آپ یونیورسٹیوں اور پروفیسروں کو انڈر ایسٹیمیٹ کرنا بند کر دیں

دنیا میں جو علمی اور عملی انقلاب آیا ہے۔ اس کی منصوبہ بندی، شیرازہ بندی اور عملی تکمیل دنیا کی یونیورسٹیوں میں ہوئی پھر تحقیق یا تبدیلی کو انڈسٹری کے حوالے کیا گیا تاکہ عوام اس سے مستفید ہو سکیں۔ معاشرتی زندگی سے لے کر طب، ٹیکنالوجی سے لے کر خلانوردی سب کچھ دنیا کی یونیورسٹیوں کے بدولت ممکن ہوسکا ہے۔ یہ سب وہ کام ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں لیکن کچھ ایسے کام بھی دنیا میں یونیورسٹیاں کرتی

Read more

ایک دوست کے نام خط

عزیز دوست! میں ایک طویل عرصے سے تمہیں خط لکھنا چاہ رہا تھا، لیکن کیا کروں، نہ میرے تخیل کی پرواز ایسی بلند تھی کہ تم تک آواز پہنچا سکتا نہ کوئی اور وسیلہ تھا کہ جس کے ذریعے کاغذ پہ لگی یہ سیاہی تمہارا روشن چہرہ دیکھ سکے۔ آج جب اچانک تمہاری شہادت کی خبر ملی تو گویا تمام رکاوٹیں برطرف ہو گئی ہیں اور اب تو یوں لگ رہا ہے کہ میں لکھ رہا ہوں اور تم اپنے

Read more

بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کو انضمام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور وہ کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں؟

سکیورٹی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ بلوچستان میں عسکریت پسند تنظیمیں اس وقت بھی بڑے چیلنج کے طور پر موجود ہیں اور اگر ان تنطیموں کا انضمام ہوتا ہے تو یہ بڑی پیش رفت ہو گی جو ان کی سیاسی و عسکری طاقت میں نمایاں اضافہ کرے گا اور پاکستان پر مزید دباؤ کا سبب بنے گا۔

Read more

معروف قصہ گو جاوید چودھری بھی پی، ایچ، ڈی ہو گئے

سرکاری اعزازات کی جتنی درگت ہمارے ہاں بنائی جاتی ہے شاید کہیں اور ایسا نہ ہو، قطع نظر اس بحث کے کہ سرکار جس شخصیت کو اعزاز کے لیے منتخب کرتی ہے وہ اس ”اونر“ کا مستحق بھی ہوتا ہے یا نہیں اس بات کا فیصلہ وقت اور سماج کرتا ہے ریاست نہیں۔ اعزاز مل جانے سے کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہو جاتا یہ تو محض کچھ بڑوں کا کھیل ہوتا ہے جو وہ وقتی مفاد کے لیے رچاتے ہیں۔

Read more

ڈھلتی عمر کی اداسی

حامد یزدانی خالد سہیل حامد یزدانی کا خط ! ڈیئر ڈاکٹر خالد سہیل صاحب امید کہ آپ بخیر ہوں گے۔ یوں تو آپ کی علم و تجربہ سے بالواسطہ اور بلا واسطہ مسلسل ہی استفادہ کرتا رہتا ہوں اور آپ کی شخصیت کی ہمہ جہتی کے بدولت یہ استفادہ کئی ایک شعبوں میں ہوتا ہے۔ ان شعبوں کا دائرہ کار شعر و ادب سے فکر و فلسفہ تک اور روزمرہ زندگی کے معاملات سے تاریخی، سماجی اور نفسیاتی موضوعات تک

Read more

ناول ”جین آئر“ کا تعارف و جائزہ

بین الاقوامی کلاسیکی ادب میں ایسے بے شمار ادیب موجود ہیں جو ابھی تک لوگوں کے دلوں میں گھر کیے ہوئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک شارلٹ برانٹے بھی ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں اور جن کے قلم نے ایسے متاثر کن کام کو تخلیق کیا ہے کہ جس کی وجہ سے وہ ابھی تک قارئین کے اعصاب پر چھائی ہوئی ہیں۔ ناول نگار و شاعرہ شارلٹ برانٹے ( 21 اپریل 1816۔ 31 مارچ 1855 ) وکٹورین دورحکومت میں یارک شائر شمالی انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ والد کا نام پیٹرک برانٹے تھا جو ایک پادری تھے اور والدہ کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ برانٹے سسٹرز تین بہنیں تھیں تینوں ہی لکھتی تھی اور شارلٹ برانٹے سب سے بڑی تھیں۔

’جین آئر‘ شارلٹ برانٹے کا ایسا شاہکار ناول ہے جس نے اسے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ شارلٹ برانٹے کی کہانیاں حقیقت نگاری پر مبنی ہیں جن کے ذریعے انیسویں صدی کے انگلستانی معاشرے کی زبردست عکاسی کی گئی ہے۔ شارلٹ برانٹے کا اسلوب سادہ اور دل چسپ ہے جو متاثرکن احساسات کا اظہاریہ ہے۔ وہ مضبوط کردار تخلیق کرتی ہے اور روزمرہ زندگی میں محبت، انصاف، جنسی تحمل اور دیگر معاشرتی مسائل کو موضوع بناتی ہے۔

Read more

پرندوں کی واپسی اور دھوپ کے ٹکڑے

جھوٹی سچی، الم ناک اور مضحکہ خیز خبروں کے ریلے میں ایک خوش کن خبر ایسی ہی ہے، جیسے لشکر غنیم کے سموں تلے تاراج کھیتی میں جہاں تہاں بچ رہنے والی گندم کی بالی۔ احمد مشتاق پاکستان تشریف لائے ہیں۔ اب اگر کسی بچہ شتر نے پوچھ لیا کہ احمد مشتاق کون ہیں؟ تو درویش جواب نہیں دے سکے گا۔ سوشل میڈیا، ٹی وی ٹاک شو اور سرکاری مدرسے کے احتسابی نصاب سے علم، مکالمہ، سیاست، تاریخ اور تہذیب

Read more

جب کتابوں کی جگہ ڈائنوسار آباد ہونگے

کسی دانشور نے کیا خوب کہا تھا کہ ”انسان نے روئے زمین سے اتنا خزانہ حاصل نہیں کیا ہے کہ جتنا اس نے اپنے دماغ میں غوطہ زن ہو کر دریافت کیا ہے۔ کتابیں انسانی دماغ میں ڈوب کر حاصل کیے گئے خزانے ہیں جن سے وہ لوگ بھی استفادہ کر سکتے ہیں جن کو سوچنے اور غوروخوض کرنے کا فن نہیں آتا ہے۔ کتابوں کی اس افادیت ہی کی وجہ سے دنیا بھر میں کتاب میلے لگتے ہیں۔ درحقیقت

Read more

ہیر کے قتل کی ایف آئی آر

البرٹ کامس کے بہ قول: فکشن وہ جھوٹ ہوتا ہے جس کے سہارے سچ بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ سچ بیان کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا ہی کیوں لیا جاتا ہے؟ اس کا جواب بہت سی جہات سے دیا جا سکتا ہے مگر ازمنہ حال میں قدیم نوآبادیات یا جدید نوآبادیات کے دائرے میں آنے والے معاشروں میں سچ کہنا قریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ اس عمل کو صرف فکشن اور خاص

Read more

ودرنگ ہائیٹس: نفرت اور انتقام کی داستان

انگریزی کلاسیکی ادب کی نامور ادیبہ ’ایملی جین برانٹے‘ شارلٹ برانٹے کی چھوٹی بہن تھیں۔ برانٹے سسٹرز میں اس کا نمبر دوسرا تھا جب کہ تیسرے نمبر پر این برانٹے تھیں۔ ایملی برانٹے وکٹورین دور حکومت میں یارک شائر شمالی انگلستان میں پیدا ہوئیں۔ ماں کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا جب کہ والد ایک پادری تھے جن کی آمدن سے گھر کا گزارہ بمشکل ہی ہوتا تھا۔ ایملی کا ناول ’ودرنگ ہائیٹس‘ پہلی بار 1847 میں ایلس بیل

Read more

سردیوں کی شام اور دوستوں کی محفل – مکمل کالم

گزشتہ شب لاہور میں سرما کی پہلی بارش ہوئی تو موسم انگڑائی لے کر تبدیل ہو گیا، فضا کی آلودگی کم ہو گئی، ہوا میں خنکی بڑھ گئی اور کچھ رومانویت کا احساس ہونے لگا۔ ایسے میں خیال آیا کہ یاروں کی محفل سجائی جائے۔ ویسے تو ہم یار دوست تقریباً ہر ہفتے ہی ملنے کا موقع نکال لیتے ہیں مگر سردیوں میں ان محفلوں کا لطف اور دورانیہ بڑھ جاتا ہے۔ ہم سب برادرم اجمل شاہ دین کے کالج

Read more

اقبال کے شاہین

آج ایک طویل عرصے بعد قلم کشائی کی جسارت کر رہا ہوں۔ اس کی وجہ شدت کے ساتھ ایک کمی کا محسوس ہونا ہے جو مثل ہے پانی کے اس اک قطرے کے جو آتش نمرود میں ایک پرندے کی جانب سے ڈالا گیا تھا۔ جس سے اس آگ پر تو شاید فرق بھی نہ پڑا ہو پر اس پرندے نے اپنا کام کیا۔ میری اب تک کی لکھی تحریروں سے بھی شاید معاشرے میں بدلاؤ تو دور کی بات،

Read more

مسلمان مادھو اور گھیسو

منشی پریم چند اچھے خاصے مسلمان صفت انسان تھے۔ انہوں نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں انسان دوستی اور غربت کو کمال مہارت سے پیش کیا ہے۔ ان کا شہرہ آفاق افسانہ ”کفن“ اردو ادب کے بیشتر قارئین نے پڑھ رکھا ہے۔ افسانہ کفن ایک باپ بیٹے کی کہانی ہے جو غربت زدہ بے حس معاشرے کے عکاس ہیں۔ بیٹے کی بیوی بچہ جنتے ہوئے مر جاتی ہے۔ اور یہ باپ بیٹے اس کے کفن و انتیاساتی کے لیے شہر

Read more

تو مرا ’ڈاکٹر‘ بگو

مائیکل کنتات جب سارتر سے احساس جرم پر باتیں کر رہے تھے تو ایسے لگا کہ جیسے وہ سارتر کو چھیڑ رہے ہوں، مگر اس پر سارتر کا جواب بہت نپا تلا سا تھا۔ وہ بتانے لگے کہ Ecole میں جب وہ ٹیوشن دینے لگے تو پڑھانے کے بدلے میں جو معاوضہ ملتا وہ ویٹروں میں تقسیم کر دیتے۔ کیوں کہ ان کا موقف تھا کہ انھیں پڑھانے میں مسرت حاصل ہوتی تھی، اس کے بعد معاوضہ بے معنی ہو

Read more

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

آج شاعر مشرق کے جنم دن پر حسب روایت ملک بھر میں بڑی عقیدت و احترام اور اہتمام و انصرام کے ساتھ چھٹی منائی گئی۔ چھٹی کا دن معمولات زندگی سے فرصت اور فراغت کا دن ہوتا ہے اس لیے ہمارے ہاں اکثریت آرام کرتی ہے جب کہ اقلیت تفریح طبع کا اہتمام کرتی ہے۔ قوم مصور پاکستان کے ارشاد گرامی کے برعکس ایسے دن جہاد زندگانی میں اپنی دو شمشیروں ؛ جہد مسلسل اور عمل پیہم کو نیام میں

Read more

اقبال پر لکھی گئی ایک کتاب کا تعارف

ان دنوں مجھے اقبال سے عشق ہو رہا ہے۔ اقبال مجھے سمجھ آنے لگا ہے۔ مجھے اقبال کو پڑھنے میں مزہ آ رہا ہے۔ تصور اقبال کو سمجھنے کی حسرت بڑھ رہی ہے اور دل اقبال سے متعلق ہر کتاب کو پڑھنے کے لئے بے تاب ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ جو بھی ہو، اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کسی بھی عظیم شخصیت سے متعلق آپ کی معلومات جتنی زیادہ ہوں

Read more

سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایک شاعر یا حکیم الامت

اقبال بے شک ایک بہت بڑے شاعر، ادیب اور مفکر تھے لیکن وہ ہر عیب سے پاک اور ایک ولی اللہ نہیں تھے۔ ان کی برطانیہ نوازی ان کی شاعری سے مکمل طور پر واضح ہے اور برطانوی حکومت کے اچھے خاصے وفاداروں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ایک بار بھی ہندوستان سے برطانوی سامراج کے نکلنے کی بات نہیں کی۔ جاوید اقبال اپنی کتاب میں کہتے ہیں :۔ ”جہاں تک اقبال صاحب کا انگریزی حکام کی

Read more

گندم کی بڑھتی ہوئی قیمت: پاکستانی عوام کی روٹی چھننے کا خطرہ

گندم انسانی زندگی کو بچانے کے لیے ایک بنیادی خوراک ہے۔ غریب آدمی گوشت نہیں کھا سکتا لیکن چائے کے ساتھ سوکھی روٹی تو کھا سکتا ہے، غریب کو دو وقت کی روٹی چاہیے تاکہ وہ بھوک سے مر نہ جائے۔ گندم گاؤں سے لے کر شہروں تک لاکھوں پاکستانیوں کی خوراک میں مرکزی مقام رکھتی ہے۔ یہ ایک بنیادی غذا کے طور پر ہماری خوراک میں شامل ہے جو شہری اور دیہی دونوں آبادیوں کے لوگوں کی غذائی ضرورت

Read more

علامہ اقبال کے افکار و نظریات اور ہم!

9 نومبر کو ہم نے علامہ اقبال کا یوم پیدائش منایا ہے۔ اپنے قومی مشاہیر کو یاد رکھنا اور ان سے جڑے دن منانا یقیناً ایک اچھی روایت ہے۔ دنیا بھر میں یہی رواج ہے۔ ہم اکثر یہ بات سنتے ہیں کہ بطور قوم ہم اپنے محسنوں اور قومی ہیرو کی بے قدری کرتے ہیں۔ سو نہایت غنیمت ہے کہ ہم شاعر مشرق علامہ اقبال کو کسی نہ کسی حوالے سے یاد رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات کی ان کی

Read more

اپنی باز نشستگی و خستگی پر

لو بھئی، ہوشیار باش، کہ آج ہم پوری طرح سٹھیا گئے ہیں۔ ڈاکٹر اجمل نے اپنے ایک مضمون میں ریٹائرمنٹ کا ترجمہ دوبارہ تھکاوٹ و خستگی کیا ہے۔ ہمارے ہاں سرکار انگلشیہ کے تتبع میں باز نشستگی و خستگی کی عمر ساٹھ برس ہے جسے عوامی محاورے میں ’سٹھیانا‘ بھی کہتے ہیں۔ لغت میں سٹھیانے کا مطلب لکھا ہے بڑھتی عمر کے سبب قویٰ مضمحل ہوجانا۔ غالب فرما گئے ہیں مضمحل ہو گئے قویٰ غالب اب عناصر میں اعتدال کہاں

Read more

سوویت یونین میں اقبال شناسی

علامہ اقبال نے اپنی دانش نورانی کی روشنی میں سوویت یونین کے قیام کا پر جوش خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی تھی کہ یہ اشتراکی انقلاب ”لا سلاطیں لا کلیسا لا الٰہ“ کے مراحل سے آگے بڑھتے ہوئے الا اللہ کی منزل پر آ پہنچے گا مگر افسوس صد افسوس کہ روسی اشتراکیت نفی کے مقام سے اثبات کی جانب رواں دواں نہ رہ سکی نتیجہ یہ کہ بالآخر مٹ کر رہ گئی۔ روس کا یہ اشتراکی انقلاب

Read more

علوی کا ورثہ اعوان

آج معروف کالم نگار (جن کے کالمز معروف ویب سائٹ ”ہم سب“ پر دیکھے ) ’مصنف محمود خان جو مانچسٹر میں قیام پذیر ہیں‘ کی ایک قابل ذکر کتاب The Heritage of Alvi Awan پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ یہ کتاب نسل نو کے لئے ایک بہترین سرمایہ سے کم نہیں ہے ’کتاب ہو یا تحریر وہ اپنے اسلوب سے زندہ رہتی ہے۔ تاریخ وہ ہے جو حقائق پر مبنی ہو۔ محمود خان کی کتاب میری رائے کے مطابق ان

Read more

سرائیکی وسیب اور سنگت کا دلبر: ارشاد امین

کاغذ قلم سامنے رکھے کافی دیر سے لکھنے کا ارادہ باندھتا ہوں لیکن جو لکھنا ہے، اسے شروع کہاں سے کروں۔ اس پہلی ملاقات سے جو عزیز جاں عزیز نیازی ایڈووکیٹ مرحوم کے چیمبر میں ہوئی تھی۔ لالہ عمر علی خان بلوچ کے سرائیکی ادب کے دفتر میں ہوئی ملاقات سے یا پھر سال 1985ء کے اس دن سے جب صفدر بلوچ نے لاہور میں مجھ پردیسی کے لئے اپنی لگی بندھی ملازمت یہ کہتے ہوئے چھوڑی ”شاہ میں استعفیٰ

Read more

کاش تم امام حسینؓ کا سر کاٹ کر نہ لاتے۔ مکمل کالم

اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے میں اِس بات پر غور کر رہا ہوں کہ اگر حماس نے یہ حملہ نہ کیا ہوتا تو کیا فلسطینی آج بھی ویسے ہی مر رہے ہوتے؟ کیا انہیں امن کی مہلت خرید کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام نہیں کرنا چاہیے تھا؟ کیا اپنے بچوں کو تعلیم دلوا کر اِس قابل نہیں بنانا چاہیے تھا کہ جس سے اُن کا مستقبل محفوظ ہوجاتا؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلسطینی

Read more

موقف کی تلاش

”موقف کی تلاش“ ڈاکٹر محمد خاور نوازش کی تازہ تصنیف ہے جو بہت عمدہ اور دیدہ زیب گیٹ اپ کے ساتھ عکس پبلیکیشنز، لاہور سے شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک وسیع مطالعہ رکھنے والے استاد، ایک محنتی محقق اور ایک صاحب رائے لکھاری ہیں۔ ”موقف کی تلاش“ سے قبل وہ ”مشاہیر ادب: خارزار سیاست میں“ ، ”ادب زندگی اور سیاست“ ، ”عطا الحق قاسمی کی تحریریں سیاسی و سماجی تناظر میں“ ، ”ارمغان روبینہ ترین“ ، ”اردو ہندی وحدت

Read more

الیکشن کی تاریخ اور تاریخ میں الیکشن

نوے روز میں انتخابات سے متعلق کیس کو نمٹاتے ہوئے سپریم کورٹ نے انتخابات کے لیے 8 فروری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ صدر مملکت اور الیکشن کمیشن کی اعلان کردہ تاریخ کو بلا تعطل انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔ تمام تر انتظامات مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول جاری کرے گا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکمنامے میں یہ بھی کہا کہ اگر میڈیا نے انتخابات سے متعلق

Read more

مسئلہ دل کا نہیں دماغ کا ہے

میں نے ایک روایتی اور مذہبی گھرانے میں آنکھ کھو لی۔ نانا اور نانی گاؤں کے ان اولین خوش نصیبوں میں سے تھے جنہوں نے حج کرنے کی سعادت حاصل کی۔ نانا ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھتے تھے، قصص الانبیاء اور تصوف پر بھی کتب کا مطالعہ کرتے اور پھر ہماری استعداد کے مطابق کبھی کبھی ہمیں بھی تعلیم کر دیا کرتے۔ اگر کہیں مذہبی محفل کا انعقاد ہوتا تو بڑے اہتمام کے ساتھ وہاں حاضری دینے جاتے۔ نانی نے

Read more

سندھ کی سیاسی انگڑائی۔۔۔

شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری میں گوندھی ہوئی سندھ دھرتی سراپا سحر ہے، یہاں قدم رکھیں تو یوں لگے جیسے آپ کسی خانقاہ کی روح میں اترتے چلے جا رہے ہیں، جیسے ایک تسکین بخش گہرائی ہو جس میں انسان اپنے تمام احساسات کے ساتھ چلا جا رہا ہو، صوفی ازم، نیشنل ازم اور وفاقیت کا حسین امتزاج لیے سندھ وسیع کائنات ہے، عاجزی یہاں کے مزاجوں کا خاصہ ہے، جو صدیوں سے موجود صوفی ازم سے مستعار ہے۔ یہاں

Read more

اسلام آباد لٹریچر فیسٹول ۔ عام آدمی کی بھی سنو

تین روزہ اسلام آباد لٹریچر فیسٹول منعقد ہوا جو عام لوگوں کے لئے قلمکاروں، ادیبوں، دانشوروں، فنکاروں، اساتذہ اور دیگر تخلیقی شعبہ ہائے علم و فن سے بالمشافہ ملنے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے۔ اسلام آباد ویسے بھی پاکستان اور مارگلہ کی پہاڑیوں کے بیچ ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں پہنچنے کے لئے بھی جیب میں کم از کم سمارٹ فون کا ہونا ضروری ہے تاکہ آن لائن سواری کا بندوبست ہو سکے۔ بعض اوقات واپسی کے لئے آن

Read more

سندھ کا سوشل میڈیا ’سٹار‘ ڈاکو ثنا اللہ شر، جس کی شاعری کی ویڈیوز مقبول ہوئیں

ثنا اللہ شر کو شاعری اور گلوکاری سے لگاؤ ہے۔ وہ پولیس کے خلاف شاعری کرتا جبکہ اس کے جواب میں پولیس اہلکار جوابی شاعری بھیجتے تھے اور یہ ویڈیوز بھی مقامی طور پر مقبول رہیں۔ ثنا اللہ شر کی شاعری مقامی گلوکاروں نے گائی بھی ہے۔

Read more

’یونیورسٹی میں منشیات پہنچ جاتی ہے مگر کتابیں لے جانے کی اجازت نہیں‘: تربت یونیورسٹی کی وائرل ویڈیو کی حقیقت کیا ہے؟

یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس میں بی ایس فورتھ سمسٹر کی طالبہ اور بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی انفارمیشن سیکریٹری نگرہ بلوچ نے بھی شکایت کی کہ یونیورسٹی میں عام کتابیں پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

Read more

” مقدس گناہ“ ایک تعارف

” صرف عورت ہی کیوں؟ وجاہت کے لہجے میں شعلہ سا لپک آیا، حرف دہائی دینے لگے۔ آبروریزی کی اذیت سے مرد بھی گزر سکتا ہے دیا۔ دردمندی اور محبت سے عاری ہر لمس تشدد آمیز ہے، چاہے مرد کے حصے میں آئے یا عورت کے۔ اس تشدد سے جسم ہی مجروح نہیں ہوتا، روح بھی گھائل ہوتی ہے اور دنیا کا سب سے سفاک عمل روح کی عصمت دری ہے“ نینا عادل بطور شاعرہ اپنی پہچان رکھتی ہیں، ان

Read more

ارشاد امین: تم نے بھی ابدی اڑان بھر لی

1986 تھا یا 1985 درست یاد نہیں البتہ کراچی میں ترقی پسند ادیبوں کی ایسوسی ایشن کی گولڈن جوبلی کی تقریب تھی جس میں شرکت کے لیے میں سرائیکی وسیب کے دانشوروں کے گروہ میں شامل تھا۔ میں ان دنوں کوٹ ادو میں میڈیکل پریکٹس کیا کرتا تھا۔ استاد فدا حسین گاڈی اور ان کے فرزند مشتاق گاڈی کے ہمراہ ملتان پہنچا تھا جہاں سے دوسرے دوستوں کے ہمراہ ہم کراچی جانے کے لیے ریل گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔

Read more

لاہور کا سقراط : ایک کتاب، ایک سفر

ستر کی دہائی میں جب میں لاہور کے قدیم علاقہ مزنگ کی ٹیڑھی میڑھی گلیوں اور بازاروں میں اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کے لیے سگریٹ کی خالی ڈبیاں اکٹھا کرنے میں مگن ہوتا تھا۔ مجھے کہاں پتہ تھا کہ ان دنوں اسی شہر کے دانش کدوں، چائے خانوں اور ترقی پسندی کے مراکز پر لاہور کے سقراط علم و دانش، بیداری اور شعور کی کرنیں بانٹنے میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے ہم نفسوں کو بامعنی

Read more

خود کشی، خواب اور محترم مولانا

دنیا میں بے شمار حادثاتی اموات ہوتی ہیں۔ ان میں ایک حادثاتی موت خود کشی بھی شامل ہے۔ بلاشبہ اس موت کے کئی اسباب ہوتے ہیں اور دنیا میں ہر خود کشی کے اسباب میں جہاں مختلف مسائل، وجوہات شامل ہیں وہاں سب سے اہم نا امیدی کی بنیاد پر پیدا ہونے والی کمزور قوت فیصلہ، منفی طرز فکر پر مبنی ہیں اور ان عوامل کی وجہ سے متاثرہ شخص اس بات پر یقین کرنا شروع کر دیتا ہے کہ

Read more

"بر بساط غالب” پر جگنو کی جھلملاہٹ

ہمارا عہد، عہد میر و غالب سے الگ ہے رازؔ سو اب جگنو کریں گے گفتگو خورشید کے فن پر لیجیے، ایک جگنو سورج کی آب و تاب پہ روشنی ڈالنے کو حاضر ہے۔ میرے اس جملۂ معترضہ کو ادب سے ہٹ کر کچھ نہ سمجھیے گا۔ یقیناً حالات حاضرہ کا یہی خلاصہ ہے۔ مگر انھیں کے مطابق رازؔ تم مرزا بھی ہو، سو، تم بھی کر کے دیکھ لو حضرت غالبؔ کے جیسی پیش دستی ایک دن تو پھر

Read more

بلونت سنگھ کا ناول: رات چور اور چاند

پنجاب کی دھرتی نے ایسے کئی نامور ادیب اور شعرا پیدا کیے ہیں کہ جنہوں نے ادب کی دنیا میں سخن فہمی کو جلا بخشی۔ انہیں میں سے ایک بلونت سنگھ ہیں جنہوں نے اردو ادب کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ وہ ایک بہترین ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈرامہ نویس ہیں۔ انہوں نے اپنے فکشن میں پنجاب کی دیہی زندگی کی ایسی بہترین عکاسی کی ہے کہ جیسے مصور کینوس پر کوئی ایسا شاہکار تخلیق کرے

Read more

یہ اشتہاری کالم نہیں ہے

دلی کے خواجہ حسن نظامی عمر میں علامہ اقبال سے دو چار برس ہی خورد تھے لیکن مزاج میں کئی نوری سال کا فاصلہ تھا۔ علمی زاویے سے دیکھنا ہو تو اقبال اور خواجہ حسن نظامی میں وہی فرق تھا جو پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ اور پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کے حصے میں آیا۔ حالیہ سیاسی تناظر میں سمجھنا ہو تو رضا ربانی اور راولپنڈی کے شیخ رشید کو آمنے سامنے بٹھا لیجیے۔ اقبال ایک فلسفی کا استغراق، صوفی کا

Read more

بیٹے سمیت موت کا ڈرامہ رچانے والی مصنفہ کا اعتراف جرم: ’کوئی مجھے سن نہیں رہا تھا‘

49 سالہ مصنفہ نے کہا ہے کہ وہ گھریلو تشدد سے بچنا چاہتی تھیں اور اسی لیے انھوں نے یہ ڈرامہ رچایا۔ تاہم ڈان والکر کو یہ ڈرامہ کافی مہنگا پڑا کیوں کہ پولیس نے بعد میں ان پر نو مقدمات درج کیے جن میں بیٹے کا اغوا، شناخت کا فراڈ اور جعلی پاسپورٹ بنوانے کا جرم شامل ہے۔

Read more

پوٹھوہاری کے فروغ میں گلوکاروں اور لوک فنکاروں کا کردار

پوٹھوہاری لوک گیت، سٹھنیاں اور لوریاں ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنے میں جہاں بزرگ مرد و خواتین کا بڑا ہاتھ ہے وہیں پر خطہ پوٹھوہار میں قیام پذیر لوک فنکاروں، بازی گروں، نٹ نٹنیوں، خواجہ سراؤں، ڈھولچیوں، شہنائی نوازوں (پوٹھوہاری زبان میں اس ساز کو تری، پنج گیہری تری یا ٹوٹا بھی کہتے ہیں ) اور سانگ (سوانگ) پارٹیوں کا تاریخی کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ان عوامی شخصیات نے اس فن کے ذریعے جہاں

Read more

2023 میں سیاحت کے لیے دنیا کے پانچ بہترین گاؤں کون سے ہیں؟

گذشتہ تین سال سے یو این ڈبلیو ٹی او نے دنیا بھر کے ان دیہات کو تسلیم کیا ہے جو ’دیہی علاقوں کی پرورش اور مناظر، ثقافتی تنوع، مقامی اقدار اور کھانا پکانے کی روایات کے تحفظ میں پیش پیش ہیں‘ اور اس نے 2023 کے لیے اپنی فہرست بھی جاری کی ہے۔

Read more

اردو بکس ورلڈ

اردو زبان سے سرمد خان کی محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کا گھر متحدہ عرب امارات میں ڈیرا دبئی کے علاقہ ریگا روڈ پر واقع ہے۔ پہلی بار ان کے گھر گیا تو ایسا لگا کہ شاید یہ انسانوں کی رہائش نہیں بلکہ کتابوں کے رہنے کی کوئی جگہ ہے۔ یہ تین بیڈ روم کا گھر ہے، سٹنگ روم ہے اور ڈائننگ حال بھی ہے، اور وہاں ہر جگہ پر تاریخ، مذہب، سیاست، ادب، شاعری، شخصیات و نظریات

Read more

الفریڈ نوبل اور نوبل انعام کی تاریخ

آج ایک ایسے انسان کے بارے اظہار خیال ہے جو نہایت کم عمری میں کامیابی کے سنگھاسن پر بیٹھا اور کامیابی کے زینے طے کرتا ہی چلا گیا۔ اس نے صرف ایک بات کو اپنے پلے باندھ لیا، محنت اور صرف محنت۔ وہ بچہ الفریڈ نوبل 21 اکتوبر 1833 ء کو سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں پیدا ہوا۔ وہ ایک سائنسدان (کیمیا گر) ، کامیاب کاروباری انسان، نئی سائنسی ایجادات کا موجد، انجینئر، مصنف اور فیلاتھراپنسٹ یعنی انسان دوست

Read more

اختر رضا سلیمی کے ناول ’جندر‘ پر ایک نظر

شاعر و فکشن نگار اختر رضا سلیمی اپنے معیاری کام کی وجہ سے اردو ادب میں خاصی شہرت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور سے ہے اور وہ 2006 سے اکادمی ادبیات پاکستان سے منسلک ہیں۔ ان کے دو ناول ”جاگے ہیں خواب میں“ 2015 اور ”جندر“ 2017 میں منظر عام پر آ کر مقبول ہوئے۔ ان کا تیسرا ناول ”لواخ“ حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے

Read more

بیلٹ اینڈ روڈ فورم پر سیمینار

لاہور: چین کے قونصل جنرل مسٹر ژاؤ شیرین نے کہا ہے کہ حال ہی میں ختم ہونے والے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم نے چین اور پاکستان کے درمیان اعلی معیار کے تعاون کو ایک نئی تحریک دی ہے، دونوں نے گوادر پورٹ کی تیز رفتار ترقی اور ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن پر اتفاق سمیت 20 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے جن میں بی آر آئی، انفراسٹرکچر، کان کنی، صنعت، سبز اور کم کاربن کی

Read more

آغا جان: لالی وڈ کے روایت شکن فلم ساز جنھوں نے سلطان راہی کے ہاتھ میں گنڈاسہ تھمایا

حسن عسکری نے ایک ایسے وقت میں بابرہ شریف سے ایک مُنتقِم دوشیزہ کا کردار ادا کروایا جب فلم کی ہیروئین نزاکت اور حسن و جمال کا پیکر تصور کی جاتی تھیں اور یہی کردار فلم کی کامیابی کی وجہ بنا۔ اِسی طرح فلم ’میلہ‘ میں انجمن کا کردار بھی اس بات کی گواہی ہے کہ آغا جان نے انجمن سے ’میلہ‘ کا کردار کروا کے ان کے اندر روایتی ہیروئن کے تاثر کو توڑ دیا۔

Read more

پارا چنار، شیعہ سنی فسادات اور نظریاتی ڈی کنسٹرکشن

میرا ایم فل کا تھیسس پری نائن الیون جہادی ڈسکورس اور پوسٹ نائن الیون دہشت گری کے ڈسکورس پر تھا۔ جو جہاد سے دہشت گری کی طرف ڈسکورس کی منتقلی کی بنیادی وجوہات کو تلاش کرنے کی اپنی سی کوشش پر مشتمل تھا۔ میں اپنے تھیسس کی تکمیل پر اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی اور شدت پسندی کو ، ریاستی و سماجی سطح پر رائج نظریات کی وسیع پیمانے پر ڈی

Read more

داغ دہلوی کی شاہکار شاعری

حضرت داغ دہلوی جسے نواب مرزا خان بھی کہا جاتا ہے، 19 ویں صدی کے مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں، پیار، محبت اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں پر گہری اور جذباتی سوالات اور فکر انگیز عکاسی کی خاصیت موجود ہے۔ داغ دہلوی کی شاعری کے نمایاں موضوعات اور خصوصیات میں سے ایک خاصیت ان کی بے مثال محبت ہے۔ وہ زخمی دل کے درد کو بڑی مہارت سے بیان کرتا ہے، محبوب کے اعمال اور

Read more

ملا اور دنیاوی معاملات پر اظہار رائے

افغانستان کی موجودہ حکومت کے ایک ذمہ دار فرد نے حال ہی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علم پاکستان سے افغانستان منتقل ہو چکا ہے۔ ان کی یہ بات صحیح ہے لیکن علم سے ان کا مطلب مذہبی علم ہے۔ ان کے نزدیک عصری تعلیم ایک پیشہ اور فن ہے، اور وہ اسے سیکھنا مباح سمجھتے ہیں لیکن ان کے علم میں اضافے کے لئے عرض کروں کہ عصری تعلیم صرف جائز نہیں بلکہ فرض

Read more

شاہد مسعود: گہر کیا ہے صدف کی داستاں ہے

کچھ روز ہوتے ہیں کہ شاہد مسعود کے بارے میں ایک پوسٹ پر میں نے لکھا تھا کہ شاہد مسعود ایک چھٹا ہوا بد معاش ہے جس نے اپنی ساری زندگی شرافت اور خاموشی میں بسر کر دی۔ میرے تبصرے پر وہ اب تک چپ ہے۔ میرا پہلا خیال یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ مجھے خود سے زیادہ چھٹا ہوا بدمعاش سمجھتا ہو اور اس نے جوابی حملے کی بجائے خاموشی کی بکل مارنے کو ترجیح دی ہو۔

Read more

آپ کے باغ میں پریاں اور ہماری بیری کے درخت میں جن

ضلع کرم پختونخوا کا بہت خوب صورت علاقہ ہے۔ اس سر سبز وادی کے قدرتی حسن نے اگرچہ سیاحوں کی طرف سے اپنے لئے جنت کا نام کمایا ہے۔ مگر میں اس کو اس لئے جنت کہوں گا، کہ حوروں کے متلاشی اکثر یہاں ملتے ہیں، جو اپنے اپنے قلعہ الموت میں آباد ہیں۔ اونچے درختوں کے نیچے ان کے شانوں پر لٹکتے ہوئے لمبے بال دیکھ کر مجھے عزیز مانیروال کا وہ شعر یاد آتا ہے کہ ” ستاسو

Read more

نواز شریف کا بیانیہ کیا ہے؟

ہمارا دور بیانیہ کا دور ہے۔ افراد، گروہ اور سیاسی جماعتوں کا اپنا اپنا بیانیہ ہے۔ ملک میں خواہ کتنی ہی بڑی سیاسی جماعت کیوں نہ ہو۔ اس کا با قاعدہ تحریری آئین و منشور بھی ہو۔ ہر سطح پر لیڈر شپ بھی موجود ہو، جو وقتاً فوقتاً پارٹی پروگرام اور منشور بیان کرتی رہی ہو۔ مگر پھر بھی اب لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ پارٹی کا بیانیہ کیا ہے؟ یہی بات سیاسی رہنماؤں پر بھی صادق آتی ہے۔

Read more

محنت میں عظمت۔ عوامی جمہوریہ چین کا آنکھوں دیکھا حال (4)

چین اور پاکستان کے لوگوں کا اگر میں تقابل کروں تو چین کے لوگ ہمارے مقابلے میں دھن کے زیادہ پکے اور پرعزم ہیں۔ ان کے ہاں ہماری طرح زبانوں کے خالصتاً علمی اور سماجی مسئلے کو لے کر سیاست نہیں ہوتی۔ گو کہ دنیا کے ہر مسئلے کے پیچھے ایک سیاست ہی کارفرما ہوتی ہے او ر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ پاکستان میں زبانوں کا مسئلہ علمی سے زیادہ سیاسی ہے۔ او ر سیاست بھی ہماری والی۔

Read more

’ٹی وی میزبان میری چھاتی کی جانب جُھک کر بات کرتے تو میں شائستگی سے مسکراتی‘: برٹنی سپیئرز کی یاداشتیں

امریکہ کی پوپ سنگر برٹنی سپیئرز سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ ’پہلے غربت، پھر شہرت، پھر اپنے ہی خاندان کے ہاتھوں‘ بُری طرح پھنس جانے والے شخص پر کیا گزرتی ہے۔ یہی سب کچھ شامل ہے برٹنی سپیئرز کی کتاب ’دی وویمن اِن می‘ میں جو منگل کے روز مارکیٹ میں آئی ہے۔

Read more

صحافی کا ضمیر اور حکم کی ملکہ

شاعر، ڈرامہ نگار اور ناول نویس الیگزینڈر پشکن کو روسی ادب میں وہی مقام حاصل ہے جو انگریزی ادب میں جیفری چاسر اور امریکی ادب میں والٹ وٹمین کو دیا جاتا ہے۔ ان تینوں ادیبوں نے موضوعات اور تکنیک میں جدید رجحانات متعارف کرا کے اپنے ادب کو اس کے مخصوص قومی خدوخال عطا کیے۔ الیگزینڈر پشکن نے صرف 38 برس کی عمر پائی لیکن آئندہ عشروں میں گوگول، لرمنتوف، ترگنیف، دوستوئیفسکی، ٹالسٹائی اور چیخوف نے پشکن ہی کی روشنی

Read more

افغانستان ہمارے گلے کی وہ ہڈی ہے جو نہ نگلی جائے نہ اگلی جائے

قیام پاکستان کے بعد افغانستان نے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کے باغیوں کو اپنے زمین پر پناہ دی، یوں پاکستان بنتے ہی اس کے خلاف سازشوں کا سلسلہ افغانستان سے شروع ہوا۔ پاکستان میں جو ریاستیں شامل ہوئیں یا جن کو شامل کیا گیا ان میں سے کچھ ریاستوں کے نواب جو پاکستان بننے کے حامی نہیں تھے وہ افغانستان چلے گئے۔ اور وہاں سے پاکستان کے خلاف مہم چلاتے رہے۔ مسلمان ممالک میں افغانستان وہ آخری

Read more

آغا شورش کاشمیری: ہمارے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہے

”میں چاہتا ہوں مرنے کے بعد وہ شخص مجھے غسل دے جس نے منبر و محراب کی عظمت کو داغدار نہ کیا ہو“ ۔ ”کوئی حکمران میری قبر پر فاتح نہ پڑھے۔“ ”جو کبھی انگریز فوج میں بھرتی ہو کر ملکہ معظمہ کی حکومت کے لئے نہ لڑا ہو“ ۔ ” جس کا اوڑھنا بچھونا صرف اسلام ہو۔“ ” مجھے وہ شخص کفن پہنائے جس کی غیرت نے کبھی کفن نہ پہنا ہو“ ۔ ” مجھے وہ اشخاص کندھا دیں

Read more

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

تاریخ کے قرطاس پہ، کئی محاذوں پہ، داستانیں رقم کرتے ہوئے مشاہیر کی مادر علمی، یکم جنوری 1864 کو منصہ شہود پر آئی، جسے گورنمنٹ کالج کے اسم سے نوازا گیا۔ ادارے کے آدرش، قواعد و ضوابط، اور تعلیمی و تنظیمی معاملات، ارتقائی مراحل سے سجل سے گزرتے، مرتب ہوئے۔ ڈیڑھ صدی سے زائد کے دورانیے میں، آزادی اور تقسیم کی لکیروں کے کھینچنے کے اثرات بھی عیاں ہیں۔ ادارے کا بنیادی نصب العین، courage to know عظمت کی بالا

Read more

کرشن چندر کی یادوں کے چنار

میرے جیسے نو آموز کے لیے کرشن چندر جیسے شہرہ آفاق ادیب کے لیے کچھ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے والی بات ہے لیکن میری نظر میں کرشن چندر اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ اور ناول نگار ہے۔ ان کے افسانے اور ناول جب جب پڑھیں ایک نئی لذت اور چاشنی ملتی ہے۔ ان کا ہماری ریاست جموں وکشمیر سے گہرا تعلق رہا ہے۔ ان کے والد شنکر چوپڑا مہاراجہ پونچھ کے طبی معالج رہ چکے ہیں۔ کرشن

Read more

اُردو افسانہ :بیان اور بیانیہ کی آمیزش

فن قصہ گوئی کے تشکیلی عناصر میں ”بیانیہ“ کو اولیت حاصل ہے۔ بیانیہ کے بغیر کسی قصے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر قصے کا بیانیہ عام بیان سے مختلف ہوا کرتا ہے۔ عام بیان میں صرف ترسیل کو مرکزیت حاصل رہتی ہے، جبکہ قصے کا بیانیہ، طریقہ اظہار پر مرتکز رہتا ہے۔ افسانہ یوں تو فن قصہ گوئی کی مکمل اکائی کا محض ایک جزو ہے لیکن وقت کے بہاؤ کے ساتھ اب افسانہ ایک خود مکتفی

Read more

علمی نثر کی روایت اور ڈاکٹر ناصر عباس نیئر

  تعلیم کی تحصیل کے بعد ملازمت کی فکر لاحق ہوتی ہے۔ پاکستان میں بنیادی تعلیم کی تحصیل ایک مسئلہ بن چکی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے تو رانجھے کی طرح بیس پچیس برس بھینسیں چرانا پڑتی ہیں۔ اس کٹھن مشقت کے باوصف ہیرمانتی ہے اور نہ ہیر کے گھر والے۔ بھینیں بھی مہنگی ہو گئی ہیں اور ہیر کے نخرے بھی پہلے کی نسبت بڑھ گئے ہیں۔ رانجھا میاں کیا کریں۔ پڑھنا بھی ہے اور ملازمت بھی وائٹ کالر والی

Read more

بوسنیا کی چشم دید کہانی

یو این کے دستور کے مطابق مشن میں چھ ماہ کا عرصہ مکمل ہونے پر ہر افسر ایک میڈل اور ایک سند کا حق دار ٹھہرتا تھا۔ اس مقصد کے لیے جو تقریب منعقد ہوتی تھی اسے سرکاری طور پر میڈل پریڈ کا نام دیا جا تا تھا۔ جب کہ یار لوگ اسے ”میڈل پہ ریڈ“ کہتے تھے۔ پاکستانی دستے کی میڈل پریڈ 25 اپریل 1997 کو سرائیوو میں ہونا طے پائی تھی۔ اس تقریب کے انتظام میں ہمارے پرانے

Read more

کبھی ہم بھی خوبصورت تھے: اندرون راولپنڈی اور گنگا جمنی تہذیب

تہذیب، تمدن، ادب، گنگا جمنی ماحول اور ایسے کئی الفاظ کا تعلق لاہور، دلی اور لکھنؤ سے تو بارہا جوڑا گیا مگر راولپنڈی کو ہمیشہ ادیب اور تاریخ دان ایک چھاؤنی کے طور پر ہی پرکھتے رہے۔ کسی قرۃ العین حیدر نے صرافہ بازار کے شیعہ کلچر اور محرم کے مہینوں کی پرسوز چہل پہل میں مختلف مذاہب کی ہم آہنگی کا ذکر نہیں کیا۔ کوئی انتظار حسین بنی اور کرتار پورہ کے مندروں کو دیو مالائی رنگ نہ دے

Read more

ہپی ٹریل: ’نشے کی تلاش میں‘ یورپ سے افغانستان، پاکستان اور انڈیا کا سفر کرنے والے آزاد منش باغی

یہ ستر کی دہائی ہے۔ انڈیا میں گھومتی چلم کے بیچ جھومتی زینت امان ’دم مارو دم‘ گاتی ہیں تو پاکستان میں ایک غار میں سگریٹ بردار شبنم کی پکار ’دم دما دم، پی کے ذرا دیکھو‘ ہے۔

Read more

تانیثیت اور اردو تانیثی ادب

تانیثی ادب سے مراد وہ ادب ہے جس میں خواتین کے سیاسی، معاشی، معاشرتی و دیگر جملہ حقوق کے متعلق اظہار خیال کیا گیا ہو۔ تانیثی ادب کا آغاز سب سے پہلے مغرب میں انقلاب فرانس اور صنعتی انقلاب کے آنے سے ہوا۔ اٹھارہویں صدی میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ 1790 میں ایڈمنڈ برک نے ایک کتاب A vindication of the right of men لکھی۔ جس کے جواب میں 1792 میں میری وول اسٹون کرافٹ نے A

Read more

ناول ”دشت سوس“ اور حسین بن منصور حلاج ”

لاہور رائٹرز بک کلب سے 1983 ء میں اشاعت پذیر ہونے والا ناول، ”دشت سوس“ جمیلہ ہاشمی کے ان ناولوں میں شمار ہوتا ہے جنھوں نے، اردو ناول نگاری کو موضوعاتی اور اسلوبی سطح پر خاص جہت عطا کی۔ اس کے علاوہ ان کے معروف ناولوں میں ”تلاش بہاراں“ جیسا ناول بھی شامل ہے جو 1961 ء میں منظر عام پر آیا تھا، جس میں انھوں نے ہندوستان میں، عورت پر ہونے والے جبر و استحصال کو پیش کیا ہے۔

Read more

حضرت شاہ دیوان: تدوین و تحقیق

حقیقت کی تلاش، چھان بین، کھوج اور دریافت تحقیق کہلاتی ہے جو غور و فکر کے ساتھ کسی حقیقت کو آشکار کرتی ہے، مگر یہ عمل انتہائی صبر آزما ہے جو سنجیدگی، لگن اور محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ تحقیق میں تدوین متن کی اپنی اہمیت ہے۔ یہ انتہائی مشکل اور محنت طلب کام ہے جو دیوانہ پن کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا بقول یوسف عزیز مگسی : فقط مرادیں بر نہیں آتی ان داناؤں سے ضرورت ہے کہ

Read more

نواز شریف، شیر سے کبوتر تک

میاں صاحب کو بتایا گیا ہوگا کہ فضا اگر آپ کے حق میں عارضی طور پر بدلی ہوئی لگ رہی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پچھلا زمانہ بھی جوں کا توں لوٹ آئے گا۔ وسعت اللہ خان کا کالم

Read more

ملک میں سائنٹفک انکوائری کا ماحول کیوں نہیں؟ (مکمل کالم)

بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے، اخبارات میں اس کی خبر بھی شائع ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر جرثومہ بھی بنا ہے مگر عام لوگوں کی توجہ نہیں حاصل کر پایا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ پشاور یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر شیر علی نے، جن کا تعلق بنوں سے ہے، پچھلے دنوں ایک مذاکرے میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ برقعہ یا عبایہ نہ تو پختون روایات کا حصہ ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کا ذکر ہے،

Read more

مطلع (ایک مکالمہ)

میرے استاد گرامی عارف وقار نے سرمد صہبائی کی اس تحریر پر ذیل کا تبصرہ کیا ہے۔ Being a Ghalib enthusiast, I have been in touch with this opening couplet of his Deevaan, since my school days. From the school master’s classroom notes to the university professor’s pedagogical explanations, and from Yousuf Saleem Chishti’s "Ghalib Made Easy” to Tabatabaee’s more scholarly commentary, I have seen almost everything said about "naqsh furyadi hai kiski…” but the truth is that nobody had

Read more

ہم نصابی سرگرمیوں میں نظم خوانی کے مقابلوں کا کردار

حبیب ایجوکیشن ٹرسٹ کے زیر انتظام ’حبیب گرلز اسکول‘ اپنی نوعیت کا منفرد اسکول ہے۔ اپنے قیام 19 اگست 1964 سے لے کر تاحال اس اسکول نے ہزاروں طالبات کو نرسری سے بارہویں جماعت تک معیاری تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت سے بھی فیض یاب کیا ہے۔ اسکول ہذا نے معاشرے میں خواتین کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں با اختیار بنانے اور جدید دنیا میں ترقی کی منازل طے کروانے کے لیے خود کو وقف کیا ہوا

Read more

راجہ گدھ کا تانیثی تناظر!

راجہ گدھ انیس سو اکیاسی میں چھپا اور چھپتے ہی مقبولیت کی سب سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر والی منزل پر جا پہنچا۔ ان دنوں ہم فرسٹ ائر پری میڈیکل سے دو دو ہاتھ کرنے میں اس طور مشغول تھے کہ راجہ گدھ کی ان بے شمار سیڑھیوں پر چڑھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ میڈیکل کالج کی تنگنائیوں سے مانوس ہونے تک ناول کا تیسرا ایڈیشن آ چکا تھا لیکن تب تک ہمیں بھی گہرے پانیوں میں مشاقی

Read more

مغرب میں اردو شاعری۔ تیسری اور آخری قسط

انسانی رشتوں کے رومانوی اور ازدواجی پہلوؤں کی گتھیاں سلجھانے کے بعد مشرقی مہاجروں کو جس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا وہ خاندانی زندگی کی روایت تھی۔ مشرق سے مغرب میں ہجرت کرنے والے مہاجروں کی اکثریت نے روایتی بڑے خاندانوں (Traditional Extended Families) میں پرورش پائی تھی جن کی اپنی مخصوص اقدار تھیں۔ جب انہیں مغرب کے چھوٹے اور غیر روایتی خاندانوں ( Single Parent/Nuclear) سے واسطہ پڑا تو ان کے خاندانوں کے بارے میں نظریات، خیالات اور توقعات

Read more

طوائف کا دوپٹہ کس نے چھینا؟

سن 72 میں ریلیز ہونے والی مشہور زمانہ فلم پاکیزہ کا شہرہ آفاق نغمہ ”انہی لوگوں نے لے لینا دوپٹہ میرا“ غلام محمد کی موسیقی میں سارنگی کی سنگت میں طبلے اور تالی کی تھاپ، لتا جی کی لوچ دار ادائیگی، مینا کماری کے باوقار رقص اور کمال امروہوی کے پرت در پرت سجائے ہوئے کوٹھے کے سیٹ جیسے حوالوں سے ہمیشہ میرا پسندیدہ گیت رہا ہے۔ البتہ مجروح کی شاعری اس گیت میں کبھی میری توجہ حاصل نہ کر

Read more

عرش کی مٹی میں گندھا ہوا فرش کا آدمی

کتاب اور تخلیقی انسان، خاص طور وہ انسان جو انسانیت اور انسانوں کی ہمدردی کے لئے لکھتے ہیں، میرے دل کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ معروف صحافی، نامور شاعر اور متحرک سماجی کارکن جناب شیراز راج کی شاعری کی کتاب ”عرش کی مٹی“ گزشتہ ماہ ڈاک کے ذریعے کراچی میں وصول ہوئی تو محبت اور اپنائیت کا ایک عجیب احساس ہوا، یوں تو شیراز راج سے نہ کبھی ملاقات ہوئی نہ زندگی میں کبھی واسطہ پڑا لیکن ان سے آن

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (دسواں حصہ)

آل رسول ﷺ کے در پر : یہاں سے آگے بڑھے تو برآمدے سے ہوتے ہوئے ایک کشادہ ہال میں داخل ہوئے۔ سرخ قالین بچھے ہوئے اور ان پر بیٹھی خواتین مصروف عبادت نظر آئیں۔ ہم آگے بڑھے اور عائشہ مجھے مسجد کی محراب تک لے گئی۔ مسجد کوفہ کی وہ محراب جہاں شقی القلب ابن ملجم نے انیس رمضان المبارک فجر کی نماز کے دوران زہر آلود تلوار سے حضرت علی علیہ السلام کو زخمی کر دیا تھا۔ علی

Read more

فلسطینی شاعرہ: یہ سر زمین میری بہن ہے

کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں چھائے کالے جنگ کے بادل فلسطین کو لہو لہو کر رہے ہیں۔ 17 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے ”طوفان الاقصیٰ“ آپریشن کے بعد ابھی تک یہ جنگ رکتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ اس پوری کی پوری جنگ میں سب سے بھاری قیمت عام شہریوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ فلسطینی تو نجانے کب سے ایک بے خانماں سی قوم بن چکے ہیں۔ یہ لڑائی تو وہ اب خود ہی لڑ رہے

Read more

دنیا کی نظریں ایشیا پر

تعلیمی اداروں میں اساتذہ ہوں، پارلیمنٹ میں بیٹھے سیاستدان ہوں یا ٹی وی سکرینوں پر بیٹھے تجزیہ کار ہوں ہر کوئی یورپ کے مہذب ہونے، اس کے قوانین اور اس کے لوگوں کے رہن سہن کی مثالیں دیتے نظر آئیں گے۔ ان کے نزدیک اس کی بڑی وجہ یورپ میں اچھے تعلیمی ادارے، سخت قوانین، رولز فالو کرنے والے لوگ، قانون کی عملداری اور جان و مال کا تحفظ ہے۔ لیکن ایشیاء آج کے یورپ سے ہزاروں سال قبل بھی

Read more

”رات کی راہداری میں!“

معروف شاعر ’مصنف سجاد بلوچ کی کتاب ”رات کی راہداری میں“ پڑھنے کا موقعہ ملا‘ جو کہ ان کی شعری کا دوسرا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب نفیس اور دیدہ زیب طباعت کے ساتھ سنگ میل پبلی کیشنز ’لاہور نے شائع کی ہے۔ یہ کتاب صرف روایتی شاعری کی حد تک محدود نہیں‘ بلکہ زندگی کے حقائق انفرادی و اجتماعی مسائل کی آگاہی ’الفاظ کے علامتی و معنوی استعمال‘ موضوعاتی وسعت تاثیر کا حسن حیرت انگیز ہے۔ کہا جا سکتا ہے

Read more

کھڑکیاں اور اکتوبر

کھڑکی کے باہر ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے! چاہے وہ کمرے کی کھڑکی ہو جو باہر آپ کے لان میں کھلتی ہو، یا باہر کی طرف کھلنے والی دوسری کھڑکی ہو جو سڑک کی طرف کھلتی ہو۔ میری یہ کھڑکی باہر ٹیرس پر کھلتی ہے جس پر میرا سجایا ہوا پورا باغ نظر آتا ہے۔ یہ چھوٹا ہے مگر میرے لئے پورا باغ ہی ہے جسے میں دو سال سے محنت سے سیج رہی ہوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ

Read more

عرب دنیا اور بنیاد پرست جہادی

فلسطین اور اسرائیل کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ جب یہ خطہ عثمانی ترکوں کے زیر تسلط تھا اس وقت سے یہ کوششیں ہو رہی تھیں کہ یہودیوں کو ان کی مقدس سرزمین پر دوبارہ بسایا جائے۔ فرانسیسیوں نے جب ان علاقوں کا محاصرہ کیا تھا تو اس وقت بھی انہوں نے یہاں ایک یہودی ریاست قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن ان کو شکست ہوئی اس لیے وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بعد میں سلطنت برطانیہ

Read more

مولانا عبید اللہ سندھی اور لینن کی ملاقات: ایک وضاحت

مخدومی و مکرمی جناب پروفیسر فتح محمد ملک کی خودنوشت ”آشیانہ ء غربت سے آشیاں در آشیاں“ زیر مطالعہ ہے۔ ملک صاحب کو کیمبل پور (موجودہ اٹک) کالج میں ڈاکٹر غلام جیلانی برقؔ اور پروفیسر محمد عثمان جیسی شخصیات کا فیض حاصل رہا ہے۔ ملک صاحب اس احساس کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ یہ اساتذہ انھیں ایک ترقی پسند مسلمان دیکھنا چاہتے تھے۔ اشتراکیت اور ترقی پسند ادب سے روکنے کی بجائے ان اساتذہ نے ان کتابوں کے مطالعے

Read more

علی اکبر ناطق کی خودنوشت: آباد ہوئے، برباد ہوئے

دَورِ حاضر میں علی اکبر ناطق کسی تعارف کے محتاج نہیں اورمستقبل میں بھی اُمید کی جاتی ہے کہ اُن کے ادبی قد میں مزید اضافہ ہو گا۔ ناطق کی شخصیت متاثر کُن ہے اور اُن کے قلم سے نکلا ہوا ادب بھی با ادب ہے۔ جہاں پاکستان و بھارت میں اُن کے معتقدین کی کثیر تعداد ہے، وہیں ناقدین بھی اُن پر حملہ آور ہونے کے لیے ہمہ وقت تیارہیں۔ ایک طرف وہ اُردو کے بعض کلاسیکی شعرا کے

Read more

لاحاصل

جنوں پریوں کا گانا (3) نزاکت علی خاں صاحب کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد موسیقی میں میری دلچسپی اور بڑھتی چلی گئی۔ میں موسیقی کی ہر محفل میں شریک ہوتا اور آخر تک وہاں بیٹھا رہتا، اس زمانے میں میری دوستی اسلام آباد میں ہر اس شخص سے ہوئی جو موسیقی کا رسیا تھا اور خاص طور پر وہ لوگ جو خود گاتے بجاتے تھے میرے بہت قریب تھے۔ عارف جعفری جو کمال کی بانسری بجاتے۔ علم موسیقی

Read more

ایک روحانی سفر ۔ عمرہ

مسلمانوں کی مہمان نوازی ایک شرف جس کی رہتی دنیا میں مثال نہیں۔ میزبان کو اس شرف پر ثواب سے نواز جاتا ہے۔ لیکن جب میزبان اللہ تعالٰی ہو تو اس کی کیا بات ہے۔ حج و عمرہ ایک ایسی عبادت جس کی مہمان نوازی رب کائنات کرتا ہے۔ ابن ماجہ و نسائی کے مطابق ”حج و عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اللہ تعالٰی نے دعوت دی انہوں نے قبول کیا۔ ایک دوسری روایت کے بموجب اگر وہ

Read more

ٹیلنٹڈ بندہ کہاں جائے

مانگے تانگے کی دو چار شاعری کی کتابیں پڑھ کر ہمارے اندر ایک زعم سا پیدا ہو گیا تھا کہ اردو تو ہمارے گھر کی باندی ہے۔ باقی مضامین پہ محنت کرنا تو بنتا بھی ہے مگر اردو پہ سر کھپانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ میٹرک کے پرچے دیے تو اردو میں اسی فیصد نمبر آ گئے اور ہمارے زعم کی گویا تصدیق ہو گئی۔ اسی طرح انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی اطمینان کن انداز میں پاس کر لیا۔ اب

Read more

طارق محمود مرزا کے اسفار اربعہ

زمانۂ قدیم سے یہ روایت ہے کہ ہر بوالہوس، حسن پرستی اشعار کرتا ہے۔ زمانۂ حال میں اس سے ملتی جلتی ایک نئی رسم نکلی ہے کہ ہر ’بوالقلم‘ سفر نگاری اختیار کرتا ہے۔ احوال واقعی یہ ہے کہ آج کل سیاح، کاندھے پر بیگ اور کان پر قلم رکھ کر صبح گھر سے نکلتا ہے اور شام کو ایک سفرنامہ لے کر واپس لوٹتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ لمحۂ موجود میں وطن عزیز کو دو خوف ناک مسائل

Read more

اساتذہ کے معاشی مسائل، ذمہ دار کون؟

قلم کا سکوت، اذہان کے بنجر پن کا غماز ہوتا ہے۔ کبھی کبھی قلم کا چیخنے کو دل کرتا ہے لیکن اس کی آہ سینے میں دب کر رہ جاتی ہے۔ جس طرح ہمارا معاشرہ آئی سی یو میں پڑا مصنوعی تنفس پر زندہ ہے، ایسے ہی میرا قلم اب نوحے لکھنے سے عاجز آ گیا ہے۔ مسائل کا انبار قلم کی روانی میں ایسے ہی رکاوٹ بن رہا، جیسے گلیوں، محلوں میں پڑا تعفن کسی راہ گیر کی منزل

Read more

محمد اظہار الحق کی شخصیت اور ان کا شعری مجموعہ ”اے آسماں نیچے اتر آ“

میرا کتب بینی کا مشغلہ کوئی اتنا پرانا نہیں۔ بس میٹرک کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا، یعنی آج سے یہی کوئی دو اڑھائی برس قبل! اس دوران علمی شخصیات سے مرحلہ وار میں متعارف ہوتا گیا، لیکن محمد اظہار الحق کے نام سے پہلی واقفیت ذیشان ہاشم کی کتاب ”غربت اور غلامی کا خاتمہ کیسے“ کے ”تعارف“ میں ہوا تھا۔ اس کتاب کا دیباچہ اظہار صاحب نے ہی لکھا، اور کیا شاندار لکھا۔ پھر بک کارنر سے جب ان

Read more

چین میں بلوچی ادب اور بلوچستان میں اضطرابی صورتحال

بلوچی و براہوی بلوچستان کی دو بڑی ایسی زبانیں ہیں جن کے ساتھ بلوچ قوم کو بڑی حد تک محبت اور لگاؤ ہے تاہم ان دونوں زبانوں میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسی کمی کا احساس ضرور ہوتا ہے کہ ان کی ادب، جدت اور فروغ کے لئے اس طرح کام نہیں کیا گیا جس طرح کرنی چاہیے تھی۔ شاید کام کرنے والے چند ہی گنے چنے افراد تھے جبکہ کام کو سراہنے اور آگے بڑھانے والے لوگ، حالات، ذرائع

Read more

چین سے سیکھیں

علم کے حصول اور حیات کے مقصد کی تلاش میں جن راہوں، راستوں، ناموں اور مقامات سے واسطہ پڑتا ہے، وہ بڑے خاص ہوتے ہیں۔ ان کا میری زندگی میں نام اور مقام بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ محمد کریم احمد بھی مجھے اس تلاش کے سفر میں ملے اور مجھے خوشی ہے کہ میں ان سے واقف ہوا اور ان کی تخلیق سے فیضیاب ہوا ہوں۔ گزشتہ ماہ۔ میں ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹوڈیو میں گیا جہاں محمد

Read more

زید اللہ فہیم کا شعری مجموعہ "چراغ پلکوں پر”۔

میں ایک ادب کا ایک ادنی سا طالب علم ہوں۔ شاعری پڑھنے سے دلچسپی ہے لیکن اس کے اسرار و رموز سے واقف نہیں ہوں۔ اپنی ساری زندگی بینکنگ کے خشک اعداد و شمار میں گزری ہے اس لئے شاعری کا اسلوب، اس کی اصناف اور دیگر باریکیوں کے بارے میں کم جانتا ہوں۔ میں کوئی اتنا بڑا لکھنے والا بھی نہیں ہوں، یہ چند سطریں بڑے دھیمے لہجے میں بڑی شستہ باتیں کرنے والے مرزا صاحب کی محبت میں

Read more

چند قصے سوانگی بھکاریوں کے

پاکستان میں آج کل جس طرح کے حالات چل رہے ہیں اس کی وجہ سے جہاں پر مڈل کلاس کی روزمرہ زندگی پر برے اثرات پڑے ہیں وہاں پر نچلے طبقے والوں کی زندگی بھی بد سے بدتر بن گئی ہے۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور دن بدن بڑھتی مہنگائی سے کاروباری طبقے اور تنخواہ دار لوگوں کے کے لیے بھی گزارا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حاصل مطلب کہ آج کل کے حالات سے جو جہاں ہے

Read more

بے نامی شب عبور کے پڑاﺅ میں الاﺅ

پون صدی بیت گئی۔ طبع آشفتہ نے انداز شکیبائی نہیں سیکھے۔ پرانی بستیوں سے نکل کر نئے نگر کے لیے عازم سفر ہوئے تو تیز ہواﺅ ں میں ایک خیال کا دیا جلتی بجھتی لو دے رہا تھا کہ تاحد نظر پاپیادہ، بیل گاڑیوں اور رکتی کٹتی ریل گاڑیوں پر آگے بڑھتا یہ قافلہ جہاں لنگر ڈالے گا وہاں جینے اور مرنے کا کوئی دستور تو ہو گا۔ اس خواب کی تعبیر میں 54ءاور 71ءوالے دستور تو سانس ہی نہیں

Read more

مغرب میں اردو شاعری۔ دوسری قسط۔

اس نئے سفر میں جس امتحان سے مہاجروں کو سب سے پہلے واسطہ پڑا وہ ان کی اپنی ذات تھی۔ انہیں جلد اندازہ ہو گیا کہ ان کی اپنی شخصیت ہی ہر موڑ پر دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی تھی انہیں آہستہ آہستہ اس حقیقت کا اندازہ ہو رہا تھا کہ ماضی کی یادوں، حال کی چکا چوند اور مستقبل کے خوابوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے اپنی ذات کی پہچان اور اپنی صلاحیتوں کا عرفان نہایت ضروری

Read more

سجدہ – افسانہ

جب بھی وہ کسی انتہائی شدید جذبے کے زیر اثر بات کر رہی ہوتی، اس کے ماتھے پر ایک رگ پھڑپھڑانے لگتی تھی۔ عین وہاں سے، جہاں اس کی سلیقے سے بنی بھنووں کے درمیان صاف شفاف جلد ایک ابھار سا بنا کر پیشانی سے جا ملتی، وہ رگ وہیں سے لہراتی ہوئی نکلتی تھی۔ میں اس کے پہلو میں بیٹھا تھا، سامنے نہیں لہٰذا اس کا چہرہ سامنے سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اچانک اس نے لرزتی ہوئی آواز

Read more

ذلتوں کے اسیر ؛ اردو ناول میں نسائی شعور کا استعارہ! سترہویں / آخری قسط

سارتر وجودیت کے لیے اپنے تصور کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آزادی، اختیار اور انتخاب ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر اس دنیا میں کوئی انسان ان حقوق کو حاصل کیے یا آزمائے بغیر رہتا ہے تو گویا وہ موجود ہی نہیں۔ ذرا اس تصور کا اطلاق ذلتوں کے اسیر کے مرکزی کردار پر ہی نہیں تمام کرداروں پر کر کے دیکھیں، یہی نہیں اپنے ارد گرد پر بھی کر کے دیکھیں۔ ذرا دیر کو آنکھیں بند

Read more

سالانہ یوم انگور

مئی 2023 کو دنیور گلگت میں محترم استاد غلام عباس نسیم کے دولت کدے میں سجنے والی چیری ڈے کی محفل مشاعرہ کی مٹھاس ابھی دل و دماغ سے اتری نہیں تھی ایسے میں گزشتہ جمعہ کی شام محترم غلام عباس نسیم صاحب کی اچانک فون کال موصول ہوئی اور اپنے منفرد انداز میں حکم صادر فرماتے ہوئے کہنے لگے کہ ہفتے کے روز گلگت کے مضافاتی گاؤں نومل میں پروفیسر ڈاکٹر انصار مدنی کے ہاں حسب سابق سالانہ یوم

Read more

راہل سانکرتیاین، قرۃ العین حیدر اور اسامہ صدیق

کیا عجب نہیں کہ ہم نے پہلے اسامہ صدیق کے اس ناول کا مطالعہ کر ڈالا جو بعد میں منظر عام پر آیا یعنی ’غروب شہر کا وقت‘ اور بعد میں پہلے ناول ’چاند کو گل کریں تو ہم جانیں۔ ‘ لیکن اچھا ہی ہوا جو اس ترتیب سے ہم نے دونوں ناول ہی نبٹا ڈالے۔ ’غروب شہر کا وقت‘ کو لے کر ہمارے اسامہ صدیق کے بارے میں تاثرات ملے جلے تھے لیکن ’چاند کو گل کریں تو ہم

Read more

گلگت بلتستان: کیا پاکستان فرقہ وارانہ فسادات کی طرف بڑھ رہا ہے؟

گزشتہ ہفتے کے دوران گلگت بلتستان میں ایک شیعہ عالم و سماجی کارکن پر توہین مذہب کے الزام میں گرفتاری کے بعد پورا خطہ فرقہ وارانہ فسادات کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں شیعہ برادری سے متعلق افراد بلا خیز سرد موسم کے باوجود سکردو میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے گزشتہ مضمون : ’بلاسفیمی کی سیاست اور انسانی حقوق‘ میں اس خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔

Read more