کالم نگاری کے پردے میں ساحری کو رواج دینے والے ہارون الرشید کا کہا بہت پہلے گرہ میں باندھ لیا تھا کہ زندگی دوسروں کی خامیوں پہ نہیں اپنی خوبیوں پہ بسر کرنی چاہیے۔ صبر کی بھی، لیکن، کوئی حد ہوتی ہے، برداشت کا بھی کوئی پیمانہ ہوتا ہے۔ یہ سرحد ختم ہو جائے اور یہ پیمانہ لبریز ہونے لگے تو انسان کیا کرے۔ معین اختر جیسے بے مثال فنکار اور نابغہ روزگار کو تحقیر کا نشانہ بنایا گیا، افسوس صد افسوس۔ اس عبقری کو اداکاری کے میدان میں محض ایک تابع مہمل ثابت کرنے کی کوشش کی گئی حیف صد حیف۔
معین اختر کے شہرہ آفاق پروگرام ”لوز ٹاک“ کے مصنف انور مقصود کے تازہ ترین ارشادات کے مطابق اس پروگرام کی تشکیل و ترتیب میں معین اختر کی کسی ذاتی صلاحیت کا کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ تمام سکرپٹ الف سے یے تک ان کا لکھا ہوتا تھا۔ معین نے اس میں ایک جملے کا تو کیا کبھی ایک لفظ کا اضافہ بھی اپنی طرف سے نہیں کیا، ترمیم کا تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Read more