انیل کمار چوہان: حیدرآباد کی مساجد میں خطاطی کرنے والے ہندو مصّور جو اردو اور عربی سمیت چھ زبانیں لکھنا جانتے ہیں

ملیے حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کے متنوع سپوت انیل کمار چوہان سے، جو ہندو ہونے کے باوجود عربی اور اردو میں خطاطی کرتے ہیں اور مساجد میں قرآنی آیات لکھنے کے ساتھ ساتھ نعتیہ کلام پڑھنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔

Read more

ققنس کے آنسو (ایک آٹو بائیو بلیک کومیڈی )

اب سے کوئی چار برس قبل وومن یونیورسٹی بہاول پور نے ایچ ای سی پنجاب کے اشتراک سے ایک سیمینار منعقد کروایا جس میں مجھے کی نوٹ سپیکر کے طور پر مدعو کیا گیا۔ کرنا کرانا کیا تھا۔ وہی دس پندرہ منٹ کا تھیٹر، کچھ اقوال زریں، ایک تاریخی واقعہ، ڈیڑھ درجن اصطلاحات۔ ٹھیک سے یاد نہیں کہ ٹاپک کیا تھا مگر ہال میں موجود ایک طرحدار خاتون کی مست نگاہی نے جناب ابھیجیت کا وہ شہرہ آفاق گیت یاد

Read more

کچھ ڈاکٹر عزیز الحق اور رابعہ سنبل کے بارے میں: ڈاکٹر شیر شاہ اور عظمیٰ عزیز سے گفتگو

نوٹ: ’ہم سب‘ پر پاکستان کے دانشور عزیز الحق کے بھائی انوارالحق کا انٹرویو چھپنے کے بعد میری آنسرنگ مشین پر ڈاکٹر شیر شاہ کا ایک میسج تھا کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ان سے رابطہ قائم کیا تو کہنے لگے کہ وہ عزیز الحق کی دوست رابعہ سنبل کی بہن ڈاکٹر انیتا کو جانتے ہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں عزیز الحق کی بیٹی عظمیٰ عزیز کو جانتا ہوں۔ میں نے ڈاکٹر شیر

Read more

امام غزالی کے فلسفیوں کے خلاف بیس نکات

”میں نے ایک ایسے گروہ کو دیکھا ہے جو اپنے ہمعصروں پر محض ذکاوت کے ذریعے امتیاز حاصل کرتے تھے۔ ان کو اسلامی فرقوں سے کوئی واسطہ نہ تھا نہ عبادت سے کوئی سروکار، وہ شعائر اسلام کی تحقیر کرتے تھے اور انہوں نے تمام قیود و شریعت سے آزادی حاصل کر لی تھی۔ ان کے کفر کا صرف یہی سبب تھا کہ چند لغو باتیں ان کے کان میں پڑ گئیں تھیں۔ انہوں نے سقراط، بقراط، افلاطون، ارسطا طالیس

Read more

جمالیاتی فکر: پس منظر و جائزہ

ایستھیٹکس یہ انگریزی زبان و ادب کی اصطلاح ہے اگرچہ لفظ جمالیات اس کا ٹھیک سے مترادف نہیں۔ ایستھیٹکس کا لفظ اپنے مفاہیم و معانی کے اعتبار سے بہت وسعت کا حامل ہے۔ لفظ جمالیات اس درجے کی وسعت سے تہی ہے۔ اگر ایستھیٹکس کے لیے دیگر الفاظ لیے جائیں تو وہ ”حسیات“ ، ”وحدانیات“ اور ”ذوقیات“ ہوں گے۔ لیکن اگر ہم اپنے کلچر و ثقافت کو دیکھیں تو یہ معانی کفایت نہیں کریں گے۔ ان لفظوں کے مختلف تناظر

Read more

جب دلیپ کمار انگریزوں کے لیے سینڈوچ بناتے بناتے جیل پہنچ گئے

بالی ووڈ کے مشہور اداکار دلیپ کمار کو سانس لینے میں کچھ دشواری کے بعد اسپتال میں داخل کرایا دیا گیا جس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی انکی طبیعت بگڑنے کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔

Read more

سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کی سربراہی

چند دن قبل کالے موتیا نے میری آنکھوں میں نقب لگانے کی کوشش کی تو پکڑا گیا۔ اس کی پیش بندی کے لئے تشخیص کے کئی مراحل سے گزرنا پڑا۔ مرض تو قابو میں آ گیا۔ میرے لئے تاہم اہم ترین یہ اطلاع تھی کہ رضا کارانہ اختیار کردہ گوشہ نشینی اس مرض کا بنیادی سبب ہوا کرتی ہے۔ آنکھوں کو صحت مند رکھنا چاہتے ہو تو سارا دن بستر پر لیٹے رہنے اور وہیں جم کر اخبارات، کتابوں اور

Read more

کچھ ذکر محمد انور خالد کا

خاکسار کو مقبول لکھنے والے کا درجہ حاصل نہیں۔ کبھی کوئی مہربان ایک آدھ سطر سے حوصلہ افزائی کردیتا ہے۔ کہیں سے کوئی اختلافی زاویہ بھی سنائی دے جاتا ہے۔ لکھنے والے کو پڑھنے والے کے ردعمل پر ہمیشہ احسان مند رہنا چاہئے۔ پڑھنے والے کو حق ہے کہ بے اعتنائی سے صفحہ پلٹ دے یعنی ’اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، ہی سے انکار کردے ۔ اور اگر چاہے اڑتی اڑتی سی اک نظر ڈال کر اخبار

Read more

متھیرا بنام ملالہ: ماں سے زیادہ چاہے۔۔۔

ملالہ یوسفزئی نے برطانیہ کے ”ووگ میگزین“ کو انٹرویو میں جو کچھ کہا ہے یقینا اس میں سے بہت کچھ پاکستانی معاشرے کے لیے قابل ہضم نہیں ، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو اسے سوال کا جواب دیا جائے نہ کہ اس کا منہ نوچا جائے یا روح کو کھرونچا جائے۔ کہ پھر وہ سوال کرنا ہی چھوڑ دے۔سندھ کے ایک دانشور عزیز اللہ بوهیو صاحب نے اپنی کتاب ”ادب جا فکری محرک“ (ادب

Read more

کتابیں اور فلمیں

میں اپنے ویک اینڈ کو کتابوں اور فلموں سے سیلیبریٹ کرتا ہوں۔ کتابیں خرید نے کا شوق تو بہت تھا لیکن پڑھنے سے موت آتی تھی، پھر آہستہ آہستہ یہ ’لت‘ بھی لگ گئی اور اب یہ ایک نشہ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ انٹر نیٹ اور سمارٹ فون نے ہماری زندگی کے طور طریقوں کو بہت تبدیل کر دیا ہے اور رہی سہی کسر فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر اور واٹس ایپ نے پوری کردی ہے۔ ہماری معلومات اور

Read more

ملالہ کا انٹرویو: سنڈا حلال نہ خانک پہ سر نیولے

پشتو میں مشہور کہاوت ہے کہ بیل ابھی ذبح ہوا نہیں اور اگلا تسلا سر پر لئے کھڑا ہے۔ ووگ کا شمارہ جولائی میں آئے گا جس کے لئے ابھی پورا مہینہ پڑا ہے اس کے بعد کہیں جاکر ملالہ یوسفزئی کا مکمل انٹرویو چھپ کر آئے گا۔ لیکن ہم ہیں کہ اپنے اختلافی نقطہ نظر کے لئے کچھ نہ کچھ ڈھونڈنے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ اب مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ جب بندہ

Read more

اردو شاعری کا ارتقا

تھا عرش پہ اک روز دماغ اردو پامال خزاں آج ہے باغ اردو غفلت تو ذرا قوم کی دیکھو کاظم وہ سوتی ہے بجھتا ہے چراغ اردو اردو زبان کے پہلے شاعر مسعود سعد سلمان کا تعلق لاہور کی دھرتی سے تھا، حافظ محمود شیرانی (محقق اول) نے اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کے پہلے شاعر مسعود سعد سلمان ہی تھے، علاوہ ازیں امیر خسرو نے اپنے دیوان ”غرۃ الکمال“ کے دیباچے میں اس بات کا

Read more

تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ ایک شام

میرا تبلیغی جماعت کے ساتھ تعلق کیسا تھا یا شاید کیسا ہے اس کا اندازہ آپ اس واقعے سے لگا سکتے ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ایوب میڈیکل کالج میں جمعرات کی ایک شام میرا ایک داڑھی اور پگڑی والے (جنہیں عام زبان میں امیر صاحب کے لقب سے مخاطب کیا جاتا ہے ) بھائی سے آمنا سامنا ہو گیا انہوں نے مخصوص انداز میں مجھے دعوت دی اور پھر سوال کیا کہ ”کیا آپ تبلیغ میں جاتے ہیں یا شب جمعہ کے اجتماع میں شریک ہوئے کبھی؟

“ میں نے بغیر توقف کے کہا ”امیر صاحب عموماً تو بھاگتا ہی رہتا ہوں کبھی کبھار دھر لیا جاؤں تو چلا جاتا ہوں!“

Read more

سات برس کی ایک خوفناک مسکراہٹ

لازم ہے کہ کبھی کبھار ادب اور فلسفوں سے منہ پھیر کر اس جمہوری نظام کے آنکھوں میں بھی آنکھ ڈال لی جائے، جہاں سے زعفرانی مینڈکوں کے میر کارواں نے انسان دوستی کے صاف پانیوں میں نفرت کا زہر گھولنا شروع کیا تھا۔ اور یہ وہی وقت تھا کہ آخری مئی کے دو روز پہلے کی سخت دھوپ میں زمین تیزاب سے نہا گئی تھی اور زمین کی کالی کھیتی پر جب ملگجی شام کے ابر آلود بادلوں نے پھول برسائے تو برقی بجلیوں کے فانوس ایک دم سے چمک اٹھے اور اسی وقت میں نے اسے دیکھا کہ وہ اسٹیج پر کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرچہ ہے۔ وہ ایک آواز نکالتا اور پھر جھولنے لگ جاتا۔

Read more

’میر‘ اور جھنڈو بام

مجھے جھنڈو بام پسند ہے۔ جب بھی میرے سر میں درد ہوتا ہے میں جھنڈو بام لگاتا ہوں۔ مگر جھنڈو بام سے میرا تعلق تھوڑا ایوانؔ پاولوف کے تجربے والا بھی ہے۔ ہندوستان میں جھنڈو بام کی بڑی اعلی مارکیٹنگ کی گئی۔ ملائکہ اروڑا صاحبہ کے معروف آئٹم نمبر ’منی بدنام ہوئی‘ میں جھنڈو بام کا ذکر ہے۔ اسی طرح میری پسندیدہ سنی لیونے ؔجی کے معروف آئٹم نمبر بے ’بی ڈول میں سونے دی‘ میں بھی جھنڈو بام کا

Read more

پاکستانی تہذیبی شناخت کے بحران کا اہم ترین سبب

کیا پاکستان واقعتاً اسلامی تہذیب کا حصہ ہے، یا یہ دعویٰ محض ایک غیر حقیقی تاریخی رومان ہے؟ جغرافیائی اعتبار سے موجودہ پاکستان پر محیط خطہ دنیا کی دو عظیم تہذیبوں یعنی ہندی اور اسلامی تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ تہذیبی امتزاج کی یہ صورتحال مزید پیچیدہ بھی ہو سکتی تھی اگر ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش کے فلک بوس پہاڑی سلسلے پاکستان کی شمال اور شمال مغربی سرحدوں پر واقع چینی اور آرتھوڈوکس تہذیب کے ثقافتی پھیلاؤ میں

Read more

کیا تصوف ایک ذہنی عیاشی ہے؟

فرسٹ لیڈی بشریٰ عمران صاحبہ نے صوفی یونیورسٹی کھولنے کی داغ بیل ڈالی ہے اور اب ڈاکٹرز، انجنیئرز، آئی ٹی سپیشلسٹ کی طرح صوفی بھی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں گے۔ ہمارے ہاں جب عقلی دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو پیچیدہ نفسیاتی الجھنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے زندگی کی تلخ حقیقتوں سے فرار ڈھونڈا جاتا ہے اور عموماً کسی ننگ دھڑنگ، تہی مایہ، رال ٹپکاتے بھک منگے کو بھی ہم مجذوب کہہ دیتے ہیں۔ صوفی بنیادی طور پر

Read more

فلک زاہد کا ناول : قدیم چرچ

مجھے یاد پڑتا ہے کہ بچپن کے دنوں میں ’پاکستان ٹیلی ویژن‘ پر ”عینک والا جن“ کے نام سے ایک ڈرامہ چلتا تھا جس کو ہم سب بچے بڑے شوق اور انہماک سے دیکھا کرتے تھے۔ اس ڈرامہ میں جادوئی کردار مختلف طریقوں سے اپنے شائقین کو محظوظ کرتے تھے، بلاشبہ وہ بڑا سنہری دور تھا۔ تب سے لے کر ادب کی ڈراؤنی (Horror) صنف سے کبھی واسطہ نہیں پڑا نہ کوئی ایسی کتاب ہاتھ آئی اور نا ہی ایسی کوئی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ حال ہی میں مجھے نسل نو کی ابھرتی ہوئی مصنفہ اور کالم نگار محترمہ فلک زاہد صاحبہ کا ناول ”قدیم چرچ“ پڑھنے کا موقعہ ملا۔

Read more

مرد کو درد نہیں ہوتا

اپنی زندگی میں عورت کے لئے حقوق نسواں اور دیگر اس جیسی بے شمار اصطلاحات دیکھی ہیں مگر مرد کے لئے ایسی اصطلاح میری نظر سے نہیں گزری، یقیناً اردو ادب میں ہوگی لیکن وہ کبھی اتنی عام یا ضروری نہیں سمجھی گئی کہ ہر خاص و عام کی زبان تک پہنچ سکے۔ یا یوں کہہ لیں کہ مرد کی زندگی کو ہمیشہ سے عمومی طور پر حقوق سے زیادہ فرائض یا ذمہ داریوں کے ساتھ ہی جوڑا گیا ہے۔

Read more

الف اور ابلیس (مکمل کالم)

الف کالج میں تھا جب ابلیس سے اس کی پہلی مرتبہ ملاقات ہوئی۔ وہ اسے ایک دوست کے روپ میں ملا تھا۔ پہلا سگریٹ، پہلی انگریزی فلم اور پہلی مرتبہ پھجے کے پائے کھانے وہ ابلیس کے ساتھ ہی اس بازار میں گیا تھا جہاں اب صرف شرفا رہتے ہیں۔ شروع شروع میں الف کو ابلیس میں ہمراہی میں بہت لطف آتا تھا لیکن الف کی اس سے دوستی زیادہ دیر نہیں چلی اور کچھ ہی عرصے میں ان کی

Read more

ایک مجرمانہ تنظیم کے سابق سربراہ نے یوٹیوب کے ذریعے ترک سیاست میں تہلکہ کیسے مچا دیا ہے؟

سیدت پیکر نے ان ویڈیوز میں متعدد ترک اعلیٰ سطحی حاضر سروس اور سابق حکومتی اہلکاروں پر جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

Read more

ہمارے ملک کی اچھی باتیں

پاکستان ہمارا عزیز وطن ہے اور پاکستانی ثقافت مجھے دنیا میں سب سے بہترین لگتی ہے۔ مانا کہ ہمارے ملک میں کئی چیزیں غلط ہیں۔ پر یہ ہر جگہ ہر ملک میں ہوتا ہے۔ کیوں نہ آج ہم اپنے کلچر کی اچھی چیزوں پر بات کریں۔ ہمارے ہاں ہر قسم کے لوگ ہیں۔ کشمیری، پنجابی، بلوچ، سندھی، گلگت بلتستان والے اور بہت سے دوسرے۔ اور یہ سب مختلف ہیں۔ پنجابیوں کے کھانے، اور ان کا لباس، ان کی شادیاں اور سب سے بڑھ کر ان کی میٹھی زبان ان کو بہت خوبصورت بناتی ہے۔

Read more

دو صدیوں کا انسان ۔ آصف فرخی

آصف سے میری تفصیلی گفتگو سترہ اپریل کو ہوئی تھی۔ وہ دنیا زاد کے ”وبا نمبر“ کی تیاری میں مصروف تھے۔ اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد پرچے کے لئے کچھ بھیجوں۔ میں نے کہا ایک غیر مطبوعہ نظم ہے ”پرندے چہچہاتے ہیں“ ۔ ادھر سے آواز آئی۔ اچھا عنوان ہے! ۔ پھر ٹھہر کر بولے، اور آپ کی وہ نظم جو ’ہم سب‘ میں آئی ہے (وبا کے دنوں میں ایک نظم) عمدہ نظم ہے اسے اور بڑھائیے۔

Read more

ڈاکٹر آصف فرخی دوستوں کو جُل دے گئے

گستاخی معاف ڈاکٹر صاحب، آپ نے کھیل کے آداب کی خلاف ورزی کی ہے۔ چپکے سے تالہ بندی کا تالہ توڑ کے دوستوں کے گھیرے سے نکل لئے، جو ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ ہوا کیا اور اب وہ کیا کریں! پچھلے دو ماہ سے شگفتگی اور امید کے رنگ لئے، مرصع اردو میں حالاتِ حاضرہ پہ کہی جانے والی باتوں اور دیس دیس کی کہانیوں نے ہر کسی پر ایسا جادو کیا تھا کہ بار بار

Read more

آصف فرخی: میرے دوست

یہ سن چوراسی یا پچاسی کا واقعہ ہے۔ میری طالب علمی کے طویل ترین دور کا ابتدائی زمانہ ہے۔ مجھے جرمنی آئے ہوئے شاید تین یا چار سال ہی گزرے ہوں۔ ایک دن مجھے میری یونیورسٹی کے کچھ سنیئر طلبا نے بتایا کہ ایک نوجوان طالب علم آیا ہے، کراچی سے تم اس سے مل لو۔ میں نے بخوشی ان سے ملنے کا عندیہ دے دیا۔ یوں آصف فرخی سے میری پہلی ملاقات ہافن پلٹز کے ہاسٹل میں ایک کھانے

Read more

آصف فرخی: سنہری مونچھوں والا نوجوان

(آج ڈاکٹر آصف فرخی کی پہلی برسی ہے۔ 16 ستمبر 1959 کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر آصف فرخی کا یکم جون 2020 کو انتقال ہوا تھا۔) نجانے سن ننانوے تھا یا دو ہزار، یہ خادم ایک پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں کراچی گیا تو حسبِ معمول سیدھے عزیزم حارث خلیق کے گھر جا کر بستر پٹکا۔ کچھ دیر بعد کچھ ادب دوست احباب تشریف لے آئے اور محفل جم گئی۔ یہ آصف اسلم فرخی سے رسمی ملاقاتوں کا نقطہ

Read more

اسد علی طور پر افتاد کیوں ٹوٹی؟

شیخ التحریر مختار مسعود، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برسائے رکھے، ایک روز ان کی طبیعت گھبرائی تو اس کے باوجود کہ ہنگامہ دار و گیر بپا تھا، جوانان رعنا جلوس نکالتے تھے اور خون میں نہا کر گھروں کو لوٹتے یا وادی خموشاں میں جا سوتے، و ہ گھر سے نکلے اور تہران یونیورسٹی کے نواح میں پہنچے۔ شہر کا یہ کوچہ انقلابیوں کا مرکز تھا۔ انقلابی دن رات وہاں ڈیرے ڈالے رکھتے، خواب دیکھتے اور

Read more

آغا حسن عسکری: صرف بڑے فلم ڈائریکٹر نہیں! سولہ برس پرانی یادیں

آغا حسن عسکری صاحب کے ساتھ سولہ برس بعد ملاقات ہوئی۔ جیو نیوز لاہور کی یادیں ( سولہ برس پہلے کی یادیں ) تازہ ہو گئیں۔ بہت گپیں لگیں۔ آغا صاحب تیسرے فلور پر میرے ساتھ بیٹھے تھے کہ عبد الرؤف صاحب سے چھپ چھپ کر شطرنج کھیلنے کے دن یاد آ گئے جب میں، شہباز صفدر اور آغا جی تیسرے فلور پر جو اس زمانے میں پرانے اخبار اور کاٹھ کباڑ رکھنے کی جگہ ہوتی تھی، گھنٹوں شطرنج کھیلتے۔ آغا جی فلم سے آئے تھے اور پرائیویٹ ٹی وی کے کلچر سے بہت واقف نہیں تھے لہذا بیٹھے بیٹھے سگریٹ نکال کر پینا شروع کر دیتے اور اب یہ ہماری طبیعت پر منحصر تھا کہ انہیں روکیں یا انتظامیہ کے کسی بندے کی نظر پڑنے دیں۔

Read more

تخلیق سے جنون تک

لوئی آلتھوسر اکتوبر 1918 ء کو نارتھ الجیریا میں پیدا ہوئے۔ یہ نارتھ افریقہ کا ایک ملک ہے۔ وہ پیرس میں پڑھتے رہے۔ جہاں وہ ایک دن فلسفے کے پروفیسر بن گئے۔ وہ فرانس میں معتبر اور معزز ہوئے۔ انہوں نے empiricist اور Marxist کام میں گراں قدر اضافہ کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک تنقیدی سوچ کے حامل بھی رہے۔ انہوں نے کارل مارکس کے کام پر تنقید بھی کی۔ لوئی 1980ء میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے۔ ذہنی

Read more

ملکوں کی محاذ آرائی اور کسی معاشرے کی داخلی طبقاتی کشمکش میں فرق

دو ملکوں کی جنگ جس میں ایک ملک اپنی قوت سے دوسرے ملک پر محض اس لیے چڑھائی کردے کہ اس کے پاس عسکری قوت زیادہ ہے اور وہ اپنے توسیع پسند ایجنڈے کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ ایک انتہائی سفاکانہ اور قابل مذمت فعل ہے۔ لیکن اگر کسی ملک کے اندر اس کی اپنی عوام طبقاتی کشمکش اور سماجی نا انصافی کی خلاف جدوجہد کرے تو میرے نزدیک یہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ سماج میں پھیلے جبر

Read more

قائم رہیں دائم چترال تیرے سر تال

چترال میں میرا بچھونا بہشت کی طرف کھلنے والی ایک کھڑکی کے نیچے لگا ہوا تھا۔ کھڑکی سے متصل چھوٹی سی ایک نہر گزرتی تھی جو رات کو لوریاں سنا کر سلاتی تھی۔ اسی کے ساتھ لگے درخت کی اونچی شاخ پر ایک پرندہ صبح دم راگ بھیرویں چھیڑ کر مجھے جگاتا تھا۔ اساتذہ سے پتہ چلا کہ اس مطرب خوش آواز کو مایون کہتے ہیں۔ بہار کی ہوائیں چلتی ہیں تو مایون کے سر کھلنے لگتے ہیں۔ انجیر پکنے تک یہ فضاؤں میں یونہی رس گھولتا رہتا ہے۔ انجیر کھاتا ہے تو اس کی نغمہ سرائی کو لمبی سی ایک چپ لگ جاتی ہے۔ اگلی بہار آنے تک یہ دن بھر نغمہ بن کر کسی گلوکار کی خوش نوائیوں میں رہتا ہے۔ شام ہوتی ہے تو شعر بن کر کسی شاعر کے دل میں سو جاتا ہے۔

Read more

شیخ سحر بلتستان کے ایک پر اسرار شخص تھے

بلتستان کے شیخ سحر دنیا کے واحد غریب اور بے گھر انسان تھے جن کے جنازے پر شہر امڈ آیا اور لوگ پھوٹ پھوٹ کر رویے۔ آج کے زمانے میں ولیوں کے قصے کتابوں میں ہی ملتے ہیں مگر شیخ سحر کا مقام بہت بلند تھا اتنا بلند کے زمانے کے نامی گرامی لوگ ان کے سحر میں مبتلا تھے۔ اہل ادب، لکھاری، صحافی اور اہل سیاست سے لے کر افسر شاہی اور مذہبی لوگوں تک سب شیخ سے ملنے کی تمناء رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ ملاقات کے لئے وقت یا جگہ کا تعین نہیں کیا جاسکتا تھا۔ جہاں قسمت نے ساتھ دیا وہاں شیخ صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوتا تھا۔

Read more

الوداع سر نواب

طب کی تعلیم کے ابتدائی دو برسوں میں پڑھایا جانے والا علم الابدان مجھے نہیں بھاتا تھا۔ انسانی لاشوں کی چیر پھاڑ، ڈائسیکشن ہال میں فارملڈی ہائیڈ سے محفوظ کردہ سکڑی اور اکڑی ہوئی برہنہ لاشوں کا منظر اور مذکورہ مادے اور مردہ ابدان کی ملی جلی بو جو مجھے بہر صورت بدبو لگتی تھی میری طبع نازک پہ گراں گزرتی تھی۔ پھر اس شعبہ کی سربراہی کے لیے پروفیسر نواب محمد خان صاحب کا تقرر ہوا۔ ان کی وجاہت،

Read more

ڈاکٹر طاہر مصطفی کا غیر منقوط ترجمہ قرآن

مذہب کا تعلق ایمان کی مضبوطی اور عقیدے کی پختگی سے ہے۔ اسے عقل، دلیل اور منطق وغیرہ سے ہٹ کر روح اور جذبے سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ اسلام غور و فکر کی تلقین کرتا، اللہ تعالیٰ کی کائنات کے مختلف مظاہر پر غور کرنے کا درس دیتا ہے۔ وہ عقل اور دلیل کے دروازے ہر گز بند نہیں کرتا۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے گہری محبت، اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے ساتھ لازوال

Read more

شطرنج کے کھلاڑی

ماہا گلریز نے ادائے بے نیازی سے سنہری بال جھٹکے اور نئے ماڈل کی سیاہ آؤڈی کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔ کیمبرج کا موسم خون جما دینے والا تھا۔ نیلی جینز، کالی ٹرٹل نیک اور ڈارک براؤن اوور کوٹ میں ملبوس ماہا گلریز، حسن کا آخری سٹاپ لگ رہی تھی۔ سرخ و سفید رنگت، شہد جیسے بال، نیلی آنکھیں، ستواں ناک، ترشے ہوئے بھرے بھرے ہونٹ۔

ماہا کا آج ہارورڈ یونیورسٹی میں پہلا دن تھا۔ وہ سرکاری سکالر شپ پر ہارورڈ یونیورسٹی کے لئے منتخب ہوئی۔ اس کے ابا گلریز جیلانی بہت اہم اور طاقتور شخصیت تھے۔ ماہا کی ابتدائی تعلیم کانونٹ میں ہوئی۔ اعلی ترین تعلیمی اداروں سے ہوتی ہوئی ماہا آج دنیا کے معتبر ترین تعلیمی ادارے میں پہنچی تھی۔ ماہا کا نصابی اور غیر نصابی ریکارڈ شاندار تھا۔ ٹینس کی بہترین کھلاڑی ہونے کے علاوہ اسے گانے سے دلچسپی تھی۔ وہ جب لمز میں پڑھتی تھی تو ایک میوزک بینڈ کی لیڈ سنگر بھی تھی۔ بینڈ کا نام ”ٹوائیلائٹ ریوولیوشن“ تھا۔ اس بینڈ کے تین چار گانے بہت مشہور ہوئے۔ فارم ہاؤسز کی پارٹیز میں اکثر ڈی جے وہی گانے چلاتے تھے۔

Read more

کارنر والا پلاٹ

کتاب مصنف کا تجربہ ہی نہیں، حافظہ بھی ہوتی ہے۔ ساری عمر کا نچوڑ جو کاغذ پر منتقل ہوتا ہے۔ یہ لفظ کی برکت سے ممکن ہوتا ہے، لفظ مصنف کے قلم سے پیدا ہوتا ہے تو ان دیکھی دنیائیں دکھا دیتا ہے۔ قارئین جانتے ہیں کہ سوچ، خیال، خواب اور گمان کا حسن صرف حرف کی طاقت پر منحصر نہیں، اس میں طباعت کا کرشمہ بھی شامل ہوتا ہے۔ کتاب میں کیا لکھا گیا ہے، یہ اہم ہے لیکن کیسے لکھا ہے، کیسے چھپا ہے، کیسے دکھتا ہے، یہ کہانی بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔

Read more

چاپلوس

ہمیں تو ایک سیکرٹری تعلیم کے کچھ عرصہ قبل کے دورے پر بات کرنی تھی۔ ہوا یہ کہ ABCDیا ایسے ہی ایک نام کے کوئی صاحب صوبائی تعلیمی سیکرٹری مقرر ہو گئے۔ عہدہ پانے کے بعد آبائی علاقے کی یاد آئی توانہوں نے تین چار سکول اپ گریڈ کردیے۔ لہو لگاکر شہیدوں میں شامل ہو نے کا اتنا سا معروف فیصلہ بھی انہیں جنت دلانے کے لیے کافی تھالیکن حواریوں کا کیا کیا جائے۔ ان یار لوگوں نے ان کے کانوں میں بات ڈالی کہ ایسے کیسے ایک محکمانہ آرڈر پر سکول اپ گریڈ ہو جائیں اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے۔ چند روز علاقے میں کھڑاک تو ہونا چاہیے کہ یہ کارنامہ صاحب بہادرکا ہے۔ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں، انہوں نے فوراً آفیشل وزٹ کا ارادہ کر لیا۔

Read more

جون آف آرک: فرانس کو فتح دلوانے والی 17 سالہ لڑکی جسے بدعتی قرار دے کر جلا دیا گیا

جون آف آرک ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہونے والی لڑکی کی کہانی ہے جس نے غیبی آوازوں کے کہنے پر تلوار اٹھائی اور اپنی جرات اور بہادری سے نہ صرف فرانس کو انگریزوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیا بالکہ اس نے اپنے بادشاہ کی تاج پوشی میں بھ اہم کردار ادا کیا۔

Read more

جاگو ہوا سویرا اور مشرقی پاکستان کی وہ یادرگار اردو فلمیں جنہیں نہ پاکستان اور نہ بنگلہ دیش میں یاد رکھا گیا

مشرقی پاکستان میں بننے والی اردو فلمیں پاکستانی فلمی صنعت میں ہمیشہ یادگار رہیں گی۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ سقوط ڈھاکا کے بعد ان فلموں کو نہ پاکستان فلمی صنعت کے مؤرخین وہ اہمیت دیتے ہیں جن کی وہ مستحق ہیں اور نہ ہی بنگلہ دیش کی فلمی صنعت کی تاریخ میں ان کا بھرپور تذکرہ ملتا ہے۔

Read more

ہمارے ڈاکٹر ساجد علی کون ہیں؟

ڈاکٹر ساجد علی خود کو پیدائشی استدلال پسند کہتے ہیں۔ بچپن دیہات میں بسر ہوا جو توہم کا کارخانہ تھا مگر وہ توہمات پر یقین کرنے میں متامل رہتے تھے۔ والدین نے جالندھر سے ہجرت کر کے گوجرہ کو مسکن بنایا، یہیں وہ 1951 میں پیدا ہوئے۔ تین برس بعد گوجرہ سے پانچ میل دور گاؤں میں زمین الاٹ ہو گئی تو خاندان وہاں منتقل ہو گیا۔ میٹرک تک کے تعلیمی مدارج گاؤں میں رہ کر طے کیے۔ بچپن میں

Read more

دروازوں کے باہر چاندنی: مختصر تعارف

وبا کے دنوں میں جب ڈر، خوف اور مایوسی کی فضا نے ہر طرف اپنے پنجے گاڑے ہوئے تھے استاد محترم ڈاکٹر احتشام علی کی کتاب ”دروازوں کے باہر چاندنی“ نے احمد مشتاق کی شعری دنیا کو منور کر کے تازگی کا ایک خوبصورت جھونکا ادبی دنیا پر ڈالا۔ احمد مشتاق کی شاعری ماضی اور ہجرت کا نوحہ ہے۔ وہ ان چیزوں پر دکھ کا اظہار کرتا ہے جو ماضی کا حصہ بن گئی ہیں مگر کھو دینے کا دکھ

Read more

اردو ترجمے میں فورٹ ولیم کالج کا کردار

1600 ء میں ایک تجارتی کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہ عہد ملکہ الزبتھ کا عہد تھا۔ اسے درج ذیل نام دیا گیا۔ ”گورنر اینڈ کمپنی آف مرچنٹس ٹریڈنگ ان ٹو ایسٹ انڈیا“ ۔ اس کمپنی کے یہاں قیام کاخالصتاً مقصد تجارتی سرگرمیاں تھا۔ اس کا نام مختصر ہوتا گیا یہاں تک کہ اسے ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کہا جانے لگا۔ لیکن اس کمپنی نے نہ صرف یہاں تجارت کے بہانے برصغیر پاک و ہند کے وسائل کو استعمال

Read more

ریاست مدینہ اور نیشنل ازم

پاکستان میں دو جماعتی سیاسی نظام کی شکست پولیٹکل سائنس کے طالب علموں کے لیے ایک پر کشش موضوع ہے، جسے پاکستانی سیاست میں فوجی مداخلت کے ساتھ ساتھ اس امر کے ثبوت کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ جمہوری نظام میں قیادت کی تطہیر کی ”تعمیر مضمر“ (بلٹ ان) صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ جنرل مشرف کے مارشل لا کے اختتام کے بعد پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل دیکھنے میں آیا۔ فوجی اقتدار کے اس چوتھے دور

Read more

ہمارے شعری ذوق کو زوال کیوں آ رہا ہے؟

میر تقی میر کی زندگی کا آخری دور تھا۔ ان کی عظمت کا ستارہ بام عروج پہ پہنچا ہوا تھا۔ معاصرین انہیں ”خدائے سخن“ تسلیم کر چکے تھے۔ دلی آنے والے ان کی غزلیں بطور سوغات ساتھ لے کر جاتے۔ اگر وہ اپنے منہ سے کسی شاعر کے حق میں تعریف کا ایک جملہ بول دیتے تو یہ اس شاعر کے لیے فضل و کمال کی مستند سند اور زندگی بھر کا طرۂ امتیاز بن جاتا۔ ایک دفعہ شیخ مصحفی سے ان کی غزل کا ایک شعر دوبارہ سنانے کی فرمائش کی تو شیخ مصحفی نے اسے اپنے لیے اتنی بڑی سعادت سمجھا کہ اٹھ کر بار بار میر کو سلام کیا اور کہا: ”دیوان چھپے گا تو اس شعر کے بارے میں لکھوں گا کہ حضرت نے دوبارہ سنا تھا۔“

Read more

یودوکیہ

یہ ناول ویراپانووا کا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ قرۃ العین حیدر نے کیا ہے۔ نومبر 1965 ء میں مکتبہ جامعہ نئی دہلی لمیٹڈ سے یہ کتاب شائع ہوئی۔ مجھے اس کتاب کو پڑھنے کا شرف پچھلے مہینے جب تیس اپریل، یکم مئی میں بدل رہی تھی تب ملا۔ میں بالکل اس بات سے نا آشنا تھی کہ یہ ناول اپنے اندر سویت یونین یا پھر مزدوروں کے بارے میں اور خاص کر اس دور کے بارے میں اتنے حقائق سمیٹے ہوئے ہو گا۔ اس ناول کے پیش لفظ میں اس کی مصنفہ کا ایک اجمالی سا تعارف پیش کیا گیا ہے کہ ویرپانووا 1905 ء میں پیدا ہوئیں، انہوں نے چار ناول، متعدد ناولٹ، افسانے اور ڈرامے بھی لکھے۔ حیرت کی جو بات مجھے کھٹکی وہ ہے ان کی تصانیف کی مجموعی تعداد پچاس لاکھ ہے۔ اس ناول کو لکھنے کا خیال ویرپانووا کو دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں آیا مگر مکمل ناول کی صورت میں 1959 ء میں چھپا۔ یاد رہے کہ ویرپانووا کی پہلی کہانی 1944 ء میں جب کہ ان کی پہلی باقاعدہ کتاب 1946 ء میں چھپی۔

Read more

شمالی سندھ اور جنوبی پنجاب کے ڈکیت گینگ پولیس کے ہاتھ کیوں نہیں آتے؟

کراچی — پاکستان کے صوبۂ سندھ کے ضلع شکارپور کے کچے کے علاقے میں اغوا شدہ افراد کی بازیابی کے لیے پولیس آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کے ہاتھوں تین پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد شمالی سندھ میں فعال ڈاکوؤں کے راج کے مسئلے پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔

رواں ہفتے پولیس اہلکاروں کی ایک ٹیم ضلع شکارپور میں کچے کے علاقے میں کچھ دن قبل ڈاکوؤں سے کچھ مغویوں کو بازیاب کرانے گئی تھے جہاں آپریشن کے دوران ڈاکوؤں نے جدید ہتھیاروں سے پولیس اہلکاروں کی بم پروف بکتر بند گاڑی پرحملہ کر دیا جس سے تین اہلکار ہلاک ہوئے۔

Read more

جوناتھن کلر کا ساختیاتی تصور

ادب کی دنیا میں مختلف ادوار کے تحت تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ ترقی پسند، جدیدیت اور مابعد جدیدت بذات خود ادبی تنقیدی نظریات نہیں ہیں بلکہ یہ مختلف ادوار ہیں جن کے تحت مختلف ادبی و تنقیدی رجحانات نے جنم لیا۔ جدیدیت کے تحت جو تنقیدی نظریات اردو ادب میں متعارف ہوئے ان میں ساختیاتی تصور اہم نظر یہ کے طور پر ابھرا۔ ساختیات نے نہ صرف زبان و ادب کی ماہیت کے بارے میں، بلکہ ذہین انسان کی کارکردگی کے

Read more

نہ شکل نہ فیملی نہ اسٹیٹس

میرے سامنے والی کھڑکی میں اک چاند کا ٹکڑا رہتا ہے زہرہ جبیں نے حسب معمول ٹیپ ریکارڈر پر اونچی آواز میں یہ نغمہ چلایا ہوا تھا۔ آواز اتنی اونچی تھی کہ اس کا آنگن اور درمیان کی چھ فٹ کی گلی کو پھلانگتی رامس کے کمرے کی کھڑکی سے گزر کر دالان تک دندناتی گھس آئی تھی۔ ہر روز بلا ناغہ یہ نغمہ دن میں ایک بار تو ضرور ہی بجتا۔ بادی النظر میں تو یہی لگتا کہ زہرہ

Read more

انتہا پسندی کے اسباب اور سدباب

انتہا پسندی معاشرتی تنازعات کی ایک شدید شکل اور غیر معمولی رویے کی ایک انتہائی حد ہے۔ انتہا پسندی کی کوئی جامع تعریف کرنا تو ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کو مختلف مواقع پر مختلف نظریات سے پرکھا جاتا ہے مگر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اپنی بات کو حتمیت اور قطعیت کے درجے پر رکھنا انتہا پسندی ہے۔ یہ رویہ معتصب سوچ کے باعث جنم لیتا ہے اس لیے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انتہا پسندی وہ

Read more

دیوان غالب: ”نسخہ عرشی“ کا تجزیاتی مطالعہ

مولانا امتیاز علی عرشی ( 8 دسمبر 1904۔ 25 فروری 1981 ) اردو ادب کے نامور اور کہنہ مشق مصنف، محقق، مدون، ماہر غالبیات اور مہتمم کتب خانہ رامپور تھے۔ تحقیق و تدوین کی دنیا میں ان کو ممتاز مقام حاصل ہے۔ مولانا عرشی علم و ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی تمام عمر ادب کی خدمت کے لئے وقف کر دی لیکن ان کی اصل پہچان اور شوق و رغبت اس بات میں تھی کہ نایاب

Read more

انتہا پسندی کے اسباب اور سد باب

یہ دنیا مسائل کا گڑھ ہے، یہاں بے شمار مسائل رونما ہوتے، پروان چڑھتے اور پھر اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ جدید دور میں بھی چند مسائل ایسے ہیں جن کی لپیٹ میں آج کی ساری دنیا عموماً اور اسلامی ممالک خصوصاً ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا مسئلہ جس کی آتش زدگی سے بننے والا کثیف دھواں تقریباً پوری دنیا کو سیاہ کر رہا ہے ؛ وہ مسئلہ ہے انتہا پسندی۔ انتہا پسند عناصر نے اپنے کردار کی

Read more

فلسطین: اردو ادب میں

انتظار حسین کے افسانہ ”شرم الحرم“ کے مرکزی کردار کی نیند اڑ گئی ہے۔ وہ آنکھیں بند کرتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ بیت المقدس میں ہے اور لڑ رہا ہے۔ انتظار حسین کا یہ کردار ہماری قوم کا ضمیر ہے۔ ہماری قوم جو گزشتہ نصف صدی سے بیت المقدس میں ہے اور لڑ رہی ہے۔ اقبال۔ ؔ نے اس جنگ کو اپنی قومی آزادی کی جنگ کا اٹوٹ حصہ سمجھا اور اس کی تہ در ہ

Read more

احساسات کا لفظیاتی مصور

دو یوم قبل میں قلم تھامے اپنی یادوں کی ڈائری کھولے بیٹھا تھا اور میرے ارد گرد کئی کاغذ بکھرے پڑے تھے۔ لفظ کے معنی اور مفہوم کی کھوج نے مجھے لکھنے کی ایسی عادت ڈالی کہ میں حروف سے الفاظ جوڑتا رہتا ہوں۔ دنیا میرے لیے ایک رنگین پہیلی ہے جو فلک سے زمین تک کسی پینٹینگ کی صورت میں اپنا دامن پھیلائے آویزاں ہے۔ اسی دوران بادل گھر گھر آنے لگے اور سورج بدلیوں میں چھپ گیا، شاید

Read more

گلوبل ڈائیلاگ

راقم سمیت چار نوجوان لاہور کے ایک نجی ہوٹل کے چھت پر موجود چائے پی رہے تھے۔ نوجوانوں کے درپیش چیلنجز سمیت کئی اہم موضوعات زیر بحث آئے اور فیصلہ ہوا کہ ایک ایسا انٹرنیشنل فورم ہونا چاہیے جہاں پاکستان سمیت دنیا بھر کے نوجوانوں کو اکٹھا کیا جائے اور امن، اخوت اور بھائی چارے کے فروغ کی بات کی جائے۔ پاکستان میں سب سے اہم مسئلہ نوجوانوں میں روز بروز بڑھتی ہوئی انتہائی پسندی ہے ’وہ ہر سطح اور ہر شعبے میں موجود ہے۔

Read more

آنکھیں ملتا صوفی۔ ریحان اقبال

آپ اسے صوفی کہہ لیں، سست اور آرام پرست سمجھ لیں، بے ضرر سا ذرہ سمجھ لیں، اصول پسند نظریاتی مان لیں یا فلسفوں میں الجھا ہوا مذہبی تصور کر لیں۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ آپ کی سمجھ کا پاس رکھے گا اور آپ ہمیشہ اسے وہی سمجھتے رہیں گے جو آپ سمجھ رہیں ہیں۔ وہ اتنا کثیر الجہت نہیں کہ یہ سب خوبیاں خود میں رکھتا ہو مگر وہ اتنا وسیع المزاج ضرور ہے کہ آپ

Read more

رقیب سے۔ ایک ادبی شہ پارہ

اگر آپ خلیل قمر کے معتقدین میں سے ہیں، عمیرہ احمد کی کہانیوں کے دلدادہ ہیں، وصی شاہ کی شاعری پڑھتے ہیں، یسری وصال کی اداکاری سے متاثر ہیں، ڈراموں میں میوزیکل گھن گرج اور میک اپ زدہ چہرے پسند ہیں۔ چیخ چیخ کے بولتے ہوئے کردار، احمقانہ انداز کی سسکیاں اور واہیات انداز میں سانس لیتے کردار اگر آپ دیکھتے ہیں تو یقین مانئیے ”رقیب سے“ کی کہانی آپ کو بالکل ایسے ہی ناپسند آئے گی جیسے مسلسل پرانا گڑ کھا کے آپ کو چاکلیٹ کا ذائقہ چکھنے کا کہا جائے۔ یا پھر ملت ایکسپریس میں بکنے والا بلبل پرفیوم چند دن لگا کے ڈولس گبانہ سونگھنے کو کہا جائے، طارق ٹیڈی کی جگتیں سن کے یوسفی صاحب کو پڑھنے کا کہا جائے، بادشاہ کا ریپ میوزک سننے والے کو مہدی حسن کی ”جب بھی آتی ہے تیری یاد کبھی“ سنایا جائے۔

Read more

ساجد علی کی سترویں سالگرہ اور دوستی کی گولڈن جوبلی

سال رواں میرے لیے دو باتوں کی بنا پر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ساجد علی کی سترویں سالگرہ ہے اور ہماری دوستی کی گولڈن جوبلی۔ اس موقع پر اس گولڈن رفاقت کی چند جھلکیاں پیش کر رہا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ساجد کے جاننے اور چاہنے والے انہیں دلچسپ بھی پائیں گے اور ان میں کچھ نیا بھی۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں سال سوم کا طالب علم تھا۔ ایک دن بخاری آڈیٹوریم کی طرف جا رہا تھا۔ بک

Read more

آزادؔ کی ”آب حیات“ اور آج کا قاری

اگلے دن محمد حسین آزادؔ کی شہرہ آفاق کتاب ”آب حیات“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سچ پوچھیں تو انتہائی شاندار اور اذیت ناک تجربہ رہا۔ ہمارا خیال ہے کہ ”آب حیات“ لکھنے کے بعد جناب آزاد ؔ بھی اسے دوبارہ پڑھتے تو وہ شاید اردو لغت کی مدد کے بغیر خود بھی نہ پڑھ سکتے۔ ایسے میں دوران مطالعہ ہمارا حال کیا ہوا ہوگا مت پوچھیے۔ تقریباً ہر سطر میں دو تین بار لغت کی مدد لینی پڑی۔ ہمیں دو

Read more

تھیٹر پلے ”دی جاب“ کا تجزیہ

نائن الیون کے بعد پاکستان میں ہونے والے سنگین حالات کے پس منظر میں معروف پلے رائٹ اکرام بسرا کا یہ ڈرامہ اس وقت امریکہ کے تھیٹرز میں پیش کیا جا رہا ہے پلے کا ٹائٹل سامنے آتے ہی جو پہلا امپریشن ذہن پہ پڑتا ہے وہ جاب/نوکری سے ہی متعلق ہے۔ وائٹ بورڈ کے گرد پھیلا اندھیرا بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی عام شخص کے لئے ایک نوکری کی چمک کے گرد پھیلتے ہوئے مسائل کی تاریکیوں کا

Read more

چار درویش اور ایک کچھوا

جیسے شداد نے اپنی موت کے اس منظرنامے کی خواہش کی تھی کہ جب میں مروں تو نہ زمین پر ہوں نہ آسمان میں، نہ سوار ہوں نہ ٹھہرا ہوا ہوں، نہ اپنی بنائی گئی جنت کے باہر ہوں نہ اندر تو اسے تب موت کے فرشتے نے آن دبوچا جب وہ اپنی بنائی گئی جنت کے دروازے پر اپنے گھوڑے سے اتر ہی رہا تھا اور فضا میں معلق تھا بالکل ویسے ہی مجھے سید کاشف رضا کے اس

Read more

سلطان پورہ کے دوہرے قتل کا اصل قصہ کیا تھا؟

سلطان پور نام کا یہ مضافاتی قصبہ کبھی اس بڑے شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ مگر پھر شہر پھیلتا گیا اور یہ مضافاتی قصبہ شہر کا حصہ بن گیا۔ نام بھی بدل کر سلطان پورہ ہو گیا۔ کیوں اور کیسے ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ البتہ اب یہ سب جانتے ہیں کہ سلطان پورہ جرائم پیشہ لوگوں کا گڑھ ہے۔ یہاں منشیات اور ہتھیاروں سمیت ہر قسم کا غیر قانونی کام ہوتا ہے۔ اسی لئے لڑائی جھگڑے

Read more

فیض، فلسطین، لوٹس اور بیروت

انقلابی شاعر فیض احمد فیض سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، لاہور میں تعلیم حاصل کی، امرتسر میں تدریس سے وابستہ رہے، سری نگر میں اپنی اہلیہ ایلس سے شادی کی، راولپنڈی سازش کیس کا حصہ رہے، حیدرآباد (سندھ) میں قید کاٹی، ماسکو میں داد و تحسین کے پھول سمیٹے۔ زندگی کے آخری ایام کا بیشتر حصہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں جلا وطن رہے۔ جب جنرل ضیاالحق کی فوجی آمریت نے معاشرے کے سیاسی طور پر فعال طبقات پر استبداد کا

Read more

آئیے! مرنے والوں کو برا کہیں

ہم لوگ شاید اتنے پرانے نہیں جتنے پر زمانے کو لگ گئے ہیں، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ باتیں جو کچھ دن پہلے معمول تھیں، اب اجنبی لگتی ہیں مثلاً خط۔ اشفاق احمد کاشف کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور میرا سرگودھا سے۔ یہ نظم اور نثر کا ملاپ تھا، کاشف کا میدان شاعری تھا، میری دلچسپی نثر میں تھی۔ ان ہی دنوں ایک شعر کان میں پڑا۔ خون بہا ہے پھر سڑکوں پر کون ہیں جو دیوانے

Read more

کلین شیو صوفی اور NED یونیورسٹی

این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی ایک پبلک یونیورسٹی ہے جو کراچی میں واقع ہے۔ یہ پاکستان کی ایک قدیم یونیورسٹی ہے۔ یہ پرنس آف ویلز انجینئرنگ کالج کے طور پر 1921 میں قائم کی گئی تھی۔ این ای ڈی کالج 1947 تک برطانوی راج کے دوران جامعہ بمبئی (جسے ممبئی یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے ) سے وابستہ رہا۔ آزادی کے بعد کراچی کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا اور پرانی کیمپس

Read more

ماضی کی ’ایلفی‘، آج کی ’زیب النسا‘: جہاں دکان میں داخلے سے قبل جوتے صاف کروائے جاتے تھے

یہ 26 مئی 1970 کی بات ہے۔ کراچی سے نکلنے والے اُردو کے سب سے کثیر الاشاعت روزنامہ ’جنگ‘ میں ایک چھوٹی سی خبر شائع ہوئی جس کا عنوان تھا ’ایلفی، زیبی ہو گئی۔‘

Read more

کتاب بینی کا بڑھتا ہوا صحت مند رجحان

ہمارے ہاں ہمیشہ سے یہ شکوہ رہا ہے کہ کتاب کی طرف توجہ کم ہے۔ ایک ہزار کی ”کثیر“ تعداد میں چھپنے والا ایڈیشن ہی کئی سال تک ختم نہیں ہوتا۔ اس میں پبلشر زکی بے ایمانی کی داستانیں بھی کہی سنی جاتی رہی ہیں اور اس پراپیگنڈہ میں کہ کتاب فروخت نہیں ہو رہی یا قاری نہیں ہے پبلشرز مافیا کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ابھی تک بیس کروڑ سے زیادہ

Read more

طاہر آفریدی بھی صاحب فراش ہیں!

پتہ نہیں یہ مئی کا مہینہ کیوں بھاری گزرنے لگا۔ پہلے طویل علالت کے بعد بیگم نسیم ولی خان مرحومہ و مغفورہ ہو گئی، پھر ایک مہینہے کی علالت کے بعد سلیم راز صاحب راہی ملک عدم ہو گئے۔ میں طاہر آفریدی کے حوالے سے کوئی مایوس کن خبر نہیں پھیلا رہا ہوں لیکن بلا وجہ خوش کن بھی نہیں ہوں کیونکہ طاہر آفریدی طبعی طور پر عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ضعیفی خود بخود وجہ رحلت بن

Read more

ضمیر کی عدالت

دیہات کی اس برانچ میں میری پوسٹنگ کا پہلا ہی مہینہ تھا کہ رات کو برانچ میں واردات ہو گئی۔ برانچ میں رات کو گارڈ نہیں ہوتا تھا۔ رات کو چور آئے اور انہوں نے گیس کٹر سے سٹرانگ روم کا دروازہ کاٹا اور پھر سیف کے تالے کاٹ کر سات لاکھ روپیہ لے اڑے۔ واردات کا پتہ صبح پتہ چلا۔ تھانہ میں رپورٹ کی، فوراً پولیس آ گئی۔ ضروری کارروائی کے بعد انہوں نے مجھے شام کر تھانے آنے

Read more

افسانوں کا سائنسدان

یہ حقیقت ہے کہ ماہ مارچ میں بہار کی رت جواں ہوتی ہے اور یہ مہینہ شاعروں، لکھاریوں اور مصوروں کے لیے قدرت کا حسین تحفہ ہوتا ہے۔ اسی ماہ میں نوروز کی خوشیوں کا مزہ بھی دوبالا ہوجاتا ہے جب آکاش سے ہلکی ہلکی رم جھم اور پھوہار دلبستگی کا سامان پیدا کرتی ہے۔ اسی ماہ مارچ کے دلپذیر ماحول میں مشہور و معروف قلمکار، دوست نما بھائی اور درجن سے زائد کتابوں کے مصنف حمزہ حسن شیخ نے

Read more

اینٹی سامراج اللہ بخش سومرو نصاب سے غائب کیوں؟

علم شناسی اور علمی استعماریت کا آپس میں گہرا ربط ہے، ان دونوں عناصر کو بروئے کار لا کر یورپی افضلیت کے علمی تصورات پر یقین کرنے کے لیے قائل کیا جاتا ہے، انھی تصورات کے تحت بیسویں صدی کے وسط میں ہی گلوبل ویسٹرنائزیشن کی بالادستی قائم ہوئی۔ نوآبادیاتی عہد میں مغربی بیانیہ کے تناظر میں مخصوص عالمی تاریخ تشکیل کی گئی اور بعد ازاں پوسٹ کالونیل ریاستی ڈھانچوں میں یورپی افضلیت کے تصور کو رائج رکھنے کے لیے

Read more

جوتے مفت ملیں گے

مجبوری یہ ہے کہ اس ملک میں جس کے ہاتھ میں بھی مرئی و غیر مرئی اختیاری ڈنڈہ ہے وہ اب پہلے کی نسبت زیادہ تیزی سے گھمانے لگا ہے۔ چنانچہ صحافی ہو یا میراثی بات کو قصہ بنائے بغیر رہنا بھی نہیں اور ایسے ڈھنگ سے کہنا ہے کہ جن تک پہنچنی ہے پہنچ جائے اور گریبان بھی سلامت رہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

خیال کہاں سے آتا ہے؟ (مکمل کالم)

میں ہفتے کی صبح آٹھ بجے بیدار ہوتا ہوں، دماغ میں ہوتا ہے کہ آج کالم لکھنا ہے۔ پہلا ایک گھنٹہ تو اخبارات کے مطالعے میں گزر جاتا ہے، پھر سوشل میڈیا کی خبر لیتا ہوں کہ وہاں کیا ہنگامہ برپا ہے، اس کے بعد خیال آتا ہے کہ آج چھٹی ہے تو کیوں نہ براؤن بریڈ کی بجائے پراٹھے کی عیاشی کر لی جائے۔ اِس عیاشی کے بعد جب غنودگی طار ی ہونے لگتی ہے تو دل کرتا ہے

Read more

بنتے بگڑتے دائروں کے درمیاں

کچھ برس قبل برادر مکرم ظفر محمود کے افسانوں کا مجموعہ ’دائروں کے درمیاں‘شائع ہوا تھا۔ ظفر صاحب کے سفر حیات میں عہدوں اور مناصب کا ذکر سوئے ادب کا مضمون ہے کہ عہدے کسی انسان کا مقام متعین نہیں کرتے، فرد البتہ اپنے کردار سے کسی منصب کو توقیر بخشنے کا اختیار رکھتا ہے۔ آزادی موہوم کی سات دہائیوں میں کوڑیوں چیف سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری گزرے ہوں گے۔ شیخ محمد اکرم کی ژرف نگاہی کا ثانی کون ہو

Read more

شیر شاہ سوری: وہ افغان سردار جس نے مغلوں اور افغانوں کی کمزوریاں جان کر ہندوستان پر راج کیا

شیر شاہ کی جنگی مہمات سے کہیں زیادہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف ہوتی ہے۔ اگرچہ ان سے قبل ان کے کچھ پیشروؤں نے اس جانب کچھ توجہ مبذول کی تھی لیکن شیر شاہ نے انتہائی کم عرصے میں بہت ہی انمٹ نقش چھوڑے، جیسے بنگال سے افغانستان تک جی ٹی روڈ۔

Read more

ایک خونخوار لفظ

میرے عزیز دوست جاوید نواز مسقط میں رہتے ہیں جو ان دنوں لاہور آئے ہوئے ہیں۔ عید کے پانچ روز بعد ملنے آئے، تو بڑے افسردہ دکھائی دیے۔ کہنے لگے آپ نے گزشتہ برس درد میں ڈوبا ہوا جو فکر انگیز کالم لکھا تھا، وہ لے کر آیا ہوں۔ خدارا! اسے دوبارہ چھپوا دیجیے کہ ہم اس وقت دوہرے کرب سے گزر رہے ہیں۔ اسرائیل نے ارض فلسطین کے کوہ و دمن خون سے رنگ دیے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، اخبارات اور ٹی وی چینلز سوچے سمجھے بغیر اسے ’اسرائیلی بربریت‘ کا نام دیے جا رہے ہیں۔

Read more

لسانی مطالعہ کیوں کیا جائے؟

لسانی مطالعے کا مقصد کیا ہے۔ لسانی مطالعہ کیوں کار آمد ہے۔ 1۔ لوگوں میں زبان کی ماہیت کے بارے میں عموماً پائی جانے والی ناواقفیت کو دور کرنے کے لیے ہم زبان کا مطالعہ کرتے ہیں 2۔ لسانیات کی تعلیم ایک تربیت بھی ہے۔ ایسی ذہنی تربیت جو جس کا معیار اس سطح کی دوسری اعلا تربیتوں کے برابر ہو۔ تربیت سے مراد کسی زبان کے ایسے حقائق سے با خبر ہونا ہے جنھیں کسی مخصوص نظریے کے دائرے

Read more

شو کمار بٹالوی۔ وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جاں

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم، نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم وہ بوئے گل تھا کہ نغمہ جان، میرے تو دل میں اتر گیا وہ شو کمار بٹالوی پر لکھتے ہوئے محبت کی اس سے خوبصورت کوئی دوسری مثال نہیں دے سکتا۔ پنجابی زبان ادب کا بہت مقبول ترین شاعر، شو کمار بٹالوی جس نے اپنی کم عمری میں شہرت کے پہاڑوں کو سر کیا۔ اس کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ خود

Read more

ٹیگور کی محبت میں سپردگی کے پہلو

محبت ایک سماجی حقیقت ہے جس کا ظہور مختلف لوگوں میں مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ ہم روزمرہ کی زندگی میں بہت سے احساسات و جذبات کے چھوٹے موٹے ٹکڑوں کو ایک لفظ میں ضم کر کے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ محبت جیسی سماجی حقیقت پر سب سے زیادہ اوراق ادب میں سیاہ ہوئے ہیں۔ آج میں جس شخص کے ”عاشقی ماشقی“ کے قصہ سنانے جا رہی ہوں اس کو ادب کا نوبل انعام یافتہ ادیب سمجھا جاتا ہے۔

Read more

جب منٹو کو آگ پر چلنا پڑا (دوزخ نامہ سے اقتباس)

میرے والد مولوی غلام حسن نے اپنی پہلی بیوی کے تینوں بیٹوں کو پڑھایا لکھایا، بیرون ملک بھیجا، انھیں مستحکم کیا، اور اس منٹو کو سڑک پر چھوڑ دیا۔ جاؤ سالے، لاوارث کتے کی طرح گھومو اور لوگوں کے پھینکے ہوئے ٹکڑے چن کر کھاؤ۔ ان کی پہلی بیوی کے تینوں بیٹے، محمد حسن، سعید حسن، سلیم حسن، انگلینڈ میں رہتے تھے، مرزا صاحب، اور میں سمرالہ کی سڑکوں پر، کیا کر رہا تھا بھلا؟ بندر کا تماشا دیکھ رہا

Read more

ہائے! صحافت اور صحافی

صحافت عربی زبان کا لفظ بتایا جاتا ہے جو صحف اور صحیفہ سے اخذ کیا گیا ہے، جس کی لغوی معنیٰ کتاب، جریدہ یا رسالہ بتائی جاتی ہے۔ اس کا مفہوم یوں بیان کیا جاتا ہے کہ کسی بھی معاملے کی بغور تحقیق کے بعد ایمانداری سے بغیر کسی اضافی چٹ پٹاخ اور چاشنی کے شایع کیا جائے۔ یہ تو ہو گئی صحافت کی لغوی معنیٰ اور مفہوم اب تھوڑا آگے بڑھتے ہیں۔ ہائے، وہ بھی کیا صحافت تھی جب

Read more

آزادی نسواں یا آزادی انسان؟

محترم ڈاکٹر خالد سہیل کا کالم ”کیا مرد ماضی کی زنجیروں سے آزاد ہوسکتے ہیں“ پڑھا اور مجھے احساس ہوا کہ یہ کالم/تقریر نہ صرف ایک انسان دوست ماہر نفسیات نے لکھی بلکہ ایک منجھے ہوئے ہوئے طبیب نے بھی لکھی ہے کیونکہ اس میں نہ صرف مرض کی تشخیص کی گئی ہے بلکہ اس کی وجہ اور اس causing factor کے تدارک پر بات کی گئی ہے۔ میرے لیے یہ ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنا کہ یہ کالم

Read more

کابل حملہ: ’ماں ایک پنسل کی طرح ہے جو ہر لحظہ گھٹتی چلی جاتی ہے اپنے بچوں کی خاطر‘

افغان دارالحکومت کابل میں چند روز قبل سکول کے باہر ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والی طالبات کے لواحقین کو خدشہ ہے کہ انھیں نسلی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Read more

پاکستان کی تہذیب

اس سے پہلے کہ ہم پاکستان کی تہذیب پر بات کریں، ایک نظر دیکھ لیں کہ تہذیب ہے کیا؟ کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ انگریزی زبان میں تہذیب کے لیے کلچر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ کلچر لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کاشت کرنا، پرورش یا افزائش کرنا، جسمانی یا ذہنی اصلاح کرنا یا کھیتی باڑی کرنا۔ اردو فارسی اور عربی زبانوں میں کلچر کے لیے تہذیب

Read more

جرمن جریدے اسپیگل کے ساتھ افغان صدر اشرف غنی کا انٹرویو

(یہ انٹرویو 6 مئی کو جرمن جریدے اسپیگل میں شائع ہوا تھا) ۔ https://www.spiegel.de/international/world/interview-with-afghanistan-president-ashraf-ghani-i-know-i-am-only-one-bullet-away-from-death-a-82dc3dd6-3c27-4f93-97c9-d6cddf0cd117 اسپیگل : جناب صدر، ریاستہائے متحدہ امریکہ نے آپ کی شمولیت کے بغیر طالبان کے ساتھ صلح کرلی ہے اور اب وہ افغانستان سے چلے جا رہے ہیں، کیا آپ کو دھوکہ نہیں لگتا؟ صدر غنی : اس میں دھوکہ کیا ہے؟ مسٹر بائیڈن کی انتظامیہ نے ایک تزویراتی فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے فوائد کی جانچ کی ہے اور ان کی وضاحت کی ہے۔ میں

Read more

سید محمد عبداللہ شاہ المعروف بابا بلھے شاہ ؒ

وقت کی یہ کیسی پراسرارتبدیلی ہے۔ وہ شخص جسے انتقال کے بعد ملاؤں نے اس کے انقلابی فکر و عمل کے باعث اپنے قبرستان میں دفن کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ آج وہ دنیا میں عقیدت اور روحانیت کی پہچان ہے۔ قصور اور اس کے آس پاس کے علاقے میں بلھے شاہ کا مزار ایک ایسی واحد جگہ ہے جس میں شہرکا مراعات یافتہ اشرافی طبقہ اس شخص کی قربت میں دفن ہونا باعث فخر سمجھتا ہے، جس کو

Read more

سلیم راز صاحب بھی اللہ کو پیارے ہو گئے!

16 مئی اور 17 مئی سن دو ہزار اکیس یک کے بعد دیگرے ایسے سانحات لے آئے کہ پشتون سیاست اور ادب دونوں سکتے میں رہ گئے۔ سولہ مئی کو آئرن لیڈی محترمہ ( مور بی بی ) بیگم نسیم ولی خان اس دار فانی سے کوچ کر گئیں اور ابھی یہ غم تازہ ہی تھا کہ مرد آہن سلیم راز صاحب بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس دنیا کو الوداع کر گئے۔ محترمہ نسیم ولی خان پر تو ان

Read more

عبداللہ صدیقی: فوربز 30 انڈر 30 فہرست میں شامل 21 سالہ پاکستانی موسیقار جو سپوٹی فائی پر چھائے ہوئے ہیں

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کوئی موسیقار درجن بھر گانے بنائے، ہر جگہ اپ لوڈ کر دے اور پھر ریلیز ہونے سے دو روز قبل سب ڈیلیٹ کر دے؟ عبداللہ صدیقی یہ کر چکے ہیں۔

Read more

کیا آپ لفظ و معنی کے پراسرار رشتے سے واقف ہیں؟

میں نے جب اپنے سچ کی تلاش میں نکلے ہوئے ادیب ’شاعر اور دانشور دوستوں سے پوچھا کہ کیا آپ HERMENEUTICS ہرمانیوٹکس کی روایت سے واقف ہیں تو انہوں نے مجھے عجیب و غریب نگاہوں سے دیکھا۔ ان میں سے اکثر نے یہ لفظ اور یہ اصطلاح پہلے نہ سنی تھی لیکن وہ اس کے بارے میں کچھ جاننے کے خواہشمند تھے۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہرمانیوٹکس فلسفے ’نفسیات اور ادب کی وہ روایت ہے جس کا بنیادی موقف

Read more

تہران کی زیر زمین ثقافت

   کمرے میں موسیقی کا آہنگ بلند سے بلند تر ہو رہا ہے۔بھاری میک اپ، خوشنما تراشیدہ زلفوں اور نہایت مختصر منی اسکرٹس میں ملبوس لڑکیاں نوجوان مردوں کے ساتھ محوِ رقص ہیں۔ ارد گرد کی میزوں پر مقامی طور پر بنائی گئی نہایت مقبول شراب کے گلاس نظر آ رہے ہیں۔ دیوار پروں پر کچھ ایسی ہیجان انگیز تصاویر بھی آویزاں ہیں جو باہر سڑکوں اور گلیوں پر منڈلاتی اخلاقی پولیس کے ایمان کو امتحان میں ڈال سکتی ہیں۔اگر

Read more

موجودہ دور کا پاکستانی میڈیا ماضی سے کیسے مختلف ہے؟

پاکستان میں ان دنوں عوام کی تفریحی کے لیے ٹیلی ویژن پر بے شمار ڈرامے اور پروگرامز دکھائے جا رہے ہیں۔ لیکن ڈرامہ ہو یا کوئی گیم شو ان کا معیار ماضی کی نسبت بہت مختلف ہے۔

پاکستان میں اگر ٹیلی ویژن کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ساٹھ کی دہائی سے نوے کے آخر تک سرکاری ٹی وی ‘پی ٹی وی’ ہی معلومات اور تفریح کا واحد ذریعہ تھا۔

Read more

عصائے کلیمی اور فلسطین

دن کے بارہ بج چکے ہوں گے یا پھر بجنے والے ہوں گے۔ دھوپ تھی تو سہی مگر ایسی نہیں تھی جس کی شدت پریشان کرے بلکہ اس میں نرمی، نگھ اور خنکی کا ایسا رچاؤ تھا جس کا امتزاج شاید جنت کے لیے خاص ہے۔ یہی دھوپ تھی جس کی کرنوں سے وہ سنہری اور نیلے گنبد یوں روشن تھے کہ نگاہیں خیرہ ہوتی تھیں اور میں ان گلیوں میں بکھری ایک الگ سی لیکن مانوس خوش بو کی

Read more

چھوٹے شہر میں بڑا آدمی

یہ لگ بھگ دس بارہ سال پرانی بات ہے، ایک علاقائی اخبار (کھلی خبر) کو بطور ”انچارج ادبی ایڈیشن“ جوائن کیا، ہر ہفتے ایک لکھاری کا انٹرویو کرنا ہوتا تھا جس میں نئے لکھنے والے بھی شامل تھے اور سینئرز احباب بھی۔ میں ان دنوں انٹر کا طالب علم تھا اور استاد الشعراء حکیم ربط عثمانی مرحوم سے اصلاح لیتا تھا۔ کالج سے فراغت کے بعد حکیم صاحب کے مطب (پانچ وارڈ) پہ وقت گزرتا یا پھر کھلی خبر کے

Read more

مادری زبان یا ماں بولی

دنیا کے کسی بھی کونے یا ملک میں بسنے والے جو بھی زبان بولتے ہیں، اس کو مادری زبان کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی بھی اس کو آبائی زبان یا خاندانی زبان نہیں کہا گیا، ہمیشہ مادری زبان کی ہی اصطلاح استعمال کی گئی۔ جیسے پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، لیکن ہر صوبے کی اپنی زبان ہے۔ صوبہ پنجاب کی پنجابی ہے، لیکن ہر علاقے کا پنجابی بولنے کا اپنا انداز ہے جو یقیناً ماں سے ہی

Read more

جعفر حسین آپ کو سلام کہتا ہے، سر جی

یہ 90 کی دہائی کے اوائل کا قصہ ہے۔ پرانا دور ہمیشہ سادہ اور اچھا لگتا ہے کیونکہ اس وقت تک ہم دنیا کو اس طرح نہیں جانتے جیسی وہ ہے۔ یہ تو وقت جب گزرتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ وقت ہمیشہ اچھا ہوتا ہے، انسان اور رویے اچھے نہیں ہوتے۔ یہ گورنمنٹ کالج دھوبی گھاٹ لائلپور کا قصہ ہے۔ ان دنوں سردیوں میں اردو، انگریزی، اسلامیات وغیرہ کی کلاسز کمروں سے نکل کر باغیچوں میں منتقل ہوجاتی تھیں۔ کالج میں ہاکی، فٹبال اور کرکٹ کے الگ الگ میدان تھے۔ اردو اور انگریزی کی کلاس اکثر لائبریری کے سامنے والے باغیچے میں ہوتی تھی جس کے ساتھ ہی ہاکی کا میدان تھا۔

یہ سرما کی نرم دھوپ والا دن تھا۔ فرسٹ ائر کے رنگروٹوں کی بڑی تعداد اردو کی کلاس میں انہماک سے بیٹھی ہاکی کا میچ دیکھ رہی تھی۔ کرسی پر براجمان جوان العمر، نرم نقوش اور خوش پوش لیکچرار میرؔ کی غزل پڑھاتے ہوئے، ”تھا عشق مجھے طالب دیدار ہوا میں“ تک پہنچے تو رک گئے۔ اور سامنے بیٹھے ہونق بچوں سے دریافت کیا کہ وہ سامنے پگڈنڈی پر جو صاحب آرہے ہیں، کیا کوئی ان کو جانتا ہے؟ ان کا اشارہ چھوٹا سا چرمی بیگ بغل میں دبائے تیز تیز قدموں سے چلتے ادھیڑ عمر فرد کی طرف تھا۔ بھولی سی صورت والے ایک بچے نے ہاتھ کھڑا کیا۔ استاد خوش ہو کر بولے، ہاں بھئی بتائیں، کون ہیں یہ؟ وہ ناہنجار اپنی لائلپوری پنجابی میں بولا، ”سرجی، اے کوئی گولیاں ٹافیاں ویچن آلے نیں۔“ (سر جی یہ کوئی گولیاں ٹافیاں بیچنے والے ہیں )

Read more

مواد اور ہیئت کا مسئلہ

عسکری نے کہیں لکھا ہے کہ سرسید اور حالی کا مغربی ادب و علوم سے پالا کافی بڑی عمر میں پڑا۔ یہ دونوں ہی افراد مغرب سے بہت مرعوب تھے مگر انگریزی نہیں جانتے تھے۔ مغربی علم و ادب ان تک تراجم کی صورت میں پہنچے۔ تو انہوں نے یوں سمجھا کہ اصل چیز تو خیال ہوتا ہے۔ یعنی اصل چیز تو مواد ہے۔ پھر ہئیت کچھ بھی ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ سرسید کے تصورات جب حالی

Read more

سبط علی صبا: یارِ بے پروا کے لئے ایک کالم

یہ شعر آپ نے پڑھا نہیں تو سُنا ضرور سُنا ہوگا: دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالئے  اِس لافانی شعر کے خالق، سیالکوٹی ہم وطن اور شاعری میں میرے سینئر سید سبطِ علی صبا کی اکتالیسویں برسی 14 مئی کو گزری۔ صبح ہی صبح فیس بُک پر اُن کے فرزند میشاق علی جعفری کی تحریر پڑھ کر مجھے صبا مرحوم کی دنیا سے اچانک روانگی کا وہ المناک دن یاد آ گیا،

Read more

معاہدہ عمرانی اور کارکنوں کا جیالا پن

دیوان سنگھ مفتون ایڈیٹر اخبار ”ریاست“ اردو صحافت میں ایک بڑا نام ہے۔ ان کا اخبار ہندوستانی ریاستوں کے معاملات مہاراجوں، مہارانیوں، راجکماریوں اور راجکماریوں کے سکینڈلوں سے بھرا پڑا ہوتا۔ یہ چٹپٹے واقعات بڑی دلچسپی سے پڑھے جاتے تھے۔ اب نہ ہی ریاستیں رہیں، نہ ہی اخبار ’ریاست‘ اور نہ ہی اس کے ایڈیٹر دیوان سنگھ مفتون۔ ان کی معلومات کے ذرائع بڑے وسیع تھے۔ پاکستان میں کسی اخبار نویس کو علم نہ ہو سکا کہ حضرت قائد اعظمؒ

Read more

سبط حسن: روشن خیالی کا چراغ

دیس کی گلیاں ، چوبارے ، بازار ویران تھے ، حکمرانوں کے غیر آئینی اقدامات کے نتیجے میں عوام کے جمہوری حقوق مارشل لا کی صلیب پر چڑھا کر جبر اور خوف کے ماحول کا ڈنکا بجایا جا رہا تھا ، عوام کی جمہوری آزادی اور ان کے اظہار کے حق کو بندوق کی نال سے دبائے جانے کا چلن عام کر دیا گیا تھا۔ گھٹن اور مارشل لائی بساند سے تازہ ذہنوں کی سوچ کو زبردستی مذہب کے کپڑے

Read more