میسی کا خواب

جاڑے کی بارش تمام گاؤں والوں کو گھروں میں محصور کیے ہوئے تھی۔ کوئی باہر نکلتا تو کھانستا ہوا واپس آتا۔ بارش ہڈیاں صاف کر چھوڑتی۔ سرد ہوا سینہ باندھ دیتی۔ کیچڑ غریب غربوں کی طرح پاؤں پکڑ لیتی۔ میسی کی مرغیاں ظہر کے ساتھ ہی صحن کے پیپل میں جا دبکی تھیں۔ اندھیرا عصر ہوتے ہی اتر آیا تھا۔ میسی نے سارا دن دروازے کے پاس رکھی اپنی چوکی پر بیٹھے بیٹھے ابا کی باتیں سننے، اماں کی گھوریاں

Read more

اداس مصور

کالے گھنے بادلوں نے شہر پر اندھیرا کیا ہوا تھا۔ شاید کچھ ہی دیر میں بارش ہونے والی تھی۔ بادلوں کی گرج ایک خوبصورت موسیقی بنا رہی تھی۔ جو اداس روحوں کے لیے سکوں تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بادل خدا سے خفا ہیں۔ یا خدا کے کسی فیصلے پر رضامند نہیں۔ بادلوں کا خفا ہونا بنتا بھی تھا۔ آج خدا نے اک اداس مصور کو اور بھی اداس کر دیا تھا۔ آج زندگی کے سارے رنگ کینوس پر

Read more

گلابی جوتے

شوکیس پر لگے مختلف جوتوں کو بے دلی سے دیکھتے ہوئے اس نے سیلزمین کو اپنی طرف بلایا۔ ”کوئی ایسے جاگرز دکھائیں جو پارک میں واک کے لیے ہوں۔“ سیلزمین نے ایک ناقدانہ نظر اس کے پیروں میں موجود جوتوں پر ڈال کر سائز کا اندازہ کرنا چاہا۔ اس کی جذبات سے عاری آنکھوں نے سیلزمین کی نظروں کے تعاقب میں اپنے تیز گلابی رنگ کے جوتوں کو دیکھا اور ایک بھیگی سے مسکراہٹ اس کے لبوں پر رینگ گئی۔

Read more

پہاڑن

میں اگرچہ سطح مرتفع پوٹھوہار کا باسی ہوں او ر ہمارے خطے میں بھی پہاڑ پائے جاتے ہیں لیکن میری جائے پیدائش کچھ میدانی سی ہے اور کچھ کٹاؤ زدہ زمین ہے۔ لیکن پہاڑ کچھ ایسی دوری پر بھی واقع نہیں ہیں۔ ہماری چھت سے شمال کے سارے سلسلہ ہائے کوہ نظر آتے ہیں۔ مجھے بچپن سے پہاڑوں کے ساتھ عشق ہے۔ کیوں ہے؟ اس کی وجہ مجھے خود نہیں معلوم لیکن مجھے پہاڑ اچھے لگتے ہیں اور اسی لیے

Read more

نیلماں

آج پھر وہی ہوا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے ہوتا آیا تھا۔ نیلماں کو دیکھنے آئے ہوئے لوگ اسے اس کے بڑھے ہوئے وزن اور کم صورتی کو نشانہ کو بنا کر مسترد کر گئے تھے۔ وہ گھر والوں کی نظروں سے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ”کیسی ہو؟“ آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنی ازلی مسکان لبوں پر بکھیرے اسی کی طرف پوری توجہ کیے دیکھ رہا

Read more

مبارک بادیں

کوئی ساٹھ سال کے لگ بھگ کی عمر کا عمار چغتائی جو اپنی صحت کی وجہ سے دس سال چھوٹا لگتا تھا مٹھائی کی دکان میں داخل ہوا اور حسب معمول چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ اس کے دل میں اس دکان کی صفائی اور قرینے سے رکھی ہوئی مٹھائیاں دیکھ کر ایک عجب گدگدی سی ہونے لگتی۔

پھر اس نے حجاب میں ملبوس لڑکی کی طرف دیکھا۔ ’ایک ایک کلو کے پانچ ڈبے مکس مٹھائیوں کے بنا دیں، کھوئے اور بیسن کی برفی زیادہ ڈالیں۔ ‘

Read more

مشرقی عورت

اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ زندگی میں یہ موڑ بھی آئے گا۔ جرنلزم میں ماسٹرز کرنے کے بعد ہانیہ نے چند سال فری لانسر صحافی کی حیثیت سے مختلف اخبارات اور چینلز کے لیے کام کیا مگر اپنے اصلی نام کے ساتھ کبھی منظر عام پر نہیں آئی یہی وجہ تھی کہ جب شہیر احمد کا پروپوزل اس کے لیے آیا تو ہانیہ کے گھر والوں نے شہیر کی فیملی کو یہ بتانے سے گریز کیا کہ ہانیہ

Read more

تاریک راہیں

وہ کیفے میں بیٹھا شاید کسی کے انتظار میں تھا۔ وردی پہنے بار بار اپنی گھڑی کی سوئیوں کی طرف دیکھ رہا تھا اس کے تاثرات بتا رہے تھے جیسے وہ کسی بڑی خبر کا منتظر ہے وہ خبر جو شاید وقت اور طاقت دونوں کو بدل سکتی تھی۔ اسے اپنی وردی سے محبت تھی شدید محبت اور اسے اپنے کام سے عشق تھا۔ ویسے تو سب ٹھیک تھا مگر پھر بھی کچھ ادھورا تھا، کچھ ایسا جو ہر دم

Read more

نیلماں 

آج پھر وہی ہوا تھا جو پچھلے کئی سالوں سے ہوتا آیا تھا۔ نیلماں کو دیکھنے آئے ہوئے لوگ اسے اس کے بڑھے ہوئے وزن اور کم صورتی کو نشانہ کو بنا کر مسترد کر گئے تھے۔ وہ گھر والوں کی نظروں سے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی آئی۔ ”کیسی ہو؟“ آواز پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اپنی ازلی مسکان لبوں پر بکھیرے اسی کی طرف پوری توجہ کیے دیکھ رہا

Read more

رام نام ست ہے: ایک سچے واقعہ پہ مبنی افسانہ

حقے کے دھوئیں نے اور باہر سے آتی ہوئی لو نے اس گول خوبصورت کمرے کی حدت میں اضافہ کر دیا تھا۔ ابھی حیدر علی نے جو کچھ بھی کہا، اس سوال سے دو تین افراد انتہائی پریشان ہو گئے تھے۔ حیدر علی کے سامنے بیٹھا ہوئے کرتے اور پتلون میں ملبوس قدرے فربہ نوجوان بولا۔ مانا کہ وہ ہمارے ساتھ رہے، کھائے پئے لیکن ہمارا دھرم تو اس سے مختلف ہے پھر ہم کیسے لال کا اس کے دھرم

Read more

وہی آبلے ہیں، وہی جلن ہے

وہ آج پچیس برس بعد اپنے وطن واپس لوٹ رہی تھی، اور اس کے ذہن میں خدشات کا ایک ہجوم تھا جو اسے کسی طرح بھی چین لینے نہیں دے رہا تھا۔ وہ ائر پورٹ کے مسافر لاؤنج میں بیٹھی اپنے بچپن اور جوانی کے ان ایام کو یاد کر کے وقت گزار رہی تھی، جب سکھیوں کا ایک ہجوم اس کے گرد یوں منڈلا رہا ہوتا تھا، کہ اسے تنہائی نام کی کسی چیز کا علم ہی نہیں تھا۔

Read more

راز کونین کی عقدہ کشائی

میں تمام دنیا اور کیفیات سے خالی الذہن ہو کر بنچ پر بیٹھی ادھر ادھر دیکھ رہی ہوں۔ ریل کی پٹریوں کی چمک کے ساتھ ساتھ دوڑتی ہوئی نگاہیں دور کہیں اندھیرے میں کھو جاتی ہیں تو پھر مڑ کر پلیٹ فارم کے ہجوم کو تکنا شروع کر دیتی ہوں۔ مجمع کے مد و جذر میں تھپیڑے کھاتا کوئی شخص سامنے آ جاتا ہے، پاس سے گزرتا ہے، تو نظر بھر کر اس کو ضرور دیکھتی ہوں۔ یہ اسٹیشن، یہ

Read more

یہ سوٹ لے لو

وہ ایک ٹھیٹھ قبائلی علاقے کے ایک سخت گیر انسان کے ہاں پیدا ہوا، اور پھر اس کی پرورش بھی مقامی روایات کے مطابق کی گئی، جس میں مرد کو ایک ایسی مخلوق بنا کر بڑا کیا جاتا ہے، جو مافوق الفطرت اور جذبات سے عاری ہوتا ہے۔ جو محبت نامی ایک لطیف جذبے سے نا آشنا اور عورت کے وجود سے انکاری ہوتا ہے۔ وہ جیسے جیسے دیوار پہ چڑھتی بیل کی مانند برگ و بار لا رہا تھا،

Read more

آستین (افسانچہ)۔

حکیموں نامی شخص کے گاؤں میں خشک سالی کے باعث قحط پڑ گیا۔ حکومتی و فلاحی تنظیموں کی امداد آتی رہتی لیکن پوری نہ پڑتی۔ حکیموں کے باپ نے کہا، شہر جا کر کوئی نوکری کر لے، یہاں تو اب یہی حالات رہیں گے، جب تک بارش نہ ہو، آخر گاؤں کے دوسرے لڑکے بھی تو شہر جا کر نوکریاں کرتے ہیں۔ حکیموں شہر نہیں جانا چاہتا تھا، گاؤں میں اس کی عم زاد اور منگیتر سموں تھی، اس کی

Read more

تیسرا دیدار (افسانہ)

آسمان کے آنگن میں سفید رنگ کے بادل جن میں گہری سبز مائل جھیل کے پانی نے ہلچل مچا دی تھی تیر رہے تھے۔ پہاڑ کی چوٹی بادل کو گدگدا کر مسکرا دیتی اور پہاڑوں پر لیٹا سبزہ یہ کھیل دیکھ کر خوش ہوتا ہوا بادلوں کی روانی کو تکتا رہتا۔ ایک جانب پہاڑ خوش تھے کہ ان میں بادل کا سینہ چیرنے کی طاقت ہے تو دوسری جانب بادل اس رمز پر نازاں کہ پہاڑوں کی چوٹیاں اسے چیر

Read more

بے وفائی

تحریر: او سنگ ون/مترجم راجہ عبدالقیوم اگلے دن وہ گھر پر ہی رہا اور ملنے کی مقررہ جگہ نہیں گیا۔ تقریباً دوپہر کا وقت تھا۔ ایک کار کی چیختی ہوئی بریکوں کے ساتھ گھر کے باہر رکنے کی آواز آئی۔ ”من، کیا بات ہے؟“ انجمن کے ایک ساتھی کی احتجاج بھری آواز آئی۔ من، نوجوان شخص نے اپنے ساتھی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اسے باہر لے آیا۔ جب وہ صورت حال کی مکمل وضاحت کر چکا تو

Read more

عورت کے نئے ہتھیار

نیاز علی ایک صوبائی حکومتی محکمہ کے مقامی دفتر میں اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے۔ ایماندار تھے، اس لئے اوپر کی آمدنی عنقا تھی۔ والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ماں باپ کا یہ گھر انہیں ورثہ میں مل گیا۔ گھر بے شک کوئی پرشکوہ اور قابل رشک تو نہیں تھا مگر اتنا بڑا ضرور تھا کہ خود ان کی تنخواہ سے نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ انہی کی طرح ان کی بیٹی انوشہ کا بھی کوئی بہن

Read more

بے وفائی: تحریر او سنگ ون

تحریر: او سنگ ون ترجمہ: راجہ عبدالقیوم لوگوں کا ہجوم جلدی جلدی اس خبر کو پڑھتا اور یک دم ان کے چہروں کا رنگ زرد ہو جاتا اور وہ فوراً شک بھری اور پریشان نظروں کا ایک دوسرے سے تبادلہ کرتے۔ ضمیمے۔ ضمیمے، چھوٹے چھوٹے دستی بلوں پر بہت بڑے حروف میں چھپی ہوئی یہ خبر نا قابل یقین سرعت کے ساتھ گلیوں میں گشت کر رہی تھی۔ یہ سیول کی عقبی گلیوں میں سے ایک میں پینے پلانے کی

Read more

ناجیہ نام کی لڑکی

ایک دن شام کو ہوا خوری کے لیے جا رہا تھا کہ امی جان نے روک لیا۔ انھوں نے بتایا کہ ناجیہ آ رہی ہے اس کے لیے کمرہ تیار کرنا تھا۔ چنانچہ میں نے گیسٹ روم کا جائزہ لیا۔ جو اشیا درکار تھیں ان کی فہرست بنائی اور جمیل میاں کو کمرے کی صفائی کا کام دے کر باہر نکل گیا تا کہ مطلوبہ چیزیں لا سکوں۔ جمیل گھر کا ملازم تھا۔ ہر فن مولا تھا۔ صفائی ستھرائی، لان

Read more

کوزہ گر

” ارے بیٹا! جلدی سے برتن ڈھانپ دو۔ وہ دیکھو تیز آندھی آ رہی ہے“ ۔ کوزہ گر کی ماں چھت پہ کھڑی جنوب کی جانب سے آنے والی آندھی کو دیکھ کر چلا رہی تھی اور کوزہ گر کو آنے والے خطرے سے خبردار کر رہی تھی کہ وہ صحن میں رکھے برتن ترپال سے ڈھانپ دے، تاکہ کوئی برتن ٹوٹ نہ جائے۔ کوزہ گر کا یہ خاندانی پیشہ تھا جو اسے باپ کی طرف سے وراثت میں ملا

Read more

معصوم گناہگار

سلطان آج ایک کامیاب ترین انجینئرنگ فرم کا مالک تھا اور ایک خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر رہا تھا۔ آج بھی جب بھی وہ وہ اپنے ماضی میں جھانکتا تھا تو ایک کسک اس کے دل میں اٹھتی تھی۔ سلطان بچپن سے ہی ایک محنتی طالب علم تھا اور اپنی اس خوبی کی بنیاد پر اپنے والد عبد الاحد صاحب کا چہیتا بیٹا تھا۔ غربت کے باوجود عبد الاحد اس کی تمام تعلیمی ضرورتیں پوری کرتا عبد الاحد کی تمام

Read more

بیٹی یا سونے کی چڑیا

فاطمہ تمھارے ہاتھ کتنے خوبصورت ہیں مجو نے فاطمہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔ چاندنی رات میں فاطمہ اور مجو چھت پر بیٹھ کر گفتگو شنید کر رہے تھے۔ مجو، فاطمہ کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا تھا جس کے سہارے وہ جی رہی تھی ورنہ زندگی میں کچھ بھی ایسا نہ تھا جو وہ جیتی یا زندگی کی خواہش کرتی۔ بس کردے! مجو کیوں میرا دل جلاتا ہے؟ دن بھر برتن، جھاڑو کرنے کے بعد خاک

Read more

اب دیر ہو چکی ہے- افسانہ

جاوید اپنے والدین کا بڑا بیٹا تھا۔ غریب والدین اور دس بچوں کے ساتھ نے زندگی کو بڑا مشکل بنا دیا تھا۔ والدین نے بچپن سے ہی جاوید پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ جاوید نے بچپن کا کوئی لطف حاصل نہ کیا۔ اور سارا دن موٹر ورکشاپ میں گاڑیوں کے نٹ بونٹ کھولتے استادوں کی جھاڑ کھاتے اور ان کے ذاتی کام کرتے گزر گیا۔ استاد جی! جاوید کو ہر غلطی پر جھاڑ پلاتے اور گالیاں دیتے۔ لیکن جاوید نے کبھی بھی اس بات کا ذکر اپنے والدین سے نہ کیا۔

Read more

روبوٹس کی دنیا

تپتی سڑک پر ٹوٹا جوتا پہنے، جو اپنے اندر آگ کی حدت جذب کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا، وہ رکشے کی تلاش میں چلے جا رہا تھا۔ مہینے کا آخر تھا اور جیب میں موجود پیسے رکشے والوں کے مطالبے سے بیس فیصد کم تھے۔ جس کے کارن کوئی بھی اسے اس کی منزل تک پہنچانے کا کشٹ اٹھانے کو تیار نہ تھا۔ بالآخر اس نے اپنی خودداری کو اپنی قمیض کی اکلوتی جیب میں رکھا اور دو ایک

Read more

مخنث

زوبیہ بڑی کم گو، خاموش طبع سی بچی تھی۔ وہ ہر وقت ڈری سہمی رہتی اس کا کوئی دوست نہیں تھا سوائے حسن کے، حسن کی بھی زوبیہ کے علاوہ کسی سے دوستی نہیں تھی، وہ اکٹھے سکول جاتے اور ایک ہی اکیڈمی میں پڑھتے تھے۔ زوبیہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی اور حسن تین بہنوں کا اکلوتا بھائی دونوں کی پرورش بڑے پیار اور خاص توجہ اور دھیان سے کی جا رہی تھی۔ زوبیہ کے والد فاروق

Read more

زین عرف گوری

نیوز کاسٹر کی نوکری چھوڑے اسے کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ وہ مختلف بیماریوں کی زد میں آ گیا۔ بیماری کی حالت میں مریض کا گھر کی چار دیواری میں قید ہونا بھی کسی غنیمت سے کم نہیں ہوتا۔ زین عرف گوری اب گھر بار کی سہولتوں سے محروم، درباروں پر زندگی کے باقی ماندہ دن بھنگ بوٹی سے تشنگی مٹاتے ہوئے گزار رہا ہے۔ وہ ڈھول کی تھاپ پر زندگی کا رقص کچلتے کچلتے پچاس سال کا ہو

Read more

خوابوں کا شہزادہ – افسانہ

حافظ صاحب ہسپتال میں وارڈ کے باہر بڑی بے چینی سے چکر لگا رہے تھے۔ آج ان کے ہاں تیسرے بچے کی پیدائش تھی۔ بیوی سعدیہ زچگی کے لئے اندر تھی۔ آج ان کو امید تھی کہ بیٹے کی پیدائش ان کے گھر روشنی اور مسرت لے کر آئے گی۔ پہلی دو بیٹیوں کی پیدائش نے ان کو مایوس کر دیا تھا۔ ان کے ہونٹ مسلسل دعا کے لیے ہل رہے تھے کہ اللہ ان کی خواہش پوری کر دے۔

Read more

افسانہ: بلا عنوان

ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے دیر ہو رہی تھی۔ اس نے ایک بار خوفزدہ نظروں سے اپنے بیگ کو دیکھا اور بیتابی سے اپنے اسٹیشن کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ اس کے ذہن میں بہت سے خیالات گھومنے لگے۔ ایک لمحے کے لیے اسے یوں محسوس ہوا جیسے کائنات کی ہر چیز اس کی داستان سن رہی ہو، اور اسے تسلی دے رہی ہو۔ وہ خود سے باتیں کرنے لگی۔ ”شاید وہ اس کی بات سننا چاہتے ہوں،

Read more

چند ٹکے

ڈاکٹر نے رپورٹ پڑھیں اور پروین کو اپنے آفس آنے کو کہا۔ ڈاکٹر صاحب۔ آپ نے مجھے کیوں بلایا خیر تو ہے۔ پروین نے عجلت میں پوچھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اسے بیٹھنے کو کہا۔ پروین مزید پریشان ہو گئی ڈاکٹر صاحب کچھ دیر بعد گویا ہوئے۔ پروین بہن بات یہ ہے کہ محمود کی ٹانگ میں تین گولیاں لگی تھیں۔ جو ہم نے نکال دیں لیکن رپورٹ کچھ Negative ہے۔ ساری ٹانگ میں انفیکشن پھیل گئی اگر ہم محمود کی

Read more

شاہ سوار شاہ

اس دن ایسی گرمی تھی کہ گلیوں میں کتے اور آسمان میں کوے تک نظر نہیں آرہے تھے۔ لیکن شاہ سوار شاہ کو اپنی حویلی کے آنگن میں کپڑے دھوتی ممتاز صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ پچھلے دو منٹ سے کمرے کی جالی دار کھڑکی کے پار کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ تیسرے منٹ میں وہ باہر نکلا، چوتھا منٹ پورا ہونے سے پہلے ہی ممتاز اس کے کمرے کے اندر دیوار کی طرف چہرہ کیے جھکی کھڑی تھی

Read more

سوت پر سوت اور جلاپا

میں جانتا تھا کہ اس نے جو پوسٹ لگائی اس کا مخاطب میں ہوں۔ وہ میری دیوانی تھی اور مجھ سے منسوب بھی لیکن کئی سال کی ہم رکابی کے باوجود میں اس کے دل میں مستور راز جاننے میں ناکام رہا تھا۔ اب اس تصویر میں وہ غیر کی بغل میں گھسی نظر آ رہی تھی۔ میں اس سے تمام ناتے توڑ چکا تھا۔ وہ انتہائی تیز لڑکی تھی۔ جو تصویر اس نے انسٹا گرام پر لگائی اس کا

Read more

بارشوں کا روگ (افسانہ)

ساون کا موسم موج میں ہے۔ رات کا وقت ہے اور ہر طرف اندھیرا اور اندھیرے میں سناٹے کا راج! آسمان کی چھت کو بادلوں نے ڈھانپ لیا ہے۔ دوڑتے بادلوں میں گرج چمک۔ گرج کی آواز کے شور سے ماحول میں پھیلی ہوئی خاموشی میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ سارا دن بارش تھی۔ لگتا ہے اس وقت بھی بارش برسنے کو ہے۔ چھوٹا سا گاؤں جو مسلسل موسلا دھار بارشوں کے پانی میں گھرا ہوا ہے۔ رضیہ نے جس

Read more

گھڑی

خاکزاد حیات آباد میں اپنے کچے گھر سے نکلا تھا تو کاندھے پر اک بستہ تھا۔ یہ بستہ ماں نے ابا کی ایک گرم کوٹی کو کاٹ کر بنایا تھا۔ غریبوں کے ہاں ان کے اپنے سوا کوئی شے فالتو نہیں ہوتی۔ ماں نے زندگانی کی ریزگاری سے جو چند سکے بچا کر اپنی چادر کے کونے میں باندھے تھے چادر کے دوسرے کونے سے خاکزاد کو نکال کر زمانے کے حوالے کرتے ہوئے وہ سکے اس کے حوالے کر

Read more

گردشِ ماہ سال (افسانہ)۔

زندگی میں لوگ اور لہجے بدلتے تو اس نے بہت دیکھے تھے مگر اب تک وہ اس چیز کی عادی نہیں ہوئی تھی۔ کیا ہوا تھا؟ فقط چھوٹی سی تو بات تھی کہ شادی کے بعد بھائی کے رویے میں تبدیلی آ گئی تھی۔ اور ان کا جھکاؤ بھا بھی کی طرف زیادہ ہو گیا تھا مگر یہ فطری عمل تھا۔ اصولاً ًتو اسے اس بات پہ کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ہوتا یہ تھا کہ بھابھی کوئی چیز

Read more

ایک لڑکی کی کہانی: اے خدا تو کہاں ہے؟

میں نے تو زندگی کو اتنے عجیب سے انداز میں دیکھا کہ زندگی سے ہی نفرت ہونے لگی اور لوگ جینے کے لئے ایک دوسرے کو ہی ٹھوکر مارنے لگے۔ وہ چاہتی تھی کہ سب خوش رہیں مگر یہ ناممکن سا لگنے لگا تھا۔ سب کو خوش رکھنا ایک فن ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا۔ ہم لوگ بڑی باتیں کرتے ہیں جبکہ ہم اندر سے بکھرے ہارے ہوئے وجود رکھتے ہیں اور کوئی بتاتا بھی نہیں۔ میں ایک

Read more

ہیڈماسٹر: ہوشنگ مرادی کرمانی کی کہانی (1)

بچوں نے کلاس کو سر پہ اٹھا رکھا تھا کہ ہیڈ ماسٹر آغا نے غصے سے بھرا اپنا سر اندر کر کے پوچھا: ”کیا مسئلہ ہے گوسالوں؟“ وہ ہمیشہ کی طرح ایک چھڑی اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اور بالکل شمر کی طرح ناراحت اور غصے میں تھے۔ جیسے ہی ان کی آواز کلاس میں ابھری، بچے جو بلیک بورڈ اور کلاس کے اندر ادھر ادھر کھڑے تھے، چوہوں کی طرح پھدک کر اپنی اپنی جگہ پر جا بیٹھے۔

Read more

غم خوار

یہ اسی کی دہائی کا قصبہ تھا، جو کہ شہر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ آبادی بھی زیادہ نہیں تھی۔ سادہ لوح اور محنت کش لوگ اس قصبہ میں آباد تھے۔ ان میں سے اکثریت ملحقہ کھیتوں میں مزارعوں کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ گندم اور کپاس کے علاوہ دوسری مختصر دورانیہ کی فصلیں کاشت کی جاتی تھیں۔ زمیندار اپنی منشا سے محنت کشوں کو مزدوری دیتے۔ شاید چند ایک زمین دار اپنے کھیتوں پر کام کرنے والے مزدوروں

Read more

پرستار

تحریر: آئزک بشواس سنگر۔ مترجم: جاوید بسام۔ پہلے مجھے اس کی جانب سے ایک طویل ستائشی خط ملا۔ دوسری باتوں کے علاوہ اس نے اعتراف کیا تھا کہ میری تحریروں نے اسے خود شناسی میں مدد کی ہے۔ پھر اس نے فون کیا اور ہم نے ملاقات کا دن طے کیا۔ بعد ازاں پھر فون کی گھنٹی بجی، پتا چلا کہ اس دن اس نے ایک اور میٹنگ پہلے ہی طے کر رکھی تھی اور ملاقات کی دوسری تاریخ تجویز

Read more

وفا

وہ زندگی موت کی جنگ لڑ رہا تھا اور باہر ایک ہنگامہ مچا ہوا تھا اس کے کلاس فیلوز جمع تھے کیونکہ وہ ان کے لئے کسی ہیرو سے کم نا تھا اس نے سب کی جان بچانے کے لئے اپنی جان داؤ پر لگادی تھی۔ احمد کے ماں باپ خاموش بیٹھے سب کی شکلیں تک رہے تھے ان کے لب جامد تھے وہ کچھ بھی نہیں کہہ پا رہے تھے۔ یونیورسٹی میں 14 اگست کا جشن منایا جا رہا

Read more

مولوی غلام حسین کی بیٹی

شادی ہوئی تو لگا جیسے میں چوڑی چمارن مسلمانوں کے گھر آ گئی ہوں۔ مانو ان پاک لوگوں کے درمیان میری حقیر ذات کے بھاگ جاگ گئے۔ میری ذات کی خوش بختی جو ان کے خوبصورت برتنوں میں کھانا نصیب ہوا۔ کم بختی تو ان بیچاروں کی آئی جو مجھ کم ذات کو بیاہ لائے، کہ میری کم مائیگی ان کی شان گھٹانے کو کافی تھی۔ کبھی کبھی میں سوچتی میری موجودگی ان کے لیے آزار تھی تو مجھے بیاہ

Read more

فارحہ ارشد کا افسانہ

”امیر صادقین! تم کہاں ہو؟“ حسن کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ ہم اس کے جمال و جلال سے متاثر ہوں، اسے محسوس کریں مگر اس کے بیان کی طاقت سے محروم رہیں۔ کچھ ایسی ہی میری حالت، فارحہ ارشد کے افسانے پڑھنے کے دوران ہوئی ہے۔ اس سال پورا مئی اور جون کا زیادہ حصہ، میں پاکستان میں تھا۔ اس کا بڑا فائدہ تو یہ ہوا کہ بہت سے پرانے دوست احباب سے تجدید ملاقات ہو گئی۔ کچھ

Read more

مٹی کا دیا

مجھے گھٹن سی محسوس ہو رہی تھی۔ شاید پیاس لگ رہی تھی۔ ہائے کیسی مجبوری تھی کہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے بھی کسی کی مدد درکار تھی۔ بے چینی بڑھ گئی۔ چار دیواری کے اندر روشنی مدھم ہوتی جا رہی تھی۔ ممکن تھا کہ کچھ ہی دیر میں مکمل اندھیرا چھا جاتا۔ اور میں؟ میرا کیا ہے۔ کوئی پیاس بجھا دے تو اس کی مہربانی ورنہ انتظار تو میرا مقدر ہے ہی۔ انتظار بھی عجیب اذیت ہے۔ ہر ایک

Read more

راز

پورے محلے میں انہی کا گھر تھا جو سب سے عالیشان اور بہت بڑا تھا، کام کرنے والوں کی تعداد گھر کے مکینوں سے زیادہ تھی۔ جو کہ گھر کا سارا کام کرتے لیکن ان کو صرف مہینے کی سوکھی تنخواہ ملتی اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہاں جو دو ملازم دن رات گھر میں رہتے تھے انہیں کھانے پینے کو اتنا ملتا تھا کہ وہ اپنا پیٹ بھر سکیں۔ شیخ صاحب کا انتقال بہت پہلے ہو چکا

Read more

موسیقی کا نیا البم گل مہر سے

فنون لطیفہ تہذیب و تمدن کا اہم جزو ہیں۔ قصہ گوئی، شاعری، مصوری، بت تراشی اور موسیقی تخلیق کے وہ پہلو ہیں جن کا مادہ انسان کے خمیر میں ہمیشہ سے پایا جاتا ہے۔ اور اس کے شواہد آثار قدیمہ نے ان غاروں سے دریافت کیے ہیں کہ جو انسان کا ابتدائی مسکن تھے۔ ان غاروں میں کھدے ہوئے رقص کے خاکے بتاتے ہیں کہ قبل از تاریخ کا انسان بھی رقص کرتا تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ

Read more

جنت بیگم

گورا رنگ، بھرا بھرا جسم، لمبا قد، گول چہرہ اور گھنگریالے بال لیے جنت بیگم ایک شان سے چلا کرتی تھیں۔ پورے خاندان میں ان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا۔ خاندان میں کوئی بندہ ایسا نہ تھا جو ان سے دبتا نہ ہو۔ یہاں تک کے ان کے اپنے خاوند بھی ان کے آگے سر جھکائے، ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے۔ کہنے والے کہتے تھے کہ ان کا نام جنت تھا لیکن انہوں نے لوگوں کے لیے زندگی دوزخ

Read more

مسخ شدہ جنگل کی ایک نئی تصویر

وہ جنگل کی ایک اداس کن سیاحت تھی جس میں میری صورت مجھ سے جدا ہو گئی تھی۔ مجھے یاد نہیں، مگر یہ سچ ہے کہ میں اپنا چہرہ بھول چکا تھا۔ اس کے خد و خال اور رنگ تک مجھے یاد نہیں رہے تھے۔ کیوں کہ میری آنکھوں میں راحت کا چہرہ آ گیا تھا۔ ابھی جس دم میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں، وہ میرے نزدیک بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ مجھ سے خفا ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ

Read more

گھر کا بھیدی

” مجھے سمجھ نہیں آتا سب کو میرے آنے جانے کی خبر کیسے ہوجاتی ہے“ جنید نے اپنی پریشانی اس کے ساتھ بانٹی۔ ” تو میں کیا بتا سکتی ہوں“ ماریہ نے بے نیازی سے دیکھا تو وہ بھی چپ ہو گئے پھر ہر دوسرے دن یہ قصہ عام ہو گیا، جو بات گھر میں کی جائے پلک جھپکتے میں باہر اڑ جائے۔ ” مجھے نہیں پتا تھا ماریہ تم اتنی گنی نکلو گی“ کال اٹھاتے ہی بی جان کی

Read more

مہنگائی اور محبت کا سفر

” جس کو دیکھو یہ ہی بولتا دکھائی دے گا پیٹ کی فکر کریں یا ان بے جا اخراجات کی آج اس کی شادی کل اس کا ولیمہ پھر جانے کا سوچو تو پیٹرول پورے مہینے کا راشن کھا جاتا ہے“ ۔ روشنی بہت غصے میں تھی۔ ” یہ سب تم مجھے کیوں سنا رہی ہو جیسے میں نے مہنگائی کی ہو تاکہ تم برینڈڈ سوٹ نا لے سکو اور اپنی نئی سیوک کار کی شان کسی کو نا دکھا

Read more

علامتی افسانہ ۔ نجکاری

مجھے اچھی طرح یاد ہے جس گھر میں میری آنکھ کھلی تھی۔ یہ ایک اچھا خاصا کھاتا پیتا اور خوشحال گھرانا تھا۔ بہت سی زمینیں، جائیدادیں اور جاگیریں تھیں۔ اللہ کا دیا سب کچھ تو میسر تھا۔ ہم سارے اس بہت بڑے گھر میں اکٹھے رہتے تھے۔ یہاں ابو کا اپنے بھائیوں سے اکثر اختلاف رہتا تھا۔ چونکہ وہ لوگ اکثر مکر و فریب سے کام لیتے تھے۔ کبھی کوئی شرارت کر دیتے اور کبھی علاقے پر قابض نئے چوہدریوں

Read more

جیت

”جب بھی کوئی کہانی لکھی جاتی ہے تو سب سمجھتے ہیں شاید آپ بیتی لکھی ہے“ ۔ ماروی ہاتھ میں قلم لئے سوچ رہی تھی، وہ بہت اداس تھی ”کوئی تو میری مدد کرے وہ کمرے میں ٹہلنے لگی“ معلوم بھی ہے بابا آئے ہوئے ہیں تم کو بلا رہے ہیں ”اس کی سانس اکھڑی ہوئی تھی“ میں نے کتنی بار کہا ہے یہ پیغامات مت لایا کرو اگر ان کو مجھ سے شکایت ہے تو بات کریں سب کے

Read more

دو محبتوں میں گھری لڑکی کی کتھا

وہ بیس اکیس برس کی الہڑ مٹیار تھی، جس کی شوخ اور چنچل آنکھوں میں خوبصورت خواب بستے تھے۔ اکلوتی ہونے کے کارن بلا کی ضدی جو اپنی ہر خواہش جب چاہتی منوا کر ہی دم لیتی۔ وہ خوشیوں میں پلی بڑی اور محبت کے سائے میں جوان ہوئی۔ غضب کا سراپا اور قیامت کی چال جو کسی بھی حسین شخص کا خاصہ ہوتا ہے وہ اس میں تھا۔ مسکراتی تو گویا بہار کا سماں، موتیوں سے الفاظ، ادا جیسے

Read more

ارزل

سب مٹیالے جسم، ہڈیوں سے چمٹی جلد لیے، دھنسی ہوئی پیلی آنکھوں کے ساتھ دیمے کے ہوٹل پر فلم دیکھ رہے تھے۔ ہیرو کے ہر ڈائیلاگ پر خوش ہوتے ہوئے وہ ایک دوسرے کے جسموں کے پسینے کی بدبو کو فراموش کرتے ہوئے خوشی سے فلم دیکھ رہے تھے اور بعض لوگوں کے نظر آتے پیلے دانت اور خشک سلوٹوں کے آثار دیتے گالوں سے ان کے کچھ زیادہ ہی خوش ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ دیمے کے

Read more

ساریہ کی کہانی: کیا مائیں ایسی ہوتی ہیں؟

”مما آپ کہاں ہیں“ ۔ ”مما“ ”مما مجھے ڈر لگ رہا ہے۔“ ساریہ کی چیخوں سے نانی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ساریہ کو ساتھ لگا کر اس پر کچھ پڑھ کر پھونکنے لگی۔ وہ جب سے یہاں آئی تھی۔ آج پہلی بار یوں ڈری تھی۔ اور ماں کو نیند میں آوازیں دے رہی تھی۔ نانی کو کچھ نہ سوجھا تو جھٹ بیٹی کا نمبر ملایا۔ ”اماں خیریت؟ وہ بے وقت کی کال سے پریشان ہو گئی۔“ ہاں سب خیریت

Read more

ڈیفینس کی طوائف

اس نے ماضی کی تلخ یادوں کو روندنے کے لیے ایک بہت بڑا کش لگایا۔ اس آخری کش نے اس کے گلے کو فوری پکڑ لیا۔ وہ مسلسل کھانسے جا رہی تھی۔ وہ جس فٹ پاتھ پر بیٹھی تھی وہ بارش کی وجہ سے بہت گیلا ہو چکا تھا۔ سڑک کے دونوں طرف تیز رفتار گاڑیاں اپنی دھن میں بھاگ رہی تھیں اور اتنے شور میں بھی اس کے کانوں میں سناٹا تھا۔ اسے چرس پیتے ہوئے لگ بھگ آٹھواں

Read more

نگینہ کا درد

وہ سانولے رنگ، نشیلی آنکھوں والی درمیانے قد کی عورت تھی۔ اس کی عمر چالیس کے قریب تھی۔ اس کے چہرے پر نرمی کا تاثر ہر موسم کی دھوپ چھاؤں برداشت کرنے باوجود قائم تھا۔ اس کے ناک کی چمکتی لونگ اور بائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی میں ایک سفید پتھر کی انگوٹھی اس کا کل سنگھار تھی۔ اسے اپنی ناک کی لونگ اور سفید پتھر والی انگوٹھی بہت پیاری تھی۔ خاندان اور محلے کی عورتوں نے اس سے یہ لونگ

Read more

کیسی عجیب عورت

منزہ کے ماں باپ اور ملنے جلنے والے، کاشف کے ماں باپ اور بہن بھائی وغیرہ سب کو فکر لگی ہوئی تھی۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ وہ ہے کہاں؟

الغرض آس پاس کے سب لوگ پریشان تھے کہ جس نے اپنی محبت کو پانے کے لئے، اتنے سالوں تک۔ اس قدر صبر اور استقامت سے انتظار کیا، وہ اسے حاصل کرنے کے بعد یوں چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟

وہ محبوب جس کی جدائی میں وہ برسوں اکیلی تڑپتی رہی، اب اس سے جدا ہونے پر کیوں تلی ہوئی تھی؟

Read more

افسانہ: کچے رشتے

رات دو بجے کا وقت تھا۔ میں اپنے دکھوں اور تکلیفوں سے سمجھوتا کر کے گہری نیند سو رہا تھا۔ اچانک دروازے پر زور زور سے دستک ہوتی ہے۔ ارے یار یہ آدھی رات کو کون آ گیا۔ میں نے آنکھیں ملتے دروازہ کھولا لیکن حیرت کی بات تھی کے دروازے پر کوئی نہ تھا۔ اماں نے آواز دی ارے ناظم کون ہے دروازے پر میں نے بات کو ٹال دیا اور نیند کا مارا دوبارہ بستر سے لپٹ گیا۔

Read more

گاؤں سے عشق

شام تمام ہوئی پرندے گھروں کو لوٹ چکے۔ پارک تقریباً خالی ہو چکا تھا۔ خاموش سماں تھا زمین پر بکھرے خشک پتوں کی سرسراہٹ کا تسلسل بندھا ہوا تھا۔ ہم دونوں نظریں جھکائے آدھے گھنٹے سے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ بالآخر اس نے سکوت توڑا اور مخمور نگاہ اٹھاتے ہوئے کہا کیا تم میرے لیے گاؤں نہیں چھوڑ سکتے؟ کھلیانوں میں اگتی فصلوں کی مہک صبح کے وقت چہکتے پرندے چوں چوں کرتی چڑیا کوکتی کوئل بارش کے وقت سوندھی

Read more

دیوی کا کرشمہ

میں اپنے ماموں سے ملنے جا رہا تھا، وہ دریائے ستلج کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ ہمارے گھر سے ان کا گاؤں کھادر نہر کا پل پار کر کے دریا کی طرف رستے میں آتا ہے۔ میں پیدل ہی اس رستے پر چل پڑا۔ موسم بہت ہی سہانا تھا: ہر طرف گہرے اور ہلکے رنگوں کے اودے اودے بادل چھائے ہوئے تھے ؛ ایسے جیسے ابھی بارش ہو کے رکی ہو؛ اور بارش بھی نہ زیادہ کہ کیچڑ

Read more

پتنگ

اور آخر اس نے پتنگ بنا ہی لی۔ مگر یہ بات الگ ہے کہ اس نے پتنگ بنانے میں کیا کیا قربانیاں دیں اور کیسے کیسے پاپڑ بیلے۔ جب اس کو پتنگ بنانے کا خیال آیا تو ایسا مختلف خیال کسی کو آج تک نہیں سوجھا تھا اس لیے اسے کسی بھی قسم کی مدد اور سہولت ملنے کی امید نہ تھی۔ مگر وہ اپنے ارادے کا پکا تھا اس لیے جتا رہا اور وہ گرتا پڑتا کامیاب ہو ہی

Read more

غاریلے

ایک مدت سے وہ اسی غار میں رہ رہے تھے نہیں معلوم کتنا عرصہ ہو چکا تھا اور ان کی کتنی نسلیں اسی ایک ہی غار میں گزر چکی تھیں بل کہ ایک دفعہ توا یک بزرگ نے سب کو اکٹھا کر کے بڑی تفصیل سے بتایا تھا کہ میں نے اپنے دادا کو دیکھا تھا جن کے قرن ہا قرن اسی غار میں گزرے تھے۔ پیدائش، بچپن، لڑکپن، نوجوانی، جوانی، مردانہ وجاہت اور پھر ڈھلتی عمر اور اسی عمر

Read more

ذرا سی بات

شادی کو ہفتہ ہی ہوا تھا۔ خالہ کے ہاں دعوت تھی میں نے ستاروں بھری نیلی ساری پہنی میک اپ کیا زیور پہنے اور عابد کے سامنے بڑے چاؤ سے جا کھڑی ہوئی۔ اس نے ایک نظر بھر کر مجھے دیکھا۔ مسکرایا اور بولا ” واہ۔ کیا کہنے۔ “ اور میں نے ہنس کر آنچل لہرایا۔ ” وہ جو اس دن تم نے غرارہ پہنا تھا ہلکے گلابی رنگ کا“ ” جی“ ” وہ تم پر بہت جچ رہا تھا۔

Read more

چندا

ساری زندگی اس نام نے دکھ دیا۔ یہ نام رکھا کس نے تھا اور کیوں رکھا تھا۔ ذلیل کرنے کے لیے یا پھر دھوکہ دینے کے لیے، یہ بات اسے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ مگر نفرت تھی اسے اپنے آپ سے منسوب اس نام سے۔ جب بھی کسی نے نام پوچھا۔ چندا۔ اس نے حلق سے گولی کی طرح اپنا نام اسے دے مارا مگر اب جوں جوں عمر بڑھتی جا رہی تھی اس نے اپنے نام کی توہین کرنے کا مہذب طریقہ اپنا لیا تھا۔ کسی سوال پوچھنے والے کو اپنا نام بتا کر اسی سانس میں کہتی۔ ہے بھلا کوئی تک۔ یہ منہ اور متھا اور یہ نام۔ پتہ نہیں ماں باپ نے محرم کا چاند دیکھا تھا یا اماوس کا ۔

نہ دنیا میں آنے میں اس کا دوش، نہ معاشرے کے بنائے گئے حسن کے تصورات پر پورا نہ اترنے میں اس کا قصور، اس کے باوجود بھی بدصورت کہلانے کی سزائیں خوب بھگتیں اس نے۔ تین بڑے بھائی بہن اور سب سے چھوٹی چندا۔ سب سے دبتا ہوا رنگ اور نہایت گیا گزرا ناک نقشہ، تو توجہ بھی اسی حساب سے ملی۔ یعنی سب سے کم۔ بچپن میں تو ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت پانے کی آرزو میں ان کے آگے پیچھے پھرتی رہتی۔ کسی کے کپڑے استری کرتی اور کسی کے جوتے صاف کرتی۔ بہن بھائیوں کے سارے کام بھاگ بھاگ کر کرتی۔ مگر کسی کو اس سے کبھی کوئی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی۔ آپا تو صاف صاف کہا کرتی تھی کہ کھرچن ہے، ہزاروں میں کوئی ایک بھوکا کھا کر پیٹ بھرتا ہے ورنہ پھنکتی ہے۔ پتہ نہیں کمبخت کس پر چلی گئی۔ ماں بڑبڑاتی۔

Read more

پڑھی لکھی زنانی اور اتھری گھوڑی

ماگھ کی پانچ اور انگریزی کی سترہ تاریخ تھی۔ وہ اس تاریخ کو آخری دفعہ مجھے ملی پھر ساون کی بدلی کی طرح کہیں کھو گئی۔ دراصل وہ تھی ہی ایسی جہاں کہیں ہوتی وہاں نہیں ہوتی تھی اور جہاں نہیں ہوتی تھی وہیں ہوتی تھی۔ ایسے لگتا جیسے اس پہ اس کا اپنا اختیار بھی نہ ہو۔ جوانی اس پر اتھری گھوڑی کی طرح بے لگام ہو کر آئی تھی۔ مجھے اتھری گھوڑیاں سدھارنے کا شوق تھا۔ وہ جو

Read more

حضرت علی مجسٹریٹ اعزازی

دس سالہ بیدار بخت ایک ہاتھ میں اپنا پھٹا سر دوسرے ہاتھ میں سائیکل کا ہینڈل آنکھوں میں آنسو اور زبان پر موٹی موٹی گالیاں لئے پیڈل پر پیڈل مارتا مجسٹریٹ آفس کی طرف رواں دواں تھا۔ ہوا کچھ یوں کہ آج صبح اس کی ماں بیگم گل اور چاچی زیتون میں بجلی کے بل پر ہونے والی تکرار بڑھتے بڑھتے برتنوں کی گولہ باری میں تبدیل ہو گئی۔ چار بھائیوں کے اس مشترکہ خاندانی نظام میں بیگم گل کو

Read more

چچا سام کے نام دسواں خط

اٹھائیس مئی دو ہزار بائیس میانوالی۔ پاکستان ! چچا جان تسلیمات اس سے پہلے کے بجلی چلی جائے، مجھے خط لکھ لینے دیجیے۔ آپ کو کیا خبر کہ اڑتالیس ڈگری میں دوپہر کو جب دو دو گھنٹے بجلی چلی جاتی ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے، آپ تو اب مریخ کو آباد کرنے کا سوچ رہے ہیں، ادھر ہم زمین پر بنیادی سہولیات کو ترس رہے ہیں۔ پچھتر برس پہلے ہمارے دوست اور آپ کے ہردلعزیز بھتیجے سعادت حسن منٹو

Read more

میرے پاس نہ آؤ

سلیم ہوٹل کی لابی میں بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ دو گھنٹے گزر چکے تھے۔ ایک پل کے لیے بھی اس کی نگاہیں مرکزی دروازے سے نہیں ہٹی تھیں۔ سگریٹ پر سگریٹ پھونکے جا رہا تھا۔ جوں جوں وقت گزر رہا تھا نا امیدی بڑھتی جا رہی تھی۔ یہ ہوٹل بھی کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ لوگ آ کر تھوڑی دیر اردگرد موجود صوفوں پر بیٹھتے اور پھر چلے جاتے۔ بہت سے لوگ جو کسی کا انتظار

Read more

روشن کل

گھر کا دروازہ بند کر کے میں گلی میں نکل آیا مگر الجھنوں اور پریشانیوں کے جو دروازے میرے اندر کھلے تھے وہ بند نا ہو سکے میں نے اپنی زندگی میں ہر مشکل کا سامنا صبر اور سکون سے کیا تھا لیکن ساٹھ کو پہنچنے سے پہلے ہی یا تو میں سٹھیا گیا تھا یا پھر یہ دور ہی پاگل کر دینے والا تھا نفسا نفسی کے اس دور میں بقا کی جنگ لڑنا مشکل ترین ہو گیا تھا۔

Read more

ازل اک تیرگی ہے

نہ جانے مجھے یہ شوق کب سے تھا۔ شاید ہمیشہ سے ہی تھا۔ پتہ نہیں؟ ابا جان کی سرکاری نوکریوں کے نتیجے میں ہونے والی آئے روز کے تبادلوں نے ہی غالباً میرے اندر کے متجسس سیاح کو جنم دیا تھا۔ پتہ نہیں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ہماری فیملی اکثر شہر شہر نگر نگر گھومتی رہتی، کبھی کبھار تو ہمیں وطن عزیز کے ایسے دور دراز کے پسماندہ اور گمشدہ علاقوں میں بھی رہائش اختیار کرنا پڑی ہے جن کا

Read more

مختصر افسانہ: کھوج

ہوٹل کا شاندار بال روم ہلکے رنگ کی روشنی سے جھلملا رہا تھا، دھیمے سروں میں گونجتی موسیقی کی مدھر جھنکار پر بال روم میں موجود جوڑے محو رقص تھے، حقیقت یہ تھی کہ گلوکار کی بھاری و خوابیدہ آواز رقصاں جوڑوں کے جذبات جگا رہی تھی۔ ” آئی ایم یور مین“ گلوکار کی آواز گونجی تو نادر نے گنگناتے ہوئے آرزو کی آنکھوں میں جھانکا، وہ کھل کر ہنسی، اور دھیرے سے اس کے گلے لگ گئی۔ کیا میں

Read more

کینچلی چڑھا سانپ

نوید کی زندگی میں سب سے بڑا چھناکا تب ہوا جب کوئی اس کی تنہائیوں میں مخل ہو گیا لیکن یہ انجانے میں نہیں بلکہ مدہوشی کے ایک خاص وقفے کے تسلسل میں جانے بوجھے کو انجانے میں گنوانے سے ہوا تھا۔ ہوا یہ تھا کہ وہ اپنی تنہائی کی یکسانیت سے اکتا کر ایکتا کو اس میں شریک کر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی زندگی کو سگریٹ کے مرغولوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا تھا لیکن ایکتا نہ تو سگریٹ

Read more

جنہیں دیوانگی نے پناہ دیدی

اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی لیکن اس کی آنکھیں وہیں رہ گئیں۔ گھر کی دہلیز پار کرنے سے پہلے اسے تکتی آنکھیں۔ مامتا کی محبت سے لبریز لیکن اداس۔ پانچ چھ سال کی عمر میں دیکھا یہ منظر اسے کل کی طرح یاد تھا۔ اس کے ذہن کے کینوس پر نقش ایک ایسی تصویر جسے وقت کبھی دھندلا نہ سکے۔ اس نے یہ بات مجھے اس وقت بتائی جب وہ بظاہر اپنے ہوش و حواس میں

Read more

خوں آشام

آج پھر رجو کی کمبختی آئی تھی۔ شاید کوئی برتن اس سے ٹوٹ گیا تھا تبھی اس کی بھابھی اسے صلواتیں سنا رہی تھی۔ میں چینی کے پیالے میں گدلی سی رنگت والی چائے میں گول پاپے ڈبو ڈبو کر کھاتا رہا۔ میرے لیے یہ آئے دن کے معمول کی بات تھی۔ سامنے کمرے کے دروازے سے جھلنگا سی چارپائی پر اماں سوتی نظر آ رہی تھی۔ ہر تھوڑی دیر بعد اس کا داہنا ہاتھ کالے سفید مٹیالے بالوں میں

Read more

باشعور طبقہ اور قوم

قومیں اتنی آسانی سے نہیں بنا کرتیں۔ ایک قوم بننے کے لیے اجتماعی شعور، جرات مندانہ فیصلوں، بلند خیالی، مدبرانہ سوچ، اخوت، جذبے، بے خوفی، استقامت اور ذہنی پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بحیثیت قوم ہمارا یہ المیہ رہا ہے کہ ہم پکی نالیوں اور سڑکوں سے آگے کبھی دیکھ ہی نہیں سکے۔ ہمیں پکی نالیوں، سڑکوں اور بازاروں کے علاوہ روزگار کی مصیبتوں میں جکڑ کے رکھا گیا۔ ہم دور تک دیکھنے کی صلاحیت سے ہمیشہ محروم رہے ہیں۔

Read more

کنکوبائن (داشتہ) : ست رنگے کی کہانی

میرا نام۔ جان کر کیا کریں گے؟ نام میں کیا رکھا ہے؟ کتنی واہیات سوچ ہے۔ نام اپنے اندر تہذیب، ثقافت وغیرہ وغیرہ میں سے کچھ نہ کچھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اس اطلاع کے بعد عرض ہے کہ میرا نام رین بو ہے۔ یہ اچھا نام ہے کیونکہ اس میں شناخت بھی ہے میری۔ مجھے ایسا نام پسند ہے کہ جس میں کچھ نا کچھ مخفی ہو۔ خفیہ پن اور پر مغز معنویت یہ دو ہی چیزیں ہیں

Read more

نادیدہ خواب کا عفریت

جلا دو کتابیں جو کہتی ہیں دنیا میں حق جیتتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جھوٹ اور سچ میں ہمیشہ ہوئی جنگ اور جھوٹ جیتا ہے کہ نفرت امر ہے کہ سچ ہارتا ہے کہ شیطان نیکی کے احمق خدا سے بڑا ہے ۔ فہمیدہ ریاض خنک ہواؤں کا ایک ریلا اس کی شکن زدہ سلوٹوں کو چھو کر گزر رہا تھا۔ وہ ایک بوسیدہ لحاف کے اندر تھی اور اس کے جسم کے ہر حصے میں تیزاب کی

Read more

گھر کا نہ گھاٹ کا: افسانہ

مقصود بھائی سے ہماری کوئی دور پرے کی رشتہ داری نہ تھی۔ ان کی ماں ہماری چچیری یا پھپیری بہن ہوتی تھیں۔ اس رشتے سے ہم مقصود بھائی کے ماموں ہوتے تھے۔ مقصود بھائی عمر میں ہم سے چھ ماہ بڑے رہے ہوں گے، اس لئے ہم لہذاھ انہیں مقصود بھائی کہتے تھے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ مقصود بھائی نے بھی ہم سے آپ جناب ہی رکھی ہوئی تھی اور خاصا لحاظ کرتے تھے۔ یوں بھی ہماری ان کی دوستی تھی نہ بے تکلفی۔ جیکب آباد میں رہتے تھے اور کبھی کسی شادی بیاہ کے موقعے پر کراچی آتے تو ملاقات ہو جاتی، جو چند گھنٹوں سے زیادہ نہ ہوتی۔ مگر انٹرنس پاس کرنے کے بعد جب مقصود بھائی کو تلاش معاش کی سوجھی تو وہ کراچی آئے اور کئی ہفتے ہمارے ہاں ہی رہے۔ بس یہیں سے ہماری ان کی دوستی یا رشتہ داری کا آغاز ہوا۔ مگر جب مقصود بھائی کو کہیں منزل مقصود نہ ملی تو وہ با دل ناخواستہ جیکب آباد لوٹ گئے۔

Read more

جنگلی

  وہ شادی کے لیے تیار تھی لیکن ساتھ یہ شرط رکھ دی۔ پہلے پہل تو حشمت کو بہت دکھ ہوا کہ وہ اس کی محبت کو اتنی چھوٹی سی بات سے آزما رہی ہے۔ گرچہ یہ اس کی پسند کے خلاف تھا لیکن زمرہ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا۔ ”قدرت نے مرد کو یہ شناخت دی ہے تو تم کیوں مٹاتے ہو؟ ایک تو تمہاری رنگت ایسی ہے اور روزانہ بلیڈ سے چھیل کر اپنے منہ کو ابلے

Read more

ایک بے بس بیوی کا بستر (آخری حصہ)

پہلے مختصر سی روئیداد اس رات کی۔ سلمان عالم نے نکاح کے بعد ، پہلے رشیدہ کو آئندہ پیش آنے والے حالات سے متعلق اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ پھر، کہاں کہاں، کس کس احتیاط کی اور کیوں ضرورت ہے؟ یہ تفصیل بتائی۔ اس کے بعد وظیفہ ء زوجیت ادا کیا اور مولوی سلمان صاحب سو گئے۔ رشیدہ بھی پہلے تو تقریباً آدھ گھنٹہ کے لئے گہری نیند سوئی مگر پھر اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کافی کوشش کرتی

Read more

انتظار کی گھڑی

فراز ساحل کے ساتھ موجود سڑک پر معمولی انداز میں چلتا جا رہا تھا۔ اطراف سے گزرتے لوگوں پر اس کی نظر ٹھہرتی اور پھر اچانک وہ ان سے آگے نکل کر جلدی سے اپنی منزل کی جانب بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اس کی شوریدہ کیفیت سڑک پر موجود لوگوں کی توجہ کی مرکز تھی۔ ہر کوئی اس کو دیکھ رہا تھا کیوں کہ اس کی کبھی کم کبھی تیز رفتار منظرنامے پر احساس کو شدت فراہم کر رہی

Read more

گل بانو: ایک پھول کے پانچ رنگ

اوسلو سے دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر ایک شہر میں ہمارا گھر تھا۔ ہم سب نارویجین شہریت رکھتے تھے۔ ہم چار بھائی تھے۔ میرا نمبر تیسرا تھا۔ والد گھر کی سلطنت کے بلا شرکت غیرے حکمران تھے۔ ہماری ماں کی حیثیت دبی ہوئی رعایا تھی۔ ہم بھائی بھی غلام ہی تھے۔ میری زندگی کے کئی مختلف ادوار ہیں اور ہر دور میں میرا رویہ مختلف رہا۔ پہلا دور ماں ہماری اکثر پیٹتی زخم کھاتی اور روتی رہتی۔ ابا

Read more

لالچ

یہ اس وقت کی بات تھی جب میں سولہ برس کا تھا۔ اور یہ وہ عمر ہوتی ہے جب انسان کا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی مرضی سے سارا کچھ کروں۔ ماں باپ بڑے بہن بھائی اور جو بھی بڑے سمجھاتے ہیں اس وقت انسان سنتا ضرور ہے۔ مگر دوسرے کان سے نکال دیتا ہے۔ میرا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اور میری ایک بہن تھی جو مجھ سے تین سال

Read more

کیوں نہ مریم ہوا کرے کوئی

وہ مسلسل اپنے وجود میں بپا طوفان سے نبردآزما تھی۔ کمرے کی کھڑکی کے باہر کا منظر: ہریالی، کھیت، چرند پرند نیز ہر چیز میں اس کو بجائے راحت کے ناگواری سی محسوس ہو رہی تھی۔ ابھی کچھ ہی دن ہوئے اس کی منگنی ہوئی تھی۔ شادی سے پہلے عروسی جوڑے کی رمک اور پیا گھر سدھارنے کی سند ملنے کا احساس اس کے گرد ایک الگ ہی دنیا کا حصار باندھے ہوئے تھا۔ ابھی وہ گدگدی ختم نہ ہوئی

Read more

ایک کہانی سے نکلتی ہوئی کہانی

فیصلہ مضحکہ خیز، سفاکانہ اور حیرت انگیز تھا لیکن مطلق العنان بادشاہ نے اسے ہر صورت جاری رکھنے کا حکم جاری کیا ہوا تھا۔ وزیراعظم، وزرا اور دیگر لوگ اس عجیب و غریب فیصلے کے نتائج و عواقب سے بادشاہ کو آگاہ کرتے تو وہ ہمیشہ وہی پرانی رٹ ہی الاپتا کہ ”دادا حضور اور ابا حضور کے جاری کیے ہوئے فیصلے کو میں کیسے ختم کر سکتا ہوں“ سو اس سلطنت میں برسوں سے وہ حکم نافذالعمل تھا۔ اس

Read more

ان کہی بات

اس لاش کو دفنانا آسان کام نہیں تھا۔ رعنائی سے ہم آغوش پرسکون موت سامنے لیٹی تھی۔ جہد مسلسل اپنی معراج کو پہنچ چکی تھی۔ دل کے نقائص اور تقدیر میں لکھے مصائب سے لطف اندوز ہوئی کبھی بھی اس کے چہرے کو متالم نہ پایا۔ وہ ایذائے خلق سے لذت پاتی ہوئی موت اسود کی معراج کو پہنچی یا بھوک پیاس اور جسمانی ضروریات پر قابو پا کر تہی داماں و خالی شکم موت ابیض پا کر تصوف کے

Read more

گھاٹے کا سودا

’اب بتاؤ کیا خاص بات کرنی ہے جس کے لئے تم نے مجھے بلایا ہے۔ ‘ سونیا نے دھوپ کی ہلکی کرنوں سے چمکتی ہوئی ثمرہ کی بڑی بڑی بالیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ’سونیا کیا بتاؤں، میں اس کو چھوڑ رہی ہوں۔ ‘ ثمرہ کا سارہ بوجھ ایک دم اتر گیا تھا۔ ’کیا یار؟ سب خیریت ہے نا!‘ ’سونیا مجھے تو سلیم میں کوئی خاص اچھائی نظر نہیں آتی۔ یہ تو خود بس ایسا ویسا ہی ہے اور مجھے

Read more

گل بدن

آج وہ آٹھ سال کا ہو چکا تھا۔ والد کی قبر کا اسے آج ہی پتا چلا تھا۔ اس سے پہلے اس نے نہ ہی اپنے والد کو دیکھا تھا اور نہ ہی ان کی قبر کو ۔ وہ پانچ بہنوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کی پیدائش پر اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی اور اپنی ماں کا لاڈلا بیٹا تھا۔ اس کے حصے میں آنے والی گیارہ ایکڑ زمین پر

Read more

میری منگیتر

(محترمہ راحیلہ خان ادیبہ کا افسانہ ’حادثہ‘ پڑھا۔ ’منگیتر اور خاوند‘ ایک ہی شخص کے دو روپ دیکھے۔ پڑھ کر دل چاہتا ہے کہ بندہ ساری عمر منگیتر ہی رہے۔ شادی والا حادثہ کبھی وقوع پذیر نہ ہو۔ ایک افسانہ پیش خدمت ہے۔ ) سچی محبت قاضی کے خطبے، پنڈت کے اشلوک یا وکیل کے ڈرافٹ کی محتاج نہیں، یہ وہ سماوی بادشاہت ہے جو انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ کیا یہ سماوی بادشاہت اس کے وجود کا حصہ

Read more

(افسانہ) نیچ ذات

کرم چند کی ماتا جی نے ڈپٹ کر آواز لگائی، اے کر مو کیا بات ہے تیرا دھیان کدھر ہے، دیکھ تو نے سارا گوبر چھوڑ دیا، وہ شاید اس غلطی پر کرم چند کو ایک دھپ بھی لگا دیتی مگر اس کا باپ آڑے آ گیا۔ کرم چند راجھستان کے ایک پسماندہ گاؤں منگل پورہ کے نہایت ہی غریب خاندان کا اکلوتا بچہ تھا۔ اس کے خاندان کا گزر بسر گاؤں کے گوالوں کی گائے بھینس کا گوبر جمع

Read more

افسانہ۔ نیلگوں آسماں تلے

”مولبی شاب! نکاح نامہ میں گھوٹ (دولہا) کا حق مہر دو ہجار روپے روجانہ کا لکھ دو جو کنوار (دلہن) اشے لا کے دیا کرے گی البتہ دو ہجار روپے شے اوپر کی آمدنی وہ خو د اپنے پاش رکھ لیوے تو ہم کو کوئی اعتراج نہیں“ دولہا کے سرپرست نے کہا۔ پکھی واس خانہ بدوشوں کا یہ رواج باقی دنیا سے مختلف اور عجیب تھا کہ حق مہر دلہن کی بجائے دولہے کے حق میں لکھا جاتا تھا۔ رواج

Read more

زندگی دھوپ تم گھنا سایہ (افسانہ)۔

ارے مہرو کہاں مر گئی؟ مہرو النساء کی بڑی بھابھی نے بہت غصے سے آواز لگائی، تو مہرو قریب قریب بھاگتی ہوئی ان کے سامنے حاضر ہو گئی وہ باقاعدگی سے ہانپ رہی تھی اور اس کی کیفیت سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ کوئی مشقت والا کام کر رہی تھی۔ مہرو پر نگاہ پڑتے ہی بھابھی کا پارہ اور چڑھ گیا، نہایت حقارت اور تلخی سے کہا، کیا بہری ہو گئی ہو؟ سنتی نہیں منا رو رو کر

Read more

تنہائی کا خالی سینہ اور باشک ناگ کا دل

کاجل نے کیفے سے باہر دیکھا۔ برف پوش وادی چاندنی میں دھلی ہوئی تھی۔ بل کھاتی لمبی سڑک اور حد نظر تک پھیلے سبزہ زار سفید اوڑھنی اوڑھے درد انگیز خاموشی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ازلی دکھن و بے کلی سے آلودہ رات مرمریں روشنی میں چمکتی بے جان یخ بستہ تصویر کی طرح تھی۔ سر شام ہی بادل وادی میں گھومنا شروع ہو گئے تھے۔ چاند اب بادلوں کے ساتھ چھپن چھوت کھیل رہا تھا۔ پھر ہلکی سی پھوار

Read more

مراد سے نامراد تک

چندا ہے تو میرا سورج ہے تو، آ میری آنکھوں کا تارا ہے تو، جیتی ہوں میں، بس تجھے دیکھ کر، اس ٹوٹے دل کا سہارا ہے تو چند ماہ کے بچے کو خود سے لپٹائے رشیداں گنگنا رہی تھی۔ اس کے ہاتھوں کو چومتی تو کبھی پیروں کو، یہ رشیداں کا معمول تھا۔ وہ سارا دن یہی کرتی۔ بچے کو ایک منٹ کے لیے بھی گود سے نہ اتارتی۔ جب وہ سو جاتا تو گھر کے کام کرتی۔ کتنی

Read more

افسانہ – آخری اسٹیشن

ٹرین نے وسل دی اور پلیٹ فارم پر رینگنا شروع کر دیا۔ بوڑھے خیر دین نے ایک الوداعی نگاہ باہر کھڑے ہجوم پر ڈالی اور آنکھیں موند کر سر ٹکا لیا۔ جام پور کے اسٹیشن کو رفتہ رفتہ ٹرین پیچھے چھوڑ رہی تھی۔ ایک لمبا سفر خیر دین کا منتظر تھا۔ جس کی منزل آخری اسٹیشن تھی۔ یادوں کے پردے پر ایک مسکراتی، چھیل چھبیلی، شرمیلی سی شبیہہ ابھری۔ خیر دین مسکرایا، یہ سلمیٰ تھی۔ اس کی شریک حیات۔ شادی

Read more

روزگار کا سنگ میل یا نوکری کی کچی تازہ قبر

”تو آپ قیصر ابراہیم کے بڑے بھائی ہیں“ اس کے بیٹھتے ہی انہوں نے سوال کر ڈالا۔ ”جی ہاں“ وہ کچھ بوکھلا سا گیا۔ انٹرویو اس طرح شروع ہو گا اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ ”آپ کی کوالیفی کیشن“ ۔ انہوں نے فائل الٹتے ہوئے پوچھا ”انٹر میڈیٹ“ ”بس! کوئی معقول وجہ؟“ ”نا مساعد حالات کی بنا ر مجھے تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا“ ۔ اس نے عذر پیش کیا۔ ”کہاں کہاں نوکری کی آپ نے“ ۔ وہ

Read more

پائپس

معروف اسرائیلی ادیب ایتگار کیریٹ کی کہانی Pipes کا اردو ترجمہ۔ جب میں ساتویں جماعت میں پہنچا، تو انہوں نے ایک سائیکاٹرسٹ کو اسکول بلایا اور ہمیں متعدد نفسیاتی ٹیسٹوں سے گزارا گیا۔ سائیکاٹرسٹ نے مجھے ایک ایک کر کے بیس مختلف فلیش کارڈز دکھائے اور پوچھا کہ بتاؤ ان تصویروں میں کیا گڑ بڑ ہے۔ وہ سب مجھے ٹھیک لگ رہی تھیں، لیکن اس نے اصرار کیا اور مجھے دوبارہ پہلی تصویر دکھائی، جس میں ایک بچہ تھا۔ ”اس

Read more

اندھے بہرے گونگے

میں ایک گاؤں میں رہتی ہوں یہ میرا گاؤں، میری بہشت نہر میں بہتا ہوا شفاف پانی ہر سو لہلہاتے ہوئے کھیت مست مست چرندے پرندے کوئل کی کوک اور مرغ کی بانگ جانوروں کے گلے میں بندھی ہوئی گھنٹیوں کا ساز شام کو دور سے آتی ہوئی کانوں میں رس گھولتی بانسری کی آواز پہلی بارش پہ مٹی سے اٹھنے والی مدہوش کردینے والی خوشبو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ بڑی بڑی خوشیاں پورا گاؤں بس ایک گھر ویہڑوں کی

Read more

نیلی آنکھوں والی گڑیا (قسط نمبر 3

چھ محرم کو گھر میں کوئی نہ ہوتا۔ سب عورتیں امام بارگاہ کے برآمدے میں اور مرد صحن میں بیٹھے مجلس سنتے۔ مجلس ختم ہونے کے بعد مرد آہستہ آہستہ باہر نکل جاتے اور عورتیں برآمدے سے صحن میں آ کر جھولے کے گرد دائرہ بنا کر مصائب شہزادہ علی اصغر پڑھتیں۔ فرحی آنٹی زمین پر بیٹھ کر جھولے سے لپٹ کر بہت گریہ کرتیں۔ انہیں دیکھ کر جو آنکھ نم نہ ہوتی اس آنکھ سے بھی آنسو رواں ہونے

Read more

آخر بدکردار کون

یہی گرمیوں کا موسم تھا، جب فرقان اور شائستہ کا نکاح ہوا۔ فرقان اور شائستہ دونوں اس دن بڑے خوش تھے کیوں کی دونوں ایک دوسرے کو بہت پیار کرتے تھے۔ لیکن رخصتی کو فل وقت تاخیر کی نظر ہونا پڑا، کیوں کہ فرقان چاہتا تھا کہ کم ازکم وہ اس قابل ہو جائے کہ شائستہ کو ایک اچھی اور خوب صورت زندگی دے سکے۔ اس سلسلے میں فرقان کو ایک اچھی نوکری کے لیے کافی شہروں کی خاک چھاننی

Read more

ٹک ٹاک

تم یونیورسٹی جاؤ گی یا نہیں؟ اٹھو۔ اٹھ رہی ہوں امی فلزہ نے سستی سے کمبل اوپر کرتے ہوئے کہا میں جا رہی ہوں دوبارہ نہیں آؤنگی اٹھانے جانا ہو تو چلی جانا ورنہ پڑی سوتی رہو۔ ہائے ہائے کتنے بج رہے ہیں؟ نو بج گئے سر فیروز کی کلاس بھاگو فلزہ بستر سے اچھلتے ہوئے اٹھی۔ اس لڑکی کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ماں سب کا اللہ ہی محافظ ہے باتھ روم میں گھستے ہوئے فلزہ نے چیختے ہوئے

Read more