ساعت مادر کا تسلسل

وہ گھر آج بھی بلا رہا ہے مجھے جبکہ اب میرا وہاں کوئی نہیں اسے بیچ دیا تھا میں نے ایک لمحے کی اشد اور عقل مند ضرورت سمجھتے ہوئے مگر اک ٹھنڈی میٹھی انتظار کی تمازت سے بھری دھوپ تنی ہے اس کے صحن اور چھت پر کون ہے جو راہ تک رہا ہے میری مین گیٹ تک نظریں گاڑے جبکہ  وہ اندر اپنے کمرے میں نیند سے بوجھل کانپتے لرزتے ناتواں پپوٹوں میں میری آہٹ کی امید سینچ

Read more

بندیا رانا: ایک ذہین، باشعور اور بہادر خواجہ سرا جس نے ہار نہیں مانی

بندیا رانا نا صرف کراچی بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بسنے والے خواجہ سراؤں کے حقوق بحالی کے لیے ایک ایسا کردار ہیں جنہوں نے کٹھن سے کٹھن حالات میں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انھوں نے 2013 ء کے انتخابات میں کراچی سے حصہ لیا، مخالفین ان کے کاغذات نام زدگی منظور ہونے کے بعد اس قدر خوف زدہ ہو گئے کہ انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے علاوہ ان کی انتخابی مہم میں ہر طرح کی

Read more

دنیا ہے ماں تیرے آنچل میں

بھائی صاحب کا فون تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ممی کو نرسنگ ہوم میں شفٹ کردیا جائے۔ یار تم سمجھتے نہیں ہو اورخواہ مخواہ میں جذباتی ہورہے ہو۔ ہم لوگ اب ان کا خیال نہیں رکھ سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب نرسنگ ہوم میں ان کا خیال رکھا جائے، وہاں تو پروفیشنل نرسیں اور دیکھ بھال کرنے کے ماہرہوتے ہیں۔ ہر وقت خیال رکھا جاتا ہے کوئی بھی مسئلہ ہو

Read more

ہم اور پنجابی زبان

میرے بچوں کی مادری زباں اردو ہے۔ کیونکہ ان کی ماں اردو بولتی ہے تو مجبوری ہے۔ ورنہ میں تو مقدور بھر پنجابی کا تڑکا لگانے کی کوشش کرتا ہوں اور اردو کے جواب میں بھی اکثر پنجابی میں ہی مافی الضمیر بتاتا ہوں۔ گو کہ اردو میں بھی اچھا خاصا گزارا کر لیتا ہوں۔ مگر مجھے یہ فطری نہیں لگتا اور جس دن مجھے کبھی مسلسل بوجہ مجبوری اردو میں بات کرنا پڑے تو یقین کیجیے تشنگی کا عالم

Read more

شکریہ کورونا

وطن عزیز میں جہاں موت کی ننگی تلواروں کا بلا ناغہ رقص ہوتا ہو وہاں کورونا کی چٹکیوں سے کون ڈرتا ہے بھلا! ویسے بھی ہم شاہین ہیں اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں تیری کیا مجال کہ تو ہمیں موت سے ڈرا سکے کورونا۔ ہم مذہب پرستوں، فرقہ پرستوں، قوم پرستوں، نسل پرستوں، شخصیت پرستوں، پیسہ پرستوں، عہدہ پرستوں، شہرت پرستوں، شہوت پرستوں، جماعت پرستوں، لیڈر پرستوں کے خون میں جنون کی آگ

Read more

ماں! پیکر وفا

ٓٓآج دنیا بھر میں ماں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ ایک روایت ہے ورنہ ماں کے بغیر تو کوئی دن، دن ہی نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے حروف تہجی کا کوئی بھی مجموعہ لفظ ماں کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی کا اپنے بندوں کے لئے سب سے خوبصورت تحفہ ماں ہے۔ ماں صرف ایک لفظ ہی نہیں ایک احساس، محبت، شفقت، پیاراور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے۔ ماں ایک تختی کی مانند ہے

Read more

قیدی کا ورثہ

(1948 میں فلسطینیوں کے جبری انخلا کی یاد میں منائے جانے والے دن النکبة ( 15 مئی) کے نام) میں قید میں تھا، بہت ہی تاریک قید۔ اپنی قید میں رکھنے والی مجھے سارا دن ساتھ ساتھ اٹھائے پھرتی۔ پھر ایک رات کچھ فوجی آئے اور اس کو ساتھ چلنے کے لئے کہا۔ اس کو ایک عمارتی قید خانے میں بند کر دیا گیا۔ چند ہفتوں کے بعد میں اس کی قید سے باہر آگیا۔ میں نے اس نئے قید

Read more

ہمیں خبر نہ ہوئی، مصطفیٰ چلا گیا

سوشل میڈیم پر گزشتہ کئی برسوں میں جب بھی جھنگ کے کسی دوست سے رابطہ ہوا تو میں نے اپنے ہم جماعت ڈاکٹر محمد مصطفٰی سے متعلق ضرور پوچھا۔ مجھ سے استفسار ہوا کیپٹن ڈاکٹر مصطفٰی؟ تو میں کہتا، ہاں کیونکہ فوج میں تو وہ رہا تھا۔ جواب ملتا ٹھیک ہیں۔ خود میں زندگی میں کبھی جھنگ نہیں گیا، ہاں البتہ بہت پہلے جب کبھی سیلاب آ کے گزر گئے ہوتے تو ملتان سے جھنگ کے راستے لاہور جانے والی

Read more

عارف وزیر کا قاتل کون؟

38 سالہ پختون رہنما عارف وزیر کے قتل کا معاملہ ابھی نہیں تو کچھ دنوں بعد یقیناً خوش اسلوبی سے ”کھوہ کھاتے“ ڈل جائے گا۔ ایسا ہرگز نہیں کہ قاتلوں کا کھوج لگانا مشکل کام ہے بس غم، دکھ، اور شرمندگی صرف اس کہ پہچان کا سامنا کرنے میں آڑے آتیں ہے۔ وجہ یہ ہے قتل کا کھرا اس دہلیز کی طرف لے کر جاتا ہے جنہیں ”ماں“ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ہر شخص کی طرح عارف کی

Read more

یتیموں کا دن

کچرے کے ایک ڈھیر کے پاس کھڑا میں سوچ رہا تھا کہ آخر اس کہانی کا سرا کہاں سے ملے؟ سوال یہ درپیش تھا کہ بڑے بڑے شہروں کے بیچ اور اطراف میں یہ جو کچرے کے عظیم الشان ڈھیر پڑے رہتے ہیں، ان پر بھی ایک مخلوق پلتی ہے، کیا اس مخلوق سے ہمارا بھی کوئی تعلق واسطہ ہے اور اگر ہے تو ہماری زندگیوں پر ان کے اثرات کی نوعیت کیا ہے؟ یہی سوچتے ہوئے کہانی کا سرا

Read more

ولہلم رائخ پر خالد سعید صاحب کے ایک مضمون کی شرح‎

میرے ذی قدر استاد پروفیسر خالد سعید صاحب نے جن ماہرین نفسیات پر 1980 کی دہائی میں مضامین تحریر فرمائے تھے ان میں سے ایک آسٹریا میں پیدا ہونے والے ولہلم رائخ Wilhelm Reich بھی تھے. پڑھے لکھے افراد کی اکثریت ان کو ان کی مشہور کتاب Mass Psychology of Fascism کے حوالے سے جانتی ہے۔ نفسیات کے طلباء کے پاس بالعموم ان کی 23 کتابوں کی فہرست ہوتی ہے۔ خالد سعید صاحب نے دس کتابوں کی فہرست اپنی تحریر

Read more

میں ہوں اطہر شاہ خان جیدی

جی، جی میں ہوں اطہر شاہ خاں۔ اکثر لوگ مجھے ”جیدی“ کہہ کر پکارتے ہیں۔ نہیں، نہیں، مجھے برا نہیں بلکہ بہت اچھا لگتا ہے۔ کہ میری تخلیق اس قدر مقبول ہوئی اور میری پہچان بھی بن گئی۔ پاکستان بننے کے بعد والدین، رام پور اتر پردیش سے لاہور آ بسے۔ میری عمر اس وقت 4 سال تھی۔ لاہور کے مختلف سکول و کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ہوش سنبھالتے ہی گھر میں قلم و کتاب کے رشتہ کو محترم

Read more

استحصال کا خاتمہ۔ ۔ ۔

مملکت کے علاقہ جات اور مذہب کے آرٹیکل کے بعد سب سے اہم ترین آرٹیکل دستور پاکستان میں آرٹیکل ( 3 ) ہیں اس شق کا مطلب ہے کہ ریاست پاکستان تمام اقسام کے استحصال کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے گی۔ اس آرٹیکل پر عمل کرنے سے پاکستان کے 75 % فیصد مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے اس طرح کی شقوں میں روح ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ اٹھارہویں ترمیم میں کنکرنٹ لسٹ ختم ہوجانے

Read more

صدیقہ آپا سے ایک ملاقات

مشیت ایزدی کے سامنے سر جھکاتے ہوئے خاک میں تو سب ذی روحوں کو جانا ہی ہے لیکن سونا کہلانے والی اس عورت کی خوش نصیبی میں، اس کے خوش اخلاق اور بلند مرتبہ ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے جس کا شوہر نامدار، اس کا رفیق زندگی اس کے بارے میں ایسے کلمات کہے۔ اللہ اللہ۔ رب العزت صدیقہ آپا کو غریق رحمت کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔ آمین

میں صدیقہ آپا سے صرف ایک با ر ملی۔ اور وہ بیٹھک دل پر نقش ہو گئی۔ قریباً پانچ برس قبل ایک مشاعرے میں پہلی بار ان سے بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ میں خاموش ایک طرف کو بیٹھی تھی جب وہ تشریف لائیں۔ کیا شاعرات، کیا نامور شعرا حضرات سب اٹھ اٹھ کر ان کو سلام پیش کرنے کو آئے۔ انہوں نے کمال شفقت سے سب کے سلام کا جواب اور دعائیں دیں۔ اور کم نصیبی دیکھیے کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ محترم ہستی کون ہیں؟ بالآخر ہمت کر کے پاس گئی سلام پیش کیا۔

Read more

جنت کے خواب

وہ ابھی بچہ تھا جب اس کے دماغ کے ساتھ کھیلنا شروع کیا گیا۔ ۔ ۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی کہ اس نے اس دور میں آنکھ کھولی تھی جب ہر طرف جنگی رومان زبان زد عام تھے اور سب سے بڑھ کر جنت کا حسین خواب دکھایا جاتا تھا۔

‎اگر یوں کہا جائے کہ چار سو جنت اور جہنم کا خواب بک رہا تھا، تو غلط نہ ہو گا۔ اس خواب کے اتنے بیوپاری تھے کہ ان کی تعداد کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔ ہر کوئی اس خواب کو بیچنے کے لئے مختلف دکانیں سجائے بیٹھا تھا اور وزیرستان میں انھی خوابوں کو بیچنے والوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا تھا کہ خواب کے ان منڈیوں (ان کے مراکز) میں اسلحے سمیت اس خواب کے سوداگر کے ساتھ سینہ بہ سینہ ہزاروں پیروکار موجود ہوتے، اور اگر کوئی ان سے اختلاف رائے رکھتا یا ان سے اختلاف کرتا تو اس کو دبوچا جاتا اور اگر کوئی اور کسی اور خواب کی ریڑھی لگاتا، اس کی تو پھر خیر ہی نہیں تھی۔

Read more

زندگی دھوپ تم گھنا سایہ

نہ جانے معروف شاعر جناب جاوید اختر نے یہ شعر کس کے بارے میں کہا ہے لیکن میں جب بھی اس شعر کو پڑھتا یا کسی کی زبانی سنتا ہوں تو مجھے اپنی ماں یاد آتی ہے : تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا زندگی دھوپ تم گھنا سایہ الحمدللہ میری ماں اب تک حیات ہیں اور جو لوگ اس سائے سے محروم ہوچکے ہیں، ان کے اوپر مجھے بڑا رحم آتا ہے۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اپنی

Read more

میرے والد صاحب اور ذیابیطس

مصنف: ڈاکٹر مظفر علی شاہ اور ڈاکٹر لبنیٰ مرزا۔

ڈاکٹر لبنیٰ مرزا : سفر میں آسانی اور خوراک کی افراط کی وجہ سے ذیابیطس کا مرض تمام دنیا میں تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔ ذیابیطس کے مریض اگر اپنی شوگر کو نارمل دائرے میں نہ رکھیں تو اس کی سنجیدہ پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا علاج اینڈوکرنالوجی کی پریکٹس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اس مہینے نارمن اینڈوکرنالوجی کلینک میں ڈاکٹر مظفر علی شاہ روٹیشن کر رہے ہیں جنہوں نے ذیابیطس کی اردو زبان میں چھپنے والی کتاب کے لیے اپنے والد صاحب کی کہانی لکھی ہے۔ امید ہے کہ قارئین اس سے اہم معلومات اور سبق حاصل کریں گے۔

Read more

سائنس کا پول بھی کھل ہی گیا

دسمبر 2019 سے اب تک تقریباً عرصہ 6 ماہ کا ہو چکا ہے کرونا نامی وبا نے دنیا بھر میں لگ بھگ تین لاکھ افراد کو بے رحمی سے موت کے منہ میں دھکیل دیا ہے اور 40 لاکھ افراد کو متاثر کیا ہے۔ دنیا بھر کے ذہین و فطین اذہان نے متاثرہ افراد کو قرنطینہ اور اپنے اپنے ملکوں کو لاک ڈاؤن کرکے کرونا کی شدت کو روکنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ یہ حکمت عملی وجود کائنات

Read more

ماں کی محبت کے لیے کوئی ایک دن مختص نہیں۔ ۔ ۔

ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ماں کی محبت، شفقت اور بے لوث پیار کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ماں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔

مجھے عالمی دنیا کی ماں کے لیے مختص کردہ صرف ایک دن سے اختلاف ہے۔ ماں کا پیار اور خدمت کے لیے پورا سال بھی ناکافی ہے۔ صرف ایک دن دکھاوے کے لیے ماں سے چمٹ کر تصاویر کھینچنے اور سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرکے ماں سے پیار اور ہمدردی جتانے سے حقیقت نہیں بدل سکتی ہے۔

Read more

گمشدہ مامتا

محسوس ہوتا تھا کہ خوش گمانی کے پرندے میرے اردگرد پرواز کرتے ہیں کہ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وطن سے شدت پسندی، لاقانونیت کا خاتمہ قریب ہے، دیس کی مقید حدود میں علم کے تارے جگمگ نظر آتے، جب بھی کسی کالج یا یونیورسٹی کے سامنے سے گزرتی ہوں یا سوشل میڈیا پر عقل مند اور قابل نوجوانوں کا بہت اچھے انداز سے لکھا گیا کوئی مضمون پڑھتی ہوں، خوشی محسوس کرتی ہوں۔ لڑکیاں بھی سوچ رہی ہیں پڑھ رہی ہیں دور دراز کے علاقوں میں بھی تعلیم اور معاش کے لئے فعال ہیں۔ سوشل میڈیا پر سنجیدہ ہیں۔ ایک خوش کن اور روشن احساس،

Read more

وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔

وے بابو! تیرے بچے جیون۔ ۔ ۔ اچانک سے یہ آواز میرے کانوں میں آٹکرائی۔ کچھ لمحات کے لیے میں بیچ بازار سوچ میں پڑگیا کہ آج حلیہ تو ایسا اچھا نہیں کہ کوئی مجھے بابو بلائے اور منہ بھی رومال میں لپٹا ہوا ہے تو پھر یہ کون غلط فہمی کا شکار ہے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک خاتون ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی اور بار بار اصرار کیے جارہی تھی کہ وے بابو تیرے بچے جیون۔ اب محترمہ کو کون سمجھائے کہ وہ جس بابو کے بچے جینے کی دعا کیے جارہی ہے وہ تو ابھی خود بچہ ہے۔

خیر یہ تو تھی آج کی روداد لیکن عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مختلف جگہوں پر مانگنے والوں کے تکیہ کلام بھی مختلف ہوتے ہیں۔ آئیے مزید مختلف جگہوں کے مختلف تکیہ کلام ملاحظہ فرمائیے :

Read more

اُف اور عاجزی ( ہیپی مدر ڈے )۔

” اور ہم کس کے لئے وہ کام کرتے ہیں جو نوبل انعامات دینے کا باعث بنتے ہیں، اگر ہم ماؤں کے لئے نہیں کرتے؟

یہ وہ الفاظ تھے جو 2003 ء میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والے جے ایم کوئیٹزی نے ایک تقریب میں کہے اور اپنی والدہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا لہجہ، ان کے الفاظ، ان کے احساسات سب کچھ ان کے چہرہ سے عیاں ہو رہا تھا کہ وہ اس شاندار تقریب میں اپنی والدہ کی کمی کس قدر اپنے دل میں محسوس کر رہے ہیں۔ وہ اس بات کی حسرت کر رہے تھے کہ اے کاش آج ان کی والدہ زندہ ہوتیں تو وہ جب ان کو کہتے، ”ماں، ماں، میں نے ایک انعام جیتا!“

تو ان کی والدہ ان سے مخاطب ہو کر کہتیں،
”میرے پیارے یہ بہت اچھا ہے، اب اپنی گاجر کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی کھا لو“
اپنے لفظوں کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا،
”میرے والدین کا دلی شکریہ، مجھے کتنا افسوس ہے کہ آپ آج یہاں نہیں“

Read more

ایک فن کار ماں جو بچوں کی خاطر پاگل بھکارن بن گئی

شیکسپیئر کا ایک خیال بہت مشہور ہے کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہر انسان اس کا فن کار، ہم میں سے ہر ایک یہاں اپنا کردار ادا کرنے آتا ہے اور ادا کرکے چلا جاتا ہے۔

آپ کو ایک بات بتاؤں! آپ نے کوئٹہ دیکھا ہے؟ کچلاک کی جانب بھی گئے ہوں گے۔ ائرپورٹ روڈ کی پاگل بڑھیا اب بھی یہاں کے لوگوں کو یاد پڑتی ہے۔ جس کے دائیں ہاتھ میں ایک موٹی سے لاٹھی اور بائیں کندھے سے ایک بورا جھولتا تھا۔ سڑک کنارے کاغذ اور کولڈ ڈرنکس کے پلاسٹک کی بوتلیں اور ٹین کے خالی پیک چنتے اسے ہر گزرنے والا دیکھتا تھا۔ لاٹھی ٹیکنے اور سہارا لینے کے کام آتی تھی۔ کبھی کبھی غصے میں ہوتیں تو دونوں ہاتھوں میں تھامے فضا میں گھماتی چلتیں۔

Read more

کرونا وائرس : کس سرکاری کال نے شہریوں کو ہلا کے رکھ دیا؟

کرونا وائرس کی بجائے شہریوں کے ”زبردستی کرونا“ کا شکار کیے جانے کی اطلاعات نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب شہریوں میں ”کرونا“ سے زیادہ ”جعلی کرونا“ کا خوف پھیلنا شروع ہو گیا ہے، جس نے کرونا متاثرین کی بابت تشخیص کے پورے سرکاری نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اس سلسلے میں پہلا واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب کراچی کے ضلع جنوبی کی رہائشی ایک خاتون عشرت بی بی کے قرنطینہ میں ہونے بارے معلومات کے لئے ڈی سی آفس کی طرف سے رابطہ کیے جانے پر پتہ چلا کہ خاتون انتظامیہ کے زبردستی آئسولیشن میں رکھنے کے نتیجے میں انتقال کر گئی ہے جبکہ دو بار ٹیسٹ کروانے کے باوجود اس کی رپورٹ نیگیٹو آئی تھی

Read more

منگیتر سے زبردستی، رومان، ہراسانی یا گناہ؟ قسط نمبر 9۔

”میں نیچے جارہی ہوں“ وہ باسط کی طرف دیکھے بغیر کہہ کر دروازے سے نکل آئی۔ پھر کب اس نے چائے پی کب گھر واپس آئی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ مستقل اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پہ کوئی کراہت آمیز چیز لگ گئی ہے۔ آتے ہی واش بیسن کھول کے کھڑی ہو گئی۔ بار بار چہرے پہ پانی ڈالتی بار بار صابن رگڑتی۔

Read more

تجسس امید دیتا ہے اور پھر ناامید کر دیتا ہے

مجھے اول نشست پر بیٹھنے کا تجسس تھا، ممکن ہے مجھے یہ گمان تھا کہ پہلی نشست میں بیٹھنے والا ہی اساتذہ کے فہم کے مطابق لائق و قابل شاگرد ہوتا ہے۔ سو جونہی گھر اس بات کا علم ہوا تو پرنسپل نے اگلی ہی صبح مجھے پہلی سیٹ پر بٹھا دیا۔ ہمارا اسکول اسلامی تھا اس لیے ہم چار بہن بھائی ہی وہاں کرسچن تھے اسی لئے پرنسپل صاحب کسی فرمائش کو رد کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ لیکن پہلی نشست پر بیٹھتے ہی وہ تجسس ختم ہوا اور مجھے اپنے کیے پر پچھتاوا ہونے لگا اور جیسے تیسے میں پھر اپنے دوستوں کے ساتھ آخری رو میں معمول کے مطابق بیٹھنے لگ گیا۔

Read more

کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

” شیلا، دیکھو! میں سنبل کو ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہی ہوں۔ صاحب ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگ جائیں، انہیں ناشتہ دے دینا۔“

”جی، بی بی جی، ٹھیک ہے۔ لیکن صاحب کب جاگیں گے؟“
”تقریباً جاگ ہی رہے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد دیکھ لینا۔“
” اور میرے آنے تک سارے کام بھی مکمل کر لینا۔“

Read more

سیاست کے کورونے

شیر گھاس پر چلنا پسند نہیں کرتا کہ کہیں کانٹا اس کے نرم پاؤں میں نہ چبھ جائے۔ وہ میدان کا درندہ ہے جانور فطرت کے مدرسے کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور ہم میدان سے بھاگ کر جنگل کی لمبی لمبی گھاس پر چلنے کے خواہش مند بنی نوع انسان۔ لامحالہ کورونا کے کانٹوں سے اپنے پاؤں زخمی کر بیٹھتے ہیں لیکن باز تب بھی نہیں آتے۔

ہم مشکل پسند نہیں سہل پسند ہیں۔ ہماری سہل پسندی تو ماں کی گود سے ہی شروع ہوجاتی ہے ہم میں سے شاید ہی چند ایک دودھ چوس بچے رہے ہوں گے ورنہ تو اکثریت کے منہ میں پیدائش کے ساتھ ہی چھ انچ کا فیڈر ٹھونس

Read more

امداد وصول کرنے والے چند ناشکرے اور چند اچھے لوگوں کی باتیں

پنجاب کی جیلوں میں قید بچوں کی تعلیم و تربیت میں مصروف ادارے ”رہائی فاؤنڈیشن“ کی بانی فرح ہاشمی سے جب اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے شاہدرہ لاہور کے علاقے میں مستحق افراد تک راشن تقسیم کرنے کے دوران ایک سروے کا پلان بنایا۔

انہوں نے اپنے ساتھ چھ سات لڑکوں کی ٹیم تیار کی، اور جب وہ ایک گلی میں راشن پیکٹ کی تقسیم مکمل کر کے دوسری طرف گئیں تو وہ لڑکے بھی بائیک پر سامان رکھے ان تک پہنچے اور ان سے پوچھا کہ کوئی آپ کے پاس آیا تو چھ سات گھرانوں نے ایک ہی جواب دیا کہ ”ساڈے کول کوئی وی نہیں آیا، سانوں کسی نے پچھیا ای نہیں“ (ہمارے پاس کوئی نہیں آیا، ہمیں کسی نے نہیں پوچھا)۔ اس جواب نے فرح ہاشمی کو افسردہ کر دیا، انہوں نے کہا کہ جس قوم کے افراد میں ناشکرا پن شامل ہو جائے وہ قومی سطح پر ہر معاملے میں بے حسی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

Read more

مائیں بننے والی حاملہ عورتوں پہ کرونا کی وبا کے اثرات

علینا میری بہت ہی عزیز بھانجی ہے۔ تازہ گلاب کی مانند خوبصورت اور شاداب۔ بائیس سال کی عمر میں شادی کے بعد وہ امریکہ سے کینیڈا اپنے سسرال چلی گئی، جہاں سے کلینکل سائیکالوجی میں ایم اے کے بعد آج کل اپنی زندگی کے اہم مگر پیچیدہ ترین تجربے سے گزر رہی ہے۔ اس کے وجود میں ایک ننھی کلی چٹک رہی ہے یعنی وہ ماں بننے والی ہے۔ خبر مسرت سے بھر پور سہی مگر کرونا وبا نے جہاں عام لوگوں کو ان دیکھے خوف سے آشنا کیا وہاں علینا جیسی پہلی مرتبہ ماں بننے والی لڑکیوں پہ مزید خوف اور پریشانی طاری ہے۔ میں نے اس سلسلے میں علینا سے اس کے نئے تجربہ اور کرونا وبا کے خدشات اور محسوسات سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ اس کے جوابات کی تخلیص کچھ یوں ہے۔

Read more

آج ہمارا دن ہے!

دل میں کوئی چٹکی بھرتا ہے، کیا واقعی تمہارا دن ہے؟ تمہارا کیا کمال؟ یہ سہرا تو کسی اور کے سر سجتا ہے جس نے تمہیں اس سنگھاسن پہ لا بٹھایا۔ احسان اس ننھی پری کا جو پچیس برس قبل بنا کسی چاہت، خواہش اور تگ و دو کے ہمارے بطن میں آ ٹھہری۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم گردن تانے، انبساط کے عالم میں کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا دن ہے! انصاف کا تقاضا تو یہ ہے

Read more

رمضان میں شیطان کا خط

امت مسلمہ! میرا نام ابلیس ہے۔ دنیا مجھے شیطان کے نام سے جانتی ہے۔ شیشے کی لنگری میں مصالحہ کوٹتے ہوئے اگر کوئی عورت لنگری توڑ دے تو بھی ذمہ دار مجھے ہی گردانا جاتا ہے۔ بھلا ہو آپ لوگوں کا جو میرے کام سنبھال لیے ہیں۔ میں ان دنوں چھٹی پر ہوں لیکن پھر بھی میرا کام خوب چل رہا ہے۔ جونہی یہ مہینا آتا ہے مجھے قید کر دیا جاتا ہے لیکن آپ لوگوں کی نیازمندی ہے جو مجھے اپنے من سے دیس نکالا نہیں دیا۔ میں آپ لوگوں کا یہ احسان کبھی جہنم میں بھی نہیں بھلا پاؤں گا کہ آپ نے دنیا میں میری کمی محسوس ہونے دی اور نہ ہی میرا کوئی کام رکنے دیا۔ آپ لوگوں نے بغیر تنخواہ کے میری ڈیوٹی نبھائی۔ اس پر بارے دیگر میری طرف سے شکریہ!

Read more

کچھ اور طرح کیوں نہ ہوا؟

معاملہ جبر و قدر کا نہیں مگر معاملہ جبر و قدر کا ہے بھی۔ میں اجبار کا شکار یا مقدر کے مارے غریب لوگوں کو دکھی دیکھ نہیں سکتا ویسے تو میں خود بھی بالکل نہ امیر ہوں اور نہ خوشحال۔ میں کیا میرے بڑے بھائی بھی بس سفید پوش ہیں۔ شروع سے خوشحالی بھی دیکھی، بدحالی بھی مگر معاملہ سفید پوشی پر آ کے ٹک گیا۔

Read more

ماں: ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں

ڈاکٹر ضیا الدین ہسپتال ناظم آباد کے کمرہ نمبر 310 میں آپ کی سانسوں کے زیروبم کو دیکھتے ہوئے مجھے پورا یقین تھا کہ آپ ایک بار پھر زندگی کی طرف لوٹ آئیں گی، ماضی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ ہم آپ کو تقریباً ادھ موئی حالت میں ہسپتال لے کر گئے اور چند گھنٹے کے بعد آپ نے مسکراتے ہوئے آنکھیں کھول لیں اور اپنے مسیحا کی طرف دیکھا اور کہا ”بیٹی میں ٹھیک ہوں۔ یہ میری منجھلی بیٹی ہے۔“ لیکن اس بار ایسا لگتا تھا کہ آپ نے آنکھیں نہ کھولنے کی قسم کھائی تھی۔

Read more

بے جی (مدر ڈے کے موقع پر)۔

عام مشاہدے میں ہے کہ اکثر ساس بہو کی نوک جھونک لگی رہتی ہے۔ یہ سرد جنگ ازل سے ہے اور شاید ابد تک جاری رہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ عورت کو اکثر عدم تحفظ کا احساس رہتا ہے۔ آنکھ کھولتی ہے تو اس کی محبتوں اور شفقتوں کا محور اس کا باپ ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس کی شادی ہو جاتی ہے، وہی لڑکی اپنے خاوند اور گھر کو کل کائنات کا درجہ دیتی ہے، اپنے خاوند سے توقع رکھتی ہے کہ وہ ہر حال میں اس کی عزت کا خیال رکھے گا اسے گھر میں ایک ملکہ کا درجہ دے گا۔

Read more

ماں جیسی کو بھی ماں کا دن مبارک

آج ماؤں کے عالمی دن پر جہاں میں اپنی والدہ کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے نہ صرف میری تعلیم اور تربیت میں ایک اہم کردار ادا کیا بلکہ مجھے ایک اچھا انسان بنانے میں بھی میری مدد کی۔ وہیں مجھے ان تمام دیگر خواتین کا خیال بھی آیا جو کہ زندگی کے مختلف ادوار میں میری رہنمائی ایک ماں کی طرح ہی کرتیں رہیں اور میں ان کو ماں جیسا قابل احترام ہی سمجھتی ہوں۔ لیکن آج سے پہلے مجھے یہ خیال نہیں آیا کہ مجھے ان کو بھی مدرز ڈے پر وش کرنا چاہیے۔

Read more

ماں کا دن بمقابلہ ماں کی دین

کچھ موضوعات پر بات کرنا یا لکھنا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ میرے لیے یا تو ان شخصیات، لوگوں اور موضوعات کے حوالے سے بات کرنا کٹھن ہوتا ہے، جن کے بارے میں میری معلومات بالکل کم ہوں، یا پھر ان کے بارے میں، جن کو آپ بہت زیادہ جانتے ہوں، یا جو دل کے بہت قریب ہوں۔ دوسرے قسم کے موضوعات کے حوالے سے یہی فیصلہ کرنا ایک مشکل امر ہوتا ہے کہ بات شروع کہاں سے کی جائے۔

اور جب دل کے قریب رہنے والی ہستیوں میں سے سب سے ممتاز کردار پر لکھنے کی بات ہو، جو اس دنیا میں ہمارے ظاہری وجود برپا کرنے کی وجہ بنی ہے، تب تو تحریر و تقریر کے تمام تر گر، دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اور اپنی ہر تحریر پھیکی محسوس ہوتی ہے۔ سچ بھی یہی ہے کہ ”ماں“ ایک ایسا موضوع ہے، جس پر میکسم گورکی کی طرح کوئی فصاحت و بلاغت، فن اور ہنر کے دریا بہا دے، مگر پھر بھی قلمکار کو لگے گا کہ وہ اس موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کر سکا۔ اور اس مضمون کا حق بھی یہی ہے کہ حق ادا نہ ہو۔

Read more

یوم مادر: امی کی کچھ باتیں

وہ آج سے 14 برس پہلے کی ایک گرم دوپہر تھی جب میں تعلیم کی غرض سے گاؤں چھوڑ کر دہلی کے لئے روانہ ہوا۔ بابا مجھے چھوڑنے کے لئے ساتھ آ رہے تھے۔ دو بھائیوں میں سے ایک بیرون ملک تھے اور دوسرے دہلی میں ہی ملازم تھے اس لئے مجھے رخصت کرنے کا ذمہ امی اور دو بہنوں پر تھا۔ صبح سے ہی دونوں بہنیں اور امی میرے سفر کی تیاریوں میں لگ گئے۔ بابا میرے لئے ضرورت کی چیزیں خرید لائے تھے جنہیں امی میرے لئے تیار کیے گئے بڑے سے بیگ میں رکھ رہی تھیں۔

Read more

ماں کے بعد

انسان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ منظر، میرے نزدیک، اپنی مرحومہ والدہ کی وہ الوداعی زیارت ہے جو اس عزیز از جان ہستی کو لحد میں اتارنے سے ذرا پہلے کی جائے، کیا قیامت خیز لمحہ ہوتا ہے اور کیسا غمناک منظر۔ نہ نظر ہٹتی ہے، نہ دیکھا جاتا ہے۔ میرے اوپر یہ قیامت ابھی چند دن پہلے ہی گزری ہے اور زندگی نچوڑ کر لے گئی ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے کسی ویران اور خوفناک جزیرے میں ہوں اور ساحل پہ کھڑی اکیلی کشتی موجوں کی نظر ہو گئی ہے۔ یا جیسے کسی تپتے جلتے صحرا میں میرے سر پے کھڑا ٹھنڈی چھاؤں والا تنہا درخت یکلخت ٹوٹ کر گر پڑا ہے۔ اب مجسم غم ہوں، یوں کہ سانس بھی چل رہی ہے، زندگی بھی نہیں ہے۔ اندر ہی اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا ہے، سب کچھ ڈھے جا رہا ہے، مسلسل کچھ گرے جا رہا ہے :

Read more

میری ماں کا ایک عوامی فیصلہ

بی ڈی ممبرز کے چناؤ کا دن تھا۔ ملک میں عوامی سطح پر چونکہ پہلی سیاسی سر گرمی تھی اس لئے ہر جانب اک نئی ہی گہما گہمی دکھائی دیتی تھی۔ میرے اباجی بھابھڑہ کی چیئر مینی کے امیدوار تھے ان کے مقابلے میں ان کے چچا زاد بھائی کھڑے تھے۔ جس کی وجہ سے خاندانی اور علاقائی دھڑے بندیاں زوروں پر تھیں۔ گاؤں والے ابا جی کے پورے جانثار تھے اور ان کے ایک اشارہ ء ابرو پر جانثاری ان کے روایت تھی۔ چنانچہ انتخابات کے دن علی الصبح گاؤں میں عید کا سماں تھا۔ لوگ جوق در جوق نئے کپڑے پہنے، کنگھی پٹی کیے ہماری حویلی میں جمع تھے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے بزرگ سبھی اپنے میاں جی کی خاطر عجب جوش سے بھرے تھے۔

Read more

ماں عظیم ہے

گوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا کہ دکھ عورت ہے وہ عورت ہی تھی جس نے اُسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا اور وہ بھی عورت تھی جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا اور حالتِ مرگ میں اسے دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی دکھ عورت ہے اور عورت دکھ ہے۔ عورت کسی بھی روپ میں ہو عظیم ہے۔ کیونکہ دکھ عظیم ہے۔ دکھ کی ارفع ترین شکل تخلیق

Read more

ماؤں کا عالمی دن: ’آپ نے تب بھروسہ کیا جب کوئی بھی نہیں کرتا تھا‘

پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک میں آج ماؤں کا عاملی دن منایا جارہا ہے۔ خلوص، شفقت، پیار اور صبر سے سرشار ماں کے اس رشتے کو لوگ خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔ اس دن کو منانے کا مقصد ماں کے مقدس ترین رشتے کی عظمت و اہمیت کو اُجاگر کرنا اور ماں کے لیے احترام اور محبت کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر سال کی طرح لوگ دو طبقوں میں تقسیم نظرآتے ہیں، ایک

Read more

امی کے انتقال پر ابو (انور مسعود) کے نام خط۔ ۔ ۔

پیارے ابو

لاکھ چاہتے ہوئے بھی مجھ سے وہ بات نہیں ہو رہی جو آپ سے کرنا چاہتی ہوں۔ آپ کے پاس گھنٹوں گزارتی ہوں۔ مگر زباں پر رکھے الفاظ دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ امی میری اس عادت سے واقف تھیں کہ جب محبت، خوشی یا لاڈ کا اظہار کرنا ہوتا تو میں ہمیشہ کھل کر کرتی تھی۔ ہنستی، مسکراتی سارے گھر میں قہقہے لگاتی اورسارے گھر کو سر پر اٹھا لیا کرتی تھی۔ امی کا کہنا یہ بھی درست تھا کہ مشکل وقت میں لینہ بہت ہمت سے کام لیتی ہے۔ امی کی وفات پر بھی ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی مجھے ڈاکٹر نے امی کے انتقال کی خبر دی تو کچھ دیر میں اس کو تکتی رہی کہ ابھی وہ اپنی بات کی تردید کر دے گا۔ لیکن کانوں میں پڑتی بین کرتی آوازوں نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ یہ خبر سچ ہے۔

Read more

امی نے دادی سے حکومت کب اپنے ہاتھ میں لی؟

بسمہ کی راتیں پھر سے تصورات میں گزرنے لگیں۔ بس یہ ہوتا کہ تصورات میں بھی وہ تھوڑا فوٹو شاپ کی مدد لے ہی لیتی۔ اسے ابھی تک باسط کی رنگت پہ تسلی نہیں ہوئی تھی۔ گھر والوں کا رویہ بدلنے کے ساتھ ہی اسے یاد آیا کہ فائزہ سے بات ہوئی تھی اس کی امی سے مشورہ کرنے کی۔ جب تک سب اچھا چل رہا تھا وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اب اس کا ارادہ تھا کہ وہ دونوں ہی

Read more

صنعتی ترقی سے G 5 تک

صنعتی انقلاب انگلستان سے 1780 میں شروع ہوتا ہے اور 1840 تک دنیا کو باآسانی اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا اپنے دوسرے دور میں پہنچتا ہے جس کا آغاز 1870 میں ہوتا ہے اور 1920 تک دنیا کے ترقی پذیر ممالک تک اپنی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔ 1600۔ 1740 کا عرصہ اقتصادی زرعی انقلاب کا دور رہا۔ اور دنیا کے ممالک نے جہاں ان انقلابات سے فائدہ اٹھایا وہاں نقصان کا ذکر نہ کرنا انسانیت اور قدرت کے ساتھ نا

Read more

گل بانو کی شادی کی پہلی رات اور اسپتال

اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی“ نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لیے تو وہ سب کرنے کے لیے تیار تھی مگر اس سب میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی ”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ “ اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی ”اتنی جلدی کیا ہے جس کام

Read more

مشترکہ خاندانی نظام استحصال کی منڈی ہے

ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ جب چار برتن ایک ساتھ پڑے ہوتے ہیں تو وہ بجتے ہیں یعنی کہ شور مچاتے ہیں اب وہ شور کیوں ہے؟ اس کو سمجھنا بہت اہم ہے خاص طور پر والدین کے لیے جن کا ماننا ہے کہ ہمارے بچے اپنے کزنوں سے بہت سسیکھتے ہیں بچے پیدا کرکے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اب وہ جو سیکھیں گے اپنے سے بڑے کزنز یا مشترکہ خاندانی نظام کی قائم کردہ حدود و

Read more

محبت کرنے اور اپنی نمائش لگانے میں فرق ہے

گھر پہ شادی کی بات نکلتی تو وہ الجھنے لگتی۔ ایک دو دفعہ تو اس نے کہہ بھی دیا کہ امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی آپ لوگوں کے پاس رہنا ہے آپ کا اور ابو کا خیال رکھنا ہے۔

دوسری طرف اسکول جاتی تو جان بوجھ کر اسلم کے سامنے جاتی وہ اب چاہنے لگی تھی کہ اسلم اس سے کچھ کہے کسی طرح اسے اس ذہنی اذیت سے نکال لے۔ اس ماحول سے دور لے جائے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی اسلم نہیں تو ارمغان ہی سہی۔ مگر زبردستی کی شادی نا ہو۔ پھر خود ہی خیال جھٹک دیتی، اتنی عام سی صورت والے بندے کے ساتھ پوری زندگی گزارنا اسے بہت مشکل لگتا تھا۔

Read more

پاکستان ایک یرغمال ریاست ہے؟

یرغمال کا کیا مطلب ہے؟ کسی کواپنے اشارے پر چلانا، اپنے طور طریقے پر چلانا، نہ کہ اس کے راستے پر خود چلنا۔ ایسی ریاست جسے چند لوگ آسانی سے بلیک میل کر لیں، ایسی ریاست جو چند لوگوں کے دباؤ میں آ کر اپنے کام کو ان کے لوگوں کے مطابق ڈھال لے جو غلط اور ناجائز مطالبات منوانے پر یقین رکھتے ہوں۔ ایک حاکم اور اس کے اداروں کا چند لوگوں کے آگے گھٹنے ٹیک دینا، یہ ہے

Read more

گل بانو کی بچپن میں اچانک شادی, افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 3

اسکول جانے کی ہمت تو کیا ہوتی اسے تو بستر سے اٹھنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔ سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ اب تو امی کو پتا چل جائے گا کہ وہ واقعی پریشان ہے اور شاید وہ اپنے سخت رویئے پہ شرمندہ ہوں۔ اس نے تھوڑا سا سر گھما کے دیکھا دادی حسب معمول فجر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے سوگئی تھی۔ وہ اس کے اسکول جانے کے وقت عموما سو رہی ہوتی تھیں سب

Read more

بیٹیوں کی آزادی اور ماں باپ کی بے اعتباری

آزادی کا مطلب ہے کھل کے جینے کے اختیارات دینا، کھل کے جینے کے اختیارات کا کیا مطلب ہے انسان اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے فیصلےکر پائے، اپنی مرضی کا پروفیشن منتخب کر پائے، اپنی پسند کی شادی کا فیصلہ کر پائے، اپنی مرضی سے جہاں جانا چاہے چلا جائے، جہاں تک تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے، حاصل کر پائے۔ اسے اس کی جائیداد میں حصہ دیا جائے۔ یہ ہے آزادی کا مطلب، جہاں بات لباس کی آ جائے

Read more

زبردستی کی شادی رومانوی ہوتی ہے کیا؟

افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 2 اصل ارمغان اس کے لیے ”عام سا اسلم“ تھا اور بسمہ کو اُس سے بلاوجہ چڑ تھی۔ اس کا بلاوجہ دل چاہتا کہ اسلم کے بارے میں کسی سے باتیں کرے۔ مگر کیا؟ بس یہ سوچ کے رہ جاتی کہ سب کچھ تو اس کے تخیل میں تھا اسی لیے کبھی اپنی قریب ترین دوستوں، فائزہ اور گل بانو سے بھی کچھ نہیں کہہ پائی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اسے پتا تھا کہ

Read more

ٹریولز آف دین محمد: 18ویں صدی کے ہندوستان میں سونے چاندی کے ڈھیر اور بھوک سے مرتے انسان

وہ 18 ویں صدی میں انڈیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا زمانہ تھا جب پٹنہ میں پیدا ہونے والے دین محمد 11 برس کی کچی عمر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں بھرتی ہوئے۔

یہاں ان کا کام جنگ لڑنا نہیں تھا بلکہ فوجی کیمپ میں اپنے پیشے کی مناسبت سے مختلف خدمات انجام دینا تھا۔ یہیں انھیں برطانوی راج کی فوج کے میجر بیکر ملے جنھوں نے دین محمد کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور پھر انھیں ہندوستان میں ہر اس جگہ جانے کا موقع ملا جہاں میجر بیکر کی پوسٹنگ ہوئی۔

یہی نہیں بلکہ دین محمد میجر بیکر کے ساتھ ہندوستان سے برطانیہ بھی آ گئے اور ابتدائی طور پر آئرلینڈ میں قیام کیا۔

Read more

ریکھا: جنسی استحصال، ناکام محبت، شوہر کی خود کشی اور اداکاری کی معراج میں گم پہیلی

آج میں ایک ایسی انسان کی کہانی گوش گزار کر رہی ہوں جس نے دکھوں سے نبرد آزمائی کے لیے مدافعتی عمل کے طور پہ اپنی زندگی کو حقیقت سے زیادہ فینٹیسی میں گزارا ہے۔ اور یہ جیون کہانی ہے بالی ووڈ کی کوئن، کئی ایوارڑز بشمول پدما شری ایوارڈ کی حامل، پرکشش اور گلیمرس اداکارہ ریکھا کی۔ لیکن اس کے بارے میں کوئی ایک رائے نہیں۔ کسی نے کہا وہ حسین ساحرہ ہے، ہرنی جیسی چال تو مورنی کی

Read more

دو دنیاؤں کے درمیانی پل پر بھیانک حادثے کی کہانی

مادام۔ میرا نام ماہم ہے۔ میں آج کل اردو سیکھ رہی ہوں۔ میری اردو ٹیچر نے مجھے آپ سے متعارف کرایا کہ آپ لکھتی ہیں۔ پردیس میں دیسیوں پر جو گزرتی ہے آپ کا موضوع رہا ہے۔ فیس بک پر آپ کو دیکھا۔ مسینجر پر رابطہ کر رہی ہوں۔ میں بھی اپنی کہانی سنانا اور شائع کرانا چاہتی ہو۔ میں اردو لکھ نہیں سکتی وائس مسیجز بھیجوں گی۔ آپ ٹھیک کر لیں گی نا؟ پورے دو مہینے ماہم کے قسطوں

Read more

خلیل الرحمٰن قمر اور الہام کا مغالطہ

ڈرامہ ’میرے پاس تم ہو‘ کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں بہت کچھ نشر ہو رہا ہے اوربہت کچھ لکھا بھی جاتا رہا ہے لیکن میں نے اس پر کچھ نہ لکھنا ہی بہتر جانا۔ گذشتہ کئی دنوں سے ایک نجی چینل پر نشر ہونے والے ٹاک شو کے کچھ حصے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پربہت گردش کر رہے تھے۔ مگر کچھ مصروفیات کے پیش نظر میں ان پر زیادہ توجہ نہیں دے سکی۔ کل شام ریموٹ سے کھیلتے

Read more

کئی چاند تھے سرِآسمان

اس بے پناہ داستان کا مرکزی کردار محمد یوسف سادہ کار کشمیری کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیرخانم عرف چھوٹی بیگم ہے۔ محمدیوسف سادہ کار کی پیدائش غالِباً 1793 میں ہوئی۔ اس کے والد کا نام محمد یعقوب بڈگامی تھا اور چچا کانام یعنی محمد یعقوب بڈگامی کے بھائی کا نام محمد داؤد بڈگامی تھا۔ محمد یعقوب اور محمد داوٴد کے والد کا نام محمد یحیٰی اور دادا کا نام مخصوص اللہ تھا جو میاں مخصوص اللہ مرقع

Read more

کئی چاند تھے سر آسمان ۔ ایک مطالعہ

کتنے برسوں کے بعد ایک ایسا ناول پڑھنے کو ملا جس نے راتوں کی نیند اڑا دی اور پھر ایک ایک دوست کو پکار پکار کے کہا کہ یہ ناول ضرور پڑھو دیکھو لفظ کیا ہوتے ہیں کہانی کیا ہوتی ہے اور تخلیقی اظہار کیا چیز ہے سب نے پڑھا اور اتفاق کیا قبل ازیں قرۃ العین حیدر کے ناول ”آگ کا دریا“ نے بھی کچھ اسی طور اپنے سحر میں جکڑا تھا یہ ایک حقیقت ہے کہ اردو ادب

Read more

یک طرفہ محبت کے بارے میں کچھ خیالات۔۔۔

حال ہی میں ڈاکٹر خالد سہیل کا محبت پر دلچسپ مضمون” کیا آپ محبت کی نفسیات سے واقف ہیں؟” پڑھا۔ کیا ہی خوبصورت تحریر ہے۔ محبت وہ جذبہ ہے جس کا تجربہ ہم سب ہی کر چکے ہیں۔ کم یا زیادہ۔ ہر کوئی اسے اپنی نظر سے دیکھتا اور اپنے تجربے سے جانچتا ہے۔ اگر آپ اس تجربے سے نہیں گذرے تو آپ ایک بہت حسین احساس سے محروم ہیں۔ محبت ایک بہت طاقتور جذبہ ہے اور پوری طرح آپ

Read more

علی مطہر اشعر مرحوم، تعارف و انتخاب کلام

کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے اس شعر کے خالق غزل کے ممتاز و معروف شاعر سید علی مطہر اشعر نقوی دو ستمبر 2022 کو ہم سے جدا ہو گئے۔ ان کی عمر تقریباً ”85 سال تھی وہ شکار پور ( متحدہ ہندوستان ) میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے بعد اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے واہ میں آباد ہوئے۔ انٹر میڈیٹ تک تعلیم بھی یہیں حاصل

Read more

بخشو سب کا، بخشو کا کوئی نہیں

کم و بیش ہر محلے میں بارہ چودہ برس تک کا ایک کیریکٹر پایا جاتا ہے جس کے والدین عموماً نہایت غریب ہوتے ہیں۔

اس کیریکٹر کا سرپرست پورا محلہ ہوتا ہے۔ کسی کا سودا سلف لا دیا، کسی کے پاؤں دبا دیے، گاڑی دھو دی، فرش کی صفائی کر دی، کسی کے بچے کو کھلا پلا دیا، گود میں لے کرگھما دیا، محلے کے چکر کاٹنے والے کسی مشکوک آدمی کو پکڑ لیا، کبھی سبزی والے کے پاس کھڑا ہوگیا تو کبھی نائی کے پاس بیٹھ گیا۔ سگریٹ چائے پان لا دیا اور پھر حیرت سے منہ کھول کر کچھ لوگوں کی باتیں سننے لگا۔ کبھی سمجھ کر تو کبھی ناسمجھی میں سر ہلا دیا یا مسکرا دیا۔

Read more

گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی

گاؤں کے دس بارہ معززین احمد علی کے گھر کے صحن میں بیٹھے تنے ہوئے چہروں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر تبصرے کر رہے تھے۔ صحن میں چار پانچ ٹوٹی پھوٹی کرسیاں اور دو چارپائیاں پڑی تھیں جو اس گھر کی خستہ حالی کو ظاہر کرتی تھیں۔ ان میں صرف ایک شخص خاموش تھا اور وہ تھا بوڑھا احمد علی۔ وہ سر جھکائے چارپائی پر بیٹھا تھا اورمسلسل زمین کو گھور رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے دل میں طوفان مچا تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ درزی تھا اور گاؤں بھر کے کپڑے سیتا تھا۔ ان کے تن ڈھکنے کا وسیلہ تھا اور آج اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ گاؤں کے ہر شخص کے سامنے ننگا ہو گیا ہے۔

اندر کمرے کا دروازہ کھلا اس میں ایک جھری سی پیدا ہوئی۔ ایک عورت نے اس درز سے جھانک کر بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھا۔ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نوجوان اٹھ کر اندر چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد وہ چائے کے کپ لے کر آ گیا۔ وہ احمد علی کا بیٹا تھا۔ کسی سے کچھ کہے بغیر وہ مشینی انداز میں سب کو ایک ایک کپ پکڑاتا گیا۔

”اوہو شاریب بیٹے! خواہ مخواہ تکلف کیا۔ پہلے بھی دو تین بار تو چائے پی چکے ہیں۔ “ گلفراز چاچا نے رسمی سے انداز میں کہا۔ شاریب کا چہرہ اسی طرح بے تاثر رہا اس نے کپ آگے بڑھائے رکھا۔ گلفراز نے کپ لے لیا۔ آخری کپ اس نے اپنے باپ کے سامنے پڑی ہوئی تپائی پر رکھ دیا۔ پھر خود بھی بیٹھ گیا۔ کئی منٹ گزر گئے احمد علی اسی طرح ساکت بیٹھا رہا۔ اس نے ایک بار بھی نگاہ اوپر نہ اٹھائی تھی۔ اب شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ شاریب نے اٹھ کر صحن میں لگے بلب کو روشن کیا۔ میلے سے بلب کی ناکافی روشنی سے ماحول پر کوئی خاص فرق نہ پڑا تھا۔ اچانک چند نوجوانوں کے بولنے کی آواز آئی اوران کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ احمد علی نے چونک کو آوازوں کی سمت دیکھا۔ گاؤں کے نوجوان واپس آ گئے تھے۔

Read more

پیٹوں جگر کو میں

روز کچھ نا کچھ ہوتا ہے۔ روز یہ دل روتا ہے۔ اس قوم کا نصیبا سوتا ہے اور سوتا چلا جاتا ہے۔ اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ جب کچھ ہوتا ہے۔ سوچتی ہوں۔ اس پر لکھوں اس پر بولوں اس پر احتجاج کروں۔ پھر خیال آتا ہے اتنا کچھ تو لکھا جا رہا ہے۔ کالم چھپ رہے ہیں۔ عقل و دانش کی باتیں سکھائی جا رہی ہیں۔ تمیز تہذیب اور توازن کے درس دیے جا رہے ہیں۔ ۔ تو فرق کہاں۔ نظر آیا ہے۔ اخیر اثر کیوں نہیں ہو رہا۔

بہاولپور کے شریف ان نفس قابل صد احترام پروفسسر حمید کے قتل نا حق نے میرے دل و دماغ پر ہیبت اور حیرانی کے پہاڑ توڑ دیے ہیں۔ یہ کون سا ملک اور معاشرہ ہے جہاں رسم چلی ہے کہ چھٹانک بھر کے کند ذہن احمق اور تنگ نظر لونڈے اٹھیں اور جس کو چاہیں زندگی سے محروم کر دیں۔ ۔ قاتل کی شکل اور جسامت دیکھیں۔ دیوانگی صاف نمایاں ہے۔

Read more

میں ایک چلغوزہ ہوں

مجھ سے ملئے۔ میں ایک چلغوزہ ہوں۔ اللہ نے تو مجھے ایک عورت بنایا تھا لیکن آج مجھے کبھی کیلا سمجھا جاتا ہے تو کبھی بچوں کے کھانے والی لالی پاپ اور حال ہی میں ایک صاحب نے تومجھے لالی پاپ سے اپ گریڈ کر کے چلغوزہ بنا دیا ہے اور وجہ یہ دی کہ اگر میں اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھوں گی تو میرے خریداروں کو پتہ ہوگا کہ یہ اندر سے بالکل تازہ اور لذیذ ہے۔ اگرمیں اپنے آپ کو ایک چھلکے میں نہیں چھپاﺅ ںگی تو میرے خریدار بھی کم ہو جائیں گے کیونکہ خراب چلغوزہ کون خریدتا ہے؟

وہ حضرات جو چلغوزے سے ناواقف ہیں انہیں بتاتی چلوں کہ چلغوزہ ایک بہت مہنگا ڈرائی فروٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک چھلکے کے اندر محفوظ ہوتا ہے۔اسے کھانے کے لئے چھلکے کو توڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اندر سے نکلنے والی گری کو کھایا جاتا ہے۔

Read more

ملبے کا مالک

موہن راکیش 8 جنوری 1925 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا۔ نئی ہندی کہانی کے بانیوں میں شمار ہوئے۔ ناول لکھے۔ ہندوستانی تھیٹر میں موہن راکیش کا ایک الگ مقام ہے۔ 3 جنوری 1972 کو دہلی میں وفات پائی۔ موہن راکیش کی ہندی کہانیوں کا مجموعہ "پارٹیشن کی دس کہانیاں” بہت مقبول ہوا۔ اس مجموعے کی ایک کہانی "ملبے کا مالک” کا تانا بانا لاہور اور امرتسر کی گلیوں سے بنا گیا۔ ہندی سے اردو ترجمہ: حسان خان

٭٭٭    ٭٭٭
ساڑھے سات سال کے بعد وہ لوگ لاہور سے امرتسر آئے تھے۔ ہاکی کا میچ دیکھنے کا تو بہانہ تھا، انہیں زیادہ چاؤ ان گھروں اور بازاروں کو پھر سے دیکھنے کا تھا جو ساڑھے سات سال پہلے ان کے لیے پرائے ہو گئے تھے۔ ہر سڑک پر مسلمانوں کی کوئی نہ کوئی ٹولی گھومتی نظر آ جاتی تھی۔ ان کی آنکھیں اس انہماک کے ساتھ وہاں کی ہر چیز کو دیکھ رہی تھیں جیسے وہ شہر عام شہر نہ ہو کر ایک اچھا خاصا مرکزِ ثقل ہو۔

تنگ بازاروں میں سے گزرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو پرانی چیزوں کی یاد دلا رہے تھے۔۔۔ دیکھ۔۔ فتح دینا، مصری بازار میں اب مصری کی دکانیں پہلے سے کتنی کم رہ گئی ہیں! اُس نکڑ پر سُکھّی بھٹیارن کی بھٹی تھی، جہاں اب وہ پان والا بیٹھا ہے۔۔۔ یہ نمک منڈی دیکھ لو، خان صاحب! یہاں کی ایک ایک لالائن وہ نمکین ہوتی ہے کہ بس۔۔!

Read more

اماں رخصت ہونے کے لیے عاشور گزرنے کی منتظر تھیں

میں نے جب ہوش سنبھالا تو اماں کا چہرہ اس وقت بھی جھریوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہم اپنی نانی کو اماں کہتے تھے۔ ان کے زمانے میں ماں کو اماں ہی کہا جاتا تھا۔ پھر امی کہا جانے لگا۔ آج کل بچے ممی اور ماما کہتے ہیں۔ اماں کا نام تحسینہ خاتون تھا۔ چہرے پر جھریاں، دائیں گال پر جلد کے رنگ کا مسّا یا دانہ، سر سفید اور گھر میں بچوں کے سامنے بھی ہر وقت ڈھکا ہوا۔

Read more

جونیجو کی بدمعاشی اور نصرت بھٹو کی خواہش

صرف میں ہی ایک بدمعاش جب اٹھائیس مئی انیس سو اٹھاسی کو جونیجو حکومت ڈسمس کردی گئی تو صدر ضیا الحق نے جونیجو کو ڈنر پر مدعو کیا اور بتایا کہ ان کی کابینہ کے چند وزرا کو نئی کابینہ میں بھی لیا جائے گا۔ اس پر جونیجو نے کہا تو کیا کابینہ میں صرف میں ہی ایک بدمعاش تھا۔ اس پر ضیا الحق نے کوئی جواب نہیں دیا۔ صدر، فوج کے سربراہ اور امریکہ اکتوبر انیس سو نوے کے

Read more

ایک فوجی اکیڈمی میں پڑھانے کا تجربہ

قسمت کا لکھا تھا سو ہمیں نسٹ یونیورسٹی کے کالج آف ایروناٹیکل انجینرنگ میں پڑھانے کے لیے تعینات کر دیا گیا۔ یہ کالج پی اے ایف اکیڈمی میں ہے، سو ہمارے تجربے میں اضافہ ہوا۔ اکیڈمی میں استادی در اصل استادوں کا کام ہے، سو اس بنا پر ہم اپنے آپ کو شاگردوں میں شمار کرتے ہیں اور اپنے کئی شاگردوں کو استادوں میں گنتے ہیں، بلکہ ہمارے ہوتے ہوئے ہی استانیوں کی بھی آمد اکیڈمی میں شروع ہو گئی

Read more

لڑکیاں برائلر چکن ہیں

ایبٹ آباد کے گاؤں مکول کی نویں جماعت کی طالبہ عنبرین کی ہلاکت کی خبر اڑتالیس گھنٹے چھوڑ اڑتالیس منٹ بھی میڈیا پر نہ ٹکتی اگر اسے نام نہاد جرگے کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عمل درآمد کے نتیجے میں سوزوکی کیری ڈبے میں بند کر کے جلایا نہ جاتا۔ اب تک تو پسند کی شادی، گھر سے بھاگ جانے اور مشکوک مراسم کے شبہے میں ہی لڑکیوں کے قتل کا رواج تھا مگر عنبرین کا قتل بربریت

Read more

کسی شادی شدہ جوڑے میں طلاق ہونے کی پیشگی نشانیاں کیا ہیں؟

میاں بیوی میں طلاق کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اس کی کچھ پیشگی علامات بھی ہوتی ہیں اور انہیں بھانپ کر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر لی جائے تو طلاق کی نوبت سے بچا جا سکتا ہے۔ اب ایک ماہر وکیل نے چار ایسی علامات بتا دی ہیں جن پر میاں بیوی کو محتاط ہو جانا چاہیے۔ میل آن لائن کے مطابق لندن کی لیزا پیپر نامی وکیل کا کہنا ہے کہ بچوں کی پرورش سبھی ماں باپ کے

Read more

ایک ان پڑھ دیہاتی گنوار گلگتی کی باتیں!

ہوٹل کے لیے پنڈی سے خریدا ہوا سامان گلگت پہنچ چکا تھا۔ اب سامان کو پسو لے کر آناتھا۔ ایک سوزوکی ڈرائیور سے بات ہوئی۔ ڈرائیور کا نام شمس الاسلام فرض کر لیں۔ سامان کو سوزوکی پر لوڈ کرنے کے دوران میں اپنے اور ڈرائیور کے لیے چپس کے دوپیکٹ مع کوکا کولا کے دو ٹن پیک خرید کر لے آیا۔ سوزوکی روانہ ہونے کو تھی جب شمس الاسلام نے مجھے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔ صاحب اپنا ایک بیٹا ہے ابھی

Read more

اپنے بچوں کو نمبروں کے خوف سے مت ماریں

بیٹے کی عمر بہ مشکل پانچ چھے برس ہوگی اور وہ نرسری کلاس کا طالب علم لگتا تھا۔ باپ اپنے بچے کو اپنی کلاس میں فیل ہونے کی وجہ سے اسکول سے واپسی پر بری طرح ڈانٹ رہا تھا ۔اس سرزنش کے کچھ دھندلے الفاظ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ حافظہ سے محو ہوجانے کی بنا پر کمی بیشی کے ڈر سے نقل کرنے پر معذور ہوں۔ ابا کے منہ سے نکلنے والے درشت الفاظ اور بچے

Read more

ریپ جنسی ہوس نہیں بلکہ طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔ ماہرہ خان

پاکستانی ماڈل اور اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ ان کی آنے والے فلم ’ورنہ‘ ایسے حساس موضوع ہے جس کے بارے میں لوگ بات نہیں کرتے۔ بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ فلم کی ریلیز سے قبل کافی نروس ہیں۔ ماہرہ خان کا کہنا تھا کہ ’ہر فلم کے ساتھ میں صرف نروس ہوتی ہوں مگر میں نے یہ فلم تو دیکھی بھی نہیں۔ شعیب منصور صاحب نے فلم کو

Read more

ظفر اقبال فاروقی: ایک رندِ پارسا

  یہ عجیب نمازِ جنازہ تھی، عام طور پر مولوی پہلے جنازہ پڑھنے کا طریقہ بتاتے ہیں یا تھوڑا بہت قربِ قیامت کے آثار پر گریہ آوری کی کوشش کرتے ہیں، اگر مرحوم کا ذکر کریں تو عام طور ان کے فضائل گنواتے ہیں یا ان کے قرض خواہوں سے مرحوم کے پس ماندگان کے حق میں در گزر یا حسنِ سلوک کی درخواست کرتے ہیں، مگر یہاں تو مولوی صاحب فرما رہے تھے:  ’’ مسلمانو! وقت بہت کم ہے

Read more

فسادی عناصر کے خلاف جنرل ضیا الحق کی تقریر۔۔۔

میرے عزیز ہم وطنو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا تھا۔ انہوں نے غیر مسلم انگریزوں اور ہندوؤں کو شکست فاش دے کر یہ خطہ ارضی اس لئے حاصل کیا تھا کہ مسلمان یہاں اسلام کے اصولوں کے تحت زندگی بسر کر سکیں۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چایے کہ یہاں خلاف اسلام اعمال کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان میں 1977 کا اسلامی انقلاب

Read more

وہ بڈھا ۔۔۔ راجندر سنگھ بیدی کا شاہکار افسانہ

میں نہیں جانتی۔ میں تو مزے میں چلی جا رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں کالے رنگ کا ایک پرس تھا، جس میں چاندی کے تار سے کچھ کڑھا ہوا تھا اور میں ہاتھ میں اسے گھما رہی تھی۔ کچھ دیر میں اچک کر فٹ پاتھ پر ہو گئی، کیو ں کہ مین روڈ پر سے ادھر آنے والی بسیں اڈے پر پہنچنے اور ٹائم کیپر کو ٹائم دینے کے لئے یہاں آ کر ایک دم راستہ کاٹتی تھیں۔ اس لئے

Read more

لینہ حاشر کہتی ہیں: ذرا سوچ کے آنا امتحان حشر میں

  محترمہ لینہ حاشر کی تحریر ”مرنے کے بعد خواجہ سرا کا اپنی ماں کو خط“ اس وقت ”ہم سب“ کی تاریخ کی ایسی دوسری مقبول ترین تحریر بن چکی ہے جس نے شائع ہونے کے تین دن کے اندر اندر ایک لاکھ مرتبہ پڑھے جانے کا سنگ میل عبور کیا ہے، اور تین دن کے ٹوٹل ویو کے حساب سے تو یہ اس وقت اول نمبر پر ہے۔ لینہ حاشر کی اس تحریر کی وجہ سے ”ہم سب“ نے اپنی

Read more

انسانیت مر گئی، عشق ابھی زندہ ہے!

پچھلی رات عابدہ پروین کو رو برو سن رہی تھی اور اپنے گرد بیٹھے ہر عمر کے لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو بڑی محویت کے ساتھ عابدہ پروین کو سن رہے تھے اور سر دھن رہے تھے، چاہے وہ اردو کلام گا رہی ہو، سندھی ہو یا پنجابی۔ بس عشق کا جادو تھا جو عابدہ پروین کے ذریعے حاضرین محفل کی جانب منتقل ہو رہا تھا۔ پھر اس نے ہمیشہ کی طرح اپنا پسندیدہ اور ایک سادہ لفظوں والا

Read more

باسودے کی مریم اور مفتی منیب الرحمان

اردو ادب میں "باسودے کی مریم” جیسا ہیرے کی کاٹ افسانہ کم لکھا گیا ہو گا۔ اسد محمد خان اردو نثر کے جملہ قرینوں پر عبور رکھتے ہیں اور اردو فکشن کی بہت سی طرزیں تو اسد محمد خان ہی سے منسوب ہو گئیں۔ روز مرہ بول چال میں ایسا کسے ہوئے طبلے جیسا باج اردو افسانے میں بہت کم ملتا ہے۔ "باسودے کی مریم” میں ایک خوبی بے حد منفرد ہے۔ اردو افسانے میں مذہبی احساس کی پاکیزگی، نفاست،

Read more

مستنصر حسین تارڑ, میجر میتھیو اور بیٹے کی قبر

پڑھتے ہوئے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جو چیز سب سے زیادہ بور لگ رہی ہوتی ہے بعد میں صرف وہی یاد رہ جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کی یادداشت بہت کمزور ہوتی ہے، وہ بے شک بچپن سے کتابیں پڑھتے چلے آئے ہوں لیکن یاد انہیں کچھ بھی نہیں رہتا۔ بات چیت کے دوران اگر کوئی یاد دلائے یا کسی خاص واقعے کا ذکر کرے تو انہیں دھیرے دھیرے یاد آنے لگتا ہے، جب تمام بات چیت ختم ہو

Read more