عابدہ بے اولاد تھی اور اپنے شوہر سے برگشتہ بھی، لیکن کیا یہ خیال تعلقات کے آغاز سے ہی اس کے لاشعور میں پنپ رہا تھا کہ اسے بچہ ہر قیمت پر چاہیے؟
اس مرحلے پر بغیر نکاح کے جنسی تعلق اور گدھ کی مردار سے رغبت کے تھیسس کو سامنے رکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کیا مصنفہ ناول کے بنیادی موضوع کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے قیوم کی گدھ سے مماثلت کے خیال میں مضبوطی پیدا کرنا چاہتی ہیں؟ عابدہ کی اپنے شوہر سے اولاد نہ ہونا اور اس کمی کو قیوم کے نطفے سے مکمل کرنے کی کوشش کا بیان پڑھتے ہوئے قاری اس منطق کو کیسے بھول سکتا ہے جو سیمی اور قیوم کے تعلق پر منطبق کی گئی تھی۔
خود کو راجہ گدھ سمجھتا قیوم مصنفہ کے تھیسس کا دفاع کرتے ہوئے عابدہ کی پیش قدمی روکنے سے قاصر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یا تو عابدہ بانو کے قابو میں نہیں یا بانو کو عابدہ کے اس فیصلے بلکہ سب فیصلوں اور حرکات سے کوئی دل چسپی نہیں۔ وہ قیوم کو راجہ گدھ بنانے میں اس قدر محو ہیں کہ بہت سی تفصیلات یا ناول میں ترتیب دیے گئے ماحول کی نزاکت فراموش کر دیتی ہیں۔
Read more