کوڑے دان میں سوٹ کیس

کوٹری کے مقام پر دریائے سندھ پر ایک 900 میٹر لمبا بیراج ہے جسے غلام محمد بیراج کہا جاتا ہے عام لوگ اس جگہ کو کوٹری کا پل کے نام سے پہچانتے ہیں جو دریا کے ایک کنارے کو دوسرے کنارے سے متصل کرتا ہے۔ دریا کنارے لوگوں کے کچے پکے گھر ہیں جب دریا چڑھتا ہے تو پانی گھروں میں در آتا ہے لوگوں کی مال متاع برباد ہو جاتی ہے مگر جب پانی اترتا ہے تو پھر یہیں

Read more

جنس اور قلعہ: بدلتے ہوئے عرب معاشرے میں نجی زندگی

شیریں ال فیکی 1968 میں  برطانیہ میں  پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مصری اور والدہ ویلش تھیں۔ شیریں نے کینیڈا میں میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم پائی۔ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد انہیں عربی زبان اور ثقافت میں  گہری دلچسپی پیدا ہو گئی۔ انہوں نے مصری معاشرے میں عورتوں کی آزادی اور جنسی اقدار کے بارے میں  گہری تحقیق کی۔ ان کی کتاب "جنس اور قلعہ: بدلتے ہوئے عرب معاشرے میں نجی زندگی” 2013 میں شائع ہوئی۔ شیریں

Read more

شب برات کی اہمیت و فضیلت

اللہ رب العزت کی صفات میں سے رحیم اور کریم ایسی صفات ہیں جن کے باعث بڑے سے بڑا گناہ گار بھی اللہ کی جانب پوری امید سے رجوع کرتا ہے کہ میرا رحیم کریم میرے گناہوں کو بخش دے گا۔ اللہ تعالی ’نے بھی اپنے بندوں کو اپنے اعمال دھونے کے کئی مواقعے دیتا ہے۔ شب برات بھی ان خاص ایام کے قبیل سے تعلق رکھنے والی ایک اہم رات ہے، جس میں احساس زیاں کو اجاگر کرنا مقصود

Read more

میں ایک ریت کا زرہ

روح زمین پر جب پہلا انسان پیدا ہوا تو اسی دن سے انسان کی قدر و قیمت اس کا مقام، کردار، رتبہ، اور اس کی ذاتیات کو پرکھنے کے لے طرح طرح کے کلیات بتائے گے اور سوچا گیا کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کیسے یقین کی شمع کو جلا سکتا ہے۔ اس فانی دنیا میں ہزاروں چہرے آئے اور اپنی زندگی کے ایام پورے کرنے کے بعد اپنی حقیقی زندگی یعنی آخری منزل کی طرف روانہ ہوگے۔

Read more

میرا بچہ منفرد ہے 3

اپریل کے مہینے کو پوری دنیا میں اوٹزم آگاہی مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے اور 2 اپریل عالمی یوم اوٹزم ہے، لہذا یہ مضمون اس اعصابی مسئلے کے بارے میں آگہی پھیلانے کی ایک سعی ہے۔ اس سلسلے میں اس سے پہلے بھی دو مضامین لکھے جا چکے ہیں جن میں اوٹزم کی بنیادی تعریف، بنیادی اصطلاحات، تشخیص اور درجہ بندی کے بارے میں چیدہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تھی تاکہ ہم اوٹسٹک افراد کو

Read more

کیا اِنسان تعصب سے آزاد ہو سکتا ہے؟

ماہرین نفسیات کی غالب اکثریت کی یہ متفقہ رائے ہے کہ آپ اگر ایک انسانی دماغ کے حامل ہیں تو پھر آپ متعصب ہیں۔ تعصب انسانی دماغ کی ساخت میں موجود ہے۔ تعصب اور انسانی دماغ کا وہی رشتہ ہے جو چکوری کا چاند کے ساتھ ہے۔ انسان جو کائنات میں تخلیق کا شاہکار ہے جب رنگ، نسل، زبان، عقیدہ یا پھر قومیت کے سبب تعصب اور بدظنی کا شکار ہوتا ہے تو پھر وہ آسمان سے گر کر کھجور

Read more

آدرش : صلاح الدین عادل کے ناول ”خوشبو کی ہجرت“ سے ایک اقتباس

(آج اردو کے معروف ادیب، فلسفی اور دانشور شیخ صلاح الدین کی برسی ہے۔ ) دور گھوڑوں کے فارم کے وسیع سبزہ زار میں چاندنی سبزے کا وصف بنی سو رہی تھی۔ یکایک سبزے کے مشرقی کونے کی پستہ قد عمارت میں سے ایک سفید گھوڑا اور گھوڑے کی اوٹ میں آدھا چھپا ہوا ایک آدمی اس کو ایال سے پکڑے سبزہ زار پر نکل آئے۔ سبزہ زار کے وسط میں پہنچ کر آدمی زمین پر بیٹھ گیا اور اس

Read more

دیسی سبزی کہاں سے لاؤں؟

ماں جی نے کہا پتر آج بازاروں جا کے دیسی لہسن تے لایا دے۔ اس وبائی دور اچ مینوں ہن اپنی دیسی سبزی تے اعتبار ہے۔ چین توں کوروں ا وی آیا تے ہن سبزیاں وی اوتھوں آ ریا نیں۔ بازار جا کر تلاش کیا سبزی فروشوں کے چکر لگائے ہر ایک کے پاس لہسن تو تھا پر چائنہ کا۔ مجبور ہو کر چائنہ کا لہسن ہی خریدہ۔ گھر آ کر ماں جی کوبازار کا حال دیا۔ تو انہوں نے

Read more

میرا بچہ منفرد ہے۔ دوسرا حصہ۔

اپریل کا مہینہ پوری دنیا میں آٹزم آگاہی مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دو اپریل عالمی یوم آٹزم ہے۔ لہذا ایک سات سالہ آٹسٹک بچے کی ماں ہونے کے ناتے ہم نے اس کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہماری اولاد اور ایسے کئی بچے جس معاشرے میں پروان چڑھیں وہاں ان کا مذاق اڑانے کے بجائے، انہیں ماں باپ کے گناہوں کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے، ان کے لیے زندگی آسان کی

Read more

محبت کاروبار اچھا ہے

زندگی کیا ہے؟ اس کے اسرار سمجھنے کی جتنی کوشش کرتی ہوں، اتنا ہی الجھتی جاتی ہوں۔ جینے کی امنگ میں روز مرتی ہوں۔ کیا ہے یہ زندگی، ہر روز اک نئی موت کا سامنا۔ ہر دن ذات کی نفی، خودی کی تذلیل۔ صرف اس لیے کہ میں ایک عورت ہوں۔ جس کی پیدائش پر آنسو بہائے جاتے ہیں۔ اور دوسروں کے بہائے آنسو ہمیشہ کے لیے اس کے مقدر میں لکھ دیے جاتے ہیں۔ مرد کی خواہش پوری کرنے

Read more

مودی کا خط اور کرشن چندر کا ”غدار“

حسین اتفاق کی طرف جانے سے پہلے میں یہ بتا دینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ ہم بہت ہی کوئی جذباتی قسم کی قوم ہیں۔ ہمارے ہاں ایک چٹکلا بولا جاتا ہے کہ ”آپ بس کھڑے ہونے کی اجازت دیں بیٹھنے کی جگہ ہم خود بنا لیں گے“ مودی کا خط آیا نہیں کہ ہم پاک بھارت مذاکرات سے ہوتے ہوئے کرکٹ میچ تک طے کر بیٹھے، اور کچھ ذرائع تو بھارتی کرکٹ لیگ (آئی، پی ایل) میں پاکستان کے کھلاڑیوں کی شمولیت کی خبر بھی دے رہے تھے، یہ وہی بات ہو گئی کہ کسی نے ہاتھ دکھایا ہو اور ہم نے پورا بازو ہی کھینچ لیا، آب آتے ہیں حسین حقانی کی طرف نہیں نہیں معاف کرنا حسین اتفاق کی طرف ہوا یوں کہ جب یہ پیار بھرا خط سرحد پار کر رہا تھا اس وقت میں کرشن چندر کا ناول ”غدار“ ہاتھ میں لئے سن 47 کی ہجرت میں کھویا ہوا تھا۔

Read more

اپنے آپ میں مگن آٹسٹک بچے اور ہمارا رویہ

”یہ وہ بچے ہیں جو ’امی آپ کا ڈھیر سارا شکریہ‘ کہنے سے قاصر ہیں۔ ماؤں کے لئے یہ انتہائی تکلیف دہ ہوگا۔ بیشتر مائیں رنجیدہ ہوجاتی ہوں گی کہ انہیں مدرز ڈے پر کوئی چھوٹا سا تحفہ یا چند پھول بھی نہیں ملتے۔ میں کبھی بھی ان ماؤں کا کرب پوری طرح سمجھ نہیں پاؤں گا۔ لیکن مجھے یہ ضرور علم ہے کہ یہ تمام بچے جو ایک دفعہ دل بھر کے اپنی ماؤں کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے۔ جو اپنی امی کا ہاتھ تھام کر کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں آپ سے بے پناہ محبت ہے اور آپ ہمارے لئے جو کچھ کرتی ہیں ہم اس سب کے لئے بے حد شکرگزار ہیں لیکن یہ کر نہیں سکتے۔ میں بھی ایک ایسا ہی بچہ ہوں۔ میں تو ایک اتنا سا ’تھینک یو‘ بھی نہیں کہہ سکتا۔ کیسی بد نصیبی ہے اور کیسا ظلم ہے“

Read more

گولڈن گرلز- ایک بے گھر آدمی اور ہمدرد عورت

اس تجربے سے ہم نے بہت جلدی سیکھ لیا تھا کہ آدمیوں کو اصلی یا نقلی خدا نہ سمجھیں، بلکہ اپنی طرح کا انسان ہی سمجھیں تو بہتر ہے۔ ہم سب کی ویب سائٹ پر رائٹ ونگ تبصرے دیکھتی رہتی ہوں۔ یہ شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانے والے افراد ہیں۔ ان کے خیالات کو پڑھنا کہ خواتین کا کیا کردار ہونا چاہیے یا ان کو زندگی میں کیا کرنے کا اختیار ہونا چاہیے وہ بالکل غیر ضروری اور وقت کا زیاں ہیں۔ ان میں سے کئی وہ تمام کام خود کرچکے ہیں جن پر تنقید ہو رہی ہے اسی لیے وہ اس کے ذکر سے بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس لیے میرا گولڈن گرلز کے لیے یہی مشورہ ہے کہ آپ ان سے انفرادی مباحثے پر وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے راستے پر چلتی رہیں۔ ان کو چھوڑ کر آگے نکل جائیں۔

جب فارغ آدمی خواتین اور بچیوں کی زندگی مشکل بناتے ہیں تو ان تمام کاموں میں رکاوٹ کھڑی ہوتی ہے جو یہ خواتین نہیں کر پائیں گی۔ اس سے یہ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ ایک دن ان کو ہارٹ اٹیک ہوتا ہے اور ان کے گرد کسی میں اتنی تعلیم نہیں ہوتی کہ مدد کرسکے۔ جہاں خواتین خوف و ہراس میں زندگی گزاریں تو وہ اپنی تعلیم میں اضافہ کرنے اور اپنی پروفیشنل زندگی میں ترقی کرنے کے بجائے واقعی ایک سبزی بن جاتی ہیں جس کو اپنی اور اپنے بچوں کی بقا کے لیے چڑیل کی طرح سوتیلی ماں بننا پڑتا ہے۔

Read more

ڈیرک چاؤن کیس: جارج فلائیڈ کی نئی ویڈیو جس میں وہ پولیس افسران سے التجا کر رہے ہیں

مقدمے کی سماعت تیسرے روز مبصرین نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے گرفتاری سے قبل اور اس دوران جارج کی حرکات و سکنات کی ویڈیو دکھانے کا مقصد یہ کوشش ہو سکتی ہے کہ منشیات کے استعمال نے ان کی موت میں ایک کردار ادا کیا۔

Read more

وبا کے ڈپریشن بھرے دنوں میں لکھا گیا ایک پرانا خط

جان سے پیاری حفصہ عامر! السلام علیکم۔ سب سے پہلے تو یہ دعا کرو یہ خط جان محمد نہ پڑھے، کہیں برا ہی نہ منا جائے نا، سمجھا کرو۔ ہاں! سچل اب بہتر ہے، انگلی کی اسکن گرافٹنگ ہو چکی ہے، دعا جاری رکھنا اس کے لئے۔ اچھا تو پیاری راج دلاری! آپ کیوں پریشان ہوتی ہو؟ کیوں دنیا غم کا گھر لگ رہی ہے؟ آپ جو پہلے ہی ذہن میں بلاوجہ امڈتے چکراتے سوالوں سے بے حال تھیں، اب

Read more

انگریزوں نے قلعہ لاہور سے جو خزانہ لوٹا۔ وہ جمع کس طرح ہوا تھا؟

چند روز قبل مکرمی اکمل سومرو صاحب کا ایک معلوماتی کالم ”انگریزوں نے قلعہ لاہور سے کتنی دولت لوٹی؟“ ہم سب پر شائع ہوا۔ اس کالم میں اس دور کے حالات بیان کیے گئے ہیں جب 1848 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب پر قبضہ کر کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے کم عمر بیٹے مہاراجہ دلیپ سنگھ کی حکومت ختم کر دی اور پنجاب کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ اور اس قبضہ کے نتیجہ میں قلعہ لاہور میں

Read more

درویش کی کٹیا، زرتشت اور گاتھاز

مجھے نوجوانی کا وہ دور اچھی طرح یاد ہے جب میں اپنی محبوب کتابوں کے عشق میں گرفتار ہو گیا تھا۔ میں پشاور صدر کی آرٹس کونسل کی لائبریری میں باقاعدگی سے جاتا اور ہر ہفتے دو چار کتابیں لے آتا۔ جب وہ کتابیں واپس کرنے جاتا تو چند اور کتابیں لے آتا۔ ہر کتاب پر خفیہ نشان لگاتا تا کہ پتہ چلے کہ میں نے کون سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔ ہر دفعہ لائبریری کے کسی اور حصے کے شیلف سے کتابیں لیتا

کبھی ادب کبھی فلسفے کے شیلف سے
کبھی مذہب کبھی روحانیات کے شیلف سے
کبھی نفسیات کبھی سماجیات کے شیلف سے
کبھی شاعری کبھی افسانوں کے شیلف سے

Read more

سب کے سامنے اپناؤ ورنہ بھاڑ میں جاؤ

گولڈن گرل رابعہ الربا نے اپنے کالم ’اچھا اور گندا لمس‘ میں ایک جملہ لکھ کرمنافقت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا۔ ”جو مجھے دنیا کے سامنے پا نہیں سکتا، میں اس کو چھپ چھپا کے چاہ نہیں سکتی۔“ اس جملہ کی داد نہ دینا منافقت میں حصہ داری کے مترادف ہے۔ ایک افسانہ حاضر خدمت ہے۔ وہ اردگرد کے ماحول سے بے نیاز پانی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ جب سے وہ پول کی حدود میں

Read more

آپ اپنے وطن کی عورتوں کے ریپ پر بات کیوں نہیں کرتے؟

عورت مارچ پر میں نے ایک حضرت کے پلے کارڈ کی دل سے تصویر بنائی تھی۔ میں نے اخلاقی اصولوں کے تحت پہلے اجازت طلب کی اور پھر تصویر لی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ صاحب ہمارے ہی مارچ میں آ کر ہمارے ہی خلاف میڈیا پر زہر اگلیں گے۔ ان کے پلے کارڈ پر لکھا نعرہ ان مسلمان خواتین کے لئے تھا جن کا کوئی وطن نہیں۔ فیمنزم کے نزدیک کوئی جغرافیائی، مذہبی، معاشی، نسلی یا قومی تفریق نہیں

Read more

پیپلز پارٹی میں کوئی ایون (Iván Fernández Anaya) نہیں!

اس کا نام آبیل کپروپ مطائی تھا۔ وہ لمبی دوڑ (Long Race) کے کھیل کا کھلاڑی تھا۔ ہر کھلاڑی کی طرح گولڈ میڈل جیتنا اس کا بھی خواب تھا۔ آج وہ اپنی تمام ترتوانائی کے ساتھ دوڑ رہا تھا جبکہ اس کی منزل اس سے کچھ قدموں کے فاصلے پر تھی۔ آبیل کپروپ مطائی (Abel Kiprop Mutai) اختتامی لائن سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر تھا جب اسے وہ الجھن لاحق ہوئی جس نے پوری دنیا میں اخلاقیات کا

Read more

خواجہ سرا اور خالق کی مرضی

کچھ عرصہ قبل شدید جاڑے کے موسم میں، دکان سے باہر بیٹھا سورج کی گرم شعاعوں سردی لطف اندوز کر رہا تھا کہ اچانک بازار کے ہجوم میں۔ ایک گم سم فرد دیکھا۔ یہ ایک غیر ارادی نظر تھی مگر ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی انجان اور اجنبی ہو۔ اسے ابھی ابھی ایک دوسری دنیا سے ٹھیک اسی جگہ اتارا گیا ہوں جہاں وہ کھڑا تھا۔ چپ ایسے کہ جیسے منہ میں زباں ہی نہ ہو، بس ایک ہاتھ کچھ فاصلے سے ہر راہ گزرتے آدمی کے سامنے پھیلا دیتا۔ واضح نظر آ رہا تھا کہ وہ بھیک نہیں مانگنا چاہ رہا۔ مگر تاثر یہ تھا کہ وہ کسی حکم کی تعمیل کر رہا ہوں۔ اسے یہ حکم بجا لانا ہے۔ یہ فرض ادا کرنا ہے کہ جیسے آسمان سے کوئی حکم ہو۔

Read more

ایبٹ آباد کے نزدیک تیندوے کی موت: کیا زخمی ہونے والا شخص خود تیندوے کے پاس گیا؟

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک تیندوا اور ایک شخص گتھم گتھا ہیں اور زخمی شخص اپنی جان بچانے کی جدوجہد کررہا ہے۔ اتنی دیر میں ایک نوجوان پیچھے سے آتا ہے اور تیندوے کے سر پر ڈنڈوں کے وار کر کے اس کو موقع پر ہلاک کر دیتا ہے۔

Read more

پورے سماج کو علاج کی ضرورت ہے

کیمیکلز ہماری زندگی میں شامل ہیں‘ کیمیکل چیزیں بناتے ہیں‘ رنگ بناتے ہیں‘ ذائقے اور خوشبو کو محفوظ کرتے ہیں‘ کچھ کیمیکلز ہمارا موڈ بدلتے ہیں‘ ہماری کڑوی زبان پر میٹھے لفظوں کا جھرنا جاری کرتے ہیں۔ ہماری اداسی کو خوشی میں بدل دیتے ہیں اور ہم دنیا سے بیزار رہنا چھوڑ دیتے ہیں‘ یہ کیمیکل اس قدر آسانی سے مل سکتے ہیں مجھے اندازہ نہیں تھا‘ پہلے ان کیمیائی مادوں کو جان لیتے ہیں پھر ان کی کمی کے

Read more

محبت نامے لکھنے والی لڑکی

”میں نے تو سنا تھا کہ لوگ موت کے خوف سے محبت اور چٹھیاں سب بھول جاتے ہیں“ اس نے خط کو تہہ کر کے الماری میں رکھا جہاں اس کا آرائشی سامان اور زیور رکھے تھے۔ یہ دل کی شکل کی ایک سنہری ڈبیہ تھی۔ اور ہاتھ میں رکھی رقم کو دیکھنے لگی۔ لوگ نہیں جانتے تھے کہ اس کا اصلی نام بلیو بیل تھا۔ سب لوگ اسے محبت نامے لکھنے والی لڑکی کے نام سے جانتے تھے۔ اس

Read more

حسینہ! کہاں چلی گئی ہو

زندگی میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن سے ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوتی مگر جب بھی کہیں ان کے بارے کچھدیکھیں یا پڑھیں تو عجیب سی مسرت ہوتی ہے، وہ بہت اپنے اپنے محسوس ہوتے ہیں اور ہم یہ اعتراف کرتے ہیں حسینہ کہ تم بھی ان ہی لوگوں میں سے ہو، تم ہمارے لڑ کپن اور جوانی کی سنہری یاد ہو۔ حسینہ کہاں ہو تم، کہاں چلی گئی ہو؟ میں تم سے ناراض ہوں کہ تمہیں کیاحق ہے

Read more

رات کی رانی ::افسانے :: رابعہ الربا

خوبصورت سرورق اور خوبصورت نام والا یہ افسانوں کا مجموعہ کچھ برس پہلے شائع ہوا لیکن شومئی قسمت سے مجھے پڑھنے کو ابھی میسر ہوا۔ اس پر بہت سے اہل قلم نے بہت کچھ لکھا ہوگا۔ کتاب کے مطالعے کے بعد میں نے سوچا کہ اب اتنے عرصے بعد میں اس پر کیا لکھوں لیکن اس مجموعے کے افسانوں نے لکھنے کی انگیخت ”مٹھی“ نہیں ہونے دی۔

Read more

میرا بچہ منفرد ہے

آج کی تحریر میرے لیے مشکل ہے۔ جب انسان اپنے دکھ کے بارے میں لکھتا ہے تو الفاظ کا چناؤ بہت سلیقے سے کرنا پڑتا ہے، وگرنہ لوگ ہمدردی کی بھیک کاسۂ دل میں ڈال دیتے ہیں۔ اور یہ ادراک نہیں کر پاتے کہ ہر دکھ ہمدردی سمیٹنے کے لیے ظاہر نہیں کیا جاتا، کچھ زخموں کی نمائش دوسروں کی تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ پانچ سال قبل وفاقی دارالحکومت میں وہ مارچ کا ہی ایک

Read more

جانی خیل واقعہ۔ مزید غلطیوں سے ریاست کے وجود کو خطرے میں نہ ڈالیے

یوں تو پختونوں کو مذہب کے ساتھ جذباتی وابستگی کی وجہ سے افغانستان میں امریکہ کے لئے لڑی جانے والی جنگ میں جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے استعمال کیا جا رہا ہے لیکن افغانستان میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے طالبان تخلیق کرنے کے بعد انھیں پراکسی جنگوں میں وسیع تر ملکی مفاد اور تزویراتی گہرائی کے ناموں سے استعمال کیا جانے لگا۔ نائن الیون کے بعد افغانستان میں برسرپیکار گڈ طالبان اور اس قبیل کے دوسرے غیرملکی

Read more

بزرگ خواجہ سرا علیشا رضوی کی دکھ بھری داستان‎

سید محسن علی شاہ رضوی عرف علیشا رضوی پچپن سالہ بیمار اور بے یارو مدد گار خواجہ سرا ہیں۔ جن سے خاندان والوں نے بچپن میں ناتا توڑ لیا تھا اور معاشرے نے کبھی قبول ہی نہیں کیا۔ چند ماہ قبل شوگر کی وجہ سے علیشا کی ایک ٹانگ کاٹ دی گئی جس کی وجہ سے مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔ اس وقت علیشا اللہ سے عزت کی موت کی دعا مانگ رہی ہیں کیونکہ نہ حکومت ان

Read more

سورئی گٹہ کی دہشت اور ایک معصوم کلی کی خودکشی

ہر علاقے میں کائنات کا کوئی جزو یا چیز ایسی ہوتی ہے جو اس علاقے کے لوگوں کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچاتی ہے اور اسی وجہ سے یہ چیزیں اس علاقے کے لوگوں کے لیے تلخ یادیں چھوڑ جاتی ہیں۔ اس قسم کا کردار ضلع مالاکنڈ کے گاؤں جولگرام کی وادیٔ تری میں بہنے والے دریائے سوات میں ایک چٹان نے ادا کیا ہے۔ جو ”سورئی گٹہ“ (چٹان کے اندر سرنگ) کے نام سے مشہور تھا۔ گاؤں جولگرام وادیٔ

Read more

بارہ کہو، اسلام آباد: دو پولیس افسروں نے بندوق کی نوک پر یرغمال بنائے گئے کمسن بچوں کو کیسے بازیاب کروایا؟

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں ایک شخص نے بندوق کی نوک پر دو کمسن بچوں کو یرغمال بنا لیا۔ واقعے کا علم ہوتے ہی اسلام آباد پولیس کے ایس پی کیپٹن (ریٹائرڈ) حمزہ ہمایوں اور ایس ایس پی سید مصطفی ٰ تنویر نے آپریشن کا آغاز کیا اور چار گھنٹوں سے یرغمال بچوں کو بحفاظت بازیاب کرایا۔

Read more

انڈیا: نابالغ لڑکی اور اسے ’ریپ‘ کرنے والے کو اکٹھے باندھ کر جلوس نکالا گیا

انڈین ریاست مدھیہ پردیش کے قبائلی اکثریتی علاقے علی راج پور میں ایک نوجوان لڑکی کو ایک لڑکے کے ساتھ رسی سے باندھ کر پیٹا گیا اور پھر انھیں اسی حالت میں علاقے کا چکر لگوایا گیا۔

Read more

بنگلہ دیش کی آزادی کے 50 سال: خوراک کی قلت کا شکار بنگلہ دیش خود کفیل کیسے بنا؟

سنہ 1971 کے فوراً بعد بنگلہ دیش متعدد مشکلات کا شکار تھا اور اسے ’باسکٹ کیس‘ (بحران سے دوچار ملک) کہا جاتا تھا، لیکن آزادی کے ٹھیک 50 سال بعد اب بنگلہ دیش کو ایک معاشی کامیابی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تو اس سارے میں ایسا کیا بدلا اور یہ تبدیلی کیسے ممکن ہوئی؟

Read more

کیا آپ سیاہ فام موسیقار شاڈے کے روشن خیال نغموں سے واقف ہیں؟

میری ایک فنکارہ دوست نے پچھلے ہفتے جب مجھ سے پوچھا کہ آپ کی آنکھیں آخری بار کب پرنم ہوئی تھیں تو میں نے کہا پچھلے مہینے کی اس شام جب میں نے سیاہ فام موسیقار SADE کے روشن خیال نغمے سنے تھے۔ میں جذباتی انسان نہیں ہوں لیکن یوٹیوب پر ان کا نغمہ PEARLS سنتے اور وڈیو دیکھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک افریقی عورت کے غم کی شدت سے میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ اس نغمے

Read more

بے زبان مخلوق کے ساتھ صلہ رحمی

ہمیں اللہ تعالی نے افضل انسان بنایا ہے۔ اسی لیے ہمیں اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے۔ اس عظیم ذات نے ہم انسانوں کو بے پناہ خصوصیات سے نوازا ہے یہی وہ اوصاف ہیں جو ایک انسان کو دوسرے سے مختلف بناتے ہیں۔ اللہ تعالی نے اعلیٰ اخلاق سے نوازا ، دل عطا کیا،  جذبات عطا کیے ، دماغ عطا کیا۔ نہ صرف سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی بلکہ اپنی توانائیوں کو درست سمت میں لگانے کی ، غلط صحیح

Read more

وقت آج بھی کسی دُلے بھٹی کا منتظر ہے

دُلا بھٹی کی کہانی بہت کم لوگوں کو پتا ہے۔ اور زیادہ تر لوگ تو شاید نام سے بھی واقف نہ ہوں۔ میں ”کہانی“ کا لفظ اس لیے بھی استعمال کر رہا ہوں کیونکہ دلا بھٹی مؤرخین کے نزدیک بھی اہمیت کا حامل نہیں رہا اور اس کی داستان پرانے زمانے کی طرح سینہ بہ سینہ لوگوں تک پہنچتی رہی ہے۔

Read more

ارجنٹینا: وہ لڑکیاں جو اپنے والد کے ہاتھوں اذیتیں سہنے والے افراد کو انصاف دلوانا چاہتی ہیں

سنہ 1970 اور 80 کی دہائیوں میں ہزاروں لوگوں کو اذیت پہنچانے اور ’غائب‘ کرنے والے افراد کی بیٹیوں میں سے کچھ اب ارجنٹینا کی تاریخ کے اس سیاہ باب پر بات کر رہی ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ پُرتشدد فوجی انقلاب کے 45 سال بعد ان کے والد بھی اب انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوں۔

Read more

ہمارے ’بھگت سنگھ‘ چاہتے کیا ہیں!

سوشل میڈیا پر کئی انتہا پسند گروہ (cult) سرگرم عمل دیکھے جا سکتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں ہپیوں کا ایک گروہ (cult) بہت مشہور ہوا تھا۔ ’فری میسنز‘ کے نام سے ایک محدود ممبر شپ والی تنظیم کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہی جاتی ہیں۔ مغرب میں تمام تر آزادیوں کے باوجود ایک انتہا پسند گروہ کے خواتین و حضرات شہر کی سڑکوں پر وقتاً فوقتاً سرعام برہنہ پریڈ کر کے آج بھی اپنے نظریات کا اظہار

Read more

بنگلہ دیش کی آزادی کے 50 سال: ’بدقسمتی سے میں نے اس جنگ میں اپنے خاندان کے بہت سے افراد کو کھو دیا‘

پچاس سال پہلے بنگلہ دیش نے ایک تنازع کے بعد مارچ 1971 میں پاکستان سے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا چنانچہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی بنگالی ماں اور آئرش والد کے ہاں پیدا ہونے والی برطانوی گلوکارہ جوئی کروکس کے لیے مارچ کا مہینہ ایک جذباتی مہینہ ہے۔

Read more

کووڈ 19 میں حمل کی پیچیدگیاں اور سری لنکن سفیر

ماضی میں ایک زمانہ ایسا آیا تھا جب لالی ووڈ سینما کی فلموں کی عکس بندی شمالی علاقوں کی بجائے غیرملکی مقامات پہ ہونے لگی۔ ہمارے میڈیکل کالج کے دنوں میں کچھ اس طرح کے نام سننے کو ملتے، ہانگ کانگ کے شعلے، بنکاک کی بجلیاں ، مس کولمبو۔ کڑھتے ہوئے دل مسوس کے رہ جاتے کہ ہمارے تخلیقی جوہر کو نہ جانے کس کی نظر لگی کہ ماضی میں سنائی دینے والے سب نغمیت سے بھرپور دلفریب نام وقت

Read more

دو خلیوں سے ایک صحت مند بچہ کیسےبنتا ہے

اس نئی زندگی کو سہارا دینے کے لئے ماں کے پورے جسمانی نظام میں غیر معمولی تغیرات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ان گنت افعال اور کیمیائی عوامل پر مشتمل یہ متاثر کن آرکیسٹرا نو ماہ تک اپنا کورس جاری رکھتا ہے۔ حمل کے بائیسویں دن جرثومہ کے ایک مخصوص خلیے میں جب پہلی دفعہ خودکار دھڑکن جنم لیتی ہے تو طے ہو جاتا ہے کہ دل کی قیام گاہ اسی مقام پر ہو گی۔ ساتویں ہفتے میں دل کے چار خانے تشکیل پاتے ہیں اور اسی دوران گردے، جگر، پھیپڑے اور آنتوں کی کونپلیں پھوٹ رہی ہوتی ہیں۔ آٹھویں ہفتے میں قدم رکھتے رکھتے ننھے جنین کے بدن کے ایک حصے میں چہرے کی بنیاد پڑتی ہے۔ جبکہ دسویں ہفتے میں اس سے جڑی دم غائب ہو جاتی ہے۔

Read more

حسین کہانیوں کی خالق حسینہ معین

”بڑے بڑے گھروں میں لوگ بار بار گم ہو جاتے ہیں اور ان کو بار بار ڈھونڈنا پڑتا ہے“ ۔
ایسے کتنے ہی خوبصورت جملے تھے جو وہ اپنے کرداروں توسط سے ہم تک پہنچا دیتی تھیں اور وہ اندر ذہن کے کسی نہاں خانے میں جا کے سوچ میں جذب ہو جاتے تھے۔

حسینہ معین چل بسیں!

کل ان کے انتقال کی خبر ملی تو بہت رنج ہوا۔ حسین کہانیوں اور ڈراموں کا ایک عہد رخصت ہوا۔ ان کے الفاظ نے کہانیوں کی صورت جس طرح تفریحی اور خوبصورت انداز میں ہمارے معاشرے کی سوچ کو مثبت روش پہ ڈالنے کی کوشش کی تھی، اللہ تعالیٰ ان کو اس کا اجر عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔ آمین۔

Read more

بیٹیاں ہیں یا وٹے

گھر میں صفائی کے لئے ایک لڑکی آئی ہے۔ قد لمبا اور ہاتھ پاؤں مضبوط ہیں لیکن منہ میں چیونگم اور چہرے کے لاابالی پن سے چھلکتا ہے کہ کم عمر ہے اور بات چیت کرنے سے پتہ چل گیا کہ صرف چودہ سال کی ہے اور ایک مہینہ پہلے شادی ہو چکی ہے۔ جبکہ چند دن پہلے ماں ایک اور بچی کو دنیا میں لا چکی ہے۔ اب وہ چار بہنیں ہیں اور بھائی صرف ایک ہے۔ نو دس سال کا۔

کیا کام کرتا ہے تمہارا میاں؟
دیہاڑی کرتا ہے جو کبھی ملتی ہے کبھی نہیں ملتی۔
پھر شادی کی جلدی کیا تھی تمہارے ماں باپ کو؟
وہ جی میں وٹے میں گئی ہوں۔ اس کی بہن کی شادی میرے ماموں سے ہوئی ہے۔

Read more

پاؤں تلے سے نکلتی زرخیز زمین

پاکستان میں تحفظ ماحولیات کی وزارت نوے کے عشرے میں بے نظیر بھٹو کی دوسری وزارت عظمی میں قائم ہوئی۔ یہ قلمدان اتنا حساس سمجھا گیا کہ آصف علی زرداری کے سپرد کیا گیا۔ جنوبی ایشیا کے کسی بھی ملک میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی وزارت تھی۔

پاکستان پچھلے کم از کم دو عشروں سے ان دس ممالک کی سرخ فہرست میں شامل ہے جو دو ہزار پچاس تک ماحولیات کے منفی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

Read more

25 مارچ: حافظے کی کمزوری اور تاریخ کا بحران

روسی ادیب انتون چیخوف نے 1886میں ایک کہانی لکھی تھی، روسی زبان میں عنوان تھا Tocka، اردو میں ’دکھ‘ کہہ لیجیے۔ ایک بوڑھے گاڑی بان کا بیٹا کوزما آئیونچ نوجوانی میں چل بسا ہے۔ بوڑھا باپ ہر کسی سے اپنا دکھ کہنا چاہتا ہے مگر سواریوں کی اپنی اپنی دنیا ہے، اپنی ذات کی خود فریبی سے بندھی بے معنی بھاگ دوڑ۔ کسی کو شکستہ دل کوچوان آئیونا کی کتھا سننے کا دماغ نہیں۔ بالآخر دن ڈھل جاتا ہے۔ اپنے

Read more

حریم شاہ: خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ کی ساڑھے تین سال کی بچی سے ریپ، قتل کی تصدیق

حریم شاہ 24 مارچ کو لاپتہ ہوئی تھیں اور جمعرات 25 مارچ کو اُن کی لاش برآمد ہوئی جس پر تشدد کے نشان موجود تھے۔ پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد مقدمے میں قتل کے ساتھ ریپ کی دفعات بھی شامل کر لی ہیں۔

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کے جنم دن پر ’دل چارہ گر‘ کا تحفہ

26 مارچ، ڈاکٹر شیر شاہ کا جنم دن، کیا اس تاریخ کو پیدا ہونے والے ان ہی عادت و اطوار، خصوصیات کے حامل ہوتے ہوں گے جیسے ہمارے شاہ صاحب ہیں۔ کون سا وقت، کون سی دعا، کون سا برج، کون سا ستارہ کون سا سیارہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج نہ ستارہ، برج نہ سیارہ، شبھ گھڑی نہ دعا۔ ڈاکٹر عطیہ ظفر سی ماں، اور سید ابو ظفر سے باپ جن بچوں کے حصے میں آئیں تب ایک

Read more

ہم جنس پرستی کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟

ایک ہی جنس کے حامل افراد کے مابین پائے جانے والے جنسی میلان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ وراثتی یا موروثی ہے. انگلستان اور ویلز میں باہمی رضا مندی کے تحت قانون جنسی جرائم مجریہ 1967ء کے تحت اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ کئی دیگر ممالک میں بھی اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اسلام سمیت اکثر مذاہب میں یہ ناجائز اور سخت حرام ہے اور اس کا مرتکب مستوجب سزا ہے۔ ہم جنس پرستی

Read more

عورت کو بااختیار کیسے بنایا جائے؟

ہر پاکستانی اس بات سے واقف ہے کہ عورت کو بااختیار بنانے کے لیے صرف نیک نیتی کافی نہیں ہے۔ اور ان لوگوں پریقین کرنا مشکل ہے جو عورت کے اختیار کی بات کو صرف میڈیا کی حد تک کرتے ہیں، ان کی عملی زندگی میں اس بات کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عورتیں اپنے اختیارات کے لیے مارچ

Read more

دھان منڈی کی مالا اور لندن والا اپارٹمنٹ

پہلا خط امی کا تھا۔ میرے ایم آر سی پی (MRCP) پاس کرنے پر بہت خوش تھیں اور اب میری شادی طے کر دی گئی ہے، کسی جنرل جمال اختر چودہری کی دختر نیک اختر عذرا چوہدری کے ساتھ۔ خط کے ساتھ ایک فیملی گروپ فوٹو تھا جس میں جنرل صاحب اپنی وردی اور تمغوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ساتھ میں ایک خوبصورت سی، معصوم سی چھوٹی سی لڑکی تھی جو عذرا تھی، میری ہونے والی دلہن۔ اور بھی

Read more

’پہلا بچہ ہوگا جو اپنے ہی والدین کے ولیمے میں شرکت کر رہا تھا‘

حال ہی میں حافظ آباد میں ایک جوڑے کے چرچے سوشل میڈیا پر صرف اسی بنا پر پھیل گئے جب ان کی وہ تصاویر وائرل ہو گئی جس میں ولیمے کی تقریب میں دلہا دلہن اپنی گود میں اپنے نومولود بیٹے کو ساتھ لے کر ہال میں داخل ہوئے۔

Read more

کرینہ کپور دوبارہ ماں بننے کے بعد کام پر لوٹ آئیں

بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپور  اپنے دوسرے بچے کو جنم دینے کے بعد تقریباً ایک ماہ بعد کام پر لوٹ آئی ہیں۔ کرینہ کپور ڈلیوری کے بعد پہلی بار شوٹنگ کے لئے سیٹ پر پہنچیں۔ واضح رہے کہ 21 فروری کو کرینہ کپور اور سیف علی خان دوسری بار والدین بنے ہیں۔ ممبئی کے باندرہ علاقے میں کرینہ کپور خان کو اسپاٹ کیا گیا۔ کرینہ بیبی بلو رنگ کی ڈریس میں ہیل پہنے ہوئے نظر آئیں۔  بجے کے جنم کے

Read more

بنوں میں چار کم عمر دوستوں کا قتل: ’میں خوش ہوں کہ بیٹے کی قبر تو اپنے علاقے میں بنے گی‘

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں جانی خیل کے مقام پر اتوار کے روز چار نو عمر لڑکوں کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھیں۔ ان لڑکوں کو قتل کرنے کے بعد ندی کے قریب قبرستان میں دفن کر دیا گیا تھا۔ یہ لڑکے تقریباً 20 روز پہلے شکار کے لیے گئے تھے اور اس کے بعد سے لاپتہ تھے۔

Read more

ڈاکٹر کرامت اللہ مرزا: برطانیہ کے وہ پاکستانی نژاد ڈاکٹر جن کے جنازے میں پورا علاقہ سڑکوں پر تھا

جس وقت ڈاکٹر کرامت اللہ مرزا کا جنازہ اٹھا علاقے کے تمام لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر ان کی خدمات کے اعزاز میں تالیاں بجائیں۔ لوگوں کی آنکھیں بھرائی ہوئی تھیں۔ 84 برس کے ڈاکٹر مرزا کا گزشتہ برس کورونا وائرس کے باعث انتقال ہو گیا تھا۔

Read more

منافق مرد

میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے ساتھ اس سیریز پر کام کرنے کی پیشکش دی۔ گولڈن گرلز ایک بہت منفرد سیریز ہے جس کے تحت ہم دونوں وہ سب لکھ سکتی ہیں جو پہلے اپنی تحاریر میں نہیں لکھ سکیں۔ یہ سیریز دو خواتین لکھاریوں کے اشتراک سے وجود پا رہی ہے۔ ہم ایسا اشتراک عموماً مردوں کے درمیان ہی دیکھتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خواتین ایک دوسرے کے ساتھ کام نہیں کرتیں، کرتی ہیں پر عوام ان کے اشتراک سے زیادہ ان کے آپسی اختلاف میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

Read more

لفظوں کا جادوگر: وجاہت مسعود

الفاظ کی نفاست، خوبصورت انداز بیاں، تشبیہات کی بہتات، تشریحات کا استعمال، مثبت تنقید، استعارات کی فراوانی، شاعرانہ مثالیں، اردو اور انگریزی ادب سے مثالیں، لفظوں سے چھیڑ چھاڑ، نفاست، الفاظ کا بہترین چناؤ، تجسس، اور ذوق ، یہ سب ہم سب کے ایڈیٹر وجاہت مسعود کی تحریروں کے لازمی عناصر ہوتے ہیں۔ جمہوری سوچ رکھنے والے، انسانی حقوق کے نہ بکنے اور نہ جھکنے والے علم بردار وجاہت مسعود کی تحریریں یقیناً نئے لکھاریوں کے لئے مشعل راہ کی

Read more

لباس کی آنچ

’میں تو شبدوں کی پہیلی ہوں۔ ایک ہاتھ ایک طلسمی گھر ایک تربوز جو لڑھک رہا ہو ایک سرخ پھل ہاتھی دانت، صندل کی لکڑی وہ ریزگاری جو ابھی ابھی تازہ، ٹکسال سے نکلی ہو ۔ سلویا باتھ تاریکی کے پردے کو چیرتی ہوئی صبح پرنور اجلی کائنات کی آغوش میں سرد آہیں بھر رہی تھی۔ آگ اگلتا سورج نگاہوں سے اوجھل ابلیس کے دونوں سینگوں کے درمیان ٹھہاکا لگا رہا تھا۔ نیلگوں آسمان کے نیچے سمندر کی سطح پر

Read more

بنگلہ دیش کے روہنگیا کیمپ میں آتشزدگی کے عینی شاہد کی کہانی: ’میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو راکھ بنتے دیکھا‘

امدادی تنظیموں کے مطابق متاثرین نے اس آگ میں اپنی تمام قیمتی اشیا ہمیشہ کے لیے کھو دی ہیں۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی تنظیم کے مطابق تقریباً 560 افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق 45 ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ اس دوران 10 ہزار کے قریب کیمپ تباہ ہو گئے ہیں۔

Read more

میڈیکل ڈیتھ اسکواڈ

تعلیم کے بعد صحت کسی بھی ریاست کا اہم شعبہ ہوتا ہے۔ جبکہ اس شعبے کو اگر خدمت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کا کوئی ثانی نہیں اور اگر بزنس کے لیے دیکھا جائے تو بھی اس کا کوئی نام البدل نہیں۔ اور کسی بزنس ایکسپرٹ کا کہنا ہے 5 ایسے کاروبار ہیں جو دنیا کے ختم ہونے تک چلیں گے جن میں دوسرے نمبر پر میڈیکل فیلڈ آتی ہے۔ جبکہ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں

Read more

23 مارچ : ایک تاریخ تین نام

23 مارچ کا دن ہماری تاریخ کا بڑا ہی دلچسپ دن ہے۔ پاکستان بننے سے قبل یہ دن ”یوم قرارداد پاکستان“ کے نام سے اسی دن منا یا جاتا تھا۔ جب ہم نے آئین بنایا تو یہ دن ”یوم جمہوریہ پاکستان“ کے نام سے منایا جانے لگا اور جب آئین کو منسوخ کر کے ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا تو ایوب خان نے اسے ”یوم پاکستان“ کا نام دے دیا جو آج تک جاری ہے۔ اس لیے سمجھ

Read more

ٹلا جوگیاں کا شاعر نصیر کوی اور اس کے اندر کی تپش

21 ستمبر 2011 کے انگریزی روزنامہ ً ڈان ً میں ایک خبر شائع ہوئی۔ 65 سالہ شاعر نصیر کوی لاہور کے محافظ ٹاؤن میں اپنے اک دوست کے گھر بیٹھے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں علاج کی خاطر فنڈ کے لئے کسی معجزے کا انتظار کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر پنجابی شاعرنصیر کوی اپنی قسمت پر مطمئن تھا۔ جہلم میں جی ٹی روڈ پر واقع دوست کے ہوٹل کے باہر ایک کھوکھے میں پان سیگریٹ بیچتے ہوئے آمرانہ حکومتوں

Read more

سائنس کی دنیا سے

1۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے امیونالوجسٹس کے خیال میں کورونا وائرس میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں یا میوٹیشنز کے باوجود ویکسین کا استعمال وائرس کے خلاف اجتماعی قوت مدافعت کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ 2۔ برطانیہ کا ایک شخص ایچ آئی وی سے مکمل چھٹکارا حاصل کرنے والا دنیا کا دوسرا فرد بن گیا ہے۔ واضح رہے کہ اس کے جسم میں زندہ وائرس کی موجودگی کا کوئی ثبوت حاصل نہیں کیا جا سکا۔ 3۔ ماہرین

Read more

یوں تو ساکھ داغدار نہیں ہوگی

ہمارے سماج میں عورت کی عزت حقیقی معنوں میں بالکل بھی نہیں کی جاتی۔ اس سماج میں بس اپنی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کی عزت کی جاتی ہے۔ وہ بھی اس ڈر سے کیونکہ ان ہستیوں کے بدنام ہونے سے آپ کی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے حقیقی معنوں میں عورت کی عزت تو کی ہی نہیں جاتی۔ ہماری معاشرتی ذہنی سوچ کی سطح کے مطابق، دوسری خواتین صرف ایک تحفہ ہیں۔ میں کسی ایک

Read more

کیا بچوں کو کارٹون دیکھنے چاہئیں؟

آج سے چار دہائی قبل مائیں جب بچہ روتا اور بار بار اپنے کانوں میں خارش کرتا، ایڑھیاں رگڑتا، ناک کو ہاتھوں سے رگڑتا اور چیخیں مار مار روتا تو مائیں سمجھ جاتیں کہ میرا بچہ کسی تکلیف میں مبتلا ہے، اس بچے کا علاج دو طرح سے کیا جاتا۔ سب سے پہلے تو گھریلو ٹوٹکے آزمائے جاتے جیسے کہ اگر پیٹ میں درد محسوس کیا جاتا تو کوئی گھریلو قہوہ بنا کر جیسے کہ دار چینی، سونف وغیرہ کا

Read more

قرآن میں خواتین کا ذکر اور مرد مترجم اور مفسر

جب رسول اللہ کی زندگی کا دور پڑھا تو معاشرتی سطح پر گھر سے باہر خواتین کی ایک واضح موجودگی نظر آئی۔ نماز پنجگانہ اور عید کی نمازوں کی ادائیگی کے لے مردوں کے ہمراہ مسجد کے ایک ہی احاطے میں نماز ادا کرتی خواتین، دین خدا کو سمجھنے کے لیے مردوں کے ساتھ پیغمبر خدا ﷺ سے سوال جواب کرتی خواتین، جنگوں میں نرسنگ کرتی اور لڑتی خواتین، اپنے حق کے لے مجادلہ کرتی خواتین۔ رسول اللہ ﷺ کے

Read more

واک: خواتین کی حصول اختیار کی تحریک

افغانستان میں امیرحبیب اللہ خان کے ناگہانی موت کے بعد ان کے بیٹے امان اللہ خان نے افغانستان کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔ امیر امان اللہ خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں نئی قانونی اصلاحات متعارف کروائیں۔ ان اصلاحات کو نظام نامہ کہا جاتا تھا۔ ان اصلاحات کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا کیا گیا۔ ان اصلاحات کے بنیاد پر امیر امان خان کو کافر قرار دیا گیا تھا۔ ان نظام ناموں میں ایک اہم نظام نامہ جو زیادہ متنازع رہا اور غازی امیر امان اللہ کے خلاف بغاوت کا سبب بھی بنا ، وہ نظام نامہ تعلیم نسواں کے متعلق تھا۔

Read more

دیار غیر میں پاکستانی خواتین کی زندگی

پاکستانی لڑکیوں کو جب کسی بھی بیرون ملک مقیم لڑکے کا رشتہ آتا ہے تو ہر طرف رشک، حسد، فخر اور اس سے ملتے جلتے تاثرات کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔ چاہے لڑکی خود کتنی ہی پڑھی لکھی کیوں نہ ہو، اسے بھی یہی لگتا ہے جیسا کہ فلموں میں دکھایا جاتا ہے باہر کی زندگی پاکستان کی زندگی کی نسبت آسان ہو گی۔ کم از کم یہاں پہ ہر موقع پہ ہونے والی ذلالت سے سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ پھر حقوق کی پاسداری ہو گی اور ہر چیز میں آسانیاں ہی آسانیاں ہوں گی۔ دوست، رشتے داروں کو لگتا ہے بس پیسہ ہی پیسہ ہو گا، تالی بجا کے ہر کام ہو جایا کرے گا۔ اور بیچاری لڑکیاں آنکھوں میں برف زاروں کے خواب سجائے خود کو کسی رومانوی فلم کا حسین ترین کردار سمجھتی ہوئی، برف جیسے بندھن نبھانے پہنچ جاتی ہیں۔

Read more

لیفٹیننٹ طیب شہید۔ ایک اور گمنام سپاہی

اپنے بیشتر ہم عصر ساتھیوں کی طرح مجھے بھی پاکستان کے سابقہ قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف تقریباً دو عشروں پر محیط جنگ کا حصہ بننے اور عزم و یقین سے آراستہ لازوال قربانیوں کے ان گنت ناقابل فراموش واقعات کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

22 مارچ نوجوان لیفٹیننٹ طیب کی شہادت کا دن ہے۔ آج سے سترہ سال پہلے جنوبی وزیرستان کے مقام سروکئی پر پاک فوج کے اس بائیس سالہ افسر نے اپنے کئی ساتھیوں سمیت جانبازی کی ایسی ہی ایک داستان اپنے خون سے لکھی تھی۔

Read more

کوئٹہ میں اساتذہ کا مظاہرہ: گود میں بچے اٹھائے احتجاج کرتی خواتین، جن کا سردی اور لاٹھی چارج بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے

کوئٹہ میں سرد موسم اور بارش کے ساتھ پریس کلب کے باہر ایک عجب منظر دیکھنے میں آتا ہے۔ روایتی کپڑوں میں ملبوس خواتین اپنے شیرخوار بچوں کے ہمراہ مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہیں سیاہ وردیوں میں خواتین و مرد پولیس اہلکاروں کی ایک بھاری نفری انھیں ایسا کرنے سے روک رہی ہے۔

Read more

دریا – ایک گرین زون کہانی

ایک صبح جب آئینہ دیکھا تو میں حیران و ششدر رہ گیا۔ مجھے اپنے چہرے میں بہت سی تبدیلیاں نظر آئیں۔ وہ تبدیلیاں اتنی معمولی تھیں کہ اوروں کو نظر نہ آئی تھیں۔ لیکن اتنی معمولی بھی نہ تھیں کہ میں انہیں نطر انداز کر سکتا۔ میری آنکھوں کی چمک کم ہو گئی تھی اور میرے دل کے شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک ذہنی طوفان اور جذباتی بحران کی آمد آمد ہے۔ میں ایک پھسلتی ڈھلوان پر کھڑا ہوں اور اگر ایک دفعہ پھسلنا شروع ہو گیا تو میں اسے روک نہ سکوں گا۔ گہری کھائی میں گرتا چلا جاؤں گا۔ میں اس عمل سے بخوبی واقف تھا کیونکہ میری زندگی میں ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا تھا۔

Read more

عورت مارچ ہو یا حیا مارچ: منزل کہیں بھی نہیں

میں چھ سال کی مسکان سے کوئی دو چار بار ہی ملا ہوں۔ ذہین اور شریر سی یہ بچی اپنے والد کو نہیں جانتی۔ اس کا والد زندہ ہے مگر اس نے اسے ایک ہی بار دیکھا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ وہ اپنے والد کو پہچانتی نہیں تھی۔ مسکان کی والدہ اس کے والد کی دوسری شادی تھی۔ خاندان کی اجازت کے بغیر اس نے شادی کی تھی۔ کچھ عرصہ ساتھ رکھا اور پھر خاندان کے دباؤ میں آ کر چھوڑ دیا۔ خاتون نے سرکاری جاب حاصل کر لی۔ وہی جاب اور چھوٹی سی مسکان اس کی زندگی کا کل سرمایہ رہے۔

والدہ کے بالوں میں اب چاندی اتر چکی تھی۔ جاب اور جوانی کا دفاع کرتے، سنبھلتے سنبھالتے اس کی زندگی وقت سے پہلے ادھیڑ عمری کو پہنچ چکی تھی۔ کیسے کیسے لوگوں کے رویے اور کیسی کیسی نظریں اس نے سہیں؟ کیسی ہوس ناک آنکھیں اس کے جسم کے گرد ناگ کی طرح لپٹیں؟ کیسے کیسے ذو معنی جملے اسے کچوکے لگا کر کر فضا میں تحلیل ہوئے؟ کبھی وہ سنیں تو اپنے معاشرے پر پھیلی چاندنی کی چادر اترتی محسوس ہو۔ اس کے نیچے جمع غلاظت کے ڈھیر اور اس کی اٹھتی بھبھک نتھنوں کو پھاڑنے لگیں۔

اس کی والدہ کی آنکھوں میں اب بھی آنسو سے چمک اٹھتے ہیں جب وہ اپنے شوہر کا ذکر کرتی ہے۔ حیرت سے آپ اسے تکتے رہ جائیں کہ کس خمیر سے بنی ہے عورت!

آخری بار اس نے اپنے شوہر کو کب دیکھا وہ بار بار بتاتی تھی۔ ”اس دن میرے سر میں شدید درد تھا، مجھے بخار ہو رہا تھا، میں اپنی بہن کے گھر جانے کے لیے مسکان کو لے کر گھر سے نکلی۔ سڑک پر بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔ گرمیوں کی ایک گرم سہ پہر تھی۔ ایک کار آ کر رکی، اس نے کہا چلو تمہیں چھوڑ دوں۔ کار میں ایک ہی شخص بیٹھا تھا۔ میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اپنے بخار اور سر درد سے بے حال، گاڑی چلانے والے اور مسکان کے درمیان کیا باتیں ہوئی مجھے یاد نہیں۔

بس اتنا یاد ہے اس نے کہا تھا ”مسکان اب ماشا اللہ کتنی بڑی ہو گئی ہو“ ، میں نے منزل پر پہنچ کر اسے رکنے کا کہا تو اس نے گاڑی روک دی، میں اتر گئی۔ پیچھے شکریہ ادا کرنے کو مڑ کر گاڑی والے کی طرف دیکھا تو پہچان گئی کہ وہ مسکان کا باپ تھا۔ اس نے میری طرف دیکھے بغیر گاڑی آگے بڑھا دی اور میں وہیں مبہوت کھڑی مسکان کو آوازیں دیتی رہی ”مسکان! یہ تمہارے والد تھے“ ۔ اور پھر دیر تک میں اور مسکان سڑک کنارے کھڑے ایک دوسرے سے لپٹ کر ایک دوسرے کو تسلیاں دیتی رہیں۔

اس ماں بیٹی کی زندگی کا کرب لفظوں میں کیسے بیان ہو گا؟ میں نہیں جانتا۔

گائنی کی ایک ڈاکٹر کہہ رہی تھی ”الٹراساؤنڈ میں یہ دیکھنے کے بعد کہ ماں کے پیٹ میں بچی ہو تو والدین کو نہیں بتاتے، بچہ ہو تو فوراً بتاتے اور مبارک باد دیتے ہیں“ ۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی، کہ آخر پڑھی لکھی ہونے کے باوجود بھی تمہیں بچی کی پیدائش کی خوشی کیوں نہیں ہوتی۔ کہا ”ہمیں تو فرق نہیں پڑتا بچہ ہو یا بچی۔ مگر بچی ہو تو ہم نہیں چاہتے اس کی والدہ بچی جننے سے پہلے ہی طعنوں اور تشدد کا سامنا کرے، کچھ دن ہی سہی اسے سکون سے رہنے کا حق تو ہے، جو قیامت مہینہ ڈیڑھ بعد ٹوٹنی ہے، وہ ابھی سے ہمارے بتانے پر ہی کیوں ٹوٹے“ ۔

گائنی کی ڈاکٹر بتا رہی تھی :ایک خاتون کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی۔ اس نے پوچھا بیٹا ہے یا بیٹی؟ پاس بیٹھی نرس نے کہا بیٹی، وہ چیخ چیخ کر رو پڑی، کہا مجھے بھی یہیں مار دو، میری بیٹی کو بھی یہیں قتل کر دو۔ میں باہر شوہر کے پاس نہیں جانا چاہتی۔ سٹاف تسلی دینے لگا۔ خاتون نے کہا : ”میری اس سے پہلے ایک دو سال کی بیٹی میرے شوہر نے گلا دبا کر مار دی ہے۔ اب کی بار اس نے کہا ہے کہ اگر پھر بیٹی پیدا کر دی تو اس کے ساتھ تمہیں بھی مار دوں گا“ ۔

اب اس کم بخت شوہر کو کون ڈھونڈ کر سمجھائے کہ جناب آپ دہری جہالت کا شکار ہیں۔ ایک تو بیٹی کو نقصان سمجھنا اور دوسرا اس کی تخلیق اور پیدائش کا ذمہ دار اس کی ماں کو سمجھنا۔

ایک عورت چار سال کی چھوٹی سی بچی کو لے کر آئی جس کا ریپ کیا گیا تھا۔ نرسز بچی کو لے کر اندر گئیں، ماں سیڑھیوں میں ہی ڈھ گئی۔ بچی بھی رو رہی تھی اور اس کی ماں بھی۔ ماں کہہ رہی تھی: ”اسے وہیں مار دو باہر واپس نہیں لاؤ۔ اسے میں سماج کی نظروں سے بچا کر بڑی بھی کر دوں تو بیاہ نہیں سکوں گی کیوں کہ شادی کی پہلی رات بھی یہ ماری ہی جائے گی“ ۔

بچی کیوں رو رہی تھی، ذرا کلیجہ تھام کر سنیے!

وہ کہہ رہی تھی ”اس انکل نے مجھ کہا تھا تمہیں ٹافیاں اور اچھی اچھی چیزوں دوں گا، مگر اس نے کچھ بھی نہیں دیا۔“

یہ ہمارے سماج میں عورت کی بے بسی کی چند حقیقی مثالیں ہیں۔ عورت کی جسمانی کمزوری اور مرد کے زور بازو نے کیا اسے اتنا اعلیٰ و برتر بنا دیا کہ وہ عورت کے متعلق اپنی مرضی سے جو بھی چاہے فیصلہ کرے؟ اس کی زندگی موت کے فیصلے بھی اس کے ہاتھ میں ہوں۔ اس کی کوکھ میں کیا ہونا چاہیے یہ فیصلہ اس کے اختیار میں ہو؟ مرد کیا عورت کے مقابلے میں کسی بھی قاعدے قانون سے آزاد اور ماورا ہے؟ مرد عورت پر کیا ہر طرح سے ہاتھ اٹھانے میں آزاد ہو جاتا ہے؟ آخر کون سا مذہب اور کون سا نظریہ ہے جس نے یہ اختیارات صنفی بنیادوں پر تقسیم کر دیے ہیں؟

عورت مارچ ہر سال آتا ہے اور سانپ کی طرح ایک لکیر چھوڑ جاتا ہے، جسے ہم بڑے عرصے تک پیٹتے رہتے ہیں۔ عورت مارچ میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ مجرے ڈانس بھی ہوتے ہیں۔ قمیصیں بھی لٹکائی جاتی ہیں۔ کراس فائر نعرے بھی لگتے ہیں۔ عجیب و غریب سلوگنز کے بینرز اور پلے کارڈ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ان سب چیزوں نے معاشرے میں عورت کے مسائل کو مزید گہنا دیا ہے۔

میرے خیال میں حیا مارچ بھی عورت کے مسائل کی ترجمانی نہیں کر رہا۔ ان دونوں سے ہٹ کر ایک اور فورم ہونا چاہیے جہاں عورت کے حقیقی مسائل پر بات ہوا کرے۔ معاشرے میں پھیلی اس جہالت پر بات ہو جس کی وجہ سے کوئی عورت خودکشی پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس سماج کی روح میں بسی جہالت کی جڑیں اکھاڑنے کو تربیت اور اصلاح کی بہت پرزور کوششیں تحریکیں چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی مخصوص کمیونٹی کے نعروں سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ یہ کسی طعنہ گردی اور لعنت ملامت سے حل ہونے والا مسئلہ بھی نہیں۔ عورت مارچ ہو یا حیا مارچ، منزل ان دونوں راہوں میں کہیں بھی نہیں۔

اس کے لیے اہل دانش کو کسی مخصوص پس منظر کے تعصب سے ماورا ہو کر مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا۔ کچھ مشترکہ فورمز پر بات رکھنی ہو گی۔ افہام اور تفہیم کے جذبے سے ایک دوسرے کو سننا ہو گا۔ ایک نئی فکر تخلیق کرنی ہو گی۔ مکالمے سے ایک نیا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ عورت کی نجات کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

Read more

پاکستان: بگڑا گھر اور الجھے خواب

جنرل باجوہ صاحب کی اہم پالیسی ساز تقریر میں بیان کہ ہمیں احساس ہو گیا تھا کہ گھر کو ٹھیک کیے بغیر باہر سے اچھے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ حقیقت پسندانہ بیان ہے لیکن یہ گھر بگڑا کیسے؟ اس کے باسیوں نے اسے کیسے بھگتا؟ یہ حقیقت اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ یہ سب کچھ ہماری زندگی میں ہی ہوا۔ آنکھ کھولی تو جنرل ایوب کا مارشل لاء، اسکول کی دہلیز پر قدم رکھے تو مشرقی پاکستان

Read more

اپنی بیٹی کی شادی کے جوڑے خود تیار کرنے والے بلوچستان کے حفیظ اللہ: ’بیٹی میرے ہاتھ کے بنے کپڑے پہنے گی تو یاد بھی کرے گی اور فخر بھی‘

جہاں عموماً ہاتھ سے کپڑے تیار کرنے کو خواتین کا کام سمجھا جاتا ہے وہیں بلوچستان کے حفیظ اللہ لوگوں کے طعنوں کے باوجود اپنی بیٹی کی محبت میں یہ کام خود کر رہے ہیں۔

Read more

کیا نئے طورطریقوں کی قبولیت کا وقت آ گیا ہے؟

لاہور یونیورسٹی میں اظہار محبت اور شادی کا پیغام دینے والے واقعے پر بہت کہا سنا، لکھا، اور پڑھا جا چکا ہے۔ ’ہم سب‘ پر دونوں طرح کا موقف سامنے آیا۔ ایک حمایت میں تھا کہ اگر دو لڑکا لڑکی اپنی رضامندی سے ایک دوسرے کو محبت اور شادی کا پیغام دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لوگوں کو اپنی قدامت پرستانہ سوچ بدلنا چاہیے کہ اسے نوجوان نسل پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا موقف مخالفت میں

Read more

قائد اعظم یونیورسٹی: مجید ہٹس کے مجید صاحب

ہم ہمیشہ توپ و تفنگ کے عقب، سینما و فلم کی چکاچوند روشنیوں اور کھیل کے میدان میں نازو انداز دکھاتے کھلاڑیوں میں ہیروز ڈھونڈتے ہیں۔ ہیروز تو وہ بھی ہیں جنہوں نے تمام عمر اس معاشرے کی گلیاں صاف کرنے میں گزار دیں۔ جنہوں نے علم بانٹا، معاشرے کی تربیت کی اور پھر مسکراتے چہرے کے ساتھ زندگی کی تلخیاں جھیلتے آنکھیں موند گئے۔ گزشتہ روز قائد اعظم یونیورسٹی کے مجید ہٹس کے روح رواں حاجی عبدالمجید صاحب کے

Read more

خوشی

20 مارچ خوشی کا عالمی دن تھا۔ جو خاموشی سے گزر گیا۔ ہم اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ ہماری زندگی کا اہم ترین عنصر جو اتنا ہی ضروری ہے جیسے آکسیجن ہم اس کو یکسر بھولتے جا رہے ہیں۔ اگر ہماری زندگی میں خوشی جیسا جذبہ ناپید ہوتا جائے تو اس جگہ کو پر کرنے کے لیے نفرت، حسد، کینہ اور ذہنی تناو جیسے منفی جذبات آ گھستے ہیں بالکل جیسے ہمارے معاشرے میں ایک متھ ہے کہ خالی

Read more

براہ مہربانی قومی پرچم کے سبز رنگ کو سفید کر دیں

رنگ بہت بولتے ہیں۔ ان کو علامت کے طور پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کالے رنگ کو افسوس کی علامت کے طور پہ پہنا جاتا ہے۔ سرخ رنگ کو انقلاب کے لیے لیے اٹھنے والی تحریکوں میں استعمال کیا گیا۔ تمام اسلامی ممالک کے جھنڈوں کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ سبز رنگ کسی نہ کسی طور اسلام کے نمائندہ رنگ کے طور پہ جانا گیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ امن کے ساتھ ساتھ غیر

Read more

پرائیویٹ تعلیمی مافیا کے ہتھکنڈے اور سرکاری ادارے

میری چھوٹی بہن میرے کالج میں یعنی ایک سرکاری ڈگری کالج میں اے ڈی پی کر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے میری طالبات کی نظروں میں میرا وہ رعب نہیں جو ایک ایسے پرنسپل کا ہو سکتا ہے جس کے بہن بھائی یا بچے مہنگے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہوں۔ میری بہن اکثر مجھے بتاتی ہے کہ لڑکیاں اسے کہتی ہیں کہ ایک پرنسپل کی بہن ہونے کے باوجود وہ کوئی بدمعاشی وغیرہ کیوں نہیں کرتی، کوئی رعب شعب کوئی غنڈہ گردی کیوں نہیں کرتی۔ ان میں سے بیشتر اس کی سادگی اور معصومیت کا مذاق اڑاتی ہیں۔

Read more

سری لنکا کے ’بے بی فارمز‘ جہاں یورپی جوڑے معمولی رقم دے کر بچے گود لے لیتے

سری لنکا کے ہزاروں بچوں کو یورپی جوڑوں نے ’بے بی فارمز‘ کے ذریعے مجبوری کے شکار والدین سے گود لیا تھا اور اب ان میں سے کئی والدین اپنے بچوں سے واپس ملنا چاہتے ہیں۔

Read more

جھوٹا خواب اور حقیقت: ذوالفقار علی بھٹو کی بہترین تقریر

بلاشبہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی وہ تقریر ان کی بہترین تقریروں میں سب سے بہترین تھی۔ جذبوں سے بھری ہوئی، محبتوں سے کہی ہوئی اور حوصلوں میں گندھی ہوئی! بھٹو کی گرفتاری اور گرفتاری کے 17 دن کے بعد ضیاء الحق نے راولپنڈی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بٹو اور ان تمام سیاسی کارکنوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایک پیشہ ور مسلمان

Read more

جہنم سے اللہ بچائے پر جنت؟

جہنم بارے سوچ کر تو ویسے ہی روح بھی کانپ جاتی ہے، اللہ مجھے اس سے تو حفظ و امان میں رکھے مگر جب جنت سے متعلق سوچتا ہوں تو بہت پریشاں ہو جاتا ہوں۔ ٹھیک ہے وہاں دودھ اور الکحل سے پاک شراب یعنی مشروب کی نہریں ہوں گی، حوریں اور غلمان ہوں گے مگر عبادت کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ دنیا میں تو ہم عبادت جہنم کی آگ اور عذاب سے بچنے اور جنت کے حصول

Read more

کیا آپ اپنے دوستوں کو غلط مشورے دیتے ہیں؟

انسانوں کی طرح لفظوں کی بھی اپنی جداگانہ شناخت اور شخصیت ہوتی ہے۔ بعض الفاظ میٹھے ہوئے ہیں بعض ترش اور بعض کڑوے۔ بعض الفاظ دل پر زخم لگاتے ہیں بعض مرہم۔ بعض الفاظ ذہن کو کچوکے لگاتے ہیں بعض اسے پرسکون بنا دیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے دوستوں کو اپنے الفاظ سے سکھی کر دیتے اور بعض دکھی۔ میری ایک مریضہ عالیہ چار سال کی تھراپی کے بعد صحت مند ہو گئیں تو ایک دن مجھ سے کہنے لگیں

Read more

جسم میرا اور خوش گمانیاں تمہاری

مارچ جہاں ہمارے علاقوں میں بہار کی آمد کی نوید لاتا ہے۔ وہیں اس مہینے ایک دن عورت کا بھی آتا ہے۔ جو گزر گیا۔ مگر کچھ منافقوں کے دلوں کی بھڑاس ابھی تک نہیں نکل رہی۔ عورت مارچ کچھ عرصہ سے جتنے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے اتنا ہی متنازع ہوتا جا رہا ہے۔

کچھ مرد عورت کے حق میں لکھنے پر ہمیں اتنے جبری فتوے دے رہے ہوتے ہیں جیسے ہمارے ”مامے“ لگتے ہیں۔ جناب ہم بالغ عورتیں ہیں، اگر ہم پسند کی شادی کا حق رکھتے ہیں تو اپنی سوچ رکھنے کا بھی ایک بالغ عورت کو پورا حق ہے۔ آپ کو مسلسل مداخلت و ہماری اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ آپ کا اس طرح کا رویہ ہمارے خاندان کی تربیت کو مشکوک کرتا ہے۔ ہر طبقے کے اپنے نارمز (معیارات) ہوتے ہیں۔ جس پہ پتھر اٹھانے کا آپ کو کوئی اخلاقی حق نہیں۔ اور اگر ہم غلط سوچتے ہیں تو اپنے محرم مردوں کو دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ آپ ہمارے محرم نہیں لہٰذا ہم سے دور رہیں تو اچھا ہے۔

Read more

موٹروے ریپ کیس: مرکزی ملزمان عابد ملہی اور شفقت کو موت، عمر قید اور جرمانے کی سزائیں

نو ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آنے والے ایک واقعے کے دوران دو افراد نے مبینہ طور پر مدد کے انتظار میں سڑک کنارے کھڑی گاڑی میں سوار خاتون کو پکڑ کر قریبی کھیتوں میں اُن کے بچوں کے سامنے ریپ کیا تھا۔

Read more

مشرقی افریقی ملک تنزانیہ میں پہلی بار مسلمان خاتون صدر بن گئیں

مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں پہلی بار ایک مسلمان خاتون سمیعہ صولوہو حسن نے صدارت کا حلف اٹھایا ہے ۔ تنزانیہ کے سابق دارالحکومت دارالسلام سے، جہاں تنزانیہ کے کئی اہم سرکاری اداروں کے دفاتر موجود ہیں، وائس آف امریکہ کے نمائندے چارلز کومبے نے خبر دی ہے کہ حلف برداری کی تقریب کو دیکھنے والوں میں تنزانیہ کی کابینہ کے وزراٗ اور سابق صدور شامل سٹیٹ ہاوس میں موجود تھے.

Read more

سلووینین ادیبہ للی پوٹ پارا کی کہانی: سرپرائز

ڈاکٹر آفتاب احمد کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں اردو اور ہندی کے سئنیر لیکچرر ہیں۔ انہوں نے کمال شفقت سے ‘ہم سب’ کے لئے سلووینین مصنفہ للی پوٹ پارا کے افسانچہ ”سرپرائز’ کا ترجمہ عنایت کیا ہے۔ للی پوٹ پارا کی تخلیق کردہ یہ کہانی سلووینین زبان کی ایک مشہور کہانی ہے۔ للی پوٹ پارا سلووینین ادب کی ایک معروف، انعام یافتہ مصنفہ اور مترجمہ ہیں۔ موجودہ ترجمہ کرسٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو ‘ورلڈ لٹریچر ٹوڈے’ میں

Read more

گرمیاں اور گاؤں

ہمارے گھر میں ہمیشہ سے ایک کمرہ امتحان جیسی نگرانی کا ماحول رہا ہے ، جس کی روٹین میری بورڈ میں انٹری یعنی نویں جماعت سے یکساں ہے کہ ناشتے کے فوراً بعد کتابیں اٹھا لینی ہیں، کسی بھی مضمون کے حل طلب سوالات کی مشق بنا چوں چرا شروع کر دینی ہے اور پھر اس کے بعد رٹا لگا کر نصاب کے ہر مضمون کو باری باری ایک گلاس پانی کے ساتھ گھول کر پی جانا ہے اور اس کے بعد امتحانی کمرے میں جوابی پرچے پر الٹ کر آ جانا ہے جس کا میں میٹرک کے امتحانات میں اعلیٰ نمبر لے کر کامیاب تجربہ کر چکی ہوں، یہ الگ بات کہ مجھے اب تک ریاضی کی نہ تو سمجھ ہے اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی جس میں خاص طور پر سو فیصد نمبر لیے۔

Read more

پھٹی ہوئی جینز پر شور اور سینسر کی لمبی قینچی

انڈین سیاستدان راوت بظاہر یہ بتا رہے تھے کہ گھٹنوں پر سے پھٹی ہوئی جینز کس طرح ’معاشرے کی خرابی کاسبب بنتی ہے‘۔ راوت کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مہم شروع ہو گئی اور ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ رِپڈ جینز’ ٹرینڈ کرنے لگا۔

Read more

گائنا کالوجسٹ اپنی مریضہ کی ماں بھی تو ہوتی ہے

خون سے لت پت چہرہ، سوجی ہوئی ناک، کرب میں ڈوبی ہوئی آواز! کیا یہ وہی لڑکی تھی جو صرف ایک گھنٹہ پہلے ہمارے کلینک میں ہمارے سامنے بطن میں پلتے بچے کی فکر لیے بیٹھی تھی! تین برس کے علاج کے بعد ٹھہرنے والا پہلا حمل، ساتواں مہینہ، نقاہت، ہائی بلڈپریشر، پردیس، اور بے بسی! کچھ ہی دیر بعد دکھ اور درد سے بھری کچھ تصویریں ہماری اسسٹنٹ کے فون پہ ہمیں پکار رہی تھیں! غصے، رنج اور بے

Read more

پاکستان میں سمارٹ فونز کی تیاری: کیا اس سے قیمت پر کوئی فرق پڑے گا؟

پاکستان میں سمارٹ فونز کی تیاری کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ کچھ نئے اسمبلی پلانٹس کے قیام سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ درآمد شدہ فونز کے مقابلے یہاں تیار کردہ فونز کی قیمتیں کم ہوں گی اور اس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔

Read more

کھانا خود گرم کرنا مسئلہ نہیں

خود کو بہت روکا کہ اس بارے میں کچھ نہ لکھوں مگر بات برداشت سے باہر ہو گئی ہے۔ ”کھانا خود گرم کر لو“ ایک نعرہ تھا، مگر نعرہ یونہی نہیں ہوتا اس کے پس پشت عوامل بھی ہوتے ہیں، واقعات بھی، ردعمل بھی چاہے منطقی ہو یا غیر منطقی۔ جیسے 8 مارچ کے عورتوں کے جلوس میں ایک دوسرا نعرہ تھا، ”میرا جسم میری مرضی“ جو درحقیقت ”میرا بدن میری مرضی“ تھا۔ اس کے دو مطلب لیے جا سکتے

Read more

یعنی اب محبت بھی بھاشن دے کر سکھائی جائے گی؟

محبت کے اظہار پر دو پریمیوں کو یونیورسٹی بدر کر دیا گیا۔ کوئی شک نہیں کہ لڑکی کی پسند لاجواب تھی کیونکہ لڑکے نے یونیورسٹی سے نکالے جانے کا الزام لڑکی پر تھوپنے کے بجائے نہ صرف اس کا دفاع کیا بلکہ فوراً ہی شادی کر کے اپنی محبت کا حق بھی ادا کیا اور ایک انوکھی مثال قائم کی۔ انوکھی اس لئے کیونکہ ہوتا یہی ہے کہ جتنے نیکو کار سوشل میڈیا پر بڑے بڑے بھاشن دے رہے ہوتے

Read more

مغز نہاری سے مونگ پھلی تک

(ہمارے کچھ احباب نے گلہ کیا کہ ہم جدید دور میں مستعمل روز مرہ زباں میں کیوں نہیں لکھتے تو حاضر ہے اردو انگریزی ملغوبہ میں یہ مضمون۔ بورڈ آفس کا برج اترتے ہی دائیں جانب بہت سی کھڑکیوں والی چار منزلہ عمارت ایک اسپتال کی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر افس، او پی ڈی اور کیفے ٹیریا ہے۔ فرسٹ فلور پر لیبر روم اور پرائیویٹ وارڈ اور سیکنڈ فلور پر آئی سی یو اور جنرل وارڈ ہے۔ تھرڈ فلور کے

Read more

سفر جاری ہے

میرے پیارے جدا کیا ہوئے زندگی بدل گئی۔ جب اندر جھانک کر دیکھا تو وہ وہیں بازو پھیلا کر استقبال کر رہی تھی۔ دراصل بدل میں ہی گئی ، اندر سے باہر سے چہرہ چہرہ دھلنے لگا۔ معصوم ہم سب لوگ اسٹیشن پر بیٹھے بیٹھے اس قدر بوجھ اکٹھا کر لیتے ہیں کہ طاقت کا قلی اس کو اٹھانے سے انکار کرنے لگتا ہے۔ ہم سفر اپنی اپنی باریوں پر بے رنگ ٹکٹ سے بھی چڑھتے دیکھے۔ وہ جو ایک

Read more

مذاق

سوکینہ گو کہ اپنے سٹاپ کے انتظار میں تھی لیکن اب اس کی دلچسپی کا محور صرف وہی نابینا نوجوان تھا جس کے وجود سے اٹھتی دلفریب مہک مشام جاں کو معطر کیے جا رہی تھی۔ سورج کی کرنیں ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوئی تھیں۔ سوکینہ زندگی کی بھاگ دوڑ میں مصروف ایک سرکاری ادارے میں کئی سال سے سٹینو کی جاب کر رہی تھی۔ اسے اکثر یوں لگتا تھا کہ ٹائپ کرتے کرتے اس کا اپنا وجود بھی کسی کی انگلیوں تلے کچلا گیا ہے۔

Read more

دوسری شادی یا ایماندارانہ بیوفائی اور محفوظ تشدد

اسلام میں مردوں کوایک وقت میں چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ تاہم، اسلام مردوں پر اپنی بیویوں کے ساتھ مناسب سلوک کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ جن لوگوں کو خوف ہے کہ وہ متعدد ازواج میں انصاف اور مساوی سلوک نہیں کر پائیں گے وہ پھر ایک پر ہی اکتفا کریں۔

ریاض میں کنگ سعود یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں 55 فیصد طلاق کا سبب مرد کی دوسری بیوی کی خواہش ہے۔ تو پھر کیوں عورتیں اپنے شوہروں کو دوسری بیویاں لینا قبول نہیں کرتی ہیں؟ کیا یہ حسد، غرور یا دیگر معاشرتی عوامل کی وجہ سے ہے؟ کیا عصری سعودی خواتین 20 سال قبل اپنی ماؤں کی طرح شادی ازواج کو قبول کرتی ہیں؟

Read more

عمیرہ احمد کا ناول ’ایمان، امید اور محبت‘

امان، امید اور محبت ” کو ہم علامتی (Symbolic) ناول کہہ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اس میں اپنے کرداروں کے ناموں ( ایمان اور امید ) کو علامتی طور پر پیش کیا ہے۔ اس ناول کے ذریعے مصنفہ نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر انسان اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہے تو خدا سے اس کی امید کبھی ختم نہیں ہوتی اور طویل آزمائشوں کے بعد بالآخر انسان پر اچھا وقت ضرور آتا ہے۔ وہ اپنی

Read more

عدم برداشت کا رویہ

انسانیت کی ایک صفت برداشت ہے، یعنی سہنا، بردباری، مصائب کو جھیلنے کا مادہ، مگر یہ صفت اس دنیا سے دوسری اخلاقی اقدار کی طرح اٹھتی جا رہی ہے۔ جس طرف نگاہ اٹھائیں عدم برداشت کا رویہ اپنی تمام تر بدنمائی کے ساتھ نظر آتا ہے۔ برداشت کی حدوں سے مرا دل گزر گیا آندھی اٹھی تو ریت کا ٹیلہ بکھر گیا جب معاشرہ عدم برداشت کے رویے کو قبول کرنا شروع کر دیتا ہے تو معاشرے سے آہستہ آہستہ

Read more

عورت عورت کی دوست ہے، دشمن تو نظام ہے

میں اس بات پر معذرت خواہ بھی ہوں اور رنجیدہ بھی کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو وہ سب نہیں ملا جو ان کا بنیادی حق تھا۔ عورتوں کی بڑی تعداد میں سے صرف چند عورتوں کو کچھ حقوق نصیب ہوتے ہیں۔ وہ تعلیم حاصل کرتی ہیں، زندگی میں آگے بڑھتی ہیں اور اپنے شعبوں میں کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ میں نے بہت پہلے سے محسوس کر لیا تھا کہ ہماری خواتین جو زندگی کے ان امور میں پیچھے رہ

Read more