کیا دیومالائی قصے کہانیوں میں کچھ حقیقت بھی ہو سکتی ہے؟

اساطیری یا دیو مالائی قصے کہانیاں ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہیں جن میں انوکھی مخلوقات، پریاں اور دیوی دیوتا ہوتے ہیں۔ تاہم ان میں ماضی میں رونما ہونے والی ماحولیاتی تباہیوں کے شواہد بھی ہوتے ہیں۔

Read more

جب آپ کے بھائی کو کوئی آپ کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دے

تعارف : عزیز الحق ایک ایسے دانشور تھے جو لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی ادبی اور سیاسی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے اور ادب ’فلسفے اور سیاست کے متنازعہ موضوعات پر گرما گرم بحثوں میں شرکت کرتے تھے۔ وہ بیک وقت کارل مارکس کے بھی مداح تھے اور ژاں پال سارتر کے بھی۔ وہ اپنے آپ کو EXISTENTIALIST MARXIST کہلانا پسند کرتے تھے۔

اور پھر مئی 1972 میں ان کی ناگہانی موت نے ان محفلوں کو سونا کر دیا۔ چونکہ ان کی موت قتل کی وجہ سے ہوئی اور قاتل نے عزیز الحق کو قتل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی قتل کر دیا اس لیے وہ موت اور بھی پر اسرار ہو گئی۔ میں نے عزیز الحق کی زندگی کے حالات اور ان کے مقالات پڑھے تو مجھے ان کی پراسرار موت کے بارے میں تجسس ہوا۔

Read more

انسانی شعور کی منزل

انسانی شعور انسانی وجود کو شناخت بخشتا ہے۔ ہمارا وجود کیا ہے۔ ہمارا وجود بنیادی طور پر مادی ذرات سے مل کر بنتا ہے۔ اگر ہم اس مادے پر غور و فکر کریں تو مادے کا چھوٹا زرہ ایٹم ہے اور اس سے بھی چھوٹے ذرات ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ یہ چھوٹے ذرات ایٹم میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارے وجود کی بنیاد مادہ ہے اور بے شمار مادی ذرات سے بنا ہے۔ یہ مادی ذرات شعور کے حامل ہیں۔

Read more

ہمارے پیارے لافانی انکل سرگم

پروگرام کا نام ہے کلیاں اور 80 ء کی دہائی ہے۔ انکل سرگم، ماسی مصیبتے، رولا، ڈڈو اور دیگر فنکار سیٹ پر موجود ہیں اور ہلکی پھلکی طنز و مزاح جاری ہے۔ 1985 ء کے غیر جماعتی الیکشن کے بعد نتائج کے اعلان کرنے کا سیٹ لگا ہوا ہے اور انکل سرگم کا امیدوار ہار گیا ہے جس پر وہ جذباتی ہیں اور رولے کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہے ہیں۔ اس میں لوگوں کے خطوط پڑھنے کا سیگمنٹ ہے اور

Read more

عید، عید کارڈز اور اشعار

گو ہم نے بزرگوں کی باتوں کا کبھی اعتبار نہیں کیا لیکن وہ درست کہتے تھے۔ وقت کتنی جلدی بدل رہا ہے۔ اس کا اب احساس ہوا ہے۔ وہ بھی یوں کہ محض ایک دہائی قبل عید کارڈ کی جو رسم عید کے چاند جتنی ہی ضروری سمجھی جاتی تھی، عنقا ہو گئی ہے۔ بہرحال، عید آ گئی ہے اور میاں محمد بخش صاحب کی یاد بھی : لے او یار! حوالے رب دے، میلے چار دناں دے اس دن

Read more

سب کچھ پہلے جیسا رکھنے کے خواہاں لوگ

اس نے مجھ سے کہا، ”میں تو یہ سمجھا تھا کہ آپ ہمارے بندے ہیں“ ۔ ” میں اللہ کا بندہ ہوں کسی اور کا بندہ نہیں ہو سکتا“ میں نے جواب دیا۔ ” اللہ بھی تو ہمارا ہی ہے“ ۔ اس نے اللہ کو نعوذ باللہ اپنی اجارہ داری میں لے لیا۔ اللہ کو صرف ”ہمارا“ کہنا ایسے ہی ہے جیسے اسے ملکیت بنا لیا گیا ہو کیونکہ اللہ تو سبھی کا ہے۔ مفسرین قرآن اس پر متفق علیہ

Read more

سی ایس ایس کا معرکہ 23 ویں پوزیشن لے کر حامد امتیاز نے کیسے سر کیا؟

گزشتہ دنوں پاکستان فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے انچاس ویں سی ایس ایس 2020 کا امتحان پاس کرنے والے تین سو چونسٹھ کامیاب امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم ان میں سے کمیشن نے 221 امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی ہے۔ ان نتائج کے اعداد و شمار کے حوالے سے بعض دلچسپ پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سی ایس ایس 2020 کے تحریری امتحان میں کل 18553 امیدواروں نے حصہ لیا۔ جس میں سے محض 376 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ ان کامیاب امیدواروں میں سے 364 انٹرویو کے لیے بلائے گئے۔ جن میں سے مرد امیدوار 226 اور خواتین امیدواروں کی تعداد 138 تھی۔ تاہم حتمی مرحلے کے بعد 221 کامیاب امیدواروں کی تقرری کی سفارش کی گئی ہے۔ جس میں مردوں کی تعداد 142 اور خواتین کی 79 ہے۔ مجموعی طور پر 2020 ء کے اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والوں کا تناسب 1.962 فیصد رہا۔ جو کہ انتہائی کم ہے۔ 12 امیدوار ایسے بھی تھے جو انٹرویو کے لیے کوالیفائی کرنے کے باوجود انٹرویو میں غیر حاضر پائے گئے۔

Read more

شگوفے کھلانے والے، فاروق قیصر اور انکل سرگم نے پہلی بار اداس کیا ہے!

یہ تحریر لکھتے ہوئے میں نہ جانے کیوں اس الجھن کا شکار ہو گیا ہوں کہ میں کس شخصیت کو زیادہ جانتا تھا، فاروق قیصر یا انکل سرگم! یقین جانیئے تاحال یہ طے کرنے سے قاصر ہوں کہ میرا درست جواب کیا ہونا چاہیے۔ اصل میں ہماری بیشتر ملاقات ایسی ہی تھیں جس میں وہ دونوں ساتھ ہی ہوتے۔ اگر نہ بھی ہوں تو ہر دو کا تذکرہ نہ ہو، یہ ممکن نہ تھا۔

Read more

انکل سرگم جیسے آرٹسٹ مرتے نہیں، روٹھ جاتے ہیں

لاک ڈاؤن اور عیدالفطر کے انفراغ میں آج کل ہم اپنے گھر کے چھوٹے سے کتب خانے کی کیٹلاگ سازی کر کے کتابوں کو کسی ضابطے میں لانے کی سعی کر رہے ہیں۔ آج شام کو اس عمل کے دوران کتابوں کی موضوعاتی درجہ بندی کرتے ہوئے اچانک ایک کتاب نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ وہ کتاب میرے، آپ کے، ہم سب کے ”انکل سرگم“ یعنی سید فاروق قیصر کے طنزیہ قطعات، پیروڈیز، گیتوں، غزلوں، نظموں پر مشتمل ان کا مجموعہ کلام ”میرے پیارے اللہ میاں“ تھا۔

Read more

خالد حمید کی یادیں: کیسی یہ عید آئی!

پاکستان کی حکومت کے اعلان کے مطابق اس بار عید پر آٹھ دن تک لاک ڈاؤن ہے۔ حکومت نے ہدایت کی تھی کہ لوگ گھروں میں رہیں اور احتیاط برتیں۔ ایک مشیر نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ اس عید پر کوئی تقریبات، پارٹیاں، میل ملاپ، معانقہ یا مصافحہ نہیں ہوگا۔

بھارت میں تو صورتِ حال اور بھی گھمبیر ہے۔ وہاں عید کیسے ہوئی ہوگی؟ رہی بات یہاں امریکہ کی، تو یہاں نمازیں تو ہوئیں لیکن دور دور کھڑے ہو کر۔ ماسک لگا کر اور کوئی قریب نہیں آئے گا۔ کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا۔ بس دور سے مسکرائے گا۔

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں (تلخیص – آخری قسط)‎

مرزا فخرو اس زمانے کے شہزادوں کی طرح اعلی تعلیم یافتہ تھے، نہایت عمدہ اور کئی طرح کے خط پر ان کا ہاتھ سیدھا تھا۔ شہ سواری اور تیر اندازی میں بھی طاق تھے۔ انگریزی اچھی خاصی سیکھ چکے تھے۔ رہی بات شاعری کی تو وہ ذوق کی شاگردی میں رمز تخلص کرتے تھے۔ فارسی میں انھیں امام بخش صہبائی کی چھتری کی پناہ تھی۔ انکے کچھ شعر ملاحظہ کریں جن کی استاد ذوق نے بڑی تعریف کی۔ نہیں اس

Read more

لایعنیت کی کگر پر بیٹھے ایک منحوس کرگس کی داستان (ایک فلمی کہانی کا خاکہ)

ایک ناکجا، لازمانی و غیر مادی مادے کے بسیط ماحول میں، کسی لایعنی و غیر توانا ذرہ موہوم کے، بن باپ کے ہونے والے قرار حمل کے نتیجے میں، عدم کی وجودی الٹی سے پیدا ہونے والے وجودی بحران کا اظہار یہ دنیا۔ اس پیدائش فرار نما کے بعد، اس نو وجودیے کی سرخوشی و جوش و خروش کا وہ عالم تھا کہ پھولا نہ سماتا تھا، سو پھٹا اور چار سو ہو گیا۔ یہ ناشدنی وجود لذت ارتقاء سے

Read more

ما بعد نو آبادیات :حدود، تعارف، اہمیت

جب سے دنیا بنی ہے زمین پر انسان کبھی حاکم بنتا ہے تو کبھی محکوم۔ انسان کا ایک دوسرے پر غلبہ پانا اس کی اولین ترجیحات میں سے ہے یعنی غلبہ پانے کی تا ریخ نہایت قدیم ہے۔ ابتدا ء میں جب انسان غار میں رہتا تھا تو اس دور میں بھی طاقت ور قبیلے نے ہمیشہ کمزور بنا کر اپنے زیر اثر رکھا۔ اپنی طاقت کا نا جائز استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ اس نے کمزور کی حق تلفی کی،

Read more

اردو ترجمے کی روایت کا آغاز و ارتقا

اردو ترجمے کی روایت کا آغاز مغلیہ دور حکومت سے ہوتا ہے۔ جب مغل ہندوستان آئے تو ان کو لوگوں سے روابط بنانا پڑے۔ نظام سلطنت کو چلانے کے لیے حکومتی احکامات کو رعایا تک پہنچانا اور ان کا ردعمل جاننا از حد ضروری تھا۔ سرکاری ضرورت کے تحت فارسی زبان کے تراجم دیگر علاقائی زبانوں میں اور علاقائی زبانوں کے تراجم فارسی زبان میں کیے گئے۔ مغل بادشاہوں نے ہندوستان کے علاقائی ادب کی طرف بھی توجہ کی۔ اکبر

Read more

کچھ بات ابراہیم جلیس کی

ابراہیم جلیس نام تھا ۔ حیدر آباد دکن کی مٹی تھی اگرچہ انہیں خود خبر نہیں تھی کہ ان کی مٹی کہاں کی تھی ۔ قلم براق اور طبیعت پارہ صفت۔ لکھنے کی چٹیک نے علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں آن لیا تھا جہاں سے 1940 میں بی اے کیا ۔کچھ دن سرکاری ملازمت کا بھاڑ جھونکا ۔ یک بینی و دو گوش نکال باہر کئے گئے۔ ابھی بیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ہندوستان کے بہترین ادبی ماہنامے

Read more

دہلی کے بھانڈ اور طوائفیں

شاہی اور شہر آبادی کا تو ذکر ہی کیا۔ اب سے چالیس پچاس پہلے پہلے تک دلّی میں ایک سے ایک منچلا رئیس تھا۔ ریاست تو خیر باپ دادا کے ساتھ 1857 ء میں ختم ہو گئی تھی مگر فرنگی سرکار سے جو گزارہ انہیں ملتا تھا۔ اس میں بھی ان کے ٹھاٹ باٹھ دیکھنے کے لائق تھے۔ انہیں میں سے ایک بگڑے دل رئیس تھے جو اپنی شاہ خرچیوں کی وجہ سے نواب صاحب کہلانے لگے تھے۔ انہیں نت

Read more

ادب اور فلٹر والا کیمرہ

ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے جس میں ہمیں اس معاشرے کا حقیقی عکس دکھائی دیتا ہے۔ اسی میں ہمیں معاشرے کے تمام خد و خال اور نقوش دکھائی دیتے ہیں اسی میں ہمیں اس کی خوبصورتی اور دلکشی کے ساتھ اس کی ہر کجی اور کمزوری بھی بعینہ دکھائی دیتی ہے۔ اسی آئینے میں معاشرے اپنا آپ سنوارتے اور اپنے کمزوریوں اور کجی کو دور کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ یا اگر موجودہ حالات میں اس کی تعریف کی

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں (تلخیص – قسط نمبر 2)

نواب مرزا کے رامپور جانے سے پہلے وزیر خانم اپنے باپ یوسف سادہ کار کو بیٹے کی وجہ سے دوبارہ ملنے لگیں تھیں۔ مگر جیسے ہی نواب مرزا 1836 میں رامپور بھیجے گئے۔ وہ سلسلہ پھر منقطع ہو گیا۔ اور پھر 1840 میں یوسف سادہ کار کی صحت بگڑ گئی۔ وزیر خانم سنتے ہی دوڑی اپنے والد کے پاس پہنچیں۔ وہاں حکیم صاحب افسردہ گھر سے باہر نکل رہے تھے۔ وزیر خانم انھیں دیکھتے ہی بولیں، حکیم صاحب، میرے ابا

Read more

ٹھنڈا گوشت: وہ افسانہ جو منٹو کے لیے بہت گرم ثابت ہوا

ٹھنڈا گوشت نہ صرف قیام پاکستان کے بعد منٹو کی پہلی افسانوی تخلیق تھا بلکہ اپنی مخصوص نوعیت کے اعتبار سے بھی اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔

Read more

جیو ماہرہ خان

سیانے کہتے ہیں کہ قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا لکھتے رہنا۔ ہم اس بات سے متفق تھے اور اسی لئے کم لکھنے پر اکتفا کرتے تھے۔ بہرحال تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کم لکھنے سے بھی قدر کو کوئی خاطر خواہ افاقہ نہیں ہو رہا تھا۔ لہذا ہم کیوں اس پنگے میں پڑیں۔ روز لکھیں گے اور بہت لکھیں گے۔ پڑھنا آپ کی صوابدید ہے۔ امی بتاتی ہیں کہ ہم بچپن ہی سے حسن پرست تھے۔

Read more

آہ شمیم حنفی! لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے

اس برس تو کرونا وبا نے ایسے وار کیے کہ بڑوں بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر ان کے پھیھڑوں کو چھلنی کر دیا اور سانسوں کی مالا کو چھین کر اللہ گھر پہنچا دیا۔ مشرف عالم ذوقی ایسی وائرس کا شکار ہوئے اور وائرس نے ان کو لپک لیا پھر ان کی بیگم کو بھی۔ کتنا اذیت ناک صدمہ تھا ابھی یہ صدمہ بھولا ہی نہیں تھا کہ ایک اور صدمہ دل کے دروازے پر دستک دے گیا، آہ شمیم حنفی صاحب! وہ بھی اس منحوس وائرس کا شکار ہو گئے۔ انہیں چند روز قبل کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد دہلی کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

Read more

سفیروں کی ناقص کارکردگی اور وزیراعظم کا خطبہ

اگرچہ یورپی قرارداد میں پاکستان پر جو فرد جرم عائد کی گئی ہے اس کا تمام تر تعلق ملک کی داخلی صورت حال، بدانتظامی، ناقص حکومتی کارکردگی اور نا اہلیت سے ہے لیکن متعلقہ سفیر کیا کر رہے تھے؟ اگرچہ جواباً جناب وزیراعظم سے پوچھا جاسکتا ہے کہ جہاں یورپی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے وقت ہمارے مخالف 681 اور ہمارے حق میں صرف 6 ووٹ پڑیں تو افلاطونی ذہانت کا مالک کوئی سفیر بھی کیا کر لیتا؟ وہاں تو آر۔ ٹی۔ ایس قسم کی کوئی چیز بھی نہ تھی کہ اس کا تار کھینچ لیا جاتا۔

کہا جاتا ہے کہ یورپی یونین کی یہ قرارداد ’فاٹف‘ کا شکنجہ مزید سخت کر سکتی ہے جس کا اجلاس اگلے ماہ ہو رہا ہے۔ یہاں پھر وہی نواز شریف اور اسحاق ڈار یاد آتے ہیں جو پاکستان کو بلیک سے گرے اور گرے سے وائٹ میں لائے تھے۔ پھر وسیع تر قومی مفاد میں ایک انقلاب عظیم بپا ہوا اور آج گرے سے نکلنے کے لالے پڑے ہیں۔ فاٹف کا کوئی ایک بھی مطالبہ پاکستانی سفیروں کے حوالے سے نہیں، اس کی ساری چارج شیٹ پاکستان کے داخلی معاملات سے تعلق رکھتی ہے۔

Read more

شمس الرحمن فاروقی کا ناول: کئی چاند تھے سر آسماں

کسی کتاب کو مصنف جس طرح سے تحریر کرتا ہے کیا قاری کبھی اس طرح سے سمجھ بھی پاتا ہے یا نہیں؟ ممکن ہے کبھی ایسا ہوتا ہو کہ جو لکھا گیا وہ من و عن قاری پر اسی طرح سے اتر گیا ہو۔ مگر شاید ایسا خال خال ہی ہوتا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کسی کتاب کی بے تحاشا پسندیدگی کا معیار اس کی بے شمار چھپنے والی کاپیاں ہوں۔ مگر کوئی بھی ناول یا کتاب اپنے قارئین پر

Read more

بہائو: مستنصر حسین تارڑ کے ناول کا ایک جائزہ

”سر سوتی جو بڑے پانیوں کی ماں ہے اور ساتویں ندی ہے اس کے پانی آتے ہیں، شاندار اور بلند آواز میں چنگھاڑتے ہوئے ” ”بہاو“ ”بہاو“ ، روانی، تسلسل کی علامت ہے یہ نام ہے تارڑ صاحب کے اس ناول کا جس نے انھیں سفر نامہ نگار کی فہرست سے نکال کر ناول نگار کی قطار میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگر تارڑ صاحب صرف اس ناول کو ہی تحریر کرتے تو بلاشبہ یہ ناول ان کو ادبی طور

Read more

ریاستی بیانیے کی لاٹھی، لیاقت بلوچ کا بیٹا اور میرا بھائی

ہر گھر کی طرح ہمارے گھر کا لاڈلا بچہ اعجاز تھا۔ کچھ اپنی عادات، بھولی بھالی صورت، صلح جو طبیعت اور کچھ اپنی بیماری کی وجہ سے والدین ہر لحظہ اس کا خیال رکھتے، جلد تھک جاتا تو اسے سہلاتے اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت کے مسائل قدرے کم ہوئے تھے مگر ختم نہیں ہو سکے تھے۔ پڑھائی کے معاملات میں وہ نہایت سنجیدہ اور ذمے دار طالب علم تھا۔ ٹیکنیکل کالج سے میٹرک کے بعد علامہ اقبال کالج سے ایف اے کیا اسی دوران پاک سوزوکی کمپنی کی اپرنٹس شپ ٹرینی کے طور پر سیلیکٹ ہو گیا۔ یوں پڑھائی اور کام ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ کراچی ان دنوں لسانی خلفشار اور فسادات کا شکر تھا۔ تعلیمی اداروں میں بھی لسانی سیاست عروج پر تھی۔ بڑے بھائی چونکہ اسلامی جمیعت طلبہ سے وابستہ تھے اسی وجہ سے بجائے کسی قوم پرست طلبہ تنظیم کے اسے اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتے

Read more

جب سارتر کی زندگی کی شام آ گئی

جب ژاں پال سارتر 1980 میں فوت ہوئے تو ان کے جنازے میں ساری دنیا سے آئے ہوئے پچاس ہزار لوگ شامل تھے۔ ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی مغربی فلاسفر کو اتنی مقبولیت ’عزت اور عظمت حاصل ہوئی ہو۔ سارتر کی موت کی خبر فرانس کے بڑے بڑے اخباروں کے ساتھ ساتھ امریکہ کے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کی شہ سرخیوں میں بھی شامل تھی۔ ان کی موت کے بعد فرانس کے صدر ویلر دیستینگ نے ان کے احترام میں دوستوں کے ساتھ ان کی لاش کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارا اور اٹلی کے صدر نے ان کی محبوبہ اور شریک حیات سیمون دی بووا کو تعزیتی پیغام بھیجا۔

Read more

مجھے خود کی تلاش میں دلچسپی نہیں، روزگار چاہیے

عنوان میں نے ایسا رکھا ہے کہ جس نے تحریر پڑھنی ہو وہ بھی نہ پڑھے، ایسے حوصلہ افزا جملے سن سن لوگ تنگ آ چکے ہیں، ایسے جملے اکثر حوصلہ دینے پر معمور اسپیکرز اپنے منہ سے ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں، اپنی تلاش کیا ہے؟ یہ ایک عجیب اور پراسرار سا سوال ہے، انسان سوچ کر کیا کرے؟ جس ملک میں آپ کے پاس کھانے کو دو وقت کی روٹی نہ ہو تو آپ خود کی تلاش پر

Read more

دیسی مرد، ابھی تک دائیوں اور بائیوں کے خمار سے نہیں نکل سکا

دیسی مرد، ولائتی بھی ہو جائے، شہری ہو یا دیہاتی، جتنا مرضی پڑھ لے، کوئی بھی ڈگری حاصل کر لے، کسی بھی ادارے میں کام کر لے، پوری دنیا گھوم لے، نہ گھومے تب بھی رزلٹ ایک ہی ہے، اس میں سے دائیوں اور بائیوں کا خمار اور لطف نہیں نکلتا۔

اس کو منٹو بھی اس لئے پسند ہے کہ بائیوں کو شریف عورت سے بلند مقام دیتا ہے۔ ان کی مجبوری کا مرتبہ زیادہ ہے۔ (شاید شریف عورت کے پاس ایک خبیث مرد ہو تا ہے اس لئے۔ اب یہ شاید دل پہ لگانے والی بات تو ہے نہیں ) یہ عورتیں ان مردوں کو اس لئے عزیز ہیں کہ ان کی ذمہ داری ہوتی کوئی نہیں، چسکا مفت کا۔ جس نے سینکڑوں مرد بھگتائے ہوں، وہ مرد کی رگ رگ کو اچھے سے جانتی ہے۔ کیونکہ کاروبار کرنے کے لئے اس کے اصولوں سے واقفیت ضروری ہے۔ مگر یہ سب جانتے ہوئے بھی وہ بہت مظلوم عورت ہے یا بہت مشکوک عورت ہے یو نہی تاریخ کی چند حسین کتابوں میں لکھا رنجیت سنگھ کو قابو کرنے والی موراں بائی، جنرل رانی، مادام موسیقی، اور ان سب جیسی اور ہم عورتوں میں کوئی خاص فرق ان کو دکھائی نہیں دیتا۔ آہ

Read more

غنیمت ہے یہ اک لمحہ حضوری کا

انسان بڑا مفاد پرست ہے، خود غرض اور اپنے مطلب کا یار، جب سر پہ پڑی ہو تو گڑگڑاتا ہے، بلکتا ہے اور عجز و انکسار کی اخیر کر دیتا ہے، مطلب نکل جائے اور مانگا ہوا مل جائے تو غافل ہوجاتا ہے میں اپنے آپ میں پچھلے ڈیڑھ دو ہفتے کے دوران یہ سب مشاہدہ کر چکا ہوں۔ مشاہدہ کیا تجربہ، اب کہ مشکل دن اللہ کے فضل سے گزر گئے ہیں تو وہ خشوع و خضوع نہیں رہا۔

Read more

صحافت سیاست اور اقتدار کی تکون

سیاست صحافت اور اقتدار کا ہمیشہ سے چولی دامن کا ساتھ رہا ہے اس پیچیدہ تکون کی وضاحت کچھ یوں کی گئی ہے ایوان اقتدار کی راہداریوں سے قریب ہونے، رابطہ رکھنے اور اس کا حصہ بن جانے میں باریک سا فاصلہ ہے کچھ دوستوں نے یہ فاصلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور چند ایک نے اس کو عبور کر لیا، ان ایوانوں میں کسی ”خبر“ کی تلاش میں جانا اور پھر وہیں کا ہو جانے میں بہرحال زمین آسمان

Read more

ڈاکٹر تحسین فراقی اور بالشتیے

گروپ بندی نے علم و ادب کو بہت نقصان پہنچایا ہے، اب یہی دیکھ لیجیے کہ جس منصور آفاق کو لیجنڈ ڈاکٹر تحسین فراقی کی جگہ مجلس ترقی ادب کی کرسی دینے پر ایک عالم اعتراض کر رہا ہے اس کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے ممتاز ادبی شخصیت ڈاکٹر خواجہ زکریا ان کے دفتر پہنچے ہوئے ہیں، کل کائنات میں یہ منصور آفاق واحد انسان ہیں جو عثمان بزدار کے لیے دن رات تعریفی کالم لکھتے ہیں اور

Read more

علامہ اقبال کی نظر میں ”ابلیس“ کا کردار

اس کائنات میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے کہ جس نے ابلیس کے کردار کے بارے میں سوچا نہ ہو۔ اس کی ماہیت کیا ہو سکتی ہے؟ یہ اسرار حیات میں سے ایک سربستہ راز کیوں ہے؟ کاش یہ ”بدی کا استعارہ“ سجدہ کر لیتا تو نتیجتاً ہمیں آج اتنے کٹھن چیلنجز کا سامنا نہ کرنا پڑتا وغیرہ وغیرہ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ابلیس کسی وقت عبادت الٰہی میں ”سپر سٹار“ رہا! چونکہ اس کی بناوٹ آگ کی لو سے سے کی گئی تھی اس لیے نخوت و گھمنڈ کا عنصر موجود تھا۔

Read more

سہیل وڑائچ: تضادستان میں بے تضاد شخص

پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس سے وابستہ شخصیات کی وجہ سے بہت غنی اور ثروت مند ہے۔ اس میں ایسے صاحب علم، اہل نظر، کثیر المطالعہ، ویژنری اور تجربہ کار لوگ ہیں جو کمٹمنٹ اور لگن سے اس کی آبرو اور وقار کا باعث ہیں۔ سہیل وڑائچ کا شمار ایسے ہی صاحب نظر لوگوں میں ہے جنہوں نے اپنی عمر عزیز کا خاصا حصہ اس مشنری پروفیشن کو دیا اور نہ صرف اپنی بلکہ اس کی لاج رکھی اور مان بڑھایا۔ سہیل صاحب پاکستان کے ان بہت ہی معدودے چند جرنلسٹوں اور تجزیہ کاروں میں سے ہیں جو علم و دانش کی بنیاد پر میڈیا میں آئے اور تجربے اور ویژن کی دولت سے مالامال ہو کے سوسائٹی کی راہنمائی کر رہے ہیں۔

Read more

اہلیہ کے انتقال کے بعد ‘لاپتا’ صحافی مدثر نارو کی بازیابی کے مطالبے میں شدت

ویب ڈیسک — پاکستان کی وادیٔ کاغان سے ڈھائی برس قبل مبینہ طور پر ‘لاپتا’ ہونے والے صحافی مدثر نارو کی اہلیہ صدف چغتائی ہفتے کو حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئیں جس کے بعد مدثر نارو کی فوری بازیابی کے مطالبے میں شدت آ گئی ہے۔

صدف چغتائی اپنے شوہر کی بازیابی مہم میں پیش پیش تھیں، تاہم اُن کے اچانک انتقال پر انسانی حقوق کی تنظیمیں، سماجی کارکن اور صحافی افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

Read more

ایک سنجیدہ سوال اور احمد جاوید کا ایموشنل جواب

احمد جاوید کا شمار چند ایسے پڑھے لکھے لوگوں میں ہوتا ہے جو روحانی اور مذہبی گیٹ اپ کے باوجود کنویں کے مینڈک نہیں ہیں بلکہ ایک وسیع المطالعہ، سنجیدہ فکر اور مخلصانہ برتاؤ رکھنے والے انسان ہیں۔ انہوں نے مغربی فکر کا بھی سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے، ان کے نقطہ نظر کو سننے والوں کی ایک کثیر تعداد ہے اور اختلاف رکھنے والوں کا بھی وسیع حلقہ ہے۔ دنیائے ادب کے سکہ بند مصنفین کو پڑھنے کے باوجود ان کی فکری جڑیں مذہب کے ساتھ وابستہ ہیں، معاملہ فہمی اور چیزوں بڑی گہرائی سے دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود بہت سی جگہوں پر ڈنڈی مار جاتے ہیں اور ایک روایتی مرشد اور مولوی کی طرح بعض موضوعات پر دفاعی پوزیشن پر چلے جاتے ہیں اور مشکل لفظیات کی مالا بن کر اصل موضوع کو گول کر جاتے ہیں۔

Read more

سلیم صافی کو ماں کی دعائیں راس آئیں

سلیم صافی کا تعلق مہمند قبیلے کی ذیلی شاخ ملا گوری سے ہے۔ وہ 7 مارچ 1968 ء کو مردان میں پیدا ہوئے۔ وہ تیسری جماعت میں تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور بچوں کی تعلیم و تربیت اور دوسری سماجی ذمہ داریاں ماں کے کندھوں پر آ پڑیں۔ ماں نے یہ ذمہ داریاں ایسے احسن طریقے سے نبھائیں جو سلیم صافی کی پیشہ ورانہ کامیابیوں، کھرے اور کوٹے کی تمیز، اپنی قوم اور علاقے سے محبت اور اس کے لیے آواز اٹھانے میں صاف نظر آتی ہیں۔

مردان کے ہائی اسکول سے میٹرک اور مردان کالج سی ایف اے کیا۔ پشاور یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔ زمانہ طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے افغان جہاد میں حصہ لیا۔ یہ بھی ماں کی دعاؤں کا نتیجہ تھا کہ وہ نہ صرف معجزانہ طور پر موت کے چنگل سے بچ نکلے بلکہ ان کی سوچ بھی تبدیل ہوئی اور انہوں نے جہادی فلسفے سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور بحالی کے بعد اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ایک کامیاب انسان کے طور پر قومی افق پر ابھرے۔

Read more

رمضان سیریل چپکے چپکے

رمضان کے مہینے میں پیش کیا جانے والا ڈرامہ سیریل ”چپکے چپکے“ اس وقت ریٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے سوشل میڈیا پر بھی اس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ابلاغیات کے ماہر جی گربنر نے 1976 ء میں تفصیلی انداز سے ”کاشت کا نظریہ“ پیش کیا تھا، جسے Cultivation Theory کہتے ہیں۔ بحوالہ Journal of Communication، 29 ( 10 ) ، 177۔ 196۔ ) ۔ گربنر کا پیش کردہ نظریہ کہتا ہے کہ ٹیلی

Read more

ادب کیسے سماج پر اثر انداز ہوتا ہے

ادب محض جمالیاتی احساس کو تسکین بخشنے کا نام نہیں اور نہ وجدانی کیفیت طاری کرنے کا نام ہے اور پھر ادب صرف فنی باریکیوں کا بھی نام نہیں بلکہ ادب سماج کی اجتماعی زندگی کو مثبت انداز میں ڈھالنے کا نام ہے۔ ادب کی وسعتوں کا یہ عالم ہے کہ ادب کو تمام علوم کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔ کیوں کہ ادب کا کام محض حالات و واقعات اور متغیرات کی نشان دہی کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان عوامل کا سیاسی، سماجی اور معاشی حل تلاش کر کے نہایت قائدانہ اور مدبرانہ انداز میں درست سمت میں رہنمائی کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ادب سماجی شعور کے ساتھ ساتھ سماجی معاشرتی مسائل کے حوالے سے نہ صرف آئینہ دکھاتا ہے بلکہ ان کے حل کی ذمہ داری بھی اپنے کاندھے پر اٹھانے کے لیے تیار رہتا ہے۔

Read more

جوش صاحب

جوش صاحب ماشا اللہ، شخصیت کے لحاظ سے بھی، اور شاعری کے لحاظ سے بھی بہت بھاری بھرکم تھے۔ میں ان کی قادر الکلامی کی قائل ہوں، کیا نظمیں، کیا مناجات اور رباعیات۔ جو شاعری کی بھرپور کی۔

اپنے ایسے خیالات کا اظہار بھی برملا کر دیتے تھے۔ جن پر لوگ برا مان جاتے تھے۔ کبھی مولائے کائنات کو پکارتے ہیں کہ وہ ان کو آواز دے اور کبھی جبرائل سے طاقت پرواز مانگتے ہیں۔ کسی کو سود خور مولوی کہہ دیا۔ ایسے خیالات کی مذمت میں افکار رسالے کو ان پر نمبر نکالنا پڑا۔ (بھلا کس کے لئے کہا، میں تو نہیں کہہ سکتی۔ ”اپنی پوری کتاب دیدی، ہم تو کسی کو ایک شعر نہ دیں۔“ )  ایولیوشن کے سلسلے میں کہا۔ کہ فی الحال تو دم ہی جھڑی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جوش صاحب تشکیک کا شکار تھے، یا یقین و شک کے درمیان رہتے تھے جیسے اور بھی کوئی لوگ رہتے ہیں مگر اس طرح اظہار نہیں کرتے۔

Read more

علمی چمگادڑوں کی خدمت میں

میں اپنے بچپن سے علمی لوگوں سے بہت متاثر تھا۔ خود بھی ایک علمی انسان بننا چاہتا تھا۔ میں چھوٹے چھوٹے کتابچے لکھا کرتا اور خود کو مصنف کہلوانا پسند کرتا تھا۔ ان کتابچوں میں کچھ مضامین، کچھ کہانیاں اور کچھ نظمیں بھی ہوتی تھیں۔ میں نے اپنی زندگی کی پہلی نظم اپنے خالا زاد بھائی فیضان کی شان میں لکھی تھی۔ تب میں بارہ سال کا تھا۔ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔ میں بالآخر کسی جادوئی نظام سے آرٹس فیکلٹی پہنچا اور آخر میں علم نفسیات کا ہو رہا۔

Read more

ثمینہ کیوں چیختی ہے

مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ مضمون میں میں نے قرآن کی اس آیت کا حوالہ دے کر جس میں سرکش ( بدزبان، کج بحث، تنک مزاج ) بیوی کو سمجھانے، بستر علیحدہ کیے جانے کے باوجود چیخنے سے باز نہ آنے پر کو پیٹے جانے تک کا حکم ہے، اپنے تئیں خود کو فیمینسٹ خیال کرنے والی خواتین کو اپنے درپے کر لیا ہے۔

ایک بزعم خود قرآن شناس خاتون نے فرما یا کہ قرآن میں ان بیویوں کو پیٹنے کا حکم ہے جو شوہر کی عدم موجودگی میں بے راہرو ہوتی ہیں حالانکہ ایسی بدکار عورتوں کے لیے یکسر دوسری آیت ہے جس میں انہیں پیٹنے کا بالکل حکم نہیں بلکہ سمجھانے اور تادم مرگ گھر میں بند کیے جانے کا حکم ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی مجھ پر ارسال کی گئی مکمل پھٹکار یوں ہے :
آپ اسلام میں سے اپنی مرضی کی باتیں ہی دیکھنے کے کیوں عادی ہیں؟
آپ نے تین دفعہ عقد کیا اور دوسری کو تیسری بیوی کے بارے میں بتایا ہی نہیں، وجہ چاہے کچھ بھی ہو۔

Read more

شمیم حنفی: اردو تنقید نگاری کا ایک عہد تمام ہوا

برصغیرِ پاک و ہند کے معروف نقاد، ادیب اور ڈرامہ نگار پروفیسر شمیم حنفی چھ مئی 2021 کی شب نئی دہلی میں انتقال کر گئے۔ چند روز قبل ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ سات مئی کی صبح کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قبرستان میں ان کی تدفین کر دی گئی۔

شمیم حنفی مسلم یونیورسٹی علیگڑھ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو میں استاد رہے۔ جامعہ ملیہ کے شعبہ اردو نے انہیں پروفیسر ایمریٹس مقرر کیا تھا۔ وہ تاحیات اس منصب پر رہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لینگوئجز کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

Read more

بابا فرید گنج شکر ؒ۔ پنجابی شاعری کے بانی

حضرت بابا فرید گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ ایسے ولی اللہ تھے، جنہوں نے اپنوں کے علاوہ بیگانوں کے قلوب کو بھی نوراسلام سے بھر دیا۔ ولی ہوتا ہی وہی ہے جو کسی کا ہاتھ تھام لے تو پھر اسے بھٹکنے نہ دے۔ اولیاء کا کردار ہی ان کی ولایت کی علامت اور پہچان ہوتا ہے اور وہ اپنے ارادت مندوں کو صرف اور صرف درس شریعت دیتے ہیں۔ وہ بہترین انسان اور عمدہ اخلاق و آداب کے مالک ہوتے

Read more

آکسیجن کی کہانی (قسط سوئم)

پہلی جنگ عظیم عروج پر ہے ایک طرف برطانیہ، فرانس اور ان کی کالونیاں ہیں دوسری طرف جرمنی اور اس کے اتحادی یعنی آسٹرو ہنگری اور عثمانی سلطنتیں۔ لڑنے کے لئے ہندوستان سے دس لاکھ فوجی بھی لائے گئے ہیں جن میں کوئی چار لاکھ مسلمان شامل ہیں۔ بیلجیئم کے علاقے یائپرس میں قیامت کا رن پڑا ہوا ہے۔ یہاں بہت سے ہندوستانی جان پر کھیل جائیں گے۔ یہیں داد شجاعت دینے والے بلوچ صوبیدار، چکوال کے رہائشی خداداد خان

Read more

ملتان کی رسمیں اور ثقافتی رنگ

ایسے گیت جو رسوم و رواج کے مطابق ہوتے ہیں، ان کو رسوم و رواج پر مشتمل گیت یا رواجی گیت کہا جاتا ہے۔ ان گیتوں کی مختلف اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ کا تعارف اور نام شامل کیا گیا ہے۔ شادی بیاہ کے گیتوں میں شادی کی رسم ایک خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ وہ ماں جس نے بچپن میں لوریاں دے دے کے اپنے بچے کو سلایا اور لاڈپیار سے پالا ہوتا ہے شادی کا دن اس

Read more

گالی دینے میں مزا کیوں آتا ہے؟

ٹھوکر کھانے سے ہونے والی تکلیف میں تو شائستہ سے شائستہ انسان کے منہ سے بھی گالی یا کوئی لا یعنی بات نکل جاتی ہے۔ ایسا اضطراری طور پر ہوتا ہے۔ مگر ایسے الفاظ سے ہمیں تسکین کیوں ملتی ہے؟ اس مضمون میں ہم گالی کے محرکات جاننے کی کوشش کریں گے۔

Read more

دہلی میں کورونا نے اتنی تباہی کیوں مچائی؟

آج صبح ہی اس نے میرے پیغامات دیکھے اور اس سے میری بات ہو گئی۔ اس نے سب سے پہلے تو میرا شکریہ ادا کیا اور پھر بتایا کہ وہ تو ٹھیک ہے مگر اس کے آس پاس قیامت سے کم مناظر نہیں ہیں۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسی تباہی نہیں دیکھی۔ اس کی فیملی اور حلقہ احباب میں روز اتنے لوگوں کی اموات ہو رہی ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔ کیونکہ اس کی ہمت ہی جواب دے گئی ہے۔ ایشوتی نے بتایا کہ وہ دلی کے جس علاقے میں رہتی ہے وہاں پر تین شمشان گھاٹ ہیں ان میں جگہ کم پڑنے سے مزید نئے شمشان گھاٹ بنانے پڑے ہیں۔ وہاں پر ہر وقت جاری آخری رسومات کی وجہ سے فضاء میں ایک عجیب سی مہک رچ بس گئی ہے۔

یہی حال قبرستانوں کا ہے۔ وہاں پر بھی میتیں دفنانے کے لئے جگہ کم پڑ گئی ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ سب اچانک کیسے ہوا؟ تو اس نے بتایا کہ ہم تو بہت سکون میں تھے کہ کیسز کم ہو رہے ہیں، ویکسین کے آ جانے سے بھی ہمیں یہی لگ رہا تھا کہ آنے والے وقت میں صورتحال مزید بہتر ہو جائے گی۔ مگر حکومت کی نا اہلی اور عوام کی لاپرواہی کی وجہ سے ایسے لگا کہ جیسے ایک آفت اس شہر پر ٹوٹ پڑی ہے۔ کیونکہ مودی سرکار نے ویکسین پر تو بھرپور توجہ دی لیکن آکسیجن کی فراہمی پر کوئی توجہ نہ دے سکی۔ آکسیجن بنانے کے لئے جتنے کارخانے لگانے کی منظوری دی گئی تھی وہ لگائے ہی نہیں گئے۔ خاص طور پر دلی میں تو اس پر بالکل عمل درآمد نہ ہوا۔

Read more

مجلس ترقی ادب: منصور آفاق کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

مجلس ترقی ادب میں نئی تقرری کا معاملہ اس قدر سنگین ہے کہ ادبی اور صحافتی حلقوں کی طرف سے تاحال تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ راقم نے بھی گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ سنجیدہ لکھاریوں کو اس معاملے سے قطعاً کوئی دل چسپی نہیں کہ مجلس کا ناظم کون بن گیا اور کسے بننا چاہیے تھا بلکہ دکھ کی بات یہ ہے کہ سابق ناظم کو جس بھونڈے اندازمیں عہدے سے ہٹایا گیا اور جس

Read more

پنجاب کو فردوس عاشق جیسا وزیراعلی چاہیے

فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ کی حقیقی بیٹی ہونے کا حق ادا کر دیا، سیالکوٹ کے سستا رمضان بازار کے دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کی لاپروائی، غفلت اور نالائقی پر جس طرح اس کی کھچائی کی وہ بہت کم ہے، اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے تھی، وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پنجاب حکومت کی جانب سے رمضان المبارک میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے لئے

Read more

آمریت دانشور سے خوفزدہ کیوں ہوتی ہے؟

چند روز قبل احمد فراز صاحب کا ایک انٹرویو سنا۔ اس دور کے ہر آزاد خیال اور ترقی پسند ادیب اور شاعر کی طرح انہیں بھی اپنے دور کی ناہمواریوں اور حکمرانوں کی ”غلط بخشیوں“ پر نوحہ کناں پایا۔ کہنے لگے کہ آمریت کے ظہور سے چند روز قبل انہیں ”چیف صاحب“ سے ملاقات کے لیے لے جایا گیا۔ ملاقات کے دوران ”چیف صاحب“ کہنے لگے کہ ہمیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ عام آدمی ہمارے بارے کیا

Read more

موجودہ تعلیمی نصاب اور ہمارے نوجوانوں کے فکری مغالطے و مطالبات

کیا آپ سٹیفن پی کوہن کے بارے میں جانتے ہیں؟ انٹرویو نگار نے احمد سے سوال کیا۔ جی نہیں، میں نے ان کا نام آج پہلی بار سنا ہے، احمد کے چہرے پر پھیلے حیرانی کے سایوں نے انٹرویو نگار کو اکسایا کہ وہ مزید اس قسم کے سوال پوچھے، لہذا اس نے اگلا سوال کچھ اس طرح داغا کیا آپ جانتے ہیں پاکستان میں پہلا مارشل لاء کب لگا تھا؟ جی وہ میں، جی۔ مجھے یاد نہیں۔ ٹھیک ہے،

Read more

آئیں عاشق تلاش کریں

ایمان و جان کی امان پاؤں تو عرض یہ ہے کہ پہلے تو تحریر کے عنوان کو طنز نہیں بلکہ چیلنج سمجھا جائے تو بات سمجھ میں آ سکے گی۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ غیر تو غیر ہیں۔ ہم تو اپنے ہیں ہمیں، جو یقین رکھنے، جانثار کرنے والے ہیں ان سے زیادہ عاشق نظر آنا چاہیے جنہیں ہم گستاخ کہتے ہیں۔ ظاہر سے لے کے باطن پہ محبت کا اثر نمایاں ہو۔ نظر آتا ہو لیکن کچھ نہ

Read more

ادب کیا ہے؟

ادب کی تعریف اسی طرح مشکل ہے جس طرح دوسرے فنون کی۔ خاص طور پر ایسی تعریف جس پر سب کو اتفاق ہو۔ بعض لوگ مثلاً میتھو آرنلڈ ہر اس علم کو جو کتاب کے ذریعہ ہم تک پہنچے ادب قرار دیتے ہیں۔ والٹر پے ٹر (Walter Pater) کا خیال ہے کہ ادب واقعات یا حقائق کو صرف پیش کردینے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لیے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔ ایک تعریف کے مطابق ادب میں

Read more

لیاقت علی خان کا دورہ ماسکو حقیقت کیوں نہ بن سکا؟

تہران میں پاکستان کے سفیر راجہ غضنفر علی خان نے وزیراعظم لیاقت علی خان کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر گپ شپ کے دوران سوویت ناظم الامور مسٹر علی ایوو نے خاتون اول سے درخواست کی کہ آپ کبھی ماسکو بھی تشریف لائیے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے سوویت سفارتکار کی یہ خواہش نہایت سنجیدگی کے ساتھ سنی اور جواب دیا کہ ’ہم دعوت کے بغیر کہیں نہیں جاتے۔‘

Read more

ایم ٹی جے کا ناڑا اور قوم کی شلواریں

بند قبا ڈھیلی پڑ چکی ہے اور منہ زور ہوائیں مسلسل چل رہی ہیں۔ بے ستری کا زمانہ عام ہے اور ہر طرف برہنگی کو دور دورہ ہے۔ ایک ناڑے نے آدھی قوم کو ننگا کر کے رکھ دیا۔ مبشر زیدی سے لے کر رعایت اللہ فاروقی اور اسلم تک ”محققین“ کے اخلاقیات کے ستر کھل گئے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں فحش مواد سب سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ اس تلخ حقیقت کی تائید موجودہ

Read more

میری نظر میں مردانگی کیا ہے؟ سوالات کے جواب

نسل در نسل سے خواتین کو مکمل انسان نہ سمجھنے اور ان کو ملکیت کی طرح استعمال کرنے کی وجہ سے وہ اس بات پر مجبور کر دی گئیں کہ اپنے باپ، بھائی، شوہر اور پھر بیٹے پر بوجھ بنی رہیں۔ جب خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہوں، ان کی اپنی جاگیر اور ملکیت ہو اور اپنا گھر چلانے کے لیے ان کو کسی سے پیسے مانگنے کی ضرورت نہ پڑے تو پھر وہ اپنی بہو کو ایک مخالف کے طور پر نہیں دیکھیں گی۔ میں نے تو نوید کی ہری آنکھوں والی گرل فرینڈ کے ساتھ کبھی کوئی بدتمیزی نہیں کی۔ہمیشہ اس کو مہنگے تحفے دیے۔ ہمیشہ اس کو اچھی طرح سے پڑھائی کرنے کا مشورہ دیا۔ ظاہر ہے کہ وہ اب میرے خاندان کا حصہ ہے۔ اگر وہ پڑھی لکھی ہو گی، دنیا کے حالات جانتی ہو گی تو اس میں ہمارا اپنا فائدہ نکلتا ہے۔ اپنے بچوں کو کمزور بنا کر ہم خود کو کمزور بناتے ہیں۔ نوید کی پرانی گاڑی بھی اس کو دے دی۔ حالانکہ اس کو بیچ کر چند ہزار ڈالر میں اپنی جیب میں بھی رکھ سکتی تھی۔ ایک دن اس نے مجھے اپنی گاڑی میں لفٹ دی تھی تو میں نے دیکھا کہ اس کی گاڑی کتنی بدحال ہے اور اس کی سائیڈ ٹھکی ہوئی ہے۔

Read more

تکون کے چار کونے

ایک بہت سادہ سی تقسیم کے مطابق ہمیں ادب کے مطالعے میں دو طرح کی تحریروں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے ؛ ایک وہ جو سہل ہیں، اور دوسری دقیق اور گنجلک۔ سوال یہ ہے کہ جو تحریریں عام ذہنی سطح سے بالاتر ہیں کیا وہ ادب نہیں ہے؟ کیا اس کو لکھنے والا ادیب نہیں کہلا سکتا؟ دوسری جانب یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ جو بات سب کی سمجھ میں آ جائے وہ ادب نہیں رہتی بلکہ عامیانہ ہو جاتی ہے۔ ان دونوں نظریات کے اپنے اپنے ناقدین ہیں، ادب کی مکمل تعریف انہی دو کلیؤں کے درمیان کہیں قید ہے۔ یہ بحث اس لیے چھیڑ دی کہ بہت مدت کے بعد ایک کتاب پڑھی، جس میں یہ دونوں ہی کیفیات شدت سے ملتی ہیں۔ جس کا لہجہ عوامی ہے اور آہنگ فلسفہ ہائے دقیق کی بات کرتا ہے۔

Read more

مولانا طارق جمیل سے اختلاف کس بات کا ہے؟

مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جب میں سکول و کالج میں پڑھتا تھا تو جب بھی تبلیغی جماعت نزدیکی مسجد میں آتی تھی تو دو چیزیں خاص طور پر سننے کو ملتی تھیں. ایک : دنیا کی نہیں دین کی فکر کرو. ایک صحابی کا واقعہ سنایا جاتا تھا کہ انہوں نے دیوار کھڑی کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ دنیا کے ہر کام میں خسارہ ہے. فضائل اعمال ایسی ضعیف احادیث سے بھری پڑی ہے جس

Read more

ملک ریاض کا پاکستان

ستّر سال کی بوڑھی خاتون اُڑتے ہوئے گردوغبار میں بھاگتی ہوئی آئی اور اپنے ہاتھ کھول کر دیو ہیکل بلڈوزر کے سامنے کھڑی ہوگئی یہ غریب دیہاتی خاتون ملک ریاض اور اس کے طاقتور لیکن سرکش ساتھیوں کے اس خیرہ کن اور چمچماتی کھربوں مالیت کے منصوبے کے سامنے محض راستے کا ایک چھوٹا سا پتھر ہی تھی سو بلڈوزر بوڑھی خاتون کو بھی “ہموار” کرنے کے لئے آگے بڑھا۔ ایک چیخ بلند ہونے کو تھی کہ گاؤں کا ایک

Read more

اردو ترجمے کا مفہوم، ضرورت و اہمیت اور اغراض و مقاصد

زندگی جہاں بھی اپنا اظہار کرتی ہے ، اپنا نظام اور ماحول خود بنا لیتی ہے۔ اگر گردوپیش میں دیکھا جائے تو مختلف جاندار اور بے جان اشیاء اپنے وجود کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ جانداروں میں حیوان، درندے، انسان اور نباتات ہیں اور بے جان اشیاء میں پہاڑ، دریا، صحرا، جنگل، زمین اور پانی وغیرہ موجود ہیں۔ ماحول میں ہر وقت مختلف طرح کی آوازیں اپنا اظہار کر رہی ہیں۔ یہ آوازیں درحقیقت اشارات اور علامات ہیں۔ جب

Read more

چند مفید اور ضروری کتابیں

آج کے دور میں کتاب کی اہمیت سے انکار ناممکنات میں سے ہے۔ کتاب کی اہمیت و ضرورت پر بہت کچھ لکھنا بھی بہت کم ہے۔ سوچ رہا تھا اس دن کی مناسبت سے کیا لکھوں، کیسے لکھوں، کتنا لکھوں؟ کتاب کے بارے کچھ سطور لکھنے سے کیا میں کتاب کے ساتھ انصاف کر سکوں گا؟ کافی سوچ بچار کے بعد آخر فیصلہ کیا اس دن کی مناسبت سے کچھ نہ لکھنا بھی بہت زیادتی ہے تو اٹھا قلم اور

Read more

ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری بحیثیت اقبالؔ شناس

اردو ادب کے ہر رفیع الشان نقاد کے ہاں میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ جیسے عظیم المرتبت شعراء کا کلام اور افکار ہمیشہ پسندیدہ مطالعہ رہا ہے۔ ناقدین اور دانشوروں نے نہ صرف ان عظیم شعراء کی فکر اور شاعری پر ارتکاز کر کے بڑی محنت، لگن اور ژرف نگاہی سے نئے نئے گوشے اجاگر کیے بلکہ خود بھی دنیائے ادب میں اپنی الگ اور منفرد پہچان بنائی۔ ان ناقدین نے اپنی فہم و فراست کے مطابق بڑی محنت و مشقت

Read more

یقیں محکم، عمل پیہم، جہالت فاتحِ عالم

اسی لیے اگر ہم اپنے ارد گرد بغور اور مسلسل دیکھیں تب کہیں یہ حقیقت کھلتی ہے کہ اہلِ علم تو اپنا دامن بازارو دانش کے چھینٹوں سے بچاتے ہوئے اکثر گوشہِ عافیت میں نظر آتے ہیں اور جہالت اور وہ بھی دو نمبر جہالت گلی گلی سینہ پھلائے پھرتی ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔

Read more

مہجری ادب کی روایت اور معاصر مہجری ادب

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے ادب میں ایسی تمام تخلیقات جو بھلے ہی شعر میں ہوں کہ نثر میں، تخلیق کار کی ”ہجرت“ یعنی ”ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب نقل مکانی“ کے عہد میں اس کی اپنے سے محبت اور اس کی یادوں پر مبنی ذاتی تجربات، مشاہدات و احساسات کا احاطہ کرتی ہوں تو انہیں عرف عام میں ”مہجری ادب“ کہا جاتا ہے۔ اگر ”ہجرت“ کا تذکرہ

Read more

منتارہ (ناول)۔

ناول کا مرکزی کردار مخدوم ناظر حیات، سینیٹ آف پاکستان کا ممبر ہے۔ جو عمر کی قریب ساٹھ، ستر دہایاں اس تعداد سے اوپر حسینوں کے جلو میں گزار آیا ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر ”گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے“ کے مصداق جوانی کی یادیں تازہ کرنے بحرہند کے ساحلوں کا رخ اکثر کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک حسن پرست کردار ہے جو پاکستان کی سیاست میں معزز اور کولمبو اور پھوکٹ کے ساحلوں پر ایستادہ عیاشی کی پناہ گاہوں میں رذیل ترین عاشق آوارہ ہے۔ مخدوم سیاسی وجاہت کے مقابلے میں حسیناؤں کی نرم گرم آغوش میں رہنا پسند کرتا ہے۔ ہماری ملاقات مخدوم سے اسی ماحول میں ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی آخری دوست نائلہ کے ساتھ کولمبو کے ساحلی ہوٹل میں موجود ہے۔

Read more

سلیم راز صاحب کو اللہ صحت دے

بقول شخصے وہ 80 پلس ہیں اور اب بھی ویسے کے ویسے متحرک ہیں۔ اس عمر میں بھی ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، اسلام آباد، ہزارہ، بٹگرام، کراچی اور کابل تک ادبی پروگراموں میں شرکت اور صدارت کرتے نظر آتے ہیں۔ لگتا ہے انہیں کسی کی نظر لگ گئی، لیکن وہ تو پکے ترقی پسند ہیں بھلا ان کو کیسے کسی کی نظر لگے گی؟ وہ نظر کے قائل تو ہیں لیکن بصیرت کے معنوں میں، اہل نظر کے معنوں میں،

Read more

افغانستان کے 55 سالہ غلام حضرت جنھیں یونیورسٹی میں داخلے کی امید

55 سالہ غلام حضرت کا تعلق زرمت شہر سے ہے اور وہ پکتیا یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے خواہش مند ہیں۔ جمعے کو وہ داخلہ امتحان دینے گئے تو اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ انھیں مکمل امید ہے کہ ان کا داخلہ ہو جائے گا۔

Read more

اقبال: محنت کش طبقے کی صدا

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات اقبالؔ یکم مئی ہر سال شکاگو کے محنت کشوں کی عظیم جہدوجہد کی یاد کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ 1884 میں سرمایہ داروں کے ظلم و استبداد کے ستائے محنت کشوں نے بالآخر خاموشی کی روایت کو توڑتے ہوئے اپنے حقوق کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی پیش کر دی۔ اس عظیم قربانی نے دنیا بھر کے محنت کشوں کی تحریک میں نئی

Read more

خوشبو کا احساس اور پھولوں کا عرفان زندہ رکھنے والا شخص

اے حمید صاحب کا ایک اردو ڈائجسٹ کو دیا ہوا انٹرویو جس کا نام اور تاریخ وغیرہ تو یاد نہیں ہاں اندازہ ہے کہ دو دہائی پہلے کا ہو سکتا ہے۔ جب ڈائجسٹ پڑھا کرتا تھا تو ایک دن انٹرویو نظر سے گزرا تو ڈائجسٹ سے صفحات کاٹ کر الگ محفوظ کر لیے۔ یوں تو اس میں اے حمید صاحب نے خاصی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، جیسا تھا ویسا ہی لکھ رہا ہوں۔ انتیس اپریل ان کی برسی پر یہ انٹرویو ان کے چاہنے والوں کی نذر۔

Read more

عوام کو کیسے بے وقوف بنائیں؟

فرض کریں آپ حکومت میں آ گئے ہیں۔ دنیا میں ہر سو برائی ہے اور جس معاشرے کا آپ حصہ ہیں وہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، فلسفیوں اور دانشوروں کی ہزاروں سالوں کی محنت اور کاوش کوئی رنگ نہیں لائی اور بطور سربراہ مملکت آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کیا جائے؟ تو آئیں میں آپ کی رہنمائی کرتا ہوں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ذہن نشین کر لیں کہ آپ ایک معمولی ذہنی

Read more

حدیں پار کرنے والی وہ شہزادی جس کی کتاب پہلی صلیبی جنگ کی اہم شہادت ہے

اس کتاب کی مصنفہ شہزادی اینا کومنینے ہیں جو شہنشاہ الیکسیوس کی تخت نشینی کے تقریباً دو سال بعد پیدا ہوئیں اور ان کی پہلی اولاد تھیں۔ اینا کومنینے کو آج قرون وسطیٰ کی ایک عظیم مؤرخہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

Read more

ضیا شاہد صحافت کی ضیا

آج دوسرا اتوار ہے اور خبریں کا سنڈے میگزین میرے سامنے کھلا پڑا ہے۔ میں ضیا شاہد صاحب کا کالم ڈھونڈ رہی ہوں۔ مگر آج بھی میگزین پر ان کے کالم والا صفحہ سونا پڑا تھا۔ میں سنڈے میگزین میں صرف ان کا کالم بہت رغبت سے پڑھا کرتی تھی۔ باقی بس سرسری نگاہ ڈال کر گزر جاتی۔ میں ہمیشہ ضیا شاہد صاحب سے کہا کرتی تھی ”آپ اتنا کام کیسے کر لیتے ہیں۔“ جواب میں وہ بھینچے ہوئے منہ

Read more

منور ظریف: مزاحیہ اداکاری کے ’غالب‘ جنھیں 45 سال گزرنے کے بعد بھی لوگ نہیں بھولے

منورظریف کو دنیا سے گئے لگ بھگ آدھی صدی ہونے کو ہے لیکن ان کا فن اور اس کے تمام رنگ ابھی تک تازہ محسوس ہوتے ہیں۔ مرزا اسد اللہ خان غالب کے کلام کی طرح منورظریف کی اداکاری بھی کبھی آوٹ ڈیٹیڈ نہیں ہوئی۔

Read more

ناروے کے دو بڑے ڈرامہ نگار: ہنریک ایبسن اور بیورنستیارنے بیورنسون

ناروے آبادی کے لحاظ سے بہت چھوٹا ملک ضرور ہے لیکن اس کی مٹی زرخیز ہے۔ مختصر سے آبادی والے چھوٹے سے ملک میں اعلی قسم کا ادب لکھا گیا۔ ابتدائی ادب لاطینی حروف تہجی میں لکھا گیا۔ گیارہویں صدی تک یہی مروج رہا۔ بتدریج یہ زبان اور اس کے حروف تہجی اپنی موت مر گئے اور نوردن کی اپنی زبان وجود میں آئی اور اسی زبان میں ادب لکھا گیا۔ تیرہویں سے پندرہویں صدی تک ناروے ڈنمارک کے زیر

Read more

کلاس رومز اور تربیت

بچوں کی تربیت میں والدین کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ جہاں والدین بچوں کو برے اور اچھے کی پہچان کرواتے تھے ، وہیں اساتذہ بھی پیش پیش ہوتے تھے۔ نوجوان نسل کی تربیت میں والدین کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

کلاس روم وہ جگہ جہاں ایک استاد پر بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس نے نہ صرف بچوں کو تعلیمی نصاب پڑھانا ہے بلکہ بچوں کو ادب آداب بھی سکھانا ہے۔ پہلے بچوں کو تعلیمی نصاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تربیت بھی کی جاتی تھی۔ بڑوں سے کیسے پیش آنا ہے ، چھوٹوں سے کیسے شفقت کرنی ہے۔ اچھائی اور برائی کا فرق سمجھایا جاتا تھا۔ لیکن آج یہ سب جب میں سوچتی ہوں تو ایسے لگتا ہے جیسے لوگوں کے لئے یہ تربیت ادب آداب صرف مذاق کی باتیں ہیں۔

Read more

آہ! مولانا انیس احمد اصلاحی بھی رخصت ہو گئے

مدرسۃ الاصلاح کا سنسان پڑا مہمان خانہ ہے۔ گرمیوں کا دن ہے، اکا دکا پرندے چیں چاں کرتے سامنے درختوں پر پھدک رہے ہیں، گئے زمانوں کا ایک بڑا سا پرانا پنکھا چھت پر ٹنگا ہے اور اپنے مریل انداز میں کھٹر کھٹر، کھٹر کھٹر چل رہا ہے۔ کھڑکیوں میں باہر خس کا ٹاٹ لگا ہے اور اس میں سے بھینی بھینی خوشبو آ رہی ہے۔ اندر ترتیب سے کچھ کرسیاں اور چار، پانچ چارپائیاں پڑی ہیں، ایک چارپائی پر مولانا لیٹے ہوئے ہیں۔ میں ایک افسانہ لئے مولانا کے پاس پہنچا ہوں کہ اصلاح فرما دیں۔ وہ کہہ رہے ہیں پڑھو اور ساتھ اصلاح کرتے جا رہے ہیں، ساتھ ہی الفاظ کی باریکیوں، نزاکتوں اور اس کی لطافتوں پر بھی اشارے کرتے جاتے ہیں۔

Read more

ثقافت اور تہذیب کے مفاہیم کا معنوی و صوری جائزہ

ثقافت کا تعلق ہر شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ہر آن ثقافت اور روایات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ انتہائی لطیف موضوع ہے۔ اس موضوع پر بات کرنا اور اس کی درست معنوں میں تفہیم کا حق ادا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل دکھائی ضرور دیتا ہے۔ ثقافت کے سلسلہ میں مختلف افراد معاشرہ اور مشاہیر کے متعین کردہ مفاہیم میں فرق و اختلاف موجود رہا ہے۔ ہمارے معاشرے

Read more

میرا رہبر مشرف عالم ذوقی

یہ آج سے کئی برسوں پہلے کی بات ہے، شاید 2012 ء، ابھی میری پہلی کتاب پہلا ناول ہی منظر عام پہ آیا تھا اور افسانے ادبی جرائد میں چھپ رہے تھے میں نے حسب معمول اپنے شائع شدہ افسانے ”حرف اک منظر“ کی تصاویر فیس بک پہ پوسٹ کیں اور مشرف عالم ذوقی صاحب نے کمنٹ کیا کہ کیا یہ افسانہ آپ مجھے ای میل کر سکتی ہیں۔ نہ میں انھیں جانتی تھی اور نہ وہ مجھ سے واقف۔ میری تو کم علمی کا اعتراف یہ کہ میں اتنے بڑے نام سے ناآشنا تھی جبکہ مجھے جاننا کوئی ضروری نہیں تھا۔

ادبی دنیا میں یہ آغاز کا زمانہ تھا اور میری یہ نئی پہچان بہت سے مسائل کو جنم دے رہی تھی سو پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی تھی بلکہ یوں کہیے محتاط پسندی میرا مزاج ہے، میں نے سادہ سا جواب دیا ”میں ہاتھ سے لکھتی ہوں، کمپوزنگ کی سہولت نہیں ہے میرے پاس“ ۔ دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ اب مرحوم حامد سراج بھائی نے مجھے فون کیا ”سیمیں بہن مشرف عالم ذوقی انڈیا کے بہت بڑے ادیب ہیں، وہاں کے تارڑ سمجھیے، آپ کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے آپ کے افسانے پہ توجہ دی ہے، آپ کسی بھی طرح انہیں افسانہ بھیج دیجیے“ ۔ اس طرح ان کو فیس بک پر سرچ کر کے فرینڈ ریکویسٹ بھیجی اور یوں ان سے آشنائی کا پہلا زینہ طے ہوا۔

Read more

ذوقی اور تبسم: موت اور محبت کا بندھن

ذوقی 1986 میں کان میں قلم دبائے دہلی آئے اور گزارے کے لیے کانگریس پارٹی کی نوجوانوں کی تنظیم کے ترجمان ہندی ماہنامہ ’سیوا دل‘ سے وابستہ ہو گئے۔ میں فروری 87 میں ملازمت میں آیا اور ”آج کل“ کا سب ایڈیٹر مقرر ہوا۔ ذوقی آج کل کے دفتر آتے رہتے تھے۔ ایڈیٹر راج نرائن راز صاحب انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ میں آیا تو وہ میرے قریب آ گئے۔ تعلقات بڑھے، دوستی ہوئی اور بہت کم وقت میں گہری ہو گئی۔ ادب اور سیاست کی باتوں کے علاوہ ایک بات اور ٹکڑوں ٹکڑوں میں آتی رہتی تھی اور وہ تھی ان کا نامراد عشق جس کی تڑپ ان کے اندر ابھی زندہ و توانا تھی۔

غالباً جون کی ایک گرم شام منڈی ہاؤس کے ایک بس اسٹاپ پر انہوں نے اپنے عشق کی داستان تفصیل سے اور کسی طلسمی کہانی کی طرح سنائی۔ کسک یہ تھی کہ کاش کوئی کچھ کر سکتا۔ وہ ان کی عزیزہ تھی اور کلکتہ کے نواح میں رہتی تھی۔ دھیرے دھیرے کھلا کہ ان کا مدعا یہ ہے کہ میں کلکتہ جا کر اس لڑکی سے کچھ پوچھ کر آؤں۔ میں اپنے دو دوستوں کو ساتھ لے کر اس کے یہاں پہنچا۔ لڑکی کے والد ماجد نے ہماری تواضع تو کی لیکن محترمہ سے ملاقات کا شرف نہیں حاصل ہو سکا۔ مایوسی سی مایوسی۔

Read more

وحید الدین خان کا احسان

مولانا وحید الدین خان کو ہماری نسل نے تب جانا جب ان کا زمانہ ابھی نہیں آیا تھا۔ یہ تذکرہ ذرا نازک ہے، اس لیے پہلے بے جی کی حکایت سن لیجئے۔ بے جی میرے اباجی کی پہلی اہلیہ تھیں لیکن ہماری سوتیلی ماں نہیں تھیں، بے جی تھیں، گھر کی بڑی جن کی گود میں گھر کے سارے بچے پلتے ہیں اور کاروبار زندگی چلتاہے۔ یہ راز کبھی نہ کھل سکا کہ وہ صبح کی کس گھڑی میں اٹھتی

Read more

عامر لیاقت کا ناگن ڈانس اور دیگر کہانیاں

چند دن قبل میری نظروں سے عامر لیاقت حسین کی ایک ویڈیو گزری جس میں وہ ناگن ڈانس کر رہا ہے۔ اس ناگن کا رقص میرے لئے ایک بہت بھیانک جمالیاتی جھٹکا تھا۔ میں اس ”ریپٹائل“ کو پہچانتا تو تھا مگر اس کے رقص نے میرے سامنے ہمارے قومی زوال کی ہر جہت کو واضح کر دیا ہے۔ آئیے اس ناگن کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارا زوال بکسر اور پلاسی سے آگے بڑھ کر کیسے ہمارے اخلاقی اور جمالیاتی قلعوں کے تاراج ہونے تک پھیل گیا ہے۔

Read more

بچوں کے ادب کا عالمی دن اور اردو میں بچوں کے لیے کچھ عمدہ کام

بچوں کے ادب کا عالمی دن ہر سال اپریل کے پہلے ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ یہ ہنس کرسچن اینڈرسن کی سالگرہ کے ساتھ منسوب ہے۔ اینڈرسن بچوں کے ادب کے بڑے ادیبوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ دن انٹر نیشنل بورڈ بکس آن ینگ پیپل یعنی آئی بی بی وائی کے زیر اہتمام منایا جاتا ہے اس کا مقصد بچوں کی کتابوں سے قربت پیدا کرنا ہے۔ اس دن کے انعقاد کے پس منظر میں یہ خیال کارفرما ہے کہ بچوں کی کتابوں تک رسائی کو آسان بنایا جائے۔ اور بچوں کے لیے ادب تخلیق کیا جائے۔

Read more

تصویر نہیں تحریر

ادب کی دنیا میں خواتین کا ایک بہت بڑا حصہ نظر آتا ہے، چاہے وہ ماضی کی بات ہو یا جدید دور کی ، خواتین نثر نگاروں نے بہت شہرت حاصل کی اور اردو ادب کی ترویج و ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ خواتین نے اپنی تحریروں میں زندگی سے وابستہ ہر مسئلے کی نشاندہی کی اور اپنے قلم سے زندگی میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کیا، خصوصاً خواتین میں تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے آگاہی

Read more

کتابوں کی باتیں

کچھ عرصہ قبل افتخار احمد اور اصغر جمیل کی انگریزی میں لکھی ہوئی کتاب ”اسلامی لیبر کوڈ“ موصول ہوئی تو قدرے حیرت ہوئی کہ کچھ لوگ جذباتیت سے ہٹ کر پاکستان میں بھی ایسے موضوعات پر تحقیق و تصنیف میں مصروف ہیں۔ مصنفین کے مطابق اس وقت مسلمانوں کی تعداد ایک اعشاریہ آٹھ بلین ہے یعنی دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ایشیائی اور افریقی ممالک میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 69.4 فی صد ہے یعنی مسلمانوں کی مجموعی آبادی کا ستائیس فی صد حصہ ان ممالک میں رہتا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں کی تعداد صرف تین فی صد ہے۔ دنیا میں مسلم اکثریت والے ستاون ممالک ہیں جن میں ایک ارب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ یہ سب OIC اسلامی تنظیم برائے تعاون کے رکن ہیں جس کا قیام 1969 میں عمل میں آیا تھا۔

Read more

مشرف عالم ذوقی: لمحے جو مردار ٹھہرے

ریختہ کے انٹرویو کا سوال آج بھی میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ ’آپ اتنا کیسے لکھ لیتے ہیں؟‘ یہ سوال ذوقی سے تھا۔

’ہاں۔ مجھ سے یہ سوال بار بار کیا جاتا ہے۔ اور یہ الزام بھی مجھ پر لگایا جاتا ہے کہ آپ تو بسیار نویس ہیں۔ مگر آج میں آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ کیا کسی نے ٹیگور سے پوچھا اس نے اتنا کیسے لکھ لیا؟ کیا کسی نے دوستوئیفسکی سے پوچھا کہ اس نے اتنا کیسے لکھا؟ کیا کسی نے بالزاک سے یہ سوال پوچھا؟ نہیں پوچھا۔ کیوں کہ ان لوگوں کا کام ادب کی دنیا میں سانسیں لینا تھا۔‘

Read more

صورت حرف

جو کہانیاں نانیاں اور دادیاں سناتی تھیں وہ کتابوں میں حرف کی صورت اتر آئیں، تو یہ امید کرنے میں میں حق بجانب ٹھہروں گی کہ ادب زندہ رہے گا۔ اور دعا کروں گی کہ ہماری پیاری زبان اردو کا ادب زندہ بھی رہے اور اس میں ایک معیار بھی باقی رہ جائے۔ میں کوشش کرتی ہوں کہ تازہ واردان ادب کی تخلیقات کو خصوصی توجہ سے پڑھوں۔ اس پس منظر میں زیرنظر مجموعے کے افسانوں کو پڑھا تو بڑی خوشگوار طمانیت کا احساس ہوا۔

ایک تو یہ کہ سبھی افسانہ نگار خواتین ہیں اور ان میں کوئی کہنہ مشق اور معمر نہیں ہے۔ یہ آج کی نوجوان نسل ہے۔ اس نسل کی اردو سے وابستگی ہی دل خوش کن ہے۔ اور بیشتر افسانے اس بات کے ضامن ہیں کہ ایک معیار نہ صرف برقرار رہے گا بلکہ آگے اور آگے بڑھتا جائے گا۔ اور ہاں یہ خواتین افسانہ نگار اس بات کی بھی ضامن ہیں کہ زبان و ادب ساری تکنیکی ترقی کے باوجود نئی نسل میں ضرور منتقل ہوں گے۔

Read more

سوشلزم اکیسویں صدی میں

سنہ 1917 ء میں روس میں سوشلسٹ انقلاب، انسانی تاریخ میں محنت کشوں کی یہ پہلی کامیابی تھی اور یوں انسانی تاریخ میں محنت کشوں نے پہلی مرتبہ اقتدار سنبھالا۔ اس سے پہلے محنت کشوں کی بغاوتوں اور انقلابات کی تاریخ تو پڑھنے کو ملتی ہیں، مگر وہ سب بغاوتیں کچل دی گئیں اور انقلابات بھی شکست سے دوچار ہوئے۔ سوویت یونین ہزاروں سال میں پہلی ریاست ہے جسے محنت کشوں، مزدوروں اور کسانوں کی ریاست کہلانے کا اعزاز حاصل ہوا۔

عالمی سرمایہ داری نے اسے شروع میں ہی ناکام بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ سوویت یونین نے 1917 ء میں انقلاب برپا ہونے کے بعد پہلے چند ہی سال میں سائنسی ٹیکنالوجی، معاشی اور سماجی ترقی کے حوالے سے شان دار کامیابیاں حاصل کر لیں۔ مگر پھر اس نظام کے اندر ایسے مسائل نے بھی جنم لیا جس نے اسے کھوکھلا کرنا شروع کر دیا۔ سوویت یونین کے بحران میں دو چیزیں نہایت اہم ہیں، جمودیت اور افسرشاہی کی ایک خاص کلاس۔ یہی اس نظام کی تباہی کا سبب بنیں۔

Read more

بھارت کا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم بھوشن حاصل کرنے والے مولاناوحید الدین خان کون تھے؟

یہ غالباً 1993 یا 1994 کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں اپنے دور کے ایک بڑے صحافی مولانا عبد الوحید صدیقی کے اردو ہفت روزہ ’نئی دنیا‘ میں کام کرتا تھا۔

ہفت روزہ ’نئی دنیا‘ کا دفتر نئی دہلی کے ’حضرت نظام الدین ویسٹ‘ نامی پوش کالونی میں واقع تھا۔

’نئی دنیا‘ کے دفتر کے برابر ہی میں اپنے دور کے جید عالم دین اور دانشور مولانا وحید الدین خاں کی کوٹھی ہے۔ البتہ ان دونوں کوٹھیوں کے درمیان ایک سڑک ہے۔ ادارتی عملے کے ہم دو تین لوگ لنچ کے لیے جاتے ہوئے اس کوٹھی کے سامنے سے گزرتے تھے۔

Read more

ایبٹ آباد کی خصوصی سپورٹس گرل زینب نور کی کہانی

زینیب نور کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ انھوں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ اردو لٹریچر میں ایم اے کیا۔ ویل چیئر ریس کے چھ بڑے ٹورنامنٹ اپنے نام کیے۔ ایبٹ آباد میں خصوصی لڑکیوں کی کرکٹ ٹیم بنائی جو تین بڑے ٹورنامنٹ اپنے نام کر چکی ہے۔ زینب کی زبردست کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ( 3 دسمبر 2020 ) خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر انھیں خدیجۃ الکبرٰی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ زینب متعدد چھوٹے بڑے ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔

Read more

مطالعے کی اہمیت اور کتاب بینی کا فروغ

پوری دنیا میں 23 اپریل کو کتاب بینی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کتاب اور مطالعے کی اہمیت ہر زمانے، ہر معاشرے، ہر مذہب اور ہر تمدن میں رہی ہے۔ جن اقوام نے کتاب کو اپنایا وہ کامیاب ہوئیں، چاہے ان کی معاشی یا عسکری طاقت کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس جو قومیں معاشی اور عسکری طور پر ناقابل شکست سمجھی جاتی تھیں، وہ اگر تباہ ہوئیں تو اس کی ایک وجہ علم اور کتاب سے دوری سمجھی جاتی ہے۔

کتاب، کتاب بینی اور آج کے دن کی مناسبت سے کچھ بکھرے خیالات ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔

Read more

انارکلی فکشن: کے آصف اور فلم میکنگ کا آرٹ

فلموں اور امتیاز علی تاج کے سٹیج ڈرامے میں یہی بتایا جاتا ہے کہ سلیم اکبر کی واحد اولاد تھی۔ ایسا ہرگز نہیں ہے اکبر کی دس سے زائد اولادیں تھیں اور سلیم کی ماں جودھا بائی نہیں، مریم زمانی تھی۔ خود اکبر کے کئی بچے قانونی بیوی سے پیدا نہیں ہوئے تھے مطلب کچھ بچے کنیز یا لونڈی یا داشتہ لی اولاد تھے۔ اس لیے یہ کہنا کہ اکبر بیٹے کی کنیز یعنی انارکلی سے شادی کے خلاف تھا

Read more

جمہوریت اور فکر و عمل کی آزادی

سوال اگرچہ نیا نہیں مگر آج کل ایک بار پھر شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ جس تیزی کے ساتھ معاشرہ مذہبی ہوتا جا رہا ہے اسی تیزی کے ساتھ اخلاق گرتے چلے جا رہے ہیں۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا سبب دراصل ہمارا تصور انسان ہے۔ اخلاقی ا صول ان انسانوں کے لیے ہوتے ہیں جو آزاد اور خود مختار ہوں، عزت نفس کے احساس سے مالامال ہوں۔ اعلیٰ اخلاق صرف ان انسانوں میںپائے جاتے ہیں

Read more

مشرف عالم ذوقی اور تبسم فاطمہ کی یاد میں

تعلق جتنا بھی مضبوط ہو لیکن ہمیشہ رابطوں کا محتاج ہوتا ہے محترمہ تبسم فاطمہ نے یہ سچ کر دکھایا کہ بنا رابطے کے کوئی رشتہ نہیں، کہ جب ملن و ہم رکابی نہیں تو پھر کیسی محبت، چنانچہ اپنے شوہر کے غم‌ میں وہ بھی آخرت سدھار گئیں۔ انا‌ للہ و انا الیہ راجعون ابھی ہم ذوقی صاحب کے غم سے نکل بھی نہ پائے تھے، کہ ان کی جدائی کا صدمہ برداشت نہ کر پانے کی وجہ ان

Read more

شادی کو آسان بنائیں

اللہ رب العزت نے انسان کو زمین پر اشرف المخلوقات اور اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ اس لیے اس کو عقل و دانش، دل و دماغ اور بے پناہ صلاحیتوں اور گوناگوں کمالات سے نوازا ہے۔ زمین پر اس کی بقاء کا انتظام اور بلندی و امتیاز کا دھیان رکھا۔ جہاں اس کی بہت ساری ضرورتوں کا خیال کیا وہیں قانون فطرت کے مطابق اس کے لیے جوڑا یعنی عورت بنائی۔ جو جنسی تسکین اور بہترین زندگی گزارنے کے

Read more

عمل رامے” اور پاکستان مساوات پارٹی والے حنیف رامے”

کالج کے ایسے طالب علم کی حیثیت سے جو میسر فارغ وقت لائبریری میں بیٹھ ادبی جریدوں کی ورق گردانی کیا کرتا۔ نقوش۔ سویرا۔ ادب لطیف قسم کے جریدوں میں سے ایک کے اعلی تجریدی آرٹ سے مزین سر ورق پر ایک کونے میں لکھے ”عمل رامے“ کے الفاظ اپنے والد کے پرنٹنگ پریس پر بھی بیٹھنے والے کالج کی سیاست میں حصہ لینے والے مصور۔ نقاش۔ خطاط۔ کیلیگرافی۔ آرٹسٹ۔ ایم اے اکنامکس اور فلسفہ۔ ادیب مقرر اور نہ جانے

Read more

پاکستانی منٹو۔ بھارتی منٹو

سعادت حسن منٹو 1912 میں لدھیانہ میں پیدا ہوئے اور 18 جنوری 1955 کو لاہور میں وفات پائی۔ ان کے والد غلام حسن منٹو ذات کے کشمیری اور امرتسر کے محلہ وکیلاں کے باسی تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھے جو سوتیلے بہن بھایؤں کی موجودگی اور والد کی سخت طبیعت کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکے۔ وہ ابتدا ہی سے سکول کی تعلیم کی طرف مائل نہ تھے چنانچہ میٹرک میں تین

Read more

فرتاش سید؛ یادیں /ملاقاتیں

فرتاش سید سے میری پہلی ملاقات گول باغ، گلگشت ملتان میں ہوئی، ان دنوں وہ قطر سے واپس آئے ہوئے تھے اور اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھ رہے تھے۔ ان کی آمد پر ادبی تنظیم سخن سرائے نے ایک مختصر شعری نشست کا اہتمام کیا تھا جس میں ارشد عباس ذکی، نعیم آزاد، اسامہ خالد، عمران عالی، طہ ابراہیم اور کچھ اور دوست شامل تھے۔ نشست کے آغاز سے پہلے یک دم تیز بارش شروع ہوئی اور جب تک ہم

Read more

اردو ادب اور اقبال

ادب اس تحریر کو کہتے ہیں جس میں روزمرہ کے خیالات سے بہتر اور روزمرہ کی زبان سے بہتر زبان کا اظہار ہوتا ہے۔ ادب انسانی تجربات کا نچوڑ پیش کرتا ہے۔ انسان دنیا میں جو کچھ دیکھتا ہے، جو تجربے حاصل کرتا ہے، جو سوچتا سمجھتا ہے اس کے ردعمل کا اظہار ادب کی شکل میں کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب زندگی کے وسیع ترین مسائل کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے ذریعہ پروان چڑھتا ہے۔

Read more

ڈاکٹر فرتاش سید: ملاقاتیں اور یادیں

مجھ ایسے مضافات کے باسی پہلی بار مرکز میں جا کر ایک عجیب قسم کی حیرت میں ضرور مبتلا ہوتے ہیں۔ عموماً اس میں ہماری نامکمل معلومات کا ہاتھ ہوتا ہے جسے ہم تجسس کا نام دے سکتے ہیں۔ لاہور میں تعلیمی سلسلے کی خاطر قیام کے ابتدائی دن زیادہ تر نت نئی جگہوں پر جانے اور نئے نئے لوگوں سے ملنے میں صرف ہوئے۔ گلیوں اور سڑکوں کی خاک اڑائی اور مختلف مقامات پر چائے فروشوں اور ناشتہ لگانے

Read more

تاریخی ورثے کا مذہب نہیں ہوتا

ہر معاشرہ اپنی مخصوص روایات، تہذیب وتمدن اور ثقافت رکھتا ہے اور کسی بھی معاشرے، خطے، قوم یا ملک کی تہذیب و ثقافت نہ صرف اس کی تاریخ کی ترجمان ہوتی ہے بلکہ یہ اس کے تاریخی طرز تعمیر اور معاشرے کی بودوباش کی بھی عکاس ہوتی ہے۔ یقیناً کوئی بھی معاشرہ اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے بغیر اپنی تاریخ سے منسلک نہیں رہ سکتا۔ دوسرے تاریخی شہروں کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان بھی ہمیشہ علم و ادب،

Read more