ہو سکتا ہے کہ ہمارے نام/تخلص کے عربی فارسی یاترکی نہ ہونے کے بجائے خالص سندھی ہونے کے باعث اس میں کچھ لوگوں کو کفر یا شرک کی سی بو آتی ہو لیکن الحمدللہ ہم مسلمان ہی ہیں اور دنیا کی ”واحد آئینی مسلم قوم “ میں سے ہیں۔ البتہ یہ اور بات کہ جن صاحبان کے خیال میں لاڑکانہ میں کوئی مسجد نہیں یا بدین میں مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے، وہ ہمیں بدستور کافر یا ہندو قرار دیتے رہیں۔ اور باب الاسلام میں بسنے والے کفار و ہنود کو تبلیغ لے لیے درانہ آتے رہیں۔
اس وضاحت کے بعد آئیے اصل معاملے کی طرف میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ایسی وڈیو وائرل ہے کہ جس میں ایک صاحب ایک ہندو لڑکے کو اللہ اکبر کا نعرہ لگانے اور بھگوان کو ماں بہن کی گالیاں دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ایسی وڈیو کسی بھی انسان کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس نے ہمیں بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
Read more