سلام اے فخر پاکستان

آج سے سات برس قبل میری محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم سے اسلام آباد میں ان کے گھر میں ملاقات ہوئی۔ ڈیڑھ گھنٹے کی گفتگو میں ادب، معاشرت، سیاست سمیت مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔ ہر موضوع پر ڈاکٹر صاحب کی مدبرانہ دسترس تھی۔ تاہم ڈاکٹر صاحب کا ادبی ذوق عنایت عمدہ تھا اور انہیں کلاسیکی شاعری سے بہت لگاؤ تھا۔ ان کا ذوق سخن تھا کہ اپنے پسندیدہ شعرا کا کلام منتخب کر کے ”نوادرات“ کے نام سے

Read more

جہنمی جیل کے کمسن قیدی

سات اکتوبر سے قبل اسرائیلی جیلوں میں لگ بھگ ساڑھے سات ہزار فلسطینی قید تھے۔ اب ان کی تعداد بارہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ان میں چھ سو قیدی وہ ہیں جو قانون کی نظر میں نابالغ ہیں ( بارہ تا سترہ سال) ہر سال اوسطاً اس عمر کے سات سو سے ایک ہزار بچے گرفتار ہوتے ہیں۔انھیں بالغوں کی طرح تحفظ امن ِ عامہ کے قانون کے تحت کم ازکم پچھتر دن تک بنا فردِ جرم عائد

Read more

احمد سلیم: کلاسیکی مارکسسٹ اور جبر و اختیار کی جدلیات

احمد سلیم طویل علالت کے بعد 11 دسمبر کو رخصت ہو گئے۔ 26 جنوری 1945 کو منڈی بہاؤالدین کے قصبے میانہ گوندل میں پیدا ہونے والے محمد سلیم خواجہ کی زندگی تین نکات سے عبارت رہی، علم کی ایسی لگن جس نے بلامبالغہ سینکڑوں کتابوں، تحقیقی مقالوں اور تراجم کی صورت اردو، پنجابی اور سندھی سمیت پاکستان کے ذخیرہ علم کو ثروت مند کیا۔ وہ جمہوریت پسند مارکسسٹ تھے چنانچہ مزدوروں، عورتوں، مذہبی اقلیتوں اور اختیار کی ایک غیرمنصفانہ تقسیم

Read more

کچھ باتیں احمد سلیم کی

میری احمد سلیم صاحب سے پہلی ملاقات اسلام آباد میں سینئر صحافی مستنصر جاوید صاحب کے دفتر میں ہوئی جہاں پر مجھے بحیثیت ڈیزائنر نوکری کرتے ہوئے چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ یہ 1993 کا زمانہ تھا جب میں گجرات شہر سے اسلام آباد کام کی تلاش میں آیا تھا۔ اور مجھے پہلی پناہ مستنصر صاحب کے آستانہ عالیہ پر ملی۔ مستنصر صاحب کے ڈیرے پر اہل قلم، صحافی، شاعر ادیب جیسے لوگوں کا آنا جانا ہمیشہ لگا ہی رہتا

Read more

شفاف الیکشن کا انعقاد ہی حل ہے!

ایک کہاوت ہے کہ ہر گاؤں میں ایک نہ ایک بدھو ضرور ہوتا ہے۔ اگر ایک سے زیادہ بدھو ہوں تو آوے کا آوا ہی بگڑ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال لگتا ہے ہم پاکستانیوں کا ہو چکا ہے۔ جب صرف اور صرف طاقتور کو ہی اختیار ہے کمزوروں کی زباں بندی کا اور گدی سے زبان کھینچ لینے کا تو پھر ہمیں اس زبان کا کرنا ہی کیا ہے؟ کیوں نہ اسے بھون بھان کر پائے کے شوربے

Read more

ریگل چوک کراچی کا تاریخی کُتب بازار

کہتے ہیں کہ کتاب سے بڑھ کر کوئی اچھا دوست نہیں، یہ ہمیں شعور حیات دیتی ہے یہ انسان کی کردار سازی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھرپور نکھارتی ہے کتابیں انسانی دماغ کے بند تالوں کو کھول کر شعور کی روشنی سے فیضیاب کراتی ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دیکھی یا سنی ہوئی چیز کے مقابلے میں پڑھی گئی کوئی بھی تحریر یا معلومات ہمارے ذہن پر دیرپا اثرات مرتب کرتی ہے اور لمبے عرصے تک

Read more

اردو زبان کا احیا

کسی بھی زبان کا براہ راست تعلق جذبات اور احساسات سے ہوتا ہے۔ زبان کسی بھی معاشرے میں تہذیب اور معاشرت کی مضبوط اساس ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کی قومی زبان اس کی پہچان ہوتی ہے اور اس کی ترقی کے لئے ناگزیر بھی۔ ہر ملک کی قومی زبان اس ملک کے معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی اقدار کے بارے میں بتاتی ہے اور یہ قومی زبان ہی ہے جو ملک کے تمام لوگوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔

Read more

تحقیقی مضمون نگاری: مبادیات و رسمیات

2016 کی بات ہے جب اس ادارہ میں ایم فل کے مقالہ کے مواد کے سلسلے میں جانا ہوا۔ میں نے بی۔ اے اور ایم اے پنجاب یونی ورسٹی سے کیا ہے۔ یہ دونوں امتحانات نجی حیثیت سے پاس کیے ہیں۔ ایم اے (اردو) کے بعد تدریس کے شعبہ کو مستقل اختیار کر لیا۔ اوائل میں اردو ادبیات کے استاد ہونے کی خوشی اپنی جگہ تھی۔ تاہم اس مضمون کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھی۔ ملازمت کے انتہائی معقول

Read more

کتابوں کا مقابلہ حسن۔ جسے ہے دماغ عزیز، وہ تو ضرور جائے گا!

ہیلن کیلر نے کیا خوب صورت بات کہی ہے کہ ”کتابیں میری ایسی ساتھی ہیں جو مجھ سے وہ باتیں کرتی ہیں، جو میں سننا پسند کرتی ہوں“ ۔ اس جملے میں پنہاں سچائی کی گواہی فقط وہی لوگ پورے تیقن کے ساتھ دے سکتے ہیں، جو کتابیں پڑھتے بھی ہیں اور انہیں خریدتے بھی ہیں۔ اگر آپ کا بھی شمار ایسے ہی چنیدہ صاحب ذوق عاشقان کتاب میں ہوتا ہے تو پھر خوش ہوجائیں کہ روشنیوں کے شہر کراچی

Read more

محمد نعیم خان کی ”حمدیہ شاعری“ کا تجزیاتی مطالعہ

محمد نعیم خان کا تعلق اننت ناگ کشمیر سے ہے آپ کی ”حمدیہ شاعری“ شکرگزاری، دعا اور مناجات کے موضوعات پر مبنی ہے اور حمد رب جلیل میں انبیاء اور ان کی آزمائشوں کی کہانیوں خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ ”آپ کی حمدیہ شاعری“ کا مرکزی موضوع اللہ رب العزت کے لیے شکرگزاری اور حمد کے اظہار کے گرد گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ اس خیال پر زور دیتا ہے کہ خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق

Read more

اخلاقیات سے عاری پاکستانی ٹی وی ڈرامے

کسی بھی ملک کی ثقافت کی شناخت کے لیے ڈرامہ بنیادی کردار ادا کرتا ہے ایک وقت ایسا بھی تھا ہمارے ڈراموں کی دھوم پوری دنیا میں تھی، پی ٹی وی کے ڈرامے بہت سبق آموز ہوتے تھے اور ہماری مشرقی روایات کی عکاسی کرتے تھے اور تربیت کا بہت بڑا ذریعہ تھے، ڈرامہ لکھنے والے بھی بڑے باذوق لوگ تھے۔ 60 کی دہائی میں شروع ہونے والا ڈرامے کا سفر 90 کی دہائی تک بام عروج کو پہنچا ان

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 54

زاہدہ کا گھر، بہت پیارا گھر اسٹیشن سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہ تھا۔ اس کے نیچے کی منزل میں ایک ڈرائنگ روم، ایک کمرہ اور کمرے کی بغل میں باورچی خانہ تھا۔ آخر میں ایک برآمدہ بھی تھا جسے شیشے کی دیوار سے بند کر کے لاؤنج مع ڈرائنگ روم میں بدل دیا گیا تھا۔ اس کے باہر ایک وسیع مستطیل لان تھا۔ دو کمرے اوپر کی منزل پر تھے۔ اس گھر کا ہر گوشہ اس بات کی گواہی

Read more

نوید صبح ہیں، سارے جہاں کے بچے ہیں

خالد سہیل حامد یزدانی ۔ خالد سہیل کا خط …………….. میرے یار طرحدار حامد یزدانی آپ سے پچھلے چند خطوط میں کینیڈا کے قوانین اور خاندان کی ذمہ داریوں کے بارے میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے میں اپنی غیر روایتی زندگی اور باپ بننے کے تجربے کے بارے میں سوچنے لگا۔ چونکہ اب آپ کی اور ’ہم سب‘ کے قارئین کی دوستی میں بے تکلفی کا عنصر بڑھ رہا ہوں اس لیے اب آپ سے چند ذاتی تجربات شیر کرنا

Read more

کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو اپنے ملک کا ”اٹوٹ انگ“ ٹھہراتے فیصلے کے بعد وطن عزیز میں مذمتی بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سیاستدانوں کی بڑھک بازی معمول تصور کرتے ہوئے نظرانداز کی جاسکتی تھی۔پریشان کن حیرت مگر مجھے اس وقت ہوئی جب پاکستان کی وزارت خارجہ سے عمر بھر وابستہ رہے چند ریٹائرڈ افسر اپنے تبصروں میں ہمیں یقین دلاتے رہے کہ ”عالمی ضمیر“ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا۔مذکورہ فیصلہ

Read more

سندھ کے صوفیا: تصوف، ہم آہنگی، اور روشن خیالی

وادی سندھ، قدیم تہذیب اور منفرد ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ ان میں سے، تصوف کے صوفیانہ سلسلے اور اولیاء کرام کی قابل احترام شخصیات نے خطے کے مذہبی اور ثقافتی منظرنامے کو نمایاں طور پر تشکیل دیا ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے تصوف اور صوفیاؑ کرام کے درمیان تعامل نے ایک منفرد روحانی منظرکشی کو فروغ دیا ہے، جس کی خصوصیت رواداری، ہم آہنگی، پیار اور محبت ہے، جس نے برصغیر کے سماجی اور مذہبی تانے بانے پر انمٹ

Read more

اپنے شوہر اور بچوں کو دہشت گردوں سے بچانے والی بی بی روشن

اللہ تعالیٰ نے ماں کی صورت میں عورت کو ایک خاص مقام دے رکھی ہے جو زندگی کے ہر مشکل اور کٹھن مرحلے میں اپنی اولاد کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ وہ اپنی مسکراہٹ سے اولاد کی پریشانی کو دور کرتی ہے اور ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں ہمیشہ حمایت کا سایہ ہوتی ہے۔ ماں بننے کے ساتھ قربانی کی ذمے داری اپنے کندھوں پر ایسے اٹھاتی کہ ایک فرض کو اتنے خلوص سے ادا کرنے کا کوئی نظیر

Read more

’آپ کو بتانا تھا کہ کل ہمیں ہمارے بچوں کے ساتھ مار دیا جائے گا‘: محمد حنیف کا کالم

رفعت کا مار کر جس سے وہ غزہ کی یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھاتے تھے ،اسرائیلی بم کا مقابلہ نہ کر پایا اور وہ اپنی بہن اور چار بچوں سمیت ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

Read more

صدیقہ بیگم پاکستانی اور صدیقہ بیگم ہندوستانی ( 1 )

صدیقہ بیگم کا نام اہل ادب کے لیے یقیناً کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے لیکن قابل توجہ معاملہ یہ ہے کہ دنیائے اردو ادب سے وابستہ صدیقہ بیگم نام کی دو بہت ممتاز اور معروف شخصیات ہیں۔ ایک صدیقہ بیگم کا تعلق ہمسایہ ملک بھارت سے ہے جبکہ دوسری صدیقہ بیگم کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ سن ولادت کو مدنظر رکھا جائے تو دونوں کا تعلق برٹش انڈیا یا متحدہ ہندوستان سے بنتا ہے۔ بہت سے لکھنے والوں

Read more

ممتاز شاعر احمد مشتاق کی پاکستان آمد اور ملاقات کا احوال

کبھی سان گمان میں بھی نہ تھا کہ احمد مشتاق صاحب سے ملاقات ہو گی اور اس ٹی ہاؤس میں ان کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کا موقع ملے گا کہ جہاں ان کی گہرے دوستوں ناصر کاظمی اور انتظار حسین جیسے بڑے ادیبوں کے ساتھ ان کا وقت گزرا۔ مشتاق صاحب کو پاکستان سے گئے چالیس برس ہو گئے اور اس دوران وہ آخری مرتبہ تئیس برس قبل تشریف لائے تھے۔ ان تئیس برسوں میں ان کے چاہنے

Read more

بابا ”یو نو نتھنگ“

بلاول کا ہیاؤ کھل گیا ہے ۔ اب وہ تڑخے ہوئے انڈے سے نکلے بے بال و پر چوزے نہیں ہیں جسے زرداری صاحب اپنے گھنے پروں میں سمیٹے رہتے تھے۔ اب وہ بابا سے آگے کی چیز دکھائی دینے کی کوشش میں ان سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا نہ ہو۔ واقعتاً باپ بیٹے ایک دوسرے کو پانی پلاتے پلاتے تھک گئے ہوں۔ اب بلاول اپنی بہتی ناک خود صاف کر لیتے ہوں۔ ناک حقیقت میں

Read more

کچھ خبر اور صحافت کے بارے میں

اخبار کی صحافت آخری دموں پر ہے۔ رواں صدی کے آغاز پر نجی ٹیلی ویژن چینلز نے سرکاری نشریات کے ملبے سے برآمد ہونے والی نانک شاہی اینٹوں سے جو عمارت اٹھانا چاہی تھی، وہ عدلیہ بحالی کی تحریک میں کارفرما پس پردہ عناصر کے ہاتھوں منہدم ہو گئی۔ سرکار دربار کے بقراطوں نے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کے مقابلے میں بے چہرہ سوشل میڈیا کا ایسا سیل بے اماں میداں میں اتارا جس نے ذہن سازی کی کھلی سازش

Read more

مشہور فلسطینی ادیب رفعت العرعير کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت: ’ہم ناامید ہیں، ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں‘

غزہ کے باسی اور ان کے ہزاروں مداح مشہور ماہر تعلیم، مصنف اور شاعر رفعت العرعیر کی غزہ میں ایک اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ہلاکت پر سوگوار ہیں اور انھیں مختلف انداز میں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

Read more

یتیم کہانی

وہ فیصل آباد کے گاؤں 78 ج ب میں غزالی ایجوکیشن فاؤنڈیشن سکول کا طالبعلم تھا۔ بظاہر سمائل چہرے پر بکھیرے 10 سالہ معصوم سا بچہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ میں نے اسے ”ونٹر پیکج“ دیا تو رونے لگ گیا۔ الگ لے جا کر وجہ پوچھی۔ وہ اس چھوٹی سی عمر میں بھی نہایت حساس واقع ہوا۔ اس کی ہچکی بندھ گئی۔ وہ جواب نہیں دے پا رہا تھا۔ میں نے اس سے والدین کے متعلق پوچھا۔

Read more

جاوید احمد غامدی بمقابلہ انجینئر محمد علی مرزا اور روایتی تسلسل

ہر دور میں وارثان مذہب نے علم الکلام کی اصل روح یا معرفت کو پانے کے لیے اپنے اپنے انداز میں مغز خوری کی ہے اور اپنے تئیں حقیقت کو پانے کی سعی کرنے کے بعد جو کچھ بھی ان کے ہاتھ لگا وہ سب کتابوں میں موجود ہے۔ قرآن مجید کی ہزاروں تفاسیر، احادیث مبارکہ کی درجنوں شرحیں و تشریحات اور ایک ایک موضوع پر کئی کئی درجن کتابوں کے سامنے آنے کے باوجود بھی علماء و آئمہ و

Read more

ڈاکٹر خیال امروہوی، میرے خیال میں

ڈاکٹر خیال امروہوی کا خیال آتے ہی میرے ذہن میں ایک ایسے ہیرے کا خیال آتا ہے جو کسی مسافر سے ریگستان کی مسافت میں کہیں گر پڑا ہو اور پھر مدت تک وہیں پڑا رہا ہو۔ تقسیم ہند نے برصغیر کی تہذیبی زندگی میں جو اتھل پتھل بپا کی اس نے بڑے انقلابات کو جنم دیا۔ اگرچہ ہندوستان حملہ آوروں کے طفیل اس تحرک کا ہزاروں سالوں سے عادی تھا مگر تقسیم ہند کی یہ تبدیلی حملہ آوروں کی

Read more

جوائے آف اردو

زبانوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی لباس مگر جذبات ضرور ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کو جوائے آف اردو عنوان پر اعتراض ہو مگر زبانیں خطوں کی ہوتی ہیں۔ زبانوں کا نہ تو کوئی جنم دن ہوتا ہے اور نہ ہی تہوار۔ اردو برصغیر کے خطے کی زبان ہے۔ اردو موسم بہار کی وہ چڑیا ہے جو گلشن میں کھلے پھولوں پر منڈلاتی رہتی ہے۔ دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی

Read more

عوامی سیاستدان۔ آغا شورش کاشمیری

اس کارخانہ ہائے رنگ و بو میں شب و روز کتنے ہی لوگ چشم حیات کھولتے ہیں اور کتنے ہی لوگ دام اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ موت و حیات کا یہ نظام ہمیشہ سے سلسلہ بند ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جو اس کارخانہ میں اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس ”حیات ارضی“ کی آسائشوں کو حاصل کرنے میں صرف کر دیتے ہیں اور حیات بعد از مرگ کی تجہیز سے بالکل ناواقف رہتے ہیں، اور پھر ان کی

Read more

جوائے آف اردو

زبانوں کا نہ تو کوئی مذہب ہوتا ہے اور نہ ہی لباس مگر جذبات ضرور ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کو جوائے آف اردو عنوان پر اعتراض ہو مگر زبانیں خطوں کی ہوتی ہیں۔ زبانوں کا نہ تو کوئی جنم دن ہوتا ہے اور نہ ہی تہوار۔ اردو برصغیر کے خطے کی زبان ہے۔ اردو موسم بہار کی وہ چڑیا ہے جو گلشن میں کھلے پھولوں پر منڈلاتی رہتی ہے۔ دنیا میں بولی جانے والی دوسری بڑی

Read more

میں ہوا ناکام تو فاروق ساغر بن گیا

حسب معمول اٹھا اور ضروری عوامل کے بعد دفتر پہنچ گیا۔ عموماً دفتر میں سوشل میڈیا کے استعمال سے احتراز برتتا ہوں کیونکہ اول تو اتنا وقت بھی نہیں ہوتا اور دوئم ایک بار سوشل میڈیا کی طرف دھیان گیا تو پھر آدھا پون گھنٹہ لمحوں میں ادھر ادھر کہیں دبک جاتا ہے مگر آج اچانک موبائل پر ابھرتے غائب ہوتے نوٹیفکیشن میں سے واٹس ایپ کے ایک نوٹیفکیشن نے جکڑ لیا۔ ”انتہائی افسوس ناک خبر ہے کہ معروف و

Read more

سیلف میڈ مین قدیر احمد

امجد اسلام امجد مرحوم کی ’سیلف میڈ لوگوں کا المیہ‘ کے عنوان سے ایک خوبصورت نظم ہے جسے پڑھتے ہوئے دبئی میں مقیم سیالکوٹ کا ایک نوجوان بزنس مین قدیر احمد یاد آ گیا۔ بسیار کوشش کے باوجود میں آج تک ”بزنس مین“ (Business Man) اور ”سیلف میڈ مین“ (Self Made Man) کا صحیح اردو ترجمہ نہیں ڈھونڈ سکا تھا۔ بظاہر انگریزی کے لفظ بزنس مین کا اردو ترجمہ تاجر ہے مگر اردو زبان و ادب میں تاجر عموماً ایسے

Read more

امید گروں کی داستان

میں جو سوچوں تو کیا کیا نہ دیکھوں میں جو دیکھوں تو کیا کیا نہ سوچوں میں وہ قادر کہ گم قدرتوں میں میں وہ شاعر کہ چپ حیرتوں میں تجھ کو سوچوں تو کچھ بھی نہ دیکھوں تجھ کو دیکھوں تو کچھ بھی نہ سوچوں (عطا شاد) اس لیے کہ یہ کتاب، ون اینڈ ون میک الیون، اس طرح کی ہے کہ آپ کو سوچنے کے لیے بے پناہ مواد فراہم کرتی ہے۔ کچھ مصنف اور کتابیں ایسی ہوتی

Read more

راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری

ہم اردو سے محبت کرنے والوں، اردو کو سر سری لینے والوں، اردو کو غیر اہم کہنے والوں اور اردو کو انگریزی یا مقامی زبانوں سے کم تر سمجھنے والوں کے رویوں اور آراء کا یکساں احترام کرتے ہیں۔ اردو پر ملک کی قومی زبان ہونے کا الزام ہے۔ آئین کی شق نمبر 251 کے مطابق اردو ملک کی قومی زبان ہو گی اور یہ الفاظ بھی انگریزی زبان میں درج ہیں۔ 2003 ء تک اردو کی بے ادبی جاری

Read more

سول سروس اور خودکشی

بلال پاشا کی جب خودکشی کی خبر آئی تو میں لائف سکلز کی تربیت لے رہا تھا جو کہ ہر پرموشن کی تربیت کا لازمی جز ہے جس میں آپ کو زندگی میں آنے والے چیلنج اور مسائل سے نبرد آزما ہونے کی تربیت دی جاتی ہے۔ سول سروس کا حصہ ہونے کی وجہ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ سول سروس میں تربیت کی بہترین سہولیات دی جاتی ہیں اور جہاں تک سول سروس میں دوسری سہولیات کا

Read more

گلاب پاش یا صندل کا پیڑ: زمانہ حال کی ایک نایاب کتاب

ادب میں نایاب کتاب اس کتاب کو سمجھا جاتا ہے جو یا تو انتہائی قدیم ہو اور بہت کم افراد کے کتب خانے کی زینت ہو یا پھر عرصے سے دوبارہ شائع نہ ہوئی ہو اور شائقین علم کی دسترس سے باہر ہو۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسی کتاب شائع ہوئی ہے جو نہ تو مندرجہ بالا پہلی شرط پر پوری اترتی ہے اور نہ ہی دوسری پر۔ لیکن میں اس کتاب کو پھر بھی نایاب کتاب کا درجہ

Read more

کسی ریاست میں سیکولر ازم کی روایت کے کیا معنی ہیں؟

ڈیئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب، جی ڈاکٹر آپ نے اپنے پچھلے خط میں درست فرمایا، میں پاکستان میں نوجوانوں کے ساتھ سماجی، نفسیاتی اور کسی حد تک مذہبی حوالے سے تربیتی ورکشاپس کرتا ہوں۔ کچھ تربیتیں مختلف لائف سکلز کے حوالے سے بھی ہوتی ہیں جیسے کہ لیڈرشپ اور کمیونیکیشن کا ہنر وغیرہ۔ ان ورکشاپس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے ساتھ ون۔ آن۔ ون کونسلنگ بھی کرتا ہوں۔ ان کونسلنگ سیشنز میں جنسی معاملات سمیت بہت سارے مسائل پر بات

Read more

کینیڈا میں بچوں کا خیال کیسے رکھا جاتا ہے

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آداب و تسلیمات آپ کا از حد ممنون ہوں کہ آپ نے میرے گزشتہ خط کا تفصیلی، پر مغز اور مفید جواب رقم کیا جس میں نہ صرف ”ڈھلتی عمر کی اداسی“ کے احساس کی وضاحت کی بلکہ اس کی علمی یا سائنسی حقیقت اور مختلف صورتوں سے بھی آگاہی عطا کی اور ساتھ ہی ساتھ اس احساس سے نمٹنے کے لیے کچھ موثر طریقے بھی درج دیے۔ آپ نے جیتی جاگتی مثالوں کا سہارا

Read more

اوپن اے آئی کی سربراہ اور سیلیکون ویلی کی سب سے بااثر خواتین میں شامل میرا مورتی کون ہیں؟

نومبر کے آخر میں جب میرا مورتی نے اوپن اے آئی کے سی ای او کا عہدہ سنبھالا تو وہ شہ سرخیوں میں آئیں۔ لیکن وہ کون ہیں اور کہاں سے تعلق رکھتی ہیں؟

Read more

’استادوں کے استاد‘ حسین بخش گلو جن کی محفل لتا منگیشکر نو گھنٹے تک سنتی رہیں

آٹو ٹیون اور ری مکس کے زمانے میں، سوشل میڈیا کی ریلز اور سٹوریز سے دور، ٹرینڈ اور ہیش ٹیگ کی دنیا سے پرے مگر ہیں کچھ شوقین، جنھیں دسمبر کی یہ شام بے حد اداس کر گئی ہے۔ جو جانتے ہیں کہ استاد حسین بخش گلو چل بسے تو پھر صدیوں میں پیدا نہیں ہوتا۔

Read more

جمہوریت کی آزمائش کے دن

اکتوبر 1826 میں غالب کانپور کے راستے لکھنو پہنچے۔ غازی الدین حیدر اودھ کے بادشاہ تھے اور معتمد الدولہ آغا میر ان کے وزیر اعظم۔ شعرا کی سرپرستی کے شائق آغا میر نے غالب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ غالب نے امام بخش ناسخ کے مشورے سے آغا میر کی شان میں قریب سو اشعار کا قصیدہ لکھا مگر آغا میر سے ملاقات کے لئے کچھ شرائط بھی رکھ دیں۔ اقتدار بھی کہیں کمزور کی شرائط مانتا ہے۔ سو

Read more

مخالفین میں گھری بہادر شیرنی: شیما کرمانی

کئی سال قبل کراچی میں شیما کرمانی سے میری پہلی ملاقات دو دوستوں کی مہربانی کا ثمر تھی۔ ایک تو عزیز دوست ڈاکٹر شیرشاہ سید، جنہوں نے پہلے ہی شیما سے میرا غائبانہ مختصر تعارف کروا دیا تھا کہ میری دوست گوہر تاج اردو ٹائمز کے لیے آپ کا انٹرویو کرنا چاہتی ہیں۔ اس زمانے میں امریکہ کا مشہور اخبار اردو ٹائمز میری قلمی مشق کا ہفتہ وار شکار تھا۔ دوسری میری بہت مہربان دوست مہناز رحمان۔ جن کا ہمیشہ

Read more

سکرین پر پڑھنے کے نقصانات اور مطالعے سے ہمارے ذہنوں پر مرتب ہونے والے اثرات

آج کل لوگ کاغذ پر شائع ہونے والی کتابوں سے مطالعہ کرنے بجائے رفتہ رفتہ کمپیوٹر، ٹیبلیٹ، موبائل جیسے ڈیجیٹل آلات پر پڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن اس سے ہمارے ذہن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

Read more

19ویں صدی تک صنعتی ممالک میں ’چمنی کی بھینٹ‘ چڑھنے والے بچے کون تھے؟

یہ وہ معصوم بچے تھے جو حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر ایک بے رحم زمانے کے ہاتھ لگے۔ یہ بچے سفاکانہ حالات میں ’چمنی سویپ‘ یعنی چمنیوں کی صفائی کا کام کرتے تھے، یہ ایک ایسا عمل یا کام تھا جو دنیا کے مختلف حصوں میں ایک طویل عرصے اور وسیع پیمانے پر رائج رہا۔

Read more

بلال پاشا۔ ایک عہد جو تمام ہوا!

میرے ذہن میں اس وقت دو کہانیاں، اور دو کردار، تکرار میں مصروف ہیں، اور میں گتھی سلجھانے میں غلطاں ہوں۔ میرے ذہن کے پردے پہ دو مختلف انسانوں کی زندگی کسی فلم کی طرح چل رہی ہے، ایک وہ کہ جس نے ہار مان لی، دوسرا وہ جس نے سب کچھ جیت کر زندگی ہار دی۔ آج کی تحریر میرے لیے تکلیف دہ ہے، الفاظ کا چناؤ بہت مشکل ہے اور خیالات کا بہاؤ ناقابل بیاں ہے۔ خیر شروع

Read more

ادب کی دنیا میں بے ادب لوگ

میرا ایک پسندیدہ قول، جو میں اکثر فیس بک پر لگائی گئیں تحریروں پر، بحث و مباحثہ کے درمیان، اپنے تبصرے میں لکھتا ہوں : ”پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں“ یہ قول پہلی دفعہ فریڈرک ریوکرٹ ( 1788۔ 1866 ) نامی جرمن شاعر، جو عربی، فارسی، عبرانی، ہندی اور چینی زبانوں کے مترجم بھی تھے، نے استعمال کیا تھا۔ 15.11.2022 کو آٹھ ارب کے ہندسے ( 1970 کی آبادی کا دگنا) کو چھونے والی وسیع و عریض آ بادی میں

Read more

یاسین صابر۔ سراپا شرافت و علم کا خزانہ

یاسین صابر۔ سراپا شرافت و علم کا خزانہ۔ کمال کا صحافی، سراپا شرافت اور علم کا خزانہ یاسین صابر ہم سے چھوٹ گیا ہے یاسین صابر بظاہر ایک گمنام صحافی تھا لیکن وہ اخبار میں ریڑھ کہ ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا۔ اخبار کی لیڈ سے لے کر عام خبر کی اشاعت ان کی منظوری سے مشروط تھی چونکہ وہ اخبار کے چیف نیوز ایڈیٹر تھے۔ اس لئے پورے اخبار کی ذمہ داری ان کے سر تھی۔ اگر اخبار میں

Read more

”ہجر کربناک ہوتا ہے“ :ایک تاثر

شاعری احساس اور جذبے کو مجسم کرنے کا فن ہے۔ یہ الفاظ کی ایسی جادوگری ہے کہ جذبے اور الفاظ کی ہم آہنگی سے پراسرار شعری آہنگ تخلیق کرتی چلی جاتی ہے۔ ارفع تخیل اور عمدہ فکر کے امتزاج سے تشکیل پذیر ہونے والی شاعری قاری کے قلب و روح کو سحر آگیں کیفیات سے سر شار کر دیتی ہے۔ ”ہجر کربناک ہوتا ہے“ کی شاعری منفرد اور ممتاز اسلوب کی شاعری ہے۔ ڈاکٹر میمونہ سبحانی نے مذکورہ کتاب کی

Read more

آٹھویں قومی اہل قلم کانفرنس اور چار آدمی!

آٹھویں قومی اہل قلم کانفرنس برائے ادب اطفال کا انعقاد ایشیاء کے سب سے بڑے ادارے فاؤنٹین ہاؤس لاہور میں ہوا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے لکھاریوں، ادیب، شعرائے کرام اور علمی و ادبی شخصیات بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بلاشبہ اس کامیاب کانفرنس کے انعقاد کا سہرا بچوں کے مقبول عام ماہنامہ پھول میگزین کے مدیر ’کالم نگار محترم محمد شعیب مرزا اور فاؤنٹین ہاؤس لاہور کے میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈاکٹر سید عمران مرتضیٰ کے سر سجتا ہے جنہوں نے

Read more

ہنری کسنجر والا نشہ

ورلڈ اکنامک فورم میں کسنجر کے ساتھ تصویر کھنچواتے ہوئے مشرف نے اتنے ادب اور احترام کے ساتھ ان کی کمر پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں میں ایسی چمک ہے، جیسے خاندان کا بھولا بسرا بزرگ مل گیا ہو۔ محمد حنیف کا کالم۔

Read more

بکنے والے ادیب

ؑعنوان ہی نہیں، آج کا کالم بھی تنازع کا شکار ہونے والا ہے۔ جو نہیں بکتے وہ بھی راقم کو نشانہ بنائیں گے او ر جو بک جاتے ہیں وہ بھی۔ بکنا ویسے تو بہت برا سمجھا جاتا ہے مگر یہاں بکنے والے زیادہ محترم ہوں گے کیوں؟ اس لیے کہ میں ان ادیبوں کی بات کر رہا ہوں جن کی لکھی ہوئی ہر تحریر، ہر کالم، ہر کہانی، ہر افسانہ، ہر شاعری اور ہر کتاب بک جاتی ہے۔ یہ

Read more

جذبہ اظہار اور خوف کے مابین پنپتے افکار (2)

سوکھا ہوا پتا میرا ٹوٹا ہو پر تھا، میں ایک پرندہ تھا مرا شہر شجر تھا مہتاب تھا اس باغ میں گل تھا کہ گہر تھا، نرگس کے لئے چشمہ اندوہ نظر تھا پھر ترک تعلق کی سزا دی بھی تو کس شام، ٹھہرا ہوا جس روز وہ ظالم میرے گھر تھا کیوں آج میرا قد تیری پلکوں سے بھی کم ہے، کل تک میرا سایہ تیری قامت کی خبر تھا جاتے ہوئے ہمدم تھی گدائی بھی انا بھی، لوٹا

Read more

ہم مظلوموں کی تقدیروں کے ہنگامے

میں سٹیڈیم ہوٹل کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا، آج امجد صاحب مین ہال کے دائیں ہاتھ کاؤنٹر کے سامنے والی چوکور میز کے گرد انتہائی آرام دہ بازوؤں والی کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ میں بھی ان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ ہم بہت کم ہاتھ ملاتے تھے بس جھک کر ان کو سلام کرتے تو ان کے لبوں پر مسکراہٹ آتی اور وہ دھیمی آواز میں کہتے شاہ صاحب۔ شاہ کا لفظ ذرا

Read more

کہانی: منٹگمری حصہ چھ

کہانی کار : وقار مصطفی سپرا ڈپٹی کمشنر کا علاقائی دربار راوی کے کنارے پہ سابقہ ضلع مقام گوگیرہ پر لگا تھا۔ فوری امور کے علاقائی مقدمات صاحب کو پیش کیے گئے۔ مقدمات کی سماعت کرتے کرتے فلاور مین اکتا گیا تھا۔ گرمی کا موسم آ رہا تھا۔ گوگیرہ کے قدیم تعمیر شدہ کمرہ اور کچہری کی عمارت میں بے حد رش اور بدبو عرض وہ اکتا کر لسٹ کو دیکھتا ہے اور آخری مقدمہ کو شروع کرنے کا کہتا

Read more

نپولین اور پاکستانی سائنسدان جنرلز

بچپن میں ہالی وڈ کی فلم ”گلیڈییٹر“ دیکھی جس کا اثر کئی دن تک رہا، سچویشنز، بیک گراؤنڈ میوزک، فائٹ سیکوئنسز اور ہیرو کی خاندانی ٹریجڈی پر اس کی بیچارگی، اتنی نپی تلی فلم کہ جس سے ہر عمر اور طبقے کے لوگ لطف اندوز ہوئے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جب کچھ ہوش سنبھالا تو کسی دوست کے کہنے پر ہالی وڈ کی ایک اور فلم ”کنگڈم آف ہیون“ (Kingdom of Heaven) دیکھی، یہ فلم تیسری صلیبی جنگوں میں

Read more

لاہور واقعی ہی لاہور ہے

لاہور شہر سے ایک عجیب سی انسیت محسوس ہوتی ہے۔ اسے جتنی بار دیکھا ہر بار اس سے محبت بڑھتی ہی چلی گئی ہے۔ لاہور کا نام آتے ہی ذہن میں پرانے لاہور کے قصے لاہور کی تاریخی عمارتیں اور لاہور کی تاریخ آتی ہے۔ معلوم نہیں وہ لاہور کیسا تھا لاہور میں کتنی رونق ہوا کرتی تھی کاش پرانے اور زندہ دل لاہور کو دیکھ پاتے کہ قیام پاکستان سے پہلے لاہور کیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد

Read more

بلال پاشا: سسٹم کی ستم ظریفیوں کا تازہ شکار

ہم سب جس نظام میں جی رہے ہیں یہ آدم خور دیو کا روپ دھار چکا ہے۔ اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے انسانوں کو نگلنا اب اس کی مجبوری بن چکی ہے۔ بلال پاشا اس نظام کے ظلم کا تازہ ترین شکار ہے۔ بلال کو اس نظام کی ستم ظریفیوں کا اندازہ تھا اس لیے وہ خود کو بچانے کے لیے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر چیخ و پکار کرتا رہتا تھا کہ یہ نظام آہستہ آہستہ

Read more

مرحوم دہلی کالج اور ہمارا تاریخی نسیان

گزشتہ دنوں ہمارے سینٹر کی استاد پروفیسر عذریٰ رزاق نے اوکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک پروفیسر سے مجھے متعارف کروایا جو مرحوم دہلی کالج پر کام کر رہی تھیں۔ انھیں مولوی عبد الحق صاحب کی کتاب ’مرحوم دہلی کالج‘ کے کچھ اقتباسات کا اردو سے انگریزی میں ترجمہ کروانا تھا، لیکن ان کی اردو کمزور تھی تو انھیں مجھے کتاب کی عبارت پڑھ کر سنانی تھی اور مشکل جملوں کی تشریح کرنی تھی۔ میرے لیے یہ مشغلہ دلچسپ بھی تھا اور

Read more

شيراز کے صوفی روزبھان بقلی کے کشف الاسرار

صوفی روزبھان بقلی 1128 ع میں فاسا شہر میں دیلامائٹ نسل کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے، جو آج ایران کے صوبے فارس کا شہر ہے۔ صوفی روزبھان بقلی ایک پنساری کے طور پر کام کرتے تھے۔ اگرچہ صوفی روزبھان بقلی نے بتایا ہے کہ انہیں تین، سات اور پندرہ سال کی عمر میں عشق الٰہی کے اسرار ملنے شروع ہو گئے تھے۔ آپ نے کشف قلوب اسراروں کی نقاب کشائی میں ان خوابوں کو وجدانی کیفیت کے طور پر

Read more

ادب اور ڈاڈازم

ڈاڈازم کی تحریک جدیدیت کا مظہر ہے جس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے دور میں ہوا۔ جرمنی، فرانس اور اس کے ملحقہ ممالک کے ادیب جنگی صورت حال اور حکومتوں کے سیاسی عزائم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا چاہتے تھے۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ پہلی عالمی جنگ کے شروع ہونے کے ساتھ ہی بہت سے ادیب اپنے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ جس کے نتیجے میں سویٹزر لینڈ میں بہت سے ادبا کا اکٹھ ہو گیا۔ سماجی

Read more

جذبہ اظہار اور خوف کے مابین پنپتے افکار(1)

خطہ دامان کے معروف شاعر سعید احمد اختر مرحوم کے انتخاب کلام، ثمر حیات، کا دلکش نسخہ میرے پیش نظر ہے جس کے مقدمہ میں ان کے بیٹے خاور احمد نے اپنے والد کی مختصر سوانح اور اس تہذیبی و تمدنی پس منظر کو اجاگر کرنے کی کوشش کی، جس سے نجات پانے کی تگ و دو نے سعید احمد اختر کو شاعر اور فلسفی بنا دیا تھا تاہم اطاعت گزار بیٹے کی مانند خاور احمد نے اس خطہ کے

Read more

ایرانی رہبر اور زیرِ سوال انقلابیت

ایران میں انقلاب کی نصف صدی ہونے کو ہے۔ ان پچاس سالوں میں اس نصف صدی کے ثمرات بہت سارے لوگوں تک پہنچے۔ اپنے ہاں بھی قد آور انقلابیوں اور فلک شگاف انقلابی نعروں کی کوئی کمی نہیں۔ ہمارے ہاں کا انقلابی ٹھاٹھ باٹھ تو اپنی مثال آپ ہے۔ بعض اوقات ہمارے انقلابی طمطراق کو دیکھ کر ایرانی بھی حیران ہو جاتے ہیں۔ ملمع کاری میں تو ہمارا کوئی ثانی ہی نہیں۔ لیلی و مجنوں کی ایک حکایت شاید ہماری

Read more

آبادی تین ہزار لیکن ہر سال چھ ہزار شادیاں۔۔۔’عاشقوں کا گاؤں‘ جہاں جوڑے صرف شادی کرنے آتے ہیں

گریٹنا میں اب کیک کی بہت سی دکانیں، پھولوں کی دکانیں، کپڑوں کی دکانیں، ویڈنگ پلانر کے دفاتر ہیں۔ اس کے باوجود گریٹا گرین نے اپنی اصل شکل برقرار رکھی ہوئی ہے۔

Read more

فرشتہ

کل وہ شہر کے ہنگاموں سے اُکتا کر پُر سکون سبزہ زاروں میں ٹہلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ ایک بلند پہاڑ پر پہنچ گیا۔ شہر اپنی بلند عمارتوں اور عالی شان محلوں کے ساتھ مصور کی بنی تصویر جیسا لگ رہا تھا۔ وہ ایک جگہ بیٹھ گیا اور دور سے انسان کی عملی زندگی کا جائزہ لینے لگا۔ اس کویاد آیا کہ چند دن پہلے اُس نے خانقاہ میں کھڑے راہب سے جو بات کہی تھی، وہ سُن کر راہب

Read more

’کہنہ‘ کا متبادل؟

آصف علی زرداری کی جانب سے ایک ٹی وی انٹرویو کے ذریعے تھوڑی چھیڑچھاڑ کے بعد دوبئی میں باپ اور بیٹا بختاور بھٹو زرداری کے گھر مل چکے ہیں۔آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے مابین وہاں جو گفتگو ہوئی اس کی تفصیلات سے ہم بے خبر ہیں۔ فقط ایک تصویر منظر عام پر آئی ہے جو فخر سے بیان کرتی ہے کہ باپ اور بیٹے کیلئے خاندان اور اس کی یکجہتی اولیں ترجیح کے حامل ہیں۔سیاست سمیت دیگر

Read more

من رنگ کے سو رنگ

جنوں پریوں کا گانا (4) ’استاد جی نے گویے کو پرکھنے کے لیے چار چیزیں بتائیں، سر، راگ داری، لے کاری اور روح داری، یہ چار چیزیں پوری کسی گائیک میں نظر نہیں آئیں گی، سب میں کسی نہ کسی ایک چیز کی کمی ہوگی لیکن یہ پوری چار چیزیں استاد جی میں تھیں، استاد جی ست پٹیا گائیک تھے جنہیں سنگیت میں سمپورن گائیک کہتے ہیں‘ (انعام علی خان۔ استاد سلامت علی خاں صاحب کے شاگرد خاص) ’استاد سلامت

Read more

ادب اور اظہاریت پسندی

ادیب اور شاعر کے باطن میں جنم لینے والے خیالات و جذبات کو ادب کی کسی بھی صنف میں بیان کرنے کا نام اظہار ہے اور اظہار کے عمل کو اظہاریت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ جدید ادب میں اظہاریت (Expressionism) ، موضوعی صورتِ حال کو معروضی صورتِ حال کے بیان، پر زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ اس طرزِ اظہار میں محض قلبی اور باطنی جذبات ادبی تحریر کا حصہ بنتے ہیں۔ اس میں ظاہری رنگ و روپ اور دوسری صفات

Read more

سکوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر

خُدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو سکوتِ لالہ و گُل سے کلام پیدا کر ہر آدمی میں ایک کام کا آدمی ہوتا ہے ؛ وہی اصل آدمی ہوتا ہے۔ المیہ مگر یہ ہے کہ آدمی کے اندر کا آدمی ظاہر نہیں ہو پاتا۔ خارج کا آدمی مظاہر کی کشش اور غمِ دوراں میں اتنا کھپ جاتا ہے کہ اُس کا باطن اپنے اظہار کی تمنا کو حسرت کی نذر ہوتے دیکھتا ہے۔ حضرتِ انساں کا احساسی وجود جب

Read more

رنگ خزاں بھی کم نہیں رنگ بہار سے

پاکستان کے نامور شاعر امجد اسلام امجد کیا یک غزل میں ردیف ”خزاں کے آخری دن تھے“ پڑھا تو تعلقات میں فراق اور محبت میں کمی کے کئی جذبوں سمیت زندگی کی جاتی بہاروں کا احساس ہوا لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ خزاں کے آغاز اور خزاں کے پہلے دنوں میں احساسات کیا ہوں گے؟ ٹھیک ہے کہ اردو شاعری میں بار بار خزاں کے آتے ہی بہار کے جانے کا احساس اور زندگی سے رنگ، پھول،

Read more

سوچ کا دائرہ

موسم سرما کا یہ اداس جھٹپٹا گویا دل میں کسی یاد کی ہوک اٹھانے کو ناکافی تھا کہ افق پر بادلوں نے بھی سورج کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ نجانے کیا تھا بادلوں کی اس ادا میں کہ شفق کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔ سرد شام اب نرم گرم اور گلابی ہو گئی۔ بے غرض اور حقیقی محبتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ دل میں گداز پیدا تو کرتی ہیں لیکن اشک شوئی کی اجازت نہیں دیتیں۔ وہ

Read more

 سلام پاشا کی خالہ۔ مصری افسانہ: محمود تیمور

ترجمہ: جاوید بسام۔ کراچی اس دن دارالحکومت سے نکلنے والے شام کے اخبارات میں سانحہ ارتحال کے صفحے پر سیاہ حاشیے کے درمیان ایک طویل پیغام شائع ہوا تھا۔ ”آہ بدقسمتی! گہرا غم! ایک نیک، پرہیزگار اور متقی خاتون اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئیں۔ وہ محترم محمد سلام پاشا کی خالہ تھیں جو ایک سابق سرکاری افسر اور اپنی مفید اور شاندار سرگرمیوں کی وجہ سے اشرافیہ کے مشہور ترین نمائندوں میں سے ایک ہیں۔ وہ

Read more

ارشاد امین۔ تیں بِن سُنج ویڑھے یار فرید وو

نوٹ: مضمون میں سرائیکی اشعار اور الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے 22 ستمبر 2023 کو اچانک ارشاد امین کا فون آیا کہ پیر کے روز اسلام آباد وارد ہونے والے ہیں انتظام کر کے رکھنا، مجھے اچانک راحت اندوری مرحوم کا وہ شعر یاد آ گیا۔ گلاب، خواب، دوا، زہر، جام کیا کیا ہے میں آ گیا ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے تیس سال پہلے کی بات ہوگی کہ چند دوستوں کے ہمراہ ’سالانہ دو روزہ خواجہ غلام

Read more

اقبال کا فکری ارتقا

اقبال کی شاعری اور فکری ارتقا کے تین ادوار ہیں۔ پہلا دور 1905ء تک کا ہے، جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ تشریف نہیں لے گئے تھے۔ دوسرا دور قیام یورپ کا ہے جو 1905ء سے 1908ء تک تین برسوں پر محیط ہے۔ ان کی شاعری کا تیسرا اور سب سے اہم دور یورپ سے واپسی کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جس میں وہ محمد اقبال سے علامہ محمد اقبال، شاعر مشرق اور ترجمان حقیقت بنے۔ سر کا خطاب

Read more

سائبان ایک تحریک!

اگر ادیب یا شاعر کو مصور مان لیا جائے تو پھر اسے اپنے کام پر اتنا عبور تو ہونا چاہیے کہ وہ پرانے ماسٹروں کے رنگوں اور برش سٹروکس کو جانتا ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ ادیب سیاح ہے تو اسے دیس دیس کی کہانیاں بھی آتی ہوں۔ مگر ساتھ ہی اس کا دل اپنے وطن کی کہانیوں میں دھڑکتا ہو۔ اگر راہ میں کٹھن دھوپ آ جائے تو وہ اپنے لیے کوئی ایسا بادل کا ٹکڑا ڈھونڈ سکے

Read more

وہ اک تارا : قسط نمبر 15

زندگی نے کیسے یکایک ڈرامائی موڑ مڑا تھا۔ دن رات کتنے حسین ہو گئے تھے۔ وہ ان مصائب اور مظالم کی تفصیل اسے سناتا۔ جس میں اس نے چھ سال کا طویل عرصہ گزارا۔ ”اینا تم یقین کرو گی ایسے بھی لوگ تھے جو ہم سے پیار کرتے تھے۔ وہ ہمارے دیوانے تھے۔ تمہارے بھی اور میرے بھی۔ الیکٹرک شاک کے لئے لے کر جاتے تو وہاں شاکس لگانے کی بجائے گپیں لگاتے۔ مجھے سکھاتے کہ مجھے کیسے Pretendکرنا ہے؟

Read more

موسم خزاں، اداس بلبل اور میں

اتوار کی سحر ہے۔ میری آنکھ کھلی۔ سیر کو نکلا۔ ہلکی ہلکی ہوا سے پتے جھڑ رہے ہیں۔ موسم بہار کو زوال شروع ہو گیا ہے۔ خوبانی کے درخت پر ایک اداس بلبل سر پروں میں دبائے بیٹھا ہے۔ میرے قدموں کی آہٹ سے وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے اداسی کی وجہ دریافت کی تو بتانے لگا کہ صاحب! یہ نومبر کا مہینا ہے۔ ارض شمال میں سردیوں کی آمد آمد ہے۔ ہوا میں عجیب سی

Read more

تھری چیئرز فار وحید مراد : ہپ ہپ ہرے!

نوٹ : ( 23 نومبر، وحید مراد کی برسی ) مشہور کامیڈین اور میزبان عمر شریف سے وحید مراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے ہم عصر، پاکستان کے سدابہار ہیرو ندیم نے، اور دوسری باتوں کے، انھیں کچھ یوں خراج تحسین پیش کہا : ” اور جس انداز سے وحید گانوں کو پکچرائز کراتے تھے اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ میں جہاں تک تھوڑا بہت اس کام کو سمجھتا ہوں اور کیا ہے تھوڑا۔

Read more

ایک منفرد اور بے مثال لائبریری

علم آگاہی یا واقفیت کی ایک شکل ہے۔ اسے حقائق سے آگاہی یا عملی مہارت کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ علم کا مطلب اشیاء یا حالات سے واقفیت بھی ہو سکتا ہے۔ حقائق کا علم جسے تجویزی علم بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں اکثر فلسفیوں کے درمیان وسیع اتفاق ہے کہ تجویزی علم حقیقی عقیدے کی ایک شکل ہے۔ علم کئی طریقوں سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔ تجرباتی علم کا سب سے اہم ذریعہ ادراک ہے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کا نوجوانوں کے لیے معلومات سے بھرا خط

جنسی تعلیم اور شادی محترمی و مکرمی سلیم ملک صاحب! آپ مجھے استاد کہہ کر شرمندہ نہ کریں۔ آپ میرے دوست ہیں شاگرد نہیں۔ میں نے سوچا تھا کہ کینیڈا سے پاکستان جانے کے بعد آپ غم دوراں میں اتنے مشغول اور مصروف ہو جائیں گے کہ ادبی سماجی اور نظریاتی مکالمے کے لیے آپ کو وقت نہیں ملے گا اسی لیے آپ کا خط ایک خوشگوار حیرت لیے ہوئے ہے۔ میری شخصیت اور میری تخلیقی کاوشوں کو سراہنا میری

Read more

لاڈلا کون؟

ہمارے خاندانی سسٹم میں ایک لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی بھی شخصیت کی تعریف و توصیف اور اہمیت مقصود ہوتی ہے۔ عموماً گھر میں بچوں سے بہت لاڈ پیار کیا جاتا ہے لیکن کوئی ایک بچہ ایسا ہوتا ہے جس کو کچھ زیادہ ہی اہمیت دی جاتی ہے وہ بیٹا بھی ہو سکتا ہے اور بیٹی بھی لیکن جب بھی اس کے ناز نخرے اٹھانے ہوں یا اس کی کسی غلطی پر اس کو ڈانٹنا ہو

Read more

اکبر الہ آبادی کے ایک شعر کا سہ جہاتی مطالعہ

اردو شاعری کی اصل ہندوستانی روایت، جس کا صحیح معنوں میں بھرپور اظہار فروز بیدری (ف1564) کے ہاں ملتا ہے، نشاطیہ اور سانولے حسن کی روایت ہے جو بعد میں قلی قطب شاہ اور پھر ولی دکنی تک چھائی ملتی ہے۔ یہ ہی وہ روایت ہے جو لکھنوی شعراء، جراءت، انشاء اور رنگین وغیرہ کی شاعری میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ لکھنوی دبستان تک آتے آتے خوبصورتی کے معیارات

Read more

اردو شاعری میں تازہ رجحانات

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے گرمانی مرکز زبان و ادب میں منعقدہ قومی کانفرنس کی اس نشست کے لیے، وہ موضوع جو میرے لیے طے ہوا ہے اس میں کئی کٹھن مقامات آتے ہیں۔ خود شعری اصناف ہی کو لے لیجیے، کس پر بات ہو کس کو چھوڑ دیں۔ غزل، نظم، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، قطعہ، شہر آشوب، رباعی، گیت، ماہیا، ہائیکو وغیرہ۔ کچھ کا فیصلہ تو وقت نے کر دیا اور انہیں پچھاڑ کر ایک طرف کر دیا۔

Read more

گیارہ منٹ: جنسی نفسیات پر فلسفیانہ فکشن

’گیارہ منٹ‘ معروف برازیلی ادیب پائیلو کوئلہو کا شہرہ آفاق ناول ہے جسے 2003 میں پہلی بار پرتگیزی زبان میں شائع کیا گیا تھا۔ یہ جنسی نفسیات پر تحریر کیا گیا ایسا ناول ہے کہ جس میں محبت، ہوس اور خوابوں کی تکمیل کے پیچھے بھاگتی ایک بیسوا کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ یہ ناول محبت، قربت اور کثیرالجہتی تعلقات کی گنجلک داستان ہے جس میں ماریا کے کردار کے ذریعے قارئین کو ایک ایسے سفر پر لے جایا

Read more

کچھ ضمیر کی موقع شناسی کے بارے میں

فضا میں اگرچہ آلودگی کی سطح بدستور بلند ہے لیکن بکرمی تقویم میں 2080 کا موسم سرما دو خوش رنگ پرندوں کی لاہور کے چشمہ حیواں کے کنارے آمد کی نوید لایا ہے۔ احمد مشتاق نے 1982 میں اول اول ترک وطن اختیار کیا تھا۔ کچھ برس آمد و رفت کا سلسلہ چلا۔ بالآخر 1992 میں امریکا میں مستقل قیام ہی طے پایا۔ عارف وقار قبلہ احمد مشتاق سے عمر میں کوئی بارہ برس چھوٹے ہیں لیکن 1980 ہی میں

Read more

شہاب الدین شاہ قنوجی کی اردو شاعری اور کھوار تراجم، مختصر جائزہ

شہاب الدین شاہ قنوجی کی غزل زندگی کی تلخیوں اور ادھوری خواہشات پر غور کرتے ہوئے ایک نوحہ، تمنا یا آرزو کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ شاعر زندگی سے سوال کرنے یا اسے چیلنج کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے، اس کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ پوری غزل میں ایک بار بار آنے والی خواہش ہے کہ وہ زیادہ ہمت کرے اور کچھ خواہشات یا

Read more

مادری زبانوں کی بقا میں کہانی کی اہمیت

چند برس پہلے کی بات ہے، ہم بھی کہانی سننے کے خوش گوار تجربے سے گزرے ہیں اب بھی وہ منظر آنکھوں کے سامنے گھوم گھوم جاتا ہے۔ گھر کے تمام بچے مغرب ہوتے ہی نانی اماں کی چارپائی کو گھیر لیتے تھے اور ہر ایک کی کوشش ہوتی تھی کہ میں نے نانی اماں کے قریب بیٹھنا ہے۔ چارپائی کے چاروں پائیوں کو ایک ایک کر کے جو پہلے ہاتھ لگا لیتا وہ اس کی ملکیت تصور ہوتا باقی

Read more

پاکستان کے معاصر ادبی رجحانات: علاقائی زبانوں کے تناظر میں

پاکستان بھر سے اردو زبان و ادب سے متصل ادیب، شعرا اور ناقد و محقق ایک چھت تلے جمع تھے۔ اردو زبان کے ادبی مباحثے، سیمینار اور کانفرنسز کا سلسلہ تو گزشتہ دس برس سے تسلسل سے جاری ہے ؛البتہ پاکستان کی علاقائی زبانوں پنجابی، سرائیکی، بلوچی، پشتو، بلتی، ہندکو وغیرہ کے لیے بڑے پیمانے پر سیمینار منعقد کروانے کی روایت کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اردو زبان کو یہ وقار حاصل ہے کہ اس میں لکھنے والا؛ دنیا بھر میں

Read more

غبارے خاطر – پیروڈی

قلعہ کہنہ قاسم باغ 21 نومبر 2023ء مارا بغمزہ کشت و قضا را بہانہ ساخت خود سوئی ماندید و حیا را بہانہ ساخت صدیق کرم! آپ سے مخاطبت تو ایک بہانہ ہے کہ خوئے بدرابہانہ بسیار۔ حقیقت حال یہ ہے کہ ”غبارے خاطر“ (Balloon Heart) کے عنوان سے ایک نسخۂ مکاتیب، تالیف کر رہا ہوں۔ یہ خامہ فرسائی اسی زنجیر خیال کا حلقۂ اول ہے۔ دیکھیے، ”نسخہ“ اور ”تالیف“ کی رعایت سے غالب خستہ کا کیا شعر یاد آیا ہے

Read more

کیسی کھنک رہی ہیں خزاں کی یہ بارشیں

رم جھم کے ساتھ کرگا ہے پتوں کا شور بھی یہ شعر میرے دوسرے شعری مجموعہ ”گہری شام کی بیلیں“ میں شامل اس غزل کا حصہ ہے جو برسوں پہلے جرمنی کے شہر کولون میں کہی تھی۔ مجھے یاد ہے ایسی ہی ایک پت جھڑ کی شام تھی جب میں، امجد اور طاہرہ اپنے دفتری احباب کے ساتھ کہیں عشائیے پر جا رہے تھے۔ منزل مقصود کے قریب پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش نے آ لیا اور بوندوں کی جل

Read more

جنریشن۔ زی اقدار سے عاری یا اقدار ڈھب بدل رہیں : فاصلے کم کیونکر ہوں گے

اک سائکاٹرسٹ کی اک شاعرہ سے گفتگو ڈاکٹر اسامہ بن زبیر اور زہرہ نگاہ ولایت سے آ کر جب میں نے وطن عزیز میں سائیکاٹری کی پریکٹس شروع کی تو بطور مریض نوجوان میرے پاس زیادہ آنے لگے۔ ڈی بی ٹی (برتاؤ کی تھراپی ( سروسز دینے کی وجہ سے بھی 14 سے 30 سال تک کے جذباتی خلفشار کا شکار لوگ میرے زیر علاج رہنے لگے۔ خود مجھے بھی لگتا تھا کہ اس عمر میں ذہنی صحت پر کام

Read more

نابغہ روزگار شخصیت آغا شورش کاشمیریؒ

؂ نصف صدی کا قصہ ہے۔ دو چار برس کی بات نہیں زمانہ طالب علمی کی بات ہے۔ آتش جواں تھا۔ 1969 میں ایوب خان کے خلاف تحریک اپنے عروج پر تھی۔ پورے ملک میں آغا شورش کاشمیری کی شعلہ بیانی کا چرچا تھا۔ ان سے ملاقات کی خواہش شیخ رشید احمد (عوامی مسلم لیگ) اور مجھے لاہور لے آئی۔ میری اور شیخ رشید احمد کی آغا شورش کاشمیری ؒ سے 1969 ء میں پہلی ملاقات میکلوڈ روڈ لاہور میں

Read more

مسیحائی کی اذیت

آج کا دن صبح ہی سے نحوست پھیلا چکا تھا۔ کل جس مریضہ کو ٹسٹ لکھے تھے، ان سب کے نتائج زرسانگہ کے لئے پھانسی کے احکامات سے کم نہیں تھے۔ اس کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ تین سال کی ایک تتلی جیسی اڑنے والی بیٹی تھی اور ایک نوجوان وفادار شوہر جو میرے سامنے کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ زرسانگہ کو میں نے کلینک سے باہر نشست پر بٹھایا ہوا تھا۔ اس کی چھاتی کا کینسر آدھی چھاتی تو

Read more

ناصر کاظمی کا انتخاب داغؔ اور میرا سفر

(1) داغؔ کے متعدد اشعار پسند کرنے کے باوجود میں انہیں اپنے پسندیدہ شعرا میں شامل نہیں کرتا تھا۔ ہمارے نصاب پر میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ چھائے ہوئے تھے ؛ کالج میں فیضؔ اور راشدؔ کے چرچے تھے اور گھر میں ناصرؔ استاد کی صورت میں موجود تھے۔ میرے نزدیک بڑی شاعری کی نمایاں خصوصیات یہ تھیں کہ اسے سن کے منہ سے آہ نکلے یا واہ، اسے سمجھنے کے لیے کوشش کرنا پڑتی ہو اور بعض مقامات پر شارحین

Read more

’سہون شریف ہو یا برطانوی سفارتخانہ شیما کرمانی بہت باہمت رہی، افسوس کہ ایک بھی پاکستانی ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا‘

پاکستان میں گذشتہ روز سے ملک کی معروف کتھک ڈانسر اور نامور سماجی کارکن شیما کرمانی کا نام سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹرینڈز میں ہے اور ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے برٹش ہائی کمیشن میں لگایا ہوا نعرہ ہیش ٹیگ ’سیز فائر ناؤ‘ بھی گردش کر رہا ہے۔

Read more

چاند ہتھیلی پر: سفرنامہ

کاغان، ناران یہ اکتوبر 1995 کی بات ہے جب یار دیرینہ ظہور شاہ کا فون آیا اور اس نے ہم سب دوستوں کو اپنی شادی میں مدعو کیا اور بہت درخواست کی کہ اسے بہت خوشی ہوگی اگر ہم سب اس کی شادی میں شرکت کریں! ظہور شاہ اور اس کی فیملی پہلے کراچی میں ہمارے علاقے میں رہائش پذیر تھی اور لگ بھگ دس سال کراچی میں رہنے کے بعد وہ لوگ اپنے آبادی علاقے بالاکوٹ مستقل طور پر

Read more

محمد حنیف کا کالم: مغربی تہذیب کا خنجر

آج بھی مغربی تہذیب اپنے خنجر سے آہستہ آہستہ خود کشی کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں انسانی حقوق کا درس دینے والی یونیورسٹیوں میں ان طلبا پر پابندیاں لگ رہی ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ فلسطینی بچوں کا قتل عام بند کرو۔ یہ خود کشی ان نیوز روموں میں جاری ہے جہاں اداریوں میں یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ یہ قتل عام دراصل انسانیت کی فتح ہے۔

Read more

خواجہ عسکری حسن کی دنیا

ساہیوال میرے لئے شہر طلسمات ہے۔ اس شہر نے میرے شوق شعر و ادب کی آبیاری کی۔ یہاں مجھ پر طلسم سخن کے در وا ہوئے۔ سٹیڈیم ہوٹل اور کیفے ڈی روز کی مسند پر براجمان خدائے سخن مجید امجد کی صحبت کا شرف حاصل ہوا۔ اسی شہر میں میری ایک جائے پناہ بھی تھی جسے بوستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ بوستان میرے دوست عسکری حسن کا انار کے درختوں والا گھر ہے جہاں کے درو بام

Read more

منٹو کا خط

جھوٹی دنیا کے جھوٹے لوگوں! آپ کو ایک سچے شخص سعادت حسن منٹو کا سلام! کاشف! مجھے تمہارا خط موصول ہوا، جس میں تم نے لکھا تھا کہ ”میں تمہیں اپنے بارے میں بتاؤں“ یعنی میں کون تھا، کیا تھا، کیوں تھا اور کیسا تھا۔ میرے خیال میں تم ایک نادان اور کم فہم لڑکے ہو کیونکہ تم معاشرے پر سوال اٹھانا چاہتے ہو۔ سنو! تم نے ابھی اپنے سماج کا مکروہ چہرہ نہیں دیکھا۔ خیر سنو! میں تمہاری جھوٹی

Read more

ڈاکٹر خاور نوازش کی کتاب: ”موقف کی تلاش“

بد قسمتی سے پاکستان میں تنقیدی سوچ اور منطقی انداز فکر کو سراہے جانے کا چلن رواج نہیں پا سکا بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ رویہ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے کہ جو بھی بات ہمارے عقائد اور مسلمات سے متصادم ہو رہی ہو، اسے یا تو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے یا پھر اس کے خلاف محاذ تشکیل دے لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہماری قوم دنیا

Read more

ہم کھوکھلے انسان اور فلسطین

سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد عرب قوتوں نے سیاسی طور پر آزاد ہونے کی جو تحریک چلا رکھی تھی اس میں یہ طے پایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے عرب علاقوں کو خود مختار بنا دیا جائے گا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ صیہونیوں نے اپنی مخصوص ریاست قائم کرنے کے لیے جو مطالبہ پیش کر رکھا تھا دنیا اس کی مخالفت کرتی۔  پہلی جنگ عظیم سے قبل 2600 یہودی فلسطین میں آباد تھے مگر بعد ازاں بہت سے

Read more