بابا جی کا حقہ
صبح سے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ بابا جی برآمدے میں صاف ستھری چار پائی پر بیٹھے، چائے رس کا ناشتہ کر رہے تھے۔ بابا جی کی بیٹیاں اپنے بابا جی کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ بابا جی کی تقریباً اسی سال کی عمر ہو گئی تھی۔ ان کا رعب دبدبہ ہمیشہ کی طرح آج بھی قائم تھا۔ جو بات ان کی زبان سے نکلتی وہ حرف آخر ثابت ہوتی تھی۔ وہ اپنی بیٹیوں کو عموماً ”کڑیو“ کہہ کر
Read more
























































