بابا جی کا حقہ

صبح سے ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ بابا جی برآمدے میں صاف ستھری چار پائی پر بیٹھے، چائے رس کا ناشتہ کر رہے تھے۔ بابا جی کی بیٹیاں اپنے بابا جی کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ بابا جی کی تقریباً اسی سال کی عمر ہو گئی تھی۔ ان کا رعب دبدبہ ہمیشہ کی طرح آج بھی قائم تھا۔ جو بات ان کی زبان سے نکلتی وہ حرف آخر ثابت ہوتی تھی۔ وہ اپنی بیٹیوں کو عموماً ”کڑیو“ کہہ کر

Read more

گم شدہ

وہ ایک پہاڑی علاقے کا باسی تھا، جو دولت مند ہونے کے ساتھ ،تین عد بیٹیوں اور دو عدد بیٹوں کا باپ بھی تھا۔اُس کی عمر یہی کوئی ساٹھ برس کی ہوگی، جس میں سے دس برس اُس کے رنڈاپے کے تھے۔ دن کو وہ دوستوں میں بیٹھ کر وقت گزار لیتا، لیکن رات کو اُسے اپنی تنہائی بری طرح ستاتی۔ وہ اپنی جنسی ہوس کو دبائے زندگی کے ایام کاٹ رہا تھا، لیکن کچھ عرصے سے یہ دبی ہوئی

Read more

ٹالسٹائی کا شاہکار افسانہ: پیالہ

ٹالسٹائی کا ایک شاہکار افسانہ پیالہ  ہے۔ یہ افسانہ، فن افسانہ نگاری کی انتہا ہے۔ اس فن کی انتہا پر وہ کہانیاں جنم لیتی ہیں جو قاری کے شعور کا دائمی حصہ بن جاتی ہیں۔ ٹالسٹائی ایک روسی افسانہ نگار تھا جس نے دنیا کو ہر رنگ اور ہر طرح سے دیکھا اور ہر طرح سے برتا تھا۔ ٹالسٹائی بہت بڑا تخلیق کار تھا۔ اس نے ناول نگاری ، افسانہ نویسی کے علاؤہ معلمانہ اور مدرسانہ تحریروں کے بھی انبار

Read more

قابلِ محبت

  سارہ ایک عام سی شکل کی لڑکی تھی لیکن شاید مسکرانے کے انداز میں کوئی اس کا مد مقابل نہیں تھا۔ اس نے کالی پینٹ کے ساتھ ہلکے ہرے رنگ کا کرتہ پہنا ہؤا تھا جو اس پہ بہت سج رہا تھا۔ سارہ کو سمجھ میں نہیں آریا تھا کہ وہ نیلم کے سوال کا کیا جواب دے۔ اس نے اپنی کرسی سائے میں گھسیٹتے ہوئے کہا۔ ‘نہیں یار! اب تم اس بات کو اور نہیں کھینچو۔’ ‘کیا ہوا!

Read more

اندھا

چندہ جمع کیا جا رہا تھا۔ مجھے بھی خبر دی گئی، میں نے اور میرے باقی تینوں بھائیوں نے حتیٰ المقدور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ میری بیوی، بہن، بیٹی اور ماں نے اپنے زیورات تک عطا کر دیے۔ جیسے کسی دانشور نے اپنے نطق کے الفاظ خیرات کر دیے ہوں۔ ہم بہت خوش تھے۔ ہماری آنکھیں قلب و نظر کی آسودگی کے باعث چمک رہی تھیں۔ ہم چاروں خاندانوں کا خیال تھا کہ ابا حضور ضرور اپنے گھر کے

Read more

نوٹس کے پھول

ایم۔ فل کی کلاس کا پہلا دن تھا۔ عروہ آج اسپیشل تیا ر ہو کر آئی تھی۔ عروہ اگر چہ حسن پری نہ تھی لیکن دیکھنے میں پر کشش تھی۔ اس کی آنکھیں شربتی، موٹی اور بہت خوبصورت تھیں۔ آج اس نے لینز بھی لگا رکھے تھے۔ چنچل سی، جذباتی لڑکی تھی۔ اپنے دل کی بات زیادہ دیر تک چھپا نہ سکتی تھی۔ سر وقار کلاس میں آئے اور انھوں نے لیکچر دیا۔ لیکچر دے کر کلاس سے باہر چلے

Read more

افسانہ: محبت سانس لینے دو

”کبھی کبھی میرا اس محبت سے دم گھٹنے لگتا ہے“ سائیکاٹرسٹ کا آخری جملہ میرے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا کیونکہ میں اس محبت میں شدت اختیار کرتا جا رہا تھا مجھے احساس ہی نہ رہا کہ انسان خود سے بھی تو محبت کرتا ہے میں جس محبت کو دوسرے لیے آکسیجن سمجھ رہا ہوں وہ اس کے لیے کاربن مونو آکسائیڈ بھی تو ہو سکتی ہے اور اب جو باتیں سامنے آ رہی تھیں ان سے یہ سب

Read more

ناول انکشاف قسط 8

یہ گھرانا کچھ سال سرگودھا شہر میں ہی روزگار کی تلاش میں سرگرم عمل رہا، مگر انہیں یہ دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی کہ یہاں زمینداری کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ روزگار نہیں ہے۔ عبدالشکور ایک دن دوستوں کے ساتھ کھیل کود کر جب واپس شام گھر آیا، تو اسے معلوم ہوا کہ بڑے چچا عبدالحمید نے یہاں سے فیصل آباد جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور پھر ایک دو دن بعد یہ سارا گھرانا فیصل آباد منتقل ہو

Read more

بانو کاغذ اور قلم لاؤ

یہ ایک معمول کا دن تھا، دفتر سے واپسی پر اپنے کمرے میں پہنچا تو بھوک ستانے لگی۔ شام کے 6 بج رہے تھے، میرا کمرہ دبئی کی ایک بلند و بالا عمارت کے 35 ویں فلور پر واقع ہے کہ جہاں سے سورج غروب ہونے کا منظر پردیس میں بیٹھے دل کو کچوکے دیتا ہے۔ شام کا یہ منظر دیکھنے کے لئے میرے پاس میری تنہائی کے سوا، فیض احمد فیض صاحب کا نسخہ ہائے وفا، ایک عدد تیز

Read more

(3) چاندنی راتوں میں بنسری کی مدھر تانیں

خدا کی اس بستی کے ایک طرف بے آباد زمینوں کا وسیع و عریض سلسلہ دور دور تک سطح مرتفع کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ جب کبھی بارش تھوڑی سی زیادہ ہوجاتی۔ تو اس سطح مرتفع سے بارش کا پانی آبی رووں کی شکل میں بڈھ میں آن گرتا۔ جہاں پر یہ پانی بڈھ میں شامل ہوتا۔ وہاں سے اکثر مچھلیاں بڈھ سے نکل کر ان آبی رووں میں آ جاتیں اور پانی کے مخالف سمت میں چل پڑتیں۔

Read more

ایموجیز اور سیکسٹنگ

تمام افواج اپنے جوانوں کو بہادری کی داد دیتے ہوئے یہ سبق پڑھاتی ہیں کہ وہ دنیا میں سب سے بہترین ہیں۔ ہماری فوج کا تو نعرہ ہی یہ ہے کہ بہترین آدمی فوج میں نظر آتے ہیں۔ زور تو جسمانی طاقت اور خوبصورتی پر ہوتا ہے لیکن جب فوجی ڈاکٹر بھی ہو تو وہ عقل و فہم اور حسن تدبیر میں بھی بہترین مخلوق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ہمارے کرنل (ر) ڈاکٹر صاحب بھی ناک پر مکھی نہیں

Read more

ہجر کی سہانی شام

مریم کو یہ ابھی کل کی بات لگ رہی تھی جب اس کو وردہ نے کہا تھا۔ میں تم سے ناراض ہوں، مجھے سے چھپ چھپا کر کیا منصوبے بن رہے ہیں! وردہ واقعی چہرے سے ناراض لگ رہی تھی۔ ’بھئی کیا بات ہے یار۔ کوئی ایسی بات ہی نہیں ہوئی جو تمہیں بتاؤں۔ پتا نہیں کیا اونٹ پٹانگ بول رہی ہو۔ ‘ مریم نے اپنی بائیں طرف کی لٹ سے کھیلتے ہوئے کہا۔ ’اچھا اب اداکاری، وہ بھی مجھ

Read more

شاہین کے ریزہ ریزہ خواب

دروازے پر دستک ہوئی۔ شاہین اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی، اس کی ماں اور بڑی بہن حلیمہ کے ساتھ گاؤں میں کسی کے گھر کام کرنے گئی ہوئی تھی۔ چھوٹے بھائی نے گھر کا دروازہ کھولا اور آ کر بتایا کہ کوئی سفید بالوں والا بندہ ہے جو امی کا پوچھ رہا ہے۔ شاہین بھائی کو ساتھ لے کر دروازے پر گئی اور کواڑ کھول کر باہر دیکھا۔ گلی میں سفید بالوں والے ایک صاحب کھڑے

Read more

سونے کی بالیاں

عید کی صبح تھی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔ ہونٹوں پر لپ اسٹک، گالوں پر ہلکا سا غازہ، اور پلکوں پر مسکارے کی ہلکی سی تہہ تھی۔ وہ بہت کم میک اپ پسند کرتی ہے۔ چوڑیاں، مہندی، لمبے بندے کبھی بھی اس کی ترجیحات نہیں رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ کم لیکن ایلیگنٹ پہننا چاہتی ہے۔ بھلے کپڑے ہوں، زیور ہوں یا جوتے۔ آج بھی اس کا یہی ارادہ تھا۔ موقع کی مناسبت سے معمول سے ہٹ کر تیار

Read more

ناول انکشاف قسط 7

” آنسہ کیا کبھی ہمارے دن بھی پھریں گے اور ہم بھی اس محلے سے نکل کر ، کسی صاف ستھری جگہ پہ اپنا گھر بنا پائیں گے؟”عبدالشکور ، جمائی لیتے اور انگڑائی کرتے ہوئے ، بیوی سے مخاطب تھا جو چپ چاپ تارے گن رہی تھی۔” او آمنہ کی ماں! میں تم سے بات کررہا ہوں”۔ عبدالشکور نے اُسے اونچی آواز میں مخاطب کیا۔” مجھ سے کیا پوچھتے ہو۔ جب ہونا ہوگا تو ہوجائے گا۔ ابھی چپ کرکے سوجاؤ،

Read more

وارث شاہ کا عرس

آج عرس مبارک کا آغاز تھا اور آج ہی ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار کر کہا تھا کہ ہڈی جڑ چکی ہے، اب وہ چلنے پھرنے میں آزاد ہے۔ سینے کا درد بھی ٹھیک ہو چکا تھا۔ اسے پچپن کے وہ دن یاد آ رہے تھے جب دادا ابو کی انگلی پکڑ کر پنجابی زبان کے عظیم شاعر پیر وارث شاہ کے میلے میں جایا کرتی تھی۔ وہ ہیر کے حافظ تھے۔ بہت سریلی آواز میں پڑھتے تھے اور سننے کے

Read more

غربت کی لکیر

آپ نے کبھی غربت دیکھی ہے؟ وہ گہری آنکھوں سے مجھ پہ نظر جماتے ہوئے بولی اور سچی بات تو یہ اس کی نظر غضب کی تھی اور میری نظر اس کے سوال سے زیادہ اس کی نظر پر تھی۔ کوئی جواب نہ پا کر وہ ایک توقف کے بعد بولی نہیں ناں۔ مجھ پہ گزری ہے۔ اس کے اس جواب کا بھی میری پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی لیکن اس کی نظریں اب

Read more

کسی کو بتانا نہیں!

میری دوست وہ بالکل نہیں تھی نہ ہی جاننے والی۔ وہ تو وانی کی بھی دوست نہیں تھی لیکن اس کے جاننے والی ضرور تھی وہ سب سے پہلے رضی کی دوست بنی تھی۔ لیکن وہ تو امریکہ چلا گیا تھا۔ بعد میں پتہ چلا رضی کے ساتھ بھی بس نیٹ تک یاری سی۔ میں نے ایک دفعہ اسے کہا بھی تھا یہ کیا بات ہوئی یہ کس طرح کی یاری ہوئی۔ اس نے کہا لوگ نیٹ پہ شادی کرلیتے

Read more

بوہے دا جندرا

زہرہ دائی ہمارے شہر کی بہت مشہور و معروف ہستی تھی۔ لمبا قد کشمیری خدو خال سفید رنگت۔ اور آواز میں طنطنہ۔ چلتی تھی تو مرد بھی اس کے بارعب انداز سے جھجک کر کنی کترا جاتے تھے۔ میرے سسرال کی بڑی بوڑھیوں کی دائی بھی وہی تھی لیکن زمانے کی ترقی اور مریضوں کی توجہ ڈاکٹرز کی جانب مبذول ہونے کی وجہ سے اب زچگی کا کام تو کم ہو چکا تھا اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ زچہ

Read more

لوہے کا کمر بند

(اردو کے اہم ترین افسانہ نگار، ناول نگار، شاعر اور سفرنامہ نویس رام لعل یکم مارچ 1923 کو میانوالی (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت منتقل ہو گئے۔ انہوں نے تقسیم، ہجرت اور دوسرے انسانی المیوں کی کہانیاں لکھنے سے شہرت پائی۔ ’زرد پتوں کی بہار‘ کے نام سےپاکستان یاترا کی کہانی بھی لکھی۔ 1996 میں لکھنؤ (بھارت) میں وفات پائی۔) ٭٭٭            ٭٭٭ ​بہت عرصہ گزرا کسی ملک میں ایک سوداگر رہتا تھا۔ اس کی بیوی بہت

Read more

پڑھی لکھی اداسی

پڑھی لکھی اداسی میرے اندر ایسے اترتی ہے جیسے ہر روز شام کچن کی کھڑکی سے گھر میں چپ چاپ اتر آئے جب میں سر جھکائے اپنے خیالوں کے جنگل میں کھڑی بظاہر سنک پر پڑے گندے برتن دھو رہی ہوتی ہوں اور کبھی کبھار صابن لگے برتنوں کو پانی سے کھنگالتے ہوئے اپنا سر اٹھا کے سنک کے عین اوپر لگی کھڑکی کی جالی کے پار دوسری طرف آنکھ بھر کے دیکھتی ہوں جہاں دور سے ایک چھت کی

Read more

چرب زبانی وبالِ مراسم

متین جہانوی بچپن سے ذہین تھا۔ بڑا ہو کر مزید مہین ہوتا گیا۔ ذہانت اسے وراثت میں اور متانت نام کے اثر سے ملی تھی۔ لیکن مہین ہونا اس کا فطری عمل تھا۔ پیدائشی کمزور، ناتواں اور بیمار زدہ ہونے کی وجہ سے اس کے مزاج میں نازکی اور سرشت میں تنک مزاجی شامل تھی۔ خوش بختی سے اسے متعدد تعلیمی ڈگریاں حاصل ہو گئیں، جس کا برملا اظہار وہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے کیا کرتا۔ بشمول عزیز

Read more

محبت: کمالِ ذات کا جزو لاینفک

محبت وہ جذبہ ہے جو قلب سیلم پہ اترتا ہے اور روح کو شادماں کرتا ہے ، تپتی دھوپ میں نرم ٹھنڈی چھاؤں سا معلوم ہوتا ہے ۔۔ لیکن تمہیں کیسے سمجھ آئے گی کہ محبت دراصل کیا ہے تم نے کبھی محبت نہیں کی اور میں سمجھتی ہوں جس نے کبھی محبت نہیں کی وہ کبھی کامل انسان نہیں بن سکتا ، کیونکہ محبت نہ کرکے وہ عاجزی سیکھنے سے محروم رہا ۔ بس تم مان لو ناں کہ

Read more

کالی زبان

ماں صبح سے مفت راشن اور زکوٰۃ کی تقسیم والی قطار میں لگی ہوئی تھی۔ اب تو دن ڈھل رہا تھا بھوک پیاس اور تھکن کے مارے اس کی ٹانگوں کی کپکپاہٹ زینب کو یہاں بیس قدم دور دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے بھی واضح نظر آ رہی تھی۔ اس کی اپنی حالت بھی ماں سے زیادہ بہتر نہ تھی۔ آخر کار صدیوں برابر انتظار کے بعد ماں کی باری آ ہی گئی۔ پر یہ کیا؟ ماں تو خالی ہاتھ

Read more

محبت کی ٹوٹی سیڑھی

بلاج بچپن ہی سے لاپروا اور غیر ذمہ دار تھا۔ اسکول دیر سے جانا، پڑھائی کے معاملے میں بھی غیر سنجیدہ تھا۔ لیکن اسے دوست بنانے کا ہنر آ تا تھا۔ ہر وقت دوستوں کے حصار میں رہتا تھا۔ بلاج کی بہن نہیں تھی۔ اس لیے اسے اس رشتے کا لطیف احساس کم ہی تھا۔ گاؤں میں ایک مقبول نوجوان تھا۔ ہر چوڑا، مصلی، میراثی اس کا دوست تھا۔ اسی لا ابالی پن میں اس نے میٹرک تک کی تعلیم

Read more

کائنات پر سایہ فگن شفقت اور قربان گاہ

رضا صاحب جب اپنا بکرا قربان گاہ کی طرف لے کر چلے تو بکرے نے کہرام مچا دیا آسمان سر پر اٹھا لیا وہ کسی صورت قربان گاہ جانے کو تیار نہ تھا۔ رضا صاحب کے لیے یہ صورت حال اتنی ہی غیر متوقع تھی کہ جتنی بکرے کے لیے۔ گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں آس پڑوس سے مدد طلب کی تو ایک پڑوسی نے رضا صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ مجھے لگتا ہے آپ کا بکرا کسی

Read more

ناول انکشاف قسط 5

عبدالشکور کچھ دیر صحن میں اسی عالم میں یوں ساکت کھڑا رہا، جیسے کوئی بت ہو۔ پھر شکستہ قدموں کے ساتھ غموں کی گٹھڑی اٹھائے، وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا اور جوتے اتار کر پھوڑی والی دری پہ بیٹھ گیا۔ ”بس اللہ! ہمارے چاچا عبدالشکور کو صبر دے۔ بیچارہ بہت بڑی آزمائش میں آ گیا ہے“ ۔ حمیدہ نے مصنوعی غمگین لہجے کے ساتھ، بابا کی طرف دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا۔ ”اے بہن! کیا پوچھتی ہو، جوان اولاد

Read more

بے وفا – پنجابی سے ترجمہ

کوئی نہ کوئی بیماری ہوتی ہے ہر بندے کو میرا مطلب جسم سے نہیں روح سے ہے۔ جیسے مجھے نئی سے نئی عورتوں سے ملنے کا ٹھرک ہے۔ ایک خاص کشش ایک عجیب خوشی انوکھا مزا۔ خاص طور پر ایسی عورتیں جن سے کوئی جان پہچان نہ ہو اور بھی کر لیتا ہوں اگر دل بے ایمان ہو جائے لیکن زیادہ نہیں۔ لیکن یہ عجیب تجربہ ہے کئی دفعہ رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ لیکن اب ایسی عورتیں کہاں سے

Read more

موپاساں کا افسانہ: نابینا

آسمان کی نیلاہٹ، سبزے کی ہریالی ہمیں خوش و خرم کر دیتی ہیں۔ دھوپ میں چمکتی منڈیریں اور گرم چھتیں ہماری آنکھوں کو کس قدر طراوت اور تازگی بخشتی ہیں۔ فطرت کی یہ رعنائیاں اور دنیا کی یہ خوبصورتی دیکھ کر ہمارا دل فرط جذبات سے امڈنے، ناچنے، گانے اور مسکرانے کو چاہتا ہے۔ ہم زندگی کو اپنی بانہوں میں لپیٹ کر اسے پیار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اپنے گھر کی دہلیز کے باہر بیٹھا نابینا آدمی اندھی آنکھیں کھولے

Read more

جب وردہ نے رومال کو لیرا لیرا کر دیا

وردہ نے رومال کو لمبی سانس لے کر سونگھا اور اس کو اپنی ناک سے الگ نہ کر سکی۔ آنسوؤں کی دھار نے آہستہ آہستہ رومال میں سے آتے ہوئی عمار کے عطر کی خوشبو کو مانند کر دیا تھا۔ وردہ نے ایک آہ لی اور رومال کو پھاڑنا شروع کر دیا۔ ’دقیانوسی کہیں کا اس ٹشو پیپر کے زمانے میں بھی رومال استعمال کرتا ہے، پرفیوم کو چھوڑ کر عطر خریدتا ہے۔ پتا نہیں کون سے دور کا انسان

Read more

غربت کی آ خری لکیر

کچی دیوار کی منڈیر پر کوئے کی کاں کاں سے اماں بسو کی آنکھ کھل گئی جو نیم کے درخت کے نیچے آدھ ٹوٹی چارپائی پر سو رہی تھی۔ برس ہا برس سے دو چارپائیوں پر ہی ماں پتر گزارہ کر رہے تھے۔ جس چا چارپائی کا وان ثابت تھا وہ اماں نے اپنے پتر انور کو دے رکھی تھی۔ خود اسی ٹوٹی چارپائی پر لیٹ جاتی تھی۔ اس نے لیٹنا بھی کون سا گھنٹوں ہوتا تھا۔ رات بھی آدھی

Read more

ناول انکشاف (4)

عبدالشکور جب کوچہ رحیم جان میں جس جگہ عبدالشکور کا گھر واقع تھا، وہ جگہ نہایت تاریک اور حبس زدہ تھی۔ یہاں زیادہ تر گھر سکھ برادری کے تھے، جو تقسیم کے وقت یہاں سے ہندوستان چلے گئے تھے، اور اب یہ گھر ان کی جگہ وہاں سے آئے ہوئے لٹے پٹے خاندانوں کو الاٹ ہوچکے تھے۔ ایک مختصر سی گلی تھی، جہاں دس مکان آمنے سامنے واقع تھے۔ گلی کسی زمانے میں کچی تھی، جس کو اس کے مکینوں

Read more

بھوکی: نذیر قاضی کا مونولاگ افسانہ

تحریر: نذیر قاضی مترجم: یاسر قاضی مجھے یقین تھا تم آؤ گے تم ضرور آؤ گے کچھ شکوے، کچھ شکایتیں لے کر، اور تم آ گئے۔ تمہیں آنا نہیں چاہیے تھا۔ آنے سے قبل تمہیں سوچنا چاہیے تھا کہ تم کہاں آ رہے ہو۔ میرے پاس؟ مگر میں تمہاری کیا لگتی ہوں؟ تمہارا میرے ساتھ کیا تعلق؟ میں اب اپنے صفو کی ہوں۔ اپنے پیارے صفو کی۔ ابھی ایک ہفتہ قبل ہی وہ مجھے اپنی جیون ساتھی بنا کر لے

Read more

مکتوب مرنجاں مرنج برائے شفا

یقین جانیں کچھ عرصے سے حرکتِ قلب میں عجیب گڑ بڑ سی محسوس ہو رہی، دھڑکنیں رک رک سی جاتی ہیں آنکھیں پانیوں سے لبالب بھر جاتی ہیں، رخساروں پہ تمازت اور سانسوں میں تیزی کی کیفیت ہوتی ہے، روشنی اور اندھیروں کا توازن برقرار نہیں رہتا اور راتوں کو ‘مجھے نیند نا آ ئے ، چین نا آ ئے’ والی حالت ہے ، خدارا نظر کرم کریں، کسی کام میں دل نہیں لگتا بس آپکو دیکھتے ہی خیال آتا

Read more

ماہتاب محبوب کے دو مختصر افسانے

جب بھی کوئی المیہ سندھی گیت ریڈیو سے بجتا تھا، تو چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ شرطیں لگایا کرتی تھی کہ ”دیکھنا! ابھی امی رونے لگیں گی۔“ اور جب اس کی ماں کی آنکھوں سے اپنے برسوں کے بچھڑے واحد بھائی کو یاد کرتے ہوئے اشکوں کی لڑیاں بہنے لگتی تھیں، تو انہیں ہنسی آ جاتی تھی۔

”دیکھا! ؟ امی رو پڑیں! بھلا گانے میں ہے کیا کہ ایسے رونا آ جائے؟“
اسے اپنی ماں کی یہ ”عادت“ انتہائی عجیب اور مضحکہ خیز لگتی تھی۔ ان کو بھلا سکھوں دکھوں کی کیا خبر!

Read more

” فیضی“ (افسانہ)

سات سالہ فیضی نے ندیدوں کی طرح دودھ سے لبالب بھرے برتن کی طرف دیکھا، جو ابھی اس کا باپ کمرے میں رکھ کر گیا تھا، فیضی نے کنکھیوں سے ماں کی طرف دیکھا جو باپ کے لئے روٹی پکا رہی تھی۔ فیضی کے دیکھتے ہی ماں کو محسوس ہو گیا، وہ فوراً بولی وے فیضی خبردار دودھ کی طرف دیکھا بھی، منشی تیرے باپ کو مارے گا، فیضی ڈھیلا سا ہو کر بیٹھ گیا، اور سوچنے لگا، صبح سویرے

Read more

ناول: انکشاف قسط 3

شہر کے مرکزی بازار سے گزر کر اب وہ اپنے محلے میں داخل ہو گئے۔ کیونکہ یہاں راستہ تنگ تھا، لہذا موٹر سائیکل کے سوا کسی دوسری گاڑی کا شور سنائی نہیں دیتا تھا۔ گرمی کا موسم اور تنگ و تاریک گھر جن سے ہوا کا گزر نا محال اور اوپر سے لوڈشیڈنگ کا عذاب جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر دروازوں کے آگے ٹولیاں بنائے، گپیں ہانک رہے تھے، جبکہ دکانداروں نے گیس لیمپ

Read more

سرکاری نوکری والے مولانا کی بیوی

میں اس کو عرصے سے جانتا تھا۔ ان کا گھر پڑوس میں ہی واقع ہے۔ اکثر آنا جانا رہتا تھا۔ آج میں گیا تو دیکھا کہ سفید مکھڑے پر دکھ کی چادر تنی ہوئی تھی۔ موٹی گہری آنکھوں میں کاجل پھیل گیا تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرائی مگر اس کی آنکھیں ہنس نہیں رہی تھیں۔ میں نے ہمیشہ اس کی آنکھوں کو ایک چمک کے ساتھ شعلہ بار ہوتے دیکھا تھا۔ آج وہ مغموم تھی۔ روئی ہوئی تھی۔ جیسے کوئی

Read more

ابو اور ”عمی“ کی لو سٹوری

چار سال ہوئے ابو نے اپنی انتہائی وفا شعار اور خدمت گزار پہلی زوجہ کو طلاق دے کر ”عمی“ سے لو میرج کر لی۔ لوگوں نے ابو کو بہت سمجھایا کہ ”عمی“ کی پچھلی شادیوں کا ریکارڈ اچھا نہیں اور چال چلن بھی شریفانہ نہیں لگتا لیکن ابو پہ تو عشق کا بھوت سوار تھا اس لیے انہوں نے کسی کی نہ سنی اور جھٹ شادی کر ڈالی۔ شادی کے فوراً بعد ابو کو اندازہ ہونا شروع ہو گیا کہ

Read more

شام ہوتے ہی تیرے ہجر کا دکھ

میں تمہارے سرہانے بیٹھا تمہیں بغور تک رہا تھا۔ تم سفید براق لباس زیب تن کیے ہوئے بڑے سکون سے سو رہی تھیں۔ تمہارے چہرے پر پھیلی ہوئی سرشاری اور طمانیت کی امتزاجی کیفیت نے اس میں ایک ایسا انو کھا نکھار پیدا کر دیا تھا۔ کہ تم زمینی مخلوق کی بجائے کسی اور ہی دنیا کی باسی معلوم ہو رہی تھیں۔ ایک متبرک اور مقدس آسمانی نور کے غیر مرئی ہالے نے تمہارے پورے وجود کو گھیر رکھا تھا۔

Read more

بچے برائے فروخت: مقصود گل کا مختصر افسانہ

کراچی کے ریگل چوک کے فٹ پاتھ پر ادھیڑ عمر کا ایک شخص اور ایک عورت، دو معصوم کم عمر بچوں کو ٹوکریوں میں بٹھائے اپنے آگے رکھے بیٹھے تھے اور آوازیں دے رہے تھے : ”بچے لے لو! بچے لے لو!“ خاتون کا چہرہ مرجھایا ہوا اور مایوس تھا، لیکن مرد اپنی مایوسی اور درد پر اپنی مصنوعی مسکراہٹ کا پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ لوگوں کے ہجوم میں سے ایک گاہک بولا: ”کتنے کے! ؟“

Read more

ہم کہ ٹھہرے پردیسی کہ جاناں نہیں

اسلام آباد شہر میں آنے کا یہ میرا اولین نہیں، دوسرا اتفاق تھا۔ یہ موقع مجھے اس لیے حاصل ہوا کہ قائداعظم یونیورسٹی کی غیر جانبدار انتظامیہ نے ایم ایس سی میں داخلے کے موزوں امیدواروں میں میرا نام بھی منتخب کر لیا تھا۔ ٹیسٹ اور انٹرویو میں شمولیت کی خاطر بذریعہ ریل گاڑی چار گھنٹے میں گجرات سے ’روانہ‘ ہو کر راولپنڈی ریلوے اسٹیشن اترا اور پھر اسلام آباد جانے والی روٹ۔ 1 کی ویگن پر سوار ہو کر

Read more

افسانہ: گھونگھٹ

ساون کے مہینے کی الگ ہی کیفیت ہوتی ہے۔ زمین پر ہر طرف فرش زمرد بچھ جاتا ہے۔ وہ پودے بھی جو تشنگی کے باعث خشک ہو چکے ہوتے ہیں۔ سیراب ہو کر اپنی لہلہاہٹ سے ہر انسان اور پرندے کو خوش کرتے ہیں۔ غریب سے غریب کسان بھی اپنے مویشیوں کے لیے چارہ حاصل کر لیتا ہے۔ پودوں پر رنگ برنگ پھول کھل اٹھتے ہیں۔ ان کی ٹہنیوں کو چھو کر صبا و نسیم فضا کو معطر کر دیتی ہے۔

Read more

ناول انکشاف قسط 2

”اس کی موت کے آدھے ذمہ دار تو تم خود ہو بابا۔ تم خود“ ۔ اصفہان نے منہ جھکا کر، بہت مشکل سے یہ الفاظ ادا تو کر دیے، مگر دل ہی دل میں پچھتا یا بھی، کہ یہ بات کرنے کا محل نہ تھا۔ مگر وہ بابا کی حماقت، اس کی جہالت اور ضد پہ شدید طیش بھی کھا رہا تھا۔ ”تم ٹھیک ہی کہتے ہو میرے بچے۔ کاش میں نے تمہاری بات پہلے مان لی ہوتی، تو آج

Read more

منٹگمری (3)

ڈپٹی کمشنر کی عدالت کا بڑا سا کمرہ خاص برطانوی طرز تعمیر۔ اونچی چھت اور موٹی لکڑی کے بالے کی اونچی چھت اور اوپر کوئی 14 فٹ اونچائی پر رسے سے کھلنے اور بند ہونے والا ہوادار روشن دان کورٹ روم میں بھانت بھانت کے لوگ اور ان کے مسائل و مقدمات۔ غرض یہ کہ ایک عدالت کا روایتی منظر۔ فلاور مین ابھی عدالت میں آیا نہ تھا۔ عدالت میں آج ایک مقدمہ زیر بحث تھا۔ جس میں ایک لڑکی

Read more

منٹگمری (2)

لوئر مال لاہور پر ضلع کچھری کے اندر و با ہر پولیس کا پہرہ تھا۔ اندر بھگت سنگھ کی پیشی پر کمرہ عدالت میں صرف خاص الخاص اجازت یافتہ لوگوں کو ہی جانے کی اجازت تھی۔ میر ثانی کی بے عیب انگریزی کام دکھا گئی اور موہن سنگھ اور وہ دونوں اندر جانے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن تب تک مقدمے کی آج کی سماعت مکمل ہو چکی تھی اور بھگت سنگھ و دیگر کو باہر عدالت سے آتے ہوئے۔

Read more

(1) منٹگمری

”یہ انگریز بھی نہ عجیب ہوتے ہیں“ ۔ اجل سنگھ نے ناشتے کی میز پر اپنے خاندان سے گفتگو شروع کی۔ اجل سنگھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھا ”ان انگریزوں کو ہمارے رواجوں کا بالکل بھی اندازہ نہیں کل فلاور مین صاحب نے ڈپٹی کمشنر ضلع منٹگمری نے مجھے ضلع دربار کے بعد حقہ پیش کر دیا۔ اب میں نام کا ہی نہیں واقعی گرو کا داس ہوں۔ میں تمباکو کیسے کھینچ سکتا؟ ” ”تو تم نے کیا صاحب کے سامنے کے

Read more

تباہ حال – شیرانی راجا پکسے کا افسانہ

مترجم: خلیل الرحمان Shattered Writer: Shirani Rajapakse , Sri Lanka Flash Fiction International ; Very Short Stories from Around the World اپنے دھیان میں مگن وہ سڑک پر چلی جا رہی تھی جب اسے اپنے سامنے ایک دھماکے کی آواز سنائی دی۔ دھماکے سے مضبوط حفاظتی باڑ ٹوٹ گئی اور اس کے ٹکڑے سارے میں پھیل گئے۔ وہ وہیں ٹھہر گئی کیونکہ اس کے پاس جانے کے لئے اور جگہ بھی کوئی نہیں تھی۔ اس کے پاؤں فضا میں معلق

Read more

ایک بری ماں کی کتھا

ماما آپ بابا سے بات کر لیں۔ میں نے بات کر لی ہے، آپ فون بند کرو اور آ جاؤ میرے پاس، سونا نہیں ہے آپ نے۔ اس نے گڈ نائٹ کہہ کر فون بند کر دیا، اور ہمیشہ کی طرح قریب آ کر ماں کے رخساروں پر پے در پے بوسے دیے اور لپٹ گیا۔ اس نے آہستگی سے اسے خود سے دور کیا، اور تکیے پر اس کا سر رکھ کر اس کے گھنے سیاہ ریشمی بالوں والا

Read more

کمزور کی قوت

انتساب: 1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلاء کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبۃ ( 15 میئ) کے نام ایک تپتے میدان کی واردات جہاں کچھ بھی نہیں تھا سوائے اڑتی ہوئی ریت کے۔ ایک طرف بھاری بھرکم فولادی ہاتھی کی مانند ہیئت اور دوسری طرف ایک اتنی چھوٹی ہستی جسے دور سے کیا نزدیک سے بھی گزرنے والا نظر انداز کر دے۔ ’میری طرف دیکھو۔ مجھے تم سے کچھ سوالات پوچھنے ہیں۔ تمہیں میری قوت کا اندازہ ہے،

Read more

دھرتی ماں

میں بازار سے گزر رہا تھا۔ اچانک میری نظر ایک بوڑھی اماں پر پڑی جو ایک دکان کے پاس کافی پریشان بیٹھی تھیں۔ بوڑھی اماں کی پریشانی دیکھ کر میرے قدم خود بخود ان کی جانب بڑھنے لگے میں نے پاس پہنچ کر پوچھا اماں! خیریت ہے؟ آپ اتنی پریشان کیوں بیٹھی ہو؟ اماں نے اپنی گردن جھکا لی میرے دوبارہ پوچھنے پر جب انہوں نے میری طرف دیکھا تو میں کانپ کر رہ گیا اماں کا چہرہ آنسوؤں سے

Read more

محبت نامہ

اس ذات باری تعالٰی کے نام سے شروع کرتا ہوں جس نے ہر شے پیدا کی، انسان پیدا کیے اور اس کے دل کو اپنا یعنی ”اللہ کا گھر قرار دیا“ اور جس نے اسی دل کو محبت سے روشناس کرا کے آباد کیا۔ اے میرے تنہائیوں اور خیالوں کے رفیقہ حیات! بعد از سلام بقول جون ایلیا عرض ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے یقیناً اک جسارت ہو گئی ہے تمہیں کوئی شکایت تو نہ ہوگی مجھے

Read more

ادھوری خواہشات

رانیہ بہت گہری نیند میں تھی جب کسی عورت کی سسکیوں کی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھی اسے محسوس ہوا جیسے رونے کی آواز کہیں قریب سے آ رہی تھی شاید کوئی عورت اس کے کمرہ کی کھڑکی کے باہر رو رہی تھی وہ بے چین ہو گئی اور اپنے پہلو میں بے خبر سوئے شایان پر ایک نظر ڈالی جو گہری نیند میں تھا اس سے قبل کہ وہ اٹھ کر اپنے

Read more

ادھ کھلی کھڑکی

وہ آج بھی حسب معمول ناشتہ کر کے، اپنے کمرے کی اس ادھ کھلی کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی، جس سے سامنے والے باغ کا نظارہ کیا جاسکتا تھا، اور جہاں بھانت بھانت کے لوگ آ کر اس ماحول سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ یہ کمرہ ایک ایسی کال کوٹھڑی تھی، جہاں وہ قریب بائیس برس سے مقید تھی، اور اپنی زندگی کے ایام بے بسی اور لاچارگی کے ساتھ کاٹ رہی تھی۔ وہ باہر کی دنیا

Read more

کلف سے خالی محبت

دنیا کی چکا چوند میں گر مجھے کچھ بھایا تو بس اس نامور مردانہ برانڈ کے کھڑکھڑاتے کرتا شلوار جو میں زمزمہ کے ایک بنگلے سے دو تلوار تک جاتے ہوئے راستے میں دیکھا کرتا تھا۔ بڑے بڑے شیشوں کے پیچھے ڈمیوں پر چڑھے وہ کلف لگے کاٹن کے سوٹ آئے دن بدلتے رہتے تھے اور ہر نیا چڑھنے والا لباس پہلے سے زیادہ میری آرزو بنتا جاتا تھا۔ یہ آرزو پچھلے چھ سال سے میرے دل میں پل رہی

Read more

عقل مندی کا زعم

” محبت ایک وہم ہے“ جانسن کے نزدیک یہ بات ایک حقیقت تھی اور صرف کچے ذہن ہی محبت کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ یونیورسٹی میں معاشیات کا ایک ہونہار طالب علم تھا جو یونیورسٹی کے ایک ہوسٹل میں مقیم تھا جہاں سینکڑوں دیگر طالب علم رہتے تھے۔ اس کی لیاقت کے چرچے تھے اسے اور اس کے واقف کاروں کو اس کا شاندار مستقبل سامنے نظر آ رہا تھا۔ اس کا آخری تھیسز لکھا جا چکا تھا اور کام

Read more

نوراں

سردیوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا اور اللہ داد کا عشق بھی انگڑائی لے کر جاگنے لگا تھا اسے نوراں کی یاد ستانے لگی، اس کی اوٹ پٹانگ حرکتوں کے باوجود اس کی غیر موجودگی اسے خالی پن کا احساس دلانے لگی، نوراں کیا تھی، بس آٹے کا ڈھیر چہرے مہرے میں نمک نام کو نہ تھا اونچی لمبی تڑنگی چوڑا چکلا جثہ، اور وزن بھی دو من سے شاید ہی کچھ کم، اللہ داد کے ٹکر کی، ماں نے

Read more

تھکاوٹ

سونیا اٹھو سات ہو گئے ہیں گھر سمیٹو۔ اف ہو اماں اٹھ جاؤں گی ابھی اٹھی تو روزہ لگ جائے گا میں نہیں ابھی اٹھ رہی۔ اور آپ بھی سو جائیں۔ … اف ہو گیارہ ہو گئے آج کتنا لیٹ ہو گئی۔ انٹی کو برا لگے گا۔ اف پتہ نہیں صبح کیا بولا تھا اک تو نیند میں بولنے کا مسئلہ۔ السلام و علیکم انٹی۔ وہ معذرت میں لیٹ ہو گئی۔ سونیا نے شرمندہ لہجہ میں بولا۔ نہیں بیٹا جی

Read more

حسرت

آدھی رات گزر چکی تھی اور شہر کی اس گلی میں اکا دکا افراد ہی اٹکھیلیاں کرتے گزرتے جا رہے تھے۔ سٹریٹ لائٹس کی روشنی میں گلی کا ایک سرے سے دوسرا سرا آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ کہیں کہیں چند آوارہ کتے تھڑوں کے نیچے بیٹھ کر اونگھ رہے تھے، تو کچھ کوڑے پہ منہ مار کر پیٹ کی بھوک کو مٹانے میں مگن تھے۔ اگرچہ کچھ گھروں کے اندر سے بلب کی روشنی چھن چھن کر باہر

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (9)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

ہائے! وہ انصاف پسند بادشاہ (مختصر افسانہ)

بادشاہ بنتے ہی اس نے طے کیا کہ وہ ایسے کام کرے گا، جن کی وجہ سے اسے ایک انصاف پسند بادشاہ کے طور پر یاد رکھا جائے۔ رعایا سے اس کی محبت کی کہانیاں سنائی جائیں۔ اسی لئے وہ راتوں کو بھیس بدل کر شہر کے حالات معلوم کرنے نکل جاتا اور ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتا۔ باتیں ایک کان سے دوسرے تک پھیلتی گئیں۔ سارا شہر اس گمان کا شکار ہو گیا کہ جونہی انہیں کوئی مسئلہ

Read more

کشمکش

وہ دونوں میاں بیوی رات کو صحن میں چارپائیاں ڈالے، آسمان پہ دمکتے تاروں کو دیکھ کر، اپنے ماضی کو یاد کر رہے تھے۔ رات کے اس سمے مہتاب کبھی بادلوں میں چھپ کر تو کبھی سامنے آ کر ان سے آنکھ مچولی کر رہا تھا۔ دونوں کے درمیان ذریعہ کلام خاموشی ہی تھا، کہ ایک ہی آنگن میں اکٹھے رہتے اب دونوں وہ ایک دوسرے سے اکتا چکے تھے۔ یہ اس کی محبت کی شادی ضرور تھی، مگر تھی

Read more

آخری ملاقات

بہار کی ٹھنڈی دھوپ دوپہر کی اس گھڑی اپنی سنہری کرنیں بھرپور جوبن کے ساتھ بکھیر رہی تھی، اور سکول کے باغ میں لگے سرو کے قد و قامت درخت پر کوئل چہچہا رہی تھی۔ فضا میں اس قدر خاموشی اور اداسی تھی کہ، ذرا سی آہٹ پہ بھی وہ چونک اٹھتا اور اپنے گرد و پیش کا پھٹی پھٹی آنکھوں سے جائزہ لینا شروع کر دیتا۔ صحن میں لگے جابجا گلاب کے پھول اپنی رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر

Read more

ربا تیرے ساون میں پیاسے ہم – افسانہ

جون کا مہینا، گرمی کا ہر طرف راج تھا۔ مخلوق خدا کی ترستی ہوئی نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اٹھتی تھیں۔ ہر شخص اس گرمی کی شدت سے جھلس گیا تھا۔ پانی کے کنوؤں کا پانی بھی نچلی تہہ تک ہی محدود تھا۔ پانی کے لیے بوکا لٹکاتی ہوئی صبا نے اپنی امی کو آواز دی۔ ”امی اب تو لگتا ہے ختم ہو چلا ہے“ ”بیٹی پریشان نہ ہو۔ جس رب نے پیدا کیا ہے وہ کسی کو بھوکا

Read more

دائی اور ڈاکٹر سے کب کچھ چھپا ہے؟

ہاسٹل کا کمرہ بند ہوا اندھیرا تھا گھپ اندھیرا۔ رومانوی لہروں میں وہ جوڑا ابلتا، دہکتا، مچلتا، پھڑپھڑاتا، بجھ گیا۔ عالم سکوت تھا۔ دونوں حالت برہنگی میں ایک دوسرے سے لپٹے خاموش تھے بہت خاموش سناٹا شرما جائے اتنا خاموش، وہ پرسکون تھے بہت پرسکون فضا بہشت کی مانند پرسکون! دفعتاً دروازہ بجا زور سے بجا بہت زور سے۔ وہ سہم گئے، ڈر گئے، حیرانی ان کے چہروں پہ عیاں، خون منجمند، سنسنی ریڑھ کی ہڈی میں سرایت پذیر، ذہن

Read more

بھیڑیا سی

”میں تمہیں کیسی لگی“ ؟ اس نے مسکرا کر اس سے پوچھا۔ ”کانچ کی گڑیا ہو جیسے“ وہ اس کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔ غیر محسوس طریقے سے وہ تھوڑا دور کھسک گئی۔ ”کیا چاہتی ہو؟ اس نے کچھ الجھ کہ سوال کیا۔“ چاہتی ہوں کہ تم مجھے ایک ابدی لمحے کی طرح مناؤ ”۔ پاس آ نے دو مجھے، میں اپنی وحشت کا قطرہ قطرہ انڈیل کر تم میں ایک ابدی لمحہ بوووں گا“ ۔ ”نہیں، وصل تمام نہ

Read more

افسانہ: احتجاج

ایک چڑیا مسلسل گول دائرے میں گھوم رہی تھی، آسمان کیا دیکھتا ہے کہ وہ دائرے میں اڑتی ہوئی اچانک دھڑام سے نیچے آ گری، جیسے کسی فرشتے نے شرارتاً اس کے پر باندھ دیے ہوں۔ وہ اپنی آبائی، زرخیز لیکن خشک زمین کو گھورے جا رہی تھی، جہاں کچھ دنوں سے ہزاروں آم کے درخت زمین بوس تھے، اس چڑیا کو اپنے قریب ایک کچا آم دکھا، بمشکل ناتواں چڑیاں اس سبز آم تک پہنچ پائی۔ وہ اس آم

Read more

مردود ڈاکٹر اور عبداللہ غازی کی فائلیں کیسے تبدیل ہوئیں؟

وہ دونوں میدان حشر میں موجود تھے، آخری فیصلہ ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر جنت کی جانب جانے والے لوگوں کی قطار میں کھڑا تھا۔ قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک اس کے بائیں جانب دوزخ جانے والی قطار میں کھڑے ایک فربہ لڑکے نے اچانک چیخ و پکار شروع کردی، ”یہ کافر ہے، یہ تو کافر ہے، یہ جنت کیوں جا رہا ہے اور میں دوزخ میں کیوں؟ نہیں، نہیں، یہ زیادتی ہے، یہ نا انصافی

Read more

ٹائم سلپ

پل کی آخری سیڑھیاں تیزی سے اترتے ہوئے پیر پھسل گیا۔ اضطراری کیفیت میں ریلنگ کو تھامنے کی کوشش نے سیڑھی پر ہی بٹھا دیا۔ سنبھل کر کھڑا ہوا تو پلک جھپکنے میں پورا منظر ہی بدل چکا تھا۔ رات دن میں ڈھل چکی تھی، ٹریفک کا شور بھی غائب تھا۔ سامنے نیم کا درخت اور سنسان سڑک۔ چند گھروں کے سامنے ویسپا اسکوٹر کھڑے تھے۔ جس فٹ پاتھ پر کھڑا تھا اس کے پیچھے ہی کریانہ کی چھوٹی سی

Read more

شیطان کی عدالت

مترجم: جاوید بسام۔ (سلاوی لوک کہانی) بس ایسا ہی ہوتا ہے۔ جہاں کچھ گڑبڑ ہو، جھگڑا ہو یا کوئی بدقسمتی ہو شیطان فوراً یاد آ جاتا ہے، لیکن شیطان دنیا کی سب سے بری چیز نہیں ہے۔ آپ، شیطان کو کم از کم اس کے سینگ، دو کھروں اور ایک لمبی دم کی وجہ سے فوراً پہچان لیتے ہیں۔ جب کہ ایک برے شخص کو پہچاننے میں ہمیشہ مشکل ہوتی ہے۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے آپ کے پاس آتا

Read more

بھکاری دلہن کی آپ بیتی

بڑے عرصے سے ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ اب کی بار تو معاشی مسائل نے کچھ زیادہ ہی پریشاں کر رکھا ہے۔ ملک میں ڈالر ہے اور نہ ہی خام مال، کہ جس سے پروڈکشن چلتی رہے۔ گاہک، دکاندار، ہول سیلر، ڈسٹری بیوٹر، کمپنیاں اور امپورٹرز تک سب کی واٹ لگی ہے۔ نمک سے لے کر سونے تک ہر چیز کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہی۔ بندہ نام کی شے آپ کو خوشحال نہیں ملے گا؛ المختصر!

Read more

میرا جسم، میری مرضی

صوفیہ جیسے ہی جوس کا گلاس لے کر کمرہ میں داخل ہوئی ٹینا بی بی کو تیار ہوتا دیکھ کر اپنی جگہ رک گئی۔ ان کے قدموں کے قریب رکھا چھوٹا سا سفری بیگ اس بات کی نشاندہی کر رہا تھا وہ شہر سے باہر جا رہی ہیں اس احساس کے ساتھ ہی صوفیہ کا جسم ہلکا سا لرز گیا اور وہ اپنی لرزش پر قابو پاتے ہوئے دھیرے سے بولی باجی آپ کہیں جا رہی ہیں؟ ساتھ ہی اس

Read more

پانی میں ستی

اسے انگ انگ کو صاف کرنا تھا، رواں رواں کو دھونا تھا۔ ہر بن مو سے پھوٹتے پگھلتی جوانی کے عرق کو بھی پونچھنا تھا۔ بدن پر موجود دو دہائیوں کی میل پانی سے دھلنا ناممکن تھی۔ گرچہ بوڑھی ماں دور پنگھٹ سے گھگریاں بھر بھر کر پانی لا رہی تھی اور وہ اپنے بدن پر انڈیلتی جا رہی تھی لیکن تنہائی کی جوالا جو شعلہ بھڑکاتی ہے اس کو غسل ارتماسی بھی نہیں بھیجا سکتا۔ جوانی کا دریا تین

Read more

عورت مارچ: یہ تو ہو گا

ہر چند کہ ’جید علمائے کرائم‘ معاف کیجیے گا قلم پھسل گیا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ خود ساختہ علمائے کرام عورت کو ٹافی، چلغوزہ اور اسی قبیل کی دیگر اشیا قرار دے چکے ہیں لہٰذا عورت کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ وہ ایک ٹافی ہے اور اگر ٹافی کسی کے ہاتھ لگ جائے تو وہ ریپر اتار کر اسے منہ میں ڈالنے پر مجبور ہوتا ہے۔ حیف صد حیف کہ عورتیں یہ بات سمجھتی نہیں ہیں

Read more

میرا زیور

’یہ کون ہے؟ اس کی آنکھوں میں کہیں بھی محبت کی جھلک نہیں ہے۔ یہ عجیب طرح میری طرف دیکھ رہا ہے، جیسے، جیسے۔ پتا نہیں کیا! لیکن وہ کبھی ادھر جاتا ہے ، کبھی ادھر۔ مجھے تو اس کی شکل و صورت سے خوف آ رہا ہے۔ آخر یہ ہے کون؟ ہو سکتا ہے کہ یہ میرا وہم ہی ہو، ڈر ڈر کے کانپنے سے بہتر ہے کہ اس سے پوچھ ہی لوں۔ ‘ ’کیا میں پوچھ سکتی ہوں

Read more

گھن چکر – بے گناہ کا لہو اور مکافات عمل

میں نے اڈیالہ جیل سے باہر آ کر کھلی ہوا میں لمبا سانس لیا تو دھوئیں اور گرد کا بادل گلے میں پہنچا اور کھانسی کا دورہ پڑ گیا۔ میں نے فوراً جیب سے ترلوچن سنگھ کی دی ہوئی پھکی نکال کر منھ میں رکھی اور زور زور سے سانس اندر کھینچنے لگا۔ مدتوں پہلے سکھ حکیم کی دی ہوئی دمے کی دوا پنڈی کے تمام سکھ خاندانوں کی طرح ایکسپائر ہو چکی تھی۔ 14 سال عمر قید کاٹنے کے

Read more

چکنی روٹی

رضیہ کی زندگی میں یہ مسلسل ساتواں قحط تھا۔ وہ چالیس سالوں میں کئی چھوٹے بڑے قحط دیکھ چکی تھی مگر موجودہ ”آٹے کا قحط“ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یکسر مختلف تھا۔ اس کی شادی محض آنکھوں کا دھوکہ تھا یعنی اس کا جسم ایک جھونپڑی سے دوسری جھونپڑی میں منتقل کیا گیا تھا، خوشیاں، غم، سوچ اور تمدن ابھی بھی پہلے جیسے ہی تھے۔ اس کا خاوند (محکوم) بندر ناچ سے روزی روٹی کماتا تھا اور کئی کئی

Read more

ناول بت پرستوں کی نئی نسلیں (2)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

پیکر خیالی

بظاہر وہ ایک تصویر تھی جس کے سحر نے مجھے بری طرح جکڑ لیا تھا۔ میں چاہ کر بھی اس سے نگاہیں نہیں ہٹا سکا۔ میری نظریں اس تصویر پر جم کر رہ گئیں۔ وہ چہرہ جو نجانے کتنے برسوں سے میرے خوابوں و خیالوں کی زینت بنا ہوا تھا۔ آج میرے سامنے تھا۔ وہ ہی آنکھیں جن کی کشش نے مجھے اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا وہ ہی خوبصورت اور ستواں ناک جیسے کوئی ریشمی تلوار ہو۔ وہ

Read more

بے گانگی

میں ایک میٹنگ میں تھا۔ میں بہت سے سوالوں کے جواب دے رہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میرے دماغ کا دسواں حصہ استعمال ہو رہا ہے۔ میری نظر کھڑکی سے باہر گئی، دور نیلے آسمانوں کی وسعتوں میں جہاں چیلیں دائروں میں محو پرواز تھیں۔ میری نگاہ وہاں سے پلٹ کر سڑک کی دوسری جانب بنے پلازے پر پڑی۔ چھ منزلوں سے اوپر بھی دو منزلیں ہیں۔ میں کھڑکی سے اب اندر کی طرف دیکھنے لگا۔ تمام لوگ میرے

Read more

جاتے ہوئے تم!

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا (بشیر بدر) پیارے تم! کچھ دنوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ تم یہاں ہو کر بھی یہاں نہیں۔ تمہاری موجودگی ہمیشہ ہی غیر موجودگی کا سا تاثر دیتی تھی اور تم ہم سب کے درمیاں ہو کر بھی مانو ہم سے کترائے کترائے سے تھے۔ کافی کے ہر سپ کے ساتھ میں خود کو منواتی کہ تم ہو میرے ساتھ۔ لبھی زبردستی ہی کوئی دبیز

Read more

دو گولی ویاگرا

اس کی زندگی میں وصل کی رت کم ہی آتی تھی؛ کبھی کبھار ملاپ کا چاند نکلتا تو وہ مد و جذر سے لطف اندوز ہو لیتی۔ نواب اختر کا دیا کرنے کو دل چاہتا تو ایک دو راتیں دان کر دیتے ورنہ تنہائیوں میں اس کا بدن چونے کی بھٹی کی طرح دہکتا رہتا۔ نواب اختر سر شام باہر جانے لگتے تو مہرالنساء کئی بار روکنے کی کوشش کرتی۔ وہ اپنی برائی کو اس کے سر منڈھ دیتے۔ ”اس

Read more

مسکراہٹ بھری زندگانی

”شمائلہ جلدی کرو دیر ہو رہی ہے تمھیں بتایا بھی تھا کہ آج جلدی تیار ہو جانا تاکہ وقت سے پہلے شادی حال پہنچ جائیں۔“ ”دیر میری وجہ سے تو نہیں ہوتی لیکن آپ ہمیشہ مجھے ہی کہتے ہیں۔ کبھی اپنی امی کو بھی بول دیا کریں کہ جلدی کر لیا کریں“ ۔ میں انہیں کیا بولوں؟ وہ تو کب کی تیار بیٹھی ہیں، بلکہ جب میں باتھ روم گیا تھا وہ اس وقت اپنے کمرے سے تیار ہو کر

Read more

دو بول پیار کے – فکشن

سُنیں! ناشتہ لگا دیا ہے۔ آ جائیں۔ فوزیہ نے بیٹے کے لیے پراٹھا بیلتے ہوئے ہی باورچی خانے سے ہی زور دار آواز لگائی۔ اس کے چہرے سے بیزاری اور پزمژدگی جھلک رہی تھی۔ ”ہاں۔ ہاں لگاؤ۔ تھوڑی دیر میں آتا ہوں ذرا کمرہ سمیٹ دوں“ ۔ فیصل نے کمرے سے ہی آواز لگائی۔ ”آپ نے تو کہا تھا ناشتہ لگاؤ، میں آ رہا ہوں۔ چائے آپ کو کھولتی چاہیے، پراٹھا توے سے اُترا ہوا۔ اب کمرے سمیٹتے رہیے گا

Read more

محلہ طبیباں

یہ سڑک تقریباً آدھا کلومیٹر تک ہے۔ دونوں اطراف پہ اونچے اونچے مکانات ہیں۔ ہر ایک مکان کئی ایکڑ زمین پر محیط ہے۔ ان مکانوں کے سامنے تختیاں نصب کی گئی ہیں۔ اور ان تختیوں پہ ایک لفظ مشترک ہے۔ ”ڈاکٹر“ ان محلات کے علاوہ یہاں مٹی کے چند جھونپڑیاں بھی آباد ہیں۔ ان میں بعض کے دیواروں پر اپلے توپ دی گئی ہیں اور بعض کے دیواروں سے مٹی اکھڑ رہی ہیں۔ کچے گھروں میں ایک چوکیدار رہتا ہے

Read more

بھٹکتی روحیں

وہ آج کئی سالوں بعد میرے سامنے تھی، بالکل ویسی جیسی آخری بار میں نے اسے دیکھا تھا۔ وہ ہی رنگ و روپ جس کا ایک عالم دیوانہ تھا البتہ آج اس کے حسین چہرے پر وہ شوخی ناپید تھی جو اس کی شخصیت کا خاصہ ہوا کرتی تھی بلکہ آج شوخی کی جگہ ایک عجیب سا حزن و ملال اس کے چہرہ پر چھایا ہوا تھا۔ میں نے محسوس کیا گزرے کئی برسوں نے اس پر کوئی خاص اثر

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (1)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

کیا یہ ایک خواب تھا؟ (موپاساں کی ایک کہانی)

میں اسے دیوانگی کی حد تک پیار کرتا تھا۔ آدمی کیوں پیار کرتا ہے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ پیار میں آدمی کی آنکھوں میں صرف ایک ہی تصویر ہوتی ہے۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال ہوتا ہے۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی نام ہوتا ہے۔ ایک ایسا نام جو مسلسل ٹھنڈے چشمے کے پانی کی طرح روح کی گہرائیوں سے اٹھ کر ہونٹوں تک

Read more

"ماری جاؤ گی” 

”تمہیں محبت ہو گئی ہے، ہے نا؟“ وہ اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا۔ ”ہاں۔ ہو تو گئی ہے۔“ وہ اور بھی دلکشی سے مسکرائی تھی ”واقعی؟“ جانے کیوں اس کا دل ڈوب سا گیا تھا پھر بھی مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا ”ہمم“ وہ جیسے گنگنائی سی تھی۔ ”کون ہے وہ؟“ اس نے جبراً مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے پوچھا ”ہے کوئی جس سے مجھے محبت ہو گئی ہے لیکن یہ سب یک طرفہ

Read more

دائرے

زندگی مشکل نہیں، انسانوں کی غلطیاں بار بار ایک ہی جیسی غلطیاں اور ترجیحات اسے مشکل بناتی ہیں۔ زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کی زندگیاں مشکل یا بوجھل ہیں ان سے قربت رکھنے والے خوش و خرم افراد بھی اضطراب اور یاسیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ”چاچی، کوئی نیا کام ڈھونڈ دو نا، تمہاری اتنی جان پہچان ہے۔ کہیں بھی کام کر لوں گی۔“ روبینہ نے پان چباتی حوا چاچی کے گھٹنے دباتے ہوئے خوشامدی

Read more

پہچان

اپنے گرد و نواح کو غور سے دیکھ رہا تھا اور ذہن پر زور ڈال کر کچھ سمجھنے کی کوشش میں تھا اسے سب عجیب محسوس ہو رہا تھا پھر سے ارد گرد نظر دوڑانے لگا وہ ہاسپٹل کے بستر پر تھا منہ پر آکسیجن ماسک تھا درد سے جسم چور چور اور انگ انگ میں ایسی تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی جیسے میلوں کا سفر طے کر کے آیا ہو مگر کہاں کیسے اور کب ؛ وہ نہیں سمجھ

Read more

کیا وہ خود غرض تھا!

ماں کمرے میں داخل ہوتے ہی گھبرا جاتی ہے۔ گھپ اندھیرا، بھاری بھاری سی فضا، دیواروں سے ٹپکتی ہوئی وحشت جیسے اس کمرے میں کسی چڑیل یا بھوت نے ڈیرا ڈال دیا ہو۔ ’ایک مہینے سے تو کمرے میں بند ہے۔ تجھے کیا ہو گیا ہے بیٹا بتاتا کیوں نہیں؟ میں تیری ماں ہوں۔ مجھ سے کیوں چھپا رہا ہے تو؟‘ ’ماں میں یہاں سے جا نا چاہتا ہوں۔ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔‘ ’تمہیں ایسی کیا تکلیف ہے، بتا

Read more

تسلسل کہانی

آج کھانا کچھ زیادہ بچ گیا ہے ۔ اپنے برتن میں رکھے ہوئے کھانے کو دیکھ کر اس نے سوچا۔ آج گھر جانا چاہیے منورہ دیکھ رہا ہو گا۔ یکایک کچھ لفظ اس کے کان میں گونج اٹھے۔ ”آپا تم آنے میں بہت دیر کرتی ہو۔ مجھے نیند آتی ہے۔“ شکایتی لہجہ کی تلخی اس کے ہونٹوں پر گھل گئی اور لفظ سنسناتی ہوئی گولیوں کی طرح اس کے دل میں اتر گئے۔ نو بج گئے ہوں گے۔ اس نے

Read more

کھڑکی

چند روز سے اس کی طبیعت کچھ خراب تھی۔ جسے موسمی نزلہ زکام سمجھتے ہوئے اس نے توجہ نہ دی۔ معمول کے تمام کام جاری رکھے ویک اینڈ پہ کی جانے والی صفائیاں۔ وہ عموماً ہفتے کے روز گھر صاف کرتی اور اتوار کو اپنے کلائنٹس کے ساتھ اس کی میٹنگز ہوتیں۔ خیر یہ تمام سرگرمی معمول کے مطابق کرنے کے بعد اس کی طبیعت کچھ مزید بگڑ گئی۔ لہذا اسے اپنا چائلڈ کیئر ایک ہفتے کے لیے بند کرنا

Read more

گورکن کی محبت

گورکن قبر کی کھدائی میں مصروف تھا۔ گیلی مٹی اور سردی نے اس کے کام کو اور مشکل کر دیا تھا۔ یخ بستہ ہوا کے باوجود اس کے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کے لئے رکتا اور پھر لمبا سانس لے کر کدال اٹھا لیتا۔ تیس پینتیس لوگ جنازے کے ساتھ بہت بے چینی سے قبر کے تیار ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اس ہجوم میں چوبیس سالہ رضوانہ ہلکے لال رنگ کے قمیض شلوار

Read more

افسانہ: موم بتی

ایک طرف موٹروے پر بس کی رفتار کافی سست تھی تو دوسری طرف گرمیوں کے دن، لمبے تو تھے ہی، گرم بھی غیر معمولی طور پر، ہوا رکتی تو جسم پر پسینے کا سیلاب آ جاتا۔ ایک ایک قطرہ بالوں سے ہوتا ہوا ناف تک یوں جاتا جیسے گاڑی کے شیشے پر برسات کے قطرے۔ پانچ گھنٹے اسی طرح گزر گئے۔ بے چین دل اب باغ باغ ہو رہا تھا۔ اس سے ملاقات کی تڑپ کے سبب دل کی آواز

Read more

افسانہ: سارہ

ہوٹل کی لفٹ سے نکل کر سارنگ گراؤنڈ فلور پر آیا تو اسے کوریڈور میں آتے جاتے لوگوں میں سارہ دکھی۔ برسوں بعد ہوٹل میں یوں اچانک اسے دیکھا تو سارنگ کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی، اس نے اپنی دھڑکن کی آواز بلند ہوتی محسوس کی۔ اس دن اسے سمجھ آیا کہ کچھ جذبوں کا خاتمہ دراصل وہم ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم انہیں کب کا کچل چکے ہیں، مار چکے ہیں، لیکن پھر اچانک کسی

Read more

ہیرے کی کنی

میں اپنے زخمی وجود کو گھسیٹتا ہوا کسی پناہ گاہ کی تلاش میں تھا۔ قدم اٹھانا مشکل تھا۔ مگر زندہ رہنے کی خواہش ہمت بندھا رہی تھی۔ چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہونے میں نہیں تھا۔ خشک جھاڑیوں سے الجھتے ہوئے۔ رینگ رینگ کر آگے بڑھتا گیا۔ ایک کھوہ پر نظر پڑتے ہی امید کی کرن جاگی۔ اس سخت گھڑی میں یہ کھوہ محفوظ اور پتھریلی زمین مخمل کا بستر لگی۔ ذرا سا آسرا ملتے ہی کمر ٹکا لی۔

Read more

حاملہ بیٹی کی ویڈیو

شمسہ اور وقار نے خود شمسہ کے مطالبے پر شادی سے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ وہ پانچ سال تک ماں باپ نہیں بنیں گے۔ بات مگر ان دونوں کے درمیان ہی تھی۔ دونوں کے رشتہ دار اور دوست احباب بار بار خوشی کی خبر کے لئے پوچھتے رہتے تھے۔ مگر ادھر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ آخر شادی کے پانچ سال بعد شمسہ حاملہ ہو گئی۔ البتہ کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹروں نے پانچ ماہ تک

Read more

سالگرہ

بالی کی طبیعت اپنے دوستوں سے ذرا الگ تھی۔ چونکہ وہ گاؤں کے ماحول میں پلا بڑھا تھا اس لئے شہری لڑکوں والی خصلتیں اس میں کم ہی پائی جاتی تھیں۔ جو لڑکے شیخی مارتے، اوچھی حرکتیں کرتے یا آج کل کی اصطلاح میں ممی ڈیڈی بچے ہوتے، وہ بالی کو ذرا نہ بھاتے تھے۔ بالی کی طبیعت میں ویسے کوئی الجھن یا بیزاری نہیں تھی۔ عمر کے ہر حصے میں اس کے بے شمار دوست رہے۔ وہ ہر طرح

Read more