عورتوں نے ووٹ کا حق کیسے حاصل کیا؟

اقتصادی نظام بدلتے رہے ہیں اور ان کے ساتھ انسانی سوچ، اقدار اور سیاسی و سماجی بندوبست بھی ارتقاء سے گزرتے آئے ہیں۔ سولہویں اور سترہویں صدی میں یورپی اقوام میں سرمایہ داری نظام کا آغاز ہوا اگلے ڈیڑھ سو سال میں انگلستان اور پھر فرانس اور جرمنی میں آگے پیچھے صنعتی انقلاب برپا ہو گئے۔ صنعتی ترقی نے کروڑوں انسانوں کو ان کی مرضی کے خلاف گاؤں دیہات سے نکال کر شہروں میں پہنچا دیا۔ نئے مسائل ابھرے ان

Read more

مثبت سوچ، معاشرہ اور لیڈی ڈاکٹر

آج کل ہر طرف منفی رویے پنپ رہے ہیں کیا سیاست، کیا حکومت، کیا معاشرہ اور کیا گھریلو زندگی. لوگ منفی سوچ کی بدولت کسی میں برائی پہلے ڈھونڈتے ہیں بہ نسبت اچھائی کے، اور اپنے رویے سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں. یہی حال ویمنز ڈے کا ہے، اس کے عورت مارچ کو تنقید کا اتنا نشانہ بنایا گیا ہے کہ اس کا مثبت پہلو کہیں چھپ کر رہ گیا ہے صرف چند نعروں

Read more

عورت مارچ: حقوق نسواں کا عظیم پلیٹ فارم

ہر سال کی طرح اس بار بھی مارچ کے مہینہ کا آغاز ہوتے ہی ہر جانب سے عورت مارچ پر پابندی کی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں۔ جن کا مقصد عورت مارچ کو روکنا ہی نہیں بلکہ عورتوں کے اپنے حق کے لیے بلند آواز کو دبانا بھی مقصود ہے۔ دنیا بھر میں مظلوم طبقات اپنے حقوق کی بات کرتے اور انہیں حاصل کرتے ہیں جس کی ایک واضح مثال یکم مئی 1886 کو شکاگو، امریکہ میں ہونے والی

Read more

عورت مارچ: تعصب کا خاتمہ

تاریخی طور سے ہر سال آٹھ مارچ عورتوں کے عالمی دن کی حیثیت سے دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس سال کا سلوگن ”تعصب کا خاتمہ“ اس بات کی عکاس ہے کہ اب عورتوں کے خلاف جبری تشدد، متعصب فیصلے، امتیازی سلوک اور حق رائے کی صلبی جیسی روایات کو دم توڑنا ہو گا۔ دہائیوں پر محیط پاکستان کے پس منظر میں خواتین کے لیے قدغن اور برابری کے مواقع اور برابر مواقع دونوں ہی ناپید رہے۔ باوجود اس

Read more

عورت مارچ کی مخالفت: یہ حیا کا نہیں، ناانصافی کا سوال ہے

عورت کا عالمی دن قریب ہے۔ عورت مارچ اور حیا مارچ کا جھگڑا، جلوس اور متنازعہ پلے کارڈ کا وائرس، بحث اور مباحثے شروع ہوئے چاہتے ہیں۔ عورت مارچ میں مرد اور حیا مارچ میں بھی مرد، عورت مارچ میں عورتیں اور حیا مارچ میں بھی عورتیں۔ سو یہ بحث تو بیکار ہے کہ یہ عورت اور مرد کی لڑائی ہے۔ یہ تو ایک سوچ کی لڑائی ہے دو انتہاؤں کا جھگڑا ہے۔ عورت مارچ کی سب سے اہم کردار

Read more

مارچ تو ہوگا

مارچ کا مہینہ بہار کی آمد کا آغاز کم اور پاکستان میں خواتین اور حقوق نسواں کے لئے برسر پیکار کارکنان کے لئے اعصابی تناؤ، بد تمیزی اور دھونس کا محرک زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ برس عورت مارچ کے آغاز کا پانچواں سال ہے اور گزشتہ پانچ برسوں سے مارچ کا ماہ بہار عورتوں کے لئے ماہ خار کے طور پر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ پاکستان میں 12 فروری قومی یوم خواتین کے طور پر منانے کا رواج چند

Read more

عورت آزادی مارچ اور اسلام

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اور ان رنگوں کو نمایاں کیا ہیں ہمارے پیارے دین اسلام نے کسی جو مقام و بلند مرتبہ اسلام نے عورت کو بخشا ہے کسی بھی مذہب میں نہیں دیا گیا ہے اور تمہیں اسلام نے اس کے قدموں تلے جنت رکھی ہے اور بیٹی ہے تو اسے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے اور بہن ہے تو سراپا دعا ہے اور اگر عورت ہے بیوی تو مرد کی پوشاک و لباس

Read more

عورت مارچ کیوں ضروری ہے

پاکستان جیسے ممالک میں عورت مارچ بہت ہی ضروری ہے۔ کیونکہ جہاں مذہبی اور معاشرتی تعبیرات میں عورت کو باور کروایا جاتا ہے کہ تم ”مرد کے لئے پیدا کی گئی ہو“ ۔ مرد تم سے درجے میں اور عقل میں اعلی اور ارفع ہے۔ جہاں اب بھی نام نہاد مذہبی دانشور اس بات پر بحث کرتے ہوں کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورت گھر سے باہر قدم رکھ سکتی ہے یا نہیں، اسے پوری گواہی کا حق دیا جا

Read more

دلال قاتل کو رہا کرو، عورت مارچ بند کرو

گزشتہ ماہ کے دوران دو نہایت افسوس ناک واقعات پیش آئے : پہلا قندیل بلوچ کے دلال قاتل بھائی، وسیم کی رہائی، اور دوسرا مولانا نور الحق قادری کا حکومت کو خط جس میں آئندہ عورت مارچ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ مسائل نسواں اور حقوق نسواں کا احساس رکھنے والے طبقات اور افراد کے لئے یہ دونوں واقعات تشویش ناک ہیں۔ ہمارے ہاں جاہل سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عام آدمی سے لے کر

Read more

عورت کے حقوق کی جنگ یا مادر پدر آزادی؟

پاکستان میں عورت مارچ کے نام سے شروع ہونے والے نعرے نے ہماری سوسائٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ میں اس کا الزام کسی ایک گروپ کو دینے کی بجائے آج دونوں طرف کے موقف کو بیان کرنے کی کوشش کروں گی، میں سوشل میڈیا پر اس چیز کو بہت غور سے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اور اس کے لئے میں نے ٹویٹر پر بے شمار سپیسز بھی کیں، اور دوسروں کی بنائی

Read more

عورت مارچ اور اس کے سلوگن

آج کل ذرائع ابلاغ میں مجوزہ ”عورت مارچ“ کا بہت ذکر ہے اور اس ضمن میں ان اجتماعات کی حمایت اور مخالفت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ زیادہ تر جس پروٹوکول کا ہمارے مذہبی , سماجی اور معاشرتی تناظر میں حوالہ دیا جاتا ہے , اس میں بھی نکاح کو عورت کی رضامندی سے مشروط اور لازم قرار دیا گیا ہے , گویا عورت جس سے چاہے گی اس سے رشتہ ازدواج قائم کرے گی , اور اس بارے میں

Read more

تعریف نہیں، عورتوں کی ہمت بندھایے

آخر یہ کیسا ماحول ہے جس میں کسی عورت کو ذاتی زندگی پر شرمندہ کرنے سے لوگ باز نہیں آتے اور اس عورت کو یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ اس کے فیصلے ہمیشہ غلط ہی ہوں گے چاہے عورت جان سے چلی جائے مگر معاشرے میں اپنے دینی اور قانونی حق کے لیے آواز نہ اٹھائے کیونکہ معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا؟ اس وقت پوری دنیا میں خواتین اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کر

Read more

خواتین کی مرضی، کام کرنے والے ادارے اور عورت مارچ

عورت مارچ سے پہلے ہی بہت ہنگامہ ہے جو کہ ابھی چاردیواری کے اندر ہے۔ جی ہاں ان ہی چار دیواری کے اندر کیا ہو رہا ہے اس آرٹیکل میں پڑھا جائے گا۔ چاردیواری جس میں خواتین کی مرضی کے خلاف فیصلے ہوتے ہیں، فیصلے ہونے اور فیصلے کرنے میں بہت فرق ہوتا جس کو بہت درد کے ساتھ وہ عورت ہی نبھاتی ہے جس کی مرضی کے خلاف ہوتا ہے۔ پاکستان میں ویسے تو عدالتیں بھری پڑی ہیں پریکٹس

Read more

عورت مارچ یا یوم حجاب

پچھلے دنوں ایک ممتاز قانون دان کا ایک بڑا دلچسپ ٹویٹ نظروں کے سامنے سے گزرا۔ وہ میں آپ کی نظر کرتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں ”نادان عورتیں عزت کے چار حفاظتی حصار باپ، بھائی، بیٹا اور شوہر کو چھوڑ کر غیر مردوں کی محفل میں عزت تلاش کرتی ہیں۔ جب کوئی غیر مرد عورت کی عزت پامال کر کے رفو چکر ہوجاتا ہے۔ تب وہی عورتیں کہتی ہیں کہ مرد ذات بڑی دھوکے باز ہے۔“ ۔ مارچ کے مہینے

Read more

پاکستان میں عورت مارچ متنازع کیوں

علمی یوم خواتین، سب سے پہلے 28 فروری کو 1909 میں امریکا میں منایا گیا، پہلی عالمی خواتین کانفرنس 1910 میں کوپن ہیگن میں منعقد کی گئی، 8 مارچ 1913 کو یورپ بھر میں خواتین نے ریلیاں نکالیں اور پروگرام منعقد کیے اور اب برسوں سے 8 مارچ کو عالمی سطح پر یوم خواتین منایا جاتا ہے یہ دن پاکستان میں بھی آٹھ مارچ کو منایا جاتا ہے لیکن اس میں بہت اختلافات سامنے آئے ہیں میری جسم میری مرضی،

Read more

’رب ہک تریمت اے‘

سرائیکی وسیب کے مہان شاعر رفعت عباس کہتے ہیں ’رب ہک تریمت اے‘ ، مجھ جیسے کم علم کی دانست میں برصغیر کے شاید ہی کسی شاعر نے اپنی شاعری میں یہ اہم نکتہ اٹھایا ہو گا، بلاشبہ مغرب میں یہ نکتہ کئی دہائیاں قبل موضوع بحث بن چکا تھا کہ مذہبی کتابوں اور مذہب کی تشریح بیان کرنے والی کتابوں میں گوڈ کے لئے مذکر کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا ہے جبکہ مونث کا صیغہ کیوں استعمال نہیں

Read more

مسکان خان کا عورت مارچ

وہ عورت مارچ ہی تھا جو مسکان خان نے کیا۔ بھارت کے جنونیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجانا، ان کے سامنے اللہ اکبر کا نعرہ لگانا اور حجاب اتارنے سے انکار کرنا۔ میرا برقع میری مرضی۔ یہی عورت مارچ ہے۔ ہر عورت کی طرح مسکان خان کا بھی بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کا لباس پہنے اور اپنے عقیدے، مذہب اور رسوم و روایات کے مطابق زندگی گزارے، کسی انسان کو ان حقوق سے محروم نہیں کیا

Read more

کیا پاکستان میں خواتین محفوظ ہیں؟

ایک ایسے وقت میں جب وزیراعظم عمران خان اپنی کابینہ کے 10 وزراء کو ان کی متعلقہ وزارتوں کی اچھی کارکردگی پر اعزازات سے نواز رہے تھے بشمول وزیر برائے انسانی حقوق کے جن کو اچھی کارکردگی پر پانچواں نمبر ملا۔ اسی وقت ملک خواتین کے خلاف تشدد میں ڈوبا ہوا تھا۔ دسمبر 2021 میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران؛ ملک میں عصمت دری کے 14000 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں گزشتہ چھ ماہ

Read more

بھارت کی مسکان , پاکستان کی عاصمہ اور عورت مارچ

8 فروری کو کرناٹک کی رہائشی اور بی کام سیکنڈ ائر کی طالبہ مسکان خان جب اپنے برقع کے ساتھ اپنا سکوٹر چلا کے اپنے کالج پہنچی تو ان کو انتہا پسند جتھے نے گھیر لیا یہ نوجوانوں پر مشتمل گروہ تھا ( کیا کیجیے بقول یوسفی کے جہاں جتنی غربت ہوتی ہے وہاں اتنا آلو اور مذہب زیادہ بکتا ہے اور سرحد کے دونوں طرف ہمارے مذہب کے علمبرداروں اور سیاستدانوں نے غربت، بے روزگاری اور بیماری کی چکی

Read more

ہنگامہ ہے کیوں برپا – ایک خط مولانا کے نام

اسلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ امید واثق ہے آپ مکمل طور خیریت سے ہوں گے ، کیونکہ وطن عزیز میں صرف دو ہی اجارہ داریاں چلتی ہیں۔ ایک تو مذہبی لوگوں کی اور دوسروں کا میں نام نہیں لینا چاہتی۔ سمجھ تو آپ جاویں گے۔ جناب محترم سمجھ سے باہر ہے کہ ہمارے ملک میں گنگا کے الٹی بہتے رہنے کی وجہ آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ جس کا جو کام ہو وہ اس کی بجائے

Read more

عورت مارچ کے خلاف وزیراعظم کو خط: ’مطالبات کو متنازع بنانے کا مقصد ہماری آواز دبانے کا بہانہ ہے‘

ہر برس خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو درپیش چیلنجز پر یہ مارچ کیے جاتے ہیں۔ کراچی میں اس برس عورت مارچ کا انعقاد گھروں میں رہ کر گھر کا نظم و نسق اور بچوں کی نگہدشات کرنے والی خواتین کی محنت و مزدوری کے موضوعات پر کیا جائے گا۔ منتظمین کے مطابق ہو حکومت سے خواتین کی اس محنت کو تسلیم کرنے اور اس کی سوشل سکیورٹی دینے کا مطالبہ کریں گی۔

Read more

ہندوستان کی مسکان اور پاکستان کی بیٹی کارلا

میں نے سنا ہے کہ ہندوستان کی لڑکی پر پاکستان کی لاکھوں عورتوں کو وار دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ یہ باتیں وہی کر رہے ہیں جو پاکستان میں لڑکیوں کو ویسے ہی ہراساں کرتے ہیں جیسے ہندوستان کے انتہا پسند نے مسکان کو کیا، وہ بھی اپنے عقائد کی بنیاد پر۔ ابھی ملالہ کے والد کی ٹویٹ پر ایک نوجوان یہ کہتا ہوا پایا گیا کہ مسکان کی ایک دن کی زندگی ملالہ کی ہزار سالہ زندگی سے

Read more

پاکستان میں مسکان کی حمایت مگر عورت مارچ کو گالیاں!

پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو جہاں مسکان کی بھرپور حمایت کرتا ہے، وہیں ‘عورتیں جیسا چاہیں ویسا پہنیں’ کے حالیہ نعروں کو برا سمجھتا ہے۔ یہ رجحان پاکستانی معاشرے کے خواتین کے حوالے سے دہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

Read more

بھارتی لڑکی اور غیرت سے جڑے چند سوال

کل سے سوشل میڈیا پر ایک انڈین لڑکی کی ویڈیو نے طوفان کھڑا کیا ہوا ہے کہ جس میں چند انتہا پسند ہندوؤں پر مبنی ایک گروہ ایک کالج جاتی لڑکی کو گھیرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اس ہجوم کو دیکھ کر نہ پریشان ہوتی نہ ہی اس کے قدم لڑکھڑاتے ہیں اور نہ ہی اس کی آواز تھراتھی ہے جو ہوتا ہے وہ یہ کہ وہ ہجوم جب ”جے شری رام“ کے نعرے لگاتا اس کے قریب

Read more

عورت مارچ والی عورتیں

آج پھر وہ بکھری بکھری نظر آ رہی تھی۔ آنکھیں رات بھر کی جاگی ہوئی۔ سارا وجود تھکا تھکا۔ میرے بہت اصرار پر اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔کہنے لگی میڈم باہر چل کر بتاتی ہوں یہاں باقی سب کولیگز آتے جاتے ہیں۔ انیلا میری اسسٹنٹ تھی اور میرے ساتھ کام کرتے اسے پانچ سال ہو گئے تھے۔ ماسٹرز کے بعد اس نے میرے ایک پراجیکٹ کے لیئے کچھ عرصہ انٹرنشپ کی ۔اس کی کام میں لگن اور سیکھنے کے شوق کو

Read more

خواتین کے حقوق کی حالیہ تحریکوں نے کیا ’مینل‘ کا تصور اور صنف سے متعلق رویوں کو تبدیل کیا ہے؟

ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ سنہ 2021 میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں خواتین کو کام تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور اگر کام مل بھی جائے تو وہ مردوں کے مقابلے میں 34 فیصد کم کماتی ہیں۔

Read more

چلی اور پاکستان: کیا پاکستان میں بھی چلی کی طرح بائیں بازو کا کوئی رہنما اقتدار سنبھال سکتا ہے؟

چلی میں سابق طلبا رہنما اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے دانشور، گیبریئل بورِک کے صدر منتخب ہونے کے بعد کئی ترقی پذیر ملکوں میں بائیں بازو کی طلبا تنظیموں کے مستقبل اور زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر بحثیں چِھڑ گئی ہیں۔ پاکستان بھی ایسے ہی ممالک میں سے ایک ہے۔

Read more

کیا عورتیں آپ کو دیکھ کر دوپٹہ درست کرتی ہیں

مجھے ذاتی طور پر سر پر دوپٹہ لینا پسند ہے اور خالصتاً اپنی مرضی سے۔ مجھے رنگ برنگے، ہلکے بھاری، لمبے چوڑے پھولوں اور بیلوں والے دوپٹے بھی بہت پسند ہیں اور سب سے پسندیدہ امر یہ ہے کہ اپنی مرضی سے کسی بھی انداز سے دوپٹہ لیا جائے اور کسی کی ناگوار نگاہوں کے خوف کے بنا لیا جائے۔ ایک وقت تھا جب اس طرح کی باتیں بہت عام تھیں جو کہ آج بھی ویسی ہی عام ہیں کہ

Read more

آزادی، عزت اور ”حیا کر یار“ ۔

اب یہ پسند نہ ہونے کی نفسیات کس طرح ایک عورت کی زندگی خراب کرتی ہے۔ تربیت کرنے والوں کو خبر نہیں ہوتی۔ ہمیں بھابھی کے ساتھ رات کو ہسپتال رہنا پڑا۔ ہسپتال میں اوپر کی منزل پہ کمرے بنے ہوئے تھے۔ اور باہر کھلا لاؤنج تھا۔ بھابھی سو گئیں تو ہم باہر آ کر بیٹھ گئے کہ یہ زنانہ پورشن ہے۔ مرد آسانی سے اندر نہیں آ سکتے۔ ہم نے موبائل پہ کچھ پڑھنا شروع کر دیا۔

کونے میں دو خواتین بیٹھی اونچی آ واز میں باتیں کر رہیں تھیں۔ ایک تو بہت برہم تھی۔ ہم پڑھ نہ سکے گرچہ موبائل پہ ہی نگاہ تھی۔ ان کی گفتگو کا حاصل کچھ یوں کا تھا۔ بڑی والی خاتون کی پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ اور حالات بھی سازگار سے کم تھے۔ اور رہن سہن اس سے بھی کم تھا۔ جبکہ چھوٹی والی ان کی چھوٹی بہن تھی اور کافی خوشحال تھیں۔ انہوں نے سوچا ہمارے لڑکے ہیں۔ باہر سے جو لڑکیاں لانی ہیں۔ کیوں ناں گھر کی بیٹیاں راج کریں۔ اور یوں وہ اپنے خاندان سے ہی سب بہوئیں لائیں۔

Read more

زندگی کا ٹوٹا ہوا پل (خط # 11)

محترم ڈاکٹر خالد سہیل! آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے مغربی خواتین کی معاشی خودمختاری اور لائف اسٹائل کے حوالے سے میری بھرپور رہنمائی فرمائی۔ سوشیالوجی کی اسٹوڈنٹ ہونے کے ناتے میں ’گلاس سیلنگ ”کے کونسپٹ سے واقف ہوں کہ کس طرح بظاہر دکھنے والی مرد و عورت کی مکمل برابری کے اندر بھی بہت سی رکاوٹیں اور استحصال کی چھپی قسمیں حائل ہوتی رہتی ہیں۔ غالباً مغربی خواتین کی ترقی و آزادی کا بھی یہی عالم ہے۔ بظاہر

Read more

میاں کلچر کی نئی علمبردار: صدف کنول

کچھ عرصہ قبل معروف موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے ایک انٹرویو میں اس بات کا شکوہ کیا تھا کہ ہمارے سماج میں اچھی اور مثالی بیوی بننا نہیں سکھایا جاتا۔ جس کی وجہ سے ہمیں بہت سے سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مشہور ماڈل صدف کنول نے شاہ صاحب کی اس بات کو کافی سنجیدہ لیا ہے۔ اور یہ ثابت کر دیا کہ شاہ صاحب جو بات کر رہے تھے اس کو عملی جامہ کیسے پہنایا جاسکتا ہے؟ انہوں نے گزشتہ دنوں اپنے شوہر کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ ایک مثالی بیوی ہیں۔

Read more

خواتین کا جنسی استحصال

مملکت پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا جانے والا وطن ہے جس میں خواتین کو مردوں کے ساتھ تمام حقوق فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کے لئے تعلیمی مدارس، دنیاوی تعلیم کی درسگاہیں موجود ہیں جن میں ان کو باوقار طریقے سے تعلیم دی جاتی ہے۔ کیوں کہ خواتین معاشرے کا اہم جزو ہیں۔ یہ کبھی ماں کے روپ میں کبھی بہن اور بیٹی کے روپ میں موجود نظر آتی ہے۔ فی زمانہ خواتین ہر میدان میں مردوں کے

Read more

فیصل آباد میں عورت مارچ کی اجازت نہ دینے پر ایمنسٹی کا اظہارِ تشویش

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصل آباد میں خواتین کو ریلی نکالنے کی اجازت نہ دینے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا نے خواتین کو ریلی کی اجازت نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں عورت مارچ پر پابندی کے حکومتی فیصلے پر تنظیم کو تشویش ہے۔

Read more

ہماری لڑکیاں

اس بات کو ماننے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے ہاں حقوق نسواں کے لیے جتنی تحریکیں چلیں، جتنے سیمینار ہوئے، جتنے موم بتی والے احتجاج ہوئے، جتنی شعلہ بیان تقاریر کی گئیں، جتنے عورت مارچ ہوئے ؛ سب بے سود اور بے فائدہ رہے، سب دعوے زمیں بوس ہو گئے، سب نعرے ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں آج سے صدیوں پہلے زمانہ جاہلیت کے وہ لوگ کھڑے تھے جو اپنی

Read more

پدر شاہی اور عورتوں پر ظلم: ڈاکٹر رفیع امیر الدین کے مضمون کا ترجمہ

پاکستان کے سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل نے سب کو رلا دیا ہے. کسی نے یہ توقع نہیں کی ہوگی کہ ایک چمکتا ہوا، مسکراتا چہرہ وقت سے پہلے اس طرح کی انتہائی تکلیف نگل جائے گا. ہر کوئی جوابات کی تلاش میں ہے. کیا یہ وسیع پیمانے پر بدگمانی کا نتیجہ تھا، امتیاز کا احساس جو دولت اور طاقت کے ساتھ آتا ہے، ایک مجرمانہ انصاف کا نظام جو بڑے پیمانے پر امیروں اور طاقتوروں

Read more

صدف کنول کے فیمنزم کے ’متنازعہ‘ بیان پر سوشل میڈیا پر بحث: ’مرد کے جوتے اٹھانا عورت کی ڈیوٹی نہیں، بیوی کو شوہر کی ملازمہ کے طور پر قبول کرنا بند کریں‘

پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے یہ موضوع زیر بحث ہے کہ ایک شادی میں مرد اور عورت کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور اس کی وجہ پاکستانی اداکارہ اور ماڈل صدف کنول کا وہ بیان ہے جو انھوں نے عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک نجی چینل کے ایک پروگرام میں دیا تھا۔

Read more

ہم فیمینیسٹ عورتیں

عورتوں کے ساتھ مسلسل ہونے والی زیادتیوں میں اتنی بے شمار چیزیں آ جاتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتا پہلے کس پہ آواز اٹھائیں۔ ہراسمنٹ پہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو اچانک سے ریپ کیس سامنے آ جاتے ہیں۔ ریپ پہ بات کر رہے ہوں تو گینگ ریپ سننے میں آ جاتا ہے۔ اس کے بعد قتل چاہے وہ ریپ کے بعد قتل ہو یا پھر غیرت پہ ہو، پسند کی شادی جرم ٹھہرے یا پھر گول روٹی نہ

Read more

من چاہی آزادی نور مقدم کی جان لے گئی

نور مقدم کے قتل کے واقعہ اور اس کے پس منظر پر پولیس کی جانب سے تفتیش جاری ہے اور جلد ہی اصل حقائق بھی سامنے آ جائیں گے مگر جو ابھی تک حقائق سامنے آئے ہیں اس کے مطابق مقتولہ اور قاتل کے درمیان گہری دوستی کا رشتہ سامنے آیا ہے۔ ایک ایسا رشتہ جس کا دونوں طرف کے خاندانوں کو نہ صرف علم تھا بلکہ ایک دوسرے کے گھر آنے جانے اور ملنے ملانے پر بھی دونوں طرف سے کسی کو اعتراض بھی نہیں تھا۔

Read more

عورت کی حیثیت ہی کیا ہے!

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جس وقت اس ملک میں جانوروں کی ”اخلاقی“ طور پر گردنیں کٹ رہی تھیں، اس سے چند گھنٹے قبل رات میں ایک لڑکی کی بھی قربانی کی گئی۔ ہم چاہے لاکھ کہانیاں کیوں نہ گھڑ لیں کہ قربانی کا جانور قربان ہونے کو بیتاب ہوتا ہے مگر عین قربانی کے وقت اس کا احتجاج، آنکھیں، اور لرزتے جسم کے تمام حصے بتلاتے ہیں کہ مرنا تو کوئی جاندار بھی نہیں چاہتا۔ کوئی بھی ذبح نہیں ہونا چاہتا۔ آپ کیا تھپڑ کھانے کے روادار ہوسکتے ہیں؟ تو کوئی تشدد سہنے اور ذبح ہونے کا روادار کیسے ہو گا؟ انسانیت یا یوں کہیے کہ جانداروں میں شعوری یا لاشعوری طور پر ایک عقیدہ ہے جس پر سب متفق ہیں کہ تکلیف اور درد کوئی بھی نہیں سہ سکتا۔ زندگی کا نظام ہی ایسا ہے، دماغ تکلیف نہ سہنے کی ہر طرح کی کوشش کرتا ہے۔ تو کوئی انسان جس پر برملا تشدد معمول کی بات ہو وہ کیسے اس پر خوش ہو سکتا ہے؟ لوگ اس عام فہم کی بات پر بھی کیسے غیر انسانی غیر فطرتی تاویلیں گھڑ سکتے ہیں؟

Read more

کیا ابھی بھی ڈومیسٹک وائلنس بل 2021 کی ضرورت نہیں؟

ابھی پچھلے دنوں پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں گھریلو تشدد کا بل پیش کیا گیا جو کہ اپنی نوعیت کا پہلا بل تھا جس پر بہت لے دے ہوئی اور مخالفت کی گئی جس کے بعد اسے اسلامی نظریاتی کونسل میں نظرثانی کے لیے بھیج دیا گیا۔ یہ ایک نہایت جامع بل تھا جس میں گھریلو تشدد کی وضاحت کی گئی اور سزائیں بھی مقرر کی گئیں۔ اگر یہ بل منظور ہو کر لا گو ہو جاتا تو کسی

Read more

ہمارے ’بے نور معاشرے‘ کی کہانی

چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن میری یادداشت آج بھی ان مناظر سے فرار حاصل نہیں کر سکی۔ لاڑکانہ میں میرے گھر کی دہلیز پر میرے خاندان کے ساتھ کام کرنے والا لڑکا خون آلود کپڑوں میں دھاڑیں مار مارکر رو رہا تھا۔

ہم اسے مشتاق بھائی کہہ کر پکارتے تھے۔ ساتھ ہی اس کی چھوٹی بہن سہمی ہوئی بیٹھی تھی، میری نانی اور میری والدہ انہیں دلاسے دے رہی تھیں۔ شام کو مجھے خاندان کی خواتین کے باتوں سے کچھ اندازہ ہوا۔

Read more

مبشر علی زیدی کے معصومانہ سوال اور تنقیدی شعور

مبشر علی زیدی نے آج دو مختلف پوسٹس میں ایک ہی معاملے کے دو پہلوؤں پر بحث چھیڑی۔ پہلی پوسٹ میں ان کا کہنا یہ تھا کہ کوئی روشن خیال جرنیل سخت مارشل لاء لگائے، آئی ایس آئی کو لگام ڈالے، جہادی تنظیموں کو جڑ سے اکھاڑے، مدرسے بند کرے، دہشت گردوں کو لٹکائے، لاپتہ افراد کو رہا کرے، فوج کو کراچی اور بلوچستان سے واپس بلائے، دفاعی بجٹ کم کرے، فوج کے کاروبار بند کرے، اور جرنیلوں کو زمین

Read more

قرۃ العین بلوچ کے ”بھائی“ کے نام کھلا خط

ہمیں معاف کیجئے ثنا االلہ بلوچ صاحب کہ نعش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد آپ کا بیان رپورٹ آ نے سے پہلے والی خامشی پہ بہت بھاری ہے۔ اتنا بھاری کہ تشدد کے خلاف بل کی مخالفت کرنے والوں کی پردہ کشائی ہے۔

”بہن کی شدید تشدد کے ساتھ موت دیکھ کر اب سوچتا ہوں کہ اپنی بیٹیوں کی شادی ہی نہ کروں۔ بیٹیاں بوجھ تھوڑی ہوتی ہیں۔ کہ انہیں درندوں کے حوالے کر دوں۔ گزشتہ دس سال کے دوران بہن کو شوہر نے متعدد بار تشدد کا نشانہ بنایا کئی بار بہن کے شوہر کو گھریلو تشدد پہ گرفتار بھی کروایا۔ دنیا داری کا سوچ کر بہن کو طلاق نہیں دلوائی“

Read more

گولڈن گرلز: اے پردہ دارو، خود کو یوں بے پردہ تو نہ کرو۔

چار ماہ قبل جب رابعہ الربا نے مجھے اپنے ساتھ گولڈن گرلز سیریز لکھنے کی دعوت دی تو مجھے اندازہ تھا کہ یہ سیریز جہاں بہت سے لوگوں کو پسند آئے گی وہیں بہت سے لوگوں کے لیے حلق کا وہ نوالہ بن جائے گی جو نہ اگلا جاتا ہے اور نہ نگلا جاتا ہے۔ لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ اس سیریز کی وجہ سے ایسے ایسے لوگ خود نکل کر سامنے آئیں گے جو اس سے پہلے

Read more

گوجرانوالہ میں بیوی کا چیلنج قبول کر کے ایکٹنگ کرنے والا شخص اغوا کے مقدمے میں گرفتار ہوگیا

گوجرانوالہ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون نے اپنی سہیلی کے ساتھ مل کر اپنے سابقہ شوہر کو اغوا کے مقدمے میں پکڑوا دیا ہے۔

Read more

میں عورت مارچ میں شریک ہوا

لوگوں کی کثیر تعداد لاہور میں ہونے والے عورت مارچ میں شریک تھی۔ بچے، بوڑھے اور نوجوان سب ہاتھوں میں دبنگ قسم کے الفاظ اٹھائے خراماں خراماں قطار در قطار مہذب انداز میں چل رہے تھے۔ بینرز پہ لکھے سچ میں بھیگے الفاظ چیخ چیخ کر ظلم کو للکار رہے تھے۔ اب تک جو گناہ معاشرے کے پیندے سے جڑے تھے اور اوجھل تھے، ابل ابل کر باہر گر رہے تھے۔ کچھ گناہگار منہ چھپاتے پھررہے تھے اور کچھ ڈھٹائی

Read more

ٹک ٹاک: سندھ ہائی کورٹ کا ٹک ٹاک پر 8 جولائی تک پابندی لگانے کا حکم

سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے تمام فریقین کو آٹھ جولائی کو طلب کیا ہے اور پی ٹی اے کو ہدایت کی ہے کہ اس وقت تک ٹک ٹاک ایپ کو معطل کیا جائے۔

Read more

پھر کہتا ہوں کہ عورت مارچ انسانی حقوق کی تحریک نہیں

متنازع موضوعات کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ لکھنے والے کا موقف درست ہو یا نہیں، لیکن پڑھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ اس کی موافقت یا مخالفت میں ضرور کھڑا ہو جاتا ہے۔ میری آج کی تحریر اگر خواتین کے حقوق کے خلاف ہوئی تو یقیناً بہت سے لوگ میری مخالفت میں کمنٹ کریں گے بلاگز لکھیں گے جبکہ خواتین کی آزادی کے مخالف افراد میرا ساتھ دینے کے لئے آگے بڑھیں گے۔ صورتحال جیسی بھی ہوگی نتیجہ شہرت

Read more

ہم عورتیں آپ سے کیا چاہتی ہیں؟

ہم عورتیں مردوں سے کیا چاہتی ہیں؟ آپ ہم سے بہت کچھ چاہ سکتے ہیں مگر آپ ہم سے ہمارے بھائی، باپ، دوست، ہمسفر، دفتر کے ساتھی، استاد ہونے کے ناتے کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم آپ سے ہمارے بارے کیا چاہتی ہیں؟ اللہ نے عقل اور شعور تو دیا ہے اور سب کو ہی دیا ہے، اگر زمانے کے لحاظ سے عقل اور شعور کو استعمال کرنے کی سکت بھی دی ہے تو پھر بھی آپ لوگ کیوں نہیں

Read more

لاہور میں سندھ یک جہتی مارچ میں سینکڑوں افراد کی شرکت

آج 18 جون کو پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو، حقوق خلق موومنٹ اور عورت مارچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے سندھیوں کی زمینوں پر قبضہ، گجر نالہ کارروائی میں عوام کی گھروں سے بے دخلی اور ہزاروں سندھی سیاسی و سماجی کارکنان پر مقدمات کے خلاف اور جانی خیل دھرنا کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے پریس کلب لاہور کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سندھ ایکشن کمیٹی کے وفد نے سندھ سے لاہور آ کر خصوصی شرکت کی۔

Read more

ہمارے نصاب میں بھی فحاشی ہے (مکمل کالم)

قوم کو مبارک ہو کہ ہم نے ایک اور سازش پکڑ لی، اس مرتبہ یہ سازش اغیار نے نہیں بلکہ اپنوں نے کی تھی اور وہ بھی بچوں کے خلاف۔ ہمیں علم ہی نہیں تھا کہ ہمارے معصوم بچوں کو سائنس کے نام پر فحش مواد پڑھایا جا رہا ہے، افسوس کہ ہم کئی دہائیوں تک اس سے بے خبر رہے، اب اللہ جانے فحش مواد پڑھنے والے ان بچوں نے بڑے ہو کر معاشرے میں کس قدر بے حیائی

Read more

عورت اور اس کا استحصال

تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ عورت کا معاشی، سماجی، سیاسی اور جنسی استحصال بہت پرانا ہے لیکن آج بھی اتنے سال گزرنے کے باوجود خواتین کی اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری ہے۔ دنیا میں مختلف ادوار میں خواتین کا استحصال کیا گیا۔ اس کو ہر طرح کے حقوق سے محروم رکھا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ مردوں کا خوف تھا کہ خواتین مختلف شعبہ جات میں ان سے آگے نہ نکل جائیں اور ان کی

Read more

میرا جسم میری مرضی

وہ سامنے ٹی وی پر عورت مارچ کے حوالے سے آنے والی خبریں دیکھ رہی تھی عورت مارچ کے خلاف بولنے والے بہت موجود تھے کچھ کا یہیں کہنا تھا کہ میرا جسم میری مرضی یہودی پروپیگنڈا ہے پاکستان میں عورت کو ہر قسم کے حقوق حاصل ہے یہاں عورت ہر طرح سے محفوظ ہے یہاں عورت کو آزادی حاصل ہے اسلامی تنظیم کی خواتین حجاب میں اپنے محرم رشتوں کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابیں ملا رہی

Read more

عورت کیا چاہتی ہے؟

صبح علی احمد خان صاحب سے بات ہو رہی تھی، انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی صحافیانہ زندگی کی یادداشتیں قلم بند کر رہے ہیں۔ ہم نے علی احمد جو اب سارے صحافیوں کے لئے خان صاحب ہیں کے ساتھ ہفت روزہ محور اور روزنامہ امن میں 79 اور 1980 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں کام کیا ہے۔ معلوم نہیں کیوں لیکن جب انہوں نے اس زمانے کی بات چھیڑی تو ہماری ”شعور کی رو“ چلنا شروع ہو گئی۔

Read more

فیمینزم کا مطلب: عورت کے انسانی حقوق کا مطالبہ

لفظ فیمینزم یا نسائیت پرستی کو ہمارے ہاں 2021 ء میں بھی قبولیت نہیں مل سکی۔ اس لفظ کو ملعون سمجھا جاتا ہے۔ وجہ اس سے منسلک نہایت غلط تصورات ہیں مثلاً نسائیت پرست خواتین، مردوں کو ناپسند اور ان سے کراہت محسوس کرتی ہیں ؛ وہ مادر پدر آزادی کی خواہش مند اور معاشرے کے روایتی تار و پود کی دشمن ہوتی ہیں ؛ وہ مرد کی عزت نہیں کرتیں بلکہ انہیں قابل عزت ہی نہیں سمجھتیں ؛ ایسی

Read more

آزادی نسواں یا آزادی انسان؟

محترم ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم ”کیا مرد ماضی کی زنجیروں سے آزاد ہوسکتے ہیں“ پڑھا اور مجھے احساس ہوا کہ یہ کالم/تقریر نہ صرف ایک انسان دوست ماہر نفسیات نے لکھی بلکہ ایک منجھے ہوئے ہوئے طبیب نے بھی لکھی ہے کیونکہ اس میں نہ صرف مرض کی تشخیص کی گئی ہے بلکہ اس کی وجہ اور اس causing factor کے تدارک پر بات کی گئی ہے۔ میرے لیے یہ ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنا کہ یہ کالم

Read more

ایک قابل اعتراض اشتہار (مکمل کالم)

آج ایک عجیب معما درپیش ہے۔ ایک موضوع پر کالم لکھنا چاہتا ہوں پر سمجھ نہیں آ رہی کہ کیسے آغاز کروں۔ موضوع قطعاً اچھوتا نہیں بلکہ سچ پوچھیں تو خاصا گھسا پٹا ہے تاہم لکھتے ہوئے جو ’اصطلاحات‘ استعمال کرنی پڑیں گی انہیں سوچ کر الجھن میں ہوں۔ اگر وہ اصطلاحات استعمال کرتا ہوں تو خدشہ ہے کہ کہیں مدیر صاحب اُنہیں فحش قرار دے کر قینچی نہ چلا دیں اور اگر اُن اصطلاحات کا کوئی شریفانہ متبادل استعمال

Read more

عوامی مقامات پر جنسی اعضا کی نمائش: ’مردوں کی فرسٹریشن کے لیے تربیت اور علاج کی ضرورت ہے‘

یہ غالباً اسّی کی دہائی کا واقعہ ہے، لاہور کی رہائشی کلثوم اختر کو سال یاد نہیں۔ وہ اپنے بیٹے کے علاج کے لیے اسلام آباد آ رہی تھیں۔ وہ برقعے میں ملبوس تھیں اور ان کے سسر ان کے ہمراہ تھے۔

بس میں ان کے پیچھے بیٹھے شخص نے انھیں نامناسب انداز میں چُھونے کی کوشش کی۔ اس کی دوسری کوشش پر وہ نشست سے اٹھیں اور جوتا اتار کر اس شخص کی پٹائی شروع کر دی۔

Read more

پاکستانی معاشرے میں عدم برداشت

اگر گلیلیو ببلیکل فلکیاتی نظریات کے خلاف اظہار اسی دور کی عدم برداشت کا سامنا رہتا تو ہم آج بھی کرۂ ارض کو کائناتی مرکز تصور کر رہے ہوتے۔ اگر سائنس کے سمندروں میں غوطہ زن لوگوں کو معاشرتی عدم برداشت کے نتیجے میں شیطانی پیروکار ہی سمجھا جاتا رہا ہوتا تو انسان آج فلک شگاف عمارتیں تعمیر نہ کر پاتا، فضاؤں میں پرندوں کی مانند اڑ نہ رہا ہوتا، اپنی تاریک راتوں کو دن کے اجالوں کے مشابہ نہ

Read more

عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کی آواز: رحمان صاحب

بارہ اپریل کو جب صحافی مزدور ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہم پریس کلب میں احفاظ الرحمٰن کی پہلی برسی منا رہے تھے تو رحمٰن صاحب کے انتقال کی خبر ملی اور ہم سب مزید دکھی ہو گئے۔ اس پروگرام میں ہم نے ان دونوں کا سوگ بھی منایا، ان کی زندگیوں کو سیلیبریٹ بھی کیا اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم بھی کیا۔ تب سے اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا

Read more

خواتین پَیپ سمیر ٹیسٹ کو دوست بنائیں

”ڈاکٹر میرے شوہر خوش نہیں ہیں!“
وہ تھکے تھکے لہجے میں بولیں، چالیس کے پیٹے میں وہ تھیں، سو ہم نے بات اڑانے کے لئے ہنس کے کہا،
”فکر نہ کیجیے، شوہروں کا یہی وتیرہ ہوا کرتا ہے، بھلے مانس خوش ہوتے ہی نہیں“
وہ ہولے سے مسکرا دیں۔

”اب بتا دیجیے، کیوں ناراض رہتے ہیں وہ“
”وہ ڈاکٹر، پچھلے پانچ چھ ماہ سے ہم جب بھی۔ وہ جب بھی۔۔۔“ وہ جھینپ کے رک گئیں
”جی، جب بھی۔ کہیے؟“
ہم نے انہیں بات مکمل کرنے کا حوصلہ دیا

” جی، پچھلے کچھ عرصے سے ہم جب بھی ہم بستری کرتے ہیں، ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے عضو پہ تھوڑا سا خون لگ گیا ہے۔ میرے جسم پہ بھی کچھ خون کے دھبے ہوتے ہیں، ساتھ میں درد بھی بہت ہے۔ میں بہت پریشان ہوں ڈاکٹر“

Read more

جعلی ریاست مدینہ اور اس کی حقیقت

عمرانی ریاست مدینہ میں رہنے والی رابعہ الربا کو عوامی جمہوریہ چین میں عارضی طور پر مقیم تحریم عظیم کا سلام قبول ہو۔

رابعہ نے اپنے خط میں جعلی ریاست مدینے کے زبردستی کے خلیفہ اول کے اس بدنام زمانہ بیان کا ذکر کیا ہے جو دنیا کے ہر خبر شائع کرنے والے ادارے نے چھاپا۔ رابعہ، صرف خلیفہ وقت نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شہر، گاؤں، قصے کے ہر چوک، ہر تھڑے پر بیٹھا آدمی یہی سوچ رکھتا ہے۔ وزیراعظم تو بس یہ ثابت کر رہے ہیں کہ تعلیم اور شعور بھی ایسی سوچ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

Read more

پردہ ، وزیراعظم کا بیان اور لبرل طبقہ

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر کسی قوم کو بغیر جنگ کے شکست دینی ہے تو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کو معرض وجود میں آئے ستر سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن ہمارے لئے افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم ابھی تک پستی اور غلامی کا شکار نظر آتے ہیں۔ اگر میں کہوں کہ ہم ذہنی غلامی کا شکار بن چکے ہیں تو شاید

Read more

نانی اماں کا دکھ اور مذہب کے ٹھیکے دار

میرا خواتین کے حقوق کے حوالے سے کالم پڑھ کر میری دوست خاص طور پر میرے گھر آئی اور مجھے سراہتے ہوئے آبدیدہ ہو کر بولی کہ تم نے خواتین کے بارے میں بالکل ٹھیک لکھا، میں نے اس کی آنکھوں میں جھلملاتے آنسوؤں کی وجہ پوچھی تو وہ رندھی ہوئی آواز میں بمشکل کہہ پائی: ”میرے نانا نے میری نانی کو اس وقت طلاق دی تھی جب وہ رمضان کی آمد سے قبل گھر کی سالانہ صفائی کر رہی

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کا گرین زون کا فلسفۂ محبت اور فن شادی

پاکستان میں مارچ کا مہینہ عورت مارچ کے حوالے سے متنازع رہتا ہے اور ہر قسم کے گالم گلوچ سے بھرا ہوتا ہے۔ 2021 کے مارچ کو شہر لاہور کی یونیورسٹی میں زیر تعلیم محبت میں گرفتار نوجوان جوڑے کے سر عام شادی کے پروپوزل نے مزید متنازع کر دیا اور گالم گلوچ کی زبان کو نئی جلا بخشی۔ اس سارے واقعے کو دیکھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ کیا واقعی محبت اور پسند کی شادی اتنی

Read more

توہین نسواں اور امت کی روایت

کراچی کے اخبار ’ امت‘ نے عورت مارچ کرنے والی خواتین کو رنڈیاں کہا۔ اس اخبار سے اس سے زیادہ کی توقع کی جا سکتی ہے، کم کی نہیں۔ خواتین کو دی گئی اس غلیظ گالی سے اردو صحافت کی ’’روشن‘‘ تاریخ کے بہت سے واقعات میرے ذہن میں آئے۔ ’امت ‘اخبار اور اس کا ایڈیٹر کس شمار قطار میں ہیں۔ خواتین کی تضحیک کے معاملے میں بڑے بڑے جید صحافیوں کا نام آتا ہے۔ واقعات کے طومار میں سے

Read more

باپردہ بیوی کے شوہر پاکستانی وزیراعظم کا ریپ پر موقف اور متضاد آراء

کچھ عالمی اعداد و شمار سے دیکھیں کیا یورپی ممالک میں قانون سخت نہیں۔

جنسی زیادتی ہمیشہ متاثرین کے لئے صدمے کا باعث ہوتی ہے لیکن اس کے پیچھے محرکات مختلف ہوتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عصمت دری کا رویہ ذہنی خرابی کا سبب نہیں ہے، بلکہ مجرمانہ جرم ہے۔ دیگر یورپی ممالک میں عوام کے سامنے اسلامی طرز پر پردے کرنا ایک متنازع موضوع رہا ہے۔ فرانس نے 2011 میں عوام کے سامنے پورے چہرے کے پردے پر پابندی عائد کر دی تھی جبکہ نیدرلینڈ، ڈنمارک، آسٹریا اور بلغاریہ نے عوام میں چہرے کے پردے پر مکمل یا جزوی پابندی عائد کر دی تھی۔

Read more

عورت مارچ

تو تم عورت مارچ میں جاؤ گی قہقہہ گونجا سنا ہے وہاں تو بڑی آزاد عورتیں آتی ہیں اس بار تو سنا ہے انہوں نے سڑک پر رسی لگا کر زنانہ کپڑے بھی لٹکائے ہیں آوازیں اچھا۔۔ یعنی انگیا اور چڈیاں اتنی بے حیائی ۔۔ اُف دیکھنے تو جانا پڑے گا فحاشی کا زہر واقعی معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور اس کی ذمہ دار بھی یہی عورتیں ہیں ارے بھئی اسی لیے تو اتنے ریپ ہوتے ہیں

Read more

شاہ سالار کا فہم فحاشی اور جہادی ٹک ٹاک

شاہ سالار نے فرمایا ہے فحاشی بہت بڑھ گئی ہے اس کو روکنا ہو گا۔ ہمارے ملک کا معاملہ ہے واقعی اس بڑھتی ہوئی فحاشی کو روکنے کے لئے مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے ، جیسے کہ شاہ سالار کہتے ہیں کہ وہ روزانہ جہاد پر جاتے ہیں، تو ہم عامیوں کو بھی چاہیے کہ ہم سب بھی فحاشی روکنے کے جہاد پر نکلا کریں۔ اس کے لئے سب سے پہلے اپنے اپنے سیل فون سے ٹک ٹاک ایپ اور

Read more

عمران خان کے ریپ سے متعلق متنازع بیان پر حکومتی وضاحت میں کچھ دیر بعد ہی تبدیلی

عمران خان نے اپنے ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں ریپ سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ ’ہر انسان میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ خود کو روک سکے۔۔۔ آپ معاشرے میں جتنی فحاشی بڑھاتے جائیں گے تو اس کے اثرات ہوں گے۔‘

Read more

روزنامہ امت، عورت مارچ اور اسی کوڑوں کی سزا

یہ اس عاجز کی کم علمی ہے کہ میں اب تک روزنامہ امت کے وجود سے بے خبر تھا۔ لیکن اس روزنامے کے مدیران اور مضمون نگاروں کو داد دینی چاہیے کہ اب اس کو بھولنا بہت مشکل ہو گا۔ انہوں نے ایک تحریر کے بل بوتے پر ہی اتنی توجہ حاصل کر لی ہے جسے حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شریف النفس انسان کو کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

اس روزنامہ کی 5 اپریل کی اشاعت میں اس کے ایک وقائع نگار خصوصی کی مہیا کردہ خبر شائع ہوئی۔ اس کی سرخی کا آغاز یہ تھا ”چودہ ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے“ اور اس کے بعد اس تحریر کے بے لگام گھوڑے کا رخ ان خواتین کی طرف ہو گیا جنہوں نے عورت مارچ میں شرکت کی ہے۔

Read more

وزیراعظم، فحاشی اور “امت“ کی سوچ اور زبان

نیک اور پارساؤں کے اخبار نے عورت مارچ کی عورتوں کے لئے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ، وہ اچھے سچے اور پکے مسلمانوں کی سوچ کی عین عکاسی کرتے ہیں۔ کسی بھی ٹخنوں سے اوپر شلوار کے حامل مسلمان سے، نورانی چہرے والے اور گز بھر لمبی داڑھی والے حوروں کے متلاشی آدمی سے بات کر کے دیکھ لیں وہ یہی الفاظ استعمال کرتا نظر آئے گا، بلکہ اس لفظ کے آگے پیچھے غلیظ قسم کی گالیوں کا اضافہ بھی کرے گا۔

Read more

امت اخبار کیسی صحافت کر رہا ہے؟

جہالت اور عدم برداشت کی کس سطح پر ہم پہنچ گئے ہیں کہ کسی بھی قسم کے الفاظ اخباری شہ سرخیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صحافت کا سیاہ ترین وقت ہے کہ اس طرح کی خبریں بنائی جا رہی ہیں۔ اخبار میں خبریں لگانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں جو اب بالائے طاق رکھ دیے گئے ہیں۔ ایسا ہی پانچ اپریل کے اخبار ”امت“ کی شہ سرخی پڑھ کر احساس ہوا، ہم کس قدر اپنی اقدار، تہذیب اور اخلاقیات سے دور ہو چکے ہیں بلکہ ان کا جنازہ نکال چکے ہیں۔

Read more

وزیرِ اعظم عمران خان کے ’بے پردگی اور فحاشی‘ کو ریپ کی وجوہات قرار دینے والے بیان پر شدید تنقید، معافی مانگنے کا مطالبہ

پاکستان میں سوشل میڈیا سے لے کر انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان سے یہ بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے جس میں انھوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات کی وجوہات میں ایک وجہ بے پردگی اور فحاشی کو قرار دیا تھا۔

Read more

عورت مارچ کی ”رنڈیاں“ اور امت

کراچی سے شائع ہونے والے ایک اخبار ’امت‘ نے اپنے صفحہ اول پر خبر دی ہے کہ دنیا کے چودہ ممالک ایسے ہیں جہاں عورتوں پر تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کی سالانہ تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ تبصرہ نما خبر میں ساتھ ہی پوچھا گیا ہے کہ ”عورت مارچ کی رنڈیوں کو یہ غیر مسلم ملک نظر نہیں آتے؟“

Read more

روزنامہ امت، پاکستانی صحافت اور آگ کا دریا

برصغیر پر ڈھائی ہزار برس کی حکمرانی، فتوحات، پرانی تہذیبوں کا اجڑنا، نئی تہذیبوں کا جنم لینا، اسکول کے دنوں میں قرۃ العین حیدر کے مشہور ناول ’آگ کا دریا‘ میں یہ سب پڑھنے کا موقع ملا۔ انگریزوں کا قبضہ، برطانوی راج میں آزادی کی جنگ کو ظالمانہ انداز میں کچلا جانا، پھر بٹوارہ اور خون خرابہ۔

Read more

روزنامہ امت، ریپ اور رنڈیاں

ہمارے ملک کا عظیم ترین اور معتبر ترین اخبار روزنامہ امت ہے جس کا مقدس مشن قوم کو راہ راست پر رکھنا ہے۔ یہ بات ہمیں روزنامہ امت پڑھ کر ہی پتہ چلی ہے ورنہ پہلے ہم کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے۔ آج اس کے کراچی، حیدر آباد، پشاور اور راولپنڈی کے ایڈیشنز میں صفحہ اول پر وقائع نگار خصوصی کے تحریر کردہ ایک فیچر کو خبر کی صورت میں شائع کیا گیا ہے جس کی سرخی ہے ”14 ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے۔ امریکہ، جاپان، سویڈن، جنوبی افریقہ، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک شامل ہیں۔ عورت مارچ کی رنڈیوں کو یہ غیر مسلم ملک نظر نہیں آتے“ ۔

روزنامہ امت پڑھ کر ہمیں ہمیشہ کوئی نئی بات پتہ چلتی ہے۔ مثلاً اس خبر سے ہمیں یہ علم ہوا کہ بنگلہ دیش ایک غیر مسلم ملک ہے، ہم آج تک یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ وہاں 89 فیصد تعداد مسلمانوں کی ہے۔ خیر مزید معلومات کی تحصیل کی خاطر ہم نے نہایت دلچسپی سے یہ فیچر نما خبر پڑھنا شروع کی۔ اس کے چیدہ چیدہ نکات یوں ہیں۔ ۔ ۔

Read more

روزنامہ امت کی شرمناک حرکت

کچھ دنوں سے ایک اہم تاریخی واقعہ کی تحقیق میں لگا ہوا تھا کہ میرے ایک دوست نے میری توجہ ایک خبر کی جانب مبذول کی۔ وہ خبر اخبار ”روزنامہ امت کراچی“ میں 5 اپریل 2021 کو شائع ہوئی تھی۔ اور خبر تھی بھی اخبار کے فرنٹ پیج پر مین ہیڈلائن کے اوپر لیکن لکھا ہوا بھی بڑا بڑا تھا اسے۔ خبر تھی:

” 14 ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے۔“
لیکن اس کے نیچے انتہائی شرمناک عبارت تھی۔ وہ عبارت تھی:
”عورت مارچ کی رنڈیوں کو یہ غیر مسلم ممالک نظر نہیں آتے۔“

Read more

امت اخبار کا عورت مارچ کی خواتین کے لیے نازیبا لفظ کے استعمال پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پاکستان میں شائع ہونے والے ایک اردو اخبار امت نے پیر کے روز شائع ہونے والے اخبار کے صفحہ اول کی ایک خبر میں عورت مارچ میں شامل خواتین کے لیے ایک نازیبا لفظ استعمال کیا ہے جس پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔

Read more

گولڈن گرلز: ڈیجیٹل بہن چارہ

رابعہ، عورتوں کے اسی غصے کا اظہار وہ گروپ ہے جہاں آپ کی سہیلیاں اور آپ ’فرشتوں‘ کے نمونے شیئر کر کے انہیں اکٹھے بلاک کیا کرتے تھے۔ عورتیں اب مردوں کی ایسی حرکتیں برداشت نہیں کرتیں۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر اپنے لیے سپورٹ گروپ بنا لیے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کو مردوں سے خبردار کرنے کا کام کرتی ہیں۔ میں اسے ڈیجیٹل بہن چارہ کہتی ہوں۔ ایک گروپ تو خاصا بڑا ہے۔ اس میں لڑکیاں ایسے مردوں کی پروفائلز شیئر کرتی ہیں جن کی طرف سے انہیں دوستی، محبت یا شادی کی دعوت آئی ہوتی ہے، وہ دوسری عورتوں سے پوچھتی ہیں کہ کیا وہ انہیں جانتی ہیں۔

Read more

دیہاڑی باز پاکستانی سیاست دان

شیخ سعدی ؒ کہتے ہیں کہ ایک بار وہ شہر ”دیار بکر“ میں ایک بڈھے کے مہمان تھے جس کے پاس بے انتہا دولت تھی۔ اس کا ایک خوبصورت لڑکا بھی تھا جس سے اس کا باپ بے پناہ محبت کرتا تھا۔ ایک رات وہ امیر بڈھا آدمی کہنے لگا میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں کہ میرے شہر کے ساتھ جنگل میں ایک درخت تھا جو درختوں میں اضافہ کی وجہ سے کہیں گم ہو گیا ہے۔ ارد گرد کی آبادی اس درخت کو مبارک سمجھتے ہوئے مرادیں مانگنے وہاں جاتے تھے۔

میری کوئی اولاد نہ تھی چنانچہ میں بھی اس غرض سے وہاں گیا۔ میں نے کئی راتیں اس درخت کے پاس بیٹھ کر خدا کے حضور روتے ہوئے گزاری، تب کہیں جا کر میری مراد پوری ہوئی اور مجھے یہ فرزند نصیب ہوا۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ میں نے اگلے دن لوگوں سے سنا کہ وہ خوبصورت لڑکا اپنے دوستوں سے چپکے چپکے سے کہتا ہے ”اے کاش! مجھے اس درخت کا علم ہوتا تو میں وہاں جا کر دعا کرتا کہ اس بڈھے سے میری جان جلد چھوٹ جائے۔“

Read more

آپ اپنے وطن کی عورتوں کے ریپ پر بات کیوں نہیں کرتے؟

عورت مارچ پر میں نے ایک حضرت کے پلے کارڈ کی دل سے تصویر بنائی تھی۔ میں نے اخلاقی اصولوں کے تحت پہلے اجازت طلب کی اور پھر تصویر لی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ صاحب ہمارے ہی مارچ میں آ کر ہمارے ہی خلاف میڈیا پر زہر اگلیں گے۔ ان کے پلے کارڈ پر لکھا نعرہ ان مسلمان خواتین کے لئے تھا جن کا کوئی وطن نہیں۔ فیمنزم کے نزدیک کوئی جغرافیائی، مذہبی، معاشی، نسلی یا قومی تفریق نہیں

Read more

صالحین کے گروہ کے پاس کون سا نسخہ ہے؟ مکمل کالم

ایک منٹ کے لیے فرض کر لیں کہ کوئی معجزہ رونما ہو گیا ہے اور ملک میں صالحین کا گروہ برسر اقتدار آ گیا ہے۔ یہ بے حد نیک، مخلص، دیانتدار، متقی اور پرہیز گار بندے ہیں جنہیں مال و دولت، نمود و نمایش، طاقت و اقتدار کی کوئی خواہش نہیں۔ یہ درویش صفت لوگ ہیں جنہیں بڑی مشکل سے اس بات پر راضی کیا گیا ہے کہ آپ عنان اقتدار سنبھال لیں اور ملک کو مسائل کے گرداب سے نکال کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیں۔ ہم اس معجزے پر تبصرہ نہیں کریں گے کہ آیا صالحین کا ایسا کوئی گروہ ملک میں وجود بھی رکھتا ہے یا نہیں اور رکھتا ہے تو اسے کیسے برسر اقتدار لایا جا سکتا ہے۔

Read more

کیا پاکستان کا ’مثبت تشخص‘ صرف غیر ملکی بلاگرز کے کہنے سے اجاگر ہوتا ہے؟

ٹوئٹر پر کیتھرین جارج نامی صارف نے ایک سفید فام خاتون کی پاکستانی مردوں کے ساتھ تصاویر شئیر کیں اور لکھا کہ ’دنیا میں عورتوں کی کوئی ایسی عزت نہیں کرتا جتنا پاکستانی مرد کرتے ہیں۔‘

Read more

عورت مارچ پر دشنام طرازی کرنے والوں کا گربیان

گزشتہ برس کی طرح اس بار بھی عورت مارچ سے قبل ہی انتہائی دائیں بازو کی شدت پسند تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے منفی پروپیگنڈا اور نفرت انگیز مہم شروع کر دی گئی جو کہ ابھی تک جاری ہے اور عورت مارچ کے منتظمین کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس اسلام آباد میں عورت آزادی مارچ پر پتھراؤ کیا گیا تھا، اب کی بار ایسا کرنا ممکن نہ ہو پایا اس لیے ویمن

Read more

نیرنگی آدم کو کھلے دل سے قبول کیجیے

میں اپنے موبائل فون کی فوٹو گیلری میں یونہی سرفنگ کر رہی تھی کہ نظر ایک تصویر پر ٹک گئی۔ اس تصویر کو دیکھ کر بے اختیار مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔ ہم چار سہیلیاں ایک قطار میں کھڑے کیمرے کی آنکھ میں جھانکتے ہوئے مسکرا رہی تھیں۔

چاروں ایک دوسرے سے قطعی مختلف بلکہ ذرا غور سے دیکھیں تو دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں ایک خاص فراز و نزول کا مظاہرہ پائیں گے۔ یہ نیرنگی صرف مظاہر تک محدود نہیں بلکہ فروع مذہب، نظریات، مشاغل حتیٰ کہ عمروں میں بھی اچھا خاصہ تفاوت موجود ہے لیکن یہ تلون انس باہمی میں سد راہ نہیں جیسے پھلواری میں گل ہائے رنگ برنگ اپنی اپنی خوشبو سے مشام جاں کو معطر کرتے ہیں

Read more

حقوق نسواں: ایک اسلامی نقطۂ نظر

ایک اسلامی ممالک میں رہ کر بھی جہاں ہمیں چھوٹوں ، بڑوں، بزرگوں ، مردوں ، عورتوں، پڑوسیوں یہاں تک کہ رشتہ داروں کے حقوق بتا دیے گئے ہیں تو ایسے میں ہمیں عورت مارچ کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے؟

مساوات کی بنیاد پر خواتین کے حقوق کی حمایت کرنا خاص طور پر عصر حاضر میں غور کرنے کے قابل ہے۔ ”حقوق نسواں“ اصطلاح کے مستند معنی یہ ہیں کہ مرد اور خواتین کی صنفی تفریق کے طرز عمل، تسلط اور جبر سے آزادی کے لیے جدوجہد کی جائے۔

Read more

ہمارے ’بھگت سنگھ‘ چاہتے کیا ہیں!

سوشل میڈیا پر کئی انتہا پسند گروہ (cult) سرگرم عمل دیکھے جا سکتے ہیں۔ ستر کی دہائی میں ہپیوں کا ایک گروہ (cult) بہت مشہور ہوا تھا۔ ’فری میسنز‘ کے نام سے ایک محدود ممبر شپ والی تنظیم کے بارے میں عجیب و غریب باتیں کہی جاتی ہیں۔ مغرب میں تمام تر آزادیوں کے باوجود ایک انتہا پسند گروہ کے خواتین و حضرات شہر کی سڑکوں پر وقتاً فوقتاً سرعام برہنہ پریڈ کر کے آج بھی اپنے نظریات کا اظہار

Read more

عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے، پشاور کی مقامی عدالت کا حکم

پشاور — پشاور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید شوکت اللہ شاہ نے اسلام آباد عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف پشاور کے تھانہ شرقی میں مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ان پر مبینہ طور پر عورت مارچ کے دوران ‘گستاخانہ’ نعرہ بازی کرنے، توہین آمیز بینرز اور پوسٹرز کی نمائش کے الزامات ہیں۔

Read more

عورت مارچ اسلام آباد کی منتظمین کے خلاف پشاور سیشن کورٹ کے فیصلے کی مذمت

عورت آزادی مارچ اسلام آباد نے پشاور کی ایک سیشن عدالت کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے جس میں عورت آزادی مارچ اسلام آباد کی منتظمین کے خلاف ضابطہ فوجداری کے سیکشن 22 اے کے تحت الزام کے مطابق مذہبی طور پر ’گستاخانہ کلمات‘ کہنے پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

Read more

عورت مارچ: خاتون رپورٹر نے میرا انٹرویو کیوں نہیں چلایا؟

پچھلے دو، تین برس سے جب خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ہمارے ہاں عورت مارچ منعقد ہونا شروع ہوا ہے تو ہر دفعہ اس کو غلط ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ ایسا سامنے لایا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پہلے مارچ میں موجود پلے کارڈز پر درج نعروں کو فوٹو شاپ کی مدد سے اپنی مرضی کے مطلب دیے گئے۔ مارچ کا انعقاد کرنے والوں کو

Read more

منافق مرد

میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے ساتھ اس سیریز پر کام کرنے کی پیشکش دی۔ گولڈن گرلز ایک بہت منفرد سیریز ہے جس کے تحت ہم دونوں وہ سب لکھ سکتی ہیں جو پہلے اپنی تحاریر میں نہیں لکھ سکیں۔ یہ سیریز دو خواتین لکھاریوں کے اشتراک سے وجود پا رہی ہے۔ ہم ایسا اشتراک عموماً مردوں کے درمیان ہی دیکھتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ خواتین ایک دوسرے کے ساتھ کام نہیں کرتیں، کرتی ہیں پر عوام ان کے اشتراک سے زیادہ ان کے آپسی اختلاف میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

Read more

لفظوں کا جادوگر: وجاہت مسعود

الفاظ کی نفاست، خوبصورت انداز بیاں، تشبیہات کی بہتات، تشریحات کا استعمال، مثبت تنقید، استعارات کی فراوانی، شاعرانہ مثالیں، اردو اور انگریزی ادب سے مثالیں، لفظوں سے چھیڑ چھاڑ، نفاست، الفاظ کا بہترین چناؤ، تجسس، اور ذوق ، یہ سب ہم سب کے ایڈیٹر وجاہت مسعود کی تحریروں کے لازمی عناصر ہوتے ہیں۔ جمہوری سوچ رکھنے والے، انسانی حقوق کے نہ بکنے اور نہ جھکنے والے علم بردار وجاہت مسعود کی تحریریں یقیناً نئے لکھاریوں کے لئے مشعل راہ کی

Read more

مارچ کا ایک پس پردہ موضوع: غذائیت

مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جن پر صحافیوں، کالم نگاروں، اور ٹی۔ وی چینلز نے خوب تبصرے کیے ۔ مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی عورت مارچ پر بحث و مباحثہ شروع ہو گیا۔ بعد ازیں نمل یونیورسٹی کیس، سینیٹ الیکشن، یونیورسٹی آف لاہور کیس، کرونا کی تیسری لہر اور اسی طرح کے کئی اور ملکی اور غیر ملکی مسائل زیر بحث رہے۔ ان تمام موضوعات پر بات کرنا نہایت ضروری تھا۔ لیکن اس

Read more

طاہر بنوں کہ ہاشم؟   

کل چھٹی کا دن تھا! گھنٹی بجی، دیکھا دروازے پہ ایک دوست کھڑی تھیں، ہانپتی کانپتی اندر داخل ہوئیں۔ سانس بحال ہوا تو کچھ پراسرار سے لہجے میں پوچھنے لگیں، “سنو، تمہارے ہسپتال میں پلاسٹک سرجری کا شعبہ ہے نا؟” “جی، کیوں پوچھ رہی ہیں؟” “کیا وہاں’ وہ’ والا آپریشن ہوتا ہے؟” ان کی آواز دھیمی سے دھیمی ہوتی چلی گئی “ یہ ‘وہ والا’ کونسا آپریشن ہے؟” ہم نے تعجب سے پوچھا، “ارے سمجھا کرو نا” وہ ماتھے پہ

Read more

عورت مارچ ہو یا حیا مارچ: منزل کہیں بھی نہیں

میں چھ سال کی مسکان سے کوئی دو چار بار ہی ملا ہوں۔ ذہین اور شریر سی یہ بچی اپنے والد کو نہیں جانتی۔ اس کا والد زندہ ہے مگر اس نے اسے ایک ہی بار دیکھا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ وہ اپنے والد کو پہچانتی نہیں تھی۔ مسکان کی والدہ اس کے والد کی دوسری شادی تھی۔ خاندان کی اجازت کے بغیر اس نے شادی کی تھی۔ کچھ عرصہ ساتھ رکھا اور پھر خاندان کے دباؤ میں آ کر چھوڑ دیا۔ خاتون نے سرکاری جاب حاصل کر لی۔ وہی جاب اور چھوٹی سی مسکان اس کی زندگی کا کل سرمایہ رہے۔

والدہ کے بالوں میں اب چاندی اتر چکی تھی۔ جاب اور جوانی کا دفاع کرتے، سنبھلتے سنبھالتے اس کی زندگی وقت سے پہلے ادھیڑ عمری کو پہنچ چکی تھی۔ کیسے کیسے لوگوں کے رویے اور کیسی کیسی نظریں اس نے سہیں؟ کیسی ہوس ناک آنکھیں اس کے جسم کے گرد ناگ کی طرح لپٹیں؟ کیسے کیسے ذو معنی جملے اسے کچوکے لگا کر کر فضا میں تحلیل ہوئے؟ کبھی وہ سنیں تو اپنے معاشرے پر پھیلی چاندنی کی چادر اترتی محسوس ہو۔ اس کے نیچے جمع غلاظت کے ڈھیر اور اس کی اٹھتی بھبھک نتھنوں کو پھاڑنے لگیں۔

اس کی والدہ کی آنکھوں میں اب بھی آنسو سے چمک اٹھتے ہیں جب وہ اپنے شوہر کا ذکر کرتی ہے۔ حیرت سے آپ اسے تکتے رہ جائیں کہ کس خمیر سے بنی ہے عورت!

آخری بار اس نے اپنے شوہر کو کب دیکھا وہ بار بار بتاتی تھی۔ ”اس دن میرے سر میں شدید درد تھا، مجھے بخار ہو رہا تھا، میں اپنی بہن کے گھر جانے کے لیے مسکان کو لے کر گھر سے نکلی۔ سڑک پر بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔ گرمیوں کی ایک گرم سہ پہر تھی۔ ایک کار آ کر رکی، اس نے کہا چلو تمہیں چھوڑ دوں۔ کار میں ایک ہی شخص بیٹھا تھا۔ میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ اپنے بخار اور سر درد سے بے حال، گاڑی چلانے والے اور مسکان کے درمیان کیا باتیں ہوئی مجھے یاد نہیں۔

بس اتنا یاد ہے اس نے کہا تھا ”مسکان اب ماشا اللہ کتنی بڑی ہو گئی ہو“ ، میں نے منزل پر پہنچ کر اسے رکنے کا کہا تو اس نے گاڑی روک دی، میں اتر گئی۔ پیچھے شکریہ ادا کرنے کو مڑ کر گاڑی والے کی طرف دیکھا تو پہچان گئی کہ وہ مسکان کا باپ تھا۔ اس نے میری طرف دیکھے بغیر گاڑی آگے بڑھا دی اور میں وہیں مبہوت کھڑی مسکان کو آوازیں دیتی رہی ”مسکان! یہ تمہارے والد تھے“ ۔ اور پھر دیر تک میں اور مسکان سڑک کنارے کھڑے ایک دوسرے سے لپٹ کر ایک دوسرے کو تسلیاں دیتی رہیں۔

اس ماں بیٹی کی زندگی کا کرب لفظوں میں کیسے بیان ہو گا؟ میں نہیں جانتا۔

گائنی کی ایک ڈاکٹر کہہ رہی تھی ”الٹراساؤنڈ میں یہ دیکھنے کے بعد کہ ماں کے پیٹ میں بچی ہو تو والدین کو نہیں بتاتے، بچہ ہو تو فوراً بتاتے اور مبارک باد دیتے ہیں“ ۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی، کہ آخر پڑھی لکھی ہونے کے باوجود بھی تمہیں بچی کی پیدائش کی خوشی کیوں نہیں ہوتی۔ کہا ”ہمیں تو فرق نہیں پڑتا بچہ ہو یا بچی۔ مگر بچی ہو تو ہم نہیں چاہتے اس کی والدہ بچی جننے سے پہلے ہی طعنوں اور تشدد کا سامنا کرے، کچھ دن ہی سہی اسے سکون سے رہنے کا حق تو ہے، جو قیامت مہینہ ڈیڑھ بعد ٹوٹنی ہے، وہ ابھی سے ہمارے بتانے پر ہی کیوں ٹوٹے“ ۔

گائنی کی ڈاکٹر بتا رہی تھی :ایک خاتون کے ہاں بچی کی پیدائش ہوئی۔ اس نے پوچھا بیٹا ہے یا بیٹی؟ پاس بیٹھی نرس نے کہا بیٹی، وہ چیخ چیخ کر رو پڑی، کہا مجھے بھی یہیں مار دو، میری بیٹی کو بھی یہیں قتل کر دو۔ میں باہر شوہر کے پاس نہیں جانا چاہتی۔ سٹاف تسلی دینے لگا۔ خاتون نے کہا : ”میری اس سے پہلے ایک دو سال کی بیٹی میرے شوہر نے گلا دبا کر مار دی ہے۔ اب کی بار اس نے کہا ہے کہ اگر پھر بیٹی پیدا کر دی تو اس کے ساتھ تمہیں بھی مار دوں گا“ ۔

اب اس کم بخت شوہر کو کون ڈھونڈ کر سمجھائے کہ جناب آپ دہری جہالت کا شکار ہیں۔ ایک تو بیٹی کو نقصان سمجھنا اور دوسرا اس کی تخلیق اور پیدائش کا ذمہ دار اس کی ماں کو سمجھنا۔

ایک عورت چار سال کی چھوٹی سی بچی کو لے کر آئی جس کا ریپ کیا گیا تھا۔ نرسز بچی کو لے کر اندر گئیں، ماں سیڑھیوں میں ہی ڈھ گئی۔ بچی بھی رو رہی تھی اور اس کی ماں بھی۔ ماں کہہ رہی تھی: ”اسے وہیں مار دو باہر واپس نہیں لاؤ۔ اسے میں سماج کی نظروں سے بچا کر بڑی بھی کر دوں تو بیاہ نہیں سکوں گی کیوں کہ شادی کی پہلی رات بھی یہ ماری ہی جائے گی“ ۔

بچی کیوں رو رہی تھی، ذرا کلیجہ تھام کر سنیے!

وہ کہہ رہی تھی ”اس انکل نے مجھ کہا تھا تمہیں ٹافیاں اور اچھی اچھی چیزوں دوں گا، مگر اس نے کچھ بھی نہیں دیا۔“

یہ ہمارے سماج میں عورت کی بے بسی کی چند حقیقی مثالیں ہیں۔ عورت کی جسمانی کمزوری اور مرد کے زور بازو نے کیا اسے اتنا اعلیٰ و برتر بنا دیا کہ وہ عورت کے متعلق اپنی مرضی سے جو بھی چاہے فیصلہ کرے؟ اس کی زندگی موت کے فیصلے بھی اس کے ہاتھ میں ہوں۔ اس کی کوکھ میں کیا ہونا چاہیے یہ فیصلہ اس کے اختیار میں ہو؟ مرد کیا عورت کے مقابلے میں کسی بھی قاعدے قانون سے آزاد اور ماورا ہے؟ مرد عورت پر کیا ہر طرح سے ہاتھ اٹھانے میں آزاد ہو جاتا ہے؟ آخر کون سا مذہب اور کون سا نظریہ ہے جس نے یہ اختیارات صنفی بنیادوں پر تقسیم کر دیے ہیں؟

عورت مارچ ہر سال آتا ہے اور سانپ کی طرح ایک لکیر چھوڑ جاتا ہے، جسے ہم بڑے عرصے تک پیٹتے رہتے ہیں۔ عورت مارچ میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ مجرے ڈانس بھی ہوتے ہیں۔ قمیصیں بھی لٹکائی جاتی ہیں۔ کراس فائر نعرے بھی لگتے ہیں۔ عجیب و غریب سلوگنز کے بینرز اور پلے کارڈ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ ان سب چیزوں نے معاشرے میں عورت کے مسائل کو مزید گہنا دیا ہے۔

میرے خیال میں حیا مارچ بھی عورت کے مسائل کی ترجمانی نہیں کر رہا۔ ان دونوں سے ہٹ کر ایک اور فورم ہونا چاہیے جہاں عورت کے حقیقی مسائل پر بات ہوا کرے۔ معاشرے میں پھیلی اس جہالت پر بات ہو جس کی وجہ سے کوئی عورت خودکشی پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس سماج کی روح میں بسی جہالت کی جڑیں اکھاڑنے کو تربیت اور اصلاح کی بہت پرزور کوششیں تحریکیں چلانے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی مخصوص کمیونٹی کے نعروں سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ یہ کسی طعنہ گردی اور لعنت ملامت سے حل ہونے والا مسئلہ بھی نہیں۔ عورت مارچ ہو یا حیا مارچ، منزل ان دونوں راہوں میں کہیں بھی نہیں۔

اس کے لیے اہل دانش کو کسی مخصوص پس منظر کے تعصب سے ماورا ہو کر مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا۔ کچھ مشترکہ فورمز پر بات رکھنی ہو گی۔ افہام اور تفہیم کے جذبے سے ایک دوسرے کو سننا ہو گا۔ ایک نئی فکر تخلیق کرنی ہو گی۔ مکالمے سے ایک نیا راستہ تلاش کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ عورت کی نجات کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

Read more

کیا آپ بھیڑیے سے ملنے کی آزادی چاہتی ہیں؟

کیا آپ بھیڑیے سے ملنے کی آزادی چاہتی ہیں؟
ماہ مارچ کا آغاز ہوتے ہی یہ سطر مختلف پیرائے میں لکھی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کچھ اپنے تئیں ذہین و فطین لوگ اس کو لطیفے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

” بھیڑ نے آزادی مانگی۔ بھیڑیے سب سے زیادہ خوش ہوئے“

Read more

جسم میرا اور خوش گمانیاں تمہاری

مارچ جہاں ہمارے علاقوں میں بہار کی آمد کی نوید لاتا ہے۔ وہیں اس مہینے ایک دن عورت کا بھی آتا ہے۔ جو گزر گیا۔ مگر کچھ منافقوں کے دلوں کی بھڑاس ابھی تک نہیں نکل رہی۔ عورت مارچ کچھ عرصہ سے جتنے جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے اتنا ہی متنازع ہوتا جا رہا ہے۔

کچھ مرد عورت کے حق میں لکھنے پر ہمیں اتنے جبری فتوے دے رہے ہوتے ہیں جیسے ہمارے ”مامے“ لگتے ہیں۔ جناب ہم بالغ عورتیں ہیں، اگر ہم پسند کی شادی کا حق رکھتے ہیں تو اپنی سوچ رکھنے کا بھی ایک بالغ عورت کو پورا حق ہے۔ آپ کو مسلسل مداخلت و ہماری اصلاح کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ آپ کا اس طرح کا رویہ ہمارے خاندان کی تربیت کو مشکوک کرتا ہے۔ ہر طبقے کے اپنے نارمز (معیارات) ہوتے ہیں۔ جس پہ پتھر اٹھانے کا آپ کو کوئی اخلاقی حق نہیں۔ اور اگر ہم غلط سوچتے ہیں تو اپنے محرم مردوں کو دوزخ میں لے کر جائیں گے۔ آپ ہمارے محرم نہیں لہٰذا ہم سے دور رہیں تو اچھا ہے۔

Read more

عورت مارچ کی ’جعلی ویڈیو‘ کی تحقیقات کا معاملہ: ’ایف آئی اے کو ابھی تک کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے‘

پاکستان کے شہر کراچی میں اس سال عورت مارچ کے حوالے سے ایک تحریف شدہ ویڈیو کو بنیاد بنا کر توہین مذہب کے الزامات سامنے آئے جس کے بعد اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے اس کے خلاف اقدامات لینے کا عندیہ دیا تھا تاہم دس روز گزرنے کے بعد بھی اب تک کسی قسم کے ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آئے۔

Read more