مصور کو بنانے میں بڑا عرصہ لگا ہو گا

مورخہ 12 اپریل 2021 کو تحریک لبیک پاکستان کے نئے امیر علامہ سعد حسین رضوی کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد ملک بھر میں ہیجانی و احتجاجی کیفیت برپا ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے امیر کا مطالبہ حکومت سے اپنے معاہدے پر غیر مشروط عمل درآمد ہے جس کے مطابق حکومت وقت نے 20 اپریل 2021 تک قانون سازی کی مدد سے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنا ہے اور اپنے سفیر کی ملک فرانس سے

Read more

تین دن کی ایک زینب

میں ساتویں جماعت میں پڑھتی تھی جب یہ واقعہ میں نے سنا اور آج بہت سے سال گزرنے کے بعد بھی یہ اکثر میرے ذہن کی دیواروں سے ٹکراتا رہتا ہے۔

میں کسی رشتے دار کے انتقال پر اپنی فیملی کے ساتھ ایک گاؤں میں گئی ہوئی تھی۔ ایک طرف خاموشی سے بیٹھی آتے جاتے لوگوں کو سچ مچ روتے اور دکھاوے کی ہوں ہوں کرتے دیکھ رہی تھی۔ تعزیت کے نام پر لوگ مرحوم کے بچوں کا مزید دل دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے۔ فوتگی کے گھر میں آتے جاتے لوگ مرحوم کے اقارب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر حاضری لگوا رہے تھے اور میں اس سارے منظر میں ہی گم تھی کہ دو گاؤں کی خواتین کی گفتگو میرے کانوں میں پڑی۔

Read more

بسمہ معروف: ’حاملہ کھلاڑیوں کو مراعات سے متعلق پالیسی پاکستان میں ویمن کرکٹ کو بدل دے گی‘

جہاں بسمہ معروف کو دی جانے والی مبارکبادوں کا سلسلہ شروع جاری ہے وہیں یہ سوال بھی کیا جانے لگا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی حاملہ کھلاڑیوں کے حوالے سے کیا پالیسی ہے۔

Read more

انڈیا: کورونا وائرس کے دور میں تبلیغی اجتماع غلط تو کمبھ کا میلہ ٹھیک کیوں؟

لیکن میڈیا واچ ڈاگ دی ہوٹ کی سیونتی ناین کہتی ہیں کہ ’کورونا کہ دوسری لہر کو فراموش کر کے کمبھ میں ہونے والی اجتماع کے بارے میں میڈیا میں جو لکھا یا بولا جا رہا ہے اس میں یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ اس میں وہ تلخی نہیں ہے جو پچھلے سال تبلیغی جماعت کے اجتماع کے بارے میں تھی۔ مذہبی منافرت کو بھڑکانے کے لیے کوئی تعصبانہ جملہ بھی ٹوئیٹر پر نہیں اچھالا جا رہا ہے۔

Read more

ٹی ایل پی کا معاملہ: درمیانی راستہ نکالیں

آج جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں وہ ایک چھوٹی سے انتظامی غلطی تھی جو ریاست نے کی اور وہ نا صرف مالی بلکہ بھاری جانی نقصان کا باعث بنی۔

1۔ سب سے پہلے آپ کو سعد رضوی کی گرفتاری کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی، ( کیا آپ نے COVID SOPs کی خلاف ورزی پر مریم نواز اور دیگر کو گرفتار کیا؟)

Read more

عجب خان آفریدی اور انگریز لڑکی کے اغوا کی کہانی

یہ ایک معمول کی گوریلا لیکن خودکش کارروائی تھی جس میں شامل تین آفریدی جوانوں اور ان کے ایک پنجابی دوست کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ انگریزوں کے اس حصار سے بچ کر زندہ واپس بھی جاسکیں گے یا نہیں۔ ان چاروں کا سردار مقامی عسکریت پسند عجب خان آفریدی تھے جو کوہاٹ چھاؤنی کے اس بنگلے میں اس لیے آئے تھے کہ چند روز قبل اپنے گھر پر مردوں کی غیرموجودگی میں پڑنے والے چھاپے اور بے پردگی کا بدلہ لے سکیں۔

Read more

ہر پل کا شاعر: ساحر لدھیانوی

گزشتہ صدی میں برصغیر کے ترقی پسند ادب میں دو نام معتبر اور غالب رہے ہیں. ان میں ایک مجاز اور دوسرے ساحر ہیں۔ لدھیانہ سے تعلق رکھنے والا عبدالحئ جو بعد میں ساحرلدھیانوی کے نام سے متعارف اور معروف ہوا ، ایک پسماندہ طبقے کا فرد تھا جس نے اپنے اردگرد معاشرے میں پھیلی ناہمواریوں کا احساس کیا اور قلم اٹھایا۔ نہ صرف زبان و بیان سے ان ناہمواریوں کے خلاف بات کی بلکہ عملی جدوجہد سے اپنے سچے اور مخلص ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔

اس نے اپنی شاعری کے ذریعے غریب اور پسے ہوئے طبقات میں جتنی مقبولیت حاصل کی ، وہ فیض کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہ ہوئی۔ ساحر نے اگر فلمی شاعری کو ذریعۂ اظہار بنایا تو وہاں بھی لب و رخسار اور عشق و محبت کے تذکروں سے زیادہ انہی معاشرتی مظالم اور ناہمواریوں کو موضوع بنایا۔

Read more

شام کی خبر

”سگے بیٹے نے اپنے ہی باپ کو سفاکی سے ذبح کر ڈالا۔“

یہ شام کے اخبار کی نمایاں سرخی تھی۔ اول تو وہ صبح کا اخبار بھی نہیں دیکھتا تھا، دوئم یہ کہ شام کے اخبار کو تو نری فسانہ طرازی سمجھتا تھا، لہاذا خریدنے کا کیا سوال۔ وہ آئی آئی چندری گر روڈ کے پہلو کی ایک گلی کے چائے خانے پر بیٹھا، ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں اطراف میں ٹیلی ویژن چینل، اخبار کے دفاتر ہیں، تو کچھ بنکوں کی شاخیں بھی قائم ہیں۔ اس کے سامنے میز پر شام کا اخبار پڑا تھا۔ وہ چائے پیتے وقت گزاری کے لیے اسے دیکھنے لگا۔

Read more

فکری بونے پن کی وجوہات

انسان کی تمام تر صلاحیتیں، خواہ وہ جسمانی ہوں یا ذہنی اور روحانی، بقاء اور ترقی کے لئے ورزش کی محتاج ہیں۔ جسمانی طاقت کو جتنا زیادہ استعمال کیا جائے، وہ اتنا بڑھتی ہے اور اگر اسے استعمال کرنا چھوڑ دیا جائے تو وہ گھٹتی جاتی ہے۔ اگر کسی ایسے شخص کو جسے پیدل چلنے کی عادت نہ ہو پیادہ پا سفر کرنا پڑ جائے تو وہ زیادہ دور تک نہیں جا سکتا۔ لیکن اگر وہ اپنی ہمت کے مطابق روزانہ پیدل چلنے کی عادت ڈالے تو چند ہی دن میں اس کی حد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہی اصول ذہنی صلاحیتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ چاہے یادداشت ہو، قوت متخیلہ ہو، تجزیاتی صلاحیت ہو یا منطق، جتنی استعمال ہو، اتنی بڑھتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اضافہ لامحدود نہیں ہوتا لیکن قابل ذکر فرق ضرور پڑ جاتا ہے۔

Read more

بے لوث، بے غرض، غیر مشروط محبت

میں اس زمانے میں برمنگھم میں رہتا تھا۔ برمنگھم انگلستان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور لندن کے بعد برمنگھم کا ہی نمبر آتا ہے مگر فرق ایسا ہے جیسے کراچی اور حیدرآباد۔ آبادی اور صنعتوں کی بھرمار کے باوجود برمنگھم ابھی تک لندن کی بے رحمی، بے کسی، تڑپ اور چبھن اپنے اندر نہیں لا سکا ہے۔ لوگ چلتے چلتے رک جاتے ہیں، جیسے کچھ بھول آئے ہوں اور بھولی ہوئی چیز کے لئے لوٹ بھی جاتے ہیں۔ سڑکوں پر کھڑے ہوئے بات کرتے بھی نظر آتے ہیں، لندن جیسی ہلچل، گہماگہمی، بھاگا دوڑی یہاں نظر نہیں آتی لوگ اکثر بے مطلب اور بے غرض بھی بات کر لیتے ہیں، ہیلو کر دیتے ہیں، حال پوچھ لیتے ہیں۔

Read more

زہرا خان: پاکستانی نژاد برطانوی شیف غیر معمولی کارکردگی پر 30 سال سے کم عمر کی کامیاب شخصیات کی فہرست میں شامل

پاکستان سے تعلق رکھنے والی برطانوی شیف زہرا خان لندن میں اپنے کیفے اور آئس کریم پارلرز کے لیے مقبول ہیں اور انھیں حال ہی میں یورپ میں ریٹیل اور ای کامرس کے شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والی 30 سال سے کم عمر شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

Read more

سائمہ جان: ’عسکریت پسندی کی تعریف‘ کرنے پر انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں خاتون پولیس اہلکار گرفتار، نوکری سے برخاست

کشمیر پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ بدھ کی شب جنوبی ضلع کولگام کے (گاؤں) فرصل کا محاصرہ کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ تلاشی مہم کے دوران جب فورسز سائمہ جان کے گھر میں داخل ہونے لگیں تو انھوں نے راستہ روک کر فورسز کو بُرا بھلا کہا اور مشتعل ہوگئیں۔

Read more

محبتوں بھری عیدیں

ماہ رمضان کے ساتھ ساتھ عید کی خوشیوں کا شور ہواؤں میں ہے۔ کورونا وبا کی لہر بے رحم موجوں کی طرح انسانوں کو نگلے جا رہی ہے۔ پچھلے سال کی عید بھی تنہائی میں گزری تھی۔ اب کے برس بھی لگتا ہے ایسی ہی پھیکی اور بے مزہ سی عید ہی گزرے گی۔ کورونا وبا کی موجودہ تیسری لہر سے بہت سے گھر اجڑ چکے ہیں۔ کسی کی ماں چلی گئی تو کسی کی بیٹی۔ کسی کا بھائی چلا

Read more

تین مورتیاں

میں دن بھر کانفرنس میں شرکت کے بعد بلڈنگ سے باہر نکلا تاکہ تھوڑی دیر کے لئے اس اجنبی شہر کی پیدل گھوم پھر کر سیر کروں۔ ابھی کچھ ہی دور گیا تھا کہ دور سے ایک سفید رنگ کا مندر نظر آیا۔ اس کا اٹھتا ہوا چمکدار کلسا آسمان کی طرف اشارہ کر رہا تھا جیسے بھگوان سے ہم کلام ہو۔ شاید یہی وہ تین مورتیوں والا مندر تھا جسے دیکھنے کا مجھے اشتیاق تھا۔

Read more

جنازے ملنساری کے!

ممانی فوت ہو گئی ہیں۔ دمہ کا مسئلہ تھا۔ کورونا وارڈ میں 15 دن گزارے اور اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ جنازہ صبح 9 بجے بانوے میں ہے۔ خالہ سے بات ہوئی وہ کہہ رہی تھیں بچوں کو ماسک پہنا کر لانا۔ اس خاندان کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا ابا جی کے منہ سے۔ 2000 میں نانا اور دادی کے چھوٹے بھائی فوت ہوئے تو فیصل آباد جانا ہوا۔ جنازے سے واپسی پر اپنی شدید خاموش طبع والدہ صاحبہ کو

Read more

علامہ اقبالؒ اور ایبٹ آباد کا سربن پہاڑ

علامہ اقبالؒ 3 جون 1903ء کو گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے استاد مقرر ہوئے ، اسی سال ان کی تصنیف ”علم الاقتصاد“ بھی منظر عام پر آئی۔ اگست 1904ء میں علامہ اقبالؒ نے موسم گرما کی تعطیلات گزارنے کے لیے اپنے بڑے بھائی شیخ عطا محمد (سب ڈویژنل افسر ملٹری ورکس) کے پاس ابیٹ آباد جانے کا قصد کیا۔ عطا محمد ان دنوں ابیٹ آباد میں اپنے منصبی فرائض انجام دے رہے تھے ۔ اقبال ان کے پاس تشریف

Read more

ماں کا بیٹے سے مکالمہ

رب کی ذات نے جیسے ان تین حروف میں اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ دنیا میں یہ ہستی انسان کا پہلا تعارف قرار پائی۔ ماں اس تخلیق میں رب کی ساجھے دار ہوتی ہے۔ وہ دنیا میں آنے کے بعد کئی آفاقی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتی اور اپنی محبتوں کی آغوش میں لے کر بندے کو اس کے ذمے کام سمجھاتی ہے۔

Read more

کنفیشن باکس میں لکھی تحریر

آج ایک دوست کی وال پر ایک انتہائی دلگداز پوسٹ دیکھی جس میں انہوں نے اپنی ایک دوست کے ہمیشہ کے بچھڑ جانے کی کہانی بیان کی ہے۔ یہ واقعہ کوئی بیس سال پرانا ہے مگر اس کی کسک ان کے دل میں اس حوالے سے آج تک ہے کہ وہ کوئی اہم بات کہنا چاہتی تھی مگر وقت نے انہیں اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ اس کی بات سن پاتیں کیونکہ امیگریشن کے بعد اس سے کبھی مل نہ سکیں۔ اور وہ وہاں چلی گئی جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

انسان بہت سی باتوں کا زندگی میں اعتراف نہیں کرتا۔ ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ انتہائی مخلص اور ہمدرد، ہم سے بے غرض محبت کرتا ہے، دکھ درد کا ساتھی مگر ہم اس محبت کا کبھی خاطر خواہ جواب نہیں دے پاتے۔ جانتے بھی ہیں، سوچتے سمجھتے بھی ہیں مگر زندگی کا گورکھ دھندہ اتنا الجھا کے رکھتا ہے کہ ہم ان کی محبت کا جواب ٹالتے رہتے ہیں مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، یہ اپنی چال سے چلتا ہے۔ جب مہلت ختم ہو جائے تو وقت کے رسیور سے فقط ایک ہی آواز آتی ہے کہ معزز صارف یہ مطلوبہ سہولت اب آپ کو میسر نہیں۔ ایسا حساس انسان اس دنیا کا نہیں ہوتا، بہت جلد چلا جاتا ہے۔ جو رہ جاتے ہیں تو یہ سفاک دنیا انہیں اتنے زخم لگاتی ہے کہ وہ اندر ہی اندر مرتے رہتے ہیں۔

Read more

اینڈومیٹریوسز: شادی سے قبل بچہ دانی نکلوانے کی درخواست کرنے والی خاتون کس کرب سے گزر رہی ہیں؟

ہینا نے ڈاکٹروں سے التجا کی ہے کہ ان کے درد کے سبب ان کی بچہ دانی نکال دیں، لیکن ان کی عمر اور اولاد نا ہونے کے سبب ان کی یہ درخواست قبول نہیں کی جا رہی۔ حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ تکلیف اب ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

Read more

اقرا عزیز کا انٹرویو: ’یاسر کو مجھ سے پہلی نظر میں پیار ہو گیا لیکن مجھے تھوڑا وقت لگا‘

پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں بہت کم ہی عرصے میں شہرت حاصل کرنے والی اقرا عزیز کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا کے دور میں وہ اس شہرت کو شہرت نہیں سمجھتی ہیں۔

Read more

انانیت اور انحصاری کی کشمکش

یاد نے اپنا عنکبوت میرے اندر پہلی بار کب بنا۔ کچھ کہنا بہت مشکل ہے میرے لئے۔ پہلی سب سے پرانی بات۔ یہ ہے کہ ایک لجلجی تھیلی میں مجھے کسی نے رکھ دیا یا ڈال دیا اور اسی تھیلی میں کوئی مجھے بناتا گیا۔ کون؟ اتنی مشکل بات ابھی تک نہیں سمجھا ہوں۔

دوسری مدہم سی لو، یاد کا سرا تھماتی ہے۔ ماں کا لہو پی رہا تھا میں۔ اس کے اندر کی توانائی اپنے دونوں ہاتھوں سے نچوڑ کر خود کو دنیا میں لانے کے لیے تیار کر رہا تھا اور وہ مجھے اپنا آپ دیے چلی جا رہی تھی۔ ایسے جیسے میں اس پر کوئی احسان کر رہا تھا۔ اس کے وجود کی ساری طاقت، توانائی اور جرأت میں اوک بھر بھر پی رہا تھا اور وہ تھکی ماندی سیراب ہو رہی تھی۔ شاید دینا اس کی خصلت اور سرشت میں تحریر تھا۔ لیکن یہ کیا؟

Read more

امت سیّدِ لولاک سے خوف آتا ہے

آج دو ویڈیوز دیکھی ہیں۔ ایک میں انسان انسانوں کو مار رہے ہیں اور دوسری میں بھی انسان انسانوں کو مار رہے ہیں۔ صرف کردار تبدیل ہوئے ہیں وردی اور داڑھی والوں کے لیکن ہمیں تو دونوں طرف بے دردی کا شکار ہوتے مجبور و مظلوم انسان ہی نظر آ رہے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کی آپس میں کوئی دشمنی نہیں، کبھی ایک دوسرے کا کچھ بگاڑا نہیں مگر ان کا بس نہیں چل رہا کہ ایک دوسرے کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں۔ اتنی سفاکی نہ تو کوئی مذہب سکھاتا ہے نہ حکومتی احکامات۔

Read more

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد مارے جانے والوں کی کہانی: ’میں آخری بار اس کے منھ سے مجھے ماں پکارتے ہوئے سننا چاہتی تھی، مگر سن نہیں پائی‘

سیاسی بنیادوں پر قید ہونے والوں کے لیے کام کرنے والی اسسٹنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق فروری میں میانمار کی فوج کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے لے کر اب تب 700 سے زیادہ افراد سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ بی بی سی نے اس عرصے میں ہلاک ہونے والے تین افراد کے اہلِ خانہ سے بات کی ہے۔

Read more

مجھے مارو میں دو ٹکے کا وارڈن ہوں

صبح جب آپ کے اور میرے بچے ابھی سو رہے ہوتے ہیں، شہر کے امراء اور روساء ابھی گرم بستر کی سلوٹوں میں گم نرم و گداز زندگی کے پہلو میں دراز ہوتے ہیں۔ میں منہ اندھیرے گھر سے نکلتا ہوں۔ میرے بچے میری بیوی سے پوچھتے ہیں۔

ماما۔ بابا نہیں آئے۔

اور وہ نیم مردہ، تخت رات اجڑے سہاگ والی بیوہ کی طرح اداس آنکھوں، مرجھائے چہرے، الجھے بالوں اور دور اندھے کنویں سے جیسے صدائے یوسف کی مانند۔ نحیف و نزار آواز کے ساتھ کہتی ہے۔

Read more

امر جلیل کا خدا اور ہمارا

پہلے دل میں خیال آیا کہ بڑا رائٹر ہے پھڈا بھی بڑے سے ہی لیا ہو گا۔ لیکن پھر قتل کی دھمکیاں اور اُمت اخبار کی ہیڈ لائنیں دیکھیں تو دل خوف سے بھر گیا۔ امر جلیل کے لیے بھی اور اپنے لیے بھی۔ سوچنے لگا کہ کیا ہمیں اب اپنے خدا سے بات کرنے کے لیے بھی ٹوئٹر پر توہین تلاش کرتے لونڈوں سے اجازت لینی پڑے گی؟ پڑھیے محمد حنیف کا کالم

Read more

میری تخلیقات انسانیت کے نام میرے محبت نامے ہیں

جاوید دانش کا اپنے فیس بک لاؤ پروگرام۔ آوارگی۔ کے لیے خالد سہیل سے انٹرویو ڈاکٹر خالد سہیل دانش : ڈاکٹر صاحب! کرونا وبا نے آپ کی زندگی کو کیسے متاثر کیا؟ سہیل: کرونا وبا اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے تنہائی کے ساتھ وقت گزارنے کا زیادہ موقع ملا۔ میں نے کرونا وبا اور تنہائی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ ایک لکھاری ہونے کے ناتے بھی اور ایک ماہر نفسیات ہونے کے ناتے بھی ایک لکھاری ہونے کے ناتے

Read more

اکٹوپک حمل کیا ہے؟ ’اتنے حمل ضائع ہوئے کہ مجھے لگا اب میں ماں نہیں بن پاؤں گی‘

’میرا خیال ہے کے شاید پانچ فیصد کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ ایکٹوپک حمل کیا ہے، آج کل کی بچیاں تو پھر بھی انٹرنیٹ پر سرچ کر کے آ جاتی ہیں لیکن ان کی والدہ یا ساس کو سمجھانا پڑتا ہے کہ یہ غیر معمولی حمل ہے۔ اس حمل کی حامل خاتون کی لیپروسکوپی کرنی پڑتی ہے یا اس کی ٹیوب ختم ہو جاتی ہے۔‘

Read more

خواتین کی خودکشیاں

فرصت ملے تو کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں جو ہمارے بلوچستان کے مقامی اخبارات و سوشل میڈیا خوب صورت انداز میں شائع کر کے ہماری نیوز رپورٹنگ کی پرانی یادیں واپس زندہ کر دیتے ہیں ۔ ویسے تو مسائل بے شمار ہیں اور وقتاً وقتاً ہم بیان بھی کرتے رہتے ہیں مگر آج کل ہمیں خواتین کی خودکشیوں کے بارے میں خبریں زیادہ ملتی ہیں۔ گزشتہ دنوں شادمان ٹاؤن کراچی میں ایک خاتون نے خودکشی کی اور خودکشی کرنے

Read more

و من ترکی نمی دانم یوکرائنی ہم سفر، روخسے لانا (حورم سلطان) اور ایڈمنٹن

کافی میں شکر ڈالنے کے لئے منا سا ساشے کھولا تو اس میں معطر خنک ٹشو نکلا۔ میں اپنی یوکرائنی شریک سفر سے باتیں کرنے میں اتنا مگن تھی کہ مہکتے بھیگے ٹشو کے ساشے کو شکر سمجھ بیٹھی۔ بھینی بھینی لیموں کی خوشبو بچپن کی سہانی وادیوں میں لے گئی، جب ایک چار سالہ بچی نے حیدرآباد کی ایک تنگ سی گلی کے ایک وسیع گھر کی بہت وسیع چھت پر گرمیوں کی ایک ٹھنڈی خوش گوار رات، اپنے بہت زیادہ سفر کرنے والے پھوپھا کے ایک فضائی سفر کی نشانی ایسا ہی ایک ساشے کھولا تھا۔ افسوس تھا تو صرف اتنا کہ ایک دفعہ کھلنے کے کچھ عرصے بعد ٹشو سوکھ گیا تھا اور خوشبو آہستہ آہستہ اڑ گئی تھی مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ خوشبو بھی ذہن کی ہارڈ ڈسک میں کہیں محفوظ ہو گئی تھی۔

Read more

حفظ قرآن ، حوروں کا لالچ اور قاری صاحب کی مار

آج مجھے بہت پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے۔ جب میں بہت چھوٹی تھی تو قرآن پاک حفظ کے لیے قریبی مدرسہ میں داخل کروا دی گئی۔ یہ اس وقت شہر کا سب سے بڑا لڑکوں کا مدرسہ تھا۔ اس مدرسہ کے زیریں حصہ میں فقہ و تفسیر پڑھائی جاتی۔ عمارت کی دوسری منزل میں سکول تھا، جس میں پہلی سے پانچویں جماعت تک پڑھایا جاتا۔ اور پہلی منزل پر قرآن پاک حفظ کروایا جاتا۔ عمر کی کوئی حد مقرر نہیں تھی ، اس لیے قرآن پاک حفظ کرنے والوں میں مختلف عمروں کے طلبا ہوتے تھے۔

عموماً پانچویں کلاس پاس کرنے کے بعد بچوں کو حفظ کی کلاس میں داخل کروایا جاتا ہے۔ لیکن دنیا کے بیشتر والدین کی طرح میرے والدین کو بھی میرے ذہین ہونے کی خوش فہمی تھی شاید، جو ممکن ہے کہ اس وقت کے لحاظ سے ٹھیک ہی ہو۔ سو مجھے دوسری جماعت پاس کرنے کے بعد ہی یہاں داخل کروا دیا گیا۔ میری سکول کی تعلیم بھی ساتھ جاری رہی۔ میں مدرسہ میں دوسری شفٹ ( ظہر سے عصر ) ختم ہونے کے بعد ٹیوشن جاتی، جہاں سکول کا کام کرتی۔

Read more

کرن وقار: ریاستی ترجیحات کا ایک اور شکار

قتل صرف وہی نہیں ہوتاجسے آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر رپورٹ کیا جائے۔

دنیا بھر کے پینل کوڈ صرف اسی فعل کو قتل گردانتے ہیں جو ایک فرد دوسرے فرد پر یا چند افراد دوسرے چند افراد پر حملہ آور ہو کر سرانجام دیتے ہیں اور جس کے نتیجے میں کسی ایک یا ایک سے زیادہ جانوں کا اتلاف ہوتا ہے۔

قتل کی رائج تعبیرات جتنی محدود ہیں اتنی ہی سطحی بھی ہیں۔ دنیا بھر کے قانون دان جانتے ہیں کہ قتل صرف اس فعل تک محدود نہیں ہوتا جس کا ادراک ہم اپنے حواس کے ذریعے کرتے ہیں۔ اور جس کے اندر کسی فرد یا افراد کو نامزد کرنے کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس انسانی قتل کے مضمون کو سو رنگ سے باندھا جا سکتا ہے۔

Read more

برطانیہ میں گود دیے جانے والے بچوں سے حقیقی والدین کے رابطے کا نظام: ’جن کو میں نے جنم دیا کیا انھیں جاننے کا حق نہیں کہ میں مر رہی ہوں؟‘

مہلک بیماری میں مبتلا 32 برس کی حنا اپنے ان جڑواں بچوں کو بتانا چاہتی ہے جنہیں اس نے سولہ برس پہلے جنم دیا تھا اور جو اب کسی اور خاندان میں لے پالک کے طور پر پرورش پا رہے ہیں، کہ وہ عنقریب مرنے والی ہے۔

Read more

ڈاکٹر حمیرا اشفاق کا افسانوی مجموعہ: کتبوں کے درمیان

کہانی کو انسانی زندگی میں ازل سے ہی بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کہانی لکھنے والے نے کہانی کو دو مقاصد کے تحت تحریر کیا ہے۔ ایک تسکین یا راحت کے سامان کے طور پہ جب کہ دوسرا مقصد ہماری زندگی کے حقائق اور معاملات کو سامنے لانا۔ دونوں مقاصد میں کہانی کا تعلق بہرحال انسان سے ہی جڑا رہا ہے، گویا کہانی نے انسانی زندگی اور کائنات کو ایک دوسرے کے قریب تر کر دیا۔ اردو ادب میں ابتدا

Read more

نانی اماں کا دکھ اور مذہب کے ٹھیکے دار

میرا خواتین کے حقوق کے حوالے سے کالم پڑھ کر میری دوست خاص طور پر میرے گھر آئی اور مجھے سراہتے ہوئے آبدیدہ ہو کر بولی کہ تم نے خواتین کے بارے میں بالکل ٹھیک لکھا، میں نے اس کی آنکھوں میں جھلملاتے آنسوؤں کی وجہ پوچھی تو وہ رندھی ہوئی آواز میں بمشکل کہہ پائی: ”میرے نانا نے میری نانی کو اس وقت طلاق دی تھی جب وہ رمضان کی آمد سے قبل گھر کی سالانہ صفائی کر رہی

Read more

شہزادہ فلپ: ایک غیر معمولی انسان جنھوں نے ایک غیر معمولی زندگی بسر کی

شہزادہ فلپ کی ابتدائی زندگی پر ایک سوانح نگار نے لکھا کہ ’اُن کا خیال تھا کہ اُن کی زندگی کا مشن تخلیقی ہے تاکہ برطانوی بادشاہت کو ایک متحرک اور معاملات میں دلچسپی لینے والے ذمہ دار ادارے کے طور پر پیش کرے۔ تاکہ یہ شاہی ادارہ برطانوی معاشرے کے مسائل کے حل میں رہنمائی کرسکے۔’

Read more

معراج بھائی قسط ( 3 )

آج کی رات ہمیشہ یاد رہنے والی تھی اور وہ بے حد نروس ہو رہی تھی مگر تیمور کا مہربان رویہ اس کے اطمینان کا باعث تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا مہمان جا چکے تھے اور ٹھہرنے والے بھی ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بھیجے جا رہے تھے اس وقت صائمہ نے بھی دلہا دلہن کو آرام کے لئے کہا۔ تیمور نے بے حد نرمی سے سہارا دے کر عفت کو اٹھایا۔ بی بریو، اس کے ٹھنڈے یخ

Read more

مردہ خانے میں عورت: مشرف عالم ذوقی کا فاشزم کو للکارتا ناول

جدید ہندوستان میں فاشزم دسمبر میں آیا جب لوگوں کو غسل کیے کئی کئی دن ہو جاتے ہیں اور ان کے کپڑے کالے پڑجاتے ہیں اور اسے لانے والے خانہ بدوش تھے جنھیں ’گھومنتو‘ کہا جاتاتھا اور ان میں سے ایک مارخیز کے شہر سے آیا تھا۔ وہ بوڑھا تھا، بندروں کی نسل کا، جس کے سرکے بال اڑگئے تھے، وہی ہندستان میں فاشزم کا مبلغ اور داعی تھا۔ اس اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں میں ترشول تھے، لمبے

Read more

ٹھرکی بڈھے

پیاری تحریم، سویٹ لبنی مرزا، درویش خالد سہیل، امر جلیل صاحب اور ریاست مدینہ کے خلیفہ وقت سب محبت قبول کیجئے۔ تحریم آج بات سب سے کرنی ہے۔ مگر شروع تم سے کرتے ہیں کہ تم ہم سب سے چھوٹی ہو۔ تم وہ یوتھ ہو، جس کے لئے ہم نے دھرنا دھرنا کھیلا تھا۔ اور ملکی تاریخ میں سنا ہے جتنی فحاشی تب ریکارڈ کی گئی، کبھی نہیں ہوئی۔ آج ہم اسی کے ثمرات سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔

Read more

سانحۂ جلیاںوالہ باغ اور رام محمد سنگھ آزاد

یہ 13 مارچ 1940 کا دن تھا۔ برطانوی دارالحکومت لندن کے کاکسٹن ہال میں ایسٹ انڈیا ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام ایک اجلاس منعقد ہو رہا تھا۔ جس میں دوسری جنگ عظیم میں برطانوی عوام اور افواج کے گرتے ہوئے مورال کو بلند کرنے کے لیے ہندوستان میں برطانوی راج کی عظمت رفتہ کے قصیدے پڑھے جا رہے تھے۔ اسٹیج پہ 1919 میں پنجاب کے لیفٹینٹ گورنر سر لیوس ڈینی، انڈیا اور برما کے لیے سیکرٹری اسٹیٹ لارنس جان لیوملے

Read more

حقوق نسواں اور مغرب کی سازش

تاریخ انسانی کے اوراق میں مؤرخ رقم طراز ہے ایسے مواقع بھی آئے جب خاندان اور طبقات کے غلبے کے باوجود عورت کے ہاتھ میں زمام اقتدار رہا اور اس کے اشارے پر حکومتیں اور سلطنتیں گردش کرتی رہیں۔ آج بھی ایسے قبائل موجود ہیں جہاں عورت کو مرد کے مقابلے میں بالادستی حاصل ہے۔ مغربی تہذیب عورت کو ضرور کچھ حقوق دیتی ہے لیکن ایک عورت کی حیثیت سے نہیں بلکہ عورت کو مغربی معاشرے میں حقوق تب فراہم

Read more

ہم وطنو، حب وطن کا سبق امجد خان نیازی سے پڑھو

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں معزز رکن پارلیمان جناب امجد احمد خان نیازی جو میانوالی سے رکن قومی اسمبلی ہیں، کا پیش کردہ بل منظور کر لیا گیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جو شخص افواج پاکستان یا ان کے اعلیٰ عہدیداروں کے تمسخر یا تنقید کرنے کا مرتکب پایا گیا تو اسے یا 2 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ ایک اور بات بتا دوں کہ جب یہ بل

Read more

ایک درویش صفت عورت کی کہانی  (مکمل کالم)

میری کیوری وہ خاتون تھی جس نے نوبل انعام کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو الگ الگ شعبوں، کیمیا اور طبیعات، میں انعامات حاصل کیے۔ میری کیوری کے نام سے میں بچپن میں واقف ہوا تھا، شاید کوئی مضمون نظر سے گذرا تھا جس میں لکھا تھا کہ انہوں نے ’اتفاقاً‘ ریڈیم دریافت کیا تھا۔ اُن کا یہ تعارف ذہن سے چپک کر رہ گیااور میں یہ سمجھتا رہا کہ اِس عورت کا ’تکا‘ لگ گیا جس کی وجہ سے

Read more

کیا آپ کا بڑھاپا آپ کی زندگی کا سنہرا دور ہے؟

یہ ان دنوں کی بات ہے جب کینیڈا کی گلیوں ’بازاروں اور چوراہوں میں چہل پہل ہوا کرتی تھی اور چاروں طرف زندگی کی گہما گہمی کے آثار دکھائی دیتے تھے۔ لوگ ہنستے کھیلتے مسکراتے ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے تھے اور بڑے تپاک سے گلے ملتے تھے۔ ان دنوں نہ تو کرونا وبا کا خوف و ہراس تھا اور نہ ہی لوگ دو دو ماسک پہنے چھ چھ فٹ کے فاصلے سے ڈرتے گھبراتے ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے

Read more

توہین نسواں اور امت کی روایت

کراچی کے اخبار ’ امت‘ نے عورت مارچ کرنے والی خواتین کو رنڈیاں کہا۔ اس اخبار سے اس سے زیادہ کی توقع کی جا سکتی ہے، کم کی نہیں۔ خواتین کو دی گئی اس غلیظ گالی سے اردو صحافت کی ’’روشن‘‘ تاریخ کے بہت سے واقعات میرے ذہن میں آئے۔ ’امت ‘اخبار اور اس کا ایڈیٹر کس شمار قطار میں ہیں۔ خواتین کی تضحیک کے معاملے میں بڑے بڑے جید صحافیوں کا نام آتا ہے۔ واقعات کے طومار میں سے

Read more

کرپشن ہمارے سماج کا ’نیو نارمل‘ بن چکی؟

انسان میں بھلائی اور شر کی قوتیں بیک وقت کار فرما رہتی ہیں، کمزور معاشروں میں انفرادی سطح پر چند افراد اپنی مضبوط قوت ارادی اور کردار کے باعث شر کے آگے سینہ سپر رہتے ہیں جبکہ عمومی طور پر کمزور رویہ ہی سامنے آتا ہے۔ البتہ عدل و انصاف پر قائم معاشروں میں یہ تناسب خاصا مختلف ہوتا ہے۔ ہر معاشرے کے مضبوط یا کمزور ہونے میں اس کا معاشی عدل و انصاف بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اخلاقی

Read more

چار لاپتہ بیٹوں کی ماں: ’آنکھیں ہر وقت دروازے پر لگی رہتی ہیں کہ وہ کب گھر آ جائیں‘

چارسدہ کی جان پری کے چار بیٹے گذشتہ پانچ برس سے لاپتہ ہیں اور وہ پشاور ہائی کورٹ کے انسانی حقوق کے شعبے میں درخواست میں حلفاً یہ کہہ چکی ہیں کہ ان کے بیٹے ریاست کے خلاف کسی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔

Read more

تہمت گندم و حوا

میں نے ریپ سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے بیان کو ایک بار نہیں، بار بار سنا، سیاق و سباق کے ساتھ سنا اور جتنی بار سنا، دُکھ اتنا ہی گہرا ہوتا چلا گیا۔ صرف الفاظ ہی نہیں ان کے پیچھے موجود ایک مخصوص ذہنیت پہ دُکھ ہے: پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم

Read more

ہم کب اور کیوں بدلتے ہیں؟

منو بھائی نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ سکول کے ایک ماسٹر صاحب کے نکاح کی بات چل رہی تھی۔ ان کے ہونے والے خسر نے ان سے دریافت کیا کہ تمہارا روزگار کیا ہے تو داماد شریف نے جھکی نگاہوں سے بتایا کہ میں سکول میں بچوں کو پڑھاتا ہوں تو خسر صاحب ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے مخاطب ہوئے کہ بجوں کو پڑھانا تو ثواب دارین کے حصول کے لیے تو قابل قدر ہے لیکن اسے باضابطہ پروفیشن تسلیم کر لینا پرلے درجے کی حماقت ہے۔

Read more

مٹی کا قرض

آج اس کا بیٹا اپنی قسمت آزمانے گاؤں چھوڑ کر شہر چلا گیا تھا۔ اس گاؤں میں ان کا خاندان کئی پشتوں سے آباد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گاؤں کے تمام لوگ ایک خاندان کی طرح رہتے تھے۔ دکھ سکھ میں سب اکٹھے ہوتے۔ مشکل میں کسی کو بھی اکیلا نہ چھوڑا جاتا تھا۔ جیسے کہ ماسی بھاگاں نے اماں کو دوپٹے سے آنسو صاف کرتے دور سے ہی دیکھ لیا تو اپنا کام چھوڑ کر اماں کے پاس چلی آئی اور بولی ”کیا بات ہے رحمتے؟ روتی کیوں ہے؟“

Read more

میانمار میں فوجی بغاوت: شہری تشدد سے بچنے کے لیے انڈیا میں پناہ لے رہے ہیں

میانمار کے شہری فوجی حکومت کے اقتدار پر قبضے کے بعد شروع ہونے والے تشدد کے واقعات کی وجہ سے اپنے ملک سے محفوظ جگہوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

Read more

ہمارا بچپن، کہانیاں اور ’وِچولوں‘ کا کردار

ہر انسان کہانیوں کو پسند کرتا ہے کیونکہ یہ ہر ایک کی ابتدائی گھٹی کا اہم پیکج ہوتی ہیں، بچے کا ابتدائی سکول ماں کی گود ہوتی ہے ، وہیں سے ابتدائی اسکولنگ کا آغاز ہوتا ہے، بچپن سے پختہ عمر تک پہنچنے کی ماں چشم دید گواہ ہوتی ہے یہ سفر بریسٹ فیڈنگ سے شروع ہو کر مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور زندگی کے ایک پڑاؤ میں جب بچہ بولنے اور چلنے پھرنے اور خود کھانے پینے کے

Read more

شانگلہ سے دس سال پہلے اغوا ہونے والے مزدوروں کی لاشیں پشاور سے برآمد

سوات کے علاقے شانگلہ کے یہ مزدور 29 فروری 2011 کو لاپتا ہوئے تھے جس کے بعد ان کا کوئی بھی پتا نہیں چل سکا تھا اور اس وقت سے اب تک ان کی تلاش جاری تھی۔

Read more

شہزادہ فلپ: کسی کے لیے مقدس شخصیت تو کسی کے لیے زندگی بھر کے ساتھی

ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ نے اپنی زندگی کے 70سے زیادہ سال ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کے سائے میں گزارے لیکن ان کی نمایاں شخصیت سے ظاہر تھا کہ وہ محض ایک روایتی شوہر نہیں ہوں گے۔ تو ملکہ کا ساتھ دینے والا یہ شخص کون تھا اور اس نے ملکہ سے شادی کیسے کی۔

Read more

بی بی سی پرنس فلپ کی موت کو اتنی تفصیل سے کیوں رپورٹ کر رہی ہے؟

ہو سکتا ہے کہ ایسا لگ رہا ہو کہ بی بی سی میڈیا کے دوسرے اداروں کی نسبت موت کی اس خبر کو بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ تو ایسا کیوں ہے؟ شاہی خاندان میں اموات بی بی سی کے لیے اتنا اہم معاملہ کیسے بن گیا؟

Read more

سڈنی بیچ، قدرتی شرمیلی لڑکیاں اور اندھے مرد

پچھلے برس میں اپنی فیملی کے ساتھ سڈنی ساحل سمندر، باؤنڈی بیچ، گیا۔ یہ نہایت خوبصورت اور صاف ستھری جگہ ہے۔ آسٹریلیا میں آج کل سردیوں کا موسم ہے اور بیچ کی اصلی رونقیں تو گرمیوں میں ہی ہوتی ہے لیکن پھر بھی دن کو اگر آسمان صاف ہو جو کہ یہاں اکثر ہی ہوتا ہے تو سردی کا احساس کم ہو جاتا ہے اور لوگ اپنا ضروری سامان اٹھاتے ہیں اور بیچ کی طرف نکل پڑتے ہیں۔ سمندر میں

Read more

شفقت حسین: ’خدا کا شکر ہے کہ اس نے سنبل کی موت کے بعد بھی اس کا خیال رکھنے کی توفیق دی‘

شادی کے بعد تقریباً دو سال کے عرصے میں ہی سنبل وفات پا گئیں اور اب شفقت کی کوشش ہے کہ وہ اُن کے نام پر صدقہ جاریہ کے کاموں اور اُن کے خوابوں کو پورا کرتے ہوئے اپنی باقی کی زندگی گزاریں۔

Read more

معراج بھائی (قسط 2)۔

سب کزنز نے عفت پر دھاوا بولا کیونکہ تیمور سے ابھی وہ اتنے بے تکلف نہیں ہوئے تھے اور وہ اپنی جاب کے سیکنڈ انٹرویو کی تیاری میں مصروف تھی۔ اس نے ایم ایس سی سائیکالوجی میں یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا اور لیکچرر شپ اس کا دیرینہ خواب تھا۔

ارے میری منگنی ہو رہی ہوتی تو میں یہ جاب شاب کھڈے میں پھینکتی یار!
کشمالہ نے اس کو کاغذ کی ایک گولی بنا کر مارتے ہوئے کہا

Read more

کیا آپ دیومالائی دانشور جوزف کیمبل کے خیالات اور نظریات سے واقف ہیں؟

بیسویں صدی کے مشہور دانشوروں میں امریکہ کے جوزف کیمبل ایک مستند ، معتبر اور معزز دانشور سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے دیومالائی ادب پر بے شمار کتابیں لکھیں وزڈم لٹریچر پر بصیرت افروز انٹرویو دیے اور عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئے۔

وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے نفسیات، سماجیات اور روحانیات کے علوم کا گہرا مطالعہ کر کے انہیں دیومالائی ادب کے ساتھ جوڑا۔ ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے اور مکالمے سنتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے ایک دانا بزرگ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے ہوں اور تاریخ کے آتے جاتے قافلوں کا مشاہدہ اور مطالعہ کر کے اپنا تجزیہ پیش کر رہے ہوں۔

Read more

گالی سے ریپ تک

میں نے گالی دی آپ کو برا لگا آپ کو برا لگا اس لیے کہ میں ایک عورت ہوں لیکن آپ نے کبھی یہ سوچا کہ آپ کی ہر گالی عورت سے شروع ہو کر عورت پہ ہی ختم ہوتی ہے۔ حجاب حجاب کی رٹ لگا کر عورت کو ایک انوکھی چیز بنا کر رکھ دیا ہے۔ جہاں ہر گلی محلے کے نکڑ کی لڑائی میں عورت کو گالی دی جاتی ہے وہیں اب اسلام کے ٹھیکیدار برملا اپنے اخبارات

Read more

نیا دیوتا، احتساب کا فریب اور تیسری نسل

1947 میں ہم آزاد ہوئے، ہمارے بڑے انہی برسوں کے اردگرد اس دنیا میں تشریف لائے۔ جب انہوں نے ہوش سنبھالا دور ایوبی تھا اور تازہ بہ تازہ زمینی فتح اور میز پر شکست کا شور و غوغا تھا۔ نوجوان بھٹو کے دیوانے تھے۔ ’اسلام ہمارا دین اور سوشلزم ہماری معیشت ہے‘ کا نعرہ مستانہ عروج پر تھا۔ روٹی کپڑا مکان والی ٹرک کی بتی روشن تھی جو سب کے لئے مشعل راہ تھی۔ اس نسل نے بھٹو کو منزل

Read more

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا؟

یہ 28 مارچ کی صبح تھی جب وہ میرے آفس میں داخل ہوئی۔ میں اسے جانتی تھی ۔ بردبار اور متین سی عورت جو گزشتہ چار سال سے مشقت کی چکی میں پس رہی تھی۔ شوہر کی ناگہانی بیماری، اس کی موت، سسرال کا سرد مہر رویہ، تین بیٹیوں کا ساتھ۔ اس کی تینوں بچیاں ہمارے پاس پڑھتی تھیں۔ پانچویں، تیسری اور دوسری میں۔ یقیناً اس وقت وہ ان کا ہوم ورک لینے آئی تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ ہوا

Read more

ان کی رائے میں ریپسٹ تو سماج سدھارنے نکلے ہوتے ہیں

ننھے بچے بچیوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم اور ریپ ہوتے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ وزیراعظم نے اس سوال کا مفصل جواب دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کی وجہ پردہ نہ ہونا ہے اور بالی ووڈ کی فلموں اور موبائل فونوں نے ڈسکو اور نائٹ کلب کے ماحول کو پاکستان میں دکھا کر یہاں لوگوں کو فرسٹریٹ کر دیا ہے جس کا کوئی تو اثر ہونا ہی تھا۔ معاشرے میں طلاق زیادہ ہونے کی وجہ بھی یہ فحاشی ہے۔ فحاشی سے ٹیمپ ٹیشن ہوتی ہے اور ہر انسان کے اندر اتنی وقت ارادی نہیں ہوتی کہ اسے برداشت کر سکے۔ اس کی وجہ سے فیملی سسٹم بھی ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم کا ایک فیصد بھی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوتا۔

ہمارے ایک دوست اس بات پر سر دھن رہے تھے۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ معاشرے میں ریپ کا جرم ہونے کی وجہ فحاشی ہے۔ جب لڑکیاں عورتیں بچے بچیاں ایسا لباس پہنے دکھائی دیں جو ریپسٹ کے خیال میں فحش ہو تو وہ خود پر قابو نہیں پا سکتا اور ریپ کرنے نکل جاتا ہے۔ یعنی ان کی رائے میں ریپسٹ تو اصل میں معاشرے کو سدھارنے کے مشن پر ہوتے ہیں جو بے حیائی کے خاتمے اور لڑکیوں بچے بچیوں کو فحاشی سے بچانے کے لیے ان کا ریپ کرتے ہیں تاکہ باقی زندگی وہ ایک اچھا انسان بن کر باپردہ رہیں۔

Read more

روزنامہ امت، عورت مارچ اور اسی کوڑوں کی سزا

یہ اس عاجز کی کم علمی ہے کہ میں اب تک روزنامہ امت کے وجود سے بے خبر تھا۔ لیکن اس روزنامے کے مدیران اور مضمون نگاروں کو داد دینی چاہیے کہ اب اس کو بھولنا بہت مشکل ہو گا۔ انہوں نے ایک تحریر کے بل بوتے پر ہی اتنی توجہ حاصل کر لی ہے جسے حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شریف النفس انسان کو کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

اس روزنامہ کی 5 اپریل کی اشاعت میں اس کے ایک وقائع نگار خصوصی کی مہیا کردہ خبر شائع ہوئی۔ اس کی سرخی کا آغاز یہ تھا ”چودہ ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے“ اور اس کے بعد اس تحریر کے بے لگام گھوڑے کا رخ ان خواتین کی طرف ہو گیا جنہوں نے عورت مارچ میں شرکت کی ہے۔

Read more

امت اخبار کیسی صحافت کر رہا ہے؟

جہالت اور عدم برداشت کی کس سطح پر ہم پہنچ گئے ہیں کہ کسی بھی قسم کے الفاظ اخباری شہ سرخیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صحافت کا سیاہ ترین وقت ہے کہ اس طرح کی خبریں بنائی جا رہی ہیں۔ اخبار میں خبریں لگانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں جو اب بالائے طاق رکھ دیے گئے ہیں۔ ایسا ہی پانچ اپریل کے اخبار ”امت“ کی شہ سرخی پڑھ کر احساس ہوا، ہم کس قدر اپنی اقدار، تہذیب اور اخلاقیات سے دور ہو چکے ہیں بلکہ ان کا جنازہ نکال چکے ہیں۔

Read more

مظلوم صنم بھٹو کے آنسو اور آج کی پیپلز پارٹی

بھٹو خاندان ایک کے بعد ایک نیا المیہ کیسے دیکھتا اور بھگتتا ہے۔ ووٹ دینے اور ووٹ لینے والوں کی عزت بچانے اور بڑھانے والی جدوجہد کا بنیاد رکھنے والے بھٹو خاندان کے افراد پر دوران جمہوری جنگ کیا کیا گزری اور ایسی ممنوع باتیں کرنے کی انہوں نے کیا کیا قیمت چکائی۔ یہ سب کچھ جاننے کے لیے ’نیا دور‘ کے رضا رومی اور مرتضیٰ سولنگی نے بھٹو خاندان کی نشانی صنم بھٹو سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی

Read more

تروپتی سے پشوپتی: ہندوستان کا ریڈ کوریڈور

چار اپریل 2021 کا دن انڈین سیکورٹی فورسز خصوصاً  سی آر پی ایف اور کوبرا فورس پر نہایت بھاری گزرا۔ جب چھتیس گڑھ کی ریاست میں واقع سکما اور بیجا پور کی سرحد پر گھنے جنگلات میں ماؤ نوازوں نے گھات لگا کر تقریباٰ 22 اہلکاروں کو آن کی آن بھون ڈالا۔ جبکہ 30 جوان شدید زخمی بھی ہوئے اور بے شمار لاپتہ ہو گئے۔ اس لرزہ خیز کارروائی نے گویا نئی دلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزیر

Read more

چھتیس گڑھ: انڈیا کو مطلوب ماؤ نواز باغی رہنما ماڈوی ہڈما کون ہیں جن کو گرفتار کرنے کی کوشش میں 22 انڈین فوجی مارے گئے

جو لوگ ماؤ نواز باغی رہنما ماڈوی ہڈما سے مل چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ماڈوی ہڈما بہت نرم گو ہیں اور احترام کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں اور وہ یہ سوچ کر حیران ہیں کہ یہ شخص اتنی تباہی کیسے پھیلا سکتا ہے؟

Read more

معراج بھائی قسط ( 1 )

وہ لمبی بل کھاتی ڈھلوانی سڑک پر چلی جا رہی تھی اور بس جا رہی تھی، اس کی قیمتی شال اس کے پاؤں میں رل رہی تھی اور ننگے پاؤں سنگ ریزوں سے زخمی ہو رہے تھے مگر ہوش و خرد سے بیگانہ اس کی آ نکھیں جو دنوں سے نا سوئی تھیں اور سوجن سے بند ہو رہی تھیں اور ایک ہی ورد اس کی زبان پرتھا ”بس اللہ ہی اللہ باقی فانی“ چلتے چلتے اس کو ٹھوکر لگی

Read more

2020 کی عالمی وبا سے ہماری اینڈوکرائن پریکٹس کیسے متاثر ہوئی ہے؟

(میرے حالیہ مضمون ”ہمدرد عورت اور بے گھر آدمی“ کے لیے کچھ پڑھنے والوں کی طرف سے یہ فیڈ بیک ملی کہ اس میں بہت سارے خیالات ایک جگہ جمع ہیں اور اس میں ربط موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد میں نے اس میں کچھ رد و بدل کی ہے۔ اس مضمون کی ایڈیٹنگ میں لینہ حاشر کی مدد کا شکریہ۔ ) 14 مارچ 2020 پر جب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے عالمی وبا کا اعلان کیا تو کچھ ہفتوں

Read more

دیوداس : محبت کا مرثیہ

ڈاکٹر شرت چندر چیٹرجی کی ادبی خدمات بہت طویل ہیں۔ وہ بنگال کے نامور ادیبوں میں ایک تھے اور بنگالی زبان میں ہی لکھتے تھے۔ ان کے قصے اور کہانیوں کو جو مقبولیت ان کے قارئین نے دی ہے ، شاید وہ بینکم چیٹرجی اور رابندر ناتھ ٹیگور کے حصے میں بھی نہیں آئی۔

ان کے فلسفے اور زیادہ تر کہانیوں میں بینکم اور ٹیگور کا عکس صاف صاف دیکھنے کو ملتا ہے گو کہ وہ ٹیگور کی طرح معنی خیز اور کافی گہرائی میں جا کر خدا اور بندے کا فلسفہ تراشنے والے نہیں لیکن وہ سب سے پہلے ایسے ہندوستانی ناول نگار ضرور ہیں جنہوں نے اپنی روزی روٹی کے لیے اپنا پیشہ ہی لکھنا بنا لیا۔

Read more

چھتیس گڑھ میں 22 انڈین فوجیوں کی ہلاکت: ماں جسے بیٹے کی ہلاکت کی خبر ٹی وی سے ملی

ستیاوتی جوری کی صحت خراب تھی۔ اسی بنا پر وہ تین یا چار دن پہلے اپنے رمیش کے تبادلے کے لیے جگدالپور گئی تھیں اور حکام کو ایک درخواست دی تھی کہ وہ بڑے بیٹے کی حیثیت سے اپنی ماں، گھر والوں اور سب کا خیال رکھتا ہے۔

Read more

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟

آسیب سے وابستہ پراسراریت نے ہمیشہ مجھے اپنی جانب کھینچا۔ایک تو یہ دکھائی نہیں دیتے مگر کام پورا پورا کرتے ہیں۔انھیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ کسی انسان پر قبضہ کر کے اپنی کارروائی ڈالتے ہیں۔گویا ایک خاص عرصے کے لیے آپ کو ہیک کر کے معمول بنا لیتے ہیں اور پھر ایک دن معمول کو بے یار و مددگار چھوڑ کے چمپت ہو جاتے ہیں اور کسی اور جسم میں حلول کر جاتے ہیں۔ کچھ آسیب جسم

Read more

ممتا بینرجی: بائیں بازو کی حکومت کو عرش سے فرش تک لانے والی ’دیدی‘ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ کیسے بنیں؟

سادگی ممتا کی زندگی کا ایک حصہ رہی ہے۔ سفید سوتی ساڑھی اور ہوائی چپل سے ان کا ناطہ کبھی نہیں ٹوٹا، چاہے وہ مرکز میں وزیر ہوں یا محض رکن اسمبلی، وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی ان کے لباس اور طرز زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

Read more

ڈیانا ایوارڈ جیتنے والی 22 سالہ پاکستانی لڑکی علینہ اظہر: ’لوگ کہتے ہیں خواتین کی تولیدی صحت پر بات کرنا بے شرمی ہے‘

بائیس سالہ علینہ اظہر لاہور کی کچی بستیوں میں رہنے والی خواتین میں تولیدی صحت کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر اس کام میں کئی چیلنجز بھی ہیں۔

Read more

بیڈ گورنس، سٹے بازی اور قلمی فالج

میرے میاں ایک کاروباری آدمی ہیں۔ ہمارے ایک رشتہ دار جو ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ ہیں کل ہمارے گھر آئے۔ وہ آتے ہی اپنا سر تھام کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے آغاز ہی کچھ ناقابل اشاعت گالیوں سے کیا اور فرمایا ”یہ فلاں کا پتر ہے اسے کون بتائے کہ یہ اب وزیراعظم ہے اور اس کا کام حکومت کرنا ہے اور اسے اب حکومت کرنی چاہیے مگر یہ لگاتار صرف ایک چورن بیچ رہا ہے، اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتا ہے، پتا نہیں نشے میں ہوتا ہے، آج ایک بات کرتا ہے کل دوسری بات کرتا ہے اور پھر جواب میں وہی راگنی چھیڑ دیتا ہے جو پچھلے تین سال سے جاری ہے۔

Read more

ماہواری کی ناہمواری: تالا کنڈا سب ٹھیک ہے!

نہ آئے تو شناخت مبہم، آ جائے تو شرمندگی! وقت سے پہلے آئے تو عذاب، رخصت جلد ہو جائے تو زندگی ویران! وقفہ کم ہو جائے تو خون کی کمی، دورانیہ طویل ہو جائے تو نقاہت! درد کے ساتھ آئے تو زندگی تعطل کا شکار، بے قاعدہ ہو جائے تو بانجھ پن! وہ گھبرائی ہوئی خاتون ایک پندرہ سولہ برس کی بچی کے ساتھ ہمارے کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ کرسی پہ دھم سے بیٹھتے ہوئے بولیں، “ڈاکٹر صاحب، میں

Read more

کھلے آسمان تلے جڑواں بچوں کی پیدائش میں مدد کر کے تین زندگیاں بچانے والا ریسکیو اہلکار

ریسکیو اہلکار محمد نعیم کا کہنا ہے کہ ان کے پہنچنے سے قبل پہلا بچہ تو کسی نہ کسی طرح جنم لے چکا تھا مگر دوسرے کی پیدائش کا عمل جاری تھا اور اس دوران خاتون کا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا جو ان کی زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتا تھا۔

Read more

بھارت سے تجارت اور کشمیر

انسان کی تمام تر زندگی کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس کی ساری زندگی ذریعہ معاش اور معیشت کے درمیان گول چکی کی طرح گھومتی ہے۔ تخلیق کائنات کے آغاز میں جب انسان کی آباد کاری میں فقدان تھا، انسان کی تگ و دو محض لقمہ حیات کی تلاش تک تھی۔ رفتہ رفتہ جیسے جیسے انسان آباد ہوتا گیا، اہل و عیال کے لیے ذمہ دار بنا دیا گیا اور یوں اس کی دوڑ اپنے لیے دو نوالوں کے

Read more

قتل ( افسانہ)

لوگ کردار مار دیتے ہیں لیکن سچائی زندہ رہتی ہے۔ کردار مارنے کے بھی دو طریقے ہیں ایک آلۂ قتل سے مارنا اور دوسرا آدمی جب کسی زبردست روحانی رشتے سے الگ کر دیا جاتا ہے اور وہ اس جدائی کا عادی نہیں ہو پاتا تو خود بخود مر جاتا ہے۔ آدمی کی اس سے بڑی بدنصیبی اور کیا ہو سکتی ہے کہ کسی چیز کا عادی نہ ہو پائے اور جو لوگ کسی چیز کے عادی نہیں ہو پاتے

Read more

وتایو فقیر، امر جلیل اور خدا

پہلی بار ممتاز مفتی کا سفرنامہ لبیک پڑھا اور کعبے کے لیے کوٹھے کا استعارہ اور اللہ سے آنکھ مٹکے کی بات دیکھ کر چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا لگا مگر پھر مولوی احمد دین کا سنایا ہوا موسیٰ اور گڈریے کا قصہ یاد آ گیا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

ملتان: ایک ہی ہسپتال سے آنکھ کا آپریشن کروانے والے سات افراد کی بینائی چلی گئی، ’مجھے پیسے نہیں، میری آنکھ واپس چاہیے‘

حال ہی میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ملتان کے لئیق رفیق ہسپتال میں 11 افراد کا آنکھ سے موتیا ہٹانے کا آپریشن کیا گیا جس کے بعد ان میں سے چند کی آنکھ میں انفکیشن ہو گیا اور سات افراد اپنی ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہو گئے۔

Read more

یہ جگر کے ٹکرے دیے نہیں جاتے پر دینے پڑتے ہیں

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں اس رسول ﷺ کی امت میں پیدا کیا۔ جو رسولوں کا سردار ہے۔ جو خاتم النبیین ہی۔ جس ﷺ کے آتے ہی کفر کے بدل چھٹ گئے اور اسلام کا بول بالا ہو گیا۔ جس ﷺ نے آ کر لوگوں کو بتایا کہ عورت کا مقام کیا ہے۔ یہ زندہ درگور کرنے کے لیے نہیں خدا کی طرف سے دی گئیں۔ آپﷺ نے عورت کے مقام اور مرتبے کے بارے میں

Read more

وبا کا موسم ایک نعمت بھی ہے!

ہمارے ہاں شادی بیاہ کی بے جا رسومات کے لئے اکثر ہندو مت کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر ان قباحتوں کو برا جانتے ہیں تاہم اپنی باری آنے پر کوئی ان سے جان چھڑانے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔ ایک اندازے کے مطابق مڈل کلاس پاکستانی گھرانوں میں عام درجے کی ایک شادی پر لڑکی والے قیمتی عروسی جوڑوں، زیورات اور جہیز میں دیے جانے والے سامان پر اوسطاً پچاس لاکھ روپے تک خرچ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں طرف بارات اور ولیمے کی مد میں اوسطاً دس سے بیس لاکھ روپے درکار ہوتے ہیں۔

ہمارے دین میں جہیز اور بارات جیسی تقریبات کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ہر خاص و عام کے علم میں ہے کہ انہی خرافات کی بناء پر ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بیٹی کی پیدائش سے ماں باپ کے کندھے جھک جاتے ہیں۔ بہت سی دیگر معاشرتی وجوہات اپنی جگہ تاہم اس بوجھ کی بنیادی نوعیت معاشی ہی ہے۔

Read more

فیمینزم مرد سے نفرت نہیں مرد سے خود کو انسان منوانا سکھاتا ہے

وہ بس بارہ سال کی ایک بچی تھی۔ بدقسمتی سے ایک مہینہ پہلے ہی اسے پیریڈز شروع ہوئے تھے۔ اگلے مہینے جب وہ گلی میں بچوں کے ساتھ بنٹے کھیل رہی تھی۔ اسے گھر لا کر نہلا دھلا کے تیار کر دیا گیا۔ پتہ چلا اس کا رشتہ طے ہو گیا۔ چند دنوں میں کچھ ضروری ساز و سامان تیار کیا گیا۔ زیور کا سیٹ ماموں نے دیا۔ مشہور زرگر جو تھے۔ کیسے نہ دیتے۔ مل ملا کر چیزیں بن گئیں اور چند دنوں میں ہی شادی کا دن آ گیا۔ پھپھی کی شادی بھی ساتھ ہی طے ہوئی۔

رشتے طے کرنے والے بہت سیانے تھے۔ بھتیجی کے لیے جو خاوند چنا وہ عمر میں اس سے دوگنا تھا۔ پھپھی کے لیے لیے جو خاوند چنا وہ اس سے عمر میں کئی سال چھوٹا تھا۔ شادی ہو گئی۔ اور شادی کی پہلی رات اس بچی نے اپنے خاوند کو پہلی بار دیکھا۔ اور فرمائش کی کہ وہ اپنا موجودہ کام چھوڑ کے کوئی اور کام کریں۔ اس کی سہیلیاں مذاق اڑاتی ہیں۔ خاوند نے آؤ دیکھا نہ تاؤ سامان باندھا۔ خط لکھا۔ اور گھر سے چلا گیا۔ بچی چپ کر کے سو گئی۔ صبح دم جو ہنگامہ ہوا وہ الگ۔ بچی قصوروار کہ خاوند سے کیا کہا ہو گا جو وہ چلا گیا۔ قصہ مختصر دو سال بعد خاوند کو ڈھونڈ ڈھانڈ کے لایا گیا۔ تا کہ وہ اپنی آنے والی نسل کی بربادی کا بیج بو سکے۔

Read more

بے نظیر کے جذبات اور جنرل ضیا کا مشورہ

جب بھٹو کو تختہ دار پر چڑھایا گیا تو ان کی اہلیہ نصرت بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کو سہالہ کے ریسٹ ہاؤس میں نظربند رکھا گیا تھا۔ ماں بیٹی کو بھٹو کی تدفین سے قبل اور فوری بعد کی رسومات میں شرکت کی اجازت نہ دی گئی۔ خطرہ یہ تھا کہ دونوں ضیا حکومت کے خلاف کوئی عوامی احتجاج ہی شروع نہ کردیں۔

4 اپریل 1979 کو اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بھٹو کی پھانسی کے کم و بیش ایک ماہ بعد ضیا الحق کو نجانے کیا خیال آیا۔ انہوں نے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر پنڈی سعید مہدی، مقامی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بریگیڈئیر راحت لطیف اور ایس ایس پی راولپنڈی جہانزیب برکی کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں نظربند نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے پاس ایک پیغام دے کر بھیجا۔

Read more

خدا کی بستی میں بستا سائیں امر جلیل

پولیس کے چاق و چوبند دستے گاڑیوں سے اتر رہے ہیں اور پھرتی سے یہاں وہاں پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔ نیچے سڑک پر اوپر عمارتوں پر شکرا نظر بندوقچی سانس بند انداز میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ خاتون نے گھر کی طرف بڑھتے بڑھتے ایک اچھلتے پھدکتے افسر سے سہمے ہوئے انداز میں پوچھا، خیر تو ہے کون سا قیامت آ گیا ہے؟ افسر بولا، وزیر اعظم آ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی خاتون کی سانس بحال ہو گئی۔ طنزیہ سے انداز میں مسکرائی اور بولی، مڑا اچھل کود تو تم لوگوں نے ایسا لگا رکھا ہے، جیسے ڈپٹی کمشنر آ رہا ہے۔

Read more

یادیں: میری ماں اور بھرے بھڑولے

بھڑولہ تقریباً ہر شخص کے لیے معلوم اور مقبول لفظ ہے۔ یہ مٹی یا جستی چادر سے بنا بڑے سائز کا ڈرم نما ذخیرہ ہے جس میں گندم یا چاول محفوظ کیے جاتے ہیں۔ آنے والے پورے سال کے لیے گندم اس میں محفوظ کر لی جاتی ہے۔ بھڑولہ سالانہ بنیادوں پر گندم کی اپنی ضرورت کے مطابق بھرا جاتا ہے۔ واصف علی واصف نے اپنی ایک کتاب بھی ”بھرے بھڑولے“ کے نام سے معنون کی تھی۔ اس کتاب میں

Read more

گستاخ اکبر، بے چاری ماں اور محب اللہ

محب اللہ: تم تو سب جانتی ہو ماں اکبر کیسا ہے، پھر بھی انجان بن رہی ہو۔ اس نے تمہارے بارے میں جو کہا میں دہرا نہیں سکتا۔ مگر تم تو جانتی ہو کہ وہ تمہارے بارے میں کیا کہتا ہے۔ ماں : مجھ سے تو وہ کبھی کچھ نہیں کہتا، کوئی فرمائش، کوئی شکوہ کوئی التجا نہیں کرتا۔ محب اللہ : یہ ہی تو کہہ رہا ہوں ماں وہ گستاخ ہے، تم سے مانگنا اسے پسند نہیں۔ ماں :

Read more

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

میں سمجھتی ہوں میرا اپنی زبان سے تعلق اور اس میں دلچسپی میری ماں کی وجہ سے ہے کیونکہ ماں پہلی درسگاہ ہونے کے باعث جس زبان سے محبت کرتی ہے، اسے اپنے بچے میں شعوری اور لاشعوری طور پر منتقل کرتی ہے۔ میری ماں کو اردو زبان سے بہت محبت ہے اور انہوں نے ہمارے ساتھ اردو نہ صرف بولی بلکہ فرسٹ ائر تک پہنچتے پہنچتے اردو نظم اور غزل کی نصابی تیاری کے بہانے مجھے کوئی ڈیڑھ سو

Read more

مونا لیزا کی مسکراہٹ والی اداکارہ دیبا

ساٹھ اور ستر کی دہائی کا عرصہ کئی اعتبار سے ہماری فلمی دنیا کا سنہری دور ہے۔ اس دور میں فلم نگر کے گلشن میں مختلف شعبوں میں نئے لوگ متعارف ہوئے جنہوں نے آگے جا کر اپنے اپنے میدانوں میں نئی تاریخ رقم کی۔ ایسا ہی ایک نام اداکارہ دیبا کا بھی ہے۔ حال ہی میں ان سے ایک نشست رہی جس کی کچھ دل چسپ باتیں قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں : ” فلم میں کام کرنا

Read more

وہ لڑکی ہے اس لیے نہیں کر سکتی

”وہ لڑکی ہے اس لیے نہیں کر سکتی“ کیا یہ جملہ ہمیں عموماً سننے کو ملتا ہے؟ چاہے یہ کوئی جاب ہو، کھیل ہو یا کچھ بھی ایسا ہو جو ہمارے لوگوں کی نظر میں لڑکیاں ہیں، نہیں کر سکتیں۔ اس چیز کو لڑکیوں کے لیے روک دیا جاتا ہے۔ نہ جانے کتنے برس گزر گئے۔ کتنے لوگوں نے آواز اٹھائی۔ پر ہمارے اکثر لوگوں کی سوچ نہ بدلی۔ لڑکیوں کو ہمیشہ نازک، بزدل، کمزور سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ عورت گھر چلاتی ہے۔ کھانے پینے سے لے کر صفائی اور بچوں کی پڑھائی، ان کے کپڑے اور اگر جوائنٹ فیملی ہو تو دوسرے گھر والوں کو بھی دیکھنا اس کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔

Read more

لوک گلوکار شوکت علی کا انتقال: ’انہیں جتنی عزت ملنی چاہیے تھی وہ نہیں دی گئی‘

جب بھی پاکستان میں لوک موسیقی کی بات ہوگی۔ گلوکار شوکت علی کا نام سرِ فہرست ہو گا انہوں نے امریکہ، برطانیہ اور بھارت سمیت دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ فلموں میں گلوکاری اور اداکاری کے ساتھ ان کی دو شعری مجموعے بھی کافی مقبول ہوئے۔ جگر کے عارضے میں مبتلا 77 برس کی عمر میں اس گلوکار کے انتقال کی خبر سے پنجابی اور اردو گیت سننے والوں کو دکھ پہنچا۔

شوکت علی تین مئی 1944 کو لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں میاں فقیر بخش کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق ضلع گجرات کے علاقے ملکوال سے تھا۔ ان کے والد پیشے کے اعتبار سے درزی تھے۔ وہ انہیں پہلوان بنانا چاہتے تھے لیکن بڑے بھائی عنایت علی نے، جو خود بھی ایک لوک گلوکار تھے، شوکت علی میں موسیقی سے لگاؤ دیکھا اور ان کی رہنمائی کی۔

Read more

سلاخوں کے پیچھے تنہائی کا درد: نیویارک میں 15 دن سے زیادہ قید تنہائی پر پابندی، لیکن ہزاروں اس رعایت سے محروم

وبا سے پہلے امریکہ میں قید تنہائی کاٹنے والے افراد کی تعداد اندازاً 60 ہزار تھی جو بڑھ گئی ہے کیونکہ کووڈ کی وجہ سے قیدیوں کو ان کے سیلز تک محدود کر دیا گیا ہے۔

Read more