائے گا۔ ہر طرف بیماری، موت اور موت کا خوف رقص کر رہا تھا۔ گھروں میں بند ہونے کے سرکاری فرمان جاری و ساری تھے۔ فاطمہ بھی خوف زدہ تھی مگر ہمیشہ کی طرح اپنی موت سے زیادہ کسی اپنے کی موت کا خیال اسے ہو لائے دے رہا تھا یا یہ خیال کہ اگر سب

Read more

داور اور محلے کی شیرنی

بیچ رات میں وہ پھر وہی خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھا۔ گھپ اندھیرے میں اس نے نظریں دوڑائیں، ماں باپ اور بھائی تینوں گہری نیند سو رہے تھے۔ اس نے کلمہ پڑھا، سانس درست ہوئی تو پھر سونے کے لئے لیٹ گیا۔

ہر بچے کی ماں کی طرح داور کی ماں نے بھی اسے ایک بلا سے ڈرایا ہوا تھا۔ جن بابا۔ کھانا کھاو ورنہ جن بابا آ جائے گا۔ سو جاو ورنہ جن بابا آ جائے گا۔ کہنا مانو ورنہ جن بابا آ جائے گا۔ یہ سب سن سن کر جن بابا کا خیال اس کے ذہن میں مستقل پنجے گاڑ چکا تھا۔ پہلے وہ خواب میں اس کی کوئی واضح شکل نہیں دیکھ پاتا تھا۔ مگر آج جن بابا ایک شکل اختیار کر گیا تھا۔ بھلا کس کی شکل؟ اس کے کلاس فیلو راشد کی۔

Read more

شام کی خبر

”سگے بیٹے نے اپنے ہی باپ کو سفاکی سے ذبح کر ڈالا۔“

یہ شام کے اخبار کی نمایاں سرخی تھی۔ اول تو وہ صبح کا اخبار بھی نہیں دیکھتا تھا، دوئم یہ کہ شام کے اخبار کو تو نری فسانہ طرازی سمجھتا تھا، لہاذا خریدنے کا کیا سوال۔ وہ آئی آئی چندری گر روڈ کے پہلو کی ایک گلی کے چائے خانے پر بیٹھا، ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں اطراف میں ٹیلی ویژن چینل، اخبار کے دفاتر ہیں، تو کچھ بنکوں کی شاخیں بھی قائم ہیں۔ اس کے سامنے میز پر شام کا اخبار پڑا تھا۔ وہ چائے پیتے وقت گزاری کے لیے اسے دیکھنے لگا۔

Read more

تین مورتیاں

میں دن بھر کانفرنس میں شرکت کے بعد بلڈنگ سے باہر نکلا تاکہ تھوڑی دیر کے لئے اس اجنبی شہر کی پیدل گھوم پھر کر سیر کروں۔ ابھی کچھ ہی دور گیا تھا کہ دور سے ایک سفید رنگ کا مندر نظر آیا۔ اس کا اٹھتا ہوا چمکدار کلسا آسمان کی طرف اشارہ کر رہا تھا جیسے بھگوان سے ہم کلام ہو۔ شاید یہی وہ تین مورتیوں والا مندر تھا جسے دیکھنے کا مجھے اشتیاق تھا۔

Read more

انانیت اور انحصاری کی کشمکش

یاد نے اپنا عنکبوت میرے اندر پہلی بار کب بنا۔ کچھ کہنا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ پہلی سب سے پرانی بات۔ یہ ہے کہ ایک لجلجی تھیلی میں مجھے کسی نے رکھ دیا یا ڈال دیا اور اسی تھیلی میں کوئی مجھے بناتا گیا۔ کون؟ اتنی مشکل بات ابھی تک نہیں سمجھا ہوں۔

دوسری مدہم سی لو، یاد کا سرا تھماتی ہے۔ ماں کا لہو پی رہا تھا میں۔ اس کے اندر کی توانائی اپنے دونوں ہاتھوں سے نچوڑ کر خود کو دنیا میں لانے کے لیے تیار کر رہا تھا اور وہ مجھے اپنا آپ دیے چلی جا رہی تھی۔ ایسے جیسے میں اس پر کوئی احسان کر رہا تھا۔ اس کے وجود کی ساری طاقت، توانائی اور جرأت میں اوک بھر بھر پی رہا تھا اور وہ تھکی ماندی سیراب ہو رہی تھی۔ شاید دینا اس کی خصلت اور سرشت میں تحریر تھا۔ لیکن یہ کیا؟

Read more

کایا پلٹ

سردی ہی سردی۔ دھند ہی دھند، کئی دنوں سے سورج نے منہ نہ دکھایا تھا۔ خنک ہواؤں کی سنگینی تن بدن میں سرایت کر رہی تھی۔ سرشام ہی اندھیرا پوری کائنات پر چھا جاتا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے دن نکلے صدیاں بیت گئی ہیں۔ زہرہ کا معبد سمندر کنارے آسمان کی بلندی کو چھوتی پہاڑی پر پھولوں کے کنج میں واقع تھا۔ سارا دن قربانیاں، ذبیحے اور نذرانے گزرانے والوں کا ہجوم دھکم پیل کرتا رہا تھا۔ شام ڈھلتے

Read more

بزدل (افسانہ)

فضاء میں پہلے گارڈ اور پھر ٹرین کے وسل کی آواز یکے بعد دیگرے گونجی، اس کے ساتھ ہی ٹرین کے بے جان پہیے تھرتھرائے اور گاڑی آہستہ آہستہ پلیٹ فارم سے آگے سرکنے لگی۔ نیچے کھڑے افراد جلدی جلدی گاڑی میں سوار ہونے لگے، اسی افراتفری میں پلیٹ فارم پہ کھڑے لوگوں سے بچتا بچاتا، بیگ کندھے پہ لٹکائے بھاگتا ہوا وہ بھی آخری ڈبے میں چڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔ دروازے سے ہی ٹیک لگا کر اس نے اپنی سانس بحال کی۔ آگے جانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا، گاڑی کچھا کھچ بھری ہوئی تھی اس لیے وہ باقی کچھ لوگوں کے ہمراہ دروازے میں ہی کھڑا ہو گیا۔ گاڑی اب شہری حدود سے باہر نکل رہی تھی۔ وہ دروازے کے دونوں اطراف میں موجود پولز کو تھامے باہر کا منظر دیکھنے لگا۔

Read more

معراج بھائی قسط ( 3 )

آج کی رات ہمیشہ یاد رہنے والی تھی اور وہ بے حد نروس ہو رہی تھی مگر تیمور کا مہربان رویہ اس کے اطمینان کا باعث تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا مہمان جا چکے تھے اور ٹھہرنے والے بھی ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بھیجے جا رہے تھے اس وقت صائمہ نے بھی دلہا دلہن کو آرام کے لئے کہا۔ تیمور نے بے حد نرمی سے سہارا دے کر عفت کو اٹھایا۔ بی بریو، اس کے ٹھنڈے یخ

Read more

مٹی کا قرض

آج اس کا بیٹا اپنی قسمت آزمانے گاؤں چھوڑ کر شہر چلا گیا تھا۔ اس گاؤں میں ان کا خاندان کئی پشتوں سے آباد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گاؤں کے تمام لوگ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔ دکھ سکھ میں سب اکٹھے ہوتے۔ مشکل میں کسی کو بھی اکیلا نہ چھوڑا جاتا تھا۔ جیسے کہ ماسی بھاگاں نے اماں کو دوپٹے سے آنسو صاف کرتے دور سے ہی دیکھ لیا تو اپنا کام چھوڑ کر اماں کے پاس چلی آئی اور بولی ”کیا بات ہے رحمتے؟ روتی کیوں ہے؟“

Read more

اندیشہ ہائے دور دراز

جب مریم نے اس پر اعتراض کیا تو اس نے کہا کہ اس کا ارادہ گھر والوں کو سرپرائز دینے کا تھا۔ لیکن اب اس نئی صورتحال میں اس نے اپنے والد کو فون کر کے آگاہ کیا۔ پہلے تو وہ بہت خفا ہوئے اور پیشگی اطلاع نہ دینے کا گلہ کیا لیکن اگلے ہی لمحے ان کا لہجہ پگھل گیا۔ اتنے برسوں بعد بیٹا آیا تھا اور وہ پوتے پوتیوں سے ملنے کے لئے بے حد بے تاب تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سب کام چھوڑ کے گھر پہنچ رہے ہیں۔ ٹیکسی نے ابھی چند ہی میل کا فاصلہ طے کیا تھا کہ اچانک دھماکے کی آواز سنائی دی اور گاڑی لڑھکتی ہوئی کھمبے سے جا ٹکرائی، ہائی وولٹیج بجلی کے تار ٹوٹ کر گاڑی پہ گرے اور گاڑی کو آگ لگ گئی۔ احمر نے محسوس کیا کہ اس کا وجود اس کا ساتھ چھوڑ رہا ہے۔ اس نے چلانا چاہا مگر اس کی آواز گلے میں گھٹ کر رہ گئی اور وہ ایک تاریکی کی طرف کھنچتا چلا گیا۔

Read more