خندہ نواز ( طنزیہ و مزاحیہ شاعری) کا ایک مطالعہ

مزاح نگار اپنے لفظوں کی جادوگری سے غم زدہ چہروں پر مسکراہٹوں کا غازہ ملتا ہے۔ مسکراہٹوں کا یہ غازہ اُن زخموں کے لیے مرہم ثابت ہوتا ہے جو بصارت سے نہیں بصیرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ ہنسنا انسان کی جبلت ہے۔ ایک مزاح نگار اپنے فن سے اس جبلت کو مہمیز کر تا ہے۔ ڈاکٹر آپ کو بیمار اور وکیل ملزم دیکھنا چاہتا ہے۔ جبکہ اس دنیا میں مزاح نگار ایک ایسی ہستی ہے جو آپ کے چہرے پر

Read more

سورج اور سایہ: لیوگی پیراندیلو کا افسانہ

پرانے شہر کی دیواروں کے ساتھ طویل گزرگاہ پر، درختوں کی شاخیں یوں مل رہی تھیں کہ سبز اور سایہ دار برآمدہ سا بن گیا تھا۔ ان شاخوں کے درمیان اچانک چاند حیرت سے نمودار ہوا اور اس ویران اندھیرے راستے پر بے وقت قدم اٹھاتے تنہا دراز قد آدمی سے یوں مخاطب ہوا۔ ”ہاں، میں تمہیں دیکھ رہا ہوں۔“ اور جیسے ہی اُس آدمی نے خود کو ظاہر ہوتا محسوس کیا۔ وہ رک گیا اور اپنا ہاتھ سینے پر

Read more

ریفریشر کورس: تفریحی اور معلوماتی دورہ

بورے و الا سے بھاگم بھاگ ٹھیک ساڑھے نو بجے کالج پہنچا۔ کیوں کہ یہ ریفریشر کورس کا آخری ہفتہ تھا۔ اس لیے باقی ماندہ دنوں کو باقاعدگی سے ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں گزارنے کا ارادہ تھا۔ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے مبارک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ جنہوں نے یہ خبر سنائی کہ بس تیار کھڑی ہے اور سب لوگ ایک دن کی آؤٹنگ کے لئے باہر جا رہے ہیں۔ ہمیں دیکھتے ہی یار لوگوں نے نعرے لگانے شروع کر

Read more

معاصر روسی افسانہ

الیکساندر سیپکن 28 ستمبر 1975 میں سینٹ پیٹرزبرگ جو تب لینن گراد کہلاتا تھا، میں پیدا ہوئے۔ 2015 میں اپنی افسانوں کی کتاب ”بڑھاپے سے پہلے کی عمر کی عورتیں اور دوسری بے اصول کہانیاں“ سے معروف ہوئے۔ وہ اب روس کے طنزیہ افسانہ نگاروں میں مقبول ترین ادیبوں میں سے ایک ہیں اور ان کی لکھی کہانیاں روس اور امریکا دونوں ہی ملکوں کی محفلوں میں ثقہ اداکار و صدا کار پڑھ کے سناتے ہیں۔ وہ تزویراتی تعلقات عامہ

Read more

ملک نواز احمد اعوان کی یاد میں

علم دوست، انسان دوست ملک نواز احمد اعوان صاحب 31 اگست 2022 ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے تھے۔ 1980 ء کی دہائی میں جب ہم کراچی میں مقیم تھے اس وقت میں نے تقریباً دس سال کی عمر میں اپنے والد محترم محمد اختر مسلمؔ سے ان کا نام سنا۔ ملک نواز اعوان سے یہ دنیاوی تعلق تقریباً بیالیس سال کے بعد ان کی وفات پر ختم ہوا۔ مگر ان کی یاد اور ان کے احسانات مجھے

Read more

’سیکس کرنے کی بجائے بیڈمنٹن کھیلیں‘: ہانگ کانگ میں ایک عام کھیل موضوع بحث کیوں ہے؟

ہانگ کانگ میں گذشتہ ہفتے سیکنڈری ایئر 3 کے لیے جاری ہونے والے تدریسی مواد کے ایک ماڈیول میں یہ تجویز سامنے آئی کہ جو نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، وہ اس کی بجائے ’مل کر بیڈمنٹن کھیلنے کے لیے باہر جا سکتے ہیں۔‘

Read more

لاہور کے شاہی محلہ کی درپردہ ثقافت پر لکھی ایک کتاب پر تبصرہ

موڈ بڑا رومانوی سا تھا۔ لیپ ٹاپ کھولا اور نیٹ فلیکس پر کوئی مووی سرچ کرنے لگا کہ اس موڈ سے بھرپور لطف اٹھایا جائے۔ سامنے سکرین پر ہیرا منڈی سیریز پر نظر پڑی جو اس سے ایک دو دن پہلے شروع کی تھی۔ مجھے کچھ خاص نہیں لگی تھی، اس لیے ایک آدھ قسط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، مگر اس رات کے موڈ کے حساب سے سیریز مل گئی۔ ذوق تو ادب کا رکھتے ہیں جو کبھی کبھار

Read more

خود کشی کوئی کیوں کرتا ہے؟

خودکشی کی اصل وجہ صرف ایک ہے ’بے حد و بے حساب مایوس ہو جانا‘ ۔ اگر کسی شخص کو کوئی راہ نظر نہ آئے، کوئی اپنا نہ لگے، کوئی ہمدرد اور غم خوار نہ ملے، تو ایسے میں اس کو دنیا کے غم بہت بڑے لگنے لگتے ہیں۔ وہ اس دنیا سے اتنی نفرت کرنے لگتا ہے کہ اس کو جینے میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ زندگی کی رعنائیاں اس کو بے رنگ لگتی ہیں۔ خودکشی صرف یہ نہیں

Read more

وہ آٹھ

آئیے آپ کو ان سے ملواتے ہیں جو آٹھ ہیں اور خاص ہیں۔ مختلف ہیں لیکن دوستی کے رشتے سے بندھی ہیں۔ اب بوجہ فاصلوں دور ہیں لیکن دل سے قریب ہیں۔ سالوں، مہینوں بعد بھی ملیں تو وہیں سی شروع ہوتی ہیں جہاں پچھلی مرتبہ سلسلہ ٹوٹا ہوتا ہے۔ کچھ مزاحیہ ہیں، باقی سنجیدہ۔ سات نے شادی کے لڈو کھا لئے ہیں اور ابھی تک پچھتا نہیں رہیں۔ جبکہ ایک کو اس لڈو کھانے میں دلچسپی نہیں۔ اس لئے

Read more

اس کتاب کو شاملِ نصاب کریں

کتاب تبصرہ: یہ جو چین کو علم سے نسبت ہے (تسنیم جعفری) تسنیم جعفری سے میرا اولین تعارف اک ایسی سینئر لکھاری کے طور پہ ہوا تھا۔ جو اپنے جونئیرز کی دل کھول کے حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔ وہیں اسپیس بھی دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں جو کہ سینئرز کے اندر اک خوش آیند امر ہے۔ گزشتہ ہفتے مجھے ان کی کتاب خریدنے اور باریکی سے پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ چین پہ لکھا گیا اک سفر نامہ ہے۔

Read more

کملا ہیرس: امریکہ کے صدارتی الیکشن میں پہلی سیاہ فام خاتون امیدوار، جو اپنے آپ کو محض ’امریکی‘ کہنا پسند کرتی ہیں

کملا ہیرس امریکہ کی صرف پہلی خاتون نائب صدر ہی نہیں بلکہ ان کے والدین کے جمیکا اور انڈیا سے تعلق کی وجہ سے وہ پہلی سیاہ فام شخصیت بھی ہیں جو امریکہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز رہیں۔

Read more

’بِل بِل پاکستان‘ گانے والے عون علی کھوسہ کا مبینہ اغوا: ’لوگوں کو غائب کروانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے‘

عون کی اہلیہ بینش اقبال نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنے شوہر کی گمشدگی سے متعلق ایک درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے جمعے کو سی سی پی او لاہور کو 20 اگست تک ان کی بازیابی کے لیے ہدایات جاری کی ہیں۔

Read more

خود مختار ریاست اور آ زادی

ہائے افسوس! ہم ہر وہ قربانی بھول کر یاد رکھ سکے تو بس اتنا ایک ہی لفظ، ”آزاد“ بس ہم آ زاد ہیں۔ لیکن اس آ زادی کے معنی کو اپنی مرضی کا لبادہ اوڑھا کر اس قدر ذہنی غلام بن چکے ہیں کہ ہمیں خود اس پر احساس ندامت تک نہیں ہوتا۔ آج سے پہلے جس غلامی سے نجات کے لیے تگ و دو کی گئی آج وہ غلامی شوق سے قبول کرنے کو تیار ہیں۔ بلکہ یہ کہنا

Read more

تم لڑکے ہو رونا نہیں

چلو آج بات کرتے ہیں ان پر جن پر کبھی بات نہیں ہوئی، جو اپنے لیے کبھی نہیں بولے، آج بات کرتے ہیں ان پر جو دوسروں کو خوش رکھنے کے لیے اپنی خوشی دبا دیتے ہیں۔ لڑکے ہمارے معاشرے میں لڑکے کی پیدائش پر خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پیدا ہوتے ہی اس کے گھر والے یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ ہے جو اب گھر چلائے گا اور اپنے گھر کی ذمے داریوں کو نبھائے گا۔ اسی

Read more

محبت کے رشتے

پتہ نہیں لوگ کیسے ایک ہی زبان میں سوچ لیتے ہیں۔ ہم تو دعا کرتے ہوئے بھی خدا کو اردو اور انگریزی کا ملغوبہ ہی سناتے ہیں۔ شکر ہے کہ دعا میں اسی کوئی قید نہیں اور خدا تمام زبانیں بخوبی سمجھتا ہے۔ ہم انگریزی میڈیم اسکولوں سے پڑھے لوگوں کا یہ المیہ مزید گہرا ہے کہ اپنی مادری زبان اور انگریزی دونوں ہی اپنی زبانیں لگتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم نے لکھنے کا آغاز تو انگریزی

Read more

کیا واقعی وہاں ڈریکولا موجود تھا؟

آغا گل سے میرا تعلق ان کے ناول ”بابو“ پڑھنے کی بنیاد پر بنا۔ اس کتاب کا تاثر اتنا مضبوط اور پختہ تھا کہ اس کی وجہ سے میں نے ان کی تمام تخلیقات سلسلہ وار پڑھنے کا ایک مصمم ارادہ کیا۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کا ایک افسانہ ہے جو ان کے افسانوی مجموعہ ”گوانکو“ میں موجود ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ مکتبۂ الحمراء لاہور سے 2005 ء میں شائع ہوئی۔ نند کشور وکرم نے آغا گل

Read more

وہ آیا، اُس نے ہنسایا اور وہ چلا گیا

جب بھی میں کسی اداکار کی مرنے کی خبر سنتا ہوں تو دل گرفتہ ہوجاتا ہوں، چاہے اُس اداکار سے زندگی میں کبھی ملا بھی نہ ہوں، اور اگر وہ مزاحیہ اداکار ہو تو غم اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ سردار کمال کی موت کی خبر نے بھی افسردہ کر دیا۔ حق مغفرت کرے، عجب فنکار تھا۔ میں بارہا لکھ چکا ہوں اور یہ میرا دعویٰ ہے کہ مغربی پنجاب نے جس اعلیٰ پائے کے مزاحیہ اداکار پیدا کیے ہیں

Read more

غیر ملکی پنجابی فلمیں اور پاکستان: ہر سال چار، پانچ فلموں سے شائقین کی پیاس نہیں بجھ رہی

اس برس پاکستان میں عیدالاضحیٰ پر 12 فلمیں نمائش کے لیے پیش ہوئیں لیکن ان میں سے صرف ایک فلم کے سوا تمام اپنے پیش کاروں کے لیے نقصان کا پیغام ہی لائیں اور وہ کامیاب فلم بھی پاکستانی نہیں بلکہ ایک غیرملکی پنجابی فلم تھی۔

Read more

لاہور کا گڑوی محلہ اور اس کے ’بلاک بسٹر‘ گلوکار: ’ہمیں کوئی نہیں سکھاتا، لوگ ہم سے سیکھتے ہیں‘

منھ میں پان، ہاتھ میں گڑوی اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ، یہ لاہور کے علاقے گڑوی محلے کے رہنے والوں کی پہچان ہے جہاں پہنچ کر آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کسی موسیقی بنانے والی فیکٹری میں آگئے ہوں۔

Read more

کھڑکی بھر چاند

دور جدید میں انسانی زندگی پر سوشل میڈیا کے یلغار نے دیگر معمولات کی طرح کتب بینی کو بھی شدید متاثر کیے رکھا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب بُک کی جگہ فیس بُک اور ریڈر یا رائٹر کی بجائے ٹویٹر کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں انسان کے لئے آسانیوں کا باعث ہے، وہی پر یہ انسان کے اندر سے تخلیقی صلاحیتیں کھو دینے کا بھی سبب بن رہا ہے۔ کسی زمانے

Read more

گورنمنٹ کالج میرپور کے سابق طلباء کے گروپ ”بزم یاراں“ کی برمنگھم میں تقریب

گورنمنٹ کالج میرپور آزاد کشمیر کا اولین اور معیاری تعلیمی ادارہ ہے جس میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ساری دنیا میں بستے ہیں۔ کالج کے کچھ ہم خیال سابق طلباء کا ایک گروپ واٹس ایپ پر بنا ہوا ہے۔ بزم یاراں کے نام سے واٹس ایپ گروپ کو قائم ہوئے ابھی تین سال ہی گزرے ہیں۔ اس واٹس ایپ گروپ میں سیاسی اور مذہبی منافرت مواد پر مبنی پوسٹ نہ کرنے پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: پھر تمہارا خط آیا

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل یہ عنوان ابن انشا کی محبت کے موضوع پر ایک سادہ سی نظم سے لیا ہے۔ چند سطریں ملاحظہ فرمائیے۔ ’شام حسرتوں کی شام / رات تھی جدائی کی / صبح صبح ہر کارہ / ڈاک سے ہوائی کی / نامہ وفا لایا / پھر تمہارا خط آیا‘۔ ابن انشا بے پناہ تخلیقی آدمی تھے، نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا مزاح، کسی گھر بند نہیں تھے۔ رومانوی طبیعت پائی تھی۔ شادیوں اور محبتوں

Read more

فلم ،علم اور ہم

فلم، علم اور ہم۔ ۔ تبدیلی اور ارتقاء اس گولے کا سب سے بڑا سچ ہے جو لمحہ موجود میں پوری کائنات میں ہمارے لیے دستیاب صرف ایک ٹھکانہ ہے۔ اگر ہم معلوم تاریخ کا جائزہ لیں تو قدیم یونان سے لے کر عہد حاضر تک انسان کے رہن سہن میں ناقابل یقین تبدیلیاں آئی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ رینے ساں (جہاں سے علوم کے نئے در کھلے ) کے بعد ہمارے سوچنے کے انداز ہی بدل گئے

Read more

غروب شہر کا وقت: کتاب پر تبصرہ

اسامہ صدیق کا ناول ”غروب شہر کا وقت“ پڑھنے کے دوران مجھے بار بار یہ احساس ہوتا رہا جیسے میں بلندی سے نیچے جانے والی سیڑھیاں ایک کے بعد ایک طے کرتا جا رہا ہوں۔ سیڑھیاں جو جگمگاتی ہوئی زمین پر نہیں بلکہ کسی لامتناہی اندھیرے میں اتر رہی ہوں۔ زوال کے اصل معنی شاید یہی ہوتے ہیں۔ ایک شہر جو ثقافتی اور اخلاقی اعتبار سے ڈوبنے کے بعد اقدار کی ٹوٹی پھوٹی ہڈیوں پر تعمیر ہو رہا ہے۔ لاشیں

Read more

پاپی ”عُرف قُربِ قیامت کی نشانیاں“

(یہ تحریر ڈاکٹر خالد سہیل اور مرزا یاسین بیگ کی مشترکہ کتاب ”پاپی“ کی فیملی آف دی ہارٹ کے زیرِ اہتمام ٹورانٹو، کینیڈا میں منعقدہ تقریبِ رُونمائی میں پڑھی گئی) …………………………… ! خواتینِ باوقار اور حضراتِ خوش اطوار میرا بچپن لاہور کے ایک قدیم علاقے مزنگ کی گلی نمبر چالیس میں گزرا۔ (قہقہہ) ۔ زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں میرا یقین کیجیے میں بھی کبھی بچہ رہا ہوں یہ وہی مزنگ ہے جس میں نام ور شاعر مِیرا جی

Read more

قوم کے انہدام کا فسانہ

بحیثیت پاکستانی قوم ہماری شناخت قائم ہوئے لگ بھگ ستتر سال گزر چکے ہیں مگر بد قسمتی سے ان ستتر سالوں میں سے چار عشرے ہم آمریت کی اندھیر نگری میں خوف، لاقانونیت اور مطلق العنانیت کے مہیب بادلوں کے سائے میں بے سدھ پڑے رہے اور باقی عرصہ جمہوری آدرشوں کا علم تھامے نا انصافی، ظلم اور مساواتی کتاب کا پاٹھ پڑتے ہوئے پر پیچ راستوں پر پیش قدمی کرتے رہے۔ مگر سفر ہنوز جاری است ہمارا ماضی کسی

Read more

پاکستان کا منشیات زدہ پھتو کون؟

یہ ستر کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ نام تو اس کا غالباً فتح محمد تھا لیکن محلے میں سب اسے پھتو ہی کہتے تھے۔ پھتو چائے کے ہوٹل میں کام کرتا تھا۔ زیادہ تر افیم کے نشے میں ہی غرق رہتا تھا اور اسی پینک میں گلی سے مہدی حسن یا نورجہاں کا کوئی فلمی گیت اونچی آواز میں گاتا ہوا ‏گزرتا تھا۔ ”تو جہاں کہیں بھی جائے، میرا پیار یاد رکھنا“ اس کے گلے میں خاصا

Read more

شعرا میں دائیں اور بائیں رجحانات کا خاتمہ

درست یہی ہے کہ رومان اردو شاعری کا سب سے بڑا موضوع ہے۔ اظہار محبت کے ہزار ہا قرینوں کے باوجود مزید امکانات موجود ہیں۔ عام مشاہدہ ہے کہ شعرا اس خاص اور پسندیدہ موضوع کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے ہیں لیکن موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کا تقاضا ہے کہ محبت کے دائرے کو وسعت دے کر عوامی مشکلات کو زیر بحث لایا جائے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی ناہمواری کے باوجود محبت کی شاعری کا جواز سمجھ

Read more

”چُپ رہا نہیں جاتا“ کے چُپ چاپ مصنف کی گُل افشانی پرایک نظر

اگر آپ میری طرح طنزو مزاح نگار محمد عثمان جامعی سے بخوبی واقف ہیں تو اُس کی کسی بھی کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے پوری کتاب پڑھنی ضروری نہیں۔ یہ فتویٰ خاکسار نے بہت سوچ سمجھ کر صادر فرمایا ہے، مگر براہِ کرم آپ اسے اپنے حق سند سمجھتے ہوئے، ”مُفتہ“ مت طلب کیجئے گا، کیونکہ ہر ”مُفتہ“ پا نے والا، باقاعدہ مُفتی نہیں ہوتا۔ عثمان کی طنزیہ نگارشات میں شعوری محنت کار فرما ہے جو اَپنے قارئین کو

Read more

پاکستانی میڈیا کا نیا جوکر

ویسے تو پاکستانی مزاح تخلیق کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتے مگر گزشتہ کچھ عرصے میں تو کمال ہی ہوگیا ہے ۔ ہمارے ہاں جوکروں کی ایسی نئی کھیپ تیار ہوئی ہے جسے ہم ایکسپورٹ کرکے اچھے خاصے ڈالر کما سکتے ہیں۔اِن جوکروں میں ایک جوکر ایسا بھی ہے جو پینٹ قمیض کے ساتھ واسکٹ پہن کر خود کو علامہ دوراں سمجھتا ہے اور اسکول کالجوں میں جا کر مذہب کا چُورن بیچتا ہے ۔ اِس بندے کا خیال ہے

Read more

ہلکا نیلا نقطہ اور ہم: کائنات (13)

کائنات کا شہری بننے کا خواب دو ہزار سال پہلے اسکندریہ شہر میں دیکھا گیا تھا، جس کا نام اس کے مردہ فاتح سکندر اعظم نے رکھا تھا۔ ٹولیمی، یونانی بادشاہ جنہوں نے سکندر کی سلطنت کا مصری حصہ وراثت میں حاصل کیا، اس لائبریری اور اس سے منسلک تحقیقی ادارہ بنایا۔ شاذ و نادر ہی، اگر کبھی، پہلے یا اس کے بعد ، کوئی ایسی حکومت رہی ہو جو علم کے حصول پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا اتنا

Read more

دلجیت دوسانجھ: انڈین پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں سے پنجابی گانوں پر مغربی دنیا کو نچانے تک

40 برس کے گلوکار ’پنجابی ویو‘ میں ان گلوکاروں میں سرفہرست ہیں جس میں اب فنکاروں کی ایک نئی نسل مقامی پنجابی میوزک کا ریپ میوزک اور ہپ ہاپ سے امتزاج کر رہی ہیں۔ دلجیت کے کریئر پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

Read more

فلم کالکی 2898 اے ڈی: انڈین سنیما کی ’تاریخ کی تیسری بڑی اوپننگ‘ کرنے والی فلم میں ایسا کیا خاص ہے؟

فلم ‘کالکی 2898 اے ڈی’ 27 جون کو جمعرات کے دن ریلیز ہوئی اور اس نے انڈین سینیما کی تاریخ میں اب تک کی تیسری سب سے بڑی اوپننگ دی ہے۔ یہ فلم ہندی انگریزی کے ساتھ بیک وقت کئی دیسی زبانوں میں ریلیز ہوئی ہے۔

Read more

عجیب داستاں ہے یہ۔۔۔

کافی دن ہو چکے تھے چنانچہ کل سہ پہر ملاقات کی غرض سے میں پھر اپنے دوست راجہ رجب کے ہاں پہنچ گیا۔ ڈھلتی دھوپ میں چھوٹے سے صحن میں کرسی بچھائے ایک رسالہ پڑھ رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر خوش ہوئے لیکن میں نے محسوس کیا کہ چہرے پہ بشاشت بس برائے نام تھی۔ میں نے چٹکی لی۔ نارمل نظر آنے کی اداکاری کے باوجود آپ کا موڈ کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ

Read more

غیر سیاسی باتیں: جانب پردیس

پطرس بخاری بے بدل ادیب اور مزاح نگار تھے، وہ پیدا تو پشاور میں ہوئے لیکن زندگی لاہور میں بسر کی، وہ لاہور سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ رکھتے اور عشق کرتے تھے شاید اسی لئے انہوں نے نیویارک میں قیام کے دوران صوفی تبسم کے نام ایک خط میں یہ سوال کیا کہ کیا لاہور اب بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے؟ یہ ان کی لاہور سے دیوانہ وار عاشقی کا والہانہ اظہار تھا دوسرے الفاظ

Read more

انڈر دا نیٹ

آئرس مرڈوک کا ناول”انڈر دا نیٹ” ہمیں جنگ کے بعد کی لندن کی زندگی میں لے جاتا ہے۔ ناول کا ایک کردار جیک ڈوناگھ ایک جدوجہد کرنے والا مصنف ہے جو مصیبت میں مبتلا ہے۔ مالی طور پر دوسروں پر منحصر جیک اپنے دنوں میں ٹھوکریں کھاتا ہے۔ وہ ایک خود ساختہ "ناکام فنکار” ہے جس کو کسی ڈائریکشن کی طرف بڑھنے میں دشواری ہے۔ وہ پرانے دوستوں سے دوبارہ رابطہ کرتا ہے جن میں اس کی سابق گرل فرینڈ

Read more

ملازمت کا یوم اول

صبح دس بجے کے قریب بس نے گورنمنٹ ہوئی سکول روجھان کے گیٹ کے سامنے اتار دیا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا حقے کے دھوئیں کے مرغولوں میں پرچہ کہیں ہے کہ نہیں ہے کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہاں کا حقہ بھی عجیب سی ساخت کا ہوتا ہے۔ چلم کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ فٹ کی ایک نڑی عموداً لگائی جاتی ہے۔ اس کی چلم میں تمباکو کو بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔

Read more

میل پتھروں کے درمیان

محبی نیر مصطفیٰ کا واٹس ایپ پر صوتی پیغام ملا کہ آتی جمعرات کو ملتان آرٹس کونسل میں اس کے اعزاز میں ایک تقریب ہے آپ ضرور آئیے گا۔ ملتان آرٹس کونسل کا نام سنتے ہی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر محمد علی واسطی اور وہ سینہ زور رقاصائیں یاد آ گئیں جن کے دم سے آرٹس کونسل آباد تھی۔ بچارے نثر نگار تو اردو اکادمی یا ملتان آرٹس فورم تک ہی پر مار سکتے تھے۔ پھر اچانک ذہن میں آیا کہ ادھر

Read more

مشتاق احمد یوسفی کی چھٹی برسی

مشتاق احمد یوسفی کے متعلق لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے، کیوں کہ انہوں نے اپنی شخصیت، اپنی پیشہ ورانہ اور ادبی زندگی کے متعلق خود ہی اپنی پہلی کتاب چراغ تلے میں اتنا کچھ بتا دیا ہے کہ اس میں کسی کو اضافہ کی ضرورت نہیں ہے۔ مشتاق احمد یوسفی اپنی تحاریر کے برعکس نہایت ہی سنجیدہ و متین اور ایک نستعلیق شخصیت تھے۔ ان کو دیکھ کر لگتا نہیں تھا کہ ایسا انسان مزاح نگار بھی ہو سکتا

Read more

حیات روغانی کے پشتو ناول ’نیم زاد‘کا اردو ترجمہ

نیم زاد پشتو ناول نینزک کا اردو ترجمہ ہے جو پشتو میں حیات روغانی کا لکھا ہوا ہے اور اردو میں پروفیسر گوہر نوید نے ترجمہ کیا ہے۔ پروفیسر گوہر نوید نے اس ناول کو بہت احسن طریقے سے ترجمہ کیا ہے۔ اور پشتو کے بنیادی ناول کی بنیادی تھیم کو بھر پور طریقے سے اردو کے سانچے میں ڈال دیا ہے۔ یہ ناول بنیادی طور پر نیم زاد یعنی ہیجڑوں کی زندگی پر لکھا گیا ہے۔ ایک نیم زاد

Read more

جون ایلیا کے شعری عجائبات

عجیب شاعر ہے ایک سرا پکڑتا ہوں تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ شاعری اور شخصیت میں یکساں عجائبات حیرت و انبساط کا سبب بنتے ہیں۔ علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود طبیعت و مزاج میں حد درجہ لا ابالی پن عجیب دکھائی دیتا ہے۔ شاعری سے لگاؤ گھریلو ماحول کا نتیجہ تھا۔ پہلا شعر آٹھ سال کی عمر میں کہا، ملاحظہ کیجیے۔ چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی

Read more

ستاروں سے پیچھے جہاں اور ہیں

ابنِ انشا نے سجنی سے بہانہ تو یہ کیا تھا کہ چین سے ایک مشہور ادیب آیا ہے، ذات کا مزاح نگار ہے، میرے سفرنامے کے جواب میں پاکستان کا سفرنامہ لکھنا چاہتا ہے، شام کو سفارت خانے نے اس کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا ہے جہاں اس چینی ادیب سے میری ملاقات ہو گی اور میں اسے انشا پردازی کے کچھ گُر سکھاؤں گا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ انشا جی، ایک سبزہ زار میں دوستوں

Read more

شاعرِ مغرب کے شہر میں: لندن تا برمنگھم (6)

”کون تھا ولیم شیکسپئر؟“ ہم دماغ کا دروازہ کھٹکھٹا کر ذہن سے سوال پوچھتے ہیں۔ پی ون کمپیوٹر کی طرح وہ ہلکی سی بونگی مار کر گُم ہو جاتا ہے، کچھ دیر بعد حاضر ہو کر بتاتا ہے، ”گوروں کا کوئی شاعر تھا، دسویں کلاس کے انگریزی کورس میں اُس کی روایتی نظم شامل تھی جس کی تشریح تم نے نری نقل کر کے لکھی اور امتحان میں سرخرو ہوئے۔“ اپنے کُند ذہن کو بات کرنے کا قرینہ ہے نہ

Read more

کچھ باتیں ڈاکٹر وزیر آغا  کی (1)

1988 میں، مَیں گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ کورس کی کتابوں کی جلد بندی کروائی تو جلد کے اندر کی جانب جو اخباری کاغذ لگائے گئے تھے ان میں سے ایک کاغذ پر ایک پرکشش اور بارعب تصویر چَھپی ہوئی تھی جس کے نیچے یہ کیپشن درج تھا، "وزیر آغا، ایک ہمہ جہت ادیب”۔ جانے کیوں وہ تصویر میرے دل پر نقش ہو گئی۔ کوئی دو برس بعد اتفاقاً اردو بازار گوجرانوالہ سے مشفق خواجہ کے رسالے "تخلیقی ادب”

Read more

حیرت اور دریافت کا کھیل (وجیہہ وارثی کا شعری مجموعہ )

کسی بھی کھیل کا کھلاڑی جب بھی کھیل کھیلتا ہے تو وہ اس کھیل کے تمام تر داؤ پیچ یا تیکنیک نہ صرف جانتا ہے بلکہ بروئے کار بھی لاتا ہے اسی طرح جب کوئی اداکار، صداکار یا گلوکار جب اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے تو وہ اپنی چھپی ہوئی تمام صلاحیتوں کو آزماتا ہے۔ اور جب ایک تخلیق کار اداکار اور صداکار کے ساتھ ساتھ شاعر بھی ہو تو وہ پھر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لمحات

Read more

یہ تقریب نہیں ہو سکتی

عجب ہفتہ تھا۔ نومبر 23 تا 29 سنہ 1983۔ شہر تھا دہلی۔ چار بہت نامور خواتین میں ایک طرح کی سمجھو جنگ ہو گئی۔ اب خواتین میں ایسی جنگ پنجاب کی مصلی عورتوں یا ممبئی کی دھراوی جیسے سلم (Slum) جو ہمارے اورنگی ٹاون سے چھوٹا اور میکسکو سٹی کے چائوداد سے بڑا ہے۔ وہ والی بیلنے چمٹے پیتل کی پرات بجانے والی ساڑھی بلائوز سے لاتعلق جنگ تو ہوتی نہیں۔ اس جنگ نے بہرحال افسروں کے چھکے چھڑا دیے۔

Read more

رسول بخش پلیجو: نشانِ جہدِ مسلسل – چھٹی برسی کے موقع پر خراجِ تحسین

نیلسن منڈیلا نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ”سیاستدان اگلے الیکشن کے بارے میں سوچتا ہے اور رہنما آئندہ نسلوں کے بارے فکر کرتا ہے“ ۔ رسول بخش پلیجو صاحب اس صدی کے ایک ایسی ہی عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان میں ایک پوری نسل کی بھرپور سیاسی تربیت کرنے میں گزار دی۔ ان کی حیات مسلسل پرامن جمہوری جدوجہد کرنے، سماج میں پسے ہوئے طبقوں خاص کر خواتین اور اقلیتی فرقوں کو قومی دھارے میں

Read more

ایک فکشن پارے کی کتھا اور دوسری کہانیاں

مورخہ پچیس مئی کو میریٹ ہوٹل کراچی میں گیارہویں یو۔ بی۔ ایل آرٹس اینڈ لٹریری ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں میرا ایک فکشن پارہ ’رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں‘ آن لائن ادب کی کیٹیگری میں پہلے انعام کا حق دار قرار پایا۔ اب سے کوئی تین برس قبل جب ”ڈھشما“ کو نیشنل لائبریری آف پاکستان سے ایوارڈ ملا تھا تو ایک عجیب سی سرشاری اور طمانیت کا احساس ہوا تھا، لیکن ساتھ ہی

Read more

بوسیدہ دیوار کو دھکا کون دے؟

حس ظرافت رکھنے والا کوئی شخص ہماری سیاست پر ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عام طور پر ہماری سیاست ٹریجڈی سے بھری ہے۔ اس میں مزاح کا پہلو بہت ہی کم ہوتا ہے۔ مگر اگر آپ حس ظرافت رکھتے ہیں تو آپ اس المناک سیاست میں بھی مزاح کا پہلو ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ہماری سیاست کا سٹیج بہت وسیع ہے۔ اس پر ہر وقت ہر طرح کے ڈرامے چلتے رہتے ہیں۔ ان ڈراموں سے کئی قسم کے کردار جڑے

Read more

’کراچی کی شرفا کمیٹی کا آخری شریف‘

طلعت صاحب دوسرے دوستوں سے بھی ذکر کرتے تھے کہ وہ ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ ہمارے ایک مصنف دوست اکثر نصیحت کرتے ہیں کہ کتاب لکھو، اس سے پہلے کہ تم پر کتاب لکھی جائے۔ طلعت صاحب شرفا کی اس نسل کے آخری نمائندے تھے، جو سوچتے تھے کہ پہلے کچھ پڑھ تو لیں پھر لکھیں گے۔

Read more

صلیبیں اپنی اپنی (8)

”میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اگر آپس میں محبت رکھو گے تو سب جانیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ یُوحناّ 13 : 34۔ 35 میں جیسے ہی انکل شاہد کی گلی میں مڑا، ان کے گھر سے شور کی آواز سنائی دی۔ جوں جوں میں نزدیک پہنچا، شور بڑھتا گیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ بہت سے

Read more

طلعت حسین: پاکستانی ٹیلی ویژن کے ’دلیپ کمار‘ جن کی ڈائیلاگ کے بعد خاموشی بہت کچھ کہہ جاتی

ڈراموں، فلموں، ریڈیو اور تھیٹر کے معروف ایوارڈ یافتہ سینئر اداکار طلعت حسین کراچی میں وفات پا گئے ہیں۔
ان کی وفات پر بی بی سی نے ان کے پرانے دوستوں اور رفقا سے ان کی زندگی، طبیعت اور اداکاری کے متعلق بات کی ہے۔

Read more

کیا سیاست ہمارے رویّے میں شدت پیدا کرتی ہے؟

اگر آپ برا نہ مانیں تو آج ایک ذاتی سا احساس شیئر کرنا چاہتا ہوں آپ کے ساتھ۔ بات یہ ہے کہ پاکستان میں مقیم اپنے بعض پرانے دوستوں سے جب کبھی فاصلاتی رابطہ ہو تو میں ان کی اور اپنے دوستوں کی خیریت جاننے کا متمنی ہوتا ہوں۔ پوچھتا ہوں: ”یار، فلاں دوست کیسا ہے؟ کافی روز سے بات نہیں ہوئی۔“ دوسری جانب سے ناگواری سے جواب ملتا ہے: ”ارے، کس بے ایمان کی بات کر رہے ہو۔ کراہت

Read more

ناول ”دی ہابٹ“ صرف بچوں کا ادب نہیں

’دی ہابٹ‘ جے آر آر ٹولکین (3 جنوری 1892۔ 2 ستمبر 1973) کا تحریر کردہ مہم جوئی پر مبنی ایک تخیلاتی ناول ہے۔ بنیادی طور پر دی ہابٹ نوجوانوں کے لیے لکھا گیا فکشن تھا جسے پہلی بار 1937 میں شائع کیا گیا۔ ٹولکین کے شہرہ آفاق ناول ’دی لارڈ آف رنگ‘ کی دیواریں بھی اسی ناول کی بنیادوں پر ہی قائم ہیں۔ ناول کا ترجمہ دنیا کی تقریباً تمام بڑی زُبانوں میں کیا جا چکا ہے۔ اس کے اُردو

Read more

ہم تحریروں میں ملیں گے (میقات ہشتم 24)

جی سی یونیورسٹی لاہور کا پی جی گیٹ جو کہ ڈی سی آفس کے روبرو اور میٹرو سٹیشن کے پہلو میں ہے، اس گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی ایک ڈبہ نما ہال کمرے سے شور و غل کا ایک طوفان ہماری سماعتوں کے استقبالیے کو ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ یہ ہال نما کمرہ جو کہ اہل جی سی یو کی بھوک پیاس مٹانے میں ہر وقت مصروف عمل رہتا ہے اس سے اشتہا انگیز خوشبوؤں کی مہک کم

Read more

زندگی کا مزا تو کھانے میں ہے

ایسا لگتا ہے کہ یہ جملہ پاکستان کی مختصر ترین تاریخ بیان کرتا ہے۔ یہ ہر صاحب حیثیت اور صاحب اقتدار کا مستقل بیانیہ بھی ہے۔ میری بات بات پہ یقین نہ آئے تو بڑے بڑے گدی نشینوں سے پوچھ لیں یا پھر ہر پانچ کلومیٹر کے فاصلے پہ بنے دربار کے متولی سے پوچھ لیں، دینی یا عصری ادارے کے مہتمم حضرات سے پوچھ لیں، سرکاری با اختیار افسران و اہل کاران سے پوچھ لیں، پرائیویٹ سکولوں کے مالکان

Read more

کتاب ”جس کی تھی بات بات میں ایک بات“ پر تبصرہ

محمود الحسن صاحب کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی عمر سے ذرا کچھ تاخیر سے پیدا ہوئے۔ ان پر بھری جوانی میں بھی بزرگی طاری رہی، انتظار حسین صاحب، شمیم حنفی صاحب، زاہد ڈار صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب، محمد سلیم الرحمٰن صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور آصف فرخی صاحب جیسے معتبر نابغوں اور بزرگانِ علم و ادب کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے بیٹھنے والے، ان کی گفتگو کو سعادت

Read more

طنز و مزاح کی صنف پر ایک نظر

مزاح کے لفظی معنی ہنسی مذاق، جب کہ طنز کے معنی طعنہ یا چھیڑ کے ہیں۔ ایسی تحاریر جو آپ کو ہنسنے پر مجبور کر دیں اور اس تحریر میں تنقید کو مزاح کا جامہ پہنا دیا جائے لیکن اس کے باوجود بھی قاری ہنسنے پر مجبور ہو جائے طنز و مزاح کہلاتی ہیں۔ طنز و مزاح ایک مقبول صنف لطیفہ ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ زیادہ تر طنز و مزاح کو اردو ادب میں ایک جیسے معنوں میں لیا

Read more

مسخروں کی دنیا

میرا ذاتی مشاہدہ رہا ہے کہ بڑے بڑے سیاسی رہنماء، علماء کرام اور دوسرے مبلغین عوامی اجتماعات میں تقریر کرتے تو اس میں مزاح کا عنصر اگر زیادہ نہیں تو تھوڑا بہت تو ضرور ہی ہوتا۔ اسی طرح ہر فلم، ڈرامہ الغرض زیادہ تر تحریر و تقریر وغیرہ میں مزاحیہ کردار اور مزاح کے عنصر کی موجودگی اس کو چار چاند لگاتی۔ جبکہ حجروں اور نجی محفلوں میں مزاح، مذاق اور مزاح نگاروں اور ذرا کھلے لفظوں میں مسخروں کی

Read more

کنفیوژن کا دور

مشتاق احمد یوسفی کی شہرہ آفاق تحریروں پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ظہیر فتح پوری کا کہنا ہے کہ ”ہم اردو مزاح کے ’عہد یوسفی‘ میں جی رہے ہیں۔“ مجھ جیسا نرگسیت کا شکار ناچیز جب ملک کی تاریخ اور موجودہ حالات کو دیکھتا ہے تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم ’عہد کنفیوژن‘ میں جی رہے ہیں۔ اردو گرائمر کے حوالے سے یہ اصطلاح یقیناً قابل گرفت ہے لیکن ناچیز اس پر کچھ رعایت کا طلبگار ہے۔ ہماری کنفیوژن

Read more

اشعر نجمی کا ناول ’جوکر‘: کردار نگاری کی بہترین مثال

اشعر نجمی (سید امجد حُسین) معروف بھارتی شاعر و فکشن نگار  ہیں جو ساماہی مجلہ اثبات کے مدیر بھی ہیں۔ اُن کا تعلق جمشید پور سے ہے مگر اب انہوں نےممبئی میں ہی سکونت اختیار کر رکھی ہے۔اشعر نجمی کے اب تک تین ناول منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ اُن کا پہلا ناول ‘اس نے کہا تھا’ جس کا موضوع ہم جنس پرستی پر مبنی ہے 2021 میں شائع ہوا۔،اس کے بعد 2022 میں ان کا ناول ‘صفر کی توہین’

Read more

دلِ بے تاب: ڈاکٹر شیر شاہ سید کی نئی کتاب

اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ شیر شاہ کون؟ تو میں کہوں گی کہ سماج میں بکھرے رنج و الم کو سمیٹنے کا دوسرا نام شیر شاہ سید ہے۔ سالہا سال سے ڈاکٹر شیر شاہ نام و نمود کی طمع سے دور، انسانیت کا بھاشن دیے بغیر مصروف پیکار ہیں ؛کبھی غریب عورتوں کے فیسٹولا کے لیے مفت سرجری کیمپ لگاتے ہوئے تو کبھی سماج میں بکھری، دلوں کو چیرتی کہانیوں کو قلمبند کرتے ہوئے، تو کبھی ہفتہ وار ریڈیو

Read more

دیہات میں محفلِ میلاد کا آنکھوں دیکھا حال

ہمارے گاؤں میں بچپن سے اب تک وقتاً فوقتاً مختلف گھروں میں محفل میلاد منعقد ہوتی رہتی ہے، جس میں ہر گھر کی خاتون کی ہر حال میں شرکت ناگزیر ہے۔ بھلے آپ ایامِ ماہواری میں ہوں یا عدت میں اس پاک محفل سے غیر حاضری کا کوئی عذر قابلِ قبول نہیں۔ عدم شرکت آپ کی دین سے دوری اور بے راہ روی کی سند خیال کی جاتی ہے۔ جس گھر میں یہ محفل منعقد ہوتی ہے اس گھر کی

Read more

رومانس سے بھرپور کامیڈی ڈراموں کا رواج پاکستان میں کہاں سے آیا؟

پاکستانی ڈرامے عموماً ساس بہو کے جھگڑوں اور گھریلو مسائل کے گرد گھومتے ہیں اور زیادہ تر ڈراموں میں مرد کو ظالم اور عورت کو مظلوم دکھایا جاتا ہے۔ البتہ گذشتہ کچھ سالوں میں مختلف موضوعات پر ڈرامے بنائے گئے اور ساتھ ہی ایک نیا ٹرینڈ بھی نظرآیا جس نے سب کی توجہ حاصل کر رکھی ہے۔

Read more

سٹیون ہاکنگ کی حیات اور نظریات

سٹیون ہاکنگ اکیسویں صدی کے معزز اور محترم سائنسدانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی سائنسی پیشین گوئی کہ بلیک ہول ایک خاص طرح کی ریڈئیشن خارج کرتا ہے اب درست ثابت ہو گئی ہے اور ہاکنگ ریڈئیشن کہلاتی ہے۔ ہاکنگ ایک طویل عرصے تک کیمبرج کی معتبر یونیورسٹی کے شعبۂ تحقیق کی ڈائرکٹر رہے۔ وہ اپنی جسمانی معذوری اور ویل چیر کی پابندی کے باوجود سماجی، سیاسی اور پیشہ ورانہ طور پر فعال زندگی گزارتے تھے۔ یوں لگتا ہے

Read more

پاکستان کی تاریخی سفارتی جست

صحافت کے دور ’زوال‘ میں آنکھیں کھول کر کالم نگاری کی شد بد حاصل کرنے والے ایک یار عزیز نے پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن برادر محترم وجاہت مسعود نے مولانا مودودی علیہ رحمہ کی پیروی میں خاموشی کا مشورہ دیا ہے کہ مولانا کی زبان یا قلم سے کبھی کوئی سوقیانہ بات نہیں نکلی۔ کبھی انھوں نے کسی مخالف کو شیطان قرار دیا نہ طوائف جیسے لفظ سے اپنے قلم کو آلودہ کیا۔ یہ طرز تکلم

Read more

تفریح کے شرعی طریقے کون سے ہیں؟ (مکمل کالم)

گزشتہ روز ایک دوست سے گپ شپ ہوئی، دوران گفتگو اس نے ایک بڑا دلچسپ جملہ بولا، اس نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں خوشی منانا قابل دست اندازی جرم ہے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے تو کہنے لگا کہ ہمارے ملک میں نیو ائر نائٹ پر پولیس رات گیارہ بجے ریستوران اور کیفے بند کروا دیتی ہے۔ مجھے اس بات میں کچھ غلو کا شائبہ ہوا تو اس نے وضاحت کی کہ دو سال پہلے لاہور کے

Read more

امر سنگھ چمکیلا: پنجاب کے ’باغی راک سٹار‘ جن کا صرف 27 سال کی عمر میں قتل آج تک ایک معمہ ہے

امر سنگھ چمکیلا کی زندگی کسی فلمی کہانی سے کم نہ تھی؛ کم عمری میں ہی شہرت کی بلندیوں کو چھو لینے والا ایک گلوکار جس کا سفر ایک تکلیف دہ موت پر ختم ہوا۔

Read more

شکست تخت پہلوی (1)

محمد رضا شاہ پہلوی کا دن صبح سات بجے نیواران محل کی خواب گاہ کے دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ شروع ہو جاتا۔ محل کے کمپاونڈ میں شاہ کی رہائش بھی تھی اور دفتر بھی۔ "صبح بخیر اعلی حضرت” امیرپور شجاع نے کہا۔ جب تک شاہ حمام سے آتے، ان کا ناشتہ تیار ہوتا۔ ٹوسٹ پر ہلکا سا مکھن اور شہد، پانچ یا چھ دانے خاص قسم کے سوکھے آلو بخارے کے اور مالٹوں کا جوس۔ شاہ سادہ

Read more

پھول یا سینیٹری پیڈ؟ چینی ٹرین سٹیشن کا انوکھا ڈیزائن جس نے بحث چھیڑ رکھی ہے

حکام کا کہنا ہے کہ شمالی نیجنگ سٹیشن کا ڈیزائن بیر کے درخت پر لگے پھولوں کی شکل سے متاثر ہو کر بنایا گیا ہے جو شہر کی مقبولیت کا راز ہے تاہم آن لائن صارفین کو اس ڈیزائن کی مشابہت ایک سینیٹری پیڈ سے زیادہ دکھائی دے رہی ہے۔

Read more

گندم کی بمپر کراپ اور آٹے کا بحران

گزشتہ ہفتے کے آخری کالم میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ عمر کے آخری حصے میں جی مچل رہا ہے کہ اپنی مادری زبان کے بجائے اردو یا انگریزی میں لکھنے کی مشقت سے نجات پائی جائے۔ پنجابی میں کالم نہ سہی کسی اور صنف میں بھی تخلیقی اظہار کے لیے اس زبان کے کلاسیکی ادب سے رجوع ضروری ہے۔ اس ضمن میں وارث شاہ کی ہیر کا بغور مطالعہ بھی درکار ہے۔گھر پہ رکھا ہیر کا مستند

Read more

راجو بن گیا فلپس : کیف الحال سے تیسرا نمک پارہ

ابتدائیہ : یہ لگ بھگ پچیس سال پرانی تحریر ہے جو اس وقت لکھی گئی جب لکھاری حکومت پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کے ایک نیم فوجی ادارے دفاع المدنی (شہری دفاع) کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ تحریر کیے گئے ہر مضمون کا ایک خاص موضوع تھا۔ جس میں مزاح کے ساتھ معلومات تحریر کی گئی تھیں۔ راجو بن گیا فلپس کا بنیادی مقصد سعودی عرب میں رہنے والے غیر مسلم لوگوں کے مسائل اور ان سے تعلق

Read more

عورت کو مکھی سے تشبیہ دینے پر تنقید: ’عدنان صدیقی کو تمغہ امتیاز کے سائیڈ ایفیکٹس شروع ہو گئے ہیں‘

خواتین کے بارے میں ایسی رائے کا اظہار کرنے پر سوشل میڈیا پر عدنان صدیقی پر شدید تنقید ہوئی، جس کے بعد عدنان صدیقی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پیغام لکھا۔

Read more

اپنی غلطیوں کا اعتراف مگر کیوں؟

کہتے ہیں کہ انسان بھی کتابوں کی طرح ہوتے ہیں اچھے، برے، اعلیٰ، ادنیٰ بڑھیا اور گھٹیا مگر یہ کتابوں سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اکثر مضامین وہ نہیں ہوتے جو یہ اپنے بارے میں بتاتے، بیان کرتے یا پھر لکھتے ہیں کبھی بوسیدہ سی حالت میں دلکش و سنہری عبارات لیے تو کبھی خوبصورت سرورق میں بدصورت متن چھپائے ہوتے ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ انسان سے زیادہ دلچسپ کتاب کوئی نہیں ہوتی جو

Read more

ایک شام، انور مقصود کے ساتھ

میں زندگی میں ترتیب اور پلاننگ کا قائل ہوں، لیکن وقت اور حالات نے سکھایا ہے کہ کبھی کبھی اچانک اور بے ترتیب منصوبے ہمیں زندگی کی ان راہوں اور رازوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جو ہماری زندگی کے خوبصورت لمحوں میں شمار ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ 25 فروری کو پیش آیا۔ جب کینیڈا سے آئے معروف ماہر نفسیات اور مصنف ڈاکٹر خالد سہیل کراچی میں ہمارے پاس تشریف لائے۔ آرٹس کونسل میں ان کے اعزاز

Read more

احساس کے انداز ہاتھی یا امرود

لال بجھکڑ قصے کہانیوں کی ہماری تاریخ کا ایک مقبول ترین کردار رہا ہے لال بجھکڑ کے قصے کہانیاں اور واقعات بڑوں اور بچوں میں ہمیشہ دلچسپی سے سنے اور پڑھے جاتے ہیں ویسے تو لال بجھکڑ ایک فرضی کردار ہے جو بے وقوفوں کی ہر بات کا خلاف عقل جواب دے کر اپنے آپ کے عاقل، یگانہ اور فرزانہ کہا کرتا تھا اور بھولے بھالے سیدھے سادے لوگ ہر ایک مشکل بات کو اسی سے پوچھنے جاتے تھے لیکن

Read more

نور الہدیٰ شاہ کا ٹیلی تھیٹر ”ذرا سی عورت“

ازدواجی زندگی کو خداوند عالم نے عورت اور مرد دونوں کے لیے باعث سکون قرار دیا ہے جہاں مرد کو عورت کے روپ میں اور عورت کو مرد کے روپ میں ہمسفر، بہترین دوست، ہمدرد، دکھ سکھ کا ساتھی ملتا ہے۔ مگر جب معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسے مرد بھی نظر آتے ہیں جو انتہائی خشک مزاج ہوتے ہیں بیوی سے اظہار محبت تو دور بیوی تک کو فراموش کرنے لگتے ہیں ان کے لیے عورت یعنی

Read more

اور ہم نے کتاب چھپوائی

ایک تصویر انٹرنیٹ پر ایک محترمہ نے پبلک پوسٹ کے طور پر لگائی، یہ حال میں ہوئی کسی آرٹ کی نمائش کی تصویر ہے۔ کسی طرح اتفاقاً یہ تصویر مسافر کے سامنے آ گئی۔ مسافر نے اس مکان کو دیکھا تو زمان کے ایک اور دور میں پہنچ گیا جہاں مسافر اس مکان میں پایا جاتا تھا۔ یہ جگہ آرٹ کے لیے شروع سے مختص رہی ہے۔ یہ لاہور میں ایر فورس کا ایر ڈیفنس سکول تھا جو کہ اب

Read more

رفاقت حيات کا ناول رولاک

اگر کسی کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھ لیا جائے تو یہ نہ صرف قاری کے لئے ایک اطمینان بخش لمحہ ہوتا ہے بلکہ کتاب اور مصنف کی کامیابی کی بھی دلیل سمجھی جاتی ہے اور اس لحاظ سے رولاک اور رفاقت حیات کامیابی کے مبارک باد کے مستحق ٹھہرتے ہیں کیونکہ میں یہ ناول آغاز سے لے کر انجام تک پڑھ چکا ہوں، گو کہ ضخامت کے لحاظ سے یہ چھ سو انہتر صفحات اور چھیالیس اقساط پر

Read more

گانے اور طنز و مزاح میں ماہر پنجاب کی میراثی برادری جنھیں دیکھ کر انگریز بھی حیران رہ گئے

پنجاب کی عام بول چال میں میراثی کا لفظ دریا، مٹی اور زراعت کی طرح عام ہے۔ نئی زندگی کی آمد کی خوشی ہو یا کسی کے مرنے پر سوگ، یہ مواقع میراثی کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے تھے۔

Read more

محبت کی بارش اور دوستی کی قوس قزح

پاکستان میں ایک ماہ کے قیام کے دوران میں اپنے ادبی دوستوں کی محبت کی بارش میں اندر تک بھیگ گیا۔ اس دفعہ وہ بارش موسلا دھار بھی تھی اور بارش کے بعد دوستی کی قوس قزح کے سات رنگ بھی چاروں طرف بکھر گئے تھے۔ دوستی کی قوس قزح کا پہلا رنگ اس وقت دکھائی دیا جب معروف افسانہ نگار فرحت پروین نے اپنے ہاں مجھے اور میری پیاری بہن عنبرین کوثر کو ایک شام پر تکلف چائے پر

Read more

ایک اور نیوز چینل بند ہوا: آگے کیا ہو گا؟

میڈیا انڈسٹری سے وابستہ دوستوں کے لئے یہ خبر افسردہ اور مایوس کردینے والی تھی کہ حال ہی میں سیالکوٹ کے کچھ سرمایہ داروں کی جانب سے مارکیٹ میں لانچ کیا جانے والا چینل ٹیلن نیوز اچانک بند کر دیا گیا، آپ نیوز کے بعد یہ دوسرا چینل ہے جسے مالکان نے اچانک بند کر دیا، 2018 میں آپ نیوز کی بندش سے سیکڑوں میڈیا کارکن بیروزگار ہوئے، سیکڑوں گھروں کے چولہے بجھ گئے۔ بڑے اینکرز تو پھر کسی دوسرے

Read more

کچھ زیادہ ہی ہو گیا!

وہ زمانے گئے جب لوگ ایک دوسرے کو میراثیوں، پٹھانوں، سکھوں اور عورتوں کے لطیفے بلا روک ٹوک سناتے تھے۔ اب ایسی آزادی نہیں رہی۔ اب تو لفظ میراثی بولنے سے پہلے بھی دس مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں دوسرا بندہ آپ کو دقیانوسی نہ سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح محفل میں سکھوں یا پشتونوں کے لطیفے سنانے سے پہلے بھی نظر دوڑانی پڑتی ہے کہ کہیں کوئی ایسا شخص تو نہیں بیٹھا جو بعد میں نسل پرستی کا دعویٰ

Read more

سال 2023 کا پوٹھوہاری کتابی سرمایہ

2023 پوٹھوہاری زبان و ادب کے لیے اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ اس سال ریکارڈ تعداد میں پوٹھوہاری کی کتب شائع ہو کر منظر عام پر آئیں، یہ 23 کتب پوٹھوہاری زبان و ادب کی بیشتر اصناف کا احاطہ کیے ہوئے ہیں، اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ درجنوں کی تعداد میں پوٹھوہاری کتب اب بھی اشاعت کی منتظر ہیں لیکن مصنفین اور مرتبین کی مالی مشکلات اور سر کاری اداروں کی عدم توجہی کے

Read more

فارسی پنجاب کے کھیتوں میں دوڑائی گئی

قابل اجمیری اگست 1931 میں راجستھان کے قصبہ اجمیر میں پیدا ہوئے۔ بچپن درگاہ خواجہ معین الدین چشتی کے نواح میں گزرا۔ گوش سماعت کی تربیت کا سامان موجود تھا۔ فہم سخن کے مقامات طے کر رہے تھے کہ ملک تقسیم ہو گیا۔ قابل اجمیری لکیر کے اس طرف حیدر آباد میں آن آباد ہوئے۔۔ شعر کے ہنر کو سینچنے کی جستجو میں اکتوبر1962 میں وجود کی سرحد پار کر گئے۔ چھوٹی بحر میں بہت اچھا شعر نکالتے تھے۔ قابل

Read more

چھوڑ دیا سگریٹ (عربی ادب سے ماخوذ)

مصنف: ابو المعاطیٰ ابو النجا مترجمہ رمثہ شاہد ہاشم نے سگریٹ کا ڈبہ نکالا اور بہت اہتمام کے ساتھ کھول کر اپنے ساتھی فتحی کو پیش کیا۔ اس کا ساتھی دوسرے کیبن میں بیٹھتا تھا اور ہاشم اکثر اس کے کے ساتھ گپ شپ کے بہانے سگریٹ کا لطف اٹھاتا تھا۔ اب بھی اس نے حسب عادت سگریٹ کا ڈبہ فتحی کی طرف بڑھایا تھا لیکن فتحی نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس کے چہرے پر واضح تذبذب دکھائی دے رہا

Read more

تقریظ نگاری – اپنی کتاب کی بے جا تعریف کروانا

تقریظ نگاری وہ فن ہے جس کے ذریعے کسی کتاب کا مصنف اپنی کتاب کی (بے جا ) تعریف و توصیف کسی نامور ادیب سے، اپنی دوستی، رشتہ داری، تعلق، واسطہ (یا پھر خدا کا واسطہ) دے کر، کرواتا ہے۔ اس تعریف و توصیف سے کتاب کی صحت پر کوئی اثر پڑے یا نہ پڑے لیکن اس کی فروخت میں اضافہ ضرور ہوجاتا ہے۔ تقریظ کی تعریف اردو لغت میں اس طرح کی گئی ہے : ”مصنف کے علاوہ کسی

Read more

نیکولا ٹیسلا

1856 ء میں پیدا ہونے والے امریکی سائنسدان اور موجد، نکولا ٹیسلا اپنی فطانت کے علاوہ منفرد مزاج، رویے اور ٹھامس ایڈیسن کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ذیل میں ان کے بارے میں چند دلچسپ و عجیب حقائق بیان کیے جا رہے ہیں۔ 1: وہ دوران طوفان پیدا ہوئے تھے۔ 9 اور 10 جولائی 1856 ء کی درمیانہ رات کو جب ٹیسلا پیدا ہوئے تو اس وقت آسمانی بجلی کا ایک بدترین طوفان جاری

Read more

ہمارا جغرافیہ ( مزاح)

حدود اربعہ : دیس کے مشرق میں اقتدار کا سمندر ہے اور مغرب میں روڑے اٹکانے والے پہاڑ اور نفرتوں کے منجمد گلیشئر ہیں۔ شمال میں بڑے بڑے ہمالے اور چھوٹے چھوٹے اڈیالے ہیں۔ جنوب میں مایوسیوں، دکھوں، انتقاموں کے جھلستے ریگستان پھیلے ہوئے ہیں۔ وعدوں کے سبز باغات کے ساتھ مایوسیوں کے کالے باغ بھی قابل ذکر ہیں۔ شمال مغربی کونے میں قرضوں کے کوہ گراں اور ترقی کی چٹیل ڈھلانیں ہیں۔ کہیں کہیں ڈیل اور ڈھیل کے صحت

Read more

آگ لگے ان کتابوں کو

پچھلے مہینے کالم نگار یاسر پیرزادہ کی یہ کتاب نظر سے گزری تو مجھے اس کا ٹائٹل کچھ عجیب لگا۔ یاسر پیرزادہ جیسے پڑھنے والے اور لکھنے والے انسان کی کتابوں کو لے کر یہ رائے عجیب لگی کہ سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگا دینی چاہیے۔ اب اپنی لائبریری میں موجود سیلف ہیلپ کتابوں کو آگ لگانے کا ارادہ تو نہیں تھا لیکن پھر بھی یاسر پیرزادہ کی اس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ کیا۔ آخر کیا وجہ ہے

Read more

لوئیجی پیراندیلو کا افسانہ: مرتبان

افسانہ: لوئیجی پیراندیلو۔ مترجم: جاوید بسام۔ زیتون کی فصل کے لیے وہ سال اچھا رہا تھا۔ فارم کے سب درخت پکے پھلوں سے لد گئے۔ حالاں کہ پچھلے سال دھند نے ان کے پھولوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ زرافہ کے پرائموسول میں واقع فارم لیکوٹ پر زیتون کے کافی درخت تھے۔ اس نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ تہہ خانے میں رکھے پانچ پرانے مرتبان نئی فصل سے کشید ہونے والے تیل کو رکھنے میں ناکافی ہوں گے۔

Read more

وہ جانور جو انسانوں کی طرح ہنسی مزاح بھی کرتے ہیں؟

حسِ مزاح کا شمار ان چند خصوصیات میں ہوتا ہے جو بنی نوع انسان کو دوسرے جانداروں سے منفرد بناتی مے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے یا جانوروں میں بھی یہ حس پائی جاتی ہے؟ اور کیا وہ بھی ایک دوسرے سے ایسے ہی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں، جیسے انسان کرتے ہیں؟

Read more

وہ اک شام جو ٹھہر گئی (طنز و مزاح)

کہا جاتا ہے کہ زندگی کے کچھ دن ایسے ہوتے ہیں کہ تمام عمر کے لیے ساکن ہو جاتے ہیں اور کچھ شامیں ٹھہر جاتیں ہیں۔ مگر مجھے یہ جملہ کبھی سمجھ نہ آیا کہ شام ٹھہر جانے کے کیا معنی۔ میں اکثر یہ بڑ ہانکا کرتا تھا کہ ”بھئی کوئی سر پھرا فلاسفر ہو گا جس نے یہ گپ اڑائی ہو گی“ ۔ پھر یوں ہوا کہ ایک شام آئی، آئی کیا ٹھہر گئی اور ریشے ریشے میں ہلکے

Read more

مزاح اور ماحولیات

”ماحولیات“ سے کیا مراد ہے؟ اپنے اس سوال کی سادگی پر پطرس بخاری کا مزاحیہ مضمون ”ہوسٹل میں پڑنا“ یاد آ گیا ہے جس میں ایک ”ہونہار“ فرزند سے اس کا والد استفسار کرتا ہے : ”تمہارا ‘شخصیت’ سے آخر مطلب کیا ہے؟“ بات ادھوری رہ جائے گی اور اثر بھی زائل ہو جائے گا، اس لیے پدر و پسر کے مابین یہ مکالمہ پطرس بخاری ہی کے الفاظ میں بیان کرنا مناسب ہو گا: ”میں تو خدا سے یہی

Read more

کمشنر پنڈی اور جنرل ضیا کا ریفرنڈم

منٹو نے اپنا افسانہ رسوائے ادب مگر بہترین افسانہ ”بو“ یوں شروع کیا ہے : ”برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر، جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا، ایک گھاٹن لونڈیا، رندھیر کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی۔” فروری کی سردیوں کے یہی دن ہیں۔ ان ہی دنوں نمی نمی دھوپ میں کمشنر راولپنڈی ریٹائرمنٹ سے یہی کوئی پندرہ

Read more

یونی ورسٹی کی ایک کہانی

بچپن سے ہی مزاجاً سست روی کا شکار تھا۔ ہوش سنبھالنے کے بعد گھر کے پیچھے لگے درخت کی نیچے لیٹ کر میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ دنیا کا وہ کون سا کام ہے جو میں کروں تو مجھے محنت کم کرنی ہو گی اور عزت زیادہ ملے گی۔ اور اس سے گزر بسر بھی ہو جائی گی۔ کیونکہ بچپن میں ابو محنت اور عزت پر کافی بڑے لکچر دیا کرتے تھے۔ کافی سوچ بچار، اور سنگت ساتھیوں سے

Read more

ہنٹر والی: ہندوستانیوں کے دلوں پر راج کرنے والی آسٹریلوی سٹنٹ وومن نادیہ کی کہانی

اداکارہ اور سٹنٹ وومین میری این ایونز، جو اپنے سٹیج کے نام ’فیئرلیس نادیہ‘ کے نام سے مشہور تھیں، نے 1935 میں جب ہندی فلم ’ہنٹر والی‘ (دی وومن ود دا ووپ) میں جلو گر ہوئی تو اُس وقت کی ہندوستانی فلم انڈسٹری میں طوفان برپا ہوگیا۔

Read more

مرید پور کا پیر اور جرمن چانسلر کی کہانی

مرحوم احمد شاہ پطرس بخاری کے مضمون ’مرید پور کا پیر‘ کو ان کا بہترین فن پارہ نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ اردو مزاح کی بائبل ’پطرس کے مضامین‘ میں کل گیارہ تحریریں ہیں اور کسی ایک تحریر کو بہترین قرار دینا اعتراف بدذوقی کے مترادف ہے۔ یوں ہے کہ اوائل اپریل میں پڑنے والی اماوس کی کسی رات کے شانت آسمان پر جھرمٹ کی صورت گیارہ ستارے ٹنکے ہیں۔ ایسے مختصر زاد راہ کے ساتھ ادب میں ایسا

Read more