مصر کا قدیم ادب

سائنس آنکھوں سے دیکھتی ہے، عملی طور پر مشاہدہ اور تجربہ کرتی ہے، اس کے بعد وہ یقینی صورت حال میں داخل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ”ادب“ نظریات اور تخیل پر بھی بھروسا کر لیتا ہے۔ ان دونوں باتوں کا نچوڑ یہی ہے کہ ادب اور سائنس ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اگر ایک سائنس کا سٹوڈنٹ تخیلاتی دنیا میں چھلانگ لگا دے تو وہاں وہ خیالات و نظریات کو غلط ثابت کرتا ہے، ایک ایسی دنیا آباد کر

Read more

یشب تمنا کے تاریک دنوں کی کہانی!

یشب تمنا کے ساتھ میری پہلی ملاقات کراچی آرٹس کونسل کی جوش ملیح آبادی لائبریری میں ریڈر اینڈ رائٹر کیفے کی ایک ادبی نشست میں ہوئی جو ان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی اور وہ ان ہی دنوں انگلینڈ سے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ وہ نشست بہت شاندار رہی اور ان کی شاعری پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد میں نے ان کا شعری مجموعہ پڑھا۔ اور ان کی شاعری کے بارے میں کسی حد تک

Read more

ایک اچھی روایت کی چالیسویں کڑی

سفر نامہ نگار، مزاح نگار معین قریشی ادب کا ایک جانا پہچانا نام ہیں۔ مزاحیہ ادب کے ضمن میں ان کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ سات جنوری کی دوپہر معین الدین قریشی کی رہائش گاہ پر یک جہتی مشاعرہ اور ظہرانے کا اہتمام ہوا۔ یہ دعوت ڈاکٹر معین قریشی ہر سال کیا کرتے تھے چوں کہ یہ دعوت سردیوں میں ہوتی ہے تو اس دعوت کا خاص کھانا پائے ہوتے ہیں گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ

Read more

رائے دہندہ کو لاحق ریاست و سیاست

نطشے نے کہا خدا مر گیا، ڈی ایچ لارنس نے کہا کہ انسانی تعلقات کا ادب مر گیا، اور مالرو نے بتایا کہ انسان مر گیا۔ اس تثلیث کی بالترتیب موت ریاست کا جنم تھی، جس میں Principle Perspective افقی سطح پر انفراد سے اجتماع کی طرف اشارہ کرتا ہے جب کہ عمودی سطح پر آسمان سے زمین کی طرف سفر کرتا ہے۔ اس تناظر میں ریاست اس معاہدے کا نام ہے جو میگنا کارٹا کی کوکھ سے برآمد ہوا۔

Read more

نینا عادل کی کتاب: مقدس گناہ

مصنفہ: صاحبہ تبصرہ: عرفان علی جناح (ڈنور) آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں! رنگ تھے چار۔ رنگوں سے بھرا ہوا یہ ناول میرا ایک طلسمی تجربہ ٹھہرا۔ یا پھر مصنفہ کی محنت اتنی باریکیوں تک کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہاں آپ کو رنگوں کی دنیا ملے گی۔ شبدوں میں جو رنگ ہوتے ہیں وہ ہر ورق کر نظر آئیں۔ مجھے تحریر، الفاظ اور خیالات کی بہتی ہوئی روانیوں نے بے حد لطف پہنچایا۔ میں نے

Read more

استاد نجیب فاضل قیصا کورک

استاد نجیب فاضل مرحوم ترکیہ کے معروف مفکر ، ادیب اور شاعر ہیں ۔ انہیں ” سلطان الشعراء ” بھی کہا جاتا ہے ۔وہ  ترکیہ کے” شیکسپیئر "بھی  کہلاتے ہیں۔ وہ 26 مئی 1904 کو استنبول میں پیدا ہوئے اور 25 مئی 1983 کو اس دار فانی سے کوچ کر گئے. ان کا مزار استنبول میں حضرت ابو ایوب انصاری سے  منسوب قبرستان میں واقع ہے. ترکیہ میں ان کے افکار، خیالات اور ادب میں مقام کی وجہ سے انہیں” 

Read more

پشتو ٹپہ بدلتے ہوئے وقت کا امین

پشتو ٹپہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ اپنا سفر طے کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے۔ پشتو ٹپہ پشتو ادب کے فوکلور کا وہ شعری صنف ہے جو اس وقت سے چلتا ہوا آ رہا ہے جب لکھنے کی صلاحیت پشتون معاشرے میں عام نہیں ہوئی تھی اور یہ صنف سینہ بہ سینہ چلتا ہوا آج تک پہنچی ہے جو بہت بعد میں لکھائی کی صورت میں محفوظ کیا گیا اور اس صنف میں مردوں کے بجائے مستورات نے

Read more

بنگلورو: انڈیا کی سلیکون ویلی میں انگریزی زبان کے خلاف احتجاج اس کی ساکھ کو کیسے متاثر کر سکتا ہے؟

نئے سال کے موقع پر انڈیا کے جنوبی شہر بنگلورو (سابق بنگلور) جسے اکثر عالمی سطح پر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کی بڑی کمپنیوں کا گھر ہونے کی وجہ سے انڈیا کی سلیکون ویلی کہا جاتا ہے، اس وقت سرخیوں میں آیا جب مظاہرین نے انگریزی زبان میں لگے بل بورڈز پھاڑ دیے اور مطالبہ کیا کہ انھیں شہر کی مقامی زبان کنڑا میں لکھا جائے۔

Read more

اچھی ہمسائیگی

یہ پروگرام دبئی ’تاج ہوٹل‘ بزنس بے میں تھا۔ اس پروگرام کو ’انٹرنیشنل ہندی ڈے‘ کا نام دیا گیا تھا جس کا اہتمام ہندی زبان کی اشاعت و فروغ کی خاطر انڈین کونسلیٹ دبئی نے کیا تھا۔ شاید میں یہ پروگرام اٹینڈ کرنے نہ جاتا مگر ہمارے دوست و مربی اردو کے اماراتی شاعر ڈاکٹر محمد زبیر فاروق العرشی صاحب نے دعوت نامہ بھیجتے ہوئے حکم دیا کہ میں ہر حال میں اس پروگرام میں شرکت کروں۔ ہم پاکستانی اور

Read more

کتاب اور کیبن کریو

کتابوں کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے ہماری نظر میں بعض کتابوں کے عنوانات اس قدر معنی خیز ہوتے ہیں کہ انہیں پڑھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بعض کتابوں کے عنوانات کو دیکھ کر ہم پہلے سے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ کتاب میں کیا درج ہو گا۔ اب یوں کرنا صحیح ہے یا غلط اس کا فیصلہ قاری پہ رکھا جاتا ہے۔ ہم خود بعض کتابوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو

Read more

اچھوتوں کی ڈائری۔ سندھ گلال

رانا محبوب اختر کی نئی کتاب ”سندھ گلال“ سندھڑی کی وہ گم شدہ آواز ہے جو لوٹ آئی ہے۔ یہ آواز دیوتاؤں کی داستانوں کے سامنے مقامی آدمی کی کہانی ہے۔ وہ آواز جو حملہ آوروں کے رزمیہ داستانوں کی دھج اور جھوٹ میں کے گم ہو گئی تھی۔ یہ ڈیوجی، سورتے، سنبھو اور پھلاج کی کہانی ہے۔ یہ سارنگ، سنگھار، سرہے اور لکھمیر کی کہانی ہے۔ یہ ان زمیں زادوں کی کہانی ہے جو بادشاہوں کے شاہناموں میں اچھوت،

Read more

میں ہوں جہاں گرد!

”روایت شکن ہی روایت ساز ہوتا ہے۔“ یہ پہلا جملہ تھا فرخ سہیل گوئندی صاحب کا اپنی کتاب ”میں ہوں جہاں گرد“ کی تقریب رونمائی پر جو ہمارے تو دل میں اتر گیا۔ تقریب مکمل ہونے کے بعد ہم نے چائے پینے کے دوران انہیں کہا کہ آپ کا یہ جملہ تو میں چرا چکی ہوں۔ فرخ صاحب زور سے ہنسنے لگے۔ شاہی قلعہ میں مکاتب خانہ میں فروری 2021 کی ایک ڈھلتی ہوئی شام کو جب مدھم ہوتی ہوئی

Read more

حسن پرست شاعر، مصور اور خطاط: اسلم کمال

اب اس واقعے کو لگ بھگ تین دہائیاں ہو چلی ہیں، میں نے اپنے افسانوں کا مجموعہ ”بند آنکھوں سے پرے“ اسلم کمال کو پیش کیا تووہ اس کے سرورق کو کچھ دیر توجہ سے دیکھتے رہے پھر کہا ؛ ”میں اس کتاب کا سرورق بناتا تو یوں نہ بناتا، یہ کچھ اور ہوتا۔“ وہ سرورق ہمارے ایک دوست آفتاب عالم نے بنایا تھا۔ آفتاب شوقیہ مصور تھے۔ ایک روز یونہی بیٹھے بیٹھے میں نے کاغذ پر پنسل سے عورت

Read more

علی سردار جعفری، ایک سرخ انقلابی نقاد

تفرقہ پڑتا ہے جب دنیا میں نسل و رنگ کا لے کے آتی ہوں پرچم انقلاب و جنگ کا (علی سردار جعفری کی نظم ”آزادی“ ) علی سردار جعفری ( 2000۔ 1913 ) ایک ایسا نام ہے جس کا ذکر کیے بغیر ترقی پسند تحریک کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ ترقی پسند تحریک کا ذکر ہو اور علی سردار جعفری کی کتاب ”ترقی پسند ادب“ کو موضوع بحث نہ بنایا جائے تو بات تشنہ تکمیل رہتی ہے۔ وہ ترقی پسند

Read more

سندھ کی اردو سپیکنگ کمیونٹی

کوئی پندرہ سال پہلے میں کوئٹہ سے بذریعہ جعفر ایکسپریس ٹرین پنجاب میں اپنے آبائی علاقے کی طرف آ رہا تھا۔ گاڑی میں دونوں ائر کنڈیشنڈ بوگیاں عید کے رش کے سبب مسافروں سے بھری ہوئی تھیں اور پنجاب و سندھ کی طرف لمبا سفر کرنے والے بعض مسافروں کو عید کے رش کی وجہ سے برتھ نہ مل سکی تھی۔ میرے کیبن کے باہر بھی ایک قدرے پریشان حال نیا شادی شدہ جوڑا کیبن کے باہر لگی سیٹوں پر

Read more

برسوں تک خواتین کا ریپ کرنے والا پادری: وہ بیٹی جسے اپنے باپ کے خلاف کھڑے ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا

اجوک 19 سال کی ہو چُکی تھیں کہ ایک دن کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انھیں چرچ کے سامنے والے دروازوں پر لے جایا گیا اور انھیں وہاں چھوڑ کر وہ لوگ چلے گئے۔ گرجا گھر کے سکیورٹی اہلکاروں کو، جو مسلح تھے، بتایا گیا کہ انھیں کبھی بھی دوبارہ اندر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ان کے والد کی موت سے چھ سال پہلے کی بات ہے۔

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023 : پشتو زبان و ادب کے مشاہیر

گل فام کاکڑ ایڈووکیٹ نے اجلاس کا آغاز کیا اور حاضرین کی سماعتیں گلابی لہجوں، دل قومی محبتوں اور اذہان فکری گفتگو سے فیض یاب ہونے لگے۔ پروفیسر نور الامین کی کتاب ”پختون دانش“ کی رونمائی ہوئی۔ ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کے تعارفی کلمات : ”دو سو صفحات پر مبنی اس کتاب کا پہلا حصہ پختون کلچر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ اور دوسرا اقوال اور حکایات پر مشتمل ہے۔ پشتو کے عظیم شاعر غنی خان پر ڈاکٹر عرفان اللہ

Read more

اکبر الہ آبادی کا مضمون اور ایک قرارداد

اکبر آلہ آبادی کی شاعری میں بغاوت اور قدامت پسندی کے اجزا کو الگ الگ کرنا ایسا ہی دشوار ہے جیسا ہماری تاریخ میں آزادی کی جدوجہد اور قدیم بندوبست کے احیا میں فرق کرنا۔ 1857 کی جنگ قابض غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف بغاوت تھی یا مقامی باشندوں کے لئے حق حکمرانی کا حصول؟ اگر ہندوستان کے ساحلوں پر اترنے والے گورے اجنبی تھے تو وسط ایشیا سے نازل ہونے ہونے والے سلطان، مغل اور ابدالی حکمرانوں کا وادی

Read more

اہل علم اور صوفیا کے در پر

چودہواں حصہ بغداد کی سجری سویر دریچے سے لگ کر صبح کے مناظر دیکھے۔ تسبیح اور دعائیں کیں۔ نسیم نے کمرے میں رکھے چائے کے سامان سے چائے بنائی۔ خود پی اور مجھے پکڑائی۔ چائے پیتے ہوئے میں باہر کے نظارے کرتی رہی۔ ہو ٹل کے لان اور روشیں چپ کی ردا اوڑھے ہوئی تھیں، جب کہ سڑکوں پر زندگی جاگ اٹھی اور گاڑیوں کی جلتی بجھتی روشنیاں اور آمدورفت اس کی مظہر تھیں۔ دس بجے ہم ناشتے کے لئے

Read more

داستانِ فلسفہ

فلسفہ کیا ہے؟ اِس سوال کا تاحال کوئی مُسلّمہ اور متفقہ جواب نہیں ملتا۔ نہ جانے فلسفہ کی شناخت کو کیوں معدوم کیا گیا اور اُسے پارہ پارہ کر کے مختلف شکلوں میں تقسیم کر دیا گیا؟ پھر فلسفہ پر ستم ڈھایا کہ اِس کی علمی حیثیت کا ہی انکار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ فلسفہ کا کوئی ثِقّہ مضمون ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ علم نہیں ہے۔ فلسفہ کے ایک معروف پروفیسر لکھتے ہیں کہ ”فلسفے

Read more

ایک اور ایک گیارہ: ایک اشتراکی معرکہ

مجھے یاد ہے بچپن سے لڑکپن تک ہمارا معمول یہ رہا کہ اِدھر گرمیوں کی چھٹیاں آغاز ہوتیں اور اُدھر ہم لائل پور یعنی فیصل آباد جانے کی تیاریوں میں مصروف ہو جاتے کیونکہ سکول بند ہونے سے ہفتوں پہلے ہی لائل پور سے نانا جان کی طرف سے دعوتی پوسٹ کارڈ موصول ہوجاتا تھا۔ دو ماہ وہاں کی کُھلی فضا میں گزارنے کے بعد لاہور کے قدیم علاقہ مزنگ کی گلیوں میں لوٹتے تو جانے کیوں وہ ہمیں پہلے

Read more

اقبال خورشید کا فن انٹرویو اور فکشن سے مکالمہ

”وہ بوڑھا ہو گیا تھا۔ چند دانت گر گئے۔ بہت سے بال سفید ہو گئے۔ مجھے وہ توقع سے زیادہ پراسرار اور تروتازہ محسوس ہوا۔ تو میں نے اسے دیکھا (گو میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا) ، اور اسے سنا، (گو پہلے بھی سن چکا تھا) ، اور اس آواز کو اتنا ہی جوان پایا، جتنی وہ پہلے تھی۔“ یہ کتاب محض مکالموں کا بیان نہیں، سپاٹ سوال و جواب کی تکرار نہیں، انٹرویو جب ہونے والی گفتگو

Read more

سائنس اور ٹیکنالوجی کا ماحول

سائنس کو عموماً مشکل مضمون سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک عام تاثر ہے کہ سائنس پر عبور صرف ذہین بچے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس غلط العام سوچ کو پھیلانے کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔ شور کوٹ کینٹ، آزاد پور سے ایک کرم فرما غلام حیدر کھمان نے گلہ کیا ہے کہ سائنس کے موضوع پر میرے کالمز ان کے سر کے اوپر سے گزر جاتے ہیں۔ حالانکہ موصوف پیشے کے اعتبار سے ماسٹر ڈگری ہولڈر لیکچرر ہیں۔ کسی

Read more

پیش گفتار

محمود الحسن سے میل جول کو اب دس برس تو ضرور ہو گئے ہوں گے۔ جوں جوں وہ قریب آ رہا ہے اور دل آویز ہوتا جا رہا ہے۔ اقبال کا مصرع: نوجوان و مثل پیراں پختہ کار اس کی شخصیت کی ایک اچھی تصویر بناتا ہے۔ اس کی دل بستگی بھی جوانوں سے زیادہ بوڑھوں کے ساتھ ہے۔ میں نے کئی بار اس سے کہا ہے کہ محمود! تمھاری دوستی ساٹھ برس سے کم کے آدمی سے نہیں ہو

Read more

تارڑ کے خس و خاشاک زمانے اور سفیر اعوان

دیکھا گیا ہے کہ وہ لکھنے والے جو عوامی سطح پر مقبول ہو جاتے ہیں ان کے فن کی بارے میں سنجیدہ تنقیدی مکالمہ رک سا جاتا ہے۔ جو تسلیم کیا جا چکا اس پر تنقید کی کیا ضرورت ؛ بات ”بلے بلے“ سے آگے نہیں بڑھتی۔ ہم نے ایسا منٹو کے ساتھ ہوتے دیکھا تھا اور اب مستنصر حسین تارڑ کے باب میں دیکھ رہے ہیں۔ منٹو مقبول تھا اور یہی کافی سمجھا جاتا رہا۔ فن سے زیادہ شخصی

Read more

یونانی ڈرامہ میڈیا: ایک جائزہ

”میڈیا“ ایک المیہ ڈرامہ ہے جسے قدیم یونانی ڈرامہ نگار یورپیڈیز نے لکھا ہے۔ یورپیڈیز کے المیہ ڈراموں میں ”میڈیا“ ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ 431 بی سی میں پہلی دفعہ اسٹیج ہوا۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ایک طاقتور اور چال باز جادوگرنی میڈیا ہے، جو اپنا سب کچھ ہارنے کے بعد پھر نفرت کے سامنے جھک جاتی ہے۔ یہ ڈرامہ انتقام، دغا بازی، اور لامحدود محبت اور نفرت کے جذبات کی انتہا کے مضامین پر لکھا گیا

Read more

اداکارہ دیبا کے چلغوزے اور محفوظ صحافت

بہت وقت گزرا، اس بستی کے اک کوچے میں ابن انشا نام کا ایک دیوانہ رہا کرتا تھا۔عاشق ترا، رسوا ترا، شاعر ترا، انشا ترا۔ رواں جنوری کی گیارہ تاریخ کو اس جاں دادہ ہوائے سر رہ گزار کو اس سفر پر نکلے 46 برس پورے ہو جائیں گے، جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ 15 جون 1927 کو جالندھر کی تحصیل پھلور میں پیدا ہونے والے شیر محمد خان کا آبائی تعلق راجستھان سے تھا۔ شمال مغربی ہندوستان کے

Read more

شاہ بھٹائی کے کلام سے ’پنجاب‘ اور ’لاہور‘ کا ذکر کیسے گم ہوا؟

سندھ کے سرتاج شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کے مجموعے ’شاہ جو رسالو‘ کی سندھی تاریخ اور سماج میں اہمیت اور اثر کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے سندھ میں عاشق اپنے محبوب کو اپنے پیار کا یقین دلانے اور منانے کے لئے شاہ بھٹائی یا ’شاہ جو رسالو‘ کی قسم اٹھاتا ہے تو اس قسم پر یقین کر لیا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ جب انور مقصود نے سندھی قوم کے بارے نازیبا الفاظ

Read more

شاعر بلوچستان، مبارک قاضی

محمود درویش کو کون نہیں جانتا ( معروف عربی ادیب، ماہر لسانیات اور شاعر ) ۔ اور ریٹا نامی ایک لڑکی سے بے حد محبت کی تھی۔ لیکن اس نے اپنے وطن کی محبت میں، اس لڑکی کی محبت کو ٹھکرانے کا فیصلہ کر لیا۔ تو ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں درویش سے اسے چھوڑنے کی وجہ پوچھی گئی، تو اس نے کہا: ”میں اس لڑکی سے کیسے محبت کر سکتا ہوں، جو نابلس اور القدس میں میرے ملک کی

Read more

جو ’اہل دل‘ ہیں، مختلف ہیں ’اہل ظاہر‘ سے

یقیناً آپ کو بھی کبھی نہ کبھی اس ’سفاک‘ ، ’بے رحم‘ اور کسی حد تک ’حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر کا سامنا کرنا پڑا ہو گا جس میں اکثر کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں شخص اپنے علم یا صلاحیتوں کے باوجود زندگی میں‘ ناکام ’ہے تو یہ صرف اس کی اپنی خطا ہے۔ یہ خیال بھی پیش کیا جاتا ہے کہ اگر اس نے اپنی صلاحیتوں کو ‘ صحیح ’سمت کی طرف موڑا ہوتا، تو اس کے معاشی حالات

Read more

کیا فقط مذہب اخلاقی حِس بیدار کرتا ہے؟ مکمل کالم

فرض کریں کسی ریستوران میں چار احباب بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے ہیں۔ پہلا دوست بھنے ہوئے گوشت کا مزہ لے رہا ہے، دوسرا سبزی خور ہے سو وہ پالک پنیر سے کام چلا رہا ہے، تیسرے نے سگریٹ سلگایا ہوا ہے اور وہ شراب کے ساتھ تلی ہوئی مچھلی کھا رہا ہے جبکہ چوتھا سگریٹ کو نفرت سے دیکھ رہا ہے مگر شراب اُس نے سب سے زیادہ چڑھا رکھی ہے۔ اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اِن

Read more

سرتاج عزیز تحریک پاکستان کے کارکن، ’وہ سیاستدان نہیں تھے مگر سیاستدانوں کو ان کی طرح کا ہونا چاہیے‘

سرتاج عزیز یہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کسی عسکری قوت کے نتیجے میں نہیں بلکہ جمہوری جدوجہد اور ووٹ کے ذریعے بنا مگر پھر یہاں جمہوری عمل اور ووٹ کا تسلسل 75 برسوں تک نہ دیکھ سکے۔ وہ جدید معاشی اصلاحات کے بانی تھے مگر بدقسمتی سے ملک میں جمہوری تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے وژن پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔

Read more

کیا ’سچ‘ اخلاقی بندشوں سے ماورا ہوتا ہے؟

کسی بھی تصور مسئلے یا قضیے کا تجزیہ کیے بغیر اسے سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انسانی عقل تجزیہ اور ترکیب کے عمل سے گزرے بغیر حقیقی ادراک حاصل نہیں کر سکتی۔ تجزیہ کو ہم یہاں خاص معنوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ تجزیہ کا لغوی مطلب ہوتا ہے چیزوں کو ان کے اجزائے ترکیبی میں بانٹ کر دیکھنا۔ ہر جزو کو بغور دیکھنا۔ چیز کو ہر دو زاویوں سے پرکھا جائے گا، جزوی اور کلی۔ سچ کیا ہوتا ہے؟

Read more

نواب اکبر خان بگٹی: سیاست اور شخصیت

کل تک وہ غدار ملک آج اس کی تصویر پاکستان سیکرٹریٹ میں؟ کل تک وہ غدار ملک آج اس کے نام کی ریل گاڑی چلتی ہے؟ کل تک وہ غدار ملک آج اس کے نام پر کرکٹ سٹیڈیم؟ کل تک وہ غدار ملک آج اس کی یاد میں مختلف شاہراہ بنائے جا رہے ہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ آج سے چند سال پہلے تک میں بھی اپنی کم علمی کی وجہ سے ان کو اتنا اچھا نہیں سمجھتا

Read more

بین المذاہب ہم آہنگی کیوں ضروری ہے؟

پچھلے ماہ مجھے ایک گروپ کے ساتھ لاہور کے کچھ مذہبی اور تاریخی مقامات دیکھنے کا موقع ملا۔ اس گروپ کی خوبصورتی یہ تھی کہ اس میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل تھے۔ فی الحال مختلف گروپ سے مراد مسیحی اور مسلم ہی لوگ تھے جس کو ارینج ہمارے علاقہ کی ایک مشہور سماجی تنظیم ایوارڈ کے ایک پروگرام ”اڑان“ نے کیا تھا۔ گروپ میں زیادہ تعداد نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تھی جن کی عمریں کوئی لگ بھک سولہ سے

Read more

نیا سال اور ہماری ترجیحات

حسین تاج رضوی نے کہا تھا ڈھلی جو شام نظر سے اتر گیا سورج سورج غروب ہونے کا منظر مجھے ہمیشہ سے بہت پسند رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا میں دو منظر میرے پسندیدہ ترین مناظر ہیں۔ ایک، نیلگوں سمندر کے کنارے بیٹھ کر سورج کو غروب ہوتے دیکھنا اور دوسرا کسی بلند پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھ کر سورج کو ڈوبتے دیکھنا۔ پچھلے چند سالوں سے میرا یہ معمول رہا ہے کہ میں بطور خاص سال

Read more

نئے سال کا استقبال

آغا حسن عابدی ایک ذہین اور دور اندیش بینکر تھے۔ 1972 ء میں انہوں نے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل یعنی بی سی سی آئی کی بنیاد رکھی۔ اس بینک کی رجسٹریشن لگسمبرک میں ہوئی اور اس کا ہیڈ آفس برطانوی دارالحکومت لندن کے علاوہ کراچی میں بھی قائم کیا گیا۔ اپنے قیام کے دس برس میں ہی بی سی سی آئی نے دنیا کے 78 ممالک میں اپنی برانچز بنا لیں اور اس کے اثاثے 20 بلین ڈالرز

Read more

دو ہزار چوبیس کے انتخابات کا ”لاڈلا“

قدیم اساتذہ میں سے کسی ماہر انشاء پرداز نے ایک شاہکار نثر پارہ تخلیق کیا۔ وہ تھا درجنوں مضامین کا ایک مضمون۔ یہ مضمون خاص طور پر کمزور طالب علموں کو املا کرا دیا جاتا تھا۔ معمولی سے رد و بدل کے بعد اسے سوالیہ پرچہ کے مطابق ڈھال کر ممتحن کے حضور پیش کر دیا جاتا۔ یہ انگریزی میں بھی ترجمہ ہوا۔ یہ ابھی بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے اور اکثر طلبہ کے لیے کسی نعمت عظمیٰ سے کم

Read more

”بھیگتی آنکھ کا دکھ“ از ڈاکٹر عائشہ ظفر:چند تاثرات

ڈاکٹر عائشہ ظفر معاصر اردو شاعری بالخصوص اردو غزل میں ایک اہم اور خوشگوار اضافہ ہے۔ ان کا اولین شعری مجموعہ ”بھیگتی آنکھ کا دکھ“ حال ہی میں شائع ہوا۔ ان کی شعری کائنات میں حیران کن حد تک تازہ کاری نظر آتی ہے۔ وہ اپنی قوت متخیلہ جو شعری دنیا تخلیق کرتی ہیں وہ رومانویت کے خوش رنگ پھولوں اور خوشبوؤں میں بسی ہے۔ عائشہ ظفر جواں جذبات، سریلے نغمات اور نازک خیالات کی شاعرہ ہیں۔ ان کی شاعری

Read more

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

اگر آپ کسی ایسے ہوائی جہاز میں سوار ہوں جس کا پائلٹ مے نوشی میں مبتلا ہو تو آپ کی کیفیت کیا ہوگی؟ ظاہر ہے آپ سمیت جہاز میں سوار عملے اور مسافروں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ اسی طرح آپ کی ہارٹ سرجری ایک خمار آلود ’ہارٹ سرجن‘ کر رہا ہو تو اس صورت میں بھی آپ کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہو گا۔ یہی مثال شراب کے خمار میں مبتلا ہو کر خود اپنی

Read more

کیا نیو ائر نائٹ منانے والے مسلمان لعنتی اور اور گمراہ ہیں؟

ہم قادر مطلق کی چونکہ چنیدہ اور محبوب ترین مخلوق ہیں، اسی منفرد و خاص استحقاق کی وجہ سے ہمارے اپنے کوڈ آف ورلڈ یا لونگ ہیں جن کی پیروی کرنا دنیا کے تمام انسانوں پر لازم ہے، بھلے ان کا تعلق جس مرضی فلسفے یا فکر سے ہو کوئی فرق نہیں پڑتا، بس ہماری پیروی لازم ہے اور جو بھی رو گردانی کرے گا یا اختلاف کرنے کی جرات کرے گا وہ لعنتی، گمراہ، جہنمی، زندیق، سنکی، الحادی یا

Read more

احمد سلیم، مارکسی دانشور اور بے باک انقلابی

ہماری دھرتی کے ایک انتہائی قابل قدر شاعر، محقق، مفکر، آرکائیوسٹ، ترقی پسند ادیب، مارکسی دانشور اور انسانی حقوق کے علم بردار ہمارے پیارے ساتھی، کامریڈ احمد سلیم اتوار 10 دسمبر کو سماجی استحصال سے پاک معاشرے کے سپنے بنتے اور ایک نئے سویرے کی امید جگاتے، اپنے جگر کے عارضے سے ہار کر ہم سے جدا ہو گئے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی ملک کے مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، کسانوں، مزدوروں، عورتوں، مذہبی اقلیتوں اور غیر منصفانہ

Read more

طارق بلوچ صحرائی کی کتاب ”کتبے سے تراشی زندگی“ تعارفی مطالعہ

معاصر کہانی کاروں میں ایک اہم نام طارق بلوچ صحرائی کا ہے۔ صحرائی سے میری پہلی شناسائی ماریہ عروج کے سٹیٹس دیکھنے سے ہوئی جب وہ طارق بلوچ صحرائی کی مختلف کہانیوں سے چھوٹے چھوٹے اقتباسات کو اپنے واٹس ایپ کی زینت بناتی تھی۔ ماریہ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی، فیصل آباد میں کیمسٹری کی سٹوڈنٹ تھی۔ سائنس کے مضامین اپنی جگہ لیکن لٹریچر سے بہت لگاوٴ رکھتی تھی۔ محترمہ کے سٹیٹس پر صحرائی کی تحریریں دیکھ دیکھ کے میری پیاس

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023ء : مقامی زبان و ادب کے مشاہیر (حصہ اول)

سرائیکی زبان و ادب کے اجلاس کی روداد اس اجلاس کی روداد لکھنے میں زیادہ وقت لگنے کی وجہ ہمارے خیال کی کروٹ ہے کہ اگر کشید فکر نہیں تو بھی اردو دان طبقے کو سرائیکی مشاہیر سے متعارف کرانے کے لیے ان کا جو تعارف پیش کیا جا رہا ہے وہی قلم بند کروں کہ شاید کوئی ان کے تفکر کا جویا پیدا ہو کہ ابھی چند دن قبل کہیں پڑھا تھا کہ باہر کی کسی جامعہ میں ایک

Read more

تھیوڈور ہرزل اور یہودی ریاست کا خواب

تھیوڈور ہرزل وہ پہلے یہودی تھے جنہوں نے یہودی ریاست کا خواب دیکھا تھا اور صیہونی تحریک کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ جب ہم تھیوڈور ہرزل کی سوانح عمری کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ بداپست میں دو مئی اٹھارہ سو ساٹھ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان مذہبی تھا لیکن مذہب کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ انہیں جرمن ادب بھی پڑھاتی تھیں۔ ہرزل کو خود بھی سکول کے زمانے میں

Read more

تاریخ عالم کے نرالے اور دلچسپ واقعات

انقلاب روس کے محض ایک سال بعد لینن کو قتل کرنے کی کوشش 1918 میں کی گئی۔ ملک میں اس وقت سول وار سے دوچار تھا۔ ہوا یہ کہ وہ ماسکو میں ایک فیکٹری میں تقریر کرنے کے بعد جا رہا تھا کہ ایک عورت فانیا کاپلان Kaplan جو فوڈ شارٹیجز کی شکایت کر رہی تھی اس نے لینن پر تین گولیاں فائر کر دیں جو اس کی گردن، کندھے اور سینے پر لگیں مگر خوش قسمتی سے وہ پھر

Read more

یہ افسانہ نہیں، بکواس ہے!

گیریژن ہال میں سامعین کو معروف افسانہ نگار میرن صاحب کے اسٹیج پر آنے اور ان کا افسانہ ”زندگی“ ان کی زبانی سننے کا شدید انتظار تھا۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہو گئیں اور میرن صاحب بڑی شان و شوکت سے اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ میرن صاحب کو پہلے زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اور پھر انھوں نے اپنا افسانہ سنانا شروع کیا۔ ”جیونی کے جنگل میں شیر نے ہرنوں کے ریوڑ کا تعاقب کیا۔ ریوڑ بھاگنے لگا۔ شیر

Read more

’پی ایچ ڈی سبزی والا‘: ’میرے بچے جب مجھے سبزی کی ٹوکری اٹھائے دیکھتے ہیں تو دباؤ محسوس کرتا ہوں‘

انڈین پنجاب سے تعلق رکھنے والے سندیپ سنگھ نے سکالر شپ کے ساتھ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی اور کچھ عرصے تک ایک سرکاری یونیورسٹی میں گیسٹ لکچرر کے طور پر پڑھاتے رہے، لیکن اب وہ سڑک کے کنارے سبزیاں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

Read more

آبادیاتی ادب (مزاح)

نو آبادیاتی ادب کی اصطلاح سے اہل ادب یقیناً آگاہ ہیں۔ مگر ہم یہاں آبادیاتی ادب متعارف کروانے چلے ہیں۔ بڑھتی آبادی اور اس کے مسائل کو ہر دور میں شعراء اور ادباء نے اپنے اپنے انداز میں ادب کا حصہ بنایا۔ اب انکار نہیں کہ اپنے ہاں ادب کی جگہ بھی صرف بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اقبال نے اس مٹی کے نم ہونے کا مژدہ سنایا تھا پر اس قوم کے کارہائے نمایاں کو دیکھتے ہوئے دلاور فگار لکھتے

Read more

سلطان رشک اور گوجر خان

05 دسمبر 2023 ء دبستان راولپنڈی کے لئے غم و اندوہ کا دن تھا کہ اس روز وہ شخص دنیائے فانی سے رخصت ہوا جس نے کئی دہائیوں تک راولپنڈی کی ادبی فضا ء میں تلاطم برپا کیے رکھا، غالباً 2004۔ 05 کی بات ہے جب لیاقت روڈ پر گورڈن کالج کے سامنے اترائی میں پی ایم اے ہاؤس کے ساتھ ماہنامہ ”نیرنگ خیال“ کے دفتر میں سلطان رشک سے ملاقاتوں کا آغاز ہوا اور پھر کم ازکم پانچ سال

Read more

کراچی اور دلی کے دو اہلِ ہمت

غالب نے کہا۔ رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے بھرے ہیں جس قدر جام و سبو مے خانہ خالی ہے یہ ایک ایسی آفاقی سچائی ہے جو ہر وطن، شہر اور کوچہ پہ یکساں صادق آتی ہے۔ بر صغیر کی تہذیبی روایت میں ادب و فن کی ایک شناخت اور مقام ہے۔ مداحین کے شوق کی جلا کی خاطر بدلتے زمانوں کے ہم قدم ہو کر مختلف تقریبات وجود میں آتی رہیں اور پھر آنے والے ادوار

Read more

ہم ابھی رستے میں ہیں از حامد یزدانی: ایک جائزہ

اس طرح کم ہی ہوتا ہے کہ شاعری کی کتاب کو پڑھنے کے دوران ایسا محسوس ہو کہ جیسے اندر کی ذات کے دریچوں پر کوئی ہولے سے دستکیں دے رہا ہو۔ کچھ اس طرح کا احساس محترم حامد یزدانی کی کتاب ”ہم ابھی رستے میں ہیں“ کو پڑھتے ہوئے ہوا۔ حامد یزدانی کی نظمیں دھیرے سے وجود کو چھو جاتی ہیں۔ اپنے دھیمے پن کے ساتھ یہ نظمیں پڑھنے والے کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ ان نظموں

Read more

علامہ فضل حق خیر آبادی، الثورۃ الہندیہ اور جنگ آزادی

ہندوستان میں مغلوں کی تمکنت اور جلالت کے ٹمٹماتے چراغ ابھی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ جو اگرچہ زمانے کے دستبرد او ر تند و تیز ناموافق ہواؤں سے دور رکھے گئے تھے۔ تاہم ان کا گل ہو نا نوشتہ تقدیر ٹھہرا تھا۔ جا بجا انسانی سروں کے مینار بنا کر اور سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر ہند پر قبضہ کرنے والے ظہیرالدین بابر کے خانوادہ کے آخری تاجدار کی زمام اقتدا ر محض اپنے قلعہ کی چاردیواری

Read more

ڈیجیٹل دور میں روحانی سکون و اطمینان کی راہ

آج ہماری تعلیم کا سب سے بڑا مقصد محض حصول علم ہے۔ عہدوں، درجات اور نمبروں سے ڈگریوں کی طرف منتقلی، جس کے بعد مالی کامیابی اور آسائشوں کی طلب نے ہمیں متنوع نظاموں، ان کے مقرر کردہ نصاب اور امتحانی طریقہ کار کی پابندیوں میں قید کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے، یہ حصول اکثر ہماری زندگیوں کا واحد ہدف ہو کر رہ گیا ہے، جو ہمارے لیے کامیابی اور مقصد کا تعین کرتا ہے، جیسا کہ نام نہاد ’تعلیم

Read more

جناب وزیر اعظم! محمد علی جناح کا نام قائداعظم نہیں ہے

قائداعظم کے بارے میں ہمارے نگران وزیراعظم صاحب کی غلط فہمی تو دیکھئے۔ انہوں نے محمد علی جناح ؒ کا نام یا عرف، قائداعظم سمجھ لیا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ عرف، تخلص، کنیت، خطاب اور لقب میں کیا فرق ہوتا ہے؟ انہیں یقیناً یہ بھی علم نہیں کہ بابائے قوم اور قائداعظم میں سے لقب کون سا ہے اور خطاب کون سا ہے؟ اگر نہیں جانتے تو ان کے منصب کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں جاننا چاہیے۔

Read more

ازلی مسافر کا سفرنامہ یورپ

کہتے ہیں کہ مسافر کے تجربات مشاہدات واقعات خیالات جذبات احساسات اور اس پر گزری کیفیات اگر ایک مربوط تحریر کا روپ دھار لیں جن میں توازن اور حسن بیان بھی ہو تو ایک شاہکار سفرنامہ وجود میں آ جاتا ہے۔ پہلی جھلک یورپ کی ایسا ہی ایک شاہکار سفرنامہ ہے جو حسنین نازش کی تخلیقی استعداد اور مہارت کا اعلی نمونہ ہے۔ حسنین نازش محض ایک سیلانی ہی نہیں بلکہ ایک منفرد قلم کار بھی ہیں ان کے سفرنامے

Read more

غالب کی سالگرہ

27 دسمبر 1797 مرزا اسداللہ خان غالب کا یوم ولادت ہے اور 15 فروری 1869 کو وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے میری طرح آپ میں سے بہت سے ایسے دوست ہوں گے جن کا باقاعدہ شعر و ادب سے تعلق تو نہیں مگر میری طرح انھوں نے بھی اپنی زندگی میں کئی بار غالب سے ان کے اشعار اور نثر کے ذریعے زندگی کی نا انصافی ’سفاکی‘ کج ادائی ’بے وفائی‘ بے ڈھنگے پن وغیرہ وغیرہ کو سمجھنے

Read more

اگ رہا ہے در و دیوار پہ سبزہ غالب

سن 1911 میں ایک انگریزی اخبار میں مسوری میں رہنے والے ایک انگریز ڈاکٹر جے مارٹن نے A Neglected Grave یعنی ”ایک نظر انداز شدہ قبر“ کی سرخی سے شائع ہونے والے خط کے بعد غالب کے چاہنے والوں کی سوچ بدلی۔ قبر کو محفوظ کرنے کے لئے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ادارے بننے لگے۔ کئی ادارے بنے لیکن 1950 ء کے بعد جب مولانا ابوالکلام آزاد آ گئے اور انہوں نے اس وقت کے مرکزی سکریٹری ڈاکٹر شانتی

Read more

’مجھے انجینیئرنگ کی تعلیم اس لیے چھوڑنی پڑی کیونکہ میں روزانہ کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا‘

جہاں پیروں سے معذور طلبا کو بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں ریمپ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے وہیں یونیورسٹی میں بصارت سے محروم طلبا کو بریل سسٹم نہ ہونے کے باعث تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات ہیں۔

Read more

بالی وڈ فلم ”مست میں رہنے کا“ اور پاکستانی کلچر

پاکستان اور اس کا ہمسایہ ملک جو ایک ارب چالیس کروڑ کے قریب آبادی رکھتا ہے وہ دونوں اور جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک اس وقت ٹرانسفارمیشن آف کلچر کے بہت بڑے دور سے گزر رہے ہیں۔ لباس، لائف اسٹائل، رواج، کھانوں، زبان یہاں تک کے ادب و آداب کے طریقوں میں بھی بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔ ہالی وڈ کے بعد بالی وڈ ہی دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ہے جہاں اس وقت آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگ

Read more

دنیا کا معروف دانشور لیکن اپنے ہی گھر میں اجنبی

’تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے‘ کے سلسلے کی ساتویں قسط بر صغیر ہند کی بیسویں صدی نے اپنے مکینوں کو دو ایسی ’اقبال‘ نام کی شخصیات سے نوازا جنہوں نے اپنے اقبال کو معراج تک پہنچا دیا۔ ایک مشرق میں ہی رہتے ہوئے اپنی فکر اور شاعری کے ذریعے سے مسلمانوں کے لئے خودی اور عشق کا پیامبر بنے۔ دوسرے ’اقبال‘ مغرب میں رہتے ہوئے تدریس، سیاسی سر گرمیوں، تجزیہ نگاری، اور صحافت کے ذریعے سے بے خوف

Read more

بلوچ مائیں، شرباکوف اور میکسم گورکی

اقتدار کے اختیار اور فرد کی آزادی کی جدلیات سے معاشرے کی سمت متعین ہوتی ہے۔ مجھے ہم وطن بلوچ بھائی بہنوں پر اسلام آباد میں ٹوٹنے والی افتاد پر بات کرنا ہے۔ بیرون ملک زیر تعلیم کامنی مسعود ان بلوچ ماﺅں کے بارے میں بے چین ہو رہی ہے جو 20 دسمبر کی شام تربت سے 1965 کلومیٹر سفر کر کے اسلام آباد پہنچی تھیں۔ جوان اولاد کو یہ سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ سیاست، ریاست اور جرم کے

Read more

بلوچ مائیں، شرباکوف اور میکسم گورکی

اقتدار کے اختیار اور فرد کی آزادی کی جدلیات سے معاشرے کی سمت متعین ہوتی ہے۔ مجھے ہم وطن بلوچ بھائی بہنوں پر اسلام آباد میں ٹوٹنے والی افتاد پر بات کرنا ہے۔ بیرون ملک زیر تعلیم کامنی مسعود ان بلوچ ماﺅں کے بارے میں بے چین ہو رہی ہے جو 20 دسمبر کی شام تربت سے 1965 کلومیٹر سفر کر کے اسلام آباد پہنچی تھیں۔ جوان اولاد کو یہ سمجھانا مشکل ہوتا ہے کہ سیاست، ریاست اور جرم کے

Read more

شمس الرحمن فاروقی کی ناول نگاری

ایک ذرا مڑ کر اردو دنیا کی ان ساری شخصیات کو دیکھ آئیں جنھوں نے رواں زمانے کے صفحات پر ایک سے زیادہ جہتوں سے اپنے دستخط ثبت کیے اور محترم ٹھہریں توان سب سے الگ اور نمایاں مقام پر ایک شخصیت ملے گی؛ شمس الرحمٰن فاروقی۔ میں ہمیشہ سے ان کی غیر معمولی تنقیدی صلاحیتوں کا معترف رہا ہوں۔ مجھے موقع ملتا رہا ہے کہ ”شعر، غیر شعر اور نثر“ ، ”تفہیم غالب“ ، ”شعر شور انگیز“ اور ”اردو

Read more

مقبوضہ انسانوں کا کرسمس

بائبل کی روایت کے مطابق یسوع مسیح کی صلیب پر قربانی کے بعد ان کے ایک حواری فلپ نے پیغامِ مسیح پھیلانے کے لیے یروشلم سے غزہ کی جانب سفر کیا۔فلپ گلیلی میں شادی کی اس تقریب میں بھی شریک تھے جہاں یسوع مسیح نے پانی کو سرخ شراب میں بدلنے کا معجزہ دکھایا تھا۔فلپ نے غزہ کی بت پرست آبادی کو دائرہ مسیحیت میں داخل کیا۔ پانچویں صدی عیسوی میں فلپ کی وفات کے بعد ان کے مداحوں نے

Read more

دسمبر 24۔ مہاجر یوم ثقافت

پنجاب کے مشہور شہر سے دوست کی کال آئی کہنے لگا 24 دسمبر ہے ثقافت کا دن مبارک اور سنا کیا حال ہیں تیرے لئے سیدی جون کا شعر ہے ٰیہ سندھی اور مہاجر ہڈ حرام کیوں نہیں یہ بیچتے ترکاریاں شعر سنتے ہی میرے منہ سے بے اختیار گالی نکلنے لگی، بہت مشکل سے خود کو روکا لیکن میری آدھی بات پوری پہنچ چکی تھی۔ وہ چلایا مجھے کیوں کہہ رہا ہے صد فیصد مہاجر کا شعر ہے تجھے

Read more

بے مثال پاک ترک دوستی!

عمومی طور پر ملکوں کے باہمی تعلقات ان کی خارجہ پالیسی کے تابع ہوتے ہیں۔ بدلتے بین الاقوامی حالات کے تناظر میں خارجہ پالیسی میں تبدیلی کے اثرات ملکوں کے تعلقات پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پاکستان کے خارجہ تعلقات کی بنیاد بھی یہی اصول ہے۔ تاہم سعودی عرب، ترکی اور چین سے ہمارے تعلقات میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ان ممالک سے پاکستان کا پیار، محبت اور عقیدت کا گہرا رشتہ ہے۔ مسلم ممالک میں ہمیں سب سے زیادہ

Read more

تم جیو ہزاروں سال

چچا جان کا فون تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ”میں نے اپنی وصیت بہت پہلے لکھ دی تھی۔ اب میں نے اپنے کریا کرم کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھ دیا ہے۔“ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں آہستہ آہستہ بولتے ہوئے بتایا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ فون کے دوسرے سرے پر عادت سے مجبور وہ دھیرے دھیرے سے مسکرا بھی رہے ہوں گے۔ ”کریا کرم یعنی آپ آخری رسومات کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟“ میں

Read more

کیا آپ پاکستانی دانشور اقبال احمد کے سیاسی نظریات سے واقف ہیں؟

سوال: آپ اپنی زندگی میں جن دلچسپ اور معروف شخصیات سے ملے ہیں ان میں سے ایک الجیریا کے ماہر نفسیات فرانز فینن بھی تھے۔ فینن سے ملاقات کے بارے میں کچھ بتائیں۔ اقبال احمد : جب میری فرانز فینن سے ملاقات ہوئی تو وہ کچھ بیمار تھے۔ اس ملاقات کے چند ماہ بعد ان کی خون کے کینسر لیوکیمیا کی تشخیص ہوئی اور انہیں پتہ چلا کہ موت ان کا شدت سے انتظار کر رہی ہے۔ اسی لیے انہوں

Read more

بادشاہ ننگا ہے

گئے وقتوں کی بات ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ایک بڑے ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بدقسمتی سے یہ بادشاہ حکمرانی کے کسی طور طریقے سے واقف نہیں تھا۔ اس کا بادشاہت کے عہدے پر پہنچنا محض حادثاتی تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ اس ملک کا سابقہ بادشاہ لاولد اللہ کو پیارا ہو گیا۔ ملکی رواج کے مطابق ملک کے بڑوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آنے والی صبح جو شخص سب سے پہلے دارالحکومت میں داخل

Read more

جد دوست نہیں ہوندا: احمد سلیم کی یاد میں

احمد سلیم صاحب کے ساتھ میرا پہلا تعارف سارہ شگفتہ کے بارے میں ان کی ایک کتاب کے توسط سے اس وقت ہوا جب میں ابھی چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس کے بعد مجھ سمیت سندھ بھر میں ان کا سب سے معتبر ترین تعارف سندھ کی دھرتی، ادب، شاعری اور ثقافت کے ساتھ ان کی دلی وابستگی تھی، جس کی بنیاد سندھی زبان کے مہا کوی شیخ ایاز کے ساتھ ان کی دیرینہ دوستی تھی۔

Read more

بڑے شاعر و ادیب کنوارے کیوں مرے؟

مستنصر صاحب! بڑے شاعر و ادیب کنوارے یوں مرے۔ مستنصر حسین تارڑ اپنے کالم میں چند بڑی ہستیوں کے نام لے کر فرماتے ہیں کہ بڑے شاعر و ادیب کنوارے کیوں مر گئے۔ انہوں نے عمر بھر عورت کی قربت سے، ایک بیوی کی رفاقت سے کیوں گریز کیا۔ بھائی صاحب! شاعر اور ادیب یا کسی بھی نارمل مرد کا عورت کے بغیر رہنا اس کا اپنا انتخاب نہیں ہو سکتا۔ انہیں یقیناً لڑکی یا لڑکی کے ماں باپ نے

Read more

اور کرسمس سفید ہو نہ سکی

برف کی سفیدی سے ڈھکے صنوبر کے بلند بالا پیڑوں کی ایک قطار کے پہلو میں چمکتی سفید چراگاہ جس کے عین بیچ میں بھوری کھال پر ننھے ننھے سفید دھبوں پر اتراتے دو بڑے ہرن اور ان کا ایک بچہ نیم روشن جھیل میں اپنے عکس دیکھنے میں مگن ہیں۔ جھیل کا پانی جم کر شفاف آئینے کا روپ دھار چکا ہے۔ سارے میں جھٹپٹے کا عالم ہے۔ شام ڈھلنے کو ہے یا دن نکلنے کو بے تاب ہے؟

Read more

25 دسمبر کے حوالے سے اپنی بیٹی عائشہ عروج کے ساتھ ایک مکالمہ

”یہ دنیا کتنی حسیں اور خوبصورت لگے اگر دنیا کے سبھی لوگ اپنے اپنے مذہب، رنگ و نسل اور ذات پات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے تہوار مل بانٹ کے سیلیبریٹ کریں اور خوشیوں بھرے لمحات میں ان تمام نفرتوں، عداوتوں اور کدورتوں کو بالائے طاق رکھ چھوڑیں جو چند مفاد پرستوں نے اپنے اپنے مفاد کے لیے ہم انسانوں کے بیچ پیدا کی ہوئی ہیں۔ انسانیت کی معراج تو انسانوں کے درمیان مل بانٹ کے جینا ہے

Read more

اولاد پیدا کرنے سے انکار

کیا آپ نے کبھی کسی بوڑھے اور بیمار جانور کو ویرانے میں مرتے دیکھا ہے۔ اب تو ہر طرف انسانوں کا جنگل پھیل کر ویرانوں کو کھا گیا ہے لیکن ہمارے بچپن میں جب ملک کی آبادی سات کروڑ سے بھی کم تھی تو بہت سے ویرانے نظر آتے تھے۔ بہت سی چیلیں اور گنجی گردن والے مردار خور گدھ ٹیلوں پر بیٹھے مل جاتے تھے۔ چیل اور گدھ زندہ اور صحت مند جانور کا شکار نہیں کرتا بلکہ بیمار

Read more

مائیکسٹ ادیب

اب یہ جو بک بک آپ پڑھنے والے ہیں، آپ اس پر حسب منشا زیر، زبر پیش لگا لیں۔ تو آپ کو آگے پڑھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ یوں تو ادیبوں کی بے شمار قسمیں ہیں، لیکن ٹیکنالوجی کی افتاد کے بعد ادیب کی ایک اور قسم متعارف ہوئی ہے اور وہ ہے ”مائیکسٹ ادیب“ ۔ یہ آپ کو ہفتے میں چار مرتبہ اسٹیج کے اوپر ڈائس پر مائک کے سامنے منہ کھولے کھڑے نظر آئیں گے، یہ شاعر، ادیب

Read more

جب ملکہ ترنم نورجہاں نے فیض کی خاطر افسروں سے ٹکر لی

دسمبر 1954 ء کے ابتدائی ایام تھے۔ کچھ لوگ ملکہ ترنم میڈم نورجہاں کے پاس حاضر ہوئے اور کہا ”ہم قائد اعظم کے یوم پیدائش پر ایک چیریٹی شو کر رہے ہیں اور 6 لاکھ کی ٹکٹیں فروخت کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ آپ تشریف لائیں اور نغمہ سرا ہوں تو یہ ایک قومی خدمت ہوگی“ ملکہ ترنم نے حامی بھر لی۔ 25 دسمبر 1954 ء ویک اینڈ کا دن تھا، یعنی ہفتے کے شام۔ ملکہ ترنم نور جہاں وقت

Read more

میرا کالج آر ایم سی، میرا ملک ہے پاکستان

اختے، پختے لم ڈھینگ چپختے ٹھاہ، چپختے ٹھاہ۔ یہ تھا وہ نعرہ جو آر ایم سی، یعنی راولپنڈی میڈیکل کالج میں میرے اولین دنوں کی یاد ہے۔ یہ نعرہ جیسے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں بے ڈھنگے اور بے معنی الفاظ پر مشتمل تھا اور کالج کے کرکٹ میچوں میں مد مقابل کو حواس باختہ کر نے کے لئے لگایا جاتا تھا۔ بیٹھے بیٹھے، خاموشی سے میچ دیکھتے، یک بیک انتہائی بلند آواز میں اختے پختے کی آواز آتی، کان

Read more

اک حسین شب

چاک ادبی فورم کا نام ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے اب ایک بہت معتبر حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ چاک کی محفل مشاعرہ ہو یا شب موسیقی، افسانہ کانفرنس ہو یا افسانچے کی نشست، غرض کہ پروگرامز کی طویل فہرست ہے جن میں لوگ اپنی شرکت کے ذریعے نہ صرف اسے کام یاب بناتے ہیں بلکہ اپنی پسندیدگی کا بھرپور اظہار بھی کرتے ہیں۔ چاک ادبی فورم و ایونٹ مینجمنٹ کے ہر پروگرام کو لوگ پسند کرتے اور انتظار کرتے ہیں

Read more

ہیر کو ہیرو اور کیدو کو ’اسٹیبلشمنٹ‘ بنانے والے وارث شاہ جن کے کردار امر ہوگئے

ہیر سے متعلق کسی کو قطعی طور پر یہ تو معلوم نہیں ہے کہ وہ کوئی حقیقی کردار تھا یا نہیں مگر قصہ ہیر کا ایک جغرافیائی پہلو ہے جس میں یہ پنجاب کی مقامی ذاتوں اور ان کے درمیان کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

Read more

بڑے شاعر اور ادیب کنوارے کیوں مر گئے؟ (مستنصر حسین تارڑ کی ایک زندہ تحریر)

پنجابی صوفی شاعری میرے بدن اور روح میں ان پرتشدد زمانوں میں جب کہ بچوں، عورتوں اور معصوم لوگوں کو اور ہمارے جوانوں کو ہلاک کر کے ان کے سر کھمبوں پر آویزاں کرنے والوں کو شہید قرار دیا جاتا ہے۔ بے وجہ قتال اور اپنی دھرتی کے خلاف ”جہاد“ کرنے کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ صرف پنجاب کے صوفی شعراء کا کلام ہے جو مجھے ڈھارس دیتا ہے۔ کہ نہیں، بے شک یہ کشت ویراں ہے، اس میں

Read more

پروین شاکر کی برسی پر خصوصی تحریر

پروین شاکر کی حادثاتی موت کی نامکمل تحقیقات: 1994 کے آخری مہینے کی ایک دھندلی صبح پاکستان کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر سڑک کے ایک حادثے میں خالق حقیقی سے جا ملیں کہنے کو اس کے کروڑوں پرستار اور لاتعداد مخلص قریبی دوست تھے وہ اپنی موت کے وقت ڈائریکٹوریٹ آف انسپکشن اینڈ ٹریننگ کسٹمز اینڈ ایکسائز کے عہدے پر فائز تھی اس کی شاعری میں ایسا جادو ہے جو انتیس برس گزر جانے کے باوجود بھی سر چڑھ کر

Read more

ہومیو پیتھی کا ماضی، حال اور مستقبل

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہومیو پیتھی کے ماضی کو اس کے آغاز سے شروع کیا جائے۔ یہ 1790 ء کا واقعہ ہے کہ ایک ڈاکٹر آف میڈیسن نے قانون علاج بالمثل دریافت کیا۔ اگلے چھ سال وہ اس قانون پر مزید تحقیق کرتا رہا۔ اس وقت اس خطہ ارض پر ایک ہی ذات ہومیو پیتھی کا ڈاکٹر، فارماسسٹ اور مریض تھی۔ وہ جرمنی کے شہر لائپزک میں ڈاکٹر فیڈرک کرسچن سموئیل ہانیمین تھے۔ ماضی کا دور 1796 ء میں

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023ء : مقامی زبان و ادب کے مشاہیر (حصہ اول)

پنجابی اور سندھی زبان کے اجلاس کی کارروائی اس کانفرنس میں اتنے ہمہ جہتی موضوعات پر اجلاس ہوئے ہیں کہ کسی ایک تحریر میں ان کو سمونا ان موضوعات کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ اس نا انصافی کا گلہ کہیں کہیں مقررین نے بھی کیا۔ اس کانفرنس پر پہلی تحریر کا موضوع وہ اجلاس ہیں جو مقامی زبان و ادب سے اردو اور اردو دان طبقے کے پہلے سے قائم روابط کو مضبوط، مستحکم اور مستقل کرنے کی محبانہ حکمت

Read more

ھم جو احمد سلیم کو نہیں جانتے

ابھی ملک میں ثقافتی تبدیلی کی شروعات تھیں۔ یعنی فیض صاحب لوک ورثہ اور دیگر اداروں کے ساتھ وابستہ ہوئے تھے۔ احمد سلیم جسے بے تکلفی سے نہایت قریبی دوست خواجہ بھی کہتے تھے۔ وہ بہت پریقین محنتی اور اپنی ہٹ پر قائم رہنے والا شخص تھا۔ ہمارا ایک دوست اسے بے تکلفی سے ادب کا مستری بھی کہتا تھا۔ اخباروں رسالوں اور پرنٹ مارکیٹ کا یہ البیلا کا وبوائے کبھی کھانا کھلانے ہمیں ساتھ گھر بھی لے جاتا تھا۔

Read more

پی ٹی آئی کے ساتھ پنجابی محاورے والا "ہتھ”

انتخابی حرکیات کا دیرینہ اور سنجیدہ طالب علم ہوتے ہوئے میں کئی ہفتوں سے عاشقانِ عمران خان کو خبردار کئے چلے جارہا تھا کہ ”کھمبے کو بھی کھڑا کردیں گے تو …“والے مغالطے میں نہ رہیں۔ یہ بات سو فیصد درست کہ عمران حکومت کو اپریل 2022ء میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹانے کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں جو حکومت قائم ہوئی اس نے پاکستان کو دیوالیہ سے بچانے کے نام پر ہمارے عوام کی اکثریت کو

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا لندن

آغا حسن عابدی ایک ذہین اور دور اندیش بینکر تھے۔ 1972 ء میں انہوں نے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل یعنی بی سی سی آئی کی بنیاد رکھی۔ اس بینک کی رجسٹریشن لگسمبرک میں ہوئی اور اس کا ہیڈ آفس برطانوی دارالحکومت لندن کے علاوہ کراچی میں بھی قائم کیا گیا۔ اپنے قیام کے دس برس میں ہی بی سی سی آئی نے دنیا کے 78 ممالک میں اپنی برانچز بنا لیں اور اس کے اثاثے 20 بلین ڈالرز

Read more

کیا آپ کو نانی اور دادی بننے کا شوق ہے؟

مصنف: خالد سہیل / حامد یزدانی ۔ خالد سہیل کا خط محترمی و معظمی حامد یزدانی صاحب کووڈ کی وبا کے دوران ہماری گروپ میٹنگز زوم پر ہوتی تھیں لیکن جب سے کووڈ کی وبا ختم ہوئی ہے اب گروپ میٹنگز کلینک میں ہوتی ہیں۔ ان میٹنگز میں ہمارے مریض اپنے نفسیاتی ’ازدواجی اور خاندانی مسائل پر تبادلہ خیال کر کے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ آج کی میٹنگ میں ایک دلچسپ موضوع پر تبادلہ خیال ہوا۔ میں نے

Read more

ننگے پاؤں (2)

محبت کا مقناطیس مگر یہ تو پی ٹی وی سے منسلک ہونے سے بارہ برس پہلے کی بات ہے جب میں استاد امانت علی خاں اور استاد فتح علی خاں کے سحر سے آشنا ہوا۔ میں ان دنوں نیشنل کالج آف آرٹس میں آرکیٹکچر پڑھتا تھا۔ سالانہ ڈنر تھا اور حسین و جمیل استاد امانت علی خاں اور موٹی آنکھوں والے جادوگر استاد فتح علی خاں دلوں کو سروں کی میٹھی آنچ سے گرما رہے تھے۔ وہ رات میری بہترین

Read more

ایاز میلو اور جیل کی ڈائری

ابھی میں سولہویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے بعد کراچی ہی میں تھا کہ سندھی شاعرہ، ادیبہ اور ماہر تعلیم محترمہ سلمیٰ لغاری کی طرف سے ایک پیغام مل چکا تھا کہ مجھے ”ایاز میلو“ میں ضرور شرکت کرنی ہے۔ یہ سلمیٰ لغاری کوئی اور نہیں معروف ایکٹیوسٹ امر سندھو ہیں ؛ جی ایاز میلو کی مدارالمہام۔ محترمہ نورالہدیٰ شاہ نے بتایا تھا کہ سندھی عورت کی آگہی کے باب میں جتنا عملی کام امر سندھو اور ان کی

Read more

اب کی بار ساقی کس کے سامنے جام رکھے گا؟ – مکمل کالم

ہماری اردو شاعری کی روایت بہت دلچسپ ہے، اس میں مختلف کردار ہیں اور ہر کردار کا اپنا ایک پس منظر ہے، اسی پس منظر کی بدولت شاعر حضرات بعض اوقات ایک ہی شعر میں ایسا مضمون باندھ دیتے ہیں کہ جس کے لیے ورنہ انہیں علیحدہ سے افسانہ لکھنا پڑتا۔ آج کل ان کرداروں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ زباں بندی کے اس دور میں اب استعارات بھری شاعری ہی ذریعہ اظہار ہے، نہ جانے کس تحریر

Read more

ایک اسٹوڈنٹ جو ”اوبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر“ کا شکار ہے

مختلف ذہنی سطح کے طلباء و طالبات کا میرے پاس آنا جانا لگا رہتا ہے اور بطور استاد مجھے ان کے ذہنوں میں جھانکنے کا موقع میسر رہتا ہے۔ ایسے اسٹوڈنٹس بہت کم ہوتے ہیں جو ذرا ہٹ کے اور غیر روایتی انداز میں یا مختلف سوچتے ہیں۔ زیادہ تر تو لکیر کے فقیر ہی ہوتے ہیں اور اتنے گاؤدی یا غائب الدماغ ہوتے ہیں کہ جو کچھ بھی کتاب میں درج ہوتا ہے اسے حرف بہ حرف رٹ لیتے

Read more

مکھوٹا

ڈاکٹر نجیبہ عارف اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والی معتبر اور کثیر الجہت شخصیت کے طور پر شناخت رکھتی ہیں۔ آپ بطور افسانہ نگار، سفرنامہ نگار، مضمون نگار اور شاعرہ کے طور پہ مستحکم پہچان رکھتی ہیں۔ مکھوٹا کی اشاعت کے بعد آپ اردو ناول نگاروں کی صف میں شامل ہو گئی ہیں۔ ڈاکٹر نجیبہ عارف تین دہائیوں سے زائد عرصے سے درس و تدریس سے منسلک ہیں آپ اردو کی استاد ہیں اور کامیاب ماہر تعلیم ہیں۔

Read more

تفہیم اقبال، ولایت اور اقبال شناسی

یہ سوال ایک عرصہ سے میرے ذہن میں کلبلا رہا ہے۔ علامہ اقبال کو کیوں پڑھا جائے؟ علامہ اقبال کو پڑھنے کی جہاں سیکڑوں وجوہات ہیں، وہاں علامہ اقبال کو نہ پڑھنے کی بیسیوں وجوہات بھی موجود ہیں۔ علامہ اقبال کی شاعری کا ماخذ ”خودی“ بتایا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے شاعری کو ایک مخصوص صورتحال کے اظہار کے لیے بطور وسیلہ استعمال کیا تھا۔ جب یہ مقصد کب کا پورا ہو چکا تو علامہ اقبال کو اب کیوں پڑھا

Read more

خیام ہند حضرت ریاض خیر آبادی

قارئین آپ نے عمر خیام کا نام تو سن رکھا ہو گا وہ چاہے آپ کے لئے ماہر ریاضیات ’ماہر نجوم یا پھر شاعر کی حیثیت رکھتے ہوں ان کی پہچان ہر ایک کے لیے مختلف ضرور ہو سکتی ہے مگر اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ عمر خیام ایک نابغہ روزگار اور عظیم انسان تھے۔ ان کی پہچان بنیادی طور پر پاک و ہند میں ایک بادہ نوش شاعر کی ہے۔ ان کی شاعری آپ کو مے

Read more

مسلم اقوام متحدہ

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد سے ہی مسلمانوں کو دنیا نے اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔ 1920 سے 1950 تک کے تیس سال دنیا کی سیاست کی تبدیلی کے سال تھے۔ عظیم تر مسلم ریاستوں کو ان کے دشمنوں نے تقسیم کیا، تباہ کیا اور توڑ دیا گیا۔ نوآبادیاتی حکمرانوں نے مسلم ممالک کو چھوڑ تو دیا لیکن جغرافیہ اور جغرافیائی سیاست میں ضروری تبدیلیوں کے ساتھ۔ تبدیلیاں مقامی اقلیتوں کو حکومت تفویض کر کے اور عالمی سطح پر

Read more

غزہ: گونگوں، اندھوں اور بہروں کے نام

میں اپنی اس تحریر کو پیدائشی گونگوں، اندھوں اور بہروں کے نام کر رہا ہوں۔ میرے دل کے نہاں خانے میں ان کے لیے بڑی ہمدردی، نہایت ادب اور بڑے احترام کے جذبات موجود ہیں۔ اس تحریر کے اصل مخاطب وہ آنکھوں والے ہیں جو آنکھیں ہونے کے باوجود فلسطینوں پر ہونے والے ظلم کو دیکھ نہیں پا رہے۔ میرے مخاطب وہ اہل زبان ہیں جو زبان رکھنے کے باوجود بول نہیں سکتے، کچھ کہہ نہیں سکتے۔ میں ان سے

Read more

بچوں کا جاسوسی ادب۔ چند زاویے

جاسوسی ادب کو اہلِ نظر نے ہمیشہ نگاہِ کم سے دیکھا ہے اور اس وقت بھی ایک کم نظر ہی اس موضوع پر اظہارِ خیال کر رہا ہے۔ مصائب اور بھی ہیں پر جی کے جانے سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک بچپن کی تعریف اور حدود متعین نہیں ہوئیں، چناں چہ شیرخوار سے لے کر چالیس سالہ بزرگ تک بچہ سمجھ لیا جاتا ہے : چہل سالِ عمر عزیزت گزشت مزاجِ تو از حالِ طفلی

Read more

حامد سراج۔ گھنا پیڑ۔ سفر آخرت بخیر یاران چمن

کچھ لوگ اتنے بے ضرر اور شفاف ہوتے ہیں کہ آپ جب انھیں لکھنے بیٹھیں تو سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ان کی تصویر لفظوں میں کیسے اتاری جائے مگر جب وہ رتیں لوٹتی ہیں جو ان کو آپ سے جدا کر گئی تھیں تو رگ جاں پہ رکھے قرض آپ کو ستاتے ہیں کہ اس قرض کو اتار لیا جائے اس سے پہلے کہ نقارہ بج اٹھے۔ آج ایسا ہی قرض مجھے برسوں بعد اتارنا ہے اور اس

Read more

ریویو کتاب: “One and one make eleven "

کچھ دن قبل خالد سہیل نے ایک ملاقات میں اپنے زمبیل نما، مخصوص کالے رنگ کے بیگ پیک میں سے پہلے کی طرح ایک کتاب نکالی۔ کتاب کی چمک کو میرے سینسز نے فوراً جانچ لیا۔ کہ ایک نئی کتاب ہے۔ انہوں نے اس اچھے خاصے حجم والی نئی تخلیق کا ٹائٹل پیج اپنی طرف رکھتے ہوئے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا۔ اور میں ان کے کچھ بولنے سے پہلے بول پڑی۔ ایک اور کتاب؟ اور انہوں

Read more